Hijaab Nov-17

رخ سخن

سباس گل

فہمی فردوس
سب سے پہلے تو میں حجاب ڈائجسٹ کی پوری ٹیم خصوصاً محترمہ سباس گل کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتی ہوں جنہوں نے مجھے اس قابل سمجھا کہ میرا انٹرویو حجاب کے قیمتی صفحات کی زینت بنایا جائے بہت شکریہ سباس گل اب آتے ہیں آپ کے پوچھے گئے خوب صورت سوالات کے جوابات کی طرف۔
س: کیا لکھنا آسان ہے؟
ج: میرے خیال میں لکھنا آسان ہرگز نہیں۔ ایک رائٹر خوشی اور اذیت کو اپنی روح پر جھیل کر لکھتا ہے وہ اپنے کرداروں کے ساتھ ہنستا ہے روتا ہے لکھنے کے لیے تین چیزیں بہت ضروری ہیں زرخیز دماغ، وسیع مطالعہ اور گہرا مشاہدہ ان میں سے ایک چیز بھی مس ہے تو کامیاب لکھاری نہیں بن سکیں گے۔
س: کوئی ٹاپک لکھتے وقت آپ کو لگتا ہے کہ آپ نے قلم کا حق ادا کردیا؟
ج: جی ہاں، میں جو بھی لکھتی ہوں غور و خوض کرنے کے بعد ہر پہلو پر سوچ کر قلم اٹھاتی ہوں میری کوشش ہوتی ہے کہ لکھتے وقت کہانی کا کوئی بھی پہلو تشنہ نہ رہ جائے باقی پھر بھی کوئی نہ کوئی کمی یا کوتاہی نکل ہی آتی ہے (ہاہاہاہا)
س: زندگی سے کوئی گلہ؟
ج: ایک وقت تھا جب زندگی سے بہت گلے تھے میرا زندگی سے سب سے بڑا گلہ محبت کا نہ ملنا تھا مگر اب یہ گلہ بھی نہیں رہا اللہ نے بہت سی محبتوں سے نواز دیا اب نہیں ہے کوئی بھی گلہ اللہ کا بہت شکر ہے۔
س: آپ کی کتنی بکس مارکیٹ میں آچکی ہیں اور آپ کو اپنی کون سی تحریر زیادہ پسند ہے۔
ج: ایک لکھاری کو اپنی ہر تخلیق سے پیار ہوتا ہے اس کی بکس اسے اپنے بچوں کی طرح محسوس ہوتی ہیں اگر کوئی یہ پوچھے کہ آپ کو اپنا کون سا بچہ زیادہ پسند ہے تو ماں مشکل میں پڑ جاتی ہے ایسے ہی مجھے تو اپنی ہر کتاب اچھی لگتی ہے مگر ’’کرب محبت‘‘ سب سے زیادہ پسند ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کی ہیروئن نورین فلک ناز کے کردار میں مجھے اپنی جھلک دکھائی دیتی ہے شاید میں نے خود کو سامنے رکھ کر ہی یہ کردار تخلیق کیا تھا میرے مارکیٹ میں چار ناول آچکے ہیں الحمدللہ۔
س: اپنی فیملی کے بارے میں بتائیے بچوں میں سے کسی کو لکھنے کا شوق ہے؟
ج: میں ایسی فیملی سے تعلق رکھتی ہوں جہاں کسی کو بھی لکھنے کا شوق نہیں۔ میرے خاوند کو تو میرا لکھنے اور پڑھنے کا شوق ایک آنکھ نہیں بھاتا اور افسوس کے ساتھ کہوں گی کہ میرے بچوں میں سے کسی کو بھی لکھنے اور پڑھنے کا شوق نہیں۔
س: ہمارے ہاں خواتین رائٹرز کو فیملی سپورٹ کم ملتی ہے خاص کر شادی کے بعد آپ کے خیال میں ان حالات میں رائٹرز کو کیا کرنا چاہیے کیا لکھنا چھوڑ دینا چاہیے؟
