Naeyufaq May-17

محبت کا پہلا قرینہ

امین صدرالدین بھایانی

ہوائی جہاز نے رن وے پر دوڑتے ہوئے جست لگائی اور ایک جھٹکے کے ساتھ فضاء میں بلند ہوگیا۔ میں دم سادھے نشست پر جما بیٹھا تھا۔ مجھے جہاز کے ٹیک آف سے ہمیشہ گھبراہٹ ہوتی تھی۔ مگر نہ جانے ایسی کیا بات تھی کہ اْس جھٹکے نے میری منتشر سوچوں کو یک لخت جہاز کی نشست سے اْٹھا کر ماضی میں لے جا کر ایک چہرے پر مرکوز کر دیا۔
اور وہ چہرہ؟۔۔۔۔۔!۔
میرے بچپن کا جگری دوست شیراز۔۔۔!۔ جسے میں عرصہِ پچیس سال بعد ملنے شکاگو جا رہا تھا۔۔۔۔!!!۔
یہ اْن دنوں کی بات ہے جب ہم کراچی یونیورسٹی سے ماسڑز کر رہے تھے۔ محلے، اسکول، کالج میں بھی ایک ساتھ ہی رہے۔ شعروادب کے یکساں دلدادہ تھے۔ اب یہ اور بات ہے کہ اْردو میرا اور انگریزی ادب شیراز کا انتخاب تھا۔
شیراز کا شمار شعبہِ انگریزی کے ذہین ترین طلبا میں ہوتا تھا۔ خیر۔۔۔! میرے لیے یہ ایسی کوئی نئی بات بھی نہ تھی۔۔۔!!!۔
وہ اسکول اور کالج میں بھی بہترین طالبعلم تھا۔ صرف اتنا ہی نہیں، ہم نصابی سرگرمیوں میں بھی ہمیشہ سبقت لے جاتا۔ کھیل کا میدان، تقریری مقابلے، بحث و مباحثہ، معلوماتِ عامہ، کسوٹی ہو یا اسٹیج ڈرامہ۔ شیراز نہ صرف پیش پیش رہتا بلکہ عموماً اوّل انعامات اْس کے حصے میں ہی آتے۔ یونیورسٹی کے سینیئر سے سینیئر ترین پروفیسر تک کو خاطر میں نہ لاتا۔ بقول شیراز تمام پروفیسران سے اْس کی معلومات ومطالعہ کہیں زیادہ وسیع ہے۔ خْود پروفیسر حضرات بھی دورانِ لیکچر اْس سے سوال کرتے کتراتے کہ کہیں کوئی ایسی ویسی بات کر کے اْن کی سْبکی نہ کر بیٹھے۔ وہ خْود ہی ایسے سوالات داغ دیتا کہ اْن کا ناطقہ بند ہو جاتا۔ لیکچر کے دوران اچانک کھڑا ہو کر مِین مِیخ نکلتا یا موضوع کے حوالے سے ایسے نقاط بیان کرنے لگتا کہ پروفیسر صاحب کے چہرے پر ہوائیاں اْڑنے لگتیں۔ تعلیم وذہانت سمیت دیگر معاملات میں غیر معمولی طور پر تمام طلباء￿ سے کافی آگے تھا لہٰذا اِن سب باتوں کے باوجود پروفیسر صاحبان نہ چاہتے ہوئے بھی اْس کی تعریف وتوصیف کرنے پر مجبور رہا کرتے۔ ہر ہما شما کو منہ لگانا اپنی توہین گردانتا۔ ظاہر ہے جب پروفیسران کو ہی خاطر میں نہ لاتا تو بھلا ساتھی طلبا کس کھیت کی مولی تھے۔ شہر بھر میں لائبریریوں کی خاک چھان کر خْوب عرق ریزی کے بعد نوٹس بناتا مگر مجال ہے جو اپنے بنائے نوٹس کبھی کسی کے ساتھ شریک کیے ہوں۔
