hijaab Dec-17

رخ سخن

سباس گل

زریں قمر صاحبہ اردو ادب کا ایک ایسا چمکتا ستارہ ہیں جن کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں انہیں ایک مصنفہ، شاعرہ، گلوکارہ اور بہترین اسکول ایڈمنسٹریٹر کے طور پر ہم سب ہی جانتے ہیں زرین قمر نے 1969ء سے اپنے قلمی سفر کا آغاز کیا ان کی پہلی تحریر ہمدرد نونہال میں شائع ہوئی اس کے بعد انہوں نے اردو دائجسٹ، حکایت ڈائجسٹ، آنگن لاہور، سسپنس، ایکشن، نیا رخ اور آنچل ڈائجسٹ میں لکھا 1976ء میں کراچی یونیورسٹی سے جرنلزم میں ماسٹرز کرنے کے بعد بحیثیت سب ایڈیٹر آنچل ڈائجسٹ سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔ یہ ایک طویل عرصہ ریڈیو پاکستان سے وابستہ رہیں اور بے شمار انعامات اور اعزازات حاصل کیے ریڈیو کے لیے کئی پروگراموں کے اسکرپٹ لکھے رسالوں کے لیے ان گنت، افسانے، ناولٹ، ناولز، سچی کہانیاں لکھیں اب تک ان کے لگ بھگ چھ ہزار صفحات شائع ہوچکے ہیں کشمیر اور غزہ کے حالات پر آپ کی حساس تحریریں دل کو چھو لینے والی ہیں ویب سائٹ پر ای بک کی صورت میں موجود ہیں۔ www.urducolors.com
تعارف کے بعد اب ہم زرین قمر صاحبہ سے باقاعدہ انٹرویو شروع کرتے ہیں میرا پہلا سوال ہے۔
س: آپ کے دل میں کہانیاں لکھنے کا خیال کیسے آیا؟
ج: سباس ڈیئر بات یہ ہے کہ میں نے جس گھرانے میں آنکھ کھولی وہاں کے افراد کا ذریعہ معاش لوگوں کو تعلیم و تربیت سے آراستہ کرنا تھا میرے نانا، ماموں، خالائیں، پھوپھیاں سب ہی اس پیشے سے کسی نہ کسی قدر منسلک تھے پرنسپل، ٹیچر یا اسکول و کالج کی ایڈمنسٹریشن سے تعلق تھا جب میں نے ہوش سنبھالا تو دیکھا کہ میرے والدین اپنی ڈائریز میں شعر و شاعری کرتے ہیں ڈائریز میں اس لیے کہا کہ کبھی بھی انہوں نے اپنا کلام شائع کرانے کے بارے میں نہیں سوچا میری والدہ نے ایک ناول بھی تحریر کیا تھا وہ روز رات کو گھر کے کاموں سے فارغ ہونے کے بعد سونے سے پہلے اپنے ناول کے کچھ صفحات ضرور لکھتی تھیں بعد میں جب ناول مکمل ہوگیا تو انہوں نے مجھ سے اس کو خوش خط لکھوایا اور یکجا کیا لیکن اس کو بھی شائع نہ کرواسکیں کیونکہ کچھ عرصے بعد ہی ان کا انتقال ہوگیا تھا کہنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ جب بچپن سے یہ ماحول ملا کہ ہر وقت لکھنے پڑھنے ہی کی باتیں ہوتی تھیں تو میری طبیعت میں بھی وہی چیز عود کر آئی بچپن میں گڑیاں کھیلنے کے بجائے میں نے اور میرے بھائی نے ایک ادبی لائبریری بنائی جس میں ساری ان تمام کہانیوں کی کتابیں رکھیں جو ہمارے والدین ہمیں لا کر دیا کرتے تھے اور ہم نے پڑھ لی تھیں چنانچہ اب اپنے دوستوں اور سہیلیوں کو پڑھوانے اور ایک شغل کے طور پر لائبریری بنائی گئی تھی ہم نے کہانی کی کتابوں سے ہی پڑھا اور نئے نئے الفاظ سیکھے کیونکہ جب کوئی مشکل لفظ کہانی میں آجاتا تو ہماری کہانی وہیں رک جاتی تھی اور اس لفظ کا مطلب جاننا ضروری ہوتا تھا تاکہ اندازہ ہو کہ کہانی آگے کیسے بڑھ رہی ہے پھر اس لفظ کا تلفظ اور مطلب جاننے میں لگ جاتے تھے اور جب یہ مسئلہ حل ہوجاتا تو کہانی کا سلسلہ آگے بڑھتا اس طرح ہمیں یہ اطمینان ہوتا کہ کہانی ہم نے پوری پڑھ اور سمجھ لی ہے کیونکہ پھر ہم سے اس کہانی کے بارے میں سوالات پوچھے جاتے تھے جن میں یہ سوال ضرور ہوتا تھا کہ ہم نے اس کہانی سے کیا سیکھا ہماری نظر میں کہانیوں کی بہت اہمیت تھی چنانچہ ہمارا بھی دل چاہا کہ ہم بھی کہانیاں لکھیں پھر میں نے اور میرے بھائی نے الگ الگ کاپیاں بنائیں جن پر ہم کہانیاں لکھا کرتے تھے اس وقت ہم پرائمری اسکول میں زیر تعلیم تھے پھر آہستہ آہستہ وقت گزرتا گیا کلاسیں بڑھتی گئیں میرے بھائی ایڈورٹائزنگ کی طرف چلے گئے اور میں نے میٹرک کے بعد باقاعدہ لکھنے کا کام شروع کردیا ساتھ ساتھ تعلیم بھی جاری رہی جب ’’ہمدرد نونہال‘‘ میں میری پہلی کہانی ’’موتی کی تلاش‘‘ شائع ہوئی تو حکیم محمد
سعید صاحب حیات تھے انہوں نے مجھے خط لکھا اور اس کہانی کی بہت تعریف کی جس سے میری حوصلہ افزائی ہوئی اور میں نے فوراً دوسری کہانی ’’روشنی کی رہبر‘‘ لکھ کر بھیج دی جو کہ انگریزی ادب سے ترجمہ تھی اور مشہور زمانہ ’’ہیلن کیلر‘‘ کے بارے میں تھی جو دو سال کی عمر میں بیمار ہونے کے بعد گونگی، بہری اور اندھی ہوگئی تھی وہ میرا انگریزی ادب سے پہلا ترجمہ تھا جس کے بعدمجھے بہت پزیرائی ملی اور انٹر میں تھی تب میں نے روزنامہ جنگ میں ’’بابائے اردو مولوی عبدالحق، سر سید احمد خان، علامہ اقبال وغیرہ پر آرٹیکلرز لکھے جو یکے بعددیگرے شائع ہوگئے اور پھر لکھنے کا باقاعدہ سلسلہ چل نکلا گویا۔
درد بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔
س: زرین قمر صاحبہ آپ اپنی کالج لائف کے بارے میں کچھ بتائیے؟
اس وقت تک میں بہت لا ابالی تھی خواہ کالج کی غیر نصابی سرگرمیاں یا نصابی میں بغیر سوچے سمجھے ہر سرگرمی میں حصہ لے لیتی تھی چنانچہ ساری کالج لائف میں بہت ایکٹیو رہی میں ایئر پورٹ پر واقع علامہ اقبال کالج میں پڑھتی تھی وہاں پر طالبات کی اسٹوڈنٹس یونین کی صدر بھی بنی اور بہت دھوم دھام سے ’’ہفتہ طلبا‘‘ منایا اس موقع پر ہم نے تقسیم اسناد کی تقریب میں اس وقت کی سندھ کی گورنر محترمہ رعنا لیاقت علی کو مہمان خصوصی کے طور پر مدعو کیا میں نے کئی انعامات حاصل کیے جن میں اسناد اور شیلڈز شامل تھیں اس موقع پر بیگم رعنا لیاقت علی نے مجھے شیلڈ دیتے ہوئے کہا۔
’’آپ کی کارکردگی دیکھ کر کہا جاسکتا ہے کہ آپ مستقبل میں ضرور کامیاب شخصیت کے طور پر ابھریں گی۔‘‘
ان کا یہ جملہ اکثر میرے ذہن میں گونجتا ہے اور مجھے تھکنے نہیں دیتا۔
