Hijaab Aug-17

شب آرزو تیری چاہ میں(قسط نمبر7)

نائلہ طارق

(گزشتہ قسط کا خلاصہ)
عرش کی ماں (شازمہ) عرش کو زنائشہ سے شادی کے لیے کہتی ہے۔شازمہ کو زنائشہ پسند آئی تھی وہ عرش کے جذبات سے بھی واقف تھی‘ عرش انہیں ٹھیک ہونے کی تسلی دیتا زنائشہ سے شادی کرلینے کی ہامی بھرلیتا ہے۔ ندا راسب کو تایا اور حاذق کے آنے کی اطلاع دیتی ہے‘ ندا کو ان لوگوںکا آنا خطرے سے خالی نہیں لگتا اس لیے وہ راسب کو سمجھانے کی کوشش کرتی رجاب کی دوسری سرجری کا بتاتی ہے جس پر راسب غصہ میں آتا تایا اور حازق کو اپنے عتاب کا نشانہ بناتا ہے۔ حاذق سے باپ کی بے عزتی برداشت نہیں ہوتی اور وہ رجاب کو طلاق بھیجنے کی دھمکی دیتا وہاں سے چلا جاتا ہے۔ دوسری طرف دراج زرکاش کو متوجہ کرنے کے لیے اپنے اوپر توجہ دینی شروع کردیتی ہے‘ شاپنگ کے بعد اس نے پارلر کا رخ کیا تھا جبکہ زرکاش کے کہنے پر دراج ڈنر تیار کرتی ہے لیکن مذاق میں اس کی ڈش میں نقص نکالتا زرکاش اس کا موڈ غارت کرجاتا ہے‘ ساتھ ہی زرکاش کو یہ احساس بھی ہوتا ہے کہ کہیں اس نے دراج کو اپنے فلیٹ پر لاکر کوئی غلطی تو نہیں کی جبکہ اس کا ارادہ صرف اسے مایوسی سے نکالنا تھا۔ دراج مسلسل اس سے اپنی محبت کا اظہار کرتی ایک بار پھر شادی کی بات کرتی ہے جس پر زرکاش ٹال دیتا ہے۔ شازمہ دنیا ئے فانی سے کوچ کرجاتی ہے تب عرش زنائشہ کو شازمہ کی خواہش بتاکر پرپوز کرتا ہے‘ عرش کو اب اپنے تنہا رہ جانے کا دکھ بھی ہوتا ہے ایسے میں زنائشہ اسے حوصلہ دیتی ہے۔ حاذق رجاب کو طلاق نامہ بھیج دیتا ہے‘ رجاب کاغذ کو غور سے دیکھتی رہتی ہے ۔ راسب رجاب سے معافی مانگتا ہے جبکہ رجاب بھائی کے سامنے خود کو مضبوط ظاہر کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ عرش دکھ کی کیفیت میں زنائشہ سے شہر چھوڑنے کی بات کرتا ہے جس پر وہ اسے سمجھاتی ہے اور نکاح کرنے کی کچھ شرائط رکھ کر عرش سے نکاح کرلیتی ہے۔ دوسری طرف رجاب حاذق سے جڑی ہر یاد کو آگے لگانے کے ساتھ اپنی پرانی تصویروں کو بھی آگ لگادیتی ہے۔ وہ اب اپنے نئے چہرے کے ساتھ دنیا کا سامنا کرنا چاہتی تھی جبکہ راسب اس کی سرجری کروانے پر بضد ہوتا ہے تب ندا راسب کو رجاب کی ذہنی حالت کے بارے میں بتاکر تشویش میں ڈال دیتی ہے۔ رجاب اب نفسیاتی ہوتی جارہی تھی۔
(اب آگے پڑھیے)
m… / …m
’’تم سب اسے جانتے ہو‘ انتہائی شاطر لڑکی ہے وہ‘ جس نے کبھی نوٹوں کی شکل بھی نہ دیکھی‘ وہ گندگی میں سے بھی سکے اٹھالے گا جبکہ بھائی کی بے جا ہمدردیوں نے تو اسے ہر طرح سے سہولتیں فراہم کر رکھی ہوں گی… مجھے بھائی کے لیے بھی اس پر یقین نہیں ہے‘ وہ کچھ بھی کرسکتی ہے ایسا نہ ہو پانی سر سے گزر جائے‘ وہ کوئی شاطرانہ کام کر جائے اور ہم سب لکیر پیٹتے رہ جائیں… مجھے اس کے پاس جاکر اسے اس کی اوقات یاد دلانی ہوگی اگر اس نے بھائی کو اپنے جال میں پھانسنے کا ارادہ بھی کیا تو جان سے مارڈالوں گا اسے…‘‘
’’چپ ہوجائو… بھائی نے سن لیا تو کیا سوچیں گے وہ… دراج کے شاطر ہونے میں مجھے بھی کوئی شک نہیں ہے مگر تم زرکاش بھائی کے بارے میں اس طرح کیسے سوچ سکتے ہو۔‘‘ دُھلی پلیٹیں خشک کرتی شزا نے ہلکی آواز میں شیراز کو گھرکا جبکہ وہ ناگواری سے سر جھٹک کر رہ گیا۔
’’زرکاش بھائی ٹوتھ پیسٹ تک برانڈڈ استعمال کرتے ہیں‘ وہ اپنے لیول سے اس طرح نہیں گر سکتے جیسا تم سوچ رہے ہو… اور پھر دراج عمر میں تم سے بھی کم ہے… زرکاش بھائی کو اپنا تماشہ نہیں بنوانا اس کے جال میں پھنس کر… اپیا نے فون پر تمہیں جو سمجھایا تھا اس پر عمل کرو‘ تمہارے فیوچر کا سارا دارو مدار زرکاش بھائی پر ہے فی الحال اپنے غصے کو کنٹرول میں رکھ کر زرکاش بھائی کے سامنے منہ کھولا کرو‘ اس دراج کی وجہ سے کیوں تم اپنے تعلقات زرکاش بھائی سے خراب کرنے پر تلے ہو…‘‘
’’میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ بھائی اس ناگن سے دور رہیں‘ اپنی محنت کاپیسہ اس احسان فراموش پر خرچ نہ کریں‘ مت بنیں اس کے لیے اس حد تک اتنے مہربان۔‘‘ شیراز ناگواری سے بولا۔
’’اپیا نے زرکاش بھائی کو سمجھا دیا ہے‘ مجھے یقین ہے کہ ان کا تعلق دراج سے صرف اتنا ہی رہے گا کہ ہر ماہ اسے اخراجات کے لیے رقم دیں‘ اسے ہمارا صدقہ ہی سمجھ لو… تم بس اب اطمینان سے باہر جاکر اپنی اسٹڈیز مکمل کرو‘ جیسا زرکاش بھائی کہتے ہیں ویسا ہی کرو‘ یہاں کی فکر نہ کرو‘ یہاں کے معاملات دیکھنے کے لیے امی‘ اپیا اور میں بھی ہوں‘ زرکاش بھائی سب کچھ برداشت کرسکتے ہیں مگر ہم میں سے کسی کی ناراضی نہیں… اپیا سے بھی انہوں نے یہی کہا ہے کہ وہ ایسا کوئی کام کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے جو ہماری دل آزاری کا سبب بنے‘ دراج کے منہ لگ کر تم اپنا امیج زرکاش بھائی کی نظروں میں خراب مت کرنا‘ میرے اور اپیا کے ہوتے ہوئے تمہیں یہ اندیشے ہونے ہی نہیں چاہئیں‘ بے فکر رہو ایسا کبھی نہیں ہوسکتا جو تمہیں لگ رہا ہے نہ ہی میں اور اپیا ایسا کچھ ہونے دیں گے…‘‘ شزا کے سمجھانے پر وہ خاموش ہوگیا تھا مگر اس کے ذہن میں بار بار دراج کی معنی خیز مسکراہٹ اور اس کی باتیں گھوم رہی تھیں جو گھر سے نکلنے سے پہلے آخری بار اس نے کی تھیں‘ جب سے اس نے دراج کو زرکاش کے ہمراہ گاڑی میں دیکھا تھا جانے کیوں اس کی چھٹی حس کسی انہونی کا اشارہ دے رہی تھی۔ بہرحال دل ہی دل میں وہ یہ طے کرچکا تھا کہ ملک سے باہر جانے سے پہلے وہ ضرور دراج کو وارن کرے گا کہ زرکاش کے سائے سے بھی دور رہے ورنہ دنیا کے آخری کونے سے بھی واپس آکر وہ اس کا گلا گھونٹنے میں وقت نہیں لگائے گا۔
’’تم مجھے کل یونیورسٹی ڈراپ کردینا‘ ایک آواز میں اٹھ جانا صبح۔‘‘ پلیٹیں کیبنیٹ میں رکھتی وہ شیراز سے کہہ رہی تھی کہ تب ہی زرکاش کچن میں داخل ہوا۔
’’کیوں… احمد بھائی کل نہیں جارہے یونیورسٹی؟‘‘ شیراز نے اپنے ماموں زاد بھائی کے بارے میں پوچھا۔
’’احمد کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے‘ کیا تمہیں نہیں پتہ؟‘‘ شزا سے پہلے زرکاش بولا۔
’’نہیں بھائی مجھے تو ابھی معلوم ہوا‘ کسی نے بتایا ہی نہیں۔‘‘ شیراز حیرت سے بولا۔
’’تم گھر میں ٹک کر بیٹھو تو خبر بھی ہو کچھ… جب تم بائیک سے گرے تھے تو تمہاری فکر میں دن میں دس‘ دس چکر احمد لگاتا رہا تھا۔‘‘ شزا نے اسے شرمندہ کیا۔
’’ویسے بری بات ہے‘ ماموں کا گھر ساتھ ہی ہے اور تمہیں پھر بھی خبر نہیں۔‘‘ زرکاش نے پھر گھرکا۔
’’میں کل ہی جائوں گا احمد بھائی کی خیریت معلوم کرنے۔‘‘ شیراز خجالت سے بولا۔
’’ابھی تو گیٹ پر جائو‘ تمہارا دوست وہاں انتظار کررہا ہے تمہارا۔‘‘ زرکاش کی اطلاع پر شیراز فوراً کچن سے نکلا۔
’’اب یہ اپنے دوست کے ساتھ باتوں میں لگ کر آدھی رات کردے گا اور صبح میں اس کی وجہ سے یونیورسٹی سے لیٹ ہوجائوں گی۔‘‘ شزا نے زچ ہوکر کہا۔
’’میں تمہیں یونیورسٹی ڈراپ کردوں گا… ویسے بھی ابھی میں نے احمد کوکال کی تھی اس کی طبیعت پوچھنے کے لیے تو اس نے مجھ سے کہہ ہے کہ کل میں تمہیں یونیورسٹی لے جائوں۔‘‘
’’فائنل پیپرز قریب ہیں تو اس لیے اسے فکر ہے کہ اس کی وجہ سے میرا یونیورسٹی جانا بھی کینسل نہ ہوجائے… میں اپنے لیے کافی بنا رہی ہوں‘ آپ لیں گے؟‘‘ وہ مصروف انداز میں بولی۔
’’ہاں ضرور… ویسے میں نے یہ دیکھا ہے کہ شزا کے بھائیوں سے زیادہ اس کی فکر احمد کو رہتی ہے۔‘‘ زرکاش کے اچانک کہنے پر شزا نے چونک کر اسے دیکھا مگر پھر جھینپے انداز میں مسکرائی۔
’’پتہ نہیں آپ کو ایسا کیوں لگا…‘‘
’’اس لیے کہ جب سے میں واپس آیا ہوں‘ کچھ ایسا ہی دیکھ رہا ہوں… خیر یہ اچھی بات ہے۔‘‘ زرکاش نے مسکراتی نظروں سے شزا کے سرخ ہوتے چہرے کو دیکھا جبکہ شزا اس کی بات ان سنی کیے کافی بنانے میں مصروف ہوگئی تھی‘ اس کی خاموشی پر زرکاش کو بھی مزید کچھ جاننے کی ضرورت نہیں تھی‘ احمد سے بہت قریبی رشتہ تھا‘ بہت قابل‘ ملنسار اور پُرخلوص بندہ تھا‘ شزا اور احمد میں انڈراسٹینڈنگ بھی کمال کی تھی‘ ابھی تو دونوں پڑھ رہے تھے‘ آگے جاکر ان دونوں کے درمیان کوئی تعلق بندھنا زرکاش کے لیے باعث اطمینان اس لیے بھی تھا کہ شادی کے بعد پھر شزا قریب ہی رہے گی‘ صبغہ کو بھی دوسری بیٹی کی جدائی گراں نہیں گزرے گی پہلے کی طرح وہ شادی کے بعد بھی ان سب کی نظروں کے سامنے ہی رہے گی۔
m… / …m
مسلسل زرکاش کو کال کرتی وہ اب پریشان ہونے لگی تھی‘ پہلے ہی وہ زرکاش کو بروقت برتھ ڈے وش نہیں کرسکی تھی‘ رائمہ کی طرف آنے کے بعد وقت گزرنے کا پتہ ہی نہیں چلتا تھا‘ رات میں اسد اور رائمہ اسے گھر کے باقی بچوں کے ساتھ آئسکریم کھلانے لے گئے تھے‘ باہر سے واپس آنے کے فوراً بعد بھی وہ زرکاش کو کال نہیں کرسکتی تھی‘ سب کے درمیان ایسا ممکن تھا بھی نہیں… رات میں ربیعہ بچیوں کے ساتھ ہی ان کے کمرے میں تھی‘ ان کے سو جانے کے بعد کوئی ایک بجے کا وقت تھا جب اس نے زرکاش کو کال کی مگر اب ایک گھنٹہ گزرنے کے باوجود مسلسل زرکاش کا نمبر مصروف جارہا تھا‘ اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کس سے اتنی طویل گفتگو کرنے میں مگن ہے یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ اگر کال نہ کرے تو دراج خود اسے کال کرلیتی ہے لیکن رات سونے سے پہلے زرکاش سے بات کرنا اس کے لیے لازمی بن چکا تھا۔ بے چینی اور انتظار سے تنگ آکر وہ دبے قدموں کمرے سے نکل آئی تھی‘ رہ رہ کر اسے زرکاش کی بے پروائی پر غصہ آرہا تھا‘ لائونج میں ٹہلتی وہ وقفے وقفے سے زرکاش کو کال ملا رہی تھی تب ہی امان کی آواز نے اسے چونکایا تھا‘ سرعت سے فون کو اپنے عقب میں چھپاتے ہوئے اس نے اوپر دیکھا۔
’’میں ذرا کچھ ضروری بات کررہا ہوں زرکاش سے‘ تھوڑا انتظار کرلو‘ وہ خود تمہیں کال کرلے گا۔‘‘ ریلنگ پر جھکے امان نے کہا اور واپس اپنے کمرے میں چلا گیا جبکہ وہ ساکت رہ گئی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ امان بہت عزیز ترین اور قریبی دوست ہے زرکاش کا‘ زرکاش کے ہر معاملے سے وہ باخبر رہتا ہے مگر دراج ہرگز نہیں چاہتی تھی کہ اس کے اور زرکاش کے درمیان معاملات کی بھنک بھی امان تک پہنچے… اس کے پلان میں یہ چیز شامل ہی نہیں تھی کہ رائمہ تک کو اس بات کی خبر ہو… اسے زرکاش سے مستقبل میں شادی نہیں رچانی تھی کہ سب کے علم میں یہ بات لاکر فخر محسوس کرتی کہ وہ زرکاش کی محبت میں صدیوں سے غرق ہے‘ زرکاش سے جو کچھ اسے حاصل ہورہا تھا اور آگے بھی حاصل کرنا تھا اس سب کے لیے وہ زرکاش کے سامنے تو جھوٹے اظہار محبت کے ڈرامے کرسکتی تھی مگر باقی سب کی نظروں میں اپنا امیج خراب کرنا گوارا نہیں کرسکتی تھی‘ اسے اب اپنی غلطی کا احساس ہورہا تھا کہ اسے پہلے ہی زرکاش سے کہہ دینا چاہیے تھا کہ وہ امان کو اپنے اور اس کے تعلق سے الگ رکھے۔
