Naeyufaq Apr-17

کفن پوش(حصہ اول)

شبیہہ مظہر رانجھا

`ARY NEWS 13-Aug-2016
khyber agency; reports said that some personnel of the 35 punjab regiment were patrolling sandana area in sipah territory when an improvised explosive device planted on the roadside exploded.three men including captain Omer Farooq were killed on the spot.
کیپٹن غازی حافظ عمرفاروق شہیدؒ،
ولادت 19جنوری1991۔
شہادت۔12 اگست,2015
جائے پیدائش۔واہ کینٹ۔
جائے شہادت ۔وادیٔ تیراہ
اس کی قبر پر بیٹھی میں بے آواز رو رہی تھی وقت پر لگا کے اڑتا رہا اور ہم اسے کھو کے بھی جیتے رہے،یہ کیسے ہو گیا، شاید اسے ہم نے خود سے الگ کیا ہی نہیں،وہ ہماری زندگیوں میں ہی ٹھہر گیا ہے۔اسے ہم نے اپنے پاس سے کہیں جانے ہی نہیں دیا۔آج بھی اسکی یادیں لمحہ پہلے کی باتیں لگتی ہیں،مجھے پل پل یاد آنے لگا وہ میرے آس پاس ٹہلنے لگا،وہ مجھے مسکرا کے بات کرتا نظر آنے لگا،اسے ہم سب کو ستا کے بہت مزا آتا تھا اور میں بھی تو اسے ناکوں چنے چبواتی تھی۔۔۔ آہ! میرا پیارا بھائی تم لوگ کنجوس ہو۔پلہ لگا کر راضی نہیں ہو، یہ نہیں پتا کہ گفٹ دینے سے محبت بڑھتی ہے؟بڑے آ ئے لڑکے والے ۔منہ اٹھا کے چلے آئے ہو۔۔ میں اندھا دھند لفظوں کی فائرنگ کر رہی تھی۔اور وہ سارے بھی جوابی کارروائی کے لئے پر تول رہے تھے۔
’’ہم میں رواج نہیں ہے، باجی ہم تو ابھی سٹوڈنٹ ہیں۔آپ ہم سے ویسے کوئی مقابلہ کر لیں۔‘‘ مون نے کہا تو میں چڑ گئی۔
’’کیوں جی مقابلے کی کیا بات ہے ٹیبل پر جتنے گفٹ پڑے ہیں سب ہماری طرف سے ہیں تو ہم تو جیتے ہوئے ہیں نا۔بس تصویریں کھنچوانے کی پڑی ہوئی ہے تم لوگوں کو۔‘‘میں یہ کہہ کر کچن کی طرف بڑھنے لگی تو لڑکوں نے کھینچ کر مجھے بھی صوفے پر بٹھا لیا۔
’’ارے باجی آپ کہاں جا رہی ہیں چلیں گانوں کا مقابلہ کرتے ہیں لڑائی تو نہیں کرنی چاہیے ناں۔‘‘ میں نے گھور کر عثمان کو دیکھا تو سب لڑکیاں لڑکے ہنس پڑے۔
’’نہ بابا نہ یہ گانے بجانے کا ہنر ہم میں نہیں ہے ہم تو شاعر لوگ ہیں شعر سنا دیں گے۔‘‘ اس بات پر مون اچھلا۔
’’ہاں ہاں سنائیں۔‘‘ میں نے کہا۔
’’جواب میں تم بھی سنانا۔‘‘ اور اس طرح ہم شعر سنانے لگے ،خوب محفل جمی اور لڑائی بھی ہوتی رہی ساتھ ساتھ، لڑکیوں کے ساتھ بھی ہنسی مذاق چلتا رہا۔کزن کی منگنی کا فنکشن اسی چھیڑ چھاڑ میں اختتام پذیر ہو گیامون اور عثمان میری آنٹی کے بیٹے ہیں وہ ابو جی کی کزن ہیں اور امی کی بھی ،اس ساری اسٹوری کا مرکزی کردار مون ہے، لڑکے والوں کے جانے کے بعد ہم سب بھی تیاری کرنے لگے کیونکہ بڑوں میں یہ طے پا گیا تھا کہ کل ہم بھی رسم کر آئیں گے نانا اباٹائم کے بہت پابند ہیں اور کل ہم لیٹ نہ ہو جائیں اس لیے ساری رات تیاری کرنے میں بیت گئی فیصل آباد سے بھی مہمان آئے ہوئے تھے اپنا بیوٹی سیلون ہے سو گرلز نے ڈٹ کرتیاری کی فیشل کلر مہندی اور نا جانے کیا کیا، رات کے تین بج گئے۔ صبح امی نے دھکے وغیرہ لگا کے جگایا وقت پر سب مہمان آئے جنھوں نے ساتھ منگنی پر جانا تھا اور یہ قافلہ پنڈ دادنخان جیسے تاریخی لیکن خستہ شہر جا پہنچا۔ یہ جہلم کی تحصیل ہے سنا ہے کہ اس شہر کو البیرونی نے دنیا کا مرکز بتایا ہے اور یہاں بیٹھ کر بہت سے تاریخ سازامور سر انجام دیئے۔ خیر ہم لوگ منگنی کی رسم کے لیے وقت سے ذرا پہلے پہنچ گئے ہماری خالہ جان کا یہ سسرال بھی ہے سو ان کے روم میں جا کے بیٹھ گئے ۔سنیئہ کو عجیب سا لگ رہا تھا کیونکہ کل جیسی گرما گرمی نہیں تھی ان لوگوں میں، آہستہ آہستہ ہم لوگ تیاری میں لگ گئے میزبانوں میںکچھ لوگ دریا پر گئے ہوئے تھے (دریائے جہلم انکے پاس ہی بہتا ہے)کچھ دیر تک سب اکٹھے ہوئے تو بڑے ابو جی نے جلدی مچا دی پھر بھی ٹھیک ٹھاک دوپہر ہو گئی ان لوگوں کی خاص تیاری نظر نہیں آ رہی تھی میں نشاط اور سنیئہ روم میں بیٹھے ہوئے تھے جب اندر لڑکے داخل ہوئے مون نے سمائل دی اور کوئی بات میری طرف اچھالی میں نے بھی جوابی وار کیا بس پھر کیا تھا ہلکی ہلکی چھیڑ چھاڑ چلنے لگی اتنے میںکھانے کا پیغام آ گیا میری لڑکیوں اور لڑکوں ،دونوں سے بہت بنتی ہے تقریباً کچھ کو چھوڑکے سبھی چھوٹے ہیں میں نے جتلا دیا کہ کل ہمارے گھر تو بہت اخلاق جھاڑ رہے تھے ۔لیکن آج اپنے گھر تمھیں احساس ہی نہیں کہ مہمان آئے ہیں بندہ ان کے پاس ہی آکے بیٹھ جاتا ہے
کوئی بھاگتا ادھر جا رہا ہے کوئی اُدھر جا رہا ہے یہ سن کر مون میرے پاس بیٹھ گیا۔
’’ او ہو باجی آپ کے شکوے تو بوڑھی عورتوں کی طرح ختم ہی نہیں ہوتے سنائیں کیا حال چال ہے میں پاس بیٹھ گیا ہوں آپ کے۔‘‘ لیکن میں بھی آپا جی بن کر منہ پھلا کر بیٹھی رہی آج بھی میری آنکھوں کے سامنے اس کا مسکراتا سراپا آ گیا ہے جب وہ معصوم سا لڑکا میرے پاس بیٹھ کر مجھے مناتا رہا اور میں اسے جگتیں لگاتی رہی خیر کسی نے آواز لگائی اور ہم کھانا کھانے چلے گئے اس کے بعد رسم شروع ہو گئی حسب معمول تحفے تحائف دیئے گئے ساتھ ساتھ میں ان لڑکوں کو لتاڑتی بھی رہی کہ ادھر تو لڑکی ہماری تھی اس لیے تم لوگوں نے گفٹس نہیں دیئے لیکن ادھر تو لڑکا تم لوگوں کا ہے پھر بھی جیبوں سے کچھ نہیں نکلااوروہ اس نئی ریِت کے لیے تیار سے نہیں لگ رہے تھے ۔تقریب اختتام کو پہنچی تو ہم خالہ کے کمرے میں آ گئے ان کی لڑکیاں تو اپنی فیملی میں بزی تھیں باہر سے مون آیا تو ٹوک لگائی۔
’’باجی سنیہ، نو گفٹ۔۔۔۔نو لفٹ؟ اور دروازے میں کھڑا ہو کے مسکرانے لگا۔ میں نے جواب دیا۔
’’ تم لوگوں کو گھر آئے مہمانوں کا خیال ہو تو پھر تو ہم تم لوگوں کو معاف بھی کریںاور جو سیدھی بات ہے بھئی ہمیں تو گفٹ نہ دینے والا بندہ چبھتا ہی بہت ہے۔‘‘ اتنا کہنے پر وہ مجھے بیڈ سے اتار کر باہر کھینچ کر لے گیا۔
’’میں چیخی او کنجوس آدمی! کہاں لے کر جا رہے ہو؟‘‘
’’ادھر باہر گھومنے جارہے ہیں باہر عثمان اور بلاول بھی تھے میں نے نشاط اور سنیہ کو آواز لگائی دریا کی طرف جانے والے رستے پر ہم چلتے گئے نوک جھونک بھی چلتی رہی بلاول نے کوئی بات کی تو میں نے گرہ لگائی دیکھو اس کو ذرا، پنڈ سے اٹھ کر لاہورکیا چلا گیااس کے تو پر پُرزے نکل آئے ہیں۔بولی تک بدل ڈالی اس نے اپنی ،عثمان نے اردو پنجابی مکس کر کے کوئی بات کی تو اس کی ٹانگ کھینچنے کا موقع بھی مل گیا۔او بھائیو !بچپن سے تم لوگ اردو بول رہے ہوآنٹی ہماری نے تم لوگوں کی تربیت میں کوئی کسر اُٹھا نہیں رکھی پر اردو تک ٹھیک سے نہیں بول پاتے تم لوگ، مون نے پھر گفٹ کے حوالے سے کوئی بات کی اور میں شروع ہو گئی ہنستے کھیلتے ہم لوگ واک کرتے رہے نشاط اور سنیہ ہماری بحث سے الگ تھیں اگر فاطمہ ہوتی تو اس نے میرا ساتھ دینا تھا یہ سوچ آتے ہی میں غصے میں آ گئی کہ میں اکیلی ان غنڈوں میں پھنسی ہوئی ہوں،میرے کچھ بولنے سے پیشتر بلاول کہتا بس بس ہمیں پتہ چل گیا ہے کہ واپس چلنا ہے تو ۔۔۔چلو پھر،گھر آئے اور نانا ابا نے جلدی مچا دی ،اس علاقے میں آج بھی ٹانگے چلتے ہیں گاڑی تک جانے کے لئے ٹانگہ کروانا پڑتا ہے، ہم بھی ٹانگے پر بیٹھے کچھ دور ہی گیا ہو گا کہ کہیں سے چھلانگ لگا کر مون ٹانگے کے پیچھے لٹک گیا ۔وہ پائیدان پر کھڑا ہو کے چھجے سے سر جھکا کے اندر ہو کے مجھ سے باتیں کرنے لگا۔
’’باجی آپ ناراض تو نہیں ناں؟ مجھے اصل میں اندازہ نہیں تھا ان فنکشنزکا۔‘‘ میں نے کہا۔
’’نہیں بھائی میں ناراض نہیں ہوں بس ایک بات ذہن میں آئی اور کر دی،ختم سمجھو۔‘‘ میں کہہ کے مسکرانے لگی تو بولا۔
’’باجی دیکھیں ناں ابھی ہم سٹوڈنٹ ہیں ۔اتنا خرچہ نہیں ملتا بس پاکٹ منی ہوتی ہے۔‘‘ میں نے اسے پیار سے ڈانٹا کہ اب ایسی بات نہ کرنا۔
’’اچھا باجی جلدی سے نمبر لکھوائیں،میں نے اپنا نمبر لکھوا کے اس کا بھی نوٹ کر لیا،تھوڑا دور چلے تو اچانک چھلانگ لگا کے پائیدان سے نیچے کود گیا،میں نے پریشان ہو کے گردن نکال کے دیکھا تو مسکراتے ہوئے ہاتھ ہلا کے الوداع کر رہا تھا۔ اس پہ بہت پیار آیاتب احساس ہوا کہ ہم تو ایویں لڑتے ہیںاندر سے ہم محبت کرنے والے لوگ ہیں،ہاتھ ہلاتے ہوئے وہ کہیں دور رہ گیا اور ہم گھر لوٹ آئے ان دنوں میں ایم اے پول سائنس کر رہی تھی ساتھ اپنا سیلون بھی چلا رہی تھی ایف ایم پہ ان دنوں میرا پنجابی شو بھی آن ایئر جاتا تھا انکل کا اسکول بھی چلا رہی تھی اور ادبی مصروفیت اتنی کہ رات کے تین بجے تک تو عام طور پر بیٹھ کے لکھتی رہتی،لیکن اس سب کا یہ مطلب نہیں کہ میں اپنوں سے غافل رہتی تھی،مون بھی میرے اپنوں میں شامل تھا چیٹنگ چلتی تو بہت دیر تک چلتی رہتی اکثر کسی نہ کسی موضوع پر ہم بحث کرتے رہتے۔۔۔۔کرتے کراتے عابدہ(مون کی سسٹر)کی شادی آ گئی، ہم سب گئے مون کو بہت اچھا لگا خاص طور پر وہ مِٹھائی جو ہم لے کے گئے اسے بہت مزے کی لگی،ہم چونکہ عزت اور محبت کرنے والے لوگ ہیں اور صلے کے طور پر محبت اور عزت ہی چاہتے بھی ہیں اور مون کو اس چیز کا بڑا ادراک ہو گیا تھا اسی لیے میری اور اس کی گاڑھی چھننے لگی تھی، شاید اسے ہی مزاج آشنائی کہتے ہیں۔۔۔۔بہت عرصے بعد ایک دن میں بڑی امی(نانی اماں)کے گھر تھی کہ عابدہ کا میسج آیا مون انجرڈ ہے اس کے لیے دعا کریںمیں سخت پریشان ہو اٹھی اللہ خیر کرے کیا ہو گیا اس کو؟ میں نے آنٹی رضیہ کے نمبر پر کال کیا میرا خیال تھا کہ ایویں مذاق ہو گا لیکن آنٹی واقعی پریشان تھیں ہُوا یوں کہ مون گھر میں کھڑکی کے سامنے کھڑا تھا شیشہ پہلے ہی کریک تھا ہَوا بہت تیز چل رہی تھی کہ شیشہ فریم سے نیچے دھڑام گرا اور کھڑکی کے ہینڈل پہ دھرے بازو کی رگیں کاٹتا ہوا فرش پر جا گرا،آنٹی نے بتایا تو میرا پریشانی کے مارے برا حال ہو گیا دعامانگوں یا اللہ میرے بھائی کو سلامت رکھنا جس دن بائیں ہاتھ کی رگیں کاٹی گئی تھیں اس دن واہ کینٹ میں شدید بارش تھی کنونس نہیں ملتی تھی بہت مشکل سے انکل سلمان(مون کے والد) اسے سی ایم ایچ لے کے گئے انھوں نے بہت مہارت سے بالکل کٹی ہوئی رگوں کو سٹیچ کیا اور بلاخر دو تین ہفتے بعد اسے مکمل آرام آ گیا۔۔۔۔مون کو ہمیشہ چوٹیں لگتی ہیں بڑے بڑے زخم آتے اوراللہ پاک کے خصوصی کرم سے اسے شفامل جاتی ہے آنٹی نے بتایا تو چپکے سے میں نے اس کی زندگی کے لیئے بہت سی دعائیں کر ڈالیں۔
دن گزرتے گئے وقت کو مانو پر لگے ہوئے تھے اور یہ لڑکا اپنی منزلیں طے کرتا جا رہا تھا غالباً بی ایس سی کر رہا تھا تب،ہم سبھی اپنی اپنی زندگی میں گم چلے جا رہے تھے لیکن فون کا رابطہ اس کا اور میرا پھر ہمیشہ رہاآج بھی اس کے میسج آئے ہوئے تھے شاید سرگودھا یونیورسٹی کی کوئی بات کی تھی اس نے ،سرگودھا کے تعلیمی ادارے پورے ملک میں مشہور ہیںمیں نے کہا تو اس کا جلا ہوا میسج آیا جی نہیں ہمارے فیڈرل ادارے زیادہ بیسٹ ہیں۔
رات گئے تک ہم اسی بحث میں لگے رہے کہ کون سے ادارے بیسٹ ہیں آخر پھر صلح کر کے بحث لپیٹ دی کیونکہ ہمیں کیا لینادینا ان باتوں سے؟آج یہ سب سوچ کے مسکرا پڑتی ہوں کہ وہ تو ضدی تھا ہی لیکن میں کتنی نادان تھی ہر وقت دوست ہونے کے باوجود اسے ہرٹ کرتی رہتی تھی شاید اس لیے کہ محض اس کا اور میرا چند برسو ں کا ہی تو فرق تھا لیکن پھر میرے ہونٹوں پر مسکراہٹ کھیلنے لگتی ہے کیونکہ مجھے اس بدمعاش کی سمجھ آنے لگتی ہے کہ وہ جان کے مجھے تنگ کرتا تھا کہ باجی کو غصہ آئے گا مون کی شاعرانہ چوائس بہت زبردست تھی۔کزن کی منگنی پر بھی ہم لوگوں نے چھوٹا سا مشاعرہ کر ڈالا تھا،اس فنکشن پر جو ہلکی پھلکی فائٹ ہوئی تھی اک دن اس نے سرپرائزلی اس کا ازالہ بھی کر ڈالا میں امی کے پاس بیٹھی تھی کہ اس کے میسج آئے اورساتھ ہی کال بھی کہ باجی میں نے کتاب کوریئر کی ہے شام 4 بجے آپ ریسیو کر لینا میں نے حیرت سے پوچھا۔
کون سی کتاب؟
جب آئے آپ پڑھ لینا شاعری کی کتاب ہے اور آپ کسی سے ذکر مت کیجیئے گا۔ ساتھ ہی فون بے جان ہو گیامیں نے فوراًامی کو بتایا کیونکہ میں ہر بات امی سے شیئر کرنے کی عادی ہوں۔ ابھی ہم یہ باتیں کر ہی رہے تھے کہ ڈور بیل بجی امی جان باہر گیئں تو کورئیر والا تھا مجھ سے دستخط کروا کے مجھے کتاب پکڑائی میں نے پیکٹ کو الٹ پلٹ کے دیکھا تو بیک سائیڈ پہ لکھا تھا عمر فاروقF.G ماڈل سکول،واہ کینٹ۔اوہ مائی گاڈ،یہ تو وہی مون والی کتاب ہے، میں نے جلدی سے پیکٹ کھول کرکتاب باہر نکالی۔۔۔۔۔اور اس کتاب کو دیکھ کے مجھے بڑی بڑی سوچیں رکھنے والے چھوٹے سے مون پر بہت پیار آیا،پروین شاکر کی ماہِ تمام میرے سامنے تھی اور اب مجھے یاد آرہا تھا کہ باتوں باتوں میں اس نے مجھ سے پوچھا تھا کہ باجی آپکو کون سا شاعر پسند ہے؟ تو میں نے بتایا تھا کہ خواتین میںپروین شاکر پسند ہے۔اس لڑکے نے کیسے ذہن میں رکھ کر آج یہ بات پوری کر دی تھی، اب مجھے شرمندگی ہو رہی تھی۔ ہائے اللہ وہ میرے بارے میں کیا سوچتا ہو گاکہ باجی کتنی لالچی ہے میں نے فوراً شکریے کا میسج کیا اور اسے سرزنش کی کہ کیا ضرورت تھی اس سب کی ،تم تو ابھی سٹوڈنٹ ہو جواب آیا کچھ نہیں ہوتا باجی،آپ پڑھیں پسند آیا نا تحفہ آپ کو؟ میں خوش بھی ہوئی کہ مون نے کتنا خیال کیا میرا،ہاں یہ اس کا پاس رکھا میں نے کہ امی کے علاوہ کسی کو نہیں بتایا میں نے۔
بہرحال ہمیں ایک دوسرے کو تنگ کرتے کافی دن کھسک گئے اور ساتھ ساتھ شب و روز ہمیں آزماتے رہے۔دوستیاں جتنی بھی پرانی یا عزیز ہوں لیکن زندگی الگ ہی اپنا خراج مانگتی ہے امی جان کی طبیعت کافی خراب تھی اور میں انھیں لے کے ڈاکٹرز کے پاس بھاگی بھاگی پھرتی تھی،خالہ فردوس کے بارے سنا تھا کہ وہ بھی بیمار ہیں کچھ مالی پریشانی بھی آ گئی بھائی احتشام کے ساتھ پروگرام بنایا کہ ہم خالہ کا پتا کر آتے ہیں کچھ تو کزن کا سسرال بھی ہے جس کی منگنی کا ذکر کیا تھا ویسے بھی ان دِنوں شبِ برات تھی ہاں یاد آیا ان دنوں ایم اے پارٹ ٹو کے پیپرز بھی دیئے ہوئے تھے مون کو بتایا کہ میں پنڈ جا رہی ہوں اس کا میسج آیا کہ میں پنڈ ہی آیا ہوا ہوں لاہور سے نوشی لوگ بھی آے ہوئے تھے۔۔۔یہ بتاتی چلوں کہ پنڈ والا گھر مون کا ننھیالی گھر ہے،نوشی لوگوں کا ددھیالی گھر ہے اور میری خالہ فردوس مون کی ممانی لگتی ہیں،مقصد یہ کہ سب کے مضبوط رشتے تھے،میں نے سوچا بہترین وقت ہے مون کے گفٹ کا بدلہ اتارنے کا،میں نے بازار سے ایک بہترین قِسم کی بلیک شرٹ کا انتخاب کیا تھا ہم دونوں بہن بھائی پِنڈ دادنخان پہنچے تو مون پہلے سے موجود تھا خالہ فردوس کے کمرے میں ملنے آیاکچھ دیر بیٹھ کے باتیں کرتے رہے جانے لگا تو میں نے آواز دے کے بلایا کہتا جی باجی آپ نے مجھے بلایا ہے ؟میں نے شاپر سے شرٹ والا پیکٹ نکالا اور اس کی طرف بڑھا دیایہ تمہارے لیے ہے،وہ بڑی بڑی آنکھیں پھاڑ کے میری طرف دیکھنے لگا۔
یہ کیا ہے باجی؟میں نے کہا۔
’’تمہارے لیے تحفہ ہے۔‘‘
’’کیوں؟ آپ میرے لیے تحفہ کیوں لائی ہیں یہ بہت ضروری تھا؟ میں نے بولا۔
