hijaab Dec-17

حمد و نعت

ابرار اسیر/صبیح الدین رحمانی

حمد
اے خدائے پاک رب ذوالجلال
دو جہاں کی نعمتوں سے کر نہال
چاند، سورج، کہکشاں میں تیرا نور
یہ جہان رنگ و بو تیرا جمال
تو نے پیدا کی ہے ساری کائنات
آسمان بے ستوں تیرا کمال
زلزلے، سیلاب اور بیماریاں
مجھ کو ان آفات سے یا رب نکال
یاد کرتا ہوں تجھے، دن رات میں
ذکر تیرا ہر گھڑی تیرا خیال
بجلیاں، طوفان اور باد سموم
اہل عالم کے لیے تیرا جلال
کرلیا ہے مجھ کو دنیا نے اسیر
یا الٰہی اپنی الفت دل میں ڈال

ابرار اسیر

نعت
کوئی مثل مصطفی کا کبھی تھا نہ ہے نہ ہوگا
کسی اور کا یہ رتبہ کبھی تھا نہ ہے نہ ہوگا
انہیں خلق کر کے نازاں ہوا خود ہی دست قدرت
کوئی شاہکار ایسا کبھی تھا نہ ہے نہ ہوگا
کسی وہم نے صدا دی کوئی آپ کا مماثل
تو یقیں پکار اٹھا کبھی تھا نہ ہے نہ ہوگا
مرے طاقِ جاں میں نسبت کے چراغ چل رہے ہیں
مجھے خوف تیرگی کا کبھی تھا نہ ہے نہ ہوگا
مرے دامن طلب کو ہے انہیں کے در سے نسبت
کہیں اور سے یہ رشتہ کبھی تھا نہ ہے نہ ہوگا
سر حشر ان کی رحمت کا صبیح میں ہوں طالب
مجھے کچھ عمل کا دعویٰ کبھی تھا نہ ہے نہ ہوگا

سید صبیح الدین رحمانی

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close