hijaab Dec-17

ملاقات

ایڈمن پینل

فرح بھٹو
حیدرآباد سے تعلق رکھنے والی فرح بھٹونئے لکھنے والوں میں بہترین اضافہ ہیں۔انہوں نے اسلامک اسٹڈیز میں ماسٹرزکیا ہے۔ دو سال سے باقاعدہ لکھ رہی ہیں۔ شاعری اور نثر دونوں انواع پر لکھتی ہیں۔ان کی شاعری کی کتاب ’’تو ہے کہ اجنبی‘‘ گزشتہ برس منظر عام پر آئی۔ گزشتہ برس مطالعات افسانہ نگاری کے مقابلے میں ان کے افسانے نے نمایاں پوزیشن حاصل کی اور انہیں اعزازی شیلڈ سے نوازا گیا۔ محبت نبی ﷺکے عنوان سے ایک مقابلے میں انہوں نے ایوارڈ حاصل کیا۔
داستان پبلشرز کے ایک مقابلے میں ان کی تحریر کو سراہا گیا اور اسے پبلش بھی کیا گیا۔ اس کے علاوہ آن لائن مقابلوں میں بہت بار انعام جیت چکی ہیں
آنچل حجاب و نئے افق کے علاوہ متعدد خواتین کے رسائل میں اپنی جگہ بنارہی ہیں۔
یہ تھا فرح بھٹو کا مختصر تعارف۔
ان کے اور ان کی تحریروں کے بارے میں مزید جاننے کے لیے ہمارے آفیشل فورم میں ہمارے ایڈمن پینل نے نئے لکھنے والوں کے انٹرویو کا سلسلہ شروع کرتے ہوئے فرح بھٹو کے انٹرویو کا انعقاد کیا۔ جس میں ہمارے قارئین اور لکھاری ممبرز نے ان سے سوالات کیے۔ سوال و جواب کا حصہ من و عن قارئین کے لیے پیش کیا جارہا ہے۔
ماورا طلحہ
سوال:فرح اپنی فیملی اور اپنے بارے میں کچھ بتائیے؟
فرح: 3 دسمبر کو حیدرآباد میں پیداہو ئی۔ میں نے نوبل کڈز اکیڈمی سے ابتدائی تعلیم حاصل کی پھر شاہ لطیف کالج سے ایف ایس سی کیا ۔سندھ یونیورسٹی سے اسلامک اسٹڈیز میں ماسٹرز کیا۔
فیملی میں مجھے سب عینی کے نام سے پکارتے ہیں جو مجھے بہت پسند ہے۔ الحمدللہ ہم سات بہنیں ہیں اور سب ہی گھر بار والی ہیں۔ میں سب سے چھوٹی اور امی کی بے حد لاڈلی ہوں۔ سسرال میں میرے شوہر اور دو بیٹے ہیں۔ دو نندیں شادی شدہ ہیں۔اور ساس سسر اب حیات نہیں۔
سوال:فیملی میں بحیثیت لکھاری کیسا رسپونس ملتا ہے؟
جب کنواری تھی تو لکھ لکھ کر ڈائریاں بھرتی رہتی اور امی کو سناتی وہ میری حوصلہ افزائی کرتیں‘ بہت خوش ہوتیں‘ ان کی دعائوں کی وجہ سے آج میں اس مقام تک پہنچی ہوں۔ دو بہنیں جو ادب سے دلچسپی رکھتی ہیں ان کو پڑھواتی ہوں‘ میری بہن آسیہ ابھی تک میری ہر اسٹوری جو ڈائجسٹ میں آتی ہے شوق سے خرید کر پڑھتی ہے اور پھر مفصل رائے دیتی ہے۔ میں اپنے سارے آئیڈیاز اسی سے ڈسکس کرتی ہوں‘ میرے ہزبینڈ بھی میرے لکھے کو سراہتے ہیں۔ میں پانچویں جماعت میں تھی جب پہلا شعر کہا پھر اسی دوران بچوں کی کچھ کہانیاں لکھیں جو مقامی اخبارات میں شائع ہوئیں پھر بس تعلیم پر توجہ تھی تو فارغ وقت میں لکھتی رہتی پر کبھی شائع کروانے کا نہ سوچا۔ شادی کے بعد پھر پچھلے سال 2016ء میں میری شاعری کی کتاب ’’تو ہے کہ اجنبی‘‘ شائع ہوئی بس پھر اسی سال آنچل میں دو اقساط بھیجیں جو الحمد منتخب ہوگئیں‘ حوصلہ ملتا گیا الحمدللہ کئی ڈائجسٹ میں کہانیاں شائع ہوئی ہیں‘ اس کے ساتھ آن لائن نثر اور شاعری کے مقابلوں میں بھی کامیابی نصیب ہوئی۔ ادبی افسانہ نگاری کے مقابلے میں ایوارڈ بھی ملا‘ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ’’محبت مصطفی‘‘ مضمون نگاری میں بھی ایوارڈ ملا۔
