hijaab Dec-17

دسمبر لوٹ ایاہے

قرۃالعین سکندر

’’میرا کوئی ارادہ نہیں ہے سنبل کی شادی کی تقریب میں شرکت کرنے کا‘ مجھے مجبور نہ ہی کریں تو بہتر ہوگا۔‘‘ سارہ نے بے بسی سے اپنی ماں تانیہ بیگم سے درخواست کی۔
’’لو بھلا ایسا کیسے ہوسکتا ہے‘ سارا خاندان اکٹھا ہوگا‘ لوگ سو طرح کے سوال کریں گے ہم کس کس کا منہ بند کریں گے‘ اس لیے بہتر یہی ہے کہ تم اپنی تیاری رکھو ندا مدد کرواؤ بہن کی پرسوں صبح ناشتے کے بعد روانگی ہے۔‘‘ تانیہ تو یہ کہہ کر آرام سے کمرے سے باہر نکل گئیں مگر سارہ کو سوچوں کے گرداب میں الجھا دیا۔
وہ جانتی تھی کہ وہ اب لاکھ جتن کرلے تانیہ اپنا حکم منوا کرہی رہیں گی کچھ عرصہ قبل کوئی اسے بھی ساتھ چلنے کی پیشکش کرتا تو وہ ہرگز بھی مسترد نہ کرتی‘ اچھلتی کودتی تیاری کرتی مگر اب تو جیسے اس کا دل مرجھا سا گیا تھا اس کا تو سرے سے گھر سے باہر نکلنے کا ہی دل نہیں کرتا تھا‘ ہجوم بیکراں میں بھانت بھانت کے چہرے لیے اور مختلف چہروں پر رقص کرتی استہزائیہ مسکراہٹ وہ سب سے قطعی طور پر الگ نہیں رہ سکتی تھی یہ بھی محبت کی معراج تھی کہ وہ ہر چہرے پر لکھی ہوئی تحریر کو من و عن پڑھنے لگی تھی‘ اسے جب سے سنگلاخ خاردار پُر خار راستوں پر ننگے پاؤں چلنا پڑا تھا تب سے کرب و اذیت کے سارے باب اس پر لحظہ لحظہ عیاں ہو گئے تھے۔ وہ بھی تو ٹوٹ کر بکھری تھی اور اس کی اس اندرونی خلفشار اور اضطراب کی وجہ اب کسی سے بھی تو ڈھکی چھپی نہیں رہی تھی۔
’’میں سوچ رہی تھی کہ اب عادل کے لیے عطیہ کو ہاں کر ہی دوں وہ بار بار سوال دراز کرتی ہے اور عادل اپنی سارہ کے پیچھے دیوانہ ہورہا ہے‘ ویسے تو اس رشتے کے حق میں نہ تھی مگر اب جب سے سلیم کی شادی کی ہے سوچتی ہوں کہ میں نے سراسر غلطی کی ہے‘ بہن کی بیٹی یہ سوچ کر لائی تھی کہ کومل عزت کرے گی مگر سلیم تو اب کومل کی زبان بولنے لگا ہے ایسے میں اگر سارہ اپنے گھر کی ہو جائے گی تو پھر کوئی مسئلہ نہیں ہوگا میری پریشانی کم ہو جائے گی اب آپ برا نہ مانیں تو بتا دیں ویسے بھی ایک تو اپنی طرف رشتہ کرکے انجام دیکھ ہی چکی ہوں اب سارہ کا آپ کی طرف رشتہ طے کردینا چاہتی ہوں۔‘‘ تانیہ کی بات پر طارق نے پُرسوچ انداز میں بیگم کی طرف دیکھا۔
’’میں نے کبھی بچوں کے مستقبل کے بارے میں تم کو پابند نہیں کیا‘ اس میں بھی سلیم کی خوشی تھی میں نے کوئی اعتراض نہیں کیا تھا اور اب اگر عادل سارہ کا خواہش مند ہے تو کوئی بات نہیں بلکہ یہ ایک طرح سے اچھا ہی ہے کہ اپنی سارہ کو اگلے گھر چاہت سے لے جایا جائے میں نے پہلے بھی کوئی اعتراض نہیں کیا اور اب بھی میری طرف سے کوئی عذر نہیں‘ ہاں ایک اور بات اس معاملے میں ماؤں کے فرائض میں شامل ہے کہ ایک مرتبہ بیٹی سے شادی کے معاملے میں رضا مندی بھی معلوم کرلینی چاہیے اس لیے تم موقع دیکھ کر سارہ سے پہلے پوچھ لو اگر سارہ کو کوئی اعتراض نہیں ہے تو پھر ان لوگوں کو ہاں کر دو بے شک عطیہ میری کزن ہے مگر میں چاہتا ہوں کہ سارے مسائل و معاملات تم خود طے کرو رشتہ داری کی بنا پر میں کسی قسم کی کوئی بھی ڈھیل نہیں دینا چاہتا ہوں۔‘‘ طارق کی ہاں کے بعد تانیہ نے سارہ سے بات کی تھی۔