اْس کی شخصیت کی ایک بات ایسی بھی تھی جس سے میں بہت گھبراتا۔ خدانخواستہ کلاس یا ہم نصابی سرگرمیوں میں اوّل نہ آ سکے تو بس غضب ہی ہو جاتا۔ اْس کے لیے اوّل آنا ہی سب کچھ تھا۔ اْس کی لغت میں دوم کے معنیٰ ناکامی کے مترادف تھے۔ کئی دنوں تک اْسے سنبھالنا مشکل ہوجاتا۔ اْس کا سارا وجود ایک عجب بے چینی میں لپٹ کر یوں بدل سا جاتا جیسے یہ وہ شیراز ہی نہ ہو جسے میں جانتا تھا۔ وہ حریف جس نے محض چند نمبر زیادہ حاصل کر کے یا چند قدم تیز دوڑ کر اْسے اوّل سے دوم پر لاکھڑا کیا ہوتا کے خلاف اْس کے دل میں منفی جذبات پیدا ہو جاتے۔ وہ اْس کا برملا اظہار بھی کرتا۔ کبھی کبھی تو مجھے ایسا محسوس ہوتا کہ کہیں شیراز اپنے حریف کو کوئی نقصان ہی نہ پہنچا دے۔ ایسا کبھی ہوا تو نہیں البتہ شیراز کو کبھی اْس سے دوبارہ بات کرتے یا اْس کے بارے کچھ کہتے نہیں سْنا۔ اْس کی نگاہوں میں ہمیشہ ناپسندیدگی کی پرچھائیاں ہی دیکھیں۔
شیراز کی ذہانت کا چرچا تو تھا ہی، سونے پہ سہاگہ وہ اپنی مردانہ وجاہت کے سبب لڑکیوں کی آنکھوں کا تارا بنا رہتا۔ یہاں بھی شیراز کا وہی نرالا انداز تھا۔ اْس کی نظرِعنایت شاہانہ احمد پر آن ٹہری۔ دیگر لڑکیوں کو وہ دیکھنا تو ایک طرف رہا اْن سے بات کرنا بھی گوارا نہ کرتا۔ شاہانہ کے جوڑ کی کوئی ایک بھی لڑکی بلامبالغہ شعبہِ انگریزی تو کیا پوری یونیورسٹی میں ڈھونڈے نظر نہ آتی۔ ویسے بھی شیراز کا ذوقِ انتخاب بہترین سے کم پر سمجھوتے کا روادار ہی نہ تھا۔ موصوف کا دماغ ہر لمحہ ساتویں آسمان پر محوِپرواز رہا کرتا۔ پوری یونیورسٹی میں ایک شاہانہ تھی اور دوسرا میں جس سے وہ ٹھیک سے بات کر لیا تھا۔
دونوں میں گاڑھی چھنتی۔ کلاس روم، کیفے ٹیریا، لائبریری، جمنیزیم، راہداریاں ہوں یا گلپوش جھاڑیوں سے سجے گھاس کے قطعات۔ وہ دونوں ساتھ ہی نظر آتے۔ سب اْنہیں “شبعہِ انگریزی کے پریم پنچھی” کے نام سے یاد کرتے۔
مگر۔۔۔!، سچ۔۔۔!، سچ تو کچھ اور ہی تھا۔۔۔!!!۔
اْس سچ سے میرے سواء کوئی اور واقف نہ تھا۔
میں نے بارہا شیراز کو سمجھایا کہ اگر وہ سچ مچ شاہانہ سے محبت کرتا ہے تو اْسے کْھل کر بتا کیوں نہیں دیتا؟۔
میری بات سْن کر ہمیشہ اْس کے چہرے پر ایک گہری مسکراہٹ آ جاتی۔ کچھ دیر وہ یونہی مسکراتی آنکھوں سے خلاؤں میں گھورتا۔ پھر ایک گہری سانس لے کر کہتا۔
“یار علی۔۔۔! ضرورت ہی کیا ہے۔ میں جانتا ہوں کہ وہ مجھ سے محبت کرتی ہے اور وہ جانتی ہے کہ میں اْس سے محبت کرتا ہوں”۔
“مگر بھائی میرے محبت اپنا اظہار بھی تو چاہتی ہے”۔ میں اْس کا رٹا رٹایا مکالمہ سْن کر ہمیشہ کی طرح جھْنجلا جاتا۔