عائش سلیم ہاشمی
سوال: آپ کیوں لکھتی ہیں؟ لکھنے کے پیچھے آپ کا کیا مقصد ہے؟
جواب: میں بہت کم گو ہوں اسی لیے لکھتی ہوں تاکہ میرا کتھارسس ہوتا رہے۔
سوال: آپ نے معاشرتی موضوعات پر زیادہ لکھا ہے جیسے آپ کی ایک تحریر پڑھی تھی ’’ونی‘‘ کیا ایسے موضوعات پر قلم کشائی کے پیچھے آپ کا مشاہدہ ہے یا صرف روایات سے آگاہی ہی ہے؟
فرح: جب آپ کم بولتے ہیں تو آپ کے اندر الفاظ شور مچانے لگتے ہیں۔ ان کو کسی نہ کسی صورت باہر نکالنا ہوتا ہے اور یہ بہت ضروری ہے۔
ونی نام کی کوئی تحریر میں نے نہیں لکھی ہاں قرآن سے شادی کے موضوع پر قلم اٹھایا ہے اس تحریر کا نام ’’زر زمین اور زندگی‘‘ ہے جو نئے افق میں پبلش ہوئی۔
سوال: آپ ایک شاعرہ بھی ہیں اور ماشاء اللہ آج کل آپ کی شاعری بھی نظروں سے گزرتی رہتی ہے۔ آپ کے نزدیک شاعری ٹوٹے ہوئے دل کی صدا ہے یا الفاظ کا ہیر پھیر؟
فرح: نہ ٹوٹے دل کی صدا نہ الفاظ کا ہیر پھیر شاعری کسی ایک کیفیت کا نام نہیں ہے یہ تو احساسات کے مجموعہ سے مل کر بنی ہے۔
عائشہ تنویر
فرح بہت ٹیلنٹڈ رائٹر ہیں۔ ان کا انٹرویو دیکھ کر بہت خوشی ہوئی۔
سوال: فرح یہ خیال کب آیا کہ آپ لکھ سکتی ہیں؟ سب سے پہلی تحریر کب لکھی اور کیسی تھی‘ سب سے پہلا قاری کون تھا اس کا؟
فرح: پانچویں جماعت میں تھی جب بچوں کی تین چار کہانیاں لکھیں وہ مقامی اخبارات میں شائع بھی ہوئیں پھر کچھ نہ لکھا میٹرک تک ہلکی پھلکی شاعری کرتی رہی پھر نثر کی طرف آئی کہانیاں لکھ کر ڈائریز بھرتی رہتی لیکن کہیں بھیجی نہیں بس شوق تھا یہ فرصت کے لمحات کا۔ پہلی کہانی بچوں کی لکھی تھی تھی پھر بے یقینی سے دیکھتی رہی کہ میں نے لکھی ہے پھر خوشی خوشی بڑی باجی کو سنائی انہوں نے کافی سراہا۔
سوال: آپ کے خیال میں خواتین کے جرائد کا معاشرے اور ادب میں کیا مقام ہے ؟
جواب: خواتین کے جرائد کو بہت مقبولیت حاصل ہے۔ہر عمر کی خواتین ان کو پڑھتی ہیں۔اس لحاظ سے معاشرے میں ان جرائد کو ایک منفرد مقام حاصل ہے۔یہ براہ راست گھر بیٹھی ہاؤس وائف‘ ملازمت پیشہ خواتین اور تعلیم حاصل کرتی لڑکیوں پر اثر انداز ہوتے ہیں رہی بات ادب کی تو یہ ایک عام قاری تک پہنچنے والا سہل ادب ہے۔
سوال: ایک لکھاری کا اس کی تحریر میں کس حد تک عکس نظر آتا ہے ؟
فرح: لکھاری تو تحریر میں موجود ہی ہوتا ہے۔اس کی سوچ کی جھلک کہیں نا کہیں تحریر میں دکھائی دیتی ہے۔
خدیجہ عطا
ماشاء اللہ فرح بہت اچھا لکھتی ہیں۔
لکھاریوں کے انٹرویو کے لیے شروع کیے گئے اس بہترین سلسلے میں اِن کا نام دیکھ کر دلی خوشی ہوئی۔