ج: خواتین رائٹرز کی یہ بد قسمتی ہی کہہ سکتے ہیں کہ انہیں اپنی فیملی کی طرف سے خاطر خواہ سپورٹ نہیں ملتی اپنے زور بازو اور ہمت کے بل بوتے پر بے چاری لگی رہتی ہیں شادی کے بعد یہ صورت حال ہوتی ہے کہ ایک پنجرے سے نکل کر دوسرے میں مقید ہوجاتی ہیں اب باگ ڈور مکمل طور پر شوہر صاحب کے ہاتھ میں آجاتی ہے اور وہ بھی یہ کبھی گوارا نہیں کرتا کہ اس کی بیوی اس کی خدمت کرنے اور گھر سنبھالنے کے علاوہ کوئی ایسا شوق پالے جس میں اس کی اپنی ذات کی تسکین ہو چند خوش قسمت خواتین لکھاریوں کو چھوڑ کر اکثریت کے حالات ایسے ہی ہوتے ہیں جن میں، میں بھی شامل ہوں۔
س:کس جگہ سیر کرنے کو دل چاہتا ہے؟
ج: سیر کرنے کے لیے بہترین جگہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات ہیں مثلاً ناران، کاغان، سوات وغیرہ اگر ملک سے باہر جانے کی بات کریں تو مجھے ترکی دیکھنے کا بہت شوق ہے۔
س: آج کل سب ہی ٹی وی کے لیے لکھ رہے ہیں آپ کا کوئی ناول ہم کبھی ٹی وی ڈرامے کی شکل میں دیکھیں گے؟
ج: ان شاء اللہ بہت جلدی دیکھیں گے۔
س: کیا ادبی سفر کے علاوہ آپ کسی اور شعبے سے بھی وابستہ ہیں؟
ج: جی نہیں، گھر داری کے ساتھ ساتھ ادب کا یہ سفر جاری ہے میرے لیے یہی بہت بڑی بات ہے۔
س: آپ کے خیال میں اچھا ادب کیا ہے؟
ج: اچھا ادب وہ ہے جو آپ کو زندگی کا سلیقہ سکھائے زندگی گزارنے کے سب ڈھب سکھائے ویسے تو اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو اچھے برے کی تمیز قرآن اور حدیث کے ذریعے سکھا دی ہے مگر انسان کی فطرت میں ناشکرا پن بھی بدرجہ اتم موجود ہے اسلام کی قائم کردہ حدود مشکل لگتی ہیں اگر انسان اچھا ادب پڑھے تو شاید کچھ با ادب ہو ہی جائے۔
س: آپ کی نظر میں تخلیق کسے کہتے ہیں؟
ج: میری نظر میں تخلیق اللہ کی سب سے شاندار صفت ہے جس کے ذریعے اس نے تمام کائنات کو تخلیق کیا اس کے بعد تخلیق کا عمل ایک عورت کے ذریعے رہتی دنیا تک ہوتا رہے گا اللہ پاک کا وصف ہے کہ اس نے اپنی تمام صفات کو انسانوں میں بھی تھوڑا تھوڑا تقسیم کر رکھا ہے اگر وہ ایسا نہ کرتا تو انسان مکمل بے بس ہوتا ایسے ہی انسانی ذہن میں بھی اللہ نے اپنا یہ وصف رکھا ہے کہ وہ چیزوں کو تخلیق کرسکتا ہے۔
س: آج کل کے ملکی حالات پر اپنی رائے کا اظہار کیجیے؟
ج: ملکی حالات کا ذمہ دار ایک فرد کو ٹھہرانا میرے خیال میں نا انصافی ہے۔ علامہ اقبال نے کیا خوب فرمایا ہے
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ
ہماری قوم کا مسئلہ یہ ہے کہ ہر فرد ذاتی مفاد کی جنگ میں جتا ہوا ہے ساتھ والوں کے ساتھ کیا ہو رہا ہے کچھ پتا نہیں بے حسی کے عالم میں ہم یہی سب بھگتیں گے جو بھگت رہے ہیں۔
