hijaab Dec-17

میرے خواب زندہ ہیں(قسط نمبر25)

نادیہ فاطمہ رضوی

(گزشتہ قسط کا خلاصہ)
فراز کو اپنے گھر پر دیکھ کر ماریہ ششدر رہ جاتی ہے وہ ابرام کے دوست کے طور پر ابرام کے ساتھ ہی اس کے گھر آتا ہے اس دوران ماریہ اپنی دیگر مشکلات کا بتاتے رابطہ نہ کرنے کی وجہ بتاتی ہے فراز کو لگتا ہے کہ اس راز میں ابرام کو شامل کر لینا چاہیے لیکن ماریہ فی الحال اپنے بھائی کو فراز کی سچائی بتانے سے انکاری ہوتی ہے وہ جیکولین سے اپنے سابقہ رویوں کی معافی مانگتی محبت کی طلبگار ہوتی ہے ایسے میں جیکولین اس کے بدلے رویے پر خود بھی نرم ہوجاتی ہے اور اس کی محبت کا جواب محبت سے دیتی ہے۔ جیسکا اپنے طور ماریہ کے ارادے جاننا چاہتی ہے لیکن اب ماریہ بے حد محتاط ہو کر اس سے بات کرتی ہے اور اس بات پر اکساتی ہے کہ وہ جلد ولیم کو راضی کرے تاکہ وہ اس سے اپنے تعلقات بحال کرسکے۔ باسل اپنے دوستوں کے ہمراہ مری جاتا ہے اور اسی ریسٹورنٹ میں قیام کرتا ہے جہاں لالہ رخ کام کرتی ہے وہاں ایک لڑکا لالہ رخ سے بد تمیزی کرتا ہے جس پر باسل کی اس سے تلخ کلامی ہوجاتی ہے زرتاشہ باسل کو وہاں دیکھ کر چونک جاتی ہے اور لالہ رخ کو بتاتی ہے کہ وہ شخص کوئی اور نہیں بلکہ فراز شاہ کا کزن ہے جس پر لالہ رخ دنگ رہ جاتی ہے۔ مومن جان اپنے ارادوں میں ناکام ہونے پر نہایت بد مزہ ہوتا ہے اور جب ہی وہ مہرو اور اس کی ماں سے الجھتا ہے دونوں کے درمیان تلخ کلامی بڑھتی جاتی ہے۔ ابرام اور فراز کی دوستی مزید بڑھ جاتی ہے ایسے میں فراز کی غیر موجودگی میں اس کے نمبر پر لالہ رخ کی کال آتی ہے ابرام بے ساختہ کال ریسیو کرلیتا ہے اور اپنا تعارف فراز کے دوست کے طور پر کراتا اس کے نام کی تعریف کرتا ہے ایسے میں لالہ رخ کوئی بات کیے بغیر فون رکھ دیتی ہے ابرام یہ بات فراز کو بتا دیتا ہے۔ حورعین اپنے ماضی کو لے کر ڈسٹرب ہوتی ہے اسی دوران وہ خاور حیات کے ساتھ بالکل سرد مہری کا رویہ اپناتی ہے جس پر خاور اس سے وجہ دریافت کرتا ہے لیکن وہ کچھ بھی نہیں بتا پاتی۔ ڈاکٹرز کے مطابق وہ ذہنی طور پر ڈسٹربنس کا شکار ہوتی ہے اور اپنے ماضی میں گم ہو کر حال کو فراموش کردیتی ہے حورعین کی یہ حالت باسل اور خاور دونوں کے لیے تکلیف دہ ہوتی ہے۔ سونیا اپنے طور کامیش کو رضا مند کرنے کی بھرپور سعی کرتی ہے اور اسی لیے وہ اپنی سسرال چلی آتی ہے لیکن کامیش اسے یکسر نظر انداز کردیتا ہے۔ گڈو اور مومن جان کا جھگڑا شدت اختیار کرتا ہے تو وہ مہرینہ کے متعلق ہر بات سب پر ظاہر کرنے کا ارادہ کرتا ہے گڈو اس کے ارادے جان کر شاکڈ رہ جاتی ہے اور اس کی طبیعت بگڑ جاتی ہے۔
(اب آگے پڑھیے)
ء…/…ء
گڈو بیگم اس فانی دنیا کو خیر آباد کہہ کر اپنے خالق حقیقی سے جاملی تھیں تمام زندگی وہ امتحان مسلسل میں گھر کر آخر میں مہرو کی فکر اپنے سینے میں لے کر قبر میں جا سوئی تھیں ان کی اس طرح اچانک موت نے لالہ رخ زرتاشہ اور امی کو بے حد صدمہ پہنچایا تھا‘ مہرو اس کا تو بے حد برا حال تھا اسے مسلسل غش پر غش آرہے تھے ماں جیسا مضبوط سائبان اور زمانے کے سردو گرم سے عافیت دینے والی گود اس سے ہمیشہ کے لیے چھن گئی تھی اس کے لیے تو ایک ماں کا ہی رشتہ تھا جبکہ باپ نے تو برائے نام بھی اپنا فرض ادا نہیں کیا تھا‘ وہ جتنے بھی آنسو بہاتی‘ جتنا بھی تڑپتی سسکتی کم تھا کیوں کہ ماں جیسی عظیم ہستی کی جدائی ہی انتہائی جاں گسل تھی جو اسے اس بھری سفاک دنیا میں اکیلا و تنہا چھوڑ کر چلی گئی تھی۔ لالہ رخ اور اس کی امی ابھی تک ایک سکتے کی کیفیت میں مبتلا تھیں کہ یہ آناً فاناً ہوکیا گیا جب قضاء الٰہی سر پر آن پہنچتی ہے تو سب کچھ اسی تیز رفتاری سے ہوجاتا ہے جیسا گڈو بیگم کے ساتھ ہوا تھا۔ لالہ رخ نے روتے ہوئے فون پر زرتاشہ کو پھوپو کے گزر جانے کی اطلاع دی تھی۔ زرتاشہ کے لیے بھی یہ خبر کسی شاکڈ سے کم نہیں تھی وہ زرمینہ کے گلے لگ کر رو دی تھی وہ تو گڈو بیگم کے جنازے پر شریک ہونا چاہتی تھی مگر اتنی جلدی وہاں پہنچنا اس کے لیے ممکن نہیں تھا۔ بس ایک زرمینہ تھی جو اسے سنبھالے اس کا دکھ بانٹ رہی تھی‘ زرتاشہ کو بار بار مہرو کا خیال آرہا تھا جو اس حادثے کی وجہ سے غم سے نڈھال ہوگی۔ تمام آس پڑوس اور رشتے دار بھی ملول و مغموم تھے مگر صرف ایک مومن جان تھا جس کا چہرہ ہر طرح کے جذبات و احساسات سے عاری تھا جو انتہائی نارمل انداز میں لوگوں سے اپنی بیوی کی تعزیت وصول کررہا تھا۔ مغرب سے پہلے مرد حضرات تدفین سے فارغ ہوکر گھر آگئے تھے۔
پورا گھر سوگواری کی کیفیت میں ڈوبا ہوا تھا جبکہ مہرو گھر میں آئے لوگوں سے بے نیاز اپنے کمرے کے ایک کونے میں سکڑی سمٹی بیٹھی تھی۔ لالہ رخ اس کے پاس آئی تو اس کی دگرگوں حالت دیکھ کر اس کا دل دکھ سے بھر گیا شدت غم سے اس کے چہرے کی رنگت زرد و سفید ہوگئی تھی‘ بال بھی بے ترتیب سے ہوکر اِدھر اُدھر بکھرے ہوئے تھے۔ لالہ رخ سہولت سے دو زانو ہوکر اس کے قریب بیٹھ گئی اور ہولے سے اپنا بایاں ہاتھ اس کے گھٹنے پر رکھتے ہوئے دل گرفتگی سے گویا ہوئی۔
’’مہرو پیاری بہن‘ یہ تم نے اپنی کیا حالت بنا رکھی ہے خود کو سنبھالو میری جان‘ دیکھو تم اس طرح کرو گی ناں تو پھوپو کی روح کو تکلیف پہنچے گی۔‘‘ لالہ رخ کی بات پر مہرو کی سوجی آنکھوں سے ایک بار پھر آنسوئوں کی آبشار پھوٹ پڑی۔ وہ تڑپ کر سیدھی ہوتے ہوئے لالہ رخ کا ہاتھ بڑی لجاجت سے اپنے دونوں ہاتھوں میں لیتے ہوئے کراہ کر بولی۔
’’لالہ… سنو لالہ‘ بس ایک بار صرف ایک بار میری ماں کو میرے پاس لے آئو مجھے اس سے ملوا دو میں… میں اس کے گلے لگنا چاہتی ہوں‘ اس کے ہاتھوں اور چہرے کو ڈھیر سارا چومنا چاہتی ہوں… میں اپنی اماں سے معافی مانگنا چاہتی ہوں لالہ… میں اسے بہت ستاتی تھی ناں‘ اسے بہت تنگ کرتی تھی‘ اس کی بات ہی نہیں مانتی تھی۔‘‘ آخر میں اس کا جملہ خود کلامی کی کیفیت میں ڈھل گیا تھا۔ لالہ رخ اپنے دل میں تکلیف کی ایک تند لہر محسوس کرکے اسے انتہائی دکھ سے دیکھتی رہی۔ ایک دم اسے بے پناہ وحشت سی ہوئی اس نے بے اختیار اپنے دونوں ہاتھ مہرو کے بازوئوں میں رکھ کر اسے جھنجھوڑ ڈالا۔
’’مہرو اللہ کے واسطے خود کو سنبھالو‘ ہوش میں آئو…‘‘ مگر مہرو ایک ہی جملے کی تکرار کرتے ہوئے لالہ رخ کے ہاتھوں میں ڈھے کر ایک بار پھر دنیا و مافیہا سے بے خبر ہوگئی تھی۔
ء…/…ء
’’میں پاگل سا ہوگیا ہوں وہ لڑکی میرے حواسوں پر بری طرح سوار ہوگئی ہے‘ ہر لمحہ ہر پل وہ میری نگاہوں کے سامنے براجمان رہتی ہے۔ بس مجھے کسی بھی صورت اسے حاصل کرنا ہے۔‘‘ وہ انتہائی جذباتی ہوکر بولا تو اس کے دوست نے ترچھی نگاہوں سے اسے دیکھا پھر استہزائیہ انداز میں بولا۔
’’تو اتنا اس لڑکی کے لیے بے قرار ہوئے جارہا ہے تو پھر شادی کرے گا اس سے۔‘‘ اس بات پر اس نے انتہائی تادیبی نگاہوں سے اپنے دوست کو دیکھا پھر نخوت سے سر جھٹکتے ہوئے ناگواری سے بولا۔
’’واٹ ربش… وہ معمولی اور مڈل کلاس لڑکی میری بیوی بننے کے قابل نہیں‘ ہونہہ میں تو صرف اسے…‘‘ آگے اس نے زرتاشہ کے لیے انتہائی اخلاق سو الفاظ ادا کیے تھے پھر کف افسوس ملتے ہوئے بولا۔
’’کاش اس رات احمر کی بہن کی مہندی کے فنکشن میں وہ ہمارے ہاتھ لگ جاتی تو آج مجھے اس طرح آگ میں نہ جلنا پڑتا۔‘‘ اس کی بات پر صوفے پر لیٹا اس کا دوست سیدھا ہوکر بیٹھتے ہوئے سہولت سے بولا۔
’’صبر کر میرے یار… صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے۔‘‘
’’کیسے صبر کروں… اور کتنا صبر کروں… بس اب تم جلدی سے کوئی زبردست سا پلان تیار کرو‘ مجھے وہ لڑکی ہر قیمت پر چاہیے۔‘‘ وہ آخری جملہ حتمی لہجے میں بولا تو اس کا دوست چند ثانیے کے لیے کسی سوچ میں مستغرق ہوگیا پھر کچھ دیر بعد سنجیدگی سے گویا ہوا۔
’’ہوں کرتے ہیں کچھ…‘‘
ء…/…ء
ماریہ کو جیکولین نے ابرام کے بے حد اصرار پر ایک بار پھر کالج جانے کی اجازت دے دی تھی جب یہ خبر ابرام نے بے حد ایکسائٹڈ ہوکر ماریہ کو سنائی تھی تو وہ اندر سے بے حد مغموم اور دل برداشتہ سی ہوگئی اس نے انتہائی محبت سے اپنے جان سے عزیز بھائی کو دیکھا جو اس کی خوشی کی خاطر سب کچھ کرنے کو تیار بیٹھا تھا اور وہ خود اس کی آنکھوں میں دھول جھونک کر اس کے ہی دوست سے نکاح کر بیٹھی تھی اور اب یہاں سے فرار کے راستے تلاش کررہی تھی۔
’’مجھے معاف کردیجیے گا برو‘ اس کے علاوہ میرے پاس کوئی چارہ بھی نہیں تھا۔‘‘ وہ اپنے آنسو اپنے اندر اتارتے ہوئے دل ہی دل میں بولی تھی۔ کالج میں تقریباً سبھی نے اسے دیکھ کر حیرت و انبساط کا اظہار کیا تھا جبکہ جیسکا کا ری ایکشن کچھ مختلف تھا‘ اسے انتہائی غیر متوقع طور پر یہاں دیکھ کر وہ بے ساختہ ٹھٹکی تھی پھر اپنے آپ کو سنبھالتے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھیرتے ہوئے خوشی ظاہر کی تھی۔ جیسکا کے استفسار پر اس نے بتادیا تھا کہ ابرام کے کہنے پر ہی جیکولین نے اسے دوبارہ کالج جانے کی اجازت دی ہے جس پر جیسکا نے چہک کر کہا۔
