Hijaab Jul-17

شب آرزو تیری چاہ میں(قسط نمبر6)

نائلہ طارق

(گزشتہ قسط کا خلاصہ)
رائمہ دراج کو شزا کی شادی میں ساتھ چلنے کے لیے فورس کرتی ہے لیکن وہ زرکاش کی فیملی سے کوئی تعلق رکھنا نہیں چاہتی اس لیے انکار کردیتی ہے جبکہ رائمہ شادی میں شرکت کے لیے اپنے سسرال والوں کے ساتھ جاتی ہے۔ دوسری طرف زرکاش اپنے بہن بھائیوں کے رویے سے دل براشتہ ہوتا دراج کے پاس آجاتا ہے اور انجانے میں اپنے بہن بھائی کے رویے کا اظہار کرتا دراج کو اندر تک سرشار کردیتا ہے۔ اسپتال میں ندا کے کزن (اظہار) کے ہمراہ انسپکٹر بھی موجود ہوتا ہے اور انسپکٹر طرح طرح کے سوال کرتا راسب کو ذہنی انتشار میں مبتلا کر دیتا ہے جبکہ رجاب ہر بات سے انکاری ہوجاتی ہے اسے ان لڑکوں میں سے کسی کی بھی شکل یاد نہیں تھی راسب انسپکٹر کو رجاب کی سرجری کا بتا کر اسے مزید سوالات سے روک دیتا ہے تب اظہار راسب کو سمجھاتا ہے اور اسے انسپکٹر کے ساتھ تعاون کرنے کا کہتا ہے جبکہ دوسری طرف حاذق ان تمام معاملات سے بچ رہا ہوتا ہے تب راسب حاذق سے ملنے تایا کے گھر پہنچ جاتا ہے اور اس پر برہم ہوتا ہے جبکہ اب حاذق ندا کو قبول کرنے سے انکاری ہوتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب عرش سے شازمہ کو گھر لے جانے کا کہتے ہیں ساتھ ہی عرش سے اس کے کام کے حوالے سے بھی پوچھتے ہیں جس پر عرش ان سے جھوٹ بولتا ہے تب ڈاکٹر اسے غلط کام سے باز رہنے اور ماں (شازمہ) کو زیادہ سے زیادہ وقت دینے کا کہتے ہیں عرش شازمہ کو گھر لے آتا ہے۔ زرکاش دراج کو اپنے فلیٹ پر لے آتا ہے اور ایک چابی اسے دے دیتا ہے تاکہ جب اس کا دل زرکاش سے ملنے کو چاہے تو وہ یہاں آسکتی تھی ساتھ ہی زرکاش اس پر اپنی پہلی محبت کا راز آشکار کردیتا ہے جس پر دراج کسی قسم کا رد عمل ظاہر نہیں کرتی بلکہ مزید اپنی محبت کا اظہار زرکاش سے کرتی ہے۔ پہلی سرجری کے بعد رجاب گھر آجاتی ہے دوسری سرجری ہفتوں بعد ہونی تھی تب رجاب ندا سے حادق سے بات کرنے کی خواہش ظاہر کرتی انہیں حیران کر جاتی ہے ندا اسے سمجھانے کی کوشش کرتی ہے لیکن رجاب اپنی بات پر قائم رہتی ہے اس کی ضد کے آگے ہار مانتے ندا اسے کارڈ لیس تھما کر کمرے سے نکل جاتی ہے رجاب حاذق کو اپنے زندہ ہونے کی بابت بتاتی اسے تمام تلخیاں بھلانے کو کہتی ہے جبکہ حاذق اسے اپنے عتاب کا نشانہ بناتا طلاق کی بات کرتا ہے جس پر رجاب اسے خوف خدا کرنے کا کہتی ہے۔ دوسری طرف عرش مایوس سا اپنی مخصوص جگہ پر کھڑا ہوجاتا ہے تب وہ (لڑکی) اس کے قریب آکر اس سے مایوسی کی وجہ پوچھ کر اسے تسلی دیتی ماں (شازمہ) کا خیال رکھنے کا کہتی ہے جبکہ عرش اسے اپنے ساتھ گھر لے جانے کی بات کرتا ہے تو وہ انکار کردیتی ہے تب ہی زرق اس کو باتیں سناتا وہاں آجاتا ہے جس پر عرش اور زرق میں جھگڑا ہوجاتا ہے اور زرق وہاں سے بھاگ جاتا ہے۔
(اب آگے پڑھیے)
m… / …m
’’پتہ نہیں ماما…‘‘
’’وقت آنے پر‘ تمہیں خود اندازہ ہوجائے گا… جب اندازہ یقین میں بدل جائے اور دل اس کے حق میں گواہی دے تو اسے اپنانے میں دیر مت کرنا‘ کامیابیاں حاصل کرنے میں اسے گنوا مت دینا‘ وہ تمہاری زندگی میں آجائے گی تو سفر میں تنہا نہیں رہوگے‘ منزل پر پہنچو گے تو خوشی بانٹنے کے لیے کوئی تمہارے ساتھ ہوگا… مگر میں یہ نہیں چاہتی کہ تم صرف میری مرضی کو خود پر مسلط کرلو کہ میں اسے تمہارے ساتھ دیکھنا چاہتی ہوں… وقت آنے پر پہلے اپنے دل کی بھی سننا‘ اس میں کوئی شک نہیں کہ تم میرے بہت فرماں بردار بیٹے ہو‘ بہت خدمت کی ہے تم نے اپنے باپ اور ماں کی‘ میں دن رات اللہ سے دعا کرتی ہوں کہ وہ تمہارے تمام گناہوں اور غلطیوں کو معاف کردے‘ پاک رکھے‘ مجھے تمہارے ساتھ جنت میں داخل کرے‘ تمہیں دنیا اور آخرت میں کامیاب و سرخرو کرے‘ آمین۔‘‘
’’میں نے ابھی تک کچھ بھی نہیں کیا آپ کے لیے… کوئی خوشی تک نہیں دی مگر ماما… آپ نے مجھے دونوں جہاں کی خوشیاں دیں ہیں اور پھر آپ ہیں میرے ساتھ‘ میری زندگی کے فیصلے کرنے کے لیے‘ مجھے ایک ایک قدم پر آپ کی ضرورت ہے۔‘‘ اس کی نم آنکھوں اور لہجے میں کچھ تھا کہ شازمہ کے چہرے پر آزردگی پھیل گئی تھی۔ چپ چاپ وہ اسے دیکھتی رہی تھیں جو ان کے گھٹنوں پر سر رکھے ہوئے تھا۔ اس کے آنسوئوں کی نمی وہ اپنے دامن پر محسوس کررہی تھیں‘ مگر بے بس تھیں۔
’’ماں‘ باپ آنکھوں سے اوجھل ہوکر بھی اپنی اولاد کے دل میں رہتے ہیں‘ میری دعائیں ہمیشہ تمہارے ساتھ رہیں گی۔‘‘ اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتیں وہ پُرشفقت لہجے میں بول رہی تھیں۔ ’’جانتے ہو‘ جب تم دنیا میں آئے تھے‘ میں نے تب سے ہی جانے کتنے ارمان اور خواب جمع کرنے شروع کردیئے تھے‘ ان میں سے ایک خواب یہ بھی تھا کہ میں تمہارے بچوں کو اپنے گھر میں شرارتیں کرتے دیکھوں گی… جیسے کہ تم کرتے تھے‘ پتہ ہے‘ تمہاری شرارتوں سے عاجز آکر میں رو پڑتی تھی… اور تمہارے پاپا بہت ہنستے تھے…‘‘ شازمہ مدھم لہجے میں بولتی جارہی تھیں‘ عرش کو ان کی آواز کہیں دور سے آتی محسوس ہورہی تھی‘ ان کی مہربان انگلیوں کا لمس اسے دور کہیں اڑاتا ہوا لے جارہا تھا‘ کسی اور دنیا میں‘ کسی اور زمین پر‘ وہ زمین سفید اور چمکتی ہوئی تھی۔ ہر تھوڑے فاصلے پر موجود درختوں کی شاخوں پر ایک ایک پتے پر سفیدی جمی ہوئی تھی‘ بس کہیں کہیں ہریالی کی جھلک دکھائی دے سکتی تھی۔ اس سفیدی میں عجیب سی چمک تھی‘ روشنی تھی‘ سر اٹھا کر اس نے آسمان کو دیکھنا چاہا تھا مگر وہاں پُر نور سی روشنی نگاہوں کی حد تک جاکر دھند میں بدل گئی تھی‘ اپنے اطراف میں بھی اسے وہی روشنی اور حد نگاہ سے آگے دھند دکھائی دی تھی‘ اس ماحول میں عجیب سی خنکی اور مہک پھیلی تھی‘ دھیرے دھیرے وہ آگے بڑھ رہا تھا‘ خاموشی اور سکوت اتنا گہرا تھا کہ اسے اپنی سانسوں اور دھڑکنوں کو سننے میں کوئی دقت نہیں ہورہی تھی‘ اس تنہائی‘ نور میں ڈوبے ماحول اور پراسرار سی خاموشی میں اسے خوف محسوس ہونے لگا تھا‘ چلتے چلتے اس کی وحشت بھی بڑھنے لگی تھی‘ تب ہی اسے ایک مانوس پکار سنائی دی تھی‘ جس نے اس کے خوف اور وحشت کو زائل کردیا تھا‘ ایک بار پھر اسے اپنی ماں کی آواز سنائی دے رہی تھی‘ سمت کا تعین کرتا وہ دیوانہ وار دوڑا تھا‘ بھاگتے بھاگتے اس کی سانسیں پھول گئی تھیں‘ اس کی آنکھوں کے سامنے ایک سفید چمکتی ہوئی دیوار آگئی تھی‘ روشنیوں سے منور اس دیوار کے قریب اس کے قدم رک گئے تھے‘ اس دیوار کی اونچائی پر ایک چہرہ جھانکتا ہوا اسے دکھائی دے رہا تھا‘ اس کی بے تابی بڑھی تھی سفید چادر میں قید وہ چہرہ اس کی ماں کا تھا‘ وہ ان کو پکارنا چاہتا تھا کہ تب ہی اسے اپنی ماں کے برابر میں ایک اور چہرہ دکھائی دیا تھا‘ سر اٹھائے وہ ساکت نظروں سے اپنے باپ کے مہربان چہرے کو دیکھ رہا تھا… ماں‘ باپ کو دیکھتے ہوئے اس کی بے تابی حد سے تجاوز کرنے لگی تھی‘ وہ ان دونوں کے پاس اوپر جانا چاہتا تھا ہر صورت… تیزی سے اس نے دیوار کا جائزہ لیا جو مکمل سپاٹ تھی‘ دیوار کے ساتھ ساتھ وہ بھاگا تھا کسی راستے‘ کسی سیڑھی کی تلاش میں مگر… ناکام ہوکر وہ اندھا دھند بھاگتا واپس اسی مقام پر آیا تھا‘ وہ اپنے ماں باپ کو بتانا چاہتا تھا کہ اسے ان تک پہنچنے کا کوئی راستہ نہیں مل رہا مگر کوشش کے باوجود اس کے حلق سے کوئی آواز نہیں نکل سکی تھی‘ بس بے بس نظروں سے سر اٹھائے ان دونوں کے چہروں کو دیکھتا وہ بے آواز رو رہا تھا‘ اسی کیفیت میں اسے اپنے ماں باپ کے چہرے دودھیا روشنی میں دھندلاتے ہوئے دکھائی دیئے تھے‘ شدید خوف اور وحشت میں چیخنے کی کوشش کرتا وہ تیز روشنی میں ان کے چہرے غائب ہوتے دیکھتا رہا تھا‘ اوپر اب کچھ نہیں تھا‘ تیز روشنی تھی‘ جو آہستہ آہستہ بڑھتی جارہی تھی اتنا کہ اس کی آنکھیں چندھیانے لگی تھیں۔
یک دم اس کی آنکھ کھلی تھی‘ اس کی آنکھوں سے اب بھی گرم قطرے پھسل رہے تھے‘ دھڑکن اب بھی تیز تھی‘ سانسیں پھولی ہوئی تھیں‘ وہی خنک سناٹا اسے اردگرد محسوس ہورہا تھا۔ دل ودماغ اسی وحشت اور خوف میں گرفتار تھا‘ اس کا وجود پتے کی طرح لرز رہا تھا جب اس نے اپنی ماں کے گھٹنوں پر سے سر اٹھایا تھا‘ اگلے ہی پل اس کی سانس اور دھڑکن تھم گئی تھی۔
شازمہ اب بھی بیک کرائون سے سر ٹکائے نیم دراز تھیں‘ ان کی آنکھیں بند تھیں‘ ان کے چہرے پر جو چمکتی پُرنور روشنی پھیلی تھی اس سے وہ نامانوس نہیں رہا تھا۔ وحشت وخوف کے ساتھ لرزتا وہ ان کے قریب ہوا تھا۔
’’ماما…‘‘ لرزتی سرگوشی میں ان کو پکارتا ہوا اس نے ان کی پیشانی کو چھوا تھا جو برف کی طرح سرد ہورہی تھی… کوئی آہنی پھندا عرش کی گردن کو جکڑ رہا تھا‘ ایک ٹک ان کے چہرے کو دیکھتا وہ پیچھے ہٹا تھا‘ وہ الٹے قدموں اب پیچھے ہٹ رہا تھا‘ اس کا چہرہ آنسوئوں سے تر تھا… اپنی ماں کے زندگی سے عاری چہرے کو دیکھتے ہوئے اس کا خوف‘ وحشت‘ اذیت‘ جانے کس کیفیت میں ڈھل گئے تھے‘ اس کی اذیت ناک کراہیں بلند ہوتی جارہی تھیں‘ وہ یک دم ساکت ہوا تھا‘ دور کہیں سے فجر کی اذان کی آوازیں بلند ہورہی تھیں‘ وہ جان چکا تھا کہ سب کچھ گنوا کر آج وہ قلاش ہوچکا ہے‘ پلٹ کر اس نے گھٹی سسکیوں اور دھندلائی نظروں سے اپنی ماں کے ساکت وجود کو دیکھا اور بے جان قدموں کو گھسیٹتا وہ بچوں کی طرح روتا ان کی طرف بڑھا تھا‘ ان کے پیروں سے لپٹا وہ پھوٹ پھوٹ کر رو رہا تھا‘ باہر تو بارش رک چکی تھی‘ اب اس کے آنسوئوں میں بھیگی کراہیں خاموش درودیوار سے ٹکرا کر کمرے میں گونج رہی تھیں۔
m… / …m
’’ہوسکتا ہے کہ سب کچھ ویسا نہ ہوا ہوتا جیسا دکھائی دے رہا ہے‘ ہوسکتا ہے کہ جو غلط ہوا ہے اس کا احساس تایا جان کو ہوگیا ہو اسی لیے انہوں نے حاذق کو اپنے ساتھ یہاں لانے کی اجازت مانگی ہو…‘‘ ندا کی قیاس آرائیوں پر راسب کا چہرہ سرخ ہوا تھا۔
’’ایسا کچھ ہوسکتا ہے نہ ہی ایسا ہونے کی امید کرسکتی ہو تم۔ تایا جان یہاں حاذق کو صرف اس لیے لارہے ہیں کہ افہام وتفہیم کے ساتھ ہمارے ساتھ اپنے تعلق پر آخری بار فاتحہ پڑھ سکیں‘ وہ سب صرف رجاب کے چہرے پر ایک سیاہ داغ لگانے کا تہیہ کرچکے ہیں‘ تایا جان دنیا کو بتانا چاہتے ہیں کہ ان کے بیٹے نے کتنی دلیری سے میرے سامنے آکر میری بہن کو طلاق دینے کا فیصلہ سنایا ہے‘ وہ یہ بتانا چاہتے ہیں دنیا کو کہ واقعی رجاب کے دامن پر داغ لگ چکا ہے‘ اسی لیے ہم نے سر جھکا کر ان کے فیصلے کو اپنے گھر میں قبول کرلیا ہے‘ وہ یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ ان کا بیٹا ظالموں میں سے نہیں اور نہ ہی میری بہن مظلوم ہے…‘‘
’’تو پھر آپ کو اللہ کا واسطہ ہے ان لوگوں کو یہاں آنے سے روک دیں…‘‘ ندا دہل کر بولیں۔ ’’کل ہی رجاب کی پھر سرجری ہوئی ہے‘ وہ پہلے ہی ذہنی ابتری کا شکار ہے‘ اگر آج مزید اس کے ساتھ اللہ نہ کرے کہ کچھ غلط ہوا تو وہ برداشت نہیں کرسکے گی… کم از کم آپ تو اس پر‘ اس کی حالت پر رحم کریں…‘‘
’’میں نے اس پر رحم کیا ہوتا تو آج وہ اس طرح تباہ نہ ہوتی… اسے سامنا کرنا ہوگا‘ اسے جاننا ہوگا کہ اس کی بربادی میں اس کے اپنے بھائی کا کتنا اہم کردار رہا ہے…‘‘ راسب کے ٹوٹے لہجے پر ندا کچھ بول نہیں سکی تھیں‘ اسی لمحے کال بیل پر ندا کا دل حلق میں آنے لگا تھا کہ ایک اور قیامت ان کی دہلیز پر آکھڑی ہوئی تھی۔ اپنے کمرے میں ساکت بیٹھی رجاب باآسانی راسب کی بلند آواز کو سن سکتی تھی۔
