تیرے انتظار کا موسم

تیرے انتظار کا موسم

نزہت جبین ضیاء

شام سے ہی موسم بڑا خطرناک تھا‘ خوب بادل گھر گھر کے آئے تھے‘ رات ہوتے ہی چھما چھم پانی برسنے لگا۔ سفینہ کو بڑا ڈر لگ رہا تھا‘ بارش بھی خوب برس رہی تھی‘ بادلوں کی گھن گرج اور بجلی کی تیز چمک نے ماحول کو مزید خوفناک بنا دیا تھا ایسے میں باہر کا دروازہ بھی ہَوا کے تھپیڑوں سے گھبرا کر دھڑا دھڑ بجنے لگا تھا۔
سفینہ کا ننھا سا دل بُری طرح دھڑک رہا تھا‘ اسے ایسے موسم سے ویسے بھی بڑا خوف آتا تھا۔
’’اماں… اماں…‘‘ اس نے آہستہ آہستہ آنکھیں موند کر لیٹی سکینہ کو آواز دی۔
’’کیا ہے؟‘‘ سکینہ نے آنکھوں پر سے ہاتھ ہٹاکر اسے دیکھا۔
’’اماں بہت ڈر لگ رہا ہے۔ دیکھو تو کیسے مینہ برس رہی ہے اور بجلی بھی کتنی زوروں سے چمک رہی ہے۔‘‘
’’تُو… تُو کیوں ڈرتی ہے پگلی! چل آجا یہاں میری چارپائی پر سو جا میرے ساتھ۔‘‘ سکینہ نے کھسک کر اس کے لیے جگہ بنائی۔
’’اماں… اماں… میں باہر کا کواڑ بند کرلوں؟‘‘ سفینہ نے ڈرتے ڈرتے سوال کیا اور کئی بار کہا ہوا جملہ ایک بار پھر دہرایا اور نتیجہ… وہی کرخت اور غصیلا جواب ملا۔
’’تجھے کتنی بار کہا ہے یہ مت بولا کر‘ پھر بھی تجھے سمجھ نہیں آتی۔‘‘ اچانک سکینہ لیٹے لیٹے اٹھ بیٹھی‘ اس کے چہرے پر نہ جانے کیسا ملال تھا؟ کیسی بے بسی تھی کہ سفینہ اماں کا چہرہ دیکھ کر سہم گئی۔ ہلکی زرد روشنی میں سکینہ کا چہرہ بھی زرد سا لگ رہا تھا۔
بچپن سے آج تک ایک اسی بات پر اماں کا موڈ آف ہوجایا کرتا تھا اور آج بھی اماں کی بدلتی رنگت اور بے چینی دیکھ کر سفینہ شرمندہ ہونے لگی۔ اسے کبھی کبھی اماں پر غصہ اور کبھی ترس بھی آجاتا تھا‘ سکینہ اٹھ کر برآمدے میں رکھی صراحی سے پانی نکال کر پینے لگی پھر دھیرے دھیرے چلتی دوبارہ اپنی چارپائی پر آبیٹھی۔
’’معاف کردے اماں! آئندہ نہیں بولوں گی۔‘‘ سفینہ نے قریب آکر نرمی سے اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا۔
’’چلو اب سو جاتے ہیں۔‘‘ سکینہ نے نگاہیں اٹھا کر اپنی پندرہ سالہ معصوم بچی کو دیکھا وہ بھی تو بے قصور تھی۔ اسے کیا پتا تھا کہ اماں ایسا کیوں کرتی ہے؟ وہ بھی اپنی جگہ درست تھی‘ ڈرنا فطری عمل تھا۔
’’آجا…‘‘ سکینہ نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ لٹایا اور سفینہ ماں کی نرم گرم آغوش میں سب کچھ بھول بھال کر جلد ہی سوگئی۔
ء…/…ء
’’اماں… اماں… ہمارے گائوں میں شہر سے بہت سوہنی سوہنی کڑیاں اور منڈے آئے ہیں۔‘‘ سکینہ اپنی سہیلیوں کے ساتھ پانی بھرنے گئی تھی‘ واپسی میں یہ خبر بھی لیتی آئی۔
’’اچھا… مگر کیوں؟‘‘ تندور میں روٹیاں لگاتے لگاتے حاجراں نے بھی حیرت کا اظہار کیا۔
’’پتا نہیں کیوں مگر اماں! اتے اچھے اچھے کپڑے میں ساری کڑیوں کے اور آنکھوں پر کالی عینک بھی۔‘‘ سکینہ کی بڑی بڑی آنکھوں میں آنے والوں کی تعریف کے ساتھ ساتھ احساس کمتری بھی نمایاں تھا۔
’’ہاں تو شہر سے آئے تو چنگے ہی ہوں گے ناں‘ چل تُو روٹی کھا لے گرم گرم ہے۔‘‘ حاجراں نے اس کی طرف روٹی بڑھائی ساتھ میں پلیٹ میں دال بھی رکھ دی۔