لکھنے لکھانے کے حوالے سے سوالات باقی بہنیں کر چکی ہوں سو میرا پہلا سوال فرح سے یہ ہے کہ آپ کے نزدیک کامیاب زندگی گزارنے کا بہترین اصول کیا ہے؟ وہ اصول بتائیے جس پر آپ خود بھی عمل پیرا ہوں۔
فرح: کامیاب زندگی کے لیے اصول واضع کرنے والی میں کون ہوتی ہوں جس مالک نے زندگی تخلیق کی ہے اسی نے اپنی پاک کتاب قرآن مجید میں کامیاب زندگی کے اصول بیان فرما دیئے ہیں۔اللہ پر توکل اور اس کی رضا میں راضی رہنا ہی اصل کامیابی ہے۔ میں کوشش کرتی ہوں کہ ان دونوں پر عمل پیرا رہوں۔
سوال: آپ کی اپنی وہ تحریر جو دل کے بہت قریب ہو؟
فرح: ایک تحریر جو ابھی تکمیل کے مراحل میں ہے میرے دل کے بہت قریب ہے۔
سوال: اگر کبھی بہت روانی سے چلتا قلم اچانک رک جائے ، الفاظ بیچ راستے میں ہی آپ کا ساتھ چھوڑ کر بھاگ جائیں تو ایسے میں روٹھے لفظوں کو منانے کے لیے کیا کریں گی آپ؟
فرح: یہ کیفیت مجھ پر وارد ہوتی رہتی ہے۔قلم رک جاتا ہے الفاظ روٹھ جاتے ہیں اور میں بہت بے چینی محسوس کرتی ہوں۔
روٹھے لفظوں کو منانا آسان نہیں۔سو میں ان کو روٹھا ہی رہنے دیتی ہوں اور یقین کریں کچھ عرصے بعد خود بہ خود ہی وہ مان بھی جاتے ہیں۔
ریحانہ اعجاز
سوال: فرح بھٹو بے شک آپ ایک آئیڈیل لائف گذار رہی ہیں لیکن پھر بھی زندگی اگر ایک موقع مزید دے تو آپ زندگی سے کیا چاہیں گی…؟
فرح: الحمدللہ زندگی بہت اچھی گزر رہی ہے لیکن خواہشوں کی کوئی حد ہوتی ہے نہ تمناؤں کا کوئی آخری کنارہ۔ انسان بہتر سے بہترین کی چاہ میں بے قرار ہی رہتا ہے اور زندگی ہمیں آخری سانس تک مواقع دیتی رہتی ہے میں چاہوں گی کہ ایک بہت اچھی رائٹر بن کر ابھروں۔
سوال: کیا آپ کوئی ایسا شہرۂ آفاق ناول لکھ پائیں گی جو راتوں رات آپ کو شہرت کی بلندیوں پر لے جائے… اور یہ کہ کس موضوع پر لکھنا چاہیں گی؟
فرح: شہرہ آفاق ناول چاہ سے تو نہیں قسمت سے لکھا جاتا ہے۔ ہوسکتا ہے میں کوئی تحریر اس زعم میں لکھوں کہ یہ ضرور بہت پسند کی جائے گی اور لوگوں کو وہ معمولی لگے۔ اس لیے قبل از وقت سوچنا بیکار ہے میری کوشش اچھا لکھنے کی ہے اور اللہ ان تحاریر کو خود ہی شہرت دے دے گا ان شاء اللہ۔
سوال: ادب میں فن‘ مزاح‘ مذاق اور پھکڑ پن میں واضح فرق کیا ہے؟ جس طرح آج کل رشتوں کا یا کسی کی ذات کا مذاق بنا کر قہقہے لگائے جاتے ہیں کیا یہ ادب کے زمرے میں آتا ہے؟
فرح: ادیب کبھی بے ادب نہیں ہوتا۔جو بے ادب ہو وہ کچھ بھی ہوسکتا ہے پر ادیب نہیں۔
اور ادب میں فن اور مزاح ( جو حد میں رہ کر کیا جائے) کے علاوہ کسی مذاق اور پھکڑ پن کی گنجائش نہیں۔
کوثر ناز
فرح کو بطور شاعرہ زیادہ پڑھا ہے لیکن مجھے یقین ہے کہ اچھی نثر نگار بھی ہوں گی۔
فرح: میں اپنی تحریریں شیئر کرتی رہتی ہوں۔
سوال: اب تک جتنا بھی لکھا اس سفر میں سب سے زیادہ کس نے سراہا؟
فرح: میرے تحریری سفر میں مجھے میری امی کی حوصلہ افزائی اور دعاؤں نے بہت تقویت دی رہی بات سراہنے کی تو میری بہنیں سراہتی بھی ہیں اور اصلاحی تنقید بھی کرتی ہیں۔