س: کالج کے بعد جب آپ نے یونیورسٹی میں قدم رکھا تو اسے کیسا پایا؟
وہاں کالج کی طرح زیادہ پابندیاں نہیں تھیں میں نے ماسٹرز کرنے کے لیے صحافت کے شعبے کو منتخب کیا یونیورسٹی میں ہمیں پڑھانے کے ساتھ ساتھ ایک مخصوص عرصے کے لیے ٹریننگ پر بھی بھیجا جاتا تھا مجھے اخبار خواتین کے دفتر بھیجا گیا جہاں ہمیں اس وقت کے بہترین صحافیوں اور لکھاریوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا جن میں سلمیٰ رضا، رعنا فاروقی اور حسن عابدی قابل ذکر ہیں اس ٹریننگ کے بعد پھر ہمارا تعلیمی سلسلہ مکمل ہوگیا اور ہمیں صحافت کی ماسٹرز کی سند سے نوازا گیا۔
س: آپ نے باقاعدہ صحافت میں علمی قدم کب رکھا اور کس رسالے سے آغاز کیا؟
بس ماسٹر کرنے کے بعد فوراً 76-77ء کا زمانہ تھا اور آج میں جس خواتین کے رسالے کے لیے آپ کو انٹرویو دے رہی ہوں اسی کے رہبر یعنی آنچل اس کا پہلا شمارہ آنے کی تیاریاں ہو رہی تھیں اخبار میں میں نے اشتہار دیکھا کہ خواتین کے ایک ماہنامہ کے لیے سب ایڈیٹر کی ضرورت ہے تو درخواست بھیج دی پھر انٹرویو ہوا جو مشتاق احمد قریشی صاحب (نگراں اعلیٰ) نے لیا اور ایک ہفتے بعد ہی ہمیں اپائمنٹ لیٹر مل گیا وہ ایک صحافی کی حیثیت سے میری پہلی ملازمت تھی اور میں آنچل کا پہلا شمارہ مشتاق صاحب کی نگرانی میں ترتیب دے رہی تھی۔
س: پھر لکھنے کی طرف کیسے آئیں، خاص طورسے ڈائجسٹوں کی طرف؟
وہ تو میں نے آپ کو بتایا کہ بچپن ہی سے شوق تھا اس وقت تک میں اخبارات اور رسائل میں لکھنے لگی تھی لیکن باقاعدہ خواتین ڈائجسٹ میں میں نے آنچل سے ہی لکھنا شروع کیا اس کے لیے مجھے اظہر کلیم صاحب نے اکسایا اور میری رہنمائی بھی کی وہ اس وقت نئے افق کے ایڈیٹر تھے اور میرے اور ان کے کمرے ساتھ ساتھ ہی تھے آنچل کے بعد میں نے کچھ عرصہ کرن ڈائجسٹ میں بھی سب ایڈیٹر کے طور پرملازمت کی اور پھر میری شادی ہوگئی شادی کے بعد بھی نئے افق پبلی کیشنز سے رابطہ قائم رہا اور لکھنے لکھانے کا سلسلہ چلتا رہا۔
س: آپ ایک طویل عرصے تک ادبی منظر سے غائب بھی رہیں اس کی کیا وجہ تھی؟
بس شادی کے بعد مصروفیات بدل گئیں اور باقاعدہ ایک گھریلو زندگی کا آغاز ہوا جہاں سسرال شوہر اور بچوں کے علاوہ کوئی اور دلچسپی نہیں رہی تھی میںنے وہ ذمہ داریاں خوش اسلوبی سے ادا کی اس عرصے میں بھی نئے افق پبلی کیشنز کے لیے لکھتی رہی ملازمت نہیں کی لیکن فری لانسر کام جاری رہا پھر شادی کے چودہ سال بعد میرے شوہر کا انتقال ہوگیا اور ساری ذمہ داری مجھ پر آ پڑی تب میں نے ملازمت کی اور ایک انگلش میڈیم اسکول میں وائس پرنسپل کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھالیں۔ اتفاق کی بات ہے کہ وہ اسکول بھی اس علاقے میں کوسٹ گارڈز کا پہلا اسکول تھا جب ہمارا اپائیمنٹ ہوا تو وہاں کوئی ایڈمیشن نہیں ہوا تھا اور پھر اٹھارہ سال کی محنت کے بعد آج وہ علاقے کا بہترین اسکول ہے اور ایک ہزار اسٹوڈنٹس تعلیم حاصل کر رہے ہیں میں چار سال پہلے وہاں سے ریٹائر ہوئی ہوں اور اب دوبارہ لکھنے کا آغاز کیا ہے۔
