Hijaab Oct-17

رخ سخن

سباس گل

سوال: آپ کا تعارف، تعلیم، علاقہ، مشغلہ، وغیرہ؟
جواب: میں نے کیمسٹری میں ایم ایس سی کی ہے اور چھانگا مانگا کے قریب ایک قصبے نما شہر چونیاں سے تعلق رکھتی ہوں۔ مجھے کتابیں پڑھنا، لکھنا اور لوگوں کی نفسیات کو سمجھنا بے حد پسند ہے۔
سوال: آپ کے لکھنے کی ابتدا کس طرح اور کس عمر میں ہوئی؟
جواب: میٹرک کے بعد اپنی کاپی نما ڈائری میں اپنے خیالات لکھتی رہتی۔ اپنی خوشیاں اپنی شیئرنگ اپنی فرسٹریشن سب میں کاپی کے صفحات پر اتارتی جب ماسٹرز میں آئی تو مجھے لگا کہ جو کہانیاں میں پڑھتی ہوں اسی طرح کی کہانیاں میں اپنے ارد گرد بھی محسوس کرتی ہوں سو مجھے بھی لکھنا چاہیے پھر میں نے افسانہ لکھا اور پہلا افسانہ ہی پبلش ہوگیا اور یونہی سلسلہ چلتا رہا۔
سوال: ادبی دنیا میں کن شخصیات سے آپ متاثر ہیں؟
جواب: ادب میں بہت کم لوگوں کوپڑھا لیکن جن کو پڑھا مزہ آگیا نسیم حجازی، آل ٹائم فیورٹ ہیں، مستنصر حسین تارڈ، امجد اسلام امجد، طارق اسماعیل ساگر، عمیرہ احمد، نمرہ احمد، ابو یحییٰ یہ سب بہت پسند ہیں۔
سوال: آپ کا اثاثہ؟
جواب: میری فیملی۔
سوال: محبت کیا ہے؟
جواب: محبت وہ آفاقی جذبہ ہے کہ اگر یہ دل کی تمام سچائیوں کے ساتھ آپ اپنا لو تو دنیا کا نقشہ بدل جائے دلوں کو تسخیر کرنے کے لیے محبت سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں۔
سوال: مزاجاً کیسی ہیں؟
جواب: خوش اخلاق اور رحم دل ہوں لوگوں کی تکلیفوں پر جلدی رو پڑتی ہوں کسی کو دکھ میں نہیں دیکھ سکتی۔ حتیٰ کہ چرند پرند کو بھی۔
سوال: غصہ آتا ہے، اگر آتا ہے تو کن لوگوں پر آتا ہے اور کن باتوں پر آتا ہے؟
جواب: غصہ آتا ہے اور ان لوگوں پر آتا ہے جو غلط بات کر کے اس پر ڈٹے رہتے ہیں جو دوسروں کی دل آزاری کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں اور جن میں کچھ بھی نہ ہو پھر بھی وہ اپنے کچھ نہ ہونے پر بھی متکیر رہتے ہیں۔
سوال: کیا آپ مزاجاً بہت جذباتی ہیں یا ٹھہرائو ہے آپ کے مزاج میں؟
جواب: میرے مزاج میں ٹھہرائو ہے۔
سوال: کیا آپ اچھی راز دان ہیں؟
جواب: جی ہاں۔
سوال: مرد اور خاتون رائٹر کی طرز تحریر میں بنیادی فرق کیا محسوس ہوتا ہے؟
جواب: مرد اور خاتون رائٹر کی تحریر میں بنیادی فرق میری نظر میں سینس آف اسٹیبلیٹی ہے مجھے لگتا ہے مرد خیالات کی رو میں ایک سمت بھٹکتا ہے جبکہ عورت لکھتے ہوئے کئی سمتوں میں بٹ جاتی ہے عورت جذبات و احساسات کے صحرا میں بھٹکتی ہے اور مرد احساسات کی سیدھی گلیاں اور شاہراہیں بنا لیتا ہے۔
سوال: اگر آپ سے کہا جائے کہ آپ لکھنا چھوڑ دیں تو؟
جواب: تو مجھے یوں لگے گا جیسے میں سانس لینا چھوڑ چکی ہوں۔
سوال: کن کیڑوں سے ڈر لگتا ہے؟
جواب: ہر ایک کیڑے سے۔
سوال: اپنی غلطی کا اعتراف کرلیتی ہیں؟
جواب: جی۔
سوال: دل کی سنتی ہیں یا دماغ کی؟
جواب: باوقت ضرورت دونوں کی سن لیتی ہوں ویسے دل کی سننا زیادہ پسند ہے پر اس سوسائٹی میں رہنے کے لیے دماغ کی بھی سنی پڑتی ہے۔
سوال: بوریت کس طرح دور کرتی ہیں؟
جواب: بہنوں سے باتیں کر کے، دوستوں سے باتیں کر کے کچھ پڑھ کر قرآن کے لیکچر سن کر۔
