Hijaab Jul-17

حمد و نعت

منیر احمد نیازی/اقبال عظیم

حمد باری تعالیٰ

اسی کا حکم جاری ہے زمینوں آسمانوں میں
اور ان کے درمیاں جو ہیں مکینوں اور مکانوں میں
ہوا چلتی ہے باغوں میں تو اس کی یاد آتی ہے
ستارے چاند سورج ہیں اس کے نشانوں میں
اسی کے دم سے طے ہوتی ہے منزل خواب ہستی کی
وہ نام اک حرفِ نورانی ہے ظلمت کے جہانوں میں
اس کے پاس اسرارِ جہاں کا علم ہے سارا
وہی برپا کرے گا حشر آخر کے زمانوں میں
وہ کرسکتا ہے جو چاہے وہ ہر اک شے پہ قادر ہے
وہ سُن سکتا ہے رازوں کو جو ہیں دل کے خزانوں میں
بچالیتا ہے اپنے دوستوں کو خوفِ باطل سے
بدل دیتا ہے شعلوں کو مہکتے گلستانوں میں
منیر اس حمد سے رُتبہ عجب حاصل ہوا تجھ کو
نظیر اس کی ملے شاید پرانی داستانوں میں

جناب منیر احمد نیازی…

نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم

میں تو خود ان کے در کا گدا ہوں اپنے آقا کو میں نذر کیا دوں
اب تو آنکھوں میں کچھ بھی نہیں ہے ورنہ قدموں میں آنکھیں بچھا دوں
میرے آنسو بہت قیمتی ہیں ان سے وابستہ ہے یاد ان کی
ان کی منزل ہے خاک مدینہ یہ گُہر یوں ہی کیسے لٹادوں
آنے والی ہے ان کی سواری‘ پھول نعتوں کے گھر گھرسجادوں
میرے گھر میں اندھیرا بہت ہے اپنی پلکوں پر شمعیں میں جلادوں
روضۂ پاک پیش نظر ہے سامنے میرے آقا کا گھر ہے
مجھ کو کیا کیا نظر آرہا ہے تم کو لفظوں میں کیسے بتادوں
میں فقط آپ کو جانتا ہوں اور اس در کو پہچانتا ہوں
اس اندھیرے میں کس کو پکاروں آپ بتلائیں کس کو صدا دوں
قافلے جارہے ہیں مدینے اور حسرت سے میں تک رہا ہوں
یا لپٹ جائوں قدموں سے ان کے یا قضا کو میں اپنی صدا دوں
میری بخشش کا ساماں یہی ہے اور دل کا بھی ارماں یہی ہے
ایک دن ان کی خدمت میں جاکر ان کی نعتیں انہیں کو سنادوں
مجھ کو اقبالؔ نسبت ہے ان سے جن کو ہر لفظ جان سخن ہے
میں جہاں نعت اپنی سنادوں ساری محفل کی محفل جگادوں

جناب پروفیسر اقبال عظیم…

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close