سوال: لکھنے کے لئے کوئی مخصوص وقت درکار ہوتا ہے یا جب دل چاہے؟
فرح: میرڈ لائف میں نہ مخصوص وقت دیکھا جاسکتا ہے نہ دل کی چاہت بس جب موقع ملے لکھنا شروع ہوجاتی ہوں۔
سوال: آج کل مشکل الفاظ کا استعمال کرنے والوں کو اچھا ادیب یا اعلی پائے کا نثر نگار کہہ دیا جاتا ہے جب کہ عام قاری کو الف ب تک کی سمجھ نہیں آتی۔
میرے نزدیک ادیب یا لکھاری وہ ہے جسے اکثریت نہ صرف شوق سے پڑھے بلکہ دلچسپی بھی لے … آپ کیا کہتی ہیں؟
فرح: یہ بات بالکل ٹھیک کہی آپ نے۔
جو سادہ الفاظ عام قاری تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں وہ ان گنجلگ الفاظ سے کئی گنا بہتر ہیں جن کو سمجھنے کے لیے لغت کی کتاب کا سہارا لینا پڑے۔آپ کلاسک ادب کو ہی دیکھ لیں بہت سادہ پیرائے میں لکھاری اپنی بات قاری تک پہنچا دیا کرتے تھے
طیبہ عنصر
سوال: مصنف کو ہمیشہ ہمہ جہت تحریروں کی تحریک رہتی ہے اور کچھ موضوعات ایسے ہوتے ہیں جو مصنفین کو بے چین رکھتے ہیں کہ ان کو احاطہ تحریر میں لائیں لیکن جب ادارے کی پالیسی کی مجبوری آڑے آتی ہے تو مصنف کو جس کرب سے گزرنا پڑتا ہے کیا ایسا کبھی آپ کے ساتھ بھی ہوا؟
فرح: آپ نے درست فرمایا ایک لکھاری دو دلوں میں پلتے محبت کے الوہی جذبے سے لے کر معاشرے میں پنپتے ناسوروں تک سب کچھ لکھ لینا چاہتا ہے لیکن اس کے ہاتھ بندھ جاتے ہیں جب اس کو کچھ خاص موضوعات زیر قلم لانے سے روک دیا جاتا ہے۔میری تو شروعات ہے سو ابھی اس کرب کا سامنا اتنا نہیں ہوا۔
عباس بھٹی
سوال: لکھنا کب اور کیسے شروع کیا…کسی سے متاثر ہو کر یا ڈائجسٹ اور رسالے پڑھ پڑھ کے خود بھی لکھنے لگیں؟
فرح: میں نے کچی عمر سے لکھنا شروع کیا تھا۔اس عمر کے حساب سے تحریر میں روانی اور پختگی تھی جس کی وجہ میرا مطالعہ ہی تھا۔نا صرف ڈائجسٹ بلکہ ناول اور سفر نامے۔ اخبارات کے ادارتی صفحات اردو میگزینز اور جو ہاتھ آتا پڑھ لیتی تھی۔
سوال: زیادہ تر کس موضوع پر لکھتی ہیں‘ محبت کے موضوع پر یا سماجی ومعاشرتی موضوعات پر ؟
فرح: مجھے سماجی موضوعات پر لکھنا اچھا لگتا ہے اور محبت سماج کا ایک اہم حصہ ہے تو وہ خود بخود تحریر میں چلی آتی ہے۔یہاں میں محبت کی بات کر رہی ہوں جو ایک آفاقی جذبہ ہے ضروری نہیں وہ مرد و زن کے درمیان ہی ہو۔
سوال: آپ کا کوئی افسانہ یا ناول یا شاعری جو آپ کی پہچان بنے ہوں اور آگے بڑھنے میں مدد کی ہو؟
فرح: میری شاعری کافی پسند کی گئی پھر نثر کی طرف آئی تو یہاں بھی پزیرائی ملی۔
ریا ایمان
سوال: آپ کی کہانیوں کے موضوع کس طرح کے ہوتے ہیں اور آپ پڑھنے والوں سے کیا امید کرتی ہیں؟
فرح: سماجی موضوعات اور پڑھنے والوں سے توقع کرتی ہوں کہ وہ میری تحریر میں دیئے گئے مثبت پیغام کو سمجھیں۔
سوال: لکھنے کے لیے آپ کا کوئی اصول جس سے نئے لکھنے والوں کو بھی فائدہ ہو؟
فرح: ایک ہی اصول ہے دیانت داری۔نہ کسی کو دھوکہ دو نہ کسی تذلیل کا سامنا ہو۔
