Hijaab Nov-17

دل کے دریچے

صدف آصف

گزشتہ قسط کا خلاصہ
شرمیلا آرز کو اس کے وارث کی خوش خبری سنا کر بے حد مطمئن نظر آتی ہے جب ہی وہ یہ خوشی اپنی ماں سے شیئر کرنے گھر پہنچ جاتی ہے دوسری طرف بتول بھی بیٹی کی منتظر ہوتی ہیں اسے خوش دیکھ کر شاد نظر آتی ہے لیکن جب شرمیلا خود میں پیدا ہونے والی تبدیلی سے آگاہ کرتی ہے تو وہ اس خبر پر خوش نظر نہیں آتی بلکہ مستقبل کے اندیشے مزید گہرے ہوجاتے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ اولاد کے حصول کے بعد آذر اور شرمیلا کا تعلق ختم ہوجائے گا۔ شرمیلا بھی انہی خدشوں میں گھر لوٹ آتی ہے جہاں آذر اسے اپنی محبت اور بھرپور ساتھ کا یقین دلاتا ہے۔ مہرین کے لیے دونوں کی یہ قربت بے حد تکلیف دہ ہوتی ہے لیکن وہ اپنے بنے جال میں خود ہی الجھ کر رہ جاتی ہے۔ ذہنی سکون کے حصول کی خاطر وہ یہی فیصلہ کرتی ہے کہ جلد ہی آذر اور شرمیلا کے اس نام نہاد تعلق کو ختم کروادے گی۔ آفاق شاہ کے باہر جانے پر سفینہ رومیو سے ملنے آفس پہنچتی ہے تاکہ بطور خاص روشنی کی پسند سے مل کر دیگر معاملات دیکھ سکے لیکن روشنی سفینہ کو وہاں آفس میں رومیو کے روبرو دیکھ کر شاکڈ رہ جاتی ہے۔ دوسری طرف سفینہ بھی فائز کو وہاں دیکھ کر چونک جاتی ہے اسے اپنا گھر بار دائو پر لگا نظر آتا ہے۔ آفاق شاہ سفینہ کے ماضی میں دلچسپی لیتا ہے تو سفینہ کو تمام حالات چھپانا دشوار نظر آتا ہے جب ہی وہ ڈھکے چھپے لفظوں میں شاہ کو مطمئن کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ سفینہ اور روشنی کے درمیان اختلاف بڑھنے لگتے ہیں اور ایسے میں عائشہ بیگم اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ سفینہ کی خراب طبیعت پر جہاں شاہ اسے خصوصی توجہ سے نوازتا ہے وہیں روشنی کے لیے یہ سب برداشت کرنا مشکل ہوتا ہے ایسے میں سفینہ ایک بڑی خوش خبری سنا کر جہاں اسریٰ اور آفاق شاہ کا دامن خوشیوں سے بھردیتی ہے وہیں روشنی کے بگڑے تیور اسے الجھن میں مبتلا کیے دیتے ہیں۔ نبیل کے حالات میں کافی تبدیلی آجاتی ہے اپنی اولاد کو کھونے کے بعد اسے اپنی غلطیوں کا بخوبی احساس ہوتا ہے‘ مومل کی ذات میں پیدا ہونے والی محرومی کا سبب وہ خود کو قرار دیتا ہے کیونکہ ان دنوں جب مومل کو اس کی توجہ کی ضرورت تھی تب اس کا ناروا سلوک مومل کو اذیت میں مبتلا کیے رکھتا ہے اور انہی تکلیف وہ گھڑیوں کے سبب مومل نہ صرف اپنے بچے کو گھور دیتی ہے بلکہ ہمیشہ کے لیے ماں جیسے رتبے پر فائز ہونے سے محروم ہوجاتی ہے ۔
اب آگے پڑھیے:
ظ…ژ…ء
سفینہ نے نظریں چرائیں اور حالات کے اس موڑ تک آکر اپنا سر تھامتے خیالوں میں غلطاں ہوگئی۔ سفینہ آفاق جو اس سے قبل جوش میں بھری‘ فائز جلال کو مزید سنانے کے موڈ میںِ تھی‘ چہرے پہ پھیلی اداسی اور گہری نگاہوں سے چھلکتے شکووں کے آگے اس کی زبان کو ایک دم بریک لگ گیا۔
مقناطیسی خدوخال کے ساتھ اس کا بھرپور سراپا فائز کی وجاہت میں اب بھی کوئی کمی واقع نہیں ہوئی تھی‘ سرد آہ بھرنے کے بعد سفینہ نے نگاہ اٹھائی۔ فائز کی پُر اثر شخصیت کا سامنے کھڑی اس کی کزن پر رتی برابر بھی اثر نہیں پڑ رہا تھا‘ اس کی وجہ شاید یہ تھی کہ سفینہ ایک مشرقی لڑکی تھی اس کے اندر تک اپنے شوہر شاہ کی محبت کی جڑیں پھیل چکی تھیں‘ اسی لیے کوئی دوسرا جچ ہی نہیں سکتا تھا‘ چاہے وہ اس کی پہلی محبت فائز ہی کیوں نہ ہو ویسے بھی وہ ابھی تک شاک میں تھی‘ رومیو کی شکل میں فائز کا ہونا اسے ایک بڑی مصیبت میں ڈال سکتا تھا‘ روشنی اس سے شادی کی ضد لگائے بیٹھی تھی یہ سب سوچ کر سفی کا دل دھک دھک کرنے لگا۔
ماضی کی پرچھائی تو کہیں دور جاچکی تھیں‘ اسے تو بس اپنے مستقبل کی فکر تھی۔ فائز کے سامنے کھوئے ہوئے انداز میں نگاہیں جھکائے کھڑی سفینہ کا دماغ کہیں بھٹک گیا تھا۔ اس وقت دل میں یہ ہی بات چل رہی تھی کہ فائز کی وجہ سے اس کی اپنی شادی شدہ زندگی میں آنے والے طوفان سے کیسے بنرد آزما ہو۔
’’اگر کسی کو خبر ہوگئی کہ میں اپنے ماضی کے سامنے آبیٹھی ہوں تو کیا ہوگا۔‘‘ وہ پریشانی سے اپنے ہاتھ مسلنے لگی۔
’’اب سفی مجھ سے کیا چاہتی ہے؟‘‘ فائز نہ ہونٹ بھینچ کر سوچا۔
’’اگر شاہ کو یہ بات پتا چل جائے کے اس کے مینجر کے ساتھ میرا کیا تعلق رہا ہے۔‘‘ یہ سوچتے ہی سفینہ کے وجود پر کپکپی طاری ہوگئی۔
’’اس کا حسن شادی کے بعد کتنا نکھر گیا ہے۔‘‘ فائز سفینہ کو ایک ٹک دیکھے جارہا تھا۔
’’چہرے کی چمک سے اندازہ ہوتا تھا کہ وہ شاہ کے ساتھ کتنی مطمئن اور پُرسکون زندگی گزار رہی ہے۔‘‘ اسے دل سے ایسی بے تکلفی کی ہرگز امید نہ تھی مگر چاہتے ہوئے بھی وہ نگاہ ہٹا نہیں پارہا تھا۔
’’ماضی کا شائبہ دور دور تک نہیں۔‘‘ دل میں ایک کسک سی پیدا ہوئی مگر سفینہ کے وجود کی لرزش پر اسے ایک دم ترس آنے لگا‘ وہ بے اختیار ہوکر اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر پہلے کی طرح تسلی دینے کا خواہاں ہوا اور اس کی جانب بڑھا۔
’’اپنی حدود کا خیال رکھو۔‘‘ سفینہ نے چونک کر کاندھے پر رکھے اس کے ہاتھ کو ایسے جھٹک دیا جیسے بچھو نے ڈنک مارا ہو۔ تاریکی نے فائز کے چہرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔
ظ…ژ…ء
آزر شرمیلا کو سمجھاتے کہ ان کے ہوتے ہوئے کوئی بھی شرمیلا کو اس کے بچے سے الگ نہیں کرسکتا‘ شوہر کی محبت بھرے نرم انداز پر اسے چند لمحوں کے لیے قرار آجاتا۔ مگر ہر نئے دن کے ساتھ نیا وسوسہ اس کے سامنے منہ اٹھائے آکھڑا ہوتا۔ فون بند کرنے والے واقعے کے بعد سے مہرین نے آزر سے مسلسل بحث و مباحثہ جاری رکھا‘ دونوں کے مابین ناراضی اتنی بڑھ گئی کے نوبت علیحدگی تک جا پہنچی تھی‘ مہرین نے ان سے طلاق کا مطالبہ کردیا۔ آزر ہکابکا رہ گئے‘ جو کچھ بھی تھا‘ وہ ان کی پہلی محبت ہونے کے ساتھ ساتھ خاندانی بیوی تھی‘ وہ اسے اتنی آسانی سے نہیں چھوڑ سکتے تھے‘ اس لیے تھک ہار کر پسپائی اختیار کرلی اور مہرین کا مطالبہ مانتے ہوئے شرمیلا کے پاس جانے کے معاملے میں وقتی طور پر محتاط ہوگئے۔ آزر کے اس طرح پیچھے ہٹنے پر شرمیلا کے وجود میں ٹوٹ پھوٹ شروع ہوگئی‘ ان کے کہے ہوئے الفاظ کے وہ اسے اپنے سے دور جانے نہیں دیں گے کہیں کھو کر رہ گئے‘ اس کا سارا اعتماد زائل ہوگیا اور ماں کے اندیشے سچ ہوتے دکھائی دیئے۔ وہ زود رنج ہونے کے ساتھ ساتھ عدم تحفظ کا شکار رہنے لگی اس نے اپنے ہاتھوں سے خود کو سولی پر چڑھایا تھا۔ مگر اب احساس ہوا کہ ایسی قربانی دینا کس قدر اذیت ناک ہوتا ہے۔