’’دیکھو سارہ میں نے اس وقت تمہیں اس لیے بلایا ہے کہ میں تم سے عادل کے بارے میں پوچھنا چاہتی ہوں تم جانتی ہو کہ تمہاری بھابی کے مزاج کیسے ہیں اور اب جبکہ وہ اس خاندان کو وارث دینے جارہی ہے اس کے مزاج تو ملتے ہی نہیں‘ ہم یہ سب مجبوراً سہہ رہے ہیں کیونکہ ابھی ہم نے تمہارا اور ندا کا بھی فرض ادا کرنا ہے ایک بار یہ فرض ادا ہو جائیں تو دل کو سکون مل جائے گا‘ اس لیے اب میں نے اور تمہارے ابا نے عادل کو تمہارے لیے پسند کیا ہے ایک مرتبہ تم بھی اپنی رائے دے دو تاکہ کومل کے آنے سے پہلے پہلے ہی بات رسما پکی کرکے منگنی کردی جائے۔ تم جانتی ہو کومل کی عادت کو وہ ضرور اس میں بھی کوئی خلل ڈالنے کی کوشش کرے گی اور میں اسے ایسا کوئی موقع نہیں دینا چاہتی۔‘‘ تانیہ کے پوچھنے پر وہ سر جھکا کر مدھم سا مسکرائی تھی یعنی اسے بھی عادل پسند تھا۔
’’محبت کے اڑن کھٹولے میں قدم رکھتے ہی زندگی کس قدر حسین ہوگئی تھی عادل کے نام کی انگوٹھی اس کی مخروطی انگلی میں جگمگانے لگی اور عادل کا گہرا نقش اس کے قلب جان میں جاگزیں ہوا تو محبت کے رنگین خواب دونوں کی آنکھوں میں تھے‘ محبت کے انوکھے رنگ اب چہرے پر تمازت بن کر چھا رہے تھے۔ عادل اور سارہ دونوں بے حد خوش تھے مگر جب کومل ماں کے گھر سے لوٹی اس کا موڈ ایک دم سے ہی خراب ہوگیا تھا۔
’’تمہارے والدین مجھے دل سے قبول ہی نہیں کرسکتے اسی لیے تو اپنی ہر خوشی مجھ سے چھپانے میں ماہر ہیں کیا میرے ہوتے یہ منگنی نہیں ہوسکتی‘ کیا میں کوئی دخل اندازی کرتی‘ ارے میں بھی کھلے دل سے اس میں شریک ہوتی مگر آنٹی کے دل میں میرے لیے کھوٹ ہے اوپری دل سے بیٹی کہنے اور بیٹی سمجھنے میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے اور ان کے اس اقدام کے بعد میرا دل ہی ان کی جانب سے کھٹا ہوگیا ہے مجھے اب اس کی شادی میں بھی شرکت کے لیے مت کہنا نہ ہی مجھے اس عادل کی آمد پر اس کی خاطر داری کے لیے بلاوا دیا جائے ویسے مجھے تو دال میں کچھ کالا لگتا ہے ورنہ اس قدر خاموشی اختیار کرنے کی کیا ضرورت تھی‘ لوگ تو خوشیوں کو بانٹتے ہیں کیونکہ آج تک تو یہی سنا اور دیکھا ہے کہ خوشیاں بانٹنے سے بڑھتی ہیں یہ آج پہلی مرتبہ دیکھا کہ کوئی خوشی چھپا کر بھی بڑھتی ہے۔‘‘ کومل کو جیسے ہی معلوم ہوا کہ سارہ کی منگنی اس کی من پسند جگہ پر ہوئی ہے تو بطور بھابی اس نے اپنے عناد کا اظہار کیا تھا پھر ہر وقت بات بے بات سارہ کے کھلکھلاتے لب کومل کے لیے ناقابل برداشت تھے بعض اوقات کچھ لوگ ازخود دشمنی اور عناد دل میں پال لیتے ہیں کومل بھی ان میں سے ہی تھی۔ آہستہ آہستہ عادل کی آمد کومل کو کھٹکنے لگی تھی۔ ایک دن تو اس نے حد ہی کردی۔