’’ابرام تو ہر ناممکن کو ممکن بنادیتا ہے۔‘‘ ماریہ محض خاموشی سے اسے دیکھتی رہ گئی تھی وہ کلاس لے کر باہر نکلی تو کاریڈور میں ہی اس کی مڈبھیڑ میک سے ہوگئی میک نے غالباً کلاس بنک کی تھی جب ہی وہ باہر دکھائی دے رہا تھا۔ میک کو دیکھ کر آج ماریہ کا دل خوف و دہشت کے آکٹوپس میں نہیں جکڑا تھا بلکہ نفرت و اشتعال کا ریلا اندر سے کہیں امڈا تھا البتہ اس نے فی الفور اپنے جذبات و احساسات کو کنٹرول کیا مگر سامنے والا تو جیسے عقاب کی نگاہ رکھتا تھا فوراً سے پیشتر بس ایک لمحے میں ماریہ ایڈم کی چال کی خود اعتمادی بھانپ کر اپنے مخصوص انداز میں مسکرایا۔ ماریہ اس کے قریب آئی تو وہ بڑی خوش دلی سے بولا۔
’’ویلکم بیک ماریہ ایڈم… آئی ایم ہیپی ٹو سی یو اگین۔‘‘ جواباً ماریہ نے بھی اپنے دل پر جبر کرکے محض مسکرانے پر ہی اکتفا کیا جب ہی وہ مزید گویا ہوا۔
’’تم واقعی سرپال کے لیے بہت خاص ہو جب ہی تو انہوں نے تمہارے اوپر دوبارہ بھروسہ کرلیا۔‘‘ میک کا لہجہ تو بالکل سادہ تھا مگر اس لمحے ماریہ کو اس کے لفظوں کی کاٹ کسی تیز دھار آلے کی مانند اپنے اندر اترتی ہوئی محسوس ہوئی اس نے ایک نگاہ میک کو دیکھا پھر خود اعتماد لہجے میں بولی۔
’’انہوں نے مجھ پر اس لیے بھروسہ کیا ہے کیونکہ میں سچ کہہ رہی ہوں میک‘ سچائی اپنا آپ خود ہی منوالیتی ہے۔‘‘ میک نے اس کی بات کو بغور سنا پھر اپنے لبوں پر ناقابل فہم مسکراہٹ بکھیرتے ہوئے اپنے دونوں ہاتھ پینٹ کی جیبوں سے نکالتے ہوئے دونوں بازو سینے پر باندھتے ہوئے بولا۔
’’تم بالکل صحیح کہہ رہی ہو ماریہ… سچائی اپنا آپ خود ہی منوالیتی ہے یہ کم بخت سچائی اسے ہم سات پردوں میں بھی چھپائے ناں یہ پھر بھی کوئی نہ کوئی راستہ تلاش کرکے باہر نکل آتی ہے۔‘‘ ماریہ جو اس پل میک کے سامنے بڑی مضبوطی سے کھڑی تھی‘ نجانے کیوں یک دم وہ اندر سے کسی کاغذ کی عمارت کی طرح ڈھتی چلی گئی مگر اس نے خود کو میک کے سامنے سنبھالے ہی رکھا۔
’’یو آر رائٹ۔‘‘ یہ کہہ کر وہ تیزی سے اس کے پہلو سے نکلی اس کا دل اچانک بہت تیزی سے دھڑکنے لگا تھا جب ہی عقب سے اسے میک کی آواز سنائی دی۔
’’مائی ڈئیر… میں تمہارا سچا دوست ہوں‘ تم سے غافل کبھی نہیں رہوں گا۔‘‘ ماریہ کوئی دو سال کی بچی نہیں تھی جو میک کے جملوں کا مفہوم نہ سمجھ پاتی‘ نا چاہتے ہوئے بھی خوف کی لہر اس کی ریڑھ کی ہڈی میں سرائیت کرتی چلی گئی۔ ماریہ نے پلٹ کر میک کو دیکھا پھر دھیمی سی مسکراہٹ اسے پاس کرکے وہاں سے نکلتی چلی گئی۔
ء…/…ء
حورین آج بہت فریش اور پُرسکون نظر آرہی تھی وہ اپنے معمول کے مطابق گھر کے کاموں میں مصروف تھی‘ شام کو جب خاور حیات آفس سے گھر آیا تو ہمیشہ کی طرح حورین نے بڑے والہانہ انداز میں اس کا استقبال کیا۔
’’شکر ہے آج آپ کچھ جلدی گھر آگئے؟‘‘ انگوری رنگ پر میرون اور سفید دھاگوں کی کڑھائی سے مزین کاٹن کے اسٹائلش سے سوٹ میں ہلکا سا میک اپ کیے حورین بہت پیاری لگ رہی تھی۔ خاور حیات حورین کو اس طرح دیکھ کر بے پناہ طمانیت کا احساس ہوا جب ہی وہ خوش گوار لہجے میں گویا ہوا۔
’’جان خاور اگر آپ میرا انتظار اتنے شدت سے کررہی تھیں تو بس مجھے ایک فون کال کردیتیں پھر آپ دیکھتیں کہ ہم اڑتے ہوئے آپ کے پاس پہنچ جاتے۔‘‘ خاور کی بات پر حورین کھلکھلا کر ہنس دی پھر چہک کر بولی۔
’’بس بس اب اتنا بھی انتظار نہیں تھا۔ مجھے معلوم تھا کہ آپ ٹائم پر گھر آجائیں گے۔‘‘ جب سے حورین بیمار ہوئی تھی خاور حیات شام ہوتے ہی گھر آجاتا تھا وہ زیادہ سے زیادہ وقت حورین کے ساتھ گزارنا چاہتا تھا اور اسی بات کی تاکید ڈاکٹر اقبال محبوب نے بھی کی تھی۔
’’اچھا باتیں تو ہوتی رہیں گی آپ ذرا فریش ہوکر آجایئے۔ میں شام کی چائے لے کر آرہی ہوں۔‘‘ حورین دوبارہ بولی تو خاور حیات سر ہلاتے ہوئے وہاں سے چلا گیا جبکہ حورین کچن کی جانب بڑھ گئی۔
ء…/…ء
اس پل فراز شاہ گہری نیند میں ڈوبا خواب خرگوش کے مزے لے رہا تھا جب ہی اس کا سیل فون زور و شور سے بج اٹھا‘ وہ سونے سے پہلے ہمیشہ اپنا فون سائلنٹ پر کرکے سوتا تھا مگر جب سے ماریہ کا معاملہ شروع ہوا تھا‘ اپنا سیل فون وہ ہمیشہ الرٹ رکھتا تھا کیوں کہ ماریہ اسے کبھی بھی کسی وقت ایمرجنسی ہونے پر فون کرسکتی تھی اس وقت بجتے ہوئے فون نے اس کی نیند کا ستیاناس کردیا تھا جب ہی بے زاری اس لمحے عود کر آئی تھی پھر بحالت مجبوری اس نے اپنے بستر کی سائیڈ ٹیبل پر رکھے اپنے فون کو اٹھا کر مندی مندی نگاہوں سے اسکرین کی جانب دیکھا تو سامنے بلنک ہوتے نام پر نگاہ پڑتے ہی اس کی نیند بھک سے اڑ گئی وہ بے حد حیرت و بے یقینی کی کیفیت میں بیٹھا کچھ دیر موبائل اسکرین کو دیکھے گیا جو کامیش شاہ کالنگ بار بار بلنک کررہی تھی۔
’’کا…میش کا فون…! یہ… یہ کامیش نے آج مجھے کیسے فون کرلیا؟‘‘ وہ انتہائی تحیر کے عالم میں مبتلا ہوکر خود سے بولا پھر دوسرے ہی پل خود کو سنبھالتے ہوئے اس نے جلدی سے اپنی انگلی یس کی جانب دھکیلی اور بڑی بے تابی سے اپنا فون اپنے کان سے لگایا۔
’’ہیلو کامیش تم…!‘‘ وہ بے ساختہ فقط اتنا ہی بولا جب ہی دوسری جانب سے کامیش کی فریش سی آواز ابھری۔
’’کیا بات ہے بردار نہ سلام نہ دعا… یہ کیا بات ہوئی بھلا۔‘‘ کامیش اتنے نارمل انداز میں بات کررہا تھا جیسے ان دونوں کے درمیان کوئی ناچاقی کوئی بدگمانی ہوئی نہ ہو کامیش کی بات پر فراز تھوڑا پزل ہوا مگر پھر جلد ہی خود کو کمپوز کرتے ہوئے خوش دلی سے گویا ہوا۔
’’کیسے ہو میرے بھائی؟‘‘
’’ایک دم فرسٹ کلاس۔‘‘ کامیش ہنوز لہجے میں بولا تو فراز شاہ چند ثانیے کے لیے خاموش سا ہوگیا اس کا دل تو یہ چاہ رہا تھا کہ وہ کامیش سے استفسار کرے کہ اتنے عرصے بعد تمہیں اپنے بھائی کی یاد کیسے آگئی جسے بے اماں کرکے تم نے نگاہیں پھیرلی تھیں۔ اس کی کوئی بھی وضاحت سنے بناء اسے گھر سے جانے دیا تھا اس پر بھروسہ نہیں کیا تھا جب ہی کامیش کی آواز اس کی دوبارہ سماعت سے ٹکرائی تو وہ بے اختیار اپنے دھیان سے چونکا۔
’’میں جانتا ہوں فراز تم اس وقت کیا سوچ رہے ہو؟ مگر میں تمہیں تمہاری باتوں کی وضاحت اس وقت نہیں دوں گا مجھے تم سے رابطہ کرنا تھا لیکن کچھ کاموں میں الجھا رہا۔‘‘
’’اچھا اپنے بھائی سے صرف دو منٹ بات کرنے کے لیے بھی تمہارے پاس ٹائم نہیں تھا۔‘‘ فراز شاہ کی زبان سے بے ساختہ شکوہ پھسلا پھر وہ دوبارہ بے حد سنجیدگی سے گویا ہوا۔
’’کامیش تمہیں وہ بات تو یاد ہے ناں جب میں سیون اسٹینڈرڈ میں تھا اور تم سکس میں‘ میری کلاس کے لڑکے کا پنسل بکس غائب ہوگیا تھا اور اس نے مجھ پر الزام لگایا تھا کہ میں نے اس کا بکس چوری کرلیا تو تم نے کیسے انتہائی طیش کے عالم میں اپنے دونوں ہاتھوں سے اس کے بالوں کو پکڑ کر کھینچا تھا اور زور سے دھکا دے کر کہا تھا کہ میرا بھائی کبھی بھی چوری نہیں کرسکتا اور نہ ہی وہ جھوٹ بولتا ہے۔ جب فراز کہہ رہا ہے کہ اس نے بکس نہیں لیا تو نہیں لیا پھر کامیش پھر…‘‘ فراز کچھ توقف کے لیے خاموش ہوا پھر وہ دوبارہ بولا۔
’’تو پھر میرے اس بھائی کا مجھ پر بھروسہ اس کا پُرشفاف اعتماد بس ایک ہی پل میں کیوں خس و خاشاک ہوگیا جب ایک عورت نے اس پر چوری کا الزام لگایا اسے جھوٹا‘ خائن اور بدکار قرار دیا۔‘‘ بولتے ہوئے فراز شاہ کا سانس بڑی تیزی سے چلنے لگا تھا۔
’’بولو میرے بھائی کیوں اس وقت تمہیں اپنے بھائی کی صداقت پر شک ہوا تھا؟ کیوں محض اس لیے کہ وہ عورت تمہاری بیوی تھی؟ جس کے سامنے تمہارے ماں جائے کی کوئی حیثیت نہیں تھی جو تمہارے بھائی پر اتنے رکیک الزامات لگارہی تھی اور تم مہرو بہ لب کھڑے تھے۔‘‘ اس پل فراز کو ایک بار پھر وہی تمام مناظر اور الفاظ یاد آتے چلے گئے جو اسے ہر لمحہ ایک ان دیکھی آگ میں جلائے رکھتے جو گیلی لکڑی کی طرح اندر ہی اندر اس کو سلگاتے رہتے تھے فراز کا تو اور بھی بہت کچھ کہنے کا دل چاہ رہا تھا مگر اس لمحے وہ بالکل خاموش ہوگیا تھا دونوں جانب کچھ دیر جامد خاموشی چھائی رہی پھر کامیش کی گمبھیر آواز ابھری۔
’’میں جانتا ہوں فراز کہ تم مجھ سے بہت ناراض ہو اور بدگمان بھی مگر یہ میرا تم سے وعدہ ہے کہ تمہارے ہر سوال کا جواب میں تمہیں ضرور دوں گا۔‘‘ پھر تیزی سے موضوع کو بدلتے ہوئے بولا۔
’’اچھا تم یہ تو بتائو کہ پاکستان واپس کب آرہے ہو‘ کہیں لندن میں کسی سے دل تو نہیں اٹکا لیا۔‘‘ آخری جملہ شوخی و شرارت سے بھرپور تھا‘ فراز نے بھی اپنے موڈ بدلا جب ہی مسکراتے ہوئے بولا۔
’’جی نہیں جناب میں یہاں دل اٹکانے نہیں بلکہ بزنس کے سلسلے میں آیا تھا۔‘‘ پھر کچھ دیر اِدھر اُدھر کی باتوں کے بعد فراز نے فون بند کیا تو اسے اپنے وجود میں طمانیت و انبساط کی قندیلیں روشن ہوتی محسوس ہوئی تھیں۔
ء…/…ء
گڈو بیگم کا چالیسیواں بھی ہوگیا تھا مگر مہرو ابھی تک غم و الم کی کیفیت میں ڈوبی ہوئی تھی امی اور لالہ رخ اسے سمجھا سمجھا کر تھک گئی تھیں مگر اس کے اوپر یاسیت و صدمے کی ہنوز کیفیت طاری تھی بٹو بھی تقریباً روز اس کے پاس آکر اس کا دل بہلانے کی کوشش کرتا تھا مگر مہرو تو جیسے پتھر کی بن گئی تھی بس چپ چاپ بیٹھی گھٹنوں میں سر دیئے نجانے کیا کچھ سوچے جاتی صد شکر تھا کہ مومن جان اپنے پیر کی تکلیف کے علاج کے لیے اپنے دوست کے ساتھ کوئٹہ کے کسی سرکاری ہسپتال میں چلا گیا تھا اور اب تک وہیں تھا۔ گڈو بیگم کی موت کے ایک ہفتے بعد ہی وہ یہاں سے چلا گیا تھا اور یہ ان سب کے لیے بہت اچھا ثابت ہوا تھا وگرنہ تو وہ مہرو کا اور بھی زیادہ ناطقہ بند کردیتا کیوں کہ اب تو اس کے لیے میدان صاف تھا۔ گڈو بیگم جو اس کی سب سے بڑی ڈھال تھیں اب وہ نہیں رہی تھیں۔ لالہ رخ اور امی مہرو کو اپنی گھر لے آئی تھیں اور بڑی تگ و دو سے اسے دوبارہ زندگی کی طرف لانے کی کوشش کررہی تھیں مگر مہرو نے تو کسی کی بھی بات نہ ماننے کی گویا قسم کھا رکھی تھی‘ فراز نے بھی دو مرتبہ اس سے مختلف اوقات میں بات کی تھی مگر وہ بھی اسے سمجھانے میں ناکام رہا تھا جب ہی لالہ رخ سے فراز شاہ نے کہا۔