مہرین ہمیشہ اسے اپنے پیسے اور طاقت سے مرعوب رکھنا چاہتی لیکن شرمیلا کے وجود میں بدلائو آگیا تھا‘ اسے اب کسی سے کوئی سروکار ہی نہ رہا تھا‘ مادی لحاظ سے کافی کچھ مل جانے کے باوجود اس کا دل مکمل طور پر خالی ہوچکا تھا۔ اس کی زندگی کی اب ایک ہی خواہش تھی کہ وہ اپنے شوہر اور بچے کے ساتھ باقی کی زندگی گزارے‘ وہ ان دونوں کو کھونا نہیں چاہتی تھی‘ مگر اپنی موت کے پروانے پر تو اس نے خود دستخط کیے تھے۔
ڈیلیوری میں ابھی وقت باقی تھا مگر شرمیلا کی حالت دن بہ دن خراب ہوتی جارہی تھی‘ کبھی بی پی شوٹ کر جاتا‘ کبھی آئرن کی کم ہوجاتی‘ ڈاکٹر بھی اس کی حالت پر تشویش کا اظہار کرنے لگی۔ آزر کے لیے یہ زندگی کا سب سے مشکل دور تھا‘ ایک طرف مہرین کی جاسوسی‘ دوسری جانب شرمیلا کا خیال‘ اس دن بھی وہ ڈاکٹر کے پاس سے روٹین وزٹ کے بعد گھر لوٹے تو شرمیلا کو کھویا کھویا پایا۔ ان کے محبت سے پوچھنے پر وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی اور دل میں پلنے والے اندیشے ان کے سامنے رکھ دئیے‘ اسے ہر وقت اپنے بچے کی فکر سوار رہتی تھی۔ ماں بننے کے مراحل سے گزرنے سے پہلے اسے اس بات کا احساس نہ تھا کہ اپنے بچے کو کسی اور کو دے دینا کوئی آسان کام نہیں۔ اس نے رو رو کر جب آزر سے پوچھا کہ کیا مہرین کبھی کبھار مجھے اپنے بچے کو دیکھنے کی اجازت دے دے گی۔ اس کی حالت پر آزر کے وجود میں پھیریری سی دوڑ گئی۔ وہ خود کو اس کا مجرم تصور کرنے لگے‘ انہیں شرمندگی محسوس ہوئی کے وہ مہرین کے اس گھنائونے کھیل کا حصہ کیوں بنے۔
’’میں اپنے بچے سے کچھ نہیں کہوں گی۔ اسے کبھی بھی نہیں بتائوں گی کہ میں ہی اس کی اصل ماں ہوں۔‘‘‘ شرمیلا نے خیالوں میں کھوئے شوہر کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر یقین دلانا چاہا تو آزر کا دل سوکھے پتے کی طرح کانپ اٹھا۔
’’میں اسے صرف دور سے دیکھا کروں گی… آپ بس مجھ سے اپنا نام الگ نہیں کرئیے گا۔‘‘ اس کی روتی تڑپتی ممتا پر انہیں بری طرح سے ترس آیا۔
’’میں تم سے بہت شرمندہ ہوں۔‘‘ آزر کو احساس ہوا کہ ایک ماں سے اس کے بچے کی خرید و فروخت کیسا غلیظ عمل ہے۔
’’کچھ نہیں ہوگا کیوں پریشان ہوتی ہو۔‘‘ وہ شرمیلا کے گرد اپنا ہاتھ پھیلا کر تسلی دینے میں مصروف ہوگئے مگر ان کے انداز کا کھوکھلا پن۔ شرمیلا کی وحشت کو بڑھاوا دینے کا باعث ہوا۔
ظ…ژ…ء
’’یہاں بیٹھ جائو پلیز۔‘‘ فائز نے اس کے ردعمل پر اپنے دل میں اس کی عزت کو دو چند ہوتا محسوس کیا اور کپکپاتی ہوئی سفینہ کو اشارے سے کرسی پیش کی۔
’’شاہ کے ساتھ کب سے کام کررہے ہو؟‘‘ وہ میکانکی انداز میں بیٹھ گئی اور غائب دماغی سے پوچھا۔
’’بہت طویل عرصہ نہیں ہوا۔‘‘ فائز نے مسکرا کر تسلی آمیز لہجے میںجواب دیا۔
’’تایا ابا کیسے ہیں؟‘‘ اسے کچھ اور سمجھ میں نہیں آیا تو دھیرے سے پوچھا۔
’’ویسے ہی ہیں۔ حالت میں کچھ بہتری نہیں آئی بلکہ طبیعت دن بہ دن بگڑتی جارہی ہے‘ اب تو انہوں نے بات چیت کرنا بھی چھوڑ دیا ہے۔‘‘ باپ کا ذکر کرتے ہوئے فائز کا لہجہ نم ہوا۔ ان دونوں کے بیچ خاموشی کا طویل دورانیہ آگیا۔
’’یقین جانو مجھے بالکل نہیں پتا تھا کہ آفاق شاہ کی شادی تم سے ہوئی ہے۔‘‘ فائز نے خود سے ناگوار خاموشی کو توڑا۔
’’میں نہیں مانتی۔‘‘ اس نے نفی میں سر ہلایا اور گلابی کلی سے ہونٹ بھینچ لیے۔
’’میں اس معاملے میں بے قصور ہوں‘ اگر ذرا بھی بھنک مل جاتی تو یہاں کبھی نوکری نہیں کرتا۔‘‘
’’اب تو پتا چل گیا ہے ناں؟‘‘ وہ ایک دم دوبارہ سے حواسوں میں لوٹتے ہوئے برہم نظر آئی۔
’’ٹھیک ہے تم یہ بتائو اب کیا چاہتی ہو؟‘‘ اس نے ہار مانتے ہوئے نرمی سے پوچھا۔ ہمیشہ کی طرح فائز نے گیند اس کی کورٹ میں پھینکی اور منتظر نگاہوں سے دیکھنے لگا۔
’’میری زندگی سے بہت دور چلے جائو۔‘‘ وہ دل پر جبر کرکے خود غرض بن گئی۔
’’اوکے چلا جاتا ہوں۔‘‘ فائز نے زخمی مسکراہٹ لبوں پر سجا کر اثبات میں سر ہلایا۔
فائز کے ہتھیار ڈالنے پر اس کے دل میں سکون اترتا چلا گیا لیکن اپنی امید پوری ہونے کے باوجود جانے کیوں اس کی اداسی کم نہ ہوئی۔
’’ایک بار پھر میں نے اسے اپنے آپ سے دور کردیا۔‘‘ سفینہ کا دل ڈوبنے لگا۔
’’اور کوئی حکم؟‘‘ فائز نے براہ راست اس کی آنکھوں میں شکایتی انداز میں جھانکا تو وہ نگاہیں چرا گئی۔
’’شاہ کے دبئی سے لوٹ آنے پر تم ریزائن دو گے ناں؟‘‘ سفینہ نے اپنا پرس تھامتے ہوئے ایک بار پھر یقین دہانی چاہی تو فائز نے لب بھینچ کر اثبات میں سر ہلادیا۔ وہ چپ چاپ بڑی حسرت سے اسے دیکھنے لگا۔
’’ٹھیک ہے میں چلتی ہوں بس اتنا ہی کہہ سکتی ہوں کہ تمہارا یہ احسان میں کبھی نہیں اتار سکوں گی۔‘‘ دو قدم بڑھنے کے بعد وہ لوٹ آئی اور نگاہیں جھکا کر پُر تشکر انداز میں اعتراف کیا۔ فائز سے کچھ بولا ہی نہیں گیا سفینہ بیگ کاندھے پر لٹکاتے ہوئے باہر کی جانب بڑھ گئی۔ سفینہ کے جاتے ہی فائز کی ہمت جواب دے گئی‘ اس نے سر دونوں ہاتھوں میں تھام لیا۔ کافی دیر وہ اسی انداز میں بیٹھا رہا۔ دل جو بڑی مشکلوں سے جینے کا عادی ہوا تھا اس پر ایک بار پھر موت کا سکوت طاری تھا۔
’’میں اب یہاں سے اور سفینہ کی زندگی سے بہت دور چلا جائوں گا۔‘‘ اس نے کیبن کا جائزہ لیتے ہوئے سرد آہ بھری‘ سامنے رکھی فائل پر نگاہ گئی جو روشنی نے اسے چیک کرنے بھجوائی تھی۔