انعم خان
سب سے پہلے تو تمہارے اور تمہارے قلم کے لیے بے شمار دعائیں‘ ہر گزرتے دن کے ساتھ اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ۔
سوال: کبھی کسی کردار میں اپنا آپ لکھنے کی کوشش کی ہو ، جیسے اسکول کالج کا کوئی واقعہ ، اپنی کوئی خاص عادت ، کوئی ایک خاص لمحہ جو ہمیشہ دل و دماغ کو خوشگوار رکھے‘ آپ کو سکون دیتا ہو‘ کسی کردار نے آپ کی ڈیمانڈ کی کہ مجھے اپنا آپ سونپ کر لکھو ؟
فرح:میرے لیے اپنے آپ کو کسی کردار میں لے کر آنا بہت مشکل ہے۔شعوری کوشش کبھی نہیں کی ہاں لاشعوری طور پر کبھی کوئی جھلک آگئی ہو تو الگ بات ہے۔ باقی میری سوچ میرے خیالات تو ہوتے ہی ہیں کرداروں میں لیکن منفی رویے لکھنے پڑ جائیں تو ان کو ذہن میں رکھ کر لکھتی ہوں پھر سوچ میری ہوتی ہے نہ خیالات۔ ابھی تک تو کسی کردار نے مجھ سے اپنا آپ سونپنے کی ڈیمانڈ نہیں کی۔
سوال: کہانی کا کلائیمکس لکھتے وقت کبھی سوچا کہ یوں لکھا تو پڑھنے والے بور ہوں گے، یا پسند نہیں کریں گے۔ رائیٹر وہی لکھتا ہے جو کہانی کی ڈیمانڈ ہوتی ہے لیکن پھر بھی قارئین کی سوچ کو مدِ نظر رکھتے ہوئے آپ نے کبھی لکھا ؟
فرح:کہانی کا کلائمیکس میں اس کی بنت کے حساب سے کرتی ہوں اور یہ نہیں سوچتی کہ قاری بور ہوگا یا نا پسند کرے گا۔مجھے لگتا ہے جب میں کلائمیکس سے مطمئن ہوں تو قاری بھی ہوجائے گا۔
سوال: رائیٹر قلم کے ذریعے کس حد تک معاشرے میں اپنا کردار ادا کرتا ہے؟
آج کل فیس بک، رائیٹرز اور ریڈرز کو بہت قریب لے آیا ہے۔ آپ اسے کس نظر سے دیکھتی ہیں؟
فرح: رائٹر کے پاس ایک قلم ہی تو ہوتا ہے جس کے ذریعہ وہ معاشرے میں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔قلم ایک امانت ہے اور ایک رائٹر کو یہ شعور ہونا چاہیے کہ اس عظیم امانت کو مثبت انداز میں کام میں لانا چاہیے۔
ریمل آرزو
سوال: آنچل و حجاب سے آپ کا تعارف کب اور کیسے ہوا تھا؟
فرح: ڈئیر آنچل اور حجاب سے تعارف باقاعدہ ایک سال قبل اسی فورم پر ہوا اس سے پہلے میں آنچل ڈائجسٹ بڑے شوق سے پڑھا کرتی تھی پر لکھنے کا ارادہ اس ادارے کے با اخلاق اور فرینڈلی لوگوں کو دیکھ کر ہوا۔
سوال: شاعری اور افسانہ نگاری میں سے زیادہ لگاؤ کس سے ہے؟
فرح: شاعری میری خوشی ہے اس کو لکھ کر مجھے مزہ آتا ہے باقی افسانہ نگاری میرا شوق ہے جو اب شوق سے بڑھ کر میرا جنون بنتا جارہا ہے۔
سوال: آپ کی کتابوں کے انتساب کس کے نام ہیں؟
فرح: میری شاعری کی کتاب کا انتساب میں نے اپنی پیاری ماں کے نام سے منسوب کیا ہے جن کی حوصلہ افزائی تب سے میرے ساتھ ہے جب سے میں نے پہلا شعر کہا اور پہلی کہانی لکھی۔ نثر کی کتاب کا انتساب باہمت و باوفا مشرقی لڑکیوں کے نام ہے۔
رفعت ورڈز ورتھ
سوال: آپ کن موضوعات پر کہانیاں لکھنا پسند کرتی ہیں؟
فرح: مجھے معاشرتی موضوعات پر لکھنا اچھا لگتا ہے۔ ہمارے آس پاس کہانیاں بکھری پڑی ہیں۔ ضرورت ان کو عمدہ طور پر زیر قلم لانے کی ہے۔