“وہ محبت ہی کیا جسے اظہار کا سہارا لینا پڑے۔۔۔۔!”۔ وہ مسلسل خلاوں میں گھورتے ہوئے مسکرا کر جواب دیتا۔
“تو کیا اِس انتظار میں ہو کہ پہلے وہ اظہارِمحبت کرے؟۔ لڑکیاں عموماً ایسے معاملات میں پہل نہیں کیا کرتیں”۔
“جانتا ہوں۔۔۔۔!”۔
“جانتے ہو تو پھر کچھ کرتے کیوں نہیں؟”۔
“اتنی جلدی بھی کیا ہے؟۔ کردوں گا اظہارِمحبت بھی جب وقت آئے گا”۔
“اور جناب وہ وقت کب آئے گا؟”
“سْن مْنّے۔۔۔!، مزہ تو تب ہے کہ وقت خْود اْسے یہ حقیقت باور کروائے۔ مجھے یقین ہے کہ وقت میرا پیامبر بن کر اْسے میری محبت کا پیام دے گا۔ مگر یہ بات تجھے سمجھ نہیں آ سکتی”۔ یہ کہہ کر وہ مجھے یوں تمسخر بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے بہزاد لکھنوی کا یہ شعر پڑھ دیتا جیسے میں سچ مچ کوئی مْنّا ہی تو ہوں۔
اے جذبہِ دل گر میں چاہوں ہر چیز مقابل آ جائے
منزل کے لیے دو گام چلوں اور سامنے منزل آ جائے
میں اپنی جھینپ مٹانے کے لیے جوابی حملہ کرتا
ہاں یاد مْجھے تم کر لینا، آواز مجھے تم دے لینا
اس راہِ محبت میں کوئی درپیش جو مْشکل آ جائے
ایک روز یونیورسٹی کی لائبریری میں اخبار پڑھتے ہوئے میری نظر ایک خبر پر پڑی۔ میں تو جیسے اْچھل ہی پڑا۔ اخبار میز پر پٹخ کر شیراز کی تلاش میں نکال کھڑا ہوا۔ حسبِ معمول وہ شاہانہ کے ساتھ اپنے محضوص گھاس کے قطعے پر بیٹھا نہ جانے کتاب سے کیا پڑھ کر اْسے سْنا رہا تھا۔ وہ ہم تن گوش بنی بیٹھی تھی۔ میں جاتے ہی اْن کے سامنے دھم سے گھاس پر بیٹھ گیا۔
“اگر کوئی اہم پیریڈ نہ ہو تو اسی وقت میرے ساتھ چلو۔ بہت ضروری ہے”۔ میں اْس کے ہاتھ سے کتاب کھینچتے ہوئے بولا۔
“پیریڈ تو کوئی خاص نہیں ہے لیکن یہ تو بتاؤ جانا کہاں ہے؟”۔
“بتاتا ہوں۔ تم چلو تو سہی”۔
کچھ ہی دیر میں ہم شیراز کی نئی نویلی لال ہنڈا سیونٹی پر سوار یونیورسٹی کے مین گیٹ سے باہر نکل رہے تھے۔
“یار شیراز، یہ تو کمال ہوگیا”۔
“کیوں مْنّے، ایسا کیا ہوگیا؟”۔
“اسی لیے کہتا ہوں کہ شاہانہ کے ساتھ تھوڑا بہت اخبار بھی پڑھ لیا کرو”۔
“کچھ بولو گے بھی یا یونہی اناپ شناپ بکتے رہو گے”۔
“یارامریکی قونصل خانے والوں کا پریس ریلیز ہے آج کے اخبار میں۔ گرین کارڈ لاٹری کے فارم آج قونصل خانے سے جاری کیے جا رہے ہیں۔ بس اب جلدی سے چلو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ فارم ختم ہوجائیں اور ہم گرین کارڈ سے محروم رہ جائیں”۔