س: اب تک آپ کے کتنے ناولز آچکے ہیں؟
ناولز تو بے شمار لکھے ہیں جو رسالوں میں طویل ناول کے طور پر بعض میں قسط وار چھپ چکے ہیں لیکن ابھی کتابی شکل میں نہیں آئے ہیں ویسے میری بچوں کی کہانیوں کی ایک کتاب جلد ہی آنے والی ہے اس کا نام کتابوں کا مقدمہ ہے اس میں بچوں کے لیے سبق آموز کہانیاں جو مختلف رسالوں میںچھپی تھیں اور انہیں خاصی پزیرائی ملی تھی ان میں سے کچھ انعام یافتہ بھی ہیں۔
س: لکھنے کے علاوہ آپ کے اور کیا مشاغل ہیں؟
مجھے اچھے اور نت نئے کھانے پکانے کا شوق ہے اس کے علاوہ کڑھائی، پیٹنگ، مکرامے، بنانے کا بھی شوق ہے میں اپنے زیادہ تر کپڑے خود ہی ڈیزائن کرتی ہوں۔
س: آپ شاعری بھی کرتی ہیں اس کا خیال کیسے آیا؟
بس جب سے نثر لکھ رہی ہیں تب ہی سے شاعری بھی کر رہی ہوں دراصل نثر نگاری، شاعری، مصوری، اداکاری یہ سب اظہار کے ذریعے ہیں جو سب نے اپنی پسند سے منتخب کیے ہوتے ہیں اور اپنی سوچ، جذبات اور رجحانات کو دوسروں تک پہنچانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔
س: اب تک آپ نے جتنی بھی تخلیقات کیں ان میں سب سے زیادہ مزہ کس تخلیق میں آیا۔
مجھے جدوجہد آزادی کی کہانیاں لکھنے میں زیادہ مزہ آیا جو میں نے عراق، شام، کشمیر اور پاکستان پر لکھیں اور یہ سب حقائق پر مبنی ہیں اس کے لیے میں باقاعدہ ریسرچ کر کے میٹر جمع کرتی ہوں اور پھر کہانی میں ڈھالتی ہوں اس کے علاوہ سچی کہانیاں، افسانے، ناولز اور نان فکشن جن میں ہارر، سسپنس، تھیلر شامل ہیں۔
س: کسی رسالے میںمستقل بھی لکھتی ہیں؟
جی ہاں، نئے افق میں ہر ماہ ایک کہانی دینا ہوتی ہے یہ اقبال بھٹی صاحب کا حکم ہے جسے میں رد نہیں کرسکتی اور یہ ان کی محبت ہے کہ وہ اور طاہر قریشی مجھے اس قابل سمجھتے ہیں۔
س: آپ اپنی بیاض سے کچھ اچھے اشعار عنایت کریں گی؟
ہاں کیوں نہیں میں نے پچھلے ماہ ایک حمد کہی جو مجھے بہت پسند ہے اور سوشل میڈیا پر تو لوگوں نے اسے بہت پزیرائی دی ہے۔
تمہیں کیا کیا بتائوں
میرے رب کی اک نشانی ہے
ہوا مٹی سمندر
سب پہ اس کی حکمرانی ہے
وہ حضرت نوح کی
کفار سے ایسے بچاتا ہے
فرشتے بھیج کے
کشتی بنانا خود سکھاتاہے
اگر دریا
کبھی حد سے گزرتے ہیں
بھینٹ لیتے ہیں
عمرؓ کے لکھے پیغام خدا پر
بہنے لگتے ہیں
تمہیں کیا کیا بتائوں
میرے رب کی اک نشانی ہے
ہوا، مٹی، سمندر
سب پہ اس کی حکمرانی ہے
وہ موسیٰ کو فتح دیتا ہے
فرعون کو ڈبوتا ہے
اس کے حکم سے تو نیل
خود رستہ بناتا ہے
