Naeyufaq Feb-17

ذوق اگہی

سباس گل

دنیا کی محبت اور موت سے بھاگنا
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ’’میری امت پر وہ وقت آنے والا ہے جب دوسری قومیں لقمہ تر سمجھ کر تم پر ٹوٹ پڑیں گی جس طرح کھانے والے دستر خوان پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔‘‘ کسی نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا اس زمانے میں ہماری تعداد اس قدر کم ہوجائے گی کہ ہمیں نگل لینے کے لیے قومیں متحد ہو کر ہم پر ٹوٹ پڑیں گی ارشاد فرمایا۔ ’’نہیں اس وقت تمہاری تعداد کم نہ ہوگی البتہ تم سیلاب میں بہنے والے تنکوں کی طرح بے وزن ہوگے اور تمہارے دشمنوں کے دل سے تمہارا رعب نکل جائے گا اور تمہارے دلوں میں بزدلی اور پست ہمتی پیدا ہوجائے گی۔‘‘ اس پر ایک آدمی نے پوچھا یہ بزدلی کیوں پیدا ہوجائے گی۔
فرمایا۔ ’’اس وجہ سے کہ تم دنیا سے محبت کرنے لگو گے اور موت سے بھاگنے اور نفرت کرنے لگو گے۔‘‘
(ابو دائود، معارف الحدیث)
(کتاب اسوۂ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
ایس حبیب خان… کراچی
کیا آپ جانتے ہیں؟
٭بحث گفتگو کی موت ہے۔
٭کفایت سے خوشحالی ملتی ہے۔
٭کوشش سے کامیابی ملتی ہے۔
٭تواضع سے عزت ملتی ہے۔
٭حقیقی علقمندی مضبوط ارادہ ہے۔
٭تحریر ایک خاموش آواز ہے۔
٭شرافت شرم و حیا میں ہے۔
٭ناکامی کامیابی کا زینہ ہے۔
٭پہلے تولو پھر بولو۔
٭عقل کی حد ہوسکتی ہے بے عقلی کی نہیں۔
٭آج کل کے دور میں انسان کا سب سے زیادہ خطرناک دشمن خود انسان ہی ہے۔
ریاض بٹ… حسن ابدال
باتیں یاد رکھنے کی
ۃجو کچھ تمہارے پاس ہے وہ سب کسی نہ کسی دن بخش دیا جائے گا اس لیے ابھی سے بخشش کرو تاکہ بخشی کا موسم تمہارا ہو نہ کہ تمہارے وارثوں کا۔
ۃاگر اللہ معاف کردے تو گناہ کیا ہے اور اگر اللہ نامنظور کردے تو نیکی کیا ہے۔
ۃاگر ایک ہاتھ اللہ کے لیے رکھ دو تو سارا وجود ہی اللہ کا ہو جائے گا۔
ۃظالم کے ظلم سے نہیں بلکہ صاحب کے صبر سے ڈرو۔
ۃکسی کو حقیر نہ سمجھو کیونکہ راستے کا پتھر بھی منہ کے بل گرا سکتا ہے۔
ۃحسن کو ستائش نہ ملے تو وہ مرجھا جاتا ہے۔
ۃشک ایسا کانٹا ہے جس کا زخم دل پر لگتا ہے۔
ۃلوگ موت سے ڈرتے ہیں لیکن ایک تہائی زندگی سو کر گزار دیتے ہیں۔
پرنس افضل شاہین… بہاولنگر
اظہار
اگرچہ کبھی کبھی خواہش کے اظہار سے بھی کچھ حاصل نہیں ہوتا لیکن پھر اپنی ذات میں کوئی ملال بھی نہیں رہتا قوت اظہار بھی بڑی نعمت ہے قدرت حق کی سوال ذہن چاٹتے ہیں اور جواب تسکین دیتے ہیں۔
ذہنی فتور کا بہترین حاصل ان کا اظہار ہیں کبھی کبھی قسمت صرف اور صرف اک حرف دعا کی محتاج ہوتی ہے اور وہ دعا اظہار دعا کی محتاج ہوتی بس اسی لیے اظہار کرنا چاہیے بے شک کہ کبھی کبھی اظہار سے انسان اپنا سوال بھی کھو بیٹھتا ہے۔
