پتھروں کی پلکوں پر

پتھروں کی پلکوں پر حصہ ۲

نازیہ کنول نازی

بچھڑنے کی اذیت کو…
اگر تم جاننا چاہو
تو کچھ پل کو ذرا یہ سانس اپنی روک کر دیکھو
تمہیں محسوس یہ ہوگا
بچھڑنا موت جیسا ہے…!‘

’’عباد…‘‘
وہ ابھی تھوڑی دیر پہلے آفس سے آیا تھا اور اب پھر سیڑھیاں کراس کرتے ہوئے باہر جارہا تھا جب آسیہ بیگم نے اسے پکار لیا۔
’’جی مما…‘‘ تیزی سے اُٹھتے اس کے قدم ان کی پکار پر مجبوراً رُکے تھے۔
’’کہاں جارہے ہو…؟ کل بھی کہیں غائب ہوگئے تھے… اچھا پروٹوکول دے رہے ہو گھر آئے مہمانوں کو…‘‘
وہ اس پر خفا ہورہی تھیں۔ عباد نے سرسری سی اِک نظر ان کے پہلو میں کھڑی ہادیہ پر ڈالی پھر قدرے شرمندگی سے بولا۔
’’سوری مما… مجھے ارجنٹ کل کہیں جانا پڑ گیا تھا…‘‘
’’اوکے… ابھی کہاں جارہے ہو…؟‘‘
’’کچھ خاص نہیں… بس ابھی تھوڑی دیر میں واپس آتا ہوں۔‘‘
’’نہیں… ابھی ہادیہ کو ساتھ لے کر جائو… پھر اس کے بعد جہاں جانا ہو چلے جانا…‘‘
’’ لیکن مما… میں…‘‘
’’کچھ لیکن ویکن نہیں… کچھ اخلاقی تقاضے بھی ہوتے ہیں… کیا تمہیں سڈنی میں ایسا پروٹوکول ملتا ہے…؟‘‘
اس کی سنجیدگی اور پریشانی سے قطع نظر وہ اسے ڈانٹ رہی تھیں۔
عباد بے بسی سے ہادیہ کو دیکھ کر رہ گیا۔
شام گہری ہورہی تھی وہ جانتا تھا کہ صاعقہ ساحل سمندر پر اس کا انتظار کررہی ہوگی، وقت جیسے جیسے سرکتا جارہا تھا اس کی جان پر بن رہی تھی۔
’’اوکے چلو…‘‘
تھکی تھکی سی اک نظر کلائی پر بندھی رِسٹ واچ پر ڈالتے ہوئے اس نے ہادیہ سے کہا اور تیزی سے گیٹ کے باہر کھڑی اپنی کار کی طرف بڑھ گیا۔
اُدھر صاعقہ ساحل سمندر پر تنہا ملول سی بیٹھی ا س کا انتظار کررہی تھی۔ کل رات اس کی ماں ایک لمحہ بھی سکون سے نہیں سو سکی تھی۔ گھر میں روٹی کے لالے پڑ رہے تھے جس کے سبب چھوٹے دونوں بھائیوں کو مجبوراً اسے کام پر لگانا پڑا تھا۔ ڈاکٹر عارف جیسے ہم سفر سے بہتر تھا وہ ساری عمر شادی ہی نہ کرتی، مگر۔
اس کا سیل آن تھا مگر… عباد کی طرف سے کوئی کال نہ آئی!
وہ جس خدشے سے ڈر رہی تھی وہی پُورا ہوگیا تھا۔
گہری ہوتی شام کے دھندلکے رات کی سیاہی میں بدلنے لگے تھے جب وہ آہستہ سے اُٹھ کھڑی ہوئی۔ یوں جیسے اپنا سب کچھ ہار کر جارہی ہو…
غریب لڑکیوں کی قسمت میں صرف ’’خواب‘‘ ہوتے ہیں، ان کی تعبیر پانا نہیں۔
پچھلے گزرے ہر لمحے میں اس کا دل دھڑکتا رہا تھا، کسی بھی پل عباد کی آمد کا خیال بے کل کیے دے رہا تھا مگر… اس کا ہر گمان ٹوٹ گیا تھا۔ وہ بھی اپنا ’’بھرم‘‘ کھونے کے بعد ٹھکرا دی گئی تھی۔ اس کی خواہش اب ’’خوش فہمی‘‘ کا روپ لیے اس کا منہ چڑا رہی تھی۔
شکستہ قدموں سے واپس پلٹتے ہوئے وہ سیدھی گھر جانے کی بجائے اسپتال چلی آئی تھی جہاں ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر عارف جیسے اسی کے انتظار میں بیٹھے تھے۔
’’پھر … کیا سوچا آپ نے مِس صاعقہ…؟‘‘ جونہی وہ وارڈ میں داخل ہوئی ڈاکٹر عارف کا ٹکرائو اس سے ہوگیا۔
اس کی نگاہیں اُٹھی تھیں اور پھر بھیگنے سے قبل ہی جھک گئی تھیں۔
’’مجھے آپ کی آفر قبول ہے ڈاکٹر عارف… بس میری امی کا آپریشن کامیاب ہونا چاہئے۔‘‘ کوئی اپنے آپ کو کیسے ہارتا ہے اس لمحے اس نے جانا تھا۔
///

تمہیں بھی تو خبر ہوگی!
کہ دریا پاس بہتا ہو تو پانی اچھا لگتا ہے
کنارے سے جُڑی مٹی سے پوچھو روگ چاہت کا
کہ اس پانی کی چاہت میں
کنارے سے اُتر کر،اجنبی دیسوں کو جانا
کتنا مشکل ہے
کنارہ پھر نہیں ملتا…
تمہیں بس اتنا کہنا ہے، یہاں جو بھی بچھڑ جائے
’’دوبارہ پھر نہیں ملتا‘‘

جیل کی دنیا ایک گہرے سمندر سی عجیب دنیا کی مثال ہے۔ ہزاروں زندگیوں کی کہانیاں، محض چند روپوں کے عوض ’’اندھے قانون‘‘ کی بھینٹ چڑھ کر اپنے انجام کو پہنچ جاتی ہیں مگر، جیل کی چار دیواری سے باہر نہ کہیں کوئی آندھی آتی ہے،نہ آسمان پھٹتا ہے مگر سکوں میں تُلتے ایمان اور لوریاں دے کر سلائے گئے ضمیر کی بربریت صرف کسی ملزم یا مجرم کی پیشانی پر اس کی سزا درج کرکے ایک اسی کا فیصلہ نہیںکرتی بلکہ اس زندگی سے جڑے ان دیگر رشتوں کو بھی کھاجاتی ہے، جو پہلے ہی ’’مجبوری‘‘ اور ’’بے بسی‘‘ کی چکی میں پِس رہے ہوتے ہیں۔ ’’اندھے قانون‘‘ کی نگری میں صرف ایک ہی اصول چلتا ہے، طاقت اور پیسے کا اصول۔ قلم کی ایک جُنبش سے تخت کو تختہ بنادینے والے اندھے قانون کے بعض بہرے منصفوں کے پاس صرف اختیار ہوتا ہے۔ سچ اور جھوٹ کی پڑتال کرکے روزِ محشر اس زبردست پکڑوالے ربّ کے حضور اپنے ہر غلط یا صحیح فیصلے کا جواب دینے کا خوف نہیں، رشتہ داری، شناسائی یا تگڑی رشوت کسی دُکھیاری ماں کے دل کا حال، دیکھنے کی فرصت دیتی ہے نہ کسی بہن کی عدالتوں میں خوار ہوتی عزت پر شرمندگی کااحساس۔
اس وقت بھی وہاں تھانے کی حدود کے اندر ڈی ایس پی کے کمرے میں ٹانگ پر ٹانگ رکھے بیٹھا سانول شاہ،وہ رپورٹ پڑھ رہا تھا، جو میران شاہ پر دائر جھوٹے کیس کے سلسلے میں، حرف بہ حرف اس کے حکم اور خواہش کے مطابق تحریر کی گئی تھی اور جس کے لیے اس نے ڈی ایس پی سے لے کر اے ایس آئی تک سب کے منہ نوٹوں سے بھرے تھے۔ شجاع کے حکم پر کیس کی ری انویسٹی گیشن کا مرحلہ شروع ہونے سے قبل ہی سانول شاہ اب اس کیس کا فیصلہ ’’سزائے موت‘‘ کی صورت چاہتا تھا اور ڈی ایس پی صاحب نے اس سلسلے میں اسے اپنے مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی تھی۔ بے نام، غریب، بے بس سائلوں کو کرختگی سے جھڑک کر ان کی جائز درخواست سننے سے انکاری وہ بڑا افسر اس وقت جس عوامی خدمت میں مصروف تھا اس کی اہمیت صرف وہی جانتا تھا۔ چند سال قبل سانول شاہ کے بڑے بھائی کے حکم پر اس نے اپنی جیل کے چار قیدی غائب کروا دیئے تھے۔ جس کے بدلے میں اسے ایس ایچ او سے ڈی ایس پی کے عہدے پر ڈائریکٹ ترقی ’’نصیب ‘‘ ہوگئی تھی۔ اب بھی وہ ایسی ہی کسی کوشش میں تھا۔ سانول پوری عزت و تکریم کے ساتھ اس سے رخصت ہوکر جونہی اس کے شان دار، ڈیکورٹیڈ کمرے سے باہر آیا، اسی تھانے کا ایس ایچ او زبردستی اسے اصرار کرکے اپنے کمرے میں لے آیا۔
’’سرکار! کبھی اس غریب کو بھی خدمت کا موقع دے دیا کریں، وہ آپ کا کیس کیا نام تھا اس لڑکے کا ہاں میران شاہ جناب اس کیس کی رپورٹ میں نے ہی لکھی ہے۔ آپ تو جانتے ہی ہیں کسی بھی کیس کا فیصلہ پہلے ’’یہاں‘‘ ہوتا ہے۔ ایس ایچ او کی میز پر‘ عدالت تو سمجھیں صرف ہمارے لکھے ہوئے فیصلے پر قلم چلاتی ہے، جھوٹی یا سچی تفتیش تو ہماری ہی ہوتی ہے سرکار۔‘‘ اپنی بات مکمل کرتے ہی اس نے قہقہہ لگانے کی کوشش کی تھی۔
سانول شاہ نے پُر سوچ تیز نگاہوں سے اسے گھورتے ہوئے اثبات میں سرہلادیا۔ اگلے لمحے اس نے جیب میں ہاتھ ڈالا اور ہزار ہزار کے جتنے نوٹ گرفت میں آسکے، نکال کر اس کے سامنے میز پر پھینک دیئے۔’’کوئی ردّو بدل نہیں ہونا چاہئے رپورٹ میں، کل کا سورج ہر صورت میران شاہ کی سزائے موت کی خبر لے کر طلوع ہو۔‘‘
’’ایسا ہی ہوگا جناب! بالکل ایسا ہی ہوگا۔‘‘ ہنس کر نوٹ اُٹھاتے ہوئے اس کی بے جا خوشامد کرتا ’’اندھے قانون‘‘ کا وہ فرض شناس سپاہی اسے خوش کرنے کی بھونڈی کوشش کررہا تھا۔ سانول شاہ کندھے پر دھری چادر مزید سیٹ کرتے ہوئے ہنکارہ بھر کر تھانے کی حدود سے باہر نکل آیا، اگلے پانچ منٹ بعد وہ سینٹرل جیل میں میران شاہ کی بیرک کے باہر کھڑا تھا۔ میران جو اپنے دوست حفیظ کے ساتھ لگ کر بیٹھا۔ اس سے سورۃ واقعہ کی تلاوت اور ترجمہ سُن رہا تھا اسے کئی ماہ کے بعد اپنے مقابل دیکھ کر بے ساختہ اُٹھ کھڑا ہوا۔
’’ہوں! سُنا ہے اُڑتی لگی ہوئی ہے آج کل یہاں جیل میں تمہیں، چچ…چچ…چچ ضرور کسی افسر کے ساتھ کوئی بدتمیزی کی ہوگی۔ خیر میں یہاں تمہاری بے بسی پر ہنسنے نہیں آیا، بلکہ یہ بتانے آیا ہوں کہ کل تمہارے کیس کی پیشی، تمہاری زندگی کی آخری پیشی بنانے جارہا ہوں میں، دیکھوں گا کیا بگاڑ لیتی ہے تمہاری انزلہ شاہ میرا، ساری خوش فہمی، ساری اُمیدیں، سارے خواب مٹی نہ کردوں تو سانول شاہ نام نہیں۔ ‘‘ اس کی آنکھوں اور لہجے میں آگ کی لپٹیں تھیں۔ وہ چپ چاپ ناگواری سے اسے دیکھتا ، سر جھکاگیا۔
///
’’چٹاخ…‘‘ وہ ساکت کھڑا ابھی انوشہ کے سیل چھین لینے کا ردّعمل سمجھنے کی کوشش کررہا تھا کہ اس نے طمانچہ بھی دے مارا منہ پر۔ آنسوئوں سے بھری آنکھوں اور غصے کی شدت سے سرخ گالوں کے ساتھ وہ اسے عجیب اُلجھن میں ڈال گئی تھی۔
’’کیا بدتمیزی ہے یہ؟‘‘ اسے غصہ آیا تھا، تبھی چلایا تو انوشہ جیسے پھٹ پڑی۔
’’تم اسی سلوک کے مستحق ہو شاہ زر آفندی، جانے کتنی زندگیوں کے ساتھ کھیلنا چاہتے ہو تم؟ جس شخص کا ساتھ پانے کے لیے تمہاری بہن نے اتنی ساری زندگیوں کو اُلٹ پلٹ کر رکھ دیا، اسی شخص کو سچ بتا کر پھر سے چھین لینا چاہتے ہو اس سے؟ وہ شخص جو ایک غیرت مند بھائی بھی ہے تم کیا سمجھتے ہو، وہ سچائی جاننے کے بعد تمہیں اور تمہاری بہن کو معاف کردے گا؟ مزید مت چنگاریاں بکھیرو اُن کی زندگی میں۔ کسی کو تو سکون سے جینے دو۔ ماں کو تو پہلے ہی کھو چکے ہو، بیوی جو کبھی تمہاری بہترین دوست تھی اسے بھی سولی پر لٹکا رکھا ہے تم نے ۔ لے دے کے اب صرف بہن کا رشتہ باقی رہ گیا ہے، کیا اسے بھی کھودینے، سولی پر لٹکانے یا نیم پاگل کردینے کی ہمت ہے تم میں؟‘‘ وہ شروع ہوئی تو پھر خوب ہی دل کا غبار نکالا۔
شاہ زر حیرت زدہ،یک ٹک اسے دیکھے گیا۔ واقعی اس نقطے پر تو اس نے سوچا ہی نہیں تھا۔ جو بات سارے فساد کی جڑ تھی۔ وہ اسی بات کو پھر سے ہَوا دینے جارہا تھا؟ انوشہ اوپر اپنے پورشن کی طرف بڑھ گئی تھی مگر وہ شکستہ سا وہیں صوفے پر ٹک گیا۔ کیا رہا تھا اس کے ہاتھ میں، کچھ بھی تو نہیں۔
زندگی میں بعض اوقات ’’نفس‘‘ انسان سے ایسی غلطیاں بھی کرواتا ہے، جن کا کوئی مداوا نہیں ہوتا، جو ساری عمر کا پچھتاوا بن کر روح کے ساتھ چپک جاتی ہیں۔ اس کی بھی ایک ایسی ہی غلطی اس کے گلے پڑ گئی تھی جس سے چھٹکارا حاصل ہوتا کسی طور دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ ادھر زاور سمیت سب ہی گھر والے اس کی ادھوری بات پر ازحد بے قرار تھے۔ صدف بیگم کا حال بُرا تھا۔ وہ ہر صورت اپنی بیٹی سے ملنا چاہتی تھیں، مگر جو حال ان کا تھا اب وہی حال زاور کے ساتھ ساتھ، نزھت بیگم اور جمال صاحب کا بھی تھا، جو انوشہ سے بات کرنے کے لیے بے چین تھے، مگر کسی طور اس سے رابطہ ممکن نہ ہورہا تھا۔ ایسے میں زاور نے پاکستان واپسی کی ٹھانی تھی اور شافیہ نے یہاں اسے اپنے تعاون کا پورا یقین دلایا تھا۔
///
’’چلو بادشاہ! آج پیشی ہے آپ کی۔‘‘ وہ حفیظ کے ساتھ کھڑا تھا۔ جب ڈیوٹی پر موجود سپاہی نے لوہے کی سلاخوں سے ڈنڈا بجاتے ہوئے اسے مطلع کیا۔ کل رات بیرک کی سلاخوں سے سردی چھن چھن کر آتی رہی تھی، مگر اس کے پاس نہ کوئی گرم کپڑے تھے نہ گرم بستر، پندرہ بیس قیدیوں کے لیے جو حکومتی کمبل بیرک میں موجود تھے، وہ مٹی سے یوں اَٹے تھے کہ ان کو اوڑھ کر سانس لینا بھی دشوار ہورہا تھا۔ جانے دس سال پرانے تھے یا بیس سال، اوپر سے ان کمبلوں کی حالت اتنی خستہ ہوچکی تھی کہ جیل کی سلاخوں سے چھن کر آتی سردی روکنے میں قطعی ناکام تھے، شروع شروع میں جب وہ جیل کے اس ماحول سے قطعی نا آشنا تھا تو اس نے حفیظ سے پوچھا تھا۔
’’یار! یہ کھانا جو ہمیں دیتے ہیں یہ تو کوئی اپنے جانوروں کو بھی نہیں ڈالتا ہوگا اور یہ کمبل ان کی جو حالت ہے، کیا یہی کمبل ان وزیروں ، مشیروں کو بھی پیش کیے جاتے ہیں جو جیل کی ہَوا کھاتے ہیں، جیلوں میں رہتے ہیں، یہاں کی زندگی کو قریب سے دیکھتے ہیں مگر پھر بھی اس کا نظام درست نہیں کرتے۔‘‘ حفیظ اس کی بات پر ہنسا تھا اور دیر تک ہنستا رہا تھا۔
’’او میرے بھولے بادشاہ! تُو ابھی نیا نیا یہاں آیا ہے ناں اس لیے باہر کے جوشیلے،پڑھے لکھوں جیسی باتیں کررہا ہے، کچھ عرصے یہاں رہے گا تو یہاں کے سارے قانون قاعدوں کا پتا لگ جائے گا، اُدھر دیکھو وہ لڑکا آصف ہے، سات بہنوں کا اکلوتا بھائی۔ ماں باپ کے بڑھاپے کا واحد سہارا، کل پھانسی کی سزا ہوئی ہے اسے اور جانتا ہے کس جُرم میں؟ شہر کے ایم این اے کے بیٹے اور اس کے دوستوں کے ساتھ جھگڑے کے جُرم میں، لڑائی کے دوران گولی چلی وہ بھی ایم این اے کے بیٹے کے پستول سے مگر اسے نہیں لگی اسی کے کسی دوست کو لگ گئی اور وہ مرگیا، اب مجرم ایک معزز شخص کا بیٹا ہے مگر ان صاحب کی عوامی خدمت دیکھو کہ اس بے قصور پر سارا جھوٹا کیس بنوا کر اسے تختہ دار پر چڑھا دیا ہے، تم نے اس کے ساتھ پولیس والوں کا سلوک نہیں دیکھا، چلو پولیس والوں کو چھوڑو، وکیل صاحب کا حال دیکھ لو، اس کے بوڑھے بزرگ باپ نے اپنی زمین بیچ کر وکیل کی فیس بھری، دن رات اس کے چیمبر کے چکر لگائے، دھکّے کھائے، مگر اس کے باوجود اسی وکیل نے اپنی مخالف پارٹی یعنی شہر کے ’’معزز شخص‘‘ سے دُگنی فیس وصول کرکے خود اسے گناہ گار ثابت کردیا اور اسے سزائے موت دلوادی۔‘‘ حفیظ کی آنکھیں ہلکی سی سرخ ہو رہی تھیں۔ میران گنگ سا اس خوبرو شخص کو دیکھتا رہ گیا جس کی نوخیز جوانی نے ابھی ابھی بہار کا منہ دیکھا تھا۔
’’اس دنیا کے سارے اُلٹ پھیر عجب ہیں میرے یار! گورنمنٹ پورا پیسہ دیتی ہے کھانے کا، مگر یہ جو اعلیٰ افسران ہیں ناں، ان کی بھوک ہم سے کہیں بڑھ کر ہے، قیدیوں کے کھانے سے بھی تین چوتھائی رقم یہ اپنے لیے بچا لیتے ہیں اور باقی ایک چوتھائی رقم سے جیسا کھانا پک سکتا ہے وہ پکوا کر ہمیں کھلا دیتے ہیں، جو کمبل وغیرہ آتے ہیں وہ بھی اوپر کے اوپر ہی رہ جاتے ہیں، کیونکہ یہاں سے رہائی پانے کے بعد پھر کسی وزیر مشیر کو دوبارہ یہاں چکر لگانے کی توفیق ہی نہیں ہوتی۔‘‘ حفیظ کا دل بھی زخمی تھا۔ میران کے اندر کی وحشت مزید بڑھ گئی۔
’’وہ اس طرف دیکھو، وہ جو لمبی قطار لگی ہے وہ سب باتھ روم جانے والوں کی ہے، پچھلے پون گھنٹے سے وہ لوگ لائن میں لگے ہیں اپنی باری کے انتظار میں اور ابھی مزید دو گھنٹے اور لائن میں لگے رہ کر انہیں اپنی باری کا انتظار کرنا ہے کیونکہ باتھ روم صرف چار ہیں یہاں، ان لوگوں میں کئی ایسے نوجوان بھی ہیں جو بہت پڑھے لکھے ہیں، قائد کے خوابوں کی تعبیر ہیں مگر اس ماحول نے انہیں ذہنی مریض بنا چھوڑا ہے۔ وہ یہاں سے نکلیں گے تو ملک کے معزز شہری نہیں ہوں گے، جیل کی سلاخوں کے داغ ہوں گے ان کی پیشانیوں پر اور تمہیں پتا ہے ہمارے اس معزز معاشرے کے معزز لوگ جن کی بدولت یہ نوجوان یہاں آتے ہیں۔ یہاں سے رہائی کے بعد انہیں کام نہیں دیں گے، ان کے گھروں کے بجھے چولہے یا تو بجھے ہی رہیں گے یا پھر اس کمائی سے جلیں گے۔ جو انہیں اور کئی گھروں کے چولہے بجھادینے پر ملے گی۔‘‘ حفیظ کے لہجے ہی نہیں آنکھوں میں بھی دُکھ تھا۔ میران دیوار کے سہارے نیچے زمین پر بیٹھ گیا۔
’’یہاں کوئی کچھ نہیں سوچتا یار! کچھ بھی ہوتا رہے، ایسی بھوک اُتری ہے اس ملک کے لوگوں پر آسمان سے کہ سمندر پی کر پہاڑ نگل کر بھی ان کے پیٹ بھرنے کے نہیں ہیں اور اسی چیز کا ، اسی بھوک کا فائدہ وہ لوگ اُٹھا رہے ہیں جو اللہ اور اللہ کے نیک بندوں کے دشمن ہیں۔‘‘
میران کے ذہن میں حفیظ کی چار سال پہلے کی کہی ہوئی وہ ساری باتیں تازہ ہورہی تھیں۔ اس نے نظر اُٹھا کر اس بڑھی ہوئی توند والے، بد شکل سے سپاہی کو دیکھا پھر آہستہ سے اثبات میں سر ہلادیا۔ جانے آج عدل کے ایوان میں ’’اندھے قانون‘‘ کی ترازو سامنے رکھنے والے قانون کے ایک اور رکھوالے، ایک اور بہرے منصف نے، اس کے ساتھ کیا سلوک کرنا تھا۔
///
عدالت لگی تھی، سانول شاہ اور اس کے دونوں باڈی گارڈ چاق چوبند کمرۂ عدالت میں موجود تھے، جب کہ وہ ایک طرف سر نہیوڑائے کھڑا ، کٹہرے کو مضبوطی سے تھامے، اپنے اوپر لگے وہ الزامات خاموشی سے سُن رہا تھا جو اس سے پہلے خود اس کے علم میں بھی نہیں تھے۔
پولیس کے مطابق اس نے اپنے گائوں کے ’’معزز چوہدری خاندان‘‘ کی حویلی میں نہ صرف ڈکیتی جیسا سنگین جرم کیا تھا، بلکہ حویلی میں موجود چوہدری سانول شاہ کی بڑی بہن کو بے آبرو کرکے بے دردی سے موت کے گھاٹ بھی اُتار دیا، جس کے لیے گائوں کے کئی اشخاص چشم دید گواہ کے طور پر عدالت میں پیش کیے جاچکے تھے۔ ان گواہوں سے اگر سانول شاہ خود اقبال جرم کرنے کا کہہ دیتا تو وہ اس سے بھی ہر گز نہ چوکتے، کسی اور کے لیے جھوٹا قرآن اُٹھانا اور جھوٹی قسم کھا کر گواہی دے دینا، یہ تو خیر ان کے لیے کوئی مسئلہ ہی نہیں تھا۔
میران شاہ کا جرم ثابت ہوا نہیں تھا، طاقت اور پیسے کے بل بوتے پر ثابت کردیا گیا تھا۔ وہ کیس جس کا فیصلہ پہلے ہی پولیس کرچکی تھی۔ سانول شاہ کو دلائے گئے یقین کے عین مطابق ایک فارملیٹی پوری کرتے ہوئے بالآخر گواہوں اور ثبوتوں کے ساتھ پولیس کی اچھی طرح کی گئی تفتیش اور چھان بین کو مدِنظر رکھتے ہوئے اسے دفعہ 392 اور دفعہ 302 کے تحت انصاف کے تمام تر تقاضے پورے کرتے ہوئے سزائے موت کا مجرم بنا دیاگیا۔ ایک سناٹا تھا جو اس کے وجود سے ہوتا ہوا پائوں تلے سے نکل گیا تھا۔ کس قدر سرعت سے سر اُٹھا کر اس نے جج کی کرسی پر بیٹھے منصف کو دیکھنے کی کوشش کی مگر وہاں اس چہرے پر اس کے لیے سوائے کرختگی اور نفرت کے اور کچھ نہیں تھا۔ سانول شاہ اور اس کے ساتھی اب اس کی طرف دیکھتے ہوئے مسکرا رہے تھے۔ میران کو لگا شاید وہ اب کبھی زندگی میں دوبارہ سانس نہیں لے سکے گا۔
///
اس کی آنکھیں اس وقت ضبط کی شدت سے سرخ ہورہی تھیں۔ صاعقہ کا سیل مسلسل آف تھا اور اس کا سر جیسے درد کی شدت سے پھٹنے کوتیار تھا۔ وہ پریشان تھی، کسی اُلجھن کا شکار تھی، اسے پیسوں کی ضرورت تھی، ایسے میں ڈاکٹر عارف جیسے گھاگ شکاری کے ساتھ اس کی شناسائی، جانے کیا ہونے جارہا تھا، رہ رہ کر اسے خود پر غصہ آرہا تھا۔
کیوں وہ وقت پر نہیں پہنچ سکا تھا اس کے پاس؟ کیوں ہادیہ کے بیکار کی شاپنگ میں، بے بس سا اس کے ساتھ پھرتا رہا؟ کیوں نہیں ڈانٹ سکا اسے، کیوں کوئی بہانہ بنا کر جلدی جان نہیں چھڑا سکا اس سے ؟ پروٹوکول اور اخلاقیات کے چکر میں پھنس کر، کیوں اپنے دل کے ساتھ دشمنی کر بیٹھا؟ پچھلے اٹھارہ گھنٹوں سے وہ گھر سے باہر تھا اور سوائے چند گھونٹ پانی کے اور کوئی چیز اس کے حلق سے نہیں اُتری تھی۔ اس وقت اس کا شدت سے دل چاہ رہا تھا کہ وہ سب کچھ تہس نہس کردے، سارا آفس بینک بیلنس، ہر چیز۔ اس کے پاپا اور ہادیہ کی بار بار کال آرہی تھی مگر وہ اٹینڈ نہیں کررہا تھا، صاعقہ کی کال آجانے کی امید نہ ہوتی تو شاید وہ سیل آف کرکے ہی رکھ دیتا۔
پتا نہیں کیا ہورہا تھا اسے اور کیوں ہورہا تھا، کیا یہ ’’محبت‘‘ تھی؟ کیا ایک معمولی سی غریب لڑکی سے کسی کو ایسی جنوں خیز قسم کی محبت بھی ہوسکتی تھی؟ کیسی محبت تھی یہ جو ہیروئن کے نشے کی طرح اس کا جوڑ جوڑ توڑ رہی تھی۔ اپنے ساتھ ساتھ اس وقت اسے ہادیہ پر بھی غصہ آرہا تھا، جو خوامخواہ اس کی جان کو عذاب میں ڈالنا چاہ رہی تھی۔
کیسا معاملہ تھا یہ ’’دل‘‘ کا ، جس نے ازل سے تخت و تاج دائو پر لگا دیئے تھے۔ وہ اپ سیٹ ہونا نہیں چاہتا تھا مگر اس لمحے ا س کی آنکھیں جیسے جلنے لگی تھیں۔ خنک فضا میں دور آسمان پر اُڑتے سارے پرندے اسے اپنی طرح اداس دکھائی دے رہے تھے۔
اس کا سیل ایک مرتبہ پھر بجنا شروع ہوگیا تھا اور ایک بار پھر ہادیہ لائن پر تھی، وہ جانتا تھا کہ وہ غصے میں آئوٹ آف کنٹرول ہوجائے گا۔ لہٰذا اس نے اس بر اس کی کال کاٹ کر سیل ہی آف کردیا، گھر والوں کا کیا حال ہوگا؟ وہ اس کے لیے کتنے پریشان ہوں گے؟ وہ سمجھ سکتا تھا مگر فی الحال وہ کچھ بھی سمجھنا نہیں چاہتا تھا۔ تھوڑی دیر سیل آف رکھنے کے بعد اس نے پھر اسے آن کرلیا، اور ایک بار پر صاعقہ کا موبائل نمبر پریس کر ڈالا اس بار بیل جارہی تھی، وہ مچل کر سیٹ سے اُٹھ کھڑا ہوا۔
’’ہیلو…‘‘ تھوڑی دیر بعد صاعقہ کی تھکی تھکی سی آواز اس کی سماعتوں سے ٹکرائی تھی۔
