hijaab Dec-17

میں چاہوں تجھے بے انتہا

بشریٰ ماہا

کبھی کبھی ہم زندگی کی غلطیوں سے سیکھنے کے بجائے زندگی کو ہی غلط سمجھنے لگتے ہیں۔ کچھ باتیں زندگی کو اتنا تلخ بنادیتی ہیں کہ پھر ہم چاہ کر بھی میٹھا بول ہی نہیں پاتے‘ زندگی ہمارے لیے بس ایک چیلنج بن کر رہ جاتی ہے جسے ہر حال میں بس گزارنی ہی ہوتی ہے‘ زندگی کے اس سفر میں ہم سب سے دور ہوجاتے ہیں‘ کوئی نا ہمسفر ہوتا‘ نا کسی کی ہمراہی کی ضرورت محسوس ہوتی ہے اور یہ بات وہ اپنے پورے یقین سے کہہ سکتی تھی۔
وہ جس کے پاس سب کچھ تھا۔ دولت‘ خوب صورتی‘ تعلیم اور ماں باپ زندگی کی ہر آسائش وہ جو چاہتی تھی اسے مل جایا کرتی تھا لیکن پھر بھی وہ خوش نہیں تھی۔ یہ انسانی فطرت میں شامل ہے جو اس کے پاس نہیں ہوتا اس ہی کی طلب اسے سب سے زیادہ ہوتی ہے اور وہ اس طلب کو اپنی زندگی کا حاصل بنا لیتا ہے۔ ہر آسائش پسِ پشت چلی جاتی ہے اور بس ایک وہ ہی طلب ساری زندگی پہ حاوی ہو جاتی ہے‘ اسے حاصل کرنے کے لیے انسان روتا‘ تڑپتا ہے اس کے پیچھے بھاگتا ہے لیکن فاصلہ ختم ہی نہیں ہوتا اور جب وہ تھک کر ایک جگہ بیٹھ جاتا ہے‘ وہ طلب اس کے دل سے مٹ جاتی ہے تو پھر وہ چیز خودبخود اس کے ہاتھوں میں آجاتی ہے اس کی زندگی کے ساتھ بھی یہی ہوا تھا۔ جو حاصلِ زیست تھا وہ پاس تو تھا لیکن دل سے دور‘ ماہ رخ وقاص کی زندگی کی کہانی بھی عجیب تھی اور اسے عجیب بنانے میں کس کی غلطی تھی یہ تو وہ خود بھی نہیں جانتی تھی۔ اس نے یونیورسٹی میں ایڈمشن لیا اور کل اس کی پہلی کلاس تھی دیر تک لیپ ٹاپ پہ کام کرتے جب اس کی آنکھیں دکھنے لگیں تو اس نے لیپ ٹاپ بند کیا اور بیڈ پر ٓلیٹتے ہی گہری نیند نے اسے اپنی باہنوں میں سمو لیا تھا۔
٭…٭٭…٭
وہ صبح بے حد خوب صورت تھی‘ دھند میں لپٹی‘ ٹھنڈی ہواؤں کو اپنے سنگ لاتی… اس نے قد آور آئینے میں نظر آتے اپنے سراپا پہ آخری تنقیدی نگاہ ڈالی۔ رائل بلو شرٹ‘ بلیک جینز اور گلے میں مفلر کی طرح دوپٹہ لپیٹے‘ گھٹنوں تک آتا لانگ کوٹ پہنے۔ لمبے خوب صورت بالوں کو بینڈ میں جکڑے ہاتھ میں فائلیں لیے یونیورسٹی کے لیے وہ بالکل تیار کھڑی تھی۔
’’ماہ رخ وقاص‘ تم ہمیشہ کی طرح آج بھی بہت حسین لگ رہی ہو۔‘‘ وہ آئینے میں نظر آتے اپنے عکس کو دیکھتے ہوئے بولی اور ہلکا سا مسکرا کر اپنی کار کی چابیاں اٹھائے باہر چلی آئی۔
وہ ایک ہاتھ میں فائلیں تھامے اور دوسرے ہاتھ سے موبائل فون پر نمبر ڈائل کرنے میں مصروف تھی‘ وہ سرخ اینٹوں سے بنی روش پہ تیزی سے چل رہی تھی اس کا سارا دھیان فون پر تھا اس لیے ہی وہ سامنے سے آتے بندے کو دیکھ نہیں سکی اور اس سے بری طرح ٹکرا گئی تھی۔ آنے والے کا سر بری طرح اس کے سر سے ٹکرایا تھا اور اسے صحیح معنوں میں دن میں تارے نظر آنے لگے تھے۔ جب کہ اس کا لیٹسٹ ماڈل کا آئی فون پتھریلے فرش پہ گرنے سے ٹوٹ گیا تھا اور فائل سے صفحے اڑ کر اِدھر اُدھر بکھر گئے تھے۔
’’اندھے ہو یا یہ دو بڑی بڑی آنکھیں اللہ نے چہرے پہ سجانے کے لیے دی ہیں۔‘‘ وہ نہایت غصے سے بنا مقابل کی طرف دیکھے بولی‘ اس کا سارا دھیان اپنے نوٹس کی طرف تھا جو تیز ہوا کے سبب تتر بتر ہوگئے تھے۔ فون سے زیادہ اسے نوٹس کی فکر تھی جو اس نے رات دیر تک بیٹھ کر بنائے تھے۔
’’جتنی زبان چلانا جانتی ہیں ناں آپ اتنا ہی اگر دماغ چلا لیتیں تو آج آپ کو مجھ سے لڑنا نہیں پڑتا۔‘‘ بلیک تھری پیس میں ملبوس شاندار پرسنالٹی کا مرد نہایت طنزیہ لہجے میں بولا تھا۔
’’کیا مطلب ہے آپ کا؟ میں آپ سے جان بوجھ کر ٹکرائی ہوں۔‘‘ وہ غصے سے ماتھے پہ بل ڈال کر بولی۔ ابھی تک اس کی اس شخص کے چہرے پہ نظر نہیں پڑی تھی وہ مسلسل اپنے نوٹس سمیٹنے میں مگن تھی۔ اسے یونیورسٹی وقت پہ پہچنا تھا اور جتنی جلدی وہ کررہی تھی اتنی ہی دیر ہوئی جارہی تھی۔
’’عموماً خوب صورت مردوں سے لڑکیاں جان کر ہی ٹکراتی ہیں اور شاید آپ بھی…‘‘ وہ دل جلانے والی مسکراہٹ لبوں پہ سجا کر دانستہ بات ادھوری چھوڑ گیا اور ماہ رخ کا تو غصے سے برا حال ہو گیا تھا وہ اندر ہی اندر کھول کر رہ گئی تھی۔
’’او ہیلو مسٹر جو بھی ہو خوش فہمی سے نکل کر چلتے پھرتے نظر آؤ ماہ رخ وقاص اتنی ارزاں نہیں کہ تم جیسوں سے جان کر ٹکرائے اور اگر میں نے کبھی کسی سے ٹکرانے کا سوچا بھی تو وہ کوئی بہت خاص ہوگا‘ تم جیسا کوئی عام سا بندہ نہیں۔‘‘ وہ بنا اس کے چہرے کی طرف دیکھے بول رہی تھی۔ سارے نوٹس اکھٹے کرنے کے بعد اس نے پن اپ کیے اور ابھی فائل میں رکھ ہی رہی تھی کہ اس شخص کا نام اس کی سماعت میں گونجا۔
’’میرا نام جنید آفتاب گردیزی ہے اور اگر آپ مجھے کوئی عام انسان سمجھ رہی ہیں تو یہ آپ کی بھول ہے اور پہلی بھول جنید اکثر معاف کردیتا ہے۔‘‘ وہ اس کے غصے سے محظوظ ہوتا بولا‘ اس کے چہرہ پہ آئے ہر رنگ کا جنید آفتاب بغور معائنہ کررہا تھا۔
اس کی بات سن کر اس کے ہاتھ سے نوٹس کی فائل ایک بار پھر گری تھی۔ ماہ رخ نے اس پر ایک نادانستگی میں اٹھی نظر کے بعد دوسری نظر ڈالنا بھی پسند نہیں کیا تھا۔ ایک دوسرے کے آمنے سامنے کھڑے دونوں فریقین ایک دوسرے کو سخت ناپسند کرتے تھے اور اس ناپسندیدگی کے پیچھے بھی ایک بڑی وجہ چھپی تھی۔
ماہ رخ وقاص کے سامنے کھڑا جنید آفتاب نہیں جانتا تھا کہ آج کی خوب صورت صبح اس کا سامنا ایک بے حد ناگوار ہستی سے کروانے والی ہے۔ وہ کچھ دن پہلے ہی لندن سے اپنی پڑھائی مکمل کرکے لوٹا تھا اب اس کا ارادہ اپنے ہی شہر میں بزنس کرنے کا تھا‘ اس کے پاس سرمایہ بھی تھا اور علم بھی‘ وہ ہارورڈ یونیورسٹی کا گولڈ میڈلسٹ تھا کچھ دن پہلے اس کا انٹرویو ایک میگزین میں بھی شائع ہوا تھا اور آج صبح وقاص انکل سے ملنے آتے ہوئے اسے ہرگز یہ اندازہ نہیں تھا کہ اس کی ملاقات ماہ رخ سے ہوجائے گی بلکہ اس نے تو پوری کوشش کی تھی کہ وہ اس وقت وہاں پہنچے جب ماہ رخ یونیورسٹی کے لیے نکل چکی ہو۔ مگر قدرت کو ان کی ملاقات منظور تھی۔
’’مجھے آپ کے نام میں کوئی دلچسپی نہیں ایک اور بات آپ ایک بے حد بدتمیز انسان ہیں اور میں آپ جیسوں سے بات کرنا بھی اپنی توہین سمجھتی ہوں۔‘‘ وہ انگلی اٹھا کر تحقیر سے بولتی آگے بڑھ گئی۔ وہ اس سے جتنی نفرت کرتی تھی اس کا احساس دلانا نہیں بھولی تھی۔ وہ سن کر خاموش ہونے والوں میں سے نہیں تھی اسے بدلا لینا اچھی طرح سے آتا تھا۔
’’ایک منٹ رکیں مس ماہ رخ وقاص یہ لیجیے آپ کی فائل‘ مجھے ہرگز نہیں پتا تھا کہ مجھے دیکھ کر آپ اتنی پُرجوش ہوجائیں گی کہ اپنی اہم چیزیں بھی بھولنے لگیں گی۔‘‘ اس نے زمین سے اس کی فائل اٹھائی اور اس کی غائب دماغی پہ طنز کیا۔
’’اور ہاں یاد رکھیں آپ کا یہ رویہ آپ کی پہلی غلطی سمجھ کر معاف کررہا ہوں لیکن دوبارہ اگر مجھ سے کبھی آپ نے اس انداز میں بات کی تو آپ کے حق میں بالکل اچھا نہیں ہوگا۔‘‘ وہ طیش سے اس کی طرف فائل اچھالتا بولا۔ اس کا انداز چبھتا ہوا اور لہجے میں چٹانوں جیسی سختی تھی۔ ماہ رخ نگاہوں میں ناپسندیدگی لیے بس اسے گھورتی رہ گئی اور وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا گھر کے اندر چلا گیا۔
جنید آفتاب کو دیکھتے ہی ماہ رخ کو سب یاد آگیا تھا۔ وہ ایک تلخ یاد جو ان کی خوشگوار یادوں کو کھا گئی تھی ایک بار پھر اس کی خوب صورت آنکھوں میں کرچیاں بھر گئی تھیں۔ بھلا وہ سب اسے بھولا ہی کب تھا جس نے ان کی بے لوث چاند سی شفاف دوستی کو گرہن لگا دیا تھا۔ کیا زندگی پہلے کم مشکل تھی جو اب یہ پھر سے لوٹ آیا ہے اس نے تلخی سے سوچا۔ اس کا دل چاہا کہ ابھی اندر جائے اور اسے بے عزت کرکے اپنے گھر سے نکال دے مگر وہ ایسا نہیں کرسکتی تھی ایسا کرنے کا اختیار ہی کب تھا اس کے پاس۔ وہ پاپا کا انتہائی لاڈلا تھا جتنی کہ وہ خود تھی اور کبھی کبھی تو اسے لگتا تھا جیسے اس سے زیادہ جنید پاپا کو پسند ہو۔ وہ جس وقت یونیورسٹی پہنچی کافی لیٹ ہوچکی تھی۔ اس کی واحد سیہلی مہوش پہلے ہی کلاس میں جاچکی تھی اور کلاس شروع ہونے میں صرف پانچ منٹ رہ گئے تھے۔ وہ تیزی سے کلاس کی طرف بڑھی اور جو پہلی کرسی اسے خالی نظر آئی اس پہ ہی بیٹھ گئی تھی۔ اس نے بیگ سے پانی کی بوتل نکال کر لبوں سے لگائی۔ سانس درست ہوا تو اسے احساس ہوا کہ اس کے قریب بیٹھا لڑکا اسے مسکراتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔
’’کیا ہوا میں کوئی کارٹون ہوں جو آپ یوں دیکھ کر مسکرائے جارہے ہیں۔‘‘ وہ ناگواری سے بولی۔
’’نہیں کارٹون تو نہیں ہیں مگر یہ آپ کے ہاتھوں پہ مٹی لگی ہوئی ہے۔ آپ کہیں گر گئی تھیں؟‘‘ وہ لڑکا اس کی شرٹ کی آستیوں کی طرف اشارہ کرتا ہوا بولا۔
’’یہ لیں ٹشو صاف کرلیں۔‘‘ اسے خاموش دیکھ کر اس نے ٹشو آگے بڑھایا۔
’’تھینک یو سو مچ۔‘‘ اس نے ٹشو لے لیا۔
’’ویسے میرا نام سرمد لغاری ہے۔‘‘ وہ ماہ رخ کی طرف دلچسپی سے دیکھتا بولا۔
’’میرا نام ماہ رخ ہے۔‘‘ جواباً اس نے بھی خود کو متعارف کرایا۔
’’کیا میں آپ سے دوستی کا شرف حاصل کرسکتا ہوں؟‘‘ سرمد نے فوراً اپنا ہاتھ آگے بڑھایا۔ غالباً یہ حوصلہ اسے ماہ رخ کی خوش اخلاقی سے ملا تھا۔
’’نو تھینکس میں دوست نہیں بناتی اور آپ کو میں جانتی بھی نہیں تو دوست بنانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔‘‘ وہ اس بار سرد مہری سے بولی بنا اس کی طرف دیکھے مغرورانہ انداز اپنائے۔
’’اس کا مطلب آپ خوب صورت ہونے کے ساتھ مغرور بھی ہیں۔ دیٹس نائس‘ خوب صورت لوگوں پہ تو غرور ویسے بھی سجتا ہے۔‘‘ وہ ہنستے ہوئے بولا۔
’’اور آپ احمق ہونے کے ساتھ ساتھ بہت ہی چپکو بھی ہیں۔‘‘ وہ ناگواری سے کہتی وہاں سے اٹھ کھڑی ہوئی۔ اسے بلاوجہ فری ہونے والے مرد سخت زہر لگتے تھے۔ یہ ماہ رخ وقاص کی سرمد لغاری سے پہلی ملاقات تھی۔
٭٭…٭…٭٭
اسے بی بی اے کیے چار سال ہوچکے تھے‘ درمیان کے عرصے میں اس نے اور مہوش نے پاپا کے آفس کو رونق بخشی تھی اور چونکہ اتنے سال وہ فارغ رہی تھی اور اب اتنے عرصے بعد ایک بار پھر یونیورسٹی لائف میں قدم رکھا تھا تو سب کچھ بے حد عجیب سا لگ رہا تھا۔ روٹین چینج ہوئی تھی جس کی وجہ سے جسم میں سستی بھر گئی تھی اور یہ ہی وجہ تھی کہ گھر آتے ہی وہ سو گئی اور جب اٹھی تو ہر طرف سناٹے بول رہے تھے۔ رات اپنے پر پھیلا کر رفتہ رفتہ ہر شے پہ حاوی ہونے لگی تھی۔ ایک ہاتھ سے اپنے کندھے کے پٹھوں کو دباتے وہ کچن میں چلی آئی جہاں خانساماں رات کے کھانے کی تیاری کررہا تھا۔
’’شماد چچا… ایک کپ کافی تو بنا دیں مجھے۔ میں لاؤنج میں بیٹھی ہوں۔‘‘ وہ حکم دیتی لاؤنج میں چلی آئی جہاں آیا لاؤنج کی ڈسٹنگ کررہی تھی۔ مما بابا کے آنے سے پہلے وہ نئے سرے سے سارا گھر چمکاتی تھیں۔
’’آیا… ذرا میرے کندھوں کا مساج کردیں بہت درد ہورہا ہے۔‘‘ وہ کسملندی سے بولتی صوفے پہ بیٹھ گئی۔
’’جی اچھا ماہا بی بی۔‘‘ وہ فوراً کام چھوڑ کر اس کے پاس آئیں۔ ان کے انداز میں فکر تھی۔ بچپن میں اس کی دیکھ بھال وہ ہی کرتی تھیں اور اگر یہ کہا جائے کہ اس کی پرورش میں بڑا ہاتھ آیا کا تھا تو غلط نا ہوگا۔
آیا کے ہاتھ مہارت سے اس کے کندھوں کا مساج کررہے تھے اور ایک سکون سا اس کے رگ وپے میں اترنے لگا تھا۔ اس نے آنکھیں موند کر سر صوفے کی پشت گاہ سے ٹکا لیا تھا۔ جس کا مطلب تھا آیا اب آپ جاسکتی ہیں۔ شماد چچا کافی کا کپ رکھ کر جاچکے تھے۔ لاؤنج میں صرف وہ تھی یا پھر گہری خاموشی۔ باہر لان میں ہلکی ہلکی بارش ہو رہی تھی اور سردیوں کا موسم تھا اور بارش کی وجہ سے مزید ٹھنڈ میں اضافہ ہوگیا تھا۔ یادوں کی ڈائری اس کے سامنے کھلی رکھی تھی اور دھیرے دھیرے صفحے پلٹتی وہ کسی بیتے دن کی یادوں میں کھو سی گئی تھی۔
کافی کے سرمئی دھویں میں نئے رنگ ابھرنے لگے تھے‘ منظر بدل رہا تھا۔ اسے یاد آیا وہ جنوری کی ایک ٹھنڈی اور دھند میں لپٹی خوشگوار صبح تھی۔ سورج بھی بار بار بادلوں کی اوٹ میں چھپ کر آنکھ مچولی کھیل رہا تھا بچے سردیوں کی دھوپ سیکنے اسکول کے پلے گراؤنڈ میں جمع تھے وہ سب اسکول کے پچھلے گراونڈ میں نیم کے پیڑ تلے بیٹھے تھے۔ ارسلان‘ جنید‘ تانیہ‘ مہوش اور ماہ رخ۔ اس مشہور و معروف اسکول کے پانچ چمکتے اور سب سے روشن ستارے۔ وہ پانچوں اس وقت اپنے گروپ کی شہزادی ماہ رخ کی سالگرہ سیلیبریٹ کررہے تھے۔ کیک کاٹا جاچکا تھا اور اب ماہ رخ سب سے پہلے اپنے سب سے بہترین دوست جنید کو کیک کھلا رہی تھی۔ ویسے بھی یہ سالگرہ جنید نے ہی اسے سپرائز دینے کے لیے پلان کی تھی۔ وہ دونوں بچپن کے ساتھی ہونے کے ساتھ ساتھ ہمسائے بھی تھے اور دونوں کی فیملیز کی بھی آپس میں گہری دوستی تھی اور خود جنید کی مما بھی ماہ رخ کے پاپا کی دور کی کزن تھیں۔
’’بھئی یہ بات تو کلیئر ہے کہ کچھ بھی ہو جائے جو جگہ جنید کے دل میں ماہ رخ کی ہے وہ کوئی نہیں لے سکتا۔ اب یہ ہی دیکھ لو سالگرہ سیلبریٹ کرنا جنید کو کتنا ناپسند ہے لیکن ماہ رخ کی خوشی کے لیے اس نے وہ بھی کی۔‘‘ تانیہ ستائش سے بولتی ہنسی تھی۔
’’یہ تو ہے‘ جنید ویسے تو بہت کیئرنگ ہے مگر ماہ رخ کے لیے تو اس کا ہر انداز بہت خاص ہوتا ہے۔ وہ دونوں جتنا آپس میں لڑتے ہیں اس سے زیادہ ایک دوسرے کی کیئر کرتے ہیں۔‘‘ ارسلان نے بھی ہاں میں ہاں ملائی جب کہ ماہ رخ اور جنید مسکراتے ہوئے ان کے تبصرے سنتے رہے۔
’’اچھا یار جلدی جلدی کھاؤ ناں بریک ٹائم ختم ہونے والا ہے۔ ویسے جنید یہ کس بیکری کا کیک ہے‘ بہت مزے دار ہے۔‘‘ مہوش نے بات بدلی اور مزے سے ایک پیس منہ میں رکھتے ہوئے کہا۔
’’یہ کسی بیکری کا نہیں بلکہ میری مما نے خود بیک کیا ہے کیونکہ محترمہ خود مما کی بھی تو بے حد لاڈلی ہیں۔‘‘ وہ مسکراتا ہوا بولا۔ جنید فطرتاً کم گو تھا اور وہ ہی تھا ان کے گروپ میں جو خاموش رہتا تھا ورنہ باقی سب تو ہر وقت ہلاگلا مچائے رکھتے تھے۔
’’میں ہوں ہی اتنی پیاری کہ سب کو مجھ پہ پیارا آتا ہے اور تم سب کو جلنے کی بالکل ضرورت نہیں۔‘‘ وہ اترا کر بولی اور باقی سب ہنس دیے تھے۔
’’ماہ رخ بی بی… میٹھے میں کیا پکانا ہے؟‘‘ منظر فوراً بدلا اور اس کے سامنے آیا آکھڑی ہوئی تھیں۔ سات سال کے بعد آج پہلی بار اس کا اس انسان سے سامنا ہوا تھا جو کبھی اس کا بہترین دوست ہوا کرتا تھا مگر اب تو ذکر بھی تکلیف دہ تھا۔
٭٭…٭…٭٭
’’میں نے ایک بات نوٹ کی ہے یہ جو سرمد لغاری ہے کچھ زیادہ ہی تمہیں گھور گھور کے نہیں دیکھتا۔ مجھے تو اکثر محسوس ہوا ہے جیسے وہ تمہیں ہی دیکھتا رہتا ہے۔‘‘ مہوش چیز سینڈوچ کھاتے ہوئے تجسس سے بولی۔ وہ دونوں اس وقت یونی ورسٹی کے کیفے ٹیریا میں بیٹھی ہوئی تھیں۔
’’میرے پاس ان فضول باتوں کے لیے بالکل وقت نہیں۔ میں یہاں پڑھنے آتی ہوں نا کہ ان عجیب و غریب لڑکوں کو نوٹس کرنے۔‘‘ وہ نخوت سے بولی۔
’’تم بھی ناں… میرے خیال سے نخرہ شاید ماہ رخ وقاص پہ ہی ختم ہے۔‘‘ وہ ہنستے ہوئے بولی۔
’’تو کیا ہوا‘ نخرہ سجتا بھی تو مجھ ہی پہ ہے۔‘‘ وہ مزید اترائی اور یہ مذاق نہیں تھا وہ سیرس تھی اور وہ تھی بھی بے حد خود پسند لڑکی۔