حسین جاوید… منچن آباد
غور کریں
ؤاپنے چہرے پر کوئی درد تحریر نہ کرو کیونکہ وقت کے پاس نہ آنکھیں نہ احساس اور نہ دل۔
ؤاس تعلق سے لا تعلق اچھی ہے جس تعلق میں احساس نہ ہو۔
ؤحقیقی درد وہ ہے جو دوسرے کے درد کو دیکھ کر ملے۔
ؤورنہ اپنا درد تو جانوروں کو بھی محسوس ہوتا ہے۔
ؤفاصلے بڑھ جاتے ہیں تو غلط فہمیاں بھی بڑھ جاتی ہے۔
ؤپھر وہ بھی سنائی دیتا ہے جو کبھی کہا نہیں ہوتا۔
ؤزندگی کا اپنا ہی رنگ ہے دکھ والی رات کا سویا نہیں جاتا اور خوشی والی رات سونے نہیں دیتی۔
ؤکچھ لوگ جب روتے ہیں اس لیے نہیں کہ وہ کمزور ہیں بلکہ اس لیے کہ وہ مضبوط رہتے رہتے تھک جاتے ہیں۔
ؤتمہاری خوشی میں صرف وہ شریک ہوں گے جسے تم چاہتے ہو لیکن تمہارے غم میں وہ شریک ہوں گے جو تمہیں چاہتے ہیں۔
عبدالجبار رومی انصاری… شاداب کالونی، لاہور
کتے کی دس خصوصیات
حیوان اپنے مالک کا زیادہ وفادار ہوتا ہے جبکہ انسان اپنے پر وردگار کا اتنا وفادار نہیں ہوتا کتا جس کی وفاداری ضرب المثل ہے کسی نے کیا خوب فرمایا ہے کہ کتے کے اندر دس صفات ایسی ہیں کہ اگر ان میں سے ایک صفت بھی انسان کے اندر پیدا ہوجائے تو وہ اللہ کا پسندیدہ بندہ بن جائے فرماتے ہیں کہ۔
۱:۔ کتے کے اندر قناعت ہوتی ہے یعنی جو مل جائے یہ اس پر قناعت کرلیتا ہے راضی ہوجاتا ہے یہ قانصین یا صابرین کی علامت ہے۔
۲:۔ کتا اکثر بھوکا رہتا ہے یہ صالحین کی نشانی ہے۔
۳:۔ کوئی دوسرا کتا اس پر زور کی وجہ سے غالب آجائے تو یہ اپنی جگہ چھوڑ کر دوسری جگہ چلا جاتا ہے یہ راضیبن کی علامت ہے۔
۴:۔ اس کا مالک اسے مارے بھی تو یہ اپنے مالک کو چھوڑ کر نہیں جاتا یہ صادقین کی نشانی ہے۔
۵:۔ اگر اس کا مالک بیٹھا کھانا کھا رہا ہو تو یہ باوجود طاقت اور قوت کے اس سے کھانا نہیں چھینتا دور سے ہی بیٹھ کر دیکھتا رہتا ہے یہ مساکین کی علامت ہے۔
۶:۔ جب مالک اپنے گھر میں ہو تو یہ دور جوتے کے پاس بیٹھتا ہے یعنی ادنیٰ جگہ پر راضی ہوجاتا ہے یہ متوافعین کی علامت ہے۔
۷:۔ اگر اس کا مالک اسے مارے تو یہ تھوڑی دیر کے لیے چلا جاتا ہے اور پھر مالک اسے دوبارہ ٹکڑا ڈال دے تو دوبارہ آکر کھا لیتا ہے اس سے ناراض نہیں ہوتا یہ خاشعین کی علامت ہے۔
۸:۔ دنیا میں رہنے کے لیے اس کا اپنا کوئی گھر نہیں ہوتا یہ متوکلین کی علامت ہے۔
۹:۔ رات کو یہ بہت کم سوتا ہے یہ محبتیں کی علامت ہے۔
۱۰:۔ جب مرتا ہے تو اس کی کوئی میراث نہیں ہوتی یہ زاہدین کی علامت ہے۔
اللہ نے انسان کو اشرف المخلوقات کا رتبہ دیا لیکن دنیا میں کوئی انسان ہی ایسا ہوگا جس میں یہ ساری خصوصیات پائی جاتی ہوں۔
گل مہر… کراچی
پیار