’’ہیلو… زرنیل…؟‘‘ اِدھر وہ بے قراری کی انتہا پر تھا۔
’’ہوں… بولیں، اب کیوں فون کیا ہے؟‘‘
’’کیا مطلب اب؟‘‘ وہ ٹھٹکا تھا۔
’’آپ مجھ سے ناراض ہیں؟ آپ کو ناراض ہونا بھی چاہئے مگر میرا خدا جانتا ہے میں فراڈ نہیں ہوں۔‘‘
’’مجھے اس سے فرق نہیں پڑتا، میری شادی ہورہی ہے، اسی ڈاکٹر عارف کے ساتھ جن سے پرسوں آپ ساحل سمندر پر ملے تھے، لہٰذا آج کے بعد دوبارہ کبھی میرے نمبر پر رابطہ نہ کرنا، سمجھے…؟‘‘ وہ سخت رنج اور غصے کا شکار تھی۔
عباد کے دل پر گھونسا سا پڑا۔ ’’یہ کیا کہہ رہی ہیں آپ؟ کیا جانتی ہیں آپ ڈاکٹر عارف کے بارے میں؟ میرے مرنے کے بعد ہی آپ اس جیسے دو نمبر شخص سے کوئی تعلق قائم کرسکتی ہیں‘ میرے جیتے جی نہیں۔‘‘ اس بار صاعقہ کو چپ لگ گئی تھی۔
’’میں ملنا چاہتا ہوں آپ سے، صرف چند منٹ کے لیے پلیز۔‘‘
’’اب یہ ممکن نہیں ہے۔‘‘
’’کیوں ممکن نہیں ہے، اب کیا ہوگیا ہے؟‘‘ وہ غصے سے بولا۔ وہ پھر خاموش ہوگئی۔
’’میں ساحل سمندر پر اسی جگہ آپ کا انتظار کررہا ہوں جہاں ہم پہلی بار ملے تھے، اگر تیس منٹ کے اندر اندر آپ وہاں نہ آئیں تو یاد رکھیے گا، اسی سمندر کی لہریں پھر زندگی بھر آپ کو میرے نوحے سنایا کرے گی۔‘‘ اسی تیز لہجے میں کہتے ہوئے اس نے کال کاٹ دی تھی۔ صاعقہ عجیب سی مشکل میں گرفتار لب بھینچ کر رو پڑی۔
///
شجاع اب بغور اس کے چہرے کی طرف دیکھ رہا تھا جب وہ نظریں چراتے ہوئے بولی۔
’’ک…کزن کا۔‘‘
’’تو پھر اتنی جلدی بند کیوں کردیا، میری بات بھی کروادیتیں۔‘‘
’’مم… میں نے نہیں کیا، اُدھر سے ہی لائن ڈراپ ہوگئی تھی۔‘‘ وہ ٹھیک سے وضاحت بھی نہ دے پائی۔
’’اوکے… باہر سے یوں ایک دم اُٹھ کیوں آئیں۔‘‘
’’بس یونہی…‘‘
’’بس یونہی کیا، صاف صاف کہو تم نے میری بات کو مائینڈ کیا۔‘‘ اس بار وہ چپ رہی تو شجاع مسکرادیا۔
’’ناراض ہو ناں؟‘‘
’’نہیں… بھلا میں کسی سے کیسے ناراض ہوسکتی ہوں؟‘‘
’’طنز کررہی ہو؟‘‘
’’نہیں…‘‘
’’اوکے! آج شام تیار رہنا، آپا کی طرف جانا ہے۔‘‘ جلد ہی بحث سمیٹتا، دوستانہ مسکراہٹ اس کی طرف اُچھالتے ہوئے وہ بولا تو امامہ نے جلدی سے اثبات میں سر ہلادیا۔ اس کا ذہن اس وقت اچھا خاصا اُلجھ کر رہ گیا تھا۔ اسی روز شام میں ارسلان حیدر کی کال پھر آئی تھی۔ امامہ لاکھ خود کو سمجھانے اور مضبوط کرنے کے باوجود اس سے بات کیے بغیر نہ رہ سکی۔
’’تم مجھ سے بھاگ رہی ہو ناں امامہ؟‘‘ اس کے ہیلو کہتے ہی اس نے شکوہ کیا تھا۔ وہ آنکھوں سے اُمڈتے آنسو پی کر رہ گئی۔
’’کاش یہ ممکن ہوتا تو میں ایسا ہی کرتی۔‘‘ کوشش کے باوجود وہ اپنی آواز کی لغزش پر قابو نہیں پاسکی تھی۔
’’اتنی نفرت ہوگئی ہے مجھ سے؟‘‘ اس بار وہ سنجیدہ تھا۔ امامہ چند لمحوں کے لیے کچھ بھی نہ بول سکی۔
’’لگا لیا ناں شجاع حسن سے دل، مر مٹی ناں اس کی شاندار شخصیت اور دولت پر؟‘‘
’’شٹ اپ! ‘‘ زہر میں بجھا کوئی تیر تھا جو اس وقت ارسلان حیدر نے اس کے سینے میں اُتارا تھا۔ اس کا چہرہ ضبط اور غصے کی شدت سے سرخ پڑ گیا جب کہ آنسو اور روانی سے بہنے لگے۔
’’اوکے… ایم سوری… میں نے جو بھی تمہارے ساتھ کیا میں اس کے لیے شرمندہ ہوں مون، پتا نہیں کیا ہوگیا تھا مجھے، ہوسکے تو پلیز معاف کردینا، کیونکہ اب میں بالکل اکیلا ہوں، بالکل اکیلا…‘‘ وہ ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہہ رہا تھا۔ امامہ کے آنسو جیسے اس کی پلکوں پر ہی اٹک گئے۔
///
وہ جلتی آنکھوں سے ساحل سمندر پر رقص کرتی، شورید سر موجوں کا خاموشی سے نظارہ کرتا، اپنے اندر کے اضطراب پر قابو پانے کی کوشش کررہا تھا جب وہ ڈیڑھ گھنٹے کے جاںگسل انتظار کے بعد مرے مرے سے قدم اُٹھاتی، وہاں چلی آئی۔ ڈھلتی شام کے ساتھ، ساحلِ سمندر کے کنارے اُداس بیٹھا، وہ کسی مصور کی شاہکار تصویر کا کوئی کردار دکھائی دے رہا تھا۔ صاعقہ چندلمحے خاموشی سے اسے دیکھنے کے بعد اس کے قریب جاکھڑی ہوئی۔
’’السّلام علیکم…!‘‘ وہ جو ساحل کی موجوں کے رقص میں گم تھا اس کی آواز پر بُری طرح چونکتے ہوئے پلٹا۔
’’وعلیکم السّلام…! کیسی ہیں آپ…؟‘‘ ستارہ سی روشن آنکھوں میں یکدم جیسے دیپ جل اُٹھے تھے۔ صاعقہ سر اُٹھا کر اسے دیکھ بھی نہ سکی۔ ’’کب سے انتظار کررہا ہوں آپ کا، بہت مزہ آتا ہے ناں مجھے تنگ کرکے۔‘‘ آج اس کی آنکھوں کے رنگ نرالے تھے، وہ سر جھکائے کھڑی رہی۔
’’کیوں بلایا ہے مجھے، یہ جاننے کے باوجود بھی کہ میں اس وقت زندگی کی کڑی مشکلات کا سامنا کررہی ہوں۔ وہ حیثیت، وہ مقام، جس کی وجہ سے آپ مجھ سے متاثر ہوئے، اب وہ میرے پاس نہیں رہا ہے۔‘‘ وہ ذرا سی تلخ ہوئی تھی۔ عباد زیر لب مسکرا کر رہ گیا۔
’’آپ سے کس نے کہا کہ میں آپ کی دولت کی وجہ سے آپ سے متاثر ہوا ہوں؟‘‘صاعقہ ٹھٹک گئی، تبھی وہ پھر بولا۔
’’بہت بُری بات ہے اتنی جلدی کسی سے اتنا بدگمان ہوجانا، بہرحال فنا ہوجانے والی چیزوں پر مر مٹنے والا نہیں ہوں میں،یہ بات یاد رکھیے گا اور اب میں آپ کو بتاتا ہوں کہ مجھے آپ کی مدد، کس رشتے سے کرنی ہے۔‘‘ وہ بول رہا تھا اور اس بار چونک کر سر اُٹھانے کی باری صاعقہ کی تھی۔ عباد نے اپنے ٹرائوزر کی جیب میں ہاتھ ڈالا اور تھوڑی دیر بعد ایک نفیس سی رِنگ برآمد کرلی۔
’’سونے کی سستی سی بے حیثیت رِنگ ہے اور ہر گز اس قابل نہیں کہ آپ جیسی امیر کبیر خوب صورت لڑکی کے ساتھ اس معمولی سی رِنگ سے کوئی تعلق جوڑا جائے لیکن غریب ہوں ناں اس لیے اپنے احساسات کے اظہار کے لیے کوئی نایاب چیز فی الحال افورڈ نہیں کرسکتا، ہاں یہ جو دل ہے ناںمیرا، یہ بہت نایاب ہے اور اس کی کوئی قیمت لگا بھی نہیں سکتا۔ تو آج اس معمولی سی رِنگ کے ساتھ، میںیہ انمول نایاب دل بھی آپ کے سپرد کررہا ہوں صاعقہ جی، قبول کریں گی؟‘‘ کتنا احترام تھا اس کی آنکھوں میں، کتنی پاکیزگی تھی۔ وہ گُنگ سی ، کسی پتھر کی طرح ساکت،بنا پلک جھپکائے اسے دیکھتی رہی۔
عباد نے اس کے جواب کا انتظار کیے بغیر خاموشی سے اسے دیکھتے ہوئے آہستہ سے اس کا بایاں ہاتھ تھاما اور رِنگ بڑے پیار کے ساتھ اس کی دوسری اُنگلی میں ڈال دیا۔
’’یہ لیں… ہوگئی ہماری انگیجمنٹ… خوش؟‘‘ وہ اسے مسکرا کر دیکھ رہا تھا۔ صاعقہ کے دل و دماغ میں دھماکے سے ہونے لگے۔
’’صاعقہ جی! چپ کیوں ہیں پلیز کچھ تو بولیں ناں، میں جانتا ہوں کہ آپ میری جرأت پر حیران ہورہی ہیں۔ کہاں میں ایک غریب سا آوارہ لڑکا اور کہاں آپ، اتنی بڑی مصروف بزنس مین، عباد انڈسٹری کے مالک کی فیانسی‘ اسے دل سے چاہنے والی، لیکن میں کیا کروں میں آپ سے کٹ کر نہیں رہ سکتا۔ نہ ہی آپ کو کسی اور کا ہوتے دیکھ سکتا ہوں، وہ شخص تو ویسے بھی بہت مصروف بندہ ہے، میرے جیسی چاہ اور قدر کہاں دے سکے گا، لیکن میں ، میں آپ کو اس جیسی دولت حیثیت اور مرتبہ حاصل کرکے دکھائوں گا۔ بس تھوڑا سا وقت دے دیجئے مجھے پلیز!‘‘ اب وہ براہِ راست اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہہ رہا تھا۔ صاعقہ کی آنکھوں کی سطح نم ہوگئی، وہ بولی تو اس کا لہجہ بے حد رُندھا ہوا تھا۔
’’میری شادی عباد انڈسٹری کے مالک سے نہیں کسی اور سے ہورہی ہے مسٹر زین۔ عباد انڈسٹری کے مالک سے اب کوئی واسطہ نہیں رہا میرا۔‘‘ آخری بار اس سے بچھڑنے سے پہلے وہ اسے اپنی ذات کے بارے میں تھوڑا بہت سچ بتادینا چاہتی تھی، مگر وہ جیسے کچھ سننے کو تیار ہی نہیں تھا۔
’’اچھی بات ہے،میرے سوا اور کسی سے آپ کا کوئی واسطہ ہونا بھی نہیں چاہئے اور کان کھول کر سُن لیں، آپ کی شادی ہوگی تو صرف مجھ سے، وگرنہ میں کسی سے بھی نہیں ہونے دوں گا۔‘‘ وہ آج اسے حیران کرنے کے درپے تھا۔ صاعقہ کا آنسو اس کی پلکوں پر ہی اٹک گیا۔
’’کیا جانتے ہیں آپ میرے بارے میں؟ کچھ بھی تو نہیں؟‘‘ ایک پھیکی سی مسکان لبوں پر پھیلاتے ہوئے اس نے رُخ پھیرا تھا۔ جب عباد نے اس کا چہرہ پھر سے اپنی طرف موڑ کر، اس کی پلکوں پر اٹکا آنسو اپنی اُنگلی کی پور سے صاف کیا۔
’’مجھے اس کے سوا اور کچھ نہیں جاننا کہ آپ بہت اچھی لڑکی ہیں اور سب سے بڑھ کر مالکِ دو جہاں نے آپ کا چہرہ میری نگاہ میں بسادیا ہے۔ میں خود بھی یہ مسٹری سمجھنے سے قاصر ہوں کہ آخر آپ کے پاس وہ کیا ایسا جادو ہے، جس نے مجھے جکڑ کر بے بس سا کردیا ہے، نہ میں آپ کو جانتا ہوں، نہ آپ کی فیملی کا پتا ہے مجھے، نہ میں نے آپ کا گھر بار دیکھا۔ مجھے تو یہ بھی نہیں معلوم کہ اگر اچانک آپ مجھ سے روٹھ کر بچھڑ جائیں خدانخواستہ تو میں آپ کو تلاش کہاں کروں، کچھ بھی تو نہیں جانتا میں۔ پھر بھی میرے دل میں آپ کے لیے بے پناہ عزت ہے، محبت ہے، احترام ہے اور اس کا سب سے بڑا ثبوت وہ اضطراب ، وہ اذیت ہے جو پچھلے اٹھارہ گھنٹوں میں میں نے جھیلی ہے، خدا کی قسم اٹھا کر کہتا ہوں زرنیل جی، یہ محبت میرا دردِ سر نہیں تھا مگر آپ جیسی ساحرہ نے اسے جنون بنادیا ہے میرا۔‘‘ وہ روانی میں جو بھی کہہ رہا تھا اس کی آنکھیں اس کے سچ کی گواہی دے رہی تھیں ۔ وہ یک ٹک خاموشی سے اس کی آنکھوں میں دیکھتی رہی۔
’’کچھ بولیں گی نہیں اور نہیں تو یہی پوچھ لیں کہ میں پرسوں وعدے کے باوجود ٹائم پر یہاں آکیوں نہیں سکا۔‘‘ بہت آہستہ سے اس کا آنچل تھامتے ہوئے وہ اب شکایت کررہا تھا۔ صاعقہ کے لبوں کا قفل اب بھی نہیں ٹوٹا۔
’’آپ مشکل میں ہیں تو میں، کیا مجھے چین نصیب ہوسکتا ہے؟ میں اصل میں پیسوں کا بندوبست کررہا تھا تاکہ آپ کی مشکل حل ہوجائے اور آپ اس مکروہ انسان سے محفوظ رہیں، جو کسی بھی طور سے آپ کے لائق نہیں مگر، آپ میرا انتظار بھی نہیں کرسکیں؟‘‘
’’میں نے انتظار کیا تھا…‘‘ عباد کے الزام پر اچانک اس کے بند لبوں کا قفل ٹوٹا تھا جس پر وہ دھیرے سے مسکرادیا۔
’’مہربانی، یہ لیں پانچ لاکھ روپے کا چیک اور چلیں پہلی فرصت میں آپ کی والدہ محترمہ کی عیادت کرتے ہیں۔‘‘ صاعقہ کے آنچل کا کونا اب بھی اس کے شفاف ہاتھوں میں اُنگلیوں میں دبا تھا۔ وہ ایک نظر اس کے چہرے پر ڈالتی پھر سر جھکا گئی۔
’’ابھی اپنے پاس رکھیں، مجھے پہلے ڈاکٹر عارف سے بات کرنی ہوگی۔‘‘
’’ٹھیک ہے ، مگر یاد رکھیے گا،اب آپ صرف اور صرف میری امانت ہیں۔ جب جس وقت جس کام کے لیے چاہیں کال کرکے بلا سکتی ہیں، فوراً حاضر ہوں گا۔ کم از کم اب کسی بھی بات کے لیے آپ مجھے رشتے کا طعنہ نہیں دے سکتیں۔‘‘ وہ اسے تنگ کررہا تھا، صاعقہ اسے دیکھ کر رہ گئی۔
’’پیسوں کا انتظام کہاں سے کیا ہے؟‘‘
’’جہاں سے بھی کروں یہ میرا دردِ سر ہے، آپ نے تو حال تک نہیں پوچھا، آپ کی بلا سے جیئوں یا مروں، آپ کو کیا فرق پڑتا ہے۔ پیار تو مجھے ہوا ہے ناں آپ سے، آپ کو تھوڑی کوئی پروا ہے میری۔ اُدھر عباد کے گھر ان کی سسٹر کی شادی ہے۔ اتنے کام ہیں وہاں کہ مگر صرف آپ کی اس شادی والی بات کی اتنی ٹینشن لی میں نے کچھ پچھلے اٹھارہ گھنٹوں سے وہاں گیا ہی نہیں، اب سوچیں ذرا کتنی ڈانٹ پڑے گی مجھے؟‘‘ بے تکان پٹر پٹر بولتا وہ بالآخر اس کے لبوں پر مسکراہٹ کھینچ ہی لایا تھا۔ وہ مسکرا رہی تھی اور اس کی آنکھوں میں اب کسی اداسی کسی اضطراب کا دُور دُور تک نام و نشان نہیں تھا۔ عباد کو لگا جیسے وہ یکدم سے ہلکا پھلکا ہوگیا ہو۔
’’اب چلیں…‘‘ صاعقہ کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے اس نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا تو وہ اثبات میں سر ہلاتی اسے ٹھینگا دکھا گئی۔ عباد اس کی اس حرکت پر بے ساختہ مسکراتے ہوئے اس کے قدموں سے قدم ملا کر چلتا بہت سرشار سا واپس پلٹ گیا۔
///
رات کی گہری تاریکی میں گائوں کی کچی پگڈنڈی تیزی سے عبور کرتے ہوئے جس وقت اس نے اپنے ہی گھر کی دیوار پھلانگی، اس کی چھوٹی بہن سہم کر اپنے بستر پر اُٹھ بیٹھی۔
’’کون…؟‘‘ سب سے پہلا خوف جو اسے لاحق ہوا وہ عزت پر حملے کا تھا۔ میران سنبھل کر کھڑے ہوتے ہوئے اس کی چار پائی کے قریب چلا آیا۔
’’شش…‘‘ ہونٹوں پر اُنگلی رکھ کر اس نے اپنی خوف زدہ بہن کو خاموش رہنے کی ہدایت کی تھی، جس کی آنکھیں خوف اور حیرانی سے باہر اُبلنے کو ہورہی تھی۔
’’میران بھیا آپ؟‘‘
’’ہوں… ماں کو مت جگانا، باہر گاڑی کھڑی ہے جتنی جلدی ہوسکے سارا ضروری سامان سمیٹ کر میرے ساتھ چلو، میں لینے آیا ہوں تمہیں۔‘‘
’’مم … مگر آپ تو…‘‘
’’ہاں میں مرگیا تھا، مگر حقیقت میں نہیں، ساری کہانی سنائوں گا تمہیں، ابھی وقت نہیںہے، میں ماں کو لے کر نکلتا ہوں، تم جلدی سے ضروری سامان سمیٹ کر پیچھے آجائو۔‘‘ وہ سرگوشی میں بول رہا تھا۔ چھوٹی کے دل کی دھڑکن قابو سے باہر ہورہی تھی۔ کیسا خستہ حال ہوگیا تھا اس کے گھر کا؟ اور اس کی ماں۔۔۔۔۔ وقت نے کتنی بے دردی سے اس باوقار، صابر شاکر عورت کو، حالات کے دوزخ میں دھکیلا تھا۔ یوں جیسے ایک ہی طوفان سے کوئی شاندار، سر بفلک عمارت، ویران کھنڈر میں تبدیل ہوجائے۔ پہلی بار اس کی آنکھیں بھرآئی تھیں اور وہ اپنی بے بسی پر رو پڑا تھا۔ اس کی بہن، بدحواسی سے، اس کے حکم پر جلدی جلدی ضروری سامان سمیٹ رہی تھی جب کہ وہ حسرت زدہ نگاہوں سے اپنے گھر کے ایک ایک کونے کو دیکھتے ہوئے بکھر رہا تھا۔ وہ رات گائوں ’’شاہ والا‘‘ میں اس کی آخری رات تھی۔
سانول شاہ کی ضد کے سامنے ہتھیار پھینکتے ہوئے بالآخر وہ انزلہ شاہ سے دستبردار ہوگیا تھا کہ سزائے موت اس کی نگاہ میں بڑی سزا نہیں تھی مگر، اکلوتی جوان بہن کی آبرو ریزی اور کوٹھے پر پہنچائے جانے کی دھمکی میں اتنا دم ضرور تھا کہ اسے بالآخر شکست تسلیم کرنی پڑی تھی اور یوں سانول شاہ نے اس سے صلح کا اعلان کرکے اپنا کیس ختم کروادیا۔ اندھیری رات میں کتوں کے بھونکنے کی آواز اب آہستہ آہستہ دور ہوتی جارہی تھی۔ کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوسکی، نہ چاند نکلا، نہ کسی ستارے نے ہی اس کا راستہ روکنے کی کوشش کی اور وہ میران شاہ ایک ایک منظر، ایک ایک عکس کو پیچھے چھوڑتا اس رات، شاہ والا ہی نہیں انزلہ شاہ کی زندگی سے بھی بہت دور نکل آیا تھا۔
///
’’بالکل اکیلا؟ میں سمجھی نہیں؟‘‘ اسے واقعی حیرانی ہوئی تھی۔ جب ارسلان گہری سانس بھرتے ہوئے بولا۔
’’تم سمجھ بھی کہاں سکتی ہو مجھے، بہرحال امی کی ڈیتھ ہوگئی ہے پچھلے ہفتے۔ اس سے پہلے رُحاب اور میری ڈائیوورس بھی ہوگئی۔‘‘ دو اہم خبریں وہ کتنے نارمل انداز میں روانی سے اسے سُنا گیا تھا۔
امامہ جیسے برف میں لگ گئی۔ اس کے آنسوئوں کی شدت میں یکدم اضافہ ہوا تھا۔
’’پچھلے ہفتے اور تم… تم مجھے اب اطلاع دے رہے ہو؟‘‘
’’بزی تھا یار، بہت اپ سیٹ بھی۔ پرائے دیس میں سو مسائل ہوتے ہیں، اب یہ پاکستان تو نہیں ہے جہاں کسی بھی حال میں اللہ پر توکل کرکے جیتے رہو۔‘‘ وہ رنجیدہ تھی تو یہ بے زار، امامہ کو اس کے لفظ بالکل اچھے نہیں لگے۔ وہ چند لمحے خاموش رہی تو وہ خود ہی بولا۔
’’میں تمہیں مِس کر رہا ہوں مون! امی کے بعد اگر کسی ہستی سے مجھے سچا پیار ملا ہے تو وہ تم ہو، میں پاکستان واپس آنا چاہتاہوں، مگر یہاں میرے پاس ایک پھوٹی کوڑی بھی نہیں ہے، کھانے کا، رہائش کا، ہر طرح کا مسئلہ درپیش ہے، کچھ مدد کرسکوگی میری۔‘‘ اپنے مطلب کی بات کی طرف آنے میں اس نے زیادہ وقت نہیں لیا تھا۔
امامہ کی حیرانی اور پریشانی میں مزید اضافہ ہوا۔
’’مدد… کیسی مدد…؟‘‘ وہ واقعی نہیں سمجھی تھی۔
’’مجھے کچھ روپے چاہئیں مون، فوری اور تمہارے سوا دنیا میں کوئی نہیں جو اس وقت میری مدد کرسکے، اسی لیے تم سے اپنی پریشانی شیئر کررہا ہوں۔‘‘
’’مم… مگر میں… میں کیسے؟‘‘
’’تم کرسکتی ہو مون، جو شخص تمہارا شوہر ہے بڑا فیاض اور امیر ہے، جتنے چاہو اتنے پیسے مانگ سکتی ہو اس سے، تمہیں انکار نہیں کرے گا وہ، پلیز مون… میں بہت مشکل میں ہوں۔‘‘
’’میں نہیں کرسکتی ارسلان، تم رُحاب سے مدد کیوں نہیں لیتے؟‘‘
’’تھوکتا ہوں میں اس کے پیسے پر اور تم ، تم وہی ہو ناں جو میری مدد کے لیے اس ایس پی کے گھر میں جا گھسیں پھر اب کیا ہوگیا ہے؟ کیا تھوڑے سے دنوں کی جدائی نے ارسلان حیدر کے دام گِرادیئے ہیں؟ بولو…؟‘‘ وہ مشتعل ہورہا تھا۔ امامہ کچھ دیر خاموشی سے اسے سنتی رہی، پھر آنسو پیتے ہوئے آہستہ سے لائن ڈراپ کردی، وہ شخص جو آج بھی اس کے لیے زندہ رہنے کا واحد سبب تھا۔ ایک بار پھر اسے کانٹوں پر گھسیٹتے ہوئے، اس کی محبت اور ضبط کا امتحان لینے پر تُلا ہوا تھا۔
///