’’اماں شہر کے لوگ روز روز دال تو نہیں کھاتے ہوں گے ناں؟‘‘ پہلا نوالہ لیتے ہوئے سکینہ نے سوال کیا۔
’’اُف او… تُو تو جھلی ہوگئی ہے کیا بک بک کرے ہے چل جلدی جلدی کھانا کھا اور کپڑے دھو۔ تین دن سے کہہ رہی ہوں تیرا دل ہی نہیں لگتا کام میں۔‘‘ اماں نے گھرکی دی تو سکینہ سر جھکا کر جلدی جلدی نوالے حلق سے اتارنے لگی مگر دل تو شہر اور شہر کے لوگوں میں ہی اٹکا پڑا تھا۔
سکینہ کو بچپن سے ہی شہر کی زندگی اچھی لگتی تھی وہ اکثر سوچتی کاش وہ بھی شہر میں ہوتے‘ صاف ستھری کھلی کھلی سڑکوں پر گھوما کرتے۔ بڑے بڑے ڈھابوں پر کھانا کھاتے‘ بازاروں کی رونق‘ روشنیاں‘ گاڑیوں کا شور اور سینما تھیٹر… یہ سب کچھ دیکھ سکتے‘ اسی ماحول کا حصہ بن جاتے مگر وہ لوگ تو جدی پشتی غریب ہاری تھے جو مالکوں کے کھیتوں پر دن رات محنت کرکے اپنا خون پسینہ بہا دیتے اور بدلے میں چند روپے ملتے جن سے وہ ہنسی خوشی گزارا کرتے۔کمالا اور وبھی انہی لوگوں میں سے تھے جنہیں قدرت نے نہایت حسین بیٹی سکینہ سے نوازا تھا۔ سکینہ کو ربّ نے بڑی فرصتوں میں بنایا تھا‘ گائوں کی سب سے خوب صورت لڑکی تھی۔ متناسب جسم‘ سرخ و سفید رنگت‘ نیلی آنکھیں اس پر سیاہ لمبے گھٹائوں جیسے بال جو دیکھتا دیکھتا رہ جاتا۔
ء…/…ء
دھیرے دھیرے شام ہورہی تھی‘ موسم بہت حسین تھا چاروں طرف لہلہاتے خوب صورت کھیت‘ درمیان میں پگڈنڈیاں‘ کہیں کہیں اونچے اونچے طویل قامت درخت‘ کھیتوںمیں خوب صورت بطخیں‘ پُرفضا ماحول صاف ستھرے چھوٹے چھوٹے سے بنے ہوئے کچی اینٹوں کے گھر‘ گھروں کے آس پاس بکریاں اور دانہ چگتی مرغیاں۔
شہروز اکیلا ہی باہر آگیا تھا۔ اسے یہ ماحول بہت اچھا لگ رہا تھا‘ وہ میڈیکل اسٹوڈنٹ تھے اور اس گائوں میں کچھ دنوں کے لیے کیمپ لگایا گیا تھا تو چند اسٹوڈنٹ اساتذہ کے ساتھ آئے تھے ان میں شہروز بھی شامل تھا۔ شہروز نے ایک طویل انگڑائی لی‘ لمبی سانس لے کر تازہ سانس کا احساس ہوا۔ کوئی گندگی‘ شور‘ ٹریفک‘ دھواں کچھ بھی تو نہ تھا بس ہر طرف ہریالی ہریالی اور کھلا کھلا سا علاقہ۔ شہروز اپنی پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے گنگناتا ہوا ایک سمت چل پڑا۔
ء…/…ء
سکینہ اس وقت نسیمہ کے گھر کے سامنے اس کے ساتھ بیٹھی باتیں کررہی تھی ساتھ ساتھ دونوں اپنے اپنے دوپٹے بھی کاڑھ رہی تھیں۔ گرین ڈھیلی ڈھالی قمیص پر ریڈ کھلے پائنچوں کی شلوار کے ساتھ ریڈ اور گرین چنری سر پر اوڑھے لمبے بالوں کی ایک چٹیا آگے ڈالے‘ وہ اس بات سے قطعی بے نیاز تھی کہ کوئی بڑی محویت اور دلچسپی سے قدرت کے اس شاہکار کو دیکھے جارہا ہے۔ اتنا معصوم اور مکمل حسن تو اس نے پہلی بار دیکھا تھا سادگی کا پیکر‘ سکینہ شہروز کے دل میں اترتی چلی گئی اور بے اختیار وہ آگے بڑھتا گیا۔
’’ہائے اللہ…‘‘ اسے دیکھ کر نسیمہ نے ہلکی سی چیخ ماری۔ سکینہ بھی ڈر سی گئی‘ شہروز ان کی بوکھلاہٹ پر ہولے سے مسکرادیا۔
’’تھوڑا سا پانی ملے گا میں تمہارے گائوں میں اجنبی ہوں۔‘‘ اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔ ’’میں شہر سے آیا ہوں‘ ڈاکٹر ہوں۔‘‘