بری طرح ڈسٹرب وہ بیک کرائون سے پشت ٹکائے بیٹھی تھی‘ اسے ربیعہ کی بچیوں پر رشک آرہا تھا کہ وہ کتنی میٹھی نیند سو رہی ہیں جبکہ اس کی تو غصے میں نیند بھی اڑ چکی تھی‘ غنیمت تھا کہ آدھے گھنٹے کے انتظار کے بعد ہی زرکاش کی کال آگئی تھی۔
’’آپ نے امان بھائی کو میرے بارے میں کیا بتایا؟ اس سے پہلے کبھی انہوں نے مجھ سے آپ کے بارے میں اس طرح بات نہیں کی‘ میں نہیں چاہتی کہ ان کو کچھ معلوم ہو‘ وہ آپ کے دوست ہیں‘ میں تو ان کے سامنے جانے سے بھی گریز کرتی ہوں اور آپ…‘‘
’’ایک منٹ… ہوا کیا ہے؟‘‘ زرکاش نے حیران ہوکر اسے درمیان میں روکا۔ ’’کیوں اس قدر پریشان ہورہی ہو…؟ مجھ سے کوئی تعلق رکھنا کیا تمہارے لیے اتنا شرمندگی کا باعث ہے کہ تم اسے خفیہ رکھنا چاہتی ہو؟ کیا گناہ ہے جو تم ڈسٹرب ہوگئی ہو؟‘‘ زرکاش کے سنجیدگی سے پوچھنے پر وہ لاجواب سی ہوتی فوری طور پر کچھ بول نہیں سکی تھی۔ ’’امان مجھ سے ضروری بات کررہا تھا مجھے پتہ تھا تم کال کررہی ہوگی‘ میں نے امان سے صرف اتنا کہا تھا کہ دراج کو مجھ سے کوئی ضروری بات کرنی ہے‘ امان نے کہا دراج گھر آئی ہوئی ہے میں اسے کہہ دیتا ہوں ذرا انتظار کرلے… اور تم بات کو کہاں سے کہاں لے گئی۔‘‘
’’ایم سوری… میں اچانک بہت پریشان ہوگئی تھی‘ اگر امان بھائی کو پتہ چل سکتا ہے سب تو بجیا اور اسد بھائی کو بھی معلوم ہوجائے گا کہ میں آپ سے کس حد تک محبت کرتی ہوں اور پھر کل بات آپ کے گھر تک بھی پہنچ سکتی ہے‘ مجھے ویسے ہی ڈر اور خوف لگا رہتا ہے… شیراز مجھے جان سے مار دے گا وہ آپ سے مجھے دور کرنے کے لیے کچھ بھی کرسکتا ہے‘ اتنی نفرت کرتا ہے وہ مجھ سے‘ آپ سے محبت گناہ ہے‘ نہ شرمندگی… بس مجھے خُوف ہے تو آپ کے گھر والوں کا‘ شیراز کا جو سلوک آپ نے میرے ساتھ دیکھا ہے وہ اس سے کہیں زیادہ بدتر سلوک میرے ساتھ کرچکا ہے‘ میں اس کے لگائے گئے کوڑے بھی برداشت کرسکتی ہوں مگر یہ برداشت نہیں کرسکتی کہ اس کی وجہ سے آپ مجھ سے دور چلے جائیں… میرے خوف کو سمجھنے کے بجائے آپ اسے غلط معنوں میں لے جاکر تکلیف پہنچا رہے ہیں میرے دل کو…‘‘ آنسو بہاتی وہ گلوگیر لہجے میں بولتی چلی گئی۔
’’تم پہلے رونا بند کرو ورنہ میں بات نہیں کروں گا‘ روتی رہنا پھر دل بھر کے۔‘‘ زرکاش نے اسے گھرکا۔
’’دیکھو… نہ تو مجھے تمہارے بارے میں ہر طرف پرچار کرنے کی ضرورت ہے اور نہ ہی تمہیں کسی سے خوف زدہ ہونے کی‘ ٹھیک ہے رنجشیں ہیں ابھی لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ رنجشیں اور نفرتیں ختم ہوجائیں گی… میں جانتا ہوں شیراز کا غصہ کتنا خراب ہے‘ اس کی تمہارے ساتھ بدلحاظی اور سلوک کو میں نے دیکھا ہے‘ میں اسے غلط کہتا ہوں‘ ان نفرتوں اور اختلافات کے پیچھے بہت سی ایسی وجوہات رہی ہیں جن کی تلخیاں زائل ہونے میں وقت لگے گا‘ تم اس سے خوف زدہ مت ہو‘ نہ تم کمزور ہو نہ تنہا ہو‘ نہ کسی ایسے جرم کی مرتکب ہوئی ہو کہ کوئی بھی آکر میری وجہ سے تمہیں پھانسی لگادے گا… شیراز میرا بھائی ہے‘ میں اسے اچھی طرح جانتا ہوں‘ وہ جذباتی ضرور ہے مگر اس حد تک وہ کبھی نہیں جائے گا۔‘‘ زرکاش کے لہجے میں شیراز کے لیے اتنا یقین اور بھروسہ محسوس کرکے دراج کی رگوں میں شرارے دوڑنے لگے تھے۔
’’ہیپی برتھ ڈے۔‘‘ یک دم وہ سرد لہجے میں بول اٹھی۔
’’اوہ… تھینک یو‘ تمہیں یاد تو آیا…‘‘ زرکاش اور بھی کچھ بول رہا تھا مگر وہ کھولتے دماغ کے ساتھ لائن ڈسکنیکٹ کرچکی تھی۔
’’شیراز… تمہارا پتا کٹنے کا وقت شروع۔ تمہیں زرکاش کے دل سے نہ اتار پھینکا تو میرا نام دراج نہیں۔‘‘ زیرلب وہ پھنکارتی فون مکمل آف کر گئی تھی۔
m… / …m
معنی خیز گمبھیر خاموشی میں سیڑھیاں چڑھتے ہوئے عرش نے ایک بار پھر اسے دیکھا تھا‘ جس کا چہرہ اس وقت بھی لٹھے کی مانند سفید ہورہا تھا‘ جیسے اس وقت تھا جب وہ نکاح نامے پر دستخط کررہی تھی‘ اس کے ہاتھوں کی لرزش بھی اس لمحے عرش کی نظروں سے چھپی نہیں رہی تھی۔ اضطرابی نظروں سے وہ اس کی پشت کو دیکھ رہی تھی جو اپنے فلیٹ کا دروازہ کھولتا پلٹ کر اس کی طرف متوجہ ہوا تھا۔
’’وہاں کیوں رکی ہو…؟ آجائو۔‘‘ عرش نے اسے مخاطب کیا جو دور کھڑی کافی ہراساں سی نظر آرہی تھی‘ بمشکل وہ اپنے لرزتے قدموں کو اس کی سمت کھینچ سکی تھی۔
’’تم مجھے یہاں کیوں لائے ہو؟‘‘ اندر جانے سے پہلے اس نے رک کر پھنسی پھنسی آواز میں پوچھا۔
’’اس لیے کہ تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ تمہارا شوہر کہاں رہتا ہے… میں بس یہ چاہتا ہوں کہ تم یہاں کچھ دیر ٹھہرو‘ مجھے اچھا لگے گا۔‘‘ عرش کے سنجیدہ لہجے پر وہ گم صم سی اندر داخل ہوئی۔
’’اپنا گھر چھوڑ کر مجھے ماما کے ساتھ اس فلیٹ میں آنا پڑا تھا… تم جب میرے ماما‘ پاپا کا وہ گھر دیکھوگی تو یقینا یہ سوچ کر حیران ہوگی کہ میں نے اور ماما نے کس طرح یہاں رہنا قبول کیا…‘‘ اسے اردگرد کا جائزہ لیتے دیکھ کر عرش نے کہا۔
’’جنت سے نکلنے کے بعد زمین پر جگہ ملے یا کسی کھائی میں… کیا فرق پڑتا ہے… تم یہاں آجائو۔‘‘ عرش کی آواز پر چونک کر اس کی طرف متوجہ ہوئی۔ ایک کمرے کا دروازہ کھولے وہ منتظر تھا۔
’’یہاں بس تقریباً یہی دو کمرے ہیں اور یہ کمرہ ماما کا ہے‘ اس وقت یہی کچھ بہتر حالت میں ہے ورنہ تو سب کچھ بے ترتیب‘ بکھرا ہوا ہے‘ تمہیں اندازہ ہورہا ہوگا کہ میں کتنا بدسلیقہ اور پھوہڑ ہوں۔‘‘ بیڈ کی بے شکن چادر کو ہاتھوں سے درست کرتا وہ ہلکے پھلکے انداز میں اس سے مخاطب تھا۔ جو اسی گم صم کیفیت میں کمرے کا جائزہ لے رہی تھی۔ باہر والے حصے کے مقابلے میں یہ کمرہ واقعی کچھ بہتر حالت میں تھا‘ بیڈ کے ساتھ رکھی ٹیبل پر ایک فریم میں قید تصویر پر اس کی نگاہیں ٹھہر سی گئی تھیں۔
’’یہ ماما اور پاپا کے ساتھ میرے اچھے دنوں کی آخری تصویر ہے۔‘‘ اس کی نظروں کے تعاقب میں دیکھتا وہ بولا تھا۔
’’مجھے ہمیشہ اس بات کا افسوس رہے گا کہ ماما کی شدید خواہش کے باوجود یہ موقع نہیں ملا کہ تمہاری ان سے دوبارہ ملاقات اس گھر میں ہوتی۔‘‘ عرش کے افسردہ لہجے پر وہ دوبارہ اس تصویر کو دیکھنے لگی تھی جس میں شازمہ کے حسین چہرے کی مسکراہٹ بھی بہت خوب صورت تھی اور ان کے ساتھ ہی ایک وجیہہ مرد کا چہرہ نمایاں تھا‘ جن کی آنکھوں اور عرش کی شہد رنگ آنکھوں میں کوئی فرق نہیں تھا‘ اپنے ماں باپ کے درمیان مسکراتا‘ جگمگاتا عرش کا چہرہ بھی تھا‘ اس کے ماں باپ کو دیکھنے کے بعد اندازہ کیا جاسکتا تھا کہ وہ اتنا منفرد و خوب صورت کیوں ہے۔
’’تم یہاں آرام سے بیٹھ جائو‘ میں ابھی آتا ہوں۔‘‘ عرش اسے تاکید کرتا کمرے سے چلا گیا۔ ادھ کھلے دروازے سے نظر ہٹا کر اس نے بیڈ کی سمت دیکھا ضرور مگر جرات نہیں ہوئی تھی بیٹھنے کی‘ اپنے گرد چادر کو مزید درست کرتے ہوئے اس کی پیشانی عرق آلود ہونے لگی تھی‘ عجیب سی گھبراہٹ اس پر طاری ہونے لگی تھی‘ یک دم اسے احساس ہوا کہ عرش کے ساتھ اسے یہاں نہیں آنا چاہیے تھا‘ اپنی گھبراہٹ پر قابو نہ پاکر وہ تیز قدموں سے کمرے سے نکلتی بمشکل عرش سے ٹکراتے ٹکراتے بچی تھی جو اس کی عجلت پر بروقت ایک طرف ہوگیا تھا۔
’’کیا ہوا…؟‘‘ عرش نے حیرت سے اس کے چہرے پر پھیلی وحشت کو دیکھا۔
’’میں وہاں بیٹھ جاتی ہوں۔‘‘ خشک ہوتے حلق کے ساتھ بمشکل بولتے ہوئے اس نے سامنے دیوار کے ساتھ رکھے کائوچ کی طرف اشارہ کیا اور عرش کی جانب دیکھے بغیر ہی کائوچ کی طرف بڑھ گئی‘ دوسری جانب عرش جو جانچتی نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا‘ ایک گہری سانس لیتا اس کی طرف بڑھا‘ کائوچ کے کنارے وہ اس طرح بیٹھی تھی جیسے کسی بھی پل اٹھ کر بھاگ جائے گی۔ قدرے جھک کر عرش نے چھوٹی سی طشتری میں رکھا خوش رنگ مشروب کا گلاس اسے پیش کیا‘ گلاس اٹھانے سے پہلے اس نے نظر اٹھا کر عرش کی کھوجتی نظروں میں دیکھا اور پھر فوراً ہی مشروب سے لبالب بھرا گلاس اٹھا لیا تھا۔
’’یہ دیکھنے کے لیے نہیں‘ پینے کے لیے ہے۔‘‘ اسے تذبذب میں مبتلا گلاس کو تکتے دیکھ کر عرش نے کہا۔
’’رک کر پیتی ہوں… ابھی یہ ٹھنڈا بہت ہے۔‘‘ پیاس کی شدت سے حلق میں چبھتے کانٹوں کے باوجود وہ بولی مگر اگلے ہی پل اس کی سانس رک گئی جب عرش یک دم نیچے اس کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا۔
’’میں اس گلاس سے تمہارے سامنے چند گھونٹ لیتا ہوں اگر میں بے ہوش ہوجائوں تب تم اسے ہرگز مت پینا۔‘‘ اس کی آنکھوں میں دیکھتا وہ گہری سنجیدگی سے بولا اور پھر گلاس اس سے لے کر چند گھونٹ لیے تھے‘ وہ نظر اٹھا کر اس کی طرف نہیں دیکھ سکی تھی جو دوبارہ گلاس اسے تھما چکا تھا‘ اس کی نظریں اپنے چہرے پر محسوس کرتی وہ لرزتے ہاتھ سے گلاس ہونٹوں سے لگا چکی تھی جبکہ عرش اس کے سامنے سے اٹھتا وہاں سے چلا گیا تھا۔
گلاس سے آخری گھونٹ لے کر اس نے اپنے قریب ہی کائوچ پر رکھی طشتری میں گلاس رکھ دیا‘ چادر کے پلو سے اس نے اپنی بھیگی پیشانی کو خشک کیا‘ عرش جانے کہاں گم تھا مگر رفتہ رفتہ اس کی گھبراہٹ کم ہوتی جارہی تھی۔ وحشت کی جگہ اب اسے شرمندگی گھیر رہی تھی‘ کچھ دیر بعد جب اس نے عرش کو آتے دیکھا تو نظریں نہیں ملا سکی مگر اس وقت بری طرح چونک کر اسے دیکھنے پر مجبور ہوگئی تھی جب عرش دوبارہ گھٹنوں کے بل سامنے بیٹھتا ایک پتلی سی نائلون کی رسی اس کی گود میں رکھ رہا تھا‘ جبکہ وہ حیران و پریشان نظروں سے کبھی اسے اور کبھی رسی کو دیکھ رہی تھی۔
’’بہتر ہوگا کہ تم میرے ہاتھوں کو اس رسی سے مضبوطی سے باندھ دو… کیونکہ میں یہ برداشت نہیں کرسکتا کہ تم مجھ سے اس طرح خوف زدہ رہو۔‘‘ وہ پُرشکوہ لہجے میں بولا۔ ’’اب اس مقام پر آکر اتنی بے یقینی… اس حد تک بے اعتباری میں اپنی ہی نظروں میں مجرم بن رہا ہوں…‘‘ عرش ابھی اتنا ہی بولا تھا کہ وہ یک دم چہرہ ہاتھوں میں چھپا گئی تھی‘ عرش خاموشی سے اس کی سسکیاں سنتا رہا کچھ دیر گزری جب وہ بمشکل خود کو سنبھالتی نظر نہیں اٹھا سکی تھی‘ اس کا چہرہ اب بھی کرب سے متغیر تھا‘ آنسو قطار در قطار بہتے چلے جارہے تھے۔
’’مجھے اب یوں محسوس ہورہا ہے جیسے اپنے ساتھ ایک رشتے میں باندھ کر میں نے بہت غلط کیا ہے تمہارے ساتھ۔‘‘ وہ بجھے لہجے میں بولا۔
’’ایسا مت سوچو… اس سب میں میری مرضی بھی شامل ہے۔‘‘ لبریز سرخ آنکھوں سے اسے دیکھتی وہ رندھے لہجے میں بولی۔ چند لمحوں تک عرش پُرسوچ نظروں سے اسے بس دیکھتا رہا جو باربار بہتے آنسوئوں کو صاف کرتی نظر جھکائے بیٹھی تھی۔