آ کسی روز کسی دُکھ پہ اکٹھے روئیں
جس طرح مرگِ جواں پر کہیں دیہاتوں میں
بوڑھیاں روتے ہوئے بین کیا کرتی ہیں
جس طرح ایک سیاہ پوش پرندے کے کہیں گِرنے سے
ڈار کے ڈار زمینوں پر اُتر آتے ہیں…
چیختے، شور مچاتے ہوئے… کراہتے ہوئے
اپنے محروم رویوں کی المناکی پر…
اپنی تنہائی کے ویرانوں میں چھپ کر رونا
اجنبیت کے گھٹا ٹوپ بیابانوں میں
شہر سے دور سیاہ غاروں میں چھپ کر رونا
اک نئے دکھ میں اضافے کے سوا کچھ بھی نہیں
اپنی ہی ذات کے گنجل میں الجھ کر رونا
ان گمراہ مقاصد سے وفا ٹھیک نہیں
ہم پرندے ہیں نہ مقتول ہوائیںپھر بھی
آ کسی روز کسی دُکھ پہ اکٹھے روئیں…

وہ گم صم سی بیٹھی تھی! بیڈ پر تکیے کے قریب پڑا اس کا موبائل پھر بجنا شروع ہوگیا تھا۔ انوشہ نے زچ ہوتے ہوئے کال پِک کی۔ دوسری طرف صدف بیگم تھیں۔
’’ہیلو…‘‘ انوشہ ان کی آواز نہیں پہچانتی تھی تبھی اُلجھ کر رہ گئی۔
’’کون…؟‘‘
’’ماں بول رہی ہوں تیری، کیسی ہے تُو؟‘‘ ان کا لہجہ نم تھا۔ انوشہ کو لگا جیسے وہ پتھر ہوگئی ہو۔
’’ماں…؟‘‘
’’ہاں میری جان، تیری بدنصیب ماں…‘‘ وہ اب روپڑی تھیں۔ انوشہ نے خود کو سنبھال لیا۔
’’کیوں فون کیا ہے…؟‘‘
’’تیری یاد آرہی تھی، دل تڑپ رہا ہے تجھے دیکھنے کے لیے، زاور کو بھیج رہی ہوں چند روز میں، اس کے ساتھ یہاں آجا انوشہ! خدا کا واسطہ ہے تجھے۔‘‘ وہ تڑپ رہی تھیں، انوشہ نے اپنے آنسو پی لیے۔
’’میرے لیے ممکن نہیں ہے آپ کے حکم کی تعمیل کرنا، جب مجھے آپ کی ضرورت تھی، اپنی ماں کی ضرورت تھی اس وقت، میںیہاں اکیلی تھی،یہاں حالات کے تپتے سورج کے تلے آبلہ پا، اکیلی اس وقت آپ کے پاس میرے لیے فرصت نہیں تھی، آج اس وقت مجھے آپ کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ اس کا لہجہ سرد تھا۔ صدف بیگم کا دل مچل کر رہ گیا۔
’’ایسا مت کہہ انوشہ! تیری ماں بہت مجبور ہے یہاں۔‘‘
’’تو رہیں خوش اپنی مجبوریوں کے ساتھ، میں نے کبھی آپ سے آپ کا وقت، آپ کی مامتا نہیں مانگی، بہت سے بچوں کی مائیں ان کے جنم کے ساتھ ہی مرجاتی ہیں، مجھے ہمیشہ یہی لگا ہے میری ماں بھی میری پیدائش پر ہی مر گئی تھی۔‘‘ وہ تلخ ہوئی تھی اور اسی تلخی کے بناء صدف بیگم کے احساسات و جذبات کی پروا کیے بغیر اس نے کال کاٹ کر مومائل دور پھینک دیا۔ بہت عرصے کے بعد وہ زندگی کی طرف واپس پلٹ رہی تھی۔ عبد الصمد کی کوششوں سے اسے ایک بہترین کمپنی میں جاب مل رہی تھی اور انوشہ کے لیے اپنی فرسٹریشن سے چھٹکارہ پانے کا اس سے بہتر کوئی دوسرا حل نہیں تھا۔ اسے تیار ہوکر عبد الصمد کے ساتھ ہی باہر جانا تھا مگر وہ ابھی تک نہیں آیا تھا۔
انوشہ اچھی طرح تیار ہوکر کھڑکی میں آکھڑی ہوئی۔ نیچے لان میں شاہ زر اس کے بیٹے کے ساتھ کھیل رہا تھا۔
وہ کافی دیر وہیں کھڑی انہیں ایک دوسرے کے ساتھ مگن کھیلتے ہوئے دیکھتی رہی، پھر کھڑکی سے ہٹ آئی۔ عبد الصمد اسے کال کرکے گیٹ پر بُلا رہا تھا، وہ تیزی سے سیڑھیاں اُتر کر شاہ زر اور اس کے ساتھ کھیلتے اپنے بیٹے کو یکسر نظر انداز کرتی، تیزی سے گیٹ کی طرف بڑھ گئی۔ شاہ زر جو اپنے بیٹے کی کسی بات پر ہنس رہا تھا، اسے دیکھ کر یک دم اپنی ہنسی کو بریک لگا گیا۔
انوشہ رحمن ایک عرصے کے بعد اسے اپنے پرانے رنگ و روپ میں نظر آئی تھی اور اس وقت اسے اتنا مطمئن دیکھ کر وہ واقعی حیران رہ گیا تھا۔
///
’’چوہدری صاحب… آپ کو بڑے صاحب اپنے کمرے میں بُلا رہے ہیں۔‘‘ وہ ٹی وی کے سامنے بیٹھا کوئی فلم دیکھ رہا تھا جب حویلی کے ملازم نے ادب سے ہاتھ باندھے اسے اطلاع دی۔
سانول نے ایک لمحے کے لیے ٹی وی اسکرین سے نظریں ہٹا کر ملازم کو دیکھا پھر اثبات میں سر ہلا کر اسے جانے کا اشارہ کردیا۔
اگلے بیس منٹ میں وہ مردان خانے کے اس اخروی حصے میں بیٹھا تھا جہاں بیٹھ کر عموماً پنچائیت کے فیصلے کیے جاتے تھے۔
’’جی بڑے بھا، آپ نے یاد کیا؟‘‘
’’آہو… آئو بیٹھو…‘‘ بڑے بھا کا موڈ اس کی توقع سے زیادہ خراب تھا۔ وہ چپ چاپ ان کے مقابل بیٹھ گیا۔
’’جی حکم…‘‘
’’کوئی حکم نہیں، حکم کے قابل کب چھوڑا ہے تُو نے ہمیں۔‘‘
’’میں سمجھا نیئں؟‘‘
’’اتنا بھولا نہیں ہے تُو…‘‘ بڑا چوہدری اس کی ادائے معصومیت پر گرجا۔ ’’خوب جانتا ہے کس بات کی طرف اشارہ ہے میرا، سالوں جس کیس پر پانی کی طرح پیسہ بہایا اسے پھر خود ہی ایک منٹ میں ختم بھی کردیا۔ بڑے بھائی سے مشورہ کرنا بھی ضروری نہیں سمجھا تُو نے…؟‘‘ مارے اشتعال کے بڑے چوہدری کے منہ سے کف بہنے لگا تھا۔ سانول کے چہرے پر تنائو آگیا۔
’’یہ کیس میرا ذاتی مسئلہ تھا بڑے بھا، اس سے آپ کا کوئی لینا دینا نہیں۔‘‘
’’ارے بھاڑ میں گئے تیرے سارے ذاتی مسئلے، حویلی کی عزت اور ناک کا مسئلہ تھا یہ، گائوں میں اگر کسی کو کانوں کان خبر ہوگئی تو کیا حیثیت رہ جائے گی ہماری، جھوٹا سہی مگر یہ کیس بہت اہمیت رکھتا تھا ہمارے لیے۔‘‘
’’رکھتا ہوگا مگر میں نے جو صحیح سمجھا وہی کیا، فضول میں کسی کو پھندا لگوا کر ساری عمر کے لیے اس کی ماں بہن کی بد دعائیں نہیں لے سکتا تھا میں۔‘‘
’’ہا ہا… ہاہاہا… کہہ تو یوں رہا ہے جیسے پہلے کبھی ایسا کوئی کام کیا ہی نہیں، اس سے پہلے جو بیسیوں بندے پھڑکائے ہیں وہ جائز مارے تھے؟ تھپڑ مارنے والی بات پر بھی گولی مارتا ہے تُو، پھر اب گناہ ثواب کا خیال کیسے آگیا تجھے؟‘‘ بڑے چوہدری کو اس کی بات چُبھی تھی، تبھی وہ ہنسا تھا۔
سانول کے چہرے پر ناگواری جھلک آئی۔
’’جو ہوگیا سو ہوگیا، اب آپ کیا چاہتے ہیں مجھ سے؟‘‘
’’کیا چاہا ہے تجھ سے، پہلے کتنے چاہ پورے کیے ہیں تُو نے؟‘‘ ان کا غصہ کسی طور اُترنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔
سانول اس بار خاموش بیٹھا رہا۔
’’سسر آیا تھا تیرا کل شام‘ شادی کی تاریخ مانگ رہا ہے، کیا جواب دوں اسے؟‘‘ اگلے ہی پل وہ نرم پڑے تھے۔
سانول نے بے چین ہوکر رُخ پھیر لیا۔
’’مجھے کیا پتا کیا جواب دینا ہے؟ جو بہتر سمجھیں دے دیں، مجھے تو صرف اور صرف پہلے اپنی محبت سے شادی کرنی ہے، پھر کسی اور کے لیے سوچوں گا۔‘‘
’’تو کر لے اپنی محبت سے شادی، روک کون رہا ہے تجھے؟‘‘
’’کوئی نہیں، لیکن ابھی وہ مان نہیں رہی ہے، پہلے اسے رضامند کروں گا پھر شادی کروں گا۔‘‘
’’واہ… کیا خوب شان بڑھا رہا ہے حویلی کی؟ گائوں کا چوہدری ہوکر ایک معمولی سی لڑکی کو شادی کے لیے منارہا ہے، منت کررہا ہے اس کی؟ تف ہے تیری مردانگی پر۔‘‘ بڑے چوہدری کی بات نے اسے جیسے آگ لگادی تھی۔
’’محبت کرتا ہوں اس سے میں، خریدا نہیں ہے اسے جو من مرضی کا سلوک کرتا پھروں، ویسے بھی محبت کے معاملے میں مردانگیاں نہیں چلتیں۔‘‘
’’نہیں چلتی مردانگی تو چوڑیاں پہن کر حویلی میں بیٹھ جا، ہونہہ محبت نہ ہوگئی، کوئی فریضہ ہوگیا۔‘‘ اس کا بھائی اپنی شال کو جھٹکا دیتا غصے سے اُٹھ کھڑا ہوا تھا۔
سانول شاہ اس پر نگاہ ڈالے بغیر زمین کو گھورتا رہا۔
’’کان کھول کر سُن لے سانول! ایک ہفتے کے اندر اندر اگر تُو نے شادی کے لیے رضا مندی نہ دی، تو میں تیری رضا کے بغیر یہ شادی زبردستی کروانے پر مجبور ہوجائوں گا، تیری فضول حرکتوں کی وجہ سے اپنے خاندان اور باپ کی مزید رسوائی نہیں کرواسکتا میں۔‘‘ وسیع کمرے میں صرف ان کی آواز گونج رہی تھی۔
کسی شیر کی طرح دہاڑتی ہوئی‘ غراتی ہوئی آواز۔
سانول ان سے بنا کوئی بات کیے چپ چاپ اُٹھ کر وہاں سے چلا آیا۔
اس کا دل اس وقت عجیب سی بے کلی اور اضطراب کا شکار تھا۔
///
جیپ اسٹارٹ ہوچکی تھی، گائوں مردا شاہ سے شاہ والا کے درمیان سفر کے دوران بہزاد علی مراد تقریباً خاموش رہا تھا۔ انزلہ اس سے اس کی تعلیم، مشاغل اور دیگر مصروفیات کی بابت چھوٹے موٹے سوالات کرتی رہی تھی، جن کے وہ احتیاط سے جواب دیتا رہا۔
’’مراد بتارہا تھا آپ کو بھی شکار کا بہت شوق ہے۔‘‘
’’ہوں…‘‘
مکمل توجہ گائوں کے کچے راستے پر مرکوز رکھتے ہوئے اس نے محض ہنکارہ بھرا تھا۔
’’کن کن جانوروں کا شکار شوق سے کرتے ہیں؟‘‘
’’جو بھی میسر آجائے، ہرن، خرگوش، چیتا، جنگلی بٹیر، تیتر، یا دیگر پرند۔‘‘
’’گُڈ، کبھی کوئی نقصان بھی اُٹھانا پڑا شکار کے شوق کے دوران؟‘‘
’’ہوں… دو دفعہ چیتے کی زد میں آگیا تھا۔ ایک دفعہ سینہ اچھا خاصا زخمی ہوا اور دوسری بار دائیں ٹانگ پر شدید چوٹ آئی، ایک بار تن تنہا شکار کرتے ہوئے راستہ بھول کر جنگل میں کھو گیا، تین دن جنگل میں بھٹکنے کے بعد چوتھے دن میرے دوستوں نے پہنچ کر مجھے وہاں سے باہر نکلنے میں مدد دی۔‘‘
سست روی سے ڈرائیونگ کرتے ہوئے وہ جیسے گزرے دنوں میں کھوگیا تھا۔
انزلہ دل چسپی سے اس کی باتیں سنتی مسکرادی۔
’’میرے پاپا کو بھی شکار کا بہت شوق تھا، ان کی بندوق اب بھی ہے، کبھی کبھی میرا دل چاہتا ہے جنگلوں کی سیر کو، مگر صرف جنگلوں کی سیر کو، میںپاپا اور آپ کی طرح کسی جانور یا پرندے کا بے دردی سے شکار نہیں کرسکتی۔‘‘ اس بار زیرِ لب مسکرانے کی باری بہزاد کی تھی۔
’’اس جمعہ کو میں او رمراد اکٹھے شکار پر جارہے ہیں، آپ کا دل چاہے تو آپ بھی ہمارے ساتھ چل سکتی ہیں۔‘‘
’’بالکل ضرور، یہ تو میرے دل کی آواز ہے، بہت شکریہ آپ کی دعوت کا۔‘‘ وہ خوش ہوئی تھی۔ بہزاد بنا اس کی طرف دیکھے لا تعلق سا بیٹھا رہا۔
گائوں شاہ والا کی حدود شروع ہوگئی تھیں، باقی گھر تک کا سفر پھر خاموشی کی نذر ہوگیا۔
شہر سے گائوں آنے کے بعد وہ پہلا دن تھا جب وہ بے حد مسرور تھی۔
بہزاد نے اس کے گھر کے قریب جیپ کو بریک لگادی۔
’’یہاںسے چلی جائیں گی یا میں ساتھ آئوں؟‘ جیپ کے اندر ہی بیٹھا، ہاتھ اسٹیئرنگ پر دھرے وہ پوچھ رہا تھا۔ انزلہ مسکرادی۔
’’آپ شرمندہ کررہے ہیں، میں چلی جائوں گی۔‘‘
’’چائے پانی کا نہیں پوچھیں گی؟‘‘ اب اس کی سیاہ آنکھوں میں شرارت اور لبوں پر مسکراہٹ تھی۔ انزلہ کے لب بھی مزید پھیل گئے۔
’’نہیں۔‘‘ سہولت سے کہتے ہوئے اس نے نفی میں سر ہلایا تھا، جواب میں بہزاد نے مسکراتے ہوئے جیپ اسٹارٹ کرلی۔
’’اوکے پھر، فی امان اللہ۔‘‘ وہ واپس پلٹا تھا۔ انزلہ وہیں کھڑی اسے حفاظت سے گائوں کا آخری موڑ مڑتے دیکھتی رہی۔
چاند کی روشنی میں اِردگرد کا ہر منظر اس پر خوب روشن تھا۔
وہ سرشار سی واپس پلٹی اور ٹھٹک گئی۔
وہاں اس سے کچھ ہی فاصلے پر، اپنے رف سراپا کے ساتھ کھڑا سانول شاہ، حقیقی معنوں میں اس کا دل دھڑکا گیا تھا۔
///

خزاں کے زرد پتّوں کو وہ منظر یاد کرتا ہے
اسے کہنا، بہت اس کو دسمبر یاد کرتاہے
اسے کہنا کہ یخ بستہ ہَوائیں زخم دیتی ہیں
اسے کہنا اسے اِک شخص اکثر یاد کرتا ہے
اسے کہنا کہ اس کے بِن اداسی میںہیں سب رَستے
اسے کہنا اسے بچھڑا سمندر یاد کرتاہے
اسے کہنا کہ اس کو بھول جانا بس سے باہر ہے
اسے کہنا اسے کوئی برابر یاد کرتا ہے