’’اپنے بیٹے کی بے غیرتی اور اس کی بزدلی میں آپ اس حد تک اندھے ہوسکتے ہیں اس کا مجھے اندازہ تک نہ تھا۔ اپنے بیٹے کی طرح آپ کو بھی رجاب کی زبان پر اعتبار نہیں‘ آپ کو بھی اس کے دامن پر اپنے بیٹے کی لگائی گئی کیچڑ کے سوا کچھ دکھائی نہیں دے رہا… رجاب کو آپ اپنے بھائی کی نہیں اپنی بیٹی کہتے رہے ہیں‘ اگر آپ کے بیٹے کے الزام میں سچائی ہے تو آپ اب تک زندہ کیسے ہیں‘ مر کیوں نہیں گئے؟ رجاب پر اعتبار کرکے آپ نے اپنے بیٹے کا گریبان کیوں نہیں پکڑا… مگر آپ ایسا کریں گے بھی کیسے…؟ غلاظت میری بہن کے دامن پر نہیں آپ سب کے اندر بھری ہے‘ اس کے ساتھ فرعونیت کا برتائو کرکے آپ صرف اپنے بیٹے کی بزدلی کو دنیا کی نظروں سے چھپانا چاہتے ہیں…‘‘
’’آپ میرے باپ کو اس طرح بے عزت نہیں کرسکتے‘ مجھے جو کرنا چاہیے میں وہی کررہا ہوں‘ اصلیت تو آپ کی بھی ہمارے سامنے آئی ہے‘ آپ جیسا انسان اسی لائق ہے کہ کوئی بھی باعزت شخص آپ سے اور آپ کی بہن سے کوئی تعلق استوار کرنے کے بجائے لعنت بھیج دے۔‘‘ حاذق کی آواز راسب سے زیادہ بلند تھی۔
’’اپنی آواز نیچی رکھو حاذق… جو مرد اپنی عزت کو پرائے مردوں کے درمیان سڑک پر چھوڑ کر بھاگتا ہے اسے اونچی آواز میں بولنے کا حق نہیں ہوتا… لعنت تم اپنی مردانگی پر بھیجو… ڈوب مرنے کے بجائے تم دل کا چور چھپائے اس کا سامنا کرنے آئے ہو جس کے سامنے تم نظر تک اٹھانے کے قابل نہیں رہے ہو…‘‘ راسب دھاڑے۔
’’میں کس قابل ہوں‘ کس قابل نہیں یہ آپ کو بتانے کی ضرورت نہیں… میرے پیچھے میرے لیے رونے والے موجود ہیں‘ میری زندگی صرف میری نہیں تھی جسے میں آپ کی بہن کے لیے قربان کردیتا۔‘‘ حاذق کی بلند آواز بھی رجاب تک بخوبی پہنچ رہی تھی۔
’’اگر میری بہن کی جگہ تمہاری اپنی بہن ہوتی تو یقینا تب بھی تم اسی بے غیرتی کا ثبوت دیتے جو میری بہن کو دے چکے ہو۔‘‘
’’آپ نے میرے ضبط کی ساری حدیں ختم کردی ہیں‘ میں آپ کی یہ سب بکواس سننے نہیں‘ آپ لوگوں سے اپنی اور اپنے گھر والوں کی جان چھڑانے آیا ہوں‘ آپ نے میرا کام اور آسان کردیا ہے…‘‘
’’تم صرف سچ کا سامنا نہیں کرسکتے اس لیے سچ تمہیں بکواس لگتا ہے‘ مگر یہ سچ بار بار تمہارے راستے میں آئے گا کہ میری بہن پر قیامت ڈھانے والوں میں تم آگے آگے ہو‘ ذمہ دار ہو اس کی تباہی کے‘ یہ سچ کبھی تمہیں سکون نہیں لینے دے گا۔ سکون کی بھیک مانگتے پھروگے تم…‘‘ راسب شدید اشتعال میں کہہ رہے تھے۔
’’ٹھیک ہے‘ میں ہر چیز کا ذمہ دار ہوں‘ میں بزدل ہوں‘ میں بے غیرت ہوں تو پھر ختم کرنے دیں مجھے رجاب سے اپنے تعلق کو‘ کیوں واویلا مچا کر اپنی داغ لگی بہن کو میرے گلے کا طوق بنانے پر تلے ہیں۔ میں آنکھوں دیکھی مکھی نہیں نگل سکتا‘ سمجھے آپ…‘‘
’’جی تو چاہتا ہے کہ اسی وقت تمہاری زبان کھینچ لوں اور وہ حشر کروں تمہارا کہ دنیا عبرت حاصل کرے۔‘‘ رکی سانسوں کے ساتھ وہ ساکت بیٹھی راسب اور حاذق کی آوازیں سن رہی تھی۔
زندگی میں پہلی بار اس نے راسب کی زبان سے ایسے بھاری لفظ اور زہر میں ڈوبے نشتر نکلتے سنے تھے‘ حاذق کی جوابی کارروائیوں پر اسے حیرت نہیں ہوئی تھی‘ اس سے چھٹکارا پانے کے لیے جب وہ تہمت لگا سکتا تھا‘ پورے خاندان میں اس کی پاک بازی پر انگلی اٹھا سکتا تھا تو آج وہ کچھ بھی کہہ سکتا ہے‘ اسے کوئی صدمہ اب نہیں ہونے والا تھا۔
بے حس وحرکت بیٹھی وہ اسے دیکھتی رہی تھی جو نیم وا دروازے کو ایک جھٹکے سے کھولتا جارحانہ قدموں سے اس کی طرف آیا تھا‘ اس کی شعلہ بار نظریں رجاب کے پٹیوں میں جکڑے چہرے پر ٹھہر گئی تھیں‘ جس کا کچھ ہی حصہ دکھائی دے رہا تھا۔
’’تمہارے بھائی جیسے جنونی اور بھونکنے والے چوپائے کے منہ لگے بغیر بھی میں اپنا نام تمہارے نام سے الگ کرسکتا ہوں مگر تم مجھے بتائو اب‘ کیا تم ایسے شخص کے ساتھ زندگی گزار سکوگی جسے تمہارے پاک دامن ہونے کا یقین نہ ہو…؟ جس کے دل میں رتی برابر بھی تمہارے لیے جگہ نہ ہو؟ جس کے دل میں تمہاری کوئی عزت ومقام نہ ہو؟‘‘ بلند بھڑکتے لہجے میں وہ اس سے پوچھ رہا تھا جو بس اس کے غصے میں دہکتے چہرے کو دیکھ رہی تھی۔
’’تمہارا بھائی تو اب بھی تمہیں میرے سر پر تھوپنے پر تلا ہے‘ مجھے اور میرے گھر والوں کو جی بھر کے ذلیل کرنے کے بعد بھی… مگر مجھے جھوٹا کھانے اور اترن استعمال کرنے سے گھن آتی ہے‘ میں نہیں چاہتا کہ آدھی رات میں آنکھ کھلنے پر مجھے اپنے پہلو میں ایک ایسی عورت کا چہرہ دکھائی دے جس سے مجھے خوف اور وحشت محسوس ہو‘ مجھے اپنی زندگی سے نفرت ہو جائے۔‘‘ حاذق کے خونخوار سفاک لہجے پر وہ سپاٹ نظروں سے اسے دیکھتی رہی‘ دروازے کے پاس ساکت کھڑی ندا کو لگا تھا کہ وہ حاذق کے چہرے پر تھوک دے گی مگر… کوئی چیز ندا کو اپنے دل میں کٹتی محسوس ہوئی تھی جب انہوں نے رجاب کو حاذق کے سامنے ہاتھ جوڑتے دیکھا تھا۔
’’ہمیں معاف کردیں اور جتنا جلد ممکن ہوسکے مجھے طلاق نامہ بھیج دیں۔‘‘ اس کی آنکھوں میں دیکھتی وہ سپاٹ لہجے میں بولی تھی۔ حاذق کی آنکھوں میں اس کے جڑے ہاتھوں پر تحیر ابھرا تھا مگر پھر وہ مزید کچھ بھی کہے بغیر اس کے سامنے سے ہٹتا کمرے سے نکلتا چلا گیا تھا۔
’’رجاب… تم نے اس کے سامنے ہاتھ جوڑے… وہ تو پہلے ہی تم سے جان چھڑانا چاہتا ہے پھر کیوں گرایا تم نے خود کو اس طرح…؟‘‘ غم وغصے میں ندا نے اس کے ساکت وجود کو شانوں سے پکڑ کر جھنجوڑ ڈالا تھا۔
’’گرایا تو اس نے ہے خود کو اونچے مقام سے… مجھے اس پر رحم آتا ہے‘ اسے جب پچھتاوا ہوگا تو شاید میرے جڑے ہاتھوں کو یاد کرکے اس کے پچھتاوے کی اذیت کم ہوجائے۔‘‘ اس کے سرد لہجے نے ندا کو دنگ کردیا تھا۔
’’تمہیں لگتا ہے کہ وہ تمہارے ساتھ ظلم کرکے پچھتائے گا کبھی؟ تمہیں لگتا ہے کہ اس کا ضمیر جاگ سکتا ہے کبھی؟‘‘ ندا پوچھ رہی تھیں۔
’’وہ اپنے ساتھ خود اپنے ہی کیے جانے والے ظلم پر تو پچھتا سکتا ہے… اور ضمیر جاگنے میں کون سے زمانے لگتے ہیں۔‘‘ اس کے عجیب سے لہجے پر ندا بس گنگ نظروں سے اسے دیکھتی رہ گئی تھیں۔
m… / …m
اگلے ویک اینڈ تک وہ بہت پُرجوش رہی تھی‘ نہ صرف خود پر بلکہ لباس سے لے کر سینڈلز تک پر اس نے خاص توجہ دی تھی‘ منفرد اور خوب صورت نظر آنے کے گر اس نے استعمال کرنے کا آغاز کردیا تھا‘ اس کے یاد دلانے سے پہلے ہی زرکاش نے اسے گھر لے جانے کا ذکر کردیا تھا۔ اسے گھر ڈراپ کرکے زرکاش واپس چلا گیا تھا‘ اسے اب رات تک ہی واپس آنا تھا‘ دراج کو کچھ مایوسی ہوئی تھی‘ اپنی نوک پلک سنوارنے اور خوش لباس نظر آنے کے لیے اس نے کافی وقت اور روپے خرچ کیے تھے‘ مگر اس کی یہ ظاہری تبدیلی زرکاش کی نظروں میں جیسے آئی ہی نہیں تھی‘ خیر وہ بالکل بھی مایوس نہیں تھی کہ اس میں آنے والا چینج اتنا کوئی چونکا دینے والا بھی نہیں تھا سو اس نے زیادہ پروا بھی نہیں کی تھی۔
زرکاش سے اس نے کہہ دیا تھا کہ آج وہ کوئی اچھی ڈش اس کے لیے تیار کرے گی۔ زرکاش کے آنے تک وہ ڈنر تیار کرچکی تھی‘ کھانے کے دوران کئی نقص نکال کر اس کے تاثرات سے لطف اندوز ہوتا وہ اس کا موڈ غارت کرتا رہا تھا۔
’’میں نے توبہ کرلی ہے‘ اب آپ کے لیے اس وقت تک کچھ نہیں پکاؤں گی جب تک کوکنگ میں مہارت حاصل نہ کرلوں۔‘‘ برتن دھوتی وہ ناراضی سے اسے بھی دیکھ رہی تھی جو ٹیبل کو چمکانے میں لگا تھا۔
’’بس بھی کردیں‘ آپ کا چہرہ نظر آنے لگا ہے ٹیبل پر اور کتنا اس بے چاری کو صاف کریں گے۔‘‘ اس کے خشمگیں لہجے پر وہ دھیرے سے ہنسا۔
’’تمہیں پتہ ہونا چاہیے کہ مجھے صفائی کا خبط ہے۔‘‘ وہ بولا جبکہ دراج بیزاری سے اسے دیکھ کر رہ گئی۔
گرین ٹی کا مگ اٹھائے وہ بیڈ روم میں آئی تھی جہاں بیڈ کی پائنتی کی قریب ہی زرکاش فلور کشن پر بیٹھا ٹی وی اسکرین کی طرف متوجہ تھا۔
’’تمہارا مگ کہاں ہے؟‘‘ مگ اس سے لیتے پوچھا۔
’’میرا موڈ نہیں۔‘‘ جواب دیتی وہ بیڈ پر آگئی اور تکیہ زرکاش کے عقب میں ہی رکھ کر تکیے پر کہنیاں ٹکائے نیم دراز ہوگئی تھی۔
’’اب گرین ٹی میں بھی کوئی کمی‘ کوئی نقص نکال لیجیے گا۔‘‘ وہ خفت سے جتانے والے انداز میں بولی۔
’’نہیں بھئی نقص ہوتے ہوئے بھی میں اس میں کبھی کوئی نقص نہیں نکال سکتا‘ گرین ٹی کی میں بہت عزت کرتا ہوں۔‘‘ اس کے کہنے پر وہ بے ساختہ ہنسی دی۔
’’سچ کہہ رہا ہوں۔‘‘ گردن موڑ کر مسکراتی نظروں سے زرکاش نے اسے دیکھا جو چہرہ ہتھیلی پر ٹکائے ہنسی رہی تھی۔
’’زرکاش قسم سے آپ کے بال بہت خوب صورت ہیں۔‘‘ مگ سے سپ لیتا وہ مکمل ٹی وی کی سمت متوجہ تھا جب اسے دراج کی آواز سنائی دی۔
’’اچھا… پہلی بار یہ تعریف سن رہا ہوں۔‘‘ ٹی وی پر نظر جمائے وہ سرسری لہجے میں بولا۔
دراج کی انگلیاں اسے اپنے بالوں پر سرسراتی محسوس ہورہی تھیں‘ چونکنے کے باوجود وہ ٹی وی کی طرف ہی متوجہ رہا تھا‘ کچھ دیر تک وہ یونہی اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتی رہی اور پھر اس کے بیڈ کے کنارے پھیلے ہاتھ کو نامحسوس انداز میں اپنے ہاتھوں میں لے لیا تھا‘ زرکاش کی طرح وہ بھی ٹی وی کی طرف متوجہ کبھی اس کی انگلیوں میں دھیرے دھیرے اپنی نرم انگلیاں الجھاتی کبھی اس کا ہاتھ اپنے رخسار سے لگاتی‘ اس وقت زرکاش نظر انداز نہیں کرسکا تھا‘ جب دراج نے اس کے ہاتھ کی پشت اپنے ہونٹوں سے لگائی تھی‘ وہ مزید ضبط نہیں کرسکا تھا‘ دھیرے سے اپنا ہاتھ دراج کی گرفت سے نکالتا وہ اٹھ کھڑا ہوا۔
’’کہاں جارہے ہیں؟‘‘
’’کہیں نہیں‘ گھر میں ہی ہوں۔ تم ٹی وی دیکھو۔‘‘ اس کی جانب دیکھے بغیر وہ سرسری انداز میں جواب دیتا دروازے کی سمت بڑھ گیا۔
لائونج میں آکر گہری سانس لیتا وہ صوفے پر براجمان ہوگیا‘ دماغ مائوف ہورہا تھا‘ صوفے کی پشت سے سر ٹکاتے ہوئے اس نے آنکھیں بند کرلی تھیں‘ آج ابھی یک دم اسے احساس ہونے لگا تھا کہ کہیں دراج کو یہاں ساتھ لاکر اس نے کوئی غلطی تو نہیں کی… دراج کو اپنے ساتھ یہاں لاتے ہوئے اس کے ذہن میں بس یہی ایک چیز تھی کہ دراج کو یہ احساس کمتری نہ ہو کہ اس کا اپنا کوئی گھر نہیں‘ وہ بالکل صاف نیت اور خالص جذبے کے تحت ایک گھر کی اسے خوشی دینا چاہتا تھا مگر اب اسے لگ رہا تھا کہ دراج کا بے باک انداز کسی پریشانی کا سبب نہ بن جائے۔ بند آنکھوں کے ساتھ اسے اپنے قریب دراج کی موجودگی محسوس ہوئی۔
’’آپ کو اچانک کیا ہوا؟‘‘ دراج کی آواز اسے سنائی دی مگر نہ اس نے جواب دیا نہ ہی آنکھیں کھول کر اس کی طرف دیکھا۔
’’چپ کیوں ہیں…؟ مجھے آپ کی خاموشی برداشت نہیں ہورہی۔‘‘ اس کے گریبان پر ہاتھ رکھتی وہ اپنا چہرہ اس کے شانے پر ٹکا گئی۔
’’آپ اتنے اچھے کیوں ہیں…؟ پتہ ہے آپ سے زیادہ اچھا میرے لیے کوئی اور ہوہی نہیں سکتا…‘‘ محبت سے لبریز سرگوشی میں وہ کہہ رہی تھی۔ جس نے زرکاش کی کنپٹیوں کو سلگا دیا تھا‘ کرنٹ کھا کر اسے پرے ہٹاتا وہ صوفے سے اٹھ گیا جبکہ دراج دنگ نظروں سے اس کے غصیلے تاثرات کو دیکھتی رہ گئی تھی۔
’’ہر چیز کی ایک حد ہوتی ہے دراج… یہ یورپ نہیں ہے اور نہ ہی میں اپنی حدود بھولا ہوں… کیا ہے یہ سب…؟‘‘ زرکاش کا لہجہ سخت غصیلا تھا۔
’’ہر رشتے کی ایک حد ہوتی ہے تاکہ اس کا وقار اور عزت قائم رہے… تمہارے نزدیک محبت کا مطلب یہ ہے کہ حدوں کی پروا نہ کی جائے تو مجھے معاف رکھو ایسی محبت سے‘ پہلے ہی میں بہت گناہ گار انسان ہوں‘ مجھے اور گناہ گار مت کرو۔‘‘ سرخ چہرے کے ساتھ بولتا وہ اس کے سامنے سے ہٹ گیا‘ لب بھینچے وہ زہرخند نظروں سے بیڈروم کے بند دروازے کو دیکھتی رہی۔
شاور لینے کے بعد بھی وہ فوری طور پر اس کا سامنا نہیں کرنا چاہتا تھا‘ تقریباً ایک گھنٹے بعد جب وہ بیڈروم سے نکلا تو پہلی نظر دراج پر ہی گئی تھی۔ گھٹنوں میں چہرہ چھپائے وہ سسک رہی تھی مگر زرکاش نے اس کے رونے کو کوئی اہمیت نہیں دی۔