’’مہرو کو اپنی ماں کے جانے کا بہت گہرا صدمہ پہنچا ہے‘ لالہ رخ وہ اتنی جلدی بھلا کیسے نارمل ہوگی۔‘‘ مہرو کی حالت کو محسوس کرکے فراز بھی مضمحل اور پریشان ہوگیا تھا۔
’’آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں فراز‘ مہرو پھوپو سے بے حد اٹیچڈ تھی‘ اس کی ماں ہی اس کا سب کچھ تھیں۔ کتنا ہنستی ہنساتی اور خوش رہتی تھی مہرو‘ اب تو یقین ہی نہیں آتا کہ یہ وہی مہرو ہے۔‘‘ اس لمحے لالہ رخ کے لہجے میں بے پناہ اداسی و اضمحلال تھا فراز ایک گہری سانس بھر کر رہ گیا‘ پھر ہموار لہجے میں گویا ہوا۔
’’جو لوگ باہر سے بظاہر ہنستے کھلکھلاتے ہیں ناں ان کے دل اندر سے بہت ٹوٹے ہوئے ہوتے ہیں‘ بہت حساس ہوتے ہیں ایسے لوگ اور مہرو بھی ان میں سے ایک ہے۔‘‘ لالہ رخ نے فراز کی بات کو بغور سنا پھر اثبات میں سر ہلاتے ہوئے بولی۔
’’آپ صحیح کہہ رہے ہیں وہ بچپن سے ہی مومن پھوپا کے منفی رویوں اور ناروا سلوک پر بہت دل برداشتہ رہتی تھی وہ اکثر مجھ سے کہتی تھی کہ تمہارے ابا بہت اچھے ہیں اور میرے ابا سب سے خراب۔‘‘ پھر بہت دیر تک لالہ رخ نے فراز سے مہرو کے متعلق باتیں کی تھیں۔
ء…/…ء
سر دانیال باسل حیات کے فیورٹ استاد تھے وہ اکثر اوقات ان کے روم میں جاکر ان کے سبجیکٹ کے علاوہ دوسرے موضوعات پر بھی گفتگو کیا کرتا تھا‘ فری پیریڈ ہونے کی بدولت عدیل دوسرے ڈیپارٹمنٹ میں اپنے کسی دوست کے پاس جبکہ احمر گھر سے ارجنٹ فون کال آنے پر چلا گیا تھا لہٰذا باسل حیات سر دانیال کو اپنے روم میں تنہا پاکر ان کے پاس چلا آیا تھا جو اس لمحے باسل کو دیکھ کر بے طرح خوش ہوئے تھے۔
’’اوہ تھینک گاڈ باسل… آپ آگئے میں یہی سوچ سوچ کر پریشان ہورہا تھا کہ آخر میں یہ مسئلہ کیسے حل کروں۔‘‘ پچاس برس کی عمر کے ڈیسنٹ سے سر دانیال اپنے مخصوص ٹھہرے ہوئے انداز میں بولے تو باسل نے استفہامیہ نگاہوں سے انہیں دیکھا جبکہ سر دانیال اس کی نگاہوں کا مفہوم جان کر گویا ہوئے۔
’’دراصل مجھے اپنے دوست کو کچھ کانفیڈینشل پیپرز بھیجنے ہیں میں اسے کوریئر کروا دیتا مگر آج ہی اسے بھیجنے ہیں جو مجھے بھی کچھ دیر پہلے ہی ملے ہیں۔ میں خود نکلنے والا تھا مگر اچانک وائس چانسلر نے میٹنگ کال کرلی تو میرا جانا ممکن نہیں رہا اور وہ پیپرز اسے جلد سے جلد ان تک پہنچانے ہیں۔‘‘ باسل ان کی بات پر چپ ہوگیا تو سر دانیال نے باسل حیات کو درخواست گزار نگاہوں سے دیکھا پھر بڑے بامروت لہجے میں بولے۔
’’باسل آپ… آپ جاکر ان کو ابھی اور اسی وقت پیپرز دے آئیں۔‘‘
’’میں…؟‘‘ وہ یہ سن کر کچھ حیرت سے بولا۔ ’’مگر آپ تو کہہ رہے ہیں کہ وہ پیپرز بہت کانفیڈینشل ہیں تو پھر آپ مجھے کیوں…‘‘
’’افوہ بیٹا… مجھے آپ پر پورا اعتماد اور بھروسہ ہے بس آپ اس وقت یہاں سے نکل جایئے۔‘‘ سر دانیال باسل کی بات کو درمیان میں سے ہی قطع کرکے تیزی سے بولتے اپنی ٹیبل کی دراز کی جانب متوجہ ہوئے اور اس میں سے ایک سفید رنگ کا بڑا سا لفافہ نکال کر اس کی طرف بڑھایا۔
’’یہ پیپرز آپ جامعہ کراچی کے ایڈمن ڈیپارٹمنٹ میں ڈاکٹر فیروز میمن کو دے دیجیے گا۔‘‘ باسل حیات نے بغور ان کی بات سن کر سر اثبات میں ہلاتے ہوئے لفافہ اپنے ہاتھ میں تھاما جبکہ وہ مزید گویا ہوئے۔
’’میں ڈاکٹر فیروز میمن کو فون بھی کردیتا ہوں آپ کا نام بھی بتادوں گا بس آپ ابھی اور اسی وقت روانہ ہوجائیں‘ میں بھی میٹنگ کے لیے نکلتا ہوں۔‘‘ سر دانیال کی ہدایت پر باسل ’’اوکے سر‘‘ کہہ کر وہاں سے نکل گیا۔
ء…/…ء
سونیا خان ابروڈ سے واپس آگئی تھی اس نے وہاں سے قصداً کامیش سے رابطہ نہیں کیا تھا وہ وہاں پہنچ کر ہی کامیش سے روبرو ملنا چاہتی تھی۔ آج وہ صبح ہی سے اس کے گھر میں آدھمکی تھی کامیش چونکہ منہ اندھیرے ہی گھر سے نکل گیا تھا لہٰذا اس کی ملاقات اس سے نہیں ہوسکی مگر ساحرہ اور سمیر شاہ فی الحال گھر پر ہی مل گئے تھے۔ ساحرہ نے سونیا کو دیکھ کر ہمیشہ کی طرح بے پناہ گرم جوشی کا مظاہرہ کیا البتہ سمیر شاہ کا انداز کافی ٹھنڈا اور سرد تھا جسے محسوس کرکے سونیا نے مکمل نظر انداز کردیا تھا وہ سب کے لیے قیمتی تحائف لے کر آئی تھی جس پر ساحرہ خوشی سے نہال ہوئے جارہی تھی۔
’’ارے سونیا جانو تم نے ان سب چیزوں کا کیوں تکلف کیا میری جان‘ تم ہم سے ملنے آگئیں یہ کیا کسی تحفے سے کم ہے۔‘‘ ساحرہ اپنے فیورٹ پرفیوم کا سیٹ ہاتھ میں پکڑے انتہائی لگاوٹ بھرے انداز میں بولی تو سونیا قیمتی ریسٹ واچ کا ڈبہ ان کی جانب بڑھاتے ہوئے نروٹھے پن سے بولی۔
’’ارے واہ آنٹی… ایک ہی تو میری پھوپو ہیں اور کیا میں ان کے لیے کچھ بھی نہیں لیتی ویسے اور بھی چیزیں ہیں آپ کے لیے۔‘‘ وہ دوسرے شاپنگ بیگ کی طرف متوجہ ہوئی تو ساحرہ نے اس کی کلائی کھینچ کر اسے اپنے پہلو میں بٹھاتے ہوئے بڑے محبت بھرے لہجے میں کہا۔
’’مجھے ان چیزوں کی نہیں بلکہ اپنی بیٹی کی ضرورت ہے اپنی باربی ڈول کی چاہت ہے اور بس۔‘‘ ڈارک گرے ٹائٹس پر بلیک اینڈ گرے کنٹراسٹ کی اسٹائلش سی کُرتی پہنے سونیا نے اپنے نئے اسٹائل دیئے بالوں کو ایک خاص ادا سے جھٹکا پھر ہنس کر بولی۔
’’آپ کی بیٹی ہے تو آپ کے پاس۔‘‘ وہ اس لمحے سیٹنگ روم میں بیٹھی تھیں‘ سمیر شاہ محض سونیا سے رسمی سا ہیلو ہائے کرکے آفس کے لیے نکل گئے تھے۔ سونیا کے اس طرح دوبارہ آدھمکنے سے وہ ایک بار پھر اندر سے کافی اپ سیٹ ہونے کے ساتھ ساتھ پریشان بھی ہورہے تھے۔ انہیں ہمہ وقت اسی بات کا دھڑکا لگا رہتا تھا کہ سونیا اعظم خان کہیں دوبارہ ان کے بیٹے کی زندگی میں زہر گھولنے چلی نہ آئے۔
’’مجھے فراز سے بات کرنی پڑے گی۔‘‘ ڈرائیونگ کرتے ہوئے مسلسل ان کا ذہن اسی حوالے سے سوچے رہا تھا۔
ء…/…ء
باسل نے پوری ذمہ داری سے وہ لفافہ جامعہ کراچی کے ایڈمن ڈیپارٹمنٹ میں جاکر ڈاکٹر فیروز میمن کے حوالے کردیا تھا۔ انہوں نے آداب میزبانی بجا لاتے ہوئے باسل کو چائے اور ٹھنڈے کی آفر کی تھی مگر باسل حیات نے سہولت سے انکار کردیا تھا وہ ایڈمن ڈیپارٹمنٹ سے نکلا تو یک دم اس کے ذہن میں زرتاشہ کا خیال در آیا پھر وہ دل ہی دل میں خود سے بولا۔
’’زرتاشہ کا ڈیپارٹمنٹ یہیں سامنے ہی ہے ناں۔‘‘ پھر نجانے اسے کیا ہوا اس کے قدم خودبخود زرتاشہ کے ڈیپارٹمنٹ کی جانب بڑھ گئے اردگرد آمنے سامنے بے فکرے شوخ قہقہے لگاتے اسٹوڈنٹس خوش گپیوں میں مصروف دکھائی دے رہے تھے۔ باسل اپنے اطراف میں سرسری سی نگاہ ڈالتے ہوئے آگے بڑھ رہا تھا جب ہی کچھ قدم جاکر ٹھٹک کر رکا تھا۔
’’میں بھلا کیوں اس لڑکی کے ڈیپارٹمنٹ میں جارہا ہوں مجھے اس سے کیا مطلب اور واسطہ ہے ہونہہ وہ معمولی سی لڑکی باسل حیات کے برابر کی تو ہرگز نہیں…‘‘ ایک بار پھر وہ خود سے بولا تھا اس بار اس کے لہجے میں وہی اکڑ اور غرور در آیا تھا وہ ابھی پلٹنے ہی والا تھا جب ہی اس کی نگاہوں کی زد میں ایک مسکراتا چہرہ آگیا وہ کسی لڑکی کی بات پر دھیمے انداز میں مسکرا رہی تھی۔ باسل چند ثانیے اسے دیکھتا رہ گیا‘ آج اس نے لیمن اور پرپل رنگ کے امتزاج کا سادہ سا سوٹ پہن رکھا تھا جبکہ سر پر ہمیشہ کی طرح کشمیری شال ڈالے پورے وجود کو ڈھانپ رکھا تھا۔ کسی لڑکی کے زور دار قہقہے پر باسل حیات بے پناہ چونک کر حال کی دنیا میں واپس آیا اس نے دوبارہ زرتاشہ کی جانب دیکھا جو ہنوز اس لڑکی سے باتوں میں محو تھی یک دم نجانے کہاں سے اس کے اندر نفرت و بے زاری کا سیلاب امڈا تھا۔
’’ہونہہ ایک اور نیلم زمان مشرقی اقدار و روایات کا ڈھونگ رچانے والی آنکھوں میں شرم و حیا کے کچے رنگوں کو بھر کر امیر لڑکوں کی توجہ حاصل کرنے والی مکار اور فریبی لڑکی۔‘‘ اس کے جملوں پر کوئی اندر سے بڑی تکلیف سے کراہا تھا۔
’’تم زیادتی کررہے ہو‘ یہ لڑکی نیلم زمان نہیں ہے بلکہ یہ لڑکی تو بارش کے قطرے کی طرح شفاف ہے رات میں پڑتی شبنم کی مانند پاکیزہ ہے۔‘‘ باسل حیات ہنوز کچھ فاصلے پر پلر سے ٹیک لگائے کھڑی زرتاشہ کو دیکھتا رہا۔
’’یہ مڈل کلاس کی ساری لڑکیاں ایک جیسی ہوتی ہیں۔ کیا نیلم زمان بھی پہلے زرتاشہ کی طرح نہیں تھی؟‘‘ کسی نے اسے اندر سے جھاڑا تو زرتاشہ کی وکالت میں بولتا اس کا دل تھوڑا منمنایا۔
’’مگر زرتاشہ…‘‘
’’بس اب ایک لفظ بھی مت بولنا ایسی لڑکیاں تو فلرٹ کرنے کے بھی لائق نہیں ہوتیں‘ گندگی میں ہاتھ ڈالنے سے اپنے ہی ہاتھ گندے ہوتے ہیں یہ بات یاد رکھنا۔‘‘ دماغ نے سخت تنبیہہ کی تو دل منہ بناکر خاموش ہوگیا‘ باسل ابھی پلٹنے ہی والا تھا کہ اسی پل زرتاشہ کی نظر باسل پر پڑی تو پہلے اس کی نگاہوں میں حیرت و بے یقینی کے رنگ امڈے پھر اس کی جگہ خوشی و احترام نے لے لی وہ فوراً سے پیشتر باسل کی جانب تیزی سے بڑھی اور چند ہی پلوں میں اس کے مقابل آن کھڑی ہوئی۔
’’السلام علیکم!‘‘ اس نے نہایت ادب سے سلام کیا تو مجبوراً باسل نے اسے جوب دیا وہ مودبانہ انداز میں اس کے سامنے کھڑی تھی۔
’’آپ یہاں کیسے کسی سے ملنے آئے ہیں کیا؟‘‘ وہ نرمی سے استفسار کرتے ہوئے بولی تو باسل سنجیدگی سے سر اثبات میں ہلاتے ہوئے گویا ہوا۔