“ابے۔۔۔!، کس گھامڑ نے کہا ہے کہ میں امریکا جانا چاہتا ہوں”۔ شیراز نے موٹر سائیکل فٹ پاتھ کے ساتھ لا کر روکتے ہوئے کہا۔
“تم بھلے ہی نہ جانا مگر میں تو جانا چاہتا ہوں نا”۔
“تو شوق سے جاؤ، کس نے روکا ہے؟”۔
“کیسی غیروں والی باتیں کرتے ہو۔ پردیس میں اپنا یار ہی نہ ہو تو بھلا کس کافر کا دل وہاں لگے گا”۔ میں منہ بسورتے ہوئے بولا۔
“دل لگانے کو میمیں اور گوریاں بہت۔ وہاں جا کر ہماری یاد بھی نہیں آنی”۔
“چل اب نخرے نہ کر۔ ویسے بھی یونیورسٹی سے عبداللہ ہارون روڈ بہت دور ہے۔ کہیں جو فارم ختم ہو گئے نا تو بچو میں چھوڑوں گا نہیں تجھے”۔
گھنٹہ بھر بعد ہم دونوں امریکی قونصل خانے کے باہر کھڑے تھے۔ وہاں موجود نوجوانوں کے جمِ غفیر کو دیکھ ہماری تو آنکھیں ہی باہر آ گئیں۔ شیراز کے انکار پر میں جا کر قطار میں لگ گیا۔
اگلے ہی روز فارم پْر کر کے حوالہِ ڈاک کیا۔ یہ بتانے کی تو چنداں ضرورت نہیں کہ میں نے ایک فارم شیراز کے مکمل کوائف درج کر کے اْس کی طرف سے بھی روانہ کردیا۔ جب اْسے یہ بات بتائی تو موصوف خْوب چیں بجبیں ہوئے۔
“اگر بدقستمی سے تمھیں گرین کارڈ لاٹری لگ جائے نا تو میرے حوالے کردینا، میں چلا جاؤں گا”۔ میں اْسے ہمیشہ یہ کہہ کر چڑاتا۔
وقت پر لگا کر اْڑتا رہا۔ ماسٹرز کے سالِ آخر کا نصف سے بھی زائد گزر چکا تھا۔ اب تک کی کارکردگی کے سبب تمام پروفیسر صاحبان اور طلبا کو یقین تھا کہ امسال شیراز شعبہِ انگریزی میں ٹاپ کر کے گولڈ میڈل مار لے جائے گا۔ ویسے بھی کالج کا حسین ترین نگینہ شاہانہ احمد تو پہلے ہی اْس کے گلے کا ہار بنی ہوئی تھی۔
مگر شاید خْود اْس کی اپنی کہی ہوئی بات ہی اْس کے آڑے آ گئی۔۔۔!!!۔
اْسے شاید اندازہ نہ تھا کہ یہ وقت نامی شئے کتنی ظالم ہے۔ وقت سے چاہے کوئی کتنی ہی امیدیں کیوں نہ باندھ لے یہ ظالم اپنی چال کچھ یوں چلتا ہے کہ دیکھنے والا دیکھتا ہی رہ جاتا ہے۔۔۔! اور یہ ظالم مقدر۔۔۔! دو گام بھی نہ چلنے والوں کو منزل سے ہمکنار تو کبھی کسی کو تمام عمر چلنے کے بعد بھی عین منزل پر پہنچا کر منزل سے دور کر دیتا ہے۔۔۔!!!۔
ایک شام شیراز میرے گھر آیا۔
لباس بے ترتیب، دھول میں اِٹے جوتے، اْڑی رنگت، بکھرے گیسو، ویران آنکھیں، چہرے کا تبسم وشگفتگی عنقا۔ میں اْسے دیکھ کر دھک سے رہ گیا۔ ہاتھ پکڑ کر اپنے کمرے میں لایا۔
“او شہزادے، کیا ہوا۔ یہ کیا اْجاڑ شکل بنا رکھی ہے۔ خیریت تو ہے نا؟”۔
