محبت یوں بھی ملتی ہےناول

محبت یوں بھی ملتی ہے

نزہت جبین ضیاء

’’مطیرہ! چائے ملے گی کہ نہیں…؟‘‘ آذر کی تیز آواز پر میں جوھم کا ٹفن پیک کرتے ہوئے چونکی۔

’’ابھی لائی!‘‘ میں نے جواب دیا اور اگلے لمحے میں چائے کی پیالی لیے ان کے سامنے کھڑی تھی۔
’’باتیں تو بڑی بڑی ہیں تمہاری مگر ہر کام میں دیر…‘‘ حسبِ عادت آذر نے طعنہ مارا۔
’’دیر کہاں ہوئی؟ ابھی آٹھ بجنے میں بیس منٹ کم ہیں۔‘‘ میں بولی۔
’’ہاں… جواب دینا تو گویا تم پر فرض ہے۔‘‘
’’جواب نہیں‘ آپ کو اطلاع دی ہے۔‘‘ میرا اطمینان انہیں مزید تپا گیا۔
’’اوکے مما! ہم جارہے ہیں۔ گاڑی آگئی۔‘‘ جوہم اور نمیر بیگ کاندھے پر ڈالتے ہوئے باہر کی جانب لپکے۔
’’اوکے‘ اللہ حافظ!‘‘ ساتھ ہی آذر نے بھی بریف کیس اٹھایا۔
’’میں بھی جارہا ہوں‘ اللہ حافظ!‘‘
’’دعا پڑ ھ کر جانا۔‘‘ میں نے عادتاً کہا۔ میری عادت تھی میں ضرور بچوں اور آذر کوباہر جاتے وقت دعا پڑھنے کا یاد دلاتی تھی‘وہ لوگ دعا پڑھ لیتے اور میں مطمئن ہوجاتی۔
آج بھی تینوں جاچکے تھے اور گھر کسی اکھاڑے کا نقشہ پیش کررہا تھا۔ میں نے جلدی جلدی سمیٹنا شروع کیا تب ہی ماسی آگئی۔ ماسی برتن دھونے لگی اور میں گھر سمیٹ کر دوپہر کے کھانے کی تیاری میں لگ گئی۔ اماں نماز پڑھ کر ڈیڑھ بجے کھانا کھاتی تھیں‘ تب ہی بچے بھی آتے تھے اس لیے اماں کی نماز اور بچوں کے اسکول سے آنے تک میں ٹیبل پر کھانا لگادیتی تھی۔ اماں یعنی میری ساس بہت پیار کرنے والی خاتون تھیں‘ مجھ پر جان چھڑکتی تھیں‘لوگ ہمارے پیار کی مثالیں دیتے حتیٰ کہ کبھی کبھی آذر بھی جھنجلا جاتے کہ اماں ہر بات میں‘ ہرموقع پر میری ہی تعریف کرتی تھیں اور مجھے ہی سراہتی تھیں۔
میری اور آذر کی شادی کو دس سال ہوچکے تھے اورمجھے روزِ اوّل ہی اس بات کا احساس ہوگیا تھا کہ آذر ایک خود پسند انسان ہیں‘ اپنی بات اور فیصلے کو مقدم رکھنے والے‘ اپنے علاوہ کسی کو بہتر اور کل نہیں سمجھتے تھے لیکن وہ مجھے بہت پیار کرتے تھے۔ شادی کے ہفتے بعد ہی میں نے کچن سنبھال لیا‘ آذر پڑھے لکھے اور پُرکشش شخصیت کے مالک تھے‘ ساتھ ہی بہترین جاب بھی تھی‘ ایک شادی شدہ بہن تھیں جوامریکا میں رہائش پذیر تھیں‘ گھر میں ملازمہ تھی جس کو میں نے نکال دیا تھا‘ مجھے شروع سے ہی ماسیاں پسند نہیں تھیں۔ ان کے کام سے مطمئن نہ ہوتی تھی اسی لیے اماں کے منع کرنے کے باوجود میں نے سارے گھر کی ذمہ داری خود اٹھالی‘ پہلے دن ہی ناشتے کی تیاری میں خوب محنت کی تاکہ اماں اور آذر خوش ہوجائیں۔ پراٹھے‘ قیمہ‘ بھجیا اور سوجی کا حلوہ جب ٹیبل پر آیا تو اماں نے میری بلائیں لے لیں جب کہ آذر سر جھکائے کھاتے رہے۔ میں سارا وقت ان کی طرف داد طلب نگاہوں سے دیکھتی رہی کہ اب کچھ کہیں… مگر وہ کسی قسم کا رد عمل ظاہر کیے بغیر کھا کر اٹھ بھی گئے اور میں انتظار ہی کرتی رہی‘ ستائش بھرے الفاظ یا ستائشی نظروں کا مگر…میرا دل بجھ سا گیا۔