’’جانتا ہوں تمہاری مرضی شامل ہے مگر اب تمہارے یہ آنسو دیکھ کر میرا دم گھٹ رہا ہے کہ کہیں تمہیں کوئی پچھتاوا تو نہیں ہورہا… اپنے فیصلے پر۔‘‘
’’یہ کسی پچھتاوے کے آنسو نہیں ہیں۔ میں اپنے فیصلے پر تم سے زیادہ مطمئن ہوں۔‘‘ وہ درمیان میں بول اٹھی۔
’’تو پھر یہ سب کیا ہے؟ تم مجھے نہ خوش نظر آرہی ہو نہ ہی مطمئن… میں تمہیں اس طرح دیکھ کر پریشان و شرمسار ہورہا ہوں…‘‘ وہ مضطرب ہوتا ہوا بولا۔
’’مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا عرش… مجھے نہیں سمجھ آرہا کہ مجھے کیا کہنا چاہیے‘ تمہیں کیسے یقین دلانا چاہیے کہ میں خوش ہوں… ایسا لگ رہا ہے سب کچھ اچانک بدل گیا ہے جبکہ اچانک یہ سب نہیں ہوا پھر بھی…‘‘ عجیب سی الجھن میں وہ بات ادھوری چھوڑ گئی تھی۔
’’شاید سب کچھ بدل جانے کا احساس تم فوری طور پر قبول نہیں کرپا رہی ہو… مگر کوئی بات نہیں‘ کچھ وقت تو لگے گا قبول کرنے میں۔‘‘ اس کی بھیگی پلکوں پر نظر جمائے وہ بولا اور پھر دھیرے سے اس کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھام لیے تھے۔
’’آج کے بعد اب پھر کبھی میں تمہیں اس طرح روتے ہوئے نہیں دیکھ سکوں گا… تم اپنے ساتھ ساتھ میرے دل پر بھی آئندہ یہ ظلم نہ کرو تو اچھا ہے۔‘‘ عرش کے سنجیدہ گمبھیر لہجے پر وہ چپ رہی تھی۔
’’جانتی ہو‘ ماما کو مجھ سے بھی زیادہ خبر میرے دل کی تھی… وہ میرے کچھ بتائے بغیر ہی میری زندگی میں تمہاری اہمیت کو پہچان گئی تھیں‘ انہوں نے مجھے بتایا تھا کہ تمہیں میرے ساتھ ہمیشہ دیکھنے کی وہ خواہش دل میں رکھتی ہیں‘ وہ یہ چاہتی تھیں کہ میں زندگی میں آگے بڑھتے ہوئے تمہیں نہ گنوادوں‘ وہ جانتی تھیں کہ تم اس قابل ہو کہ تمہاری قدر کی جائے‘ وہ جانتی تھیں کہ میرا دل صرف تمہارے ہی حق میں گواہی دے گا‘ ان کی خواہش کہیں نہ کہیں میری خواہش بھی بن چکی تھی‘ میں بے خبر رہا مگر وہ بے خبر نہیں رہی تھیں۔‘‘ وہ گہری سنجیدگی سے بول رہا تھا۔
’’یہ سب تم نے پہلے کیوں نہیں بتایا مجھے؟‘‘
’’اس وقت سے زیادہ بہتر اور کوئی وقت نہیں تھا تمہیں یہ سب بتانے کا… میں یہ باتیں تمہیں ایسے ہی وقت میں بتانا چاہتا تھا جس میں ہمارے درمیان ایک مضبوط تعلق ہو جس میں کوئی بناوٹ‘ کوئی ریا کاری نہ ہو۔‘‘
’’مجھے ہمیشہ یہ دکھ سنبھال کر رکھنا پڑے گا کہ وعدے کے باوجود میں ماما سے ملنے یہاں نہیں آسکی… میرے بارے میں انہوں نے تم سے جو کچھ کہا وہ سن کر میرے دل میں ان کی محبت اور احترام میں مزید اضافہ ہوا ہے… وہ بہت گہری عورت تھیں… پہلی ملاقات میں ہی مجھے ان کے لہجے کے ٹھہرائو اور اس کی شیرینی سے اندازہ ہوگیا تھا کہ انہوں نے زندگی میں کتنے مصائب کتنی تکلیفوں کا سامنا کیا ہوگا… یہ میری بدنصیبی ہے کہ میں ان سے دوبارہ نہ مل سکی۔‘‘ اس کے آزردہ لہجے پر عرش نے گہری سانس لے کر سر جھکا لیا‘ چند لمحوں تک وہ اسے دیکھتی رہی تھی اور پھر اپنا ہاتھ اس کی گرفت سے نکال کر اس کی پیشانی کے زخم کو چھوا۔
’’اب تو ٹھیک ہوگیا ہے یہ زخم… تم نے جو چھولیا ہے۔‘‘ اس کی مسکراتی نظروں پر وہ سرخ چہرے کے ساتھ نگاہ چراتی نامحسوس انداز میں پیچھے ہوگئی تھی۔
’’مگر زخم گہرا تھا اس لیے نشان باقی ہے۔‘‘ عرش کو خاموشی سے اپنی سمت دیکھتا پاکر وہ گھبراہٹ چھپائے بولی۔
’’برا لگ رہا ہے میرے چہرے پر؟‘‘ عرش کی تشویش پر اس نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ نفی میں سر ہلایا۔
’’پتہ ہے‘ میں کھیل کود اور شرارتوں میں خود کو بہت زخمی کرلیتا تھا‘ ماما کو سب سے زیادہ یہ فکر رہتی تھی کہ کہیں میرے چہرے پر کوئی چوٹ نہ لگ جائے‘ پاپا ان کو یہی کہہ کر تسلی دیتے تھے کہ لڑکوں کے چہرے پر چوٹ کے نشان لڑکیوں کو بہت اچھے لگتے ہیں… اب تم بتائو پاپا ٹھیک کہتے تھے ناں؟‘‘
’’ہاں‘ میرے نزدیک تو ان کی یہ بات بالکل ٹھیک ہے۔‘‘ وہ مسکراتے ہوئے بولی۔
’’یاد آیا… ایک منٹ‘ ابھی آتا ہوں۔‘‘ وہ یک دم بولتا اپنی جگہ سے اٹھا‘ حیران نظروں سے وہ اسے سامنے کمرے میں غائب ہوتا دیکھتی رہی‘ کچھ لمحوں بعد وہ واپس آیا تو اس کے ہاتھ میں مخملی سرخ کیس تھا۔
’’پتہ نہیں تمہارے لیے اب بھی اسے اپنے ساتھ رکھنا ممکن ہے یا نہیں… مگر میں چاہتا ہوں کہ ماما کی یہ نشانی تم ہمیشہ پہن کر رکھو۔‘‘ عرش کے کہنے پر اس نے ایک پل رک کر جگمگ کرتی انگوٹھی کو دیکھا اور پھر اپنا ہاتھ اس کی طرف بڑھا دیا۔
’’پہنا دو‘ میں اسے کبھی اپنے ہاتھ سے الگ نہیں کروں گی۔‘‘ انگوٹھی اسے پہنا کر عرش نے چمکتی آنکھوں سے اسے دیکھا۔
’’میں بہت خوش ہوں تمہارا ساتھ پاکر… میں تمہارا شکر گزار اور احسان مند بھی ہوں… میں نے سوچ لیا ہے کہ میں تمہاری ہر ذمہ داری کو بانٹوں گا… اس پر یقینا تمہیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا… میں کسی اچھے اسپشلسٹ کو جلد ہی تلاش کروں گا تاکہ تمہاری امی کا بہتر علاج شروع ہوسکے جس کی انہیں ضرورت ہے میں زرق کو بھی ڈھونڈ رہا ہوں‘ مطمئن رہو‘ میں پتہ کرچکا ہوں وہ اس شہر سے باہر نہیں گیا‘ وہ جا بھی نہیں سکتا‘ یہیں‘ کہیںچھپا ہوا ہے‘ ایک بار مل جائے تو میں خود اس سے بات کروں گا‘ اسے ہر ممکن سمجھانے کی کوشش کروں گا‘ اس کو نشے کی لت سے آزاد کروانے اور اس کے علاج کی ذمہ داری میری ہے‘ صرف تمہارے لیے ہی نہیں‘ میں خود بھی چاہتا ہوں کہ اس کی زندگی تباہ نہ ہو‘ ابھی بہت زیادہ دیر نہیں ہوئی‘ تم دیکھنا آہستہ آہستہ سب کچھ ٹھیک ہوتا چلا جائے گا پھر ہم دونوں مل کر اپنی زندگی کا آغاز کریں گے‘ اپنے حصے کی خوشیاں سمیٹیں گے۔‘‘ نم آنکھوں سے وہ بس اسے دیکھ رہی تھی‘ جو بولتا جارہا تھا۔
’’سب کچھ بہت سہل ہوجائے گا اگر تم مجھ پر اعتبار و بھروسہ رکھو جو کہ فی الوقت بہت زیادہ نہیں ہے تمہیں مجھ پر…‘‘ عرش نے شکوہ کرتے ہوئے اس کے شرمندہ تاثرات کو دیکھا۔
’’عرش… یہاں آتے ہوئے میں گھبرائی ہوئی ضرور تھی لیکن مجھے تم پر اعتبار ہے ورنہ میں تمہارے ساتھ یہاں تک آتی نہ ہی تمہارے سامنے موجود ہوتی۔‘‘ اس کے مدھم لہجے پر عرش خاموش رہا۔ ’’میں سچ کہہ رہی ہوں‘ ایسے کیا دیکھ رہے ہو؟‘‘
’’دیکھ رہا ہوں کہ تم قریب سے بھی ویسی ہی نظر آتی ہو جیسی دور سے دکھائی دیتی ہو۔‘‘ عرش کے خشگمیں لہجے نے اسے حیران کیا۔
’’کیسی…؟‘‘
’’سڑی ہوئی سی۔‘‘ عرش کے جواب پر اس کا چہرہ اتر گیا جبکہ عرش بے ساختہ اس کے تاثرات پر مسکرا اٹھا تھا۔
’’مذاق کررہا ہوں‘ تم جانتی ہو میں نے جھوٹ کہا ہے۔‘‘ بولتے ہوئے عرش نے اس کے رخسار کو چھوا کہ وہ سن سی ہوتی خود میں سمٹ گئی تھی۔
’’میں تمہارے لیے کچھ کھانے کے لیے تو لائوں‘ تمہیں بھوک لگی ہوگی۔ میں بس دس منٹ میں واپس آیا…‘‘ اچانک یاد آنے پر وہ عجلت میں بولتا اٹھا۔
’’عرش… پہلے ہی بہت دیر ہوچکی ہے اور مجھے امی کی فکر ہونے لگی ہے‘ اس وقت مجھے صرف گھر جانا ہے۔‘‘
’’تم پریشان مت ہو‘ میں پندرہ منٹ میں تمہیں گھر پہنچادوں گا۔‘‘
’’تو پھر چلو۔‘‘ عرش کی بات مکمل سنے بغیر وہ اس سے پہلے ہی گیٹ کی سمت بڑھی۔
’’سنو…‘‘ عرش کی پکار پر وہ گیٹ کھولتے کھولتے رک کر متوجہ ہوئی۔
’’ایک بار بھی یہ نہیں پوچھوگی کہ میں تمہارے لیے کیا محسوس کررہا ہوں؟‘‘ کچھ تھا عرش کے لہجے میں‘ گہری نظروں میں کہ دھڑکنیں تھمنے لگی تھیں‘ نگاہیں چراتی وہ باہر نکل گئی‘ گہری سانس بھر کر عرش کو بھی اس کی تقلید کرنی پڑی تھی۔
m… / …m
’’کیا ہم ابھی پولیس اسٹیشن نہیں جاسکتے؟‘‘
’’ابھی رات ہوچکی ہے‘ تمہیں صبح تک انتظار کرنا ہوگا۔‘‘ راسب بولے‘ جس پر وہ خاموش ہوتی کچھ سوچنے لگی تھی۔ اس کے بنوائے گئے اسکیچ کے مطابق پولیس نے تلاش شروع کردی تھی‘ آج ایک اہلکار کچھ فوٹو گرافس لے کر گھر آیا تھا‘ اسکیچ کے مطابق کچھ افراد کو پولیس نے حراست میں لے رکھا تھا‘ ان افراد کی تصویروں میں سے دوسری ہی تصویر اسی مطلوبہ شخص کی تھی جسے پہچاننے میں رجاب کو زیادہ دقت نہیں ہوئی تھی۔
’’آغا جان… آپ فون پر انسپکٹر کو تاکید کردیں کہ اس کے ساتھ کوئی سختی نہ کی جائے‘ نہ ہی اس سے سوال جواب کرنے کا کوئی فائدہ ہے‘ وہ کچھ نہیں جانتا میرے معاملے سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔‘‘
’’رجاب… اگر وہ کچھ نہیں جانتا تو تم نے اس کا اسکیچ کیوں بنوایا تھا؟ اب پولیس کو تفتیش کرنے دو شاید وہ کچھ جانتا ہو۔‘‘ ندا بولیں۔
’’میں نے اس کا اسکیچ اس لیے بنوایا تھا کیوں کہ میں اس تک پہنچنا چاہتی ہوں‘ اس کی وجہ سے میں آپ کے سامنے موجود ہوں‘ کیا یہ کافی نہیں اسے ڈھونڈنے کے لیے…؟‘‘ بولتے ہوئے اس نے راسب کو بھی دیکھا۔
’’تم ٹھیک کہہ رہی ہو‘ ہم اس کے احسان مند ہیں‘ اس کا ملنا ضروری تھا‘ ہم پر فرض ہے کہ ہم اس کا شکریہ ادا کریں۔‘‘ راسب نے تائید کی۔
’’آغا جان… بات صرف شکریہ ادا کرنے تک محدود نہیں‘ میرا مقصد کچھ اور ہے۔‘‘
’’کیا مطلب ہے تمہارا؟‘‘ راسب نے الجھ کر اسے دیکھا۔
’’آغا جان… میں اس کے لیے کچھ کرنا چاہتی ہوں‘ آپ نے اسے تصویر میں دیکھا ہے‘ مگر میں نے اسے اپنے قریب دیکھا ہے‘ اس کی آواز سنی ہے‘ وہ ایک ایسا لڑکا ہے جس کا چہرہ جھریوں زدہ ہے کسی بوڑھے ضعیف انسان جیسا…‘‘
’’ہاں… اس لڑکے کو تصویر میں دیکھ کر ہی اندازہ ہوتا ہے کہ وہ کسی خطرناک قسم کے نشے کا عادی ہے‘ اس کی حالت اگر اس سے بھی زیادہ بگڑی ہوئی ہوتی تو بھی یہ حیرت انگیز نہیں ہوتا… نشے کی عادت تو موت ہے‘ مگر تم اس کے لیے کیا کرنا چاہتی ہو؟‘‘
’’میں چاہتی ہوں وہ سمجھے اس بات کو کہ زندگی کی ایک اہمیت ہے…‘‘
’’رجاب… ایسے لوگ کسی کی نہیں سنتے‘ ان کو صرف اپنے نشے کی طلب سے مطلب ہوتا ہے۔‘‘ ندا درمیان میں بولیں۔
’’لیکن میرے ساتھ تو اس نے ایسا نہیں کیا… میں بول بھی نہیں سکتی تھی پھر بھی اس نے میری بات کو سمجھنے کی کوشش کی‘ میری مدد کی وہ چاہتا تو مجھے وہاں ایسے ہی چھوڑ کر بھاگ سکتا تھا مگر اس نے ایسا نہیں کیا…‘‘
’’ٹھیک ہے اب بتائو ہم کیا کرسکتے ہیں اس کے لیے… کیا سوچا ہے تم نے؟‘‘
’’میں چاہتی ہوں کہ وہ تباہ نہ ہو‘ آپ اسے سمجھائیں‘ اس سے بات کریں… اگر اسے ڈاکٹر شرجیل کے ری ہیب سینٹر پہنچا دیا جائے‘ پچھلے سیشن میں‘ میں نے ڈاکٹر شرجیل سے ساری معلومات لے لی تھیں‘ ڈاکٹر اپنی نگرانی میں اس کا علاج کریں گے‘ زیادہ عرصہ نہیں لگے گا اسے ایک نارمل زندگی کی طرف آنے میں‘ اس نے جو احسان کیا اس کے بعد ہم اس کے لیے اتنا تو کرسکتے ہیں۔‘‘ رجاب کے لہجے میں اصرار تھا جبکہ راسب اثبات میں سر ہلاتے کچھ سوچنے لگے تھے۔