’’ویسے جتنا تم اسے عجیب و غریب سمجھ رہی ہو اتنا ہے نہیں۔ کمال کی پرسنالٹی ہے اور لگتا بھی اچھے خاندان کا ہی ہے۔ بس تمہارے معاملے میں ہی بچارا دیوانہ لگنے لگا ہے۔‘‘ وہ سنجیدگی سے بولی۔
’’تو کیا کروں یار… مجھے لڑکیوں کو گھورنے والے لڑکے بالکل پسند نہیں اور تم بھی ذرا اس پہ فوکس کم کردو۔‘‘ وہ بے زاریت سے بولی۔
’’وہ گھورتا نہیں ہے‘ بس دیکھتا ہے اور وہ بھی صرف تمہیں۔‘‘ وہ آخری جملہ اس کا نظر انداز کرتی بولی۔
’’تم میری دوست ہوکر اس کی اتنی سائیڈ کیوں لے رہی ہو‘ تمہارا کیا بھائی لگتا ہے وہ؟‘‘ ماہ رخ چڑ سی گئی۔
’’میں صرف بات کررہی ہوں اور یہ بات ہماری پوری کلاس کرتی ہے اور دوسری بات اتنے ہینڈسم بندے کو میں اپنا بھائی بالکل نہیں بنا سکتی۔‘‘ مہوش صاف گوئی سے بولی۔
’’ہاں ٹھیک ہے دعا کروں گی یہ ہینڈسم سا بندہ تمہیں گھورنے لگے۔‘‘ وہ ہنسی دباتے ہوئے شرارت سے بولی اور سینڈوچ کھانے لگی۔
’’شرم کرو دعا تو ڈھنگ کی کر لیا کرو تم یہ بھی کہہ سکتی تھی کہ…‘‘ اس کی باقی بات منہ میں ہی رہ گئی تھی۔ سرمد لغاری ان کے بالکل پاس ہی کھڑا مسکرا رہا تھا۔
’’اسکیوز می گرلز‘ کیا میں آپ کو جوائن کرسکتا ہوں؟‘‘ وہ دونوں ہاتھ سینے پہ باندھے ایک ادا سے مسکراتے ہوئے پوچھ رہا تھا۔
’’کس لیے؟‘‘ اس سے پہلے کہ مہوش اثبات میں جواب دیتی ماہ رخ بے حد تیکھے انداز میں مخاطب ہوئی۔
’’دراصل مجھے مہوش زوار سے کچھ ضروری پوانٹس ڈسکس کرنے ہیں۔ ویسے کیا سینڈوچ میں کچھ زیادہ ہی مرچیں تھیں؟‘‘ اس نے حد معصومیت اور سنجیدگی سے پوچھا۔
’’اب تک تو نہیں تھیں مگر اب آپ کے آنے کے بعد یہ سینڈوچ تیکھا تو نہیں لیکن کڑوا ضرور لگنے لگا ہے۔‘‘ وہ سینڈوچ پلیٹ میں رکھتے طنز سے بولی اور بیگ اور نوٹس سمیٹتی اٹھ کھڑی ہوئی۔ مہوش نے مسکراتے ہوئے اپنی نک چڑی سہیلی کو دیکھا مگر بولی کچھ نہیں۔
٭٭…٭…٭٭
وقاص احمد اور زارا دونوں نے پسند کی شادی کی تھی۔ شادی سے پہلے دونوں ہی ایک دوسرے سے بے پناہ محبت کرتے تھے مگر شادی کے بعد جیسے جیسے سال گزرتے گئے ان کی محبت میں کمی آتی گئی اور پھر بات لڑائی جھگڑوں تک پھنچ گئی۔ روز کے لڑائی جھگڑے دیکھ دیکھ کر ماہ رخ جوان ہوئی تھی۔ اسے ماں اور باپ دونوں سے ہی شدید محبت تھی اور وہ دونوں کو ہی خوش وخرم دیکھنا چاہتی تھی۔ وہ نہیں چاہتی تھی کہ دونوں میں سے کوئی ایک بھی اس سے دور جائے۔ دادی جانو بتاتی تھیں کہ یونیورسٹی کے زمانے میں مما کی محبت میں پاپا کس قدر دیوانے تھے ہر وقت ان کی زبان پہ زارا کا ہی ذکر رہتا تھا۔ مگر اس نے جب سے شعور سنبھالا تھا ایک پل کہ لیے بھی کبھی دونوں کو ایک ساتھ ہنستا مسکراتا نہیں دیکھا تھا۔ اسے حیرت ہوتی تھی یہ جان کر کہ یہ ان دونوں کی محبت کی شادی ہے۔ وہ محبت سے چڑنے لگی۔ اسے محبت کی باتیں کرنے والے لوگ بھی اچھے نہیں لگتے تھے۔
وہ دراز قد اور سرخ سفید رنگت اور تیکھے نقوش کی مالک بہت حسین لڑکی تھی۔ اس پہ اس کی ذہانت اسے سب پر ہی ممتاز بنائے رکھتی تھی۔ یونیورسٹی کے شروع کے دنوں میں بہت سے ہاتھ محبت کا پیامبر بن کر اس کی طرف بڑھے تھے مگر اس نے نہایت غصے سے ہر بڑھا ہوا ہاتھ ٹھکرا دیا تھا۔ وقاص احمد اور زارا ایک دوسرے سے چاہے کتنا ہی بیزار کیوں ناں ہوں وہ اپنی بیٹی ماہ رخ پہ تو جان چھڑکتے تھے اور ماہ رخ ہی تھی جو اب تک ان دونوں کو اس رشتے میں باندھے ہوئے تھی۔ چاہے ان کا رشتہ کتنا ہی کمزور کیوں نا ہو پر اب تک قائم تھا اور اس کی خاص وجہ ماہ رخ وقاص تھی۔ وہ ماں باپ کے درمیان ایک کڑی تھی جس نے دونوں کو باندھا ہوا تھا۔ مگر اسے لگتا تھا جیسے اس سے کوئی پیار نہیں کرتا اور نا ہی کسی کو اس کی فکر ہے اور اس کی ایک بڑی وجہ زارا اور وقاص احمد کی حد سے بڑھی مصروفیات تھیں اور ان مصروفیات کے سبب ان دونوں کو اکلوتی بیٹی کے ساتھ وقت گزارنے کا بھی موقع نہیں ملتا اور توجہ کی کمی کی وجہ سے ماہ رخ باغی ہوگئی تھی۔
٭٭…٭…٭٭
جاڑوں کی شامیں بھی عام شاموں سے کتنی مختلف ہوتی ہیں۔ سرد اور خاموش‘ جیسے جیسے یہ خشک شامیں اپنے پِر پھیلاتی ہیں ویسے ویسے ہر چیز اداسی کی چادر اوڑھنے لگتی ہے‘ باتیں چھوٹی ہونے لگتی ہیں اور سوچیں لمبی‘ یہ بھی ایک ایسی ہی شام تھی جب مما زبردستی اسے اپنے ساتھ ایک سیمینار میں شرکت کے لیے لے آئی تھیں اور اب وہ بے حساب بور ہورہی تھی۔ وہ سیمینار مما کی این جی اوز کی طرف سے آج کل ہونے والے بچوں کے اغوأ کے موضوع پر ہورہا تھا۔ وہ یہاں نہیں آنا چاہتی تھی مگر مما اسے یہ کہہ کر لے آئی تھیں کہ تم اکیلی گھر پہ بور ہوتی رہتی ہو باہر نکلو دنیا کو دیکھو ان سے ملو رابطے بناؤ لیکن لگتا تھا مما اسے یہاں لاکر جیسے بھول گئی تھیں‘ وہ خود تو اپنی فرینڈز کے ساتھ بزی ہوگئی تھیں اور ماہ رخ ایک طرف بیٹھی لوگوں کو دیکھ رہی تھی۔ یوں اکیلے بیٹھ کر اس پر غنودگی طاری ہونے لگی تھی اس لیے اس نے ہینڈ فری کانوں میں لگا کر موبائل پہ سونگ سننا شروع کردیا تھا۔
’’اوہ ہو ماہ رخ وقاص…! آپ یہاں؟‘‘ وہ جو مگن سے انداز میں بیٹھی سونگز سن رہی تھی اپنی پشت پہ ابھرنے والی شناسا آواز سن کر چونکی۔
’’آہاں سرمد لغاری آپ…؟‘‘ وہ ہلکا سا مسکرائی۔
’’آپ مجھے پہچان گئیں یہ میرے لیے بے حد اعزاز کی بات ہے۔‘‘ وہ شرارت سے اس کی نخریلی طبیعت کو نشانہ بناتا بولا۔
’’سوری سرمد… اگر یہ جوک تھا تو مجھے بالکل ہنسی نہیں آئی۔‘‘ اس نے منہ بناتے ہوئے کہا۔
’’آپ مسکراتے ہوئے اتنی بھی بری نہیں لگتیں اور آواز بھی ٹھیک ہی ہے اس لیے بنا گھبرائے ہنسا‘ بولا کریں۔‘‘ وہ اس کے مقابل کرسی پہ بیٹھتا ایک بار پھر شرارت سے بولا۔
’’مجھے ابھی ابھی پتا چلا ہے کہ سرمد لغاری تعریف کرنے میں بالکل کورے ہیں اور دوسری بات میں جانتی ہوں میں مسکراتے ہوئے بے حد حسین لگتی ہوں اس لیے ہی کم مسکراتی ہوں۔‘‘ وہ غرور سے اتراتے ہوئے بولی۔
’’یہ خوب صورت لوگ مغرور کیوں ہوتے ہیں؟‘‘ سرمد نے منہ بنایا۔
’’آپ کے سوال میں ہی جواب چھپا ہے خود تلاش کرلیں۔ ویسے آپ یہاں کیسے؟‘‘ ماہ رخ نے مسکراتے ہوئے بات بدلی۔
’’یہ ایوینٹ مما نے آرگنائز کیا ہے وہ اس این جی او کی آنر ہیں اور زبردستی مجھے یہاں لے آئی ہیں۔‘‘ لگتا تھا وہ یہاں آکر سخت بدمزہ ہوا ہے اس لیے منہ بناتا بولا۔
’’ویسے لگتا تو نہیں کہ کوئی آپ کے ساتھ زبردستی کر سکتا ہے۔‘‘
’’مما کرسکتی ہیں صرف انہیں ہی یہ حق حاصل ہے۔ ویسے آپ کے چہرے سے لگ رہا ہے آپ بھی یہاں زبردستی ہی لائی گئی ہیں۔‘‘
’’ہاں مما پتہ نہیں کیوں مجھے یہاں لائی ہیں‘ اتنا تو میں گھر میں بھی بور نہیں ہوتی جتنا یہاں ہورہی ہوں۔‘‘ اس نے منہ بسورا اور ایک نظر دور اسٹیج پہ بیٹھی مما پہ ڈالی۔
’’تصیح کرلیں جناب بور ہورہی تھیں۔‘‘ وہ سنجیدگی سے بولا۔
’’کیا مطلب…؟‘‘ ماہ رخ ناسمجھی سے بولی۔
’’مطلب میرے آنے کے بعد تو آپ ہرگز بور نہیں ہوسکتیں۔‘‘
’’آہم… کیا یہ خوش فہمی ہے یا پھر خود پسندی۔‘‘ ماہ رخ نے شرارتی انداز اپنایا۔ اسے سرمد سے بات کرنا اچھا لگ رہا تھا۔
’’اسے خود شناسی کہتے ہیں میڈم۔‘‘ وہ سر کو خم دیتا بولا۔
’’اچھا ویسے آپ باتیں اچھی کرلیتے ہیں۔ مگر لڑکیوں کو اتنا گھورتے کیوں ہیں آپ؟‘‘ وہ صاف گوئی سے بولی۔
’’تصیح کرلیں‘ لڑکیوں نہیں صرف ایک لڑکی و گھورتا نہیں بس دیکھتا ہوں۔‘‘ وہ اس سے بھی زیادہ صاف گو نکلا۔
’’اور وہ کس لیے؟ٰ‘‘ اس نے سپاٹ لہجے میں پوچھا۔
’’یہ تو مجھے خود بھی نہیں معلوم‘ کسی دن دل سے پوچھیے گا شاید آپ کو بتا دے۔‘‘ وہ آواز کو گمبھیر بناتا بولا۔
’’شٹ اپ سرمد۔‘‘ ماہ رخ نے اس کے انداز سے گھبرا کر اسے ڈپٹا۔
’’مذاق کررہا تھا مگر ذرا سہہ نہیں پایا آپ کا دل۔‘‘ وہ شرارت سے بولا۔
’’اب اگر مزید بکواس کی ناں تو میں یہ کولڈ ڈرنک کا گلاس آپ کے اوپر انڈیل دوں گی۔‘‘ وہ وارنگ دیتی بولی۔
’’اوکے… اوکے بابا نہیں کرتا مذاق۔‘‘
٭٭…٭…٭٭
اتوار کو یونیورسٹی سے آف ہونے کی وجہ سے وہ خاصی دیر تک سوتی رہی‘ جب اٹھی تو دن کے بارہ بج رہے تھے۔ فریش ہونے کے بعد جب اپنے روم سے باہر آئی تو گھر میں معمول سے زیادہ چہل پہل تھی اور کچن سے اٹھتی اشتہاء انگیز کھانوں کی مہک ہر سو پھیلی ہوئی تھی۔
’’مما یہ سب تیاریاں اتنے مزے مزے کی ڈشز…؟‘‘ وہ کچن میں اتنے سارے شیف دیکھ کر حیران ہی رہ گئی تھی۔ وہ کچن میں کھڑی ہدایت دیتی مما کے کندھے پہ ٹھوڑی ٹکا کر بولی۔ آج اس کا موڈ بہت اچھا تھا اس لیے وہ مما سے اس طرح محبت کا اظہار کررہی تھی۔
’’تمہارے پاپا کے بزنس فرینڈز آج ڈنر پہ مدعو ہیں‘ سمجھو ایک چھوٹی سی پارٹی ہے شام کو‘ جس میں تمہارے پاپا کے سارے فرینڈز اپنی فیملیز کے ساتھ انوائیٹڈ ہیں یہ سب تیاریاں ان ہی کے اعزاز میں کی جارہی ہیں تم بیٹھو میں ابھی آیا کو کہہ کر تمہارا ناشتہ تیار کرواتی ہوں۔‘‘ وہ مصروف سے انداز میں بولیں۔
’’اوکے میں اپنے روم میں جارہی ہوں وہیں بھجوا دیجیے گا۔‘‘ اپنے پیار کے جواب میں ان کا روکھا پھیکا رویہ دیکھ کر ماہ رخ کا دل ہی خراب ہوگیا تھا۔ مگر انہوں نے تو شاید محسوس بھی نہیں کیا تھا۔
وہ اپنے سیل فون پہ گیم کھیل رہی تھی جب کمرے کا دروازہ کھول کر اس کے ڈیئر پاپا اندر آئے تھے۔ لیکن وہ حیران ان کے ہاتھ میں پکڑی ناشتے کی ٹرے دیکھ کر ہوئی تھی۔ وہ فوراً کھڑی ہوئی اور ان کے ہاتھ سے ناشتے کی ٹرے لے کر ٹیبل پہ رکھ دی۔
’’پاپا…! آپ کیوں لے کر آئے ناشتہ؟ آیا کو کہہ دیا ہوتا۔‘‘ وہ شرمندہ سی بولی۔
’’ارے تو کیا ہوا اگر اپنی بیٹی کا ناشتہ میں لے آیا‘ ویسے بھی میرا دل تم سے ڈھیروں باتیں کرنے کا کررہا تھا۔‘‘ وہ اسے بازو کے گھیرے میں لیا لے کر بیڈ تک آئے۔
’’سوری بیٹا‘ میں پورا ہفتہ اتنا مصروف رہتا ہوں کہ چاہ کر بھی تمہیں وقت نہیں دے پاتا لیکن میرا سنڈے صرف میری بیٹی کے نام ہے۔‘‘ وہ محبت سے بولتے اس کے لیے ٹوسٹ پہ مکھن لگانے لگے تھے۔
’’بس رہنے دیں پاپا‘ یہ صرف کہنے کی باتیں ہیں‘ ورنہ تو آج سنڈے کے دن بھی آپ اپنے بزنس فرینڈز کو ڈنر پہ انوائیٹ کرچکے ہیں۔‘‘ وہ بھی ماہ رخ تھی‘ بنا کسی جھجک کے ناراضگی کا اظہار کر گئی اور اس کے پھولے ہوئے منہ کو دیکھ کر پاپا بے اختیار ہنس دیے۔
’’پاپا میں نے آپ کو کوئی جوک سنایا ہے کیا؟‘‘ اس کی خفگی میں اضافہ ہوا۔
’’نہیں‘ جوک تو نہیں سنایا لیکن بیٹا خود سوچو میں یہ سب بزنس کس کے لیے اسٹبلش کررہا ہوں‘ صرف تمہارے لیے ناں تاکہ تم ہمیشہ ایک لگثری لائف گزار سکو اور پھر بزنس بڑھانے کے لیے میل جول بھی بے حد ضروری ہے۔‘‘ وہ سنجیدگی سے بولے۔
’’لیکن مجھے نہیں چاہیے یہ شاندار زندگی‘ مجھے میرے ماں باپ چاہیں‘ یہ جو شاندار ہر سہولت سے مزین سونے کا پنجرہ بنایا ہے ناں آپ نے میرے لیے‘ یہ مجھے خوش نہیں رکھ سکتا‘ مجھے اگر کوئی خوشی دے سکتا ہے تو وہ آپ کا اور مما کا ساتھ ہے۔‘‘ وہ اپنی بات پہ زور دیتے ٹوٹے بکھرے لہجے میں بولی اور ہمیشہ کی طرح اس بار بھی پاپا اس موڑ پہ آکر موضوع بدل گئے تھے۔
’’ناشتہ کرو ماہا‘ دیکھو ٹھنڈا ہورہا ہے۔‘‘ وہ سنجیدگی سے بولے۔ وہ اپنے دل کا حال اسے بتا نہیں سکتے تھے کچھ دکھ اور پریشانیاں جوان بچوں سے بھی شیئر نہیں کی جاسکتیں تھیں‘ وہ اسے کیسے کہہ دیتے کہ تمہاری ماں سے شادی کرنا ان کی زندگی کی سب سے بڑی بھول تھی۔ وہ چاہے جیسی بھی عورت تھی‘ مگر ماہ رخ کی تو ماں تھی ناں‘ کیسے۔ وہ ایک بیٹی کے سامنے اس کی ماں کی زندگی کا تاریک پہلو کھول کر رکھ دیتے۔
’’مجھے نہیں کرنا ناشتہ‘ بے شک ٹھنڈا ہو جائے۔‘‘ وہ بھی ضد میں آگئی تھی۔
’’ماہ رخ بیٹا پاپا کی بات سے انکار نہیں کرتے‘ ناشتہ کرلو اور پھر تیار ہوکر باہر آجاؤ‘ مجھے یقین ہے تم مہمانوں کے ساتھ اچھے سے پیش آؤ گی۔‘‘ وہ سنجیدگی سے کہتے باہر چلے گئے اور پاپا سے کبھی انکار نا کرسکنے والی ماہ رخ مجبوراً اس ٹھنڈے ناشتے کو حلق سے اتارنے لگی تھی۔
’’پتہ نہیں پاپا اور مما ایسے کیوں ہیں‘ میری فرینڈز کے پیرنٹس کتنے اچھے ہیں اور میرے مما پاپا ہنہہ‘ ان کے پاس ایک دوسرے کے لیے وقت ہے اور نہ ہی میرے لیے جو مجھے چاہیے وہ تو کبھی مجھے دینا ہی نہیں چاہتے۔‘‘ وہ تنفر سے سوچنے لگی منفی سوچوں کا جال اس کے ذہن میں بنتا جارہا تھا۔
ناشتے کے بعد اپنی وارڈ روب سے بلیک کلر کی گھیر دار فراک جس پہ اسٹون لگے ہوئے تھے نکال کر اس نے آیا کو پریس کرنے کو دی تھی۔ ویسے تو الماری میں ہینگ ہوئے اس کے سارے کپڑے پہلے سے پریس شدہ تھے مگر اس کی عادت تھی کہ پہننے سے پہلے ایک بار پھر سے استری کرواتی۔ اس کے بعد اس نے سیل فون اٹھایا اور مہوش کو کال ملائی۔ دوسری بیل پہ ہی اس نے کال ریسیو کرلی تھی۔
’’مہوش کیا کررہی ہو آج تم؟‘‘ ہائے ہیلو کہ بعد ماہ رخ گویا ہوئی۔
’’کچھ خاص نہیں بس آج مما ہم سب کے لیے خود لنچ بنارہی ہیں اور پاپا اور میں ان کی مدد کررہے ہیں۔‘‘ دوسری طرف وہ ہنستے ہوئے بولی۔
’’اچھا ایسا ہے کہ میں نے تمہیں آج ڈنر پہ انوائٹ کرنے کے لیے کال کی ہے کیا تم آسکتی ہو؟‘‘ وہ کام کی بات پہ آئی۔
’’آج تو مشکل ہے یار‘ ہم سب گھر والوں کا اصول ہے کہ چھٹی کا دن صرف گھر والوں کے ساتھ ہی گزاریں۔‘‘ دوسری طرف وہ ہچکچاتے ہوئے بولی۔
’’میں کوئی اصول نہیں جانتی میں نے انوائٹ کیا ہے اور تم آرہی ہو‘ بس…‘‘ اس نے ضدی لہجے میں کہہ کر بنا مہوش کی بات سنے فون رکھ دیا اور اسے یقین تھا اگلے کچھ گھنٹوں میں مہوش اس کے سامنے ہوگئی۔
آیا اس کے کپڑے پریس کرکے رکھ گئی تھیں‘ کچھ دیر نیٹ یوز کرنے کے بعد اس نے وہ کپڑے اٹھائے اور چینج کرنے چل دی۔ کپڑے چینج کرنے کے بعد اس نے اپنے سیاہ سلکی بالوں کو کرل کیا اور آنکھوں میں کاجل لگایا لمبی خمدار گھنی پلکوں میں مسکارے کا ٹچ دیا اور جس وقت وہ اپنے گلابی ہونٹوں پہ نیچرل کلر کی لپ اسٹک لگا رہی تھی اس ہی وقت مہوش دروازہ کھول کر اس کے کمرے میں داخل ہوئی۔
’’بدتمیز لڑکی خبردار اگر مجھے اتنے شارٹ نوٹس پہ انوائٹ کیا تو۔‘‘ وہ اس کے کندھے پر مصنوعی غصے سے ہاتھ مارکر بولی اور ماہ رخ اس کی اس حرکت پہ مسکرا دی۔
’’جناب اب اکلوتی دوست پہ حق نا جتلاؤں گی تو کیا پڑوسیوں کی بیٹی پہ حق جتلاؤں گی‘ ویسے بھی تمہارے بنا مجھے کسی فنکشن میں مزہ نہیں آتا۔‘‘ وہ محبت سے اس کے گلے میں بازو حمائل کرتے بولی۔
’’اچھا بس بس جلدی تیار ہو جاؤ گیسٹس آنا شروع ہو جائیں گے۔‘‘ اس نے خود کو ماہ رخ سے الگ کرتے کہا۔
’’اوکے بابا تیار ہورہی ہوں۔‘‘ ماہ رخ نے اپنے دودھیا بے داغ پیروں میں بیلو رنگ کے سینڈلز پہنتے کہا اور مہوش مسحور سی اس کے پیروں کو دیکھتی رہ گئی۔ وہ دونوں ایک ہی کلاس سے تعلق رکھتی تھیں مگر پھر بھی دونوں کے مزاج میں زمین آسمان کا فرق تھا۔ مہوش جتنی نرم طبیعت کی تھی ماہ رخ اتنی ہی مغرور اور خود پسند اور اس کا غرور کچھ کچھ جائز بھی تھا وہ تھی ہی اتنی حسین کہ جو نگاہ اس کی طرف اٹھتی ٹھٹک کر اس ہی پہ جم سی جاتی۔ جو دیکھتا مسحور ہو جاتا اور اس پہ اس کا مغرور انداز‘ لوگوں کی توجہ اپنی طرف کھینچ لیتا۔ مرد تو پھر مرد تھے‘ لڑکیاں تک اس کے حسن سے مرعوب ہو جاتی تھیں۔