’’ہاں بھئی تمھاری برتھ ڈے گزری ہے اور میں نے کوئی گفٹ نہیں دیا سوچا اب ملاقات ہو رہی ہے تو موقع جانے نہیں دینا چاہیے، دیکھو تو سہی کھول کے۔‘‘ اس نے پیکٹ کھولا تو اس کے چہرے کے تاثرات سے پتہ چل رہا تھا کہ تحفہ پسند آیا ہے،میں ہولے سے مسکرا دی یہ اطمینان ہو گیا کہ اب جتنا بھی لڑے لیکن یہ تو تسلی تھی کہ گفٹ اسے پسند آیا ہے،میری طرف شکوہ کناں نظروں سے دیکھنے لگا تو میں نے اشارہ کیا کہ کچھ نہیں ہوتا رکھ لو،اتنے میں خالہ نے بھی کہا احتشام نے بھی اصرار کیا اور اسے گفٹ لیتے ہی بنی اس کے بعد سب چنڈال چوکڑی اکٹھی ہو گئی اور لڈو کا دور شروع ہوا، ہارنے پر کوک کی بوتل لگا کے ہم کھیلنا شروع ہوئے،پہلے تو گیم slow رہی پھر پانسہ پلٹنے لگا اور مابدولت کے بار بار چھ آنے لگے،میں جیت رہی تھی ہم لوگ شور مچا رہے تھے نوشی بھی چیخنے لگی مزے کی بات یہ کہ مون ہار رہا تھا اس کی امی بھی کمرے میں آ گئیںبہت دلچسپ صورت حال تھی،میں نے تھوڑی بے ایمانی بھی کی کئی بار گوٹ چپکے سے چلا دیتی شور اور ہاہاکار مچی ہوئی تھی احتشام اور مون ایک سائیڈ پر تھے میں اور نوشی ایک سائیڈ پر، لڑکیاں جیت رہی تھیںاور لڑکے ہار رہے تھے،گیم آخری مرحلے میں تھی ہم نے بوتل بوتل کا شور مچایا اور گیم آگے بڑھا دی،count downشروع تھا پانچ تک گنتی آئی تو سب کی سانسیں اٹک گئیں کیونکہ چند سیکنڈ کی بات تھی تین آجاتا اور میری گوٹ winکر جاتی۔1,2,3,4…0اور ہم جیت گئے،اب تو لڑکے اٹھ کر بھاگے اور ہم ان کے پیچھے پیچھے،بوتل لائو کوک لائو،لیکن مون کب دانتوں کے نیچے آتا،ہمیں ٹھینگے دکھاتا رہا اور کہتا مجھے پتا تو تھا کہ تم لوگوں نے جیت جانا ہے پر میں نے بھی سوچ لیا تھا کہ ترسائو ں گا آپ لوگوں کو،نہیں پلانی نہیں پلانی نہیں پلانی،وہ خالہ کے بیڈ کے آس پاس گھومے اور ہم پیچھے پیچھے،لیکن ناکام،آخر احتشام بھائی نے سیزفائر کرایااور کہا کہ میں پلاتا ہوں آپ کو اس کی جان چھوڑ دو،نوشی اور میں نے شور مچایاکہ مون ہی پلائے گا، لیکن احتشام نے منگوا لی اور ہم سب نے مل کر پی، ساتھ ساتھ مون کو بے عزت بھی کیا کہ تم نے آج پھر کنجوسی دکھا دی ہے،وہ تپے کہ میں کنجوس نہیں ہوں لیکن ہم باز آنے والے کہاں تھے کافی دیر ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچتے رہے۔ شام کو دریا پر جانے کا پروگرام بن گیا سب لڑکے لڑکیاں ادھر نکل گئے ساتھ کیمرہ بھی تھا کشتی پر جھولے لیتے رہے اور دریائے جہلم کے کنارے نہاتے بھی رہے سرسبز کھیت بھی ساتھ ہی تھے جنہیں مقامی زبان میں بیلہ کہا جاتا ہے ا دھر ہم گلاسز پہن پہن کے تصویریں بناتے رہے،رات تک انجوائے کرتے رہے کافی دیر سے گھر پہنچے تب تک جسم ٹوٹ کر آدھا رہ گیا تھا آتے ہی مزیدار سی چائے پی اس کے بعد کچھ دیر ٹی وی دیکھا پھر 10 بجے کھانا کھایا،ہم لوگ صحن میں بیٹھے گپیں لگا رہے تھے مون اور میں ملک کے اوپر بات کر رہے تھے پھر موضوع اسلام زیرِبحث آیا اور ہم دونوں ایک دوسرے سے اپنی اپنی معلومات شیئر کرتے رہے تب میں نے جانا کہ یہ ماشااللہ علم کی دولت سے مالامال ہے،چونکہ اوائل گرمی کے دن تھے اس لیے ساری لڑکیاں چھت پر گھوم رہی تھیں ادھر ہی ان سب نے فیصلہ کیا کہ آج چھت پر سوئیں گے یہ سنا تو میں پریشان ہو گئی کیونکہ خالہ فردوس کا گھر تب بن رہا تھا ابھی سیڑھیاں نامکمل تھیں بنیرے بھی نہیں تھے لیکن ینگ پارٹی فیصلہ کر چکی تھی اس لیے مجھے بھی ماننا تھا لیکن آپ کو میں اپنی کمزوری بتا دوں کہ لکڑی کی سیڑھی سے چھت پر جانا میرے لیے ایسے ہی ہے جیسے آسمان سے تارے توڑ کے لانا،میں ڈرتے ہوئے سیڑھیوں کے پاس آئی چھوٹے بچوں نے زور سے سیڑھی کو پکڑا تا کہ باجی گِر نہ جائے کانپتی ٹانگوں اور لرزتے ہاتھوں کے ساتھ اوپر چڑھتی گئی آخری سیڑھی پر جا کے سر اوپر کیا تو میںڈر گئی کیونکہ ان لوگوں نے تو چارپائیاں بھی نہیں بچھائی تھیں نیچے ہی بستر لگا کے بیٹھے ہوئے تھے بنیرے نہ ہونے کی وجہ سے زیادہ ڈر لگ رہا تھا میں آنکھیں پھاڑ پھاڑ کے یہ سب دیکھ رہی تھی اور سوچ رہی تھی کہ چپکے سے نیچے چلی جاتی ہوں اتنے میں بنین نے مجھے دیکھ لیا اور سب میری طرف بھاگے اور مجھے آکے بازو پکڑ کر اوپر کھینچ لیا، اتنی ساعت میں مجھے لگا کہ میرا دم نکل گیا ہے،میری حالت دیکھ کر سب ہنس رہے تھے پانی وانی پیا اورٹولہ بنا کے سب بیٹھ گئے آہستہ آہستہ میراخوف کم ہونے لگا،درمیان والا بستر میں نے لے لیا تا کہ میں گِر نہ سکوں،صبح شبِ برات تھی اور آج چاند پوری آب وتاب سے چمک رہا تھا۔ بہت جادوئی ماحول تھا میں آس پاس کے نظاروں میں کھو سی گئی پاکیزگی بھی تھی خاموشی بھی اور سکون بھی،سب کے بیچ میں سے اٹھ کر میں چھت کے مغربی کنارے کی طرف بڑھ گئی وہاںمنظر بڑا خوبصورت تھاپنڈ دادنخان چونکہ تاریخی شہر ہے اس لیے یہاں ہندووئوں کی یادگار کے طور پر مندر بہت ہیں۔مندر کے کھنڈر بیک و قت بھیانک بھی نظر آ رہے تھے اور خاموش ،مظلوم،تنہا اور اپنی تنہائی پر بین کرتے ہوئے بھی لگتے تھے مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب ہم بچپن میں ایک بار پنڈ آئے تھے اور مندر والی سائیڈ پر کسی کے گھر دودھ لینے گئے تب ہم سب بچوں نے کہا کہ مندر کے داخلی دروازے کو کھول کر کون اندر جاسکتا ہے؟ مگر کسی نے بھی نا ہامی بھری ہم سب اس تصور سے ہی ڈر گئے کہ مندر کے اندر نہ جانے کیا ہو؟میرے دماغ میں پتہ نہیں کیا آیا کہ میں گھر کی طرف بھاگی تو باقی سب بھی میرے پیچھے بھاگے ہم دودھ بھی وہیں چھوڑ آئے،یہ واقعہ یاد آیا تو میں دھیرے سے مسکرا دی بھلا مندر کے اندر کیا ہو گا؟محض اندھیرا؟لیکن ان اندھیروں سے ہی تو ڈر لگتا ہے،تبھی میری نظر آسمان پر چمکتے چاند پہ جا ٹھہری،پاگل ہو کیوں ڈرتی ہو اندھیروںسے،میں ہوں نہ تمہیں روشنی دینے کے لیے،چاند بات کر رہا تھا بے اختیار مندر کے ساتھ کچھ فاصلے پر بنی مسجد پہ نگاہ پڑی جسے دیکھ کے دل سکون سے بھر گیا،اہلِ تشیع کی مسجد تھی جہاں بڑے بڑے عَلم نمایاں لگے ہوئے تھے،اور روشنیاں پھوٹ رہی
تھیں،میں تفرقوں میں نہیں پڑتی اس لیے پاکیزہ سا سکون جسم میں جاگزیں ہوا۔اور ایک آواز دل کے نہاں خانوں سے ابھری ۔
مسجد ڈھا دے مندر ڈھا دے،ڈھا دے جو کُج ڈھیندا
اک بندے دا دل نا ڈھاویں رب دلاں وِچ رہندا
وہ منظر ہی اتنا دلکش تھا کہ میں چاہتی تھی اس منظر کی خاموشی اور خوبصورتی کو دل میں اتارتی رہوں کیا یہ پاکستانیوں کی پاکستانیت اور مسلمانوں کی مسلمانیت کی معراج نہیں کہ مسجد اور مندر ساتھ ساتھ تھے،لیکن نہ کبھی ہندوئوں نے مسجد کو ناگوار سمجھا اور نہ کبھی مسلمانوں نے مندر والوں کو ناگوارجانا،ورنہ عمومی رویہ یہ ہوتا ہے کہ شیعہ مسجد دیکھی تو منہ پھیر لیا اہلِحدیث مسجد دیکھی تو لبوں پر استغفار کا ورد جاری ہوا، سنی مسلک کی مسجد دیکھی تو کانوں کو چھو لیا،کہنے دیجیئے کہ ہم روز دِلوں کو ڈھاتے ہیں،ایک اس گائوں کے لوگ ہیں جو ان باتوں کی پروا تک نہیں کرتے۔واہ خدا ! تیری قدرت،اس منظر کی خوبصورتی کی انتہا ایک اور چیز بھی تھی،مسجد اور مندر کی پچھلی سائیڈ پر ایک گرائونڈ تھا جہاں لڑکے کھیلتے تھے اکثر ہم لوگ اس میدان میں چہل قدمی بھی شام کو کرنے جاتے،گرائونڈ عبور کر کے دریائے جہلم آتا ہے جہاں ہم دن کے وقت گئے تھے،چاند کی چودھویں رات کو دریا کی لہروں کی بے چینی مسجد اور مندر کی اوٹ سے مارتی مجھے نظر آ رہی تھی۔
جسے دیکھ کے میں خود بھی بے چین ہونے لگی ۔اوہ اس وقت کبھی میرے پاس وڈیو کیمرہ ہوتا تو میں یہ خوبصورت منظر captureکر لیتی،دریا کی لہریں چاند کی روشنی پڑنے کی وجہ سے چاندی کی دھاریں لگ رہی تھیں،جو مسلسل حرکت میں ہوں،واہ میرے مولا،اتنی خوبصورتی؟کیا شان ہے تمہاری، پیچھے سے گڑیا کی آواز آئی تو میرا تسلسل ٹوٹ گیا۔رب سے رابطہ ٹوٹا تو میں کزنز کے درمیان چلی آئی،سب گپ لگا رہے تھے ہم نے بھی ٹانگ اڑائی اور باتیں شروع کر دیں،اتنے میں مون بھی کہیں سے آ گیا،بڑے نیچے صحن میں تبصروںاور مذاکروں میں مشغول تھے ہم لوگ اوپر دھواں دھار بحثوں میں لگے ہوئے تھے،نوشی ، بنین علیحدہ باتوں میں مصروف تھیں گڑیا اور میں کپڑوںجوتوں کے new trendsپہ تبصرے کر رہی تھیں،احتشام اور مون بھی کوئی موضوع ڈسکس کر رہے تھے،کچھ دیر تک ٹولوں میں بٹ کے گفتگو ہوتی رہی پھر احتشام تو جلدی سو گیا ،مون اور وہ معاشرتی نظام کے بگاڑ پہ بات کر رہے تھے،ٹاپِک پھیل گیا اور مون اور میں اس پر گفتگوکرنے لگے،آہستہ آہستہ سبھی سو گئے مون میرے ساتھ باتیں کرتا رہا،ہم ملکوں کی ،باتیں کرتے تھے باقی لوگو ں کے لیے یہ بہت خشک گپ تھی سو کوئی ہمارا ساتھ نا دے سکا اور کان لپیٹ کے لمبے پڑ گئے۔باجی آجکل جدید اسلحہ کی دوڑ لگی ہوئی ہے،اور مزے کی بات یہ کہ پاکستان کے پاس جو ٹیکنالوجی ہے وہ الحمدللہ کسی کے پاس بھی نہیں، شاید اس کے پاس بہترین معلومات تھی، میں نے دلچسپی سے سوال کیا۔
اچھا، پر پتا توچلے کہ پاکستان کے پاس کیاہے؟ جوش سے بولا۔
پاکستان کے پاس کیا نہیں ہے آپ یہ پوچھیں،سب سے پہلے تو ذہانت اور ٹیلنٹ بہت ہے اس ملک میں،ہم اگر یورپ کی نقل بھی بنائیں تو اصل سے زیادہ بیسٹ ہو گی، اس کے بعد دیکھیں پاک آرمی کو، دنیا کی بہترین فوج ہے،بہادری میں ہمارا کوئی ثانی نہیں، اسٹڈی کو لیں، سائنس کا شعبہ دیکھیں، حال ہی میں ایسا سمارٹ بلٹ آیا ہے جو کہ دیوار کے پار کھڑے ٹارگٹ کو ہٹ کرتا ہے ۔ پاکستان نے اس جیسا تیار کیا اور استعمال بھی کیا،میں نے فوراً تنقیدکی۔ یہ کون سی ترقی ہوئی سیدھا سیدھا نقل کا کیس بنتا ہے، میں نے منہ بنا کے نکتہ چینی کی،تو اپنی بات کو defendکرنے کے لیے بولا۔ باجی آپکو پتہ ہے کہ اس ملک کے وسائل کتنے ہیں؟ اگر اتنی غربت کے باوجود ایک اچھی ٹیکنالوجی کو ہمfallowکر کے رائج بھی کر لیں تو کیا یہ ایک کارنامہ نہیں؟
ہم… میں نے پُر سوچ انداز میں اس کی بات کی تائید کی،اس نے اپنا بستر میرے پاس ہی بچھا لیا اور باتیں کرنے لگاآج مجھ پر کھل رہا تھا کی وہ عام بندہ نہیں ہے،اتنی کم عمری میں اتنا نالج عام لڑکوں کے پاس نہیں ہوتا، سائنس، ڈاکٹری، اسلام، آرمی، اکنامک سسٹم، تاریخ، پاکستان، یورپ، مشرقِ وسطی، شخصیات، ادبیات، شاعری اور نا جانے کہاں سے کہاں کی باتیں ہم بہن بھائی نے کر ڈالیں،اتنا پُر سکون ماحول چاندنی رات اور تا دیر کی گئی ہماری باتیں ۔میںکبھی بھی نہیں بھول سکتی وہ ایک رات، شاید ایک بجے تک گپ لگاتے رہے ہم،وہ سب یاد کر کے آنکھوں کے گوشے پانیوں سے بھر آئے ہیں،ہم کائنات کی ہر شے کو ڈسکس کر رہے تھے ماسوائے اپنے مون میرے بہادر بھائی!کاش وہ رات سو سال کی ہو جاتی اور میں تمہیں سو سال تک سنتی رہتی،تمہارے اندر نہ جانے کیا تھاجو تم مجھے سنا دینا چاہتے تھے،ہمارے موضوعات ہماری عمروں سے بہت بڑے تھے شاید اسی لیے باقی لوگ نیند پوری کرنے لگے لیکن ہمیں شاید ستاروں کے جہاں سے بھی آگے جانا تھا،میں نے اس رات مون کی آنکھوں کے خوابوں کی جھلک دیکھ لی تھی باوجود اس کے کہ اس نے اور میں نے اپنی ذات کو ٹچ ہی نہیں کیا تھا، اس کے انداز بڑے نرالے تھے اس کی آنکھوں کی چمک بڑھ جاتی تھی بات کرتے ہوئے اس کو خود پر بڑا کنٹرول تھا، صرف یہ ہی نہیں بلکہ اسے مقابل پر بھی کنٹرول تھا،توجہ بٹنے نہیں دیتاتھا، بات کر کے اس کے ردِعمل کا انتظار کرتا تھا، بالیدہ، یکتا، اور پیارا…آہ…تیر ی ذات کو کہاں کہاں رکھوں تمہارا کیا کیا ڈسکس کروں؟ تو ایک ہشت پہلو ہیرا تھا،تو کوہِ نور تھا مون!تجھ سے مختلف روشنیاں پھوٹتی تھیں۔ رنگ پھوٹتے تھے تیرے دم سے وہ جگہ منورہو جاتی تھی جہاں تو موجود ہوتا،دیکھنے میں 18,19برس کا کھلنڈرا اورنٹ کھٹ لڑکا،لیکن اندر سے ایک،،بابا”۔۔۔۔۔رات دیر سے سونے کے باوجود صبح ہم جلدی جاگ گئے کیونکہ چھت پر دھوپ صبح صبح ہی پھیل گئی تھی، میں حسبِ سابق ڈرتے ڈرتے نیچے اتری تو آگے ایک اورمصیبت کا سامنا کرنا پڑا،خالو جی(خالہ فردوس کے ہزبینڈ)نے جیکی(گھر کاکتا)کھول رکھا تھا،اسے د یکھ کے میں گھبرا گئی وہ بدتمیزبھی میرے پاس آکر دُم ہلانے لگا،سب ہنسنے لگے۔
میں آگے آگے بھاگوں اور وہ میرے پیچھے،گھبرا کر میں چارپائی پر چڑھ گئی وہ بھی دُورکھڑا ہانپ رہا تھا،توبہ بہت فُول بنا میرا، ہنسی مذاق میں ناشتہ کیا اور گھر جانے کی اجازت طلب کی کیونکہ گھر سے امی جان کے مسلسل فون آرہے تھے کہ واپس آجائو شبِ برات والے دن اپنے گھر میں ہونا چاہیئے،ادھر سب روکتے تھے کہ خوشی والے دن گھر سے نہیں نکلنا چاہیے لیکن ہمیں مجبوری تھی سو نکل آئے ویسے بھی ایک پارٹی کے ساتھ میری ڈیل چل رہی تھی سیلون کے بارے میں اور میرا پہنچنا ضروری تھا اس لیے سب کام چھوڑ کے ہم نکل آئے،احتشام کے مشورے بلکہ مالی معاونت سے میں نے وہ سیلون خرید لیا،اُدھر مون بھی ترقی کی منزلیں طے کرتا جا رہا تھا ،جو بھی ہوتا فون پر بتاتارہتا۔ایک دن پتہ چلا کہ اس نے ایبٹ آباد(کاکول)انٹرویو دیاہے۔آرمی کے انٹرویو تو بہت مشکل اور خطرناک ہوتے ہیں میں نے استفسار کیا تو بے پرواہی سے بولا چھوڑیں باجی ،میرے لیے کون سی چیز مشکل ہے؟میں نے ٹیسٹ دیئے ہیں جلد ہی انشااللہ میرے آرڈر آجائیں گے، آپ کو ملنے آئوں گا تو تفصیل بتائوں گا،کال بند ہونے کے بعد میں کتنی دیر تک اس کی کامیابی کے لیئے دعا کرتی رہی۔ لکھنے کی طرف میری توجہ بلکل ختم ہوتی جا رہی تھی،کیونکہ عملی زندگی میں بہت سی مصروفیت پال لی تھی میںنے۔پھر ایک دن اخبار جوئن کر لیا،اور کراچی سے نکلنے والے ہفت روزہ میں فلمی کالم بھی لکھنے لگی،دراصل موڈ پہ dependکرتا ہے،ایک دن سیلون پہ خبر گیری کے لیے گئی کہ لڑکیاں کیسا کام کر رہی ہیں(سٹاف رکھا ہوا تھا) ذاتی مصروفیت کی وجہ سے،فون آیا کہ گھر آئو مہمان آئے ہیں،پوچھنے پہ پتہ چلا کہ مون اور اسکی امی آئی ہیں،مجھے حیرت کے ساتھ خوشی بھی ہوئی کہ مون مجھے ملنے آیا ہے،میں لڑکیوں کو lectureدے رہی تھی کوشش کی کہ جلدی کام ختم ہو اور میں گھر جائوں،لیکن کام بڑھتا جا رہا تھا،کسٹمرز کا رش بھی لگ گیا،بہت کوشش کے بعد مغرب کے وقت میں فارغ ہوئی،گھر سے فون پہ فون آرہے تھے،مون بھی میسج کرتا تھا بار بار، میں waitلکھ کر فارورڈ کر دیتی،آخرکار میں کام لپیٹ کر سیلون سے باہر آ گئی،گھر کی طرف آ رہی تھی کہ مون کا میسج آیا باجی ہم پارلر آجائیں آپکو لینے؟ میں نے کہا آ رہی ہوں میسج سینڈ کر کے میں نے قدم بھی تیز بڑھائے،گلی کی نکڑ مڑی تو ادھر سے مون اور امی جان آ رہے تھے،میں نے دور سے ہاتھ ہلایا کہ میں پہنچ گئی ہوں،وہ تیزی سے میری طرف لپکا اور مجھے ملا،میں نے پیار سے کندھے پہ تھپکی دی،تو کہنے لگا باجی میں آنٹی کو لے کے آپکی دکان پہ آرہا تھااور آپ آبھی گئیں؟میری ہنسی چھوٹ گئی کہتا آپ ہنس کیوں رہی ہیں؟میں اسکا بازو کھینچ کر گھر کی طرف بڑھی اور کہا کہ بھائی میاںمیری دکان نہیں سیلون ہے،یعنی کہ بیوٹی پارلر،اور تم نے جس طرح میرے ابو جان کی دکان ہے اس طرح مجھے بھی دکان داروں میں شامل کر دیا؟معصومیت سے کہتا باجی آپ نے دکان میں ہی پارلر نہیں بنایا ہوا؟میں نے کہا ہاں کرائے پہ لی ہوئی ہے شاپ،خوش ہو کے کہتا تو پھر وہ دکان ہی تو ہے،میں نے خوشگوار موڈ میںہار مانتے ہوئے کہا اچھا بابا ٹھیک ہے وہ دکان ہی ہے،اب اندر جانے دوگھر میں داخل ہوئے تو آنٹی بیٹھی ہوئی تھیں،ان سے ملی حال احوال پوچھا اتنے میں ابو جان آ گئے گپ شپ چلتی رہی ابو کو مون جیسے بچے بہت پسند ہیں،قارئین!یہاں ایک دلچسپ بات کرتی چلوں،پہلے وقتوں میں کھیل تماشہ کرنے والے لوگ آبادیوں میں پڑائو ڈالتے تھے اور کھیل تماشہ کر کے دکھاتے تھے،اتفاق سے ہمارے علاقے میں سائیکل پر سات دن اور سات رات بیٹھ کے مسلسل چکر لگانے والا آدمی آیا ہوا تھا،وہ اسکا ساتواں روز تھا سب لوگ اس کھیل کا فائنل رائونڈ دیکھنے گرائونڈ میں پہنچے ہوئے تھے،یہ بہت پرانی نہیں بلکہ 2010کی بات ہے،اسطرح کے کھیل تماشے معاشرے کو فریش رکھنے اور بد صحبتوں سے بچانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں،ہم سے پہلے لوگوں کے زمانے میں میلے ٹھیلے لگتے تھے نہ جانے کہاں سے جادوگر،کرتب دکھانے والے ،اور چیزیں بیچنے والے آجاتے تھے،کوئی بانس پہ چل کہ دکھاتا کوئی دو دھڑ والا بچہ بنتا کہیں آدھا انسان، کہیں جُڑے ہوئے دو انسان، سرکس، ہاتھی، ریچھ، ببر شیر اور بہت سے جانور دیکھنے کو ملتے،آج اسی طرح یہ سائیکل والا بھی کچھ عجیب کرنے جا رہا تھا۔
قصہ مختصر یہ کہ احتشام اور مون آئوٹنگ کر کے گھر لوٹے تو مون کی زبان تو اندر جائے ہی ناںوہ بہت پُر جوش ہو رہا تھا کہ آج میں نے سائیکل والاتماشہ دیکھا ہے،میں نے کہا پینڈو!پہلے یہ سب کبھی نہیں دیکھا؟ کہتا نہیں باجی،واہ کینٹ میں یہ سب کہاں ہوتا ہے،ابھی رطب السان ہی تھا کہ گھر سے اسے فون آیاعثمان کو بھی ساری تفصیل بتائی اس نے،اس دن وہ بہت حیران اور خوش تھا،اسے دیکھ کے ہم سارے ہنستے تھے،کھانا کھانے کے بعد سب نشستیں سنبھال کے بیٹھ گئے،امی جان نے کہا مون تم جو حافظِ قرآن ہوتو آج ہمیں تلاوت قرآن پاک سنائو۔ہم سب نے بھی تائید کی،اور پھر اس نے سورہ کہف قرات کے ساتھ پڑھنی شروع کی،آنکھیں بند کر کے ایک جذب کے عالم میں وہ تلاوت کر رہا تھا،کب ختم ہوئی تلاوت،پتہ ہی نہ چلا، ایک ٹرانس میں تھے سب،ہوش آیا تو عش عش کر اٹھے،بہت لطف آیا،اس کے بعد بھائی احتشام کی طرف سب کی نظر اٹھ گئی،وہ نعت خوان ہیں اور کافی انعامات بھی حاصل کیئے ہیں،انھوں نے نعت شروع کی میرے دل میں ہے یادِمحمد،میرے ہونٹوں پہ ذکرِمدینہ،تاجدارِ حرم کے کرم سے،آگیا زندگی کا قرینہ۔۔۔۔۔یہ نعت احتشام کو بڑی امی نے سکھائی تھی، وہ خودبھی نعت خوان ہیں،کیا خوب پڑھی تھی، ماشااللہ احتشام نے بھی چار چاند لگا دیئے،خوب محفل جمی اور چائے کا دور بھی چلا۔ اس کے بعد میں نے پوچھا اب بتائوتمہارے انٹرویو پریکٹیکل اور ٹیسٹ کیسے ہوئے؟
ارے باجی بالکل ٹھیک ہوئے ہیں بہت امید ہے کہ آرڈر ہو جائیں گے میرے۔ تین ماہ بعد پتہ چلتا ہے، وہ کال کریں گے،ڈیڑھ دو ماہ گزر گئے ہیںپیچھے کچھ دن رہ گئے ہیں میں نے کہا۔