دوسرے دن وہ خود بھی خاص طور پر راسب کے ہمراہ پولیس اسٹیشن میں موجود تھی‘ راسب نے سر سے پیر تک اسے دیکھا جو پولیس اہلکار کے شکنجے میں بے چین ہورہا تھا۔
’’آپ کو یقین ہے کہ یہ وہی ہے؟‘‘ انسپکٹر نے رجاب کو مخاطب کیا‘ جواباً وہ کوئی جواب دیئے بغیر کرسی سے اٹھ کر اس کے سامنے آرکی تھی جو حیران کھڑا تھا۔
’’میں نے کچھ نہیں کیا‘ میں ان لوگوں کو جانتا بھی نہیں ہوں۔‘‘ نقاب میں چھپے رجاب کے چہرے سے نگاہ ہٹاتا وہ انسپکٹر کو بتا رہا تھا۔
’’ابھی جان پہچان کروا دیتے ہیں ذرا صبر رکھو‘ سب یاد آجائے گا۔‘‘ انسپکٹر کے کہنے پر اس نے ہونقوں کی طرح پہلے راسب کو اور پھر رجاب کو دیکھا۔
’’تم تک پہنچنے کے لیے میں نے پولیس کی مدد اس لیے حاصل کی کیونکہ میں تمہارا شکریہ ادا کرنا چاہتی تھی اگر اس رات تم میرے بھائی کو فون پر اطلاع نہ دیتے تو شاید میں اسی سڑک پر مر جاتی۔‘‘ رجاب کی بات سنتا وہ پہلے الجھا مگر پھر حیرت سے اس کا منہ کھل گیا تھا۔
’’تُو… تُو زندہ کیسے بچ گئی…؟‘‘
’’تمیز سے بولو۔‘‘ اہلکار نے اس کی گردن پر دھپ لگا کر گھرکا۔
’’ساری رات آرام سے گزاری ہے تم نے تھانے میں‘ اب سیدھی طرح سچ سچ بتادو اس رات کیا ہوا تھا… تم نے وہاں کیا دیکھا؟‘‘ انسپکٹر نے کڑے لہجے میں باز پرس کی۔
’’صاحب… میں کچھ نہیں جانتا کیا ہوا تھا… میں سچ کہہ رہا ہوں… آپ اس لڑکی سے پوچھ لیں… میں نے صرف اس کو ہی وہاں زخمی حالت میں دیکھا تھا۔ میں نے اس کی مدد کی اور اس کی وجہ سے ہی مجھے ساری رات آپ نے یہاں بند رکھا‘ اب مجھ پر کوئی جھوٹا الزام لگایا جائے گا کہ میں نے اس لڑکی سے ہزاروں روپے یا پرس ہتھیا لیا‘ اس کے زیور چھین لیے‘ میں قسم کھانے کے لیے تیار ہوں‘ میں نے ایسا کچھ نہیں کیا‘ میں نے اس لڑکی کی مدد کرنے کا جرم ضرور کیا ہے‘ مجھے کیا پتہ تھا یہ احسان فراموش نکلے گی۔‘‘ سرخ آنکھوں کے ساتھ اس نے آخر میں رجاب کو گھورا۔
’’بکواس بند کرو… یہ صاحب اور بی بی جو بول رہے ہیں اب وہ سنو۔‘‘ انسپکٹر نے سخت لہجے میں جھڑکا۔ رجاب نے ایک نظر راسب کو دیکھا جو فی الوقت بغور وہ سب سن رہے تھے اور جانچ بھی رہے تھے۔
’’میں پہلے ہی کہہ چکی ہوں کہ تم نے میرے لیے جو کیا میں اس کے لیے تمہارا شکریہ ادا کرنا چاہتی تھی‘ مجھے تمہارا احسان یاد ہے اس لیے میں تمہارے ساتھ کچھ اچھا ہی کرنا چاہتی ہوں… مجھے تم پر کوئی جھوٹا الزام لگانے کی ضرورت نہیں… مگر یہ تو سچ ہے کہ تم نے میرے زیور اپنی تحویل میں لینے کے بعد ہی میری مدد کی تھی۔‘‘ رجاب کے کہنے پر اس نے گڑبڑا کر انسپکٹر کو دیکھا۔
’’کون سا زیور‘ کیسا زیور؟ میرے پاس تمہارا کوئی زیور نہیں ہے۔‘‘ وہ بوکھلا کر بولا۔
’’رجاب…‘‘ راسب کی آواز پر وہ کچھ کہتے کہتے رکی تھی اور پھر ان کو کرسی سے اٹھتے دیکھ کر خاموشی سے ایک طرف ہٹ گئی۔
’’ہمیں وہ زیور نہ تم سے واپس چاہئیں نہ ہی اس کے لیے تم ہمیں درکار تھے… تم نے میری بہن کی زندگی بچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے‘ ہم تمہارے احسان مند ہیں اور بدلے میں تمہاری زندگی کو بہتر کرنا چاہتے ہیں۔‘‘
’’تم میرے لیے بس اتنا کردو کہ مجھے یہاں سے نکلوا دو‘ باقی مجھے کچھ بہتر ہونے نہ ہونے کی پروا نہیں۔‘‘ وہ بیزاری سے بولا۔
‘’’دیکھو‘ تم نوجوان ہو‘ یہ تمہاری عمر کا سنہری دور ہے‘ اسے نشے کی تاریکی میں گم نہ کرو‘ تم دوسروں کی مدد کرنے والے ایک اچھے انسان ہو اور…‘‘
’’تم مجھ سے چاہتے کیا ہو؟‘‘ وہ درمیان میں بولا۔
’’ہم تمہیں ایک ایسی جگہ لے جانا چاہتے ہیں جہاں رہ کر تمہیں نشے کی لت سے ہمیشہ کے لیے نجات مل جائے گی‘ تم ایک اچھی زندگی گزارنے کے قابل ہوجائو گے…‘‘
’’میں نہیں جائوں گا‘ تم مجھے یہاں سے آزاد کروائو بس۔‘‘ وہ بدک کر بولا۔
’’تمہیں ہمارے ساتھ وہاں جانا ہی پڑے گا ورنہ مجبوراً مجھے تمہارے خلاف لوٹ مار کی رپورٹ درج کروانی پڑے گی‘ سالوں تک جیل میں قید رہنے سے بہتر ہے کہ تم ہمارے ساتھ چلو۔‘‘ رجاب نے سرد سپاٹ لہجے میں اسے دھمکایا۔
’’نہیں جاتا میں‘ جائو کرلو جو کرنا ہے۔‘‘ وہ ہتھے سے اکھڑا۔
’’تمہارے فرشتے بھی جائیں گے‘ تم خود نہیں جائوگے تو پولیس کی تحویل میں جانا پڑے گا… اسے ہتھکڑی لگا کر وین میں بٹھائو‘ ہم آرہے ہیں۔‘‘ اسے گھرک کر انسپکٹر نے اپنے اہلکار کو حکم دیا‘ اس کے احتجاج کے باوجود اہلکار اسے زبردستی کھینچتا لے گیا تھا۔
m… / …m
تیسری بار ڈور بیل دینے کے بعد اس نے زیادہ انتظار کیے بغیر اپارٹمنٹ کی دوسری چابی نکال لی تھی‘ اسے پہنچنے میں دیر ہوگئی تھی ورنہ کافی دیر پہلے ہی دراج نے اسے کال کرکے بتادیا تھا کہ وہ اپارٹمنٹ میں ہے اور اس کا انتظار کررہی ہے‘ ہال کے سامنے سے گزرتے ہوئے اسے دراج کے اچانک یہاں آنے کی وجہ سمجھ آگئی تھی‘ ڈائننگ ٹیبل پر کیک‘ کینڈل‘ فلاورز سب سجے تھے اور یقینا وہ اس کا انتظار کرتے کرتے سوچکی تھی‘ بیڈ روم میں داخل ہوتے ہی زرکاش کا یقین مستحکم ہوگیا تھا۔
اس کا رخ دروازے کی ہی سمت تھا‘ دوپٹہ اچھی طرح خود پر پھیلا کر اس نے پیروں کے نیچے اس طرح دبا رکھا تھا کہ فین کی تیز ہوا سے اس کی غفلت میں بھی دوپٹہ اِدھر اُدھر نہیں ہوسکتا تھا‘ دوپٹے کا اوپر والا کنارا اس کے بازو تلے دبا تھا جس کی ہتھیلی پر چہرہ ٹکائے وہ بڑی پُرسکون نیند میں تھی‘ اس کا اتنا احتیاطی انداز میں محو استراحت ہونا زرکاش کو مسکرانے پر مجبور کر گیا تھا‘ زرکاش کی پہلی پکار اس تک نہیں پہنچی تھی‘ دوسری بار اس کا نام لیتے ہوئے زرکاش نے دھیرے سے اس کے پیر کو تھپتھپایا مگر وہ ہنوز نیند میں غرق تھی‘ دھیرے سے بیڈ کے کنارے بیٹھتا وہ اس کے خوابیدہ چہرے کو ہی دیکھ رہا تھا‘ جو کسی چھوٹے سے بچے کی طرح معصوم دکھائی دے رہی تھی‘ ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ زرکاش نے دھیرے سے اس کی پیشانی پر ہوا سے بکھرتے تراشیدہ بالوں کو احتیاط سے سمیٹنا شروع کیا تھا کہ تب ہی دراج کی بند پلکوں میں لرزش ہوئی تھی‘ یقینا پیشانی سے مس ہوتیں پوروں کے لمس نے اس کی حسیات کو بیدار کردیا تھا‘ زرکاش نے چاہا تھا کہ اسے پھر آواز دے مگر اس سے پہلے ہی دراج کی خمار زدہ گلابی آنکھوں کے کٹورے کھل گئے تھے‘ وہ نہیں جانتا تھا کہ ان کھلتی آنکھوں نے کس عجیب سحر میں اسے جکڑا کہ وہ سب کچھ بھولنے لگا تھا‘ اردگرد سے اپنے آپ سے بھی وہ غافل ہوتا جارہا تھا‘ گلابی ڈوروں سے سجی خمار آلود آنکھوں نے آج پہلی بار اپنا وار کر ہی ڈالا تھا اور وہ اس کی زد میں ساکت وجامد رہ گیا تھا… لیکن یہ سکتہ‘ یہ اسرار بھرا لمحہ اس وقت ٹوٹا جب دراج نے زرکاش کو قریب بیٹھے دیکھا اور بے اختیار اپنی پیشانی پر ٹھہرے اس کے ہاتھ کو جھٹکتی گھبرا کر اٹھ بیٹھی تھی۔ دنگ نظروں سے زرکاش اس کے فق چہرے کو دیکھتا ہی رہ گیا تھا جو سرعت سے بیڈ سے اترتی تیزی سے بیڈروم سے نکلتی چلی گئی تھی۔
اپنے عقب میں ڈرائنگ روم کا دروازہ بند کرتے ہوئے جہاں اس کا دل دھڑ دھڑ کررہا تھا وہیں اس نے اپنا سر بھی پکڑ لیا تھا… اسے اندازہ ہورہا تھا کہ اس نے کیا کر ڈالا ہے‘ اپنی ساری ریاضتوں پر اس نے خود ہی پانی پھیر ڈالا تھا۔
روہانسے تاثرات کے ساتھ سر ہاتھوں میں تھامے وہ گرنے والے انداز میں صوفے پر بیٹھ گئی تھی‘ اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اپنی اس بے اختیاری حرکت کے بعد اب وہ کس طرح زرکاش کا سامنا کرے گی… کیا کہہ سکے گی‘ اس سے جب وہ پوچھے گا کہ یہ تھا وہ اعتبار‘ یہ تھا وہ یقین جس کی وہ دعوے دار تھی‘ یہ تھی وہ محبت جس کا اظہار اب تک وہ برملا کرتی رہی تھی‘ شدید اضطرابی کیفیت میں اس کے ہاتھ پیر ٹھنڈے ہونے لگے تھے مگر سامنا تو کرنا ہی تھا… دروازے پر ابھرتی آہٹ نے اسے سر جھکانے اور چہرہ چھپانے پر مجبور کردیا تھا۔
’’دراج…‘‘ زرکاش کی پکار کے ساتھ ہی یکایک اس کے دماغ میں بجلی کا کوندا سا لپکا تھا‘ جھکے سر کے ساتھ اس کا ذہن سو کی اسپیڈ سے دوڑ اٹھا اور پھر پلک جھپکتے ہی میں وہ زرکاش کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہوگئی تھی۔
’’دراج! کیا میں پوچھ سکتا ہوں کہ اچانک کیا ہوا تھا تمہیں‘ کیا تھا وہ سب؟‘‘ گہرے سنجیدہ لہجے میں وہ اس سے پوچھ رہا تھا۔
’’میں نے آوازیں دی تھیں تمہیں‘ پھر مجھے احساس ہوا کہ تم بہت گہری نیند سو رہی ہو یہ سچ ہے کہ تم پر بے اختیار مجھے پیار آگیا جیسے کسی سوئے ہوئے معصوم بچے میں پاکیزگی اور تقدس ہوتا ہے‘ حلاوت ہوتی ہے‘ مہربانی ہوتی ہے‘ کسی قسم کا کھوٹ نہیں ہوتا‘ میں صرف تمہیں جگانے کے لیے تمہارے قریب بیٹھا تھا… اگر تمہیں یہ لگتا ہے کہ میرا کوئی غلط ارادہ تھا‘ اگر تمہیں میری نیت پر شک ہوا تھا تو تم…‘‘
’’زرکاش… یہ سب مت کہیں‘ آپ کے لیے میں ایسا کچھ گمان میں بھی نہیں لاسکتی‘ مجھے میری نظروں میں اور مت گرائیں…‘‘ چہرہ ہاتھوں میں چھپائے وہ رندھے لہجے میں بولی۔
’’تم نہیں… میں اپنی ہی نظروں میں گر گیا ہوں‘ اپنی نیت کے معاملے میں خود ہی مشکوک ہوگیا ہوں… مانتا ہوں کہ اچانک مجھے قریب دیکھ کر تمہارا ڈرنا‘ چونک اٹھنا فطری تھا مگر جس طرح تم میرا ہاتھ جھٹک کر مجھ سے دور بھاگی ہو‘ ایک پل کو تو مجھے بھی یہی لگا کہ واقعی میں کوئی عفریت ہوں اور تمہیں دبوچنے والا ہوں۔‘‘ سر جھکائے وہ بالکل ساکت بیٹھی تھی‘ زرکاش کے خطرناک حد تک سنجیدہ لہجے میں شدید تاسف بھی جھلک رہا تھا۔
’’جو تم سے سرزد ہوا وہ صرف ڈر نہیں تھا‘ وہ کچھ اور ہی تھا جو نظرا نداز کرنے کے قابل نہیں تھا‘ میں یہ سوچنے پر مجبور ہورہا ہوں کہ مجھ سے کب اور کہاں کوئی ایسی غلطی سرزد ہوئی ہے کہ میں تمہارے اعتبار کے اونچے پیڈسٹل سے اس حد تک نیچے آگیا ہوں…‘‘ شدید تاسف سے بات کرتا وہ دراج کی طرف ہی متوجہ تھا اس کے آنسوئوں سے تر چہرے کو دیکھتے ہوئے وہ مزید کچھ بول بھی نہیں سکا تھا۔
’’آپ نے ٹھیک کہا‘ وہ صرف ڈر نہیں تھا‘ وہ کچھ اور تھا جو میرے دل ودماغ میں پنجے گاڑھ کر بیٹھا ہوا ہے‘ دیمک کی طرح اندر ہی اندر چاٹ رہا ہے مجھے‘ جس کا خوف مجھ پر نیند سے بیدار ہونے کے بعد بھی حاوی رہتا ہے‘ میں اس کے بارے میں کسی کو کچھ بتا بھی نہیں سکتی۔‘‘
’’دراج… صاف صاف بتائو مجھے کہ بات کیا ہے‘ میں جاننا چاہتا ہوں۔‘‘
’’میں آپ کو بھی نہیں بتاسکتی‘ بجیا نے مجھے قسم دی تھی کہ میں اپنی زبان بند رکھوں۔‘‘
’’مگر پھر بھی تمہیں بتانا ہوگا مجھے۔ میں کسی قسم کو نہیں جانتا‘ مجھے فکر ہورہی ہے تمہاری‘ یہ سب نارمل نہیں ہے۔‘‘