’’چلو… میں تمہیں ہاسٹل چھوڑ آئوں‘ کافی وقت ہوگیا ہے۔‘‘ اس کے سرد لہجے پر دراج نے سر اٹھا کر اسے دیکھا تھا مگر وہ اس کی شدت گریہ سے سرخ ہوتی آنکھوں سے نظر چراتا سامنے سے ہٹ گیا۔ اپنی بھیگی آنکھیں صاف کرتی وہ خاموشی سے جانے کے لیے اٹھی تھی۔ سارا راستہ وہ اپنے بار بار بہتے آنسوئوں کو صاف کرتی رہی تھی‘ زرکاش کی خاموشی مستقل قائم رہی تھی۔
اس بار نہ زرکاش نے اسے اللہ حافظ کہا اور نہ ہی اس کے ہاسٹل کے اندر جانے کا اطمینان کیا‘ جیسے ہی دراج گاڑی سے اتری وہ فوراً ہی گاڑی آگے بڑھالے گیا تھا۔
’’آیا بڑا پارسا کہیں کا…‘‘ دور جاتی گاڑی کو زہریلی نظروں سے گھورتی وہ چبا جانے والے انداز میں بڑبڑائی۔
سخت بگڑے موڈ میں اس نے سینڈلز اتار پھینکی تھیں اور روم فرج سے ٹھنڈے یخ پانی کی بوتل نکال لی جس کی اسے سخت ضرورت تھی‘ زرکاش کی بدولت سے روم فرج کی سہولت بھی یہاں میسر تھی۔
’’میں نے بھی اگر تمہاری ماں‘ بہنوں اور بھائی کو اسی طرح انگاروں پر نہ لوٹایا تو میرا نام بھی دراج نہیں…‘‘ زیرلب غراتے ہوئے اس نے مزید دل کی بھڑاس نکالی۔ زبردستی کے آنسو بہا بہا کر فائدہ تو کچھ نہ ہوا البتہ اس کا سر درد سے ضرور پھٹنے لگا تھا‘ ٹیبلٹ کھا کر اس نے اپنے لیے چائے تیار کی‘ چائے پینے کے دوران ہی رائمہ کی کال آگئی تھی۔
’’دراج… تم زرکاش بھائی کے ساتھ کہاں گئی تھیں…؟ میں نے کتنی کالز بھی کی تمہیں؟‘‘ رائمہ کے سوالوں پر وہ چونکی۔
’’میں ان کے ساتھ کہاں جائوں گی… وہ یونہی کھڑے کھڑے خیریت پتہ کرنے آئے تھے‘ مجھے اپنی فرینڈ کے گھر جانا تھا‘ وہ بیمار ہے‘ کالج نہیں آسکتی اس کو ضروری نوٹس پہنچانے تھے زرکاش نے مجھے اس کے گھر ڈراپ کردیا‘ واپسی میں خود آگئی…‘‘
’’تم نے پھر زرکاش بھائی کا صرف نام لیا…‘‘ رائمہ نے ٹوکا۔
’’تو وہ سن رہے ہیں کیا…؟‘‘ وہ بیزاری سے بولی۔ ’’آپ بتائیں‘ ہاسٹل کس وقت آئی تھیں؟‘‘
’’اسد کو بھیجا تھا شام میں‘ کل چھٹی کا دن تھا تو میں نے سوچا تمہیں گھر بلالوں۔‘‘
’’چلیں پھر کل اسد بھائی کو بھیج دیجیے گا۔‘‘ وہ بولی ۔ ’’بجیا‘ ایک بات تو سمجھائیں؟‘‘
’’ہاں بولو۔‘‘ رائمہ چونکی۔
’’‘میں اپنی جس فرینڈ کے پاس آج گئی تھی دراصل وہ اپنے منگیتر سے ناراض ہوکر بیمار ہوگئی ہے کیونکہ اس کا فیانسی خیال تو اس کا بہت رکھتا ہے مگر بہت محتاط اور خشک بندہ ہے‘ میری فرینڈ کی نیچر اس سے مختلف ہے وہ بار بار اس سے اپنی محبت کا اظہار کرتی ہے‘ اس سے بھی یہی توقع کرتی ہے مگر وہ شخص کیا بار بارگرم جوشی سے اس کی محبت کا جواب محبت سے دے گا جس کے جذبات بھی لمیٹڈ ہوں۔‘‘
’’تو غلطی تمہاری دوست کی ہے‘ اس کا فیانسی یقینا بہت سمجھدار ہے وہ جانتا ہے کہ انگیجمنٹ کا تعلق بالکل بھی مضبوط نہیں‘ اس لیے حد میں رہتا ہے‘ تم اپنی دوست کو سمجھائو کہ سچی اور بے لوث محبت کا اظہار بار بار کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی‘ وہ خود ہی اپنے آپ کو منوالیتی ہے‘ اسے بتائو کہ محبت شرم وحیا کے دائرے میں رہے تو زیادہ پُرکشش اور پُر اثر رہتی ہے‘ ورنہ جو عورت ہمہ وقت پکے ہوئے پھل کی طرح جھولی میں گرنے کے لیے تیار رہے اس میں مرد کو کوئی کشش محسوس نہیں ہوتی بلکہ بیزاری ہوجاتی ہے۔‘‘
’’ہاں… یہ تو ٹھیک کہا آپ نے۔‘‘ وہ کچھ سوچتے ہوئے غائب دماغی سے بولی۔
اسے واقعی رائمہ سے متفق ہونا پڑا تھا۔ اسے اندازہ ہورہا تھا کہ زرکاش کی میچورٹی کے سامنے اسے بھی اپنی عمر سے زیادہ میچورٹی کا مظاہرہ کرنا ہوگا‘ کسی کو اپنا گرویدہ کرنے کے لیے گلے کا ہار بننا ضروری نہیں… مگر اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ وہ آج زرکاش کے ہاتھوں ہونے والی بے عزتی کو ہضم کر جائے۔ اس نے تہیہ کرلیا تھا کہ کم از کم اگلے ویک اینڈ تک زرکاش سے کوئی رابطہ نہیں رکھنا‘ اس بہانے وہ یہ دیکھنا چاہتی تھی کہ زرکاش کے نزدیک اس کی اہمیت اور کتنی بڑھی اور یہ بھی کہ وہ خود کہاں تک کامیاب ہوئی ہے۔
m… / …m
روانہ ہونے سے پہلے ہی تھکنے والے تھے
یہ ہم جو خواب سفر میں بھٹکنے والے تھے
کبھی ترس گئے پانی کی ایک بوند کو ہم
کبھی کناروں سے باہر چھلکنے والے تھے
پول سے پشت لگائے ساکت کھڑی وہ سنسان سڑک کی اس سمت یک ٹک دیکھ رہی تھی جہاں گزرے دس دنوں سے اس کے آنے کے کوئی آثار تک دکھائی نہیں دیئے تھے‘ جانے وہ کہاں‘ کس مشکل میں گم تھا‘ سوچ سوچ کر اس کے اعصاب تک نڈھال ہوچکے تھے‘ ایک انجانی سی امید اور یقین کے سہارے وہ روز یہاں اس کے انتظار میں کھڑی راہ تکتی رہتی تھی‘ ہر گرزتا دن اس کی بے قراری کو بڑھا رہا تھا‘ چھٹی حس عرش کی ماما کی طرف سے اس کے خدشات کو بڑھاتے اسے بے چین رکھتے تھے‘ اس کا پچھتاوا شدت اختیار کرچکا تھا اگر وہ فوری طور پر عرش کے گھر اس کی ماما سے ملنے چلی جاتی یا گھر کا پتہ ہی پوچھ لیتی تو آج یہاں بے بس کھڑی انتظار نہ کررہی ہوتی… مگر امید کے دیے ابھی بجھے نہیں تھے‘ اسے یقین تھا کہیں نہ کہیں کہ عرش اس سے ملے بغیر نہیں رہ سکتا… اور سچ تو یہ تھا کہ عرش کو دیکھے بغیر خود اس کا گزارہ بھی نہیں تھا‘ ایک بے نام سا تعلق جو اس کا عرش سے بندھ چکا تھا‘ وہ اس کی ماما سے ملنے کے بعد اور مضبوط ہوگیا تھا۔ خشک ہوا سے بکھرتے سوکھے زرد پتوں کا شور سنتی وہ خود بھی کہیں دور اس دھند میں گم ہونے لگی تھی جہاں اس کی اداس آنکھیں جمی ہوئی تھیں… تب ہی اس کا دل دھڑکا تھا‘ دور سڑک پر دھند میں ایک ہیولہ ابھرتا دکھائی دے رہا تھا‘ وہ جانتی تھی یہ وہم نہیں ہے‘ دور سے ہی اسے پہچانتے ہوئے وہ اپنی دھڑکنیں بڑھتی محسوس کررہی تھی… ہیولہ واضح ہوتا جارہا تھا‘ اس کی چال سے لگتا تھا کہ جیسے وہ صدیوں پر محیط مسافتیں طے کرتا ہوا آرہا ہو… نڈھال‘ خستہ حال‘ اذیتوں کی گرد میں اٹا‘ حالات سے لٹا ہوا‘ قافلے سے بچھڑا ہوا‘ منزل سے بھٹکا ہوا‘ وہ دنگ نظروں سے سانس روکے اس کے چہرے کو پہچاننے کی کوشش کررہی تھی جو بس ایک پل کو اس کے سامنے رکا تھا‘ اس کی سرخ انگارہ آنکھوں میں اذیت ناک داستان رقم تھی۔ وہ اپنے پیروں تلے زمین لرزتی محسوس کررہی تھی‘ دوسری جانب وہ اب پھر سر جھکائے تھکے تھکے شکستہ قدموں سے بائونڈری کی تاریکیوں کی سمت بڑھتا چلا گیا تھا۔ چند لمحوں تک وہ ساکت نظروں سے اس کے لرزتے وجود کو دیکھتی رہی پھر خود بھی اپنی سسکیوں کو روک نہیں سکی تھی‘ شازمہ کا مہربان چہرہ اس کی آنکھوں کے سامنے آگیا تھا‘ عرش کی کربناک کراہوں پر اس کا دل کٹتا جارہا تھا‘ عرش کی اذیت کو کم کرنے کے لیے ہر لفظ ہر تسلی بے معنی تھی۔ دھندلائی نظروں سے اسے ٹوٹتا بکھرتا دیکھنا ناقابل برداشت تھا‘ بے اختیار اس نے اپنا ہاتھ عرش کے شانے پر رکھا تھا۔
’’وہ مجھے چھوڑ کر چلی گئیں… ہمیشہ کے لیے…‘‘ وہ بھیگی ہوئی کانپتی آواز میں بمشکل بولا۔ تاریکی اتنی بھی نہیں تھی کہ وہ اس کے آنسوئوں سے تر چہرے کو نہ دیکھ پاتی۔
’’میرے پاس ان کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں… یہ جانتے ہوئے بھی وہ مجھ سے دور چلی گئیں… مجھے بالکل تنہا چھوڑ گئیں… اب میرے لیے کوئی نہیں دعا کرنے والا‘ میرا انتظار کرنے والا نہیں رہا‘ اب اگر میں مر بھی جائوں تو میرے پیچھے کوئی رونے والا نہیں… پہلے پاپا پھر ماما کو بھی اللہ نے مجھ سے چھین لیا… میں بھی زندہ نہیں رہوں گا‘ اللہ کو مجھ پر رحم نہیں آیا‘ تو میں بھی خود پر رحم نہیں کروں گا۔‘‘
’’ایسا مت کہو عرش… اللہ کی رضا میں راضی ہوجائو وہی تمہیں صبر دے گا… مگر ایسی مایوسی اور کفر کی بات کرکے تم ماما کے خواب ان کے ارمان خاک میں نہ ملائو‘ تمہارے ماں باپ تمہیں جینے کا مقصد دے گئے ہیں‘ اس کو پورا کرنا ہے تمہیں‘ اپنے پاپا کے نام کو آگے بڑھانا ہے تم نے…‘‘ نم لہجے میں وہ اسے یاد دلا رہی تھی۔
’’سب کچھ کبھی ختم نہیں ہوتا‘ کچھ نہ کچھ ایسا باقی رہ جاتا ہے جس کی اہمیت کا اندازہ فوری طور پر نہیں ہوتا… تم نے بہت ہمت کے ساتھ حالات کا مقابلہ کیا‘ ماما کے لیے لڑتے رہے ہو وقت سے… اب اس طرح کمزور پڑ کر ماما کی روح کو اذیت نہ پہنچائو… تم صدمے سے باہر آئوگے تو دیکھوگے کہ ماما اپنے کتنے خواب تمہاری آنکھوں میں چھوڑ گئی ہیں‘ تم نے ان کو تعبیر دینی ہے اپنے پاپا کے لیے‘ کامیابیاں تم کو حاصل کرنی ہیں‘ ان کے نام کو زندہ اور روشن رکھنا ہے تمہیں… اتنا سب کچھ تو ہے عرش…‘‘ وہ بمشکل اسے حوصلہ دے رہی تھی جو زاروقطار رو رہا تھا۔
’’تم تنہا نہیں ہو‘ میں ہوں تمہارے ساتھ… ہمارے درمیان انسانیت کا رشتہ تو ہے‘ میں نے ماما سے وعدہ کیا تھا کہ تمہیں کبھی تنہا نہیں چھوڑوں گی‘ تمہاری خبر رکھوں گی‘ وہ تمہیں تنہا بالکل نہیں چھوڑ گئیں۔‘‘ عرش کو اپنی طرف متوجہ ہوتا دیکھ کر وہ مزیدبولی۔ ’’تم اپنے ماں باپ کی بہت قیمتی نشانی ہو عرش‘ ان کے لیے تمہیں اپنا خیال رکھنا ہے۔‘‘ اس کے شانے کو دھیرے سے تھپتھپاتی وہ بولی۔ ’’میں تمہارے لیے کچھ کھانے کے لیے لائوں؟ انکار مت کرنا‘ میں نے بھی کچھ نہیں کھایا آج سارا دن‘ ساتھ ہی کھاتے ہیں۔‘‘
’’نہیں… مجھے واقعی بھوک نہیں… تم کھانا کھائو پہلے جاکر میں ہوں یہاں… اب گھر واپس جائوں گا بھی کس کے لیے۔‘‘ اپنی آنکھیں صاف کرتا بولا۔
’’پھر وہی مایوسی کی بات‘ اچھا میں تمہارے لیے چائے لے کر آتی ہوں‘ اب اس کے لیے انکار مت کرنا۔‘‘ اس کے قطعی لہجے پر وہ خاموشی سے اسے جاتا ہوا دیکھتا رہا۔ سوچوں میں گم اسے وقت گزرنے کا احساس بھی نہیں ہوا اور وہ چائے لے کر بھی آگئی تھی۔
’’ماما کے جانے کے بعد تم وہ واحد انسان ہو جس نے مجھے حوصلہ دینے کی کوشش کی ہے‘ اس طرح تسلی دی ہے۔‘‘ وہ بولا۔
’’میں تمہیں حوصلہ نہیں دوں گی‘ تمہارا غم نہیں بانٹوں گی تو اور کون یہ کرے گا… آخر ماما نے تمہاری ذمے داری مجھ پر ڈالی ہے… اب تمہارا بھی یہ فرض ہے کہ جیسا میں کہوں‘ ویسا ہی کرو‘ کل سے تم گیراج جائوگے۔ مجھے یقین ہے کہ تم دل لگا کر اپنا کام شروع کروگے اور گیراج سے سیدھا یہاں آئوگے‘ میرے سامنے کھانا کھائو گے‘ سارا دن کیسا گزرا مجھے بتا کر گھر جائوگے‘ سمجھ گئے…؟‘‘ اس کے کہنے پر عرش نے اثبات میں سرہلایا۔
’’زرق آیا تھا؟‘‘ اس نے پوچھا۔
’’نہیں… جائے گا کہاں آجائے گا خوار ہوکر‘ تم بس اپنی فکر کرو بہت آگے جانا ہے تمہیں یہ مت بھولنا۔‘‘ اس کی تاکید پر عرش بس اسے دیکھتا رہا۔
m… / …m
چند لمحوں تک وہ بغور اپنے ہاتھ میں پھڑپھراتے کاغذ کو دیکھتی رہی تھی‘ ندا کی سسکیوں نے بھی اس کے سپاٹ تاثرات میں کوئی اثر نہیں ڈالا تھا‘ کاغذ ایک طرف رکھتی وہ کمرے میں داخل ہوتے راسب کی طرف متوجہ ہوئی‘ شدت ضبط سے ان کا چہرہ متغیر ہورہا تھا‘ آنکھیں لبریز تھیں۔
’’رجاب… مجھے معاف کردو…‘‘
’’آغا جان‘ یہ مت کہیں۔‘‘ اس نے سرعت سے ان کے جڑے ہاتھوں کو تھام لیا۔
’’میرے لیے یہ طلاق نامہ ایک کاغذ کا ٹکڑا ہے… یہ میری زندگی کو آباد یا برباد کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔‘‘
’’میں نے تمہارے لیے یہ سب نہیں چاہا تھا… آج میں مر گیا… ختم ہوگیا…‘‘ اسے اپنے سینے سے لگائے وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دئے تھے مگر رجاب کی خشک آنکھیں ندا کو دہلائے جارہی تھیں‘ ایک قیامت اور گزر گئی تھی لیکن ایک آنسو تک ندا کو اس کی آنکھوں میں دکھائی نہیں دے رہا تھا‘ مگر راسب کی حالت صدمے سے غیر ہونے لگی تھی‘ ندا نے فوری طو پر اپنے فیملی ڈاکٹر کو فون کیا جو بروقت گھر پہنچ گئے تھے۔