’’آنٹی آپ برا مت منائیں تو ایک بات کہنا چاہتی ہوں عادل کی اس قدر آمد کسی طور بھی مناسب نہیں ہے بہتر ہوگا کہ شادی سے قبل ایک خاص حد تک فاصلے کو برقرار رکھا جائے۔‘‘ کومل نے کہا تو تانیہ دھیمی مسکان لیے مسکرائیں۔
’’بیٹا… تمہاری بات بالکل درست ہے مگر عادل کوئی غیر نہیں ہے۔ اس کا آنا تم ہی زیادہ محسوس کرتی ہو ورنہ وہ صرف ویک اینڈ پر ہی آتا ہے اور وہ بھی گھڑی دو گھڑی میرے سامنے ہی بیٹھ کر واپس چلا جاتا ہے میرے خیال میں اس میں ایسی کوئی معیوب بات نہیں‘ وہ پہلے بھی اسی طرح خلوص سے آتا تھا اب یوں اچانک میں اس پر پابندی عائد نہیں کرسکتی۔‘‘ تانیہ کی بات اسے سخت ناگوار گزری اسی لیے بالکل ہی چپ ہوگئی مگر دل میں گہرا عناد پال لیا تھا۔
٭٭٭…٭٭٭
عادل نے اچانک ہی ویزہ لگنے اور بیرون ملک جانے کی جاں گسل اطلاع دی تھی سب ہی ایک دم سے محو حیرت تھے خود سارہ کا رو رو کر برا حال تھا اس نے تو سوچا تھا کہ اب وہ بہت جلد ہی عادل کی زندگی میں رنگ بھرنے اس کے آنگن میں قدم رکھ دے گی مگر عادل کے تو ارادے ہی اور تھے وہ اپنی زندگی میں لفظ ’’کاش‘‘ کو ہمیشہ کے لیے ختم کردینا چاہتا تھا۔ اگرچہ رب العزت کا دیا سب کچہ تھا مگر وہ اس سے مطمئن نہیں تھا‘ بیرون ملک جانا اس کا دیرینہ خواب تھا اس خواب کی تعبیر پانے کے لیے اس نے سارہ کی آہوں اور گریہ وزاری کو بھی پس پشت ڈال دیا تھا۔ عطیہ نے بھی اس نازک موقع پر اپنے بیٹے کا ہی ساتھ دیا اور اس کی حوصلہ افزائی کی تھی۔
’’بہن اگر ہمارے حالات اچھے ہوں گے تو پھر اس کے مثبت نتائج آپ کی بچی کے ہی مستقبل پر پڑیں گے وہ ہی ایک خوشگوار زندگی بسر کرے گی چند ماہ کی بات ہے پھر تو سب پہلے جیسا ہوگا۔‘‘ عطیہ کی بات کے بعد کسی قسم کی بحث کی گنجائش ہی باقی نہیں رہتی تھی پھر عادل چلا گیا۔ اسے روتا کرلاتا چھوڑ کر اور یہ چند ماہ سالوں پر محیط ہوتے چلے گئے اور ہر سال واپس آنے کا وعدہ کرکے وہ ٹال جاتا تھا۔
عطیہ نے بہت خوب صورت بنگلہ بنا لیا تھا‘ فری کی شادی ہوگئی تھی مگر عادل نہیں آیا اپنی بہن کی شادی میں شرکت سے بھی ضروری تھا کہ وہ بیش قیمت تحائف ارسال کردے کومل کی تضحیک آمیز نظریں اب سارہ کے دل پر پڑنے لگی تھیں‘ شروع میں عادل اکثر سارہ کو فون کیا کرتا مگر پھر رفتہ رفتہ اس میں بھی کمی آ گئی تھی۔
’’شادی میں کم و بیش سارا خاندان ہی شریک تھا ندا بہن کے ساتھ لگی بیٹھی تھی کومل ہر کسی سے مل رہی تھی ننھا شافی بھی اس کے ساتھ ہی لپٹا ہوا تھا‘ تھکان کے باوجود عرصہ کے بعد سب سے مل کر تروتازگی کا احساس اجاگر ہورہا تھا صرف سارہ حزن وملال لیے ایک کونے میں بیٹھی تھی۔