’’مگر… میں کس طرح بتائوں گی آپ کو یہ سچ کہ جب گھر کے محافظ ہی نقب زنی پر اتر آئیں تو دن رات کس عذاب سے گزرتے ہیں۔‘‘ اس کا سسکتا لہجہ زرکاش کا اضطراب بڑھا گیا تھا‘ دراج کے قریب بیٹھتا وہ اسے شانوں سے تھام کر روبرو کر گیا تھا۔
’’اگر میں واقعی تمہارے اعتبار اور بھروسے کے قابل ہوں تو مجھے سب سچ بتائو۔‘‘ اپنے لفظوں پر زور دیتا وہ کچھ سخت لہجے میں بولا۔
’’آپ میری بات پر یقین کریں گے…؟‘‘ دھندلائی آنکھوں سے دراج نے اس کے تاثرات جانچے تھے۔
’’میں یقین کیوں نہیں کروں گا…؟‘‘
’’کیونکہ نقب لگانے والا آپ کا اپنا بھائی ہے جس پر آپ کو بہت بھروسہ اور یقین ہے۔‘‘ اس کے لرزتے لہجے نے چند لمحوں کے لیے زرکاش کو پتھرا کر رکھ دیا تھا۔
’’دراج… تم جانتی ہو‘ تم کس کے بارے میں کیا کہہ رہی ہو…؟‘‘ زرکاش کو اپنی ہی آواز اجنبی لگی تھی‘ دراج کے شانوں پر اس کی گرفت کمزور ہونے لگی تھی۔
’’ہاں‘ میں جانتی ہوں‘ بھگت چکی ہوں اور بھگت رہی ہوں کہ حقیقت میں وہ انسان کیا ہے‘ جسے آپ اپنا بھائی کہتے ہیں‘ جس پر بہت مان اور یقین ہے آپ کو۔‘‘ دراج کے گھٹے گھٹے لہجے پر وہ فوری طور پر کچھ بول نہیں سکا تھا۔
’’کیا… کیا تھا شیراز نے؟‘‘ زرکاش کمزور لہجے میں پوچھا۔
’’بجیا‘ امی کے ساتھ ڈاکٹر کے پاس گئی ہوئی تھیں‘ میں سو رہی تھی‘ اس وقت جب شیراز کمرے میں گھس آیا تھا‘ میں گہری نیند میں نہیں تھی‘ بروقت ہوشیار ہوگئی‘ وہ ہوش میں نہیں تھا‘ مجھے فوراً ہی اندازہ ہوگیا تھا‘ دو دن پہلے گھر کے معاملے کو لے کر میری اس سے لڑائی ہوئی تھی‘ پہلے مجھے لگا وہ اسی لڑائی کو آگے بڑھانے آیا ہے مگر مزاحمت کرتے ہوئے مجھے احساس ہوا کہ اس کی نیت ٹھیک نہیں‘ اس پر شیطان سوار تھا‘ میں اس کے مغلظات آپ کے سامنے دہرا بھی نہیں سکتی… میری قسمت اچھی تھی کہ امی اور بجیا گھر آگئیں ورنہ میں زیادہ دیر تک اس کی شیطانیت کا مقابلہ نہیں کرسکتی تھی‘ امی اور بجیا کی چیخ وپکار پر وہ بزدل بھاگ نکلا‘ بھاگتے ہوئے اسے آپ کی ماں اور بہنوں نے بھی دیکھا مگر پھر بھی وہ ان کی نظروں میں بے گناہ اور پاک باز ہے اور میں بدکردار… وہ سب آپ کو کبھی یہ نہیں بتائیں گی کہ شیراز کی صحبت کس حد تک خراب رہی ہے‘ میں جانتی ہوں اس نے ہوش وحواس میں میری عزت پر حملہ نہیں کیا تھا مگر کیا وہ اس قابل رہا ہے کہ ہوش وحواس میں بھی اس پر اعتبار کیا جائے…؟ کیا وہ اس قابل ہے کہ آپ کی خاطر‘ اپنے باپ اور تایا کی خاطر میں اسے بھائی کا درجہ دوں اس کی غلیظ حرکت اور ارادوں نے بھیانک خوف ساری زندگی کے لیے مجھ پر طاری کردیا ہے اور میں کچھ نہیں کرسکی‘ سوائے آہ وزری کے‘ آج آپ سے زیادہ تکلیف مجھے پہنچی ہے‘ میرے خوف نے آپ کو اپنی نظروں میں بے اعتبار کیا‘ مجھے معاف کردیں‘ آپ اپنے دل سے پوچھیں‘ کیا مجھے آپ پر اندھا اعتبار نہیں رہا کبھی؟ انجانے میں مجھ سے یہ غلطی ہوگئی‘ اللہ کے لیے مجھے معاف کردیں۔‘‘ زارو قطار روتے ہوئے دراج نے اس کے سامنے ہاتھ جوڑے جو بالکل سناٹے میں تھا‘ دھیرے سے اس نے روتی بلکتی دراج کا سر اپنے شانے سے لگایا تھا‘ آنکھوں کے سامنے چہیتے بھائی کا چہرہ گھوم رہا تھا تو دوسری طرف دراج کی سسکیاں اسے جھنجوڑ رہی تھیں‘ یقین وبے یقینی کے درمیان اس کا دماغ مائوف ہوتا جارہا تھا۔
۹… ٭ … ۹
جانے اس بندھن میں کیسا کیف آگیں احساس تھا‘ یہ جذبوں کی جانے کون سی انتہا تھی کہ جس سے گزرتے ہوئے لطف ومسرت کے جھرنے رگ وپے میں سرائیت کرتے ہی جارہے تھے‘ اس ایک تعلق نے اس کی ساری دنیا کو ہی بدل کر رکھ دیا تھا۔ یہاں تک کہ خود اسے بھی… سنسان سڑک کی وحشتوں کو تکتے ہوئے اس نے جانے کتنی بار یہ خواہش کی تھی کہ کاش کوئی شہزادہ بھٹک کر اس شہر ویراں میں آجائے‘ ویرانیوں کی قید سے اسے نجات دلادے… اور یہ خواہش جانے کس لمحے اس کے دل سے نکل کر فلک تک پہنچتی قبولیت کا درجہ پاگئی تھی… دنیا کی نظروں میں وہ جیسا بھی ہو مگر اس کے لیے تو نجات دہندہ تھا‘ وہ خواب تھا جو حقیقت کا روپ دھار چکا تھا‘ اسے فتح کر گیا تھا… ورنہ وہ خود کو اس قابل نہیں گردانتی تھی کہ قدرت یوں اس پر مہربان ہوتی‘ یوں اسے ایک پیارے سے شخص سے نواز دیا جاتا… اسے گنوا کر وہ کہاں ہوتی…؟ کہیں بھی تو نہیں‘ اس شہر خموشاں میں ہی رل جاتی‘ کھو جاتی… کل تک وہ تہی دست‘ تہی داماں تھی اور آج جیسے ساری کائنات اور اس کی رنگینیاں اس کی دسترس میں تھیں‘ ایک شخص سے تعلق اور سنگت اسے زمین سے اٹھا کر جیسے جنت میں لے آئی تھی‘ قدم فرش پر تھے مگر یوں لگتا تھا کہ وہ ہاتھ بڑھا کر عرش کو چھو سکتی ہے‘ ایک بار پھر اس نے کھڑکی کے پٹ کھولے‘ دھڑکتا دل آنکھوں میں سمٹ آیا تھا‘ پول سے برستی سنہری روشنیوں میں وہ نمودار ہوتا روشنیوں کو بڑھا گیا تھا‘ اسے ایک ٹک دیکھتی وہ سر سے پیر تک گلاب بن کر مہک اٹھی تھی‘ لبوں پر مسکراہٹ کے گل کھل گئے تھے‘ چاہتوں کے امڈتے سمندر کا ریلا اسے بہا کر کب‘ کس وقت زنگ آلود گیٹ تک لے آیا پتہ ہی نہیں چلا تھا۔
کیا دیکھیں گے ہم جلوہ محبوب کہ ہم سے
دیکھی نہ گئی دیکھنے والے کی نظر بھی
جلوئوں کو تیرے دیکھ کے جی چاہ رہا ہے اب
آنکھوں میں اتر آئے میرا کیف نظر بھی
بڑی بے تابی سے وہ اس کی طرف دوڑا آیا تھا‘ جو ابھی سڑک کے وسط تک بھی نہ پہنچی تھی۔ خاموشی سے اس کا ہاتھ تھام کر وہ واپس پول کی جانب بڑھا۔
’’زُنائشہ…‘‘ حیرت سے اسے مخاطب کرتے ہوئے عرش الجھا بھی تھا دوسری جانب وہ پول سے شانہ ٹکا کر ذرا رخ پھیرے سر جھکائے اپنے ناخن کریدتی رہی تھی‘ اس کا آدھا چہرہ بھی نیلی چادر کے گھونگھٹ میں چھپا ہوا تھا‘ عرش نے دوبارہ اسے متوجہ کرنے کی کوشش نہیں کی‘ چند لمحوں کے توقف کے بعد اس نے خود ہی نظر اٹھا کر عرش کو دیکھا‘ سیاہ شلوار سوٹ میں وہ اسے پہلے سے زیادہ شاندار لگ رہا تھا‘ اس کی سنہری آنکھوں سے پھوٹتی شعاعوں کی تاب نہ لاتے ہوئے وہ دوبارہ سر جھکا گئی تھی۔
’’کیا ہوا ہے تمہیں؟‘‘ عرش کے سوال پر وہ مزید خود میں سمٹتی پول کو ناخن سے کریدنے لگی تھی۔
’’تمہیں کیا اس پول سے عشق ہوگیا ہے جو چھپکلی کی طرح چپکی کھڑی ہو اس سے‘ میں یہاں تمہارے انتظار میں پاگل ہورہا تھا اور تم… سیدھی طرح میری طرف رخ کرو ورنہ ایک تھپڑ لگا کر سیدھا کردوں گا۔‘‘ عرش نے خشمگیں لہجے میں گھرکا۔
’’تو مجھے تم سے شرم آرہی ہے میں کیا کروں…؟‘‘ اس کی جانب دیکھے بغیر وہ منمنائی۔
’’ارے جہنم میں بھیجو شرم کو‘ کل سے میرا سانس لینا مشکل ہوگیا ہے‘ وقت گزر کے نہیں دے رہا تھا‘ رات ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی‘ سورج طلوع ہونا بھول گیا تھا‘ ایسا لگ رہا تھا ساری کائنات میرے اور تمہارے درمیان آکھڑی ہوئی ہو‘ پاگل ہوچکا ہوں میں انتظار کرتے کرتے کہ کب یہ وقت آئے اور میں یہاں تم سے ملوں… اور اب تم اور تمہاری شرم میرا امتحان لینے پر تلی ہے۔‘‘ وہ شدید ناراضگی سے بولا۔ ’’اب آئو میرے ساتھ۔‘‘ اس کی خاموشی پر اب کے وہ نرمی سے بولتا یقینا بائونڈری تک لے جانا چاہتا تھا۔
’’میں وہاں نہیں جارہی۔‘‘ وہ پھر منمنائی۔
’’کیوں…؟‘‘ عرش دنگ ہوا۔
’’وہاں اتنا اندھیرا ہے۔‘‘ اس کا جواب عرش کے دماغ پر لگا۔
’’پہلے تو وہاں تک آرام سے چلی آتی تھیں‘ اب اندھیرے پر کیوں اعتراض ہورہا ہے؟‘‘
’’پہلے کی بات اور تھی۔‘‘ وہ ذرا جھلا کر بولی۔
’’دیکھو‘ آخری بار پوچھ رہا ہوں‘ ساتھ آرہی ہو یا نہیں…؟‘‘ عرش کے لہجے میں چھپی دھمکی کو محسوس کرنے کے باوجود وہ نفی میں سر ہلا گئی مگر چونکی اس وقت جب جھکی نظروں سے اس نے عرش کو اپنے سامنے جھکتے دیکھا‘ اگلے ہی پل اس کا دل اچھل کر حلق میں آگیا تھا‘ چیخ حلق میں گھٹ گئی تھی جب وہ پلک جھپکتے ہی بڑے اطمینان سے اسے اپنے کندھے پر ڈالتا گھنے درخت کی تاریکی سے گزرتا بائونڈری تک لے آیا تھا۔
’’میں کیا بھیڑ‘ بکری نظر آتی ہوں تمہیں؟‘‘ عرش اسے بائونڈری پر بٹھا رہا تھا جب وہ اس کے ہاتھ جھٹکتی جھلا کر چیخی۔
’’بالکل نہیں‘ تم تو میری بیوی ہو۔‘‘ وہ شرارتی انداز میں بولا۔
’’کوئی نہیں‘ خوامخواہ میری کوئی باقاعدہ شادی نہیں ہوئی تم سے۔‘‘ وہ خفگی سے بولتی عرش سے ذرا اور پرے ہوئی۔
’’حواسوں میں تو ہو تم…؟ نکاح ہوا ہے‘ گواہوں کی موجودگی میں نکاح نامے پر دستخط ہوئے ہیں‘ کون سے قاعدے قوانین رہ گئے ہیں اب؟‘‘ عرش نے حیرت سے اسے دیکھا۔
’’ابھی میں تمہارے ساتھ رخصت تو نہیں ہوئی ناں۔‘‘ وہ فوراً بولی۔
’’میں تو ابھی ساتھ لے جائوں تمہیں‘ تم چلنے والی تو بنو۔‘‘ عرش کے کہنے پر وہ بس اسے دیکھتی رہ گئی۔
’’چپ کیوں ہوگئیں؟ میں بس تمہیں تنگ کررہا تھا ورنہ مجھے یاد ہے کہ ہمارے درمیان کیا طے پایا تھا۔‘‘ عرش سنجیدہ ہوتے ہوئے بولا۔
’’میرے لیے یہی بہت ہے کہ تم نے مجھ پر اعتبار کرکے اپنی زندگی میں اتنا اہم مقام دے دیا ورنہ میں تمہارا حق دار نہیں تھا… مجھے اپنی حددو یاد ہیں اور یہ میں بھی چاہتا ہوں کہ آگے جو بھی ہو سب تمہاری خوشی اور رضامندی سے ہو۔‘‘ عرش کے خاموش ہونے پر وہ بھی سر جھکائے خاموش تھی۔
’’تم میری طرف تو دیکھو‘ نظر بھر کر صرف تمہیں دیکھنے ہی تو آیا ہوں‘ ابھی اتنا ہی حق ملا ہے مجھے اور تم اس سے بھی محروم کررہی ہو… کتنی ظالم ہو کیا تم کچھ دیر کے لیے یہ بھول نہیں سکتیں کہ میں کون ہوں؟‘‘ عرش کے زچ ہوجانے والے انداز پر وہ گہری سانس بھرتی مکمل اس کی طرف متوجہ ہوئی تھی۔
’’نہیں عرش… میں یہ نہیں بھول سکتی کہ تم کون ہو… تم نے ہی تو مجھے یہ احساس دلایا ہے کہ اس زمین پر میرا بھی کوئی وجود ہے جو اہمیت رکھتا ہے‘ سانس لیتا ہے‘ جس میں دل دھڑکتا ہے‘ جسے خوش ہونے کا حق ہے‘ جسے تنہائی سے نجات کی اور تم جیسے ساتھی کی ضرورت ہے تم تو صلہ ہو میرے صبر کا‘ بندلبوں کی دعائوں کا…‘‘ وہ مدھم لہجے میں بولتی رہی۔
’’کل پہلی بار مجھے احساس ہوا کہ تم سے تو میرا تعلق روح اور جسم جیسا ہوچکا ہے‘ جو تم پہلے تھے‘ جو تم اب ہو‘ مجھے ہر صورت یاد ہو‘ کیونکہ مجھے زندہ رہنا ہے‘ تمہارے ساتھ منزل تک پہنچنا ہے۔‘‘ یک دم وہ خاموش ہوکر اس کے ہاتھ کو دیکھنے لگی جس پر بینڈج نظر آرہی تھی۔
’’یہ کیا ہوا‘ چوٹ کیسے لگی؟‘‘ بے اختیار وہ اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھام کر تشویش میں مبتلا ہوئی۔
’’کچھ مت پوچھو‘ کل سے عجیب حال ہے میرا‘ کرتا کچھ ہوں ہوتا کچھ ہے بات کوئی بھی کررہا ہوتا ہوں مگر دھیان تمہاری طرف ہی ہوتا ہے ساری رات میں تمہیں اپنے اردگرد محسوس کرکے چونکتا رہا تھا‘ گھر سے گیرج تک ہر طرف تم ہی تم نظر آرہی تھیں‘ سب غلط سلط‘ گڈمڈ ہورہا تھا اور اسی میں یہ چوٹ لگ گئی بس دل چاہ رہا تھا کہ سب چھوڑ چھاڑ کر تمہارے پاس آجائوں۔‘‘ اس کے بے بس انداز پر زُنائشہ کے چہرے پر مسکراہٹ بکھری تھی‘ خاموشی سے وہ اس کی بینڈج کو نرمی سے سہلاتی رہی تھی۔