’’اچھا… اچھا… ٹھہرو جی میں ابھی لاتی ہوں پانی۔‘‘ نسیمہ قدرے سنبھل کر بولی اور اٹھ کر ساتھ ہی کھلے ہوئے دروازے میں داخل ہوگئی۔ سکینہ نے غور سے اجنبی کو دیکھا اونچا لمبا‘ خوب صورت سا شہری بابو اسے اچھا لگا۔
’’کیا نام ہے تمہارا؟‘‘ شہروز نے پوچھا۔
’’ارے واہ‘ میں کیوں بتائوں؟‘‘ سکینہ نے اتراتے لہجے میں کہا۔
’’ارے مت بتائو مگر میں نے تو سنا تھا گائوں والے بہت نرم دل اور اچھے ہوتے ہیں‘ مہمانوں کا بہت خیال رکھتے ہیں مگر تم… تم… کو غصہ آگیا میری بات پر۔‘‘ شہروز نے مسکین شکل بناکر تیر پھینکا۔
’’ہاں جی ٹھیک سنا آپ نے۔‘‘ تیر نشانے پر جا لگا تھا۔ ’’ہم ایسے ہی ہیں سچے اورکھرے لوگ اور میرا نام سکینہ ہے…‘‘ اتنی دیر میں نسیمہ پانی لے آئی۔
’’اچھا جی شکریہ!‘‘ پانی پی کر شہروز نے کٹورہ واپس نسیمہ کو دیتے ہوئے کہا۔
’’شکریہ کیسا جی آپ تو مہمان ہو ہمارے۔‘‘ نسیمہ نے جواباً فراخدلی دکھائی۔
’’بہت خوب صورت گائوں ہے اور یہاں کے لوگ بھی۔‘‘ جاتے جاتے وہ سکینہ سے براہ راست مخاطب ہوکر بولا تھا اور سکینہ بڑی بڑی آنکھوں سے دیکھتی رہ گئی تھی۔
’’اماں اماں جو شہر سے ڈاکٹر لوگ آئے ہیں ان میں ایک بابو نسیمہ کے گھر پر آیا تھا جب میں اس کے ساتھ تھی تب پانی پینے۔ وہ ڈاکٹر لوگ ہیں۔‘‘
’’اچھا چھا… بس زیادہ مت بولا کر اور ہاں بات وات مت کیا کر کسی سے۔‘‘ اماں نے ہمیشہ کی طرح گھرکا۔
’’سکینہ کی ماں! کیوں غصہ کرتی ہے ہر وقت میری دھی پر۔‘‘ ابا نے اس کا بگڑتا موڈ محسوس کرلیا تھا‘ سکینہ منہ بناکر رہ گئی۔
دوسرے دن دوپہر میں اپنے کاموں سے فارغ ہوکر سکینہ نسیمہ کے گھر جارہی تھی کہ راستے میں شہروز مل گیا۔
’’ارے بابو جی آپ۔‘‘ سکینہ اسے سامنے پاکر بے ساختہ بولی۔
’’ہاں‘ تمہاری یاد آئی تو نکل پڑا۔‘‘ شہروز نے براہ راست اس کی جھیل جیسی آنکھوں میں جھانک کر کہا۔
سکینہ گڑبڑا کر دو قدم پیچھے ہٹی‘ اس کے خوب صورت چہرے پر شرم و حیا کے رنگ نمایاں تھے۔ شہروز زور سے ہنس دیا۔
’’ہاں تو اور کیا تم ہو ہی اتنی اچھی۔‘‘ شہروز اس کی بوکھلاہٹ سے لطف اندوز ہورہا تھا۔
’’ہائے بابو! کیا ہوگیا ہے۔‘‘ وہ پلکیں جھپکا کر بے ساختہ بولی۔
’’سکینہ یہ بابو جی کا کیا ہے؟ میرا نام شہروز ہے‘ تم شہروز بولو نا۔‘‘ شہروز نے کہا۔
’’نہ جی نہ… بڑا مشکل نام ہے تمہارا؟‘‘ سکینہ معصومیت سے بولی۔
’’آجائے گا بولنا۔‘‘ شہروز اس کی معصومیت پر نثار ہوا جارہا تھا۔ وہ تو پوری شدت کے ساتھ اس کے دل میں اتری چلی جارہی تھی۔
’’شہر میں تو ایک سے ایک کڑیاں ہوتی ہوں گی ناں‘ خوب اچھے اچھے کپڑوں والی۔ اونچی ایڑی کی جوتیاں اور گوری چٹی…‘‘ سکینہ نے اچانک ہی سوال کردیا اس کے لہجے میں یاسیت تھی‘ حسرت تھی۔
’’ہاں مگر وہ ساری کی ساری بناوٹی ہوتی ہیں‘ تمہارے جیسی سیدھی سادی اور معصوم نہیں ہوتیں۔ تم ان سب سے اچھی ہو‘ سادہ اور معصوم سی۔‘‘
’’کیا…؟‘‘ اس کی بڑی بڑی خوب صورت آنکھیں پھیل گئیں غیر یقینی اور معصومیت بھرے انداز سے وہ پوچھ رہی تھی۔