’’ایسے کیا دیکھ رہی ہو مہوش ٹھیک نہیں لگ رہی کیا؟‘‘ ماہ رخ نے مہوش کی نظریں خود پہ مرکوز پاکر سوال کیا۔
’’دیکھ رہی ہوں کتنی حسین ہو تم اور ابھی تو اور بھی زیادہ پیاری لگ رہی ہو۔‘‘ مہوش ستائش سے بولی‘ خود وہ بھی خوب صورت تھی مگر ہزاروں ستاروں کے بیچ چاند تو ایک ہی ہوتا ہے۔
’’ہاہاہا… تم بھی ناں…‘‘ وہ کھلکھلا کر ہنس دی۔ ’’ویسے میری فرینڈ بھی بہت بہت پیاری ہے بہت معصوم اور رئیلی سوری مہوش میں نے تمہارا اتنا خاص دن خراب کردیا۔‘‘ وہ محبت سے بولی۔
’’اچھا چلو کوئی بات نہیں ہماری زندگی میں تو یہ خاص لمحے ان شاء اللہ آتے ہی رہیں گے۔‘‘ وہ سادگی سے بولی اور ماہ رخ اس کا پُرسکون چہرہ دیکھ کر اندر ہی اندر اداس ہوگئی تھی۔
٭٭…٭…٭٭
ڈیفنس میں جہاں بڑے بڑے امرأ کی کوٹھیاں شان سے ایستادہ تھیں‘ وہیں سی بلاک میں وقاص آفندی کی شاندار کوٹھی اس وقت مہمانوں کی چہل پہل اور قہقہوں سے گونج رہی تھی‘ رات کی تاریکی میں وہ کوٹھی ستاروں کی طرح چمک رہی تھی۔ شہر کے بڑے بڑے بزنس مین اپنی فیملی کے ساتھ ان کے گھر ڈنر پہ مدعو تھے۔ ماہ رخ اور مہوش جس وقت کمرے سے باہر آئیں‘ لاؤنج میں مما کی فرینڈز بیٹھی ہوئی تھیں پارٹی کا انتظام لان میں کیا گیا تھا اس لیے وہ دونوں بھی وہیں چلی آئی تھیں۔ پاپا اپنے فرینڈز سے گپ شپ میں مصروف تھے‘ مما بھی لان میں آگئی تھیں اور اب پاپا کے فرینڈز کی بیگمات سے فیشن پہ سیر حاصل گفتگو کررہی تھیں‘ جب کے ان کے ساتھ آئی ینگ جنریشن ایک طرف بیٹھ کر بور ہورہی تھی۔ ماہ رخ نے ایک سرسری نظر سب پہ ڈال کر اردگرد کا جائزہ لیا اور سامنے صوفے پہ بیٹھے سرمد لغاری کو دیکھ کر چونک گئی۔
’’مہوش یار یہ یہاں کیا کررہا ہے۔‘‘ وہ حیرانی سے بولی۔
’’کون یہاں کیا کررہا ہے؟‘‘ مہوش اس کے بونگے سوال پر چڑ کر بولی۔
’’اوفو… سامنے دیکھو لائئٹ بیلو شرٹ میں سرمد لغاری ہی ہے ناں۔‘‘ اس نے مہوش کی توجہ اس کی طرف مبذول کرائی۔
’’تم نے انوائٹ کیا ہے اسے؟‘‘ اب کے حیران ہونے کی باری مہوش کی تھی۔
’’پاگل ہو کیا؟ ماہ رخ وقاص ہر عام سے بندے کو انویٹیشن نہیں دیتی۔‘‘ وہ تفاخر سے بولی۔
’’خیر عام سا تو وہ کہیں سے بھی نہیں لگتا‘ اتنا ہینڈسم‘ گڈلکنگ اور شاندر پرسنالٹی کا مالک ہمارے پورے ڈیپارٹمینٹ میں کوئی نہیں۔‘‘ مہوش ستائش سے بولی۔
’’اسکیوز می‘ کیا آپ لوگ میرے بارے میں بات کررہے ہیں؟‘‘ سرمد لغاری بھی ان دونوں کو دیکھ چکا تھا اور اب وہ ان ہی کی طرف آتے ہوئے بولا۔
’’کیا آپ کو اپنا آپ اتنا خاص لگتا ہے؟‘‘ وہ شرارت سے بولی۔
’’بالکل اس سے بھی کہیں زیادہ خاص لگتا ہے اور اس لیے ہی مجھے لگ رہا ہے جیسے آج کل ماہ رخ وقاص میری پیروی کر رہی ہیں۔‘‘ وہ بے حد سنجیدگی سے بولا۔
’’ماہ رخ بیٹا ایک منٹ ادھر آنا آپ کو کسی سے ملوانا ہے۔‘‘ وہ جواب دینے کے لیے منہ کھول ہی رہی تھی کہ پاپا نے اسے آواز دے کر بلا لیا اور وہ کندھے اچکا کر آگے بڑھ گئی۔ مگر پھر اس نے جاتے ہوئے پلٹ کر سرمد کو دیکھا اور انگوٹھا الٹا کرکے منہ بنا کر اسے چڑایا۔ اس کی اس حرکت پہ سرمد اور مہوش دونوں ہی مسکرا دیے تھے۔
’’ویسے آپ کی فرینڈ بہت خود پسند ہیں۔‘‘ اس کے جانے کے بعد سرمد نے تبصرہ کیا۔
’’خود پسند کا تو پتہ نہیں‘ ہاں اتنا جانتی ہوں وہ مغرور بہت ہے لیکن وہ اتنی پیاری ہے کہ اس پہ یہ غرور بھی سجتا ہے۔‘‘ وہ دوست کے بارے میں محبت سے بولی۔
’’بائی دا وے آپ بھی بہت نائس ہیں۔‘‘ سرمد لغاری رسماً بولا مگر تھا سچ۔ اور مہوش‘ جسے سرمد پہلے بھی بہت پسند تھا اور اب اس کے منہ سے اپنی تعریف سن کر تو جیسے وہ کھل سی اٹھی تھی۔
دوسری طرف وقاص آفندی اپنی لاڈلی بیٹی کو بازو کے گھیرے میں لیے کسی کی طرف بڑھے تھے۔ ان کے لب مسکرا رہے تھے۔ جب کہ ماہ رخ حیران سی تھی۔ آج تک پاپا نے اپنے کسی فرینڈ سے اسے یوں متعارف نہیں کروایا تھا۔ ہاں یہ ڈیوٹی مما ضرور سر انجام دیتی تھیں۔
’’اس سے ملو ماہا بیٹا‘ یہ ہیں جنید آفتاب گردیزی۔‘‘ پاپا بے حد پُرجوش سے بولے اور ماہ رخ نے سپاٹ نظروں سے جنید کی طرف دیکھا اور نگاہیں پھیر لیں۔
سامنے جنید آفتاب کھڑا تھا۔ وہ جنید جو کبھی اس کا بہترین دوست ہوا کرتا تھا مگر آج حقیقت یہ تھی کہ ماہ رخ اس سے شدید نفرت کرتی تھی اور محبت تو خیر جنید کے دل میں بھی نہیں تھی۔ اس ہی لیے وہ بھی اس وقت ایک ماہ رخ کے علاوہ سب کو ہی دیکھ رہا تھا۔ بلیک ویسٹ کوٹ‘ وائٹ شرٹ اور بلیک پینٹ پہنے وہ ہمیشہ سے زیادہ وجیہہ لگ رہا تھا۔
’’کیا ہوا بیٹا؟ لگتا ہے جنید‘ ماہا تمہیں دیکھ کر شاک میں ہے۔‘‘ پاپا مسکرائے تھے۔ وہ جب بہت موڈ میں ہوتے تو اسے ماہا ہی کہتے تھے۔
’’جی انکل مجھے بھی کچھ ایسا ہی لگ رہا ہے۔ میڈم آپ کا سرپرائز سہہ نہیں پائیں۔‘‘ وہ بظاہر مسکراتا ہوا بولا تھا مگر ماہ رخ جانتی تھی یہ مسکراہٹ میں چھپا طنز تھا۔
’’ماہا بیٹا سلام کرو۔‘‘ جنید کو پاپا نے اسے خاموش دیکھ کر کہا۔ تقریباً سب ہی کی نظریں اس وقت ان پہ جمی تھیں۔ خود مہوش بھی ششدر سی یہ منظر دیکھ رہی تھی۔
’’سوری پاپا… ماہ رخ وقاص ہر ایرے غیرے کو سلام نہیں کرتی۔‘‘ وہ تنفر سے بولی۔ جنید آفتاب‘ جس کہ لیے ایک دنیا پاگل تھی اور آج کے وقت میں وہ سب سے قابل بزنس مین تصور کیا جاتا تھا اپنی اس بے عزتی پہ سلگ ہی تو اٹھا تھا۔
’’ماہ رخ یہ کیا بدتمیزی ہے سوری کرو جنید سے ابھی اور اسی وقت۔‘‘ وقاص احمد غصے سے بولے۔
’’لیکن پاپا میں نے کچھ غلط…‘‘ وہ حیرانی سے باپ کا غصے سے سرخ چہرہ دیکھتی کچھ بولنے کی کوشش کرنے لگی مگر وقاص آفندی نے اس کی بات درمیان میں ہی کاٹ دی تھی۔
’’معافی مانگو جنید آفتاب سے۔‘‘ وہ اپنی بات پہ زور دے کر بولے اور بس ان کا ہی خیال کرکے اس نے جنید سے ایکسکیوز کیا تھا۔ اسے جنید کی انسلٹ اپنے پاپا کی عزت سے زیادہ پیاری تو نہیں تھی۔ جنید نے اس کی سوری کا کوئی ریسپانس نہیں دیا اسے بالکل نظر انداز کرتا وقاص آفریدی کی طرف بڑھا تھا۔
’’کول ڈائون انکل‘ اتنی سی بات پہ اتنا غصہ کیوں کررہے ہیں۔ شاید ابھی وہ مجھ سے ناراض ہے اس لیے اس نے ایسا کہا۔‘‘ پتہ نہیں اس نے ایسا بول کر کس کا بھرم رکھا تھا۔ وہ مسکراتا ہوا انہیں پُرسکون کرنے لگا اور اس کے اس انداز پہ وقاص آفریدی کے دل میں جنید کے لیے پیار اور بھی بڑھ گیا تھا۔ جب کے ماہ رخ پہ انہیں مزید غصہ آیا تھا۔
اپنی اتنی انسلٹ پہ ماہ رخ روتی ہوئی وہاں سے واک آؤٹ کر گئی تھی۔ اس کا تو بس نہیں چل رہا تھا کہ جنید کو شوٹ ہی کر ڈالے۔ اور اس سب سے بے نیاز جنید خود سے کچھ دور کھڑی مہوش کی طرف بڑھا تھا جو حیران پریشان سی تھی۔
’’السلام علیکم کیسی ہو مہوش…؟‘‘ وہ دونوں ہاتھ پینٹ کی جیبوں میں ڈالے مسکراتے ہوئے یوں بولا جیسے اب سے پہلے کچھ ہوا ہی نہیں۔
’’وعلیکم السلام! میں ٹھیک ہوں‘ تم سناؤ کیسے ہو؟‘‘ وہ لہجے میں بشاشت سموتے بولی۔ اسے اس وقت ماہ رخ کی ٹینشن ہورہی تھی۔
’’میں بہت اچھا ہوں اور تم سے مل کر بہت خوش بھی مگر لگتا ہے تم خوش نہیں ہو مجھے اتنے سال بعد اپنے سامنے دیکھ کر؟‘‘ وہ اس کے چہرے کا بھرپور تجزیہ کرتے بولا۔ وہ کبھی بہت سنجیدہ اور خاموش ہوا کرتا تھا اور اب باتیں کرنے کے ساتھ ساتھ چہرے پڑھنا بھی سیکھ گیا تھا۔
’’خیر ایسی تو کوئی بات نہیں بہت اچھا لگ رہا ہے اتنے سالوں بعد تم سے مل کر اور بھی اچھا لگتا اگر آج جو ہوا وہ نا ہوتا۔‘‘ وہ سادگی سے مسکرا کر بولی۔
’’اوہ یار ٹینشن مت لو…‘‘ وہ بے فکری سے مسکرایا۔
’’ہممم… یہ بتاؤ تم پاکستان کب آئے اور مجھ سے کانٹیکٹ کیوں نہیں کیا کہیں ایسا تو نہیں کہ تم ہم سب کو بھول چکے ہو۔‘‘ وہ بھی نارمل ہوتے مسکرائی۔
’’میں کچھ عرصہ پہلے ہی پاکستان شفٹ ہوا ہوں اور بزنس کی مصروفیات میں الجھ کر تو میں خود کو بھی بھول چکا تھا مگر تم سب کو پھر بھی نہیں بھول سکا۔‘‘ وہ جیسے کچھ یاد کرتا بولا۔
’’ویل ایک بات کہوں جنید‘ تم مائنڈ تو نہیں کرو گے؟‘‘
’’مہوش میرے لیے تم اب بھی اتنی ہی امپورٹنٹ ہو جتنی اسکول کے دنوں میں تھیں تم مجھ سے اب بھی بے جھجک کچھ بھی کہہ سکتی ہو‘ دوستوں کی باتوں کا کم از کم میں تو برا نہیں مانتا۔‘‘
’’میں یہ کہنا چاہ رہی تھی کہ جنید جو کچھ ماضی میں ہماری زندگی میں ہوچکا اس کے بعد تمہیں ماہ رخ کی زندگی میں دوبارہ نہیں آنا چاہیے تھا۔ تم بھی جانتے ہو کہ وہ تمہیں کتنا ناپسند کرتی ہے پھر یہاں آنے کا مقصد؟‘‘ اس نے سنجیدگی سے بولتے صاف گوئی کا مظاہرہ کیا۔
’’مہوش تمہاری اس بات پہ مجھے بہت ہنسی آرہی ہے لیکن کیونکہ تم سنجیدہ ہو اس لیے میں بھی تمہیں بے حد سنجیدگی سے بتارہا ہوں کہ ماہ رخ وقاص میرے لیے زمین پہ پڑے پتھر جتنی اہمیت بھی نہیں رکھتی اور رہی بات اس کی ناپسندیدگی کی تو مہوش زوار ایک بات یاد رکھو۔ جنید آفتاب تو ماہ رخ کو اپنی ناپسندیدگی کے لائق بھی نہیں سمجھتا میں یہاں کھڑا ہوں تو وقاص انکل کی خاطر‘ ان سے میرا ایک بے حد مضبوط رشتہ ہے۔ جسے کوئی نہیں جھٹلا سکتا اور اس کے علاوہ اب انکل اور میں بزنس پارٹنر بھی ہیں اور آج یہ پارٹی بھی ہماری پارٹنر شپ کے اعزاز میں ہی دی گئی تھی جسے تمہاری ڈیئریسٹ فرینڈ اسپوائل کر چکی ہیں۔‘‘ وہ تلخی سے بھرپور لہجے میں بولتا مہوش کو حیران کر گیا تھا۔
اور وہ سوچ رہی تھی کہ کیا یہ وہ ہی جنید آفتاب گردیزی ہے جس کی باتیں انداز سب کچھ کتنا سادہ ہوا کرتا تھا جس کی دنیا صرف اپنے دوستوں کے گرد ہی گھوما کرتی تھی لیکن اب وہ بدل چکا تھا اور درمیان میں دس سال حائل تھے۔
٭٭…٭…٭٭
وہ بہار کی ایک خوب صورت صبح تھی۔ پھولوں کی کونپلیں پھوٹ رہی تھیں‘ رنگ ہی رنگ ہر سو بکھرے ہوئے تھے چڑیوں کی چہچاہٹوں کا بھی الگ ہی انداز تھا۔ ڈرائیور کچھ دیر پہلے ہی اسے اسکول گیٹ پہ ڈراپ کرکے گیا تھا۔ وہ نیم کے پیڑ کے نیچے کھڑی اپنے دوستوں کا انتظار کررہی تھی۔ وہ ریسٹ واچ پر نظر ڈالتے بار بار گیٹ کی طرف دیکھ رہی تھی۔ آج ان کا رزلٹ اناؤنس ہونا تھا اور اس کے فرینڈز اب تک نہیں آئے تھے۔ ان کے گروپ کا اصول تھا جب تک سارے فرینڈز نا آجائیں کوئی کلاس میں نہیں جائے گا اور جو بھی پہلے آئے گا وہ باقی دوستوں کا اس درخت کے نیچے کھڑے ہوکر انتظار کرے گا۔ ہمیشہ ماہ رخ ہی سب سے آخر میں آتی تھی اور باقی سب اس کا انتظار کرتے تھے مگر آج وہ رزلٹ کی ایکسائیٹمینٹ میں ذرا جلدی آگئی تھی جب کہ باقی سب فرینڈز اب تک نہیں آئے تھے۔ وہ بیزاری سے درخت سے ٹیک لگائے جوگرز کی نوک سے کچی زمین کو کھود رہی تھی جب اچانک کسی نے پیچھے سے آکر اسے ڈرایا تھا۔
’’حد ہے یار‘ یہ کیا طریقہ تھا…‘‘ اپنے پچھے کھڑے عامر کو دانت نکال کر ہنستا دیکھ کر وہ بری طرح چڑی تھی۔ وہ ان کے گروپ میں سب سے زیادہ شرارتی تھا۔
’’کیا ہوا ماہ رخ موڈ کیوں خراب ہے تمہارا اور تم بے وقوفوں کی طرح کیوں ہنس رہے ہو۔‘‘ مہوش سیدھی ان دونوں کے پاس آئی تھی اور حیرت سے بولی۔
’’اوہ یار یہ اپنی ماہ رخ زمین میں پتہ نہیں کون سا خزانہ تلاش کررہی تھی میں نے پیچھے سے آکر ہائو کیا تو ڈر گئی۔‘‘ وہ ہنستے ہوئے بتانے لگا تھا۔
’’ایک تو تانیہ اور جنید پتہ نہیں کہاں رہ گئے ہیں‘ کوئی کسی کو اتنا انتظار کرواتا ہے کیا؟‘‘ ماہ رخ سخت غصے سے بول رہی تھی۔ ساتھ ہی بار بار گھڑی میں ٹائم بھی دیکھ رہی تھی۔
’’اچھا تو میڈم جو آپ روزانہ ہم سب کو انتظار کرواتی ہیں وہ کیا؟ ہمیں بھی اتنا ہی غصہ آتا ہے ویسے بھی بار بار گھڑی دیکھنے سے وقت جلدی نہیں گزرتا۔‘‘ عامر نے اسے احساس دلانے کی کوشش کی اور تب ہی دور سے تانیہ اور جنید کو آتا دیکھ تینوں نے سکون کا سانس لیا تھا۔
’’تم آج اتنا لیٹ کیسے ہوگئے جنید؟ تم تو ہمیشہ ٹائم پہ پہنچتے ہو۔‘‘
’’مما جانی کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے ان کو سانس لینے میں پرابلم ہورہا تھا اس لیے انہیں رات کو ہی میں ڈاکٹر کے پاس لے گیا تھا اور انہوں نے مما کو ایڈمٹ کرلیا تھا‘ ابھی صبح وہیں سے آیا ہوں اس لیے آج دیر ہوگئی۔‘‘ وہ پریشانی اور اداسی کے ملے جلے تاثر سے بولا تھا۔ ماہ رخ نے دیکھا وہ روزانہ کی طرح ایکٹیو اور فریش نہیں لگ رہا تھا۔ اس کی جھیل سی آنکھوں میں اس وقت سرخی صاف نظر آرہی تھی۔ یوں لگ رہا تھا جیسے وہ رات بھر جاگا ہوا ہو۔
جنید کے پاپا کی تین سال پہلے ایک روڈ ایکسیڈینٹ میں ڈیتھ ہوگئی تھی اور اب جنید کی فیملی میں وہ اور اس کی مما ہی رہ گئے تھے۔
’’حد ہے یار جنید ہم ایک ہی بلاک میں رہتے ہیں‘ آنٹی کی اتنی طبیعت خراب ہوگئی اور تم نے ہمیں انفارم کرنا بھی ضروری نہیں سمجھا۔‘‘ ماہ رخ غصے سے بولی تھی۔
’’میں اتنی رات گئے کسی کو ڈسٹرب نہیں کرنا چاہتا تھا‘ ویسے بھی میں تھا ناں مما کے پاس اور اب تو وہ پہلے سے بہت بہتر ہیں۔‘‘ ماہ رخ کا خفا خفا سا چہرہ دیکھ کر وہ مسکرایا تھا۔
وہ سب ایک ہی ایریا میں رہتے تھے اور ایک ہی اسکول میں پڑھتے تھے مگر ان کی کلاسز ایک نہیں تھی۔ عامر تانیہ اور جنید میٹرک کلاس کے طالب علم تھے جب کے مہوش اور ماہ رخ ساتویں جماعت کی طلبہ اس وقت جنید کی عمر صرف سولا سال تھی مگر اتنی سی عمر میں بھی وہ بے حد خودار انسان تھا۔ کسی سے مدد مانگنا اسے کبھی پسند نہیں رہا تھا‘ یہ ہی وجہ تھی کہ مما کی طبیعت خرابی کا اس نے کسی کو نہیں بتایا تھا۔
’’ایک تو تمہاری یہ عادت بہت بری لگتی مجھے جنید چھٹی کے بعد مجھے بھی ملنے جانا ہے ہاسپٹل اور اب میں کچھ نہیں سنوگی۔‘‘ ماہ رخ ضدی لہجے میں بولی تھی۔
’’صرف ماہ رخ ہی نہیں‘ ہم سب بھی جائیں گے آنٹی سے ملنے۔‘‘ باقی سب بھی ایک آواز میں بولے تھے اور ان کی محبت پہ جنید دل سے مسکرا دیا تھا۔
چھٹی کے ٹائم ماہ رخ نے ڈرائیور کو یہ کہہ کر واپس بھیج دیا تھا کہ وہ جنید کے ساتھ آئے گی اور ڈرائیور کیونکہ جنید کو بخوبی جانتا تھا اس لیے بنا اعتراض کیے چلا گیا تھا اور وہ آنٹی سے ملنے جنید کے ساتھ ہوسپٹل چلی آئی تھی۔ آنٹی کی رنگت زرد ہورہی تھی اور بے حد بیمار اور نڈھال لگ رہی تھیں مگر اس کے باوجود ماہ رخ کو دیکھتے ہی ان کے بیمار چہرے پہ مسکراہٹ دوڑ گئی تھی اور وہ کھل سی اٹھی تھیں وہ ان کے قریب آئی تو انہوں نے اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں کے پیالے میں بھر کر خود سے قریب کیا اور اس کی صبیح پیشانی پہ بوسہ دیا تھا۔
’’کیسی ہو ماہ رخ بیٹا؟‘‘ وہ بہت پیار سے بولی تھیں‘ ماہ رخ نے ہمیشہ ان کے لہجے میں اپنے لیے محبت محسوس کی تھی۔ وہ پاپا کی کزن بھی تھیں اور اس حوالے سے وہ ماہ رخ کی پھوپو لگتی تھیں۔ پاپا کی کوئی بہن نہیں تھی اور اس وجہ سے پاپا ان سے بہت محبت کرتے تھے مگر مما کے انداز میں آنٹی کے لیے ماہ رخ نے کبھی گرم جوشی نہیں دیکھی تھی جب کے اس کے برعکس آنٹی ہمیشہ مما کا بے حد محبت سے ذکر کرتی تھیں۔
’’رزلٹ کیسا رہا میری بیٹی کا؟‘‘ انہوں نے مزید پوچھا۔