میری بات سْن اْس کی آنکھوں میں نمی بھر آئی۔ پتلون کی جیب سے ایک مڑا تڑا لفافہ نکال میرے ہاتھ پر دھر دیا۔ میں نے کھول کر دیکھا تو مجھ پر بجلیاں گر پڑیں۔
وہ شادی کا کارڈ تھا۔۔۔!۔
شاہانہ کی شادی۔۔۔!، جو دو ماہ بعد کسی عرفان کے ساتھ ہونا قرار پائی تھی۔۔۔!!!۔
کارڈ میرے ہاتھ سے چْھوٹ کر زمین پر گر گیا جسے نہ تو میں نے اور نہ ہی شیراز نے اْٹھانے کی کوشش کی۔
“میں نے کہا تھا نا تم سے۔ اْسے بتا دو۔ مگر تم کو تو بس فلسفہ سوجھتا تھا”۔ اْس نے میری بات کا کوئی جواب نہ دیا۔ یونہی گم صم کھڑا رہا۔ میں نے آگے بڑھ کر اْس کے دونوں شانے جھنجوڑتے ہوئے بولا۔ “ابھی تو شادی میں دو ماہ رہتے ہیں۔ تم فوری طور پر اْسے اپنے دل کا حال بتا دو۔ شاید تمھاری خاموشی نے اْسے والدین کا کہنا ماننے پر مجبور کر دیا ہو”۔
میری بات نے جیسے اْسے بجلی کا جھٹکا دیا۔ اْس کے چہرے کا رنگ بدلا اور یک لخت چہرے پر غیض وغضب کے آثار نمایاں ہوگئے۔ میں ابھی یہ کایا پلٹ دیکھ کر حیران ہو رہا تھا کہ وہ چیختا ہوا بولا۔
“وہ بے وفا کہتی ہے تمھیں صرف ایک اچھا دوست سمجھتی ہوں۔۔۔!۔ بس اِس سے زیادہ کچھ اور نہیں۔۔۔!!!”۔ اِتنا کہہ کر کمرے کا دروازہ زور سے پٹختا ہوا نکل گیا۔
کچھ دیر میں یونہی گم صم کھڑا سارے معاملے کو جذب کرنے کی کوشش کرتا رہا۔ مجھے ڈر تھا کہیں وہ اپنی ناکامی کا بدلہ شاہانہ یا اْس کے ہونے والے شوہر کو کوئی گزند پہنچا کر نہ لے۔ میں ڈورتا ہوا اْس کے گھر پہنچا۔ معلوم ہوا اْس نے خود کو اپنے کمرے میں بند کر لیا ہے۔ گھر والوں سے کہہ دیا تھا کہ مجھ سمیت کوئی بھی ملنے آئے تو کہہ دیا جائے کہ وہ کسی سے بھی ملنا نہیں چاہتا۔ چند روز بعد اْس کے گھر والوں نے بتایا کہ وہ گھر چھوڑ کر اپنے ماموں کے پاس اسلام آباد چلا گیا ہے۔
دوسری طرف شاہانہ باقاعدگی کے ساتھ یونیورسٹی آتی رہی۔ ایک روز میں نے اْسے یہ کہہ کر لتاڑنے کی کوشش کی کہ اْس کی وجہ سے شیراز یونیورسٹی اور شہر تک چھوڑ کر چلا گیا ہے۔ اِس سارے معاملے کی ذمہ دار وہ ہے۔ شاہانہ نے وہی بات کہی جو شیراز بتا چکا تھا۔ یہ بھی بتایا کہ عرفان اْس کا کزن ہے۔ اْس کے والدین اور خْود اْس کی بھی پسند ہے۔ ایک دوست کے طور پر سرپرائز دینا چاہتی تھی لہٰذا اچانک شادی کارڈ تھما دیا۔ اْسے شیراز جیسے ذہین اور سمجھدار لڑکے سے اِس حرکت کی ہرگز امید نہ تھی۔
شادی کے چند دنوں بعد اْس نے دوبارہ یونیورسٹی آنا شروع کر دیا۔ اگلے چند ماہ بعد گریجویشن کی تقریب میں شیراز کو ملنے والا یقینی گولڈ میڈل اْس کے ایک ہم جماعت جس نے اْس کی عدم موجودگی کے سبب ٹاپ کیا تھا کے حوالے کر دیا گیا۔