پیار ایک عبادت ہے۔ جو سچے دل سے کرتا ہے وہ ولی جاتا ہے کسی کا پیار قبول کرنا اور کسی سے پیار کرنا یہ خداوند کریم کی خاص عطا ہے جو قسمت والوں کو ہی ملتا ہے پیار کرنا کوئی جرم نہیں بشرط کہ پیار مخلصانہ اور سچا ہو تب دھوکہ فریب حوس لالچ پیار کو بدنام کرنے میں اہم کردار کرتے ہیں لہذا ہمیشہ پیار سچے دل سے اور کوشش کرنی چاہیے کہ سچا پیار کرنا چاہیے۔
ناظم حسین شاہد… حویلی لکھا
لوٹ آئو کبھی نہ جانے کے لیے
تم سے بچھڑنے کے بعد کچھ عجب سے ہوگئے لمحات، استقبال کرتے لمحوں نے میری زندگی سے آرام و سکون کچھ اس طرح سے چھینا کہ کچھ باقی نہ بچا دن اور رات میں فرق نہ رہا خوشیوں کی لذت سے محروم میری زندگی کسی بنجر زمین کا روپ لگ رہی ہے۔ تلاش سکوں میں بھٹکتی میری بے چین روح ہر لمحہ تڑپتی رہی۔ اشکوں سے آنسوئوں کا بپھرا طوفان سماں باندھتا رہا جسم و روح ٹوٹ کر بکھرتے رہے، شب بھر جاگتی میری آنکھیں کسی اپنے کو ڈھونڈتی رہیں۔ دن، مہینے اور پھر سال گزر گئے ایسے میں تجھ سے ملن کی آس و امید نے مجھے اطمینان کی وہ نعمت بخشی کہ عرصہ دراز ہی گزار دیا اور زندگی جیتا چلا گیا ایک طرف زندہ رہنے کی خواہش انگڑائی بھری تو دوسری طرف تیری یاد شدت سے آتی رہی اب تو زندگی جیسے ٹھہر سی گئی ہے۔ کچھ تھک سا گیا ہوں خود سے بیزار ہونے لگا ہوں۔ میرے انتظار کو طویل نہ کر مجھے کسی لمحے بکھرنے نہ دے لوٹ آئو اور میرے صبر و قرار مجھے لوٹا دو اور واپس پھر کبھی نہ جائو۔
احسان سحر… میانوالی
زندگی اور قبر
اپنی خواب گاہ میں بڑی خوب صورت لائٹس لگوائیں اور چند دن بھی نہیں رہنے پائے تھے کہ اٹھ کے اندھیر کوٹھڑی (قبر) میں جا کے سو گئے پھر وقت اپنے گھر کو چمکانے والے جا کر وحشت اور تنہائی کے گھر میں کیڑوں مکوڑوں کے ساتھ جا کر سو جاتے ہیں بدن پہ ایک چیونٹی آجائے تو آدمی اس کو جھاڑ دیتا ہے یا مار دیتا ہے آج اس کے بدن پہ لاکھوں کیڑے پھر رہے ہیں جس چہرے کو گرمی، سردی، بھوک اور تھکن سے بچاتا تھا اسی چہرے پر آج کیڑوں مکوڑوں کا حملہ ہے کوئی اس کی آنکھیں کھا رہا ہے کوئی گال کھا رہا ہے، کوئی اس کی زبان نوچ رہا ہے کوئی ٹانگوں کو لگا ہوا ہے، وہ پیٹ جس کو بھرنے کے لیے ساری زندگی دھکے کھاتا رہا وہی پیٹ قبر میں سب سے پہلے پھوٹ جاتا ہے اور اللہ نے فرمایا، اے میرے بندے دنیا کو لالچ کی نظر سے مت دیکھا کہ قبر میں سب سے پہلے تیرے وجود کو جوکیڑا کھاتا ہے وہ تیری آنکھیں ہی ہوتی ہیں سب سے پہلے یہ شمع ہی بجھتی ہے اسی کو اللہ نکالتا ہے اور کیڑوں کو کھلا دیتا ہے تو جس انسان کا یہ حسرت ناک انجام ہو کہ موت اس کی شکاری ہو آفات کے پھندے اس کے گرد چاروں طرف قائم کیے جا چکے ہوں، مصیبتوں کی