hijaab Dec-17

آغوش مارد(ماں کے حوالے سے اپنے خیالات)

اقرا جٹ

اقرأ جٹ
تو میری سانسوں کی دھڑکن تو میری خوش بو کا نام
تجھ سے ہے عزت میری تجھ سے ملا ہے احترام
تیرے لب سے جو نکلتی ہے دعا مقبول ہے
مانگتی ہوں تجھ سے میں، تیری خوشی کا انتظام
جس کو ملی تیری دعا جنت کا وہ حقدار ہے
جس کو ملی ہے بد دعا تیری، دوزخ اسی کا ہے مقام
بیت جائے عمر میری تیری خدمت میں تمام
میری ہر تکلیف میں بے چین ہوجانا تیرا
میں ادا کیسے کروں کلمات میں تیرا مقام
دیکھ لے جو میری آنکھوں میں جھلک تکلیف کی
نیند اڑ جائے تیری اور ختم ہوجائے آرام
کاش میں پورا کروں تو مجھ سے جو خواہش کرے
تجھ تلک آنے نہ دوں میں تھام لوں تیرے آلام
یا الٰہی ہمیں رہے حاصل ہماری ماں کی دعا
ہمارے سروں پر ان کی شفقت کا رہے سایہ دوام
رات کا آخری پہر دھیمے دھیمے طلوع سحر کی جانب گامزن ہے الفاظ کا جوڑ توڑ اور رات کی پر فسوں خاموشی دونوں مل کر الفاظ کو بھلے انداز میں مرتب کرنے پر میرے معاون ثابت ہو رہے ہیں پورے عالم پر چھائی ہوئی نامعلوم سی سکوت کی دبیز چادر میرے احساسات میں طلاطم خیز موجوں کو جنم دے رہی ہے انہی احساسات کی طلاطم خیز لہروں سے الفاظ ٹکڑاتے ہوئے صفحہ قرطاس پر بکھرتے جا رہے ہیں میرے قلب و جگر میں جاگزین آغوش مادر پر بنی ہوئی موتیوں کی مالا کب سے منتظر ہے کہ کب میں اسے لفظوں کی مالا میں ڈھالوں گی مگر قلت وقت کا رونا کچھ اپنی غیر مستقل مزاجی ایک لمبے وقت سے میرے ارادوں کو منقطع کرتی آرہی ہے مگر آج دل ناداں کو ڈپتے ہوئے قلت وقت اور غیر مستقل مزاجی سے عارضی چھٹی لے کر آغوش مادر کے سلسلے میں اپنے احساسات کی ترجمانی ٹوٹے پھوٹے الفاظ میںکرنے کے لیے اپنی پیاری بہنوں کی خدمت میں حاضر ہوں عزیزی حجاب کائنات کا سب سے خوب صورت رشتہ اور حسین شخصیت ماں ہے پریم نگر حجاب کسی نے نقطہ اٹھایا ماں کیا ہے؟ قدرت نے کہا۔ میری جانب سے قیمتی اور نایاب تحفہ، استاد نے کہا ایک ایسی ہستی جو اولاد کے لیے ایک بہترین درسگاہ ہے جنت نے کہا اتنی عظمت والی ہستی کہ میں اس کے قدموں تلے ہوں شاعر نے کہا ایک ایسی غزل جو سننے والے کو رلا دے۔ دل نے کہا ایک ایسی راز داں ہستی جس کا قلب محبت کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر ہے آغوش مادر ہی بچوں کی اصل درسگاہ ہے جو باقی درس گاہوں سے جدا گانہ منفرد و ممتاز ہے خوش نصیب ہیں وہ عورتیں جو ماں کہلواتی ہیں کہتے ہیں کہ عورت مکمل تب ہوتی ہے جب وہ ماں بنتی ہے۔ ماں دنیا کی وہ واحد ہستی ہے جس کی لغت میں اولاد کے لیے ناراضگی کا لفظ ہی موجود نہیں اس کی خود ساختہ ناراضگی میں بھی اولاد کے لیے بے پناہ چاہت اور اولاد کی بھلائی پوشیدہ ہوتی ہے من موہنے حجاب ماں کی محبت تو آسمان کی وسعتوں کو چھو لیتی ہے ماں وہ واحد ہستی ہے جب یہ فرش پر چلتی ہے تو اس کی آہٹیں عرش سے آتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں ماں مجھے الفاظ سے کھیلنا نہیں آتا مگر اتنا ضرور کہوں گی کہ میری کامیابیوں کا راز تیری دعائوں میں پنہاں ہے بقول شاعر
گر پیار کرتا ہے نیازی زمانہ مجھ سے
یہ میری ماں کی دعائوں کا اثر لگتا ہے
آغوش مادر ظل شجر ہے تپتے صحرا میں آغوش مادر وہ احساس جو کہ روح کی تسکین، آنکھوں کی ٹھنڈک، دل کا چین، سانسوں کا قرار اور وہ انمول نگینہ ہے جس کی دنیا میں کوئی قیمت نہیں ہے وہ ہستی جو صبر و تحمل، ایثار و قربانی، شفقت و محبت کا انمول نمونہ ہے وہ دعا جو کہ دل کا سفینہ رحمتوں کا خزینہ جو رد نہ ہو عرش بریں سے وہی بے مثال قرینہ ہے وہ جزا ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں وہ جیون جس کے بغیر جیناتو زندگی بھی زندگی نہیں بو علی سینا نے کہا اپنی زندگی میں محبت کی سب سے اعلیٰ مثال میں نے اپنی ماں کی صورت میں دیکھی ہے جب سیب چار تھے اور ہم پانچ تھے تب میری ماں نے کہا مجھے سیب پسند ہی نہیں، ماں وہ ہستی ہے جو اپنے بچوں میں تفریق کے نام سے ہی نا آشنا ہے آغوش مادر تاریکی میں روشنی کا اضطرابی کیفیت میں اطمینان کا دوسرا نام ہے ماں تیری عظمت کو یہ خاک ساری کامنی لڑکی لفظوں کے جلو میں بیان کر ہی نہیں سکتی دنیا کی جتنی لائبریاں ہیں ان میں جتنی کتابیں ہیں اور ان کتابوں میں جتنے الفاظ مقید ہیں اگر تیری عظمت پرلکھوں تو یہ بھی کم پڑ جائیں مگر تیری توصیف بیان پھر بھی نہ ہوپائے ماں بہت قیمتی اثاثہ ہے ان کی قدر ان کو ہی ہوتی ہے جو اس کی شفقت سے محروم ہوچکے ہیں اور جو نہیں اس ثمر والے شجر کے سائے تلے زندگی کے لمحات کو جی رہی ہیں ان سے اتنا ہی کہوں گی عزیزی بہنوں
ہمیشہ ماں باپ کی خدمت کرو
کتنے روز یہ بوڑھے شجر نہیں معلوم
اب اجازت چاہوں گی میں اپنی فیملی حجاب سے دعائیہ کلمات کے ساتھ اللہ پاک ہم سب کی مائوں کو قیامت کی سحر ہونے تک حیات و جاوداں رکھے ان کو ہماری جانب سے دلی سکون و عافیت عطا فرمائے اور ان کی صحت و تندرستی کی نعمت سے مالا مال کرے، آمین۔