مجھے تفصیل بتائو۔ادھر جا کے کیا کیا کِیا؟ کہنے لگا رننگ کرواتے ہیں رسی کے جال کو پھلانگنا، ایک جیسی تصویریں سامنے ہوتی ہیں ان میں فرق تلاش کرنا ہوتا ہے،پھر ایک جگہ لے گئے پورا پینل بیٹھا تھا وہ ایک وقت میں تیزی سے میتھ، اسٹیٹس کے سوالات پوچھتے ہیں اور جواب کا انتظار کیے بغیر اگلا سوال داغ دیتے ہیں،اگلا مرحلہ بہت عجیب تھا ایک جیسے دو کمرے تھے ان میں فرق بتانا تھا اور باجی جب میںنے سب سوال آسانی سے atemptکرلیے تو آفیسر نے مجھے بتایا کہ ذوالفقار علی بھٹو تمہاری عمر کا ہی تھا۔
جب اس جگہ اسی پوسٹ کا امتحان پاس کرنے آیا تھا،وہ بہت شارپ تھا تمہاری طرح اس سے بھی سوال کیے گئے تھے، لیکن میں بے چین ہو گیا، لیکن کیا؟کیا وہ فَیل ہو گئے تھے ؟میں نے ترنت سوال داغا،آفیسر مسکرا کے بولے نہیں وہ حد سے زیادہ ذہین تھے،اس وقت جو آفیسر انٹرویو لے رہے تھے انھوں نے بھٹو صاحب کو reject کر دیا تھا،جانتے ہو کیوں؟میں نے احتجاجاًکہا کیوں؟لیکن کیوں rejectکر دیا تھا،وہ کندھے اچکا کر ٹیبل پر تھوڑا سا جھک کرمیری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کربولے اتنی ذہانت کی آرمی سے زیادہ قوم کو ضرورت تھی،یہ کہہ کر انھوں نے اپنی توجہ سامنے پڑی فائلز پر مبذول کر لی۔میں ڈھیلا سا ہو کر پیچھے کرسی پر ڈھے سا گیا،وہ پھر گویا ہوئے جانتے ہواس آفیسر نے بھٹو صاحب کو کیا مشورہ دیا تھا؟میں سیدھا ہو کر بیٹھ گیا،بیٹا تم سیاست میں قسمت آزمائی کرو،وہاں تمہاری بہت ضرورت ہے،اوہ میرے خدا،تو گویا بھٹو صاحب کو سیاست کا رستہ دکھانے والی فوج ہی ہے،میں حیرت سے بڑبڑا ہی رہا تھا کہ مجھے کمرے سے چلے جانے کا کاشن دیا گیا اور میں باہر آ گیا۔
اوئے پھر کیا ہوا؟میں نے اور نشاط نے بیک وقت پوچھا۔ ایک دفعہ پھر مجھے ایک پینل کے سامنے لایا گیا،کمرے میں جاتے ہی انھوں نے سوال داغا،لڑکے تم کبھی گھوڑے سے گرے ہو؟میں نے آگے پیچھے دیکھا،وہ مجھ سے ہی مخاطب تھے،جی نہیں ایسا کچھ نہیں ہوا،میں نے جواب دیا تو زور دے کے کہا گیا نہیں تم گھوڑے سے گرے تھے مسٹرعمر! میں نے بھی تیزی سے جواب دیا نہیں جناب میں گھوڑے پر کبھی سوار نہیں ہوا،ساتھ ہی غصے کا اظہار کیا گیاتم مان کیوں نہیں رہے،یاد کرو کافی عرصہ پہلے تم گھوڑے سے گرے تھے،اور تمہارے لیفٹ ٹخنے پہ چوٹ بھی آئی تھی میں نے ٹخنے کی طرف دیکھنے کی ذرا سی بھی زحمت نہ کی،کیونکہ میں جانتا تھا کہ میری یہ حرکت مجھے فلاپ کرادے گی،میں نے کہا مجھے میری زندگی کا پل پل اچھی طرح یاد ہے، اس لیے مجھے کوئی غلط فہمی نہیں ہے،میں آج تک گھوڑے پر سوار نہیں ہوا تو اس پر سے گرنے کا کیا جواز دوں؟غرض انھوں نے بہت زچ کیا اور مجبور بھی کیا کہ میں مان جائوں کہ میں بھاگتے گھوڑے سے گرا ہوںاور میرے ٹخنے پر بھی چوٹ آئی ہے، جس کی وجہ سے میں کافی عرصہ بیڈ ریسٹ پر بھی رہا ہوں، لیکن مجھے بھی انکار ہی کرنا تھا سو میں کرتا رہا،بلاآخر انھوں نے کہہ دیا please have a seat بعد میں مجھے شاباش بھی دی گئی کہ میں آہنی ارادوں والا ہوںجو کسی کے لاکھ مجبور کرنے پر کبھی بھی نہیں مانتا،میں نے کہا لیکن تم کبھی گھوڑے پر واقعی نہیں بیٹھے؟ کہتا کیوں نہیں باجی میں اکثر گھوڑے پر بیٹھا ہوں،آپ کو تو پتہ ہے کہ ماموں ممتاز نے گھر میں گھوڑا رکھا ہوا ہے میں جب بھی آئوں تو گھوڑا لے کر باہر جاتا ہوں گھُڑسواری بھی کرتا ہوں ایک دو بار گرا بھی ہوں،میں نے بات کاٹی تو ان کے سامنے مانے کیوں نہیں؟کہتا یہ ہی تو میرا سائیکالوجی ٹیسٹ تھا،وہ مجھے چیک آئوٹ کر رہے تھے،میں اندر انٹر ہوا تو انھوں نے میری چال ڈھال سے کوئی اندازہ لگالیا ہوگا،تبھی مجھے آڑے ہاتھوں لے رہے تھے،واہ کمال ذہانت کا ثبوت دیا تم نے میں نے متاثر ہو کے شاباش دی اور دلچسپی سے پوچھا اچھاپھر بتائو کیا ہوا،کرتے کراتے پھر باجی میرا میڈیکل چیک اپ ہوا اور یقین کریں۔
اس مرحلے پر میں بہت ٹینس تھا،کیونکہ باقی سب میں اچھی پرفارمنس ہو بھی تو،اگر میڈیکل میں فالٹ آجائے تو کوئی سمجھوتہ نہیں ہوتا،مجھے انھوں نے پورے کے پورے کو سکین کیا اور میں پتہ ہے کس بات سے ڈرتا تھا؟میں سوالیہ نظروں سے اسے ہی دیکھ رہی تھی،وہ جو ونڈو کے شیشے ٹوٹے تھے نا اور میری veinsکٹ گئی تھیں؟مجھے وہ ٹینشن تھی،جب مجھے سکین کیا جا رہا تھا وہ صبح دو بجے کا وقت تھا میں دل ہی دل میں دعائیں کر رہا تھا،آنکھوں کے سامنے بار بار امی جان کا چہرہ آئے اس نے میرے پورے جسم پر وہ مشین پھیری جس میں چیک کرتے ہیں کہ ہڈیاں اور مسلز ٹھیک ہیں damageتو نہیں۔ ادھر اس نے مشین کوحرکت دی ادھر میں نے دل میں قرآن پاک کی تلاوت شروع کی میں پوری جان سے کھڑا ہو کر اللہ تعالٰی سے مخاطب تھا،بازوئوں کو سکین کیااور مشین پھیرتے پھیرتے بائیں بازو پہ آگئے،لیکن مجھے اپنے رب پہ عجیب سٹرانگ قِسم کا یقین تھاخدا کا معجزہ دیکھیں باجی جتنے حصے میں بازو پہ چوٹ لگی تھی اور رگیں کٹ گئی تھیںوہ چیکر اتنی جگہ سے مشین اٹھا کر اگلے حصے پہ پھیرنے لگا،یقین کریں اس نے میرے بازو کا اُتنا حصہ ہی چھوڑ دیا۔
اوہ مائی گُڈ گاڈ میں حیران ہو کے اس کی داستان سُن رہی تھی its mericall my brother تمہارے ساتھ تو خودخدا ہے ہاں جی میں بھی تو یہ ہی کہہ رہا ہوں کہ میرے ساتھ معجزہ ہوا ہے،اچھا آگے تو سنیں ناں،میں نے غور سے اس لڑکے کی طرف دیکھا جس کا چہرہ جذبات سے سُرخ ہو رہا تھا،میںنے پہلے بھی ذکر کیا ہے ناں کہ وہ مجھے ہر بات بتا دینا چاہتا تھا،آج بھی ایسا ہی لگ رہا تھا،اتنے میں اس کی آواز گونجی باجی وہ سحری کا وقت تھا،جب اس نے مجھے کلیئر کیا تو یقین مانیں فرطِ جذبات سے یوں جیسے میں ہوائوں میں اُڑ رہاہوں،باہر آکر میں نے سب سے پہلے خدا کا شکر ادا کیا اور نمازِ تہجد پڑھ کر یوں ہی پھرنے لگا،کافی دن سے یہاں تھا،سردی بہت شدید تھی لیکن میرے اندر جذبات کا طوفان تھا،اس لیے مجھے اتنی سردی نے کیا کہنا تھا،میں بے چینی سے صبح کا انتظار کرنے لگا تاکہ گھر والوں سے اپنی خوشی شیئر کروں،اللہ اللہ کر کے فجر ہوئی اور میں نے نماز ادا کر کے فوراًگھر فون لگایا،قدرتاًامی جان نے فون اٹھایا،حال احوال پوچھا اور میں نے بہت لاڈ سے انکو ساری بات بتائی،امی نے کوئی جواب نہ دیا،میں نے پکارا،امی؟آگے سے کوئی بولے ہی ناں،امی آپکو خوشی نہیںہوئی میری میڈیکل رپورٹ کلیئر آنے کی؟وہی خاموشی،امی ،امی۔۔۔ْمیں رو دینے والا ہو گیا،آپ ٹھیک تو ہیں؟کچھ دیر بعد امی جی کی ہلکی سی آواز آئی۔ مون کیا بتایا تم نے،اس وقت کیا ٹائم تھا؟
اس وقت رات کے دو بجے تھے،اس میں پریشان ہونے کی کونسی بات ہے،تب امی نے کہا۔
میرے بچے اس وقت میں بھی مصلّا بچھا کر دعا کر رہی تھی،اور رو رو کر تیرے ٹیسٹ کی کلئیرنس کیلئے مناجات کر رہی تھی۔
باجی یقین کریںامی نے یہ بات کہی اور میں دم بخود،اب میں چُپ ہو گیا،کیونکہ واقعی اس وقت صرف میری آنکھوں کے سامنے اپنی ماں کی صورت تھی۔ وہبول رہا تھا اور میں غیر مرئی نقطے پر نظر جمائے اسے دیکھے جا رہی تھی،مون تم ایویں نہیں ہو میرے بھائی، تم کو خدا نے چُننا تھا تبھی یہ سب تمھارے ساتھ ہوا ورنہ کسی کے ساتھ بھی ایسا تھوڑی ہوتا ہے۔یہ کہہ کر میں اسے خیال کی نظر سے مستقبل کا سپاہی بنے دیکھتی رہی،اس رات بھی اس میں کچھ خاص دیکھا میں نے،نہ جانے کیا،کہ جو لفظوں کے احاطے میں نہیں آسکتا،رات بھر ہم دونوں جاگتے اور باتیں کرتے رہے باتیںکرتے کرتے میری آنکھ لگ گئی،میں سوئی ہوئی تھی کہ مجھے ہلکا ہلکاشور سنائی دیا،میں نے کروٹ لی اور پھر سو گئی،خواب میں کوئی کہہ رہا تھا اٹھائواسے اور لے چلتے ہیں،ہاں ایمرجنسی تو کھلی ہو گی اس وقت،کسی اور کی آواز گونجی،میں سوتے میں پریشان تھی کہ کس کو لے کر جانا ہے،میں نے پریشان ہو کر امی کو جھنجھوڑا آپ مجھے بتا کیوں نہیں رہیں کہ کس کو ایمرجنسی میں لے کر جانا ہے،اتنے میں ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی نشاط مجھے جھنجوڑ رہی تھی آپی جان اٹھو احتشام بھائی بیمار ہیں،میں جھٹ سے اٹھی اور باہر کی طرف بھاگی۔امی ابو باہر کھڑے باتیں کر رہے تھے جو نیم خوابی میں سن کے میں نے خواب سمجھا تھا،کافی اندھیراتھا ابھی،میں احتشام کے کمرے میں گئی وہ تکلیف سے بے حال تھا،میں نے پیار سے گال تھپتھپایااور پوچھا کیا ہوا،بہ مشکل بولا۔
آپی جان میرے گُردے میں بہت درد ہے،میں اپنے بھائی کی بات سن کر تڑپ ہی اٹھی،باہر آئی اس وقت کوئی گاڑی یا رکشہ نہیں مل رہا تھا،گھر میں بائیک تھی علی(چھوٹا بھائی)ابھی بچہ تھا اسے چلانی نہیں آتی تھی ابو اکیلے کیسے جاتے،ہم لوگوں کی پریشانی سے آنٹی رضیہ اور مون بھی جاگ گئے، صورت حال دیکھ کے مون فٹا فٹ بائیک نکالنے لگا ابو نے پوچھا بیٹا کیا کرنے لگے ہو؟ انکل میں چلائوں گاآپ بھائی احتشام کو پکڑ کے بیٹھیں گے، اس کے بعد دونوں نے دیر نہ لگائی اور فجر کے ملگجے اندھیرے میں نکل گئے،امی نے رو رو کر کوئی حال نہ چھوڑاہم سب نے دعا مانگیں، آج تک احتشام کو ایسا نہیں ہوا تھا،جان لیوا انتظار کے بعد امی تیار ہو گئیں کہ ہسپتال جانا ہے کیونکہ وہ لوگ فون نہیں اٹھا رہے تھے،امی نکلنے لگیں تو اتنے میں مون اندر داخل ہوا ہم سب اس کی طرف لپکے، لیکن وہ سیدھا امی کے پاس گیا اور بولا۔
آنٹی آپ پریشان نہ ہوںبھائی احتشام اب بالکل ٹھیک ہیں، انجکشن بھی لگے ہیں اور دوائی بھی کھائی ہے۔‘‘ امی کے چہرے پر سکون پھیل گیا لیکن احتشام کدھر ہے ساتھ کیوں نہیں آیا میں نے سوال کیا تو بولا کہ ابھی دوائیوں کے زیرِ اثر وہ سو گئے ہیں،اسلئے چھٹی نہیں ملی،مجھے انکل نے زبردستی واپس بھیج دیاساری بات سن کے کچھ سکون ہوا،میں نے جلدی سے ان لوگوں کے لیئے ناشتہ لگایا کیونکہ آگے پنڈدادنخان بھی جانا تھا،ابھی ناشتہ کر رہے تھے کہ ابو اور احتشام بھی آگئے،جلدی سے احتشام کو بستر پہ لٹا دیا،سب نے ناشتہ کیا اتنے میں مون لوگ جانے کے لیئے تیار ہو گئے،کافی اصرار کیا کہ رک جائو لیکن ان کی مجبوری تھی،کچھ دن تک آرڈر آجانے تھے پھر نہ جانے کتنے عرصے تک کسی سے بھی مل نہ پاتا، اس لیے سبھی کو مل کے جانا تھا اس نے،ہاں مجھ سے اس نے وعدہ لیا کہ آرڈر ہو جائیں تو باجی آپ نے گھر آ کر مبارک دینی ہے۔‘‘ مجھ سے پرامس لے کر گیا تھا،میں نے بھی پرامس دیا کہ مٹھائی لے کر آئوں گی،سب نے شکریہ ادا کیا کہ احتشام کی ہیلپ کی اس نے،الوداع ہوا تو ابو جی کے کمنٹس تھے کہ کتنا اچھا بچہ ہے،اس نے تو اسپتال میں مجھے پریشان ہونے ہی نہیں دیا،بھاگ بھاگ کے دوائیاں لایا اور مجھے بچوں کی طرح تسلی دی کہ انکل سب ٹھیک ہو جائے گا،آپ پریشان نہ ہوں،سن کے امی بھی خوش ہوئیں اور اس کے لیئے دعا کریں۔
آج کل میں مکمل طور پہ ایک کاروباری شخصیت بن چکی تھی،بازار کے وسط میں ایک بلڈنگ کرائے پہ لی تھی،ادھرمختلف کورس شروع کروائے تھے۔کمپیوٹر ،سلائی کڑھائی،بیوٹی پارلر،ہوم سیٹنگ،فوٹوگرافی،پامسٹری،بوتیک،اور بہت سے دیگر کورس یکمشت میں نے شروع کروا دیئے۔ادبی دلچسپی وائنڈاپ کر دی تقریباً،ساتھ ساتھ امی جان کو بھی گھسیٹے رکھتی،کیونکہ میں اکیلی کچھ بھی نہ تھی۔ابو اور بھائی کو مجھ پر اندھا اعتماد تھا، میں ان کے اعتماد کو ٹھیس نہیں پہنچا سکتی تھی،سو اپنے سیلون میں اسٹاف رکھ کے خود میں مَین بازار والے کمیونٹی سینٹر کو ٹائم دے رہی تھی،بھلوال کی پڑھی لکھی جنٹری نے اس ادارے کو بہت سراہا،کام چل نکلاتو میں نے کورسز کی بہار لگا دی،میرج بیورو بھی بنا لیا لیڈیز کے لیئے موبائیل کارنر بھی ارینج ہو گیا،2010میرے لیے لکی رہا بہت، 2011بھی عرج کا زمانہ تھا،کاش وہ وقت رُک جاتا،حسبَ توقع ایک دن میسج آیا،کہ مون کو کمیشن مل گیا ہے،ہیں؟سچ؟واقعی؟یقین نہ آیا تو فون کر کے پوچھا،تصدیق ہو گئی ،واہ جی واہ،کیا بات ہے میں بہت خوش ہوئی،زبردست ہوگیا یہ تو،اب تو لیفٹینینٹی گھر کی ہو گئی ہے،میں اور میری فیملی بہت خوش ہوئے،پروگرام طے کیا اور جِس دن اسکی جوائننگ تھی اس سے کچھ دن پہلے امی اور میں اسے مبارک دینے چل پڑے،کیونکہ وعدہ بھی تو وفا کرنا تھا،ہم براستہ موٹروے اسلام آباد کی طرف رواں دواں تھے،نہ جانے کیوں مجھے یہ سفر اچھا لگ رہا تھا اور ایک حَسین گیت سماعتوں میں رس گھولنے لگا۔ ہم جو چلنے لگے،چلنے لگے یہ راستے،منزل سے بہتر لگنے لگے یہ راستے۔ یہ گیت کلر کہار کی پہاڑیوں میں سے گزرتے ہوئے آپ کو یاد آئے ،آپ اسے گنگنائیںتو آپ کو بہت اچھا لگے گا آج اتنے برس بعد مجھے یہ سطریں لکھتے ہوئے اُن وقتوں کا ایک ایک پَل،ایک ایک فیلنگ،ایک ایک ساعت یاد آرہی ہے،ماضی کے یادگار پل چپکے سے دبے پائوں آتے ہیں اور میرے احساس کی آنکھوں پر اپنے ہاتھ رکھ کر کھنکتی ہنسی میرے کانوں میں انڈیلتے ہیںاور اس کے بعد میری آنکھیں ساون بھادوں کا مینہ برسانے لگتی ہیں۔آہ!میں وہ وقت کہاں سے کھینچ کے لائوں،جب کوئی دکھ نہیں تھا، جب ہم سب ساتھ تھے،ہنسی کی قلقاریاں میرے کانوں میں گونجتی ہیں اسکے ساتھ ہی میرے سینے میں ایک جوار بھاٹا اٹھتا ہے جو میرے بُری طرح رونے سے ہچکیوں میں تبدیل ہو جاتا ہے،کچھ دیر ایسے ہی کیفیت رہتی ہے اور اس کے بعد دلِ مضمحل کو گھڑی پل کو چین آ جاتا ہے ایک لمبے لیکن خوش کُن سفر کے بعد ہم واہ کینٹ کے داخلی گیٹ پر پہنچے۔ادھر آئی ڈی کارڈ دکھایا تو اندر داخلے کی اجازت مل گئی،کیری ڈبے میں سوار ہوئے تو آگے کا ایڈریس ذہن میں نہ رہا،پھر عثمان کو فون لگایا،مون گھر نہیں تھا،جمعہ تھا ٹریفک بھی اکا دکا تھی عثمان تھوڑے انتظار کے بعد خود لینے پہنچ گیا وہ کار پہ تھا اس لیے ہم نے کیریcarryکو جانے دیا،20,25 منٹ کے بعد ہم لوگ گھر کے سامنے اُتر رہے تھے،اندر داخل ہوئے،آنٹی انکل کو ملے،پانی وغیرہ پیا،مون کا پوچھا وہ گھر نہیں تھا،ایک دو دن تھے جوائننگ میں، اس لیے بِزی بہت تھا،اب بھی کسی کام سے نکلا ہوا تھا،عابدہ میرپور گئی ہوئی تھی، اُدھر اس کے خاوند کی پوسٹنگ تھی لیکن کچھ دیر تک وہ بھی پہنچ رہی تھی،ظاہر ہے بھائی کی جاب ہوگئی تھی اور اس نے آکر تیاری بھی تو کروانی تھی،ہم بیٹھے گپیں لگا رہے تھے کچھ دیر تک کھانا لگ گیامون بھی پہنچ گیا اور عابدہ بھی،ہم لوگ ملے مبارک دی،بہت خوش تھا آج وہ، اس کی منزل جو قریب آن پہنچی تھی،گھر والے بھی بہت خوش تھے لگن سے تیاری کروا رہے تھے اس کی، عثمان نے جمعہ والا ڈریس چینج کر کے اب بلیو کلر کا سوٹ پہن لیا تھا،ایک اور مہمان بھی آئی ہوئی تھیں،خوب رونق لگی تھی مون کے پاس آج تو ٹائم ہی نہیں تھاکبھی کوئی دوست ملنے آجاتا کبھی خود اسے کسی دوست کی ضرورت پڑ جاتی،ہم لوگ مٹھائی لے کے گئے تھے بہت خوش بھی ہوا اور ناراض بھی کہ اس کی کیا ضرورت تھی، لیکن محبتوں میں ضرورت تھوڑی دیکھی جاتی ہے،صِرف محبت دیکھی جاتی ہے،مون پھر ایکسکیوز کر کے غائب ہو گیا۔