’’ماشاء اللہ ندا کی کہیں بات چل رہی ہے کیا بہت نکھر سی گئی ہے۔‘‘ آصفہ نے ندا پر اپنی نظریں مرکوز کرتے ہوئے پوچھا تو تانیہ ٹھنڈی سانس بھر کر رہ گئی۔
’’ہم جب تک بڑی بیٹی کے فرض سے سبکدوش نہیں ہو جاتے چھوٹی کے لیے کیسے سوچ سکتے ہیں۔‘‘
’’اے لو یہ بھی خوب کہی آپ نے اب کیا بڑی کے چکر میں چھوٹی کو بھی بیٹھائے رکھو گی کچھ عقل سے کام لو مجھے ندا اپنے سلمان کے لیے بہت پسند آئی ہے اب تم ہاں کردو اور اگلے ماہ ہی رخصتی بھی دے دو بہن یہ نصیبوں کی بات ہوتی ہے کسی کا جلد نصیب کھل جاتا ہے اور کسی کے نصیب کی گرہیں کھلتے کھلتے بالوں میں چاندی اتر آتی ہے مجرم تم ہی قرار پاؤ گی‘ ارے میں تو کہتی ہوں کہ اس بڑی کا بھی کہیں اور دیکھنا شروع کردو رشتہ کیا معلوم ان لوگوں کی نیت میں ہی فتور آگیا ہو۔‘‘ آصفہ کی بات میں واقعی وزن تھا۔
کومل ساس کو آصفہ کے اتنے قریب دیکھ کر ٹھٹھک سی گئی وہ معاملہ فہم تو تھی ہی۔ شادی میں ہی عطیہ بھی شریک تھی اس سے اب کے تانیہ بیگم نے دو ٹوک بات کرنے کی دل ہی دل میں ٹھان لی پھر موقع بھی مل گیا تھا۔
’’بہن اب مزید انتظار ممکن نہیں ہے آپ عادل سے کہیں کہ واپس آجائے اور بے شک شادی کے بعد واپس چلا جائے مگر اب ہم کب تک سارہ کو یونہی گھر بیٹھا کر رکھیں گے۔‘‘ تانیہ کی بات عطیہ کو بے حد گراں گزری تھی اس لیے قدرے رکھائی سے بولیں۔
’’ذرا تو صبر کریں فون آیا ہے عادل کا آرہا ہے چند دن میں۔‘‘ تانیہ کے دل میں سکون سا اتر آیا اگر ایسا ہوجاتا تو وہ دونوں بیٹیوں کے فرائض سے ایک ساتھ سبکدوش ہوسکتی تھیں۔
’’ایک کپ چائے مل جائے گی کیا؟‘‘ شازل نے کچن میں برتن دھونے کے بعد انہیں خشک کرتی سارہ سے پوچھا تو سارہ ایک دم چونکی۔
’’جی کیوں نہیں میں ابھی بنا دیتی ہوں۔‘‘ شازل کو اس لڑکی سے بہت ہمدردی تھی‘ ساری شادی میں یہ لڑکی سب کے لیے گفتگو کا محور اور چسکے کا ذریعہ بنی رہی تھی ہر کسی کو اس کے مستقبل کی ٹوہ لگی ہوئی تھی شازل نے کئی مرتبہ سارہ کو بھیگی پلکوں کے ساتھ سر جھکائے لگاتار کام کرتے دیکھا تھا یہ ہمارے معاشرہ کا المیہ بن چکا ہے کہ لوگ احساس سے عاری ہر لڑکی کی شادی کے مسئلے کو لے کر بلا تکان دل کی بات کہہ جاتے ہیں یہ جانے بنا کہ اس لڑکی کے شیشۂ دل پر لگی ذرا سی گزند کیسے اسے بے مایہ کر جاتی ہے۔ شازل کرسی پر بیٹھا سارہ کے بارے میں ہی سوچ رہا تھا جب سارہ نے اس کے سامنے چائے کا کپ رکھا وہ پلٹ کر جانے ہی لگی تھی جب شازل نے اسے پکارا۔
’’سنو خوش رہا کرو دنیا کا تو کام ہی یہی ہے دل شکنی اور دل آزاری جیسے وار کرتی رہتی ہے۔‘‘ شازل کی بات پر سارہ کی آنکھوں میں حیرت کے ساتھ ساتھ اضطراب بھی سمٹ آیا۔ وہ بنا کچھ کہے پلٹ گئی تھی۔