اقرأ جٹ
میری ماں میری پیاری ماں
تجھ پر دل جاں ہیں قرباں
ماں کا وجود اس دنیا میں ہمارے لیے بہترین سہارا ہے ماں خود گیلے پر سو کر اپنے بچے کو سوکھے پر سلاتی ہے خود بھوکی رہ لیتی ہے پر اپنے بچے کا پیٹ بھر دیتی ہے ہر اذیت دکھ خود سہتی ہے اور اپنے بچے پر آنچ نہیں آنے دیتی ماں اپنے بچے کو خود ڈانٹ لیتی ہے تاکہ اس کے لخت جگر کو کوئی دوسرا وجود نہ ڈانٹے ماں کا احسان کوئی نہیں دے سکتا ماں کی دعائیں انسان کو عروج پر پہنچا دیتی ہیں ماں کی بد دعا آسمانوں کا کلیجہ چیر دیتی ہے میری ماں بھی دنیا کی عزیز ترین مائوں میں سے ایک ہے جو ہمارے حق کی خاطر لڑتی ہے سب خود سہہ لیتی ہے مگر ہمیں اف نہیں کہنے دیتی آئی لو یو سو مچ امی جی دنیا میں جب سب رشتے ساتھ چھوڑ جاتے ہیں پھر بھی ان کا رشتہ ساتھ ہوتا ہے ماں کی دعا کامیابیوں کا راز ہوتی۔ ماں کی محبت سمندر کی گہرائی سے زیادہ گہری ہوتی۔ ریت کے ذروں سے زیادہ اور پھول سے زیادہ ترو تازہ، لطیف اور خوش بودار ہوتی ہے ماں کی خوب صورتی اس کی محبت ہے اور میری ماں دنیا کی خوب صورت ماں ہے (محمد علی جوہر) ماں کی آغوش انسان کی پہلی درسگاہ ہوتی ہے ہر مصیبت، دکھ درد غم و تکلیف میں جو سب سے پہلے یاد آتی ہے وہ ماں ہوتی ہے ماں کو یاد کرنے سے اسے خوش رکھنے سے دلی سکون ملتا ہے ماں کی خوشنودی دنیا میں باعث عزت اور آخرت میں باعث نجات ہے (شیخ سعدی) جب ہمارے پاس ماں جیسا انمول، بے مثال تحفہ موجود ہو تب ہم ان کی قدر نہیں کرتے ان کی دعائیں نہیں لیتے، بوڑھے ہونے پر انہیں سڑکوں پر اولڈ ہومز میں منتقل کردیتے ہیں اور یہ ہماری بد قسمتی ہے ماں کی نافرمانی خدا کو سخت ناپسند ہے ماں کی نافرمانی کرنا کبیرہ گناہوں میں سے سب سے بڑا گناہ ہے (حدیث نبویﷺ) ماں کے بغیر گھر ایک قبرستان کی مانند معلوم ہوتا ہے جب مائیں اس دنیا سے رخصت ہوجاتی ہیں لوگ بے چین ہوجاتے ہیں انہیں سکون نہیں ملتا کیونکہ ان کے لیے کوئی ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنے والا نہیں ہوتا ماں کا غصہ ہمارے لیے بہت فائدہ مند ہوتا ہے ان کے پیار کا ایک حصہ ہوتا ہے ماں کا دامن ساون کی طرح ہوتا ہے ماں کا آنچل دھوپ میں بادل کی طرح ہم پر موجود ہوتا ہے ماں کا رتبہ بہت بلند ہے ماں چاہے ان پڑھ ہو مگر پوری زندگی کا سبق سکھاتی ہے، دنیا کی ٹھوکروں، ہوائوں سے ہمیں بچاتی ہے جن کی مائیں موجود ہیں خدارا ان کی خدمت کریں ان کا لمس، شفقت محسوس کریں، ماں کی محبت کو محسوس کریں ماں کی خدمت کریں ہر گناہ کی معافی مل جائے گی۔
ترجمہ: اور ہم نے انسان کو حکم دیا اپنے ماں باپ سے بھلائی کرے۔‘‘
ماں کی نافرمانی کرنے والا جنت میں داخل نہ ہوگا (حدیث نبویﷺ)
میری طرف سے ہر ماں کو اس کی عزت و عظمت کو سلام۔ میری دعا ہے کہ اللہ رب العزت سب کے والدین کو صحت و تندرستی عطا فرمائے ان کا سایہ ان کے بچوں پر ہمیشہ قائم رکھے، آمین۔
میری ماں بہت اچھی عظیم ماں ہیں میری ڈھیروں دعائیں اپنی امی جان کے لیے میری پیاری ماں اللہ پاک آپ کو ہمیشہ خوش رکھے اور لمبی زندگی عطا فرمائے اور کبھی کسی کا محتاج نہ کرے آمین لکھنا بہت کچھ چاہتی ہوں مگر لکھ نہیں پا رہی اتنی بڑی ہستی کے لیے میرا قلم چاہے جتنا بھی لفظ ’’ماں‘‘ کے لیے لکھ لے حق پھر بھی نہیں ادا کرسکتا۔ جگ جگ جیو میری امی جان اللہ حافظ۔
ماں دل کی راحت ہے
ماں جنت کا راستہ ہے
ماں مہکتا آنچل ہے
ماں انمول ہستی ہے
ماں رہبر و رہنما ہے
ماں کی محبت
سمندر کے پانی اور گہرائی سے بھی زیادہ ہے
ماں کی محبت ریت کے ذروں سے بھی زیادہ ہے
ماں کی محبت صحرا میں سمندر ہے
ہر ماں کو
میرا سلام میرا پر خلوص سلام

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close