’’آپ کی دعا سے اے پلس آیا ہے آنٹی۔‘‘ وہ مسکرا کر بولی تھی۔ جتنی دیر وہ وہاں بیٹھی رہی آنٹی اس سے محبت بھری باتیں کرتی رہی تھیں… وہ بہت زندہ دل خاتون تھیں‘ وہ بڑی سے بڑی پریشانی بھی مسکراہٹ کے پیچھے چپھا لیتی تھیں۔ اس لمحے ماہ رخ انہیں اس طرح بیڈ پہ لیٹا دیکھ کر بہت اداس ہوگئی تھی۔
’’آنٹی بس اب آپ جلدی سے ٹھیک ہوکر گھر آجائیں۔ آپ کی ماہ رخ آپ کو اس حال میں نہیں دیکھ سکتی۔‘‘ وہ بے حد گلوگیر لہجے میں بولی تھی اور پھر جھک کر ان کا گال چوما تھا۔
وہ جس وقت گھر پہنچی تو مما لاؤنج میں ہی بیٹھی تھیں‘ اسے حیرت ہوئی تھی اس وقت مما کو گھر پہ دیکھ کر‘ وہ تو شام سے پہلے کبھی گھر میں دکھائی نہیں دیتی تھیں‘ جب کے اس وقت ساڑھے تین ہورہے تھے۔
’’مما جانی آپ اس وقت گھر میں…!‘‘ وہ اپنی حیرانی چھپا نہیں سکی تھی۔
’’تمہارے اسکول کی چھٹی پونے دو بجے ہوتی ہے اور اس وقت ساڑھے تین ہورہے ہیں‘ کہاں تھیں تم اور اس وقت کہاں سے آرہی ہو؟‘‘ وہ اس کا سوال نظر انداز کرتی غصے سے بولی تھی۔ اور ماہ رخ ہکابکا سی ماں کے تیور دیکھتی رہے گئی تھی۔ آج تک بھلا انہوں نے اس کی فکر کب تھی۔
’’جنید کی مما جان ہاسپٹل میں ایڈمیٹ ہیں ان ہی سے ملنے گئی تھی۔‘‘ وہ بے حد سنجیدگی سے بولی تھی۔
’’کس کی اجازت سے؟‘‘ دوسرا سوال پہلے سے بھی زیادہ غصے سے کیا گیا تھا۔
’’کیا مطلب کس کی اجازت سے‘ مجھے اچانک پتہ چلا تو میں ملنے چلے گئی۔ ویسے بھی آپ لوگ کون سا گھر ہوتے ہیں جو پرمیشن لی جائے۔‘‘ وہ اب ان کے انداز پہ حیران ہو رہی تھی۔ اس لیے خود بھی تیکھے لہجے میں بولی۔ جنید کوئی اجنبی تو نہیں تھا۔
’’وہ عورت جو میرا گھر برباد کرنے پہ تلی ہوئی ہے‘ جس نے میرے شوہر کو تو مجھ سے چھین ہی لیا ہے اور اب تمہیں بھی چھیننا چاہتی ہے تم اس ہی عورت کے لیے میرے سامنے کھڑی ہوکر بول رہی ہو۔‘‘ مما طیش سے چلائی تھیں۔
’’یہ… یہ کیا کہہ رہی ہیں آپ…!‘‘ چودہ سال کی وہ معصوم سی بچی اتنی سی بات پہ ماں کا اتنا شدید رویہ دیکھ کر سہم سی گئی تھی اور شاید یہ بات مما نے بھی محسوس کی تھی اس لیے وہ خود پہ کنٹرول کرتیں اس کے پاس آئیں اور اسے کندھوں سے تھام کر اپنے سامنے کرتیں پیار سے بولیں۔
’’کوئی بھی انسان ماں باپ سے زیادہ اپنا نہیں ہوتا کسی پہ آنکھیں بند کرکے بھروسہ کرنا بے وقوفی ہے جو جتنا اپنا لگتا ہے وہ اتنا شدید دھوکہ دیتا ہے۔ تمہاری آنٹی اچھی نہیں ہیں‘ وہ آپ کے پاپا اور مما کو الگ کرنا چاہتی ہیں‘ وہ ایک شاطر عورت ہیں اور میری ماہ رخ اب ان سے دور رہے گی ہیں ناں بیٹا۔‘‘ وہ کچھ بھی ناسمجھ آنے کے باوجود اثبات میں سر ہلا گئی تھی۔
’’آنٹی تو اتنی نائس ہیں پھر مما انہیں اتنا ناپسند کیوں کرتی ہیں؟‘‘ پہلی بار اس کے دماغ میں یہ سوال ابھرا تھا۔
٭٭…٭…٭٭
یہ جاتی گرمیوں کی بات تھی‘ مما پاپا کے درمیان بہت دنوں سے بات چیت بند تھی لیکن اس دن تو حد ہی ہوگئی تھی نہ جانے کیا بات تھی کہ وہ دونوں تیز تیز آواز میں لڑ رہے تھے۔ وہ لاؤنج میں بیٹھی اسکول کا کام کررہی تھی اور باآسانی سب کچھ سن رہی تھی۔
’’تمہاری ہمت کیسے ہوئی زارا… کہ تم نے فریحہ پہ الزام تراشی کی‘ تم خود کیا ہو‘ اپنا کریکٹر دیکھا ہے تم نے…؟‘‘ پاپا کی آواز غصے سے کانپ رہی تھی وہ بری طرح مما پہ چلا رہے تھے۔ یہ مما‘ پاپا بار بار آنٹی کا نام لے کر کیوں لڑ رہے ہیں وہ حیرانی سے سوچنے لگی تھی۔
’’میں جو بھی ہوں جیسی بھی ہوں کم سے کم آپ کی اور فریحہ کی طرح جھوٹی نہیں ہوں‘ وہ عورت جو خود کو پارسا سمجھتی ہے‘ مجھ سے میرے ہی شوہر کو بدظن کررہی ہے‘ چھین رہی ہے مجھ سے آپ کو‘ اس کا کردار کیا ہوگا سب جانتے ہیں۔‘‘ مما تمسخر اڑاتے بولی تھیں اور اس وقت پاپا کا ہاتھ اٹھا تھا اور مما کے گال پہ نشان چھوڑ گیا تھا۔ ماہ رخ وہ تو ششدر رہ گئی تھی۔ ماہ رخ سے رہا نہیں گیا تو وہ سب کچھ چھوڑ کر پاپا کے روم کی طرف چل دی تھی اور دونوں ہاتھوں سے اس نے بند دروازے کو بجانا شروع کردیا تھا۔
پاپا نے دروازہ کھولا اور غصے سے اسے دیکھا وہ گھبراہٹ کے مارے کچھ بول ہی نا سکی اور چپ چاپ مڑ کر اپنے کمرے میں چل دی تھی۔ اس دن وہ پوری رات روئی تھی۔ اسے پہلی بار مما کی باتیں سچ لگی تھیں اور آنٹی سے نفرت محسوس ہوئی تھی۔ دوسرے دن اسکول میں بھی وہ خاموش خاموش سی رہی تھی‘ کسی سے بات نہیں کی تھی یہاں تک کہ جنید جو کہ اس کا۔ بیسٹ فرینڈ تھا۔ اسے بھی نظر انداز کررہی تھی لیکن جب بریک تک بھی اس کا وہ ہی رویہ رہا تو جنید پریشان ہوگیا تھا۔
’’یار پرابلم کیا ہے آخر کچھ بول کیوں نہیں رہی ہو‘ کوئی مسئلہ ہے تو شیئر کرو؟ مگر خدارا یوں خاموش مت رہو۔‘‘ وہ فکرمندی سے بولا تھا۔ اور ماہ رخ اس کے ذہن میں جو رات بھر سے لاوا پک رہا تھا وہ پھٹ گیا۔
’’ہاں ہے پرابلم جاننا چاہتے ہو کیا ہے تو سنو‘ پرابلم تمہاری مما ہیں‘ شاطر عورت جنہوں نے اپنی گھٹیا چالوں سے میرے مما پاپا کا رشتہ توڑنے کی کوشش کی ہے۔‘‘ وہ بنا کسی کا لحاظ کیے پھٹ پڑی تھی۔
’’شٹ اپ ماہ رخ کیا بکواس کررہی ہو یقینا یہ زہر زارا آنٹی نے تمہارے دل میں بھرا ہے‘ تمہاری مما تو ہیں ہی نفسیاتی مریضہ۔‘‘ وہ اپنی مما کے بارے میں اس کی زبان سے اتنے نازیبا الفاظ سن کر غصے سے بولا تھا اور ماہ رخ یہ برداشت نہیں کر پائی تھی اور اس کا ہاتھ اٹھ گیا تھا۔
جنید حیرانی سے اپنا منہ کھولے اسے دیکھ رہا تھا بریک آور ہونے کی وجہ سے سارے اسٹوڈینٹس لان میں کھڑے یہ تماشا دیکھ رہے تھے لیکن ماہ رخ کو تو کوئی احساس ہی نہیں تھا۔ اس دن پہلی بار ماہ رخ کے دل نے جنید آفتاب کے لیے نفرت محسوس کی تھی۔
٭٭…٭…٭٭
پتہ نہیں زارا وقاص نے فریحہ بیگم کو ایسا کیا کہا کہ ان کی حالت اچانک بگڑ گئی تھی۔ ان کا سانس اکھڑ رہا تھا۔ جنید جس وقت گھر پہنچا تھا تو اس نے زارا آنٹی کو گھر سے نکلتے دیکھا تھا۔ پریشانی میں اسے سمجھ ہی نہیں آرہا تھا کہ کرے تو کیا کرئے۔ وہ انہیں ہاسپٹل لایا تو ڈاکٹرز نے بتایا انہیں مائنر اٹیک ہوا تھا لیکن کیونکہ جنید انہیں وقت پہ ہاسپٹل لے آیا تھا اس لیے زیادہ سیریس پرابلم نہیں ہوئی تھی۔ جب ان کی حالت بہتر ہوئی تو جنید نے سکون کا سانس لیا تھا۔ پہلی بار اس نے خود کو بے حد تنہا محسوس کیا تھا۔ مما اپنے ماں باپ کی اکلوتی بیٹی تھیں‘ وقاص انکل ان کے اکلوتے کزن تھے‘ جبکہ جنید کے پاپا کے بھائی بہن لندن میں سیٹیل تھے۔ وہ اکثر جنید اور فریحہ بیگم کو بھی اپنے پاس آنے کا کہتے رہتے تھے لیکن مما کبھی راضی نہیں ہوئیں اور نا ہی کبھی جنید کا دل کیا کہ اپنے وطن اور اپنے دوستوں کو چھوڑنے کا۔ یہاں جابجا پاپا کی یادیں بکھری ہوئی تھیں‘ پاپا مما سے شادی کرنے کے بعد پاکستان میں ہی سیٹل ہوگئے تھے مما کو اپنے وطن پاکستان سے شدید محبت تھی اور پاپا نے ان کی محبت کا خیال کرتے اپنی زندگی یہیں گزارنے کا فیصلہ کرلیا تھا ورنہ ان کی جڑیں تو لندن کی مٹی میں پھیلی ہوئی تھیں اور پھر جب پاپا کی ڈیتھ ہوئی تو ان ہی کی وصیت پہ عمل کرتے مما نے انہیں لندن میں ہی دفن کروایا تھا‘ لیکن پھر وہ خود زیادہ عرصہ وہاں نا رہ سکیں اور واپس پاکستان آگئیں‘ چاچو نے تب بھی ان دونوں کو بہت روکا تھا لیکن مما اپنے اس گھر کو جہاں جابجا پاپا کی یادیں بکھری ہوئی تھیں چھوڑنے کی ہمت خود میں نہیں رکھتی تھیں۔ اور جنید اسے دونوں ہی بے حد پیارے تھے اپنے دوست بھی اور اپنا شہر بھی لیکن آج پہلی بار اس کا دل کیا کہ سب کچھ چھوڑ دے‘ گھر‘ دوست‘ شہر‘ وطن سب کچھ اور مما کو لے کر ہمیشہ کے لیے چاچو کے پاس چلا جائے اسے پہلی بار احساس ہوا تھا کہ یہاں کوئی اپنا نہیں ہے‘ سوائے ایک وقاص انکل کے مگر اب ماہ رخ کی اتنی بدتمیزی کے بعد وہ ان سے بھی تعلق نہیں رکھنا چاہتا تھا۔ وہ تو خود رشتوں کی زنجیر میں جکڑے ہوئے تھے۔ آج مما کو تیسرا دن تھا ہاسپٹل میں ایڈمیٹ ہوئے‘ کل جنید کے سارے دوست مہوش تانیہ عامر مما سے ملنے آئے تھے۔ وقاص انکل نے بھی کال کی تھی اور وہ مما سے ملنے بھی آنا چاہتے تھے مگر خود جنید نے ہی انہیں آنے سے منع کردیا تھا اور انکل نے بھی کوئی سوال نہیں کیا تھا۔ وہ اب اپنی ماں کے بے داغ کردار پہ مزید کوئی انگلی نہیں اٹھنے دینا چاہتا تھا۔
’’کن سوچوں میں گم ہو جنید‘ کوئی بات ہوئی ہے؟‘‘ مما نے اسے یوں خاموشی سے کسی نکتے کو تکتے دیکھ کر سوال کیا۔
’’نہیں مما… بس یوں ہی کچھ سوچ رہا تھا۔‘‘ وہ ہلکا سا مسکرایا۔
’’کیا سوچ رہے ہو میری جان؟‘‘ مما نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر ہلکا سا دبایا۔
’’پہلے آپ بتائیں‘ آپ نے کھانا کھایا۔‘‘ اس نے کچھ کہنے سے پہلے تمہید باندھی۔
’’میں جانتی ہوں جنید تم کچھ ضروری بات کرنا چاہتے ہو‘ اس لیے تمہید مت باندھو سیدھی بات کرو۔‘‘ وہ ماں تھیں فوراً سمجھ گئی تھیں۔
’’مما… میں چاہتا ہوں ہم دونوں چاچو کے پاس شفٹ ہو جائیں‘ وہ کب سے ہمیں اپنے پاس بلا رہے ہیں اور مجھے لگتا ہے اب ہمیں اپنوں کے پاس لوٹ جانا چاہیے‘ یہاں ہمارا کوئی بھی نہیں ہے۔‘‘ وہ جو کچھ کہنے نہ کہنے کی کشمکش میں ڈول رہا تھا ہمت کرکے دل کی بات کو زبان پہ لے ہی آیا تھا اور اسے جو لگتا تھا کہ مما راضی نہیں ہوں گی ضد کریں گی‘ اس وقت حیران ہی رہ گیا جب مما نے کہا جیسے تم چاہو جنید۔
اور پھر وہ پاکستان سے چلے گئے تھے‘ لندن میں کچھ عرصہ گزارنے کے بعد ہی مما اس دنیا کو چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے ابدی نیند سو گئی تھیں‘ پاپا کو بھی لندن میں دفن کیا گیا اور پھر مما کو بھی وہیں دفن کردیا گیا تھا‘ وہ دل کی مریضہ تھیں اور دل کا کیا اعتبار کب دھوکا دے جائے ان کا دل بھی دغا دے گیا تھا۔
٭٭…٭…٭٭
وہ ساری رات روتی رہی تھی‘ اسے رہ رہ کر اپنی بے عزتی یاد آتی رہی۔ پاپا نے کیسے ایک غیر کے لیے اپنی سگی بیٹی کو بے عزت کیا اور دھتکارا تھا۔ اس کا غم کسی طرح کم نہیں ہورہا تھا۔ اسے یوں لگ رہا تھا جیسے جنید نے پانچ سال پہلے کی گئی بے عزتی کا بدلا لے لیا ہو۔ اس نے جنید کو اسکول کے بچوں کے سامنے بے عزت کیا تھا۔ پاپا ایک بار بھی اسے منانے نہیں آئے تھے رات گزر گئی اور اب صبح سے دوپہر ہورہی تھی‘ مما کئی بار اس کا دروازہ بجا کر جاچکی تھیں لیکن اس وقت وہ کسی سے بھی بات نہیں کرنا چاہتی تھی۔ وہ خود بھی نہیں جانتی تھی کہ ماں باپ کے درمیان ہونے والی لڑائیوں نے اسے کس قدر خود سر‘ باغی‘ بدتمیز‘ ضدی اور مغرور بنا دیا تھا‘ آج تک جب اسے ان کی ضرورت تھی تو ان دونوں کے پاس اس لیے وقت نہیں تھا اور اس اکیلے پن کا نتیجہ یہ نکلا تھا کہ وہ بگڑ گئی تھی۔ اسے مما پاپا سے محبت تو تھی مگر احساس نہیں تھا وہ صرف وہ کام کرتی جس پہ اس کا دل راضی ہوتا اور اس کا دل کہتا تھا کہ تمہیں جنید سے اس بے عزتی کا بدلہ لینا چاہیے مگر وہ کیا جانتی تھی کہ یہ جنید آفتاب تھا‘ کوئی عام انسان نہیں اور ابھی تو جنید کا انتقام شروع ہوا تھا‘ ابھی تو ماہ رخ وقاص کو بہت کچھ سہنا تھا۔
٭٭…٭…٭٭
وہ بہار کی ایک خوب صورت شام تھی‘ فضا میں جاتی سردیوں کی خنکی اب تک باقی تھی۔ لان میں پھولوں کی پتیوں کو دیکھ کر اسے ایک پرانی مگر رنگوں سے سجی یاد نے اپنے حصار میں لے لیا تھا۔ سفید رنگ لان کا فرش اور کیاریوں کا منظر‘ صبح سویرے اسمبلی سے پہلے کا وقت تھا جب سارے دوست درخت کی چھاؤں میں کھڑے اس کا انتظار کررہے تھے اور ماہ رخ وقاص ہاتھوں میں ڈیزی ٹیولپس اور سفید گلابوں سے سجا بکے لیے آہستہ آہستہ نیم کے درخت کی طرف بڑھ رہی تھی۔
’’ارے واہ اتنا پیارا بکے کس کے لیے لائی ہو ماہ رخ۔‘‘ تانیہ کا دل مچلا تھا‘ اسے پھول ہمیشہ سے بہت پسند رہے تھے۔
’’ہمارے گروپ کے اسٹار یعنی جنید آفتاب کے لیے۔‘‘ وہ مسکرا کر بولی تھی اور پھولوں کا بکے حیران سے کھڑے جنید کی طرف بڑھایا تھا۔
’’یہ کس لیے…‘‘ وہ حیران پریشان سا بکے تھامتا ہوا بولا۔
’’کل تمہارا کرکٹ میچ تھا اور تمہاری ٹیم جیت گئی تھی ناں‘ پاپا بتا رہے تھے اور انہوں نے یہ بھی بتایا کہ یہ جیت صرف تمہاری وجہ سے ممکن ہوئی تھی۔‘‘ وہ فخر سے بولی تھی جیسے جنید نہیں وہ جیتی ہو۔
’’انکل تو بس یوں ہی میری تعریف کرتے ہیں‘ ورنہ تو کسی بھی کھیل کی کامیابی اس کی پوری ٹیم کی محنت کا نتیجہ ہوتی ہے۔‘‘ ہر انسان کی طرح وہ بھی اپنی تعریف پہ خوش بھی ہوا تھا۔
’’خیر پاپا یوں ہی تو کسی کی تعریف نہیں کرتے اور ہاں جنید تمہیں ہمیشہ یوں ہی جیتتے رہنا ہے‘ کیونکہ ماہ رخ وقاص کو ہارنے والے لوگ بالکل پسند نہیں۔‘‘ وہ اترا کر بولی تھی۔
’’بی بی جی چائے…‘‘ اس کی سوچوں کے ارتکاز کو ملازمہ کی آواز نے توڑا تھا‘ اسکول‘ لان‘ درخت کی چھاؤں‘ صبح کی چہل پہل سب غائب ہوگیا تھا‘ اس کی نگاہوں کے سامنے ایک بار پھر ڈیزی کے پھول ہوا کے دوش پہ اڑ رہے تھے۔ اس نے کھوئے ہوئے انداز میں اپنے سامنے چائے اور دیگر لوازمات سے سجی ٹرے کو دیکھا پھر مؤدب کھڑی ملازمہ کو ہاتھ کے اشارے سے جانے کا حکم دیا۔
وہ جب دور تھا تو اس سے جڑی یادیں بھی دور تھیں اور اب جب وہ ایک بار پھر اس کی دنیا میں لوٹ آیا تھا تو مہکی ہوا بھی اس کے قصے سناتی تھی‘ یہ سب ماہ رخ کے لیے آسان نہ تھا‘ گزرے دس سالوں میں اس نے جنید آفتاب سے صرف نفرت ہی تو کی تھی‘ بے حد و بے حساب اور وہ اب اسے جب بھی دیکھتی تو اس کا جنون اور ضد اس کی نفرت سب کچھ بھڑک اٹھے تھے‘ وہ کبھی نہیں بھول سکتی تھی کہ جنید آفتاب نے اس کی ماں کی انسلٹ کی تھی‘ جان سے پیاری مما کی۔ وہ اس کے لیے ہیرو کی طرح تھا اور یہ آئیڈل تب چکنا چور ہوا تھا جب ماہ رخ کے سامنے بے حد بدتمیزی سے اس نے اس ہی کی مما کے بارے میں برا کہا‘ اس نے چھوٹی سی عمر میں آئیڈل تراشا تھا اور وہ چھوٹی ہی عمر میں ٹوٹ بھی گیا تھا‘ جب اسے سنبھلنے کے لیے کسی کی ضرورت تھی تب مما‘ پاپا کے پاس اس کے لیے وقت نہیں تھا۔
٭٭…٭…٭٭
اس دن وہ اپنے کچھ کلائینٹس کے ساتھ پی سی میں لنچ پہ آیا تھا اور تب ہی اس کی نظر لڑکے لڑکیوں کے ایک گروپ میں بیٹھی ماہ رخ وقاص اور مہوش زوار پہ پڑی تھی‘ وہ تین لڑکوں اور پانچ لڑکیوں کا گروپ تھا اور اس میں سے شاید کسی کی برتھ ڈے تھی کیونکہ ویٹر ابھی ان کے سامنے کیک رکھ کے گیا تھا۔ ریسٹورینٹ کے پُرفسوں ماحول میں ان سب کے بلند بانگ قہقے گونج رہے تھے‘ اس وقت لنچ آور ہونے کی وجہ سے سارے ٹیبلز فل تھیں اور جنید کی ٹیبل اتفاق سے ماہ رخ کے گروپ کے بالکل سامنے ہی تھی۔ وہ ایک سنجیدہ سی نظر ان لوگوں پہ ڈال کر اپنی ٹیبل پہ آگیا تھا‘ آج اس کی فرانس سے آئے بزنس ڈیلیگیشن کے ساتھ ایک بے حد امپورٹینٹ میٹنگ تھی۔ اپنا آڈر دینے کے بعد وہ لوگ بزنس کے حوالے سے کچھ ضروری پوائنٹس ڈسکس کررہے تھے جب اس کی سماعت سے کسی کی آواز ٹکرائی تھی۔
’’سرمد یہ مشہور بزنس مین جنید آفتاب گردیزی ہی ہیں ناں‘ جن کا کچھ دن پہلے ایک میگزین میں انٹرویو شائع ہوا تھا۔‘‘ وہ ایک تجسس‘ اشتیاق اور جوش سے بھری نسوانی آواز تھی۔