’’جی میں یہاں ایک پروفیسر سے ملنے آیا تھا۔‘‘ زرمینہ کو آج فلو کی وجہ سے تھوڑا ٹمپریچر ہوگیا تھا اسی وجہ سے وہ آج کیمپس نہیں آئی تھی زرتاشہ کو مجبوراً اکیلے ہی آنا پڑا تھا۔
’’دراصل لالہ آپ کا شکریہ ادا کرنا چاہ رہی تھی مگر آپ وہاں سے چلے گئے تھے۔‘‘ زرتاشہ انتہائی بھولپن سے بولی تو باسل حیات نے ناسمجھنے والے انداز میں دیکھا زرتاشہ اس کی نگاہوں کا مفہوم جان کر تھوڑا خفیف سی ہوکر بولی۔
’’اوہ… میں نے تو آپ کو کچھ بتایا ہی نہیں دراصل اس دن مری میں جس لڑکی سے بدتمیزی کرنے پر آپ نے اس لڑکے کی پٹائی کی تھی وہ میری بہن تھی لالہ رخ۔‘‘ باسل حیات اپنے دونوں ہاتھ سینے پر باندھے ناچاہتے ہوئے بھی اسے دیکھے گیا جو بڑی مگن سی بول رہی تھی۔
’’وہ دوسرے دن گیسٹ ہائوس آئی تو آپ چیک آئوٹ کرچکے تھے وہ آپ کو تھینکس کرنا چاہ رہی تھی۔‘‘ آخر میں اس کے چہرے پر اتنی دلکش مسکراہٹ ابھری تھی کہ اس پل باسل کو لگا جیسے بہت ساری کلیاں چٹک کر پھول بن گئی ہوں۔ باسل نے ہنوز سنجیدگی بھرے لہجے میں کہا۔
’’اٹس اوکے۔‘‘ جواباً وہ دھیرے سے مسکرائی پھر چند قدم پیچھے سرکتے ہوئے بولی۔
’’اوکے اللہ حافظ۔‘‘ وہ وہاں سے جارہی تھی باسل نے اسے بغور دیکھا وہ ابھی پلٹنے ہی والی تھی کہ بالکل سامنے کاریڈور سے ایک لڑکا چیختا ہوا اس طرف آیا جس کے سر سے خون کا فوارہ ابل کر اسے پوری طرح سے لہولہان کر گیا تھا۔ زرتاشہ جو مڑ رہی تھی اس لڑکے کی اچانک آمد پر وہ اس سے بے اختیار پوری طاقت سے ٹکرا کر پکے فرش پر گری تھی اور پھر صرف چند ہی لمحے لگے تھے۔ دو تنظیموں کا جھگڑا اسی ڈیپارٹمنٹ سے شروع ہوا تھا نجانے کہاں سے اچانک ڈنڈا بردار لڑکے وہاں آدھمکے تھے باسل نے گھبرا کر زرتاشہ کو دیکھا جو زمین سے اٹھ نہیں سکی تھی وہ تیزی سے اس کی جانب بڑھا۔
’’آر یو اوکے زرتاشہ؟‘‘ تمام اسٹوڈنٹس بدحواسی میں اِدھر اُدھر بھاگ رہے تھے جب ہی زرتاشہ آنکھوں میں بے تحاشا خوف و دہشت لیے کپکپاتی آواز میں بولی۔
’’پلیز مجھے یہاں سے لے چلئے۔‘‘ پھر باسل نے آئو دیکھا نہ تائو اس کا ہاتھ پکڑ کر ایک جانب بڑھ گیا تھا۔ لڑائی جنگل میں آگ کی طرح پوری جامعہ میں پھیل گئی تھی‘ زرتاشہ باسل کا ہاتھ تھامے اپنے گھٹنوں میں لگی چوٹ کی پروا کیے بناء بس بھاگے جارہی تھی۔ فائرنگ کی آوازیں جامعہ کی در و دیوار کو لرزائے دے رہی تھیں۔ تصادم بہت شدید تھا بہت دنوں سے دونوں تنظیمیں کسی موقع کی تلاش میں تھیں اور آج انہیں وہ موقع مل گیا تھا‘ وہ بھاگتے ہوئے ڈیپارٹمنٹ سے دور رہائشی حصے کی جانب چلے آئے جو اس وقت بالکل سنسان تھا زرتاشہ بے ساختہ رک کر وہیں جھاڑیوں میں گر گئی۔
’’بس بس… اب مجھ سے مزید نہیں بھاگا جائے گا۔‘‘ باسل نے ایک نگاہ زرتاشہ کی جانب دیکھا پھر اطراف میں نگاہ دوڑائی اب وہ دونوں خطرے سے محفوظ تھے یہ محسوس کرکے باسل بھی کچھ فاصلے پر گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا جبکہ زرتاشہ کی سانسیں ابھی تک اعتدال میں نہیں آئی تھیں۔ وہ آنکھیں بند کیے گہری گہری سانسیں لے رہی تھی اس لمحے اس کی چادر ڈھلک کر کندھے سے ہوکر اب اس کے بازوئوں میں جھول رہی تھی جبکہ شہد آگیں بالوں کی بے ترتیب لٹیں اس کے چہرے کو چوم رہی تھی پھر یک دم زرتاشہ کو گھٹنے میں بے پایاں تکلیف کا احساس ہوا تھا تو اس نے پٹ سے آنکھیں کھولیں۔
’’اوہ میرے اللہ…‘‘ وہ اذیت سے کراہی جس پر باسل نے بے ساختہ استفسار کیا۔
’’کیا ہوا؟‘‘ جواباً زرتاشہ نے ڈبڈبائیں نگاہوں سے اسے دیکھا پھر اپنے پیر کی جانب دیکھا تو اس میں سوجن واضح نظر آئی‘ پیر بھی اب بری طرح درد کرنے لگا تھا اس لمحے اس کا دل چاہا کہ درد کی شدت کی بدولت وہ دھاڑے مار مار کر رونا شروع کردے مگر باسل کی موجودگی کے خیال سے اس نے اپنی سسکیوں پر قابو پایا پھر رندھے ہوئے لہجے میں پیر جوتے سے آزاد کرتے ہوئے بولی۔
’’شاید میرے پیر میں کچھ چبھ گیا ہے بہت تکلیف ہورہی ہے اور گھٹنے میں بھی بہت درد ہورہا ہے۔‘‘ باسل کی نگاہیں بے اختیار اس کے پیر کی جانب گئیں جو کافی سوجا ہوا تھا۔
’’اوہ…‘‘ اس کے لبوں سے نکلا پھر قدرے تشویش سے بولا۔
’’شاید آپ کا پیر بھاگتے ہوئے مڑگیا ہے اسی لیے موچ آگئی ہے۔‘‘ زرتاشہ اب درد سے بے حال دکھائی دے رہی تھی۔
’’مجھے بہت تکلیف ہورہی ہے یااللہ میں کیا کروں۔‘‘ اب وہ باقاعدہ آنسوئوں سے چہکوں پہکوں رو رہی تھی اور مسلسل بولے بھی جارہی تھی۔
’’امی نے مجھے کتنا منع کیا تھا کہ مت شہر میں جاکر پڑھو وہاں کا کوئی بھروسہ نہیں ہے لالہ نے بھی مجھے بہت سمجھایا تھا مگر ناجی مجھے تو آئن اسٹائن بننے کا شوق چرایا تھا ناں زرتاشہ بی بی اب بھگتو گھٹنے تڑوا کر اور پیر سوجھا کر کرلو حاصل اعلیٰ تعلیم۔‘‘ باسل حیات کے لبوں پر بے ساختہ مسکراہٹ امڈ آئی تھی جبکہ وہ بچوں کی طرح رونے دھونے میں مصروف تھی۔
’’ہائے اللہ اتنا درد ہورہا ہے۔‘‘ وہ مسلسل بڑبڑا رہی تھی باسل سے اب مزید برداشت نہیں ہوا وہ قہقہہ لگا کر ہنس دیا جبکہ زرتاشہ نے اپنے رونے پر فی الفور بریک لگا کر اسے بڑی حیرت سے دیکھا تھا۔
ء…/…ء
بریک ٹائم میں جیسکا ماریہ کے ہمراہ کینٹین کی جانب بڑھی تھی ماریہ کو کالج آنے کی اب کوئی خواہش نہیں تھی مگر صرف اس خیال سے کہ کہیں ابرام کو اس کی پڑھائی میں عدم دلچسپی محسوس نہ ہوجائے وہ طوعاً و کرہاً کالج آنے لگی تھی ایک طرف تو وہ میک کی مکروہ صورت بھی نہیں دیکھنا چاہتی تھی جبکہ دوسری جانب جیسکا اس سے ایک لمحہ کے لیے بھی برداشت نہیں ہوتی تھی۔ جیسکا بھی کافی تیز دماغ لڑکی تھی ماریہ کی پڑھائی میں بے زاری کو بخوبی بھانپ گئی تھی جب ہی وہ اس کے پہلو میں چلتے ہوئے استفہامیہ انداز میں بولی۔
’’کیا بات ہے ماریہ میں دیکھ رہی ہوں کہ لیکچرز میں تمہارا دل نہیں لگ رہا اور کالج آتے ہی تمہیں گھر جانے کی جلدی لگی رہتی ہے وگرنہ پہلے تو تم فری ٹائم پر بھی کتابیں سمیٹ کر لائبریری میں جابیٹھتی تھیں۔‘‘ جیسکا کو ماریہ نے چلتے ہوئے ایک پل کے لیے دیکھا پھر رخ موڑ کر قدرے رکھائی سے بولی۔
’’ظاہر سی بات ہے جیسکا جب بار بار پڑھائی میں خلل آئے گا تو پھر پڑھائی سے دل تو اٹھنا ہے۔‘‘ جیسکا ابھی مزید کچھ اور بولتی کہ سامنے سے آتے ولیم کو دیکھ کر وہ چونکی جبکہ ماریہ کے قدم بھی تھم سے گئے تھے۔
’’اوہ میرے اللہ‘ اب اس کی کمی رہ گئی تھی۔‘‘ وہ دل ہی دل میں بے مزہ سی ہوکر بولی۔
’’ہیلو ولیم کیسے ہو تم کافی دنوں بعد کالج آئے ہو سب خیریت تو ہے ناں؟‘‘ جیسکا شستہ انگریزی میں اس کا حال احوال دریافت کرتے ہوئے بولی تو ماریہ کو اپنے جھوٹ کو سنبھالنے کی خاطر ولیم کی جانب بھرپور انداز میں متوجہ ہونا پڑا جو اس نے فی الوقت بحالت مجبوری بولا تھا کہ وہ ولیم سے محبت کرنے لگی ہے ماریہ اپنے چہرے پر زبردستی کی بشاشت اور خوشی لاتے ہوئے گویا ہوئی۔
’’ہاں ولیم تم اتنے دنوں سے کالج کیوں نہیں آرہے تھے میں تو سچ میں پریشان سی ہوگئی تھی۔‘‘ آخری جملے میں بے تابی کا رنگ گہرا تھا ولیم نے ایک نگاہ ماریہ کے چہرے پر ڈالی پھر شان بے نیازی سے جیسکا کی طرف دیکھ کر گویا ہوا۔
’’میں اپنی کزن کے ساتھ شہر سے باہر گیا ہوا تھا تم بتائو جیسکا سب ٹھیک ہے؟‘‘ اپنے تئیں وہ ماریہ کو جلانے کی کوشش کررہا تھا جبکہ ماریہ چہرے پر مسکراہٹ سجائے بڑی دلچسپی سے اس کی جانب متوجہ تھی۔
’’ویل اب تک تو سب ٹھیک ہے۔‘‘ جیسکا عام سے انداز میں بولی پھر ماریہ کی جانب دیکھ کر گویا ہوئی۔
’’ماریہ میں کینٹین جارہی ہوں تم مجھے وہیں جوائن کرلینا۔‘‘ وہ اسے تنہائی فراہم کرنے کی غرض سے بول کر وہاں سے چلی گئی جب ہی ماریہ ایک گہرا سانس بھر کر ولیم کی طرف دیکھتے ہوئے بولی۔
’’مجھے بہت خوشی ہورہی ہے ولیم کہ تم نے اپنی زندگی کے لیے ایک اچھے جیون ساتھی کا انتخاب کیا ہے‘ تمہاری کزن یقینا تمہارے لیے ایک اچھی شریک سفر ثابت ہوگی۔‘‘ ولیم نے انتہائی تحیر کے عالم میں اس کے چہرے کو دیکھا جس پر اس لمحے جلن و حسد کا شائبہ تک نہیں تھا۔ جیسکا نے اس کا پیغام اس تک پہنچادیا تھا وہ تو اس پل بڑے کروفر سے اس کے سامنے گردن تان کر کھڑا تھا‘ اپنے تئیں وہ تو یہ سمجھ رہا تھا کہ ماریہ اس کے ساتھ کی بھیک اس سے مانگے گی مگر یہاں تو معاملہ ہی بالکل الٹ تھا۔ ولیم نے بڑی دقتوں سے خود کو سنبھال کر طنزیہ لہجے میں کہا۔
’’مجھے معلوم ہے کہ کیتھرین ایک بہترین لڑکی ہے اور ان فیکٹ ہماری تو بہت جلد شادی بھی ہونے والی ہے۔‘‘ ولیم نے ایک آخری بار اسے جلانے کی کوشش کی مگر ماریہ تو ہنوز اطمینان و سکون سے کھڑی تھی۔
’’اوہ دیٹس گڈ نیوز تمہیں خوش دیکھ کر مجھے بھی بہت خوشی ہورہی ہے ولیم آفٹر آل تم میرے دوست جو رہ چکے ہو۔‘‘ اس پل نجانے کیوں ولیم کو ایسا لگا جیسے ماریہ نے لفظ دوست استعمال کرکے اس پر گہرا طنز کیا ہو مطلب یہ کہ اسے ولیم سے کسی بھی قسم کا دلی لگائو یا جذباتی وابستگی نہیں تھی۔
’’تھینک یو سو مچ۔‘‘ وہ انتہائی چبا چبا کر بولا پھر تیزی سے اس کے پہلو سے نکل گیا جبکہ ماریہ کے ہونٹوں پر بے اختیار بڑی دلکش سی مسکراہٹ ابھر آئی پھر وہ سر جھٹک کر گھر جانے کی غرض سے وہاں سے پلٹ گئی۔
ء…/…ء
کامیش شام کو جب گھر لوٹا تو لان میں ساحرہ کے ساتھ سونیا کو وہاں موجود پاکر اس کی طبیعت مکدر ہوگئی وہ بناء ان دونوں کی جانب توجہ دیئے تیزی سے اندر کی جان بڑھ گیا۔ ساحرہ اور سونیا دونوں نے ہی کامیش کے اس انداز پر ایک دوسرے سے نگاہیں چرائی تھیں جب ہی ساحرہ تھوڑا کھسیانی سی ہوکر بولی۔