بُریرہ کی طرف سے سائلہ بیگم کا خط شاہ زر کو موصول ہوا تھا۔ جس میں سب سے اہم اور تکلیف دہ بات، بُریرہ کا شاہ زر سے طلاق کا مطالبہ تھا۔ ایک لمحے کے لیے وہ جیسے ساکت رہ گیا تھا…
وہ لڑکی جو اس سے بے پناہ محبت کی دعوے دار تھی، کیا وہ یوں آسانی سے اپنا راستہ اس سے علیحدہ کرنے کا سوچ سکتی تھی۔ اضطراب ایسا تھا کہ وہ فوراً آفس سے اُٹھ آیا…
گاڑی میں بیٹھتے ہی اس نے بُریرہ کا نمبر پریس کیا تھا، دوسری طرف بیل جاتی رہی مگر کسی نے اس کی کال ریسیو نہیں کی۔ بُریرہ اس سے ناراض تھی، یہ وہ جانتا تھا مگر یہ ناراضگی، یہ خفگی کیا اس نہج تک جاپہنچی تھی کہ اب ان دونوں کا اکٹھے رہنا ممکن نہیں رہا تھا۔
وہ محض اس کی شریکِ حیات نہیں تھی، قریبی کزن اور سب سے بہترین دوست بھی تھی۔ پھر وہ اسے کس کے لیے گنوا رہا تھا؟
ایک سراب کے لیے…؟
ایک الوژن کے لیے…؟
مزید پریشان ہوتے ہوئے اس نے دوبارہ اس کا نمبر پریس کیا تھا مگر اس بار بھی بیل جاتی رہی ، اس کی کال کسی نے پک نہیں کی۔ پریشانی سی پریشانی تھی۔ گاڑی اسٹارٹ کرکے وہ ابھی تھوڑی دور ہی آیا تھا کہ ایک مرتبہ پھر اس نے ڈیش بورڈ پر پڑا سیل اُٹھا کر بُریرہ سے رابطے کی کوشش کی اور اس بار دوسری طرف سے اس کی کال کو پک کرلیا گیا۔
’’ہیلو…!‘‘
’’ہُوں بولو، کیوں بار بار کال کررہے ہو؟‘‘ دوسری طرف بُریرہ تھی مگر اس کی آواز میں نشہ تھا۔
شاہ زر ضبط کے گھونٹ پی کر رہ گیا۔
’’میری کال کیوں ریسیو نہیں کررہیں، کہاں ہو اس وقت؟‘‘
’’جہاں بھی ہوں، تمہیں بتانے یا تم سے اجازت لینے کی پابند نہیں ہوں۔‘‘ نشے میں ہونے کے باوجود اس کے لہجے میں سرد مہری تھی۔
’’شٹ اپ بُریرہ! میں نے اگر تمہیں خود سے دور بھجوایا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ تم اپنی حدود قیود کو کراس کرجائو۔‘‘
’’اچھا! تمہیں خود اپنی حدود و قیود کا پتا ہے؟ اپنی عیاشیوں پر توجہ کی ہے کبھی تم نے؟ بیوی کے ہوتے ہوئے، دوسری پرائی عورتوں پر فدا رہتے ہو، یہ حدود و قیود کی خلاف ورزی نہیں ہے؟ اتنا پیار تھا اس سے تو میری زندگی کیوں برباد کی؟ اسی سے کرلیتے شادی، کوئی روکنے والا نہیں تھا تمہیں؟‘‘ وہ اب چلّا رہی تھی۔
شاہ زر کو بے ساختہ اس پر ترس آگیا۔ جھنجلاہٹ اور پریشانی کے باوجود اس نے گاڑی کی رفتار دھیمی کرکے اپنے لہجے میں نرمی اور مٹھاس پیدا کی تھی۔
’’نہیں… اگر تم میرے سامنے نہ ہوتیں تو شاید میں ایسا کچھ کرلیتا… مگر… جب تم مل گئیں تو پھر کسی اور کی گنجائش کہاں رہ گئی تھی؟‘‘
’’جسٹ شٹ اپ شاہ زر! ساری عمر باتوں سے بہلاتے آئے ہو تم مجھے، مگر اب… اب ایسا نہیں ہوگا۔ مجھے تم سے ڈائیوورس چاہیے اور بس…‘‘
’’کیا کرو گی ڈائیوورس لے کر…؟‘‘ اس کا لہجہ اب بھی نرم تھا۔
’’تمہارا دردِ سر نہیں ہے یہ کہ میں کیا کرتی ہوں۔ یہ میری زندگی ہے اور اسے میں اپنی مرضی سے گزارنے کا پورا پورا حق رکھتی ہوں۔ تم کیا سمجھتے ہو، تمہاری زندگی میں میری کوئی اہمیت نہیں تو میں ساری عمر اسی دُکھ میں گھلتی مر جائوں گی؟ نہیں شاہ زر! کوئی کسی کے غم میں نہیں مرتا۔ ہاں جینے کا انداز بدل جاتا ہے۔ اب میں بھی تمہیں ایک نئے انداز میں جی کر دکھائوں گی، سمجھے تم؟‘‘ اس کا اشتعال مزید بڑھا تھا۔
’’پاگل ہو تم بُریرہ اور کچھ بھی نہیں۔ اچھی طرح کان کھول کر سُن لو۔ میں کسی طور تمہیں طلاق نہیں دوں گا، سمجھیں؟ گڈ بائے…!‘‘
بات مکمل کرتے ہی اس نے لائن کاٹ دی تھی۔ ٹھیک اسی وقت اس کا سیل دوبارہ بج اُٹھا تھا۔ شاہ زر کا خیال تھا کہ بُریرہ نے کال بیک کی ہوگی مگر وہاں اسکرین پر اس کے آفس کا نمبر جگمگارہا تھا۔
’’ہیلو…‘‘
’’ہیلو سر! میں زید بول رہا ہوں آفس سے۔ آپ کو ایک افسوسناک خبر دینی تھی۔‘‘
’’افسوس ناک خبر؟‘‘ اس کے دل کو کچھ ہوا تھا، جب اس نے سنا۔
’’جی سر! وہ… ابھی تھوڑی دیر پہلے یہاں سے کچھ فاصلے پر ایک زبردست روڈ ایکسیڈنٹ ہوا ہے۔ جس میں آپ کے نیو پارٹنر مسٹر عبد الصمد اور ان کی وائف انوشہ رحمن صاحبہ شدید زخمی ہوگئی ہیں۔ دونوں اس وقت اسپتال میں ہیں مگر دونوں کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہیں۔‘‘
اس کا ورکر روانی میں اسے تفصیلات سے آگاہ کررہا تھا۔ شاہ زر کو لگا جیسے اس کی سماعتوں نے کام کرنا چھوڑ دیا ہے، اس کا دماغ بَھک سے اُڑ گیا تھا۔
وہ اندازہ نہیں کر پایا کہ ابھی تھوڑی دیر قبل بُریرہ سے علیحدگی کا تصور اس کے لیے زیادہ تکلیف دہ تھا یا ابھی ابھی ملنے والی انوشہ رحمن سے جدائی کی خبر، کہ جس نے اس کے جسم کا سارا خون ہی نچوڑ لیا تھا۔ اس وقت اسے صرف اتنا یاد تھا کہ اسے جلد از جلد انوشہ رحمن کے پاس پہنچنا ہے اور اس کے لیے اس نے ایک بار پھر تیزی سے بجتے ہوئے سیل کی بھی کوئی پروا نہیں کی تھی۔
متعلقہ اسپتال پہنچنے کے بعد سب سے پہلی خبر اسے عبد الصمد کی وفات کی ملی اور وہ بے جان ہوتے وجود کے ساتھ جیسے وہیں کوریڈور میں لکڑی کی بنچ پر بیٹھ گیا تھا۔
اندر آئی، سی، یو میں انوشہ رحمن ابھی زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہی تھی۔
///
وہ اسٹڈی روم میں بیٹھا کسی کیس کی اسٹڈی میں مصروف تھا جب وہ آہستہ سے دروازہ دھکیل کر کمرے میں چلی آئی۔
’’سُنیے…!‘‘ کچھ دیر اس کے متوجہ ہونے کا انتظار کرنے کے بعد، ہاتھوں کی اُنگلیاں آپس میں رگڑتے ہوئے بالآخر وہ بول اُٹھی تھی۔ شجاع نے خاصی حیرانی سے سر فائل سے اُٹھایا تھا۔
’’ہُوں…‘‘
’’وہ… مجھے کچھ کام تھا آپ سے۔‘‘ ازحد کنفیوژ ہوتی وہ شجاع کو الجھن میں ڈال رہی تھی۔
نگاہیں تھیں کہ جیسے زمین پر بچھے نفیس قالین پر جم کر رہ گئی تھیں۔
’’ہُوں کہو…‘‘ وہ اس وقت مصروف بھی تھا اور قدرے ڈسٹرب بھی۔
امامہ نے ایک نظر اس کے چہرے پر ڈالی اور پھر سر جھکایا۔ اپنا مدعا اس سے بیان کرنا کتنا دشوار ہورہا تھا۔
صبیح پیشانی پر پسینے کے چند قطرے اُمڈ آئے تھے۔ جب کہ ہاتھ کی اُنگلیوں میں واضح لرزش تھی۔
’’وہ… مجھے… کچھ پیسے چاہئیں تھے…‘‘ اٹک اٹک کر بولتی وہ اسے حیران کر گئی تھی۔
’’تو اس میں اتنا گھبرانے والی کون سی بات ہے؟ میری چیک بُک لے آئو۔‘‘ حکم صادر کرکے وہ پھر سے سامنے دھری فائل میں گم ہوگیا تھا۔
امامہ مرے مرے سے قدم اُٹھاتی اس کے بیڈ کی سائیڈ ٹیبل سے چیک بُک اُٹھا لائی۔
’’ہُوں… کتنے پیسے چاہئیں…؟‘‘فائل میں گم اس نے پوچھا تھا۔ جب وہ بولی۔
’’پچاس ہزار…‘‘
’’پچاس ہزار…؟‘‘ شجاع کی نظریں اُٹھی تھیں اور اس پر جم کر رہ گئی تھیں۔
امامہ کے لیے اس کی نگاہوں کا سامنا کرنا، موت کے مترادف ہورہا تھا۔
کاش اس نے ارسلان حیدر سے محبت نہ کی ہوتی!
’’جی…!‘‘ بمشکل آنسو پیتے ہوئے اس نے سر کو جنبش دی تھی۔
شجاع نے سامنے دھری فائل بند کردی۔
’’پوچھ سکتا ہوں اچانک اتنے پیسوں کی ضرورت کیوں پیش آگئی تمہیں؟‘‘
’’جی… وہ… میں… مم… مجھے شاپنگ کرنی تھی کچھ، اپنے لیے۔‘‘
پہلے سے سوچا ہوا جملہ ادا کرتے ہوئے بھی اس کی زبان لڑ کھڑا گئی تھی۔
شجاع نے کچھ دیر بغور اس کے چہرے کو دیکھا پھر تیزی سے چیک پر پچاس ہزار کی رقم درج کردی۔
’’یہ لو مائی ڈئیر…! آئندہ اتنی سی رقم کے لیے اتنا پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، سمجھیں۔‘‘
اس کا جھوٹ جاننے کے باوجود وہ مسکرایا تھا۔
امامہ چاہنے کے باوجود اس کے سامنے سر نہ اُٹھا سکی۔
اس روز اس نے شجاع حسن سے پچاس ہزار شاپنگ کے نام پر ہتھیانے کے علاوہ، اپنی ایک گولڈ کی رِنگ بھی فروخت کی تھی۔ وہ شخص جو اس کے دل کا اوّلین مکین تھا۔ پرائے دیس میں اس کی خواری کا خیال اب بھی اسے اداس کیے ہوئے تھا۔ یہ درست تھا کہ وہ اس کے ہاتھوں دُکھی ہوئی تھی مگر… اس وقت اسے اپنے کسی نقصان کا احساس رہا ہی نہیں تھا۔
ایک لاکھ روپے جس مشقّت سے اکٹھے کرکے اس نے اسے ارسال کیے تھے، یہ صرف وہی جانتی تھی۔
شجاع اس کی الجھن سے بے خبر خاموشی سے اس کی سرگرمیاں دیکھتا رہا تھا۔
///
بی اماں کی آنکھوںسے ٹپکنے والے آنسو… ماضی کے بیتے ہوئے ہر لمحے کو ان کے تصور میںکھینچ لائے تھے۔ وہ گوری کوبتارہی تھیں کہ کیسے ان کے قافلے کی خواتین، اوباش آوارہ ہندو لڑکوں کے ہاتھ لگ گئیں اور کیسے مسلمانوں سے ازلی دشمنی رکھنے والے ان سفّاک انسانوں نے وہاں جنگل میں ان کی عزتوں سے کھیلتے ہوئے اِک قیامت بپاکی۔ وہ بے ہوش ہوگئی تھیں شاید اسی لیے ہر قسم کے نقصان سے محفوظ رہیں یا پھر وہاں بر وقت شیر محمد کی آمد کی صورت، ان کی دعائوں کے صدقے، ان کے پروردگار نے ان کی عزت بچالی تھی۔ وہ کڑی مسافت کے بعد پاکستان آئیں تو ان کا بُرا حال تھا۔ مگر سچے دین کا خزانہ پالینے کی خوشی ان کے ہر غم کے سامنے ڈھال بن گئی تھی۔
شیر محمد صاحب نے پاکستان ہجرت کے بعد، فوج میں شمولیت اختیار کی اور عین جوانی میں، جب کہ بی اماں کے ساتھ ان کی شادی کو ابھی محض چند سال ہی ہوئے تھے کہ وطن کی سر حدوں کی حفاظت سر انجام دیتے ہوئے جامِ شہادت نوش فرما گئے۔ ان کی رحلت کے بعد اپنی جوانی کی حفاظت اور ننھے سے بیٹے کی تن تنہا پرورش، ایک الگ کہانی تھی۔
عصر کی نماز کا وقت ہورہا تھا۔ وہ گوری کے سر پر ہاتھ پھرتی، بعد کے وقت کی یادیں ساتھ لیے، نماز کے لیے اُٹھ گئیں، جب کہ گوری وہیں بیٹھی اپنی سوچوں میں کھوئی رہی۔
///
’’ہیلو شاہ زر صاحب…!‘‘
وہ نڈھال سا، اسپتال کے کوریڈور میں کھڑا تھا، جب مسلسل بجتے سیل نے اس کی توجہ اپنی جانب مرکوز کروالی۔ نمبر کراچی کا نہ ہوتا تو شاید وہ کبھی کال پک نہ کرتا، بلکہ سیل ہی آف کرکے رکھ دیتا کہ اس وقت اس کا کسی بھی فرد سے بات کرنے کو قطعی دل نہیں چاہ رہا تھا۔
’’جی…‘‘ جانے کیسے آواز اس کے حلق سے نکل پائی تھی۔
’’سر! آپ کے لیے ایک بُری خبر ہے۔‘‘ دوسری جانب اجنبی آواز تھی۔
’’ایک مرتبہ پھر… بُری خبر۔‘‘
شاہ زر کے اعصاب جیسے چٹخ سے گئے۔ اسے لگا وہ موبائل فون پر اپنی گرفت مضبوط نہ رکھ سکے گا۔
’’کیا…؟‘‘
پاتال کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوبتے دل کو بمشکل سنبھالے ایک مرتبہ پھر وہ لبوں کو جنبش دے گیا۔ تبھی اسے بتایا گیا۔
’’سر! انگلینڈ سے پاکستان آنے والی آج صبح کی فلائٹ کو حادثہ پیش آگیا ہے۔ ایک سو تیس مسافروں میں سے کوئی زندہ نہیں بچا۔ میں متعلقہ کمپنی کا نمائندہ ہوں، آپ کے تین عزیز انگلینڈ سے اسلام آباد کے لیے سفر میں تھے۔ ابتدائی تحقیق کے مطابق دو خواتین اور ایک مرد ہے اور ان سے جو محفوظ سامان ملا ہے، اس میں ایک ڈائری ہے جس پر آپ کا نمبر اور ایڈریس درج ہے۔‘‘ کوئی پیشہ وارانہ انداز میں روانی سے اسے بتارہا تھا۔
شاہ زر کو لگا اس کا سر جیسے کسی بھاری بھر کم چیز نے کچل دیا ہو۔
اگر یہ قدرت کی طرف سے امتحان تھا تو بہت مشکل امتحان تھا۔ اگر یہ اس کے ایمان کی آزمائش تھی تو وہ خود کو اس آزمائش میں بہت کمزور پارہا تھا۔
پے در پے مصائب، پریشانیاں، حادثات!
کیا اسی کانام زندگی ہے؟
سنبھلنے کا کوئی موقع ہی نہیں مل رہا تھا
متعلقہ کمپنی کا نمائندہ کچھ اور بھی کہہ رہا تھا مگر وہ سُن ہی کہاں رہا تھا۔
عباد کو جیسے ہی اس کے آفس کی طرف سے شاہ زر کا پیغام پہنچایا گیا، وہ پہلی فلائٹ سے اس کے پاس دوڑا چلا آیا، مگر وہ نہیں جانتا تھا کہ وہاں اسے صرف ایک حادثے پر شاہ زر کو تسلی نہیں دینی، جب کہ اسے حقیقی معنوں میں ٹوٹ کر بکھرتے ہوئے بھی دیکھنا ہے۔
///
اس کی آنکھیں ضبط کی شدت سے سرخ ہورہی تھیں۔ انزلہ نے اس کی طرف دیکھا، پھر فوراً رُخ پھیر لیا۔
’’کون تھا یہ…؟‘‘
شاید اندھیرے کی وجہ سے وہ بہزاد علی مراد کو دیکھ نہیں پایا تھا۔
انزلہ کی پیشانی پر اس کے ایک دم سامنے آنے سے بل پڑگئے۔
’’تم سے مطلب…؟‘‘
’’مجھ سے ہی مطلب نکلتے ہیں سب تمہارے، سمجھیں تم…؟‘‘وہ دہاڑا تھا اور انزلہ کی ناگواری میں مزید اضافہ ہوا تھا۔
’’چلّائو مت۔ ہزار مرتبہ کہہ چکی ہوں تمہیں، میرے ذاتی معاملات میں ٹانگ اَڑانا چھوڑ دو، سوائے نفرت کے دوسرا کوئی تعلق نہیں ہے میرا تمہارے ساتھ۔ مت بھولو سانول شاہ! کہ تم ایک پڑھے لکھے جاہل اور جنگلی انسان ہو، تمہارا بھائی میرے پاپا کا قاتل ہے۔ تم جیسے وحشی انسان سے کوئی واسطہ رکھنے سے بہتر ہے، میں کسی کنوئیں میں چھلانگ لگا کر مرجائوں۔ انزلہ شاہ تو کیا کوئی بھی لڑکی تم جیسے آوارہ، رئیس زادے کی رفاقت کا نہیں سوچ سکتی، سمجھے تم!‘‘
وہ اتنی تلخ کیوں ہوگئی تھی،اسے خود بھی اندازہ نہیں تھا۔
سانول شاہ حیرت سے گُنگ اس کے سامنے پہاڑ بنا اسے چلّاتے ہوئے سنتا رہا اور وہ یکسر نظر انداز کرتی آگے بڑھ گئی۔
///

اسے یہ کون سمجھائے…
کہ وہ دشتِ خاموشی میں
انگلیوں میں سپیاں پہنے
کسی سوکھے سمندر کی
ادھوری پیاس کی باتیں
بہت چُپ چاپ سنتا ہے
بہت خاموش رہتا ہے
اسے یہ کون سمجھائے…
خوشی کے ایک آنسو سے
سمندر بھر بھی جاتے ہیں
بہت خاموش رہنے سے
تعلق مر بھی جاتے ہیں