’’تم خوامخواہ ڈر رہی تھیں‘ کہاں ہے یہاں اندھیرا… چاند کو دیکھو ذرا‘ اس کو بھی آج ہی پورا نکلنا تھا۔‘‘ عرش کے لہجے میں رقیبانہ جلن تھی‘ سر اٹھا کر زُنائشہ نے پوری آب وتاب سے چمکتے چاند کو دیکھا اور بے ساختہ ہنس دی۔
’’اچھا ہے میں چاند کی روشنی میں تمہیں صاف دیکھ سکتی ہوں‘ آج اس لباس میں تم بہت اچھے لگ رہے ہو۔‘‘ اس کی تعریف پر وہ جھینپے انداز میں سر پر ہاتھ پھیرتا دھیرے سے ہنسا۔
’’اب یہ جو تمہیں شرم آگئی تعریف سن کر اس کا کیا…؟‘‘ وہ مسکراتے لہجے میں بولی۔ ’’مجھے پتہ ہے ہزاروں لوگوں نے تمہاری تعریف کی ہوگی پھر بھی اتنی شرمیلی ہنسی کیوں؟‘‘
’’کیونکہ میرے سامنے تم ہو ہزاروں لوگوں کی تعریف سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا‘ میرے نزدیک بس تمہارے لفظوں کی اور تمہاری نظروں کی اہمیت ہے لہٰذا آئندہ میری تعریف کرنے سے ذرا گریز کرنا۔‘‘ وہ تاکید کررہا۔
’’مگر کیوں…؟ اب تو مجھے حق بھی ہے‘ تم جب‘ جب مجھے بہت زیادہ اچھے لگو گے مجھے تعریف ہر صورت کرنی ہے‘ تمہیں ڈھٹائی کا مظاہرہ کرنا پڑے گا‘ کب تک شرماتے رہوگے‘ شادی ہوئی ہے ہماری‘ قبر تک پیچھا نہیں چھوڑنے والی اب میں۔‘‘ اس کے احتجاج پر وہ بے ساختہ ہنسا۔
’’دیکھو‘ اس چیز کو قبول کرتے ہوئے مجھے کوئی شرمندگی نہیں کہ تم جب‘ جب میری یوں تعریف کروگی‘ مگر تعریف کے لیے منع اس لیے کررہا ہوں کہ میں شرماتا رہوں گا تو رومانس کب کروں گا اور اب تو مجھے پورا یقین ہے کہ جب تم میرا موڈ رومینٹک ہوتا دیکھوگی فوراً میری تعریف کرنے لگ جائوگی بے ایمانی کرنی ہے تم نے ضرور…‘‘ عرش کے گھرکنے پر وہ بے اختیار ہنستی چلی گئی۔
’’پھر تمہارا سارا رومانس دھرے کا دھرا رہ جائے گا… یہ اچھا ہوگیا‘ اب تو میں خود چاہوں گی کہ تم رومانٹک موڈ میں آئو تاکہ میں تمہاری تعریف میں زمین وآسمان کی قلابیں ملا دوں۔‘‘ وہ ہنسی کے درمیان بولتی پھر کھلکھلا اٹھی تھی۔ مسکراتی نظروں سے اسے دیکھتے عرش نے دھیرے سے اس کا ہاتھ تھاما تو وہ چونکی۔
’’میرے پاس ابھی تمہیں دینے کے لیے کوئی اچھا سا تحفہ نہیں ہے مگر میں جلد ہی اس قابل ہوجائوں گا کہ اپنی محنت اور حلال کے روپوں سے تمہارے لیے قیمتی تحفہ حاصل کرسکوں اور اس کے لیے تھوڑا انتظار کرنا ہوگا۔‘‘
’’عرش… میرے لیے سب سے قیمتی تحفہ تم ہی ہو۔ تمہاری ہر کامیابی میرے لیے تحفہ ہی ہوگی‘ مجھے اور کسی چیز کی خواہش نہیں۔‘‘ وہ سنجیدہ سی مسکراہٹ کے ساتھ بولی۔
’’عرش… تم نے کھانا کھایا…؟‘‘ اسے اچانک یاد آیا۔
’’ہاں‘ گیراج میں ہی سب کے ساتھ۔‘‘
’’مگر میں نے تو سوچا تھا کہ تم آئوگے تو ہم ساتھ کھانا کھائیں گے۔‘‘
’’تمہاری خاطر مجھے دوبارہ کھانے پر کوئی اعتراض نہیں مگر اب تم جائوگی‘ کھانا لے کر آئوگی… پہلے ہی وقت پر لگا کر اڑا جارہا ہے یہاں آنے کے بعد سے۔‘‘
’’تو پھر اٹھو‘ ہم دونوں چھپتے چھپاتے میرے گھر چلتے ہیں‘ ساتھ کھانا کھائیں گے پھر اسی طرح چھپتے چھپاتے میں واپس تمہیں یہاں لے آئوں گی۔‘‘ زُنائشہ فوراً اپنی جگہ سے اٹھتی ہوئی بولی۔
’’کیا فائدہ مجھے گھر لے جانے کا جب واپس یہیں لاکر پٹخنا ہے؟‘‘ عرش نے حیرت سے اسے دیکھا۔
’’عرش… میں نے اتنی محنت اور دل سے تمہارے لیے اچھا سا کھانا پکایا تھا۔‘‘ اس نے خفگی سے جتایا۔
’’تو پھر کیا کرنا چاہیے؟‘‘
’’کرنا کیا ہے میرے گھر چلو‘ کھانا کھا کر فوراً ہی میں تمہیں واپس یہاں لے آئوں گی۔‘‘
’’کتنی ذمہ دار‘ فرض شناس بیوی ہونے کا ثبوت دے رہی ہو تم میں بھوکا فقیر ہوں جسے کھانا کھلائوگی اور چلتا کردوگی۔‘‘
’’یہ کیا بات کی تم نے‘ ہمیں ساتھ کھانا ہی تو کھانا ہے۔‘‘ وہ الجھ کر بولی۔
’’ہاں… بالکل ساتھ کھانا کھانے کے لیے ہی تو شادی کی ہے ہم نے‘ بیٹھ جائو احمق اعظم…‘‘ وہ اپنی ہنسی نہیں چھپا سکا تھا۔ ’’بہت توانائی خرچ کرنی ہوگی تمہیں سدھارنے کے لیے۔‘‘
’’سدھرنے کی ضرورت مجھے نہیں تمہیں ہے‘ یہ کہو تمہیں کھانا‘ کھانا ہی نہیں۔‘‘ وہ واپس بیٹھتی خفت سے بولی۔ ’’اب کل سے تم گیراج سے سیدھا یہاں آئوگے میرے ساتھ کھانا کھائوگے اس کے بعد گھر جائوگے۔‘‘ وہ تاکید کررہی تھی۔
’’ضرور اب تو تمہارے ہی احکامات پر چلنا ہوگا مجھے‘ ویسے یہ یقین مجھے ہوگیا ہے کہ فی الحال کھانے کے سوا تم سے مجھے کوئی فیض حاصل نہیں ہونے والا۔‘‘ وہ سنجیدہ لہجے میں مگر شوخ نظروں سے اسے دیکھتا جتا رہا تھا۔
’’میرا خیال ہے اب تمہیں گھر جاکر آرام کرنا چاہیے۔‘‘ وہ مسکراتے ہوئے بولی۔
’’ہاں… جانا تو ہے۔‘‘ رسٹ واچ میں وقت دیکھتا وہ بولا۔
’’یہاں آتے ہوئے ایک یہی چیز بہت تنگ کررہی تھی کہ تمہیں یہاں چھوڑ کر مجھے واپس جانا ہوگا‘ بہت مشکل ہے روز‘ روز اس اذیت کو سہنا‘ یہ سچ کہنے میں مجھے کوئی عار نہیں کہ میں کسی قیمت پر تم سے دور نہیں ہونا چاہتا مگر…‘‘ بجھے لہجے میں بات ادھوری چھوڑ کر اس نے زُنائشہ کو دیکھا اور پھر اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھام لیا۔
’’میں تمہیں بالکل بھی مایوس نہیں کروں گا‘ میں جانتا ہوں کہ تمہارے ساتھ ایک خوشحال اور کامیاب زندگی گزارنے کے لیے ابھی کچھ سمجھوتے کرنے ہوں گے اور میں کروں گا‘ بس جو اعتبار تم نے مجھ پر کیا ہے اسے ہمیشہ قائم رکھنا‘ مجھے تمہارے ساتھ کی تمہارے یقین واعتبار کی قدم قدم پر ضرورت ہے۔‘‘ اس کے گہرے سنجیدہ لہجے پر زُنائشہ نے مسکراتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا تھا۔
۹… ٭ … ۹
عجیب کیفیت تھی دل کی‘ گھر کے ایک ایک حصے کو دیکھتے وہ لائونج کی طرف آئے تھے۔ سب سامان پیک ہوچکا تھا‘ کل اس گھر کو ہمیشہ کے لیے چھوڑ جانا تھا‘ اس گھر میں انہوں نے ہوش سنبھالا تھا‘ ماں باپ کی محبتیں سمیٹی تھیں‘ رجاب کی شرارتیں دیکھی تھیں‘ اس گھر کے درو دیوار ان آہوں‘ کراہوں کے گواہ تھے جس کے کرب سے وہ اور ان کے گھر کے سب فراد گزر رہے تھے… زندگی نام ہی تغیر کا ہے مگر کبھی کبھی یہ تغیرات ایسے طوفان کی صورت میں آتے ہیں کہ مضبوط سے مضبوط تناور درخت بھی زمین بوس ہوجاتے ہیں پھر وہ تو گوشت پوست سے بنے انسان تھے جو سینے میں دل رکھتے تھے‘ ایسا دل جس میں اس بہن کا روگ ناسور بن کر پھیل رہا تھا‘ جو ان کو اپنی زندگی‘ اپنی اولاد سے بھی بڑھ کر عزیز تھی‘ رجاب کی زندگی میں آنے والا طوفان ان کی بنیادیں بھی کھوکھلی کر گیا تھا مگر رجاب کے لیے‘ اسے ایک نارمل اور کامیاب زندگی دینے کے لیے ان کو ساری اذیتیں اور روگ چھپا کر رکھنے تھے‘ اس گھر کو فروخت کرنا ان کے لیے آسان نہیں تھا مگر وہ یہ کام بہت سوچ سمجھ کر کررہے تھے‘ ان کو اپنا بزنس شروع کرنا تھا‘ فنانشلی اپنے خاندان کو مضبوط کرنا تھا اور سب سے اہم یہ کہ وہ ان سب کو گزرے طوفان کی تباہ کاریوں سے دور لے جانا چاہتے تھے۔ دھیرے‘ دھیرے قدم بڑھاتے وہ رجاب کے کمرے کی طرف آئے تھے‘ دروازہ کھلا ہوا تھا‘ سامنے ہی بیڈ پر سوٹ کیس کھلا رکھا تھا‘ اور اس کے قریب ہی رجاب سر جھکائے ساکت بیٹھی تھی‘ اسے دیکھتے ہوئے آج پھر کوئی خنجر راسب کے دل میں اترا تھا‘ رجاب کی خاموشی اور الگ تھلگ رہنے کی عادت اب نئی نہیں رہی تھی‘ راسب جانتے تھے کہ اس گھر کو چھوڑنا رجاب کے لیے بھی کسی صدمے سے کم نہ ہوگا مگر جو کچھ وہ برداشت کرچکی ہے اس سب کے سامنے یہ صدمہ بہت معمولی تھا۔ ایک پل کو رک کر انہوں نے خود کو مضبوط کیا اور پھر ہلکا سا کھنکھارتے ہوئے کمرے میں داخل ہوئے مگر رجاب ان کی طرف متوجہ نہیں ہوئی تھی‘ سر جھکائے وہ بس یک ٹک گود میں رکھے سرخ لباس کو دیکھ رہی تھی‘ راسب اسے مخاطب کرتے کرتے یک دم رکے تھے‘ اس کی گود میں رکھے سرخ لباس کو دیکھتے ہوئے ان کی آنکھوں میں خون اترنے لگا تھا بڑھتے اشتعال سے ان کا چہرہ چٹخ گیا تھا‘ آگے بڑھ کر انہوں نے وہ سرخ لباس رجاب کی گود سے یوں دور پھینکا جیسے وہ کپڑے نہ ہوں کالے بچھو ہوں دھاڑتے ہوئے انہوں نے ندا کو آواز دی‘ ندا وہاں بھاگی آئی تھیں۔
’’اس درندہ صفت شخص سے تعلق رکھنے والی کوئی چیز اس گھر میں باقی کیسے رہ گئی‘ اسے کیوں ضائع نہیں کیا؟‘‘ وہ گرجے‘ فق چہرے کے ساتھ ندا نے فرش پر پڑے لباس کو دیکھا‘ یہ وہ لباس تھا جو رجاب نے اپنے نکاح کے دن پہنا تھا‘ ندا بس گنگ کھڑی رہ گئی تھیں۔
’’رجاب… تم ان کپڑوں کو اپنے ہاتھوں سے آگ لگائوگی ابھی اور اسی وقت…‘‘ بھڑکتے لہجے میں وہ ساکت بیٹھی رجاب سے مخاطب ہوئے اور پھر خونخوار نظروں سے ندا کو دیکھتے کمرے سے نکل گئے۔
’’رجاب تمہارے آغا جان ابھی غصے میں ہیں مگر تم یہ بدشگونی مت کرنا‘ یہ تمہارے جسم سے اترے کپڑے ہیں‘ ان کا تو کوئی قصور نہیں‘ جو ہونا تھا‘ وہ ہوچکا اب یوں اپنے کپڑوں کو جلا کر راکھ کرنا اچھی بات نہیں۔‘‘ ندا اسے سمجھا رہی تھیں جو سپاٹ چہرے کے ساتھ ان کپڑوں کو ہی دیکھ رہی تھی۔
’’رجاب… تم سمجھ رہی ہو ناں میری بات؟‘‘ ندا نے اس کے شانے کو ہلایا مگر وہ ان کے بجائے جارحانہ تیوروں کے ساتھ واپس آتے راسب کی طرف متوجہ تھی‘ لائٹر نیچے پڑے لباس پر پھینک کر راسب نے اسے دیکھا۔
’’لگادو اسے آگ‘ جلا کر راکھ کردو ہر اس چیز کو جس نے ہم سب کی زندگی کو جہنم بنا دیا ہے۔‘‘ راسب کے لہجے میں سنگلاخ چٹانوں جیسی سختی تھی۔ رجاب کو فرش پر گھٹنوں کے بل بیٹھ کر لائٹر اٹھاتے دیکھ کر ندا خاموش نہیں رہ سکی تھیں۔
’’راسب… یہ سب ٹھیک نہیں ہے‘ بہت برا اثر پڑے گا رجاب پر‘ آپ اس کے ڈاکٹر کے ساتھ ساتھ خود اپنی محنت بھی برباد کررہے ہیں‘ اس طرح تو وہ کبھی نہیں نکل سکے گی ان اذیتوں سے۔‘‘ ندا لرزتے لہجے میں بول رہی تھیں مگر نہ راسب سن رہے تھے نہ رجاب کو کچھ سنائی دے رہا تھا‘ لائٹر کی بھڑکتی لو پر اس کی سبز پتلیاں چند لمحوں تک ساکت رہی تھیں اور پھر اس نے وہی کیا جو راسب چاہتے تھے۔ چند پل میں ہی نفیس کپڑے نے آگ پکڑلی تھی‘ بھڑبھڑ جل کر راکھ بنتے کپڑوں سے نظر ہٹاتے راسب کمرے سے نکل گئے تھے‘ ندا شدید مایوس اور غمزدہ کھڑیں رجاب کو ہی دیکھ رہی تھیں جس کے چہرے پر کوئی تاثر نہیں تھا‘ تب ہی ندا بری طرح چونک کر اپنے آتے بیٹے کی طرف متوجہ ہوئی تھیں اور اگلے ہی پل گھبرا کر کمرے سے بھاگی تھیں‘ راکھ کا ڈھیر بن جانے والے کپڑوں کے پاس بیٹھی وہ کچھ دیر تک باہر سے آتی آوازوں کو سنتی رہی اور پھر اپنے پیروں کو کھینچتی دروازے کی سمت بڑھی۔