’’سونیا آج مال میں بہت اچھی کلیکشن آئی ہوئی تھی‘ تھینک گاڈ کہ تم مجھے شاپنگ پر لے گئیں ورنہ بہت دنوں سے میں جانے کا سوچ رہی تھی مگر اکیلے دل نہیں چاہ رہا تھا۔‘‘ سونیا اور ساحرہ آج دن میں شاپنگ کے لیے نکل گئی تھیں ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی وہ گھر پہنچی تھیں اور اب شام کی چائے سے لطف اندوز ہورہی تھیں‘ تھوڑی دیر اِدھر اُدھر کی باتوں کے بعد سونیا اپنی کرسی سے اٹھتے ہوئے بولی۔
’’آنٹی میں ذرا کامیش سے مل لوں۔‘‘
’’شیور وائے ناٹ۔‘‘ ساحرہ خوش دلی سے بولی تو سونیا کامیش شاہ کے بیڈ روم کے دروازے کے باہر آکر کھڑی ہوگئی اس پل اس کا ذہن تیزی سے ماضی کی جانب چلا گیا‘ وہ کچھ عرصے پہلے کتنے استحقاق اور کروفر سے اس کمرے کی مالکن تھی اور آج وہ کیسے جھینپی جھینپی اسی بیڈ روم کے دروازے کے باہر اجازت لینے کے لیے کھڑی تھی پھر یک دم وہ حال کی دنیا میں واپس لوٹی اور سر جھٹک کر ہولے سے دروازے پر دستک دی‘ تھوڑی ہی دیر میں کامیش کی ’’یس‘‘ کی آواز پر وہ کانفیڈنس سے اندر چلی آئی‘ کامیش ڈارک برائون شلوار قمیص پہنے اپنے کف کے بٹن بند کررہا تھا جب ہی سونیا کی اندر آمد ہوئی اس نے بے ساختہ سر اٹھا کر دیکھا تو سامنے موجود ہستی کو پاکر اس کے کشادہ ماتھے پر ان گنت شکنوںکا جال بچھ گیا جبکہ چہرے پر بھی واضح ناگواری کا رنگ چھلکا تھا اور یہ سب سونیا بخوبی محسوس کر گئی تھی۔
’’ہیلو کامیش ہائو آر یو؟‘‘ سونیا اپنے آپ کو سرعت سے سنبھال کر دھیمی سی مسکراہٹ ہونٹوں میں سجا کر بولی تو کامیش نے بناء اس کی جانب دیکھے کہا۔
’’فائن…‘‘ پھر وہ بیڈ کے دوسری جانب رکھی سائیڈ دراز کو کھول کر اس میں سے کچھ تلاش کرنے لگا جب ہی عقب سے دوبارہ سونیا کی آواز ابھری۔
’’میں نے تمہیں ڈسٹرب تو نہیں کیا؟‘‘ یک لخت کچھ تلاش کرتے ہوئے کامیش کے ہاتھ لحظہ بھر کے لیے رکے پھر وہ دراز بند کرکے سیدھا کھڑے ہوتے ہوئے کافی روڈ انداز میں بولا۔
’’تمہیں کوئی کام ہے کیا؟‘‘ سونیا چند ثانیے کے لیے اسے دیکھتی رہ گئی‘ ڈراک برائون شلوار قمیص میں اس کی گندمی رنگت کچھ اور بھی زیادہ نکھر گئی تھی جبکہ ہلکی سی بڑھی ہوئی شیو اسے بہت ہینڈسم اور اٹریکٹو بنارہی تھی۔
’’کامیش مجھے تم سے کچھ باتیں کرنی تھیں‘ کیا تمہارے پاس میرے لیے تھوڑا سا وقت ہوگا؟‘‘ اس پل اس کے لہجے میں نرمی کے ساتھ عاجزی بھی تھی جو اس کا خاصا ہرگز نہیں تھی۔ کامیش نے نگاہ اٹھا کر چند ثانیے اسے دیکھا پھر انتہائی غیر متوقع جملہ بول پڑا۔
’’تم فراز شاہ کو اب بھی چاہتی ہو…؟‘‘
’’کیا…؟‘‘ سونیا کے تو گمان میں بھی نہیں تھا کہ کامیش اس سے اس طرح کا سوال کرے گا اپنی پھٹی ہوئی آنکھوں سے اس نے بے حد اچنبھے سے کامیش کو دیکھا جو اس کا ردعمل دیکھ کر استہزائیہ انداز میں دوبارہ گویا ہوا۔
’’میں نے ایسا کون سا سوال کردیا جس پر تم اس قدر حیران ہورہی ہو سونیا خان…‘‘ اس لمحے کامیش کے لب ولہجے میں عجیب سی کاٹ اور چبھن کو محسوس کرکے سونیا مضطرب ہونے کے ساتھ ساتھ اچھی خاصی سٹپٹائی بھی۔
’’وہ… وہ کامیش میں دراصل…‘‘ سونیا کو اس پل کوئی جواب نہیں بن پارہا تھا پھر سونیا کے اندر سے کسی نے اسے لتاڑا تو وہ خود کو کمپوز کرکے اعتماد سے سر اٹھا کر بولی۔
’’دیکھو کامیش میں یہ بات تم سے پورے دل کی سچائی سے کہہ رہی ہوں کہ فراز شاہ میرا ماضی تھا جس نے میری دوستی اور نادانی کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور یہ حقیقت ہے کہ تم سے شادی سے پہلے میں فراز سے شادی کی خواہش مند تھی مگر بعد میں مجھے جلد ہی اندازہ ہوگیا کہ فراز ایک گھٹیا ذہنیت کا انسان ہے تم سے شادی کرنے پر زور اس نے ہی مجھ پر دیا تھا مگر یقین کرو کامیش… مجھے فراز کے مذموم ارادوں کا ذرا بھی احساس نہیں تھا پھر شادی کے بعد تمہارا مجھے اگنور کرکے ہر وقت کام میں بزی رہنا مجھے تمہاری طرف سے بدظن کر گیا تھا اور میں صرف فراز شاہ کے کہنے پر تم کو ٹیز کرتی رہی مگر کامیش‘ مجھے اس بات کا احساس بہت جلد ہوگیا کہ اب فراز میرا گھر خراب کرنا چاہتا ہے۔ ہماری شادی ختم کروانا چاہتا ہے۔‘‘ وہ آج بھی بڑی دلیری و بے خوفی سے فراز کی ذات کو رگید رہی تھی اس کے پاکیزہ کردار کی دھجیاں بکھیر رہی تھی‘ کامیش بے حد خاموش نظروں سے اسے دیکھتا رہا جو اب مزید کہہ رہی تھی۔
’’میں تم سے نگاہیں ملانے کے قابل نہیں رہی تھی کامیش اسی لیے میں بھی فراز کے جانے کے بعد اس گھر سے چلی گئی تھی۔‘‘ وہ اتنا کہہ کر ٹھہری پھر دوبارہ تیزی سے گویا ہوئی۔
’’مگر میں اب واپس آنا چاہتی ہوں کامیش اپنے گھر اس گھر میں جو میرا اصل گھر ہے۔‘‘ کامیش ہنوز سکون و اطمینان سے کھڑا اسے دیکھتا رہا‘ سونیا اپنی بات مکمل کرکے خاموش ہوئی مگر کامیش کی جانب سے کوئی جواب نہیں آیا تھا۔
’’ہوں مسٹر کامیش شاہ… سونیا جب کسی بات کی ٹھان لیتی ہے ناں تو وہ پورا کرکے ہی رہتی ہے مجھے اس گھر میں اور تمہاری زندگی میں واپس آنا ہے پھر دیکھیں گے سونیا اعظم خان کیا ڈیسائیڈ کرتی ہے۔‘‘ وہ دل ہی دل میں بولی‘ اس نے کامیش شاہ کی خاموشی کو نیم رضا مندی پر محمول کیا تھا جب ہی قدرے مطمئن سی ہوکر وہ چپ چاپ رخ موڑ کر دروازے سے باہر چلی گئی جبکہ کامیش کے لبوں پر استہزائیہ مسکراہٹ در آئی تھی۔
ء…/…ء
داور حبیب کی وادی میں واپسی ہوچکی تھی حالات سازگار ہوتے ہی چوہا اپنے بل سے باہر آگیا تھا اور اب بڑے کروفر اور تمکنت سے پوری وادی میں دندناتا پھر رہا تھا جبکہ داور حبیب کی آمد سے بٹو کی جان پر بن آئی تھی۔ وہ معصوم بچہ داور کی بدفطرتی اور بدنیتی سے اچھی طرح واقف تھا اور جب سے اس نے مہرو کو اپنی غلیظ نگاہوں کی گرفت میں لیا تھا بٹو اور سے بھی خوف زدہ اور دہشت زدہ ہوگیا تھا۔ داور نے وادی میں آتے ہی مہرو کو کھوجنا شروع کردیا تھا مگر عموماً وہ جن جن جگہوں پر پائی جاتی تھی آج کل وہ وہاں دکھائی نہیں دے رہی تھی جبکہ بٹو بے چارا داور کے خوف سے دو دن سے اپنے گھر میں بند تھا اسے یہ خوف تھا کہ کہیں داور کا سامنا ہونے پر وہ مہرو کی بابت استفسار کرے۔
’’یا اللہ یہ کیسی مصیبت یہاں نازل ہوگئی ہے تو میری باجی کی عزت اور جان کی حفاظت کرنا اسے داور صاحب سے بچائے رکھنا۔‘‘ بٹو نے بے پناہ پریشان ہوکر اپنے رب کریم سے دعا کی تھی لالہ رخ گیسٹ ہائوس سے واپس آئی تو مہرو کو امی کے ساتھ بیٹھک میں باتیں کرتے دیکھ کر اسے خوش گوار حیرت کا جھٹکا لگا وگرنہ تو وہ تمام دن منہ لپیٹے بستر پر پڑی رہتی تھی وادی میں سردی کی سوغات اتر آئی تھی مگر ابھی موسم میں شدت نہیں تھی یہاں کے لوگ ایسی سردی کو خوش گوار ٹھنڈک سے محمول کرتے تھے۔ امی اور مہرو بھی کافی کے ساتھ ساتھ ڈرائی فروٹ سے شغف فرما رہی تھیں‘ مہرو لالہ رخ کو دیکھ کر فوراً بولی۔
’’ارے لالہ تم آگئیں چلو اچھا ہوا میں تمہارے لیے گرما گرم کافی بنا کر لاتی ہوں۔‘‘ یہ کہہ کر وہ صوفے سے اٹھی تو لالہ رخ مسکرا کر اثبات میں سر ہلاتے ہوئے امی کے قریب بیٹھتے ہوئے بولی۔
’’شکر ہے اللہ کا‘ امی آج مہرو مجھے کافی بہتر دکھائی دے رہی ہے۔‘‘ لالہ رخ کو بے حد مسرت محسوس ہوئی تھی ورنہ تو ہمہ وقت وہ مہرو کے حوالے سے بہت ڈسٹرب اور پریشان رہتی تھی۔
’’ہاں بیٹا اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے مہرو آج کافی نارمل رہی بلکہ اس نے تو تمہاری پسند کا رات کے لیے کھانا بھی خود تیار کیا ہے اور گھر کی صفائی بھی کی۔‘‘ امی نے یہ سب بتا کر اس کے اطمینان و خوشی میں اور زیادہ اضافہ کردیا تھا۔
’’ارے واہ یہ تو بہت زبردست بات ہے۔‘‘ ابھی وہ دونوں باتیں کرہی رہی تھیں کہ مہرو گرما گرم کافی کا بھانپ اڑاتا کپ چھوٹی سی ٹرے میں رکھ کر لے آئی۔
’’یہ میرے کان آج کیا سن رہے ہیں‘ مطلب آپ نے خود اپنے حسین ہاتھوں سے ہمارے لیے کھانا پکایا ہے۔‘‘ لالہ رخ شوخ و شنگ لہجے میں بولی تو ڈارک کاہی گرین لینن کے ملگجے سے سوٹ میں ملبوس مہرو ہولے سے مسکرا کر گویا ہوئی۔
’’جی جناب مابدولت نے آج خود اپنے ہاتھوں سے آپ کے لیے کوفتے اور بگھارے چاول پکائے ہیں۔‘‘ لالہ رخ اور مہرو کی باتوں کو سن کر امی بھی مسکرا رہی تھیں۔
’’او جیو میرے شیر آج تو کھانے میں مزہ آجائے گا۔‘‘ وہ اس دوران کافی کا کپ تھام چکی تھی پھر وہ تینوں بڑے خوش گوار ماحول میں گفتگو کررہی تھیں جب ہی مہرو نے انتہائی سکون و اطمینان سے جو استفسار کیا اسے سُن کر امی اورلالہ رخ ششدر سی رہ گئیں‘ اپنی بات کہہ کر مہرو پستے چھیل کر بڑی سہولت سے لالہ رخ کی پلیٹ میں رکھ رہی تھی جبکہ لالہ رخ اور امی ٹکر ٹکر بس اسے دیکھے جارہی تھیں۔ مہرو نے اپنے کام سے فارغ ہوکر سر اٹھا کر انہیں دیکھا تو بے ساختہ عجیب سے انداز میں ہنس کر بولی۔
’’ارے آپ دونوں مجھے ایسے دیکھ رہی ہیں جیسے میری ناک لمبی ہوگئی ہو یا پھر میرے سینگ نکل آئے ہوں۔‘‘ مہرو کی آواز جب لالہ رخ کے کانوں میں پڑی تو وہ چونک کر حال کی دنیا میں واپس آئی پھر اس نے انتہائی تادیبی نظروں سے مہرو کو دیکھ کر کڑے انداز میں کہا۔
’’تم نے کیا بکواس کی ہے ابھی۔‘‘ جواباً مہرو اپنی آنکھوں میں حیرانی بھرتے ہوئے بولی۔