میں کوشش میں لگا رہا کہ شیراز کے گھر والوں سے اْس کے بارے میں معلومات حاصل کر سکوں۔ شیراز کے گھر والوں نے اْس کے ماموں کا نمبر بھی دیا۔ ماموں نے صرف اِتنا بتایا کہ اْس نے سختی سے کہا ہے وہ کسی سے بات نہیں کرنا چاہتا۔
کچھ عرصے بعد میں نے محلے میں اْڑتی اْڑتی خبر سنی کہ شیراز امریکا چلا گیا۔
میں یہ سْن کر ہکا بکا رہ گیا اور فورا اْس کے گھر جا پہنچا۔ شیراز کے ابّو نے اِس بات کی تصدیق کی اور یہ بھی بتایا کہ میری روانہ کردہ گرین کارڈ لاٹری کی درخواست میں اْس کا نام نکل آیا تھا۔ کوئی سال بھر قبل اسلام آباد کے امریکی سفارت خانے سے مطلوبہ کاغذات جمع کروانے کا خط موصول ہوا۔ میڈیکل ودیگر متعلقہ معاملات کی تکمیل کے بعد اْس کا حتمی انٹرویو اسلام آباد میں ہوا۔ بلاآخر روانگی سے متعلق ضروری کاغذات موصول ہونے کے بعد گذشتہ ہفتے وہ امریکا روانہ ہوگیا۔
میں اْس روز کے بعد برسوں مقدر کے اِس کھیل کو سمجھنے کی ناکام کوشش کرتا رہا۔ مجھے اْس کے یوں اچانک امریکا چلے جانے کا شدید دکھ تھا۔ اِس لیے نہیں کہ امریکا تو میں جانا چاہتا تھا، چلا وہ گیا۔ میں اْس کے مزاج سے بخوبی واقف تھا۔ نامرادیِ عشق اور امریکا کا آزاد ماحول کہیں اْسے بہکا ہی نہ دیں۔
پھر میں دھیرے دھیرے اپنی گھریلو اور کاروباری زندگی میں مصروف ہوتا چلا گیا۔ بس کبھی کبھار رات کے اندھیرے میں اپنے بستر پر لیٹا اْسے یاد کر لیا کرتا۔
چند ماہ قبل ایک کاروباری سلسلے میں امریکا جانے کا پروگرام بن گیا۔ جس امریکی فرم سے میرے کاروباری روابط تھے اْن کی طرف سے موصول شدہ کاغذات کے سبب ویزا باآسانی لگ گیا۔ ویزا لگتے ہی پرانے محلے میں جہاں شیراز کے والدین اب بھی آبائی مکان میں رہتے تھے سے ملا اور شیراز کا امریکا میں موجودہ اتا پتہ حاصل کیا۔ کاروباری معاملات سے فارغ ہو کر امریکی ریاست ٹکساس کے شہر ہیوسٹن سے اْسے فون کیا۔ خلافِ توقع نہ صرف اْس نے فون اْٹھایا بلکہ مجھے فوری طور پر پہچان بھی لیا۔
اچانک جہاز کے پبلک ایڈریس سسٹم پر ایک ہلکی سی گھنٹی نما آواز سنائی دی اور ایک خاتون کی آواز ابھری۔
’’ہم کچھ ہی دیر میں شکاگو اوہئیر ائر پورٹ پر اترنے والے ہیں۔ مقامی وقت کے مطابق اِس وقت رات کے نو بجا چاہتے ہیں۔ مطلع مکمل طور پر ابر آلود ہے اور کسی وقت بھی برفباری کا آغاز ہو سکتا ہے۔ تمام مسافروں سے التماس ہے کہ وہ اپنے حفاظتی بندھ اگلے اعلان تک باندھے رکھیں، شکریہ!‘‘۔