’’ہاں وہ ہی ہیں۔‘‘ جس کو مخاطب کیا گیا تھا وہ اثبات میں سر ہلاتا بولا۔
’’او مائے گاڈ‘ سرمد تمہاری برتھ ڈے تو سچ میں ہمارے لیے لکی ثابت ہوئی ہے‘ اف میں بتا نہیں سکتی میری کتنی بڑی خواہش تھی ان سے ملنے کی۔‘‘ ایک اور لڑکی دبے دبے جوش سے بولی‘ غالباً وہ سب بزنس کے اسٹوڈینٹ تھے۔
’’مزے کی بات بتاؤں تم سب کو… یہ مشہور بزنس مین ماہ رخ کے پاپا کے بزنس پارٹنر اور مہوش زوار کے بیسٹ فرینڈ بھی ہیں۔‘‘
’’رئیلی…! ماہ رخ مہوش کتنی خوش قسمت ہو تم دونوں‘ پلیز ہم لوگوں کو بھی انٹروڈیوس کرواؤ ناں ان سے۔‘‘ اب کے لڑکوں کی بھی دلچسپی بڑھی تھی جب کے ماہ رخ کا حلق تک کڑوا ہوگیا تھا‘ ہاں یہ سچ تھا کہ جنید نے ہاوڈ یونیورسٹی میں ٹاپ کیا تھا۔ دوسری طرف ماہ رخ کے سامنے اپنی تعریف پہ نجانے کیوں جنید کو بہت خوشی ہوئی تھی جیسے کوئی بہت پرانا بدلا پورا ہورہا ہو۔
’’بس کرو صائم اور وریشہ‘ اب جنید اتنا بھی کوئی خاص نہیں جو تم لوگ اس سے ملنے کے لیے یوں دیوانے ہورہے ہو۔ ویسے بھی دوسروں کے حق مارنے والے لوگ یوں ہی مشہور ہوتے ہیں۔‘‘ اپنے کلاس فیلوز کو اس کی تعریف کرتا دیکھ کر اسے پتہ نہیں کیوں جلن سی ہوئی تھی۔
’’شٹ اپ ماہ رخ‘ سائم وریشہ قندیل یہ سچ ہے کہ جنید آفتاب گردیزی میرے بیسٹ فرینڈ ہیں‘ ہم نے اسکول پریڈ ساتھ گزارا ہے اور جنید ہمیشہ سے بے حد ذہین رہا ہے اور اب اگر وہ اس مقام پہ ہے تو اس لیے کیونکہ اس نے بہت محنت کی ہے اور اگر تم لوگ جنید سے ملنا چاہتے ہو تو میں ضرور ملواؤں گی مگر آج نہیں کیونکہ اس وقت وہ اہم میٹینگ میں ہے۔‘‘ وہ مسکرا کر بولی تھی‘ اس نے پہلی بار اس طرح ماہ رخ کو شٹ اپ کہا تھا کیونکہ جتنی ماہ رخ اس کے لیے خاص تھی اتنی ہی جنید کی ریسپیکٹ بھی اس کے لیے اہم تھی اور ساری باتیں سنتا جنید اطمینان سے مسکرا دیا تھا اور ساتھ ہی ماہ رخ کے لیے اس کی ناپسندیدگی میں مزید اضافہ ہوا تھا۔
اور ماہ رخ نے حیرت سے اسے دیکھا‘ تذلیل کا ایک گہرا احساس ہوا تھا اسے اور اس ہی احساس کے تحت اس نے غصے سے اپنا کلچ اٹھایا اور تیز قدموں سے وہاں سے نکل آئی تھی‘ جب کے باقی سب حیرت سے اسے دیکھ رہے تھے۔
’’اسے کیا ہوا؟‘‘ وریشہ حیرت سے بولی۔
’’ایک منٹ میں دیکھتا ہوں۔‘‘ سرمد چیئر کھسکا کر اٹھتے ہوئے بولا‘ وہ پہلے ہی بہت اصرار کرکے اسے لایا تھا اور اب اسے یوں جاتا دیکھ کر اسے اپنی یہ چھوٹی سی پارٹی خراب ہوتی محسوس ہوئی تھی۔
’’ابھی مت جائیں آپ اس کے پیچھے سرمد‘ میں بچپن سے جانتی ہوں اسے‘ وہ جب غصے میں ہوتی ہے تو کسی کی بھی نہیں سنتی‘ جب اس کا غصہ ٹھنڈا ہوگا تو میں خود منا لوں گی اسے۔‘‘ مہوش نے اسے جاتے دیکھ کر روکا اور سمجھایا اور سرمد سر ہلاتا دوبارہ بیٹھ گیا تھا۔
جب کہ اپنے مہمانوں کے ساتھ لنچ کرتا جنید یہ سب دیکھ اور سن رہا تھا‘ عین اس ہی وقت اس نے فیصلہ کرلیا تھا کہ وہ اس مغرور لڑکی کا غروہ کرچی کرچی کرے گا۔
٭٭…٭…٭٭
’’پاپا‘ آپ بے شک مجھ سے خفا ہوجائیں مگر یوں نظر انداز تو مت کریں‘ اتنے دن ہوگئے ہیں آپ کی خفگی کو‘ آپ نا میری طرف دیکھتے ہیں اور نا ہی مجھ سے بات کرتے ہیں‘ کیا آپ کو جنید آفتاب ماہ رخ وقاص سے بھی زیادہ پیارا ہے؟‘‘ وہ ان کے گھٹنے پہ ہاتھ رکھ کر ان کے قدموں میں بیٹھی التجا کرتے ہوئے بولی۔
آج پاپا آفس سے جلدی آگئے تھے اور اس وقت لان میں بیٹھے چائے پیتے ہوئے اخبار بھی پڑھ رہے تھے۔ ماہ رخ سو کر اٹھی اور کھڑکیوں سے پردے ہٹائے تو لان میں بیٹھے پاپا اسے نظر آئے اور وہ سب کچھ چھوڑ کر انہیں منانے چلی آئی تھی‘ آج کتنے دنوں بعد اس نے پاپا کو گھر پہ دیکھا تھا ورنہ تو کئی کئی دن گزر جاتے اور ان کی ملاقات نہیں ہوتی تھی۔
’’ماہ رخ… میں تم سے ناراض نہیں بس حیران ہوں کہ میری بیٹی کیا اتنی بدتمیز ہے کہ اسے اپنے پاپا کی عزت کا بھی خیال نہیں اور رہی جنید کی بات اگر وہ مجھے تم سے زیادہ پیارا نہیں تو تم سے کم بھی نہیں۔‘‘ پاپا نے گلاسز اتار کر ٹیبل پہ رکھا‘ جب کے پیپر اب تک ان کے ہاتھ میں ہی تھا۔
’’پاپا… مجھے وہ بالکل پسند نہیں آئی ہیٹ ہم۔‘‘ وہ تنک کر بولی۔
’’بٹ آئی لو ہم… ماہ رخ تم نہیں جانتی اس سے میرا کتنا گہرا رشتہ ہے‘ وہ اس عورت کا بیٹا ہے جس کا مجھ پہ بہت احسان ہیں‘ کسی دن فرصت میں بتاؤں گا تمہیں۔‘‘ وہ نا جانے کیوں اداس ہوگئے تھے۔
’’اچھا پاپا چھوڑیں کسی اور کی باتوں کو‘ یہ بتائیں اب تو آپ مجھ سے ناراض نہیں۔‘‘ وہ لاڈ سے بولتی اٹھلائی۔
’’بالکل نہیں ہوں لیکن ماہ رخ میں نے تمہاری زندگی کے بارے میں ایک فیصلہ کیا ہے اور مجھے لگتا ہے یہ میری زندگی کا سب سے خوب صورت اور سب سے اچھا اور بہترین فیصلہ ہے۔‘‘ وہ اس کے بالوں کو نرمی سے سہلاتے ہوئے بولے۔
’’کیسا فیصلہ پاپا؟‘‘ ماہ رخ نے چونک کر سر اٹھایا اور حیران نظروں سے باپ کے چہرے کی طرف دیکھا جہاں اطمینان رقم تھا۔
’’تمہاری شادی کا۔‘‘ وہ مسکرائے۔
’’کس سے؟‘‘ ماہ رخ کے دل و دماغ میں خطرے کی گھنٹی بجنے لگی تھی۔
’’جنید آفتاب گردیزی سے۔‘‘ انہوں نے یک دم بم پھوڑا۔
’’نہیں پاپا ایسا کبھی نہیں ہوسکتا۔‘‘ وہ بے یقینی کی کیفیت میں بولی۔
’’ماہ رخ جنید بہت اچھا انسان ہے‘ تمہارے لیے ہر لحاظ سے پرفیکٹ۔‘‘ انہوں نے سمجھانے کی کوشش کی۔
’’اور مجھے اس سے زیادہ برا اور کوئی نہیں لگتا‘ وہ دنیا کا آخری شخص بھی ہوا تو میں اس سے شادی نہیں کروں گی۔‘‘ وہ نفی میں گردن ہلا کر بولی۔
’’یہ میرا فیصلہ ہے ماہ رخ۔‘‘ انہوں نے اسے مسلسل انکار کرتا دیکھ کر جذباتی سہارا لینا چاہا۔
’’اور یہ میرا فیصلہ ہے پاپا‘ میری زندگی کے بارے میں۔‘‘ وہ بھی ان کی بیٹی تھی ان ہی کے انداز میں بولی۔
’’میں تمہارا باپ ہوں‘ تم میرے فیصلے سے کیسے انکار کر سکتی ہو۔‘‘ وہ حیران تھے یا شاید بے یقین۔
’’اگر صرف پیدا کرنے سے کوئی باپ بن جاتا ہے تو ہاں ہیں آپ میرے باپ‘ ورنہ آج تک یاد کریں کب آپ کے پاس میرے لیے وقت رہا ہے‘ کب آپ نے میرے سر پہ شفقت سے ہاتھ رکھا‘ کب آپ نے مجھے حوصلہ دیا‘ کب آپ نے احساس دلایا کہ آپ میرے باپ ہیں۔‘‘ وہ بھرپور طنز کرتے بولی۔
’’تم چاہے کچھ بھی کہو مگر تمہاری شادی جنید سے ہی ہوگی۔ کان کھول کر سن لو…‘‘ وہ اب سختی پہ اتر آئے تھے۔
’’اور آپ بھی سن لیں میں مر جاؤں گی مگر جنید سے شادی نہیں کروں گی۔‘‘ وہ ہٹ دھرمی سے بولی۔
’’تو بس ٹھیک ہے‘ تم اگر جنید سے شادی نہیں کرسکتی تو میں بھی تمہاری ماں کے ساتھ زندگی نہیں گزار سکتا میں۔ ڈائیورس پیپر تیار کرواتا ہوں۔‘‘ اب ان کا چہرہ اور انداز دونوں ہی سپاٹ تھے۔
’’پاپا…! یہ آپ کیسی باتیں کررہے ہیں۔‘‘ وہ خوف اور بے یقینی کی ملی جلی کیفیت میں چلا کر بولی۔
’’وہ ہی جو تم سن رہی ہو‘ میں نے اتنے سال تمہاری ماں کو تمہارے ہی لیے برداشت کیا تھا‘ ورنہ اس جیسی عورت کے ساتھ کوئی ایک لمحہ بھی نہیں گزار سکتا‘ اتنے سال میں نے تمہارے خاطر قربانی دی مگر جب تمہیں میری پروا نہیں تو میں کیوں کروں تمہاری پروا۔‘‘ ان کا انداز سفاک تھا۔ اتنا کہہ کر وہ وہاں سے اٹھ کر لمبے لمبے ڈگ بھرتے چلے گئے تھے۔
٭٭…٭…٭٭
کمرے میں پھیلی گہری خاموشی کو غزل کی آواز توڑ رہی تھی‘ ڈیک پر دھیمے سروں میں یہ غزل چل رہی تھی اور ماہ رخ کو یوں لگ رہا تھا جیسے گلوکار یہ غزل اس ہی کے لیے گا رہا ہو‘ کمرے کی ہر چیز بکھری ہوئی تھی‘ نرم ملائم قیمتی قالین پہ نازک کانچ کے ٹکڑے بکھرے ہوئے تھے‘ یہ ان شو پیس اور گل دانوں کے ٹکڑے تھے جو کل رات دیوار پہ مار کر ماہ رخ نے توڑے تھے‘ کل سے اب تک وہ کتنی ہی قیمتی چیزیں توڑ چکی تھی۔ خود اس کا اپنا برا حال تھا۔ گہری جھیل سی آنکھیں رات بھر رو رو کر اور مسلسل جاگنے سے سرخ ہوچکی تھیں‘ ہونٹ سوکھ رہے تھے‘ بال الجھے ہوئے تھے‘ اوندھے منہ بیڈ پہ لیٹی اور غزل سنتے ہوئے ماہ رخ کہ آنسو ایک بار پھر بہنا شروع ہوگئے تھے۔
کیا ماں باپ ایسے ہوتے ہیں‘ خود غرض‘ بے پروا کیا ان کے دل میں اولاد کے لیے ذرا محبت نہیں ہوتی‘ کیا ان کے نزدیک اولاد کی خواہشوں کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی‘ بے حد محبت کرنے والے ماں باپ‘ بیٹی کی زندگی کا اتنا اہم فیصلہ کرتے اتنے بے حس اور خود غرض کیوں ہو جاتے ہیں‘ کیوں انہیں اولاد کے آنسو نظر نہیں آتے‘ اس کا ذہن منفی سوچوں سے بھرا ہوا تھا۔ اسے پہلی ایسا محسوس ہوا کہ جیسے وہ بدنصیب ہو۔ وہ جو چاہتی تھی وہ کبھی نہیں ہوسکتا تھا اور جو نہیں چاہتی تھی وہ ہونے سے روک نہیں سکتی تھی۔
’’مجھے جنید سے بات کرنی چاہیے‘ جتنی نفرت میں اس سے کرتی ہوں وہ بھی تو مجھ سے اتنی ہی نفرت کرتا ہے‘ مجھے اسے بتا دینا چاہیے کہ میں اس سے شادی نہیں کروں گی۔‘‘ اس نے چکراتے ذہن سے سوچا اور بیڈ سے اٹھ کر تیار ہونے چل دی‘ اسے ابھی وقت جنید سے ملنا تھا۔
وہ جس وقت اس کے آفس پہنچی دوپہر کے دو بج رہے تھے اور جنید اپنے آفس میں لنچ کررہا تھا‘ اس کے پی اے نے جب اسے ماہ رخ وقاص کے آنے کی اطلاع دی تو پہلے تو وہ حیران ہوا اور پھر اسے انتظار کرنے کا کہہ کر دوبارہ کھانا کھانے لگا تھا اور باہر ویٹینگ لاؤنج میں بیٹھی ماہ رخ غصے سے پیچ وتاب کھانے لگی تھی‘ اگر ابھی اسے جنید سے کام نا ہوتا تو وہ اسے اچھا خاصا سنا کر جاتی مگر خیر‘ کام کے وقت گدھے کو بھی باپ بنانا پڑتا ہے۔ اس نے تنفر سے سوچا۔ دس منٹ بعد جنید نے اسے اند بلا لیا تھا۔
’’کیا یہ ماہ رخ وقاص ہیں‘ وہ ہی ماہ رخ وقاص جو مجھ سے بات کرنا بھی پسند نہیں کرتیں‘ کیا وہ ہی ماہ رخ وقاص اس وقت میرے آفس میں موجود ہیں…!‘‘ وہ حیران نہیں تھا‘ وہ تو اس کا تمسخر اڑاتا بولا۔
’’میں اب بھی تم سے بات کرنا پسند نہیں کرتی اور اس وقت ایک ضروری کام سے مجھے یہاں آنا ہوا ہے ورنہ تمہاری صورت دیکھنے کا مجھے کوئی شوق نہیں۔‘‘ وہ بنا مرعوب ہوئے بولی‘ کسی کے سامنے جھکنا اس نے کبھی سیکھا ہی نہیں تھا اور یہ تو پھر جنید آفتاب تھا۔
’’خیر میں چاہوں تو جواب میں بہت کچھ کہہ سکتا ہوں مگر تم اس وقت میری مہمان ہو اور میں اپنے مہمانوں کو بے عزت نہیں کرتا۔‘‘ اس نے لفظ ’’میں‘‘ پر زور دیتے کہا۔ جنید کو اسے بیٹھنے کا بولنا نہیں پڑا تھا وہ خود ہی بیٹھ گئی تھی۔
’’جنید بات یہ ہے کہ پاپا چاہتے ہیں کہ میں تم سے شادی کے لیے ہاں کہہ دوں مگر میں چاہتی ہوں کہ تم خود اس رشتے سے انکار کردو‘ ویسے بھی ہم دونوں ہی ایک دوسرے سے سخت نفرت کرتے ہیں اور ہماری شادی کی صورت میں ہم دونوں ہی کی زندگی خراب ہو جائے گی…‘‘ وہ بنا کسی تمہید کے بولی۔
’’ایک منٹ‘ میں صرف دو باتیں کہنا چاہوں گا تم سے‘ وہ مزید کچھ بولنا چاہ رہی تھی کہ جنید نے انگلی اٹھا کر اسے ٹوکا۔
’’پہلی بات‘ تم نے یہ کیسے سوچ لیا کہ میں تمہاری چاہت کی پروا کروں گا‘ تم کیا چاہتی ہو کیا نہیں مجھے کوئی دلچسپی نہیں یہ جاننے میں اور دوسری بات‘ وقاص انکل کی خواہش میں کبھی رد نہیں کرسکتا‘ وہ بھی تم جیسی لڑکی کے لیے تو بالکل بھی نہیں جسے نہ رشتوں کا پاس ہے اور نا احترام۔‘‘ وہ بھرپور طنز سے بولا۔
’’شٹ اپ… میری ہی غلطی تھی جو میں تم جیسے انسان سے کسی بھلائی کی توقع کرنے لگی تھی‘ لیکن ایک بات تم ہمیشہ یاد رکھنا جنید میں جان دینا پسند کروں گی لیکن تم سے شادی کرنا ہرگز نہیں۔‘‘ اس نے بے حد نفرت اور غرور سے کہا اور کرسی دکھیل کر اٹھ کھڑی ہوئی۔
’’اوہ… اتنا غرور ہے خود پہ‘ تو پھر میری بھی ایک بات ذہن میں بٹھا لو‘ اب تو میں تم سے شادی کرکے ہی دکھاؤں گا یاد رکھنا میری بات‘ کیونکہ میں نے کبھی ہارنا نہیں سیکھا تم اگر آج ریکویسٹ کرتیں تو شاید میں مان بھی جاتا تمہاری بات مگر بات تمہارے غرور کی ہے اور اسے میں ختم کرکے ہی رہوں گا۔‘‘ وہ چیلنجنگ انداز میں بولا۔
’’بڑے بڑے دعوے کرنے والے منہ کے بل گرتے ہیں۔‘‘ وہ جاتے ہوئے مڑی اور تمسخر اڑاتی بولی۔
’’ہاں اب یہ ہی دیکھنا ہے کہ گرتا کون ہے اور اب تم جاسکتی ہوں۔‘‘ وہ بے حد غصے سے بولا اور ماہ رخ اس انسلٹ پہ پیر پٹختی وہاں سے چلی گئی تھی۔
انتہائی ریش ڈرائیو کرتی وہ جس وقت گھر پہنچی مما سامنے ہی بیٹھی تھیں۔ اس نے ایک طنز سے بھری نظر ماں پہ ڈالی اور منہ موڑ کر اپنے کمرے میں جانے لگی۔ اس وقت اس کا موڈ بے حد خراب تھا۔ زارا بیگم حیران ہوئی تھیں‘ وہ تو جب بھی گھر پہ ہوتیں ماہ رخ بے حد خوش ہوتی تھی۔
’’ماہ رخ بیٹا کہاں جارہی ہو‘ یہاں آؤ مما کو تم سے کچھ ضروری باتیں کرنی ہیں۔‘‘
’’اس لیے ہی آج آپ گھر میں موجود ہیں ناں کہ آپ کو مجھ سے بات کرنی ہے‘ مگر سوری ٹو سے مجھے آپ سے کوئی بات نہیں کرنی۔‘‘ وہ ایڑی کے بل گھوم کی بولی۔
’’کس طرح بات کررہی ہو ماہا میں تمہاری ماں ہوں۔‘‘ وہ بیٹی کے تیور دیکھ کر حیران ہوئیں۔ انہیں جب زیادہ پیار کا اظہار کرنا ہوتا تو وہ اسے ماہا بلاتی تھیں‘ یہ اس کا پیار کا نام تھا۔
’’نہیں مما آپ صرف میری موم ہیں‘ میری ماں تو کبھی آپ بن ہی سکیں‘ آج آپ کو میرے انداز سے شکایت ہے مگر جب میرے انداز بگڑ رہے تھے تب تو آپ کے پاس میرے لیے وقت ہی نہیں تھا بلکہ حقیقت تو یہ ہے آپ دونوں ہی کے پاس میرے لیے کبھی وقت نہیں تھا میں نے ماں باپ کے ہوتے ہوئے بھی یتیموں جیسی زندگی گزاری۔ آج میری ماں ہونے کا دعویٰ کرتی ہیں مگر کیسی ماں تھیں آپ کہ آپ کی بیٹی اندر ہی اندر ٹوٹ کر بکھرتی رہی مگر آپ کو نا کبھی احساس ہوا اور نا ہی پتہ چل سکا‘ آپ کو فکر تھی تو مما اپنے اسٹیٹس کی‘ پارٹیز کی‘ اپنی امارت کی آپ کو دنیا دکھاوے کی فکر تھی لیکن آپ کو اپنے گھر کی فکر نہیں تھی۔‘‘ وہ ٹوٹے بکھرے لہجے میں درد سے بھری آواز میں چلا رہی تھی۔ چیخنے سے اس کے گلے میں خراشیں پڑ گئی تھیں مگر اسے کسی بات کی فکر نہیں تھی۔ زارا بیگم حیران نظروں سے اپنی سوبر بیٹی کا یہ وحشی انداز دیکھ رہی تھیں۔ لیکن وہ اب بھی اس کا درد شاید محسوس نہیں کرسکی تھیں۔ انہیں فکر تھی اپنی تو اس بات کی جو انہیں اس سے کرنی تھی۔
’’کیا ہوگیا ہے ماہا بیٹا یہ کس طرح کی باتیں کررہی ہو میں پہلے ہی بہت پریشان ہوں‘ تمہارے پاپا مجھے ڈائیورس دے رہے ہیں۔‘‘ وہ آنکھوں میں آنسو بھرتے بولیں۔ اب پتہ نہیں یہ آنسو اصلی تھے یا نکلی‘ ماہ رخ کو تو اب کسی پہ بھی بھروسہ نہیں رہا تھا۔
’’بہت اچھا کررہے ہیں پاپا… بلکہ مجھے تو لگتا ہے یہ انہیں بہت پہلے کردینا چاہیے تھا‘ کم از کم یہ بھرم ہی رہ جاتا کہ آپ میرے پاس نہیں۔‘‘ وہ تمسخر سے کہتی اذیت سے بھرپور ہنسی تھی۔ آج بہت سالوں کا عبار تھا جو نکلتا چلا جارہا تھا۔
’’میں تمہارے بنا نہیں رہ سکتی ماہا۔‘‘ انہوں نے جذباتی ہوتے کہا۔ ان کا ہر جواب الگ تھا‘ جیسے وہ سن ہی نہیں رہی تھیں۔
’’ہاہاہاہاہاہاہا…‘‘ ان کی اس بات پہ وہ پاگلوں کی طرح ہنسی تھی۔
’’یہ اس سال کا سب سے بڑا جوک تھا مما۔‘‘ ہنستے ہوئے اس کی آنکھیں پانیوں سے بھر گئی تھیں۔
’’آپ کو ایک بات بتاؤں مما آپ سب کے بنا رہ سکتی ہیں سوائے آسائشات کے۔‘‘ وہ ہنسی روک کر لفظ چبا چبا کر بولی۔