جو کلمہ لکھ کے ڈالو تو سمندر
ساتھ دیتے ہیں
ہوا چلتی ہے دشمن کانپتے ہیں
رخ بدلتے ہیں
تمہیں کیا کیا بتائوں
میرے رب کی اک نشانی ہے
ہوا، مٹی، سمندر
سب پہ اس کی حکمرانی ہے
ایک نظم
تتلیاں قید تھیں مقدر کی
ان کو آزاد کردیا میں نے
آئو نیکی کا حق ادا کردو
سب کو رستہ دکھا دیا میں نے
زندگی ان کو دان کر رہی ہے
دوست کیا برا کیا میں نے
تم چلے آئو نقش پا یہ میرے
تم کو چلنا سکھا دیا میں نے
زرین کہتے ہیں لوگ ہرجائی
تم کہو ایسا کیا، کیا میں نے
ایک اور حمد
روز ازل کچھ بھی نہ تھا
بس میرے رب کی ذات تھی
ہر سمت نور نور تھا
اور نور کی برسات تھی
اس نور سے اللہ نے
پیدا کیا اپنا بنی
ذات نبی ہی وجہ
تخلیق کائنات تھی
ایک نظم کتابیں تو کتابیں
کتابیں تو کتابیں ہیں
کتابیں روٹھتی ہیں
پیار کرتی ہیں
کبھی ناراض ہوتی ہیں
وہ مجھ کو دیکھتی ہیں
یاد کرتی ہیں
مجھے سیراب کرتی ہیں
بلاتی ہیں کبھی فریاد کرتی ہیں
وہ کیا دن تھے
کتابوں کا جھمیلا تھا
کبھی زانو پہ گودوں میں
انہی کا ایک میلا تھا
کبھی سینے پہ رکھ کے
خواب میں ہم کھو سے جاتے تھے
کبھی ہاتھوں میں پکڑے
دوستوں سے دل لگاتے تھے
کہ پڑھنے کے بہانے
مہہ رخوں سے ملنے جاتے تھے
کتابوں کا گرانا پھر اٹھانا
اک بہانہ تھا
وہ ان کے ساتھ میری دوستی کا
کیا زمانہ تھا
وہ اب ناراض رہتی ہیں
مجھے بس تکتی رہتی ہیں
مہینوں ان کو چھونے کی
مجھے فرصت نہیں ہوتی
گرانے کی، اٹھانے کی
کبھی چاہت نہیں ہوتی
اور اب تو اک کلک پر
مہہ رخوں سے بات ہوتی ہے
ہزاروں فاصلوں پر بھی
لگی بارات ہوتی ہے
بس اب اس اک کلک پر
ساری دنیا گھوم لیتا ہوں
ہزاروں علم کے دریا
ذرا میں رول لیتا ہوں
مرا لپ ٹاپ ہی اب میری
نالج کا سہارا ہے
کہ اس نے زندگی کو اس طرح
میری سنوارا ہے
مگر جب بھی کبھی کھولوں
کتابیں مسکراتی ہیں
گئے لمحوں کے سوکھے پھول
وہ مجھ کو دکھاتی ہیں
انہی پھولوں کی خوشبو سے
مہکتی، گنگناتی ہیں
میرے محبوب کی تصویر
یوں مجھ کو دکھاتی ہیں
کتابیں میری ساتھی ہیں
مجھے محسوس کرتی ہیں
وہ میری ہیں
مری ہم راز ہیں
اور سچی ساتھی ہیں
کتابیں تو کتابیں ہیں
کتابیں روٹھتی ہیں
پیار کرتی ہیں
ماں
بس ترے واسطے ہی رب نے بنایا ہے اسے
درد دل دے کر محبت سے سجایا ہے اسے
پھوار جھرنوں کی مہک پھولوں کی اس نے پائی
اس کے لہجے میں مٹھاس ایک عجب سی آئی
پیار ہی پیار سجایا ہے اس کی بانہوں میں
فرش بھی کانپ سا جاتا ہے اس کی آہوں میں
ماں وہ ہستی ہے کہ جو پیار پیدا کرتی ہے
اپنے بچوں کے لیے رب سے دعا کرتی ہے
اس کو لوگوں کی نظر بد سے بچا کر رکھنا
اپنے دل کے کسی گوشے میں چھپا کر رکھنا
جب مصیبت ترے سر پر کوئی منڈلاتی ہے
تیز ہوا چل کے ترے بالوں کو بکھراتی ہے
ڈھال بن جاتی ہے ماں اک تری چاہت کے لیے
ہر طرف باڑ لگاتی ہے حفاظت کے لیے
جو اسے چھوڑ کر تم آگے نکل جائو گے