زاور حسن کو انوشہ رحمن کے ایکسیڈنٹ کی خبر نہیں ملی تھی۔ وہ یہ بھی نہیں جانتا تھا کہ وہ کس حال میں ہے۔ اسے اس بات کی خبر بھی نہیں تھی کہ اس کی سوتیلی ماں سائلہ بیگم اپنی بیٹی کا گھر بچانے کے لیے کئی بار نہ صرف انوشہ کو لے کر شاہ زر سے جھگڑا کر بیٹھی تھیں بلکہ انہوں نے بُریرہ کی پاکستان واپسی کی شرط ہی یہ رکھ دی۔ وہ پہلے انوشہ کو ان کے پاس انگلینڈ بھجوائے مگر۔ یہ نہ تو شاہ زر کو گوارہ تھا نہ انوشہ کسی طور یہ ماننے کو تیار تھی۔ اس نے اپنے آپ کو زندگی میں کبھی اتنا بے بس محسوس نہیں کیا تھا۔
وہ شافیہ کے ساتھ پاکستان روانگی کی مکمل تیاری میں تھا، جب صدف بیگم نے بھی ان کے ساتھ جانے کا عندیہ دے دیا، انہیں اپنے بیٹے اور بہو کے ساتھ جاکر اپنی بیٹی کو منانا تھا، اس کا دل صاف کرنا تھا مگر وہ نہیں جانتی تھیں کہ یہ اس کے نصیب میں نہیں ہے۔
اِدھر پاکستان میں انوشہ زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہی تھی اور ادھر اس کے پیاروں نے موت کی دہلیز پر قدم دھر دیئے تھے۔ انگلینڈ سے پاکستان کے لیے روانہ ہونے والی اس فلائٹ کو پاکستان کی سر زمین پر پہنچنا نصیب نہیں ہوا تھا۔
دل کے سارے راز، دل میں لیے وہ تینوں نفوس فلائٹ کو اچانک پیش آنے والے حادثے کا شکار ہوکر لقمۂ اُجل بن گئے تھے، مگر پاکستان میں انوشہ اور شاہ زر دونوں کو ہی اس حادثے کی کانوں کان خبر نہیں ہوسکی تھی۔
بیٹی کادل صاف کرنے کی صدف بیگم کی خواہش، خواہش ہی رہ گئی تھی۔ شافیہ جو اس سے معافی کی خواستگار تھی، زاور جو اسے سینے سے لگا کر ڈھیر سارا رونے کا خواہش مند تھا،سب خاک میں مل گیا۔ آئی سی یو میں زندگی اور موت کی جنگ لڑتی اس لڑکی کو خبر بھی نہ ہوسکی تھی اور اس کا سارا نشیمن خزاں کی نذر ہوکر رہ گیا تھا۔
کسے خبر تھی کہ اگر وہ زندگی کی طرف واپس پلٹ بھی آئی تو اسے صرف اپنے نام نہاد شوہر کی ناگہانی موت کا ماتم نہیں منانا۔ بلکہ ان لوگوں کے لیے بھی رونا ہے، جن سے خفگی کے باوجود، وہ ان سے بے حد پیار کرتی تھی۔
وہ لوگ جو اس کا اثاثہ تھے
اس کا مان تھے
دُکھوں کی گرم دوپہر میں اس کا سائبان تھے
اسے رونا تھا… اور کاتبِ تقدیر کی اس آزمائش پر جانے کب تک رونا تھا
///
وہ اپنے روزمرّہ کے کاموں میں مصروف تھا، جب علیزہ دودھ کی خالی بالٹی اُٹھائے باڑے میں چلی آئی۔
ایان نے سرسری سی اِک نظر اس پر ڈال کر رُخ پھیر لیا تھا۔
’’السّلام علیکم!‘‘
اس کی پلکیں بھیگی تھیں۔
’’وعلیکم السّلام !‘‘ خود کو مصروف ظاہر کرتے ایان نے سر اُٹھا کر دوسری نگاہ اس پر نہیں ڈالی۔
’’بہت مصروف رکھتے ہو ہر وقت خود کو… کبھی تھوڑا آرام بھی کرلیا کرو ایان!‘‘ آج اس کی ٹون بدلی ہوئی تھی۔
ایان دل ہی دل میں حیران ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔
’’مجھے مصروف رہنے کے ہی پیسے ملتے ہیں، آرام کرنے کے نہیں۔‘‘
’’بڑے ایمان دار ہو۔‘‘
’’اللہ ربّ العزت کا خاص کرم ہے مجھ پر، وگرنہ میری کیا اوقات۔‘‘
’’بہت پیار کرتے ہو اللہ سے، کبھی اس کی مخلوق کے لیے بھی کچھ سوچ لیا کرو۔‘‘ وہ سنجیدہ تھی۔
سبز پتّوں میں بُھوسا ملاتا ایان اپنے ہاتھ روک گیا۔
’’میں کسی بھی قسم کی بحث میں پڑنا نہیں چاہتا۔ بس صرف یہ گزارش کرنا چاہتا ہوں کہ خدا کا واسطہ ہے تمہیں، میری جان چھوڑدو۔ میں تمہارے مطلب کا بندہ نہیں ہوں۔‘‘
’’تم سمجھتے ہو،میں تمہیں اپنے جال میں پھنسا رہی ہوں؟‘‘
’’ہاں!‘‘ وہ دہاڑا تھا۔
علیزہ کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ بکھر گئی۔
’’کتنے بُرے ہو تم ایان! تمہارے پاس وہ آنکھ ہی نہیں جو کسی کی بے لوث محبت کو دیکھ سکے، محسوس کرسکے۔‘‘
’’مجھے کوئی ضرورت نہیں ہے تمہاری بے لوث محبت کی، نہ ہی تمہارے پیار کا کوئی اچار ڈالنا ہے مجھے۔‘‘
’’پیار کا اچار ڈالا بھی نہیں جاتا… خیر، مجھے شادی کرنی ہے تم سے۔‘‘
بات کرتے کرتے ایک منٹ کے لیے رُک کر اس نے جیسے اچانک کوئی بم پھوڑا تھا۔
ایان کی پیشانی پر کئی بل ایک ساتھ پڑ گئے۔
’’تم کیا چاہتی ہو کیا نہیں، مجھے اس کی پروا نہیں، مگر میں ، میں یہ چاہتا ہوں کہ تم جیسی بدکردار لڑکی کی شکل بھی نہ دیکھوں اور اس کے لیے میں آج ہی بڑے ملک صاحب سے بات کرکے یہ کام چھوڑ رہا ہوں۔‘‘
علیزہ کا سر اس کے جواب پر جھکا تھا اور اس کی آنکھیں یک لخت آنسوئوں سے بھر گئی تھیں۔
’’ہاں میں بدکردار ہوں، جو بھی کرتی ہوں مجھے اس کا احساس ہے، مگر میں بدل سکتی ہوں، سر تاپا بدل سکتی ہوں، تم اپنی محبت کا آسرا تو دو ایان! میں تمہارے لیے، ہنس کر موت کو گلے نہ لگالوں تو کہنا۔‘‘
’’اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے، اگر تم یہ سمجھتی ہو کہ میں تمہارے ڈرامے کا اثر لے کر تمہاری باتوں میں آجائوں گا تو تم بہت بڑی غلط فہمی کا شکار ہو۔ میں تم سے نفرت کرتا ہوں علیزہ ملک! شدید نفرت کرتا ہوں تم سے۔ کیونکہ تم بھی نفس کی غلام ، راہ سے بھٹکی ہوئی عورتوں میں سے ایک ہو، جنہیں نہ ماں باپ کی عزت کا پاس ہوتا ہے نہ پردے کی حرمت کا احساس، صرف تماشا ہو، نمائش ہو تم دنیا کے لیے، اور کچھ بھی نہیں۔‘‘
وہ تلخ ہوا تھا اور علیزہ کا منہ اسے حیرانی سے دیکھتے ہوئے کھلے کا کھلا رہ گیا تھا۔
کتنی نفرت چھپائے ہوئے تھا وہ اس کے لیے اپنے دل میں… اسے لگا اس کا دل جیسے ضبط کے طوفان کو دبانے سے پھٹ جائے گا، تبھی وہ بولی تھی۔
’’ہاں میں تماشا ہوں، کھلونا ہوں دنیا کے لیے۔ مگر میں تم سے محبت کرتی ہوں ایان ملک… اور اسی محبت کے صدقے، میں زندگی بھر تمہاری غلام بن کر رہ سکتی ہوں۔ کیا گارنٹی ہے تمہارے پاس کہ جس پارسا لڑکی کو تم اپنی زندگی کا حصہ بنائو گے، اس کا کسی کے ساتھ کوئی چکر نہیں ہوگا، کوئی تعلق نہیں ہوگا؟ عورت کی نگرانی بھی رکھ سکا ہے کبھی کوئی۔ بہت یقین ہے تمہیں پردے کی پاکیزگی پر؟ ‘مگر میں نے ، علیزہ ملک نے بہت بار ایسی لڑکیاں دیکھی ہیں جو اپنے وجود کو مکمل طور پر عبا اور اسکارف میں لپیٹ کر گھر سے نکلتی ہیں، مگر جب وہ گھر واپس لوٹتی ہیں تو ان کے وجود گندگی سے لتھڑے ہوتے ہیں۔ چار گز کے کپڑے کو آہنی دیوار سمجھتے ہو تم؟ جسے کوئی ڈھا نہ سکے، مسمار نہ کرسکے؟‘‘
سرخ بھیگی ہوئی آنکھیں اس کے چہرے پر گاڑے وہ تلخی سے کہتی حساب برابر کررہی تھی۔ ایان کو لگا جیسے وہ اس سے کبھی جیت نہیں سکے گا۔
وہ عورت کے فریب کا شکار تھا، اس صنف سے نفرت کرتا تھا مگر… اس لمحے اچانک اس کے اندر کہیں کچھ بدلا تھا۔
بھیگی ہوئی ہلکی ہلکی سرخ آنکھوں میں ہلکورے لیتا غصہ اسے گنگ کرگیا تھا۔
کتنی گہری تھی وہ اور کتنی کڑی نگاہ تھی اس کی اپنے اردگرد کے ماحول پر …
اسے اب اپنے الفاظ پر افسوس ہورہا تھا مگر اس نے علیزہ سے اس کا اظہار نہیں کیا۔
وہ روتی ہوئی وہاں سے چلی گئی تھی۔ ایان اُلجھا اُلجھا سا کام چھوڑ کر وہیں بیٹھ گیا۔
اگلے کئی روز تک وہ اس کے سامنے نہیں آئی اور وہ مزید بے چین سا ہوگیا۔
ٹھیک ہی تو کہا تھا اس نے، بھلا ربّ کی ذات کے سوا کوئی انسان کسی دوسرے انسان کو ہدایت دے سکتا ہے؟
اس کے کردار کی نگرانی کرسکتا ہے؟
وہ غلط لڑکی تھی مگر اس نے بات بالکل سچ کہی تھی۔
کتنے ہی دن کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد بالآخر اس نے خود سے یہ اعتراف کرلیا تھا کہ علیزہ ملک اس کے دل میں اپنے لیے نرم گوشہ بنا چکی تھی۔
اس روز بہت دنوں کے بعد اس نے اسے دیکھا تھا۔ خاموش خاموش سی اداس لڑکی… پیلے سوٹ میں کتنی اچھی لگ رہی تھی۔
ابھی دو روز قبل اس نے حویلی میں کام کرنے والے لڑکے عاطف کی بے تکلفی پر اس کی اچھی خاصی بے عزتی کرکے اسے وارن کردیا تھا۔ ایان کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ اس سے بات کرے تو کیسے کرے؟ اور پھر اس دن جیسے اس کی تقدیر نے اسے یہ موقع مہیا کرہی دیا۔
بڑے ملک کی طبیعت خراب تھی اور چھوٹا ملک اپنے بڑے بھائی کو ائر پورٹ سے لینے کے لیے کل ہی کراچی روانہ ہوا تھا۔ جو عرصہ دراز کے بعد اپنے بیوی بچوں کے ساتھ یو کے سے پاکستان واپس آیا تھا۔ ایسے میں علیزہ کو اچانک شہر میں کوئی کام پڑگیا تو بڑے ملک نے ایان کی شرافت دیکھتے ہوئے اپنی ذاتی گاڑی دے کر اسے علیزہ کو شہر لے جانے کا حکم دے دیا۔
محبت اور قانون دونوں اندھے ہوتے ہیں اور جو چیز ان دونوں کی لپیٹ میں آجاتی ہے وہ ہمیشہ کے لیے ایک دھبّابن کر رہ جاتی ہے، ایسا دھبّا کہ جس کا نشان نہ آنسوئوں سے دُھل سکتا ہے نہ پچھتاوے کے احساس سے۔
وہاں دل میں پھوٹتی محبت کی نئی کونپل کے احساس سے سرشار، ایان ملک اندھے قانون کے بعد اب اندھی محبت کے فریب کا شکار ہونے جارہا تھا۔
///

فراقِ یار کی بارش، ملال کا موسم
ہمارے شہر میں اُترا کمال کا موسم
وہ اک دعا جو میری نامراد لوٹ آئی
زباں سے روٹھ گیا پھر سوال کا موسم
بہت دنوں سے میرے ذہن کے دریچوں میں
ٹھہر گیا ہے تمہارے خیال کا موسم
جو بے یقیں ہوں بہاریں اُجڑ بھی سکتی ہیں
تُو آکے دیکھ لے میرے زوال کاموسم
محبتیں بھی تیری دھوپ چھائوں جیسی ہیں
کبھی یہ ہجر، کبھی یہ وصال کا موسم
کوئی ملا ہی نہیں، جس کو یہ سنا پاتے
ہم اپنے خواب کی خوش بُو، جمال کا موسم