’’پتہ نہیں تمہیں کیا ہوگیا ہے‘ میں چاہتی تھی تم اپنے پاپا سے بات کرو وہ تمہاری بات کبھی نہیں ٹالتے مگر تم بھی اپنے باپ کی طرح بے حس نکلیں‘ تمہیں نا میرا احساس ہے اور نہ ہی میری قربانیوں کا‘ تم بھی اپنے باپ ہی کی طرح خود غرض ہو ماہ رخ۔‘‘ وہ غصے سے بولتی اٹھ کر جانے لگیں۔
’’آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں میں خود غرض ہوں لیکن پاپا کی طرح نہیں‘ آپ دونوں کی طرح‘ جنہوں نے اپنی اپنی زندگی کو فوقیت دی مگر کبھی میرا نہیں سوچا اور یہ خود غرضی مجھے آپ دونوں سے وراثت میں ملی ہے۔‘‘ وہ ان کو جاتا دیکھ تیز آواز میں بولی۔
پہلی بار احساس ہوا تھا کہ وہ صحیح کہہ رہی ہے اپنی زندگی جیتے وہ ماہ رخ کو تو بالکل فراموش کرچکی تھیں‘ وہ بس نام کی اس کی ماں تھیں اس کے فرض تو ادا نہیں کیے تھے نا پرورش کی اور نہ ہی جینے کے اصول بتائے۔ انہوں نے پلٹ کر شرمندہ نظروں سے بیٹی کے ٹوٹے بکھرے وجود کو دیکھا اور پہلی بار انہیں احساس ہوا کہ دنیا کی بھیڑ میں اپنی جگہ بنانے کی خواہش میں انہوں نے اپنی بیٹی کے کتنے حقوق ضبط کر لیے تھے۔ وہ قاتل تھیں اپنی بیٹی کی خوشیوں کی‘ اس کی خواہشات کی اور سب سے بڑھ کر اس کی معصومیت کی۔
٭٭…٭…٭٭
’’پاپا آپ چاہتے ہیں ناں میں جنید سے شادی کرلوں‘ تو میں تیار ہوں اس سے شادی کے لیے‘ باوجود اس کے کہ میں اس سے کتنی نفرت کرتی ہوں‘ میں اس کے ساتھ زندگی گزارنے کے لیے تیار ہوں‘ مگر پلیز آپ مما کو ڈائیورس مت دیں‘ آپ دونوں جیسے بھی ہیں اچھے یا برے‘ مگر مجھے بے حد پیارے ہیں اور میں آپ دونوں کو ہمیشہ ساتھ دیکھنا چاہتی ہوں گو کہ اس ساتھ نے بھی مجھے ادھورے پن کہ سوا کچھ نہیں دیا مگر پھر بھی مجھے ہر نفع نقصان سے بے پروا ہوکر آپ دونوں کا ساتھ چاہیے۔‘‘ رات جب پاپا اسٹڈی میں اپنا آفس ورک کررہے تھے تو ماہ رخ ان کے لیے کافی لے کر آئی تھی‘ دراصل کافی تو ان سے بات کرنے کا بہانہ تھا۔
’’میں جانتا ہوں ماہ رخ بیٹا کہ میں آج تک تمہارے ساتھ زیادتی کرتا آیا ہوں مگر ایک دن تمہیں احساس ہوگا کہ تمہارے پاپا کا یہ فیصلہ کتنا درست تھا اور اس دن تمہیں اپنے باپ پہ فخر ہوگا‘ میں آج تک تمہیں کچھ بھی تو نہیں دے سکا مگر جنید کی صورت میں میں تمہیں وہ تحفہ دینا چاہتا ہوں جو تمہاری زندگی سے ادھورا پن اور اداسیاں مٹا کر تمہاری زندگی میں محبت کے جگنو بھر دے۔‘‘ وہ بیٹی کہ سر پہ ہاتھ رکھ کر کہہ رہے تھے۔ ان کی آنکھوں سے ان کے دل کی خوشی جھلک رہی تھی اور انہیں خوش دیکھ کر اس کی روح تک میں سکون اتر آیا تھا۔
’’اب آپ مما کو طلاق تو نہیں دیں گے ناں پاپا؟‘‘ وہ جھجکتے ہوئے بولی۔
’’کبھی نہیں میری جان‘ میری ماہا‘ کبھی بھی نہیں‘ تم اگر اپنے پاپا کا مان رکھ سکتی ہو تو پاپا کو بھی تمہاری خواہش بے حد عزیز ہے۔‘‘ وہ بیٹی کو سینے سے لگا کر آبدیدہ ہوگئے۔
اور ماہ رخ کو لگ رہا تھا جیسے اب وہ کبھی سر اٹھا کے نہیں جی سکے گی‘ وہ جو بڑے دعویٰ سے اسے کہہ کر آئی تھی کہ مر جاؤں گی لیکن تم سے شادی نہیں کروں گی‘ آج اس کے سارے دعویٰ کانچ کی طرح چکنا چور ہوگئے تھے۔
٭٭…٭…٭٭
یونیورسٹی کا لان اس وقت مختلف اسٹوڈینٹ سے بھرا ہوا تھا‘ ہنسی اور قہقہے ہوا میں بکھر رہے تھے ایسے میں وہ دونوں نسبتاً سنسان گوشے میں نیم کے درخت سے ٹیک لگائے بیٹھی تھیں۔ دونوں کے چہروں پہ تناؤ کی کیفیت تھی اور اس وقت وہ لوگ کسی بات پہ بحث کررہی تھیں۔
’’تم ایک ایسے انسان سے شادی کرنے پہ کیسے راضی ہو سکتی ہو جس سے تم سخت نفرت کرتی ہو‘ اسے عمر بھر کا ساتھی بنا کر کیوں تم اپنی زندگی کے ساتھ کھیل رہی ہو۔ یہ تو ظلم کررہی ہو تم خود اپنے ساتھ۔‘‘ مہوش جرح کرتے بولی۔
’’میں کچھ نہیں کرسکتی سوائے چپ چاپ تماشہ دیکھنے کے۔ میں جو آج تک اس گمان میں رہی کہ مجھے کوئی ہرا نہیں سکتا‘ میں عام لڑکیوں کی طرح نہیں جو روایات اور ماں باپ کے خوف کے سبب اپنی زندگی تک نہیں گزار سکتیں تو آج پتہ چلا کہ میری سوچ‘ میرا گمان‘ میرا خود پہ یقین سب بے بنیاد تھا‘ میں بھی ان عام لڑکیوں کی طرح نکلی جو اپنے جذبات اور خواہشوں کو کچل کر ماں باپ کے فیصلوں پہ سر کو جھکا دیتی ہیں اور پھر چاہے وہ فیصلے غلط ہی کیوں نا ہوں‘ کہنے کو پاپا مجھ سے شدید محبت کرتے ہیں اور ان کا تو یہ بھی کہنا تھا کہ وہ اپنی بیٹی کو ہر باپ سے زیادہ چاہتے ہیں مگر آج محسوس ہوا کہ میں تو بالکل غلط تھی‘ کوئی نہیں چاہتا مجھے‘ کسی کو بھی تو مجھ سے محبت نہیں۔ یہ دنیا اگر ایک اسٹیج ہے تو میری حیثیت ایک کردار سے زیادہ اور کچھ نہیں۔‘‘ وہ شکستگی سے بولی اور آج پہلی بار مہوش زوار نے ماہ رخ وقاص کی آنکھ میں نمی دیکھی تھی۔
’’کیوں کچھ نہیں کرسکتی‘ بولو آخر کیا مجبوری ہے جس کی وجہ سے تم اتنا غلط فیصلہ لینے پہ مجبور ہوگئی ہو جواب دو ماہ رخ… بتاؤ مجھے۔‘‘ مہوش اس کا چہرہ دیکھتی ضدی لہجے میں بولی‘ ماہ رخ کی آنکھ کی نمی اسے بے چین کر گئی تھی۔
’’نہیں بتا سکتی۔‘‘ وہ اداسی سے بولی اور بیگ سے ٹشو نکال کر آہستہ سے نمی صاف کی۔
’’لیکن کیوں؟‘‘ مہوش حیران ہوئی۔ ’’ہم بیسٹ فرینڈ ہیں اور اچھے دوستوں کے درمیان کچھ راز نہیں ہوتا۔‘‘
’’نہیں مہوش… کچھ باتیں دوستوں سے بھی شیئر نہیں کی جاسکتی۔ اکیلے ہی ان کا بوجھ اٹھانا ہوتا ہے۔ اس سے بہت سے بھرم قائم رہتے ہیں۔ میری ذات کا غرور میرے لیے بہت اہمیت رکھتا ہے یار‘ کسی کے سامنے اپنی زندگی کا تاریک پہلو کھول کر میں اس غرور اور مان کو توڑنا نہیں چاہتی‘ پھر چاہے وہ کوئی میری بیسٹ فرینڈ ہی کیوں ناں ہو۔‘‘ وہ درخت کے تنے سے ٹیک لگاتے ہوئے آنکھیں موند کر بولی۔
’’اوکے فائن… مگر کبھی خود کو تنہا مت سمجھنا۔ کاش میرے بس میں ہوتا تو تمہارا ہر درد دور کردیتی۔ لیکن میں بھی تو تمہاری ہی طرح مجبور ہوں بلکہ قدرت کے فیصلوں کے آگے ہم سب بے بس ہیں۔‘‘ مہوش اداسی سے بولی۔
’’ویسے تم نے سوچا تمہاری زندگی کا یہ ان چاہا فیصلہ سرمد لغاری کی زندگی پہ کس طرح اثر انداز ہوگا۔ وہ بے چارا تو بے موت مارا جائے گا۔‘‘ مہوش اداسی سے بولی۔ سرمد لغاری ان کا کلاس فیلو تھا اور سب جانتے تھے وہ ماہ رخ کو کتنا چاہتا ہے اور پھر مہوش تو سرمد کے احساسات کو سب سے زیادہ محسوس کرتی تھی۔
’’میں اپنے بارے میں سوچنے کا اختیار نہیں رکھتی اور تم کسی اور کی زندگی کے بارے میں بات کر رہی ہو اور ویسے بھی میں نے کبھی سرمد کے جذبوں کی حوصلہ افزائی نہیں کی‘ کبھی اس کی محبت کا جواب محبت سے نہیں دیا۔ میں نے تو کبھی اسے نا خواب دکھائے اور نا خواب دیکھنے کی اجازت دی۔ وہ تو محبت کے سفر میں اکیلا ہی تھا۔ اگر اس نے محبت کی تو یہ اس کی حماقت تھی کیونکہ ماہ رخ وقاص تو سراسر محبت نامی جذبے سے ہی انکاری ہے۔‘‘ وہ سپاٹ لہجے میں بنا کسی تاثر کے لاتعلقی سے بولی۔
’’یہ ہی تو اس کی بدنصیبی تھی کہ وہ اس سفر میں تنہا تھا۔ اور اب شاید اسے ہمیشہ تنہا ہی رہنا ہوگا۔ لیکن اگر آج تمہارے دل میں سرمد ہوتا نا ماہ رخ تو آج تمہارے پیروں میں کوئی بیڑیاں نا ڈال سکتا۔ آج تم اتنی اداس نا ہوتیں۔ محبت میں بہت طاقت ہوتی ہے۔ یہ ہم سے بڑے بڑے فیصلے کروالیتی ہے۔ محبت کرنے والے کمزور نہیں ہوتے۔‘‘ مہوش اس کے لیے بے حد اداس تھی اور ساتھ ہی اسے سرمد کا سوچ کر بھی دکھ ہورہا تھا۔ ماہ رخ کے ساتھ سرمد بھی تو اس کا بہترین دوست تھا۔
’’محبت… ہہنہ۔‘‘ وہ استہزایہ ہنسی۔ ’’میرے سامنے ان فضول جذبوں کی بات مت کیا کرو۔ رہا سرمد تو اس کی محبت بھی اپنی موت آپ مر جائے گی اور اب پلیز دوبارہ کبھی بھی اس کا ذکر مت کرنا۔‘‘ اس نے تنبیہہ کی اور کتابیں سمیٹ کر اٹھ کھڑی ہوئی۔
٭٭…٭…٭٭
پھر دن یوں گزرے جیسے انہیں پنکھ لگ گئے ہوں‘ شادی کے تمام فنکشن کیسے ہوئے‘ کیا کیا رسمیں ہوئیں۔ اسے کسی بات سے دلچسپی نہیں تھی۔ آج اس کی شادی کا دن تھا‘ بیوٹیشن اسے تیار کرکے جاچکی تھی‘ وہ اپنے بیڈ پہ آنکھیں موندے اس گھر میں گزارے گئے دنوں کو یاد کررہی تھی‘ چاہے وہ دن کیسے بھی گزرے تھے مگر ان کی یادیں اسے بے حد عزیز تھیں نا جانے اب اس کی نئی زندگی کیسی گزرنی تھی اور جنید جو اب کچھ ہی دیر بعد اس کی زندگی میں سب سے اہم منصب پہ فائز ہونے والا تھا اور جس سے وہ ہمیشہ نفرت کرتی آئی تھی اب باقی زندگی اس کے ساتھ کیسے گزارے گی‘ اس کی آنکھوں سے دو موتی ٹوٹ کر اس کے گالوں پہ لڑھک آئے تھے۔ وہ ایزی ہوکر بیڈ پہ بیٹھی ہوئی تھی جب مما اس کے روم میں آئیں اور اس کے پاس آکر بیٹھ گئیں‘ کچھ دیر اس کا چہرہ دیکھنے کے بعد انہوں نے اسے گلے سے لگالیا‘ آج پہلی بار ان کے لمس میں ماہ رخ کو ممتا کا احساس محسوس ہوا تھا اور وہ ماں کے گلے لگتے ہی رو پڑی تھی اور دوسری طرف زارا بیگم کی آنکھیں بھی بھیگ رہی تھیں‘ وہ جانتی تھیں کہ ماہ رخ جنید سے کتنی نفرت کرتی ہے اور یہ نفرت ان ہی کی پیدا کردہ تھی‘ انہیں تو یہ بھی معلوم تھا کہ وہ یہ شادی ان ہی کی خوشیوں کی خاطر کررہی تھی۔ وہ بیٹی جو آج تک ماں کی توجہ کے لیے تڑپتی رہی تھی آج اس ہی بیٹی نے اپنی ماں پہ اپنی خوشی قربان کردی تھی۔
’’ماہ رخ جنید بہت اچھا انسان ہے اور ہمیں خوشی ہے کہ وہ تمہارا نصیب بننے جارہا ہے تم کبھی وہ غلطیاں نہیں کرنا جو میں نے اور تمہارے پاپا نے کیں‘ تم دونوں کے درمیان جو بھی اختلافات ہیں انہیں بھول کر اب تمہیں جنید کے ساتھ ایک بہترین زندگی کی شروعات کرنی ہے‘ تم اسے عزت دو گی محبت دوگی تو سب کچھ اچھا ہوتا چلے جائے گا‘ تم میری بات سمجھ رہی ہو ناں ماہا۔‘‘ انہوں نے محبت سے اس کی ٹھوڑی پکڑ کر اس کا چہرہ اپنی طرف کیا۔
اور اس نے اثبات میں سر ہلا دیا تھا کچھ ہی دیر بعد پاپا نکاح خوان کے ہمراہ تشریف لائے تھے‘ انہوں نے کیا کہا اور اس نے کب نکاح نامے پہ سائن کیے کچھ پتہ نہیں چلا وہ جیسے کسی ٹرانس کی کیفیت میں تھی۔ جنید کی طرف سے اس کے چاچو اور ان کی فیملی آئی ہوئی تھی اور وہ لوگ ہی ماہ رخ کو رخصت کروا کر اپنے ساتھ لے گئے تھے۔
اسے جب کمرے میں لے جایا گیا تو رات کے بارہ بج رہے تھے‘ تھکن سے اس کا برا۔ حال ہورہا تھا‘ جیسے ہی سب اسے کمرے میں چھوڑ کر گئے اس نے اپنی جیولری اتارنا شروع کردی تھی‘ جیولری کے بعد اس نے میک اپ ریمو کیا اور ڈریس بھی چینج کر لیا تھا۔ اس نے صرف ماں باپ کی خاطر یہ شادی کی تھی خود کو جنید کے آگے نہیں جھکانا تھا‘ ہاں اگر جنید اس سے نفرت نا کرتا تو بات الگ تھی شاید وہ بیتی باتیں خود ہی بھلا دیتی مگر اب تو ماہ رخ بھی اس کی ناپسندیدگی سے اچھی طرح واقف تھی‘ وہ کیسے اس کے سامنے جھک جاتی‘ اسے اپنی عزت اور اپنی ذات کا غرور بے حد عزیز تھا‘ آگے کی زندگی کیسے گزرے گی یہ تو اس نے نہیں سوچا تھا‘ اسے تو یہ بھی نہیں پتہ تھا کہ یہ شادی چلے گی کب تک۔ اپنے ذہن سے ساری سوچیں جھٹک کر اس نے کمرہ لاک کیا اور سونے کے لیے لیٹ گئی۔ اس کا ذہن اس قدر تھکا ہوا تھا کہ اجنبی جگہ اور اجنبی ماحول ہونے کے باوجود اسے لیٹتے ہی نیند آگئی تھی۔
٭٭…٭…٭٭
جنید بھی الگ کشمکش میں تھا‘ ماہ رخ جیسی مغرور لڑکی سے شادی کرنے کا وہ کبھی سوچ بھی نہیں سکتا تھا مگر یہ وقاص انکل اور اس کی مرحومہ ماں کی خواہش ہی تھی جس پہ اس نے سر تسلیم خم کیا تھا اور شاید یہ شادی اس سے انتقام لینے کی خواہش میں بھی کی گئی تھی۔ وہ جیت گیا تھا‘ آج اس کی فتح کا دن تھا لیکن پھر بھی خوش نہیں تھا شاید اس لیے کہ وہ ایک بے حد حساس انسان تھا‘ کہیں نا کہیں اس کے اندر یہ احساس اب بھی زندہ تھا کہ ماہ رخ کے ساتھ زیادتی کی گئی ہے اور شاید یہ احساس اس لیے بھی شدت سے ہورہا تھا کہ کبھی وہ دونوں بہت اچھے دوست ہوا کرتے تھے‘ یہ دوستی بہت حیران کن طریقے سے ٹوٹی تھی‘ کہیں نا کہیں دونوں کو ہی امید تھی کہ انہیں منا لیا جائے گا لیکن ایسا نہیں ہوا تھا اور یہ ہی وجہ تھی کہ دونوں ہی انا کے خول میں قید ہوگئے تھے اور انا جب دوستی کے بیچ آجائے تو ناپسندیدگی آہستہ آہستہ خود ہی جنم لے لیتی ہے۔
وہ اس وقت لان میں اپنے کچھ فرینڈز کے ساتھ تھا‘ اس کی شادی کی خوشی میں وہ سب پارٹی کررہے تھے اور اسے بھی زبردستی روکا ہوا تھا اور وہ خود تو اس وقت ان کے ساتھ موجود تھا مگر اس کا دماغ کسی اور ہی سوچ میں گم تھا۔ آہستہ آہستہ سارے دوست رخصت ہوگئے تھے۔ وہ ملازموں کو لان کی صفائی کا آڈر دے کر بوجھل قدموں سے اپنے روم تک آیا تھا‘ دروازے کو لاک دیکھ کر وہ اذیت سے مسکرایا اور ساتھ والے کمرے میں چلا گیا تھی‘ بیڈ پہ لیٹ کر اس نے دو انگلیوں سے پیشانی کو مسلا اور آنے والی زندگی کے بارے میں سوچنے لگا تھا۔ ویسے یہ تو طے تھا کہ اسے یہ شادی ہر صورت میں نبھانی تھی۔ مگر کیسے یہ سمجھ نہیں آرہا تھا‘ وہ فطرتاً ایک حساس انسان تھا‘ اس کی خواہشیں‘ اس کے خواب الگ تھے‘ وہ ایک ایسی لڑکی سے شادی کرنا چاہتا تھا جو اس کی زندگی خوشیوں سے بھر دے مگر ماہ رخ تو صرف نفرت کرنا جانتی تھی۔
٭٭…٭…٭٭
صبح ماہ رخ کی آنکھ فجر کی اذان کی آواز سے ہی کھل گئی تھی‘ شاید مسجد قریب تھی اس لیے اذان کی آواز بے حد صاف آرہی تھی‘ وہ نماز صرف رمضان کے مہینے میں پڑھتی تھی اور عید کے پہلے دن ہی وہ نمازیں ایک بار پھر قضا ہونا شروع ہو جاتی تھیں۔ پوری رات پُرسکون نیند سونے کے باوجود اس کا ذہن بہت ڈسٹرب تھا اور پہلی بار اسے محسوس ہورہا تھا کہ جب تک وہ اپنا دکھ اپنا درد اللہ سے بیاں نہیں کرے گی اسے سکون نہیں ملے گا۔ وہ کمبل خود پہ سے ہٹا کر بیڈ سے نیچے اتری اور وضو کرنے کے بعد اس نے وارڈ روب میں بڑا دوپٹہ تلاش کیا‘ اس کے جہیز اور بری کے کپڑے اس وقت وارڈ روب میں ترتیب سے سجے ہوئے تھے‘ آخر بڑی تلاش کے بعد اسے بری کے کپڑوں میں سے نماز کی چادر مل گئی تھی۔ چادر کو اچھی طرح باندھ کر اس نے جائے نماز بچھائی اور اللہ کے حضور کھڑی ہوگئی۔ اس کے لب ہلنے کے ساتھ آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے تھے۔
’’یا اللہ یہ کس دوراہے پہ لاکھڑا کیا ہے تو نے مجھے‘ میں نے ساری زندگی جسے ناپسند کرتے گزار دی‘ آج تو نے اس کا ہی نام میرے نام سے جوڑ دیا‘ مجھے اس کا غلام بنا دیا جو ایک خود غرض انسان ہے‘ جس نے میری ماں کی بے عزتی کی‘ یا اللہ میں شاید اس کے ساتھ کبھی خوش نا رہ سکوں‘ بس تو مجھے پُرسکون کردے اور میرے ماں باپ کے درمیاں محبت پیدا کردے‘ آمین۔‘‘ وہ بھیگی آنکھوں سے اللہ کے حضور جھکی التجا کررہی تھی‘ اسے نہیں سمجھ آرہا تھا کہ وہ کیا مانگے بس‘ جو اس کی زبان پہ آرہا تھا وہ ہی کہتی رہی تھی۔
٭٭…٭…٭٭