کچھ ہی دیر کے بعد میں سوٹ کیس سنبھالے ائیرپورٹ کے خود کار دروازے سے باہر نکل رہا تھا۔ وسط نومبر کی ہڈیاں منجمد کردینے والی سرد ہوا نے میرا استقبال کیا۔ میں نے اپنے چرمی اوورکوٹ کی چین کو اوپر چڑھا کر کالروں کو کھڑا کر لیا کہ گردن اور کان سرد ہواؤں کی دسترس سے محفوظ رہیں۔ کچھ ہی قدم آگے بڑھا تھا کہ ہلکی ہلکی برفباری کا آغاز ہو گیا۔
ائر پورٹ کی عمارت کے باہر گاڑیوں کا ایک اژدھام تھا۔ میں اِدھر اْدھر نظریں دوڑانے لگا۔ اچانک ہارن کی آواز پر میں نے چونک کر دیکھا تو گاڑی کے بند شیشوں کے پیچھے شیراز ہاتھ ہلا رہا تھا۔ پردیس میں کسی اپنے کی صورت نظر آ جانا کیسا ہوتا ہے، اِس کیفیت کا اندازہ ایک غریب الوطن ہی لگا سکتا ہے۔
کچھ ہی دیر میں ہم شیراز کے حْوبصورت سے دو منزلہ گھر میں موجود تھے۔ مجھے شیراز کو دیکھ کر خوشگوار حیرت ہو رہی تھی۔ ماسوائے اْس کے گھنے سیاہ بالوں میں چند سفید تاروں کی موجودگی کے اور کوئی تبدیلی نہ آئی تھی۔ اْسی کے بتانے پر معلوم ہوا کہ اْس نے کوئی بیس ایک برس قبل ایک امریکن لڑکی سے شادی کرلی تھی جس سے اْس کے دو بچے ہیں۔
اْس روز تو مجھے رات گہری ہونے کے سبب کھانا وغیرہ کھلا کر سْلا دیا۔ اگلی صْبح اْس کے بیوی بچوں کے ساتھ امریکی طرز کا شاندار وپْرتکلف ناشتہ کیا۔ اْسے بیوی بچوں کے ساتھ ہنستا کھیلتا دیکھ مجھ پر حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ رہے تھے۔
دوپیر میں وہ مجھے کھانا کہیں باہر کھلانے گاڑی میں لے کر روانہ ہوا۔ “یہ شکاگو کا مشہور ڈایون ایونیو ہے۔ یہاں ایک سڑک قائدِاعظم کے نام سے موسوم ہے۔ بہت سے پاکستانی ریسٹورینٹس اور دکانیں بھی ہیں۔ ’’تمھیں ایسا محسوس ہوگا کہ جیسے تم کراچی میں گھوم رہے ہو‘‘۔ واقعی سب سے پہلے جس سائن بورڈ پر نظر پڑی وہ تھا، ’’صابری نہاری‘‘۔ جی ہاں وہی کراچی کے اْردو بازار والی صابری نہاری۔
ہمارے سامنے گول کٹی ہری مرچوں اور ادرک کی ہوائیوں سے سجی گرما گرم نہاری اور مکھن لگے تندوری نان میز پر دھرے تھے۔ کھانے کے دوران میں نے اْسے تفصیل سے اپنے گھر والوں اور کاروبار کے متعلق بتایا۔ وہ خاموشی کے ساتھ مسکرا کر سب سْنتا رہا۔ مجھے اْس کے چہرے پر چھایا گہرا سکون واطمینان دیکھ کر شدید حیرت ہو رہی تھی۔ رہا نہ گیا تو وہی سوال کر دیا جو گذشتہ رات سے میری زبان کی نوک پر اٹکا تھا۔