’’روشنی کا کیا ہوگا۔‘‘ اچانک ایک خیال دل میں در آیا‘ اسے احساس ہوا کہ معصوم سی اس لڑکی سے دور جانا اب اتنا آسان نہیں ہوگا۔ وہ قسمت کے اس کھیل پر حیران ہوا۔
اسے روشنی سے انسیت ہو چلی تھی مگر وہ یہ بات اچھی طرح سے جانتا تھا کہ وہ سر پھری سی لڑکی پور پور اس کی محبت میں ڈوب چکی تھی‘ اس کا خیال آتے ہی وہ گومگو کا شکار ہوگیا‘ ایک طرف سفینہ تو دوسری جانب روشنی آکھڑی ہوئی‘ وہ سوچنے لگا کہ اب اس راہ پر بڑھنا ہے یا پھر پلٹنا ہے۔
ظ…ژ…ء
’’کاش‘ میں شرمیلا کو آزر کی زندگی اور دل سے دور کر پائوں۔‘‘ مہرین کے لیے دنیا کی ساری بہاریں سارے رنگ اور موسم کی رعنائیاں اپنا حسن کھو چکی تھی۔
’’میں نے خود اپنے دل کا خون کیا ہے۔‘‘ اس کا دل بہت بوجھل ہونے لگا۔
’’میں بے رحم بننا نہیں چاہتی۔ مگر آزر کی محبت نے مجھے مجبور کردیا۔‘‘ حالت عجب ہونے لگی‘ شرمیلا کا سکون اس کے لیے باعث اذیت تھا۔ وہ آزر کو اس کے ناز نخرے اٹھاتا دیکھتی تو اﷲ سے شکوہ کرنے بیٹھ جاتی کے اس کے دامن میں اولاد جیسی نعمت کیوں نہیں رکھی۔
مہرین ملازمین کے ذریعے شرمیلا کے آرام کا ہر طرح سے خیال رکھواتی مگر خود اس کے کمرے کے قریب پھٹکتی بھی نہ تھی۔ ڈاکٹر کے وزٹ باقاعدگی سے ہوتے۔ ایک ہی گھر میں رہنے کے باوجود ان دونوں کا رشتہ اجنبیوں جیسا تھا‘ ایسے اجنبی جو کچھ لمحوں کے لیے آشنا بنے تھے۔ وہ سائیڈ دراز کھول کر سر درد کی ٹیبلٹ تلاش کرنے لگی تو ایک دم سے اس کے سامنے اپنی شادی کی البم آگی بے اختیار ہوکر اسے نکالا اور بڑی حسرت سے ایک ایک تصویر دیکھنے بیٹھ گئی۔ صفحہ پلٹتے ہوئے ولیمے کی ایک تصویر سامنے آئی جس میں آزر دلہن بنی مہرین کو بڑی وارفتگی سے تک رہے تھے اور اس کے اپنے چہرے پر بڑی دلنواز سی شرمیلی مسکراہٹ پھیلی ہوئی تھی۔ مہرین بہت دیر تک اپنی گود میں البم رکھے اس تصویر کو تکتی رہی‘ اچانک آنسو ایک کے بعد ایک پلکوں سے ٹوٹ کر اس کے گالوں پر پھسلنے لگا۔ تصویر پر یہ قطرے تواتر سے گرتے گئے تو اس نے دوپٹے سے انہیں صاف کیا اور البم بند کرکے واپس دراز میں رکھ دی۔
ماضی کے بارے میں سوچتے ہوئے اسے بہت ساری کھٹی میٹھی باتیں یاد آئیں‘ کانوں میں آزرکی پیار بھری سرگوشیاں گونج اٹھیں‘ وہ سب باتیں اب خواب و خیال بن چکی تھیں‘ ایک ہی کمرے میں رہتے ہوئے ان کا رویہ اتنا اجنبی ہوگیا تھا کے وہ بلاوجہ مجرم بن کر رہ جاتی‘ ان کے محبت کے سارے دعویٰ ایسے جھوٹے ثابت ہوں گے‘ یہ بات تو اس کے وہم و گمان بھی میں نہیں تھی۔ آزر تو مہرین کے بغیر سانس لینے کو بھی دوبھر سمجھتے تھے۔ جب تک مہرین ان کے پہلو میں نہ آلیٹے‘ نیند ان کی آنکھوں سے کوسوں دور رہتی اور شرمیلا کے ان کی زندگی میں شامل ہوجانے کے بعد سے وہ دھیرے دھیرے کیسے اس سے دور ہوچکے تھے۔ یہ بات اس کے لیے ناقابل فراموش تھی‘ اب ایسا وقت بھی آنا تھا کے وہ اس کے بغیر شرمیلا کے ساتھ ایسی خوشگوار نیند میں گم ہوجاتے کہ مہرین کی کال بھی ریسیو نہیں کرپاتے تھے۔
’’ہم دونوں کے بیچ کی یہ دوریاں میری‘ اپنی پیدا کردہ ہیں۔‘‘ اس نے اپنی غلطی کا اعتراف کیا۔
’’آزر نے مجھے‘ سب کچھ دیا مگر اب انہیں کیا ہوگیا؟ میرے ساتھ ہی ایسا کیوں ہوا۔ وہ مجھے کیوں نہیں سمجھ پائے۔ میں نے جو کچھ بھی کیا ان کی چاہت میں کیا۔ انہیں اولاد کی خوشی دینے کے لیے سوکن کا دکھ جھیلا اور وہ میری قربانی کا اعتراف کرنے کی جگہ ظالم اور خود غرض ٹھہراتے ہیں۔ میرا وجود یوں ہوکر رہ گیا ہے جیسے میں خودرو پودے کی طرح‘ ایک اضافی شے کی طرح ان کے وجود سے چمٹی ہوئی ہوں۔ ان کا خلوص کھو گیا‘ محبت کے پکے رنگ کیسے ناپختہ‘ نکلے۔ سچ بہت کڑوا ہوتا ہے۔ مگر اسے ماننا ہی ہوگا۔ میری خوش فہمیوں نے مجھے تباہ کرکے رکھ دیا مگر اب میں آزر کو خود سے دور جانے نہیں دوں گی۔ میں شرمیلا کو اپنا گھر اجاڑنے نہیں دوں‘ میں اسے برباد کردوں گی۔ بس ایک بار آزر کی اولاد اس دنیا میں آجائے پھر اس لڑکی کا وہ حشر کروں گی کہ وہ یاد رکھے گی۔‘‘ ایک کڑواہٹ‘ ایک ان دیکھی آگ‘ اسے بھسم کرنے لگی‘ جانے کیا ہوا‘ وہ ایک دم دانت کچکچانے لگی۔
مہرین کا ذہن آزر کو محبت کی شدتوں کے ساتھ‘ اپنی طرف متوجہ دیکھنے کا خواہش مند تھا۔
ظ…ژ…ء
سفینہ کو فائز کے کمرے میں موجود پاکر روشنی کے دماغ میں ایسی ہلچل مچی کہ اس کے ہوش و حواس گم ہوگئے۔
’’کہیں یہ میرا وہم تو نہیں۔‘‘ وہ سفینہ اور فائز کے درمیان ہونے والی باتوں پر بھونچکا تھی۔
’’مگر میں نے تو ریسپشن پر بھی پتا کیا تھا‘ یہ حقیقت تھی کہ بھابی ہی فائز کے کمرے میں موجود تھیں اور اسے یہاں سے جانے کا کہہ رہی تھیں۔‘‘ اس کا دل ہر شے سے ایک دم اچاٹ ہوگیا۔ کسی کو بتائے بغیر وہ آفس کی عمارت سے بہت تیزی سے باہر نکلی اور ارد گرد کے ماحول سے بے نیاز اپنی دھن میں مگن سڑک پر سیدھی چلتی چلی گئی‘ دوپہر تک چمکنے والا سورج سرمئی بادلوں میں جا چھپا تھا۔ تھوڑی دیر میں ہی کن من بارش برسنے لگی تو روشنی نے چونک کر سر اٹھایا‘ اس ناگہانی سے بچنے کے لیے وہ گھبرا کر قریبی درختوں سے مزین‘ اجنبی راستے کی طرف چل دی‘ جہاں اس سے قبل بھی گزر نہیں ہوا تھا۔ سڑک کے ساتھ قطار در قطار دور تک پھیلے درختوں کے گرے ہوئے سوکھے پتوں کی بہتات تھی۔ کچھ حصے بارش میں بھیگنے کے بعد بہت زیادہ اداس دکھائی دے رہے تھے۔ وہ مبہوت سی کھڑی یہ نظارہ دیکھنے لگی‘ اپنا وجود بھی اسی اداسی کے منظر کا حصہ لگا۔ وہ گھر جانا بھول گئی‘ آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے‘ ذہن کھویا کھویا سا تھا‘ بھابی کی باتیں اس کے دل میں خنجرکی طرح گڑی جارہی تھیں۔