کوئی لڑکا تھا جو دوست بھی تھا اور آرمی میں ہی اس کا سینئر بھی تھا اس سے کچھ ٹِپس درکار تھیں اسے،عثمان اور آنٹی کچن میں گھسے ہوئے تھے، میںنے کہا ہیلپ کرا دوں؟تو کہتا نہیں نہیں باجی آپ آرام کریں،میں خود کروں گا،میں کر لیتا ہوں کوکنگ،بلکہ آپ مووی دیکھیں عابدہ باجی کی شادی کی، اس نے جھٹ سے لگا دی۔میں نے کہا تم بہت چالاک ہو،اس لیے لگا دی ہے نا کہ یہ لوگ بِزی ہو جائیں اور میں فٹا فٹ کھانا بنا لوں،ہنس کے کہتا ہاں جی،آپ انجوائے کریں،ہم مووی دیکھ رہے تھے مزہ آرہا تھا،کیونکہ ہم بھی شامل تھے،اس شادی میں،آبائی گائوں جا کے عابدہ کی شادی کی تھی اس لیے سادہ سا ماحول تھا ،گائوں کے ماحول کا بھی اپنا ہی چارم ہے،دیسی رسمیں،سادہ ڈانس،اور فُل دیسی کلچرڈ ماحول،دو اڑھائی گھنٹے کی مووی دیکھتے واقعی ٹائم کا پتا نہ چلا،اِدھر مووی ختم ہوئی اِدھر عثمان نے دسترخوان لگا دیا،آئیں باجی کھانا کھاتے ہیں۔کیا؟ابھی تو دوپہرکا کھایا تھا،بھوک نہیں ہے سچی،میں نے جان چھڑائی ساتھ ہی امی کو بھی مجبور کرنے لگا،آنٹی بھی اصرار کرنے لگیںتو ہم لو گ پھر اٹھ گئے،وائوعثمان خوشبوئیں تو بہت زبردست آرہی ہیںمیں نے تعریف کی تو کہتا آپ ایک بار کھا کر تو دیکھیں چاول ،کباب،رائتہ اور نہ جانے کیا کیا دسترخوان پر لگا دیا تھا اس لڑکے نے۔سبھی اکٹھے ہوئے تو مل کے کھانا کھایا،واقعی بہت مزے کا کھانا تھا مجھے یقین نہ آیا میں نے پھر پوچھا عثمان یہ سب تم نے بنایا ہے؟کہتا باجی قسم سے میں نے خود بنایا ہے سب کچھ،کباب اور رائس تو بہت نائس تھے حقیقتاً،میری اپنی کوکنگ تو اُن دنوں ناقص ہی بہت تھی اس لیے میں کچھ زیادہ ہی متاثر تھی،خوب سیر ہو کر کھانا کھایا، اس کے بعد میں نے غور کیا تو عثمان نے اب ڈریس پھر چینج کیاتھا،اب کے اس نے شارٹس پہن رکھے تھے جیسے لڑکے آج کل پہنتے ہیں،میں نے مذاقاًکہا تم ہر کام کے لیے الگ ڈریس استعمال کرتے ہو؟میری بات سن کے سب نے اس پر غور کیا اور ہنسنے لگے،کیونکہ جب سے ہم آئے تھے اس نے دو تین سوٹ بدلے تھے،رات کا کھانا کھا کر باہرنکلے تو ہلکی ہلکی بارش ہو رہی تھی ۔واہ کا موسم بھی واہ واہ ہے،اچھا خاصا خوشگوار ہو گیا تھا،عثمان اور عابدہ کہتے کہ باہر گھومنے چلتے ہیں۔مون اب تک غائب تھا،ظاہر ہے اس کی مصروفیت سامنے تھی،آتا اور معذرت کر کے پھر چلا جاتا،ہم لوگ باہر نکلے بہت ہی خوبصورت موسم تھا کسی بھی خوبصورتی سے بڑھ کے،علاقہ اتنا زرخیز اور سرسبز ہے کہ من خوش ہوتا رہتا ہے۔ہسٹری کے مطابق شیرشاہ سوری کے منہ سے اس علاقے کودیکھ کے بے اختیار نکلا تھا ،،واہ،،تب سے اس ارضِ جنت کو واہ کے نام سے پکارا جاتا ہے،کچھ یہاں اسلحہ فیکٹریاں ہیںآرمی ایریا ہے اس لیے اسے واہ کینٹ کا نام دیا گیا،ہلکی بونداباندی میںہم لوگ چلتے اس مسجد کے پاس جا پہنچے جسے دور سے دیکھ کے انجانے میں اسکی طرف کھینچے چلے آئے بہت پُرشکوہ عمارت ہے میں مسجد کے پاکیزہ حُسن میں کھوئی ہوئی تھی جب عثمان نے بتایا کہ تینوں بہن بھائیوں نے قرآن پاک یہیںسے حفظ کیا ہے،مسجد رنگ برنگی لائیٹوں سے سجی ہوئی تھی اور اتنی وسیع کہ حد نہیں،واہ کی مرکزی جامع مسجد ہے اس وقت رات کے نو بج رہے تھے اور بچوں کی پڑھائی جاری تھی،عثمان بھاگتا ہوا آیا اور امی کو کہتا آئیں آنٹی میں آپکو مولوی صاحب سے ملوائوں،جن سے ہم تینوں بہن بھائیوں نے قرآن پاک کی تعلیم حاصل کی ہے،وہ دونوں ہم دونوں کو لے کر مسجد کے صحن سے اندر چلے گئے،بڑے بڑے محرابی دروازے تھے اور ہم لوگ ان کے بیچ کھڑے بالکل چھوٹے چھوٹے انسان لگ رہے تھے،عابدہ امی کو لے کر مولوی صاحب کے پاس سلام کے لیے چلی گئی،عثمان اس لیے نہ گیا کیونکہ اس نے شارٹس پہن رکھے تھے،بیچارہ کوکنگ کرتا سیدھا ادھر ہی آگیا تھا،وہ لوگ جا کر قاری صاحب سے باتیں کرنے لگیں اور عثمان چشمہ لگائے ہوئے ان کو دیکھ رہا تھا،اتنے میں عابدہ نے ہاتھ کے شارے سے ہم لوگوں کی کوئی بات کی،عثمان ڈر کے پیچھے ہو گیا میں تو مہمان تھی آرام سے کھڑی رہی،اتنے میں مولوی صاحب کی جانب سے ایک بچہ بلانے آیااس نے کہا عثمان بھائی آپ کو قاری صاحب بلا رہے ہیں،وہ بیچارہ ڈرنے لگامیں نے کہا کچھ نہیں ہوتا پاگل،خیر ٹانگیں سکوڑتاہوا قاری صاحب کے پاس چلا گیا،کچھ دیر ان سے بات ہوئی اور وہ لوگ واپس مُڑے عثمان لمبی لمبی پھلانگتا یہ جا وہ جا،اس حرکت سے ہم لوگ بہت ہنسے،کافی دیر چہل قدمی کرتے رہے اور وہ ہمیں مون کے انٹرویو کی باتیں سناتا رہا کہ کیسے ایک نیوز پیپر میں ایڈ دیکھ کے اس نے اپلائی کیا،جب گھر آئے تو انکل اورمون گھر موجود تھے،کوئی آیا ہوا تھا،اور کسی مسئلے پہ بات کر رہے تھے،مون کے لیے تیراکی کا بندوبست کرنا تھا،آج جو غائب رہا تھا تو وہ اپنی شاپنگ کے لیے گیا ہوا تھا،جو جاگرز چاہئے تھے وہ لے کر آیا تھا،سوکس،چرمی بیگ،کنگھی،شیونگ سامان،نیل کٹر اور اس طرح کی دیگر اشیاء،وہ سامان رکھ رہا تھا اور عثمان سیٹ کر رہا تھا، میں نے چھیڑا۔
’’او ہوتو آج سے بھائی صاحب نے صابن تولیہ وکھرا کر لیا ہے؟مسکرانے لگا،تب میں نے کہا،اب اپنی سُستیاں ختم کر دینا،یہ جو سوچ سوچ کے بولتے ہو ناںآہستہ آہستہ،لیزی ہوتا ہے بندہ اس طرح، تیز تیز بولا کرو سُنا ہے فوج والے وقت کے بڑے پابند ہوتے ہیں۔
جی بالکل آج مجھ پر وقت ہے ایسا ،میں آپکی سن رہا ہوں اور کچھ؟‘‘ اس کی آنکھوں میں شرارت تھی،میں نے بھی کہا۔
’’ہاں ہاں ٹھیک ہے اور سنو،ہمیشہ ایمانداری سے رہنابے ایمانی والا افسر مت بننا۔ باجی آپکو پتہ ہے جس کے اندر جو ہوتا ہے اس نے وہی نکالنا ہے،میرے اندر اچھائی ہو گی تو وہی کروں گا،اسی طرح بُرائی ہوئی تو وہ بھی ضرور ظاہر ہو گی،ہاں یہ تو ٹھیک کہا تم نے،ہماری مائوں نے بے ایمانی تو ہماری سرشت میں پیدا ہی نہیں ہونے دی،اُن دنوں ہاتھ دیکھنے کا شغل بھی چلتا تھا،ان لوگوں کوپتہ تھا،عابدہ اپنا ہاتھ لے کے میرے پاس آبیٹھی، میں اس کا ہاتھ دیکھ کے پریشان سی ہو گئی،لائینز عجیب سی تھیں۔ عجیب کٹی پھٹی باریک زنجیردار بہرحال میں نے کسی سے ذکر نہ کیا،ایسے ہی گپ لگاتے رہے ہم ،یہ لوگ اپنے بچپن کی باتیں، اسکول کے قصے سناتے رہے مجھ سے ان تینوں کی طرح ہر کسی کی جلدی دوستی کی وجہ یہ کہ میں مقابل یا دوست کو بھرپور سنتی ہوں،اپنی کم اور اگلے کی زیادہ سنتی ہوں یہ ہی وجہ ہے کہ دوست اٹیچ ہو جاتے ہیں،رات بھر الوئوں کی طرح جاگنے سے صبح ذرا لیٹ جاگے،ہم لڑکیوں نے تو سُستی کر دی لیکن میں نے دیکھا کہ وہ دونوںبھائی جلدی سے اٹھے وضو کیا اور ادھر فرش پہ ہی جائے نماز بچھا کے قضا نماز ادا کی،یہ بات بہت پسند آئی مجھے کیونکہ نماز چھوٹ جائے تو کون اتنی فکر سے پڑھتا ہے۔ اس کے بعد مون تو پھر باہر نکل گیا اور عثمان میرے سر ہو گیا چلیں باجی شیر شاہ سوری پارک چلتے ہیںوہاںبڑے کنویں بھی ہیں تصویر بنائیں گے،ہم نکل پڑے،کچھ تو قدرتی حسن اور کچھ حکومت نے صحیح توجہ دی ہے،علی الصبح فوارے بہہ رہے تھے،تازہ پھولوں کی خوشبوروح کو سرشار کر رہی تھی،صبح صبح یہاں واک کرنا بہت اچھا لگ رہا تھا،جب پہنچے تو عثمان ہمیں سیدھا کنویں پر لے آیا،اُف اتنا کھلا اور گُھپ اندھیرا کہ ڈر لگتا تھا۔ اندر جھانکتے ہوئے بھی، میں نے ہونٹوں کے اطراف ہاتھ رکھ کر ذرا سا او کر اتنی زور سے آواز لگائی اور وہ آواز اندھیروں میں گُم ہو کر تھوڑی دیر بعد واپس ہمارے پاس لوٹ آئی کتنی بار ہم نے ایویں چیخیں ماریں،تو عثمان نے کہا رہنے دو یہ نہ ہو کوئی سیکورٹی والا آجائے کہ ادھر کیا مسئلہ ہے،پھر ہم تصویریں بنانے لگے،عثمان مجھ سے کبھی کوئی پوز کروائے کبھی کوئی، ایک گھوڑے کا ماڈل تھا پیارا سا،اس کے پاس سب نے تصویریں بنائیں،عثمان تو آنکھ بچا کر اس کے اوپر سوار ہو گیاجلدی سے اس کی تصویربنائی اور وہ اتر گیا،پھر پھولوں کے باغیچے میں ،گھر واپسی تک جہاں کوئی اچھا سین نظر آتا ہم تصویریں بنانے لگتے اس دن سنڈے تھا عابدہ نے رستے سے اخبار خریدا،پڑھتے پڑھتے ہم گھر پہنچ گئے،سب سے پہلا جو سین تھا وہ یہ کہ مون باہر احاطے میں جھاڑو لگا رہا تھا،اندھا دُھند صفائی میں لگا ہوا تھا، میری اسے دیکھ کے ہنسی چھوٹ گئی،اوئے لیفٹیننٹ صاحب آج ماسی چھٹی پر ہے؟ میں نے مذاقاًکہا تو کہتا باجی وہ تو رکھی۔
ہوئی نہیں آج سنڈے ہے ناں تو صفائی کی میری باری ہے،عثمان بھائی نے مشین لگانی ہوتی ہے،اور امی کوکنگ کر لیتی ہیں میں نے تحسین بھری نظروں سے دیکھا اور کچھ بھی نہ کہا،مبادا نظر نہ لگ جائے،ناشتے کے بعد امی نے کہا کہ ٹائم سے نکلیں اتنے میں عثمان تصویریں کمپیوٹر میں کر کے دکھانے لگا اچھی تھیں۔زندگی کتنی جلدی ماضی بنتی جاتی ہے ابھی ہم ادھر پارک میں انجوائے کر رہے تھے اور ابھی ہم ماضی کی یادیں بنا کے کمپیوٹر کی اسکرین پر دیکھ بھی رہے تھے نہ جانے زندگی کی صحیح حقیقت کیا ہے؟ انسان کہیں ڈوبتا ہے اور کہیں ابھرتا ہے،کہیں موجود ہوتا ہے اور کہیں غائب ہوتا ہے،خلیل جبران نے ایک بار کہا تھا کہ میں نے زندگی کی حقیقت یا موت کی حقیقت کو کچھ ایسا محسوس کیا کہ ایک ٹرین اپنا اسٹیشن چھوڑتی ہے تو سب کہتے ہیں کہ ٹرین چلی گئی اب دوسرا سٹیشن ہے جہاں ٹرین نے پہنچنا تھا ادھر لوگ انتظار میں تھے وہاں شور مچ جاتا ہے ٹرین آ گئی زندگی کا بھی یہ ہی حال ہے ثابت ہوا کہ زندگی ادھر بھی موجود ہے ہمیشگی والی اور ادھر بھی موجود ہے عارضی والی،اس اِدھر اور اُدھر کے درمیان فرق صرف موت ہی ہے،کیونکہ ایک جگہ حاضری کے دوران ہی چھوڑ کے دوسری جگہ حاضر ہونا پڑتا ہے،بندہ ایک وقت میں دو جگہ کیسے لے سکتا ہے؟میری اس سے پہلے کہ سوچیں مزید گہری ہوتیں امی جان نے کہا کہ تیاری کرو شبیہہ ٹائم سے پہنچ جائیں یہ نہ ہو کہ اِدھر سے دیر سے نکلیں تو اُدھر دیر سے پہنچیں،اس بات سے میرے خیالات کو مزید تقویت ملی،کہ جتنا جلدی اِدھر سے غائب ہوں یا رخصت، اُدھر اتنی جلدی ابھریں گے ہم،اُف میرے خدا! یہ ہونا اور نہ ہونا کیا ہوتا ہے؟میرا اس فلسفے کو سوچ سوچ کے دماغ درد کرنے لگا۔
ہم تقریباً11بجے ادھر سے اجازت لے کر نکلے،مون اور عثمان دونوں مسجد کے مقابل روڈ پہ ہمیں سی آف کرنے آئے تھے،ہیں۔
پارک میں جاتے سمے عثمان کے اور کپڑے تھے اب اس نے نیا جوڑا زیب تن کر رکھا تھا ،carryکافی دیر سے چلی تھی دونوں اس کے چلنے تک میرے پاس کھڑے رہے،عثمان نے کھڑکی کے پاس کھڑے ہو ئے مجھے کہا۔
’’باجی اس سائیڈ پہ دیکھیں یہ آرمی والوں کی بلڈنگ ہے میں نے بائیں جانب دیکھا تو ایک اچھی بلڈنگ سامنے تھی۔
’’جب مون آفیسر بن جائیگا اور شادی کی عمر کو پہنچے گا تو اس جگہ اس کی شادی کریں گے یہاں آفیسرز کے فنکشنز ہوتے ہیں۔‘‘ مون چپ رہا جیسے سعادت مند بچے،میں اسے چھیڑنے لگی اوہو، لگتا ہے شادی کے خواب ابھی سے دیکھنے شروع کر دیے ہیں۔
’’ بھئی ظاہر ہے مُنڈا فوج میں ہو گیا ہے،اب تو کُڑی کوئی ڈھونڈنی چاہیئے۔‘‘
’’او نیئں باجی آپ تو بس۔۔۔یہ عثمان کو تو اور کوئی بات ہی نہیں آتی۔‘‘ میں اور عثمان اس کی حالت دیکھ کے مسکرا رہے تھے،اتنے میں carryچل پڑی،ہم لوگوں نے جلدی سے ہاتھ ملائے اور وہ لوگ چل پڑے میں مون کو دیکھ رہی تھی ماشااللہ قدکاٹھ والا خوب صورت جوان ہے لیکن جب ٹرننگ میں ہو گا تو پتلاہوجائے گا،ہماری فیملی میںکافی لوگ آرمی میں ہیں وہ سبھی ایک بار تو بالکل سوکھتے ہیں پھر تقریباًاسی لیول پر رہتے ہیں، ہم سفر میں بھی مون کی باتیں کرتے رہے،وہ بھی رابطے میں رہا میسج کر کے پوچھتا رہا کہ کہاں پہنچے ہیں،گاڑی موٹروے پر پہنچی تو اسے کچھ سکون ہوا کہ اب یہ لوگ پہنچ جائیں گے۔
والدین کا نعم البدل اس جہان میں کوئی بھی نہیں، آج ایک حسِین یاد نے دل پھر سے آبادکیا ہے،میری امی سہیلیوں جیسی ہیں،ہمیشہ سے بچوں کی جائز بات مان لینے والی،اور اولاد کو خود خوشیاں دینے والی،لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی بتا دوں کہ جہاں سختی برتنی ہو وہاں تو ہماری مجال بھی نہیں،انھوں نے بہت نپا تلا سا اندازِ تربیت رکھا ہے اولاد کا،ہوا یہ کہ موٹروے پہ جب کلر کہار پہنچے تو سر سبز پہاڑیاں اور خوبصورت مناظر دیکھ کے میں مچل گئی،یہ وادی شروع سے مجھے پسند ہے میں نے جھجکتے ہوئے امی سے کہا کہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ ہم ادھر اُتر جائیں ؟میرا سیَر کرنے کو من کر رہا ہے،امی نے کہا واہ میں سیر ہی تو کی ہے، میں نے کوشش جاری رکھی،امی جی نے وقت دیکھا تو ابھی دن کا ایک بجا تھا،وہ چپ ہوئیں تو میں نے پھر کنوِنس کیا کہ پلیز ہم ایک گھنٹے کے لیئے رک جاتے ہیںگھر فون کر دوں گی امی نے نیِم رضا مندی سے کہا کہ جو ہم نے پورا کرایہ دیا ہوا ہے وہ نقصان نہیں؟میں نے کمال ڈھٹائی سے کہا ۔نہیں بلکہ اسکے بدلے ہم اتنی سیر بھی تو کریں گے،کہہ کے کن اکھیوں سے امی جان کو دیکھا تو چہرے پر کوئی خاص ناراضگی کے آثار نظرنہ آئے پھر تومیں شروع ہو گئی امی جان مان جائیں نہ پلیزاسٹاپ آنیوالا ہے پلیز پلیز۔
ٹھیک ہے لیکن زیادہ رکنا نہیں ہے،انھوں نے کہا تو میں خوش ہو گئی،اوکے ٹھیک ہے ہم ایک گھنٹے کے اندر گھوم کے واپسی کی راہ لیںگے،ساتھ ہی میں نے اپنا پرس کندھے پہ لٹکایا اور کنڈکٹر نے کہا کہ کلرکہار کس نے اترنا ہے؟امی نے اشارے سے بتایا کہ ہم نے وہ حیران ہو کر بولا۔ آپ نے تو بھلوال جانا تھا۔
ہم نے کہا ہمارا ارادہ چینج ہو گیا ہے،بہرحال ہم اسٹاپ پہ اتر گئے،کیا موسم تھا،عجیب جادوئی ماحول،میں تو اترتے ہی کھو گئی،ایک رِکشہ لیا اور اسے کہا کہ سب سے پہلے ہمیں ھُو باہوؒکے دربار پہ لے جائے میں تو مناظر کے چارم میں کھوئی ہوئی تھی جیسے بندہ ٹرانس میں ہو،سر سبز میدان اور انکے اطراف میں پہاڑ،صاف ستھرے علاقے،کہیںکہیں گھر،اور مری کی طرح پہاڑوں پہ آبادیاں،مساجد،اسپتال،شاپس،اور وزیٹرز،واہ کلر کہار کی کیا بات ہے،بڑا سا ایک دروازے کی طرح چوکھٹا تھا،سبز بیلوں سے ڈھکا،جہاں جعلی حروف میں لکھا تھا welcom to kalar kahar vallyہم جب اس دروازے سے اندر داخل ہوئے تو ایک جا دوئی دنیا کا گمان ہوا،خوشبووئوں سے معطر فضا،سبزے سے ڈھکے نظارے،صاف اور چمکتی کالی سڑکیں،دو رویہ اونچے درخت،خاموشی ہی خاموشی،ہم دونوں ہی سرشار تھے،وہ بھی نیچر پسند ہیں اور میں بھی،وہ بھی لکھاری ہیں اور میں بھی،پہلے بھی متعددبار کلرکہار آنا ہوا تھا لیکن اتنا لطف آج ہی آیا تھا،افسانوی ماحول سے گزرتے ہوئے ہم دربار پہنچ گئے، حدود شروع ہوتے ہی گا ڑی سے ہم اترگئے،میں پیدل ہر جگہ دیکھنا چاہتی تھی،ایک پتلی سی سڑک اوپر جا رہی تھی دونوں طرف دوکانیں سجی ہوئی تھیں،کچھ آگے گئے تو لنگر تقسیم ہو رہا تھا،آج سے پہلے میں نے یہ جگہیں نہیں دیکھی تھیں،پہاڑوں کے دامن میں اندر کی طرف پہاڑ کے شیڈ کے نیچے بیٹھا ایک آدمی سالن ڈال کر دے رہا تھا،گاڑیاں بھر بھر کر زائرین کی آرہی تھیں،اوپر جانے والی ڈھلوان سڑک پہ چڑھے تو چڑھا نہ گیا بمشکل اوپر پہنچے تو واہ،کیانظارہ تھا بہت اچھی ہَوا چل رہی تھی،ٹھنڈی،خنک،خراماں،نیند آنے والی ہو گئی،پر جیسے ہی سامنے ہُوباہوؒ کا دربار دیکھا،شوق ِدیدار امڈ آیا،ہم داخلی دروازے سے صحن میں آئے تو سفید رنگ کے موروں نے استقبال کیا،کیا بات ہے،لفظوں میں قدرت کی صناعی بیان کرنا بہت مشکل ہے، مور گھوم رہے تھے اور زائرین بھی۔وضو کیا،دربار کے اندر گئے سلام کیا،فاتحہ پڑھی اور سورہٰ یٰسین پڑھی،مناجاتیں جو دل میں تھیں وہ خودبخود امنڈ آئیں،پھر میں اندر کی عمارت دیکھنے لگی،بہت خوبصورت پچی کاری ہوئی تھی،اس پہاڑی علاقے میں یہ محنت اور کاریگری دیکھ کرکام کرنے والوں کو داد دینے کو جی چاہتا ہے،ساتھ ہی دُور سے آنیوالے زائرین کے آرام کے لیے برآمدہ بنا ہوا تھا،امی کو ادھر لِٹا دیا،پھر خیال آیا کہ گھر تو بتایا ہی نہیں،باہر آ کر میں نے نمبر ڈائل کیا وہ لوگ پریشان تھے کہ ہم ابھی تک پہنچے نہیں میں نے بتایا کہ ہم کلرکہار رُک گئے ہیں، اورنہ پوچھیں کہ بہنوں نے کیا صلواتیں سنائیں،گھبرا کے فون بند کر دیا،ادھر اُدھر دیکھا کہ کوئی میری طرف متوجہ تو نہیں، دِل سے نہیں کی آواز آئی اور میں نے سینے سے طویل سانس خارج کی اور آکسیجن سے بھر پور تازہ ہوا کو ناک سے اندر کھینچا۔ مجھے یاد ہے جب فیملی کے ساتھ آئے تھے تب بہت مزہ آیا تھا،لیکن اب سکون آرہا تھا،اور اپنے من میں ڈوبنے کا موقع مل رہا تھا،ایک جھیل ہے یہاں،جسے نمکین پانی کی جھیل کہاجاتا ہے،عموماًبھری رہتی ہے لیکن خشک بھی خود ہی ہو جاتی ہے،لوگ مزے سے کشتی رانی بھی کرتے ہیں،مجھے لگا کہ گھوڑے بھاگتے ہوئے آرہے ہیں،ٹاپوںکی آواز نزدیک آ رہی تھی،محسوس ہو رہا تھا کہ میں ظہیرالدین بابر کے زمانے میں ہوں،وہ اپنی فوج کو کابل سے لے کر جب دہلی روانہ ہورہا تھا تو رستے میں کلرکہار ٹھہراتھا ،یہاں کا موسم اور آب و ہوا اسے پسند آئی،اس نے اپنا پڑائو بڑھا دیا اور باغِ صفا کے نام سے ایک باغ بنوایا،جو آج بھی آب و تاب سے موجود ہے،بابر نے ایک چبوترہ بنوایا جس پہ بیٹھ کر وہ اپنی سپاہ کو خطاب کیا کرتا،اور ایک تاریخی جملہ کہا:کلر کہار ایک دِلکش جگہ ہے جسکی ہَوا بہت اچھی ہے خوبصورت نظاروں کے ساتھ: چوآسیدن شاہ دربار نزدیک ہی ہے،سیدن شاہؒایک بزرگ ہوئے ہیں،مشہور ہے کہ عالم چنّا نے اس مزار پہ سفیدی کی تھی۔۔۔دوسری سائیڈ پہ جہلم کے علاقے میں کٹاس کا قلعہ ہے جس میں شِیوا کا ٹمپل ہے اور چوآسیدن شاہ میں راج ٹمپل ہے۔جو کہ بین الاقوامی شہرت رکھتے ہیں اور ان ٹمپلز کے ساتھ قدیم داستانیں جُڑی ہیں،کلر کہار کو ایک اور اعزازبھی حاصل ہے اسکے ایک گائوں چک مصری میں وہ پہاڑیاں ہیں جِن کا پتھر انڈیا میں تاج محل میں استعمال ہوا ہے،یہ علاقہ تاریخ کے حوالے سے مالامال ہے،کلر کہار کا ایک گائوں ؛نارومی: سَیر کے لئے بہترین ہے،عبدالقادر جیلانیؒکا مزار بھی سنا ہے کہ یہاں ہی ہے۔ میں تاریخ کی بھول بھلیوں میں ایسی مگن تھی کہ کافی وقت بیت گیا،سورج کی کرنیں اب مٹیالی ہُوا چاہتی تھیں،میں خوبصورت ماضی سے نکلی اور واپس برآمدے کی طرف پلٹ آئی،امی جان بھی جاگ گئی تھیںانھیں پانی پلایا ساڑھے تین ہوئے تھے امی کہنے لگیں کہاں چلی گئی تھی تم؟میں نے کہا کہیں نہیں،یونہی فون کر رہی تھی گھر۔
