دیر لگی آنے میں

دیر لگی آنے میں

نزہت جبین ضیاء

’’گرمی کی شدت میں مزید اضافہ ہوتا جارہا ہے‘ لگتا ہے گرمی سارے ریکارڈ توڑ دے گی۔‘‘ آصفہ بیگم نے کرسی کی پشت پر پڑی چادر اٹھاتے ہوئے فیروزہ کو مخاطب کیا۔
’’ہاں! واقعی بے حد گرمی ہے اور اس وقت بسوں میں دھکے کھانا کسی عذاب سے کم نہیں۔‘‘ آنکھوں پر سن گلاسز لگاتے لگاتے فیروزہ نے کہا۔
’’اچھا بھئی اللہ حافظ۔‘‘ آصفہ بیگم نے کہا۔
’’ہاں بھئی سائرہ! آج شام کو آرہی ہو نا۔‘‘ انہوں نے اسٹاف روم سے نکلتے نکلتے رک کر برقعہ پہنتی سائرہ کو مخاطب کیا۔
’’جی… جی بالکل!‘‘ سائرہ نے کہا تو آصفہ بیگم سر ہلا کر باہر نکل گئیں۔ اسکول کے احاطے سے نکلتے نکلتے سوچنے لگیں کہ جاتے جاتے چائے ناشتے کا سامان لے جائیں تاکہ شام کو مشکل نہ ہو۔ اسکول سے گھر ذرا فاصلے پر تھا‘ بس سے آنا جانا پڑتا تھا‘ اسکول کے قریب بیکری سے نمکو‘ بسکٹس اور کیک لے کر دو شاپر سنبھالے جیسے ہی بیکری کی سیڑھیوں سے اتریں کہ سامنے سے آتے شخص سے بُری طرح ٹکراگئیں۔
’’اوہ سوری میم!‘‘ انتہائی شرمندگی اور انکساری سے معذرت کی۔
’’کوئی بات نہیں۔‘‘ آصفہ بیگم نے کہہ کر نگاہ اٹھائی۔
’’میم… آپ… آپ ٹیچر آصفہ تو نہیں؟‘‘ سامنے کھڑے نوجوان نے انہیں دیکھ کرقدرے چونکتے ہوئے پوچھا۔
’’ہاں… لیکن میں نے آپ کو نہیں پہچانا۔‘‘ آصفہ بیگم نے ایک ہاتھ سے چشمہ اوپر کرتے ہوئے پُرسوچ لہجے میں کہا۔
’’میں… میں… جاذب ہوں میم… جاذب قریشی! آپ نے بچپن میں مجھے پڑھایا تھا۔ آپ نے مجھے نہیںپہچانا؟‘‘
’’آں… ہاں! ‘‘ آصفہ بیگم نے قدرے چونک کر سر سے پیر تک اس کا جائزہ لیا۔ ’’جاذب! یہ تم ہو‘ کیسے پہچانوں گی ماشاء اللہ سے تم پورے آدمی بن چکے ہو۔‘‘ بیش قیمت کپڑوں میں ملبوس جاذب بالکل بدل چکا تھا۔
’’اوہ میم! شکر خدا کا کہ آپ مل گئیں‘ میں بہت کوشش کررہا تھا آپ سے ملاقات کرنے کی اور آپ کیسی ہیں؟ انکل صفدر اور آپ کی بیٹی… سب کیسے ہیں؟‘‘ بچوں کی طرح خوش ہوتا وہ سوال کیے جارہا تھا‘ بہت اموشنل ہورہا تھا۔
’’تمہارے انکل کی ڈیٹھ ہوگئی ہے…‘‘
’’اوہ ویری سیڈ!‘‘ وہ اچانک افسردہ ہوگیا۔ ’’ویسے میم آپ کا گھر کہاں ہے‘ آپ نے گھر چینج کرلیا ہے نا۔ آیئے میں آپ کو گھر چھوڑ دوں‘ بہت گرمی ہے۔‘‘ لمبی سی خوب صورت گاڑی کا دروازہ کھول کر آفر دی۔
’’ارے نہیں بیٹا‘ زیادہ دور نہیں میں رکشہ کرلوں گی‘ تمہیں تکلیف ہوگی۔‘‘
’’کیسی باتیں کررہی ہیں آپ؟ یہ آپ ہی تو ہیں جس کی وجہ سے میں اس مقام پرہوں۔‘‘ اس کی آنکھوں میں ماضی جھلملانے لگا تھا۔