شادی کے ہنگامے سرد پڑتے ہی آہستہ آہستہ سارے مہمان بھی رخصت ہوگئے تھے‘ بس جنید کے چاچو چاچی اور ان کی بیٹی رانیہ ہی رہ گئے تھے ولیمے کے بعد وہ کچھ دنوں کے لیے اپنے گھر رہ کر آچکی تھی‘ یونیورسٹی لائف ختم ہوچکی تھی اور اب وہ دن بھر بس فارغ ہی رہتی تھی۔ جنید کی کزن رانیہ بہت اچھی تھی اور کچھ دنوں میں اس نے ماہ رخ کو بھی اپنا دوست بنا لیا تھا‘ وہ لندن میں پلی بڑھی تھی مگر باوجود اس کے وہ ماہ رخ سے زیادہ ٹیلینٹڈ اور ویل مینرڈ تھی اور اس بات کا اعتراف خود ماہ رخ بھی کرچکی تھی‘ چاچو چاچی بھی بے حد محبت کرنے والے انسان تھے‘ ان سب کی پوری کوشش ہوتی تھی کہ وہ اسے تنہائی کا شکار نا ہونے دیں لیکن وہ تو جانتے ہی نہیں تھے کہ یہ تنہائی تو ماہ رخ کی پکی سہیلی ہے۔ ان مخلص لوگوں کا ساتھ ہی تھا جو وہ اس گھر میں سکون سے رہ رہی تھی‘ ان سب کی پوری کوشش ہوتی تھی اسے خوش رکھنے کی اور رہا جنید تو وہ اپنے آفس میں مصروف تھا ان دنوں‘ نا وہ ماہ رخ سے کوئی بات کرتا اور ماہ رخ کے دن خاموشی سے گزر رہے تھے۔
وہ لوگ ہر روز جنید کے کسی نا کسی فرینڈ کے گھر ڈنر پہ انوائیٹڈ ہوتے تھے‘ اس کے دوستوں کی اتنی تعداد دیکھنے کے بعد ماہ رخ کو اندازہ ہوا تھا کہ وہ بہت سوشل بندہ ہے اور اسے جتنا روڈ سمجھتی ہے اتنا وہ ہے نہیں‘ بلکہ اپنے دوستوں کے لیے تو وہ بہت جولی نیچر کا بندہ ہے اور تو اور اس کا اسکول فرینڈز سے اب تک رابطہ تھا‘ تانیہ اور عامر بھی اس کی شادی پہ آئے تھے۔ دونوں سول انجینئرنگ کے آخری سال میں تھے۔ وہ دور جا کر بھی کسی سے دور نہیں ہوا تھا‘ اس نے سب سے رابطہ رکھا تھا اور وہ پاس ہوکر بھی سب سے دور ہوگئی تھی درحقیقت جنید کے بعد اس کا دوستی جیسے رشتے سے اعتبار اٹھ گیا تھا‘ اس نے کسی کو دوست نہیں بنایا اور اب اسے احساس ہوا تھا کہ اس نے کتنا غلط کیا تھا۔ جنید تو اپنی زندگی کھل کے جیتا رہا تھا لیکن تنہا رہ گئی تھی تو صرف وہ… اور اس نے سوچ لیا تھا وہ اپنے ساتھ ہوئی ہر زیادتی کا بدلا ضرور لے گی اسے بھی اتنا ہی تنہا کردے گی جتنی کہ وہ خود ہے۔
٭٭…٭…٭٭
شادی کے ایک ماہ بعد جنید کے چچا چچی واپس جارہے تھے۔ اتنے عرصے میں ماہ رخ کو ان کی عادت ہوگئی تھی لیکن وہ چاہا کر بھی انہیں مزید نہیں روک سکتی تھی اس لیے خاموش رہی۔ وہ جنید کے ساتھ انہیں سی آف کرنے ائرپورٹ آئی تھی۔
’’جنید تم ماہ رخ کا بہت خیال رکھنا‘ ایک لڑکی اپنے ماں باپ کے گھر کا ہر سکھ‘ آرام‘ پیار و محبت سب کچھ چھوڑ کر نئے گھر آتی ہے اور یہ اس کے شوہر کا فرض ہے کہ وہ اس کا خیال رکھے اسے محبت دے اور اسے کبھی اداس نا ہونے دے‘ اس کی عزت کرے اور کبھی اسے اکیلا نہ چھوڑے۔‘‘ ائرپورٹ پہنچ کر چچی جان نے ماہ رخ کو خود سے لگاتے ہوئے کہا تھا۔
’’اور ماہ رخ بیٹا اپنا خیال رکھنا‘ فون کرتی رہنا اور اگر جنید تنگ کرے تو بے جھجک ہم سے شکایت کر دینا۔‘‘ چاچو نے بھی اس کے سر پہ ہاتھ رکھ کے کہا اور پھر وہ لوگ چلے گئے۔
وہ واپسی میں جنید کے ساتھ کار کی فرنٹ سیٹ پہ بیٹھی تھی مگر اتنے قریب ہونے کے باوجود بھی دونوں ہی ایک دوسرے سے بہت دور دور تھے۔ ماہ رخ تو اس کی طرف دیکھنا بھی نہیں چاہتی تھی اس لیے اس نے چپ چاپ آنکھیں موند لی تھیں‘ دونوں کی شادی کو ایک ماہ سے زائد عرصہ گزر گیا تھا مگر باوجود اس کے فاصلے اب تک برقرار تھے‘ دونوں کے دلوں پہ جمی برف تاحال نہیں پگھل سکی تھی۔
’’پانچ سال‘ دس سال میں بدلے کی آگ میں جلتا رہا ہر روز میرے ذہن میں تمہارے لفظوں کی بازگشت ہوتی رہی اور ہر پل میں تم سے نفرت کرتا رہا‘ بے حد اور بے حساب‘ تم نے میری ماں کے کردار کی دھجیاں اڑائی تھیں جو تمہیں بے حساب چاہتی تھی‘ تم نے اس ہی لمحے میرے اندر سے اپنے لیے رحم اور دوستی کا ہر جذبہ ختم کر ڈالا تھا۔‘‘ وہ بے حد آہستہ بول رہا تھا‘ ماہ رخ نے چونک کر اسے دیکھا۔
’’لوگ محبت میں جیتے ہیں‘ کسی کو یاد رکھتے ہیں تو محبت میں‘ مگر میں نے تمہیں ہر لمحہ یاد رکھا‘ کبھی اپنے ذہن سے نکلنے نہیں دیا کیونکہ میں تم سے نفرت کرتا تھا اتنی نفرت جتنی مجھے اپنی ماں سے محبت تھی‘ تم کیا سمجھتی رہیں کہ میں خاموش ہوں تو سب بھول گیا ہوں‘ نہیں ماہ رخ اگر تم یہ سمجھ رہی ہو تو یہ تمہاری بھول ہے‘ کیونکہ جنید آفتاب گردیزی کبھی معاف نہیں کرتا یہ آگ جو تم نے میرے اندر دہکائی ہے ناں‘ اب اس میں تمہیں بھی جلنا ہوگا۔‘‘ ایک گہری مدھم سانس خارج کرتے وہ نفرت بھرے لہجے میں بول رہا تھا۔
’’پچھلے دس سال میں کوئی ایک لمحہ بھی ایسا نہیں گزرا جب میں تمہاری دی گئی ذلت کو بھول سکا ہوں‘ میں نے بہت کوشش کی سب بھول جاؤں‘ لیکن تم سے ملنے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ تم تو اس لائق ہو ہی نہیں کہ تمہیں معاف کیا جائے اور آج دیکھ لو میں جیت گیا‘ تمہارے تمام حقوق میرے نام ہوچکے ہیں‘ تم جس شخص کا نام اتنی نفرت سے لیتی تھیں وہ ہی نام تمہارے نام کے ساتھ جڑ گیا ہے‘ تم جہاں بھی جاؤ گی میرے حوالے سے جانی جاؤ گی‘ تمہاری تو خود کی کوئی پہچان بھی نہیں رہی اب۔‘‘ وہ زہرخند لہجے میں بولتا بہت ریش ڈرائیونگ کررہا تھا۔ ماہ رخ حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی‘ ساتھ ہی اسے جنید سے خوف محسوس ہونے لگا تھا۔
وہ لوگ گھر پہنچ چکے تھے‘ جنید اسے ڈراپ کرنے کے بعد دوبارہ کہیں نکل گیا تو اس نے سکون کا سانس لیا۔
٭٭…٭…٭٭
وہ گاڑی لے کر بلا مقصد سڑکوں پر بھٹک رہا تھا‘ ماہ رخ کے چہرے پہ پھیلا سکون دیکھ کر اسے وحشت ہونے لگتی تھی‘ وہ اتنا خود غرض اور بے حس تھا نہیں لیکن ماہ رخ کے معاملے میں بن چکا تھا‘ اس کا دل چاہتا تھا کہ وہ بھی ماہ رخ کا سکون اس ہی طرح چھین لے جیسے اس نے چھینا تھا۔ دس سال پہلے جیسے اس نے پورے اسکول کے سامنے اسے اور اس کی ماں کو بے عزت کیا تھا اور اس کی وجہ سے جو لوگوں کے چہرے پہ پھیلا تمسخر جنید کو برداشت کرنا پڑا تھا وہ اسے بھولتا ہی نہیں تھا‘ اس کا غرور اس کی خود سری سب کچھ اس کے لیے چیلنج بن چکا تھا اور اس ہی وجہ سے اس نے ماہ رخ سے شادی کی تھی‘ اسے اپنے سامنے جھکانے کے لیے لیکن اب اسے احساس ہوا تھا کہ وہ اب تک اپنے مقصد میں ناکام ہی رہا ہے‘ ماہ رخ کو تو کوئی فرق ہی نہیں پڑا تھا‘ اس کے چہرے پہ کبھی جنید کو پچھتاوے کی ہلکی سی لکیر بھی نظر نہیں آئی تھی‘ اسے ماہ رخ کا سکون چبھتا‘ جتنا اسے جھکانا چاہتا تھا اتنا ہی ناکام ہوجاتا اور یہ ہی بات اسے تکلیف دے رہی تھی۔ بے مقصد سڑکوں پہ گاڑی دوڑانے کے بعد جب وہ تھک گیا تو اس نے گاڑی واپس گھر کے رستے پہ ڈال دی تھی۔
٭٭…٭…٭٭
اگلے دن سنڈے تھا وہ دیر سے اٹھا رات کے بعد اس کی اور ماہ رخ کی کوئی ملاقات نہیں ہوئی تھی اس نے فریش ہونے کے بعد اپنے کمرے میں ہی ناشتہ منگوا لیا تھا اور ابھی وہ ناشتہ کر ہی رہا تھا کہ گھر میں کام کرنے والی ملازمہ شبو بھاگتی ہوئی آئی۔
’’وہ صاحب جی بیگم صاحبہ کی طبیعت بہت خراب ہے۔‘‘ وہ پریشان سی بولی۔
’’کیا ہوا…؟‘‘ اس نے ناشتہ چھوڑ کر بیزاری سے پوچھا۔
’’وہ جی ان کو بہت تیز بخار ہے اور وہ بخار کی وجہ سے بے ہوش ہوگئی ہیں۔‘‘ وہ گھبرائے لہجے میں بولی۔
اور بے ہوشی کا سن کر جنید کی ساری بیزاری ہوا ہوگئی تھی اور وہ پریشان ہوکر ماہ رخ کے روم میں بھاگا آیا تھا۔
’’ماہ رخ آنکھیں کھولو ماہ رخ… کیا ہوا؟‘‘ اس نے اس کے گال تھپتھپائے وہ بے ہوش نہیں بلکہ نیم غنودگی کی کیفیت میں تھی‘ بخار سے اس کا چہرہ جل رہا تھا‘ وہ بار بار آہستہ سے سر کو تکیے پہ مار رہی تھی۔
جنید نے پریشانی کے عالم میں اپنے فیملی ڈاکٹر کو کال کی اور اگلے پندرہ منٹ میں وہ اس کے سامنے بیٹھے تھے۔ اس دوران جنید مسلسل اس کا سر دباتا رہا تھا‘ بے شک وہ اس سے نفرت کرتا تھا مگر اس کی نفرت ایک انسانی جان سے زیادہ اہم تو نہیں تھی‘ وہ سفاک نہیں تھا‘ اسے تو کسی غیر کی تکلیف بھی پریشان کردیتی تھی پھر ماہ رخ سے تو اس کا بے حد قریبی رشتہ تھا۔
’’ماہ رخ نے شاید کوئی ٹینشن لی ہے یا پھر کسی بات کی وجہ سے یہ بہت ڈپریس ہیں‘ تم پریشان نہیں ہو جنید میں نے انجیکشن لگا دیا ہے کچھ دیر میں آرام آجائے گا اور ساتھ ہی میں کچھ میڈسنز لکھ رہا ہوں وہ وقت پہ دے دیجیے گا‘ ان شاء اللہ جلد بہتر ہوجائیں گی اور ہاں کوشش کیجیے گا انہیں ہر پریشانی سے دور رکھیں۔‘‘ ڈاکٹر نیازی ہدایت دیتے بولے۔
اور جنید کو یاد آگیا تھا کہ اس نے کس چیز کی ٹینشن لی تھی‘ رات وہ جس طرح اس سے پیش آیا تھا اس کے رویے سے وہ خوف زدہ ہوگئی تھی۔
’’معاف کرنا ماہ رخ مگر بڑی کمزور نکلی تم‘ اتنی سی بات نا سہہ سکیں‘ مجھے تو ابھی تمہارے بہت سے امتحان لینے تھے‘ مجھے تو لگا تھا کہ تم بڑی بہادری سے میرا مقابلہ کرو گی مگر تم نے اس طرح بیمار ہوکر میرے سارے ارادوں پہ پانی پھیر دیا…‘‘ وہ خود کلامی کرتا بولا۔ ایک ہی رات میں ماہ رخ کی سفید رنگت زردی مائل ہوچکی تھی اور ہونٹوں پہ پپڑیاں جم گئی تھیں‘ وہ ہولے ہولے کانپ رہی تھی۔ وہ اسے اس طرح دیکھ کر اندر ہی اندر پریشان ہورہا تھا اور پھر وہ اس کے سرہانے بیٹھ کر آہستہ آہستہ اس کا سر دبانے لگا۔
آدھے گھنٹے بعد اسے ہوش آیا اور اپنے سرہانے یوں جنید کو بیٹھا دیکھ کر اس نے دور ہونے کی کوشش کی مگر بخار کی وجہ سے اس کی ساری ہمت ختم ہوگئی تھی۔
’’تم پریشان مت ہو ماہ رخ‘ اگر تمہیں میرا یہاں بیٹھنا اچھا نہیں لگ رہا تو کوئی بات نہیں میں یہاں سے چلا جاتا ہوں تم بس ایزی ہوکر لیٹی رہو۔‘‘ وہ پہلی بار اس سے پیار سے مخاطب ہوا تھا اور نرمی سے کہتا وہاں سے چلا گیا تھا‘ اس نے ملازمہ کو حکم دیا تھا کہ ماہ رخ کو ناشتہ کروا کر میڈسنز دے اور خود لاؤنچ میں بیٹھ کر اخبار پڑھنے لگا تھا۔
٭٭…٭…٭٭
ماہ رخ کی طبیعت آہستہ آہستہ سنبھل رہی تھی… وہ اب بالکل ٹھیک ہوچکی تھی مگر بیماری کے دنوں میں جس طرح جنید نے اس کا خیال رکھا سب بھول کر اسے پوری توجہ دی… اس سب نے ماہ رخ کے دل کو اس کی طرف سے صاف کردیا تھا… اسے پہلی بار احساس ہوا تھا کہ وہ غلط تھی‘ اس نے آج تک اسے غلط سمجھا‘ جب کے جنید ایک بہت اچھا لڑکا تھا‘ احساس کی دولت سے مالا مال… اتنی نفرت کرنے کے باوجود اس نے انسانیت کے ناطے ہی سہی مگر اسے اکیلا نہیں چھوڑا تھا… اتنی توجہ تو کبھی مما نے بھی نہیں دی تھی اسے‘ ماہ رخ کو پہلی بار محسوس ہوا کہ شاید پاپا کا فیصلہ درست تھا‘ پرانی باتوں کو اگر وہ دونوں دل سے نکال دیں تو وہ ایک اچھی زندگی گزار سکتے ہیں۔
اس دن مہوش کا بہت دنوں بعد فون آیا تھا‘ وہ اپنی فیملی کے ساتھ کہیں گھومنے گئی ہوئی تھی اور کل ہی واپس آئی تھی اور آج اس نے اس کی شادی کی خوشی میں لنچ پہ انوائیٹ کیا تھا۔ وہ ڈرائیور کے ساتھ مطلوبہ ریسٹورینٹ چلی آئی‘ جہاں مہوش اور سرمد دونوں ہی اس کے منتظر تھے۔ وہ سرمد کو وہاں دیکھ کر حیران رہ گئی‘ اسے لگا تھا مہوش نے اسے اکیلے ہی انوائیٹ کیا ہے۔
’’ ارے کیا ہوا… سرمد کو یہاں دیکھ کر حیران ہو کیا ماہ رخ؟‘‘ مہوش اس کی حیرانی بھانپ گئی تھی۔ ’’دراصل یہ لنچ سرمد کی طرف سے ہے ہم دونوں کے لیے‘ ویسے تمہیں ہوا کیا ہے اتنی کمزور کیوں لگ رہی ہو۔‘‘ اس نے اس کے چہرے کا بغور جائزہ لیتے ہوئے پوچھا۔
’’بس کچھ دنوں سے بہت بیمار تھی اس لیے۔‘‘ وہ آہستہ سے بولی‘ اسے اپنی بیماری کے ساتھ ہی جنید کا رویہ یاد آجاتا تھا‘ آج کل اسے سوچتے اس کا دل عجیب احساسات کا شکار ہو جاتا تھا۔
’’لگتا ہے تمہارے ڈیئر ہسبینڈ تمہارا خیال نہیں رکھتے ماہ رخ۔‘‘ سرمد اسے اداس سا دیکھ کر شرارتی لہجے میں بولا۔
’’وہ تو میرا اتنا خیال رکھتے ہیں کہ جتنا کبھی کسی نے بھی نہیں رکھا‘ جنید بہترین بزنس مین ہونے کے ساتھ ساتھ بہترین ہسبینڈ اور انسان بھی ہیں۔‘‘ وہ سچائی سے بولی۔
’’آہم… آہم‘ ماہ رخ کیا یہ تم بول رہی ہو‘ کیا جادو کردیا ہے جنید نے تم پہ۔‘‘ مہوش کو اس کی بات پہ گہرا شاک لگا تھا‘ وہ تو صرف اس ماہ رخ کو جانتی تھی جو جنید سے سخت نفرت کرتی تھی اب اس ہی جنید کی تعریف ماہ رخ کے منہ سے سن کر تو مہوش حیران ہی رہ گئی تھی۔
’’ہاں یہ میں ہی ہوں۔‘‘ وہ اس کی حیرانی سمجھتے مسکرائی تھی۔ ’’اچھا اب جلدی سے کھانا بھی آڈر کرو یا بس جوس پہ ہی ٹر خاؤ گی۔‘‘ وہ مسکرا کر بولتی بدل بات گئی تھی۔ اسے سرمد کے سامنے اپنے پرسنلز ڈسکس کرنا اچھا نہیں لگا تھا۔
’’کر رہی ہوں آڈر۔‘‘ اور پھر اس نے اشارے سے ویٹر کو بلا کر آڈر نوٹ کروایا‘ وہ جو ہوٹلنگ‘ پارٹیز‘ لونگ ڈرائیو اور سیر سپاٹوں کی دیوانی تھی اور جس کا دن مہوش کے بغیر ادھورا رہتا تھا آج اسے ہی پتہ نہیں کیوں ہوٹل کا یہ ماحول مسحور کررہا تھا اور نا مہوش سے باتیں کرکے اچھا لگ رہا تھا‘ اسے لگ رہا تھا جیسے آہستہ آہستہ وہ بدل رہی ہو‘ لنچ کے بعد وہ تینوں ایک ساتھ پارکنگ میں آئے تھے ان کا شاپنگ کا ارادہ تھا مگر ماہ رخ معذرت کرکے مما کی طرف آگئی تھی۔
خلاف توقع مما اور پاپا دونوں گھر پہ ہی تھے‘ مما سے ملنے کے بعد اسے پتہ چلا تھا کہ وہ ساری این جی اوز سے ریزائن کر چکی تھیں‘ انہوں نے پارٹیز میں آنا جانا چھوڑ دیا تھا اور وہ اب صرف گھر پہ ہوتی تھیں‘ اب پاپا اور مما کے تعلقات بھی بہت بہتر ہوچکے تھے۔ شام کا وقت تھا وہ اور پاپا لان میں بیٹھے باتیں کررہے تھے جب کے مما کچن میں تھیں اور ان دونوں کے لیے خود چائے کی تیاری کررہی تھیں۔
’’ماہ رخ بیٹا تم خوش تو ہو ناں میں جانتا ہوں میں نے جنید سے شادی کے لیے تمہارے ساتھ زبردستی کی مگر میں بس تمہاری خوش چاہتا تھا۔‘‘ اتنے دن بعد وہ پاپا سے ملی تھی شاید اس لیے پاپا اسے لے کر بہت حساس ہورہے تھے۔
’’پاپا آپ پریشان نہیں ہوں‘ میں بہت خوش ہوں آپ نے میرے لیے ٹھیک ہی فیصلہ کیا تھا۔‘‘ وہ ہلکا سا مسکرا کر بولی۔
’’بس میں تمہاری خوشی چاہتا ہوں‘ فریحہ سے میرا بڑا گہرا رشتہ تھا‘ وہ ایک بے حد محبت کرنے والی بہن تھی میری اور جنید بھی بالکل اس کا عکس ہے اتنا ہی سادہ اور محبت کرنے والا‘ وہ دل میں زیادہ عرصے تک بغض نہیں رکھ سکتا‘ بہت محبت کرتا ہوں میں جنید سے اور مجھے یقین ہے وہ تمہیں ساری زندگی خوش رکھے گا۔‘‘ وہ اپنی ہی رو میں بہتے بول رہے تھے۔
’’فریحہ آنٹی آپ کی بہن تھیں پاپا…!‘‘ وہ چونک کر بولی۔
’’ہاں وہ میری رضائی بہن تھی‘ چچی کے انتقال کے بعد میری اماں نے ہی اسے پالا تھا۔‘‘ وہ یاد کرتے ہوئے بولے تھے اور ماہ رخ کو اپنی حالت غیر ہوتی محسوس ہونے لگی تھی‘ وہ ناسمجھی میں ان پہ کتنا بڑا بہتان لگا چکی تھی‘ ماں کی باتوں میں آکر اس نے کتنا بڑا گناہ کیا تھا‘ اسے فوراً اپنی غلطی کا احساس ہوگیا تھا۔
’’پاپا میں چلتی ہوں‘ مجھے دیر ہورہی ہے۔‘‘ وہ فوراً جانے کے لیے کھڑی ہوئی۔
’’لیکن بیٹا ابھی تمہاری مما چائے لا رہی ہیں وہ تو پی لو۔‘‘ وہ حیران ہوئے اسے عجلت میں جاتے دیکھ کر۔
’’نہیں پاپا پھر کبھی صحیح‘ آپ اپنا خیال رکھیے گا۔‘‘ وہ عجلت میں کہتی بھاگی تھی۔
٭٭…٭…٭٭