چلو چلیں آہستہ آہستہ،تم تو گھومنے نکلی تھیں، امی نے کہا اورمیں نے سہارا دے کر ان کو اٹھایاہم دربار کی بیک سائیڈ سے اترنے لگے پتھر کی سیڑھیاں تھیں جو لوگوں کے چڑھنے اور اترنے سے بے حد ملائم ہو چکی تھیں اور خوامخواہ پھسلنے کا اندیشہ تھا ہم سنبھل کے اترنے لگے، کافی سارا نیچے آ کے میں نے امی کا ہاتھ تھامنے کو مُڑ کے دیکھا تو حیران رہ گئی کیونکہ ہم بہت نیچے اتر آئے تھے اور دربار بہت دور لگ رہا تھا،سڑک پہ اترنے کے بعد امی کو ایک اور فرمائش کر دی، چائے پینی ہے،میں امی جان کی ڈانٹ سننے کو تیار تھی لیکن آج پائوں اٹھا ہوا تھا،ہاں میں بھی تھک گئی ہوں،دیکھو کسی فیملی کیبن میں چائے کا ارینج ہو تو،خلافِ توقع جواب سن کر میں نے غور سے دیکھا تو وہ مسکرا دیں،مجھے ڈانٹ نہیں پڑی تھی،یہ سڑک جانی پہچانی تھی قدرے بلندی پہ پٹھان بھائیوں کا ہوٹل نظر آیاامی کی توجہ کرائی تو ہم ادھرچل پڑے،پوچھنے پہ پتہ چلا کہ چائے مل جائے گی،ہم ماں بیٹی مخصوص راستوں سے اوپر گئے تو بھئی واہ کیا ماحول تھا،دربار کی بلندی سے یہ ہوٹل نظر آرہا تھا لیکن یہ اس قدر خوبصورت اور اچھا ہو گا مجھے اندازہ نہ تھا،لگتا تھا کسی پہاڑی کو برابر کر کے یہاں ہوٹل اور دکانیں بنائی گئی ہیں،یہ کوئی وی آئی پی ہوٹل نہ تھے بلکہ یہاں کے قدرتی ماحول نے چارچاند لگارکھے تھے،لیڈیز کیبن میں بیٹھے،بڑی بڑی کھڑکیاں جن میں موٹی اورمضبوط سلاخیں لگی ہوئی تھیں،ان میں سے کراس ہو کے ہوا بہت تیز آرہی تھی،سامنے خوبصورت پہاڑوں کے دلپسندمناظر اپنی شان دکھا رہے تھے،اُف اتنی اچھی اور کڑک چائے کہ بس۔۔ساری تکان دور ہو گئی،ٹیبل اور کرسیاں نیلے رنگ کے پینٹ سے مزّین تھیں لیکن کلر اترنے کی وجہ سے بھدی ہو رہی تھیں،میں سادہ سے کمرے کا جائزہ بھی لے رہی تھی اور چائے کا لطف بھی اٹھا رہی تھی،امی کے ٹہوکہ دینے سے میں نے چائے جلدی ختم کی اور باہر آگئے۔ اوپر کھڑے ہو کے میں نے پھر ایک بار طائرانہ نظر ڈال کر نظاروں کو نگاہوں میں قید کیا اور پھیپھڑوں میںاچھی طرح تازہ ہوا بھری اور نیچے سڑک کی طرف لپکی کیونکہ امی بہت نیچے چلی گئی تھیں ،اس بار نہ شاپنگ کی نہ پارک گئی نہ جھیل پہ،لیکن جو لطف ان مناظر سے میں لینا چاہتی تھی وہ مجھے حاصل ہو گیا تھا، گاڑی آئی اور اس میں سوار ہو کے ہم اپنی منزل کی جانب بڑھ گئے۔
جون کی 21تاریخ کو میری سالگرہ تھی سبھی بہت جوش خروش سے مناتے، وِش بھی بہت سے لوگ کرتے ہیں میری برتھ ڈے اس لیے سب کو یاد ہوتی ہے کہ شروع سے منائی جاتی ہے ابو بہت خوشی سے مناتے ہیں۔آج بھی رات 12بجے سے پہلے ہی کزنوں اور دوستوں کے مقابلے لگے ہوئے تھے کہ پہلے کون وش کرتا ہے،مجھے نیند آرہی تھی لیکن جاگنا ضروری تھا کیونکہ سب کے مقابلے دھرے رہ جاتے اگر میں ہی سو جاتی،20منٹ رہ گئے تھے 12بجنے میں اور میں نیند سے بے حال،فاطمہ فریش تھی۔
فونز وہ ہی رسیو کر رہی تھی،2,3منٹ رہ گئے 12بجنے میں،تو اس نے مجھے جھنجوڑ کر اٹھایا،میں آنکھیں مَلتے ہوئے اٹھ گئی،12پرسُوئی آئی اورمیری پیاری اور عزیز دوست نادیہ کا فون آگیا،وہ جیت گئی تھی،سب سے پہلے اس نے مجھے وِش کیا،بلکہ گا کر وش کیا،اتنے میں ایک آپی کا میسج آیا،3,4فون ایکٹو کر کے رکھ دئیے تھے سب کے فون آنے لگے نشاط کی فرینڈز،فاطمہ کی فرینڈز میری اپنی فرینڈز،کزنزسب نے راتوںرات وش کر دیا،سیکنڈز کے حساب سے میسج آرہے تھے،جواب دے دے کر میری انگلیاں شل ہو گئیں،تب سارے فون سائلنٹ پر لگا کے میں رات 2بجے سو گئی، کچھ دیر ہی ہوئی تھی سوئے ہوئے کہ فاطمہ نے جگا دیا ،اذانیں ہو رہی ہیں نماز کی تیاری کرو اور فون بھی چیک کرو ،بار بار اسکرین چمک رہی ہے،میں بمشکل جاگی فون دیکھا تو مون کے میسج آرہے تھے وہ مجھے وش کر رہا تھارات تو میرے ذہن میں نہیں تھا کہ کون کون وش کررہا ہے لیکن اب اس کے سالگرہ مبارک کے میسج آئے تو شکوہ در آیا،میں نے لکھا کہ ساری دنیا وش کر کر کے سو گئی اور تمھیں اب یاد آئی ہے باجی کی،اس کا جواب آیاباجی 12بجے تو سارے ہی وش کرتے ہیں،اس وقت آپکو کس نے وش کیا؟میں نے کہا بونگے اس وقت تم ہی جاگ رہے ہو،باقی دنیا تو سوئی ہوئی ہے،اس کا replyآیا،جو آج بھی پوری طرح مجھے یاد ہے،کہ باجی 12 بجے تو سارے ہی وش کرتے ہیں اور تہجدیا فجر کے وقت آپکو جو وش کرے گا وہ صرف مون ہی ہو گا میں اس پیارے وقت پہ آپکو بہت سی دعائوں کے ساتھ سالگرہ کی مبارک دیتا ہوںاور دعاگو ہوں کہ اللہ ہزاروں برتھ ڈے منانے کا موقع دے،ہمیشہ خوش رہیں آباد رہیں،دل کی خواہشیں پوری ہوں اور نہ جانے اس لڑکے نے کیا کیا دعائیں دے ڈالیں، میرے پاس الفاظ ختم ہو گئے کہ میں اس کو کیا جواب دوں ،کافی دیر میرے میسج نہ گئے تو مون نے فِیل کیا اور وجہ پوچھی تو میں نے کہا۔
پیارے لڑکے !میں کیا کہوں، تم نے میرا مان بڑھایا ہے،آج مجھے معلوم ہوا ہے کہ ہمارارشتہ معمولی نہیں ہے،تم اتنی اچھی سوچ رکھتے ہو۔‘‘ کچھ دیر ہم بہن بھائی یوں ہی بات کرتے رہے اس کے بعد وہ بھی اور میں بھی نماز کے لیے اٹھ گئے،دن میں یہ ہی کالز والا سلسلہ جاری رہا ایک بڑا فنکشن ارینج کیا،مون نے سہ پہر پھر فون کیا سالگرہ کی مبارک دی امی اور دیگر سب سے بات کی۔
بھائی احتشام کی شادی آ گئی ہم اندھا دھند تیاریوں میں لگ گئے،اس کے چند ماہ بعد میری شادی ہو گئی اور زندگی نئی طرز پر بسر ہونے لگی، نئے رشتے ،نئے لوگ ،نئی جگہ اور شبیہہ کا دل یوں تو سبھی اچھے تھے لیکن اپنی جنت کا پُر بہار موسم میری آنکھ کے منظروں سے کیسے نکلتا؟بہن بھائیوں کے پھول چہرے،گلاب باتیں ،رُباب یادیں مجھے چپکے چپکے رلاتی اور میں تڑپ جاتی،ماں باپ کی ذات کی گھنیری چھائوں یاد آتی تو جیون ساتھی کے پیار کے باوجود مجھے یوں لگتا کہ آزمائشوں کی کڑی دھوپ میں ہوں،سچ کہتے ہیں لڑکی کے لئے شادی کے بعدماں باپ سے بچھڑنا ایک عظیم آزمائش ہے،میکے سے سُکھ کے گلابی بادل اوڑھ کے آئی تو خاوند نے بھی کبھی پریشان نہ کیا۔لیکن یہ گلابی دن کب ڈھلے مجھے خبر ہی نہیں دی گئی میری شادی کے بعد ابو جان بیمار ہو گئے ان کے پائوں میں تو کب سے درد تھا لیکن اگنور کرتے رہے،کبھی کبھار زخم بن جاتا تو خود ہی علاج بھی کر لیتے،لیکن مرض بڑھ رہا تھا امی کے مشورے سے شوگر چیک کروائی تو 450تک آئی،درد پائوں کے انگوٹھے میں تھا کسی ناہنجار ڈاکٹر نے کہا پیپ پڑ گئی ہے،ناخن نکالنا پڑے گا ،وہ نکال دیا،مزید حالت خراب،وقت گزرا لیکن آرام نہ آیا،سرجن سے چیک اپ کرایا تو اس نے کہا کنڈیشن ایسی ہے کہ انگوٹھا کاٹنا پڑے گا،مجھے پتہ چلا تو میں رو دی، ادھر میری ساس بیٹے کے پاس ہالینڈ چلی گئی،میں زیادہ دن کے لیے نہیں جا سکتی تھی ابو جی کے پاس،ایک دن کے لیے گئی صرف پتہ کرنے،اُف میرے خدا،ابو جان کا درد برداشت کر کرکے رنگ زرد ہو گیا تھا،کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا،ہم لوگوں نے فیصلہ کیا کہ لاہور لے جاتے ہیں،وہاں ابو کے دوست ہیں جو اچھے ڈاکٹر تک رہنمائی کرسکتے،میں گھر آگئی لیکن ابو کو لاہور لے گئے،بہت ٹینس تھی رورو کے کوئی حال نہ تھا،فون پہ پل پل کی خبر لیتی،چونکہ خاندان میںاس سے پہلے شوگر کا مسئلہ کسی کو نہیں تھا تو سمجھ نہیں تھی کہ ہم کریں کیا،اوپر سے عطائی ڈاکٹرز کے ناقص علاج،خیر سب سے پہلے شوگر نارمل کی گئی پھرچیک اپ کے بعد ادھر بھی انگوٹھے کی کنڈیشن کے پیشِ نظر کہا گیا کہ کاٹنا پڑے گا،ہم سب نے بھی یہ ہی مناسب سمجھا کیونکہ مسئلہ بڑھ سکتا تھا۔۔۔اور ایک دن میرے پیارے ابو جان کے پائوں کا انگوٹھا آپریٹ کر کے کاٹ دیا گیا،کافی عرصہ بیڈ ریسٹ ہوئی،کیونکہ بدپرہیزی سے زخم spoiledہو سکتا تھا، اسپتال سے چھٹی ہوئی گھر آئے اور شاپ پر جانے کو تیارکیونکہ انھیں نظر آرہا تھا ،گھر کے حالات بہت ڈائون ہو رہے تھے اندر سے امی بھی پریشان تھیں رشتہ دار عزیز وں کے ہاں ملنا ملانا نہ ہونے کے برابر تھا ،دو شاپس کے مقدمے بھی چل رہے تھے اور ابو جان کے بستر پر آنے سے ہر کام رک سا گیا،ابو نے کسی کی ایک نہ سنی اور پائوں پر پٹی کر کے علی کو کہتے شاپ پر چھوڑ آئو کیونکہ لوگ کہنے لگے تھے کہ اب تو مظہر بیکار ہو گیا ہے دکانیں کسی وقت بھی چھِن جائیں گی،علی بھی بڑا ہو رہا تھا اور اپنے منہ سر والا ہونے لگا ،ان سب حالات کے پیشِ نظر ابو جان نے گھر آتے ہی کمر باندھ لی،ساتھ ساتھ علاج بھی چلتا رہااور اللہ کریم کا کرنا ہوا کہ حالات اپنی ڈگر پہ آنے لگے،میں اپنے گھر تھی،بہت کچھ مجھ سے چھپا جاتے لیکن میرا ذہن اپنوں میں اٹکا ہوتادوستوں وغیرہ کا کسے ہوش رہتا ہے ایسے حالات میں،نادیہ سے پراپررابطہ تھا کبھی کبھی مون کے میسج آجاتے،آج بھی وہ بات کر رہا تھا،باجی کیا حال ہے بھلوال میں سب کیسے ہیں؟میں نے بتایا کہ ابو جی کا آپریٹ ہوا ہے،وہ پریشان ہو گیا،کہتا میں فاطمہ کو میسج کروں تو وہ جواب نہیں دیتی نوشی بھی یہ ہی شکایت کر چکی تھی جب اسے پرابلم کا پتہ چلا توحیران وپریشان۔کیونکہ وہ خاندان سے کٹ ہی تھا،کمال ہے کسی نے بتایا ہی نہیں انکل اس قدر بیمار رہے ہیں،میں فون کروں گا گھر،علی کیا کر رہا ہے آجکل؟میں نے بتایا کہ میٹرک کیا ہے اس نے اب سوچ رہے ہیں ابو کا ہاتھ بٹائے اور پرائیویٹ سٹڈی کرے ابو کا تو دل تھا کہ اس کی کوئی جاب ہو جاتی،تو وہ بے فکر ہو جاتے،احتشام تو بال بچوں کے ساتھ زندگی میں سیٹ ہے،کہتا اللہ کرم کرے گا،کافی تسلی دی مجھے ،میرا دل ہلکا ہو گیا،پھرمیں نے گڈ نائٹ کہہ کر فون آف کر دیا۔
میں بھلوال میں تھی غالباًکسی کزن کی شادی اٹینڈکر کے گھر آئے تھے، مون کا فون آیا۔
باجی کدھر ہیں آپ؟
میں بھلوال ہوں خیریت؟وہ شایدچل رہا تھا سانس ہلکا سا پھولا ہوا تھا اس کا۔
ہاں جی خیریت ہے،آپ علی کے ڈاکومنٹس مجھے صبح بھجوا سکتی ہیں؟میں نے حیران ہوتے ہوئے کہا۔
کہاں،کیوں اور تم کدھر ہو؟میں بہاولپور ہوںآرمی میں کچھ ویکنسی آئی ہیں ادھر علی کے کاغذ جمع کرانے ہیں،اس کی 12تصویریں،ب فارم یا آئی ڈی کارڈ کی کاپیاں،ڈومیسائل وغیرہ تیار کر دیں اور آنٹی انکل سے ذکر کریں میںکچھ دیر تک فون کرتا ہوں۔‘‘ ساتھ ہی فون آف ہو گیا،میں نے نشاط کو کہا علی کے کاغذ چیک کرومکمل ہیں ؟ابو امی کو بتایا کہ مون کی کال آئی ہے علی کی جاب کے لیے بات کرنا ہے،امی جُزبُز سی ہوئیںلیکن ابو خوش ہوئے مون کو دعائیں دینے لگے،امی بھی میرے اصرار پہ مان گئیں( علی امی کا سب سے چھوٹا اور لاڈلا بیٹا ہے)علی سے پوچھاتو اسے بھی اعتراض نہ تھا،سب ایگری ہوئے تو میں نے مون کو فون لگایا اس کو بتایا کہ امی ابو علی کو ٹرائی کرانا چاہتے ہیں۔
بس پھر مجھے کاغذ بھیجیں میںبہاولپور سے اسے اپلائی کرائوں گا ،اور علی کو مردان جانا پڑے گا،وہاں انٹرویو ،فزیکل ٹیسٹ،میڈیکل ٹیسٹ وغیرہ ہوں گے اور باجی میری کوشش ہے کہ علی کی جاب ہو جائے ہر جگہ میں ہیلپ کروں گا لیکن میڈیکل ٹیسٹ میں میری دال نہیں گلے گی۔‘‘ میں نے شکریہ ادا کیا اور رسمی کلمات کے بعد فون بند ہو گیا،باقی کاغذات تو مکمل تھے بس تصویریں نہیں تھیں صبح بنوا کے آیا،جو جو مون نے کہا تھا سب شاپنگ علی نے کر لی،اوراس نے کہا کہ پہلے واہ جانا ہے،وہاں سے ایک اور لڑکا بھی مردان جا رہا ہے اس کے ساتھ واہ سے آگے سفر کرنا ہے،امی کا حوصلہ نہیں پڑ رہا تھا،علی ذرا چھوٹا بھی تھا اور سفر بھی اتنی دور کا نہیں کیا تھا اس نے،امی نے کہا کہ میں واہ تک اس کے ساتھ جائوں گی ہم لوگوں نے کہا ٹھیک ہے،شام کو نکلناتھا،امی جان کی طبیعت بھی آج ناساز تھی اور اوپر سے سفر۔۔۔لیکن ہم روک نہیں سکتے تھے،کیونکہ وہ کبھی نہ رکتیں،دن میں علی کے ڈاکومنٹس میںنے مون کو sendکر دئیے تھے،امی لوگ عشاء کے وقت نکلے اور تو سب ٹھیک تھا بس امی کی صحت کے بارے میں پریشان تھی ،ساری رات بار بارفون کرتی رہی، 2,3بجے پہنچے،رستے میں کوئی مسئلہ ہو گیا تھا،تب جا کے سکون آیا صبح میں نے چھ بجے ہی فون کر دیا علی کے نمبر پر خلافِ توقع وہ لوگ جاگ رہے تھے،میںنے بھی جلدی کرنے کا کہا اور فون بند کر دیا،گھر کی روٹین چل رہی تھی لیکن مجھے امی لوگوں کا انتظار تھا،علی کی پریشانی تھی،ناشتے کے بعد پھر فون کیا،وہ لوگ ناشتے کے بعد فری تھے اور منتظر تھے کہ کب وہ لڑکا گھر سے نکلے گا اور یہ بھی ادھر سے نکلیں گے،میں نے مون سے رابطہ کیا اور اسے ساری بات بتائی،مون نے اس لڑکے سے رابطہ کیا اور مجھے تسلی دی کہ اس نے ذرا دور سے آنا ہے کچھ دیرمیں پہنچ جائے گا،میں نے علی کو بتایا کہ اب پریشانی وغیرہ آئے تو گھبرانا نہیں اس کو قابو کرنا سیکھو،کافی دیر تسلی دیتی رہی،پھر کال ڈراپ کر دی،اور دعائیں مانگنے لگی،ابو چلے گئے بہنیں بھی کالجز وغیرہ میں چلی گئیں،نو بجے کے قریب رابطہ کیا تووہ فیض آباد اڈے پر پہنچ رہے تھے،عثمان نے علی کوسارے ضروری نمبرز لکھ دیئے تھے،اور وقت سے بہت پہلے ہی اڈے پر چھوڑ گیا،شاید اسے کہیں جانا تھا،امی بھی ہمراہ تھیں وہ بھلوال سے علی کو اکیلے نہیں آنے دے رہی تھیںتو اب کیسے اسے انجان جگہ پر اکیلے چھوڑ جاتیں۔بہت کٹھن لمحات گزر رہے تھے آخیر ایک اجنبی نمبر سے علی کو 11,12بجے کال آئی،اس نے رسیو کی تو ادھر سے بولنے والے کا نام نادر تھا،تعارف کے بعد لوکیشن پوچھی اور وہ علی کے پاس پہنچ گیا،امی جان نے اس لڑکے کو بھی یہ ہی کہا کہ علی چھوٹا ہے اور انجان بھی، اس کا خیال رکھنا،پھر وہ لوگ امی جان کی دعائوں کے سائے میں رخصت ہوئے،علی کو میں نے یہ ہی نصیحت کی تھی کہ کسی بھی صورت میں تمھارا نمبر آف نہیں ہونا چاہیے،کچھ یہ بھی فکر کہ مردان اتنی دور اور ملکی حالات بھی ناساز،بہرحال امی جان گھر آ گئیں اور ہم سب علی کے لئے دعاگو تھے، مون بھی رابطے میں تھا ادھر پہنچ کے علی کافی مشکل محسوس کرے گا کیونکہ اس نے کبھی زندگی کا ـ؛یہ روپ؛نہیں دیکھا تھا،گھاس پہ سونا،کھانے پینے میں مشکل،رات یا تہجد کے وقت اٹھا دیا جانا،اور فزیکل پریکٹس وغیرہ،جب لڑکوں کے باقاعدہ ٹیسٹ شروع ہوئے تو علی سے انھوں نے لَیٹر مانگا،جو اپلائی کرنے کے لئے تھا،لیکن وہ لیٹر اسکے پاس نہیں تھا،اس نے مون کی بجائے مجھے فون کیا اور کہا کہ آپی جان وہ لیٹر نہ ہوا تو مجھے ایڈمٹ نہیں سمجھا جائے گا اور میں بغیر انٹرویو کے بغیر واپس آ جائوں گا۔ میں نے اسے تسلی دی اور کہا کہ ابھی مون سے بات کرتی ہوں تم پریشان نہ ہو بلکہ انجوائے کرو جاب ہو گئی تو ٹھیک ورنہ پریشانی کس بات کی؟یہ ایک تجربہ ہے زندگی کا ،لیٹر آ جائے گا تب جی جان لگا کے محنت کرنا،ابھی دبائو میں آنے کی ضرورت نہیں،وہ کافی فریش ہو گیا میری بات سے،سوچنے لگی کہ آخرکیا بات ہے، میں خود پریشان سی ہو گئی کہ باقی لڑکوں کے پاس لیٹر ہے تو علی کے پاس کیوں نہیں،بہاولپور سے لیٹر آنا تھا اور مون کے اوپر مجھے پورا بھروسہ تھا وہ بات پر کھرا اترنے والا لڑکا تھا بے پروائی؟ نہیں۔میں نے خود ہی اپنی سوچ جھٹک دی،اور مون کو میسج کیا اور لیٹر کا پوچھا، اس کا جواب سُن کر میں مزید پریشان ہو گئی،لیٹر تو اس نے پوسٹ کر دیا تھا اور مون نے کہا کہ کم از کم آج اسپانسر لیٹر ضرور مل جانا چاہئے،میں نے علی کو کال لگائی اور پوچھا علی لیٹر ملا؟وہ پریشان تھا اور کہتا نہیں ملا،انھوں نے اندراج کرنا ہے لڑکوں کا،اور جن کے پاس لیٹر ہیں انکا ہو رہا ہے،میرے پاس اسپانسر لیٹر نہیں ہے اسلئے انھوں نے علیحدہ نکال کے بٹھا دیا ہے،آپی جان اب کیا ہو گا آپ مون بھائی سے کہو ناں جلدی لیٹر بھیجیں،میںنے علی کو کہا کہ لیٹر توبہاولپور سے نکل چکا ہے، وہ کہہ رہا ہے کہ آج ہر صورت میں تمھارے تک پہنچ جائے گا،مایوس ہونے لگا تو میں نے کہا مون کیا کر سکتا ہے اتنی دور سے،مردان ہیڈ کوارٹر میں تو رابطہ کر سکتا ہے لیکن لیٹر تو رستے میں کہیں ہے،وہ کیسے پتہ چلے گا ؟علی سے بات کرتے کرتے میں خود کلامی سی کرنے لگی،کیونکہ میں گہری سوچ میں تھی،اور اچانک ہی میں نے علی کو کہا ایک منٹ فون بند کر میں بعد میں بات کرتی ہوں،کہتا کیا ہوا؟
میں نے کہا تیرے لیٹر کو سرچ کرنے کا ایک آئیڈیا ذہن میں آیا ہے،دعا کر میں کا میاب ہو جائوں،ساتھ ہی میں نے فون بند کر کے اپنی دوست افسانہ کو کال کی، عابدہ نے بتایاکہ جب نوال پیدا ہوئی میں آپریشن روم میں تھی،نرس نے مبارک دی اور باہر کھڑے پاپا کو بتایاکہ آپکی بیٹی کے ہاں بیٹی نے جنم لیا ہے۔مبارک ہو،پاپا کسی سے فون پہ بات کر کے ہٹے ہی تھے کہ نرس کو کہا پلیز ذرا ٹی وی تو لگا دو۔‘‘ وہ حیرت سے دیکھنے لگی اور ٹی وی آن کر دیا،روم میں آکر بولی کہ یہ آپکے پاپا ہیں؟میں نے کہا جی میرے پاپا ہیں۔