’’نہیں بیٹا! ایسی بات نہیں تم خود بھی اچھے بچے تھے۔‘‘ آصفہ بیگم مروتاً بولیں۔
’’چلیں! اب مزید اچھائی کا موقع دیں۔‘‘ اس نے آگے بڑھ کر شاپر ہاتھ سے لیتے ہوئے بے تکلیفی سے کہا اور آصفہ بیگم مسکراتی ہوئی اس کے برابر میں آبیٹھیں۔
’’بیٹا! ٹھنڈا پانی تو پیوئو گے نا۔‘‘ گھر پر اترتے ہوئے آصفہ بیگم نے پوچھا۔
’’ضرور۔‘‘ وہ جھٹ سے اتر آیا۔
اسے ڈرائنگ روم میں بٹھا کر آصفہ بیگم دوسرے کمرے میں آگئیں‘ جہاں ماہین تھی۔
’’بیٹی ایک گلاس لیموں کا شربت بناکرلے آئو۔‘‘
’’امی! کون آیا ہے؟‘‘ ماہین نے اٹھتے ہوئے پوچھا۔
’’میرا بہت پرانا اسٹوڈنٹ ہے۔ ٹیوشن بھی لیتا تھا مجھ سے۔‘‘ آصفہ بیگم نے چادر اتار کر کھونٹی سے لٹکاتے ہوئے کہا۔ آصفہ بیگم کے لائے ہوئے شاپر سنبھال کر ماہین کچن میں آگئی۔
’’یہ سامان شام کے لیے ہے۔‘‘ پیچھے سے آصفہ بیگم نے آہستگی سے کہا‘ ماہین ان کا مطلب سمجھ گئی تھی۔
وہ ٹرے میں دو گلاس شربت لیے جیسے ہی ڈرائنگ روم میں داخل ہوئی تو امی سے باتیں کرتے ایک خاصے ہینڈسم اور امیر سے نوجوان کو دیکھ کر ٹھٹک گئی۔
’’آئو آئو ماہین…‘‘ آصفہ بیگم کی آواز پر وہ آگے بڑھی۔ ’’یہ جاذب ہے اور جاذب! یہ میری بیٹی ماہین!‘‘ آصفہ بیگم نے تعارف کروایا۔
’’السّلام علیکم! بیٹھیں۔‘‘ شربت کا گلاس لیتے ہوئے سلام کے ساتھ ہی جاذب نے صوفے کی طرف اشارہ کرکے کہا اور ماہین کچھ دور صوفے پر ٹک گئی۔
’’جب میں میم کے پاس پڑھنے آتا تھا تو آپ اتنی سی تھیں۔‘‘ اس نے ہاتھ کے اشارے سے کہا۔
’’ہاں مجھے بھی یاد آگیا ہے آپ امی سے ماربہت کھاتے تھے لیکن اس وقت تو آپ منحنی سے تھے اب تو ماشاء اللہ…‘‘ ماہین نے کچھ یاد کرتے ہوئے قدرے حیرانی سے اسے دیکھا تو جاذب کھل کر ہنس دیا۔
’’اچھا میم! اب اجازت‘ ان شاء اللہ مما کو لے کر آئوں گا وہ بھی آپ کو بہت یاد کرتی ہیں۔‘‘ شربت کا گلاس ٹرے میں رکھ کر وہ اٹھ کھڑا ہوا۔
ء…/…ء
یہ ان دنوں کی بات تھی جب آصفہ بیگم نے نیا نیا اسکول جوائن کیا تھا اس وقت جاذب کا ایڈمیشن کلاس ٹو میں ہوا تھا۔ جاذب پڑھائی میں ٹھیک ٹھاک تھا لیکن اسکول آنے سے بہت ڈرتا تھا‘ وجہ یہ تھی کہ پہلے ہی دن کسی ٹیچر نے اسے بُری طرح ڈرا دیا تھا اور وہ خوف ز دہ ہوگیا تھا دیگر بچوں کی طرح وہ تیز اور شریر نہ تھا۔ بہت خاموش اور ڈرا ڈرا سا رہتا تھا تب آصفہ بیگم نے اسے بڑے پیار سے سنبھالا‘ وہ فطرتاً ہی خوف زدہ اور ہراساں تھا۔ آصفہ بیگم نے اس کی والدہ کو بلوا کر بات کی تب پتا چلا کہ ان کے شوہر جاذب کے والد امریکا میں رہتے ہیں‘ ان کی ساس اور تین غیر شادی شدہ نندیں بہت تیز اور لڑاکا ہیں۔ معمولی معمولی باتوں پر جاذب اور اس کی ماں کو اتنا سناتے اور جاذب کی پٹائی کردیتے تھے۔ جاذب کے والد کو ان لوگوں کو باہر بھی بلوانے نہیں دیتے‘ گھریلو حالات کی وجہ سے جاذب اپ سیٹ رہتا ہے۔ آصفہ بیگم کو جاذب پر بہت ترس آیا پھر انہوں نے جاذب پر خصوصی توجہ دینی شروع کردی اور اسکول کے علاوہ گھر پر بھی اسے ٹیوشن دینے لگیں۔ آصفہ بیگم کے شوہر صفدر صاحب بھی جاذب کا بہت خیال رکھتے‘ پڑھائی کے بعد چار سالہ ماہین اور جاذب ایک ساتھ کھیلا کرتے‘ یہاں آکر جاذب بہت خوش اور مطمئن رہتا۔
ڈھیر سارے دن گزر گئے اس وقت جاذب کلاس فور میں تھا کہ جب آخر کار جاذب کے پاپا نے جاذب اور ان کی مما کو اپنے پاس بلوالیا۔ جاتے وقت جاذب بہت اداس تھا اور آصفہ بیگم کو بھی جاذب اور اس کی مما سے لگائو ہوگیا تھا‘ انہیںبھی بُرا محسوس ہورہا تھا لیکن وہ اس بات پر خوش تھیں کہ اب جاذب اور اس کی مما خوش رہیں گے۔
کچھ عرصہ تک برابر جاذب کے فون آتے رہے پھر اچانک صفدر صاحب کا انتقال ہوگیا اور آصفہ بیگم کو سرکاری گھر چھوڑنا پڑا۔ زندگی کو نئے سرے سے شروع کرتے کرتے وہ پریشان ہوگئیں‘ گھر اسکول‘ پھر دوسرے محلے میں نئے لوگوں کے درمیان گزارا کرنا‘ ماہین کی ذمہ داری جو پرائمری اسٹوڈنٹ تھی۔ یہ سب کچھ کرنا بہت مشکل لگ رہا تھا۔
صفدر صاحب کے انتقال کے بعد ملنے والی رقم سے انہوں نے چھوٹا سا گھر خرید لیا اور حالات سے سمجھوتہ کرتے ہوئے نئے سرے سے زندگی شروع کی۔ ماہین بھی قدرتی طور پر سمجھ دار بچی تھی‘ کوئی فرمائش نہ کرتی جو ملا پہن لیتی‘ جو ملا کھالیتی‘ کوئی ضد نہ کرتی عام سی صورت شکل والی ماہین پڑھنے میں بہت اچھی اور سگھڑ تھی۔
آصفہ بیگم نے گریجویشن کروانے کے بعد اسے گھریلو امور میں بھی طاق کردیا تھا اور مناسب رشتہ ملنے پر شادی کا ارادہ تھا لیکن کوششوں کے باوجود ابھی تک رشتہ طے نہ ہوسکا حالاں کہ گریجویشن کیے بھی ایک سال سے زیادہ عرصہ ہوچکا تھا۔ آصفہ بیگم نے لوگوں سے کہہ رکھا تھا اس سلسلے میں رشتہ لگانے والی رضیہ خالہ بھی کوشش کررہی تھیں لیکن معمولی صورت شکل اور بظاہر ایسی لڑکی جو کہ یتیم تھی جس کی ماں ایک ٹیچر تھی وہ کیا جہیز لے جاتی اکثر رشتے یہ سن کر لوٹ جاتے۔