سوال: افسانہ ناول یا ناولٹ میں کیا لکھنا پسند ہے؟
مجھے افسانہ لکھنے میں مزہ آتا ہے۔
ام ایمان
سوال: آپ کتنے دنوں میں ایک افسانہ مکمل کر لیتی ہیں؟
فرح: کبھی تو ایک ہی نشست میں لکھ لیتی ہوں کبھی ایک ماہ بھی لگ جاتا ہے۔یہ وقت اور موڈ پر انحصار کرتا ہے۔
سوال: آپ اکیلے بیٹھ کر آسانی سے لکھ لیتی ہیں یا کوئی بھی آس پاس ہو آپ کو مسئلہ نہیں ہوتا؟ شاعری یا افسانہ لکھتے وقت آپ کے تصور یا تخیل میں کون ہوتا ہے؟
فرح: اگر میرا ذہن کسی کہانی پر اپنا مکمل ہوم ورک کرچکا ہو تو پھر مجھے آس پاس کے ماحول سے کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔
شاعری تو بے ساختہ آمد کا نام ہے کوئی بات کوئی واقعہ کوئی تصویر یا کوئی لہجہ دل کو چھو جائے یا دل دکھا دے تو الفاظ خود بہ خود شاعری کا روپ دھار لیتے ہیں۔
ایمان ذیشان
سوال :سندھی ادب سے لگاؤ؟
فرح: سندھی ادب اچھا لگتا ہے بڑی بے ساختگی اور حقیقت پسندی ہے سندھی ادب میں۔
سوال: پسندیدہ سندھی شاعر‘ شاعرہ‘ مصنفین؟
فرح: سندھی شاعری میں شاہ صاحب کا کلام بہت عمدہ اور خوب صورت ہے ان کے بعد شیخ ایاز میرے پسندیدہ شاعر ہیں۔
سوال: سندھی میں کچھ تحریر کیا کوئی شاعری افسانہ ناول وغیرہ ؟
فرح: سندھی میں شاعری کی ہے لیکن بہت کم اب ارادہ ہے اس میں آگے آنے کا۔
عائشہ پرویز صدیقی
تیری تحریر کی سجاوٹ بنے تیرا مقدر
سج جائے تیری زندگی تیری تحریر کی مانند
لکھنا ایک ایسا عمل ہے جس میں صفحہ قرطاس پرزندگی کے وہ رنگ بکھیرنے کی کوشش کی جاتی ہے‘ جن کی آرزو ہوتی ہے۔
ناول میں خوشی، دکھ، آنسو، بے بسی، امید، نا امیدی، شکر، ناشکری، یقین، گمان، اعتبار، بے اعتباری، محبت، نفرت، خوش گمانی، غرض یہ کہ احساسات و جذبات کے کئی رنگ ہوتے ہیں جو زندگی کو خوب صورت بناتے ہیں اور بدصورت بھی کردیتے ہیں کہ رشتہ کوئی بھی ہو محبت، خلوص، دوستی، خون…ہر ایک رشتہ کو اعتبار و یقین کی اشد ضرورت ہوتی ہے کہ اعتبار کے بناء رشتے بے رنگ اور زندگی بے رونق ہوجاتی ہے۔
سوال: آپ کو کس ناول سے خاص لگاؤ رہا ہے کون سا ایسا کردار ہے جس کے زیر اثر رہی ہوں؟
فرح: تحریر کی بات کروں تو جو تحریر زیر قلم ہوتی ہے اس کے سب کرداروں سے لگاؤ ہوجاتا ہے ایک سحر سا سوار ہوتا ہے جو قلم رکھنے پر ہی ٹوٹتا ہے۔
سوال: پڑھنے والے کی نظر میں اور لکھنے والے کی نظر میں فرق کیا ہے؟
فرح: پڑھنے والا اگر لکھنے والے کے محسوسات تک پہنچ جائے جو اس کے کسی کہانی کو تحریر کرتے وقت تھے تو یہ لکھنے والے کے لیے بڑی کامیابی ہوتی ہے۔ اکثر قاری بہت زیرک اور حساس ہوتے ہیں جو بین السطور پیغام تک رسائی حاصل کرلیتے ہیں کچھ سطحی نظر سے پڑھ کر رکھ دیتے ہیں تو فرق تو ہوتا ہے نظریات کا محسوسات کا۔
سوال: وقت انسان کو کچھ نہ کچھ دے جاتا ہے۔ آپ پیچھے مڑکر دیکھتی ہیں تو اپنے دامن میں کیا پاتی ہیں۔ کوئی تجربہ، کوئی احساس، کوئی سبق جو آپ کی تحریر‘ زندگی نے آپ کو دیا ہو؟