’’آذر! کیا ناشتا اچھا نہیں بنا تھا؟‘‘ میں نے آخر پوچھ ہی لیا۔
’’کیوں؟‘‘ میرے سوال کے جواب میں سوال آیا۔
’’وہ… آپ نے تعریف نہیں کی نا۔‘‘ میں گڑبڑاگئی۔
’’ارے! کوئی نئی چیز تھوڑا ہی بنائی تھی۔‘‘ جواب سے میرے اوپر برف ڈال دی۔
’’جی!‘‘ میں خود ہی شرمندہ ہوگئی اور وہ اطمینان سے ڈریسنگ ٹیبل سے پرفیوم اٹھا کر گنگناتے ہوئے اسپرے کرنے لگے‘ میں نم ہوتی پلکیں جھپک کر کمرے سے نکل گئی۔
پھر تو اکثر ہی ایسا ہوتا‘ میں جانفشانی‘ محنت اور لگن سے سارا دن گھر کے کام کرتی۔ اماں قدم قدم پر مجھے سراہتیں‘ میرا خیال رکھتیں‘ مگر آذر… اس دوران جوہم پیدا ہوگئی‘ جوہم کی پیدائش پر بھی میں میکے نہیں گئی‘یوں بھی میکے میں بھیا بھابی اور ان کے دو بچے تھے۔ اماں ابا تو کب کے گزر چکے تھے۔ جوہم کی پیدائش پر ملازمہ رکھ لی گئی لیکن جیسے ہی میں کام کرنے کے قابل ہوئی‘ دوبارہ گھر سنبھال لیا‘ ملازمین تو گھر الٹ پلٹ کردیتے ہیں‘ اب میری ذمہ داریاں بھی بڑھ گئی تھیں۔ ننھی جوہم کے چھوٹے چھوٹے کام کرتے کرتے اور گھر کے دھندے نپٹاتے نپٹاتے دن کہاں گزر جاتا پتا بھی نہیں چلتا‘ کبھی کبھی میں تھک سی جاتی۔ اماں حتیٰ الامکان ہاتھ بٹاتی رہتیں‘ جوہم کو بھی سنبھالتی تھیں‘ آذر مجھے دیکھ کر ہمیشہ یہی کہتے کہ عورتیں تو اسی طرح کرتی ہیں‘ سب ہی گھر ‘ میاں اور بچوں کو سنبھالتی ہیں‘ میں سر جھکا کررہ جاتی۔ کچھ دن اور آگے بڑھ کر ہمارے آنگن میں نمیر بھی آگیا۔ اس موقع پر آذر بہت خوش ہوئے۔ ماشاء اللہ جوہم کے بعد نمیر… اب ہماری زندگی مکمل تھی۔ اماں نے برتن‘ کپڑوں اور جھاڑو کے لیے ملازمہ رکھ لی‘ اب اماں بھی بھاگ دوڑ کے قابل نہیں تھیں‘ جوہم بھی چھوٹی تھی۔
وقت کے ساتھ ساتھ آذر کی ترقی بھی ہوتی گئی‘ بچے بھی بڑے ہورہے تھے۔ گھر بدل گیا اور گاڑی کا اضافہ ہوا‘ ماحول بدل گیا تھا لیکن آذر کی فطرت نہ بدلی۔ آج بھی آذر اسی طرح تھے۔ میں کبھی کبھی جھنجلا جاتی‘ فجر کے وقت اٹھتی سارا دن گھن چکر بنی رہتی‘ فجر کے ساتھ ہی سب جاگ جاتے‘ اماں نماز کے بعد دودھ لیتی تھیں۔ آذر اور بچے واک کرنے نکل جاتے اور میں کچن میں گھسی ناشتے کی تیاری میں لگ جاتی۔ آذر کو باہر کے کھانے کی بالکل عادت نہ تھی اس لیے ان کے لیے لنچ بھی بنانا ہوتا۔ بچے بھی ٹفن لے کرجاتے۔ تینوں چلے جاتے تو اماں اور میں ناشتا کرتے پھر ماسی آجاتی۔ میں دوپہر کے کھانے کی تیاری میں لگ جاتی۔ بچے دوپہر میں آتے کھانا کھاکر کچھ دیر آرام کرتے‘میں نماز سے فارغ ہوکر بچوں کے کپڑے استری کرتی شام کو ٹیوٹر آتے تھے۔ مغرب سے پہلے آذر آجاتے۔ مغرب کے ساتھ ہی میں ڈنر کی تیاری میں لگ جاتی۔ اماں بلڈپریشر اور شوگر کی مریضہ تھیں۔ ان کو ٹائم سے دوا دینا‘ بی پی چیک کرنا اور ماہانہ ڈاکٹر کو دکھانا‘ بچوں کی اسکول میٹنگز اور شاپنگ یہ ساری ذمہ داری بھی میری ہی تھی۔ دن بھر کے کاموں سے تھک کر جب رات کو کمرے میں آتی تو دل چاہتا کہ فوراً سوجائوں لیکن میں آذر کو ٹائم دیتی‘ وہ آفس کا کام کررہے ہوتے تو ان کے لیے کبھی چائے‘کافی کبھی جوس بناکر لاتی۔ سونے سے پہلے بچوں کے یونیفارم اور آذر کے آفس کے کپڑے‘ جوتے‘ موزے صبح کے لیے ساری چیزیں تیار کرتی۔
اس روز میرے سر میں بہت درد تھا اس لیے میں جلد ہی بیڈ پر لیٹ گئی۔
’’مطیرہ! ایک گلاس پانی لادو۔‘‘ آذر نے کام کرتے کرتے مجھے کہا۔
’’آذر پلیز! آپ خود لے لیں۔‘‘ میںنے لجاجت سے کہا۔ ’’میرے سر میں شدید درد ہورہا ہے‘ تھکن بھی بہت ہوگئی ہے۔‘‘
’’کیوں؟ آج ایسا کیا کیا کہ تھکن ہوگئی؟‘‘ آذر نے مڑ کر سوال کیا۔
’’کیا کیا…! کیا مطلب؟ کام کیا سارا دن…‘‘ میں الجھ کر بولی۔
’’معمول سے الگ تو کچھ نہیں کیا نا اور تمہیں توعادت ہوجانی چاہیے اس معمول کی… اس میں کیسی تھکن…‘‘
’’آذر! میں بھی انسان ہوں‘ سار ادن گدھے کی طرح مصروف رہتی ہوں۔‘‘ میں تپ کر بولی۔
’’مطیرہ! عاجز آگیا ہوں یہ سن سن کر…کیا الگ کرتی ہو تم؟ تمام عورتیں ہی کرتی ہیں یہ تمام کام…‘‘ آذر کا لہجہ بھی غصیلا تھا۔
’’تو … تو… انہیں سراہا بھی جاتا ہے۔‘‘ میرا لہجہ نا چاہتے ہوئے بھی بھیگنے لگا تھا۔
’’کیا کروں‘ کیا تمہیں تاج پہنائوں؟‘‘ آذر جھنجلایا۔
’’تاج! ہنہہ…!‘‘ میںطنز سے ہنسی۔ ’’دو بول تو کہہ نہیں سکتے…‘‘
’’اچھا بھائی! معاف کردو۔‘‘ آذر نے جھنجلا کر ہاتھ جوڑے تو میں نے سر تک چادر تان لی۔
ء…٭…ء
دوسری صبح آذر نارمل تھے۔ موسم تبدیل ہورہا تھا‘ اسی کا اثر مجھ پر ہورہا تھا۔ صبح اٹھی تو طبیعت کافی مضمحل تھی۔ نماز اور ناشتے وغیرہ کی تیاری کی‘ بچے اور آذر کے جانے کے بعد ٹمپریچر چیک کیا تو ایک سو دو تھا۔ اماں سن کر پریشان ہوگئیں‘ زبردستی گولیاں کھلا کر مجھے کمرے میں بھیج دیا اور خود ماسی کے ساتھ کام نپٹانے لگیں۔ میں کمبل اوڑھ کر لیٹی تو آنکھ لگ گئی پھر جب آنکھ کھلی تو ڈیڑھ بج چکا تھا‘ میں ہڑبڑا کر اٹھی باہر آکر دیکھا گھر صاف ستھرا روز کی طرح تھا۔ اماں بچوں کے ساتھ لنچ کررہی تھیں‘ رات کے بھنڈی گوشت اور مسور کی دال کے ساتھ تندوری روٹیاں جو شاید اماں نے ماسی سے منگوائی تھیں۔ مجھے اماں پرپیارا آگیا۔