اب تو الٹے سیدھے لوگوں کے سامنے آتے آتے ماہین کو بھی جھنجلاہٹ ہونے لگی تھی۔ ابھی کچھ عرصہ پہلے کی بات تھی کہ رضیہ خالہ چند خواتین کو لے کر آئیں ایک لڑکے کی ماں اور دو بہنیں تھیں۔ تینوںبڑی تیز طرار اور فیشن ایبل نظر آرہی تھیں گوکہ لگتا تھا کہ ان کا تعلق نچلے طبقے سے ہے۔ لڑکیوں نے گہرے گہرے رنگوں کے ستاروں والے جدید فیشن کے سوٹ پہن رکھے تھے‘ اچھی خاصی کالی رنگت پر بھاری اور تیز میک اپ نے چہروں کو مضحکہ خیز بنادیا تھا جب کہ والدہ بھی اپنے سفید بالوں پر گہرا رنگ کیے تیز میک اپ میں بھاری بھر کم اور بے تکے جسم پر کسے ہوئے سوٹ میں کارٹون لگ رہی تھیں۔
’’کیا کرتی ہو؟‘‘ ایک لڑکی نے ماہین کو اوپر سے نیچے تک دیکھ کر پوچھا تھا۔
’’میں ٹیوشن پڑھاتی ہوں۔‘‘ ماہین دھیرے سے بولی۔
’’ہائے کم از کم بیوٹیشن کا کورس ہی کرلیتیں‘ آسانی ہوجاتی۔‘‘ منہ بناکر اعتراض کیا۔
’’جی…‘‘ ماہین نے حیرت سے انہیں دیکھا۔ رضیہ خالہ بے چاری جز بز ہوگئیں۔
’’ہاں بھئی‘ ہم نے تو سوچا ہے کہ لڑکی ایسی ہو کہ ایک تو میک اپ کرسکے اور دوسرا کپڑوں کی سلائی کرلے۔ یہ درزی تو کھال کھینچنے لگے ہیں آج کل۔‘‘ والدہ صاحبہ نے بھی بیٹی کی تائید میں مزید ایک جملے کا اضافہ کیا۔
’’ویسے ابا کیا کرتے ہیں؟‘‘ دوبارہ پوچھا۔
’’جی بہن! میرے شوہر کا انتقال ہوگیا ہے۔‘‘ آصفہ بیگم نے افسردگی سے کہا۔
’’کوئی بھائی ہے لڑکی کا؟‘‘ والدہ نے منہ بناکر دوبارہ سوال کیا۔
’’نہیں جی! میری اکلوتی بچی ہے۔‘‘آصفہ بیگم ان کے رویئے سے بہت کچھ جان گئی تھیں۔
’’اچھا ہم چلتے ہیں۔‘‘ تینوں نے آنکھوں آنکھوں میں ایک دوسرے کو اشارے کیے اور اٹھ کھڑی ہوئیں۔
’’ارے بہن! بیٹھیں تو…‘‘ رضیہ خالہ بے چاری شرمندگی سے بولیں۔
’’رضیہ ادھرآنا۔‘‘ لڑکے کی والدہ نے باہر نکلتے نکلتے رضیہ خالہ کو پاس بلا کر کان میں کچھ کہا اور رضیہ خالہ کا چہرا ایک دم ہی پھیکا پڑگیا‘ وہ لوگ گھر سے نکل گئے اور رضیہ خالہ رہ گئیں۔
’’کیا کہہ رہی تھیں وہ…؟‘‘ آصفہ بیگم نے رضیہ خالہ سے پوچھا۔
’’وہ کہہ رہی تھیں کہ لڑکی کا نہ باپ ہے نہ بھائی‘ کیا لے کر آئے گی‘ اگر تم یہ گھر لڑکے کے نام کردو تو…‘‘
’’بس خالہ خاموش ہوجائیں۔‘‘ ماہین کی آواز پر رضیہ خالہ کا جملہ ادھورا رہ گیا۔ ’’خالہ! آپ ایک محبت کرنے والی اور ہمدرد خاتون ہیں‘ میں جانتی ہوں کہ آپ ہمارا بھلا ہی چاہیں گی لیکن پلیز اب اس سلسلے میں کسی کو نہ لایئے گا۔‘‘ ماہین نے سخت لہجے میں کہا اور فوراً ہی واپس پلٹ گئی۔
آصفہ بیگم کی آنکھیں بھر آئیں اور رضیہ خالہ بھی رنجیدہ ہوگئیں۔