’’وہ رومیو کو آفس چھوڑنے کا کیوں کہہ رہی تھیں۔ وہ اس کی محبت کو اس سے دور کرنا کیوں چاہتی ہیں بھابی ایسا کیسے کرسکتی ہیں؟ ان کا رومیو سے ایسا کیا تعلق ہے جو وہ اتنے استحقاق سے اسے حکم دے رہی تھیں؟ کہیں بھابی ہی تو رومیو کی جولیٹ نہیں‘ جن کی محبت میں اس نے دنیا چھوڑ رکھی ہے۔‘‘ روشنی کے دماغ میں جھماکے ہونے لگے‘ وہ سر تھام کر گیلی چکنی زمین پر کپڑے خراب ہونے کا خیال کیے بناء بیٹھتی چلی گئی۔
بارش ہر لمحہ تیز ہورہی تھی‘ وہ سمجھ نہیں پائی کہ آگے بڑھے یا واپس پلٹ جائے‘ گاڑی بھی پیچھے چھوڑ آئی تھی۔ اسے سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کرے تو کیا کرے‘ صورت حال کی سنگینی کا احساس کرتے ہوئے‘ اس نے بے بسی سے بیگ میں ہاتھ مار کر سیل فون تلاش کرنا شروع کیا تاکہ ڈرائیور کو کال کرکے یہاں بلائے مگر وہ کسی طرح بھی ہاتھ نہیں آیا۔ اچانک بیل بجنے کی آواز پر وہ اچھل پڑی‘ پھر خیال آیا یہ تو اسی کا فون ہے۔ اپنے حواسوں پر قابو پاتے ہوئے سیل نکال کر بات کی تو سکون کی لہریں اندر تک دوڑ گئیں۔ ان کا پرانا ڈرائیور اس کی اچانک گمشدگی پر پریشان ہوکر کال کررہا تھا۔ روشنی نے اسے مین روڈ پر گاڑی لانے کا کہا اور بہت تیزی سے واپس ہوئی‘ بارش کی پروا کیے بغیر گالوں پر بہتے آنسوئوں کو پونچھتی ہوئی اسی راہ کی جانب بڑھتی چلی گئی‘ جہاں سے آئی تھی۔
ظ…ژ…ء
اپنی ہونے والی اولاد کی محبت میں گرفتار اندیشوں کے منجھدار میں پھنسی ہوئی‘ شرمیلا ایسے ماحول میں بہت زیادہ دکھی اور اداس رہنے لگی بڑھتی ہوئی گھٹن سے نکلنے کا ایک ہی راستہ سمجھ میں آیا تو مہرین کے سامنے اپنی درخواست لے کر پہنچ گئی اور بلک بلک کر روتی رہی۔
’’کیا میں اپنے بچے کی خاطر یہاں رہ سکتی ہوں؟‘‘ اس کی مامتا تڑپی۔
’’ایسا ممکن نہیں۔‘‘ مہرین آزر کا انداز بڑا ظالم تھا۔
’’سودا بازی میں ہمدردی کا کیا سوال۔‘‘ مہرین پیسے کے نشے سے چُور تھی‘ اس لیے اس کے اندر کی انسانیت کہیں جا چھپی تھی۔ اس کا ضمیر گہری نیند سو چکا تھا۔ ورنہ وہ کبھی بھی ایک ماں سے اس کے بچے کا سودا نہیں کرتی‘ جہاں خود غرضی ہو وہاں انسانیت نہیں رہتی‘ صرف نفع‘ نقصان کا حساب ہوتا ہے۔
’’پلیز اس بہانے میں اسے دیکھ سکوں گی؟‘‘ آنکھوں سے سمندر بہتا گیا۔
’’میں تمہارا سایہ بھی یہاں برداشت نہیں کرسکتی۔‘‘ وہ عورت سے فرعون بن گئی۔
’’آپ فکر نہ کریں میں آزر کی زندگی سے چلی جائوں گی‘ مگر مجھے اس گھر میں اپنے بچے کی آیا کا درجہ دے کر ہی رکھ لیں۔‘‘
’’میں تم سے کوئی رشتہ نہیں رکھنا چاہتی‘ چاہے وہ ایک نوکرانی کا ہی کیوں نہ ہو؟‘‘ نفرت زدہ لہجہ شرمیلا کو اندر تک ہلا گیا۔ وہ ایک لمحے کو خاموشی سے سامنے کھڑی سرخ قیمتی لباس میں ملبوس انگارے کی طرح دہکتی عورت کو دیکھنے لگی‘ دل میں ایک ہوک سی اٹھی۔
’’کیا میرے بچے سے کوئی رابطہ بھی نہیں رہے گا۔‘‘
’’بالکل بھی نہیں۔‘‘ اس نے نخوت سے سر ہلایا۔
’’اگر میں آپ کو یہ بچہ دینے سے انکار کردوں پھر؟‘‘ اس کے وجود میں سوئی ضدی شرمیلا جاگی۔
’’تو پھر تمہارے ساتھ تمہاری ماں بہنیں بھی سڑکوں پر رلتی پھریں گی۔‘‘ مہرین نے براہ راست اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے دھمکی دی۔ اس کا جوش بیٹھ گیا‘ ضد کو اس نے دبا دیا اور ایک بار پھر چپ رہ گئی۔
’’ٹرسٹ می میں ایسا کرسکتی ہوں۔‘‘ شرمیلا کی اتری صورت دیکھ کر مہرین کے لبوں سے ظالمانہ ہنسی پھوٹ پڑی۔
’’میرے ہاتھ معاہدہ کرکے یوں بندھ نہ گئے ہوتے تو میں اتنی مجبور نہ ہوتی اور کبھی یہ ظلم نہ ہونے دیتی۔‘‘ اس کا دل کراہا اور مہرین کے لیے دل میں نفرت پنپ اٹھی۔
’’ایک بات کان کھول کر سن لو تم نہ تو اپنے بچے سے کبھی ملو گی اور نہ ہی آزر سے کوئی تعلق رکھو گی‘ میں تم دونوں کے طلاق کے کاغذات بنوا رہی ہوں‘ جلد ہی تمہیں اپنے شوہر کی زندگی سے نکال کر دور پھینک دوں گی۔‘‘ اس کے انداز میں حقارت جاگی۔
’’اللہ…‘‘ شرمیلا نے آسمان کی طرف دیکھ کر فریاد کی۔
’’تم بھول جانا کے تمہارا ہمارے جیسے معزز اور رئیس خاندان سے کبھی کوئی تعلق رہا ہے۔‘‘ اس نے جتایا۔ ’’یہاں سے جانے کے بعد ہم سے کسی قسم کا کوئی تعلق یا رابطہ نہیں رکھنا۔
’’مگر یہ میرا بچہ ہے اور میں اس کی ماں ہوں آپ اس حقیقت کو کیسے جھٹلا سکتی ہیں؟‘‘ اس نے اعتراض کیا۔
’’میں نے سب سوچ لیا ہے اس کی پرورش میں اپنے ڈھنگ سے کروں گی۔‘‘ وہ ہنسی۔ ’’کبھی پتا نہیں چلنے دوں گی کے اس کی ماں کوئی اور ہے۔‘‘ وہ اسے مستقبل کی منصوبہ بندی سے آگاہ کرتی ہوئی بڑی خوش لگی۔
’’میں آپ کو ایسا ظلم نہیں کرنے دوں گی۔‘‘ شرمیلا ایک دم چلا اٹھی۔
’’تم کچھ نہیں کرسکتی مجھے معاہدے کی شکل میں قانونی تحفظ حاصل ہے اور اگر تم نے اس کے باوجود کبھی ایسا کیا تو میں تمہیں اور تمہارے خاندان کو صفحۂ ہستی سے مٹانے کی طاقت بھی رکھتی ہوں۔‘‘ اس کا لہجہ پُرغرور ہوا‘ شرمیلا دھاڑیں مار مار کر روتی رہی۔
اس کا زہر آلود لہجہ آزر کے کانوں میں بھی پڑا شرمیلا کے چہرے کی نیلی پڑتی رنگت دکھائی دی تو اندر آتے آزر کو مہرین سے نفرت محسوس ہوئی۔
ظ…ژ…ء
سائرہ چمچہ بھر کر دلیہ شوہر کے منہ میں ڈالنے کے ساتھ ساتھ ان کا منہ پونچھتی جارہی تھیں۔ کرسی پر بیٹھے دلیہ کھاتے جلال خان کے چہرے پر بڑا سکون پھیلا ہوا تھا‘ سائرہ نے اس سے پہلے کبھی ان کو اس قدر مطمئن نہیں دیکھا تھا‘ انہوں نے فجر میں اٹھ کر بیوی سے وضو کرنے کی خواہش ظاہر کی اور اشاروں میں نماز ادا کی تھی۔ پورا بائول کھلانے کے بعد وہ پانی لینے کچن کی جانب بڑھی کہ اچانک پیچھے دھڑام سے گرنے کی آواز آئی وہ مڑیں تو دیکھا جلال خان فرش پر الٹے پڑے تھے‘ ان کے دل میں شدید درد اٹھا تھا‘ سائرہ کے ہاتھ سے بائول گر گیا اور وہ چلاتی ہوئی ان کی جانب دوڑیں۔ ماں کے ایسے چلانے پر آفس جانے کی تیاری کرتے فائز کے ہاتھ پائوں پھول گئے۔ جب تک فائز اور سائرہ نے آکر انہیں اٹھایا وہ بے ہوش ہوچکے تھے۔ دلشاد بیگم بھی داماد کی بگڑتی حالت پر ایک دم پریشان ہوگئیں۔ فائز نے ماں کے کہنے پر تیزی سے کار نکالی باپ کو بانہوں میں بھر کر پچھلی سیٹ پر لٹایا اور تیزی سے گاڑی بھگاتا ہوا‘ قریبی اسپتال جا پہنچا‘ جلال خان کو ایمرجنسی میں لے جایا گیا مگر تھوڑی دیر میں ہی ڈاکٹر نفی میں سر ہلاتے ہوئے باہر آگئے‘ ڈاکٹر نے ان کے حرکت قلب بند ہونے کی تصدیق کردی تھی۔