حیرت ہے ان کو آپکی بیٹی کی خوشی نہیں ہوئی،میں نے بتایا تو یہ بار بار ٹی وی آن کرنے کا کہتے رہے،ابھی وہ بات کر ہی رہی تھی کہ پاپا اندر آئے اور فُل دروازہ کھول کر مجھے سامنے چلتا ہوا ٹی وی دکھانے لگے، اسکرین پر مون کا چہرہ دکھائی دے رہا تھا،میں بے اختیار خوش ہو اٹھی،آہا آج تو مون کی پاسنگ آئوٹ ہے،پھر پاپا نے سسٹر کو مخاطب کیا بیٹا مجھے اپنی بیٹی کے گھر رحمت کی بہت خوشی ہے،اللہ اسے اپنے حفظ و امان میں رکھے،لیکن آج میرے بیٹے کا تربیتی کورس مکمل ہوا ہے جو اسکرین پہ آیا ہے وہ ہی میرا بیٹا ہے۔یہ سن کر نرس بھی بہت خوش ہوئی اور دعائیں دینے لگی۔
نوال سے پہلے بھی عابدہ کا ایک بیٹا ہوا تھا وہ کچھ دن زندہ رہا تھا اسکی طبیعت خراب ہی رہتی تھی،ایک دن بچے کی طبیعت زیادہ خراب تھی، عابدہ لوگ گائوں آئے ہوئے تھے،آنٹی ،عثمان اور بھائی شفقت(عابدہ کا شوہر)بچے کو اسپتال لے کے گئے ہوئے تھے، عابدہ کی کنڈیشن ٹھیک نہیںتھی،مون اور وہ گھر ہی تھے،عجیب سوگوار سا ماحول تھا۔ایک دم عابدہ کی ریڑھ کی ہڈی میں ٹیس سی اٹھی،بہت عجیب سی حالت تھی،اس کے من میں نہ جانے کیا بات آئی کہ مون کو کہتی جلدی جلدی صفائی کر لیتے ہیں پتہ نہیں کیسی خیر خبر آئے،مون نے یہ سن کر عابدہ کے سر پر پیار کیا کوئی بات نہیں باجی ،سب ٹھیک ہو جائے گا پریشان نا ہوں آپ،مگر عابدہ کو اس کی طفل تسلیاں مطمئن نہ کر سکیں،اچانک اسکے پیٹ میں کچھ عجیب سا ہواجیسے spinnerچل رہا ہو،کچن میں کھانا بنانے آئی تو ادھ موئی سی ہو کے کرسی پہ ڈھے سی گئی،درد کی شدید لہر اٹھی اور پیٹ سے ہوتی ہوئی رانوں میں چلی گئی،تکلیف کے عجیب دوراہے پہ کھڑی تھی وہ، آنسو بہنے لگے لیکن درد کم ہونے میں نہیں آرہا تھا،اس نے تڑپ کے اپنے ہاتھ گھٹنوں پر رکھ لیے،کیونکہ درد چلتا ہوا گھٹنوں میں آگیا تھا،وہ ضبط کی آخری حدوں پر تھی،اچانک دل بجھ گیا ماتھے پر پسینہ نمودار ہوا اور بے جان ہو گئی گھٹنوں میں درد پھنس گیا تھا،بہت بری حالت تھی کوئی پل تھا کہ اس کا دھیان اپنے بیٹے باذل کی طرف چلا گیا،یہ خیال آتے ہی اس کی کیفیت جنونی سی ہو گئی۔درد کے باو جود کچن سے باہر بھاگی،کمرے میں آکر مون کو کہنے لگی،مجھے لگتا ہے اچھی خبر نہیں آئے گی،میرا دل بیٹھا جا رہا ہے وہ ابھی تک آے کیوں نہیں،تم فون کیوں نہیں کرتے،بیڈ پہ بیٹھے بیٹھے عابدہ نان سٹاپ بولے جا رہی تھی،مون پریشان سا اس کا منہ دیکھ رہا تھا،اس دوران عابدہ کے گھٹنوں سے نکل کر درد پنڈلیوں اور ٹخنوں میں پہنچ گیا اسے درد چلتا ہوا باقاعدہ محسوس ہو رہا تھا،اتنے میں داخلی دروازہ کھلااور بھائی شفقت نے بچہ بازوئوں پہ اٹھایا ہوا تھا،ساتھ عثمان ،آنٹی رضیہ اور گائوں کے دو تین لوگ داخل ہوئے،عابدہ منٹ کے ہزارویں حصے میں بھاگ کے شفقت کے پاس آئی اور بچے کو اپنے بازوئوں میں لینا چاہا،جب وہ بھاگی تو حیرت انگیز طور پر اس کی ٹانگوں میںسے درد غائب ہو چکا تھا،شفقت میرا باذل دے دو، ٹھیک ہو گیا ہے ناں؟میں کب سے بے چین ہو رہی تھی تم جانتے ہو ناں ہمارے بیٹے کے لئے میں کتنی بے چین تھی،بھائی شفقت نے اسے ساتھ لپٹا لیا،عثمان بھی عابدہ کو لپٹ گیاباجی باذل چلا گیا،عابدہ نے اسکی بات سنی تو شفقت کا بازو جھٹک کر باذل کی طرف آئی اور اسکے منہ سے کپڑا ہٹا دیا،ماں نے بیٹی کو ساتھ لپٹا لیا ،میری جان !تیرا باذل اب اس دنیا میں نہیں رہا،ساتھ ہی بھائیوں نے عابدہ کو پکڑا اور اندر لے گئے۔
آج نوال کے دو برس بعد اللہ نے عابدہ کو پھر سے بیٹا دیا تھا،سب بہت خوش تھے،بچہ بہت خوبصورت تھا نام حسنین رکھا گیا،اچھا خاصا صحت مند تھا عابدہ ابھی اسپتال میں تھی جاب بھی چل رہی تھی لیکن اس نے ڈلیوری کے لئے چھٹی لے رکھی تھی،اس دن موسم خوشگوار تھا،عابدہ کو اس دن شفقت بھائی اسپتال کے دالان میں لے آئے کہ ذرا کھلی فضا میں گھوم لے،حسنین کے پاس عثمان تھا،باہر آکر عابدہ کو اچھا لگ رہا تھا وہ سنگی بینچ پہ بیٹھی لوگوں کو دیکھ رہی تھی،جن میں مریض بھی تھے اور مریضوں کے ساتھ آئے ہوئے ان کے گھر والے بھی تھے،آسمان گاڑھا لاجوردی دِکھ رہا تھا،سرکاری سڑکوں کے کناروں پر لگے ہوئے سَرو کے لمبے درختوں پر چڑیاں پُھدکتی پھر رہی تھیں اچانک عابدہ کو اپنی ریڑھ کی ہڈی میں لہر اٹھتی محسوس ہو ئی،اس لہر نے اس کی جان نکال لی،ایسے لگ رہا تھا کہ کوئی چھُریوں سے اس کی ریڑھ کی ہڈی میں کَٹ لگا رہا ہے،پھر اچانک اس نے پیٹ پکڑ لیا،،او میرے خدا!مجھے یہ کیا ہو گیاہے،ایسا تو پہلے بھی ہوا تھا،وہ یہ سوچ ہی رہی تھی کہ اچانک بھائی شفقت کی نظر اس پر پڑی،وہ اس کے پیلے پڑتے چہرے کو دیکھ کے پریشان ہو گئے،وہ اس کی طرف بڑھے ہی تھے،کہ عابدہ نے کہا آپ اندر جائو پتہ کر کے آئو سب ٹھیک ہے نا،عابی اندر سب ٹھیک ہے ابھی تو ہم باہر آئے ہیں،تم ٹھیک نہیں لگ رہیں اس طرح کروشفقت میں کہہ رہی ہوں اندر جائو،عابدہ نے دہاڑ کر کہا۔
اتنے میں درد کولھوں سے نکل کر رانوں میں پھیل گیا،وہ زرد چہرے اور حیرت انگیز نظروں سے اپنی کانپتی ٹانگوں کو دیکھ رہی تھی۔ نہیں جو میں سوچ رہی ہوں وہ نہیں ہونا چاہیے،وہ بڑبڑا رہی تھی،شفقت نے اس کے سر پہ تھپکی دی تو وہ پھر بولی شفقت پلیز آپ اندر جائو ناں،دیکھو،ایک بار جا کے پھر آ جانا میں کچھ نہیں کہوں گی۔‘‘ وہ مِنت کر رہی تھی ،تھوڑی دیر بعد گھٹنوں اور پھر پنڈلیوں سے درد سرائیت کرتا گیا اور ساتھ ساتھ اس کا دل بھی تیز دھڑکنے لگا، ابھی دونوں میں بحث جاری تھی کہ اسے عثمان کا چہرہ نظر آیا وہ پریشان سا اِدھر اُدھر دیکھ رہا تھا۔
’’شفقت،شفقت ذرا عثمان کو بلانا۔‘‘شفقت عثمان کی طرف بڑھااتنے میں عثمان نے بھی ان دونوںکودیکھ لیا،عابدہ کو لگا جیسے درد ابھی ابھی ٹخنوں سے نکل گیا ہے،لیکن ٹانگیں بری طرح بے جان تھیں،اس سے رہا نہ گیا اور خود بھی چلتی ہوئی اس کی طرف بڑھنے لگی،عثمان عجیب سی نظروں سے اسے دیکھے جا رہا تھا۔
کیا ہوا عثمان؟بولتے کیوں نہیں،مجھے کوئی بُری خبر نہ سنانا۔
کہتے کہتے عابدہ کا گلا رندھ گیا اور عثمان نے لپک کر اسے گلے لگا لیا،وہ بِلک رہی تھی۔
’’عثمان وہ نہیں رہا ناں؟وہ چلا گیا ہے ناں؟شاید وہ بے یقینی کی کیفیت میںجھوٹے یقین کو شامل کر رہی تھی،کہ شاید عثمان اس کی بات کو جھٹلا دے۔
باجی وہ چلا گیا ہے ہم پھر برباد ہو گئے۔‘‘ عثمان نے کہا اور عابدہ کی دھاڑ نکل گئی۔وہی وقت پھر دہرایا گیا وہی لوگ وہی موت،وہی منظر،اور یہ سب پھر بکھر گئے۔اسکی ممتا کو دو بار تازیانہ لگ چکا تھا،وہ مجروح سی روح کے ساتھ جینے لگی،مون کو خبر نہیں تھی،وہ تو عید پر بھی گھر نہ آ سکا تھا،تو اب کیسے آتا،لیکن وہ عابدہ کا باذل ضرور تھا،جب بھی آتا اسے بیٹوں کی طرح ملتا،کبھی سر گود میں رکھ لیتا کبھی بھائی بن جاتا۔سارے رشتے اس سے تھے۔ میرے خاندان میں بیٹیوں سے محبت مثالی ہے،بڑی ہو یا چھوٹی،بیٹی لاڈلی ہوتی ہے، جس کی ایک مثال میں خود ہوں،ابا کی آنکھوں کا تارا بنی رہتی ہوں،میری شادی کے بعد ابا کی محبت میں اضافہ ہی ہوا ہے،وہ بہت جلد مجھ سے اداس ہو جاتے ہیں ،جبکہ مائیں ذرا strict ہوتی ہیں،کیونکہ وہ درسگاہ ہوتی ہیں۔ بالکل اسی طرح عابدہ کا حساب تھا،وہ میری طرح پہلوٹھی کی ہے لیکن لاڈلی بھی وہ ہی ہے ویسے بھی وہ اکلوتی ہے۔ اس کی جاب بھلوال میں تھی۔وہ سرکاری اسکول میں ٹیچر تھی لیکن ایک اور جگہ اس نے اپلائی کیا ہوا تھا، آج اس کا انٹرویو تھا،اس کے بعد اسے واہ کینٹ جانا تھا،پاپا اسے لینے آئے ہوئے تھے،فجر کی انتہائی صبح کیپٹن (مون )کی اسے کال آئی،باجی کدھر ہو؟میں بھلوال ہوں تم سنائو کدھر ہو؟
میں بہاولپور ہوں آج میری یونٹ ضربِ عضب کے لئے moveکر رہی ہے اس نے بتایا اور حال احوال پوچھ کر فون بند کر دیا،عابدہ نے نماز پڑھی اور اسکول کی تیاری کی،ادھر سے آ کر واہ جانے کی تیاری کرنے لگی،پاپا اور نوال بھی ریڈی تھے، یہ لوگ سکائی ویز کی گاڑی پہ بیٹھے اور موٹر وے پر آ گئے،ایک مصروف دن گزارنے کے بعد دماغ ذرا فری ہوا تو سوچا فون دیکھ لوں آن کیا تو یاد آیا آج مون نے موو کرنا تھا، اس کو میسج کیا،وہ بھی آن لائن تھا۔اکثر سب سے پہلے میسج ہوتا،کدھر ہو؟اس کا replyآیا میں موٹروے پر ہوں،مجھے تب یاد آیا کہ آج تو مون کی یونٹ نے موو کرنا تھا،میں نے پاپا کوبتایا،ساتھ ہی میسج ٹائپ کرنے لگی،کیا،موٹروے پر؟کہاں؟سالٹ رینج پر،جواب آیا تو میں بہت خوش ہوئی،پاپا کو بتایا کہ مون موٹروے پر ہے،اس سے مِلیں؟پاپا کہتے نہیں نہیں،ادھر کیسے ملنا ہے،رہنے دو،اللہ خیر سے پہنچائے، جب گھر آئے گا تب مل لیں گے۔ میں نے جھنجلا کر پاپا کو دیکھا،میسج کیا ہم بھی موٹروے پر ہیں،اس نے حیرت سے پوچھا۔
باجی تم موٹروے پر کیا کر رہی ہو؟میں نے طنز کیا۔
اے سی ٹائم چلانا شروع کر دیاہے،صحیح بتائو،اس کا جواب آیا تو میں نے لکھا،انٹرویو دیا ہے،کچھ دن فری تھی تو امی کے پاس ملنے جا رہی ہوں،پاپا لینے آئے ہیں اس کی کال آ گئی ایک تو تم اور تمہارے انٹرویوز،عثمان بھی یہ ہی کرتا رہتا ہے،یار کبھی میرے لیول پر بھی پہنچو نا،ساتھ ہی اس کی ہنسی کی آواز میرے کانوں میںپڑی،میں نے بُرا نہیں منایا،کیونکہ میں اس سے ملنے کا کہنے والی تھی،ورنہ اس نے منع کر دینا تھا۔
مون میرے ویراتنے میں بہت سی فوجی گاڑیاں ہماری گاڑی کے پاس سے گزریں ،میں نے بتایا کہ ہم بھی سالٹ رینج کے ایریا میں ہیں،مجھے بڑی حسرت ہے نا کہ میں اپنے ویر کووردی میں دیکھوں، تو تم مجھے ملو ناں۔‘‘ میں نے ڈرتے ڈرتے کہا۔ باجی کیا بچوں والی بات کرتی ہو،تمہاری گاڑی نہ جانے کہاں ہے ،رہنے دو جب گھر آئوں گا تو مل لینا،نہیں مُون مجھے ملو ،مجھے نہیں پتہ،میں ضد کرنے لگی۔‘‘ پاپا مجھے اشارے سے منع کرتے رہے لیکن میںکب منع ہونے والی تھی،میں بحث بھی کر رہی تھی اور کھڑکی سے باہر بھی جھانک رہی تھی،وہ منع کر رہا تھا،فوجی گاڑیاں گزریں تو میں نے حسرت سے دیکھا کہ شاید میرا بھائی بھی نظر آجائے،میں نے پوچھا تم صرف اتنا بتا دو کہ کیسی گاڑی میں ہو؟‘‘ اس نے کہا۔
’’گولڈن اور گرین کلر کی ڈبل ڈیکرہے، ایک گاڑی پاس سے گزری تو میں نے کہا اس طرح کی ایک گاڑی پاس سے گزر تو رہی ہے، پیچھے بہت سے آرمی کے جوان ہیں اور اگلی سیٹ پر ڈرائیور کے ساتھ ایک گھنے بالوں والا شاید کوئی افسر بیٹھا ہے،میں نے ساری نشانیاں بتائیں تو مون کا بھر پور قہقہہ بلند ہوا وہ کتنی دیرہنستا رہا،میں زچ ہو گئی۔
مون میں کچھ غلط کہہ گئی ہوں؟وہ بمشکل اپنی ہنسی روک کے کہنے لگا پاگل لڑکی!سارے فوجیوں کو دیکھا،گاڑی بھی دیکھی اور جو آفیسر بیٹھا ہوا ہے اسے نہیں پہچانا؟‘‘ ساتھ ہی پھر ہنسنے لگا۔
میں چیخی مونے وہ آفیسر تم ہو؟‘‘ اس خوشی سے میری ضد میں شدت آ گئی۔ مون اپنی گاڑی روک،میں نے ملنا ہے،مجھے نہیں پتہ۔‘‘ پھر نیم دِلی سے رضا مند ہوا۔
اچھا ملتے ہیں لیکن کیسے؟میں نے اپنی گاڑی کی ساری نشانیاںبتائیںاور کہا کہ تم کَٹ مار کے سامنے اپنی گاڑی کو سڑک کے درمیان آڑی کر کے کھڑی کرنا اور ہماری گاڑی رکے گی تو میں بھاگ کے تمھیںمل لوں گی۔
اچھا کچھ منٹ انتظار کرو اور ہاں میرے پا س زیادہ وقت نہیں ہے،بس ملوں گا اور چلا جائوں گا۔
میں نے بولا ٹھیک ہے ٹھیک ہے،ساتھ ہی جوش سے پاپا کو بتانے لگی،کہ تھوڑی دیر میں کیا ہونے والا ہے،پاپا سخت ناراض ہوئے کہ یہ تم اچھا نہیں کر رہی،میں نے اگنور کرتے ہوئے۔
او میرے سادہ سے پاپا جان!کچھ نہیں ہوتا وہ کونسا ہمیں روز روز ملتا ہے،آج آپکی بات نہیں ماننی۔ پاپا بے بسی سے چپ کر کے بیٹھ گئے،اتنے میں بالکل میری خواہش کے عین مطابق چمکتی ہوئی ڈبل ڈیکر آرمڈ گاڑی نے ہمیں اوور ٹیک کر کے کچھ آگے جا کے بریک لگائی اور سڑک کے درمیان گھوم کر آڑی کھڑی ہو گئی،فون آن تھا۔
ٹھیک ہے نا؟آواز آئی اور پاپا جو میری کب سے مخالفت کر رہے تھے سب سے پہلے اٹھے اور پھلانگتے ہوئے نیچے اتر گئے۔ڈرائیور سمیت سواریاں بھی پریشان ہو گئیںسر گوشیاں اونچی ہوئیں تو آرمی والوں کو دیکھ کے سب کے ہاتھوں کے طوطے اُڑگئے،میں نے یہ سب دیکھا اور اگنور کر کے تیزی سے نیچے اترنے لگی،نظریں فوجی گاڑی پر تھیںپاپا انکی گاڑی میں گردن کافی آگے جھکا کر مون کو ڈھونڈ رہے تھے،اتنے میں وہ گاڑی کی ونڈو کھول کر تیزی سے باہر نکلااور مجھے اشارے سے کہا اندر ہی رہو،لیکن میں نے تو اتنی ضد کی تھی میں کیسے رُکتی،نوال کو لے کے نیچے اتر آ ئی وہ پاپا کو ملا اور تیزی سے میری طرف بڑھا،میں دیکھ کر دم بخود رہ گئی،میرے اللہ !میرا ویروردی میں اتنا خوبصورت لگتا ہے؟ میں نے نظروں ہی نظروں داد دی اور نظر اتاری وہ چیتے کی طرح لمبے لمبے ڈگ بھرتا میری طرف بڑ ھا نوال بے اختیار توتلی زبان میں بولی۔
جنرل شاب مون نے اسکی یہ بات سنی تو اسے اپنے لمبے اور مضبوط بازوئوں میں اٹھا کر سینے سے لگا کر بولا۔
اوئے غور سے دیکھ میں جنرل شاب ہوں؟پھر اسے کندھوں سے پکڑ کر جھنجوڑنے لگا ،چل ناں لاڈیاں کریں،پھر ایک دم نوال بولی۔ ’’مون ماموں؟وہ ہنس پڑا اور مجھے بھی ساتھ لگا کے سر پہ پیار کیا۔ مُونے یونیفارم میں تجھے دیکھنے کی بہت خواہش تھی،آج پوری ہو گئی ہے،سچ تجھ پہ وردی بہت سجتی ہے، اللہ پاک تیری عزت بنائے رکھے،میری بات کا جواب نہیں دیا اور حال احوال پوچھنے لگا،،پاپا کے ساتھ کچھ دیر گفتگو کی پھر کچھ یاد آیا تو میری طرف گھوما تجھے باجی کہا تھا ناں کہ اندر چلو،میں گاڑی کے اندر آ کر ملوں گا،میں نہیں چاہتا کہ آرمی والوں کے سامنے اپنی فیملی سے ملوں،میں ایک ذمہ دار آفیسر ہوں،میں نے اگنور کرتے ہوئے کہا۔
او ہو،چھوڑو ناں،ایسے مل کر کتنا انجوائے کیا ہے،ساتھ ہی اس نے کلائی پہ بندھی گھڑی دیکھی اور بولا۔ بس ،اب میں چلوں؟تمھاری خواہش تو پوری ہو گئی ناں،اب مجھے نہ روکنا،اتنا ہی ٹائم تھا میرے پاس۔‘‘میں نے بے دلی سے کہا۔
ٹھیک ہے جائو،اور ہاں بہت شکریہ،میری بات ماننے کا، ہنس پڑا اور اسی چیتے جیسی تیزی سے چھلانگیں لگاتا چمکتی ڈبل ڈیکر کی فرنٹ سیٹ پہ جا بیٹھا تب میں نے غور کیا کہ غیر محسوس انداز میں سکیورٹی نے ہتھیاروں کا رُخ ہماری جانب کر رکھا تھا،بعد میں پاپا نے بتایا کہ جب وہ نیچے اتراتھا تو سیکورٹی نے ہتھیار تانے تو مون نے اشارہ کیا تھا کہ نیچے ہی رکھیں،لیکن پھر بھی انکا رُخ غیر محسوس انداز میں ہماری طرف ہی تھا،اب وہ اجنبی سا لگ رہا تھا،سپاٹ اور کسی بھی جذبے سے عاری میں اور پاپا اسکائی ویزمیں داخل ہوئے تو ڈرائیور اونچی آواز میں بڑبڑا رہا تھا،پاپا اور میں کوئی جواب دئے بغیر اپنی سیٹ پہ جا بیٹھے۔ اتنے میں مون کی گاڑی سیدھی ہو کر آگے بڑھنے لگی۔
ہمارے ڈرائیور نے اسپیڈ بڑھائی اور مون کے پاس سے گاڑی زن سے اڑ کے آگے چلی گئی میں کتنی دیر اس کی گاڑی کو دیکھتی رہی۔ بات صرف یہاں ہی ختم نہیں ہوئی پاپا اور میں سرشار سے گھر پہنچے اطلاع تو فون پر پہلے ہی دے دی تھی پھر بھی گھر پہنچتے ہی میں نے شور مچانا شروع کر دیا۔
امی امی دیکھیں ہم مون سے مل کر آئے ہیں عثمان میں تم سے ذیادہ لکی ہوں،میں نے اپنے بھائی کو وردی۔ میں دیکھا ہے،میںنے اسے موٹروے پہ روکا تھا،پاپا بتائیں نا انکو،وہ ابھی پانی پی رہے تھے اور میں شروع ہوئی تو رکنے کا نام نہ لوں،امی آپکو کیا بتائوں قسم سے اتناخوبصورت لگ رہا تھا،مجھے ڈر ہے کہ نظر ہی نہ لگ جائے اسے،جہاں mile stoneلگا ہے ناں چکری 35کلو میٹر،ادھر ملے تھے ،اب جب بھی وہاں سے گزرا کروں گی مجھے مون کے ساتھ کی گئی ملاقات یاد آئے گی اور فخر ہوا کرے گا اور میں۔ عثمان نے موبائل میری آنکھوں کے سامنے لہرایا،میں نے پوچھا۔