’’آصفہ آپا! فی الحال اس بات کو یہیں ختم کردیتے ہیں‘ ان شاء اللہ آگے بہتری ہوگی۔ اس وقت ماہین بھی اپ سیٹ ہے۔ دیکھنا ہمارا ربّ ضرور بہتری کرے گا۔ اس کے پاس دیر ہے اندھیر نہیں۔ ان شاء اللہ تعالیٰ ہماری ماہین کی قسمت ایسی چمکے گی کہ دنیا رشک کرے گی۔‘‘
’’آپا! تم ایک نیک خاتون ہو اور خدا تعالیٰ تمہاری دعائیں رائیگاں نہیں کرے گا۔‘‘ نم آنکھوں اور بھیگے لہجے میں رضیہ خالہ نے آصفہ بیگم کو تسلی دی اور آصفہ بیگم سر جھکائے سنتی رہیں۔
ء…/…ء
کچھ عرصہ آصفہ بیگم خاموش رہیں لیکن دل پر بھاری بوجھ تو تھا۔ وہ سوچتیں اگر خدا ناخواستہ انہیں کچھ ہوجائے تو‘ ماہین کا کیا ہوگا۔ یہ سوچیں اکثر انہیں بے چین کیے دیتیں۔
اور پھر کچھ عرصہ بعد سائرہ نے جواُن کے ساتھ پڑھاتی تھی ایک رشتہ کی بابت بتایا اور پھر نئی امید کے ساتھ انہوں نے تیاری شروع کردی اور آج لڑکے والے آنے کا کہہ رہے تھے۔
’’امی یہ جاذب تو بہت امیر ہوگیا ہے۔‘‘ جاذب کی لمبی چوڑی گاڑی اور اس کے حلیے سے ماہین مرعوب لگ رہی تھی۔
’’آں… ہاں…‘‘ ماہین کی آواز پر آصفہ بیگم خیالات سے چونکیں۔
’’ہاں! ماشاء اللہ ایم بی اے کرکے امریکہ سے آیا پچھلے دنوں وہ لوگ پاکستان آئے ہیں۔ بتارہا تھا کہ میں اسے ہمیشہ یاد آتی تھی اور یہاں آکر ہمیں بہت تلاش کیا۔اس کی ماں بھی بہت اچھی عورت ہے‘ آج کل کے زمانے میں ایسے اسٹوڈنٹ بہت کم ہوتے ہیں جو ٹیچرز کو اتنی عزت دیں۔‘‘ آصفہ بیگم کے لہجے میں جاذب کے لیے شفقت تھی۔
شام کو آنے والے مہمان نہیں آرہے تھے‘ سائرہ کا فون آیا تھا کہ ان کی امی کی طبیعت خراب ہوگئی ہے اس لیے کسی اور وقت آئیں گے۔ دونوں ماں بیٹی ایک دوسرے کو دیکھ کر چپ ہوگئیں۔
دو دن بعد اس شام حسب معمول ماہین بچوں کو ٹیوشن پڑھارہی تھی صحن میں بچے دری پر بیٹھے تھے‘ پاس ہی کرسی پر ماہین بیٹھی تھی جب کہ کونے میں بنے چبوترے پر آصفہ بیگم نمازِ عصر ادا کررہی تھی کہ جاذب آگیا۔ ساتھ ہی ایک سو برسی خاتون تھیں‘ آصفہ بیگم نے فوراً پہچان لیا‘ دوڑ کر لپٹ گئیں وہ جاذب کی مما تھیں۔
’’آیئے اندر چلیں۔‘‘ ماہین نے جلدی سے بچوں کو چھٹی دے دی اور ان کو اندر کمرے میں لے جانا چاہا۔
’’نہیں بھئی! ہم یہیں بیٹھیں گے جہاں آپ لوگ بیٹھی ہیں۔‘‘ شگفتہ بیگم نے پلٹ کر ماہین کو دیکھ کر خوش گوار لہجے میں کہا۔
’’یہ ماہین ہے نا میم!‘‘ انہوں نے سوالیہ نظر ماہین پر ڈالتے ہوئے آصفہ بیگم کو مخاطب کیا۔
’’جی!‘‘ آصفہ بیگم کے کہنے سے پہلے جاذب بولا تو شگفتہ نے ماہین کو گلے سے لگالیا۔ صحن میں بچھے پلنگ پر آصفہ بیگم اور شگفتہ بیٹھ گئیں۔