’’راسب… دروازہ کھولیں‘ اللہ کے لیے دروازہ کھولیں۔‘‘ سامنے ہی ندا بند دروازے کو دھڑدھڑاتیں روتی چیختی بھی جارہی تھیں‘ رجاب ان کی طرف جانے کی بجائے بند کمرے کی کھڑکی کی سمت بڑھی‘ بند شیشوں کے دوسری طرف پردہ ذرا سرکا ہوا تھا‘ اندر کا جو منظر اسے نظر آرہا تھا وہ اس کی آنکھوں کو پتھرا گیا‘ وجود کانپنے لگا تھا‘ ندا بند کمرے میں گونجتیں آہ وزاریاں اور سینہ کوبی صرف سن سکتی تھیں وہ یہ سب پھٹی آنکھوں کے ساتھ دیکھ رہی تھی‘ آوازیں کھو جائیں تو سناٹے چیخ اٹھتے ہیں‘ اس کے اندر بھی سناٹے سر پٹختے چیخ وپکار کررہے تھے۔
۹… ٭ … ۹
سناٹے میں شزا ہی نہیں شیراز بھی آگیا تھا اس سوال کو سن کر جو زرکاش نے کیا تھا اور اب جواب طلب نظروں سے شیراز کو دیکھ رہا تھا۔
’’بھائی… وہ بہت مکار اور جھوٹی ہے‘ شیراز سے خار کھاتی ہے اس لیے جھوٹے الزام لگا کر اسے آپ کی نظروں میں گرانا چاہتی ہے اور آپ اس کی بات پر یقین کررہے ہیں…‘‘
’’نہیں کیا یقین۔‘‘ زرکاش نے شزا کی بات کاٹی۔ ’’شیراز… میں جانتا ہوں کہ وہ تم سے اور تم اس سے کس حد تک نفرت کرتے ہو… دراج کا الزام میں تب ہی غلط ثابت کرسکتا ہوں جب تم مجھے بتائو گے کہ حقیقت کیا ہے‘ کیا تم اس کے پاس جھگڑا کرنے کے ارادے سے گئے تھے یا کوئی اور وجہ تھی جس کا اس نے غلط مطلب لیا… تم دونوں کے تعلقات ایسے رہے ہیں کہ وہ تم پر قاتلانہ حملے کا بھی الزام لگا سکتی ہے‘ تم خود بھی اس پر کسی حملے کا الزام لگا سکتے ہو‘ میں دراج کے الزام کی تصدیق نہیں بلکہ سچ جاننا چاہتا ہوں۔‘‘ بہت سنجیدگی سے وہ شیراز سے مخاطب تھا۔
’’بھائی… سب سے پہلے تو میں آپ کو یہ بتادوں کہ مجھے یاد آرہا ہے کہ گھر سے جاتے ہوئے اس نے ڈھکے چھپے انداز میں مجھ کو دھمکیاں دی تھیں‘ خبردار کیا تھا مجھے اپنی مکاریوں سے… وہ جو کرنا چاہتی ہے‘ اس کی شروعات اس نے کردی ہے‘ وہ آپ کو مجھ سے بدظن کرنا چاہتی ہے‘ مجھ پر اس کے بے ہودہ الزام کو سن کر آپ کو تو اس کا منہ توڑ دینا چاہیے تھا۔‘‘ شیراز بپھرے تیوروں سے بولا۔
’’دراج کی جگہ کوئی اور ہوتا تو ضرور توڑ دیتا‘ مگر دراج ہمارے گھر اور خاندان کا حصہ ہے‘ وہ معاملہ جو بھی تھا‘ میری غیر موجودگی میں ہوا تھا‘ مجھے یہی بہتر لگا کہ اس سے بحث کرنے کے بجائے میں پہلے تم سے پوچھوں۔‘‘
’’بھائی… آپ امی سے پوچھیں‘ انہوں نے…‘‘
’’امی کو درمیان میں مت لائو‘ یہ تمہارا اور دراج کا معاملہ ہے‘ امی بہت پریشان ہوجائیں گی اس لیے میں تم دونوں کو تنبیہہ کررہا ہوں کہ امی تک ان سب باتوں کی بھنک تک نہیں پہنچنی چاہیے۔‘‘ زرکاش نے تنبیہی نظروں سے ان دونوں کو دیکھا۔
’’میں آپ کو سب کچھ سچ سچ بتاتا ہوں‘ اس دن امی نے مجھ سے کہا تھا کہ رائمہ سے بل لے کر اس کی ادائیگی کر آئو‘ ہر ماہ کی یہ روٹین ہے میری‘ صحن میں مجھے کوئی نظر نہیں آیا‘ بل جمع کروانے کی آخری تاریخ تھی‘ مجبوراً مجھے کمرے تک جانا پڑا‘ بس میرے کمرے میں جاتے ہی اس نے شور مچادیا‘ واویلہ شروع کردیا‘ یہ جانتے ہوئے بھی کہ اسی گھر میں میری ماں‘ بہنیں بھی موجود ہیں‘ کیا ان کی موجودگی میں میں ایسا غلیظ کام کرنے کا سوچ بھی سکتا تھا؟‘‘
’’اگر تم نے کچھ غلط نہیں کیا تھا تو تم بھاگے کیوں…؟ وہیں رک کر اسے غلط ثابت کیوں نہیں کیا؟‘‘ زرکاش نے پوچھا۔
’’اس وقت مجھے یہی لگا کہ وہ زبردستی مجھ سے جھگڑا کرنے کے لیے چیخ وپکار کررہی ہے‘ میں رک جاتا تو ہنگامہ اور بڑھ جاتا‘ یہ مجھے بعد میں معلوم ہوا کہ وہ کیسا گھنائونا الزام مجھ پر لگا رہی ہے اور اب اسی الزام کو ہتھیار بنا کر آپ کو میرے خلاف کررہی ہے… میرے پاس اپنی بے گناہی کا کوئی ثبوت نہیں تو ثبوت اس کے پاس بھی نہیں اپنے جھوٹے الزام کا… میں صرف قسم کھا کر یہ کہہ سکتا ہوں کہ میں نے اس کے ساتھ کچھ غلط نہیں کیا‘ آپ سے بڑھ کر مجھے کچھ عزیز نہیں‘ آپ میرے بھائی ہی نہیں‘ میرے باپ بھی ہیں‘ میں آپ کے سر کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں نے ایسا کوئی بے ہودہ کام نہیں کیا‘ کبھی بھی نہیں۔‘‘ جذبات کی رو میں بہتے ہوئے اس نے یک دم زرکاش کے سر پر ہاتھ رکھ کر بہت مضبوط لہجے میں کہا جبکہ شزا کو سانپ سونگھ گیا تھا‘ وہ بس شیراز کے ہاتھ کو دیکھ رہی تھی جو اس نے زرکاش کے سر پر رکھا ہوا تھا‘ دوسری جانب زرکاش گہری سنجیدگی سے شیراز کے تاثرات کو جانچ رہا تھا۔
’’ٹھیک ہے۔‘‘ گہری سانس بھر کر اس نے شیراز کے کاندھے پر ہاتھ رکھا۔
’’کیا تم دراج کے سامنے دوبارہ میرے سر کی قسم کھا کر یہ سب کہہ سکتے ہو؟‘‘
’’میں ہزاروں بار یہ قسم کھانے کے لیے تیار ہوں‘ اس لیے نہیں کہ میں دنیا کی نظروں میں خود کو بے قصور ثابت کرنا چاہتا ہوں بلکہ اس لیے کہ میں آپ کی نظروں میں سرخرو ہونا چاہتا ہوں‘ اس دو ٹکے کی لڑکی اور اس کے جھوٹے الزام کی مجھے رتی برابر پروا نہیں مگر میں یہ برداشت نہیں کرسکتا کہ آپ کے دل میں میرے لیے شک پیدا ہو۔‘‘
’’مجھے یقین ہے تم پر۔‘‘ زرکاش نے اتنا ہی کہہ کر ایک نگاہ سوچوں میں گم شزا کو بھی دیکھا اور پھر جانے کے لیے پلٹ گیا تھا‘ شیزا نے ایک تیز نگاہ اپنی طرف متوجہ ہوتے شیراز پر ڈالی تھی اور پھر خود بھی وہاں سے چلی گئی۔
۹… ٭ … ۹
سر پر چادر لیتے ہوئے ایک بار پھر وہ آئینے میں حیرت سے اپنا عکس دیکھ رہی تھی‘ برسوں کی تھکن‘ آلام کی زردی چہرے سے مٹ چکی تھی‘ ہر نقش میں اب پھولوں سا نکھار اور گھلاوٹ در آئی تھی کہ وہ متعجب پہلے تھی بھی تو اب نہیں رہی تھی‘ حیرت فطری تھی‘ ایک خوب صورت بندھن نے کیسی کایا پلٹ دی تھی‘ یہ جو کچھ بھی تھا یقینا دو آنکھوں کا ہی اثر تھا وہی آنکھیں کہ جن سے نگاہ چرانا اس کے لیے اب ناممکن تھا‘ ویران بیابان زندگی ایک شخص کی وجہ سے کیسا انوکھا روپ دھار چکی تھی‘ چہار سمت محبت کے گل کھلے تھے‘ چاہتوں کے دیے روشن تھے‘ شاید یہ قرب منزل کے آثار تھے‘ درست راستے کی نشانیاں تھیں‘ ایک پُرسکون سانس لیتے ہوئے اس نے آنکھیں بند کی تھیں‘ سنہری کرنوں کے ہالے میں ایک چہرہ ابھرتا اسے روح تک سرشار کر گیا تھا‘ یہ سب حقیقت ہے‘ سچ ہے‘ جو ہوچکا ہے‘ جو ہورہا ہے اور جو ہونے جارہا ہے‘ خواب نہیں اٹل حقیقت ہے‘ خود کو یقین دلاتی وہ آئینے کے سامنے سے ہٹ گئی تھی۔
ٹفن سنبھالے وہ زنگ آلود گیٹ سے باہر نکلی تو پہلی نظر اس پر ہی گئی تھی جو پول سے پشت ٹکائے اس کی طرف ہی متوجہ تھا‘ آگے قدم بڑھاتی وہ اس گاڑی کی طرف بھی متوجہ تھی جو سڑک کے دوسرے کنارے پر رکی ہوئی تھی‘ اس بڑی سی گاڑی کی چھت پر بھی کچھ لوگ بیٹھے نظر آرہے تھے‘ گاڑی میں یقینا خواتین بھی موجود تھیں‘ شور سے اندازہ ہوا تھا۔
’’یہ لوگ شاید پکنک پر جارہے ہیں‘ گاڑی میں خرابی ہوگئی ہے۔‘‘ اس کی حیران سوالیہ نظروں پر عرش نے بتایا۔ جبکہ وہ گاڑی سے باہر آتیں لڑکیوں کی طرف متوجہ ہوتی دلچسپی سے ان سب کو دیکھنے لگی تھی۔
’’وہ سب مجھ سے زیادہ اہم ہیں شاید…‘‘ عرش کی ناراض آواز پر وہ چونک کر اس کی طرف متوجہ ہوئی تھی۔
’’تم جانتے ہو کہ یہ ممکن نہیں۔‘‘ وہ بولی۔ ’’کبھی کبھی انسان سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ ایک ہمارے سوا سب مطمئن ہیں‘ شادوآباد ہیں‘ پتہ نہیں یہ نظر کا دھوکہ ہوتا ہے یا خود ترسی کی کوئی منزل۔‘‘ ان سب لڑکے لڑکیوں کو آپس میں خوش گپیوں میں مگن دیکھ کر وہ عجیب لہجے میں بولی۔
’’مگر ہم یہ سچ بھی جانتے ہیں کہ ہر انسان کی زندگی میں دشواریاں‘ کٹھنائیاں الگ الگ نوعیت کے ساتھ کسی نہ کسی صورت میں داخل ہونے کا راستہ بنا ہی لیتی ہیں۔ اگر کوئی ہرحال میں مسکرا رہا ہے تو یقینا وہ غم وآلام کے درمیان سے چھوٹی چھوٹی خوشیاں کشید کرنا جانتا ہے۔‘‘ عرش کے سنجیدہ لہجے پر اس نے تائیدی انداز میں سر ہلایا تھا۔
’’ان کی گاڑی کو ٹھیک کرنے میں تمہیں ان کی مدد کرنی چاہیے۔‘‘ وہ بولی۔
’’مجھے نہیں لگتا کہ وہاں میری کسی مدد کی ضرورت ہے‘ وہ لوگ اچھی طرح ٹائر بدل رہے ہیں۔‘‘ عرش نے کہا۔
’’وہ سب لڑکیاں بار بار تمہیں اس طرح کیوں دیکھ رہی ہیں؟‘‘ زُنائشہ کے خفت زدہ لہجے پر وہ حیران ہوا۔
’’پتہ نہیں‘ مجھے تو یہ تم سے معلوم ہورہا ہے اگر واقعی ایسا ہے تو مجھے بتائو میں اچھا تو لگ رہا ہوں؟‘‘ جینز کی چست جیکٹ کے ادھ کھلے گریبان کی زپ بند کرتے اس نے پوچھا۔
’’عرش… میں مذاق نہیں کررہی…‘‘ اس کی آنکھوں سے ٹپکتی شرارت پر وہ خفگی سے بولتی یک دم چپ ہوگئی کہ رکی ہوئی گاڑی کی چھت پر موجود لوگوں نے میوزک آن کرنے کا شور مچانا شروع کردیا تھا‘ کانوں کو پھاڑ دینے والے میوزک نے کم از کم زُنائشہ کو تو دہلا کر رکھ دیا تھا‘ مائیکل جیکسن کے ’’تھرلر‘‘ نے یک دم ماحول کو ہولناک حد تک بدل کر رکھ دیا تھا‘ تب ہی وہ ہک دک رہ گئی تھی جب اس نے عرش کو ایک ہی جست میں سڑک پر اترتے دیکھا تھا‘ عرش کا رخ اس کی ہی جانب تھا اور اب مائیکل جیکسن کے مخصوص مون لائٹ اسٹیپ میں وہ پیچھے کی طرف جارہا تھا‘ ایسا لگ رہا تھا جیسے اس کے جوتوں تلے کھردری سڑک نہیں بلکہ شیشے کا فرش ہے جس پر اس کے جوتے پھلستے جارہے ہیں‘ گاڑی کی طرف موجود سب ہی عرش کی طرف متوجہ ہوچکے تھے‘ تیز چنگھاڑتے میوزک میں سیٹیوں اور آوازوں کا شور بھی شامل ہوگیا تھا‘ کچھ لڑکے بھی موج میں آتے عرش کا ساتھ دینے آگئے تھے‘ اور پھر تھرلر کا باقاعدہ آغاز ہوگیا تھا‘ زُنائشہ بس دنگ نظروں سے عرش کے جوش اور ولولے کو ہی دیکھ رہی تھی‘ اس نے ان سب لڑکیوں کو تقریباً پاگل کردیا تھا جو حلق کے بل چیخ رہی تھیں‘ عرش سمیت ان سب ہی لڑکوں کی انرجی قابل دید تھی‘ وہ سب مکمل فارم میں اور مائیکل جیکسن کے سچے پرستار دکھائی دے رہے تھے۔
خوف ناک اور ہیجان خیز ماحول میں پول سے لگی کچھ وقت تو وہ اس سب کو وحشت زدہ نظروں سے دیکھتی رہی تھی‘ عرش مگن تھا‘ اس ہولناک شور شرابے میں اس کی گھٹن اور وحشت بڑھتی چلی گئی تھی‘ اس سے پہلے کہ دم گھٹ جاتا وہ تیزی سے پلٹتی گھنی شاخوں تلے پھیلی تاریکی کی سمت بڑھ گئی تھی‘ کب وہ ہنگامہ تھما‘ کس وقت گاڑی وہاں سے گئی اسے پتہ نہیں چلا‘ بائونڈری پر سر جھکائے وہ سختی سی کانوں پر ہاتھ جمائے بیٹھی تھی۔ جب عرش اس کی طرف آیا تھا۔
’’میں نے تمہیں متاثر کرنے کے لیے اتنی محنت کی اور تم یہاں بھاگ آئیں… حد ہوتی ہے۔‘‘ اس کے سر کو انگلی سے بجاتا وہ قریب بیٹھا تھا مگر اگلے ہی پل بری طرح چونکا جب زُنائشہ کانوں سے ہاتھ ہٹا کر چہرہ ہاتھوں میں چھپا گئی تھی۔
’’تمہیں کیا ہوا؟‘‘ دنگ نظروں سے اسے دیکھتا وہ اس کے سامنے گھٹنوں کے بل آبیٹھا تھا اور اس کے ہاتھ چہرے سے الگ کیے تھے‘ جو سسکیوں کو روکنے کی کوشش کرتی مزید چہرہ جھکا گئی تھی۔
’’زُنائشہ… میں ابھی اور اسی وقت مر جائوں گا… بتائو تمہیں ہوا کیا ہے‘ کیوں اس طرح رو رہی ہو؟‘‘ وہ شدید مضطرب ہوتا پوچھ رہا تھا۔ جواباً وہ بمشکل نفی میں سر ہلا سکی تھی۔