کھائیاں قدم قدم پر اس کے لی کھو دی گئی ہوں غموں کے بادل کبھی اس کے افق سے ہٹتے ہی نہ ہوں، خوشیوں کی کرن بجلی کی چمک کی طرح آکے گزر جائے پریشانیوں اور تفکرات کے سمندر میں ڈوبا ہوا ہو اور بیماریوں اس کے ساتھ اپنا کردار ادا کر رہی ہوں، دوستوں کی بے وفائیاں، اولاد کی نافرمانیاں اس کے دل پر نشتر چلا رہی ہوں قبر روزانہ پکار رہی ہو، میں تنہائی کا گھر ہوں، میں اندھیرے کا گھر ہوں، میں کیڑوِ مکوڑوں کا گھر ہوں، میرے پاس آنا ہے تو کوئی زاد راہ لے کے آنا زندگی کی گہرائی دیکھیں کتنی نا پائیدار ہے بے سواد، بے وفا اور بے قرار زندگی ہے کہ یہاں کسی پل انسان کو چین نہیں کسی پل ٹھہرائو نہیں تھوڑی سی خوشیاں دیکھتا ہے اور پھر چاروں طرف غمی کے بادل چھا جاتے ہیں ایک خوشی کو پانے کے لیے لاکھوں پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں اور وہ خوشی آتی ہے پتا بھی نہیں چلتا چلی جاتی ہے پھر وہی تنہائیاں… وہی غم وہی پریشانیاں اس کا مقدر بن جاتی ہیں ایک دن یہ زندگی کا تار بھی توڑ دیا جاتا ہے اور اپنے ہی اٹھا کے قبر میں ڈال آتے ہیں۔ بھول جاتے ہیں سب یہ جہاں بے ثبات ہے اس میں کوئی وفا نہیں، مہر نہیں قرار نہیں موت اس کا سب سے بڑا حادثہ ہے ایک وجود مٹی میں جا کے سو جاتا ہے پھر ایک زمانہ آتا ہے قبر بھی اکھڑ جاتی ہے۔
محمد یاسر اعوان… رحیم یار خان
اقوال زریں
ؤزندگی ہمارے تجربات کی مقروض ہے لیکن ہم تجربات سے استفادہ نہیں کرتے۔
ؤآہستہ بولنا اور میانہ چال چلنا ایمان کی نشانی ہے۔
ؤہر مشکل انسان کی ہمت کا امتحان لیتی ہے۔
ؤجو چیز تم نے خود نہ پڑھی ہو اسے دورسروں کو پڑھانے کی کوشش نہ کرو۔
ؤاپنی مسکراہٹ سے کسی کا دل جیت لینا عظیم کارنامہ ہے۔
ؤاحسان ایک ایسی نیکی ہے جس کو اگر جتایا جائے تو اس کا جلد اور بہت بھاری ثواب ملتا ہے۔
ؤپانی کی ایک بوند میں اگر نمک ملایا جائے تو وہ آنسو نہیں بن جاتا اس کے لیے آنکھ کا ہونا لازمی ہے۔
ؤمحبت ان سے رکھو جو نیکی کر کے بھول جائے اور قصور دیکھے تو معاف کردے۔
ؤدل اداس ہو تو گونجتی شہنائیاں بھی انسان کو متوجہ نہیں کر سکتی۔
محمد رفاقت… واہ کینٹ
قربانی
میں جانتی ہوں بیٹا اپنے دل کو اور اپنی ذات کو مارنا بہت مشکل ہوتا ہے لیکن کبھی کبھی اپنوں کی خاطر انسان کو اپنے آپ کی قربانی دینی پڑ جاتی ہے اپنے جزبات و احساسات وغیرہ کو دبا کر دوسروں کے جزبات اور احساسات کی قدر کرنی پڑتی ہے اپنے آپ کے بجائے دوسروں کو دیکھنا پڑتا ہے اور یہ سب کچھ کرنے کے لیے انسان کے اندر حوصلہ، ظرف، صبر، کا ہونا ضروری ہوتا ہے ورنہ ہر کوئی ایسی قربانی نہیں دے سکتا اور مجھے پتہ ہے کہ تمہارے اندر حوصلہ بھی ہے ظرف بھی ہے اور صبر بھی ہے تم اپنے دل کو اور اپنی ذات کو مار سکتے ہو تم یہ قربانی دے سکتے ہو ورنہ یہ گھر جو پہلے بکھر چکا ہے تمہارے انکار سے مزید تنکا تنکا ہو جائے گا۔