’’آپ یہاں بیٹھ جائیں۔‘‘ ماہین نے جاذب کو مخاطب کرکے کرسی کی طرف اشارہ کیا۔ تھینکس کہہ کر جاذب بھی وہیں بیٹھ گیا۔ کچھ دیر بعدماہین چائے کے ساتھ پکوڑے اور سویوں کا میٹھا بناکر لے آئی۔ شگفتہ بہت بے تکلفی سے با تیں کررہی تھیں۔ جاذب کے پاپا کا انتقال کچھ عرصہ قبل ہوگیا تھا تب ہی یہ لوگ پاکستان لوٹ آئے تھے یہاں پر اچھے علاقے میں گھر لے لیا تھا۔
’’اب آپ اسے سمجھائیں میم! یہ لڑکا شادی کرنا ہی نہیں چاہتا جو لڑکی دکھاتی ہوں انکار کردیتا ہے۔‘‘ باتوں باتوں میں شگفتہ نے شکایتی اندازمیں آصفہ بیگم سے کہا۔
’’ارے کیوں بھئی!‘‘ آصفہ بیگم نے جاذب کو مخاطب کیا۔
’’میم! مما نے کوئی ایسی لڑکی نہیں دکھائی کہ پسند آسکے‘ ان شاء اللہ کرلوں گا شادی لیکن سوچ سمجھ کر۔‘‘ پکوڑا منہ میں ڈالتے ہوئے خوش دلی سے جواب دیا کچھ دیر بعد اپنے گھر آنے کی دعوت دے کر وہ لوگ لوٹ گئے۔
’’واقعی کتنے اچھے اور سادہ لوگ ہیں‘ اتنا پیسہ ہونے کے باوجود بھی ہمیں کتنی عزت دیتے ہیں۔ کاش … کاش جاذب میرا داماد بن جائے۔‘‘ اپنی سوچ پر آصفہ بیگم خود ہی پھیکی سی ہنسی ہنس دیں۔
کہاں وہ خوبرو امیر اور اسمارٹ سا جاذب اور کہاں معمولی شکل و صورت کی غریب سی ماہین۔‘‘ انہوں نے چائے کی ٹرے اٹھا کر لے جاتی ہوئی ماہین کو دیکھ کر ٹھنڈی سانس بھری۔
بعض اوقات دعائیں یوں بھی پوری ہوتی ہیں‘ خواہشات ایسے بھی پایہ تکمیل تک پہنچتی ہیں کہ انسان انگشت بدنداں رہ جاتا ہے۔
آج اتوار کا دن تھا اتوار کے دن ماہین مشین لگا کر کپڑے دھوتی‘ دوپہر کے کھانے پر خصوصی اہتمام ہوتا تھا۔ اس روز بھی کپڑے دھوکر کھانا بناکر تقریباً چار بجے وہ لوگ فارغ ہوئے کہ دروازے پر بیل بجی۔ جاذب آیا تھا آج وہ آصفہ بیگم کے کمرے میں آبیٹھا تھا کچھ دیر بعد عصر کی اذان ہوئی تو آصفہ بیگم نماز پڑھنے اٹھ گئیں۔
’’امی میں تو چائے لے آئی تھی۔‘‘ آصفہ بیگم کو اٹھتا دیکھ کر چائے لے کر آتی ماہین نے کہا۔
’’بیٹی تم لوگ پیو میں ابھی نماز پڑھ کے آتی ہوں۔‘‘
جاذب کو چائے دے کر ماہین بھی وہیں بیٹھ گئی۔
’’ماہین! ایک بات کہنا چاہتا ہوں آپ سے۔‘‘ کچھ لمحوں بعد جاذب بولا۔
’’جی۔‘‘ ماہین نے سر اٹھایا۔
’’اگر آپ مناسب سمجھیں تو میں… میں آپ سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔‘‘
’’کیا… کیا… کہہ رہے ہیںآپ؟‘‘ چائے کی پیالی ماہین کے ہاتھوں میں لرز گئی۔ اسے لگا جیسے جاذب پاگل ہوگیا ہو۔ اچھی شکل و صورت اور بہترین پوزیشن والا جاذب ایک عام اور معمولی سی لڑکی سے یہ کہے تو … یہ تو لطیفہ تھا۔