س: معاشرہ کسے کہتے ہیں اور کیا آپ چاہتی ہیں کہ ہمارے ملک میں اسلامی معاشرے کا نفاذ ہو؟
ج: اس سوال کا جواب کچھ اوپر والے جواب میں بھی پوشیدہ ہے معاشرہ افراد کے باہمی تعلق سے وجود میں آتا ہے مختلف قوموں اور خاندانوں کے طور طریقے معاشرے کے خدوخال کو واضح کرتے ہیں ایک خاندان معاشرے کی اکائی کہلاتا ہے اور بہت سی اکائیوں سے معاشرہ تشکیل پاتا ہے یہ تو ہوئی معاشرے کی ڈیفینیشن اب سوال ہے اسلامی معاشرے کا نفاذ بطور مسلمان تو مجھے اس کے حق میں ہی بات کرنی چاہیے مگر بطور انسان اس پر عمل کرنا آج کے دور میں ممکن نہیں لگتا کیونکہ انسان ہمیشہ سے پابندیوں سے فرار کا راستہ اختیار کرتا ہے اسلام نے انسان کو آسانیوں والے دین میں داخل کیا مگر انسان کی جلد باز فطرت نے ہر آسانی کو مزید آسانی میں بدلنے کی ایسی بری خو ڈالی کہ وہ دین فطرت پر عمل کرنے سے ہی گھبرانے لگا پاکستان کو حاصل کرنے کا مقصد بھی یہی تھا مگر آج بھی یہاں سامراجی نظام رائج ہے اللہ ہم مسلمانوں پر اپنا کرم کرے کیونکہ مسلمان اپنے ساتھ خود ظلم کی حد سے گزر چکا ہے۔
س: کیا آپ سمجھتے ہیں کہ انقلاب اب ہماری قوم کے لیے ناگزیر ہے؟
ج:بالکل نا گزیر ہے مگر لائے گا کون وہ دور گیا، جب خالد بن ولید جیسے جری انقلاب لاتے تھے ہمارے معاشرے کا ہر فرد کرپٹ ہے مزدور سے لے کر افسر تک سب کو اپنی اپنی پڑی ہے ملک جائے بھاڑ میں ہر بندہ لوٹنے کے چکر میں ہے انقلاب کے لیے قوم کا بیدار ہونا ضروری ہوتا ہے ہم جیسی قوموں میں انقلاب لانا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے دعا ضرور کرسکتے ہیں کہ یہ سوئی ہوئی قوم جاگ جائے، آمین۔
س: کیا آپ ملکی سیاست میں دلچسپی لیتی ہیں؟
ج: نہیں جی، مجھے سیاست سے کوئی خاص دلچسپی نہیں ہے، حالانکہ میں ایک سیاسی خاندان سے تعلق رکھتی ہوں میرے آبائو اجداد سیاست میں بھرپور حصہ لیتے رہے ہیں۔
س: ادب کے فروغ کے حوالے سے تجاویز دیں؟
ج: ادب کا فروغ ہمارے ملک میں بہت مشکل عمل اس لیے بھی ہے کہ یہاں ادب لکھنے والا اپنی مدد آپ کے تحت کام کر رہا ہے حکومتی سطح پر کچھ نہیں کیا جاتا اور اگر کچھ ہو بھی رہا ہے تو سارے فنڈز خود کھا پی جاتے ہیں ایسے میں غریب ادیب مسودوں کے ڈھیر لیے مارے مارے پھرتے رہتے ہیں حکومت کو چاہیے کہ باقاعدہ کتابوں کی اشاعت کو سستا کیا جائے بلکہ خود بھی اس سلسلے میں ایسے اقدامات کرے جو ادب کے فروغ کے لیے کار آمد ثابت ہوں۔
س: کمپیوٹر کے آنے سے ادب پر کیا اثرات مرتب ہوئے ہیں؟
ج:کتاب پڑھنے کا رجحان کم ہوتا جا رہا ہے کمپیوٹر ایسی ایجاد ہے جس نے دریا کو کوزے میں بند کردیا ہے ہر مسئلے کا حل ایک کلک پہ مل جاتا ہے ایسے میں ادب پر منفی اثرات تو پڑیں گے ہی۔