وہ اپنے گزشتہ تمام رویوں پہ بے حد شرمندہ تھی اسے پہلی بار احساس ہوا تھا کہ جس انسان کو وہ آج تک پتھر سمجھتی آئی وہ تو ہیرا تھا‘ بیش قیمتی ہیرا‘ جنید کی اعلیٰ ظرفی نے تو پہلے ہی اسے متاثر کردیا تھا اور اب جب اسے احساس ہوا اپنی غلطیوں کا اور ساتھ ہی جنید کا اپنے ساتھ رویہ یاد آیا تو وہ شرم سے پانی پانی ہوگئی تھی۔ اس کے دل کی سلیٹ بالکل صاف تھی‘ آج تک کوئی نام اس سلیٹ پہ لکھا نہیں گیا تھا لیکن اب پہلی بار کسی کا نام پورے استحاق سے اس سلیٹ پہ لکھا جارہا تھا‘ محبت کے سرخ رنگ سے‘ جو کبھی مٹتا نہیں‘ اسے اب جنید کو سوچ کر عجیب سا احساس گھیر لیتا تھا‘ ماہ رخ کو اب اچھا لگنے لگا تھا اس کے چھوٹے چھوٹے کام کرنا‘ اس کا خیال رکھنا‘ اس نے خود کو تیزی سے بدلنا شروع کردیا تھا‘ وہ اس کے آفس سے آنے کا بے صبری سے انتظار کرتی‘ وہ آجاتا تو ملازمہ کے ہاتھ پانی بھجواتی‘ خود اس میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ جنید کا سامنا کرئے‘ وہ جب بھی سامنے آتا تو ماہ رخ کا دل تیزی سے ڈھڑکنے لگتا اور وہ نہیں چاہتی تھی کہ اس بات کا احساس جنید کو بھی ہو جائے۔ وہ اب پہلے والی مغرور اور خود سر ضدی ماہ رخ نہیں تھی پھر بھی اسے شرم سی آتی تھی جنید کا سامنا کرتے‘ آہستہ آہستہ اس نے کھانا پکانا بھی سیکھ لیا تھا اور بس ایک ڈنر کا وقت ہی ہوتا تھا جب وہ ساتھ بیٹھتے تھے۔
آج اس نے جنید کے لیے فرائیڈ رائس اور منچورین پکایا تھا‘ رانیہ نے بتایا تھا جنید کو یہ بہت پسند ہے اور آج اس نے اس ہی کی پسند کو ملوظ خاطر رکھا تھا۔ لیکن ناجانے کیوں اپنی پسند کا ڈنر ہونے کے باوجود وہ خوش نہیں تھا‘ اسے ناجانے کیوں جنید کھویا کھویا سا کسی سوچ میں گم لگا تھا‘ وہ پوچھنا چاہتی تھی مگر ایک بے معنی سی جھجک آڑے آرہی تھی۔ کھانے کے بعد وہ برتن سمیٹنے کے لیے اٹھ رہی تھی کہ جنید نے اسے روک لیا اور اپنے ساتھ روم میں لے آیا تھا۔
’’بیٹھو ماہ رخ‘ مجھے تم سے کچھ ضروری باتیں کرنی ہیں۔‘‘ وہ نرمی سے بولا۔ وہ حیران سی صوفے پہ بیٹھ گئی‘ جنید بھی اس سے کچھ فاصلے پہ بیٹھ گیا تھا۔ ماہ رخ کی سوالیہ نظریں جنید کے چہرے پہ جمی ہوئی تھیں۔
’’ماہ رخ سب سے پہلے تو میں اپنے تمام گزشتہ رویوں کی معافی مانگنا چاہتا ہوں‘ اس رات میں نے جتنا تم پہ غصہ کیا اس کے لیے بھی میں شرمندہ ہوں‘ میں نے تم سے کہا کے میں نے تم سے شادی تمہارا غرور ختم کرنے کے لیے کی تھی لیکن ایسا نہیں تھا‘ میں کون ہوتا ہوں کسی کا غرور توڑنے والا‘ یہ شادی میری مما اور وقاص انکل کی خواہش تھی میں نے صرف ان کے حکم پہ سر جھکایا تھا لیکن یہ الگ بات ہے کہ تمہارے رویوںکے سبب شروع شروع میں‘ میں تم سے بدگمان رہا لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا رہا وہ بدگمانی اپنی موت آپ مر گئی اور پھر مجھے تمہارا احساس ہوا اور میں نے سوچا کہ بھلا یہ کہاں کا انصاف ہے کہ آپ کسی ایک کی خواہش کے لیے کسی دوسرے کی پوری زندگی برباد کردو۔‘‘ وہ ٹھہر ٹھہر کر آہستہ آہستہ بولتا بے حد سنجیدہ نظر آرہا تھا۔ ماہ رخ دل و جان سے اسے سن رہی تھی۔
’’مجھے احساس ہوا کہ تمہارے ساتھ بہت غلط ہوا ہے‘ کسی ایسے انسان سے شادی صحیح ہو بھی کیسے سکتی ہے جسے آپ بے حد ناپسند کرتے ہوں اور تم تو مجھ سے نفرت کرتی آئی ہو‘ تمہاری زندگی برباد کرنے میں میرا بھی برابر کا ہاتھ ہے‘ تم آئی تھیں مجھ سے مدد مانگنے لیکن میں نے تمہیں دھتکار دیا تھا‘ جانتا ہوں وقت گزر چکا ہے لیکن میں اس کے باوجود تم سے آج اپنے اس رویے کی بھی معافی مانگتا ہوں۔‘‘
’’لیکن جنید…‘‘ ماہ رخ نے کچھ بولنے کی کوشش کی۔
’’نہیں ماہ رخ آج مجھے بولنے دو۔ میں جانتا ہوں سرمد لغاری تم سے محبت کرتا ہے اور شاید تمہیں بھی وہ پسند ہو‘ یہ تو تم دونوں کی کہانی تھی‘ میرا تو کردار کہیں تھا ہی نہیں اب میں نہیں چاہتا کہ تم کسی مصلحت کی خاطر ایک ان چاہی زندگی گزارو…‘‘ وہ سرمد کو اس کے ساتھ دیکھ کر فیصلہ کرچکا تھا۔
’’میں نے بہت سوچ سمجھ کر فیصلہ کیا ہے ماہ رخ کہ اب ہمیں الگ ہوجانا چاہیے‘ ایک ان چاہی زندگی گزارنے کا کیا فائدہ محبت ہر رشتے کی بنیاد ہوتی ہے اور جب رشتے میں محبت ہی نا ہو تو وہ کیسے آگے بڑھ سکتا ہے‘ ایسا رشتہ تو کسی کھلی عمارت کی طرح ہوتا ہے۔ جو کسی بھی لمحہ ریت کا ڈھیر بن سکتی ہے۔ تم پریشان نہیں ہونا‘ انکل کو میں سمجھا لوں گا‘ ہم بہت فرینڈلی طریقے سے الگ ہوں گے۔‘‘ وہ اسے بے حد نرمی سے سمجھا رہا تھا۔ ’’اور ہاں ایک بات اور اس فیصلے کا اختیار اب صرف اور صرف تمہارے ہاتھ میں ہے‘ میں نے بس اپنا فیصلہ سنایا ہے مگر ہوگا وہ وہی جو تم چاہوگی تم جتنا سوچنے کے لیے وقت چاہتی ہو لے لو۔‘‘ اور ماہ رخ کی حالت تو یوں تھی جیسے کسی نے اس کے جسم سے سارا خون نچوڑ لیا ہو وہ تو اسے ٹوک بھی نہیں سکی‘ اسے بتا بھی نہیں سکی تھی کہ وہ غلط سوچ رہا ہے‘ وہ اب ایسی نہیں رہی جب کے جنید اس کی خاموشی کو ہاں سمجھ کر وہاں سے اٹھ کر جا چکا تھا۔
٭٭…٭…٭٭
ممکن ہے کہ تو جس کو سمجھتا ہے بہاراں
اوروں کی نگاہوں میں وہ موسم ہو خزاں کا
آج ایک عرصے بعد ماہ رخ پہ پھر جنون سوار ہوا تھا اور اس جنون کے زیر اثر جنید کے جاتے ہی کمرے کی ہر چیز بکھر چکی تھی… بالکل اس طرح جس طرح اس کی اپنی ذات بکھر چکی تھی۔
’’کیا ضروری ہے کہ جو میرا ہو اور جس سے مجھے محبت ہو وہ ہی مجھ سے دور چلا جائے۔ بچپن سے لے کر آج تک کبھی مجھے مما پاپا کی توجہ نہیں ملی حالانکہ میں ان کی اکلوتی اولاد تھی اور ان کی وجہ سے میرے اندر کا خلا بڑتا گیا۔ میں ضدی‘ خود سر بدتمیز ہوتی گئی اور اس طرح میں سب سے دور ہوتی چلی گئی۔ میری غلطیوں کی وجہ سے۔ میرے دوست مجھ سے دور ہوتے گئے اور پھر میں نے اپنے اردگرد اتنی اونچی دیواریں کھڑی کردیں‘ اپنے اوپر مغرور ہونے کا خول چڑھا لیا‘ کبھی کسی کی ہمت ہی نا ہوسکی کے وہ میرے اندر جھانک سکے۔‘‘ ماہ رخ دونوں گھٹنوں میں سر دیے روتے ہوئے اپنا محاسبہ کررہی تھی۔
’’جب مجھے جنید سے نفرت تھی تب وہ زبردستی میری زندگی میں شامل کردیا گیا اور اب جب میں اسے پسند کرنے لگی ہوں تو وہ مجھ سے دور جارہا ہے۔ یہ میری بے حسی کی انتہا ہی تو تھی کہ مجھے اس سے تب محبت ہوئی جب وہ مجھے چھوڑ کر جارہا ہے‘ میں جو سراپا غرور تھی‘ منہ کے بل زمین پہ گری‘ میری انا میرا غرور اس ہی لمحے پاش پاش ہو گیا تھا جب اس نے مجھے چھوڑنے کا فیصلہ سنایا اور میں اپنی زخمی انا کے ہاتھوں مجبور اسے روک بھی نا سکی اسے بتا ہی نہیں سکی کہ وہ تو فاتح تھا اور اس نے میرا دل فتح کیا تھا کچھ اس طرح مجھے اپنا بنا لیا اس نے کہ میں خود سے ہی بیگانی ہو چلی تھی۔‘‘
’’کیا تم اب بھی خاموش رہو گی ماہ رخ۔ کیا اب بھی اس جھوٹی انا کی خاطر اپنی محبت کو خود سے دور کر دوگی۔ کیا خود اپنے ہاتھوں سے اپنی خوشیاں چھین لو گی؟‘‘ کوئی اس کے اندر سے بولا تھا۔
’’نہیں… اب نہیں‘ اب میں کسی کو بھی اپنی خوشیاں برباد نہیں کرنے دوں گی‘ میں اسے بتاؤں گی کے میں صرف اس سے محبت کرتی ہوں‘ اس کے سوا اب میری زندگی میں کوئی نہیں آسکتا۔‘‘ اس نے تیزی سے اپنے آنسو رگڑتے ہوئے خود سے وعدہ کیا تھا۔
٭٭…٭…٭٭
اس دن کے بعد جنید اور اس کے درمیان کوئی بات نہیں ہوئی تھی‘ وہ بھی اتنے دن گزرنے کے بعد بھی اس سے کچھ نہیں کہہ سکی تھی لیکن اس کے باوجود اس نے خود کو کافی حد تک بدل لیا تھا‘ اب وہ اس کے آفس جانے سے پہلے خود اس کے کپڑے شوز اور دیگر چیزوں کا خیال رکھتی‘ وہ ناشتے کے لیے آتا تو خود ناشتہ لاتی‘ جب تک جنید آفس سے نہیں آجاتا وہ خود بھی شام کی چائے نہیں پیتی اس نے جنید کے گھر کو جب سے اپنا سمجھنا شروع کیا تب سے اس نے گھر کی بہتری کا بھی سوچنا شروع کردیا تھا‘ وہ اب کھانا خود پکاتی‘ ملازمہ سے اپنی نگرانی میں ڈسٹنگ کراتی‘ جنید کے کپڑے لانڈری میں خود بھیجتی‘ اس سے پہلے یہ سارے کام جنید خود کرتا تھا۔
مالی بابا کے ساتھ مل کر اس نے لان میں بھی بہت سے نئے پودے لگائے تھے اور جنید کو وہ تبدیلی پسند آئی تھی۔ اس وقت آفس سے آنے کے بعد وہ لان میں بیٹھا اخبار پڑھ رہا تھا‘ جب ماہ رخ اس کی اور اپنی چائے لے کر وہیں آگئی تھی اور اب وہ دونوں ہی چائے پی رہے تھے جب کچھ سوچتے ہوئے جنید نے بات شروع کی۔
’’مجھے لگتا ہے ماہ رخ اب ہمیں اپنے راستے الگ کرلینے چاہیں‘ آخر کب تک ہم یوں ایسے زندگی گزاریں گے‘ تم خوش نہیں ہو اور میں بھی خوش نہیں ہوں‘ اب جب کے ہمارے درمیاں ہر جھگڑا ختم ہوچکا ہے تو اب ہمیں زندگی کو ایک نیا موڑ دینا چاہیے‘ ہر انسان کی زندگی میں کوئی نا کوئی ہوتا ہی ہے‘ ہر کوئی کسی نا کسی کو تو پسند کرتا ہی ہے تم بھی کسی کو پسند کرتی ہوگی اور میں کسی کو پسند نہیں کرتا۔‘‘ وہ جو اپنی چائے کا کپ دونوں ہاتھوں میں پکڑے بڑی سنجیدگی اور توجہ سے اس کی بات سن رہی تھی‘ پسند کے ذکر پہ چونکی۔
’’دیکھو ماہ رخ اس میں شرمانے والی کوئی بات نہیں‘ ہر کسی کی زندگی میں کوئی خاص ضرور ہوتا ہے‘ تمہاری زندگی میں بھی کوئی ایسا آیا ہوگا جس سے تمہیں محبت ہوئی ہوگی۔‘‘ جنید اس کی خاموش کو اس کی جھجک سمجھا تھا اس لیے اپنی بات پہ زور دیتا بولا۔ گویا کھلے دل کا مظاہرہ کررہا تھا۔
’’ہر کسی کو ہوتی ہوگئی لیکن مجھے کبھی بھی کسی سے بھی ماضی میں محبت نہیں ہوئی۔‘‘ اس نے دو ٹوک انکار کیا۔
’’کیا مطلب ماہ رخ…!‘‘ اس بار وہ حیرانی سے اس کے چہرے پہ اپنی ڈارک براؤن آنکھیں جما کر بولا اور شاید اندر ہی اندر یہ سوچ کر خوش بھی کہ ایک خالص اور مخلص لڑکی اس کی زندگی کی ساتھی تھی۔
’’اب خیر میں نے ایسا بھی نہیں بولا۔‘‘ اس کی حیرانی سے ماہ رخ محظوظ ہوئی۔
’’اففففف… ابھی دو منٹ پہلے تم نے خود ہی یہ اعتراف کیا تھا کہ ناں تم کسی کو پسند کرتی ہو اور ناں ہی ماضی میں کسی سے محبت کرتی تھیں۔‘‘ وہ زچ ہوا تھا۔
’’ہاں میں اس بات سے تو اب بھی انکار کرتی ہون۔‘‘ اس کا اطمیمان قابلِ دید تھا۔ وہ شاید اندر ہی اندر اس کی باتوں پہ ہنس رہی تھی‘ کم از کم جنید کو تو ایسا ہی لگ رہا تھا۔
’’تو پھر…!‘‘ اب کے اس نے بنا کسی تاثر کے سوال کیا۔
’’ تو پھر یہ کہ… مجھے اب لگنے لگا ہے کہ مجھے محبت ہونے لگی ہے۔‘‘ وہ ایک ادا سے مسکرا کر بولی اور پھر ہاتھوں میں پکڑا چائے کا مگ ہونٹوں تک لے گئی۔ اس کی نظریں اس وقت جنید کے چہرے پہ جمی تھیں جس پہ اس وقت شدید تناؤ نظر آرہا تھا۔ ’’تو محترم خود بھی دل و جان سے فدا ہیں بس اتنے دنوں سے مجھے ہی تنگ کیا ہوا ہے‘ ٹھیک ہے جناب اب کچھ دیر آپ کی باری ہے۔‘‘ وہ اس کے تاثرات نوٹ کرتی ہے‘ دل میں سوچنے لگی۔
’’تمہارا مطلب ہے ماہ رخ تمہیں شادی کے بعد اس سے…‘‘ بات مکمل نہیں کر پاپا تھا۔ یہ دل ہمیشہ دغا دیتا ہے اندر ہی اندر دل کو کوسا۔
’’ہاں جنید‘ معذرت کے ساتھ مگر مجھے شادی کے بعد ہی محبت ہوئی ہے اور اس میں مجھے کوئی برائی نظر نہیں آرہی ویسے بھی‘ برائی تو غلط چیزوں میں نظر آتی ہے اور محبت کرنا تو بالکل غلط نہیں۔‘‘ اس نے بھولے پن سے اعتراف کیا۔ اس بار جنید کے ماتھے پہ پڑتے بلوں میں مزید اضافہ ہوا جب کہ چہرہ غصے سے لال سرخ ہورہا تھا۔
’’ارے کیا ہوا جنید‘ ابھی کچھ دیر پہلے تک تو تم اتنے براڈ مائننڈڈ بن رہے تھے اور مجھے لگ رہا تھا شاید ہی کوئی اور بندہ تم سے زیادہ کول ہو‘ مجھ سے یہ پوچھ رہے تھے کہ میں کسی کو پسند کرتی ہوں‘ میری گزشتہ محبتوں کے قصے معلوم کیے جارہے تھے۔‘‘ وہ اب بھی مسکرا رہی تھی‘ ایک سرد مسکراہٹ‘ جنید کو لگا جیسے وہ اس پہ طنز کررہی ہو۔
’’تم مجھ پہ طنز کررہی ہو؟‘‘ بڑے بھولے پن سے سوال کیا۔
’’تمہیں کوئی شک۔‘‘
’’ایڈیٹ میں نے تم سے صرف پچھلی محبت کے بارے میں سوال کیا تھا‘ نئی نویلی داستانِ محبت سنانے کا نہیں کہا تھا‘ چاہے جس بھی سچویشن میں ہوئی ہو ہماری شادی‘ مگر اب میں تمہارا شوہر ہوں۔‘‘ وہ چڑتا ہوا غصے سے بولا اور اٹھ کر وہاں سے جانے لگا۔
’’سنو‘ جب دل بڑا نا ہو تو دعوے بھی نہیں کرنے چاہیے‘ ویسے بھی پاکیزہ محبت تو شادی یعنی نکاح کے بعد ہی جنم لیتی ہے‘ باقی ساری محبتیں تو فریب ہوتیں ہیں اور اگر میرے دل کو کسی کی ڈارک براؤن آنکھوں سے محبت ہو گئی ہے تو کیا ہوا‘ وہ بھی تو اتنی محبت اور والہانہ انداز میں دیکھتی ہیں میری طرف۔‘‘ وہ مسکراتے ہوئے بڑے بھرپور انداز میں بولی اور جنید تو اس کے اس حسین اظہار پہ حیرت سے ساکت میں کھڑا ہی رہے گیا تھا۔
’’مجھے یہ تو پتہ تھا کہ ایک دن تم خود اپنی محبت کا اظہار کرو گی لیکن وہ خوش نصیب لمحہ آج ہی کے دن میسر آجائے گا یہ مجھے نہیں معلوم تھا۔‘‘ وہ اس کے گرد اپنی بہانوں کا حصار باندھتے ہوئے بولا۔
’’آج تم نے جس خوب صورتی سے اظہارِ محبت کرتے میرے گرد اپنے ان حسین لفظوں کا حصار بنا ہے اب اس حصارِ محبت میں‘ میں ساری زندگی رہنا چاہوں گا‘ مجھے آج یہ اعتراض کر لینے دو کہ میں جنید آفتاب‘ دل و جان سے تمہارا ہوچکا ہوں اور تمہارا ہی بن کر رہنا چاہتا ہوں۔‘‘ اس نے ماہ رخ کی پیشانی پہ اپنی پیشانی ٹکاتے ہوئے کہا اور وہ شرما کر نگاہیں جھکا گئی تھی۔
’’جانتے ہیں جنید لوگ کہتے ہیں شادی اس سے کرنی چاہیے جو آپ کا بہت اچھا دوست ہو اور میں خوش نصیب ہوں کہ آپ میرے شوہر ہونے کے ساتھ ساتھ بے حد اچھے دوست بھی ہیں۔‘‘ وہ خوشی سے چہکتے ہوئے بولی‘ سارے ملال دکھ اور محرومیاں اس کی محبت کے آگے چھپ گئی تھیں۔
’’لیکن وہ دوستی تو بہت پہلے ہی ختم ہوگئی تھی ماہ رخ۔‘‘ جنید نے ہنستے ہوئے اسے یاد دلایا۔
’’تو کیا ہوا… ہم پھر سے کر لیتے ہیں ناں۔‘‘ وہ شرارت سے بولی تو جنید کھلکھلا کر ہنس دیا۔
’’جانتی ہو ماہ رخ‘ تمہارے ساتھ رہ کر مجھے احساس ہوا کہ تم اوپر سے چاہے خود کو سخت ظاہر کرو اندر سے بہت معصوم ہو‘ بس تمہاری زندگی کی کچھ محرومیاں تھیں جس نے تمہیں ایسا بنا دیا اور جیسے جیسے میں تمہیں جانتا گیا ویسے ویسے مجھے تم اچھی لگتی گئیں اور کب میں تم سے محبت کرنے لگا مجھے پتہ ہی نا چلا۔‘‘
’’شاید آپ ٹھیک کہے رہے ہیں‘ مجھے آپ سے ملنے کے بعد احساس ہوا کہ انسان کی شخصیت میں اس کی پرورش کتنا اہم کردار ادا کرتی ہے آنٹی نے جتنی محبت اور توجہ سے آپ کی پرورش کی اس ہی کا اثر تھا کہ آپ ایک مکمل انسان کے روپ میں سامنے آئے اور آپ کو جاننے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ آخر میں کس چیز پہ اتنا غرور کرتی ہوں دولت تھی تو وہ پاپا کی اور صورت تھی تو وہ اللہ کی عطا کردہ پھر غرور مجھے کیوں تھا‘ جب کے ان دونوں چیزوں میں میرا کوئی کمال تھا ہی نہیں اب میں خود کو آپ اور اپن رب کا شکر گزار محسوس کرتی ہوں کہ آپ دونوں نے میرے اندر کی برائیوں کو ختم کیا۔‘‘ وہ سنجیدگی سے بولی۔
’’گزری باتوں کو بھول جاؤ ماہ رخ‘ ہماری زندگی کے اندھیرے دور ہوگئے ہیں‘ چلو آج سے عہد کرتے ہیں کہ ہم اپنی آنے والی نسل کو وہ محرومیاں نہیں دیں گے جنہوں نے ہماری شخصیت کو زنگ لگا دیا تھا‘ ہم انہیں ایک اچھا انسان بنائیں گے جیسا اللہ کو پسند ہے۔‘‘ جنید نے اس کے آگے ہاتھ پھیلا تو ماہ رخ نے مسکرا کر اس پہ ہاتھ رکھ دیا تھا۔ یہ ان کی زندگی کی نئی شروعات تھی جس میں گزرے کل کی پرچھائی تک نہیں تھی۔

Show More
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close