’’جاذب! آپ ایک جولی انسان ہیں لیکن مجھ سے ایسا مذاق مت کریں‘ آپ کو کوئی حق نہیں ہے۔‘‘ بہ مشکل حواسوں کو بحال کرکے سخت لہجے میں کہا۔
’’ماہین! آپ مجھے غلط سمجھ رہی ہیں‘ میں کوئی مذاق نہیں کررہا‘ میں سیریئس ہوں۔‘‘
’’لیکن جاذب! آپ کو اچھی سے اچھی لڑکی مل سکتی ہے… پھر آپ…؟‘‘
’’بے شک ماہین! مجھے کوئی بھی لڑکی مل سکتی ہے‘ حسین و جمیل اور دولت مند لیکن مجھے میم آصفہ جیسی ماں کی بیٹی چاہیے۔ آپ نہیں جانتیں کہ میم آصفہ ہمیشہ سے میری آئیڈیل رہی ہیں اور ماہین! مجھے بیوی چاہیے کوئی ماڈل نہیں‘ ایسی لڑکی جو میری ماں کو ماں سمجھے‘ میرے گھر کو صحیح معنوں میں گھر بنائے اور میرے خیال میں اگر مجھے آپ کا ساتھ مل جائے تو یہ میری خوش نصیبی ہوگی‘ ویسے یہ زبردستی نہیں ہے لیکن میرے بارے میں ایک بار سوچیے گا ضرور۔ مجھے کچھ نہیں چاہیے ماہین! ایک اچھا اور سنجیدہ ساتھی درکار ہے۔ جو میری خوشیوں اور غموں میں میرا سچے دل سے ساتھ دے سکے‘ گھر ظاہری خوب صورتی اور بے تحاشا دولت سے نہیں بنتے ماہین! گھر بنانے کے لیے محبت‘ ایمان داری‘ خلوص اور سمجھ داری کی ضروت ہے اور … اور میں سمجھتا ہوں کہ آپ ان تمام خوبیوں سے مالا مال ہیں۔ لہجے میں اعتماد اور سچائیاں نمایاں تھیں۔‘‘ ماہین حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی‘ اتنا خوبرو بندہ اس کے سامنے دستِ سوال دراز کررہا تھا‘ جس کی آنکھوں میں کوئی جھوٹ یا ریاکاری نہ تھی‘ اس کا لہجہ اور اس کی آنکھیں سچائی کی گواہی دے رہی تھیں۔ شرم سے ماہین کی نگاہیں جھک گئیں۔
’’ماہین پلیز… پلیز میں آپ کے جواب کا منتظر رہوں گا‘ کیا آپ کو میرا ساتھ منظور ہے۔‘‘ اس کے سامنے ہاتھ پھیلائے وہ بے تابی سے سوال کررہا تھا۔
ماہین نے اپنا لرزتا ہوا ہاتھ جاذب کے پھیلے ہوئے ہاتھ پر رکھ کر خوب صورت اعتراف کرلیا۔ جاذب کے لبوں سے خوش گوار سانس خارج ہوئی۔ اسی لمحے اندر آتی آصفہ بیگم نے جو دیکھا اور جو سنا ان کے لیے کسی انہونی جیسا تھا۔ وہ الٹے پائوں شکرانے کے نفل ادا کرنے پلٹ گئیں اور ساتھ ہی رضیہ خالہ کے الفاظ ان کی سماعتوں میں گونجنے لگے۔
’’آپا ان شاء اللہ ہماری ماہین کی قسمت ایسے چمکے گی کہ ساری دنیا رشک کرے گی۔‘‘
واقعی خدا تعالیٰ نے آصفہ بیگم کی عبادتوں کے بدلے انہیں بہت خوب صورت انعام دیا تھا۔ ان کی آنکھوں سے تشکر کے آنسو بہہ نکلے۔

Show More
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close