س: زوال پذیر اور ترقی یافتہ معاشرے کے ادب میں کیا فرق ہے؟
ج: جو کچھ انسان اپنے ارد گرد دیکھتا ہے محسوس کرتا ہے ویسا ہی ادب تخلیق کرتا ہے اب ہمارے جو مسائل ہیں ہم اور ہمارے ادیب اسی پر لکھیں گے جبکہ ترقی یافتہ ممالک کے ادیب اپنے ماحول سے چیزیں اخذ کر کے ان کے متعلق زیادہ لکھیں گے تو ادب میں فرق بھی لازمی پایا جائے گا۔
س: آپ کے پسندیدہ شاعر اور ادیب کون کون سے ہیں؟
ج: شعراء میں مرزا غالب، علامہ اقبال، احمد فراز اور ساغر صدیقی شامل ہیں ویسے تو اچھا شعر یا کلام کہیں بھی مل جائے شوق سے پڑھتی ہوں ادبا کرام میں عصمت چغتائی بشریٰ رحمان، مستنصر حسین تارڑ اور طاہر جاوید مغل شامل ہیں ویسے تو اور بھی بہت سے لکھاری ہیں جو بہت اچھا لکھ رہے ہیں۔
س: بڑے لوگوں کی نشانی ہوتی ہے کہ وہ اپنے پیچھے ورثا چھوڑ جاتے ہیں آپ اپنے پیچھے کیا چھوڑیں گی؟
ج: یہ سوال تھوڑا نہیں کافی مشکل ہے اول تو میں بڑے لوگوں میں شمار ہی نہیں ہوتی بہت عام سی ایک گھریلو خاتون ہوں باقی میرے لیے میرا قیمتی ورثا میری تحریریں ہیں جن کی شاید ہی کسی کی نظر میں کوئی وقعت ہو ویسے بھی ہر انسان اپنے اعمال کی گٹھڑی سر پر لادے اگلے جہان سدھار جائے گا اچھا اخلاق اور حسن سلوک ہی پیچھے چھوڑ جائے گا۔
س: لڑکیوں کے لیے کوئی پیغام یا نصیحت یا مشورہ دینا چائیں گی؟
ج: لڑکیوں کو یہی مشورہ دوں گی خواب ضرور دیکھیں اور ان خوابوں کو پورا کرنے کے لیے دنیا کا مقابلہ کریں ہمت کبھی نہ ہاریں خود کو مردوں سے کمتر ہرگز نہ سمجھیں مگر اپنی نسوانیت اور وقار کو کبھی دائو پر نہ لگائیں۔
س: اپنے آپ کو مستقبل میں کس جگہ اور کس مقام پر دیکھتی ہیں؟
ج: ان شاء اللہ ادب کی دنیا میں نام پیدا کرنے کا ارادہ ہے اسکرپٹ رائٹنگ میں نئے نئے اسلوب متعارف کرائوں گی خود کا مستقبل روشن اور تابناک دیکھتی ہوں۔
س: خود کو کس کا ہم عصر کہہ سکتی ہیں؟
ج: اس کا جواب تو مشکل ہے ہر ایک کی اپنی جگہ اور مقام ہے میں خود کو کسی کا ہم عصر دیکھنے کی بجائے اپنا الگ سے مقام بنانے کی کوشش کروں گی میری خواہش ہے کہ کوئی یہ نہ کہے کہ فہمی فردوس کسی کی نقالی کرتی ہے یا فلاح ادیب کے طرز انداز میں لکھتی ہے میں اپنی الگ شناخت بنانے کی خواہش مند ہوں۔
س: بچپن کیسا گزرا بچپن کا کوئی ایسا واقعہ جو فیز کے ساتھ شیئر کرنا چاہیں؟