’’اس میں بکواس کیا لالہ… میں نے تو مامی سے صرف یہ پوچھا ہے کہ اماں نے مجھے کہاں سے اٹھایا تھا کسی کچرے کی کنڈی سے یا پھر کوئی مجھے ان کے دروازے کے باہر رکھ کر چلا گیا تھا۔‘‘ مہرو ہنوز اطمینان سے اپنی بات دہراتے ہوئے بولی تو لالہ رخ کی برداشت جواب دے گئی۔
’’مہرو بس خاموش ہوجائو تم‘ ہوش میں تو ہو یہ کس قسم کی باتیں کررہی ہو تم۔ پھوپو تم کو بھلا کیوں کسی کچرا کنڈی سے لے کر آئیں گی یا پھر کوئی کیونکر تمہیں دروازے پر چھوڑ کر جائے گا؟‘‘
’’ایسا ہی ہے لالہ… بالکل ایسا ہی ہے یہ حقیقت ہے اور حقیقت ہمیشہ ایسی ہی تکلیف دہ اذیت ناک اور ناپسندیدہ ہوتی ہے۔‘‘ لالہ کی بات پر مہرو تقریباً چیخ کر بولی تو لالہ نے اسے منہ کھولے انتہائی تحیر کے عالم میں دیکھا پھر انتہائی الجھ کر امی کی جانب رخ پھیرا جو اس لمحے بالکل گم صم بیٹھی مہرو کو دیکھ رہی تھیں جب ہی مہرو دوبارہ انتہائی وحشت زدہ سی ہوکر لالہ رخ کا بازو دبوچ کر گویا ہوئی۔
’’کیوں لالہ… تمہیں یاد نہیں ہے اس دن جب اماں کا دم نکلا تھا تو ابا نے مجھے کہا تھا کہ یہ لڑکی نجانے کس خاندان کی ہے اور اماں نے چلا کر ان کی بات کاٹ دی تھی اور مرتے وقت وہ یہی بولے جارہی تھی کہ تُو صرف میری بیٹی ہے۔‘‘ مہرو کے یاد دلانے پر اسے وہ منظر پوری جزئیات سمیت یاد آگیا اس دن مومن جان کے منہ سے یہ جملہ سن کر وہ بری طرح چونکی تھی اور بعد میں بھی اس نے ان کے جملے کی بابت سوچا تھا مگر پھر یہ سوچ کر اس نے خود کو مطمئن کرلیا تھا کہ غصے میں اکثر اوقات انسان ایسی بات کر جاتا ہے اور ویسے بھی مومن پھوپا اپنی بیوی کے خاندان کو برا بھلا کہتے رہتے تھے۔
’’اپنی اولاد کو یہ یقین دلانے کی ضرورت نہیں پڑتی لالہ کہ وہ میری بیٹی ہے۔‘‘ مہرو کی کاٹ دار آواز پر اس نے بے حد چونک کر اسے دیکھا جس کے چہرے پر اس پل بے پناہ تکلیف و اذیت کے اثرات تھے۔
’’اُف مہرو تم مومن پھوپا کی غصے میں کہی بات کا کیوں اتنا بڑا فسانہ بنارہی ہو وہ تو غصے میں نجانے کیا کچھ کہہ جاتے ہیں۔‘‘ لالہ رخ جھنجھلا کر بولی تو مہرو نے اسے طنزیہ نظروں سے دیکھا پھر امی کی جانب رخ موڑ کر بولی۔
’’مامی پھر آپ ہی سچائی بتادیجیے کیا حقیقت جاننا میرا حق نہیں ہے جو اتنے عرصے سے اماں ابا اور آپ لوگوں نے مجھ سے چھپائے رکھی۔‘‘ مہرو کے لہجے کا اعتماد و یقین اور امی کی جامد خاموشی لالہ رخ کے دل کی دیواروں کو لرزائے دے رہی تھیں۔
’’امی آپ… آپ…‘‘ لالہ رخ فقط اتنا ہی بول سکی جب ہی امی اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی درمیان میں بولیں۔
’’میری طبیعت کچھ ٹھیک نہیں میں تھوڑا آرام کرنا چاہتی ہوں۔‘‘ اسی دم وہ دونوں لڑکیوں سے نگاہیں چرا کر وہاں سے اٹھ کھڑی ہوئیں جبکہ لالہ رخ نے بڑی حیرت سے انہیں کمرے سے باہر جاتے دیکھا۔
ء…/…ء
’’مجھے تو آئن اسٹائن بننے کا شوق چرایا تھا ناں زرتاشہ بی بی… اب بھگتو گھٹنے تڑوا کر اور پیر سوجھا کر کرلو حاصل اعلیٰ تعلیم۔‘‘ زرتاشہ کی روہانسی آواز اور روتی صورت باسل حیات کے تصور کے پردے پر لہرائی تو بے ساختہ ایک دلکش سی مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر در آئی اس زخمی لڑکے کی ٹکر سے وہ پکے فرش پر بڑے زور سے زمین بوس ہوئی تھی جس کی وجہ سے اس کے گھٹنوں میں اچھی خاصی چوٹ آئی تھی جبکہ ہتھیلیاں بھی چھل گئی تھیں۔ یونیورسٹی میں ہونے والے اچانک ہنگامے کی وجہ سے وہ باسل کے ہمراہ انتہائی بدحواس سی ہوکر بھاگی تھی جس کی بدولت اس کا پیر بھی بے ڈھب ہوکر کسی جگہ مڑا تھا اور نتیجتاً موچ آنے کے ساتھ ساتھ سوجن اور تکلیف نے اسے بے حال کردیا تھا اس پل وہ اپنے بیڈ روم کے بستر پر سکون سے لیٹا تھا جب ہی وہ منظر پوری جزئیات سمیت اس کی نگاہوں کے سامنے چلنے لگا تھا۔
’’آپ ہنس رہے ہیں اور یہاں میری اذیت سے جان نکل رہی ہے۔‘‘ وہ باسل کو ہنستا دیکھ کر ناراض نگاہوں سے دیکھتے ہوئے کافی برا مان کر بولی تو باسل نے فی الفور اپنی ہنسی پر قابو پایا پھر قدرے جھک کر اس کے پیر کا معائنہ کرنے لگا پھر سر اٹھا کر سنجیدگی سے بولا۔
’’میرے خیال میں اسے ڈاکٹر کو دکھانا چاہیے اور پھر آپ کے گھٹنوں پر بھی تو چوٹ آئی ہے۔‘‘ باسل کی بات پر ایک بار پھر زرتاشہ کی آنکھوں میں آنسو در آئے۔
’’اُف یہ لڑکی اتنا روتی کیوں ہے۔‘‘ وہ دل ہی دل میں چڑ کر بولا جب ہی زرتاشہ کی آواز اس کی سماعتوں سے ٹکرائی۔
’’آئی ایم سوری باسل صاحب… آپ کو میری وجہ سے اتنی زحمت اٹھانا پڑی یہ اچانک اس ہنگامے کی وجہ سے ہوا…‘‘ آخری جملہ خود سے اد اکیا تھا پھر دوبارہ اسے مخاطب کرکے بولی۔
’’آپ کو دیر ہورہی ہوگی آپ پلیز جایئے میں زرمینہ کو کال کرکے بلالیتی ہوں۔‘‘
’’مگر مس زرتاشہ آپ اس حالت میں ہاسٹل تک کیسے جائیں گی۔‘‘ اب وہ اتنا بھی بے حس نہیں تھا کہ زرتاشہ کو ایسی زخمی حالت میں چھوڑ کر چلتا بنتا لہٰذا تھوڑا کنفیوژ سا ہوکر بولا۔
’’ارے نہیں نہیں باسل صاحب آپ کا یہی احسان بہت ہے کہ آپ مجھے وہاں سے لے آئے ورنہ میں خوف کے مارے وہیں گر جاتی دراصل آج زرمینہ فلو اور بخار کی وجہ سے یونیورسٹی نہیں آئی تھی۔‘‘
’’کوئی بات نہیں مس زرتاشہ… آپ یہیں ویٹ کیجیے میں گاڑی لے آتا ہوں پھر آپ کو ہاسٹل ڈراپ کردوں گا۔‘‘
’’ارے نہیں باسل صاحب آپ پلیز جایئے میں زری کو فون کرکے بلالیتی ہوں۔‘‘
’’مگر انہیں تو بخار ہے۔‘‘
’’اتنا زیادہ بھی نہیں ہے۔‘‘
’’اور ڈاکٹر کے پاس۔‘‘
’’وہ… وہ میں اسی کے ساتھ چلی جائوں گی۔‘‘
’’اوکے ایز یو وش۔‘‘ کہہ کر وہ وہاں سے چلتا بنا تھا مگر تقریباً پانچ منٹ کی مسافت طے کرنے کے بعد اسے اچانک احساس ہوا کہ اسے زرتاشہ کو اس طرح زخمی حالت میں بے یارو مددگار نہیں چھوڑ کر آنا چاہیے تھا اور ویسے بھی جہاں وہ بیٹھی تھی وہ کافی سنسان جگہ تھی جہاں دور تک جھاڑیاں ہی جھاڑیاں تھیں وہ الٹے پائوں واپس آیا تو زرتاشہ صاحبہ زور و شور سے رونے میں مصروف تھیں۔
’’کیا ہوا مس زرتاشہ؟‘‘ وہ بے حد متفکر ہوکر بولا تھا‘ زرتاشہ اچانک اس کی آواز سن کر بے حد زور سے اچھلی پھر شکوہ کناں لہجے میں گویا ہوئی۔
’’آپ تو مجھے چھوڑ کر چلے گئے تھے۔‘‘
’’آپ ہی نے تو کہا تھا۔‘‘
’’مگر مجھے ڈر لگ رہا تھا۔‘‘
’’اب ڈرنے کی بات نہیں ہے میں آگیا ہوں ناں۔‘‘
’’وہ… وہ زری کی بچی فون ہی نہیں اٹھا رہی۔‘‘ وہ اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں آپس میں مسلتے ہوئے بولی۔
’’اچھا آپ دس منٹ میرا ویٹ کریں میں گاڑی لے کر آتا ہوں پھر تقریباً بھاگنے کے انداز میں وہ تیز تیز چلتا گاڑی لایا اور مجبوراً زرتاشہ کو اپنے بازوئوں میں سمیٹ کر گاڑی تک پہنچایا اور پھر ہسپتال جاکر اس کی مرہم پٹی کروا کر اور پین کلر لگوا کر اسے واپس ہاسٹل چھوڑا البتہ ہاسٹل واپسی پر وہ پین کلرز کی بدولت خود اپنے پیروں پر چل کر بے حد کنفیوژ سی اس کا شکریہ ادا کرکے اندر چلی گئی تھی‘ باسل بہت دیر تک زرتاشہ کے بارے میں سوچتا رہا پھر نجانے کب وہ نیند کی پُرسکون وادیوں میں اتر گیا تھا۔
ء…/…ء
فراز نے بزنس کے اہم امور تقریباً نمٹا لیے تھے اب وہ کچھ ہی دنوں میں لندن سے کوچ کرنے والا تھا مگر وہ یہاں سے اکیلا نہیں جارہا تھا بلکہ ماریہ ایڈم بھی اس کے ساتھ پاکستان جارہی تھی وہ جو آگے کرنے جارہا تھا کافی خطرناک اور سنگین تھا اس نے ماریہ کو سختی سے تاکید کردی تھی کہ وہ جذبات میں آکر کسی کو بھی اپنے یہاں سے جانے کا اشارہ نہ دے کیوں کہ آج کل وہ بے حد ٹچی اور اپ سیٹ ہورہی تھی وہ زیادہ تر وقت اب جیکولین کے آس پاس ہی گزار رہی تھی جبکہ جیکولین کے ساتھ ساتھ ابرام بھی اس کے اس طرز عمل پر کافی حیران تھا البتہ فراز دل ہی دل میں ابرام سے بے پناہ شرمندہ تھا وہ اسے اپنا حقیقی اور مخلص دوست سمجھتا تھا۔ فراز ابرام سے مخلص تو تھا مگر جس طرح اس نے اس کی بہن سے خفیہ نکاح کیا تھا اور اب اسے یوں چوری چھپے اپنے ملک لے کر جارہا تھا وہ دوستی کے زمرے میں تو ہرگز نہیں آتا تھا۔ فراز اس وقت اپنے آفس میں بیٹھا تھا جب ہی ابرام اس کے پاس چلا آیا‘ فراز نے اس کا پرتپاک استقبال کیا۔
’’تمہارے ہاتھ کی کافی پینے کا دل چاہ رہا تھا تو یہاں چلا آیا۔‘‘ ابرام اپنے مخصوص دلکش انداز میں بولا تو فراز خوش دلی سے ہنس دیا۔
’’شیور مائی فرینڈ کیوں نہیں آپ کو کافی ضرور پلائی جائے گی۔‘‘ ابھی ابرام اس سے مزید کچھ کہنے ہی والا تھا کہ فراز کا فون بج اٹھا اسکرین پر ماریہ کا نام بلنک ہوتے دیکھ کر فراز ایک پل کے لیے سٹپٹا سا گیا اس نے فوراً سے پیشتر کال کو ریجیکٹ کیا پھر خوامخواہ ابرام کو دیکھ کر ہنستے ہوئے بولا۔
’’ابرام کیا خیال ہے باہر کسی اچھی سی جگہ جاکر لنچ نہ کرلیں ویسے بھی کچھ دیر میں لنچ ٹائم ہونے والا ہے۔‘‘ فراز کی بات پر ابرام نے اپنے ہاتھ میں بندھی گھڑی کی طرف دیکھ کر قدرے اچنبھے سے کہا۔
’’گیارہ بجے لنچ ٹائم۔‘‘ نجانے کیوں یہاں بیٹھ کر اسے گھبراہٹ سی ہورہی تھی لہٰذا وہ فوراً سے پیشتر بولا۔
’’او میرے یار ابھی نہیں تو ایک دو گھنٹے بعد لنچ ٹائم ہوجائے گا‘ بس ہم چلتے ہیں۔‘‘ فراز کے پُرزور اصرار پر ابرام کندھے اچکا کر بولا۔
’’اوکے ایز یووش۔‘‘ اور پھر جب وہ دونوں لفٹ میں داخل ہوئے تو چند ہی لمحوں بعد بغلی لفت کا دروازہ وار ہوا اور اس میں سے ماریہ باہر آئی اس پل اس کا رخ فراز کے روم کی جانب تھا۔