سوال: نصیحت جو بری لگتی ہے؟
جواب: جب کوئی زیادتی کرے تو آگے سے بڑے بہن بھائی یہ کہہ دیں تمہیں صبر کرنا چاہیے حوصلہ کرنا چاہیے بعض دفعہ کہنا آسان لگتا ہے اور کرنا مشکل۔
سوال: آپ صاف گو ہیں؟
جواب: خطرناک حد تک صاف گو اور اسی صاف گوئی کی بنیاد پر بہت سارے خطرات مول لے لیتی ہوں اتنا صاف گو نہیں ہونا چاہیے کہ رشتے دائو پر لگ جائیں پر غلط بات اور غلط بیانی سے مجھے شدید نفرت ہے۔
سوال: وقت کی پابندی کرتی ہیں؟
جواب: بہت شرمندگی کے ساتھ بتائوں گی کہ وقت کی پابندی مجھ سے نہیں ہوتی اللہ مجھ میں یہ عادت ڈال دے۔
سوال: ہاتھ سے کھانا پسند ہے یا…؟
جواب: ہاتھ سے کھانا پسند ہے۔
سوال: ایک شخصیت جن کو اغوا کرنا چاہتی ہوں؟
جواب: بھارت اور اسرائیل کے صدر اور وزیر اعظم ان کو اغوا کر کے سمندر میں پھینکنا پسند کروں گی کیونکہ فلسطین اور کشمیر کے حالات رلاتے ہیں اب تو شام کے وزیر اعظم اور صدر کو بھی دل کرتا ہے مائونٹ ایورسٹ سے دھکا دے دوں
سوال: خدا کی بہترین تخلیق؟
جواب: ماں اور بہن۔
سوال: پیسہ محنت سے ملتا ہے یا قسمت سے؟
جواب: دونوں طریقوں سے۔
سوال: دن کے کس حصے میں خود کو فریش محسوس کرتی ہیں؟
جواب: مغرب کے بعد فجر سے پہلے۔
سوال: اپنے تجربے سے سیکھتی ہیں یا دوسروں کی غلطیوں سے؟
جواب: دوسروں کی غلطیوں سے۔
سوال: طبیعت میں ضد ہے؟
جواب: نہیں۔
سوال: ماں کا دیا ہوا بہترین تحفہ؟
جواب: عاجزی، سادگی۔
سوال: مخلص کون ہے؟
جواب: اللہ اور ماں۔
سوال: چھٹی کا دن کہاں گزارنا پسند ہے؟
جواب: جہاں میری بہنیں ہوں، دوستیں ہوں۔
سوال: ڈریسز میں کیا پسند ہے؟
جواب: شلوار قمیص۔
سوال: گھر کے کس کونے میں سکون ملتا ہے؟
جواب: اپنے کمرے میں۔
سوال: کس کے ایس ایم ایس کا فوری جواب دیتی ہیں؟
جواب: بھائی کے… خاوند کے۔
سوال: زندگی سے کیا سیکھا یا یوں کہیے آپ کی زندگی کا نچوڑ کیا ہے؟
جواب: زندگی جہد مسلسل کے سوا کچھ نہیں، کبھی ہار نہ مانیں کبھی کمزور نہ پڑیں زندگی کو وہی لوگ صحیح طرح جی سکتے ہیں جو اللہ پر ہر اچھے برے وقت میں کامل یقین رکھتے ہیں۔ یقین کو پتھر سے بھی زیادہ مضبوط رکھیں اور بے یقینی کی گنجائش بھی نہ پیدا ہونے دیں تو زندگی بے حد حسین ہے۔
سوال: مشکل یا پریشانی میں ہوں تو کیا کرتی ہیں؟
جواب: اللہ سے رجوع کرتی ہوں۔
سوال: آپ کے خیال میں اچھا ادب کیا ہے؟
جواب: اچھا ادب وہ ہے جس سے آپ معاشرے میں تبدیلی دیکھو ایسا ادب جو علامہ اقبال نے تحریر کیا اور مردہ قوم میں روح پھونکی ایسا ادب جو عمیرا نے تخلیق کیا اور گھریلو عورت کو خاص بنا دیا ایسا ادب جو نمرہ لکھتی ہے تو اسلام سے محبت پیدا کردیتی ہے ادب وہ جو تبدیلی دکھائے جو روح سے ابھر کر آپ کی حرکات و سکنات میں نظر آئے آپ کے لیے معاشرتی شعور کی روشنی پیدا کر دے۔
سوال: آج کے ملکی حالات پر رائے کا اظہار کیجیے؟
جواب: ملکی حالات دیکھ کر ہمیشہ سے مایوسی ہی ہوتی رہی ہے لیکن اب کوئی امید بندھی ہے عمران خان کے تبدیلی کے نعرے کو دیکھ کر۔
سوال: اپنے آپ کو مستقبل میں کس جگہ، کس مقام پر دیکھتی ہیں؟
جواب: مستقبل میں اپنے آپ کو ایک اچھی ڈرامہ نگار کے طور پر دیکھتی ہوں۔