ج: میں بچپن سے ہی بہت حساس اور کم گو تھی میری امی ذرا سخت طبیعت کی تھیں ڈانٹ ڈپٹ کرنا ان کی عادت تھی ایک دن امی نے کسی بات پر ڈانٹا پاس بیٹھے ابو جان نے ازراہ مذاق یہ کہہ دیا کہ کیوں میری بیٹی کو ہر وقت ڈانٹی رہتی ہو اس کی سگی ماں بنو سوتیلی نہ بنو… یہ بات میں نے دل سے لگا لی میں سچ سمجھ بیٹھی کہ واقعی میں ان کی سوتیلی بیٹی ہوں یعنی یہ میری سوتیلی ماں ہیں اسی لیے ہر وقت ڈانٹی رہتی ہیں بس پھر کیا تھا ہر وقت چوری چھپے روتی رہتی اس ماں کو یاد کر کے جو مر چکی تھیں جن کا کبھی کوئی وجود ہی نہ تھا اس غم کو سینے سے لگانے کا نتیجہ یہ نکلا کہ میں سخت بیمار پڑ گئی بستر سے جا لگی علاج معالجوں کے لیے ڈاکٹروں سے رابطہ کیا گیا تب کسی ڈاکٹر نے ابو سے کہا کہ بچی کو کوئی پریشانی ہے جسے یہ اکیلی خود پر جھیل رہی ہے ابو نے پیار سے مجھ سے پوچھا تو میں نے روتے روتے سب بتا دیا ابو شاکڈ رہ گئے وہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ ان کی مذاق میں کہی گئی بات کو میں اتنا سیریس لوں گی انہوں نے قسمیں کھا کر مجھے یقین دلایا کہ یہ تمہاری سگی ماں ہے امی نے بھی سینے سے لگا کر بہت پیار کیا تب جا کر مجھے یقین آیا اور میری طبیعت بھی سنبھلنا شروع ہوگئی۔
س: بچپن میں کیسی تھیں شرارتی نٹ کھٹ، یا بھولی بھالی سنجیدہ سی؟
ج: میں بچپن میں شرارتی اور نٹ کھٹ بالکل نہیں تھی سنجیدہ اور بردبار قسم کی بچی تھی ہر چیز کو غور سے دیکھا اور سوچا کرتی شروع سے ہی سوچنے کی بیماری ہے جو آج بھی ہم رکاب ہے۔
س: تعلیم کہاں تک حاصل کی تعلیم نے آپ کو سنوارا تو کس حد تک؟
ج: انٹر کیا تو شادی ہوگئی شادی کے بعد بی اے کیا تعلیم انسان کو سوچنے سمجھنے کا شعور دیتی ہے مجھے بھی یقینا دیا مگر نصابی تعلیم سے زیادہ مجھے غیر نصابی کتب نے سنوارا مطالعہ نے مجھے ذہنی وسعت اور قابلیت بخشی اگر میں یہ کہوں کہ اسی عادت کی بدولت میں رائٹر بنی تو یہ بات غلط نہ ہوگی۔
س: لوگوں سے کس حد تک ملنا پسند ہے کیا خود کو ملنسار کہہ سکتی ہیں؟
ج: لوگوں سے ملنا اچھا لگتا ہے مگر بنیادی طور پر تنہائی پسند ہوں زیادہ دیر تک ہجوم میں رہوں تو دل گھبرانے لگتا ہے۔
س: مہمان نواز ہیں؟
ج: جی ہاں بالکل مہمان نواز ہوں مہمان نوازی تو سنت نبوی ہے ایک مسلمان کی شان ہے۔
س:ناولز کی ہیروئنز کی طرح کبھی ڈائری لکھی؟
ج: جی نہیں باقاعدہ تو نہیں لکھی ہاں کبھی کبھار کوئی روز مرہ دلچسپ واقعہ لکھ لیتی ہوں یادداشت کے طور پر۔
س: بچپن کی کوئی ایسی شرارت جس پر بہت مار پڑی ہو؟
ج: نہیں جی، کبھی کوئی ایسی شرارت نہیں کی جس پر بہت مار پڑی ہو بلکہ کم مار والی شرارت بھی نہیں کی (ہاہاہاہاہا)
س: بچپن میں گڑیوں سے کھیلا؟
ج: بہت کم جس عمر میں بچیاں گڈے، گڑیوں سے کھیلتی ہیں میں اس عمر میں ابا جان کی لائبریری سے موٹی کتابیں پڑھا کرتی تھیں۔