ء…/…ء
اعظم خان شیرازی کو سونیا اور کامیش کے درمیان ناچاقی کی خبر ہوگئی تھی سونیا کے یہاں مستقل قیام اور کامیش کے یہاں نہ آنے کی بدولت انہیں کسی گڑبڑ کا احساس ہوا تھا پھر سارہ بیگم سے کڑے تیوروں سے استفسار کرنے پر انہوں نے بے حد ہلکے پھلکے انداز میں میاں بیوی کے درمیان معمولی سی نوعیت کی نوک جھونک ظاہر کی تھی جس پر انہوں نے بے مغرورانہ انداز میں کہا تھا۔
’’سارا بیگم میری بیٹی کو کوئی رشتوں کی کمی نہیں ہے اگر کامیش کے دماغ اتنے ہی خراب ہیں تو میں سونیا کو اس گھر میں نہیں بھیجوں گا بلکہ میں خود ساحرہ اور سمیر سے بات کرتا ہوں۔ میری بیٹی کسی معمولی باپ کی اولاد نہیں ہے کہ جس کے ساتھ کوئی بھی چاہے زیادتی کر ڈالے۔‘‘ یہ سن کر سارا بیگم کے تو جیسے ہاتھ پائوں ہی پھول گئے انہوں نے بڑی مشکلوں سے اپنے شوہر نامدار کو ٹھنڈا کیا تھا۔
’’یہ میٹر جلد سے جلد حل کرلیجیے‘ سارا بیگم ورنہ میں صرف فیصلہ ہی کروں گا۔‘‘ انہوں نے رعونت بھرے انداز میں کہا تھا سارا بیگم نے تمام بات سونیا کے گوش گزار کی تو وہ کچھ دیر کے لیے سوچ میں پڑگئی پھر دھیرے سے بولی۔
’’آپ فکر مت کیجیے میں ڈیڈ سے خود بات کرلوں گی۔‘‘ پھر سونیا بہت دیر تک اسی حوالے سے سوچتی رہی۔
ء…/…ء
شام کے دھندلکے گہرے پڑ کر رات کی سیاہی میں تبدیل ہوچکے تھے‘ وادی میں رات کے اترتے ہی ٹھنڈ اور خنکی میں بھی اضافہ ہوگیا تھا۔ بٹو دزدیدہ نگاہوں سے اِدھر اُدھر دیکھتے ہوئے بہت محتاط انداز میں اپنے گھر کی جانب رواں دواں تھا۔ اس سے رہا نہیں گیا تھا وہ باجی مہرو اور لالہ رخ سے ملنے کو بے چین تھا لہٰذا آج وہ اپنے گھر سے نکل کھڑا ہوا تھا ابھی وہ ذیلی سڑک کو عبور کرنے ہی والا تھا کہ یک دم نجانے کہاں سے کسی بلا کی طرح داور کی جیپ کی ہیڈ لائٹس اس کے وجود پر پڑی ساتھ ہی جیپ کی گھڑ گھڑ کی آواز بھی فضا میں گونج اٹھی جبکہ بے چارے بٹو کا تو دل اچھل کر حلق میں آگیا اتنی ٹھنڈ کے باوجود اس کا وجود بڑی تیزی سے پسینے میں نم ہوگیا۔ جیپ اب بالکل اس کے قریب آکر رک گئی تھی‘ داور ڈرائیور کے ساتھ فرنٹ سیٹ پر بڑے کروفر سے بیٹھا تھا‘ بٹو اسے دیکھ کر گھگھیا کر بولا۔
’’سلام چھوٹے صاحب…‘‘ اس پل اپنی مونچھوں کو تائو دیتے اور بٹو کو بے حد معنی خیز نگاہوں سے دیکھتے ہوئے داور بٹو کو بے حد خوفناک لگا۔
’’اور بھئی بٹو کہاں چھپ کر بیٹھ گئے تھے‘ ہم سے آنکھ مچولی کھیل رہے تھے کیا؟‘‘ داور کے بے حد کٹیلے انداز نے بٹو کو اندر سے سہما کر رکھ دیا تھا۔
’’مم… میں کیوں چھپوں گا آپ سے؟ یہ… یہیں تو تھا میں۔‘‘ وہ تھوک نگلتے ہوئے خوامخواہ میں ہنستے ہوئے بولا۔
’’اچھا تو پھر تین دن سے کہاں غائب تھا تُو؟‘‘ داور اسے ہنوز نگاہوں سے دیکھتے ہوئے بولا تو بٹو جو خود کو داور کے سامنے بالکل نارمل رکھنے کی کوششوں میں ہلکان ہورہا تھا اس لمحے بے اختیار ہڑبڑا کر رہ گیا۔
’’وہ… وہ… وہ… میں چھوٹے صاحب… اپنے گھر پر ہی تھا۔‘‘
’’ہاں تو میں یہی تو تجھ سے پوچھ رہا ہوں کہ بھلا کیوں چھپ کر گھر میں بیٹھ گیا تھا۔‘‘ اسی دم یخ بستہ ہوا کا جھونکا اس کے وجود سے ٹکرایا تو وہ کپکپا کر رہ گیا۔ داور نے اسے استہزائیہ نظروں سے اوپر سے نیچے دیکھ کر اپنے مخصوص رعونت بھرے لہجے میں کہا۔
’’آج تو تجھے کچھ زیادہ ہی سردی لگ رہی ہے۔‘‘ پھر وہ قہقہہ مار کر ہنسا تو ساتھ بیٹھے ڈرائیور نے بھی داور کی ہنسی کا ساتھ دیا۔ بٹو نے انہیں بے بس نگاہوں سے دیکھا پھر منمنا کر بولا۔
’’وہ میری طبیعت ٹھیک نہیں تھی تو اسی لیے گھر پر تھا۔‘‘ بٹو کا بس نہیں چل رہا تھا کہ کہیں سے جادو کی چھڑی اس کے ہاتھ لگ جائے اور وہ اسے گھما کر لمحے کے ہزار وے حصے میں غائب ہوجائے۔
’’کل سویرے ڈیرے پر آجانا‘ کچھ کام ہے تجھ سے۔‘‘ داور حکم صادر کرکے چلتا بنا تھا کچھ دیر بٹو عجیب سی کیفیت میں کھڑا جیب کو جاتا دیکھتا رہا پھر تھکا تھکا اپنے گھر کی جانب چل دیا۔
ء…/…ء
موسم حسین ہے لیکن تم سا حسین نہیں ہے
اے میرے ہم قدم اے میرے ہم نشیں ہم نشیں
عدیل زور و شورسے اپنی بھونڈی آواز میں گانا گارہا تھا جبکہ احمر اسے کھا جانے والی نگاہوں سے گھور رہا تھا عدیل اپنا سر الاپ کر کچھ دیر کے لیے ٹھہرا تو احمر انتہائی چڑ کر بولا۔
’’عدیل تم اپنا یہ بھونپو بند نہیں کرسکتے‘ یہ آج تمہیں گانا گانے کا کیا شوق چرا گیا ہے سکون سے نہیں بیٹھ سکتے تم۔‘‘ عدیل احمر اور باسل کلاس لے کر اپنے ڈیپارٹمنٹ کے گارڈن میں آکر بیٹھ گئے تھے‘ احمر اور باسل کتابوں پر جھکے ہوئے تھے جبکہ عدیل اِدھر اُدھر نگاہیں گھماتے ہوئے شغل فرما رہا تھا۔
’’یار ایک تو تم دونوں انتہائی درجے کے بور انسان ہو اتنے سہانے موسم میں تم کتابوں میں منہ ڈالے بیٹھے ہو۔‘‘ عدیل گھاس میں لیٹتے ہوئے اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو آپس میں پھنساتے ہوئے اپنے سر کی پشت پر رکھتے بولا تو احمر کافی تپ کر گویا ہوا۔
’’تمہیں موسم سہانا کہاں سے لگ رہا ہے؟‘‘ اس وقت دن کے بارہ بج رہے تھے گو کہ موسم میں کافی تبدیلی آگئی تھی ہلکی پھلکی ٹھنڈ شام ڈھلے ہوجاتی تھی مگر دن میں اچھی خاصی تیز دھوپ ہوتی تھی۔ وہ تینوں گارڈن کے ایک جانب قطار در قطار لگے سروقد درختوں کے سائے میں بیٹھے تھے۔
’’ارے میرے جگر جب دل کا موسم اچھا ہوتا ہے تو ہر موسم اچھا لگتا ہے اور تیرے بھائی کے دل کا موسم بہت اچھا ہے۔‘‘ باسل ہنوز کتاب بینی میں مصروف رہا جبکہ عدیل کی بات پر احمر نے متعجابانہ نگاہوں سے اسے دیکھا۔
’’خیر تو ہے ناں یہ تیرے دل کا موسم کس خوشی میں اچھا ہے۔‘‘ احمر کی بات پر عدیل نے بے زاری سے اسے دیکھ کر کہا۔
’’یہ تُو ایک منٹ میں شکی بیوی کیوں بن جاتا ہے‘ کیوں بغیر کسی وجہ کے دل کا موسم اچھا نہیں ہوسکتا کیا؟‘‘ احمر نے اسے لحظہ بھر دیکھا پھر سر جھٹک کر کتاب پر جھک گیا جبکہ عدیل ریلیکس انداز میں لیٹا سیٹی پر کوئی شوخ سی دھن بجانے لگا پھر کچھ دیر بعد وہ انتہائی غیر متوقع طور پر بولا۔
’’گائز کیا خیال ہے جامعہ کراچی چلیں۔‘‘ باسل اور احمر جو دونوں بڑے مگن سے انداز میں کتابوں میں سر ڈالے بیٹھے تھے دونوں نے ہی بڑی سرعت سے ایک ساتھ ہی سر اٹھا کر عدیل کو دیکھا تھا جو مزے سے اب چیونگم کا ریپر کھول کر چیونگم منہ میں رکھ رہا تھا۔ احمر نے کچھ دیر اسے تادیبی نظروں سے دیکھا پھر فہمائشی انداز میں بولا۔
’’کیوں یہ اچانک تمہیں وہاں جانے کا خیال کیسے آگیا؟‘‘ باسل بھی کتاب چھوڑ چھاڑ کر اسے دیکھنے لگا تھا جب ہی وہ سیدھا ہوکر بیٹھتے ہوئے بولا۔
’’ارے بابا میں نے سنا ہے وہاں ونٹر کیمپ لگا ہے سردی کو خوش آمدید کہنے کے لیے‘ انہوں نے میلہ لگایا ہے جو کافی انٹرسٹنگ ہے۔ گائز چلتے ہیں ناں وہاں‘ میلہ بھی انجوائے کرلیں گے اور…‘‘ عدیل قدرے رکا پھر شوخی سے احمر کو دیکھ کر بولا۔
’’اور زرمینہ بی بی سے بھی مل لیں گے۔‘‘ زرمینہ کے نام پر احمر کا دل عجیب سے انداز میں دھڑکا تھا جبکہ اس تمام وقت میں باسل نے پہلی بار لب کشائی کی۔
’’ہماری یونیورسٹی میں کچھ کم ایکٹیوٹیز تو نہیں ہوتیں کہ ہم دوسری یونیورسٹیوں میں چلے جائیں۔‘‘
’’ارے یار وہاں کچھ نیا پن ہوتا ہے نئے چہرے نئی باتیں ہوتی ہیں پھر وہاں زرمینہ خاتون بھی تو ہوتی ہیں اور ان کے ساتھ وہ سہمی ہوئی لڑکی… کیا نام تھا اس کا؟‘‘ عدیل باسل سے مخاطب ہوکر بولتے ہوئے اچانک رک کر اپنے ذہن پر زور ڈالتے ہوئے نام یاد کرنے لگا پھر تیزی سے اچھل کر بولا۔
’’ہاں زرتاشہ… زرتاشہ نام ہے ناں اس کا۔‘‘ وہ نام یاد آنے پر خوش سا ہوا جبکہ باسل نے خوامخواہ ہی رخ دوسری جانب کرلیا۔
’’ویسے احمر وہ لڑکی زرتاشہ کتنی پینڈو اور بونگی سی ہے ناں‘ چڑیا کے بچے کی طرح ہر وقت بس خوف زدہ سی دکھائی دیتی ہے۔ ویسے یہ بھی ایک تکنیک ہوتی ہے لڑکوں کی توجہ حاصل کرنے کی۔‘‘ عدیل بے پروائی سے بول رہا تھا جبکہ باسل کے اندر عجیب سے احساسات جنم لے رہے تھے تب ہی احمر کی آواز ابھری۔
’’عدیل تم ہر لڑکی کو ایک ہی عینک سے کیوں دیکھتے ہو‘ زرتاشہ ہرگز بھی ایسی لڑکی نہیں ہے وہ تو بہت بھولی بھالی اور معصوم سی لڑکی ہے جو صرف پڑھائی کی غرض سے یہاں کراچی آئی ہے۔‘‘ زرمینہ اور زرتاشہ کے متعلق مہوش نے ہی احمر کو تمام معلومات فراہم کی تھیں۔
’’ارے جائو معصوم اور بھولی بھالی لڑکی۔‘‘ عدیل نے جیسے مکھی اڑائی پھر دوبارہ گویا ہوا۔
’’نیلم زمان یاد نہیں رہی کیا تمہیں؟ مجھے تو یہ محترمہ بالکل دوسری نیلم زمان لگتی ہیں۔‘‘
’’عدیل نائو پلیز لیو دس ٹاپک‘ یہ کیا تم ہر وقت لڑکیوں کا ہی ذکر کرتے رہتے ہو۔‘‘ باسل انتہائی ناگوار لہجے میں سخت گیر انداز میں بولا پھر احمر کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔
’’احمر سر محسن کا لیکچر تم نے نوٹ تو کیا ہے ناں۔‘‘ عدیل نے باری باری احمر اور باسل کو دیکھا جو اب لیکچر کو ڈسکس کررہے تھے پھر وہ بلند آواز میں خود سے بولا۔
’’اُف میں کن بدذوق لوگوں میں پھنس گیا ہوں۔‘‘ پھر وہ دوبارہ سابقہ پوزیشن میں لیٹ کر سیٹی بجانے لگا۔
ء…/…ء