’’اماں! آپ نے مجھے کیوں نہیں اٹھایا؟‘‘ میں نے تشکر سے اماں کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا۔
’’پاگل نہ ہو تو…! آرام تو کرتی نہیں ہو۔ کم از کم طبیعت خراب ہو تو سکون سے بیٹھ جائو نا۔‘‘ اماں نے پیار سے مجھے دیکھا۔ ’’تم جائو‘ آرام کرلو۔ میں نے نگینہ کو شام تک کے لیے روک لیا ہے۔ ابھی تمہارے لیے سلائس اور دودھ بھجواتی ہوں۔‘‘ اماں نے کرسی سے اٹھتے ہوئے میرے ہاتھ تھام کر محبت بھرے لہجے میں کہا۔ تب ہی فون کی بیل ہوئی‘ میں نے اٹھایا دوسری جانب آذر تھا۔
’’مطیرہ! رات کو میرے چار دوست آرہے ہیں ڈنر کے لیے… تم تندوری چکن‘ چائینز‘ کوفتوں کا سالن اور ٹرائفل بنالینا۔‘‘
’’آذر! مجھے بخار ہے‘ میں نہیں کرسکوں گی۔ آپ کچھ اور ارینج کرلیں پلیز…!‘‘ میں نے آہستگی سے کہا۔
’’افوہ بھئی! کیا مصیبت ہے؟ صبح تم بھلی چنگی تھیں… ٹھیک ہے… رہنے دو…‘‘ غصے سے کہہ کر فون پٹخ دیا۔
’’کیا ہوا بیٹی!‘‘ اماںنے ستے ستے چہرے کو دیکھ کر پوچھا۔
’’وہ… آذر چار پانچ دوستوں کو ڈنر پر لانا چاہ رہے تھے…‘‘
’’پھر تم نے منع کردیا نا!‘‘ اماں نے جلدی سے پوچھا کہ کہیں میں نے ہامی نہ بھرلی ہو۔
’’منع کردیا ہے میں نے…‘‘ میں نے آہستگی سے کہا۔
’’اچھا کیا!‘‘ اماں نے مطمئن لہجے میں کہا۔
’’جائو تم کچھ کھالو۔‘‘
’’جی اماں!‘‘ کہہ کر میں اٹھ گئی۔
اس رات آذر دیر سے آئے‘ جب تک میری طبیعت بھی کچھ سنبھل چکی تھی۔ آذر باہر ڈنر کرکے آیا تھا۔
’’اچھی بھلی تو ہو تم…!‘‘ آتے ہی مجھے دیکھ کر کہا بجائے اس کے کہ مجھ سے میری خیریت معلوم کرتے۔ میں نے نگاہ اٹھائی۔
’’جی! اب بہتر ہوں…‘‘ بچوں کے یونیفارم ہینگ کرتے ہوئے میں بولی۔
’’تم کچھ نازک مزاج نہیں بنتی جارہی ہو؟‘‘ لہجہ تیکھا تھا۔
’’کیوں… کیا نازک مزاجی دکھائی ہے میں نے…‘‘ میں نے اسی لہجے میں سوال کیا۔
’’آج تم نے مجھے دوستوں کے سامنے شرمندہ کردیا۔‘‘
’’آذر! آپ کے دوست مہینے میں دو بار کھاتے ہیں ہمارے ہاں… آج میں اس قابل نہیں تھی‘ انسان مجبور بھی تو ہوسکتا ہے نا! اس میں شرمندہ ہونے والی کون سی بات ہے؟‘‘ میں نے بھی دو بدو کہا۔