س: پاکٹ منی کتنی ملا کرتی تھی اور آپ کیسے خرچ کیا کرتی تھیں؟
ج: ٹھیک سے تو یاد نہیں غالباً دو یا تین روپے ملا کرتے تھے اور میں ان پیسوں سے اسکول کے ساتھ بنی ہوئی اسٹیشنری کی دکان سے بچوں والے رسالے خرید لیا کرتی تھی عمر و عیار اور ٹارزن والے۔
س: گول گپے، املی، چورن، گچک شوق سے کھایا کرتی تھیں؟
ج: بالکل شوق سے کھایا کرتی تھی گول گپے تو ابھی بھی شوق سے کھاتی ہوں۔
س: فیورٹ سبجیکٹ کون سا رہا آپ کا؟
ج: انگلش اور فارسی۔
س: گھر میں سب سے زیادہ کس سے اٹیچڈ ہیں؟
ج:اپنی بیٹی سے‘ میں سمجھتی ہوں دنیا میں سب سے پیارا اور مخلص رشتہ ماں اور بیٹی کا ہے۔
س: بچپن میں کیا سوچتی تھیں بڑی ہو کر کیا بنیں گی؟
ج: سوچنے والا کام تو میں بہت کرتی تھی (ہاہاہاہا) اس وقت یہی سوچتی تھی کہ بڑی ہو کر مصورہ بنوں گی۔ پینٹنگ کی دنیا میں نام پیدا کروں گی بچپن میں بڑے شاندار اسکیچ بنایا کرتی تھی لیڈ پنسل کے ساتھ۔
س: خواب دیکھتی ہیں کیا آپ کے خواب پورے ہوتے ہیں؟
ج: جی بالکل خواب دیکھتی ہوں اور میرے خیال میں ہر انسان کو خواب دیکھنے چاہیے کیونکہ میں سمجھتی ہوں منزل پر پہنچنے کے لیے خواب پہلی سیڑھی ہوتے ہیں میں نے جو بھی خواب دیکھے تھے ان میں سے آدھے پورے ہوچکے ہیں اور جو باقی رہ گئے ہیں وہ بھی ضرور پورے ہوں گے ان شاء اللہ۔
س: کون ہے جس سے دل کی ہر بات کہہ دیتی ہیں؟
ج: ایک دو دوست ہیں ایسے جن سے دل کی ہر بات شیئر کرلیتی ہوں۔
س: اپنے اور اپنی فیملی کے بارے میں کچھ بتائیں؟
ج: میرے والد اور چچائوں کا شہر کے با عزت اور با اثر افراد میں شمار ہوتا ہے سیاست میں بڑا نام ہے ان کا میرے دادا گائوں کے نمبردار تھے یہ الگ بات ہے کہ مجھے سیاست سے کوئی دلچسپی نہیں ہوش سنبھالتے ہی کتابوں سے دل لگا لیا۔
س: مزاجاً کیسی ہیں؟
ج: غصے کی تیز اور جذباتی پل میں تولہ اور پل میں ماشہ دن میں متعدد مرتبہ موڈ بدلتا ہے ویسے مجموعی طور پر خوش اخلاق اور ہنس مکھ ہوں زندہ دل اور حاضر جواب لوگ پسند ہیں۔
س: کوکنگ کا شوق کس حد تک ہے؟
ج: کوکنگ کا کوئی خاص شوق نہیں بس کام چلائو والا پکاتی ہوں۔
س: آپ کے ہاتھ کی کون سی ڈش ہے جسے آپ کے بچے اور شوہر شوق سے کھاتے ہیں؟
ج: میرے خیال میں بریانی اچھی پکاتی ہوں۔
س: کبھی باہر کھانے کا موڈ ہو تو کیا کھانا پسند کرتی ہیں؟
ج: باہر کھانے کا موقع ملے تو فش یا پھر بار بی کیو کھانا پسند کرتی ہوں۔
س: زندگی کا خوب صورت لمحہ؟
ج: بہت سے لمحات ہیں مثلاً جب پہلی بار ماں بنی تھی یا پھر جب میری پہلی تخلیق میرے ہاتھ میں آئی تھی یعنی میرا ناول اور بھی بہت سے خوب صورت اور ناقابل فراموش لمحات ہیں۔