’’سچ…؟‘‘
’’ہاں بالکل سچ…‘‘ شہروز نے سچے لہجے میں کہا۔ وہ حیرت سے اس شہری بابو کو دیکھ رہی تھی جو اسے سب سے اچھی لڑکی کہہ رہا تھا۔
’’کیا تم میرے ساتھ شہر چلو گی؟‘‘
’’کیا… کیا میں اور شہر…‘‘ خوشی اور حیرت سے آنکھیں پھاڑیں مگر دوسرے ہی لمحے اس کی آنکھیں بجھ سی گئیں۔ ’’مگر کیسے…؟ مجھے اماں اور بابا کہاں بھیجیں گے۔‘‘ اس کی گرمجوشی مایوسی میں بدل گئی تھی۔ ’’مجھے شہر اور وہاں کے لوگ بہت اچھے لگتے ہیں بابو جی! بہت دل کرتا ہے شہر میں جاکر رہنے کو‘ گھومنے پھرنے کو مگر…‘‘ اس کی آواز دھیمی پڑگئی۔ ’’ہمارے نصیب کہاں…؟‘‘
’’کیوں نہیں جاسکتیں تم؟ میں تم سے شادی کروں گا پھر تو جائو گی ناں میرے ساتھ۔‘‘ شہروز نے اچانک ہی اتنی بڑی بات کہہ دی۔
’’ہائیں… بابو…‘‘ سکینہ ایک لمحے کے لیے گڑبڑا گئی اور فوراً ہی الفاظ کی نوعیت سمجھ کر شرم سے سرخ پڑگئی۔ کتنی آسانی سے اتنی بڑی بات کہہ دی تھی اس نے۔
’’نہ بابو… ایسا کیسے ہوسکتا ہے تم اتنے بڑے لوگ ہو اور ہم بہت چھوٹے اور غریب۔ ہم تو ایسا صرف سوچ سکتے ہیں‘ خواب دیکھ سکتے ہیں مگر حقیقت میں کبھی ایسا نہیں ہوسکتا‘ اس کی بڑی بڑی آنکھوں میں آنسو جھلملانے لگے۔‘‘
’’نہیں سکینہ! میں سچ کہہ رہا ہوں‘ تم مجھے بہت اچھی لگی ہو اور میں تم سے شادی کروں گا۔ تمہاری ماں اور باپ سے بات کروں گا میں کوئی مذاق نہیں کررہا۔‘‘ شہروز نے اس کا ہاتھ تھام کر محبت سے چُور لہجے میں کہا۔ اس کے لہجے میں سچائیاں تھیں۔ ’’میں تمہارے گھر آکر کل تمہارے بابا سے خود بات کروں گا۔‘‘ اس نے مزید حوصلہ دیا تو سکینہ کا دل خوشی سے بے قابو ہونے لگا۔ وہ آسمانوں میں اڑنے لگی۔
دوسرے روز ہی شہروز نے اماں بابا سے جانے کیا بات کی اور یوں طے ہوا کہ شہروز نکاح کرکے جائے گا‘ ابھی پندرہ دن کا ٹائم تھا یہاں گائوں میں پھر وہ شہر جاکر واپس آئے گا تو سکینہ کو بھی ساتھ لے جائے گا۔ اس نے اپنا فون نمبر اور گھر کا پتا بھی سکینہ کے بابا کو دے دیا تھا اور یوں اماں ابا بھی مطمئن ہوگئے تھے کہ بیٹی کا شہر جانے کا شوق بھی پورا ہوجائے گا یوں کچھ لوگوں کی موجودگی میں سکینہ اور شہروز کا نکاح ہوگیا۔ سکینہ کو یہ سب کچھ ایک خواب لگ رہا تھا اس نے بس خواب میں ہی ایسا دیکھا تھا۔ شہری بابو‘ شہر کی زندگی اور خوب سارا پیسہ وہ تو ہوائوں میں اڑنے لگی تھی۔ شہروز نے اسے ڈھیر سارے پیسے دیئے تھے کہ اپنی مرضی سے جو دل چاہے خرید لے۔
ایک دوسرے کے ساتھ ہنستے مسکراتے‘ سپنے بُنتے بُنتے وقت کیسے گزر گیا کہ پتا ہی نہ لگا اور شہروز اس سے ڈھیر سارے وعدے کرکے لوٹ گیا۔ جاتے وقت سکینہ خوب کر روئی۔
’’شہروز بابو! تم مجھے لے تو جائو گے ناں جلد ہی؟ مجھے بھولو گے تو نہیں؟ تمہارے اماں ابا مان جائیں گے ناں؟‘‘ شہروز کے سینے سے لگی وہ بُری طرح رو رہی تھی۔
’’سکینہ! میں تم کو کیسے بھول سکتا ہوں‘ تم میری زندگی ہو‘ میری جان ہو تم۔ میں بہت جلد آکر تمہیں لے جائوں گا۔‘‘ شہروز خود بھی آبدیدہ ہورہا تھا اسے سکینہ کا تڑپنا اچھا نہیں لگ رہا تھا مگر کچھ مجبوریاں بھی تو تھیں اور شہروز بے تحاشا خوب صورت یادیں چھوڑ کر شہر واپس لوٹ گیا۔