مہرو سوچکی تھی لالہ رخ نے اس پر ایک پُرسوچ نگاہ ڈالی پھر اپنے وجود سے آہستگی سے کمبل ہٹا کر بستر سے اتر گئی اس کا رخ امی کے کمرے کی جانب تھا اس کی توقع کے مطابق امی ابھی بھی جاگ رہی تھیں۔ لالہ رخ ایک ہی لمحے میں امی کے چہرے پر کھچی تفکرات کی لکیریں اور اضمحلال کے جھلکتے رنگوں کو بھانپ گئی تھی وہ ایک گہری سانس بھر کر رہ گئی پھر آہستگی سے چلتی ہوئی امی کے بستر کی پائتی پر آکر بیٹھ گئی جبکہ اسی دم امی نے اسے اپنے دھیان سے چونک کر دیکھا۔ وہ کل شام سے دیکھ رہی تھی کہ جب سے مہرو نے وہ بات چھیڑی تھی اس کے بعد سے امی بالکل خاموش ہوگئی تھیں۔ مہرو نے بھی کل کے بعد دوبارہ ان سے کچھ نہیں پوچھا تھا۔
’’کیا ہوا امی آپ کو نیند نہیں آرہی کیا؟‘‘ لالہ رخ نرمی سے استفسار کرتے ہوئے بولی تو امی نے چند ثانیے اسے دیکھا پھر ایک تھکی سی سانس فضاء کے سپرد کرتے ہوئے بولیں۔
’’ہاں بس سونے ہی والی تھی۔‘‘ چند ثانیے کے لیے کمرے میں گہری خاموشی چھائی جب ہی کچھ دیر بعد لالہ رخ سنجیدگی سے گویا ہوئی۔
’’امی کیا مہرو سے اب بھی سچائی چھپانا درست ہوگا۔‘‘ انہوں نے بے پناہ چونک کر اپنی بیٹی کو دیکھا جو مزید کہہ رہی تھی۔
’’مہرو بچی نہیں ہے وہ بہت سمجھ دار اور حساس لڑکی ہے آج وہ جس مقام پر کھڑی ہے وہاں رشتوں میں بدگمانی اور غلط فہمی ہے اسے ہمیشہ کے لیے ہر رشتے سے بدظن اور بے زار کرسکتی ہے۔ میرے خیال میں سچائی جاننا اس کا حق ہے اور مجھے اس بات کا بھی پورا یقین ہے کہ وہ ہر حقیقت کو بہادری اور حوصلہ مندی سے برداشت کرے گی اور پھر ہم دونوں بھی تو اس کے ساتھ ہیں ناں۔‘‘ لالہ رخ کی بات پر یک دم ان کے دل کے آنگن میں بے قراری و بے چینی کے پنچھی آکر بیٹھ گئے وہ بے ساختہ اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں آپس میں مسلنے لگیں۔
’’آدھا سچ پورے جھوٹ سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے امی اور مہرو آدھا سچ جان کر جس کرب اور اذیت کے سمندر سے گزر رہی ہے۔ اس کا اندازہ شاید ہم دونوں کبھی نہ لگاسکیں آپ پلیز اسے سب سچ سچ بتادیجیے ہم دونوں ہیں ناں‘ ہم اپنی مہرو کو بکھرنے نہیں دیں گے اسے سنبھال لیں گے۔‘‘ آخری جملہ اس نے امی کے دونوں ہاتھوں کو تھام کر ادا کیا تھا‘ امی نے لحظہ بھر کر اسے دیکھا پھر ایک گہرا سانس کھینچ کر گویا ہوئیں۔
’’شاید تم ٹھیک کہہ رہی ہو لالہ… آدھا سچ پورے جھوٹ سے کہیں زیادہ زہر قاتل ہوتا ہے اب وہ حرماں نصیب تو ہی نہیں جس نے مجھے قسم دے کر کسی کو بھی کچھ بھی بتانے سے باز رکھا تھا ہاہ شاید وہ قسم بھی اس کے ساتھ ہی ختم ہوگئی۔‘‘ آخر میں انتہائی گلوگیر لہجے میں بولتی امی کی آنکھیں اس دم آنسوئوں سے لبالب بھر گئیں۔ لالہ رخ نے چند ثانیے خاموشی سے انہیں دیکھا پھر جلدی سے بولی۔
’’اچھا اب آپ اور کچھ مت سوچئے آرام سے لیٹ کر بس سو جایئے۔‘‘ پھر وہ انہیں بستر پر لٹا کر ان کے اوپر لحاف ڈال کر وہاں سے نکل آئی۔
ء…/…ء
کمال ہے یار… کمال ہے۔‘‘
’’کمال نہیں ہے جمال ہے سر جمال کی کلاس ہے ابھی۔‘‘ زرمینہ کے اس جملے پر وہ تپ کر بولی اس دن جب وہ باسل کے ہمراہ ڈاکٹر سے ڈریسنگ کروا کر ہاسٹل انتہائی طیش کے عالم میں زرمینہ کلاس لینے کی غرض سے آئی تو گیسٹ روم میں زرمینہ کو کسی لمبے چوڑے بندے کے ساتھ بیٹھے دیکھا۔
’’ارے تاشو… تم آگئیں آج کچھ دیر نہیں ہوگئی تمہیں اور تمہارے پائوں میں یہ پٹی کیوں بندھی ہے۔‘‘ اللہ رے یہ بے خبری زرتاشہ نے اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھا گویا اسے یونیورسٹی کے ہنگامے کی بابت کوئی خبر ہی نہیں تھی۔
’’زری میں تمہیں کتنا فون کررہی تھی‘ تم نے فون کیوں نہیں اٹھایا میرا۔‘‘ زرتاشہ انتہائی غصیلے انداز میں بولی‘ زرمینہ نے ایک پل اسے الجھ کر دیکھا پھر تیزی سے بولی۔
’’یار میں میڈیسنز لے کر بہت گہری نیند سوگئی تھی اور فون سائلنٹ پر تھا ابھی ایک گھنٹہ پہلے ہی تو وارڈن کے دروازہ بجانے پر اٹھی۔
’’ہوں… اور فون میں نے تو دیکھا نہیں ہے۔‘‘ پھر وہ تیزی سے رخ موڑ کر دوبارہ گویا ہوئی۔
’’یہ میرے بڑے بھائی ہیں اور بھایان یہ میری سہیلی زرتاشہ ہے۔‘‘ زرمینہ کے تعارف پر وہ پل بھر کے لیے گھبرائی تھی پھر انہیں سلام کرکے زری کی طرف متوجہ ہوئی جو متفکرانہ انداز میں استفسار کررہی تھی۔
’’تاشو تم نے بتایا نہیں کہ تمہارے پیر میں چوٹ کیسے آئی اور یہ ہاتھ…‘‘ اب اس کی نگاہ اس کی ہتھیلیوں پر پڑی جس پر معمولی خراشوں کے نشان تھے جو پتھریلی زمین کی وجہ سے لگے تھے۔
’’وہ دراصل ڈیپارٹمنٹ میں اچانک کلیش ہوگیا تھا تو میں بدحواسی میں گر گئی تھی۔‘‘ وہ سہولت سے بولی۔
’’او مائی گاڈ مگر مجھے تو کسی نے بھی نہیں بتایا مگر ہاں میری تو ابھی کسی لڑکی سے ملاقات ہی کہاں ہوئی ہے میں تو پچھلے ایک گھنٹے سے بھایان کے ساتھ بیٹھی تھی‘ تم ٹھیک تو ہو ناں۔‘‘ پریشانی و فکر اس پل زرمینہ کے چہرے سے ہویدا تھی زرتاشہ کو یک دم اپنی اس مہربان پیاری سی دوست پر ڈھیروں پیار آگیا تھا۔
’’ہاں میں اب بالکل ٹھیک ہوں۔‘‘ وہ مسکرا کر بولی پھر زرمینہ صاحبہ اپنے بھائی کے ہمراہ ایک ہفتے کے لیے اپنے گھر چلی گئی تھیں کیوںکہ ان کی آنی کی اچانک شادی طے پاگئی تھی اور اسی وجہ سے زرمینہ کے بھائی اسے لینے آپہنچے تھے۔ وہ زرتاشہ کو اس حالت میں چھوڑ کر جانے سے بے چین سی ہورہی تھی مگر زرتاشہ نے اسے اپنی طرف سے اطمینان دلا کر۔ رات کو فراغت ملی تو زرتاشہ نے اس دن یونیورسٹی میں ہونے والا تمام قصہ زرمینہ کے گوش گزار کردیا تھا زرمینہ تو پوری آنکھیں کھولے اور منہ پھاڑے انتہائی اچنبھے سے تمام کتھا سن رہی تھی پھر اس وقت سے اب تک وہ ہزار ہا مرتبہ حیرت و استعجاب کا اظہار کرچکی تھی۔
’’یار ویسے یہ تو بڑی افسانوی سی سچوئشن تھی باسل تمہیں وہاں سے لے کر بھاگا اور تم…‘‘
’’افوہ زری اللہ کے واسطے خاموش ہوجائو‘ تمہیں تو کچھ بھی بتانا آبیل مجھے مار کے مترادف ہے۔‘‘ زرتاشہ زرمینہ کی بات درمیان میں ہی کاٹتے ہوئے بے زار کن لہجے میں بولی مگر زرمینہ پر تو جیسے کوئی اثر ہی نہیں ہوا تھا۔
’’باسل نے خود تمہیں سہارا دے کر گاڑی میں بٹھایا تھا۔‘‘ زرتاشہ نے اس لمحے زرمینہ کو انتہائی غصے سے دیکھا پھر بے پناہ جھنجھلا کر بولی۔
’’زری تم اس بات کا پیچھا کیوں نہیں چھوڑ دیتیں یار… کل سے تم نے یہی باتیں کرکر کے میرا دماغ پکا دیا ہے۔‘‘ زرتاشہ کو مکمل ہتھے سے اکھڑتا دیکھ کر زرمینہ جلدی سے گویا ہوئی۔
’’اچھا بابا اب کچھ نہیں بولتی آئو کلاس کا ٹائم ہورہا ہے۔‘‘ پھر وہ دونوں کلاس روم کی جانب بڑھ گئیں۔
ء…/…ء
ڈنر ٹیبل پر باسل‘ خاور حیات اور حورین تینوں خوش گپیوں میں مصروف تھے جب ہی خاور حیات اپنی پلیٹ میں چکن جلفریزی کی تھوڑی سی مقدار نکالتے ہوئے بولا۔
’’باسل میں یہ سوچ رہا ہوں کہ ہم تینوں آئوٹنگ پر شہر سے باہر چلتے ہیں۔‘‘ چاول سے بھرا چمچ منہ کی جانب لے جاتے ہوئے باسل نے اپنے باپ کو چونک کر دیکھا اتنا اچانک شہر سے باہر جانے کا پروگرام سن کر باسل کچھ کھٹک سا گیا تھا جبکہ حورین کھانا چھوڑ چھاڑ کر خاور کو الجھن آمیز نگاہوں سے دیکھ رہی تھی۔ نجانے کیوں خاور کا پژمردہ سن کر اس کے اندر عجیب سی وحشت کے سائے اتر آئے تھے جبکہ خاور حیات ڈاکٹر اقبال محبوب کے کہنے پر ہی حورین کو سیاحتی مقامات پر لے جانا چاہتا تاکہ وہاں جاکر اس کا ذہن کچھ فریش ہو اور خالص آب و ہوا سے بھی فیض یاب ہوجائے۔ چند ثانیے بعد باسل حیات ازخود سمجھ گیا کہ خاور حیات نے یہ بات کسی خاص مقصد کے تحت ہی کی ہے جب ہی بڑی خوش گواری سے گویا ہوا۔
’’ناٹ آ بیڈ آئیڈیا ڈیڈ‘ ویسے تو میں کچھ ہی عرصہ پہلے گھوم پھر کر آیا ہوں مگر آپ لوگوں کے ساتھ جانے کا تو الگ ہی مزہ ہے‘ آئی ایم ریڈی ڈیڈ۔‘‘ باسل کی بات پر خاور مسکرا کر اثبات میں سر ہلا کر بولا۔
’’ڈیٹس گڈ مائی سن۔‘‘ پھر حورین کی جانب متوجہ ہوکر بولا۔
’’اچھ تم بتائو حورین‘ ہم کہاں جائیں‘ کیا خیال ہے کشمیر کی طرف نہ نکل چلیں۔‘‘ حورین نے اس پل اسے بے حد اجنبی نگاہوں سے دیکھا پھر عجیب سے انداز میں خود سے سر گوشی کرتے ہوئے بولی۔
’’مجھے کہیں نہیں‘ کہیں نہیں جانا۔‘‘ باسل اور خاور نے بے پناہ پریشان ہوکر ایک دوسرے کو دیکھا پھر دوسرے ہی لمحے حورین کی جانب متوجہ ہوئے جس کا چہرہ اس وقت ہلدی کی مانند زرد ہوگیا تھا جبکہ ہونٹوں پر کپکپاہٹ بھی بالکل واضح تھی۔
’’اٹس اوکے مام… ہم کہیں نہیں جارہے۔‘‘ باسل نے حورین کے میز پر دھرے ہاتھ پر اپنا ہاتھ سہولت سے رکھا تو جیسے اسے ہزار والٹ کا کرنٹ لگا‘ وہ اتنی زور سے اچھلی کہ باسل اور خاور متحیر رہ گئے۔
’’مجھے کہیں نہیں جانا… کہیں نہیں جانا سمجھے‘ کہیں نہیں جانا۔‘‘ وہ آخر میں حلق کے بل چلا کر بولی پھر کرسی سے اٹھ کر پوری طاقت سے چلا چلا کرکہنے لگی۔
’’مجھے کہیں نہیں جانا‘ تم لوگ کیوں میرے ساتھ زبردستی کرتے ہو۔ مجھے جینے کیوں نہیں دیتے‘ چھوڑ دو مجھے میرے حال پر۔‘‘
آج سے پہلے حورین نے اس طرح کے ردعمل کا اظہار تو کبھی نہیں کیا تھا خاور حیات بری طرح گھبرا گیا جبکہ باسل کو تو اس لمحے اپنے پیروں تلے زمین سرکتی ہوئی محسوس ہوئی۔
’’ریلیکس حورین پلیز کول ڈائون‘ ہم کہیں نہیں جارہے۔‘‘ مگر حورین تو جیسے اپنے حواسوں میں تھی ہی نہیں وہ پیچھے سرکتے ہوئے بس ایک ہی جملے کی تکرار کیے جارہی تھی۔
’’مجھے نہیں جانا۔‘‘ پھر یونہی پیچھے سرکتے ہوئے وہ تیورا کر گرنے ہی والی تھی کہ اسی پل باسل اور خاور تیزی سے حورین کی جانب دوڑے تھے۔
ان شاء اللہ باقی آئندہ ماہ

Show More
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close