فرح: زندگی تو وہ استاد ہے جو ہر گھڑی ایک نیا سبق دینے پر کمر بستہ رہتی ہے۔ تجربہ اچھا ہو یا برا کوئی نہ کوئی سبق ضرور چھوڑ جاتا ہے۔ میں نے بہت کچھ سیکھا اور بہت کچھ سیکھنا باقی ہے۔ رہی بات پیچھے مڑ کر دیکھنے کی تو اپنے ساتھ اللہ کی رحمت اور کرم ہی نظر آتا ہے۔
ام ربیعہ
سوال: اگر آپ کسی وجہ سے نہیں لکھ پاتیں تو کیا کرتی ہیں میرا مطلب ہے کہ آپ کی کیفیت اس وقت کیا ہوتی کے آپ لکھنا چاہتی ہیں مگر لکھ نہ پائیں؟
فرح: بہت برا محسوس ہوتا ہے اللہ کا احسان جس نے راہوں کو سہل بنا دیا۔
سوال: اگر آپ لکھاری نہ ہوتی تو کیاہوتیں؟
فرح:اگر لکھاری نہ ہوتی تو سمپل ہاؤس وائف ہوتی۔
سوال: اگر شریک حیات ہی زندگی مشکل کردے تو اس مشکل سے کیسے نمٹا جائے؟
فرح: اللہ مشکلات سے نکالنے والا ہے شریک حیات کے لیے ہدایت کی دعا اور اچھے وقت کا انتظار ہی بہترین حل ہے کیونکہ وقت کبھی ایک سا نہیں رہتا آج ان کی حکمرانی ہے تو کل بیوی کی بھی ہوگی صبر شرط ہے۔
شفقت شاہین
سوال: کس موضوع پہ آپ کی خواہش ہے کہ آپ اس پہ لکھیں جس پہ ابھی تک لکھا نہ ہو یا لکھا ہو تو دوبارہ لکھنا چاہتی ہیں؟
فرح: ہر موضوع پر ہی طبع آزمائی کی جاچکی ہے۔ ہر لکھاری کا اپنا انداز بیاں موضوع کو منفرد بناتا ہے ورنہ یہاں کچھ بھی نیا نہیں۔
سوال: کبھی ایسا ہوا کہ آپ نے کوئی لائن پڑھی ہو اور اس پہ کہانی لکھ دی ہو؟
فرح:میں ایک لفظ دیکھ کر بھی کہانی لکھ سکتی ہوں بشرط وہ مجھے کلک کرجائے۔
سوال: آپ کی کہانی کا کوئی کردار جو آپ کو بہت پسند ہو ؟
فرح: مجھے ہر وہ کردار پسند ہے جو مضبوط کردار کا اور مخلص ہو۔
تانو جہان
سوال: نئے لکھنے والوں میں کس نے متاثر کیا؟
فرح: نئے لکھنے والوں میں بہت سے نام میری فرینڈ لسٹ سے جڑے ہیں جن سے مجھے محبت ہے اور ان سے میں متاثر ہوں سو سب کے نام لینا ممکن نہیں۔
صبا ایشل
سوال: ایک وقت ہوتا ہے جب ہمیں لکھنے کا صرف شوق ہوتا ہے یا کہہ لیجئے حسرت ہوتی ہے کیسے اور کب علم ہوا کہ آپ لکھ سکتی ہیں؟
فرح: میں نے جس عمر میں ٹوٹا پھوٹا ہی سہی لکھنا شروع کیا تب شوق تھا نہ حسرت۔بس ایک حیرانگی تھی کہ میں لکھ سکتی ہوں پھر رفتہ رفتہ یہ حیرت خوشی میں بدل گئی اور شوق جاگ اٹھا کہ اور اچھا لکھوں۔
سوال: کسی بھی شخص کی صلاحیتوں کو باہر لانے کے لیے کسی ایک شخص کا بالواسطہ یا بلاواسطہ تعلق ضرور ہوتا ہے۔ وہ پہلا خیال‘ کردار یا شخص جس نے آپ کو قلم اٹھانے پر مجبور کیاوہ کیا تھا یا کس قریبی رشتے نے آپ کو یہ احساس دلایا کہ آپ بھی لکھ سکتی ہیں؟