’’مطیرہ!حیرت ہوتی ہے مجھے تم پر… اور عورتیں بھی ہوتی ہیں جو جاب بھی کرتی ہیں‘ چھ چھ بچے بھی سنبھالتی ہیں‘ سودا سلف لانا‘ بل جمع کروانا… سارے دھندے کرتی ہیں… کیا وہ انسان نہیں…؟ ایک تم ہو‘ دو بچوں اور آرام دہ زندگی ہونے کے باوجود ہمیشہ تھکن سے چُور رہتی ہو‘ احسانات کے تلے مجھے دباتی رہتی ہو کہ جیسے تم نرالے کام کرتی ہو۔یہ کہ جو تم کرتی ہو‘ کوئی دوسرا نہیں کرسکتا۔‘‘ وہ بکتا جھکتا باتھ روم میں گھس گیا اور میں چپکی رہ گئی۔ میں بحث کے موڈ میں نہیں تھی‘ خاموشی سے اٹھ کر آذر کے لیے چائے بنانے چلی گئی۔میں چائے بنا کر لائی تب تک آذر چینج کرکے کرسی پر بیٹھ چکا تھا۔ میں نے چائے سامنے رکھی اور بیڈ کی چادر صحیح کرنے لگی۔
ء…٭…ء
دوسری صبح میں حسبِ معمول کچن میں روز کی طرح مصروف تھی اور آذرکمرے میں تیاری کررہے تھے۔
’’مطیرہ!‘‘ انہوں نے زور سے آواز لگائی۔ ’’میرا ایک سیاہ موزہ نہیں مل رہا ہے۔‘‘
’’آئی ابھی…؟‘‘ میں نے توے سے گرما گرم پراٹھا اتار کر پلیٹ میں رکھا اور بھاگ کر کمرے میں آئی۔
’’دونوں ساتھ ہی تو تھے۔‘‘ میںنے اِدھر اُدھر دیکھتے ہوئے کہا۔
’’پھر… پھر کہاں گیا؟‘‘ آذر نے قدرے طنز سے کہا۔
’’آپ دوسرے پہن لیں نا!‘‘ میں نے ان کی بات نظر اندازکرکے تحمل سے کہا اور الماری سے دوسرے موزے کی جوڑی نکالی۔
’’مگر مجھے وہی چاہیے۔‘‘ انہوں نے بچوں کی طرح ضد کی۔
’’پلیز آذر! کیا بچوں کی سی حرکت ہے۔ اب وہ نہیں مل رہے تو…‘‘ مجھے غصہ آنے لگا۔
’’کام… کام… کام… شور تو اس قدر ہے تمہارے کام کا… اماں بھی تمہاری مصروفیات کے گُن گاتی رہتی ہیں‘ ڈھنگ تو ہے نہیں ذرا سا… بچوں کی طرح خود کام کرتی ہو اور مجھے بچہ کہہ رہی ہو؟‘‘ وہ سیخ پا ہوگیا۔
’’ہاں ہاں! میں بچی ہوں‘ بدسلیقہ‘ بے ڈھنگی‘ بے کار! نہیں ہوتے آپ کے کام مجھ سے…‘‘ ہاتھ میں پکڑے موزے پھینک کر میں بھی گرجی
’’ہاں کرلوں گا میں خود… کیا سمجھتی ہو تم! تمہارے بغیر کچھ نہیں ہوسکتا۔‘‘
’’ہاں ہاں! ٹھیک ہے‘ میں بھی دیکھتی ہوں۔‘‘ میں بھی غصے سے بل کھاتی ہوئی کمرے سے نکل گئی اور وہ پیچھے بڑبڑاتا رہا۔ اسی ہنگامے کے دوران بچے جاچکے تھے‘ آذر تیار ہورہا تھا اور میں جان بوجھ کر کچن میں مصروف رہی۔
’’میں جارہا ہوں۔‘‘ عادتاً وہ جاتے ہوئے کچن کے پاس آکر قدرے زور سے بولا۔
’’اللہ حافظ! دعا پڑھ کر جانا۔‘‘ بغیر سامنے آئے میں نے بھی اندر سے جواب دیا۔ آذر چلا گیا اور میں کڑھتی رہی۔ بمشکل میںنے کچھ لمحوں کے لیے ضبط کیا تھا۔ میں بھی عاجز آگئی تھی۔ آخر کار بہت سوچ بچار کے بعد میں نے ایک فیصلہ کرلیا۔ آذر کو ٹھیک کرنے کا…! اماں کو ناشتا کروا کر دوا دی اور پھر بچوں کے اسکول میںمیٹنگ کا بہانہ کرکے جلدی جلدی کھانا پکا کر میں خاموشی سے گھر سے نکل آئی۔
بھیا کے گھر آئی تو دل عجیب سا ہورہا تھا مگر مجھے خود کو مضبوط کرنا تھا۔ میں اس طرح سے کبھی نہ آئی تھی بھابی بھی پریشان ہوگئی تھیں۔