ہاتھ ملتے ہوئے اس دنیا میں رہ جائو گے
ایسی ہستی کہیں دنیا میں نہیں پائو گے
یاد رکھو اسے کھو کر بڑا پچھتائو گے
آئو میں تم کو بتاتی ہوں سمجھنا سیکھو
اسے چومو اسے آنکھوں سے لگانا سیکھو
وہ جو ایک ماں ہے برا تو نہیں کہہ پائے گی
ہاں دعائوں ہی سے دامن تیرا بھر جائے گی
دعائیہ نظم برائے آنچل
آئو خوشیاں منائیں آنچل کی
محفلیں ہم سجائیں آنچل کی
یوں غزل گنگنائیں آنچل کی
سکھیاں سب جھوم جائیں آنچل کی
رنگ برنگ پھول ہر طرف بکھریں
ہوں معطر فضائیں آنچل کی
اس کی شہرت کی ایسے دھوم مچے
گونجیں ہر سو صدائیں آنچل کی
کھل اٹھیں سب کے دل کی امیدیں
کلیاں یوں مسکرائیں آنچل کی
ہوں زباں پر سبھی کے تعریفیں
یوں ہوں روشن فضائیں آنچل کی
میرا اللہ اس کو عزت دے
زرین کی سب دعائیں آنچل کی
غزل
میری طرف آنے سے پہلے مجھ کو تو بتلانا تھا
کیوں چپکے سے آئے تم کیا میرا گھر ویرانہ تھا
آپ جسے کہتے ہیں الفت کہہ لیجیے حق آپ کو ہے
ورنہ میرے محبوب حقیقت یہ ہے دل بہلانا تھا
کیوں آئے تم میری طرف پھر قدموں کی بوجھل چاپ کے ساتھ
زخم کے ٹانکے توڑنے والے جاکر پھر نہ آنا تھا
صبح کی روشن دیوی مجھ کو لاکھ صدائیں دیتی رہی
لیکن تیری یاد کا عالم ہوش کسے پھر آنا تھا
ایک تڑپتی آس سہی زریں کے لیے سرمایہ ہے
جس کی خاطر ذرہ ذرہ روز ازل دیوانہ تھا
س: آپ کی نظر میں ادب کیا ہے؟
ادب کسی بھی زبان کا تحریری سرمایہ ہوتا ہے اس کی کچھ خصوصیات ہوتی ہیں ادب میں تحریر میں اس بات کو ملحوظ رکھا جاتا ہے کہ جمالیاتی مسرت، حیات و کائنات اور فرد کے بارے میں ایسی آگہی دینا جس سے قاری کے قلب و ذہن کو جلا ملے یعنی جس تحریر میں احساس، جذبے، تاثر اور تخیل کی کارفرمائی کے ساتھ اسلوب کی خوب صورتی بھی موجود ہو وہ ادب کے زمرے میں آئے گی یوں کہہ لیجیے کہ زبان کو نکھار، سنوار کر لکھنا اور بولنا ادب ہے اس نکھار سنوار کو آپ جمالیات کا نام دے لیں یا شائستگی اور تشنگی کہہ لیں۔
س: ادب کا مقصد کیا ہے؟
میرے خیال میں مقاصد تو سب کے اپنے اپنے ہوتے ہیں لیکن ایک مشترکہ نکتہ یہ بیان کیا جاسکتا ہے کہ اپنی بات موثر انداز میں دوسروں تک پہنچانا۔
س: آپ کے خیال میں موجودہ لکھنے والوں میں کون اچھا ادب تخلیق کر رہاہے؟
ہر لکھنے والے کا اپنا اپنا الگ انداز ہے ہم اپنی پسند کے مطابق کسی کے ادب کو اچھا یا برا نہیں کہہ سکتے بلکہ یہ دیکھنا ہوگا کہ مجموعی طور پر قارئین کسے اچھا ادیب مانتے ہیں اور کس کی تخلیقات کو ادب میں مقام حاصل ہے ہماری بد قسمتی ہے کہ اس کا فیصلہ ہمارے معاشرے میں ادب تخلیق کرنے والے کی زندگی میں نہیں ہوتا بلکہ اس کے مرنے کے بعد قصیدے پڑھے جاتے ہیں اپنی رائے اس سلسلے میں محفوظ رکھنا چاہتی ہوں۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close