فرح: میری امی نے میری بہت حوصلہ افزائی کی۔ان کو خود بھی مطالعہ کا بہت شوق تھا اور مجھے بھی پڑھنے پر اکساتی تھیں۔وہ سمجھتی تھی کہ مطالعہ سوچ کو وسعت اور خیالات کو مثبت راہ دکھاتا ہے۔میں شروع سے کم گو اور اپنے آپ میں گم رہنے والی لڑکی تھی سو وہ مجھے جب کسی جگہ خاموش بیٹھے دیکھتی کوئی نا کوئی کتاب تھما دیتیں پھر جب میں نے لکھنا شروع کیا تو اپنا ہر شعر اپنی ہر تحریر ان کو پڑھ کر سناتی وہ خوش ہوتی سراہتی ہمارے درمیان دوستی کا انمٹ رشتہ ہے اللہ ان کو صحت اور لمبی عمر دے آمین۔
سوال: کہانی لکھنے کے لیے کیسا ماحول درکار ہوتا ہے؟
فرح:کہانی لکھنے کے لیے ماحول کے ساتھ میرے موڈ کا بڑا عمل دخل ہے ماحول سازگار ہو اور موڈ نہ بنے تو بالکل نہیں لکھ سکتی۔اور موڈ بن جائے تو ماحول کیسا بھی ہو پروا نہیں کرتی اور لکھنا شروع ہوجاتی ہوں۔
سوال: کہانی شائع ہونے کے لیے انتظار تو کرنا ہی پڑتا ہے۔ یہ وقت کیسے گزرتا ہے؟
فرح: انتظار بہت مشکل ہے لیکن اس کے سوا چارہ بھی کوئی نہیں۔میں پھر ایک ہی کہانی کو لے کر نہیں بیٹھ جاتی کہ کب چھپے گی بلکہ میں دوسری تحریریں لکھنا شروع ہوجاتی ہوں۔
سوال: آپ کی تحریریں ماشاء اللہ نظر آتی رہتی ہیں اس کو سامنے رکھتے ہوئے محنت‘سفارش یا قسمت میں سے کسے چنیں گی؟
فرح: قسمت اور محنت دونوں ضروری ہیں۔
سوال: آج کل جو نئے رائٹرز آرہے ہیں ان میں بچپنا بہت زیادہ نظر آتا ہے دو کہانیوں کے بعد وہ سینئرز لکھاریوں تک کی عزت لحاظ اور مروت تک بھول جاتے ہیں ایسے لکھاریوں سے کیا کہنا چاہیں گی۔ ؟
فرح:سینئرز بہت محترم ہیں ہم نے ان کی تحریریں پڑھ کر لکھنا سیکھا سو ان سے بے ادبی یا بدتمیزی کرنا بہت بری بات ہے۔ہم ان کو عزت دیں گے تو ہمیں عزت ملے گی کہ ہمیں بھی کبھی ان کی جگہ آنا ہے۔ نئے لکھاریوں کو چاہیے وہ دس تحریریں لکھ لیں تو خود کو توپ چیز نہیں سمجھنا چاہیے۔
سوال: ہمارے گروپ میں آپ ایک عرصے سے ہیں پینل کے ایڈمنز راؤ رفاقت ‘ حنا مہر‘ ماورا طلحہ اور صبا ایشل کو بطور ایڈمن آپ نے کیسا پایا؟ سعیدہ نثار آپا اور طاہر قریشی بھائی کے لیے کوئی ایک جملہ؟
فرح:یہ ایک آئیڈیل گروپ ہے جس کے ایڈمنز صبا ایشل ‘راؤ رفاقت‘ حنا مہر اور ماورا طلحہ انتہائی تعاون کرنے والے اور با اخلاق ہیں۔ یہ اس آفیشل گروپ کو بخوبی چلا رہے ہیں۔
سعیدہ آپی اور طاہر قریشی صاحب کے لیے کچھ لکھنا سورج کو چراغ دکھلانے کے مترادف ہے۔ اتنے ادب پرور اور حسن اخلاق سے مزین ہیں کہ دونوں کے لیے دل سے دعا نکلتی ہے اللہ ان کو درازی عمر اور صحت کاملہ عطا فرمائے آمین اور یہ دونوں ہمیشہ اس ادارے کے سر پر تاج کی طرح براجمان رہیں۔
سوال: نئے لکھنے والوں اور قارئین حجاب کے لیے کوئی خاص پیغام؟
فرح:نئے مصنفین سے یہی کہوں گی کہ وہ کبھی ہمت نہ ہاریں اور یقین رکھیں کہ جس اللہ نے ان کو لکھنے کی صلاحیت دی ہے وہ ان کے لیے آگے بڑھنے کے راستے بھی کھولے گا صبر اور محنت شرط ہے اور حجاب کے قارئین کے لیے یہ پیغام کہ مطالعہ کو اپنی عادت بنالیں اس سے ذہن کو مثبت سوچ اور خیالات کو وسعت ملتی ہے۔

Show More
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close