’’مطیرہ! یہ تمہارا اپنا گھر ہے میری بہن! مگر تمہیں اس طرح سے بچوں اور اماں کو بنا بتائے نہیں آنا چاہیے تھا۔‘‘ انہوں نے نرمی سے سمجھایا۔
’’بھابی پلیز!‘‘ میرا لہجہ بھیگ گیا۔
’’اوکے… اوکے… تم پلیز پریشان مت ہو۔‘‘ بھابی نے نرمی سے مجھے سینے سے لگا کر کہا تو میں نے آنکھیں صاف کیں۔ پھر میں نے اماں کو فون کرکے مطلع کیا۔
’’ہائے بیٹی! ہم کس طرح رہیں گے؟ وہ جان کر باقاعدہ رونے لگیں۔
’’اماں پلیز…! میری خاطر تھوڑی سی ہمت کرلیں‘ خدا کے لیے! اور بچوںکو بتایئے گا کہ بھابی کی طبیعت خراب ہے اور میں دو چار دن میں آجائوں گی۔ آذر کوتھوڑاسا پریشان ہونے دیں‘ آپ ہمت کریں بس!‘‘ میں نے کافی سمجھایا تو اماں کچھ سنبھلیں۔
ء…٭…ء
رات کو آذر آیا تو خلافِ توقع گھر میں مطیرہ کونہ پاکر ٹھٹکا۔
’’اماں! مطیرہ کہاں ہے؟‘‘
’’بیٹا! وہ بھی انسان ہے‘ اسے بھی آرام کی ضرورت ہے اس لیے کچھ دن آرام کے لیے اپنے بھائی کے گھر گئی ہے۔‘‘ اماں کے اطمینان پر وہ سلگ اٹھا۔
’’آرام…؟ ہنہہ! دماغ دکھارہی ہے تو شوق سے دکھائے۔‘‘ بڑبڑاتا ہوا وہ الٹے پیروں واپس ہوا اور اماں تاسف سے اسے دیکھتی رہ گئیں۔
آذر کمرے میں گیا تو روز کی طرح اس کے کپڑے سامنے نہیں تھے۔ الماری کھول کر کپڑے نکالے اور چینج کرکے کھانا کھانے ٹیبل پر آیا۔ بچا کھچا سالن اور ٹھنڈی روٹی…! بچے بھی آگئے‘ بہ مشکل کھانا کھایا‘ کھانا کھا کر بچے دادی کے کمرے میں چلے گئے‘ آذر کو چائے کی طلب ہوئی تو وہ خود ہی کچن میں آگیا۔
’’افوہ! چائے پتی اور چینی کہاں تھی… خیر تھوڑی سی تلاش کے بعد شیلف سے مل گئیں۔ الٹی سیدھی چائے بنائی مگر ذرا سا بھی مزا نہ آیا۔ چائے آدھی چھوڑ دی‘ انتہائی کوفت ہورہی تھی‘ آفس میں بھی آج کام زیادہ تھا‘ مطیرہ کے ہاتھ کی چائے سے آدھی تھکن اتر جاتی تھی‘ ابھی صبح کے کپڑے بھی پریس کرنے تھے‘ اس کا دل اٹھنے کا بھی نہیں چاہ رہا تھا۔ روز گرم گرم کھانا ہوتا‘ کھانا ختم ہوتے ہی بھاپ اڑاتی گرم گرم مزے دار چائے‘ کمرے میں آتا تو صبح کی ہر چیز تیار ملتی… مطیرہ ہی تھی جو ہر کام کہنے سے پہلے کردیتی تھی… سارے کام نبٹا کر لیٹا تو جلد ہی آنکھ لگ گئی۔
صبح آنکھ کھلی تو دیر ہوچکی تھی‘ وہ ہڑبڑا کر اٹھا‘بچے بھی سورہے تھے۔ آج نماز بھی نکل گئی تھی‘ روز تو مطیرہ اٹھاتی تھی‘ جلدی سے بچوں کو جگایا۔
’’پاپا! اتنی دیر ہوگئی ہے۔‘‘ نمیر نے منہ بسورا۔
’’جلدی آئو!‘‘ وہ قدرے تیز لہجے میں بولا تو دونوں بچے جلدی سے کھڑے ہوگئے۔ اماں بھی سورہی تھیں شاید… مگر کچن میں آیا تو اماں چائے بنارہی تھیں۔
’’ارے اماں آپ!‘‘ وہ شرمندہ ہوگیا۔
’’ہاں! ابھی ابھی آنکھ کھلی‘ میں تمہیں اٹھانے آرہی تھی۔‘‘ اماں بولیں۔