’’جی مس ساعقہ! پھر کیا سوچا آپ نے؟‘‘
’’کس سلسلے میں؟‘‘
’’بھئی اپنی اور میری شادی کی تیاری اور اپنی والدہ کے آپریشن کے سلسلے میں۔‘‘
وہ اپنی ماں کے کمرے کے باہر کھڑی تھی، جب آپریشن کے بارے کسی سادہ سے دیہاتی بزرگ سے باتیں کرتا ڈاکٹر عارف اس کے قریب پہنچ کر رُک گیا۔
وہ اس کی سوچ اور تصور سے زیادہ بے حس اور شاطر انسان تھا۔ صاعقہ کو بے ساختہ عباد کا غصہ اور اس شخص سے متعلق اس کے کمنٹس یاد آگئے۔
’’سوری! میں آپ سے شادی نہیں کرسکتی۔‘‘
’’کیوں؟ پہلے تو کررہی تھیں؟‘‘ اس کی تیوری چڑھی تھی۔
صاعقہ نے اپنے چہرے کا رُخ پھیر لیا۔
’’پہلے کی بات اور تھی۔‘‘
وہ ابھی بات مکمل بھی نہ کرسکی تھی کہ اس نے کاٹ دی ۔’’آپ میرے روم میں آئیں ذرا…‘‘
اس شخص کو موڈ بدلنے میں چند لمحے لگے تھے۔
سادہ سا، دیہاتی بزرگ اپنے جوان خوبرو بیٹے کے فوری آپریشن کے لیے منمنا کر رہ گیا۔
صاعقہ کو اس لمحے اس بے بس بوڑھے باپ پر بے حد رحم آیا تھا۔
’’جی فرمایئے…‘‘ خاصی بیزار سی وہ اس کے پیچھے اس کے کمرے میں آئی تھی۔
’’میں جاننا چاہتا ہوں مس صاعقہ! صرف دو روز میں آپ کا فیصلہ بدلنے کی وجہ کیا ہے؟‘‘ سکون سے اپنی کرسی پر بیٹھتے ہوئے اس نے سوال کیا تھا۔
’’کوئی وجہ نہیں… سوائے اس کے کہ اب میں مجبور نہیں ہوں۔‘‘
’’پہلے کیا مجبوری تھی؟‘‘
انسانیت کے اس مسیحا کا لہجہ صرف ایک لمحے میں شیریں سے تلخ ہوا تھا۔
صاعقہ اس کا منہ دیکھتی رہ گئی۔ اس کے اندر اس لمحے ناگواری کی شدید لہر اُٹھی تھی۔
’’میری ماں کی زندگی کا سوال مجبوری بن کر میرے سامنے آکھڑا ہوا تھا اور میں، میں بے آسرا تھی، مگر شکر ہے اس پاک ذات کا کہ اس نے زیادہ دیر مجھے بے آسرا نہیں رکھا۔‘‘
’’افسانوی باتیں مت کریں محترمہ! صاف اور سیدھا جواب دیں،میں تیاری کرچکا ہوں۔‘‘
’’وہ آپ کا مسئلہ ہے، میری ماں کا آپریشن ابھی نہیں ہوا۔ باقی جتنے بھی اخراجات ہیں،میں ادا کرنے کوتیار ہوں۔‘‘
’’ٹھیک ہے، اگر آپ بیٹی ہوکر خود اپنی ماں کو مارنا چاہتی ہیں تو میں کیا کرسکتا ہوں۔‘‘
’’مارنے اور بچانے والی ذات صرف اللہ ربّ العزت کی ہے ڈاکٹر صاحب! اس ذات نے محض شفاء رکھی ہے آپ کے ہاتھوں میں، زندگی اور موت نہیں۔ وگرنہ جانے اس روئے زمین پر آپ لوگ کسی لاچار انسان کو زندہ رہنے کا حق دیتے یا نہیں۔‘‘ وہ تلخ ہوئی تھی۔’’آپ اور آپ جیسے کئی اعلیٰ ڈگریوں کے حامل، تعلیم یافتہ مگر بے حس ڈاکٹر،بظاہر دُکھی انسانیت کے مسیحا بن کر بے بس و لاچار لوگوں میں زندگی بانٹتے نہیں بلکہ زندگی کا سودا کرتے ہیں۔یہ سفید مسیحائی کوٹ پہن کر لوگوں کی ڈوبتی امیدیں باندھتے نہیں بلکہ بڑے کرّوفر و بے حسی سے تماشا دیکھتے ہیں، ان کی مجبوری اور بے بسی کا ۔ کیا سمجھتے ہیں آپ ، یہ جو عالی شان عمارت تعمیر کروا رکھی ہے آپ نے؟ یہ آپ کے حق حلال سے کمائے گئے پیسوں سے بنی ہے؟ نہیں… یہ دولت جو کاغذ کے ٹکڑوں کی صورت اپنے پاس جمع کر رکھی ہے آپ نے یہ کاغذ کے ٹکڑے نہیں ہیں، کسی بے بس ماں کے کلیجے سے ٹپکے ہوئے خون کے قطرے ہیں، کسی لاچار غریب باپ بھائی کی، بیٹے کی، آنکھوں سے پھسلتے مجبوری کے آنسو ہیں۔ بہت ناز ہے اپنی اعلیٰ ڈگریوں پر آپ کو؟ کیافائدہ ان نام نہاد کاغذ کے قیمتی ٹکڑوں کا، جو آپ کو انسانیت کا احساس نہ دلا سکیں؟ آپ کے دل اور ضمیر کو پتھر سے موم نہ بنا سکیں؟ یہ سوچنے پر مجبور نہ کرسکیں کہ جانے کیسے، کوئی مجبور و لاچار، دھکّے کھا کر ہزار صعوبتیں اُٹھا کر، کتنی مشکل سے آپ تک پہنچا ہوگا۔ کیسی کیسی امید نہیں باندھی ہوگی اس نے آپ سے، آپ کے فوری حکم پر جانے کیسے، کبھی آپریشن، کبھی ٹریٹمنٹ، کبھی چیک اپ کے لیے، آپ کی منہ مانگی فیس کاانتظام کیا ہوگا اس نے۔ کبھی سوچا آپ نے، جو پیسے آپ صرف اپنی چند منٹ کی مسیحائی کے وصول کرتے ہیں۔ اتنے پیسے اس نے کبھی اپنی پوری زندگی میں بھی نہیں دیکھے ہوں گے۔‘‘
’’خدا کا شکر ہے کہ میرے ربّ نے مجھے آپ کے فریب کا شکار ہونے سے بچالیا، وگرنہ وہاں، جو ایک بے یارو مددگار ماں بیٹھی اپنی بیٹی کے لیے رو رہی ہے ناں! وہاں اس وقت میں بیٹھی ہوتی اور وہ ، وہ دیکھیے، وہ باہر لکڑی کے اس ٹھنڈے بنچ پر اس ماں کی وہ چھوٹی سی بچی پڑی درد سے تڑپ رہی ہے ناں! وہاں اس جگہ پر میری ماں پڑی درد سے تڑپ رہی ہوتی۔‘‘
جذباتی کیفیت میں وہ بلاتکان بولے جارہی تھی۔ جب ڈاکٹر عارف کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا۔
’’اسٹاپ اٹ محترمہ! اِٹس انف۔‘‘
وہ آئینہ دکھارہی تھی اور انسان کے لیے اس وقت آئینہ دیکھنے سے بڑھ کر شرمناک فعل اور کوئی رہ ہی نہیں جاتا، جب اس میں اس کا مکروہ چہرہ صاف سامنے دکھائی دے رہا ہو۔
’’کیا ہوا؟ برداشت جواب دے گئی؟ چچ… چچ… چچ… تھوڑا سا سچ برداشت کرنے کی ہمت نہیں ہے آپ میں اور وہ لوگ جو آپ کی سفّاکی کے سامنے مجبور لاچار، تقدیر اور حالات کے تھپیڑے سہتے پہنچتے ہیں، کبھی سوچا ہے آپ نے کہ وہ کیسے یہ درد برداشت کرتے ہوں گے، جو آپ ذرا سی غفلت، ذرا سی بے پروائی سے انہیں سونپ دیتے ہیں؟اُکتا جاتے ہیں نا، ان جاہل، گنوار لوگوں کے آئے روز خون میں بھیگے جسم دیکھ دیکھ کر، واقعی آپ کا بھی قصور نہیں ہے مگر کتنی دلچسپ بات ہے، آپ روز پیسے سمیٹنے سے نہیں اُکتاتے، زندگیوں اور رشتوں کے سو دوں میں، اُکتاہٹ صرف ہارتی سانسوں والوں سے ہوتی ہے۔ ہاتھ میں پیسے تھمانے والوں سے نہیں۔‘‘
وہ اتنی تلخ کیوں ہورہی تھی، اسے خود بھی پتا نہیں تھا۔
ڈاکٹر عارف کا چہرہ خفّت اوراحساس توہین سے سرخ پڑچکا تھا۔
’’بکواس بند کرو اور دفع ہوجائو یہاںسے۔‘‘
’’دفع ہوجانے کے لیے ہی آئی ہوں۔ مگر جانے سے پہلے اتنا ضرور کہوں گی، آپ ان بدنصیب انسانوں میں سے ہیں جن کو اللہ ہدایت نہیں دیتا اور جس کو اللہ ہدایت نہ دے اس پر کسی انسان کی تبلیغ کا اثر کیسے ہوسکتا ہے؟‘‘
اس کا اندر جل رہا تھا۔ پھر اس سے پہلے کہ اسے ڈاکٹر عارف سے مزید کوئی ناقابل برداشت جملہ سننے کو ملتا؟ وہ اس پر چار حرف بھیج کر اس وارڈ کی طرف چلی آئی، جس کے ایک وی آئی پی کمرے میں اس وقت اس کی ماں ایڈمٹ تھی۔
لڑکیوں کی فطرت میں یہ بات گندھی ہوئی ہوتی ہے کہ وہ جسے چاہتی ہیں یا جس کسی سے چاہت کا ذرا سا احساس پاتی ہیں۔ پھر وہ شخص ایک دلچسپ اور روح کو مسرور کردینے والے احساس کا عکس بن کر، ان کی زبان پر آجاتا ہے۔
ایک سہیلی کے دل کی باتیں دوسری سہیلی، پھر دوسری سے تیسری اور تیسری سے چوتھی سہیلی تک بآسانی پہنچ جاتی ہیں۔ چاہے جانے کا مسرورکن احساس، کسی فخر، کسی اعزاز کے ساتھ محبت کی کہانی کے اختتام تک ان کے ساتھ ساتھ رہتا ہے۔
صاعقہ بھی مڈل بلکہ لوئر مڈل خاندان سے تعلق رکھنے والی ایسی ہی لڑکی تھی مگر، اس نے ابھی تک اپنے دل کا راز کسی کے سپرد نہیں کیا تھا۔ وہ اس شخص کو چھوڑ سکتی تھی مگر کھو نہیں سکتی تھی۔
اس روز اپنی ماں کو اسپتال سے گھر لاتے ہوئے اس نے سوچ لیا تھا کہ زین (عباد) سے کوئی بات نہیں چھپائے گی۔ اسے اپنی حیثیت اور اسٹینڈرڈ سے متعلق ساری سچائی صاف صاف بتا دے گی پھر اس کے بعد یہ اس پر ہوگا کہ وہ اس سے مزید واسطہ رکھنا چاہتا ہے یا نہیں۔
وہ جس طبیعت کی مالک لڑکی تھی اور جس کلاس سے اس کا تعلق تھا، وہاں کسی کو فریب دے کر سکون سے رہنا ممکن ہی نہیں تھا۔ سو اس سے پہلے کہ عباد کو اس کی نظر میں، اس کی حیثیت اور سچائی کا پتا چلتا وہ خود اسے سب کچھ صاف صاف بتا کر سرخرو ہوجانا چاہتی تھی۔
///
ارسلان حیدر کو امامہ کی بھجوائی گئی رقم مل گئی تھی۔ وہ اس کا مشکور ہورہا تھا اور اس نے اسے رات آٹھ بجے فون کرنے کا پیغام دیا تھا۔ امامہ کو عرصے کے بعد وہی اس کا پرانا انداز بہت اچھا لگ رہا تھا۔
محبت اگر سچی ہو توصنف نازک کے لیے دل کی سرزمین پر قدم دھرنے والے اوّلین شخص کو اس کی تمام تر بے وفائی کے باوجود اپنے دل و دماغ سے نکال دینا موت کے مترادف ہوتا ہے، خواہ بدلے میں کتنی ہی آسائشیں،عزت اور پیار مل رہا ہو۔ محبت عورت کی زندگی میں اس کا سب سے بڑا امتحان ہے۔
امامہ حسن کے لیے بھی یہ کسی امتحان سے کم نہیں تھا۔
اس کی زندگی میں دو شخص تھے۔
ایک وہ، جسے اس کے دل کی سرزمین پر قدم دھرنے والے اوّلین شخص ہونے کا فخر حاصل تھا اور دوسرا شخص وہ تھا جو اللہ نے اس کے لیے منتخب کیا تھا۔ وہ شخص جو اس نے خود اپنے لیے پسند کیا تھا، وہ اس کے لیے جان بھی دے سکتی تھی، اگر چہ وہ اس سے مخلص نہیں تھا۔ مگر وہ شخص جو اللہ ربّ العزت نے اس کے لیے منتخب کیا تھا، وہ اس کے لیے جان دے سکتا مگر وہ اس سے مخلص نہیں تھی۔
ہر عام سے انسان کی طرح، وہ بھی ایک عام سی انسان تھی، جذبات، خواہشات اور اپنی پسند کی چیزوں کے لیے ماری ہوئی پاگل لڑکی…
اس روز اسے کچھ بھی اچھا نہیں لگ رہاتھا۔
نہ کسی کام میںہاتھ ڈالنا، نہ گڑیا کے ساتھ وقت گزار کر اس کے پے در پے چھوٹے چھوٹے سوالوں کے جواب دینا، نہ قدرت اللہ صاحب کے پاس بیٹھ کر ان سے اِدھر اُدھر کی باتیں شیئر کرنا۔
اُلجھی اُلجھی سی… کھوئی کھوئی سی… وہ سب کو پریشان کررہی تھی۔
وقت تھا کہ جیسے کاٹے نہ کٹ رہا تھا۔ وہ لان میں بیٹھی تھی اور شدت سے آٹھ بج جانے کا انتظار کررہی تھی جب قدرت اللہ صاحب نے ملازم کے ہاتھ اسے اپنے کمرے میں بلوالیا۔ وہ بے کل سی مجبوراً اُٹھ کر، مرے مرے سے قدموں کے ساتھ ان کے کمرے کی طرف چلی آئی۔
’’السّلام علیکم بابا!‘‘
’’وعلیکم السّلام! آئو بیٹھو۔‘‘
’’خیریت بابا؟‘‘
’’ہاں، خیریت ہی ہے… آج صبح سے تم آئی نہیں، میرا وقت نہیں کٹ رہا تھا۔‘‘
’’وہ… میری طبیعت ٹھیک نہیںتھی بابا!‘‘
فوری طور پر سر اُٹھا کر ذرا سی نظر ان پر ڈالتے ہوئے وہ یہی بہانہ کرسکی تھی۔
’’کیا ہوا طبیعت کو…؟ اپنا خیال بھی تو نہیں رکھتی ہو تم۔‘‘ وہ پریشان ہوئے تھے، امامہ شرمندہ ہوکر رہ گئی۔
’’تھوڑا سا آرام کروں گی تو ٹھیک ہوجائوں گی بابا! آپ پریشان نہ ہوں۔‘‘
’’پریشان تو رہوں گا، مگر تم آرام کرلو، آج میںبنا کچھ سُنے ہی سونے کی کوشش کرتا ہوں۔‘‘
امامہ نادم سی، دل کے ہاتھوں مجبور ہوکر ناچاہتے ہوئے بھی خاموشی سے اُٹھ آئی۔
’’ماما…!‘‘
اپنے روم میں پہنچ کر ابھی اس نے سیل چیک ہی کیا تھا کہ گڑیا کی پکار پر بیزار سی واپس پلٹی۔
’’جی گڑیا!‘‘
’’مجھے پاستا بنادیں پلیز!‘‘
فرمائش نئی نہیں تھی مگر پہلی بار وہ کوفت کا شکار ہوئی۔
’’کل بنادوں گی گڑیا! آج مما کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔‘‘
’’کیا ہوا مما کو؟‘‘
اپنی فرمائش بُھول کر متفکر سی وہ قریب چلی آئی تھی۔
’’کچھ نہیں بیٹے! بس ہلکا سا سر میں درد ہے۔‘‘
وہ اس سے جان چھڑانا چاہتی تھی کیونکہ ارسلان کی کال کسی بھی وقت آسکتی تھی۔
’’میں سردبائوں آپ کا؟‘‘
’’نہیں چندا! آپ ٹی وی دیکھ لو۔ پھر پاپا آئیں گے تو ان کے ساتھ کھیل لینا، ٹھیک ہے؟‘‘
’’جی ٹھیک ہے۔‘‘
گڑیا بھی شاید اس کی کیفیت سمجھ رہی تھی، تبھی اس کی تجویز پر فوراً فرماں برداری سے سر ہلاتی، واپس پلٹ گئی۔
اسے اب ارسلان پر غصہ آرہا تھا، آٹھ بج کر پچیس منٹ ہوچکے تھے۔ مگر اس کی کال نہیں آرہی تھی۔
سیل اُٹھا کر اس نے اسے بیل دی تو دوسری طرف اس کا سیل ہی آف ملا۔ وہ شدید جھنجلاہٹ کا شکار ہوکر رہ گئی۔
’اسٹوپڈ… ذرا جو اپنی کسی بات کا خیال رہ جائے اسے۔‘‘
عین اسی پل شجاع کی گاڑی گیٹ سے اندر داخل ہوئی تھی۔ آج وہ اکیلا نہیں تھا اس کے ساتھ پولیس کے کچھ اور افسران بھی تھے۔ وہ اپنے روم کی کھڑکی سے ان سب کو بس ڈرائنگ روم کی طرف جاتے ہوئے ہی دیکھ پائی تھی۔
اگلے تقریباً تیس منٹ تک ارسلان کا موبائل آف ہی ملا تھا۔ وہ بار بار چیک کرتی جیسے تھک سی گئی۔
ملازم مہمانوں کو چیزیں سرو کررہے تھے۔
وہ جلے پیر کی بلی کی مانند اِدھر سے اُدھر چکر لگاتی رہی، تقریباً ڈیڑھ دو گھنٹے کے بعد،مہمانوں کو رخصت کر کے شجاع، قدرت اللہ صاحب کے کمرے سے ہوکر اپنے روم میں آیا تو وہ اسی کا انتظار کررہی تھی۔
’’السّلام علیکم!‘‘
آج تھکن اس کے چہرے سے ہی ظاہر ہورہی تھی، وہ اسے دیکھ کر رہ گئی۔
’’وعلیکم السّلام! آج جلدی آگئے خیریت؟‘‘
’’تمہیں خوشی نہیں ہوئی تو واپس چلا جاتا ہوں۔‘‘ وہ مسکراتے ہوئے قریب آیا تھا۔
’’میرا یہ مطلب نہیں تھا۔‘‘ اس نے نظر چراتے ہوئے کہا تھا مگر حقیقت میں اس کا یہی مطلب تھا۔
شجاع اب مسکرا کر اسے دیکھتے ہوئے اپنے پائوں کو جوتوں کی قید سے آزاد کررہا تھا۔
’’آج طبیعت کچھ ناساز سی تھی؟ سوچا گھر چل کر اپنی پیاری بیگم کے نرم ہاتھوں سے سر دبواتا ہوں، دبا دوگی ناں؟‘‘
’’جی… جی کیوں نہیں؟‘‘
وہ دل ہی دل میں خوب بیزار ہوئی۔ اسے بھی آج ہی یہ ناز اُٹھوانے تھے۔
شجاع جوتے اُتار کر ایزی ہوا تو وہ ایک نظر وال کلاک پر ڈالتی، اس کے قریب آبیٹھی۔
’’کوئی ٹیبلٹ وغیرہ لی آپ نے؟‘‘
’’نہیں یار! سارا دن اتنا مصروف رہا کہ اپنے لیے وقت ہی نہیں مل سکا۔‘‘
’’دنیا کے پہلے پولیس والے ہیں آپ، جن کے پاس خود اپنے لیے ہی وقت نہیں ہے۔‘‘ شجاع کھل کر ہنسا تھا۔
’’بہت بدظن ہو پولیس والوں سے… پوچھ سکتا ہوں کیوں؟‘‘
’’نہیں… گڑیا کہاں ہے؟‘‘
’’بابا کے پاس چھوڑ کر آیا ہوں، وہ سُلالیں گے، تم سر دبائو میرا… شاباش۔‘‘
خود اس کے ہاتھ تھام کر شجاع نے اپنی پیشانی پر دھر دیئے تھے۔ امامہ کوفوراً محسوس ہوگیاتھا کہ سر درد کے ساتھ ساتھ اس وقت وہ بخار کی لپیٹ میں بھی تھا۔
’’آپ کو تو بخار بھی ہے اور جانے کب سے ہے، انسان کو اتنا بے پروا بھی نہیں ہونا چاہیے، خود سے۔‘‘
’’اچھا یار! پلیز کلاس بعد میں لے لینا، ابھی زور زور سے سر دبائو، شدید درد ہورہا ہے۔‘‘
’’کیا کوئی ڈیپریشن ہے؟‘‘
’’نہیں…‘‘
’’پھر سر میں درد کیوں ہورہا ہے ؟ اور یہ آج آپ کے ساتھ کون لوگ تھے جو گھر آئے تھے۔‘‘
کب سے ذہن میں کلبلاتا سوال بالآخر زبان پر آہی گیا تھا۔
’’کولیگز تھے میرے۔ کسی کیس کے سلسلے میں اکٹھے ہوئے تھے۔‘‘
امامہ ابھی اگلا سوال پوچھنا ہی چاہتی تھی کہ اس کے سیل کی بزر بج اُتھی ۔ اسکرین پر چمکتے ارسلان حیدر کے نام کو دیکھتے ہی اس کا دل زور سے دھڑکا تھا۔ شجاع کی پیشانی پر دھرے ہاتھ، لمحے میں جیسے بے جان ہوئے تھے۔
’’کیا ہوا؟‘‘ شجاع سے اس کی کیفیت مخفی نہیں رہ سکی تھی۔
وہ فوراً نفی میں سر ہلا گئی۔
’’ک… کچھ نہیں… ایک دوست کی کال ہے، سُن لوں؟‘‘
’’گولی مارو یار! کچھ دیر ٹھہر کر خود اسے کال کرلینا۔‘‘
وہ تھکا ہوا تھا، سارا جسم جیسے بخار نے توڑ پھوڑ کر رکھ دیا تھا، ایسے میں امامہ کے نرم ہاتھوں کی حرارت کیسا سکون بخش رہی تھی اسے۔ لہٰذا وہ اس کے ہاتھ تھام کر اسے اُٹھنے سے روک گیا۔
فون بج بج کر بند ہوگیا تھا۔ امامہ کا دل بے کل ہوکر رہ گیا۔ اس کی دھڑکنیں معمول پر آنا بھول چکی تھیں۔ بے دلی سے وہ پھر اس کا سر دبانے کی کوشش کرنے لگی،تبھی بیل دوبارہ پھر بجی تھی۔
’’سوری… مم… میں… ابھی آتی ہوں، بہت ارجنٹ کال ہے پلیز۔‘‘
اس بار وہ کسی اسپرنگ کی طرح فوراً اُٹھی تھی، اتنی تیزی سے کہ شجاع کو اسے روکنے کا موقع ہی نہ مل سکا۔
’’امامہ! میرے سر میں بہت درد ہے یار!‘‘
اس نے عقب سے دہائی دی تھی۔ مگر وہ نظر انداز کر گئی۔
’’آتی ہوں ناں ابھی… صرف پانچ منٹ۔‘‘
وہ سرعت سے کہتی کمرے سے باہر نکل آئی تھی، شجاع بے بس سا اسے دیکھ کر رہ گیا ۔
’’السّلام علیکم!‘‘
جونہی اس نے ہال کمرے سے نکل کر کال پک کی، ارسلان کی خوش گوار آواز اس کی سماعتوں سے ٹکرائی۔
’’وعلیکم السّلام! مل گئی فرصت کال کرنے کی؟‘‘
’’سوری یار! کچھ بزی تھا یہاں، کیا کررہی ہو؟‘‘
’’کچھ نہیں، کب سے فری ہی تھی، تمہاری کال کا انتظار کررہی تھی۔‘‘
’’اس کا مطلب ہے مجھ سے واقعی کوتاہی ہوگئی؟ اگین سوری یار!‘‘
’’کوئی بات نہیں،کچھ پریشانی کم ہوئی تمہاری کہ نہیں؟‘‘
’’تمہارے ہوتے پریشان کیسے رہ سکتا ہوں میں؟ بہت بہت شکریہ مُون۔‘‘
’’بس… کوئی ضرورت نہیں فارمیلٹی نبھانے کی… یہ بتائو پاکستان کب آرہے ہو؟‘‘
’’بہت جلد،اب تو خود میں بھی تمہارے بغیر نہیں رہ سکتا مُون!‘‘
’’جھوٹ…؟‘‘
’’نہیں یار! تمہاری قسم!‘‘
’’پھر… چند روز پہلے کیا ہوگیا تھا؟‘‘
’’دماغ خراب ہوگیا تھا میرا… اور کچھ نہیں۔‘‘
بات سے بات نکلی تھی اور دور تک پھیلتی گئی تھی، امامہ بھول ہی گئی تھی کہ شجاع کی طبیعت ٹھیک نہیں اور اس وقت اسے اس کی ضرورت تھی۔
///

وصال شامیں گلاب لمحے، بُھلا نہ دینا خیال رکھنا
یہ کاغذوں پہ بکھرتے جذبے، بُھلا نہ دینا خیال رکھنا
خود اعتمادی کے جو ستارے چمک رہے ہیں میری جبیں پر
تم ان ستاروں کو بے رخی سے ہَوا نہ دینا خیال رکھنا
وفا کی مٹی سے میں نے ان کو کیا ہے تعمیر یاد رکھنا
محل بھروسے کا میرے ہمدم گِرا نہ دینا خیال رکھنا