سکینہ کی عجیب سی کیفیت رہنے لگی ہر وقت اداسی اور بے چینی سوار رہتی‘ وہ سارا سارا دن گھر میں بائولی بنی پھرتی۔ راتوں کو اٹھ اٹھ کر پاگلوں کی طرح اِدھر اُدھر چکر لگاتی‘ اکثر دن میں سوتے سوتے یا بیٹھے بیٹھے اٹھ کر تیزی سے باہر کے دروازے کی طرف بھاگتی کہ جیسے شہروز نے آکر دروازہ بجایا ہے۔ پھر کچھ دن بعد سکینہ کی طبیعت خراب رہنے لگی تب اسے پتا چلا کہ وہ ماں بننے والی ہے‘ ابا اور اماں نے چاہا کہ یہ خوشخبری شہروز کو بھی سنا دیں یہ سوچ کر ابا اس کا ٹیلی فون نمبر لے کر گائوں میں واقع واحد پی سی او چلا گیا۔ شہروز سے بات ہوئی وہ بہت خوش ہوا تھا اور چاہتا تھا کہ سکینہ سے خود بات کرے۔ دو دن بعد سکینہ نے خود شہروز سے بات کی‘ ضبط کے بندھن ٹوٹے تو خوب دھواں دھار روئی۔ خوشی اور دوری دونوں کے ملے جلے تاثرات تھے‘ دوسری جانب شہروز بھی بہت بے چین اور بے قرار امتحانوں کی وجہ سے مجبور تھا۔ اس نے سکینہ کو یقین دلایا کہ وہ جیسے ہی فارغ ہوا فوراً گائوں پہنچے گا وہ خود بھی سکینہ اور اپنے ہونے والے بچے کے لیے بہت پریشان تھا۔ اس نے سکینہ کو ڈھیر ساری نصیحتیں کیں‘ خوب اچھی اچھی باتیں کی۔ ہر قسم کی فکر اور پریشانی سے دور رہنے کی ہدایت کی ساتھ ہی اسے یقین دلایا کہ وہ جلد ہی کافی سارے پیسے اس کے نام بھیجے گا‘ سکینہ آرام سے رہ سکتی ہے۔
’’میں ضرور آئوں گا بہت جلد‘ تم میرا انتظار کرنا۔ سکینہ تم میرا انتظار کرنا…‘‘ یہ آخری جملہ تھا جو سکینہ نے اپنے پلّو سے باندھ لیا تھا اور جملے کی بازگشت اسے مستقل اپنی پناہوں میں رکھتی۔ ایک امید‘ ایک آس جس پر وہ اپنی زندگی کے مشکل اور کٹھن ترین دن گزار رہی تھی۔ شہروز سے بات کرکے سکینہ کو بہت تسلی ہوگئی تھی۔
پھر ڈھیر سارے دن گزر گئے‘ سکینہ کے لیے ہر ماہ معقول رقم آجاتی۔ دو تین بار سکینہ نے شہروز سے اور بات کی تھی اور پھر اچانک سے شہروز کا وہ نمبر بند جانے لگا۔ بابا نے کئی بار ٹرائی کی مگر ہر بار مایوسی ہوئی۔ سکینہ کو بھی پریشانی ہوئی آخر ایسا کیوں ہورہا تھا‘ شہروز کہاں گیا؟ کیسا تھا؟ ’’خدایا شہروز کو امان میں رکھنا‘‘ اپنی تکلیف بھول کر وہ شہروز کی زندگی اور عافیت کی دعائیں مانگنے لگتی اور پھر کچھ دکھ اور تکلیف کے ایک تھکا دینے والے سفر کے بعد اس کی گود میں ننھی سفینہ تھی‘ سکینہ اسے سینے سے لگا کر بُری طرح رو پڑی تھی‘ اسے شہروز کی یاد نے بالکل توڑ کر رکھ دیا تھا اس کی یہ حالت دیکھ کر بابا نے شہروز کا دیا ہوا پتا اپنے پرانے کُرتے کی جیب سے نکالا اور شہروز کی تلاش میں ہمت کرکے شہر کی جانب چلا سکینہ کو مکمل یقین تھا کہ شہروز اس سے بے وفائی نہیں کرسکتا۔ یقینا وہ کسی پریشانی میں گرفتار ہے‘ حاجراں اور بابا اس کی حالت دیکھ کر سوچتے کیا ہم نے جلد بازی میں اپنی بچی کے لیے غلط فیصلہ کرلیا؟ ان کو تو بیٹی کی خواہش عزیز تھی وہ بھلا کب بُرا چاہتے تھے مگر یہ تو خدا کی مرضی تھی اور سکینہ کا نصیب…!