بیڈ کے قریب ہی کرسی پر بیٹھی وہ راسب کو ہی دیکھ رہی تھی جو سکون آور دائوں کے زیر اثر سو رہے تھے‘ کچھ دیر پہلے ہی ڈاکٹر ان کو چیک کرکے گئے تھے‘ تین دن گزرنے کے بعد اب راسب کی طبیعت قدرے سنبھل رہی تھی‘ آج ان کا بی پی بھی ڈاکٹر کے مطابق نارمل تھا۔ کافی دیر بعد ندا کی غیر موجودگی پر وہ کمرے سے باہر نکلی تھی‘ لائونج میں ندا فون کے پاس ہی بیٹھیں جانے کن سوچوں میں گم تھیں۔
’’بھابی…‘‘ ان کے قریب پہنچ کر بھی رجاب کو متوجہ کرنا پڑا۔ ’’کس کا فون تھا…؟‘‘ اس کے سوال پر ندا ایک پل کو کچھ متذبذب ہوئیں مگر پھر اثبات میں سر ہلاتے ہوئے اسے اپنے پاس بیٹھنے کا اشارہ کیا۔
’’اپنے آغا جان کے سامنے غلطی سے بھی نہ ذکر کرنا… ماہین نے فون کیا تھا۔‘‘ ایک پل کو رک کر انہوں نے رجاب کے تاثرات دیکھے مگر وہ حیران نہیں تھی‘ حاذق کی دونوں بھابیوں سے ندا کی بہت اچھی دوستی تھی مگر اب جبکہ دونوں طرف سے ہی تعلق ختم ہوجانے کا اعلان ہوچکا تھا تو ماہین نے کس وجہ سے فون کیا ہوگا وہ یہ جاننا چاہتی تھی۔
’’وہ بتا رہی تھی کہ تایا جان کو بہت صدمہ ہوا ہے اس سب کا‘ تائی جان نے اپنی بہن کی بیٹی سے حاذق کی شادی طے کردی ہے اس کی مرضی بھی شامل ہے‘ ایک ہفتے میں شادی بھی ہوجائے گی کیونکہ حاذق کو واپس اٹلی جانا ہے بعد میں بیوی کو بھی وہاں بلالے گا… افسوس کررہی تھی بہت‘ کہہ رہی تھی جب تایا جان بیٹے اور بیوی کے خلاف نہیں جاسکے تو وہ تو پھر بہو ہے اس گھر کی… میں نے اس سے کہہ دیا کہ جو ہونا تھا وہ ہوچکا‘ حاذق نے ہمارے گھر کی خوشیوں کو آگ لگانی تھی وہ اس نے لگادی‘ ہم نے اس کا معاملہ اللہ پر چھوڑ دیا‘ ہمارا اب اس گھر سے کوئی تعلق نہیں‘ میں نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ میں راسب کی مرضی کے خلاف اس سے بھی بات نہیں کرسکتی لہٰذا آئندہ وہ مجھے فون نہ کرے۔‘‘ بات ختم کرتے ہوئے ندا نے بغور اس کے چہرے کے بگڑے نقوش کو دیکھا تھا۔
’’رجاب… تم بے فکر رہو۔ مجھے یقین ہے کہ آگے تمہارے لیے سب اچھا ہوگا‘ تمہیں تمہارا اصل چہرہ واپس مل جائے گا ان شاء اللہ‘ راسب ہر ممکن کوشش کریں گے۔‘‘
’’نہیں بھابی… میں اپنے اسی چہرے کے ساتھ جینا چاہتی ہوں‘ آپ آغا جان سے کہہ دیجیے گا کہ میں کوئی ایسی سرجری نہیں کروائوں گی جس کے لیے ان کو اپنا سب کچھ فروخت کرنا پڑے۔‘‘ قطعی انداز میں فیصلہ سناتی وہ ان کے پاس سے اٹھ گئی تھی۔
m… / …m
جس رات زرکاش اسے ہاسٹل ڈراپ کر گیا تھا اس کے دوسرے ہی دن زرکاش کی کال آئی تھی جو کہ دراج نے ریسیو نہیں کی تھی‘ اگلے تین دن بھی وہ مستقل دن رات آنے والی کالز کو اگنور کرتی رہی‘ بس زرکاش ہاسٹل نہیں آیا تھا ابھی تک‘ ورنہ وہ اس سے ملنے سے بھی صاف انکار کردیتی… زرکاش سے لاتعلق رہ کر وہ یہ بھی جتانا چاہتی تھی کہ سپورٹ کرنے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ وہ سر جھکا کر اس کے ہاتھوں بے عزت ہوتی رہے… بہرحال اس کے یہ تین دن بہت اچھے اور مصروف گزرے تھے‘ فرینڈز کے ساتھ مختلف شاپنگ مال میں وہ بڑی فراخدلی سے اپنی شاپنگ کا شوق پورا کرتی رہی تھی‘ اپنی پسند کی اس نے ہر وہ چیز خریدی تھی جسے خریدنے کی پہلے کبھی وہ استطاعت نہیں رکھتی تھی اور جس کے روپے وہ بے دریغ خرچ کررہی تھی فی الحال اس کی شکل کیا‘ اس کی آواز تک بھی سننے کی روادار نہ تھی۔ آج اس کا ارادہ تھا کہ کالج سے سیدھی رائمہ کی طرف چلی جائے گی‘ چھٹی کے دو دن وہ رائمہ کے ساتھ گزارنا چاہتی تھی‘ کالج کے باہر وہ رش سے اپنی وین کی جانب بڑھ رہی تھی جب مانوس پکار نے اس کے قدم روک لیے تھے‘ زرکاش کو دیکھتے ہی اس کے تاثرات سپاٹ ہوگئے تھے۔
’’آجائو‘ تمہاری وین کے ڈرائیور کو بتادیا ہے میں نے کہ تم میرے ساتھ جارہی ہو۔‘‘ زرکاش نے بتایا جبکہ دراج کی نظر ایک وین جو قریب ہی کھڑی تھی اس کے پاس موجود لڑکیوں کے جمگھٹے تک گئی تھی‘ وہ سب بڑے اشتیاق سے زرکاش کی طرف ہی متوجہ تھیں‘ وہ ویل ڈریسڈ‘ اپنی آئیڈیل ہائٹ اور خوب صورت پرسنیلٹی کے ساتھ اس ہجوم میں زیادہ نمایاں تھا‘ جو سن گلاسز اس نے لگا رکھے تھے وہ اس کے چہرے پر سوٹ کررہے تھے‘ اردگرد سے محسوس ہوتیں معنی خیز نظروں پر وہ چاہتے ہوئے بھی انکار نہیں کرسکی تھی۔
’’آپ یہاں کیوں آئے؟‘‘ فرنٹ سیٹ پر بیٹھتے ہی پیشانی پر بل ڈالے اس نے پوچھا۔
’’ظاہر ہے تمہارے لیے…‘‘ زرکاش نے حیرت سے دیکھا‘ اس کا چہرہ جانے دھوپ کی وجہ سے سرخ ہورہا تھا یا خفت سے۔
’’مجھے یہاں آنا منع ہے کیا؟‘‘ اس کی ناگوار نظروں پر اس نے پوچھا‘ مگر دراج جواباً منہ پھیر گئی۔ ’’کیسا وقت گزرا کالج میں؟‘‘ کچھ فاصلہ طے کرنے کے بعد بالآخر زرکاش نے ہی خاموشی توڑی‘ مگر دراج ان سنی کیے ونڈوسے باہر پیچھے بھاگتے مناظر کی طرف متوجہ رہی۔ زرکاش چند لمحوں تک منتظر رہا پھر ڈیش بورڈ پرموجود شاپر اس کے سامنے کردیا۔
’’اس میں تمہارے لیے چاکلیٹس اور جوس ہے… لے لو تمہیں پیاس لگی ہوگی۔‘‘
’’مجھے نہیں چاہیے۔‘‘ وہ اکھڑے لہجے میں بولی۔
’’دراج…‘‘ زرکاش کے لہجے میں تنبیہہ تھی۔
’’میں کوئی ناسمجھ چھوٹی بچی نہیں ہوں جو آپ ان چیزوں سے مجھے بہلا رہے ہیں۔‘‘ وہ یک دم ہتھے سے اکھڑی۔
’’گھر جاکر بات کرتے ہیں۔‘‘ اس کے بھڑکتے چہرے پر ایک نگاہ ڈالتا وہ بولا۔
’’مجھے بجیا کی طرف چھوڑ دیں اور کہیں نہیں جانا مجھے…‘‘
’’ٹھیک ہے مگر پہلے تم میرے ساتھ گھر چلوگی… اب بالکل خاموش رہو بس…‘‘ درمیان میں اس نے کچھ کہنا چاہا تھا مگر زرکاش نے سختی سے اسے ٹوک دیا۔
بمشکل ضبط کرتی وہ اس کے چہرے سے نظر ہٹا گئی تھی۔ زرکاش ڈرائیونگ پر ہی توجہ مرکوز رکھنا چاہتا تھا اور دراج کے غصے کا اسے اندازہ ہوگیا تھا لہٰذا ابھی اس کو چھیڑنا مناسب نہیں تھا‘ وہ خاموش ہوگئی تھی زرکاش کے لیے یہی غنیمت تھا‘ بہرحال وہ جانتا تھا کہ کچھ زیادتی غصے میں وہ بھی کر گیا تھا‘ اس رات دراج کو ہاسٹل چھوڑ کے واپس آتے ہوئے اسے احساس ہوا تھا کہ سختی کے بجائی وہ نرمی سے بھی تو دراج کو سمجھا سکتا تھا‘ یقینا وہ دوبارہ ایسی غلطی نہیں کرتی… دراج کی ناراضی نے اس کی پشیمانی کو مزید ہوا دی تھی‘ وہ جانتا تھا کہ دراج کی طبیعت میں بے باکی نہیں‘ بے ساختگی ہے‘ وہ اس سے اپنے جذبات چھپانے کی کوشش یا تکلف نہیں کرتی‘ دراج کے ہر جملے‘ ہر انداز میں سادگی اور بے اختیاری ہوتی تھی‘ وہ یہ بھی جانتا تھا کہ دراج کی شکایتیں بجا ہیں کہ وہ اس کی پزیرائی اور حوصلہ افزائی نہیں کرتا‘ اسے ٹالنے کی کوشش کرتا ہے‘ لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں تھا کہ وہ بے حس یا جذبات سے عاری شخص ہے‘ کسی کی چاہت ہونا‘ کسی کی سوچوں پر‘ خوابوں پر حکومت کرنا‘ کسی کے دل میں بہت خاص مقام پر ہونا‘ کسی کی آنکھوں میں اپنے لیے محبت اور آنسو دیکھنا اس کے دل پر بھی اثر کرتا تھا‘ بہت احتیاط اور گریز کے باوجود وہ اپنے دل کو بھی دراج کی طرف مائل ہونے سے روک نہیں سکتا تھا‘ اس کی زندگی میں پہلے بھی ایک عورت رہ چکی تھی مگر اتنا بڑا سچ جاننے کے باوجود بھی اسے دراج کے رویے‘ انداز اور جذبوں میں کوئی ردو بدل محسوس تک نہ ہوا تھا‘ شاید یہی سچ دراج کے لیے اہم تھا کہ اس کے آج سے ہی وہ غرض رکھتی ہے کیونکہ اس کے آج میں وہ خود تھی مگر اس سب کے باوجود اسے دراج کا والہانہ انداز‘ بلاجھجک قریب آنا اور چھونا کچھ بے چینی اور جھنجلاہٹ میں مبتلا کردیتا تھا‘ جسے وہ دراج پر ظاہر بھی نہیں ہونے دینا چاہتا تھا کیونکہ وہ اس کے دل کو کبھی ٹھیس نہیں پہنچانا چاہتا تھا مگر تھا تو وہ بھی بندہ بشر اور اپنے آپ پر اسے بہت زیادہ بھروسہ نہیں تھا‘ شاید اسی لیے بلا ارادہ دراج کے دل کو تکلیف پہنچا گیا تھا۔
کتابیں اور بیگ ایک جھٹکے سے صوفے پر ڈالتی خود بھی ہاتھوں میں چہرہ چھپائے بیٹھ گئی تھی‘ لائونج میں آتے زرکاش نے گہری سانس لے کر اسے دیکھا تھا۔
’’میرے بارے میں اتنا غلط سوچ کر آپ نے مجھے میری ہی نظروں سے گرا دیا ہے۔‘‘ آنسوئوں سے بھیگے چہرے کے ساتھ وہ شدید غم وغصے میں بولی۔
’’اتنا ہلکا سمجھ رکھا ہے آپ نے مجھے؟ میں گھاس نہیں کھاتی‘ مجھے اپنی حدود معلوم ہیں‘ کتنی بار میں نے حدود توڑی ہیں؟ آج بتادیں میں آپ سے معافی مانگ لیتی ہوں‘ آپ کو مجھ سے اس حد تک بیزاری ہے تو ختم کردیں مجھ سے ہر تعلق‘ میری وجہ سے آپ کو اپنے دامن پر کوئی داغ لگنے کا اندیشہ ہے تو دور ہوجائیں مجھ سے کیونکہ میرا اپنا تو کوئی کردار ہی نہیں ہے لیکن میں جو بھی ہوں آپ کی محتاج نہیں ہوں‘ آپ کو کوئی حق نہیں مجھے بے عزت کرنے کا‘ آپ کی بیزاری کوڑے کی طرح لگتی ہے مجھے‘ آپ تو ان سے بھی زیادہ سنگدل ہیں جن کی گالیاں اور مار میں برداشت کرتی رہی ہوں‘ میں اب آپ کے قریب تو کیا آپ کی نظروں کے سامنے بھی نہیں آنا چاہتی‘ میں اب کبھی آپ کے اس گھرمیں دوبارہ نہیں آنا چاہتی۔‘‘ بہتے آنسوئوں کے ساتھ فیصلہ سناتی وہ دوبارہ ہاتھوں میں چہرہ چھپا گئی تھی‘ زرکاش جو خاموشی سے اسے دیکھ اور سن رہا تھا اس کے خاموش ہونے پر چند قدم اس کی جانب بڑھا۔
’’ایسا کبھی مت سوچنا کہ تم میری محتاج ہو یا میں کبھی تمہارے کردار پر شک بھی کرسکتا ہوں‘ جتنا بھروسہ مجھے تم پر ہے اتنا خود پر بھی نہیں‘ میں جانتا ہوں غلطی میری تھی‘ میں اپنی بات نرمی سے بھی سمجھا سکتا تھا‘ مجھے کوئی حق نہیں تھا تم پر غصہ کرنے کا… اگر مجھے موقع ملتا تو پہلے ہی تم سے معافی مانگتا‘ آج اسی لیے تمہیں یہاں لایا ہوں‘ میں نے تمہارے دل کو تکلیف پہنچائی‘ مجھے معاف کردو‘ اپنی غلطی کی اب میں معافی ہی مانگ سکتا ہوں۔‘‘ گہرے سنجیدہ لہجے میں کہتا وہ اس کے سامنے سے ہٹ گیا‘ کچھ دیر بعد اس نے سر اٹھایا تو زرکاش اسے کہیں نظر نہیں آیا‘ اپنی آنکھیں خشک کرتی وہ انتظار کررہی تھی کہ زرکاش سامنے آئے گا مگر بڑھتے انتظار نے اسے چونکا دیا تھا‘ اسے بتائے بغیر تو زرکاش گھر سے نہیں جاسکتا تھا‘ ایک پل کو اس نے سوچا اور پھر اپنی جگہ سے اٹھی‘ ڈائننگ ہال کی طرف آتے ہی اس کے قدم رکے تھے‘ وہ اسے وہیں ٹیبل کے گرد بیٹھا نظر آیا‘ دبے قدموں وہ اس کی جانب آئی۔ ٹیبل پر رکھے گلاس کے گرد ہاتھ رکھے وہ جانے کس سوچ میں گم تھا‘ بس ایک نظر اس نے دراج پر ڈالی جو دوسری چیئر قریب کرتی اس کی جانب رخ کیے بیٹھ گئی تھی۔
’’ایم سوری۔‘‘ اس کی مدھم آواز پر زرکاش نے اسے دیکھا۔
’’کس لیے؟‘‘
’’ابھی جو میں نے اتنی بدتمیزی سے بات کی آپ سے… مجھے اس طرح نہیں بولنا چاہیے تھا۔‘‘ اس سے نظر ملائے بغیر وہ شرمندگی سے کہہ رہی تھی۔ ’’آپ بھی سوچ رہے ہوں گے کہ اس لڑکی کے دل میں کتنا بغض بھرا ہے… اور یہ بھی کہ میں کتنی بدلحاظ ہوں…‘‘
’’میں ایسا بالکل نہیں سوچ رہا۔ تمہارا غصہ نکل گیا‘ دل صاف ہوگیا یہ زیادہ ضروری تھا۔‘‘ اس نے کہا۔
’’مگر میں بھی تو آپ کو اپنی بات اس طرح بگڑنے کے بجائے طریقے سے سمجھا سکتی تھی‘ شکایت کرسکتی تھی…‘‘
’’چلو‘ جو غلطی مجھ سے ہوئی وہ تم سے بھی ہوگئی‘ غصے میں ہوجاتا ہے ایسا۔‘‘ ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ زرکاش نے اس کی شرمندگی دور کرنی چاہی۔
’’نہیں… غلطی تو میں نے ہی کی تھی‘ آپ نے ٹھیک ہی غصہ کیا مجھ پر… دراصل پہلے کبھی آپ نے اس طرح غصے کا اظہار نہیں کیا اس لیے‘ لیکن آپ کو حق ہے مجھ پر غصہ کرنے کا پھر آپ نے ایسا کیوں کہا کہ آپ کو حق نہیں…؟‘‘
’’تم نے یہ کیوں کہا کہ تم میری نظروں کے سامنے آنا چاہتی ہو نہ اس گھر میں… کیا یہ تمہارا گھر نہیں؟‘‘ وہ جواباً سوال کر گیا تھا۔