’’کچھ نہیں ہوا‘ اس لیے رو رہی ہوں…؟‘‘ وہ حیران پریشان تھا جبکہ زُنائشہ اسی طرح لرزتی سسکیاں بھرتی رہی تھی۔
’’سنو… کچھ دیر پہلے جو میں کررہا تھا‘ وہ سب تمہیں پسند نہیں آیا؟‘‘ چاند کی دودھیا مدھم روشنی میں عرش نے بغور اس کی بھیگی پلکوں سے ٹوٹ ٹوٹ کر بکھرتے موتیوں کو دیکھ کر پوچھا۔
’’تم کچھ بولوگی نہیں تو مجھے کیسے پتہ چلے گا کہ مجھ سے کیا غلطی ہوئی ہے‘ بتائو مجھے کیا تمہیں وہ سب پسند نہیں آیا؟‘‘ عرش کے نرم لہجے پر اس نے نفی میں سر ہلا کر جواب دیا‘ گہری سانس لے کر وہ اس کی پلکوں سے پھسلتے قطروں کو پوروں میں سمیٹنے لگا۔
’’بس یونہی خود پر قابو نہ رہا تھا‘ سوچا تھا‘ تم خوش ہوجائوگی اور وہ سب بھی جو گاڑی خراب ہونے کی وجہ سے بیزار تھے۔‘‘
’’تم یہاں میرے لیے آئے تھے یا ان سب کو اس طرح خوش کرنے؟‘‘ وہ رندھے لہجے میں بولی۔
’’ظاہر ہے‘ میں یہاں تمہارے لیے ہی موجود ہوں… اگر مجھے معلوم ہوتا کہ یہ سب تمہیں ناگوار گزرے گا تو کبھی ایسی جرأت نہیں کرتا‘ میں ہر اس چیز پر لعنت بھیجتا ہوں جو تمہیں تکلیف پہنچائے‘ تمہاری آنکھوں میں آنسو لانے کا سبب بنے کیونکہ میں تم سے محبت کرتا ہوں بے تحاشہ محبت۔‘‘ عرش کے گمبھیر مدھم لہجے پر وہ سن ہوگئی تھی‘ تیزی سے دھڑکتے دل کے ساتھ اس نے چاہا تھا کہ اپنا ہاتھ عرش کی گرفت سے نکال لے مگر دیر ہوچکی تھی‘ جذب کی سی کیفیت میں وہ اس کے ہاتھ کی پشت لبوں سے چھو رہا تھا۔
’’جانتا ہوں کہ مجھے ابھی اتنا حق نہیں حاصل ہوا‘ شاید میرا یہ عمل بھی تمہیں پسند نہ آیا ہو‘ مگر میں جذبوں کے اس اظہار سے خود کو نہیں روک سکوں گا… یہ ایک پاکیزہ اور مقدس عمل ہے جس میں کوئی کھوٹ‘ کوئی ملاوٹ نہیں‘ جو بے اختیاری ہے‘ محبت پر بھی کبھی اختیار حاصل ہو اہے۔‘‘ اس کا سحر انگیز لب ولہجہ زُنائشہ کو روح کی گہرائیوں میں اترتا محسوس ہوا تھا۔
’’آئندہ میں ایسا کوئی موقع نہیں آنے دوں گا لیکن انسان ہوں‘ انجانے میں میری کسی حرکت سے دل کو ٹھیس پہنچے تو مجھے برا بھلا کہ کر دل ہلکا کرلینا‘ اس طرح رونے کی اجازت میں تمہیں بالکل نہیں دوں گا… سمجھ گئیں؟ اب ہاں میں جواب دے کر مسکرا بھی دو تاکہ میری جان میں جان آئے۔‘‘ عرش کی تاکید پر وہ اس کی وارفتہ نگاہوں میں دیکھتی اثبات میں سر ہلاتی ہلکا سا مسکرائی۔
’’ذرا اچھی نہیں لگتی روتے ہوئے‘ میں ڈر کر بھاگنے والا تھا… اب مجھے کھانا بھی کھلائوگی یا یونہی قدموں میں بٹھائے رکھوگی؟‘‘ عرش کے خشمگیں لہجے پر اس کی مسکراہٹ گہری ہوگئی تھی۔
ان کی محفل میں نصیر ان کے تبسم کی قسم
دیکھتے رہ گئے ہم ہاتھ سے جانا دل کا
ٹھنڈی آہ کے ساتھ شعر پڑھتے ہوئے عرش نے شوخ نظروں سے اسے دیکھا۔
’’عرش… یہاں آکر کھانا کھائو۔‘‘ ٹفن کی طرف متوجہ وہ خشمناک لہجے میں بولی۔
’’پیار سے نہیں بول سکتیں…؟‘‘ خفگی سے اسے دیکھتا وہ سامنے آبیٹھا تھا۔
’’بول سکتی ہوں مگر بولوں گی نہیں ورنہ گلے ہی پڑ جائو گے۔‘‘ مسکراہٹ چھپاتے ہوئے اس نے نوالہ عرش کی طرف بڑھایا ہی تھا اگلے ہی پل وہ چیخ اٹھی۔
’’عرش…‘‘ اپنا ہاتھ جھٹکتے ہوئے زُنائشہ نے جھنجلا کر اس کے شانے پر وہی ہاتھ جڑنا چاہا تھا مگر بلند آواز میں ہنستا عرش صاف بچ نکلا تھا۔
’’اب خود ہی کھائو‘ میں نہیں کھلائوں گی تمہیں۔‘‘ اپنی انگلی سہلاتی وہ ناراضگی سے بولی۔
’’مجھ پر ہاتھ اٹھایا تم نے… توبہ کرو توبہ…‘‘
’’میں توبہ کروں اور تم نے جو واہیات حرکت کی؟‘‘ وہ بگڑی۔
’’وہ تو عمل کا ردعمل تھا۔ تم نے بات ہی ایسی کی کہ مجھے غصہ آگیا۔‘‘
’’عرش… میری انگلی کاٹ کر تم ذرا بھی شرمندہ نہیں… پاگل ہوکیا؟‘‘ وہ اس کی ڈھٹائی پر ہنسی نہیں روک سکی تھی۔
’’کھانا کھلادو‘ سارا دن کی محنت مشقت کے بعد اتنا لذیذ کھانا تمہارے ہاتھوں سے کھانا نصیب ہوتا ہے۔‘‘ اس کی بے صبری نے زُنائشہ کو مستعد کردیا تھا۔ ’’یہاں سے گیراج جانا ہے۔‘‘
’’عرش… سارا دن کی محنت کے بعد آرام بھی تو ضروری ہے‘ رات میں تو کام مت کیا کرو ورنہ تمہاری صحت بھی خدانخواستہ خراب ہوسکتی ہے۔‘‘ وہ تشویش سے بولی۔
’’گھر جانے کا دل ہی نہیں چاہتا‘ ماما کی کمی بے حد محسوس ہوتی ہے‘ کئی طرح کی سوچیں سونے نہیں دیتیں۔‘‘ اس کے بجھے بجھے لہجے پر وہ کچھ بول نہیں سکی۔
’’جب تمہیں اپنے گھر ہمیشہ کے لیے لے جائوں گا تو خوب آرام کروں گا اور تمہیں بھی آرام سے اپنے سامنے بٹھا کر رکھوں گا۔‘‘
’’لیکن میں تمہارے سامنے اگر آرام سے بیٹھی رہوں گی تو تمہاری خدمت کون کرے گا گھر کے کام کون سنبھالے گا؟‘‘ اس نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔
’’وہ سب تمہارا درد سر نہیں‘ ابھی دن رات محنت اسی لیے کررہا ہوں کہ دو‘ چار ملازم افورڈ کرسکوں‘ گھر میں تم میری بیوی بن کر بس احکامات جاری کرو گی‘ جن کی تعمیل میں بھی کروں گا۔‘‘ اس کے قطعی لہجے پر وہ دھیرے سے ہنسی دی۔
’’اچھا‘ سنو زرق کے بارے میں خبر ملی ہے مجھے۔‘‘
’’کہاں ہے وہ‘ کس حال میں ہے؟‘‘ وہ بے چین ہو اٹھی۔
’’بتاتا ہوں‘ سن لو پہلے تسلی سے۔ اس کے ساتھ شغل لگانے والے آج اتفاق سے مجھے اپنے ہوش وحواس میں مل گئے تھے‘ ان سے پتہ چلا منشیات فروشوں کا مقروض ہوگیا ہے‘ قرض ادا کرنے کے قابل وہ ہے نہیں اس لیے ان لوگوں سے بچنے کے لیے روپوش ہے‘ وہ خطرناک لوگ ہیں‘ زرق کے دشمن بنے اسے ڈھونڈتے پھر رہے ہیں۔‘‘
’’بیڑہ غرق ہو اس کا‘ جان میں جان نہیں اور جان کے دشمن بنائے گھوم رہا ہے‘ جانے کہاں جاکر چھپا ہے اب۔‘‘ وہ غم وغصے سے بولی۔
’’اپنے دشمنوں سے وہ خود ہی نبٹے گا مگر فکر مجھے اب تمہاری ہے کہ اس کے دشمن اس کی تلاش میں تمہارے گھر تک نہ پہنچ جائیں‘ اس لیے تمہیں اب بہت احتیاط سے کام لینا ہوگا۔‘‘ پانی کی بوتل اٹھاتا وہ بولا۔ ’’پریشان مت ہو‘ پہلے یہ کھانا ختم کرو پھر بتاتا ہوں کہ تمہیں کیا کرنا ہے۔‘‘ عرش کی تسلی پر بھی وہ مطمئن نہیں تھی‘ کھانے کے دوران عرش ہلکی پھلکی گفتگو کرتا رہا تھا‘ کچھ غائب دماغی سے اس کی باتیں سنتی وہ بمشکل چند نوالے ہی حلق سے اتار سکی تھی‘ جیکٹ کی پاکٹ سے ایک موبائل فون نکالتا وہ اس کے قریب ہوا تھا۔
’’مجھے یہ فون تمہیں دینا ہی تھا تاکہ دن میں کسی بھی وقت تم سے رابطہ ہوسکے مگر اب یہ تمہارے لیے بہت ضروری ہوگیا ہے‘ کسی بھی شخص پر تمہیں ذرا بھی شک ہو‘ کوئی خطرہ محسوس ہو یا دروازے پر آکر کوئی زرق کے بارے میں کچھ پوچھے‘ اسی وقت تم مجھے فون کروگی‘ مجھے پہنچنے میں دس سے پندرہ منٹ لگیں گے‘ بس اور اس دوران گھر کا دروازہ بالکل نہیں کھولنا‘ زرق کے لیے کوئی بھی کسی قسم کا بھی مطالبہ لے کر آئے‘ تم نے اندر ہی سے اسے ٹالنا ہے‘ کسی سوال جواب‘ بحث یا تکرار سے گریز کرنا‘ گھبرانا بالکل نہیں‘ میرے پہنچنے تک بہت احتیاط کرنا‘ سمجھ گئیں…؟‘‘ عرش کے سوال پر وہ تشویش کے باوجود اثبات میں سر ہلا گئی تھی۔
’’تم ابھی سے پریشان ہونے لگی ہو… میں پھر کس طرح مطمئن ہوکر یہاں سے جاسکوں گا؟‘‘
’’نہیں… میں ٹھیک ہوں‘ تم نے جو کچھ کہا اس پر عمل کروں گی‘ جب تم ہو میرے ساتھ تو مجھے کسی بات کے لیے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔‘‘ وہ سنجیدہ مسکراہٹ کے ساتھ بولی۔
’’ایک بات اور… کل میں ایک بہت اچھے ڈاکٹر سے اپائنمنٹ لے رہا ہوں‘ تمہاری امی کا چیک اپ وہی کریں گے‘ مجھے پوری امید ہے کہ ضرور کوئی بہتری کی صورت نکل آئے گی۔‘‘ عرش بول رہا تھا جبکہ وہ تشکر سے نم ہوتی آنکھوں کے ساتھ اسے دیکھتی کچھ بول نہیں سکی تھی۔ اب تک وہ تن تنہا ہی اپنی ماں کے لیے پریشان ہوتی سرکاری ہسپتالوں کے چکر کاٹتی رہی تھی مگر اب جو سہارا اسے عرش سے ملا تھا تو دل بھر آیا تھا۔
۹… ٭ … ۹
بڑے سے خوش رنگ سیب میں چھری کی نوک اترتی چلی گئی تھی‘ چھری کو واپس کھینچ کر اس نے دوبارہ سیب میں اتارا… بار بار یہ عمل دہراتے ہوئے عجیب سا جنون سوار ہورہا تھا اس پر‘ رفتار تیز تر ہوتی جارہی تھی‘ خوش رنگ سیب کا حشر نشر ہوچکا تھا‘ ہیجانی کیفیت میں اسے ذرا بھی احساس نہیں ہوا کہ چھری کی پے در پے ضربیں اس کی ہتھیلی کو بھی زخمی کررہی ہیں‘ کچن میں اسی کی تلاش میں آتی ندا ہک دک رہ گئی تھیں‘ رجاب کے وحشت انگیز تاثرات اور ہاتھ سے رستے گاڑھے خون کو دیکھتے ہوئے ان کے حواس گم ہوئے تھے‘ اگلے ہی پل وہ اس کی طرف دوڑیں۔
’’رجاب… یہ کیا کررہی ہو تم‘ تمہارا ہاتھ زخمی ہوگیا ہے۔‘‘ چھری اس سے چھینتے ہوئے ندا چیخیں‘ رجاب کی آنکھیں غیر معمولی حد تک کھلی ہوئی تھیں‘ جن میں پہچان کا کوئی تاثر نہیں تھا‘ پلک جھپکے بغیر وہ یک ٹک ندا کو دیکھ رہی تھی جو راسب کو پکارتیں اس کی خون آلو ہتھیلی پر ٹشو پیپرز رکھ رہیں تھیں۔
اس کے ہاتھ پر بینڈج کرتے راسب نے ایک بار پھر اسے دیکھا تھا جو سرد وسپاٹ نظروں سے ان کو ہی دیکھ رہی تھی۔
’’بے فکر رہو میں تم سے یہ سوال نہیں کروں گا کہ تم نے خود کو یہ چوٹ کیوں پہنچائی۔‘‘ انہوں نے کہا۔
’’چوٹ پر مرہم لگانے سے کیا ہوگا؟‘‘ اس کے سوال پر راسب نے رک کر اسے دیکھا۔
’’تمہارا زخم ٹھیک ہوجائے گا۔‘‘
’’غلط فہمی ہے آپ کی…‘‘ اس کے خنک مدہم لہجے پر راسب نے بغور اسے دیکھا‘ رجاب نے کبھی ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات نہیں کی تھی‘ کبھی ان کی بات کو رد نہیں کیا تھا‘ کبھی ان کی بات نہیں کاٹی تھی‘ وہ اسے پہچاننے کی کوشش کررہے تھے جو بول رہی تھی۔
’’ہر زخم اپنے وقت پر ہی ٹھیک ہوتا ہے‘ نہ وقت سے پہلے نہ وقت کے بعد‘ یہ بینڈج تو آپ نے اپنی تسلی کے لیے کی ہے۔‘‘
’’وقت اپنا کام کرتا رہے‘ میں اپنا کام کررہا ہوں۔‘‘ اس کی بینڈج کو درست کرتے وہ روانی سے بولے۔
’’مگر آپ کے پاس وہ مرہم نہیں جو وقت کے پاس ہے… یہ بات آپ کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔‘‘ سپاٹ لہجے میں کہتی وہ اپنا ہاتھ ان کی گرفت سے نکالتی وہاں سے چلی گئی۔
چھوٹے سے برآمدے کے اسٹیپس پر بیٹھتی وہ صحن کا جائزہ لینے لگی تھی‘ اس نئے گھر میں شفٹ ہوئے کچھ دن گزر چکے تھے‘ سب ہی یہاں ایڈجسٹ کرنے کی کوشش کررہے تھے‘ یہاں آنے کے بعد راسب نے اس سے کہا تھا کہ ان سب کو کچھ عرصے تک اسی گھر میں رہنا ہوگا‘ وہ بہت جلد اس قابل ہوجائیں گے کہ ایک بڑا اور ذاتی گھر خرید سکیں‘ فی الوقت وہ اپنے کاروبار پر ساری توجہ دینا چاہتے تھے‘ رجاب کی اپنی کوئی رائے نہیں تھی وہ پہلے ہی سب ان کی مرضی پر چھوڑ چکی تھی۔ برآمدے میں آتے راسب نے اسے دیکھا اور پھر اسے پکارتے ہوئے کرسیوں کی سمت بڑھ گئے تھے۔
(ان شاء اﷲ باقی آئندہ ماہ)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close