شوہر کے گزر جانے کا سن کر سائرہ ایک دم زور سے چلائیں۔ دادا جان کے دنیا سے جانے کے بعد فائز کے سر سے دوسری بار مہربان آسمان ہٹا تھا‘ ایک بار پھر وہ تپتی دھوپ میں آکھڑا ہوا تھا‘ دل پر ایک اور قیامت ٹوٹ پڑی تھی۔ اپنے حواسوں پر قابو پاتے ہوئے وہ روتی مچلتی ماں کو سہارا دینے لگا۔ وقت نے کیسے فاصلے پیدا کردیئے تھے‘ خونی رشتوں کی موجودگی کے باوجود وہ دونوں تنہا اسپتال میں کھڑے تھے۔ ایک وقت تھا کہ ان کے ارد گرد بھی اپنوں کا گھیرا ہوا کرتا تھا‘ جو ان کی تکلیف پر ساتھ آکھڑے ہوتے تھے۔ دل نے ایک کاندھے کی ضرورت شدت سے محسوس کی جس پر سر رکھ کر وہ رو سکے۔ اس نے کچھ سوچ کر ماں سے الگ ہوتے ہوئے جیب سے سیل فون نکالا۔
بہزاد کو جیسے ہی اطلاع ملی کہ ان کے بڑے بھائی چپکے سے دنیا چھوڑ گئے ہیں‘ انہیں لگا زندگی بکھر گئی ہو۔ وہ بیوی کو لے کر فوراً بھائی کے سسرال بھاگے۔ فائز اس غم کی گھڑی میں چاچا چاچی کو یہ خبر کیسے نہ دیتا۔ وہ چاہتا تھا کے سفی بھی اپنے پیارے تایا جان کا آخری دیدار کرلے‘ مگر اس نے خود کو اسے اطلاع دینے سے باز رکھا۔
ریحانہ شوہر کو پورے راستے حوصلہ تو دیتی رہی مگر بہزاد کی خواہش کے باوجود سفینہ کو یہ اطلاع نہیں دی۔ وہ دونوں جب گلی میں داخل ہوئے تو دلشاد بانو کے گھر کے باہر شامیانہ لگا ہوا تھا‘ دری چاندنی پر محلے کے لوگ بیٹھے تھے‘ ایصال ِثواب کے لیے سپارے پڑھے جارہے تھے۔ چاچا کو دیکھتے ہی انتظامات میں مصروف فائز کا صبر ٹوٹ گیا‘ وہ دوڑ کر ان کے پاس آیا اور بچوں کی طرح لپٹ گیا بہزاد نے بھتیجے کو سینے سے لگا لیا اور باپ جیسے بھائی کی موت پر پھوٹ پھوٹ کر رو دیے۔
ریحانہ گھر کے اندورنی حصے کی جانب بڑھ گئیں۔ جہاں سے رونے کی آوازیں آرہی تھیں۔ ریحانہ نے عورتوں کی بیچ میں سفید دوپٹہ اوڑھے بیٹھی جٹھانی کو دیکھا جو پہلے سے کمزور لگ رہی تھیں۔ یہ عورت کبھی ریحانہ کے لیے خوف کی علامت ہوا کرتی تھی‘ آج حالات کے ہاتھوں کس قدر مجبور اور تھکی تھکی دکھائی دی‘ شاید مکافات عمل اسی کا نام ہے۔ اپنے خیالات کو جھٹکتے ہوئے ریحانہ ان کی جانب بڑھی۔ سائرہ نے دیورانی کو دیکھ کر مزید بلکنا شروع کردیا… ایسے وقت میں ریحانہ کی آنکھ بھی اشک بار تھی۔ وہ سائرہ سے لپٹ کر بری طرح سے رو دی۔
جلال خان کی تدفین دوسرے دن ہونا تھی‘ بہنوئی کے انتقال کی خبر سنتے ہی شکیل نے اپنی بیوی نرما کے ساتھ وطن واپسی کا ارادہ باندھا اور ماں کو کال کرکے آنے کی اطلاع دی تو تدفین ان کے آنے تک موقوف کردی گئی‘ گاہے بگاہے دلشاد بانو کی طرف سے سسکی‘ ایک آہ بھی ابھر آتی۔ ان کے ہاتھ پیر پھولے ہوئے تھے‘ وہ یہاں سے وہاں کچھ نہ کچھ کرتی پھر رہی تھیں‘ بیٹے کے آنے کی خوشی ملی بھی تو کس وقت جب داماد کا پہاڑ سا غم آن پڑا تھا‘ یہ ہی زندگی تھی۔ وہ بولائی بولائی سی کبھی بیٹی کو گلے لگا کر چپ کراتیں تو کبھی محلے کی خواتین کو سپارے دینے لگ جاتیں۔ باتوں کی بھنبھناہٹ پر وہ ایک دم خفا ہوکر خواتین کے گروپ کی طرف متوجہ ہوئیں۔
’’میری بیٹی بیوہ ہوگئی اور ان لوگوں کی باتیں ہی ختم نہیں ہورہی۔‘‘ دلشاد نے باتوں میں مشغول خواتین کو کینہ توز نگاہوں سے دیکھا۔
’’چلو ری یہ بیچ میں رکھ دو۔‘‘ محلے کی ایک بچی سے کہہ کر چادر بچھوائی اور اس پر گھٹلیاں پھیلادیں اور عورتوں کو اشارے سے پڑھنے کے لیے کہا۔
’’تایا جان۔‘‘ ریحانہ سائرہ کو پانی پلا رہی تھی کہ اچانک دروازے سے روتی ہوئی سفینہ داخل ہوئی۔
’’یہ کیسے یہاں آگئی؟‘‘ وہ ہکابکا رہ گئیں‘ ان کے منع کرنے کے باوجود بہزاد نے بیٹی کو یہ افسوس ناک خبر دے دی تھی۔
’’یااللہ کاش یہ خبر جھوٹی ہو۔‘‘ سفینہ کو جیسے ہی یہ اطلاع ملی عشو اماں کو بتائے بغیر ڈرائیو کے ساتھ تایا کے گھر روانہ ہوگئی۔ روشنی آفس گئی ہوئی تھی۔
’’سفی میری بچی صبر کر۔‘‘ ریحانہ نے بڑھ کر بیٹی کا استقبال کیا۔
’’ایسے اچانک یہ کیسے ہوگیا؟‘‘ وہ بلبلائی۔
’’ہائے میری بچی دیکھ تیرے تایا مجھے چھوڑ گئے۔‘‘ سائرہ بھی اس سے چمٹ گئی اور روتے ہوئے بین کرنے لگیں۔
’’مجھے تایا جان کے پاس لے چلیں۔‘‘ وہ روتے ہوئے ضد کرنے لگی۔
’’ہائے اللہ۔‘‘ سفینہ جلال خان کا چہرہ دیکھتے ہی بے ہوش ہوکر گر پڑی۔ ریحانہ کو اس کی طبیعت کی فکر ہوئی۔ اس نے بہزاد کو کال کرکے سفینہ کی بے ہوشی کا بتایا تو انہوں فائز کو اندر بھیجا۔ جس کا دل سفینہ کی حالت پر دکھ سے بھر گیا‘ اس نے دری پر بے ہوش سفینہ کے چہرے پر پانی کے چھپاکے مارے۔ اسے آوازیں دینے لگا۔ ریحانہ اور سائرہ بھی اسے اپنی گود میں لٹا کر پکارنے لگیں۔
فائز کے والد کے انتقال کی خبر سن کر روشنی آفس کے دوسرے کولیگ کے ساتھ افسوس کرنے پہلی بار رومیو کے گھر آئی تھی‘ یہاں کا منظر دیکھ کر وہ حیرت زدہ رہ گئی۔ خواتین کے گھیرے میں اس کی بھابی بے ہوش پڑی تھیں اور فائز بڑی پریشانی کے عالم میں ریحانہ کے ساتھ بے ہوش سفینہ کو ہوش میں لانے کی تدابیر کررہا تھا۔ روشنی کا وہاں رکنا محال ہوگیا‘ وہ ان سب کی نگاہوں سے بچتی ہوئی الٹے قدموں لوٹ گئی۔
ظ…ژ…ء
’’اللہ کے لیے‘ آزر میری مدد کریں۔‘‘ وہ روتی ہوئی شرمیلا کو بانہوں کے گھیرے میں لے کر کمرے میں لوٹے تو اس نے ان سے فریاد کی۔
’’کیا ہوگیا ہے‘ جان اس حالت میں خود پر کیوں ظلم ڈھاتی ہو۔‘‘ آزر نے انگلی کی پوروں سے اس کے ریشم سے گالوں پر بہتے آنسوئوں کو پونچھا۔
’’مجھے اپنی بے بسی سے وحشت ہورہی ہے اور یہ وحشت اس وقت تک دور نہیں ہوگی‘ جب تک آپ مجھے اپنا اعتماد نہ بخشیں گے۔‘‘ وہ سسک سسک کر دوبارہ رونے لگی۔ آزر گھبرا گئے۔
’’شرمیلا پلیز چپ ہوجائو‘ میں تمہارے آنسو نہیں دیکھ سکتا۔‘‘