’’وہ تو میں نے سب غصے میں الٹا سیدھا جانے کیا کیا بول دیا ورنہ یہ گھر بھی میرا ہے اور آپ بھی…‘‘ چور نظروں سے اسے دیکھتی وہ اپنی مسکراہٹ نہیں چھپا سکی تھی جبکہ خشمگیں نظروں سے اسے دیکھتا وہ چیئر سے اٹھ گیا تھا۔
’’آپ مجھ سے ناراض تو نہیں ہیں؟‘‘
’’تم سے ناراض ہوکر مرنا ہے کیا مجھے… اب جلدی سے جو فریج میں ہے وہی صبر وشکر کے ساتھ کھا کر چلنے کی کرو‘ مجھے آفس پہنچنا ہے تمہارے چکر میں میرا لنچ ٹائم بھی نکل گیا۔‘‘ اس کی عجلت پر وہ بیزار ہوئی۔
’’میں بہت تھک گئی ہوں‘ بہت نیند آرہی ہے‘ آپ شام میں مجھے ہاسٹل لے جائیے گا۔‘‘ وہ معصوم صورت بنائے بولی۔
’’ہرگز نہیں‘ فوراً اٹھو‘ تمہیں رائمہ کی طرف جانا تھا‘ جلدی کرو…‘‘ اس کی سستی پر زرکاش نے اس کی پونی ٹیل کھینچ کر اسے اٹھایا۔
’’اچھا سنیں تو…‘‘ اسے اٹھا کر وہ عجلت میں ہی جارہا تھا جب دراج نے اس کا بازو تھام کر روکا۔
’’آپ کو اتنا غصہ کیوں آیا تھا؟‘‘ اس کے سوال سے زیادہ وہ اس کی شرارتی مسکراہٹ پر چونکا تھا۔
’’ادھر آئو‘ بتائوں تمہیں۔‘‘ زرکاش نے دوبارہ اس کی پونی پکڑنا چاہی تھی مگر وہ کھلکھلا کر صفائی سے بچتی کچن میں غائب ہوگئی تھی‘ لائونج سے دراج کا بیگ اور کتابیں اٹھاتا واپس آیا تھا‘ تب ہی اسے دراج کی ہلکی سی چیخ سنائی دی تھی‘ اگلے ہی پل وہ ایک ہاتھ میں سیب اور دوسرے میں ٹن پکڑے بوکھلائی ہوئی کچن سے نکلی۔
’’وہاں ایگزاسٹ فین کے پاس اتنی موٹی چھپکلی ہے۔‘‘ ایک تو بے تحاشا رونے سے ویسے ہی اس کا چہرہ اتر گیا تھا اور اب جس طرح اس نے ہونق انداز میں چھپکلی کی موجودگی کی اطلاع دی تھی وہ اپنی مسکراہٹ نہیں چھپا سکا۔
’’اس چھپکلی کے تاثرات بھی تمہیں دیکھ کر ایسے ہی ہورہے ہوں گے جو اس وقت تمہارے ہیں۔‘‘ گیٹ کی سمت قدم بڑھاتا وہ بولا۔
’’زرکاش… یورپ میں چھپکلیاں کیسی ہوتی ہیں؟‘‘ اس کے لہجے میں تجسس تھا۔
’’بالکل تمہارے جیسی ہوتی ہیں۔‘‘ اس کے روانی سے دیئے جانے والے جواب پر دراج رک گئی۔
’’اب تو میں نہیں جائوں گی۔‘‘ وہ خفت سے بولتی پیچھے ہٹی تھی کہ زرکاش نے بے ساختہ ہنستے ہوئے فوراً اس کا ہاتھ پکڑ کے گیٹ سے باہر پہلے اسے ہی نکالا۔
m… / …m
اپنی دھن میں رہتا ہوں
میں بھی تیرے جیسا ہوں
تیری گلی میں سارا دن
دکھ کے کنکر چنتا ہوں
جیون کی بھری گلی
میں جنگل کا راستہ ہوں
آتی رت کا جھونکا ہوں
’’ابھی ضرورت صرف اس چیز کی ہے کہ تم خود کو سمیٹ لو… جو ہوچکا ہے اسے قبول کرلو‘ اپنے آپ کو وقت دو‘ سوچے سمجھے بغیر یوں اکتاہٹ اور زندگی سے بیزار ہوکر اپنے لیے فیصلے مت کرو‘ جب تک تم مایوسیوں کے گرداب سے خود کو باہر نہیں نکالو گے آگے بڑھنے کا راستہ نہیں ڈھونڈ پائوگے۔‘‘ آج پھر وہ اسے سمجھانے کی کوشش کررہی تھی جس کے چہرے پر مایوسی اور ناامیدی کی گہری چھاپ تھی۔
’’ایسی بکھری حالت میں تم اس شہر کو چھوڑ کر کہیں بھی چلے جائو مزید اپنے لیے دشواریاں بڑھالوگے‘ پہلے تم اپنے اندر ایک نئی اور بہتر زندگی کی ابتدا کرنے کی خواہش تو بیدار کرو۔‘‘
’’بہتر زندگی…‘‘ پول سے ٹیک لگائے آسمان تکتا وہ تلخ لہجے میں بولا اور پھر اسے دیکھا۔
’’تم یقینا مجھ پر لعنت بھیجوگی مگر یہ سچ ہے کہ میرے پاس ایسا کچھ نہیں بچا جس کے لیے میں اپنی زندگی کو بہتر بنائوں‘ میں یہ شہر کیا… یہ دنیا ہی چھوڑ جانا چاہتا ہوں۔‘‘
’’تم بے شک حالات کا بہت ہمت سے مقابلہ کرتے رہے ہو کبھی ہتھیار نہیں ڈالے‘ کبھی پیچھے نہیں ہٹے مگر اس کے باوجود تمہاری سوچ شاید ہمیشہ منفی رہی ہے۔‘‘ وہ گہری سانس لے کر بولی‘ جبکہ عرش نے صرف اسے دیکھا‘ تردید نہیں کی۔
’’تمہاری طرح ہر انسان خود پر آنے والی مصیبتوں اور پریشانیوں سے نجات حاصل کرنے کے لیے غلط راستے اختیار کرنا شروع کردے تو اس دنیا کا جانے کہاں تک حشر بگڑ جائے…‘‘
’’دنیا کی بات مت کرو‘ دنیا کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ کون کس راستے پر جارہا ہے‘ دنیا جیسی ہے ویسی ہی رہے گی‘ میں نے اپنے ماں باپ کو زندگی اور موت کی کشمکش میں لڑتے دیکھا ہے‘ ان کو اپنے ہاتھوں سے قبر میں اتارا ہے‘ ہاں… میں نے غلط راستے اختیار کیے کیونکہ میں اپنی ماں کو اذیت میں نہیں دیکھ سکتا تھا‘ میں ان کو کسی کی خیرات پر گزارہ کرتے نہیں دیکھنا چاہتا تھا۔ میری ماں آج بھی میری کل کائنات ہے‘ میں ان کے لیے اپنی زندگی تک بیچ سکتا ہوں۔‘‘ سرخ چہرے کے ساتھ وہ کچھ جارحانہ لہجے بولا۔
’’ٹھیک ہے تم جس راستے پر بھی گئے‘ وہ تمہارا کل تھا جو گزر چکا ہے‘ اس میں حالات تمہیں کہیں سے کہیں لے گئے مگر اب… تمہارا آج تمہارا آنے والا کل تمہارے ہاتھ میں ہے‘ تم اب حالات اپنے حساب سے بدلنے کی طاقت رکھتے ہو… تم کہتے ہو کہ تمہارے پاس ایسا کچھ نہیں بچا جس کے لیے تم اپنی زندگی کو بہتر بنانے کی کوشش کرو… جبکہ بارہا میں تمہیں یاد دلاتی رہی ہوں کہ تمہارے پاس تمہارے ماں‘ باپ کے قیمتی خواب ہیں‘ ان کی خواہش‘ ان کے ارمان‘ امانت ہیں تمہارے پاس… تمہیں ان کے نام کو زندہ رکھنا ہے‘ اپنے پاپا کے گھر کو تم نے واپس حاصل کرنا ہے‘ جو تمہارے لیے ایک جنت ہے‘ جہاں تم نے آنکھ کھولی تھی‘ اس جنت کو‘ اس گھر کو تم نے ہی آباد کرنا ہے… اور پھر تم یہ کیوں بھول رہے ہو کہ تمہارے لیے تمہاری اپنی ذات بھی تو ہے‘ اپنی ذات کو بھی اہمیت دو‘ اس کا بھی تو حق ادا کرو‘ انسان کی زندگی پر اس کا اپنا حق بھی ہوتا ہے۔‘‘
’’سب کچھ جانتے ہوئے بھی تم مجھے میری ذات کی اہمیت بتارہی ہو…‘‘ وہ تلخ لہجے میں بولا۔ ’’کیا ہے میری ذات… کیچڑ میں لتھڑی ہوئی‘ سر سے پیر تک غلاظتوں میں اٹا ہوا ہوں میں‘ گناہوں کی تاریکی میں کیسے اپنے آج‘ اپنے کل کو روشن کرسکوں گا۔‘‘
’’وہ تمہارا کل تھا عرش… وہ اپنی تمام تاریکیوں کے ساتھ گزر چکا ہے اب‘ ماضی بن گیا ہے‘ جن وجوہات کی بنا پر تم غلاظتوں میں اترنے پر مجبور ہوئے وہ وجوہات‘ وہ مجبوریاں ختم ہوچکی ہیں آج… مگر تم ان امیدوں کو ختم نہ ہونے دو جو جانے والوں نے تم سے وابسطہ رکھی تھیں‘ ان کے لیے تمہیں اپنی ذات کو اہمیت دینی ہوگی… ورنہ روز آخرت کس طرح ان کا سامنا کرسکو گے…؟‘‘ وہ اس سے پوچھ رہی تھی جو سر جھکائے بالکل خاموش تھا۔
’’عرش… کیا تمہیں اپنے آپ سے بالکل بھی محبت نہیں؟‘‘ اس کے سوال پر عرش نے اسے دیکھا۔
’’کیا تم اپنے آپ سے محبت کرتی ہو؟‘‘ اس نے جواباً سوال کیا۔
’’ہاں‘ تمام تلخیوں اور دشواریوں کے باوجود مجھے اپنے آپ سے اپنی زندگی سے محبت ہے… اور پھر جو انسان خود سے محبت نہیں کرتا وہ کسی اور سے کیسے محبت کرسکتا ہے… میری زندگی جیسی بھی ہے مگر میں اسے بہتر سے بہتر کرنے کا عزم رکھتی ہوں۔ کوشش کرتی بھی ہوں‘ انسان کوششوں سے ہی تو معرکے سر کرتا ہے‘ اللہ نے زندگی جیسا تحفہ مجھے دیا ہے‘ میں اسے تاریکیوں میں گم نہیں ہونے دے سکتی‘ مایوس ہوکر اپنی زندگی کی ناقدری نہیں کرسکتی‘ کوئی بھی مشکل مجھے زندگی سے دستبردار ہونے پر مجبور نہیں کرسکتی‘ میں کسی مایوسی‘ کسی مصیبت کی زد میں آکر اپنی زندگی کو حالات کے دھارے پر نہیں چھوڑ سکتی… کیونکہ میں خود کو کھونا نہیں چاہتی۔‘‘ اس کے مضبوط لہجے پر عرش نے بغور اس کے چہرے پر پھیلی عجیب سی روشنی کو دیکھا تھا۔
’’میں بھی ایسا ہی سوچنا چاہتا ہوں… میں جانتا ہوں اﷲ کے لیے کیا مشکل کہ وہ پہاڑ جیسے گناہ بھی معاف کردے‘ اسی لیے میں دن رات اپنے گناہوں کی معافی مانگتا ہوں… ماما جاتے جاتے بھی میرے لیے دعائیں کر گئیں تھیں‘ مجھے یقین ہے کہ ان کی دعائیں قبول ہونے میں دیر نہیں لگے گی۔‘‘
’’ماما کی دعائیں تو ساری زندگی اب تمہارے ساتھ رہیں گی… تمہیں اللہ کی رحمتوں پر یقین ہے‘ تمہارے دل میں ندامت ہے‘ نیت میں کوئی کھوٹ نہیں تو یقینا تمہاری توبہ بھی قبول ہوگی اور ماما کی دعائیں بھی… بس مایوسی کو حاوی نہ ہونے دیا کرو‘ مایوسی تو کفر ہے۔‘‘ اس کے کہنے پر عرش چند لمحوں کے لیے شاید کچھ سوچنے لگا تھا‘ اس کی خاموشی پر وہ بھی چپ چاپ اس کی پیشانی کو دیکھتی رہی تھی۔
’’میں تم سے کچھ کہنا چاہتا ہوں۔‘‘ کچھ لمحے مزید خاموشی کی نذر کرنے کے بعد عرش نے اسے مخاطب کیا جبکہ وہ بس سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔
’’تم جانتی ہو میری سب سے بڑی کمزوری تنہا رہ جانے کا خوف ہے… شاید اسی لیے میں تمہارے لاکھ سمجھانے اور اپنی کوششوں کے باوجود بار بار ٹوٹ جاتا ہوں…‘‘ وہ بولا اور پھر پول سے الگ ہوتا اس کے مقابل آرکھڑا ہوا۔ ’’میں اپنی اس کمزوری پر فوری طور پر قابو پانے کے قابل نہیں ہوں ابھی… میں بس یہ چاہتا ہوں کہ میری زندگی میں‘ میرے قریب کوئی اتنی اہم ہستی ہو جس کے لیے میں اپنی زندگی کو آگے بڑھانے کی جدوجہد کرسکوں‘ مجھے ایک ایسے سہارے و تعلق کی ضرورت ہے جو میرے ہم قدم ہونے کا احساس مجھے دلاتا رہے کیا میری اس جدوجہد اور کوششوں میں تم میرا ساتھ دے سکتی ہو؟‘‘ اس کی آنکھوں میں دیکھتا وہ پوچھ رہا تھا جو حیران تھی۔
’’عرش… تم جانتے ہو میں تو تمہارے ساتھ ہی ہوں پھر تم…‘‘
’’نہیں اس طرح نہیں۔‘‘ وہ اس کی بات کاٹ گیا۔ ’’بلکہ اس طرح جس طرح کہ میں چاہتا ہوں… میں جانتا ہوں کہ تم سے یہ سوال کرکے میں خود غرضی کا مرتکب ہورہا ہوں‘ یہ بھی جانتا ہوں کہ اس لائق بھی نہیں کہ تمہارے سائے کے قریب بھی آسکوں لیکن پھر بھی میں تم سے یہ سوال کررہا ہوں‘ کیا تم اپنی زندگی میں مجھے جگہ دے سکتی ہو…؟‘‘ اس کی ساکت نظروں میں جھانکتا وہ پوچھ رہا تھا۔
’’تم جانتی ہو یہ سب اچانک نہیں ہے‘ اچانک کوئی بھی فیصلہ نہیں ہوسکتا۔‘‘ وہ مدھم لہجے میں نظر جھکائے بولا اور پھر دوبارہ اس کی آنکھوں میں دیکھا۔ ’’میں جانتا ہوں کہ تم جیسی اچھی لڑکی مجھ جیسے برے انسان کا انتخاب کرکے اپنے ظرف کا امتحان نہیں لینا چاہے گی اور میں کسی کو دھوکے میں رکھ کر اپنی نئی زندگی کی بنیاد نہیں رکھ سکتا… میں اپنی زندگی کی بنیاد سچائی اور اعتبار پر رکھنا چاہتا ہوں‘ تمہارے ساتھ مل کر…‘‘ کچھ تھا عرش کی آنکھوں میں کہ وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتی چلی گئی۔ ’’میں نے تمہیں مشکل میں ڈال دیا ہے۔‘‘
’’نہیں…‘‘ ایک پل کو اس نے عرش کی طرف دیکھا مگر پھر نگاہ چراتی گومگوں کی سی کیفیت میں اس کے سامنے سے ہٹ گئی۔ ’’مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا کہ مجھے تم سے کیا کہنا چاہیے۔‘‘
’’ابھی کچھ مت کہو… پہلے اچھی طرح سوچ لو مگر کوئی بھی فیصلہ کرتے ہوئے صرف اور صرف اپنے بارے میں سوچنا‘ تم مجھ سے زیادہ سمجھدار ہو‘ تمہارا جواب جو بھی ہو مگر مجھے قبول ہوگا… اب تم گھر جائو‘ میں بھی جاتا ہوں۔‘‘ عرش کے کہنے پر وہ گم صم کیفیت میں ایک نظر اس پر ڈالتی جانے کے لیے اٹھ گئی تھی۔
’’سنو۔‘‘ عرش کی پکار پر اس کے قدم رکے۔
’’تم… اگر کہو تو میں صبح آجائوں؟‘‘ عرش کے لہجے میں ہی نہیں آنکھوں میں بھی اضطراب در آیا تھا جو اس سے چھپا نہیں تھا‘ جواباً اثبات میں سر کو حرکت دے کر وہ پھر رکی نہیں تھی۔
m… / …m
بھڑکتی آگ کی نارنجی لپٹوں کا عکس اس کی سبز پتلیوں میں جیسے جم گیا تھا‘ بنا پلک جھپکے وہ آگ کی لپٹوں پر نظر جمائے ایک کے بعد ایک تصویر آگ کی نظر کرتی جارہی تھی۔ یہ اتفاق ہی تھا کہ ندا اپنی بچی کے لیے فیڈر بنانے کمرے سے نکلیں تو گیٹ کھلا دیکھ کر اس جانب آگئی تھیں‘ اتنی رات میں صحن کے وسط میں آگ کے قریب بیٹھی رجاب کو دیکھتے ہی وہ ہول کر اس کی طرف بھاگی آئی تھیں۔