ندا اور سلمان کی منگنی کردی گئی سارہ ندا کے لیے بہت خوش تھی مگر سارہ دیکھ رہی تھی کہ منگنی کے بعد ندا کے رنگ ڈھنگ بالکل بدل گئے تھے‘ ایک عجیب سا تفاخر اس کے چہرے پر مسکراہٹ بن کر چھلکنے لگا تھا‘ بات بے بات کھلکھلاتے لب بسا اوقات زہر بھی اگلنے لگتے تھے۔ سارہ چھوٹی بہن کی دل شکنی والی بات بھی ہنس کر سہہ جاتی تھی اسے معلوم تھا کہ گھر میں کومل بھی موجود ہے جو مزید فساد پھیلانے کی کوشش کرسکتی ہے اس لیے پہلے قدم پر ہی صبر و ضبط کا مظاہرہ کرتی رہی تھی۔
٭٭٭…٭٭٭
کل کی فلائٹ سے عادل پاکستان واپس لوٹ رہا تھا اسی خوشی میں سب خاندان کو مدعو کیا گیا تھا دل میں میٹھی سی کسک لیے وہ بھی محو انتظار تھی۔
’’اے بہن کچھ دن بعد رکھ دیتی یہ دعوت ابھی بچہ تھکا ہوا آئے گا۔‘‘ طاہرہ نے کہا۔
’’آپ کی بات ٹھیک ہے مگر اس کی ہی ضد تھی کہ سب کے لیے کوئی سرپرائز ہے سو مائیں تو وہی کرتی ہیں جو اولاد کہے۔‘‘ عطیہ بے حد خوش تھی۔
پھر عادل کی آمد بھی ہوہی گئی سارہ کا دل عادل کو دیکھ کر تیزی سے دھڑکنے لگا مگر اس کے پہلو میں انجان لڑکی کو دیکھ کر دھڑکن مدھم ہوکر بند سی ہونے لگی تھی‘ وہ کس قدر قریب تھی عادل کے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے۔
’’میٹ مائی وائف پر…‘‘ وہ سب سے ہی مخاطب تھا مگر عطیہ کو جیسے پہلے سے ہی معلوم تھا تبھی لپک کر بہو کو گلے سے لگایا۔
’’ماشاء اللہ چشم بد دور۔‘‘ پری محبت کے اس مظاہرے پر کسمسا سی گئی تھی۔
’’یہ کون ہے۔‘‘ تانیہ بیگم نے بے یقینی سے پوچھا‘ انہیں اپنی ہی آواز دور سے آتی محسوس ہوئی ایک لمحے کو دل چاہا کہ جواب ان کے حسب منشا ہو مگر ایسا نہیں ہوا۔ زندگی میں سب ہمارے منشا کے مطابق نہیں ہوتا بعض اوقات صبر کے گھونٹ کو امرت سمجھ کر پینا ہی پڑتا ہے۔
’’یہ میری بہو ہے پری اور سارے خاندان کو مدعو کرنے کا مقصد یہی ہے کہ سب جان لیں کہ آج سے پری ہماری بہو ہے میں کس کس کو وضاحت دیتی میرے بیٹے کی پسند اور خوشی ہی میری خواہش ہے‘ بیٹا پری تم اب کمرے میں جا کر آرام کرو سفر کی تھکاوٹ ہوگئی ہوگی میں مہمانوں کو کھانا کھلا کر رخصت کردوں پہلے۔‘‘ عطیہ کی بات پر چہار سو چہ میگوئیاں ہونے لگی تھیں سب کو عطیہ سے اس رویے کی امید نہیں تھی مگر روپیہ انسان کو متکبر بنا دیتا ہے‘ وہ اچھے برے کی تمیز سے عاری ہو جاتا ہے‘ اسے لگتا ہے کہ وہ روپے سے ہر شے اپنی دسترس میں رکھنے پر قادر ہے۔
تانیہ کی حالت بری ہورہی تھی وہ لہرا کر زمین بوس ہو گئی تھیں اس وقت طارق صاحب بھی ساتھ نہیں تھے کیونکہ انہیں کوئی آفس کا ضروری کام تھا انہوں نے کہا تھا کہ وہ نبٹا کے بعد میں آجائیں گے اب ماں کو اس حالت میں دیکھ کر سارہ کے چہرے کا رنگ متغیر ہوا تھا شازل نے آگے بڑھ کر تانیہ بیگم کو تھام لیا تھا۔