سوال: لوگوں سے کس حد تک ملنا پسند کرتی ہیں کیا خود کو ملنسار کہہ سکتی ہیں؟
جواب: میں ریزرو فطرت کی ہوں لوگوں سے ملتی ہوں بس ایک حد تک لیکن جس سے فرینک ہوجائوں اس سے کافی ملنسار ہو کر ملتی ہوں۔
سوال: مہمان نواز ہیں؟
جواب: جی ہاں۔
سوال: اپنے ملک کے بارے میں کیا سوچتی ہیں؟
جواب: میں سوچتی ہوں کہ ہمارا ملک دنیا کا ایک خوب صورت خطہ ہے جسے سنوارنے کے لیے مخلص ایماندار اور محب وطن لوگوں کی اشد ضرورت ہے۔
سوال: بچپن میں گڑیوں سے کھیلتی تھیں؟
جواب: جی ہاں، مجھے گڑیوں سے کھیلنا بہت اچھا لگتا تھا۔
سوال: گھر میں سب سے زیادہ کس سے اٹیچ ہیں؟
جواب: اپنی دو بہنوں اور ایک بھتیجی باسرہ سے بہت اٹیچ ہوں۔
سوال: کون ہے جس سے دل کی ہر بات کہہ دیتی ہیں؟
جواب: اللہ سے۔
سوال: زندگی کا خوب صورت لمحہ؟
جواب: جب میری پہلی تحریر شائع ہوئی۔
سوال: کوئی ایسی بات جس پر پچھتاوا ہو؟
جواب: کہ میں نے ہاسٹل لائف زیادہ گزاری اور اپنی امی کے ساتھ زیادہ وقت نہ گزارا اور جب وہ دنیا چھوڑ گئیں تو یہ بات میرے دل میں کانٹے کی طرح چبھنے لگی۔
سوال: زندگی سے کوئی گلہ؟
جواب: کہ میرے والدین اتنی جلدی چھوڑ کر کیوں چلے گئے۔
سوال: شادی کے بعد لکھنے کے لیے فیملی سپورٹ ملی؟
جواب: جی ہاں صرف شوہر کی سپورٹ ملی۔
سوال: اگر فیملی سپورٹ نہ ہو تو آپ کے خیال میں ایک رائٹر کو لکھنا چھوڑ دینا چاہیے۔
جواب: ہر گز نہیں، اسے اچھے وقت کا انتظار کرنا چاہیے کیونکہ وقت ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا اور قلم سے ناطہ بالکل نہیں توڑنا چاہیے۔
سوال: کس جگہ سیر کرنے کو دل چاہتا ہے؟
جواب: پوری دنیا گھومنے کو دل کرتا ہے۔
سوال: ٹی وی کے لیے لکھ رہی ہیں؟
جواب: جی ایک ڈرامہ سیریل پر کام ہو رہا ہے اور ایک ٹیلی مووی لکھی ہے۔
سوال: فیس بک کے بارے میں آپ کے خیالات؟
جواب: فیس بک کو امن کی جگہ بنا کر ہی استعمال کرنا چاہیے لیکن آج کل فیس بک پر صرف لڑائی جھگڑے ہو رہے ہیں ایف بی کم دنگل کھیلنے کا میدان زیادہ لگتا ہے۔
سوال: نوجوان لڑکیوں کے لیے کوئی نصیحت؟
جواب: اپنی انا اور وقار کے ساتھ کبھی کمپرومائز نہ کریں جب تک آپ اپنی عزت خود نہیں کریںگی کوئی آپ کی عزت نہیں کرے گا لڑکیوں کو لچکیلی شاخ کی مانند نہیں ہونا چاہیے بلکہ ایک مضبوط چٹان کی طرح بہادر اور مضبوط کردار کا حامل ہونا چاہیے۔
سوال: کن ڈائجسٹ میں اب تک لکھا ہے اور مزید کہاں لکھ رہی ہیں؟
جواب: میں نے شعاع، خواتین، کرن اور ایک آن لائن ڈائجسٹ الف کتاب کے لیے لکھا ہے اور اب ٹی وی چینلز کے لیے کام کر رہی ہوں۔
سوال: بڑے انسانوں کی نشانی ہوتی ہے کہ وہ اپنے پیچھے ورثہ چھوڑ جاتے ہیں آپ کیا سمجھتے ہیں کہ ورثہ میں کیا چھوڑیں گی؟
جواب: نیک اولاد اور اچھی تربیت تاکہ ورثا میں چھوڑی چیز صرف ایک زمانے کے لوگوں کے لیے فائدہ مند نہ ہو بلکہ ہر نسل کے اندر اچھی ویلیو پروان چڑھے۔
سوال: اﷲ اور دعا پر کتنا یقین ہے؟
جواب: بے حد دعا ہی تو یقین کامل ہے اور ایک دوستی ہے جو انسان اور اﷲ کے رشتے کو مزید مضبوط کرتی ہے۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close