’’کیا کروں جب بھی آپ سے بچھڑنے کا سوچتی ہوں دل بے قابو ہونے لگتا ہے۔ اپنے ہونے والے بچے سے جدائی میرے لیے سوہان روح ہے۔‘‘
’’میں تم سے وعدہ کرتا ہوں اپنی جان قربان کرکے بھی تمہاری خوشیوں کی حفاظت کروں گا۔‘‘ شرمیلا نے چہرے پر سے ہاتھ ہٹاکر آنسو بھری آنکھوں سے انہیں دیکھا۔
’’آپ مجھ سے وعدہ کرتے ہیں؟‘‘
’’ہاں… وعدہ…‘‘
’’سچا اور پکا وعدہ جو کبھی کسی حال میں بھی وعدہ نہیں توڑیں گے؟‘‘
’’کبھی کسی حال میں‘ بھی ایسا نہیں کروں گا‘ خواہ کچھ ہی کیوں نہ ہوجائے۔‘‘ شرمیلا نے اپنے آنسو پونچھ لیے۔
’’میری قسم کھائیے۔‘‘ شرمیلا نے آزر کا ہاتھ اپنے سر پر رکھ کر مطالبہ کیا۔
’’اچھا جی چلو‘ اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر قسم کھاتا ہوں۔‘‘ وہ جان بوجھ کر ہلکے پھلکے انداز میں بولے۔
’’لیکن مہرین؟‘‘
’’اس کی فکر نہ کرو‘ وہ بھی میری بیوی ہے میں تم دونوں کے ساتھ عدل کروں گا۔‘‘
’’مگر وہ جو کچھ کہہ رہی تھی۔‘‘ وسوسہ جاگا۔
’’اسے کہنے دو اس کی طاقت مسز آزر ہونے میں مضمر ہے ناں اگر وہ حد سے بڑھی تو میں اس سے اپنا نام چھیننے کی طاقت رکھتا ہوں۔‘‘ آزر کے لہجے میں صداقت تھی۔ تھوڑی دیر کے لیے گہری خاموشی چھا گئی۔ شرمیلا کے چہرے پر سکون اترنے لگا۔
’’اب ہنس کر دکھائو تمہاری روتی صورت سے‘ ماحول کتنا سوگوار‘ ہوگیا ہے۔‘‘ آزر نے شرمیلا کے دونوں ہاتھ تھام کر پیار سے کہا۔
ان کے لمس و تسلیوں میں کتنی طاقت تھی‘ شرمیلا کے ارد گرد خوشیاں رقص کرنے لگی تھیں۔
ظ…ژ…ء
سفینہ روشنی کو کھانے کے لیے بلانے اس کے کمرے میں آئی تو روشنی نے جلدی سے سر سے پیر تک چادر تان کر سونے کی اداکاری شروع کردی۔ اس نے نند کو گہری نیند میں مشغول دیکھا تو واپس مڑگئی۔ بھابی کے جاتے ہی روشنی نے سکون کا سانس لیا اور چہرے پر سے چادر ہٹائی اور اٹھ کر بیٹھ گئی‘ سر تھام کر ایک ہی بات سوچنے لگی کے بھابی نے ان سب سے یہ بات کیوں چھپائی کہ رومیو ان کا کزن ہے۔ اس دن سے تو وہ سفینہ کی شکل دیکھنے کی بھی روادار نہ تھی‘ اتنی نفرت اسے اپنی بھابی سے کبھی بھی محسوس نہیں ہوئی تھی‘ جتنی اب محسوس ہونے لگی تھی یہ بات سوچ سوچ کر اس کے دماغ کی چولیں ہل گئی تھیں۔
’’بھابی اسی لیے رومیو سے آفس میں اتنی بے تکلفی سے بات کررہی تھی اور اسے جانے کا کہہ رہی تھیں۔‘‘ وہ بڑبڑائی۔ ’’جب بھابی میرے لیے کچھ کر نہیں سکتیں تو انہیں کیا حق پہنچتا ہے رومیو کو یہاں سے جانے کے لیے کہیں؟ اور رومیو اپنے والد کے انتقال والے دن بھابی کے کس قدر نزدیک کھڑے تھے۔‘‘ روشنی کے دل میں جلن ہونے لگی۔
’’اگر بھائی اس راز سے آشنا ہو جائیں تو کیا ہوگا؟‘‘ اس کے دماغ میں یہ بات سرسرائی۔
’’میں بھائی کو سب کچھ بتادوں تو بھابی کی دو کوڑی کی عزت بھی نہیں رہے گی۔‘‘ اس نے انتقاماً سوچا۔ ’’میں نے بڑی غلطی کی کہ انہیں رومیو کے بارے میں بتایا اب تو وہ اپنی محبت کو میرا بنتے نہیں دیکھ سکے گی۔‘‘ وہ خود کو کوسنے لگی۔ ’’عشو اماں بھابی کے بارے میں ٹھیک کہتی ہیں کہ بڑی ہی گھنی لڑکی ہے‘ اس کے پاتال کو پانا مشکل ہے۔‘‘ اس نے دانت کچکچائے۔
روشنی اتنے منفی انداز میں سوچ رہی تھی اس میں تلخی اور طنز کی چبھن بڑھتی چلی گئی کہ اگر سفینہ سے اس کا سامنا ہوجاتا تو وہ نرم دل شیریں زبان لڑکی گھبرا اٹھتی۔ تایا کے انتقال کے غم میں مبتلا سفینہ نہیں جانتی تھی کہ روشنی اس سے کس قدر بدگمان ہوچکی ہے۔
ظ…ژ…ء
وہ پُرسکون انداز میں شوہر سے باتیں کرتے ہوئے دھیرے دھیرے پھیلے ہوئے کمرے کو سمیٹتی بھی رہی تھی۔ نبیل بہت غور سے مومل کے چلتے ہاتھوں کے ساتھ ہلتے ہونٹوں کو تکتے ہوئے سوچ رہا تھا۔
’’اپنے آپ کو‘ مار کر سمجھوتے کرنے پڑتے ہیں۔‘‘ وہ بہت ٹھہرے ہوئے لہجے میں اس کی جانب مڑ کر دیکھتے ہوئے بولی۔
’’کیسے سمجھوتے؟‘‘ نبیل نے پوچھا۔
’’نیکی کی راہ پر چلنے کے لیے خود سے لڑنا پڑتا ہے۔‘‘ اس نے قدرے سنجیدگی سے جتایا۔
’’تم ٹھیک کہتی ہو۔ میں کوشش تو کررہا ہوں۔‘‘ نبیل نے اتفاق کیا۔
’’آپ جانتے ہیں ناں کہ دنیا میں دل دکھانے سے بڑا کوئی دوسرا گناہ نہیں۔‘‘ وہ کرسی پر بیٹھ کر گہری سانس لیتے ہوئے بولی۔
نبیل نے پاس رکھے جگ سے گلاس میں پانی انڈیلا‘ ابھی مومل کی کمزوری مکمل طور پر دور نہیں ہوئی تھی۔
’’ہاں یہ سچ ہے۔‘‘ پانی کا گلاس اس کی طرف بڑھاتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا۔
’’آپ نے شرمیلا کے ساتھ اچھا نہیں کیا مجھے لگتا ہے ہمیں اس کی بد دعا لگی ہے جو اللہ نے میری اولاد مجھ سے چھین لی۔‘‘ پانی کا گلاس ایک سانس میں ختم کرنے کے بعد وہ دل میں پلتا اندیشہ زباں تک لے آئی ہے۔
’’تم ٹھیک کہتی ہو؟ کیا مجھے اس سے معافی مانگنی چاہیے؟‘‘ نبیل نے سوالیہ انداز میں بیوی کو دیکھتے ہوئے خالی گلاس تھاما۔
’’نہیں۔ اس سے کوئی رابطہ مت کریں۔ شاید اس کا غصہ ابھی نہیں اترا ہو تھوڑا وقت گزر جانے دیں۔‘‘
’’یہ بات بھی ہے… مگر میرے دل کے پچھتاوے مجھے جینے نہیں دیتے۔‘‘
’’اگر زندگی میں کبھی موقع ملے تو اس سے ضرور معافی مانگئے گا۔‘‘ اس نے متانت سے سمجھایا تو نبیل نے سر ہلادیا۔
’’اچھا چھوڑو یہ باتیں‘ آئو کھانا کھاتے ہیں۔‘‘ بیوی کی اداسی دیکھ کر اس نے مومل کا ذہن بٹانا چاہا۔
’’چلیں۔‘‘ مومل نے ہاتھ بڑھایا تو نبیل نے اسے اٹھنے میں مدد دی۔
ظ…ژ…ء
ناراض نہ ہو تو ایک بات کہنی ہے پرنسز۔‘‘ شاہ نے ڈرتے ہوئے کہا۔
’’بات… کون… سی بات۔‘‘ فون تھامے ہوئے اس کے ہاتھ کپکپائے ساتھ ہی لہجے میں ڈر سمٹ آیا۔
’’یار… مجھے دبئی میں ابھی مزید ایک ہفتہ رکنا پڑے گا۔‘‘ اس نے کہا۔
’’ایک ہفتہ مزید؟‘‘ وہ اضطراب سے بولی۔ ’’نہیں بس آپ لوٹ آئیں ورنہ میں آپ سے کبھی بات نہیں کروں گی۔‘‘ اس نے فون پر ہی بگڑنا شروع کردیا۔
’’جان… یہاں کام سے آیا ہوں۔‘‘ وہ ایک دم گھبرا کر صفائی دینے لگا۔
’’آپ کے لیے کام مجھ سے اہم ہے کیا؟‘‘ جانے کیوں وہ ضدی ہورہی تھی۔