’’رجاب… تم کیا کررہی ہو یہ… اور یہ آگ…‘‘ رجاب کو ایک اور تصویر آگ میں پھینکتے دیکھ کر وہ چپ ہوگئی تھیں دوسری جانب رجاب ان کی موجودگی سے قطعی لاتعلق ایک ہی پوزیشن میں بیٹھی رہی تھی… ندا نے اسے پکارا‘ اس کے شانے کو بھی ہلا کر متوجہ کرنا چاہا مگر اسے ان کی آواز ہی سنائی نہیں دے رہی تھی‘ وہ اسی طرح آگ کو گھورتی تصویریں اس میں ڈالتی جارہی تھی‘ عجیب سا خوف محسوس کرتی ندا واپس اندر گئیں اور جب دوبارہ آئیں تو ان کے ساتھ راسب بھی تھے۔ کچھ دیر تک وہ اسے دیکھتے رہے جو اردگرد سے غافل اپنے کام میں مگن تھی مگر پھر وہ خود بھی اس کے قریب بیٹھ گئے۔
’’رجاب… اپنی تصویریں کیوں جلا رہی ہو؟‘‘ راسب کے سوال پر آگ پر جمی اس کی ضرورت سے زیادہ کھلی آنکھوں کی ساکت پتلیوں میں حرکت تک نہ ہوئی تھی راسب کو اپنا سوال پھر دہرانا پڑا تھا۔
’’یہ تصویریں جلیں گی تو راکھ ہوں گی‘ ان میں جو چہرہ ہے وہ بھی راکھ کے ساتھ ہوا میں اڑ جائے گا… پھر کوئی رجاب کو نہیں ڈھونڈ سکے گا‘ وہ ہمیشہ کے لیے گم ہوجائے گی۔‘‘ آگ کو تکتی وہ بے تاثر لہجے میں بولی۔
’’رجاب گم ہوجائے گی تو اس کے آغا جان کیسے اس کے بغیر زندہ رہ سکیں گے… وہ اسے کہاں ڈھونڈیں گے؟‘‘ ایک پل کو رک کر راسب نے پوچھا‘ جواباً وہ نہ کچھ بولی نہ ان کی جانب دیکھا تھا… چند لمحوں بعد اس نے ہاتھ میں موجود بقیہ تصاویر وہیں فرش پر رکھیں اور اپنی جگہ سے اٹھ کر تیز قدموں سے برآمدے کی طرف بڑھتی چلی گئی۔
ندا نے اس کے کمرے کی کھڑکی سے دیکھا تھا‘ لائٹس تو دن میں بھی اس کے کمرے کی آن رہتی تھیں ایسا اب ہونے لگا تھا‘ ایزی چیئر پر آگے پیچھے جھولتی وہ دیوار کی طرف رخ کیے ہوئے تھی‘ ندا جانتی تھیں کہ دیواریں تکنا اس کا مشغلہ بنتا جارہا تھا۔ ان کے عقب میں آتے راسب نے بھی کمرے کا جائزہ لیا تھا‘ ان کو رجاب کے کمرے میں جانے سے روکتے ہوئے ندا ان کو دور لے گئی تھیں۔
’’میں نے آپ سے کہا تھا کہ اس کا مسلسل پُرسکون نظر آنا اور خاموشی کسی بھی طرح ٹھیک نہیں‘ یہ نارمل ردعمل نہیں ہے‘ وہ کئی کئی گھنٹے ایک ہی جگہ بیٹھی رہتی ہے‘ آواز پر آواز دو مگر اس پر کوئی اثر نہیں ہوتا‘ دیواریں‘ چھتیں تکنے کی اسے عادت بنتی جارہی ہیں‘ تنہائی پسند ہوتی جارہی ہے وہ… کبھی وہ بالکل ٹھیک نظر آتی ہے اور کبھی…‘‘
’’تم کو یقین ہے کہ اس کی ذہنی کیفیت بگڑ رہی ہے؟‘‘ راسب نے پوچھا۔
’’مجھے ایسا ہی لگ رہا ہے۔ جو کچھ اس پر گزر چکی ہے اور گزر رہی ہے اس میں ایسا ہونا ناممکن نہیں‘ غصہ‘ دکھ‘ غم‘ خوشی وہ کسی بھی جذبے کا اظہار نہیں کرتی‘ میں اسے گھر میں کسی مشین کی طرح دیکھتی ہوں… ابھی زیادہ دیر نہیں ہوئی ہے‘ ہمیں سب کچھ بھلا کر اسے نارمل زندگی کی طرف لانا ہے‘ اس کے لیے ہمیں ایک اچھے ڈاکٹر کی مدد لینی ہوگی جو اس کو جذباتی اور نفسیاتی طور پر ملنے والے شاک سے نکالے… یہ کام میں یا آپ مہارت سے نہیں کرسکتے‘ رجاب کو اسی حالت میں چھوڑ دینا خطرناک ہے۔‘‘ ندا کے تشویش ناک انداز پر راسب بھی تفکرات میں گھر گئے تھے۔
صبح ناشتے کی ٹیبل پر رجاب بالکل نارمل نظر آرہی تھی‘ چائے کے سپ لیتی وہ اخبار کی ورق گردانی کررہی تھی جب راسب نے اسے مخاطب کیا۔
’’رجاب‘ ناشتہ کرلو تو میرے پاس آنا‘ کچھ بات کرنی ہے تم سے۔‘‘ کرسی سے اٹھتے وہ بولے۔
’’آپ بینک نہیں جارہے آغا جان… طبیعت ٹھیک ہے آپ کی؟‘‘ اس نے چونک کر پوچھا۔
’’ہاں… میں ٹھیک ہوں‘ بس یونہی آج بینک نہیں جارہا۔‘‘ اسے جواب دے کر وہ رکے نہیں تھے۔ سوالیہ نظروں سے اس نے ندا کو دیکھا جو خاموش رہی تھیں۔ لائونج کی خاموشی میں اسے راسب کے چہرے پر سوچوں کا جال دکھائی دیا تھا۔
’’آغا جان…‘‘ اس کی پکار پر وہ چونکے۔ ناشتے کے بعد وہ ان کے کمرے میں چلی آئی تھی۔
’’آئو یہاں بیٹھو۔‘‘ راسب کے سنجیدہ تاثرات دیکھتی وہ کچھ فاصلے پر بیٹھ گئی۔
’’میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ تم سرجری کیوں نہیں کروانا چاہتیں؟ اپنے آپ کو سزا دینے سے بہتر ہے کہ تم مجھے سزا دے دو…‘‘
’’آپ ایسا کیوں سوچ رہے ہیں؟ میں خُود کو یا آپ کو کس چیز کی سزا دوں گی؟ میرے لیے وہ ایک حادثہ تھا‘ میرے زخم ٹھیک ہوجائیں‘ میرے لیے بس یہی کافی ہے‘ مجھے کسی مصنوعی سہارے کی ضرورت نہیں‘ میں نے حادثے کا سامنا کیا یا اس کا شکار ہوئی‘ کیا یہ چھپانے کے لیے سرجری کا سہارا لوں…؟ جو ہوچکا ہے میں نے اسے قبول کرلیا ہے‘ پھر کسی کاسمیٹکس سرجری کے ذریعے سچ کو کیوں چھپائوں دنیا سے…؟ میں اپنے اسی سچ‘ اسی چہرے کے ساتھ رہنا چاہتی ہوں۔‘‘ وہ قطعی انداز میں بولی‘ راسب نے پہلے کبھی اسے اس طرح اپنے سامنے فیصلہ کن اور اٹل انداز میں بولتے نہیں دیکھا تھا۔ صرف ظاہر ہی نہیں باطن بھی راتوں رات بدل چکا تھا۔
’’ٹھیک ہے‘ کوئی تمہیں مجبور نہیں کررہا‘ میں بس تمہاری رائے جاننا چاہتا تھا۔‘‘ راسب بولے۔ ’’اب آگے کیا کرنا ہے؟ اپنی اسٹڈیز کے بارے میں کیا سوچا ہے تم نے؟‘‘
’’آپ میرے لیے کوئی اچھا ڈینٹل کالج منتخب کرلیں‘ میرے چہرے کا ٹریٹمنٹ مکمل ہوجائے تو وہاں ایڈمیشن لوں گی… کم ازکم میں آپ کی یہ خواہش پوری کردوں گی کہ ڈاکٹر بن جائوں… ڈینٹسٹ ہی سہی۔‘‘ وہ سر جھکائے بول رہی تھی جبکہ راسب بمشکل ہی دل میں اٹھتی درد کی لہروں کو ضبط کرسکے تھے۔
’’تم کو سرجن بننا تھا۔‘‘ وہ بے اختیار کہہ گئے۔
’’آغا جان… پڑھوں گی تو اب بھی میڈیسن‘ بس یونہی تھوڑا ارادہ چینج ہوگیا۔‘‘
’’ہاں… یہ بالکل ٹھیک ہے رجاب‘ ڈینٹسٹ بھی تو ڈاکٹر ہی ہوتا ہے‘ آپ بس رجاب کے لیے ایڈمیشن کا انتظام کریں‘ وقت ضائع نہ ہو اس کا ویسے بھی رجاب کے زخم بہت حد تک بہتر ہوچکے ہیں‘ ٹرٹیمنٹ کے ساتھ ساتھ اس کی اسٹڈیز بھی شروع ہوجائیں گی تو اچھا رہے گا۔‘‘ ان دونوں کو ہی مخاطب کرتیں ندا خوش باش انداز میں بولیں تھی۔
’’ٹھیک ہے‘ تم ڈینٹسٹ بن جائوگی تو مجھ سے زیادہ خوش کوئی اور نہیں ہوسکتا…‘‘ راسب بولے اور پھر چند لمحوں کی خاموشی کے بعد دوبارہ اسے مخاطب کیا۔
’’رجاب… میں تمہیں بس آگے بڑھتا دیکھنا چاہتا ہوں‘ یہ بھی چاہتا ہوں کہ جوحالات گزرے ہیں تم ان کے زیر اثر نہ رہو‘ اس کے لیے ہمیں ایک ایسے ڈاکٹر کی ضرورت ہے جو گزرے حالات کے ساتھ تمہاری سوچ اور تمہاری کیفیت کو بھی سمجھ سکے۔ صرف تمہیں ہی نہیں مجھے بھی اچھے مشوروں کی ضرورت ہے۔‘‘ راسب بہت سنبھل کر بول رہے تھے۔
’’آغا جان آپ کو یہ لگ رہا ہے کہ میں کسی ذہنی یا نفسیاتی دبائو میں ہوں؟‘‘
’’نہیں… تم اعصابی طور پر بھی بہت مضبوط ہو‘ صرف اپنی تسلی کے لیے میں چاہتا ہوں کہ ہم کسی اچھے سائیکاٹرسٹ سے ملیں‘ تم اپنی اسٹڈیز کا سلسلہ بھی شروع کررہی ہو تو اس کے لیے بھی ضروری ہے کہ دل اور دماغ دونوں مطمئن اور پُرسکون ہوں۔‘‘ راسب کو اپنے بے ربط جملوں کا احساس تھا مگر ان کے لیے آسان نہیں تھا صاف طور پر رجاب کو سائیکاٹرسٹ کے پاس لے جانے کے لیے کنوینس کرنا۔
’’ٹھیک ہے آغا جان۔‘‘ وہ کوئی جرح کیے بغیر راسب کو راضی نامہ دیتی اٹھ گئی تھی جبکہ ندا نے بھی سکون کا سانس لیا تھا۔
m… / …m
’’امی… آپ خود کو ان فکروں میں پریشان مت کریں‘ وہاں میرا ایک سوشل سرکل ہے‘ شیراز کو کسی بھی قسم کا مسئلہ نہیں ہوگا‘ وہاں میرے اپارٹمنٹ کے اردگرد بہت اچھی فیملیز ہیں‘ شیراز ایک اچھے ماحول میں ان سب کے درمیان رہے گا‘ سب کی نظروں میں رہے گا‘ اس کے اچھے مستقبل کے لیے آپ کو کچھ عرصے کے لیے اسے خود سے دور کرنا ہوگا… بلکہ ایسا کرتے ہیں کہ تین چار ماہ میں جب تک شیراز وہاں سیٹل ہوتا ہے‘ میں اپنے ساتھ آپ کو اس کے پاس لے جانے کا انتظام کرلوں گا‘ آپ کو یورپ دکھانے کا میرا خواب پورا ہوجائے گا‘ میں وہاں تھا تو آپ کو بلاتا ہی رہ گیا تھا۔‘‘
’’وائو… زبردست۔‘‘ شزا خوشی سے چہکی۔ ’’لیکن بھائی اگر مجھے ساتھ نہیں لے گئے تو امی کو بھی نہیں جانے دوں گی۔ آپ میرا پاسپورٹ بنوائیں بس۔‘‘
’’چپ رہو تم…‘‘ صبغہ نے ناگواری سے شزا کو ٹوکا۔
’’زرکاش… مجھے اب اگر کہیں جانا ہے تو حج کے لیے ہی جانا ہے تمہارے ساتھ‘ بس دن رات اٹھتے بیٹھتے اللہ سے یہی دعا کرتی ہوں۔‘‘
’’بالکل امی‘ ان شاء اللہ آپ اور میں بلکہ شزا بھی ہمارے ساتھ حج پر جائے گی۔‘‘ زرکاش نے قریب ہی بیٹھی شزا کے شانوں کے گرد بازو حمائل کرتے ہوئے مسکرا کر اسے دیکھا۔
’’امی… اب آپ شیراز کے لیے پریشان ہوکر زرکاش بھائی کو ڈسٹرب نہیں کریں‘ حج پر آپ کو شیراز کے ساتھ نہیں جانا… اسے جانے دیں‘ ہمارے کسی کام کا نہیں وہ‘ اسے اپنے لیے ہی کچھ کرنے دیں یورپ جاکر۔‘‘ شزا کی بیزاری سے کہنے پر زرکاش بے ساختہ ہنسا۔
’’شرم کرو‘ اپنے ہی بھائی سے عاجز ہو۔‘‘ صبغہ کے گھرکنے پر وہ ڈھٹائی سے مسکرائی۔
’’امی میری گڑیا کو مت کچھ کہیں‘ یہ تو صرف آپ کی اداسی دور کرنے کے لیے ایسا کہہ رہی ہے ورنہ ہم سب کی جان ہے شیراز میں‘ ہم اسے کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں‘ یہی وقت ہے کہ وہ گھر سے نکل کر باہر کی دنیا کو سمجھے‘ آگے بڑھے‘ اس کے اندر اعتماد پیدا ہوگا‘ اسے میری طرح طویل عرصہ نہیں گزارنا وہاں‘ اسٹڈیز اور کچھ ضروری کورسز مکمل کرکے واپس یہیں آکر میرے بزنس میں شامل ہونا ہے۔‘‘
’’وہ تو سب ٹھیک ہے زرکاش… شذرا کے بعد اب شیراز کو بھی نظروں سے دور کرنا بہت مشکل ہورہا ہے‘ اس نے کبھی ایک رات بھی گھر سے باہر نہیں گزاری‘ اس کے بغیر مجھے صبر نہیں آئے گا۔‘‘ صبغہ آزردہ لہجے میں بولیں۔
’’شذرا کہاں آپ سے دور ہے‘ صبح‘ شام فون پر آپ کے اور میرے کان کھاتی رہتی ہے‘ اس کے گھر آپ ابھی کہیں میں لے چلتا ہوں۔ وہ دوسرے شہر میں ہے کسی دوسرے ملک میں نہیں‘ زیادہ سے زیادہ چار سال کی بات ہے امی… آخر میرے لیے بھی تو صبر کیا تھا آپ نے۔‘‘
’’تمہاری بات الگ ہے مگر شیراز…‘‘
’’کیوں امی زرکاش بھائی کی بات الگ کیوں ہے‘ شیراز کی طرح زرکاش بھائی آپ کے بیٹے نہیں…؟‘‘ شزا کو ماں کی بات بری لگی تو فوراً درمیان میں بول اٹھی۔
’’یہ کیا بات کی تم نے… ماں کی محبت سب اولادوں کے لیے ایک سی ہوتی ہے۔‘‘ صبغہ نے ناگواری سے شزا کو دیکھا۔
’’امی نے ایسا اس لیے کہا کہ شیراز ہم سب میں چھوٹا ہے‘ میرے لیے صبر کرنے پر امی مجبور تھیں لیکن شیراز کے ساتھ ایسا معاملہ نہیں۔‘‘ زرکاش کا انداز سمجھانے والا تھا۔
’’جو بھی ہے‘ آپ ہمارے لیے ہم سے دور گئے تھے جبکہ شیراز صرف اپنے لیے جائے گا اور وہ خود بھی باہر جاکر اپنی اسٹڈیز مکمل کرنا چاہتا ہے۔ بس آپ اب کہیں دور مت جائیے گا ہم سے۔‘‘ شزا اس کے کاندھے سے لگی قطعی انداز میں بولی۔
’’زرکاش… اب یہ سکون تو ہے مجھے کہ میں نہ سہی مگر تمہاری بہنیں ضرور تمہیں شادی کرنے پر راضی کرلیں گی‘ میری تو ایک نہیں سنتے تم۔‘‘ صبغہ مسکراتے ہوئے بولیں۔
’’یہ تو سچ ہے امی‘ آپ نے ان دو چڑیلوں کو میرے پیچھے لگا رکھا ہے ان کے سامنے میری ڈھٹائی نہیں چلنے والی۔‘‘ زرکاش کے کہنے پر صبغہ مسکراتے ہوئے شیراز کی طرف متوجہ ہوئیں۔
’’کہاں غائب تھے تم اور تمہارے پاسپورٹ کا کیا ہوا جو ری نیو کے لیے گیا تھا۔ کچھ ہی دن میں تمہارا ایڈمیشن ہونا ہے یونیورسٹی میں‘ وقت بہت کم ہے۔‘‘ شیراز کو آتے دیکھ کر زرکاش کو یاد آیا۔
’’آپ پہلے مجھے یہ بتائیں کہ آج دوپہر میں آپ دراج کو اپنی گاڑی میں ساتھ لے کر کہاں جارہے تھے؟‘‘ شیراز نے چھوٹتے ہی سوال کیا جبکہ شزا اور صبغہ کے تاثرات بھی یک دم بدل گئے تھے۔
’’اسے کالج سے رائمہ کی طرف جانا تھا‘ میں ایک کام سے اپنے آفس سے نکلا تھا سو اسے رائمہ کی طرف ڈراپ کردیا‘ کیوں… کیا ہوا ہے؟‘‘ زرکاش نے حیرت سے اس کے بگڑے تاثرات پر پوچھا۔