کیا ہے؟مسکرا کر کہتا کچھ دیر میں واہ کینٹ کے پاس سے گزرنے والا ہے اور ہم بھی ملنے والے ہیں ،میں نے حیران ہو کر پہلے امی کو پھر عثمان کو دیکھا،ہیں سچی؟امی آپ بتائیں پورا۔‘‘ وہ بولنے لگیں تو عثمان نے بتایا مون نے کال کیا ہے،کہ کچھ ٹائم تک ادھر سے گزرے گا،صرف پانچ منٹ کا وقت ہوگا،امی کو مجھ سے مِلوا دواپنی گاڑی تو ورکشاپ ہے اب اس کے دوست کی گاڑی ہائر کرتے ہیں اور نکل جاتے ہیں میں بہت خوش ہوئی مون اچانک سے ہمیں خوشیاں دے رہا تھاعثمان گاڑی کا ارینج کرنے چلا گیا کیونکہ پتا نہیں ملاقات کس جگہ متوقع تھی دیر سویر ہو سکتی تھی،امی بھی تیار ہونے لگیں عثمان اور عاصم بھی اسٹاپ پر تھے پاپا امی کو اسٹاپ پر ہی لے گئے کیونکہ مون نے کہاتھا کہ صرف پانچ منٹ ہی ملیں گے جیسے ہی چھٹا منٹ لگے گا میں نکل جائوں گامیں اور نوال ٹی وی دیکھنے لگے کھانا امی نے بنا دیا تھا پاپا مسجد چلے گئے۔ میرا رابطہ مسلسل عثمان سے رہا مون بھی عثمان سے conectتھا،یہ لوگ کچھ دیر میں ملنے والے تھے میرا ایک ایک پل مشکل سے گزر رہا تھا میں چاہتی تھی کہ وہ لوگ جلدی سے مون سے مل کے آئیں پھر ہم سب اکھٹے ہو کے اپنی اپنی باتیں شئیر کریں،مجھے دونوں پارٹیاں اب میسج کا جواب نہیں دے رہی تھیں تھوڑی دیر تک پاپا بھی مسجد سے آگئے کھانے کا پوچھا تو منع کر دیا کہ وہ لوگ آ لیں پھر مل کر کھائیں گے،ساتھ والے کوارٹر سے آنٹی آئی امی سے ملنے،میں نے ساری بات بتائی وہ بھی بہت خوش ہوئیں مون ویسے بھی اپنے پرائوں کا چہیتا تھا ،یہاں سب جاب کے سلسلے میں رہتے ہیں کوئی کہاں سے ہے کوئی کہاں سے،چونکہ واہ کینٹ ایک اسلحہ ڈپو سینٹر ہے اس لئے یہاں فیکٹری کے ورکرز فیملی سمیت رہتے ہیں ،سو تعلیمی ادارے بھی اچھے سٹیبلش ہیں،انھی تعلیمی اداروں میں سے ایک میں میرے پاپا کی جاب ہے اس لیے ہم بھی عرصہ دراز سے یہاں مقیم ہیں رشتہ دار،برادری بھی یہ ہی لوگ ہیں،جو کہ وقت کے ساتھ ساتھ ثابت ہوتا گیا۔ میرے فون پہ میسج ٹون بجی تو میںخیالات کی دنیا سے باہر آ گئی،دیکھا تو عثمان کا میسج تھا،وہ لوگ بئیریر پہ پہنچ چکے تھے اور تقریباً 5,7منٹ میں گھر پہنچنے والے تھے،میں نے جلدی سے کھانا ارینج کیاکیونکہ ٹائم کافی ہو چکا تھا اور انھیں بھی بھوک لگ رہی ہو گی میرے اندازے کے مطابق وہ لوگ اسی وقت پرپہنچے میں توبے صبروں کی طرح سوال کروں امی کیسے ملا وہ؟عثمان پہلے تم پہنچے کہ مون؟امی نے پانی پیا اور کہنے لگیں عابدہ ہم یہاں سے نکلے تو میں نے عاصم سے کہا بیٹا گاڑی تیز بھگائو کہیں ہم لیٹ نا ہو جائیں وہ ہمارا اتنا ہی انتظار کرے گا جتنا اس نے کہہ دیا ہے اس کے بعد وہ نکل جائے گا،اللہ بھلاکرے اس بچے کاگاڑی بہت تیز لے کر گیا تھا،عثمان کا رابطہ تھا مون سے،جب ہم ٹیکسلا کے نزدیک پہنچے تو مون کی گاڑی پورے طمطراق سے سڑک پر پہلے سے موجود تھی۔ہماری گاڑی نزدیک پہنچی تو اس نے فون پہ عثمان سے کہا گاڑی ادھر ہی روک دو،اور امی کو باہر نہ نکلنے دینا میں خود آرہا ہوںملنے،میں نہیں چاہتا کہ میری ماں کے چہرے سے آرمی والے متعارف ہوںعثمان نیچے اترا اور مجھے بیٹھے رہنے کا کہامیری نظریں مون کی گاڑی پہ تھیں،وہ چھلانگ لگا کر نیچے اترا اور تیزی سے ہماری طرف آیا اپنے شیر کو دیکھ کر میں تو ہر بات بھول گئی،نیچے آئی تو عثمان مجھے تنبیہی نظروں سے دیکھ رہا تھامیں نے کہا اسے کہہ دو کہ ماں اپنے کیپٹن بیٹے کا خود نیچے اتر کر استقبال کرنا چاہتی ہے کیونکہ وہ اس عزت احترام کے لائق ہے اتنے میں مون ہمارے پاس آگیا،میں نے اس کا ماتھا چوما اور سینے سے لگا لیا،اس نے جھک کر میرے پائوں چھوئے اور بولا امی آپ کیوں باہر آئی ہیں؟آپ میری ماں ہیں میں آپ کے باہر آنے کو مناسب نہیں سمجھتا، میں نے کہا میرے بیٹے میں تمھارے لئے نہیں ایک آرمی آفیسر کے احترام کے لئے باہر آئی ہوں،تا کہ تجھے دادِ شجاعت دے سکوںوہ حال احوال پوچھتا جاتا اور رسٹ واچ پر نظر ڈالتاجاتا،میرا شیر وردی میں اتنا پیارا لگ رہا تھا،یہ چوڑے شانے،ان پہ سجے ہوئے پھول،لمبا تڑنگا قد کاٹھ،بارعب چہرہ،میرا مون بائیس،تئیس برس کا نوجوان نہیں بلکہ اٹھائیس یا تیس برس کا میچور آفیسر لگ رہا تھا جو عام حالات میں بھی یوں چوکنا تھا گویا دشمن پر جھپٹنے کو تیار،میری کیپٹن عمر کے چہرے سے نظر ہی نہیں ہٹتی تھی اور عابدہ جیسے تم نے بتایا تھا کہ سیکیورٹی والے الرٹ کھڑے تھے، بالکل اب بھی ایسا ہی تھا،عثمان سے ،عاصم سے باتیں کرتا رہا اور پھر جیسے ہی گھڑی میں چھٹا منٹ شروع ہوا مون نے کہا امی اب اجازت دیں،میرا دل تو بھر ہی نہیں رہا تھا،لیکن یہ بھی پتہ تھا کہ وہ نہیں رکے گامیں نے بہت سا پیار اپنے بیٹے کو کیا،بہت سی دعائیں دیں اور وہ بڑے بڑے قدم اٹھاتا اپنی چمکتی ہوئی فوجی گاڑی کی طرف لوٹ گیا،تھوڑی دیر بعد عاصم کا فون بجا،وہ پشتو میں بات کر رہا تھا،(پٹھان ہے)میں نے پوچھا بیٹا کس کا فون تھا؟کہا آنٹی مون کی کال ہے کہہ رہا ہے امی کو جلدی اندر بٹھائو اور گاڑی زن سے لے کر نکل جائو،ہم تمھارے بعد موو کریں گے،اتنے میں،میں سیٹ پہ بیٹھ چکی تھی مون نے شائد اسلئے پشتو میں بات کی تھی کہ امی مائنڈ نہ کر جائیں لیکن میں نے کہا کہ بیٹا میں ماں ہوں اور مون جتنا بھی بڑا افسر بن جائے وہ بیٹا تو میرا ہے،میں بطور ماں حکم دیتی ہوں کہ گاڑی آہستہ چلائو،تا کہ میں اپنے مون کو دیر تک دیکھ سکوں،عاصم نے بے بسی سے عثمان کی طرف دیکھا تو عثمان نے بھی یہ ہی کہا کہ یار ذرا آہستہ ہی رکھو ۔مون کی گاڑی ابھی ادھر ہی کھڑی تھی عاصم نے گاڑی بڑھائی اور آہستہ آہستہ ہم مون کے بالکل پاس سے گزرے وہ فرنٹ پر بیٹھا بظاہر موبائل پر مصروف نظر آرہا تھا لیکن ہماری گاڑی اس کے پہلو سے گزری تو موبائل سے نظریں ہٹائے بغیر ہاتھ ہلکا سا اٹھا کر الوداعی طور پر ہلا دیا اور پھر ہماری گاڑی اس سے آگے بڑھ گئی،جب ہم سڑک پر رواں ہوئے تو اس کی گاڑی بھی حرکت میں آگئی اور پھر اس طرح وہ وادیٔ تِیرہ کا مسافر اپنی منزل کی گَردِ پا ڈھونڈنے نکل کھڑا ہوا۔
2014میں گڑیا کی شادی آگئی،بڑے عرصے بعد خاندان میں کوئی فنکشن آیا تھا شاید بھائی احتشام اور میری شادی کے بعد کوئی فنکشن تھا،امی لوگوں کو اور مجھے بھی انوائیٹ کیا انھوں نے،ہم سب تیاریوں میںلگے ہوئے تھے،امی ابو نے کسی وجہ سے نہیں جانا تھا اس لیے مجھے اور عالم(ہزبینڈ)کو کہا کہ نشاط لوگوں کو بھی ادھر سے لیتے جانا،ماموں کی فیملی بھی ہمراہ تھی،مقررہ دن ہم لاہور پہنچ گئے،سب کو ملے اور ایک بات جس کا مجھے شدت سے سامنا کرنا پڑا وہ یہ کہ کوئی مجھے پہچان ہی نہیں رہا تھا کافی سالوںبعد سب سے ملاقات ہو رہی تھی جو دیکھتا ایک بار تو 1000وولٹ کا جھٹکا کھاتا،میں تو صحیح معنوں میں خوفزدہ ہو گئی کہ یا اللہ واقعی میری ہیٔت بدل گئی ہے یا ان لوگوں کی آنکھوں میں فرق آگیا ہے میں شادی کے بعد بہت موٹی ہو گئی تھی جس کا اب شدت سے احساس ہو رہا تھا،بھائی عدنان نے تو حدکر دی کمرے میں آئے تو میرے آگے جھک کر کہتے اسلام و علیکم چاچی جی! میں نے غور سے دیکھا۔
جی؟ سب ہنسنے لگے بلاول نے آواز لگائی یہ چاچی نہیں بھلوال والی باجی شبیہہ ہے۔
تو چپ کر اوئے نقلی محمد
یوسف !(بلاول بہترین کرکٹر ہے اور داڑھی محمد یوسف جیسی ہے)میں نے اسے لتاڑا،عدنان بھائی مجھے گھور گھور کر دیکھتے رہے میں نے بھی ڈھیٹوں کی طرح دندیاں نکالنی شروع کر دیں،عثمان آئے وہ کوئی پھلجھڑی چھوڑ جائے بلاول آئے وہ کوئی طنز کرجائے،میرے بھی کرارے جواب سن کر ہنستے سب،میں نے عثمان سے مون کے بارے میں پوچھااس نے بتایا کہ بھائی فرحان کے ساتھ مارکیٹ سے سامان لینے گیا ہے،محفل گرم تھی میں سب کے ساتھ گپ لگانے میں مشغول تھی کہ مون اندر داخل ہوا،ادھر ادھر دیکھ کے کہتا مجھے باہر باجی شبیہہ کی آواز آئی تھی،کیا وہ آئی ہوئی ہیں؟ہنستے ہنستے سب لوٹ پوٹ ہو گئے،ابھی یہ ڈرامہ رہتا تھا۔
’’اوئے نمونے!یہ سامنے کون بیٹھا ہے؟‘‘ باجی شبیہہ نہیں تو کیا ان کی روح ہے؟نوشی نے اس کے سر پہ چپت لگا کے میری طرف متوجہ کیا،اور میں سلام دعا کی بجائے اسے گھورنے لگی،مجھے لگتا تھا کہ وہ پہچان لے گا پر وہ دیدے پھیلائے ہوئے میری طرف سلام لینے کے لیئے بڑھا۔
ساتھ ہی میں نے دو تین چپیڑیں لگائیں۔
ائوے مجھے نہیں پہچانتے اب؟
آپ باجی شبیہہ ہی ہیں؟میں نے کہا۔
تم مجھے تو پہچان نہیں پا رہے دشمن کو کیسے پہچانتے ہو؟اسے ابھی تک یقین نہیں آرہا تھا کہ میں ہی شبیہہ ہوں،حیرت کے ساتھ ساتھ اسے ہنسی بھی آرہی تھی۔
سچ باجی آپ بہت موٹی ہو گئی ہیںمیں نے منہ بنا کے کہا اب جب پتلی ہو جائوں گی تبھی تم لوگوں کے متھے لگوں گی۔خود بڑے اسمارٹ ہو؟ اچھے خاصے موٹے ہو گئے ہو،میں نے کیپٹن کے چوڑے شانے پہ دھپ مارتے ہوئے کہا،سب نے ہنستے ہوئے میری بات کی تائید کی کیونکہ ماشااللہ مون بھی آفیسر بن کے خاصا صحت مند ہو گیا تھا،کھانا کھایا اور اس کے ساتھ ہی عالم کا تعارف بھی سب سے ہو گیا فرینک نیس ہوئی تو عالم کی مون سمیت سب سے دوستی ہو گئی شام کو سب تیاریوں میں لگ گئے گڑیا بھی پارلر سے آگئی۔اس کے ہاتھوں پر مہندی بہت خوبصورت لگی ہوئی تھی،رات بھیگی تو رش بھی ہونے لگا،گھر اچھا تھا پورشن بھی کافی تھے ہم نے بھی ایک جگہ قبضہ کیا اور تیار ہونا شروع کر دیا،دل میں ٹھان لی کہ موٹاپے کی وجہ سے سب حیران ہوئے ہیں تو آج تیار اتنا زبردست ہونا ہے کہ لوگ حیران ہو جائیں کہ موٹی لڑکیاں بھی اتنی خوبصورت لگ سکتی ہیں؟میرا الجی گرین کلر کا فراک تھاجو کہ مہندی کے فنکشن کی مناسبت سے بالکل ٹھیک تھا، شاید وسط اپریل کے دن تھے اور گرمی سی تھی سبھی باہر دالان میں تیارہو رہے تھے ہم،لڑکے حسبِ عادت کوئی نہ کوئی کمنٹ پاس کرنے میں لگے ہوئے تھے اور میں بھی کوئی جملہ ضائع کرنا گناہ سمجھتے ہوئے چوٹ پر چوٹ لگا رہی تھی اور اپنی تیاری بھی کر رہی تھی،میں نے بمشکل وقت نکال کر سب کو دیکھا اُف سب کو ہی اپنی پڑی ہوئی تھی اور مجھے مجھے تو خیر اپنی ہی فکر تھی،فائنل ٹچ دے کر میں نے تنقیدی نظروں سے خود کو دیکھا اور دل میں خود کو شاباش دی۔
عالم نے آف وائیٹ کامدار کرتہ شلوار زیب تن کیااور ہم اوپر آگئے جہاں فنکشن عروج پہ تھا،مطلوبہ جگہ جا کے بیٹھے تو سب گھوم گھوم کے دیکھنے لگے ،میںشرمندگی محسوس کرنے لگی کہ کہیں میں اوور تو نہیں لگ رہی؟عالم ادھر مردوں کی سائیڈ پہ چلے گئے،چھت پر موسم خوشگوار تھا۔
مہندی کافنکشن خیریت سے گزرا اور سب صبح ریلیکس، کیونکہ بارات ادھر لاہور سے ہی آنی تھی،ہماری فیملی صبح صبح گھر سے ملحقہ پارک میں چلی گئی واک کر کے آئے تو ناشتہ تیارتھا، ناشتے کے بعد پھر وہ ہی رات کی طرح تیاری کی پڑ گئی،فاطمہ نے ہم سب کو تیار کیا اورنوشی لوگوں کے ساتھ پارلرچلی گئی،کیونکہ اس نے بھی تیار ہونا تھا،کچھ دیر تک احتشام کا فون آیا وہ بھی لاہور آیا ہوا تھا کام کے سلسلے میں،علی کے لئے کچھ پیسے تھے اس کے پاس اس نے شاپنگ کے لئے منگوائے تھے،لیکن سبھی مصروف تھے اور جعفریہ کالونی کی لوکیشن کا اسے پتہ نہیں تھا خیرایک کزن دستیاب ہو ہی گیااسے ساتھ بھگایا کہ ادھر سے ہی جا کے شاپنگ بھی کر آئیں احتشام کا دل تھا کہ فارغ ہو کے شادی میں شریک ہو جاتا لیکن اس کے پاس وقت نہیں تھا۔۔۔۔نہ جانے ہمارے پاس وقت کیوں نہیں ہوتا،ہم کہاں اتنے مصروف ہوتے ہیں،ایک دوسرے کے لئے وقت ہی نہیں ہوتا،سچ ہے کہ ہم وقت کی قدر کرنے پر آئیں تو اپنوں کی قدر کرنا ہی بھول جاتے ہیں،میرے اپنے ساتھ بھی تو یہ ہی مسئلہ ہے،میں خود بھی تو ٹھیک ہولوں پہلے،۔۔۔اپنی بے وقت سوچوں کو جھٹک کر میں نے تیاری مکمل کی اور ہوٹل آگئے ہم لوگوں کی آج شام تک واپسی متوقع تھی کیونکہ عالم کے پاس ؛وقت؛ نہیں تھا، اس لئے تھری پیس آج ہی پہن لیا،باقی لڑکوں نے کُرتے وغیرہ پہنے تھے۔ لیکن مون اور عالم نے پینٹ سوٹ پہنا تھا کیونکہ پتا چلا تھا کہ وہ بھی آج نکل جائے گا،فنکشن بہت اچھا ہوا تھا،بہت انجوائے کیا،واپسی پیدل آ رہے تھے کیونکہ گھر سے شادی ہال پانچ منٹ کی مسافت پر تھاکہ میں گِر پڑی۔اُفف۔۔۔جان نکل گئی کیونکہ بائیں پائوں کی چھوٹی انگلی مڑ گئی تھی،اس گرنے کا کارن اونچی ہیل تھی،اللہ معاف کرے درد برداشت کرتے کرتے میری آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے،عالم نے فوراً سہارا دے کر اٹھایا اور نشاط اور فاطمہ کے ساتھ بمشکل چل کے میں گھر آئی آتے ہی لان میں بنچ پر بیٹھ گئی،عالم کو دکھایا تو انگلی کی سائیڈ سے ہڈی نکل آئی تھی اور ہاتھ تک نہیں لگانے ہو رہا تھاعالم نے ڈانٹ کے مجھے زبردستی پائوں چیک کیا اتنے میں بیرونی گیٹ سے مون اندر داخل ہوا،دیکھ کے مذاقاً کہتا یہ کیا ہو رہا ہے؟
عالم نے بھی مذاق میں کہا جنت کی تلاش، اس کا قہقہہ بلند ہوا اور بولا ،یہ میری باجی ہیں اگر باجی نہ ہوتیں تو میں آپ کو لاجواب کرتا۔‘‘ اسی طرح ہنسی مذاق میں وقت بیتا اور اگلے دن صبح صبح سب ولیمے کی تیاری کرنے لگے لیکن مون ہم سب سے مل کے رخصت ہو گیا بہت عام سی رخصتی تھی اس کی، دل تو تھا کہ سب کے ساتھ مکمل شادی انجوائے کرتا لیکن اسے ڈیوٹی پہ پہنچنا تھا،ڈھونڈ ڈھونڈ کے سب کو مل رہا تھا،کچھ سوئے ہوئے تھے ان کو جگا کے ملا،مجھے بھی ملا ،ہمارے درمیان کوئی خاص بات چیت نہیں ہوئی،بس ان دو دنوں میں ہنسی مذاق ہی چلتارہاتھا اور یہ میری مون کے ساتھ محض رسمی سی ملاقات تھی ،مجھے نہیں پتہ تھا کہ اگلی صبح اس سے میری ملاقات بہت خاص ہو گی،سچ ہے کہ خدا بہتر جانتا ہے ہر معاملے کو اس کے جانے کے کچھ دیر بعد ہی ہم بھی نکل آئے،ہاں نکلنے سے پہلے ان سب نے مجھے روک لیا،کچھ کدورتیں تھیں پنڈ دادنخان والوں اور ہمارے درمیان،وہ دور کی گئیں اور کچھ معافی تلافی کا دَور چلا،کچھ باتیں جو میں نے خیر سگالی کے طور پہ کیںجو میرے والدین کی طرف سے تھیں اور اس کے بعدسب شیرو شکر ہو گئے،رخصت لے کر ہم بی بی پاک دامن آئے سلام کیا اور اپنے اپنے گھروں کو لوٹ گئے۔
دہشت گردی کے واقعات اوپر تلے ہو رہے تھے ،کیانی صاحب فارغ ہو چکے تھے اور ان کی جگہ جنرل راحیل شریف صاحب نے ذمہ داری اٹھا لی تھی،نیا تازیانہ جو ملک پاکستان کو لگا وہ یہ کہ پشاور میں معصوم بچوں کے اسکول پہ حملہ کیا گیا جس میںتقریباً 132پھول کملا دئیے گئے ساری قوم تڑپ اٹھی ہر کوئی غم میں ڈوبا ہوا تھا جی کرتا تھا کبھی وہ لوگ مل جائیں جو معصوم بچوں پر ظلم کرنے کی سوچ بھی رکھتے ہیںہم ان کی بوٹی بوٹی کر کے کتوں کے آگے ڈال دیں تب بھی من کی پیاس نہیں بجھے گی،لیکن جذبات کی بجائے احتیاط کی ضرورت تھی اور ہمارے فوجی جوانوں کو اس بات کا بہت اچھی طرح احساس تھا،جنرل صاحب پوری طرح حکمت عملی اپنائے ہوئے آگے بڑھے، ۔نئی طرز پر طالبان سے نپٹنے کی پلاننگ کی گئی جس کے لئے مون نے بھی بہاولپور سے وادیٔ تیِرہ کی طرف سفر باندھا تھا،اکثرسننے میں آتا کہ فرنٹ پر لڑتا ہے،سب اسے خیال رکھنے کا کہتے لیکن وہ تو گویا موت کو گھر کی باندی بنا کر اس کی گود میں جھولے جھولتا تھا،نہ کوئی ڈر ،نہ خطرہ اور نہ احتیاط مارچ کے آخری دن تھے، ایک دن اطلاع ملی کہ دشمن تیرہ کی ایک اونچی پہاڑی پہ ڈیرا جمائے ہوئے ہے،چونکہ مِشن ہی ملک دشمنوں کو نہ چھوڑنے کا تھا اس لیے آرڈر تھا کہ اس پہاڑ کو ٹارگٹ کرنا ہے اور جیسے بھی ہو دشمن کے پائوں اکھاڑنے ہیں،وطن کے بیٹے وطن کو ناسور سے پاک کرنے کی غرض سے چل پڑے،سلام ہے پاک فوج کے سپاہیوں کو اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھ کے آگے بڑھتے گئے اور دشمن سے اپنے علاقے خالی کراتے گئے،آج جوانوں کے حوصلے 65 ء کی جنگ کی طرح جوان تھے، جس کا اندازہ کیپٹن عمر کے جذبے سے ہوتا،اکثر امی کو کہتا کہ امی میرے لئے دعا کیا کریں کہ میں شہید ہو جائوں،اسے دراصل شہادت کا بہت شوق تھا،لیکن جب تک اللہ پاک کی مرضی نہ ہومناجات بھی کیسے قبول ہو،جبھی تو بِنا موت کے ڈر سے محاذ پر فرنٹ لائین پر لڑتا، اسے ہمیشہ اول نمبر پر رہنا پسند تھا،اس سے نیچے آنا تو گویا اس کی توہین تھی جوان بہت احتیاط سے آگے بڑھ رہے تھے،ان کے لئے ایک مسئلہ تھا کہ یہ کھلے میدان میں تھے اور دشمن چھپ کے بآسانی ان کو ہِٹ کر رہا تھا، رات کے گمبھیر اندھیرے میںملک کے اس کونے میں مائوں کے شیر دبے پائوں آگے بڑھ رہے تھے جہاں دن رات موت کا رقص ہوتا ،گولیوں کا مینہ برستا،یہ درست ہے کہ ان جوانوں کو حکومت کی سپورٹ تھی اور کسی حد تک جدید اسلحہ بھی اس جہاد میں مددگار تھالیکن کیا گھر سے دور ،خاندان سے دور،کالج، یونیورسٹی میں پڑھنے کی عمر میں ،سردیوں میں گھر کے نرم بستر چھوڑ کر اس طرح وادیٔ تیِرہ میںبندوق اٹھا کر دشمن کے سامنے سینہ تان کرکھڑا ہونا کوئی عام سی بات ہے؟اس عمر میں تو نوخیز لڑکے ابھی خواب دیکھنا ہی شروع کرتے ہیںکوئی دل کی ملکہ بنانے کی چاہ کرتے ہیں محض عام طور پر بیس بائیس سال کی عمر میں لڑکے ابھی باپ کی ڈانٹ سن کر بے بسی سے ماںکی طرف دیکھتے ہیں لیکن سلام ہے ضربِ عضب کے شیر جوانوں پرکہ جو جذبۂ ایمانی سے بھرے ہوئے تھے اور جنھیں ایک ہی چاہ تھی کہ اپنے وطن کو دہشت گردوں سے آزاد کرانا ہے،جن کا کوئی مذہب نہیں ہوتا،نہ جانے یہ اتنا جِگرا کیسے کر لیتے ہیں؟میں اکثر مون سے پوچھا کرتی کہ گھر اور ماں باپ سے کیسے دُور رہ لیتے ہو اور ایک بار اس نے میری بات کے جواب میںاپنی ڈائری کا ایک صفحہ مجھے Send کیا جسے آج بھی پڑھ کر میں رو پڑتی ہوں۔
تم یہ کیسے کر لیتے ہو
جب تمھاری عمر کے بچے آپس میں کھیلتے ہیں
تم موت سے لڑتے رہتے ہو
جب مائوں کے ہاتھ کی گرمی سے
جاڑے میں دھوپ نکلتی ہے
تم برف کی پوشاکیں پہنے