’’برسوں بعد میرا بیٹا واپس لوٹا ہے یہاں پر نحوست نہ پھیلاؤ کہیں اور جا کر بے ہوشی کے ڈرامے کرو۔‘‘ عطیہ کی بے لگام زبان زوروں پر تھی سب ہی خاموش تھے مگر کومل چپ نہ رہی۔
’’ارے واہ اسے کہتے ہیں ایک تو چوری اوپر سے سینہ زوری کس طرح بے شرموں کی طرح بیٹا میم لے آیا اور مزے کی بات کہ ماں کو معلوم بھی تھا اگر ایسا ہی تھا تو صاف بتا دیتی یہاں بلا کر یہ ڈرامہ رچانے کی کیا ضرورت تھی پہلے تو تمہارا بیٹا پاگل بنا تھا اب اتنی جلدی محبت کا بھوت بھی اتر گیا اور کیا ثبوت ہے کہ کچھ عرصے کے بعد یہ پری کو کسی کے لیے نہیں چھوڑے گا‘ ہاں البتہ دولت پاؤں کی زنجیر بن گئی تو کچھ کہا نہیں جاسکتا۔‘‘
’’کچھ تو لحاظ کرو تمہاری ساس کی طبیعت خراب ہے چلو شازل گاڑی نکالو فوراً۔‘‘ طاہرہ نے سب کو چپ کروایا اور ندا بھی پریشان تھی جبکہ سارہ خود کو موردِ الزام ٹھہرا کر مسلسل رو رہی تھی اس کے آنسو ایک تواتر سے بہہ رہے تھے فوری طور پر تانیہ کو ہاسپٹل لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے ان کو فوراً ہوش میں لانے کی کوششیں شروع کردی تھیں۔
پورے دو دن بعد تانیہ بیگم کی حالت بہتر ہوتء تھی اور وہ تشویش ناک حالت سے باہر نکل آئی تھیں مگر لبوں پر قفل پڑ گئے تھے۔ چند دن بعد ان کو گھر لے جایا گیا اور جانے سے پہلے ایک دن شازل نے اس سے کہا تھا۔
’’میں جانتا ہوں آپ بہت بہادر ہیں‘ زندگی امتحان بھی لیتی ہے اس لیے آنے والے مصائب کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا چاہیے اگر آپ ایسا سوچیں کہ وہ شخص ہی آپ کی رفاقت کے قابل نہیں ہے تو سوچنے کا انداز جینے کا ڈھنگ بھی بدل دے گا۔‘‘
’’مگر یہ تو سراسر خود فریبی ہوگی جبکہ مجھے معلوم ہے اس نے سب کے سامنے مجھے چھوڑا ہے رسوائی دی ہے ایسی ذلت جس کی کالک میرے چہرے پر نقش ہوگئی ہے۔‘‘ سارہ کا لہجہ رندھا ہوا تھا۔
’’مجھے بہت افسوس ہوا‘ میں آپ کو بہت بہادر سمجھتا تھا ایسا کیوں سوچ رہی ہیں۔‘‘ شازل کو واقعی اس کے اس بیان سے دلی رنج پہنچا تھا۔
پھر دوبارہ ان کی اس موضوع پر کوئی بات نہیں ہوئی تھی۔ کومل بھابی نے اپنی زبان کے نشتر تیز کردیے تھے سارہ بھی سب سے چھپتی پھرتی تھی‘ سارا دن کچن میں یا گھر کے کاموں میں مصروف رہتی‘ شافی کے کام کرتی‘ گھر سنبھالتی مگر کومل بھابی خوش ہونے والوں میں سے نہیں تھیں۔ ان کے آگے سارہ کے ہزار جتن بھی بے کار تھے۔
’’کیا پکا رہی ہیں؟‘‘ ندا نے کچن میں جھانک کر پوچھا۔
’’امی کے لیے پرہیزی کھانے کے ساتھ گھر والوں کے لیے سیخ قیمہ اور کوفتہ پلاؤ۔‘‘ سارہ نے مصروف انداز میں جواب دیا۔
’’سلمان کی امی آرہی ہیں۔‘‘ ندا نے شوخ انداز میں کہا۔