س: زندگی کا کل اثاثہ؟
ج: نیک اور صالح اولاد۔
س: کوئی ایسی بات جس سے چڑ ہو۔
ج: جھوٹ اور منافقت سے بہت چڑ ہے بلکہ نفرت ہے۔
س: فیس بک پیجز اور گروپس کے بارے میں کیا رائے ہے؟
ج: کچھ گروپس ہیں ایسے جو معیاری ادب کی نمو کر رہے ہیں باقی اکثریت کھیل تماشوں میں مشغول رہتے ہیں میں ایسے گروپس کو وقت کے ضیاع کے علاوہ اور کچھ نہیں سمجھتی۔
س: آٹو گراف بک پر کیا لکھنا پسند کرتی ہیں؟
ج: کوئی بھی… کچھ بھی پیار بھرا چھوٹا سا جملہ ویسے میں بہت کم لوگوں کو آٹو گراف دیتی ہوں بکس گفٹ کروں تو بغیر آٹو گراف کے کردیتی ہوں فرینڈز بے چاری گلے شکوے کرتی رہتی ہیں کئی کئی دن تک۔
س: آپ کو شاعری کرنے میں زیادہ لطف آتا ہے یا ناول لکھنے میں؟
ج: شاعری تو کبھی نہیں کی شاعری کے ساتھ لگائو صرف سننے یا پڑھنے کی حد تک ہے باقی مجھے ناول لکھنا زیادہ پسند ہے رائٹر کھل کر اپنی بات لکھ سکتا ہے کوئی حد بندی یا پابندی نہیں ہوتی۔
س: زندگی کو کیسا پایا؟
ج: زندگی پھولوں کی سج نہیں، آئیڈیل زندگی گزارنے کے لیے کافی محنت اور جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔
س: گھر سے نکلتے وقت کون سی تین چیزیں ساتھ رکھتی ہیں؟
ج: موبائل فون کے علاوہ تو کوئی ایسی چیز نہیں ہوتی جو ہر وقت ساتھ لے جانی ضروری ہو۔
س: اگر آپ کو گہری نیند سے جگایا جائے تو کیا غصہ آتا ہے؟
ج: ہاہاہاہاہا یہ تو فطری سی بات ہے کسی کو بھی گہری نیند سے جگایا جائے اسے غصہ تو آئے گا ہی مجھے بھی آجاتا ہے۔
س: رائٹرز کو ملنے والے معاوضے سے آپ مطمئن ہیں؟
ج: بالکل نہیں ہمارے ملک میں لکھنے والوں کی کوئی قدر نہیں انہیں شرمناک حد تک کم معاوضہ دیا جاتا ہے۔
س: اگر آپ کو پاکستان کا وزیر اعظم بنا دیا جائے تو آپ پہلا کام کیا کریں گی؟
ج: سب سے پہلے تعلیم کے شعبے میں انقلابی اقدامات اٹھائوں گی غریب اور امیر دونوں کو یکساں نظام تعلیم مہیا کرنے کی پوری کوشش کروں گی۔
س: نیچر کے علاوہ کیا متاثر کرتا ہے؟
ج: نیچر کے علاوہ خوب صورت، صاف ستھرے اور ڈیکوریٹڈ گھر اٹریکٹ کرتے ہیں۔
س: کون سی ایسی ڈش ہے جو ہر وقت کھانے کے لیے تیار رہتی ہیں؟
ج: کریلے گوشت ایسی ڈش ہے جو میں دو تین دن تک مسلسل کھا سکتی ہوں دل ہی نہیں بھرتا۔
س: کیا آپ مزاجاً بہت جذباتی ہیں یا ٹھہرائو ہے مزاج میں۔
ج: بہت جذباتی ہوں ٹھہرائو اور صبر کی بہت کمی ہے۔
س: کیا آپ اچھی رازداں ہیں؟
ج: ہاں بالکل… میں بہت اچھی راز داں ہوں لوگوں کی باتوں کو امانتوں کی طرح سنبھال کر رکھتی ہوں۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close