سردی سے لڑتے رہتے ہو
جب رات کو سب اپنے گھر
نیند کے گھر سجاتے ہیں
تم کس کی خاطر جاگتے ہو
جب بچے اپنے باپ کے
سینے سے لگ کے سو جائیں
تم اپنے بٹوے میں اپنے
بچوں کی تصویر دیکھتے ہو
جب بہنیں عیدوں پر
بھائیوں کی نظر اتارتی ہیں
تم صحرائوں کی جلتی ریت پر
ان کی چٹھی پڑھتے رہتے ہو
جب لختِ جگر کی دوری سے
مائوں کی آنکھ سمندر ہو
تم دشت میں بیٹھے سرحد کی نگرانی کرتے رہتے ہو
جب تند ہوائیں چلتی ہیں
اور ہر امید کی کھڑکی پر
مایوسی جالے بُنتی ہو
ویسی تند ہوائوں میں
تم امید بنتے جاتے ہو
تم یہ کیسے کر لیتے ہو
پوری قوم کے سارے غم
تم اپنے کیسے کر لیتے ہو
مشکل اور ہر آفت میں
تم اس مٹی پر مرتے ہو
تم یہ کیسے کر لیتے ہو…؟
میں جب سرحد پر آتا ہوں
ہر اک ماں کے اٹھتے ہاتھ
بہنوں کی امید کے دھارے
بچوں کی معصوم ادائوں کی
تصویر،میری آس بڑھا جاتی ہے
میں یہ ایسے کر لیتا ہوں
میں یہ ایسے کر لیتا ہوں
وہی جذبٔہ جہاد آج بھی ان جوانوں کو جنوبی وزیرستان کے ٹھٹھرتے ویران پتھریلے میدانوں میں مطلوبہ ٹارگٹ تک پہنچنے کے لئے مجبور کر رہا تھاپنجاب میں تو موسم خوشگوار تھا لیکن تِیرہ ویلی میں خنکی تھی اماوس کی راتیں تھیں،اور اس فوجی قافلے کے لئے بہتر تھیںکیپٹن عمر کے ساتھ چند ایک اور آفیسرز بھی تھے،تقریباًیہ لوگ دوسو بھی نہیں تھے،اچانک اوپر سے فائر ہوا،یہ لوگ وہیں رک گئے۔ یہ کُھلے میں تھے اور فائر نزدیک سے ہوا تھا مون کو لگا کہ کوئی ہمارے پاس سے ہمیں ٹارگٹ کر رہا ہے نگاہ لگا کے چیتے کی طرح دیکھ رہا تھا لیکن کچھ سجھائی نہیں دے رہا تھا،پہلی بار میں ہی مون کے کافی ساتھی زخمی ہو گئے تھے،اچانک دوبارہ فائر ہوا اور کیپٹن کو سمجھ آگئی ،سامنے موجود درخت میں سے گولیوں کی بوچھاڑ نکل رہی تھی،اس نے دو تین لوگوں کی مدد سے چیتے کی طرح چھلانگ لگائی اور گولی کی تیزی سے درخت پہ جا پہنچا ،اوپر شاخوں میں ایک آدمی پتے اوڑھے ہوئے فائرنگ کر رہا تھا،بالوں سے گھسیٹ کراسے نیچے لا پھینکا،وہ معذور تھا،کیپٹن لاتوں اور مکوں کی بارش کرتے ہوئے پوچھ رہا تھاکون ہو تم اور باقی ساتھی کہاں ہیں؟اسے ایسے لگ رہا تھا جیسے مار کا اثر ہی نہیں ہو رہا،مون کو تو اس کی بے اعتنائی نے طیش زدہ کر دیا،اس نے منہ پر لگاتار تھپڑمارے تو اچانک جیسے اسے زبان لگ گئی،وہ کہنے لگا میں طالبان کے لئے کام کرتا ہوں وہ مجھے انجکشن لگاتے ہیں جس کے بعدمجھے آرڈر کیا جاتا ہے اور پھر جو بھی سامنے آئے میرا دل کرتا ہے میں اسے مارتا جائوں گو کہ وہ مقامی زبان میں بتا رہا تھا لیکن مون کو پشتو بہت اچھی طرح آتی تھی اس لیے اسے کوئی مشکل درپیش نہ ہوئی اس نے ساتھی کیپٹن سے مشورہ کیاکہ اس لنگڑے دہشت گرد کا کیا کیِا جائے، باہمی مشورے کے بعداسے وہیں واصلِ جہنم کر دیا گیا کیونکہ وقت کم تھا اور اس کو ساتھ ساتھ اٹھا ئے پھرنا ممکن نہ تھا ۔ جبکہ اس کی یہاں موجودگی اوراس دیدہ دلیری سے فائرنگ کرنے سے اندازہ تھا کہ یہ لوگ اوپر پہاڑوں پر کافی تعداد میں موجود ہیں بلکہ انھیں خبر بھی تھی کہ پاک فوج ان کی طرف پیش قدمی کر رہی ہے ، سردی،دھند،اندھیرے کے باعث پاک فوج کو شدید مشکل کا سامنا تھا کچھ آگے بڑھے تو جدید اسلحے سے فائرنگ ہونے لگی جوانوں نے چوکنے ہو کے جان بچائی اور جوابی فائرنگ کی،اندازہ ہو رہا تھا کہ وہ بہت منظم ہیں،جوانوں کو پتہ تھا کہ ابھی طالبان سے وہ لوگ کافی فاصلے پر تھے لیکن طالبان کے پاس اسلحہ بہت جدید تھا۔
جس وجہ سے مشکل ہو رہی تھی،پہلے ہی تقریباً 170 فوجی تھے،لیکن اس کے باوجود آرمی نے بھی دھاوا بول دیا،ہر جوان ایک سے زیادہ ہتھیاروں سے لیس تھا،تیِرہ ویلی کے پہاڑی سلسلے بہت پُر پیچ ہیں،اسی لئے طالبان نے اسے اپنا مسکن بنایا ہے،کیپٹن عمر بھی دوسرے لڑکوں کی طرح ہر ضروری اسلحے سے لیس تھا،آہستہ آہستہ وہ ٹارگٹ کی طرف بڑھنے لگے،کیپٹن کے پاس LMG تھی ،ہینڈ گرنیڈ،پسٹل،سنائپررائفل اور کچھ مزیداضافی toolsتھے،جب وہ targeted hills کے نزدیک پہنچے تو کمانڈنگ آفیسر نے جوانوں کو کاشن دیا اندھا دھند فائرنگ کا تبادلہ ہونے لگا،اوپر سے بھیانک سائے نظر آ رہے تھے،جو کئی سو کی تعداد میں لگ رہے تھے،ہرفوجی سر دھڑ کی بازی لگانے پہ تُلا ہوا تھا کیونکہ وہ اصل جہاد کی معراج پر تھے،یوں تواُدھر بھی اللہ اکبر کا نعرہ لگانے والے تھے اور اِدھر بھی نعرۂ تکبیر لگا کر کلمۂ حق کاخوبصورت imageدنیا کے سامنے لانے والے مجاہدین تھے۔ لیکن ایک حق پر اور دوسرا گروہ مسلمانیت کا نقاب اوڑھے مذہب اور وطن کا چہرہ مسخ کرنیوالوں میں تھا۔ ہمارے پیارے نبی اکرمﷺ نے 1400برس قبل فرما دیا تھا کہ تم میں ایک ایساگروہ اٹھے گا جو کلمہ پڑھے گا لیکن اپنے کلمہ گوبھائی کو شہیدکرے گا،سنتِ رسول چہرے پہ ہو گی لیکن سنت رسول رکھنے والوں کی جان کا دشمن ہو گا،بچوں بوڑھوں عورتوں پہ ہاتھ اٹھایا جائے گا اور جب بھی ایسا گروہ اٹھے اس پر تلوار اٹھا لینا یوں بھی معرکہ حق وباطل تو ازل سے برپا ہے،کربلا ہر دور میں واقع ہوتی ہے،یزیدبھی بظاہر کلمہ گو تھا،اس نے بھی حق کے خلاف تلوار اٹھائی اور آج اس کا نام کہاں ہے؟وقت اورتاریخ خود فیصلہ کرتی ہے کہ ظالم کون ہے اورمظلوم کون۔غیر مسلم دشمنی کرے تو سمجھ بھی آتی ہے لیکن ہماری اس چھوٹی سی خوب صورت دنیا(پاکستان)کو تو بظاہر اہلِ ایمان ہی تباہ کرنے پر تُلے ہوئے ہیں۔کچھ جوان شہادت کی منزل پا چکے تھے،کیپٹن عمر فاروق ،کیپٹن قاسم اور میجر گلفام تینوں دوست تھے اور اس مشن میں ساتھ تھے تینوں ہی ایک دوسرے کا حوصلہ تھے،پہاڑوں سے نیچے گھاٹیوں میں سے اوپر کی طرف مقابلہ بہت مشکل تھا اس پوزیشن میں لڑکے صحیح مقابلہ نہیں کر پا رہے تھے دشمن کو بھی شاید سمجھ آ چکی تھی کہ آرمی کی کیا پلاننگ ہے سو وہ دھڑا دھڑ اٹیک کر رہے تھے ،جوان بھی کاروائی میں بہت محنت کر رہے تھے اوربہتوں کو جہنم واصل کر چکے تھے لیکن آرمی کی افرادی قوت کم ہو رہی تھی ،میجرگلفام نے صورت حال کا جائزہ لیا اور بغیر کسی ڈر کے سامنے ہو کے فائر کرنے لگا،ساتھ ہی climbingکرتے ہوئے اوپر کی طرف جانے لگاکچھ خوارج سامنے تھے کیپٹن عمر(مون)نے اسے کہا کہ تم ٹارگٹ پر ہو،احتیاط کرو لیکن اس کے سر میں سر فروشی کی تمنا سما گئی اوراس نے G3 میں جتنی گولیاں تھیں سامنے کھڑے خوارجین کے سینے میں اتار دیں ،سامنے والے سب مر گئے تو پیچھے والے آگے بڑھے اور گلفام پر جوابی فائر کئے، ایک ساتھ کئی بُلٹس آکے اس کے سینے میں سوراخ کر گئے،محض چند سیکنڈ میں یہ سب ہوا اس مجاہدِوطن نے ایک نعرہ لگایا اور راہ حق پر روانہ ہو گیا،جیسے ہی جسم بے جان ہوا۔
طالبان اس کی باڈی اٹھا کے اوپرہی کہیںلے گئے اور کیپٹن عمر غم و غصے سے بے چین ہونے لگا،گلفام کے بعد آفیسر نے کہا کہ تازہ کھیپ منگوانی پڑے گی، کیونکہ باڈی واپس لانی ہے،وہ شہیدوں کی باڈی کی بہت بے حرمتی کرتے ہیں،کیپٹن عمر نے کہا۔
’’سر مجھے صرف ایک آدھ جوان چاہئے،باڈی لانے کیلئے پورا دستہ منگوانے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ سر نے بے یقینی سے عمر کی طرف دیکھا تو وہ پُر اعتماد نظر آ رہا تھا اور اس کا گذشتہ ریکارڈبھی کارناموں سے بھرا پڑا تھا اس پر اعتماد نا کرنا بے وقوفی تھی،لیکن حالات بہت نازک تھے۔
سی ۔او کیپٹن عمر کو اجازت نہیں دے سکتے تھے ،لیکن وہ ضد کر رہا تھا،ساتھ کیپٹن قاسم بھی تیار تھے،حتیٰ کہ اعلیٰ حکام نے بھی منع کر دیا کیونکہ آگے danger zoneتھا جہاں نئی کھیپ اور سہولتوںکے بغیر جانا بے وقوفی تھی لیکن عمر ڈٹ گیا اس کے دوست کی باڈی کی بے حرمتی ہو،یہ اس سے برداشت نہیں تھامجبوراًسی ۔او نے کاشن دیا اور وہ دونوں دوست نکل کھڑے ہوئے،اتنا مشکل رستہ اور نوکیلی چٹانیں،کہ عام انسان تو ادھر ہی ڈھیر ہو جائے ،ان کے پاس صرف پانی کی بوتلیں تھیں انھیں اورکچھ چاہئے بھی نہیں تھا،مون نے کافی اوپر جا کے پیچھے دیکھا تو اپنے ساتھی بہت دور چھوٹے چھوٹے نقطوں کی طرح نظرآ رہے تھے،تیِرہ کی پہاڑیوں کی چڑھائی کسی بھی عام ذی روح کے بس کی بات نہیں اور وہ بھی مشن کے دوران،بغیر کسی سہولت کے،دونوںکیپٹن تھکن سے چور ہوگئے لیکن انکے جذبے ابھی بھی سلامت تھے رات پھیلنے لگی،عمر نے رسٹ واچ پر نظر ڈالی تو شام کے چھ ہو رہے تھے،اس نے قاسم کو دیکھا۔
یار تھک تو نہیں گیا؟‘‘ قاسم سے پوچھا تو وہ مسکرایا۔
نہیں،گلفام کے بارے میں سوچ رہا ہوں یار وہ نمبر لے گیا ہم سے۔ اس نے قدرے اداسی سے کہا۔
یہ تو تم نے صحیح کہا ہے،اچانک اوپر سے ہونے والی فائرنگ نے دونوں کی گفتگو منتشر کر دی وہ آگے کو بڑھی ہوئی چٹان کے سائے میں ہوگئے نیچے سے بھی جوابی فائرنگ ہو رہی تھی،عمر نے تھوڑا سا چٹان کے سائے سے نکل کے دیکھا تو ابھی پہاڑ کی چڑھائی بہت زیادہ تھی،وہ دونوں بہادر جوان چٹان کے نیچے بمشکل بیٹھ گئے،مون نے کہا۔
قاسم بھائی میں نے اندازہ لگایا ہے کہ اونچائی اتنی ہے کہ کم ازکم ہمیں 24گھنٹے سے زیادہ لگ سکتے ہیں اوپر پہنچنے میں،کیا خیال ہے،گھبرا تو نہیں جائو گے؟
نہیں کیپٹن عمر،میں ہر حال میں تمھارے ساتھ ہوں،تم مجھے آگے ہی پائو گے۔‘‘ قاسم نے سینے پہ ہاتھ رکھ کے کہا۔
گڈ۔اب کرنا یہ ہے کہ رات گہری ہوتے ہی ہم ہائیکنگ شروع کر دیں گے،تا کہ کم سے کم انکی نظروں میں آئیں اور جلدی ٹارگٹ تک پہنچ جائیں،دیکھ رہے ہو ناں،یہ اجڈ قوم بہت شارپ ہے۔کیپٹن قاسم نے اوپر سے گولیوں کی بوچھاڑ نیچے جاتی دیکھی اور ساتھ ہی سر ہلا دیا،پہاڑوں پہ شام ہوتے ہی رات گہری ہو جاتی ہے،آدھ گھنٹے بعد وہ اوپر جانے کو کمرباندھ چکے تھے اب فائرنگ کا تبادلہ بھی رکا ہوا تھا،طالبان کو اندازہ بھی نہیں تھا کہ پاکستان آرمی کے دو بہادر جوان سر دھڑ کی بازی لگاتے ہوئے یوں ان کا پیچھا کریں گے اوران کے سر پر جا پہنچیں گے، دونوں کیپٹن راتوں رات کافی فاصلہ عبور کرگئے تھے،ہاتھ کٹے پھٹے اور شل تھے کیونکہ چٹانوں پہ چڑھتے ہوئے سب سے زیادہ ہاتھ ہی متاثر ہوتے ہیں،جس جگہ سے وہ اوپر جارہے تھے اس سے ذرا بھی ادھر ادھر ہوتے تو طالبان کی گولیوں کے بغیر ہی وہ موت کی دیوی کے پاس چلے جاتے خطرناک پہاڑی سلسلہ اور اطراف میں گہری کھائیاں تھیں،گمبھیر اندھیرے میںکھائیاں نظر نہیں آرہی تھیںیوں لگ رہا تھا کہ کسی نے ہر طرف کالک مَل دی ہو،لیکن انجانا سا ادراک انھیں کسی بھی غلطی سے باز رکھے ہوئے تھا،ایک دوسرے کی ہمت بڑھاتے وہ چلے جارہے تھے،خدا کے سوا اس وقت کوئی بھی ان کا مددگار نہ تھا،تہجد کا وقت ہوا تو انھوں نے ایک نسبتاًہموار جگہ پڑائو کیا،رسٹ واچ پہ وقت کا تعین کر کے تہجد ادا کی خدا سے کامیابی کی دعا کی اور کچھ دیر ریسٹ کرنے لگے ،کیپٹن عمر اور کیپٹن قاسم ہتھیاروں سے لیس تھے اس لئے وہ آرام سے لیٹنا تو دور کی بات ٹھیک سے بیٹھ بھی نہیں سکتے تھے وہ اس وقت کئی سو میٹر کی بلندی پہ تھے،بے آرامی اورشدید سرد موسم نے دونوں کے جسم اکڑا ڈالے لیکن مجال ہے کہ حالات کے تھپیڑوں نے ان عظیم مجاہدوں کے ارادے متزلزل کئے ہوں،فجر کے ٹائم کا اندازہ کر کے وطن کے سپاہیوں نے نماز ادا کی اور رخت ِسفر باندھا۔خدا سے بات کرنے کے بعد وہ پہلے سے زیادہ پُراعتمادہو گئے تھے،یوں جیسے رحمت ان کے اوپر چھا گئی ہو،تقریباًظہر اور عصر کے درمیان وہ ٹارگٹ کے قریب تھے،لیکن یہاں حواس قائم رکھنے تھے،کیونکہ وہ دوست کا جسدِ خاکی لینے آئے تھے اور انھیں کنفرم نہیں تھا کہ اوپر کتنے درندوں سے انکا پالا پڑ سکتا ہے،آپریشن پر آنے سے پہلے اطلاع تھی کہ 5,6سو خارجی اوپر موجود ہیںلیکن عمر کا اندازہ تھا کہ اگر ہمارے بندے شہید ہوئے ہیں تو وہ بھی کم سے کم 50,60تو گِرے ہوں گے پھر بھی وہاں جنگ نہیں کرنی بلکہ اپنی امانت واپس لینی ہے،اس نے قاسم کو بھی یہ ہی ذہن نشین کرایا،دونوں نے عقابی نظروں سے چاروںطرف دیکھ کر جائزہ لیا اور فیصلہ کیا کہ بائیں سائڈ والی کھائی کے ساتھ ساتھ واپسی کا سفر کریں گے کیونکہ وہ زیادہ خطرناک گھاٹی تھی اوردشمن کی سوچ میں بھی نہیں ہو سکتا تھا کہ ہم ادھر سے گئے ہیں۔
کیپٹن قاسم !ہو سکتا ہے کہ ہم پھر نہ مل سکیں،میجر گلفام کی باڈی لینے میں جائوںگا تم پیچھے رہنا،میں مشکل میں ہوا تو کوڈ میں تمھیں بلائوں گا دیکھو اگر میں پکڑا جائوں تو میری پروا مت کرنا بس باڈی لے کے نکلنے والی بات کرنااور اگر ہم دونوں پکڑے گئے تو پتہ ہے نا کیا کرنا ہے؟کیپٹن قاسم عزم کے ساتھ مسکرایا اور بولا۔ خود کو شوٹ کرنا ہے، زندہ ان کے ہتھے نہیں چڑھناکیپٹن عمر نے اپنا کٹاپھٹادایاں ہاتھ اسکے کندھے پہ رکھ کے نظروں ہی نظروں میں اسے شاباش کہااوردونوں اوپر کی طرف بڑھنے لگے جیسے جیسے ٹارگٹ کے پاس پہنچ رہے تھے ویسے ویسے جوش و جنون میں اضافہ ہو رہا تھا۔ایک بڑی سی black rockکے پاس کیپٹن عمر نے کیپٹن قاسم کو روک دیا اور خود آگے بڑھنے لگا قاسم اسے روک کے واپس موڑا اور گلے لگا لیا،دونوں کچھ دیر ایک دوسرے کو گلے لگائے الوداعی ملاقات کرتے رہے،کیونکہ یہ انکی زندگی کی آخری ملاقات بھی ہو سکتی تھی،پھر کیپٹن عمر نے اسے ہٹایا اور پیچھے دیکھے بغیرآگے بڑھتا گیا جیسے جیسے اوپر جاتا گیا اسے طالبان کے رہن سہن کاخوب پتہ چلتا گیا،ماموں نذیر بھی آرمی میںتھے،کیپٹن عمر سے پہلے وہ وزیرستان میںاپنی ڈیوٹی ادا کر چکے تھے ۔ان دنوں طالبان سے مذاکرات جاری تھے ماموں جان کی باتیں ذہن میں گونجنے لگیں۔ بیٹا جب طالبان ہم لوگوں کے پاس مذاکرات کے لئے آئے تو ہم نے صحیح مسلمانوں والا سلوک کیا،ہمارے اوپران کے مرتد خیالات پوری طرح آشکار نہیں تھے ہم سمجھتے تھے شاید یہ ہم سے زیادہ اچھے مسلمان ہیں اس لئے انھیں ہم پسند نہیں لیکن ان کے اندر تو مسلمانوں والی ایک صفت بھی نہیں پائی جاتی یہ جو سنت ِرسول رکھی ہوئی ہے یہ محض بے ترتیبی سے بڑھی ہوئی داڑھی ہے جو جنگلوں پہاڑوں میں رہ رہ کے اُگ آئی ہے،جب یہ لوگ مذاکرات کے لئے آئے آرمی والوں نے خیر سگالی کے طور پہ بے تکلف کھانے کا انتظام کیا ہوا تھا،ان کو تو مذاکرات کی ا،ب کا بھی نہیں پتہ۔اول فول بکتے تھے اور آتے ہی کھانے پہ ٹوٹ پڑے،ہم نے پھر بھی اگنور کیا،حالانکہ ڈسپلن کا دوسرا نام فوج ہے،لیکن حیران تو ہم تب ہوئے جب انھوں نے ایک عجیب گندی حرکت کی،کھانا کھانے کے بعد جو دستر خوان پہ بچا ہواپڑا تھا وہ لمبی لمبی جیبوں میں بھرنا شروع کر دیا۔انکی جیبوں سے گھی نچڑ نچڑ کر سارا میٹنگ روم گندا ہو گیا،چمچ اٹھا اٹھا کر جیبوں میں ڈالنے لگے اور اس طرح یہ مذاکرات ناکام ہو گئے۔ آج وہ افواجِ پاکستان کے ٹکڑوں پہ پَل کر انھی کو آنکھیں دکھانے لگے تھے ،عمر نے دیکھا گندے سالن،بچی کچھی ہڈیاں اور ادھ کھائی روٹیوں کے ٹکڑے ہر طرف بکھرے ہوئے تھے،وہ ماموں نذیر کی باتیں یاد کر کے مسکرایا اور نوکیلی چٹانوں پہ آہنی ہاتھ جمائے اور بازوئوںکے بل جسم اچھال کر اوپر آگرا، اوپر آتے ہی اس نے سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں دیکھا کہ میجر گلفام کی باڈی وسط میں بے یارومددگار پڑی ہوئی تھی پاس ہی چند اوزار تھے جن سے کہ وہ باڈی سے ماس اتارتے یا میجر کی چھوٹی چھوٹی بوٹیاں کرتے اور پرچی لگا کے پارسل کرتے،اس منظر نے اسے ہرخطرے سے بے نیاز کر دیا، وہ سب ایک زندہ فوجی کو اپنے درمیان دیکھ کے بوکھلا گئے،چونکہ وہ لیس نہیں تھے ان کے لئے یہ ایک غیر متوقع بات تھی جب تک وہ اپنے ہتھیار اٹھاتے تب تک کیپٹن عمر نے باز کی طرح جھپٹا مارا اور گلفام کی باڈی کو کچھ لمحوں میں ہی طالبان کے شیطانی پنجوں سے آزاد کرا کے گھسیٹا اور LMG سے اندھا دھند فائر داغتے ہوئے انھیں پل بھر میں تِگنی کا ناچ نچا دیا۔ کیپٹن نے LMG،سنائپر رائفل،اور دیگر ہتھیاروں کا استعمال بڑی مہارت سے کیا اور کئی خارجیوں کا قلع قمع کیا،وہ پارے کی طرح تھرک رہا تھا،کیونکہ اسے پتہ تھا کہ ذرا سی غفلت کیا گل کھلا سکتی تھی،اس نے میجر کی میت کو اپنے مضبوط کاندھوں پہ لادا اور افسانوی ہیرو کی طرح پل بھر میں چاروں طرف بلٹس اگلتا ہوا اسے لے کر طالبان کی حفاظتی باڑ کے قریب پہنچااب وہ بھی مکمل تیار تھے مقابلے کے لئے ، اوپر سے ڈز ڈز ڈزکی آوازکے ساتھ مقابلہ پھر سے شروع ہو گیا عمر نے پُھرتی سے باڈی کو اٹھا کر ان کی حد سے باہر رکھا ہی تھا کہ کیپٹن قاسم نے جھپٹا مار کے اس سے باڈی لے کے نیچے اتاری اورجب تک وہ ہتھیار اٹھائے ہوئے تعاقب میں آتے دونوں مقرر کردہ کھائی کی طرف گھنی جھاڑیوں میں گھس گئے۔
(ان شاء اللہ باقی آئندہ ماہ

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close