’’لیجیے… ان کے لیے یہ کوئی بڑی بات ہی نہیں۔‘‘ شیراز نے طنزیہ لہجے میں صبغہ کو مخاطب کیا۔ ’’جس کی ہم شکل نہیں دیکھنا چاہتے‘ جو ہم پر تھوکتی ہے‘ یہ اسے گاڑی میں ساتھ بٹھائے گھوم رہے ہیں… یہ کوئی بڑی بات ہی نہیں۔‘‘
’’بات کو غلط رخ پر مت لے جائو شیراز… میں اسے کالج سے رائمہ کی طرف ڈراپ کرسکتا تھا اس لیے کردیا‘ یہ کون سی قابل گرفت بات ہے۔‘‘ وہ سنجیدگی سے بولا۔
’’زرکاش بھائی‘ آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہم میں سے کوئی اسے پسند نہیں کرتا‘ نہ ہمارا اس سے کوئی واسطہ ہے پھر کیوں بار بار آپ اسے اہمیت دے کر ہمیں تکلیف پہنچاتے ہیں۔ وہ اس قابل نہیں کہ آپ کے ساتھ وہ ہماری گاڑی میں بیٹھ کر اپنی اوقات بھولے…‘‘ شزا شدید غصے میں بولتی ایک جھٹکے سے اٹھ کر وہاں سے چلی گئی۔
’’میری رگوں میں خون کھول رہا ہے‘ میرا بس چلتا تو اسے گاڑی سے نکال کر وہیں سڑک پر پھینک دیتا‘ میں اس ناگن کو اپنے گھر کے کسی فرد کے قریب نہیں دیکھ سکتا… وہ فائدہ اٹھا رہی ہے آپ کی مہربانیوں کی‘ اس کی خدمتوں پر معمور آپ اس کے خادم نہیں ہیں‘ آپ کو اپنے مقام کا خیال رکھنا چاہیے‘ آپ بے شک اسے بھیک دیتے رہیں لیکن اسے اپنی اور ہماری زندگی سے سو گز کے فاصلے پر رکھیں کیونکہ آپ ہم سے الگ نہیں اور وہ اچھوت ہے ہمارے لیے‘ آج میں نے برداشت کرلیا لیکن آئندہ نہیں کروں گا‘ اس کے پاس جاکر تماشہ لگوا کر اس احسان فراموش کو اس کی اوقات یاد دلائوں گا۔‘‘ غصے میں بھڑکتے ہوئے شیراز نے کہا اور جارحانہ قدموں سے واپس چلا گیا۔ بے حد سنجیدہ چہرے کے ساتھ زرکاش نے صبغہ کو دیکھا جو سپاٹ نظروں سے اسے ہی دیکھ رہی تھیں‘ اپنی جگہ سے اٹھ کر وہ ان کے قریب جا بیٹھا۔
’’آپ سب جسے ناپسند کرتے ہیں اس کی اہمیت کیا مجھ سے زیادہ ہے کہ جس کی وجہ سے آپ سب مجھ سے بدگمان ہوجاتے ہیں…؟ اسے رائمہ کے گھر تک ڈراپ کرکے میں نے اس حد تک آپ سب کی دل آزاری کی ہے کہ میری طرف دیکھنا بھی گوارا نہیں کیا جائے گا…؟ شذرا کی شادی میں دراج کو بلانے کی صرف بات کرنے پر ہی شیراز اور شزا کتنے دن تک مجھ سے بیزار اور کھنچے کھنچے رہے تھے‘ میرے لیے یہ سب برداشت کرنا دشوار ہوتا ہے‘ میں یہ سب دیکھنے کے لیے واپس نہیں آیا تھا۔‘‘ شزا اور شیراز کے انداز نے اسے آج پھر تکلیف پہنچائی تھی۔ ایسا نہیں تھا کہ وہ ان دونوں کو خاموش نہیں کرواسکتا تھا یا بحث نہیں کرسکتا تھا‘ بس وہ ان دونوں سے اپنی محبت کے ہاتھوں مجبور تھا‘ وہ اپنی زبان سے کوئی بھی ایسی بات نکلنے کے خدشے کے تحت آج بھی خاموش رہا تھا کہ وہ بات ان دونوں کے دل کو ٹھیس نہ پہنچا دے… لیکن جو تکلیف اسے ہوئی تھی آج اس کا اظہار وہ صبغہ سے بے اختیار ہی کرگیا تھا۔
’’زرکاش‘ وہ دونوں اس لیے ناراض ہوتے ہیں کہ وہ دونوں تم سے محبت کرتے ہیں… کیا تمہاری نظر میں اس کی اہمیت زیادہ ہے‘ جس نے مجھے اور تمہارے بھائی بہنوں کو ہمیشہ ٹھوکر پر رکھا…؟ سب کچھ جانتے ہوئے بھی تم نے اس کی ذمہ داری اپنے سر لے لی میں نے برداشت کیا لیکن ابھی جو شیراز کہہ گیا ہے‘ اس سب نے مجھے بھی بہت مایوس کیا ہے‘ تمہارے نزدیک میرے کسی حکم‘ کسی فیصلے کی کوئی وقعت تک نہیں۔‘‘
’’امی… میں نے ایسا کوئی کام کب کیا ہے جو…‘‘
’’مجھے تمہاری صفائیاں نہیں سننی زرکاش…‘‘ صبغہ غصے میں ہی اسے روک گئیں۔
’’وہ لڑکی لاوارث نہیں ہے‘ اپنے باپ اور چچا کی وجہ سے تم نے اس کی جو ذمہ داری لی ہے اسے ذمہ داری تک ہی رہنے دو‘ صرف مدد کی حد تک تمہارا تعلق ان دونوں بہنوں سے ہونا چاہیے بس‘ یہ میرا حکم ہے ورنہ مجھے خود رائمہ کے سسرال جاکر بات کرنی پڑے گی… میری اولاد نے زندگی بھر کے لیے ان بہنوں کی دیکھ ریکھ کا ٹھیکہ نہیں لے رکھا… اپنے بھائی بہن کی ناراضی کی تمہیں پروا ہے تو اپنی ہمدردیوں کو قابو میں رکھو‘ اگر تم اپنے بھائی بہنوں کو خود سے دور نہیں کرنا چاہتے تو اس سے فاصلے پر رہو جس کے قریب وہ تمہیں دیکھنا بھی نہیں چاہتے ورنہ یہ بار بار کی ناراضی اور بدگمانیاں دل میں فاصلے بڑھادیں گی‘ عمر کے اس دور میں اپنی اولادوں کو ایک دوسرے سے منحرف اور بدگمان دیکھنا میرے لیے اذیت کا باعث ہوگا… ایک حقیقت تو باور ہوچکی ہے کہ تمہیں میری عزت وتوقیر سے بڑھ کر اپنی ذمہ داری کی پروا ہے جس لڑکی نے تمہاری ماں کو بے عزت کیا‘ تمہارے بھائی بہنوں کے لیے زہر اگلا اس کا مستقبل تمہیں کس درجہ عزیز ہے۔‘‘
’’امی ایسا ہرگز نہیں‘ کم از کم آپ تو میرے بارے میں اس طرح نہ سوچیں…‘‘ وہ دزدیدہ نظروں سے صبغہ کو دیکھتا ہوا بولا۔
’’جو ثابت ہوچکا ہے‘ اس کے بارے میں سوچنے کی ضرورت بھی کیا رہ جاتی ہے۔‘‘ صبغہ اس کی جانب دیکھے بغیر بولیں۔ ’’میں شذرا سے بات کروں گی وہ شیراز اور شزا کو سمجھادے گی‘ میں نے تمہاری طرف داری اس معاملے میں کی تو وہ دونوں اور بگڑ جائیں گے۔‘‘ سرد لہجے میں وہ کہیتں وہاں سے جانے کے لیے اٹھ گئیں جبکہ زرکاش گہری سنجیدگی سے کسی سوچ میں تھا… فون پر آتی کال نے اس کی سوچوں کو منتشر کردیا تھا‘ امان کی کال ریسیو کرتا وہ خود کو کمپوز کرنے کی کوشش میں تھا‘ آج اسے امان کے ساتھ تصویروں کی نمائش میں جانا تھا‘ پروگرام پہلے سے طے نہ ہوتا تو وہ گھر سے باہر امان کے ساتھ ہی وقت گزارتا۔ اس کی پریشان کن کیفیت اور ذہنی انتشار امان سے زیادہ دیر چھپا نہیں رہ سکا تھا‘ اس کے پاس بھی امان کے علاوہ کوئی ایسی قریب ترین ہستی نہیں تھی جس سے وہ اپنے اتنے ذاتی معاملات پر بات کرتا۔
’’تمہارے گھر میں سب کا اتنا شدید ردعمل نہ غیر متوقع ہے نہ حیران کن پھر تم اتنے ڈسٹرب کیوں نظر آرہے ہو۔‘‘ ڈنر کے دوران امان نے کہا۔
’’تمہارے بہن بھائی اس وقت بھی دراج کو ناپسند ہی کریں گے جب تم اس کے ساتھ نہیں ہوگے‘ ان سب کا ردعمل فطری ہے‘ اس چیز کو خود پر سوار کرکے تم اپنے گھر والوں کے دل سے دراج کی نفرت نہیں نکال سکتے… اس سب کو تمہیں اگنور کرتے رہنا ہوگا‘ کچھ احتیاط کرنی ہوگی مگر بہرحال تم دراج سے ہر تعلق توڑ تو نہیں سکتے‘ معاملات جیسے چل رہے ہیں چلنے دو‘ وقت کے ساتھ ساتھ معاملات بھی اتار چڑھاؤ آتے رہیں گے باقی تمہیں جو بہتر لگتا ہے وہ کرنے کا تمہیں حق ہے۔‘‘
’’مجھے اب اندازہ ہورہا ہے کہ اپنوں کے درمیان رہنا ان کو اپنی ذات سے راضی اور خوش رکھنا کتنا کٹھن کام ہے۔‘‘ زرکاش نے گہری سانس لے کر کہا۔
’’یہی تو سمجھنے کی تمہیں ضرورت ہے کہ تم سب کو ایک ساتھ اپنی ذات سے خوش نہیں رکھ سکتے‘ تمہاری فطرت ہی نہیں تمہاری سوچ اور نظریہ بھی مختلف ہے پھر یہ تضاد وتصادم کا سبب تو بنے گا ہی… بس تم اپنے مقصد پر فوکس کرو‘ گھر والوں کی رائے کا احترام کرو مگر خود کو اس حد تک جذباتی طور پر کمزور نہ پڑنے دو کہ کوئی بھی تمہیں اپنے حساب سے چلنے اور سوچنے پر مجبور کردے… تمام تلخیاں دل ودماغ سے نکال کر نارمل رہو‘ سب کے ساتھ‘ سب خودبخود نارمل رہے گا‘ دوبارہ مجھے ایسے معاملات کے لیے پریشان نظر مت آنا‘ اپنی صلاحیتیں دل ودماغ اپنے بزنس اور اپنی زندگی کے لیے محفوظ رکھو‘ یہ رشتوں اور خاندان کی چپقلش ساری زندگی جاری رہے گی۔‘‘ امان کے سمجھانے پر اس نے تائیدی انداز میں سر ہلایا۔
m… / …m
رات آہستہ آہستہ گزرتی جارہی تھی‘ کھڑکی سے وہ سڑک کے دوسری جانب اسے دیکھ سکتی تھی‘ جو پول سے پشت ٹکائے وہاں مستقل موجود تھا… وہ حیران نہیں تھی اسے اندازہ ہوچکا تھا کہ عرش جائے گا نہیں‘ وہیں رک کر صبح ہونے کا انتظار کرتا رہے گا… اسے پتہ تھا کہ وہ صرف تنہائی سے گھبرا کر اس کی ہمراہی کا تمنائی نہیں ہے‘ یہ تو بہت خاموشی سے پنپتے کسی خوب صورت جذبے سے کشیدکی ہوئی چاہت تھی… عرش نے جو کہا وہ غیر متوقع نہیں تھا‘ کہیں نہ کہیں یہ اس کی بھی چاہت تھی مگر… جانے کیوں پہلے پہل وہ عجیب کشمکش میں ڈوبی رہی‘ دماغ مائوف سا تھا لیکن جیسے جیسے رات کی دھڑکنیں بڑھتی جارہی تھیں‘ گزرا ہوا ایک ایک لمحہ بھی اس کی آنکھوں کے سامنے سے گزرتا جارہا تھا۔ شازمہ کا چہرہ ان کی باتیں‘ عرش کی مایوسی اور اس کی آنکھوں میں جھلملاتی خاموش التجائیں‘ یہ سب اس کے مائوف دماغ میں سوچیں جگانے لگا تھا۔ تمام سوچیں اسے ایک ہی سمت میں لے جارہی تھیں‘ اس ایک سمت سے نظر چرا کر وہ جاتی بھی کہاں…؟ باقی سمتوں میں تو گھور اندھیرا تھا‘ نظروں کے سامنے بس یہی تو ایک راستہ کھلا تھا‘ ایک یہی سمت تو روشن تھی… دھیرے سے کھڑکی سے دور ہٹتی وہ کمرے میں آگئی تھی‘ ملگجی روشنی میں اپنی ماں کے خوابیدہ چہرے کو دیکھتے ہوئے اس نے اپنے گھٹنوں کے گرد بازو لپیٹ لیے تھے‘ ایک ٹک ماں کی بند آنکھوں اور ہلدی کی طرح زرد چہرے کو دیکھتے ہوئے اس کی آنکھوں سے آنسوئوں کے قطرے ایک قطار میں بہتے چلے جارہے تھے۔
’’میں جانتی ہوں امی‘ اگر تم اپنے حواسوں میں ہوتیں تو اس راستے کی طرف قدم بڑھانے سے پہلے ہی تم میری چمڑی ادھیڑ دیتیں جس کے علاوہ میرے پاس اورکوئی راستہ نہیں ہے۔‘‘ لرزتے لہجے میں وہ اپنی ماں سے مخاطب تھی۔
’’میں ایک ہی نقطہ زوال پر کب تک تنہا کھڑی رہوں گی؟ میرا دم گھٹنے لگتا ہے یہ سوچ کر کہ اس زندان میں کوئی نہیں آئے گا… تمہاری بیٹی کے لیے کوئی شہزادہ گھوڑے پر سوار ہوکر اس قفس تک نہیں آئے گا‘ میں بہت پہلے ہی اس خواب سے باہر آچکی ہوں… میں جس پاتال میں سانس لے رہی ہوں‘ وہاں ضرورت کی رشتے بھی بہت اہمیت رکھتے ہیں‘ نہ اسے مجھ سے کوئی لالچ ہے نہ مجھے… ہم دونوں کو اس زندگی میں ایک دوسرے کی ضرورت ہے… نہ وہ برا تھا نہ برا ہے‘ تم ٹھیک ہوجائوگی تو خود سب کچھ جان جائوگی۔ مجھے یہ ایک موقع مل رہا ہے عرش کی صورت میں اپنی مردہ زندگی کو زندہ بنانے کا… میں اسے گنوانا نہیں چاہتی‘ میں کوئی سمجھوتا نہیں کررہی ہوں‘ میں بس تھک چکی ہوں تنہا چلتے چلتے… اور وہ میرے ساتھ چلنے کی خواہش رکھتا ہے… اس کے علاوہ کوئی نہیں ہے جو مجھے اتنا معتبر کرتا‘ میری اپنی نظر میں بھی… اس کا ماضی جو بھی تھا مگر آج اس نے مجھے میرے ہونے کا احساس دلایا‘ میری بھٹکتی بصارتوں کو وہ ایک راستے تک لے آیا ہے… ہم دونوں ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر کبھی نہ کبھی تو منزل تک پہنچ ہی جائیں گے… میرا دل کہتا ہے کہ یہ وہی در ہے جس کے کھلنے کا مجھے انتظار تھا‘ اب میں اس سے منہ نہیں پھیر سکتی… نہ میں ان سناٹوں میں بھٹک بھٹک کر گمشدہ ہونا چاہتی ہوں اور نہ عرش کو کھونا چاہتی ہوں‘ میں نے اسے خالی ہاتھ لوٹایا تو پھر یہاں کوئی نہیں آئے گا… اس نے میری روح کو چھوکر اسے بیدار کیا ہے‘ اب مجھ پر بھی لازم ہے کہ میں اسے مایوس نہ کروں‘ میں اس کا ہاتھ تھام لینا چاہتی ہوں‘ جہاں میرا دل سجدہ زیر ہے‘ اب وہاں میں اپنے سر کو بھی جھکا لینا چاہتی ہوں…‘‘ بھیگی پلکوں کو بند کرکے اس نے بقیہ گرم قطروں کو بھی آزاد کرتے ہوئے گھٹنوں پر سر ٹکا لیا تھا۔
رات جس قدر اندیشوں اور واہموں کے درمیان مضطرب گزری تھی‘ اسی قدر صبح کا پھیلتا اجالا نئی امیدوں اور عزم کو تروتازہ کررہا تھا‘ خنک اور کثافتوں سے پاک فضاء میں جنگلی پھولوں کی مہک رچی بسی تھی‘ گھنے درخت کی ہری بھری شاخیں مدھم ہوائوں میں دھیرے دھیرے لہکتیں انکھوی سروں جیسا شور بکھیر رہی تھیں۔ آسمان اودے بادلوں سے ڈھکا ماحول کو بہت حسین بنا رہا تھا‘ کہیں کہیں شاخوں پر کھلے پھول آنکھوں کو بہت بھلے لگ رہے تھے‘ ان ہی شاخوں کے درمیان کہیں سے کوئل کی سریلی کوک دور دور تک اپنا جادو پھیلا رہی تھی‘ گزری رات کا اضطراب اب بھی اس کی آنکھوں میں سلگ رہا تھا مگر اب صبح کے یہ خوشگوار نظارے اس کی آنکھوں کو ٹھنڈا کرتے دل کے اضطراب کو بھی کم کررہے تھے۔