’’کیسی لگ رہی ہوں شکر ہے میں سلمان کی من پسند ہوں ورنہ میرا بھی آپ جیسا حال ہوتا۔‘‘ ندا اپنی ہی رو میں بول گئی تھی اس بات سے قطع نظر کہ سارہ پر کیا گزری ہوگی۔ سارہ نے ایک اچٹتی نگاہ ندا پر ڈالی۔
پرپل کلر میں خوشی کی تمازت لیے اس کا چہرہ گلنار تھا۔ سارہ نے فوراً سے پیشتر اپنی نگاہیں پھیر لی کہیں اسے نظر ہی نہ لگ جائے۔
’’ہم اب مزید انتظار نہیں کرسکتے‘ مہربانی کرکے مجھے اب ندا کی رخصتی دے دیں۔‘‘ کمرے کی فضا ایک دم سے بوجھل سی ہوگئی تھی تانیہ بیگم نے ملتجی نگاہوں سے طارق صاحب کی طرف دیکھا۔
’’جی بہتر ندا یوں بھی آپ کی امانت ہے ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔‘‘ طارق صاحب نے قطعیت سے کہا پھر سارہ اور کومل نے سب کا منہ میٹھا کروایا‘ سارہ کو دیکھ کر خوشی بھی پھیکی پڑ گئی تھی اداسی سی تھی۔
ایک ماں چاہ کر بھی اپنی سب بیٹیوں کو یکساں طور پر خوشی نہیں دے سکتی‘ ایک ماں دعا ہی دے سکتی ہے اور اس کے علاوہ کچھ بھی نہیں صرف ذات باری تعالیٰ ہے جو انسان کے مقدر میں خوشی لفظ رقم کرسکتی ہے۔
آہستہ آہستہ تانیہ کی طبیعت سنبھل چکی تھی شادی کے دن رکھے جاچکے تھے ندا تو کسی اور ہی جہاں میں آباد تھی سلمان کی محبت نے اسے مغرور بنا دیا تھا وہ متکبرانہ بول سے سارہ کو دکھی کردیا کرتی تھی۔ انہی دونوں سارہ کے رشتے کی نئے سرے سے کوششیں شروع کردی گئی تھیں ابھی ایک ماہ تھا کیا معلوم سارہ کی قسمت بھی کھل جاتی رشتہ داروں سے تو یہ توقع نہیں تھی کہ وہ سارہ کو اپناتے سب کے سامنے ہی سارہ کو تضحیک کا نشانہ بنایا گیا تھا‘ ہر دوسرے دن بھانت بھانت کے چہرے رونق افروز ہوتے تھے اور سارہ دل پر پتھر رکھ کر نمائش کے سامان کی مانند پیش ہوجاتی تھی۔ اس کا بس چلتا تو شادی لفظ کو ہی اپنی زیست کے صفحات سے ہمیشہ کے لیے کھرچ ڈالتی۔
عادل نے تو شاید دل لگی کا سامان کیا تھا مگر ہر لڑکی کا دل کسی کورے کاغذ کی مانند ہوتا ہے دل کے پنوں پر پہلا نام جس کا درج ہو اسی سے تمام روپہلے خواب‘ روپہلی کرنیں محبت کی منسوب ہوجاتی ہیں‘ وہ بھی راتوں کو ابھی بھی عادل کے نام کے آنسو بہاتی تھی‘ اسے وہ لمحے بھلائے نہیں بھولے تھے جب عادل نے پری کو تھام رکھا تھا۔
’’ویسے آپی اس دسمبر میں میری تو شادی ہوچکی ہوگی میں پیا گھر جاؤں گی آپ بھابی کی باتیں سننے کے لیے پیچھے رہ جائیں گی کبھی دکھ بھی ہوتا ہے مگر یہی زندگی ہے۔‘‘ افسوس اسے کتنا تھا وہ اس کے چہرے سے بھی عیاں تھا جہاں محظوظ ہوا جارہا تھا یہ اس کے قریبی رشتے تھے جو خود اسے تضحیک کا نشانہ بنا رہے تھے۔
’’کل مٹھائی آئی تھی عادل بھائی کے گھر سے پری ماں بننے والی ہے۔‘‘ سارہ جو الماری میں کپڑے رکھ رہی تھی ایک لمحہ کے لیے اس کے ہاتھوں میں لرزش سی آئی تھی۔ مگر وہ چپ چاپ دوبارہ اپنے کام میں مصروف رہی تھی جیسے سنا ہی نہ ہو۔ ندا جی بھر کے بدمزہ ہوئی تھی۔