بابا بے چارہ مارا مارا شہر کی گلیوں میں گھومتا رہا‘ سب سے پوچھا… مگر بڑی مشکلوں سے اسے پتا چلا لیکن اس وقت اس کے پیروں تلے زمین نکل گئی جب پتا چلا کہ یہ لوگ تو گھر فروخت کرکے کہیں اور جاچکے ہیں۔ بابا تو سن کر پاگل سا ہوگیا۔ اُف… اس کے سامنے سکینہ کا معصوم سا امید و آس کی کیفیت سے دوچار چہرہ گھوم گیا۔ ساتھ ہی چند دن کی سفیہ جو باپ کی شفقت اور لمس سے نا آشنا تھی اور شاید اسے ایسے ہی رہنا تھا۔
دونوں ہاتھوں سے سر تھام کر وہ وہیں سڑک کے کنارے بیٹھ گیا اور سوچنے لگا کہ کیا منہ لے کر جائے گا واپس… سکینہ کو کیا جواب دے گا؟
اپنے دل پر منوں بوجھ لیے کمالا واپس گائوں لوٹ آیا‘ دل اور دماغ پر الٹے سیدھے خیالات کا بھاری بوجھ اس کا ناتواں وجود برداشت نہ کرسکا اور جیسے ہی وہ بس کے اڈے پر اترا اور اپنے خیالات میں یوں مگن تھا کہ سامنے سے آتی بس کا ہارن بھی اسے مخاطب نہ کرسکا اور ایک دلخراش چیخ کے ساتھ اس کا لہو کچی سڑک پر پھیل گیا۔ اور جب کمالے کی لاش گائوں میں آئی تو ہر آنکھ اشکبار تھی۔ وہ نواسی کو باپ اور بیٹی کو شہروز کی محبت دینے کے لیے نکلا تھا مگر نواسی سے نانا اور ایک بیٹی کو داغِ یتیمی دے گیا۔ یہ کیسا طوفان آیا تھا‘ ماں بیٹی کی زندگی میں۔ حاجراں سکتے کی حالت میں تھی سکینہ کی چیخوں نے آسمان سر پر اٹھالیا تھا۔ ماں کی خالی خالی ویران آنکھیں دیکھ کر وہ تڑپ رہی تھی‘ ماں کو جھنجوڑ رہی تھی۔
’’اماں… اماں… مجھے معاف کردے۔‘‘ اماں کے سر پر پڑی سفید چادر تھام کر وہ اماں سے لپٹ گئی۔ ’’کاش… بابا نہ جاتا…‘‘ وہ بار بار یہی کہتی اور سینہ کوبی کرتی۔
’’نہ دھئی نہ…‘‘ اچانک حاجراں کو جیسے ہوش آگیا۔ وہ سکینہ کو سینے سے لپٹا کر بلکنے لگی‘ تڑپنے لگی۔ لوگ ماں بیٹی کو دلاسہ دیتے دیتے خود بھی بے تحاشہ رو رہے تھے۔
مرنے والا مرجاتا ہے اپنے پیچھے بے شمار یادیں چھوڑ جاتا ہے اور پیچھے رہ جانے والوں کو آخر کار صبر آہی جاتا ہے۔ مرنے والے کا تو ہر کوئی صبر کرلیتا ہے مگر جیتے جی بچھڑ جانے والوں کو بھول جانا یا ان پر صبر کرلینا کسی صورت آسان نہیں ہوتا۔ یہی حالت سکینہ کی تھی بے قراری‘ بے کلی اور الجھی الجھی سی وہ چپ ہوکر رہ گئی تھی۔ ہنسی تو جیسے وہ بھول ہی گئی تھی ہر دم اداسی اور سوگواری چھائی رہتی‘ نہ ختم ہونے والی تنہائی میں وہ جینے لگی۔ سفینہ کو سینے سے لگا کر حاجراں بھی زندگی سے ناتہ توڑ بیٹھی تھی اب دونوں ماں بیٹی ایک دوسرے کا سہارا تھے‘ سکینہ گائوں والی خواتین کے کپڑے سلائی کردیتی‘ کڑھائی کردیتی اور یوں گزارا ہوجاتا۔ شہروز تو مکمل طور پر زندگی سے بے دخل ہوچکا تھا۔ سفینہ سمجھتی تھی کہ اس کا باپ مرچکا ہے‘ سکینہ نے کوئی خاص ذکر ہی نہیں کیا تھا باپ کا۔ سفینہ نے ہوش سنبھالا تو بس ماں کو دیکھا اس کی دنیا بس اماں تھی یا ایک دو سہیلیاں۔
ہاں! اماں میں ایک خاص بات تھی کہ اس نے گھر کا کواڑ کبھی بند نہ کیا تھا ہمیشہ وہ دروازہ کھلا رکھتی اور یہ معمہ سفینہ کی ننھی سمجھ سے باہر تھا۔ اس نے اماں سے جب بھی کواڑ بند کرنے کا کہا۔ اماں بُری طرح جھڑک دیتی اور پھر اس قدر بے چین ہوجاتی کہ ننھی سفینہ خود ہی شرمندہ ہونے لگتی۔ اسے لگتا اماں روتی رہتی ہیں اور وہ اماں سے اپنی بات کی معافی طلب کرلیتی۔