ایک بار پھر اس نے زنگ آلود گیٹ کی سمت دیکھا تھا جس کے عقب میں اس کی زندگی کا بہت اہم اور قیمتی فیصلہ چھپا ہوا تھا‘ گزری رات اس نے حقیقتاً کانٹوں پر گزاری تھی‘ جانے اس سے یہ کیسا اٹوٹ تعلق استوار ہوچکا تھا کہ دل بس اس کے ساتھ کی طلب میں ضدی بچے کی طرح مچل رہا تھا‘ صبح ہونے تک وہ دل کی ضد کے آگے ہتھیار ڈال چکا تھا کہ وہ اس سے انکار سننے کی ہمت اور حوصلہ رکھتا ہی نہیں ہے‘ بے شک وہ اس سے کہہ چکا تھا کہ وہ اس کا ہر جواب قبول کرے گا… رکی سانسوں کے ساتھ وہ مکمل اس کی جانب متوجہ تھا جو سفید لباس میں دھیرے دھیرے قدم بڑھاتی آرہی تھی‘ جس لمحے وہ اس کے مد مقابل رکی عرش کو مکمل یقین آگیا تھا کہ کل رات وہ بھی پلک تک نہیں جھپک سکی تھی اور شاید آنکھوں کی سرخی چھپانے کے لیے اب نظریں جھکائے رکھنا چاہتی تھی… خوشگوار ہوا سے لہراتیں شاخوں کا مدھم شور اور کوئل کی کوکتی آواز بھی ان دونوں کے درمیان خاموشی کو نہیں توڑ سکی تھی۔ منتظر نظروں سے وہ بس سانس روکے اسے دیکھتا رہا تھا۔
’’تم جو چاہتے ہو کیا اس کے بارے میں تم نے اچھی طرح سوچا سمجھا تھا؟‘‘ کافی دیر بعد نے خاموشی کو اپنی آواز کی لرزش سے توڑا تھا۔
’’میں نے کہا تھا کہ یہ سب اچانک نہیں ہے… میں جانتا تھا کہ مجھے کبھی نہ کبھی تمہارا ساتھ زندگی بھر کے لیے مانگنا ہی ہے تو پھر ابھی کیوں نہ سب کہہ دوں… یہ سب پہلے سے دل میں تھا‘ بس زبان پر اچانک آگیا۔‘‘ اس کی آنکھوں میں دیکھتا وہ بولا۔
’’کیا تم صرف اس لیے مجھ سے تعلق مضبوط کرنے پر مجبور ہو کہ میرے علاوہ تمہاری زندگی میں دوسرا کوئی ایسا نہیں جو تمہارے کل اور آج سے واقف ہو‘ جس پر تمہیں بھروسہ ہو؟‘‘ اس کی جانب دیکھے بغیر وہ بولی۔
’’تمہاری یہ بات کچھ حد تک ٹھیک ہے… کبھی موقع ملا تو تفصیل سے میں تمہارے اس سوال کا جواب دوں گا۔‘‘ وہ صاف گوئی سے بولا۔
’’ہوسکتا ہے آگے جاکر کوئی مجھ سے بہتر اور مجھ سے زیادہ بھروسہ مند تمہاری زندگی میں آکر تمام محرومیوں کو دور کردے تب اگر تمہیں اپنی عجلت پر پچھتاوا ہوا تو پھر… میں کیا کروں گی…؟‘‘ اس کے جھجکتے لہجے پر عرش نے گہری سانس لے کر اسے دیکھا۔
’’تم تب بھی بس قیاس آرائیاں کرتی رہنا… میں رات سے اب تک یہاں اپنے لیے تمہاری بے اعتباری اور شکوک کی حد جاننے کے لیے نہیں رکا رہا ہوں… مجھ سے یہ سوال کرنے سے بہتر تھا کہ تم خود سے صرف ایک سوال کرتیں کہ میں تمہارے بھروسے اور اعتبار کے لائق ہوں یا نہیں‘ تو یہ زیادہ بہتر ہوتا۔‘‘ عرش کے بے حد سنجیدہ گمبھیر لہجے پر اس نے نظر اٹھائی تھی۔
’’مجھے یہ سوال کرنے کی خود سے ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔ رات میں نے بہت سوچا اور شاید صرف اپنے ہی بارے میں سوچا‘ اگر نہ سوچتی تو ان ہی ویرانیوں کا حصہ بن جاتی۔‘‘ اس کے مدھم لہجے نے عرش کو چونکایا مگر وہ خاموشی سے بس ہمہ تن گوش رہا۔
’’تمہیں آگے بڑھنے کے لیے ہزاروں راستے مل سکتے ہیں مگر مجھے ایک طویل انتظار کے بعد یہ ایک راستہ ملا ہے سب کچھ بہتری کی طرف لے جانے کا۔‘‘ بولتے ہوئے اس نے عرش کو دیکھا‘ جس کے چہرے پر اضطراب مگر آنکھوں میں امید کے دیئے روشن تھے۔
’’میں راضی ہوں اس کے لیے جو تم چاہتے ہو‘ وہی اب… میں بھی چاہتی ہوں۔‘‘ اس کی مدھم ہوتی آواز نے جیسے نئی روح پھونک دی تھی ایک گہری پُرسکون سانس لے کر عرش نے آسمان پر اڑتے بادلوں کے ٹکڑوں کو دیکھا۔
’’تم اندازہ نہیں کرسکتیں کہ تمہاری رضا مندی نے مجھے آسمان پر پہنچادیا ہے۔‘‘ عرش کے لہجے اور آنکھوں میں تشکر در آیا تھا۔
’’لیکن مجھے کچھ وقت چاہیے‘ ابھی کچھ ذمہ داریاں ہیں مجھ پر جو صرف مجھے ہی پوری کرنی ہیں۔‘‘ وہ بولی۔
’’جہاں اس حد تک بھروسہ کیا ہے تو وہاں یہ یقین بھی کرو کہ تمہاری ہر ذمہ داری اب میری ذمہ داری ہے۔‘‘ عرش نے کہا۔
’’تم پر بھروسہ اور یقین اپنی جگہ لیکن میں اپنی ذمہ داریاں اور پریشانیاں ساتھ لے کر تمہاری زندگی میں نہیں آنا چاہتی اس لیے مجھے وقت چاہیے۔‘‘ وہ اپنی بات پر قائم تھی۔
’’میرے لیے یہی بہت بڑی بات ہے کہ آج میرے حق میں فیصلہ دے کر تم نے مجھے نئے سرے سے زندہ کردیا ہے‘ نئی زندگی کی راہ دکھا دی‘ تم جتنا چاہو وقت لو‘ میں تم پر اپنے کسی فیصلے کا دبائو ہرگز نہیں ڈالوں گا‘ تب تک میں بھی کوئی باعزت پیشہ اختیار کرکے خود کو تمہارے قابل بنانے کی کوشش کرتا رہوں گا اور… تمہارا انتظار بھی۔‘‘ عرش کے پرعزم لہجے پر وہ چند لمحوں تک اس کے چہرے پر سچائی کی روشنی دیکھتی رہی اور پھر سر جھکا لیا تھا۔
’’بس ایک گزارش کرنا چاہتا ہوں بہت اصرار کے ساتھ… مجھے یقین ہے کہ نہ تو تم میرے ذہنی توازن پر شک کروگی نہ ہی میری نیک نیتی پر…‘‘ عرش کے متذبذب لہجے پر وہ بس سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔
’’کل ساری رات میرے دل ودماغ میں یہ سوال چبھتا رہا تھا کہ اگر تمہارا جواب انکار میں ہوا تو میں کیا کروں گا؟ لیکن اب تمہارا جواب سن کر میں پہلے سے زیادہ بے چینی اور خوف محسوس کررہا ہوں۔‘‘ عرش کے مضطرب لہجے نے اسے بھی پریشان کیا۔
’’کیسی بے چینی… کیساخوف…؟‘‘
’’گزرتے حالات کی پے درپے ضربوں نے اس حد تک خوف زدہ اور بے یقین کردیا ہے کہ اب میں کچھ کھونے کی ہمت نہیں رکھتا… میں اب تمہیں کھونے کی ہمت نہیں رکھتا… نہ ہی تمہارے کھو جانے کے اندیشوں سے باہر نکل کر پُرسکون رہ سکوں گا۔‘‘ اس کی حیران آنکھوں میں دیکھتا وہ بولا۔
’’کیا تم مجھے اجازت دوگی کہ میں اپنے اور تمہارے تعلق کو ایک نام دے کر اسے اتنا مضبوط کردوں کہ جس کے بعد مجھے کوئی اندیشہ یا خوف لاحق نہ ہو؟‘‘
’’تم کیا چاہتے ہو؟‘‘ وہ بمشکل پوچھ سکی تھی۔
’’کورٹ میرج… آج… ابھی…‘‘ اس کے مدھم لہجے پر وہ دنگ نظروں سے اسے دیکھتی رہ گئی تھی۔
m… / …m
سرخ تروتازہ سیب کو چند لمحوں تک وہ ایک ٹک دیکھتی رہی اور پھر ٹیبل پر رکھی چھری کو اٹھا کر اس کی نوک کو سیب میں اتار دیا تھا‘ ایک بار پھر اس نے یہی عمل دہرایا اور پھر بار بار چھری کی نوک سیب میں اتارتے نکالتے ہوئے اس کی رفتار شدت پکڑنے لگی اس بات سے قطع نظر کہ اپنی اس جنونی کیفیت میں وہ اپنا ہاتھ بھی زخمی کرسکتی ہے۔ کچن کی طرف آتی ندا نے دنگ نظروں سے اس کے ہذیانی انداز کو دیکھا تھا۔
’’رجاب… یہ کیا کررہی ہو؟ چھوڑو چھری‘ تمہارا ہاتھ کٹ جائے گا۔‘‘ چیختے ہوئے ندا نے اس سے چھری چھینی اور اگلے ہی پل گنگ سی ہوگئی تھیں‘ جب رجاب نے پھیلی ہوئی بے تاثر آنکھوں سے انہیں دیکھا‘ لب بھینچے وہ چند لمحوں تک انہیں دیکھتی رہی پھر کرسی سے اٹھ گئی‘ حیران پریشان نظروں سے ندا اسے کچن سے نکلتا دیکھتی رہی تھیں اور پھر خود بھی راسب کی تلاش میں سرعت سے کچن سے نکلیں۔
دستک کی آواز پر اس کی ایزی چیئر ساکت ہوئی تھی‘ سپاٹ نظروں سے وہ اندر داخل ہوتے راسب کو دیکھتی رہی اور پھر یک دم کرسی سے اٹھ کھڑی ہوئی‘ نظریں راسب پر ہی ساکت تھیں جو پہلے ہی چونک چکے تھے۔
’’تم تنہا کمرے میں کیوں بیٹھی ہو…؟ مجھے کتنی دیر گزر گئی آفس سے گھر آئے ہوئے اور تم کہیں نظر نہیں آئیں…‘‘ اس کے بے حد سپاٹ چہرے اور نظروں سے نگاہ چراتے راسب ہلکے پھلکے انداز میں بولتے کھڑکی کی سمت گئے جبکہ وہ اسی طرح کھڑی ان پر نظریں جمائے ہوئے تھی۔ جو اب کھڑکی سے پردے ہٹا کر کھڑکی کھولنے کے بعد اسے دیکھ رہے تھے۔
’’تم مجھ سے ناراض ہو…؟ کیا ڈاکٹر شرجیل کے پاس جانا تمہیں پسند نہیں آیا؟‘‘ راسب کے سوال پر اس کے سپاٹ چہرے پر تاثرات ابھرنے لگے تھے‘ ان کے چہرے سے نگاہ ہٹاتی وہ بیڈ کے کنارے بیٹھ گئی۔
’’پتہ نہیں‘ مجھے پسند آیا یا نہیں مجھے بس یہ پتہ ہے کہ آپ مجھے ڈاکٹر کے پاس لے جانا چاہتے تھے۔‘‘ وہ سپاٹ لہجے میں بولی۔
’’رجاب… ایک سائیکاٹرسٹ کے پاس ہمارا جانا بالکل ایسا ہی ہے جیسے ہم فلو اور فیور میں ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں۔‘‘ راسب نے جیسے سمجھایا‘ جبکہ وہ خاموش رہی تھی‘ راسب نے ایک نظر کمرے میں داخل ہوتی ندا کو دیکھا اور پھر وہ قدم بڑھاتے رجاب کے قریب آبیٹھے‘ ندا نے چائے کے مگ راسب اور رجاب کو تھمائے اور بغور رجاب کو دیکھتیں سائیڈ ٹیبل کے کنارے بیٹھ گئیں۔
’’تمہارے آغا جان یہ گھر چھوڑنا چاہتے ہیں۔‘‘ ندا کی اطلاع پر اس نے پہلے چونک کر انہیں اور پھر راسب کو دیکھا۔
’’ہاں‘ یہ سچ ہے‘ ہم جلد ہی کسی دوسرے نئے گھر میں شفٹ ہو جائیں گے… اس کام سے فارغ ہوکر مجھے اپنا بزنس شروع کرنا ہے۔‘‘
’’مگر کیوں آغا جان؟ ہم اس گھر کو کیوں چھوڑیں گے؟ آپ کی اتنی اچھی جاب ہے پھر اچانک آپ کو بزنس میں دلچسپی کیسے ہوگئی…؟‘‘ وہ حیران ہوئی۔
’’اس گھر کو چھوڑنا ضروری ہے رجاب… جب تک یہاں سے جائیں گے نہیں‘ گزرے وقت کی اذیتوں سے ہم میں سے کوئی نہیں نکل سکے گا… اور میں تم سب کو ایک نارمل اور صحت مند ماحول میں سانس لیتا دیکھنا چاہتا ہوں‘ ممکن ہوتا تو میں اس شہر سے ہی تم سب کو لے جاتا مگر… یہاں ندا کے بھائی بہن ہیں‘ تمہاری اور رومیل کی اسٹڈیز کے لیے یہی شہر زیادہ بہتر ہے۔‘‘ راسب گہری سنجیدگی سے کہہ رہے تھے۔ ’’اور جہاں تک بزنس کی بات ہے تو میں کافی عرصہ سے اس بارے میں سوچ رہا تھا‘ ندا کے بھائی کے ساتھ مل کر میں لیدر گڈز کی فیکٹری شروع کرنا چاہتا ہوں وہ تجربہ کار ہے ندا کے والد کی وفات کے بعد اس کے تینوں بھائیوں نے بہت کم عمری میں ہی اپنے والد کی فیکٹری کو کامیابی سے سنبھالا تھا‘ فیکٹری لگانے کے لیے مجھے زیادہ رقم کی ضرورت ہے اس لیے بھی میں اس گھر کو فروخت کرنا چاہتا ہوں‘ ابھی ہم یہاں سے نکل کر کسی چھوٹے گھر میں رہیں گے مگر میں جلد ہی اس قابل ہوجائوں گا کہ تم لوگوں کے لیے ایک اچھا اور بڑا گھر خرید سکوں… تمہیں اس سب پر کوئی اعتراض ہے تو مجھے بتائو‘ یہ گھر تمہارا بھی ہے اور تم بھی اس گھر پر حق رکھتی ہو۔‘‘
’’آغا جان‘ آپ کو جو ٹھیک لگتاہے آپ وہی کریں‘ مجھے بھلا کیوں اعتراض ہوگا۔‘‘ اس کے جواب پر راسب نے بس اس کے سر کو تھپتھپایا۔
’’کیا سوچنے لگیں رجاب؟‘‘ اسے چپ چاپ مگ سے سپ لیتے دیکھ کر ندا نے مخاطب کیا۔
’’کچھ نہیں بھابی۔‘‘ وہ دھیرے سے بولی اور پھر راسب کو دیکھا۔
’’آغا جان… آپ پولیس اسٹیشن میں فون کرکے انسپکٹر سے بات کرلیجیے گا‘ مجھے ایک شخص کا اسکیچ بنوانا ہے۔‘‘ اس کی اس بات نے راسب اور ندا دونوں کو دنگ کردیا تھا۔
’’تمہیں ان لڑکوں میں سے کسی کا چہرہ یاد آگیا ہے… بتائو مجھے؟‘‘ مکمل اس کی طرف متوجہ ہوتے راسب بے چین ہوگئے تھے۔
’’نہیں آغا جان…‘‘ اس کے انکار نے راسب کو مزید دنگ کیا۔
’’تو پھر کس کا اسکیچ بنوانا ہے تمہیں رجاب؟‘‘ ششدر بیٹھی ندا بولیں۔
’’اس شخص کا جس نے فون پر آپ کو میرے بارے میں اطلاع دی تھی میرے کہنے پر۔‘‘ اس کے کہنے پر ندا نے فوراً راسب کو دیکھا۔
’’آپ کو فوراً انسپکٹر سے بات کرنی چاہیے‘ ہوسکتا ہے کہ پولیس اس شخص کو ڈھونڈ لے جس کا اسکیچ رجاب بنوانا چاہتی ہے‘ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس شخص کے ذریعے پولیس مجرموں تک پہنچنے میں کامیاب ہوجائے۔‘‘ ندا کے کہنے پر راسب نے مزید دیر نہیں کی‘ فون کرنے کے لیے وہ اپنی جگہ سے اٹھ گئے تھے۔
(ان شاء اﷲ باقی آئندہ ماہ)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close