“یار شیراز۔۔۔!، سچ بتا۔۔۔!، تجھے شاہانہ یاد نہیں آتی؟۔۔۔!!!”۔ میرے سوال پر اْس کے چہرے پر ایک بے حد معنیٰ خیز سی مْسکراہٹ چھا گئی۔
“علی۔۔۔!، اگر میں نے سچ بتا دیا نا تو پاؤں تلے زمین سرک جائے گی۔۔۔ !!!”۔
“سچ۔۔۔۔! کیسا سچ۔۔۔۔۔!!!”۔
“وہ محبت نہ تھی۔۔۔!”۔
“وہ۔۔۔؟”۔
“ہاں وہ۔۔۔!، جو میں نے شاہانہ سے کی تھی۔۔۔!، وہ۔۔۔! وہ میری انا تھی۔۔۔!!!”۔ وہ کھانا بھول کر کہیں دور خلاؤں میں تکتے ہوئے بولا۔ “میری وہی انا جو صرف اوّل آنے ہی کو کامیابی گردانتی۔ سو میں نے اپنی اْسی انا کی تسکین کے لیے یونیورسٹی کی سب سے حسین لڑکی کا انتخاب کیا”۔
“اوہ۔۔۔!”. میں فقط اِتنا ہی کہہ پایا۔
“محبت میں انتخاب نہیں ہوتا۔ محبت تو کسی چھْوت کی بیماری کی مانند خْود اْڑ کر آ لگتی ہے۔ مگر میرے پندار میں ایستادہ انا کا وہ خْود پسند بْت اوّل آنے اور سب سے خْوبصورت لڑکی کا ساتھ پا کر ہی تو زندہ رہ سکتا تھا”۔
“یہ کیا کہہ رہے ہو تم شیراز”۔
“ہاں علی، میں جو کہہ رہا ہوں، یہی سچائی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ ہم میں کوئی ایک بات بھی تو مشترک نہ تھی۔ شروع کے چند سال تو خْود مجھے بھی یہ بات سمجھ نہ آ سکی۔ پھر دھیرے دھیرے سمجھ آیا کہ اگر ہماری شادی ہو جاتی تو ہم میں سے کوئی بھی خْوش نہ رہ پاتا۔ آج وہ اپنے گھر خْوش اور میں اپنی بیوی سلینا اور بچوں کے ساتھ خْوشگوار ومطمئن زندگی گزار رہا ہوں”۔
“یار۔۔۔!، یہ تم کہہ رہے ہو، مجھے یقین نہیں آ رہا”۔
“علی ہم ادب کے طالبعلم تھے نا؟۔۔۔!”۔ شیراز نے میری بات سْنی ان سْنی کرتے ہوئے سوال داغ دیا۔
“ہاں۔۔۔! تھے۔۔۔!، تو؟۔۔۔!!!”.
“تو دوست۔۔۔!، جو ادب محبت کرنا نہ سکھائے اور جو محبت ادب کرنا نہ سکھائے۔ نہ وہ ادب ہے۔۔۔! اور نہ ہی محبت۔۔۔!!!”۔
“کہنا کیا چاہتے ہو؟”۔
“ادب پڑھ کر محبت کرنا سیکھ پایا اور نہ ہی محبت کر کے ادب کرنا۔ بس انا کے بْت کا اسیر بنا رہ گیا۔ نہ ادب اور نہ ہی محبت انا کے اْس بْت کو توڑ سکے جو میرے اندر دن سے زیادہ رات اور رات سے زیادہ دن میں اپنا قد نکالتا رہا”۔
میں بْت بنا اْسے ٹْکر ٹْکر دیکھتا رہا۔
“تم تو اْردو ادب پڑھتے رہے ہو نا۔۔۔! یاد نہیں۔۔۔؟”۔
“کیا یاد نہیں؟”۔ میں نے حیرت سے دریافت کیا۔
وہ ایک نہایت ہی گہری مسکراہٹ ہونٹوں پہ سجا کر میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا۔
ادب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں۔۔۔۔۔۔۔!!!

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close