سفینہ کو اپنی ماں کی خوب صورت آنکھوں میں آنسو بالکل اچھے نہ لگتے تھے‘ اماں کے اندر جیسے کوئی بے قرار روح آبسی تھی جو اسے بے چین بے قرار رکھتی۔ اکثر راتوں کو سکینہ نیند سے جاگ کر بے تحاشہ باہر کی جانب بھاگتی۔ جیسے کسی نے دروازہ پر دستک دی ہو اور سفینہ خاموش لیٹی اماں کو دیکھتی رہتی۔
سفینہ پندرہ سولہ برس کی ہوچکی تھی‘ گائوں کے اسکول سے چھٹی جماعت پاس کرلی تھی پھر پڑوس میں رہنے والی شاکرہ خالہ نے اسے اپنے بیٹے فیصل کے لیے مانگ لیا تھا یوں وہ فیض کی مانگ تھی۔ سفینہ باہر سے لوٹی تو ساتھ یہ خبر لے کر آئی کہ اماں شہر سے بہت سارے ڈاکٹر آئے ہیں اور مفت دوائیں بانٹ رہے ہیں اور علاج کررہے ہیں۔
’’کیا… کیا…؟‘‘ سکینہ آٹا گوندھتے یوں اچھلی جیسے بچھو نے ڈنک ماردیا ہو۔ یکلخت اس کے چہرے کا رنگ بدل گیا‘ آنکھوں میں اضطرابی وحشت برسنے لگی۔
’’تُو… تُو… کیوں گئی تھی وہاں؟‘‘ سکینہ کا زناٹے دار تھپڑ سفینہ کے نرم نازک سفید گالوں کو لال کرچکا تھا۔ ’’خبردار جو تُو ان کے قریب بھی گئی‘ ٹانگیں توڑ دوں گی تیری۔‘‘ اس اچانک اور غیر یقینی ردعمل اور ساتھ ہی تھپڑ کھانا سفینہ کے لیے بالکل غیر متوقع تھا اس نے بھلا ایسا کیا کہہ دیا تھا کہ اماں کو اتنا غصہ آگیا تھا۔ سفینہ گال پر ہاتھ رکھے‘ نم آنکھیں لیے سکینہ کو دیکھنے لگی۔
’’اماں…‘‘ سفینہ نے لب ہولے سے کپکپائے‘ تب سکینہ کو اپنی غلطی کا احساس ہوا‘ وہ تو انجان بچی تھی۔ اس کو کیا پتا تھا؟ اس کا کیا قصور تھا؟سکینہ نے سفینہ کے تمتماتے چہرے کی طرف دیکھا اور اسے کھینچ کر اپنے ساتھ لپٹالیا۔
’’ہائے ربا! مجھے معاف کردے میری بچی… بس تُو نہ جایا کر اِدھر اُدھر‘میرا دل ہولنے لگتا ہے۔‘‘ سکینہ نے اس کے گال پرنرمی سے ہاتھ پھیر کر پیار کرتے ہوئے کہا۔ وہ خود کو کسی حد تک سنبھال چکی تھی مگر سفینہ حیرت اور تجسس کے ساتھ اپنی اماں کا یہ روپ بھی دیکھ رہی تھی۔
’’یہ اماں کو کیا ہوگیا ہے؟‘‘ اس کا ذہن سمجھ نہ پایا تھا‘ وہ تو اماں کے سینے سے لگ کر تھپڑ کی تکلیف اور جلن کا احساس بھول چکی تھی۔
’’شہر سے ڈاکٹرز آئے ہیں‘‘ اس جملے نے سکینہ کو ایک بار پھر ہلا کر رکھ دیا تھا‘ وہ نہیں چاہتی تھی کہ پھر سے کوئی شہروز اس کی بیٹی کا تماشہ بنائے۔ وہ تو ساری زندگی تڑپ کر انتظار کرتے کرتے گزار رہی تھی مگر جس اذیت کو جس تکلیف وہ سہہ رہی تھی وہ نہیں چاہتی تھی کہ اس کی بیٹی بھی اسی اذیت سے دوچار ہو۔ ایک بار پھر شہروز کی یاد نے اسے بُری طرح ہلا کر رکھ دیا تھا۔ آج بھی دل میں امید تھی‘ ایک آس ایک خواہش کہ شاید شہروز بھی آجائے اس سے معافی مانگ لے اور وہ معاف کرکے اس کے ساتھ چلی جائے۔
سفینہ کو بچپن سے آج تک سکینہ نے کبھی پھول سے بھی نہ مارا تھا آج جو تھپڑ کھایا تو وہ برداشت نہ کرسکی اور شام تک بخارمیں پھنک گئی۔ سکینہ بُری طرح گھبرا گئی پڑوس سے شاکرہ کو بلوا لیا‘ دونوں مل کر پٹیاں رکھنے لگیں۔
’’تُو کہے میں دوا لے آئوں جاکر۔‘‘ شاکرہ نے دیکھا کہ بخار کم ہی نہیں ہورہا تو سکینہ سے پوچھا۔