’’ہٹیں! میں ناشتا بناتا ہوں۔‘‘
’’نہیں‘تم تیار ہوجائو‘ میں بناتی ہوں۔‘‘ اماں نے سلائس نکال کر پلیٹ میں رکھے۔
’’پاپا! ہمیں پراٹھا کھانا ہے۔‘‘ نمیر نے سلائس دیکھ کر منہ بنایا۔
’’چپ چاپ ناشتا کرو‘ دادو پراٹھے نہیں بناسکتیں۔‘‘ وہ چائے کا گھونٹ لے کربولا۔
’’پاپا! ہمارا ٹفن…؟‘‘ جو ہم نے یاد دلایا۔
’’تم لوگ کینٹین سے کچھ لے لینا۔‘‘ جیب سے والٹ نکال کر پیسے بچوں کو تھمائے۔
’’اور آپ…؟‘‘ جوہم نے سوالیہ نظریں اٹھائیں۔
’’میں بھی لنچ باہر سے ہی کرلوں گا۔‘‘ خالی کپ میز پر رکھتا ہوا بولا۔’’جارہا ہوں میں…‘‘ نادانستگی سے زور سے بولا‘ کوئی جواب نہ آیا۔ مطیرہ ہوتی تو جواب آتا‘ سرجھٹک کر وہ باہر کی جانب چلا گیا۔
ہر چیز الٹ پلٹ ہوگئی تھی۔ لنچ باہر کیا توپیٹ گڑبڑ ہوگیا۔ جوہم اور نمیرہ نے چاٹ کھالی‘ ٹاٹری کی وجہ سے نمیر کو کھانسی ہوگئی‘سارا دن وہ کھانستا رہا‘ شام کو اماںنے نگینہ سے دوا منگوائی‘ آذر آفس سے آیا تو ساتھ میں ڈبل روٹی لے کر آیا۔
’’بیٹا! میں نے روٹیاں بنوادی ہیں‘ کھانا کھالو۔‘‘ اماں نے کہا۔
’’نہیں اماں! میں ڈبل روٹی لایا ہوں‘ پیٹ صحیح نہیں… دوپہر میں بریانی میں مسالا زیادہ تھا‘ پیٹ میں کچھ درد ہے۔‘‘ آذر نے کہا۔
’’اوہو!‘‘ اماں پریشان سی ہوگئیں۔
سارا گھر خالی خالی لگ رہا تھا۔ مطیرہ ہوتی تو رونق سی رہتی تھی۔ آج رات آذر کو نیند بھی نہیں آرہی تھی۔ طبیعت بھی مضمحل تھی۔ کافی دیر بعد آنکھ لگی مگر صبح وقت پر اٹھ گیا۔ اماں آج اپنے کمرے میں تھیں۔
’’پاپا! دادو بلا رہی ہیں۔‘‘ جوہم کی آواز پر وہ اماں کے کمرے میں آیا۔ اماں کی طبیعت خراب لگ رہی تھی۔ بی پی کافی شوٹ کرگیا تھا۔ وہ پریشان ہوگیا۔ جوہم چائے بنانے کچن میں آگئی‘ آذر نے اماںکو بسکٹ کھلا کر دوا دی۔ جوہم چائے بناکرلائی تو اس کی موٹی موٹی آنکھیں آنسوئوں سے لبریز تھیں۔
’’کیا ہوا؟‘‘ آذر نے پوچھا۔
’’پاپا… یہ…‘‘ اس نے ہاتھ دکھایا‘ ہاتھ پر جلے کا نشان تھا۔
’’یہ… کیسے…؟‘‘ وہ تڑپ گیا۔
’’گرم چائے گرگئی۔‘‘ وہ رونے لگی۔
’’ارے ارے نہیں… میں ابھی ٹوتھ پیسٹ لگاتا ہوں۔‘‘ اس نے چمکارا۔
’’میں نے کبھی چائے نہیں بنائی نا! مما ہی بناتی ہیں۔‘‘ وہ رونے لگی تو اماں بھی ہول کر اٹھ بیٹھیں۔
’’اماں! آپ پریشان نہ ہوں۔ تھوڑا سا جلا ہے۔‘‘ آذر جلدی سے بولا۔ ’’پہلے ہی نہ جانے کیوں آپ کا بی پی ہائی ہوگیا ہے۔‘‘
’’وہ… بیٹا…! کل رات کی دوا کھانا بھول گئی تھی۔ وہ مطیرہ یاد سے دیتی تھی… کل ذہن سے نکل گیا۔‘‘ اماں نے دھیرے سے کہا۔