٭٭٭…٭٭٭
راہداری عبور کرکے وہ سیدھا اندر داخل ہوا تھا۔
’’السلام علیکم کیسی ہیں آپ؟‘‘ وہ سلائی مشین لیے بیٹھی تھی‘ اس وقت شازل کی آمد کی بالکل توقع نہیں کررہی تھی اس لیے بری طرح چونکی۔
’’امی تو بھابی کے ساتھ بازار گئی ہیں۔ ابھی آنے والی ہوں گی آپ بیٹھیں میں چائے لاتی ہوں۔‘‘ سارہ نے سادگی سے بتایا۔
’’جی دروازے پر ندا نے بتایا تھا۔‘‘ تب ہی عقب سے ندا آگئی۔
’’کیا بات ہے آج کیسے راستہ بھول کر آگئے آپ؟‘‘ ندا مزے سے سامنے ہی بیٹھ گئی۔ ندا کے سوال پر شازل کی نظریں سارہ کے چہرے کا طواف کرنے لگیں۔
’’یہ تو میں آنٹی کو ہی بتاؤں گا۔‘‘ سارہ کچن میں چلی گئی تھی۔ جلدی سے اس نے پکوڑے تلنے شروع کردیے۔
شازل وہ شخص تھا جس نے مشکل وقت میں ان کا ساتھ دیا تھا ایک لحاظ سے محسن بھی تھا۔ وہ جب چائے بمع لوازمات باہر آئی تو سب آچکے تھے پھر وہ رات کے کھانے کی تیاری میں مصروف ہوگئی تھی جب عقب سے تانیہ بیگم نے آکر اس کا ماتھا چوم لیا۔
’’جگ جگ جیو جانتی ہو ابھی شازل کیوں آیا تھا تمہارے لیے آیا تھا کل باقاعدہ نکاح ہے اور پھر ندا کے ساتھ ہی میری بیٹی رخصت ہوکر اپنے گھر جائے گی۔‘‘ وہ محو حیرت کھڑی رہی۔
’’یہ دیکھو شاپر اس میں تمہارے لیے کچھ ہے جاؤ کھانا ندا پکالے گی۔‘‘ ندا کا موڈ بے حد خراب تھا۔
’’اگلے گھر جارہی ہو گھر گھرہستی میں دلچسپی لو سارا دن بہن کچن میں لگی رہتی ہے۔‘‘
’’ہاں اب تو آپ کہیں گی رشتہ طے ہوتے ہی آپی کو بھی نخرے آگئے ہیں۔‘‘
’’زبان کیسے ٹرٹر چل رہی ہے ذرا ہاتھ بھی چلا لو۔‘‘ وہ دونوں کو باتوں میں مصروف چھوڑ کر سیدھا اپنے کمرے میں آگئی۔
شاپر کھولا تو رنگا رنگی چوڑیاں اور دیدہ زیب لباس تھا ساتھ ہی ایک لفافہ بھی۔ سارہ نے اسے چاک کیا تو اندر سے ایک خط برآمد ہوا۔ اس نے اس کی سطر سطر کو اپنے قلب میں جاگزیں ہوتے محسوس کیا تھا۔
’’سارہ میں سدا کا بزدل ہوں حتیٰ کہ جب تمہاری منگنی کی بابت اطلاع ملی تو بالکل خاموشی سے ایک جانب ہوگیا تھا مگر پُرخلوص دل سے دعا دی کہ جہاں بھی جس کے ساتھ رہو خوش رہو ہمیشہ مگر قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ یہ مقدروں کے کھیل ہوتے ہیں… مگر آج قسمت نے مجھے دوبارہ موقع دیا ہے تو میں اسے کھونا نہیں چاہتا اتنا عرصہ ایک جنگ لڑی ہے امی سے صرف تمہاری خاطر اور دیکھ لو اب فاتح میں ہی ٹھہرا ہوں۔ بس اس دسمبر تم میری زندگی میں بہار بن کر چھا جاؤ‘ محبت ہے تم سے نجانے کب سے۔
شازل۔‘‘
اس کا دل عجب ہی لے پر دھڑکنے لگا تھا‘ چاہے جانے کا خوش کن احساس اسے اپنی ہی نظر میں معتبر کر گیا تھا اور اب وہ سب کی نظروں میں کل معتبر ہونے جارہی تھی اسی دسمبر میں شازل کے ساتھ نکاح کے بندھن میں بندھ کر۔

Show More
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close