اقتباس ناول دردل نبیلہ عزیز
انتخاب: اروشمہ خان… بہاول پور
بے نظیر زندہ باد
تا ابد زندہ رہے گی بے نظیر
تو اک ایسی زندگانی پا گئی
تیرا قاتل مر گیا ذلت کی موت
تو حیاتِ جاودانی پا گئی
راؤ تہذیب حسین تہذیب
لطیفہ
چراسی ’’پہلوان جی! تم ایک وقت میں کتنے لوگوں کو اٹھا سکتے ہو؟‘‘
پہلوان ’’کم از کم دس لوگوں کو۔‘‘
چرسی ’’چھوڑو یار! تم سے تو تگڑا میرا مرغا ہے جو صبح پورے محلے کو اٹھاتا ہے۔‘‘
عائشہ پرویز… کراچی
لطیفہ
تین پٹھان ٹرپ پر گئے‘ اپنے مطلوبہ مقام پر پہنچ کر انہیں یاد آیا کہ وہ سموسے تو گھر ہی بھول آئے ہیں ان میں جو سب سے چھوٹا خان تھا اسے سموسے لانے کو کہا تو وہ نہ مانا کہ کہیں میرے بعد یہ لوگ پیپسی ہی نہ پی جائیں۔ دوسرے دونوں خان نے اسے یقین دلایا کہ وہ تیرے آنے کے بعد ہی پئیں گے‘ آخر چھوٹا خان چلا ہی گیا۔
دوسرے دونوں خان انتظار کرتے رہے لیکن وہ نہیں آیا یہاں تک کہ صبح ہوگئی‘ آخر اکتا کر کہنے لگے کہ ’’وہ تو آیا نہیں چلو پیپسی تو پئیں۔‘‘ یہ سن کر ایک قریبی درخت کے پیچھے سے چھوٹا خان نمودار ہوا اور بولا۔
’’دیکھا مجھے پتا تھا آپ لوگوں نے پی لینی ہے اس لیے میں گیا ہی نہیں۔‘‘
رضوانہ کرن… کمالیہ‘ ٹوبہ ٹیک سنگھ
باتیں واصف علی واصف کی
lایک انسان کو زندگی میں با اعتماد ہونے کے لیے یہ حقیقت ہی کافی ہے کہ اس سے پہلے نہ تو کوئی اس جیسا انسان دنیا میں آیا نہ اس کے بعدہی کوئی اس جیسا آئے گا‘ یہ عظیم انفرادیت ہی بہت بڑا نصیب ہے۔
lسب سے پیارا انسان وہ ہوتا ہے‘ جس کو پہلی ہی بار دیکھنے سے دل یہ کہے‘ میں نے اسے پہلے بھی دیکھا ہوا ہے۔
lآسمان پر نگاہ ضرور رکھو لیکن یہ نہ بھولو کہ پائوں زمین پر ہی رکھے جاتے ہیں۔
lدو انسانوں کے مابین ایسے الفاظ جو سننے والا سمجھے کہ سچ ہے اور کہنے والا جانتا ہو کہ جھوٹ ہے خوشامد کہلاتے ہیں۔
lانسان جتنی محنت خامی چھپانے میں صرف کرتا ہے‘ اتنی محنت اور کرے تو وہ خامی دور کی جاسکتی ہے۔
فائقہ سکندر حیات… لنگڑیال‘ گجرات
ایک فقیر کی نہایت سچی بات
مغرب کا رہنے والا ایک فقیر حلب کے کپڑا فروشوں کی لائن میں کہہ رہا تھا: اے مال والو! اگر تم لوگ انصاف کرتے یعنی غریبوں کو ان کا حق دیتے اور فقراء کی جماعت کو قناعت ہوتی تو دنیا سے بھیک مانگنے کی رسم اور طریقہ ختم ہوجاتا۔ (گلستان ص ۱۰۵)
فائدہ: مال دار کے لیے بخل کرنا اور غریب کے لیے بلا ضرورت سوال کرنا بدترین عیب ہے۔
ایم اے فاروق…حیدرآباد

Show More
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close