’’نہیں… میری پرنسز سے زیادہ دنیا میں مجھے کوئی چیز بھی عزیز نہیں۔‘‘ وہ اس کی کیفیت سے لطف اٹھاتے ہوئے محبت سے بولا تو سفینہ کو تھوڑا سکون حاصل ہوا۔ ’’کیا بتائوں اب تمہارے بغیر ہوٹل کا کمرہ مجھے کیسا کاٹنے کو دوڑتا ہے۔‘‘ شاہ نے کچھ رومانٹک ہونے کی کوشش کی مگر اس پر ذرا سا بھی اثر نہ ہوا۔
’’کیا بات ہے؟‘‘ دوسری جانب سے آتی اس کی طویل سانسوں نے شاہ کو پریشانی میں مبتلا کردیا۔ وہ پھر بھی کچھ نہ بولی۔
’’کیا ہوا پرنسز؟‘‘ وہ گھبرا کر فون کی دوسری جانب سے چلایا۔
’’کچھ نہیں۔‘‘ اس نے زبردستی مسکرانا چاہا۔
’’کوئی پریشانی تو ہے۔‘‘ وہ اب سچ مچ فکر مندی سے گویا ہوا۔
’’چکر سا آجاتا ہے کبھی کبھی۔‘‘
’’ڈاکٹر کو بتایا؟‘‘ شاہ نے عجلت میں پوچھا۔
’’ہاں… جاتی ہوں چیک اپ کے لیے‘ کل بھی جانا ہے۔‘‘
’’تو چلو‘ کل آکر مجھے بتانا کے ڈاکٹر نے کیا کہا… چپ چپ سی کیوں ہو؟‘‘ شاہ نے محسوس کیا کہ سفینہ اس کے مزید قیام کے پروگرام کا سن کر خوش نہیں ہوئی۔
’’بس گھبراہٹ ہوتی ہے۔‘‘ اس نے مزید کچھ کہنے سے خود کو باز رکھا۔
’’اپنی صحت کا خیال کیوں نہیں رکھتی؟‘‘ آفاق شاہ نے پریشان لہجے میں پوچھا۔
’’بس دل نہیں کرتا۔‘‘ اس نے اداسی سے کہا۔
’’پرنسز یہاں بات آپ کے دل کی نہیں رہی وہ تو اب میرے پاس ہے۔‘‘ اس نے چھیڑا۔
’’پتا نہیں کیوں شاہ اب کچھ اچھا نہیں لگتا۔‘‘ وہ بے بس سی لگی۔
’’اگر زیادہ دماغ خراب کیا تو میں کل کی فلائٹ پکڑ کر واپس آجائوں گا۔‘‘ شاہ نے اسے دھمکانا چاہا۔
’’یہ ہی تو میں چاہتی ہوں مگر آپ کو تو بس… اپنے بزنس کی فکر ہے۔‘‘ اس نے دوسری بار طعنہ دیا۔
’’ویسے میں پوچھ سکتا ہوں کہ جناب کے مزاج کیوں اس قدر برہم ہورہے ہیں؟‘‘ اس نے پیار بھرے لہجے میں پوچھا۔
’’میں بہت اکیلی ہوگئی ہوں۔‘‘ جانے کیا ہوا وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔ شاہ کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے‘ اتنی دور سے وہ کچھ کر بھی نہیں سکتا تھا۔
ظ…ژ…ء
نبیل نے کھانے کے بعد اس کو بستر پر لٹایا‘ مومل رات کو چائے نہیں پیتی تھی وہ خود اپنے لیے چائے پکانے کچن میں آگیا۔ نبیل جب تک واپس کمرے میں آیا تب تک وہ بے خبر سوچکی تھی۔
’’یہ کتنے سکون سے سو رہی ہے۔‘‘ بستر پہ لیٹتے ہی گہری نیند سو جانا ہمیشہ سے مومل کی عادت تھی مگر اس نے اب جاکر غور کیا شاید اس لیے کے بہت عرصہ ہوا نبیل کی نیندیں اس سے روٹھ گئی تھیں۔
نبیل نے چائے کا کپ سائیڈ میں رکھا اور اے سی کی کولنگ بڑھاتے ہوئے اسے احتیاط سے چادر اوڑھا دی۔ مومل نے کروٹ بدلی تو‘ اس کا مرجھایا ہوا چہرہ نبیل کے مقابل آگیا۔ پیلی رنگت اور آنکھوں کے گرد پھیلے حلقے‘ چہرے پر اب بھی بڑی سوگوار سی دلکشی باقی تھی۔ وہ آہستگی سے چائے کا کپ تھامے کمرے کا دروازہ بند کرتا ہوا لائونج میں صوفے پہ جا بیٹھا اور قریب میز پر سلیقے سے رکھے اخبارات کا مطالعہ کرنے کی کوشش کرنے لگا۔ مگر بیک وقت دو عورتوں کے زرد چہرے ذہن کی اسکرین پر جگمگا اٹھے۔ ایک شرمیلا اور دوسری مومل جن کو دکھ دینے کی وجہ بننے پر شاید رب کریم نے اس کی ذات کا سکون چھین لیا تھا‘ نہ ظلم ہمیشہ رہتا ہے اور نہ ظالم۔ اچانک وہ خود کو بے بس محسوس کرنے لگا۔
ظ…ژ…ء
رات بھر جاگنے کی وجہ سے روشنی کی طبیعت سست سی ہورہی تھی‘ آفاق شاہ یہاں موجود نہیں تھے اور فائز اپنے والد کے انتقال کے بعد سے چھٹیوں پر تھے‘ اسی لیے فی الحال آفس کی ساری ذمہ داری کا بوجھ اس کے نازک کاندھوں پر آگرا تھا ورنہ تو وہ جس ذہنی کیفیت کا شکار تھی دفتر کی شکل بھی نہ دیکھتی۔ عشو اماں کو ناشتہ کا کہہ کر وہ‘ ناشتے کے انتظار میں لائونج کی طرف چلی آئی۔ آرام دہ نشست پر بیٹھتے ہی‘ پلکیں بھاری ہونے لگیں اور وہیں صوفے کی پشت سے سر ٹکا کر سوگئی‘ سفینہ کی آواز پر آنکھ کھلی تو اس نے غور سے اپنی طرف جھکی ہوئی بھابی کو دیکھا۔
کھلے ہوئے نم بھورے بال‘ چمکتا شفاف معصوم سا چہرہ‘ سنہری آنکھوں میں کاجل کی دلربا تحریر‘ ہونٹوں کا سرخی مائل گلابی رنگ۔
’’اللہ…! یہ بھابی اس قدر حسین کیوں ہیں کہ ہر ایک ان پر فریفتہ ہوا جاتا ہے۔‘‘ اس نے دل ہی دل میں کلستے ہوئے سوچا۔
’’چلو‘ جلدی سے کچن میں آجائو‘ چائے تیار ہے۔‘‘ وہ نند کی طرف دیکھ کر ہمیشہ کی طرح خوش دلی سے مسکرائی۔
’’آپ یہاں سے جائیں۔‘‘ اس نے بڑی مشکل سے خود پر قابو پاتے ہوئے بس اتنا ہی کہا ورنہ دل تو چاہتا تھا کہ پھٹ پڑے۔ روشنی کا کھردرا لہجہ سن کر سفینہ کو پریشانی ہونے لگی۔ اس کے چہرے پر کوئی تاثر نہ تھا۔
’’یہ روشنی کیوں اتنی بدلی بدلی سی لگ رہی ہے۔‘‘ وہ منتشر ذہن کے ساتھ کچن میں آکر پراٹھا بیلنے لگی۔
’’اب مزہ آئے گا۔‘‘ عائشہ بیگم نے آملیٹ کے لیے پیاز کترتے ہوئے اسے معنی خیز نگاہوں سے دیکھا۔
’’کہیں اس دن میرے آفس جانے کے بارے میں اسے پتا تو نہیں چل گیا۔‘‘ وحشت ناک خیالوں کے بگولے ذہن میں چکراتے پھر رہے تھے۔
’’میں تو اس گھر سے تمہارے جانے کے دن گن رہی ہوں دلہن بیگم۔‘‘ کچن میں رکھی چھوٹی سی گول میز پہ ناشتہ سجاتی عائشہ بیگم نے سفینہ کے پریشان چہرے کو دیکھ کر سوچا‘ اس کے اندر اطمینان کی لہر اترنے لگی۔
’’روشنی بیٹا… آئو ناشتہ کرلو۔‘‘ عائشہ بیگم کے پکارنے پر وہ مرے قدموں سے کچن میں داخل ہوئی۔
’’کہاں ہے ناشتہ؟‘‘ اس نے پہلے اپنے سامنے رکھی خالی پلیٹ کو دیکھا پھر عائشہ بیگم سے پوچھا۔
’’چلو۔ بسم اللہ کرو۔‘‘ سفینہ نے نند کی آواز پر پھرتی سے توے سے گرما گرم پراٹھا اتار کر اس کی پلیٹ میں رکھ دیا۔
’’اماں میں نے آپ کو ناشتہ تیار کرنے کا کہا تھا ناں؟‘‘ روشنی یک دم غصے میں پلیٹ سرکاتی ہوئی اٹھ کھڑی ہوئی۔
’’مگر روشنی…‘‘ سفینہ اس کے جلال پر ہکلا کر رہ گئی۔
’’بھابی میں آپ سے بات نہیں کررہی ہوں۔‘‘ روشنی کے نفرت اور غصے بھرے لہجے نے اس کے اعصاب سن کر دیے۔ وہ حیرت سے اسے دیکھنے لگی۔