’’ہاں لے آئو۔‘‘ سکینہ نے کہا تو شاکرہ چادر سر پر لیتی ہوئی باہر کی طرف چل دی۔ کچھ دیر میں شاکرہ واپس آئی تو ساتھ شہر سے آنے والے ڈاکٹر کو لے آئی۔ سکینہ نے خود کو چادر میں لپیٹ لیا تھا۔
اُف… وہ شہروز ہی تھا… وہی قدموں کی چاپ‘ وہی مخصوص خوشبو۔ جس کو وہ آج بھی اپنے آس پاس محسوس کرتی تھی۔ پندرہ سولہ سال کے تھکا دینے والے سفر نے شہروز پر کوئی اثر نہ ڈالا تھا وہ آج بھی ویسا ہی تھا۔ تندرست‘ توانا‘ ہشاش بشاش اور مطمئن… سکینہ کا دل چاہا دوڑ کر شہروز کے سینے سے لگ جائے۔ ساری کوفت‘ ساری اذیت اور سارے دکھ ایک لمحے میں ختم کردے مگر… مگر شہروز تو… بالکل اجنبی کی طرح داخل ہوا تھا اس کے اندر کوئی جان‘ پہچان یا دیکھی ہوئی جگہ کا کوئی اثر نہ تھا۔ وہ گھر جہاں اس نے اپنی بیوی کے ساتھ کچھ دن گزارے تھے وہ تو جیسے بھول چکا تھا‘ بالکل انجان اور اجنبی سا‘ جس کی آنکھوں میں قطعی بے گانگی اور اجنبیت تھی۔ سفینہ کو دیکھ کر بھی اس کے خون میں کوئی گردش نہ ہوئی‘ کوئی تڑپ نہ تھی۔ ایک عام سے ڈاکٹر کی طرح بی ہیو کررہا تھا‘ چیک اپ اور سرسری سی بات چیت…
’’دوا دے دی ہے آرام آجائے گا۔‘‘ لہجے میں ہلکا سا تکبر تھا۔
’’آپ… آپ… پھر آئو گے دیکھنے؟‘‘ ابھی بھی ہلکی سی آس پر بے ساختہ سکینہ کے لرزتے ہونٹ کپکپائے۔
’’نہیں… دو دن کی دوا دے دی ہے‘ ٹھیک ہوجائے گی۔ آج واپسی ہے ہماری‘ تم لوگ صفائی کا خیال رکھا کرو۔‘‘ اُف کتنی بے رحمی اور سفاکی سے کہہ رہا تھا‘ لفظوں کے تازیانے سکینہ کے دکھتے وجود پر برسا کر وہ جاچکا تھا‘ پیچھے شاکرہ بھی نکل گئی۔
ایک ہلکی سی آس مبہم سی امید جو اس نے برسوں سے سینت سینت کر دل کے نہاں خانوں میں چھپا رکھی تھی ایک ہی ٹھوکر میں وہ سارے خواب‘ امیدیں اور آس وہ توڑ گیا تھا۔ برسا برس جس لمحے کی منتظر تھی وہ تو اب کبھی بھی نہ آنا تھا۔ لفظوں کے تیر‘ اس کے وجود پر برسا کر وہ کتنا مطمئن تھا۔ وہ یکسر بھول چکا تھا کہ یہاں پر بھی اس کا اپنا کوئی ہے‘ سب کچھ ختم ہوچکا تھا‘ کوئی روزن‘ کوئی راستہ اور کوئی وجہ نہ چھوڑی تھی۔
وہ ایک جملہ ’’میرا انتظار کرنا‘‘ جو اس کی سماعتوں میں بار بار گردش کرتا تھا‘ وہ اپنی اہمیت کھوچکا تھا۔
سفینہ اماں کی بدلتی کیفیت دیکھے جارہی تھی‘ یکلخت سکینہ صحن کی جانب بھاگی اور جاکر دہاڑ سے دروازہ بند کرکے اس کی کنڈی لگادی اور جب واپس آئی تو اس کی حالت نڈھال تھی‘ آنکھیں جن میں ہمیشہ انتظار نظر آتا آج بالکل مطمئن تھیں۔ کوئی امید نہ تھی کوئی بے قراری اور وحشت نہیں تھی۔
’’ام… اماں…‘‘ سفینہ نے آنکھیں پھیلا کر ماں کی طرف دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں بہت کچھ تھا۔
’’آج… اماں نے دروازہ بند کیوں کیا؟ اس کا معصوم ذہن ماضی میں بھٹکنے لگا‘ بچپن سے آج تک اماں کا دروازہ کھلا رکھنا اور اسے تھپڑ مارنا‘ آنکھوں میں انتظارکے دیئے جلائے دروازے کو تکتا رہنا اور آج… اچانک ہی… ڈاکٹر کے جاتے ہی دروازہ بند کردینا۔‘‘
’’اماں… اماں…‘‘ سفینہ بہ مشکل چارپائی سے نیچے اتر آئی اور اماں کے ناتواں اور شکستہ وجود کو تھام لیا اور دونوں ماں بیٹی ایک دوسرے سے لپٹ کر رو پڑیں‘ آج وہ تمام بوجھ اتار پھینکنا چاہتی تھی۔

Show More
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close