’’جی…!‘‘ آذر چونکا۔ نمیر اور آذر چلے گئے۔ جوہم نے آج چھٹی کرلی تھی۔ جاتے جاتے آذر مطیرہ کو آواز دیتے دیتے رک گیا اور پھر تیزی سے باہر کی طرف چل دیا۔ کتنا تھک گیا تھا وہ کل سے آج تک‘ گاڑی اسٹارٹ کرتے کرتے وہ سوچنے لگا۔ آج توکپڑے پریس بھی نہ کیے‘ دو دن پہلے والا سوٹ ہی پہن لیا تھا۔ ناشتے سے بھی تشفی نہ ہوئی تھی‘ دوپہر کی فکر الگ تھی‘ پیٹ بھی مکمل ٹھیک نہ تھا‘ کل سے آج تک گھر میں کیا کچھ ہوگیا تھا‘ نمیر کو کھانسی… جوہم کا ہاتھ جلا اور اماں کابی پی ہائی… اب اسے احساس ہوا کہ ایک مطیرہ اتنے سارے کام کس طرح خیال سے کرتی ہے‘ بچوں کے‘ اس کے کپڑے تیار ہوتے‘ جوتے پالش ہوتے‘ گھر کا کھانا تیار ملتا‘ اماںکی دوا کی پابندی ہوتی‘ وقت پر کھانا‘ وقت پر چائے سب کام بغیر کہے۔ وہ کس طرح کردیتی ہر ایک کی ضرورت بنا کہے پوری ہوجاتی۔ کسی جن کی طرح سارے کام وقت پر بجالاتی… کل سے آج تک گھر بالکل ڈسٹرب ہوگیا تھا۔ انہی خیالات میں گم تھا کہ اچانک سامنے سے آنے والی گاڑی کو دیکھ کر بُری طرح گھبرا گیا۔ قبل اس کے کہ بریک لگاتا گاڑی روڈ سے اترکر سامنے پیڑ سے ٹکرائی۔
ء…٭…ء
مطیرہ کو معلوم ہوا تو وہ روتی ہوئی اسپتال پہنچی۔ اماں کمرے کے باہر تھیں‘ اماں کو دیکھ کر وہ دوڑ کر لپٹ گئی اور رونے لگی۔
’’نا بیٹی! اللہ نے کرم کیا ہے۔ جا! دیکھ لے۔‘‘ اماں نے اسے پیار کرتے ہوئے کہا تو وہ تقریباً دوڑتی ہوئی اندر کی جانب بھاگی۔ سامنے بیڈ پر آذر آنکھیں بند کیے لیٹا تھا ہاتھ اور پیر پر معمولی چوٹیں تھیں۔ آہٹ پر آذر نے آنکھیں کھولیں‘ سامنے ہی مطیرہ کھڑی تھی روئی روئی سی مطیرہ کو دیکھ کر آذر کی آنکھیں چمک اٹھیں۔ وہ روتی ہوئی پاس آگئی۔
’’آپ… آپ ٹھیک تو ہیں نا!‘‘ اسے ٹٹول کر دیکھنے لگی۔ ’’صبح دعا پڑھ کرنہیں نکلے ہوں گے ناں اسی لیے…‘‘ بچوں کی معصومیت سے بولی۔آذر بہت پیار اور شرمندگی سے اسے دیکھ رہا تھا۔
’’ہاں! تم جو نہیں تھیںیاد دلانے کے لیے…‘‘ مطیرہ کے ہاتھ تھام کر شرمندگی سے بولا۔ ’’مطیرہ! میرا دل‘ میرا گھر اور میں تمہارے بغیر نامکمل ہیں میری جان! تم… تم جس طرح سب کچھ سنبھالتی ہو‘ تمہیں سلوٹ کرتا ہوں۔‘‘
’’جی…!‘‘ مطیرہ آنکھیں پھاڑے اسے دیکھ رہی تھی۔ آنکھوں میں خوشی دمک رہی تھی۔
’’ہاں یار! دو دن میں سب کچھ گڑبڑ ہوگیا۔ میں‘ اماں‘ جوہم اور نمیر… اور ہمارا پیارا سا گھر…!‘‘ اعتراف کرتا ہوا وہ مطیرہ کے دل میں اترا جارہا تھا۔ اس کا دل چاہ رہا تھا وہ بولتا جائے اور مطیرہ سنتی جائے‘ کئی سالوں سے جو سننے کو ترستی تھی‘ آج وہ سن کر اس کے وجود میں ٹھنڈک سی اتر آئی تھی۔

Show More
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close