’’میں کب ایسی آئلی چیز کھاتی ہوں‘ مگر آپ تو چاہتی ہیں کہ میں موٹی ہوجائوں۔‘‘ اس کی بدگمانی آسمان کو چھونے لگی۔
’’ایسی بات نہیں ہے روشنی…‘‘
’’اب یہ پراٹھا آپ خود کھا لیجیے گا‘ مجھے دیر ہورہی ہے میں چلتی ہوں۔‘‘ وہ ناراضگی سی بولتی ہوئی باہر نکل گئی۔
’’یہ روشنی کیا کہہ رہی ہے؟‘‘ فرائی پین میں سے گرم تیل کی چھینٹ اڑکر اس کے ہاتھ پہ پڑی تو وہ حواسوں میں آئی۔
’’آپ نے مجھ سے جھوٹ کیوں کہا کہ روشنی نے میرے ہاتھ کے آلو کے پراٹھے کھانے کی فرمائش کی ہے۔‘‘ اس نے مڑ کر غصے میں عائشہ بیگم کو دیکھا جو اپنا پول کھل جانے پر کپکپا رہی تھیں۔
’’بیٹا مجھے تو لگا کے اس طرح سے تم دونوں کے بیچ کی دوریاں کم ہوجائیں گی۔‘‘ عائشہ بیگم نے معصوم بنتے ہوئے بہانہ گھڑا اور نگاہیں چرا کر سنک میں پڑے برتن دھونے لگیں۔
سفینہ سمجھ گئی کے عائشہ بیگم نے ایسا جان بوجھ کر کیا ہے تاکہ روشنی کا دل ان کی طرف سے مزید برا ہوسکے‘ شاید وہ اپنی چال میں کامیاب بھی ہوچکی تھیں۔ سفینہ کا جی چاہ رہا تھا کہ انہیں جھنجھوڑ کر رکھ دے اتنا سنائیں کے دماغ ٹھکانے آجائیں۔ شاہ کی یاد نے ایک دم دل پر ہاتھ مارا وہ انہیں کیسے بتاتی کے کن عذابوں کو سہہ رہی ہے وہ آج کل۔ جی چاہا کے کال ملا کر واپس لوٹنے کو کہے مگر پھر ایک دم ڈر گئی۔ یہ کیسا مصلحتوں کا جنگل ان دونوں کے بیچ آگ آیا تھا کہ وہ ان سے اپنا دکھ بھی چھپانے لگی تھی۔
ظ…ژ…ء
عجیب سے شور سے شرمیلا کی آنکھیں کھل گئی‘ وہ نماز پڑھتے ہوئے جائے نماز پر ہی لیٹ کر سوگئی تھی۔ آزر نے لائٹ بند کرکے زیرو پاور کا بلب جلا دیا تھا اور ہلکی سی چادر اس کے اوپر ڈال دی تھی بڑھتی ہوئی آوازوں پر وہ چادر اتار کر اٹھ کھڑی ہوئی۔
’’کیا ہوگیا ہے تمہیں مہرین۔‘‘ آزر کا خفا خفا سا لہجہ اس کے کانوں میں پہنچا۔
’’مجھے نہیں پتا بس آپ اسی وقت طلاق نامے پر سائن کریں۔‘‘ وہ ترکی بہ ترکی سوال و جواب میں مصروف تھی۔
’’یہ کیسا بھوت سوار ہوا ہے چپ ہوجائو۔‘‘ یہ آزر ہی تھے مگر وہ یوں التجا کرنے والوں میں سے کبھی نہ تھے‘ شرمیلا نے گھبرا کر کھڑکی سے جھانکا۔
’’کیوں… کیوں چپ رہوں؟‘‘ وہ ہاتھ میں تھاما کاغذ لہراتے ہوئے طیش میں پاگل ہورہی تھی۔
’’دیکھو تمہاری آواز کمرے سے باہر نہیں جانی چاہیے۔‘‘ آزر نے اسے بستر پر دھکیلتے ہوئے دھمکایا۔
’’یہ میرا گھر ہے… میرا‘ میری مرضی‘ چیخوں یا چلائوں۔‘‘ مہرین نے ذرا پروا نہ کی۔
’’شرمیلا‘ سو رہی ہے اس کی طبیعت پہلے ہی کافی خراب ہے۔‘‘ وہ نرمی سے سمجھانے لگے مگر مہرین کے تن بدن میں آگ لگ گئی۔
’’کیوں آپ کی چہیتی کی نیند خراب نہ ہوجائے کہیں اس کا بڑا خیال ہے ہاں؟‘‘ وہ ان کے مقابل کھڑے ہوکر چڑھی ہوئی آنکھوں سے بولی۔
’’ہاں ہے خیال۔ بیوی بنا کر لایا ہوں میں اسے کوئی لاوارث نہیں ہے۔‘‘ جواب میں وہ بھی چلائے۔
’’اسی لیے تو اس طلاق نامے پر سائن کروا رہی ہوں تاکہ آپ دونوں کے بیچ کوئی رشتہ قائم نہ رہ سکے۔‘‘ مہرین کی بڑی خوفناک ہنسی تھی یا شرمیلا کو محسوس ہوئی۔
’’آپ اس طلاق نامے پر سائن کررہے ہیں یا میں خود کو شوٹ کرلوں۔‘‘ جانے کہاں سے مہرین نے پستول نکالی اور اپنی کنپٹی پر رکھ کر شوہر کو دھمکایا۔ آزر اس کی طرف بھاگے‘ باہر کھڑی شرمیلا کی روح جیسے دھیرے دھیرے سلب ہورہی تھی۔
ظ…ژ…ء
’’میں اسپتال جائوں گی آج چیک اپ کے لیے۔‘‘ سفینہ کی دھیمی منمناتی سی آواز روشنی کے کانوں میں پڑی۔
’’اچھا پھر؟‘‘ وہ مڑ کر بھابی کو سوالیہ انداز میں دیکھنے لگی۔
’’تم میرے ساتھ چلو گی؟‘‘ اس نے پیار سے پوچھا۔
’’نہیں…‘‘ وہ قطعیت سے بولتی ہوئی مڑ گئی۔
’’میں جاننا چاہتی ہوں کہ تمہیں ہوا کیا ہے؟‘‘ سفینہ کو بھی آج ضد ہوگئی نند کا ہاتھ پکڑ کر زبردستی اپنی طرف کھینچا۔
’’سننے کا حوصلہ ہے۔‘‘ اس کا لہجہ بڑا کاٹ دار تھا۔
’’میرے حوصلے کا امتحان لینا چاہتی ہو۔‘‘ وہ پھیکی ہنسی لبوں پر سجا کر بولی۔
’’نہیں آپ کے کارنامے بتانا چاہتی ہوں؟‘‘ وہ خفگی سے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی۔
’’کیا… کیا کہنا چاہتی ہو؟‘‘ اس نے گھبرا کر نند کو دیکھا۔
’’آپ نے پہلے میرے بھائی کو محبت اور پارسائی کے نام پر دھوکا دیا… پھر میرے خلوص اور محبت سے کھیلا…‘‘ وہ ایک دم چلائی۔
’’ایسی بات نہیں ہے… تمہیں کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔‘‘ خوف اس کی آنکھوں میں ٹھہرسا گیا تھا۔
’’کوئی غلط فہمی نہیں ہوئی… میں نے خود آپ کو رومیو کے گھر ان کے والد کے انتقال والے دن بے ہوش پڑے دیکھا‘ پوچھ سکتی ہوں کہ کیا رشتہ ہے آپ دونوں کے بیچ؟‘‘ اس نے بھڑکتے ہوئے سفینہ کی بات کاٹی۔
’’وہ میرے تایا تھے جن کے انتقال پر میں اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھی تھی۔‘‘ اچانک اس کی آنکھوں کے کٹورے لبریز ہوگئے۔
چند لمحے تو روشنی کو ایسا لگا جیسے کہ اس پر سکتہ طاری ہو گیا ہو‘ گماں سے حقیقت کا سفر کتنا اذیت ناک تھا۔ سفینہ رومیو کی وہ ہی کزن نکلی جس پر وہ مرتا تھا۔ جس کے پیچھے اس نے دنیا چھوڑ دی اور اسے رومیو کا لقب حاصل ہوا۔ اس کے دل کو جلن و حسد کے شعلوں نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
’’مجھے آپ سے مزید کوئی بات نہیں کرنی آپ اس گھر میں اپنے دن گننا شروع کردیں بھائی کے آتے ہی میں آپ کو یہاں سے دھکے مار کر نکلوائوں گی۔‘‘ روشنی نے نفرت زدہ لہجے میں کہا اور وہاں سے اندر کی جانب بڑھ گئی۔ وہ روشنی کی دھمکی پر دل پر ہاتھ رکھ کر نم آنکھوں سے اسے جاتا دیکھ رہی تھی۔
’’فیصلے تو قدرت پہلے ہی طے کردیتی ہے بس ان کا وقت مقرر ہوتا ہے تو کیا اب میرا شاہ سے الگ ہونے کا وقت آگیا ہے؟‘‘ منظر دھندلا گیا اور کئی آنسو بڑی خاموشی سے اس سنہری گالوں پر سے بہتے ہوئے گریبان میں جذب ہوگئے تھے۔
(ان شاء اﷲ باقی آئندہ شمارے میں)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close