’’تم بہت خوب صورت ہو، بہت شان دار ہو، مگر میرے دل کے مکین نہیں ہو۔ تم اپنی اس سحر انگیز شخصیت کے ساتھ کسی بھی اچھی سے اچھی لڑکی کا خواب اور تمنا ہوسکتے ہو، کوئی بھی لڑکی تمہیں پاکر سب کچھ بھُلا سکتی ہے، مگر امامہ حسن نہیں کیونکہ تم اس کا خواب اور تمنا نہیں ہو، تمہاری اس سحر انگیز شخصیت کے ساتھ میرا تعلق، دل کا نہیں، مجبوری کا ہے۔ میں محبتوں کے معاملے میں ایمان دار لڑکی ہوں شجاع حسن اور میں اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرسکتی۔ تم جو بھی ہو، جیسے بھی ہو، مجھے اس سے کوئی دلچسپی نہیں۔ مجھے تم سے ہمدردی ہے شجاع حسن! محبت نہیں ہے۔ محبت مجھے صرف اسی شخص سے ہے جس کے پاس میرے لیے سوائے دُکھوں اور آزمائشوں کے اور کچھ بھی نہیں۔ میں چاہ کر بھی اس کی تمنا کو دل سے نہیں نکال سکتی، کیونکہ وہ شخص میری آنکھوں کا پہلا خواب ہے اور میرے جیسے محبت میں ایمان دار لوگوں کے لیے ہر نئے موڑ پر ایک نئے کردار کے ساتھ چلنا بہت مشکل اور تکلیف دہ ہوتا ہے۔ میں تمہارے ساتھ کوئی دھوکا نہیں کررہی شجاع حسن، کیونکہ جس رشتے میں تم نے اور تمہارے گھر والوں نے آناً فاناً مجھے باندھ دیا ہے وہ کسی بھی طور سے میری خواہش نہیں تھا۔ میں تو بے بس ہوں، کبھی خدا کے سامنے اور کبھی تقدیر اور کبھی حالات کے سامنے۔ کوئی مجھے بدکردار کہتا ہے تو کہے۔ کوئی میری ذات، میری خودی پر سوال اٹھاتا ہے تو اٹھائے۔ مجھے کسی کی پروا نہیں، وہ شخص جو میرے دل کا مکین ہے، چاہے وہ تمہارے قدموں کی دُھول کے برابر نہ سہی، مگر کوئی میری نگاہ سے دیکھے تو مجھے تم اس کے پائوں کی دُھول کے برابر نہیں لگتے۔ وہ جو ہے، جیسا ہے میری خواہش، میرا خواب ہے اور سچی محبت کرنے والے اپنے خوابوں کا سودا کبھی نہیں کرتے، یہاں تک کے ٹوٹ کہ بکھر جائیں۔‘‘ کمرے کی کھڑکی سے چھن چھن کر ہَوا اندر آرہی تھی اور وہ ہر بات سے بے خوف و خطر لبوں پر خوش کن مسکراہٹ سجائے اپنی ڈائری کے کچھ ا ور صفحات کے سپرد اپنی سوچ کررہی تھی۔
شجاع اس کی واپسی کا انتظار کرتے کرتے سُو چکا تھا۔ تاہم امامہ اتنی خوش تھی کہ اسے شجاع حسن کو پہنچنے والی دلی تکلیف کا ذرا سا احساس بھی نہ ہوسکا۔ ارسلان حیدر نے اسے خوش خبری سنائی تھی کہ وہ بہت جلد پاکستان واپس آرہا ہے، صرف اور صرف اس کے لیے اور وہ جو اسے کھودینے پر ملول تھی، اس خبر کے بعد جیسے پھر سے جی اُٹھی۔ شجاع حسن کا شان دار محل، بینک بیلنس، پُر کشش ملازمت اور اس کی شان دار شخصیت کچھ بھی تو اس کے لیے اہم نہیں تھا۔ صرف ایک پل میں وہ ہر چیز کو ٹھوکر مار سکتی تھی۔
اس روز دیر تک ارسلان حیدر سے بات کرنے کے بعد اس نے یہی سوچا تھا۔
///
عباد کی معرفت بُریرہ کو انوشہ کے ساتھ پیش آنے والے حادثات کی خبر ملی تھی اور وہ جو شدید غم و غصے میں مبتلا، اس سے علیحدگی کا فیصلہ کیے ہوئے تھی، دل سے ساری رنجشیں بھلا کر، سائلہ بیگم کی ناراضگی کی پروا کیے بغیر پہلی فلائٹ سے شاہ زر کے پاس پاکستان پہنچ گئی۔
آئی سی یو میں زندگی اور موت کی جنگ لڑتی انوشہ رحمن اپنے سارے رشتے گنوا کر بالآخرزندگی جیت گئی تھی۔ اِدھر اس کی حالت خطرے سے باہر ہوئی اور اُدھر شاہ زر نے اس کے پیاروں کی لاشوں کے ٹکڑے وصول کیے تھے۔ عباد اس کے ساتھ تھا اور ہر کام میں وہی اس کی مدد کررہا تھا۔ شاہ زر کی تو سمجھ میں ہی نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کرے؟
رات گئے زاور حسین، صدف بیگم اور اپنی جان سے پیاری لاڈلی بہن شافیہ کا مُردہ وجود لے کر گھرپہنچا تو بُریرہ کو اپنا منتظر پایا۔ وہ پہلے سے بے حد کمزور دکھائی دے رہی تھی۔ شاہ زر کی آنکھوں کے گوشوں میں اسے دیکھ کر سرخی اُتر آئی۔ تاہم عباد نے آگے بڑھ کر اس کا استقبال کیا اور اسے شاہ زر کے بیڈروم میں لے آیا۔
’’بھابی! ابھی شاہ سے کسی قسم کی بات مت کیجیے۔ وہ ذہنی طور پر بہت پریشان ہے۔ا س وقت کسی بھی قسم کا تنائو اس کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔ لہٰذا ابھی اسے اس کے حال پر چھوڑ دیں تو بہتر ہے۔‘‘
’’لیکن عباد میں…‘‘
’’میں آپ کی کیفیت سمجھتا ہوں مگر فی الحال آپ کو دانش مندی سے کام لینے کی ضرورت ہے پلیز۔‘‘ تھکا تھکا سا وہ خود بھی بے حد پریشان دکھائی دے رہا تھا۔ بُریرہ نے دونوں ہاتھوں میں سر چھپا کر خود کو بیڈ کی طرف دھکیل دیا۔
وہ ابھی کمرے سے نکلا تھا کہ اس کے موبائل پر صاعقہ کی کال آگئی۔ ایک لمحے کے لیے اس کے دل نے ایک دھڑکن مسِ کی، تاہم وہ اس وقت اس سے بات نہیں کرسکتا تھا۔ لہٰذا سیل آف کرکے دوبارہ جیب میں ڈالنے کے بعد، شاہ زر کے پاس چلا آیا۔
وہ رات بُریرہ کے ساتھ ان دونوں نے بھی آنکھوں میں ہی کاٹی تھی۔ا گلی صبح نزہت بیگم اور جمال صاحب کے ساتھ ساتھ صدف بیگم کے بچے اور شوہر بھی پاکستان پہنچ گئے تھے۔ ایک کہرام تھا جو شاہ ہائوس کے درو دیوار کے اندر بپا تھا، کتنی بہت سی زندگیاں ان تین بے جان نفوس سے جڑی تھیں۔
بُریرہ کی اپنی آنکھیں مسلسل آنسو بہا رہی تھیں، جب کہ شاہ زر یوں پتھر بنا ساکت نظروں سے سب کو دیکھ رہا تھا، جیسے اس کے حواس کام کرنا ہی چھوڑ گئے ہوں۔
اتنی سخت آزمائش زندگی کی؟ ایسا کڑا امتحان؟
اسے لگا وہ اب زندگی میں کبھی مسکرا نہیں سکے گا۔ اس روز کا ڈھلتا سورج، صدف بیگم، زاور حسین اور شافیہ کے مُردہ جسموں کو مٹی کا پردہ دیتا، بے حد اداس ڈوبا تھا۔
عبد الصمد کی تدفین اس سے ایک روز پہلے ہی ہوگئی تھی۔ سب کا اپنا غم تھا، اپنے جذبات تھے۔ مگر وہ ننھا سا ایک وجود جس کا جنم انوشہ رحمن کے بطن سے ہوا تھا۔ اس کے لیے وہ تمام صورت حال سخت تکلیف کا باعث بنی تھی۔
کسی کو بھی اس ننھے سے وجود کا خیال نہیں رہا تھا، جو بھوک سے روتے روتے، جانے کب کس لمحے آنکھ بچا کر بیرونی گیٹ پارکر گیا تھا۔
///
’’تم نے کسی انسان کو وحشی ہوتے دیکھا ہے؟‘‘
اسے چھنو کی معرفت میران شاہ کے گھروالوں کی گائوں شاہ والا سے عدم موجودگی کی خبر ملی تھی اور وہ اس پر بے حد مشتعل ہوکر سانول شاہ کی حویلی کی طرف آئی تھی۔ جب حویلی کے کشادہ صحن میں ہی اس کا سامنا سانول شاہ سے ہوگیا اور وہ اس سے الجھ پڑی۔
’’تم وحشی درندے ہو سانول شاہ، انتہائی غلیظ انسان۔‘‘
شاہ والا میں وہ پہلی لڑکی تھی جس نے حویلی کے اندر کھڑے ہوکر، سانول شاہ کے سامنے یہ بات کہی تھی اور اس نے بہت ضبط کا مظاہرہ کرتے ہوئے رخ پھیرکر، اپنے ملازمین کے سامنے اس تذلیل کو برداشت کیا تھا۔
’’افضل…‘‘ اگلے ہی پل دہاڑ کر اس نے اپنے ڈرائیور کو آواز دی،مگر بدقسمتی سے وہ اس وقت بیت الخلاء میں تھا اوراس کے حکم کی فوری تعمیل میں آناً فاناً حاضر نہیں ہوسکتاتھا۔پانچ جوان بیٹیوں کے اس ہارے ہوئے ادھیڑ عمر شخص کو اپنی غیر متوقع طلبی پر بیت الخلاء سے حویلی کے کشادہ سرخ اینٹوں کے شفاف صحن تک پہنچنے میں ناچاہتے ہوئے بھی پانچ سے دس منٹ لگ گئے اور یہ اس کا ایسا ناقابل معافی جرم تھا کہ جس کی فوری سزا جیسے حویلی کے چوہدری پر فرض ہوگئی تھی۔
’’جی سرکار… آپ نے یاد فرمایا…؟‘‘ کندھے پر پڑے صافے سے گیلے ہاتھ خشک کرتا وہ بھاگ کر وہاں تک پہنچا تھا مگر شاید اسے تاخیر ہوچکی تھی۔ سانول شاہ نے اسے دیکھ کر منہ سے ایک بھی لفظ نکالے بغیر اپنا پسٹل نکالا اور یکے بعد دیگرے تین فائر کر دیئے۔
ایک لمحے میں وہاں جیسے ہر چیز ساکت ہوگئی۔ انزلہ کی آنکھیں خوف سے اُبل آئیں۔ پانچ جوان بیٹیوں کاباپ، پچھلے سات سال سے بے دام غلام کی طرح حویلی والوں کی خدمت کرنے والا یہ ادھیڑ عمر شخص اپنی تمام تر جاںنثاری، وفاداری کا صلہ ان گولیوں کی صورت پاچکا تھا۔ سرخ اینٹوں کے فرش پر اس کی تڑپتی ہوئی لاش کو، سانول شاہ نے پائوں رکھ کر دباتے ہوئے سرد کیاتھا۔
انزلہ کو لگا جیسے وہ مٹی کی دیوار کی مانند پل میں ڈھے جائے گی۔
افضل ڈرائیور کا بیٹا جو اِن دنوں شہر سے چھٹیوں پر گائوں آیا ہوا تھا۔ فوراً اطلاع پر حویلی پہنچا اور یہی وہ وقت تھا جب سانول شاہ نے بُت بنی انزلہ سے پوچھا۔ ’’کیا تم نے کسی انسان کو وحشی ہوتے دیکھا ہے؟‘‘
وہ دَم سادھے خاموشی سے اس کا چہرہ دیکھتی رہی تھی۔ جب وہ پھر سے رُخ پھیر کر افضل ڈرائیور کے جواں سال بیٹے کی طرف متوجہ ہوگیا۔
’’لے جائو اپنے باپ کی لاش اٹھا کر اورکہہ دینا گھر والوں سے کسی نامعلوم شخص کی گولیوں کا شکار ہوگیا ہے یہ…‘‘
کتنی کرختگی تھی اس کے لہجے میں۔افضل ڈرائیور کا بیٹا چیخ اٹھا۔
’’نامعلوم شخص کیوں، تمہارا نام لوں گا۔ تم نے مارا ہے میرے باپ کو۔‘‘
’’ٹھیک ہے میرا نام لے دینا۔ پھر اس کے بعد اپنی دونوں جوان بہنوں کو یہاں میرے پاس حویلی بھیج کر خود اپنے باپ کے قتل کے الزام میں ذرا حوالات کی سیر بھی کرآنا۔ تم گندی نالی کے کیڑے لوگ ترس کے قابل نہیں ہو۔‘‘
وہ تنائو کا شکار اب بھی غصے کی زد میں تھا۔ تبھی وہاں موجود ملازمین میں افضل ڈرائیور کا چھوٹا بھائی اور اس جواں سالہ لڑکے کا چاچا فضل نامی وہ شخص ہاتھ جوڑ کرسانول شاہ کے سامنے آکھڑا ہوا، جو اسی حویلی میں چوکیداری کے فرائض سر انجام دیتا تھا۔
’’نیئں سرکار! یہ بچہ ہے اسے کیا پتا۔ معاف کردیں اسے۔ مم… میں خود بتادوں گا سب کو کہ اسے باہر سے (دوسرے گائوں سے) گولی لگی ہے۔‘‘ وہ رو رہا تھا ۔ سانول کی آنکھوں کی سرخی میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔
’’بچا کررکھنا اسے مجھ سے۔ یہ نہ ہو باپ کی طرح یہ بھی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔‘‘ اس نے ایک تیکھی نظر افضل ڈرائیور کے نو عمر بیٹے پر ڈالی تھی اور پھر پلٹ گیا۔
حویلی کے شان دار درو دیوار اور اس کے بے زبان،بے بس ملازمین کے لیے وہ حادثہ وہ ناگہانی کوئی نئی بات نہیں تھی۔ معمولی معمولی باتوں پر طاقت کے نشے میں چُور اس حویلی کے مکین آئے روز ’’ایسے‘‘ کھیل تماشے کرتے رہتے تھے مگر انزلہ شاہ کے لیے وہ سانحہ کسی شاک سے کم نہیں تھا۔ وہ حویلی والوں کی بربریت سے بے خبر نہیں تھی، وہ جانتی تھی کہ سانول شاہ اور اس کے بھائی کتنے ظالم ہیں مگر یوں بے قصور، بے جُرم کوئی کسی کی جان کیسے لے سکتا تھا؟
وہ جو بازی میں اُڑنے والے کبوتروں کی بے بسی اور موت پر گھنٹوں ملول رہتی تھی۔ اسی کی آنکھوں کے سامنے کیسے محض چند لمحوں میں ایک چلتے پھرتے صحت مند انسان کو مار کر سُلا دیا گیا اور کیسی قیامت تھی کہ اس ظلم پر اس بدنصیب شخص کے گھر والوں کو رونے کی اجازت بھی نہ تھی۔
سرخ اینٹوں کے اس صاف ستھرے کشادہ فرش سے اب اس شخص کی لاش اٹھائی جاچکی تھی، جس کے پڑھے لکھے جواں سال بیٹے کو اس کا چاچا روتے ہوئے منّت کرکے چپ چاپ واپس لے گیا تھا۔ انزلہ شاہ کی ساکت نگاہوں نے دور تلک ان کی برستی آنکھوں کو دیکھا اور پھر اوپر آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے چیخ اُٹھی۔
’’اللہ…! تُو نے دیکھا تیرے فرشتوں سے برتر مٹی کے انسانوں کے ساتھ ، یہاں اس دھرتی پر کیا ہورہا ہے۔ تُو نے تو موت کے بعد جنت دوزخ کی جزا و سزا رکھی تھی، یہاں دیکھ تیری خدائی میں یہ بدبو دار مٹی سے بنے بے ایمان، بے ضمیر، سرکش انسان کیسی کیسی دوزخ کھودے بیٹھے ہیں۔ یہاں ایک نظر اِدھر ڈال میرے مالک اور دیکھ یہ کیسے اپنے دونوں جہاں دائو پر لگائے ہوئے ہیں، یومِ حساب سے پہلے ہی محشر تیار کر رکھا ہے انہوں نے۔ اب ان فرعونوں کو غرق کرنے کے لیے کون سا موسیٰ آئے گا؟ کون سبق سکھائے گا انہیں، تیری ذات کے سوا۔‘‘ پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے اس لمحے وہ خود کو قطعی بے بس محسوس کررہی تھی۔
اگلے روز گائوں مراد شاہ میں بہزاد علی مراد کے سامنے بیٹھی ہوئی وہ پھر رو پڑی۔
’’حوصلہ رکھیں انزلہ! اللہ کی عدالت میں ظالم اور سرکش انسانوں کے لیے بڑا سخت عذاب اور سزا ہے، تم کیا سمجھتی ہو ، یہ وڈیرے، چوہدری، یہ اعلیٰ عہدوں پر جمے بیٹھے مست ہاتھی، یہ سب اس واحد و لاشریک کی گرفت سے بچ جائیں گے؟ نہیں۔ اپنے ہر عمل، ہر گناہ، ہر ظلم کے جواب دہ ہوں گے۔ یہ اس پاک و بے نیاز ذات کے سامنے کہ جس کے ہاں نہ کسی کی سفارش چلتی ہے، نہ پاور کام آتی ہے۔ یہ ظلم جو یہ دوسرے بے بس لوگوں پر ڈھاتے ہیں۔ حقیقت میں یہ انہی کی جانوں پر آپڑے گا۔‘‘ وہ اسے تسلی دے رہا تھا۔
انزلہ کے دکھ میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔ بہزاد ایک نظر اس کے زرد نم چہرے پر ڈالنے کے بعد اُٹھ کھڑا ہوا۔ قریبی درخت پر اس وقت چہکتے پرندوں کی چہکار اسے بے حد بھلی لگ رہی تھی۔
’’بہت غم ہیں اس دنیا میں انزلہ۔ کس کس پر روئیں گی آپ؟ آپ تو ملک سے باہر تھیں، آپ کو کیا خبر کہ ابھی کچھ ماہ قبل یونہی طاقت کے نشے میں چُور ایک بے ضمیر، بے ایمان مست ہاتھی نے یہاں اس سر زمین پر کیسا قہر بپا کیا تھا۔‘‘ وہ رخ پھیرے کھڑا تھا۔ انزلہ جان ہی نہ سکی کہ اس کا اشارہ کس طرف ہے۔
’’قہر…؟‘‘
’’ہُوں… معصوم، بے قصور جانوں پر قہر۔‘‘
’’کیسے…؟‘‘ وہ اب الجھی نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔
’’بالکل ویسے ہی، جیسے کل سانول شاہ نے برپا کیا۔‘‘
’’میں سمجھی نہیں؟‘‘
’’آپ سمجھ بھی نہیں سکیں گی انزلہ۔ بہت سے لوگ نہیں سمجھ سکے۔ ہر کسی کے لیے سب کچھ سمجھنا اتنا آسان کہاں ہوتا ہے۔ خاص کر ان حالات میں، جب آپ کو روشن خیالی کی زہر آلود ہَوا چُھو رہی ہو۔‘‘
’’آپ کس کی بات کررہے ہیں؟‘‘
’’اس قوم کی، اس قوم کے روشن خیال لوگوں کی۔ جن کے لیے وہ قہر ایک تماشا تھا۔ سیکڑوں جانوں کی وہ بے حرمتی و قربانی، جن کے لیے محض ایک سزا تھی، کوئی نہیں جانتا وہاں اس چار دیواری کے اندر کیسا قہر برپا ہوا۔ کیسے مقدس کتاب کے اوراق جو خوش بُو بن کر سینوں میں اُترنے کے لیے تھے، انہیں قدموں تلے روند دیا گیا۔ کیسے ساری قوم کو گمراہ کرکے اپنے ایمان اور ضمیر کی قیمت چُکاتے ہوئے صرف ایک مست ہاتھی نے اپنے اس قہر کو جائز منوالیا۔ یہاں اس ملک میں کتنے ہی روشن خیال ملیں گے تمہیں۔ جو اس قیامت، اس درد پر تمہارے دکھ کو تمہارا پاگل پن کہیں گے۔ یہ ایسے ہی لوگوں کاملک ہے انزلہ۔ یہاں درد صرف اسی کی میراث ہے کہ جس کے سینے پر گھائو لگے، آپ کے اور میرے جیسے لوگوں کا گزارا نہیں ہے یہاں۔‘‘ رُخ پھیرے کھڑا وہ اب جیسے کچھ ضبط کرنے کی کوشش کررہا تھا۔ انزلہ اٹھ کر اس کے سامنے آکھڑی ہوئی۔
’’کس کی بات کررہے ہیں آپ؟ لال مسجد کی؟‘‘
’’ہُوں…‘‘
’’آپ کو پتا ہے وہاں کیا ہوا تھا؟ قرآن و دین کی آڑ میں وہ لوگ کیا کررہے تھے؟‘‘ اس بار اس کی آواز بلند تھی۔ بہزاد شاہ نے گردن موڑ کر سرد آنکھوں سے اس کی طرف دیکھا۔
’’وہ لوگ غلط تھے، دہشت گرد تھے، آپ نے سنا نہیں وہاں اس مسجد میں کتنا اسلحہ چھپا رکھا تھا انہوں نے۔‘‘ یکسر بدلی ٹون کے ساتھ اس نے بہزاد علی مراد کی شہ رگ پر پائوں رکھا تھا۔
’’چپ کر جائو انزلہ۔ بالکل چپ۔ مت کرو وہ بات جس کا علم تمہارے پاس نہیں، مت آواز دو خدا کے قہر کو۔ کہا تھا ناں میں نے یہ ایسے ہی لوگوں کا ملک ہے۔ گونگے، اندھے، بہروں کا۔ اسی لیے تو یہ سب ہورہا ہے ہمارے ساتھ۔ کیا جانتی ہو تم ان لوگوں کے بارے میں؟ صرف وہی،جو عاقبت نااندیش لوگوں نے تمہیں بتایا اور دکھایا، صرف وہی جو تمہاری ظاہری آنکھوں نے دیکھا۔ کانوں نے سنا؟‘‘ وہ دہاڑ رہا تھا۔ انزلہ خاموشی سے اس کے سرخ چہرے پر نظریں جمائے کھڑی رہی۔
’’بہت دعوے کرتی ہو تم انسانی حقوق کے، لوگوں سے بھلائی کے، اپنے دین سے لگائو کے، مگر بہت کھوکھلے دعوے ہیں یہ۔ بہت سے لوگ آج تک جناح کو غاصب کہتے ہیں، غلط کہتے ہیں، کیا وہ غلط تھے؟ کیا ان کے نظریات، ان کی سوچ، ان کے اندیشے غلط تھے؟ نہیں ، انہیں جو نظر آرہا تھا وہ بہت خوف زدہ کردینے والا تھا۔ بالکل ایسے ہی جیسے اس چھوٹی سی جنت کے مکینوں کو نظر آرہا تھا۔ اندر کی کہانی کا تمہیں کیا پتا انزلہ۔ وہ گولیوں سے چھلنی، بارود میں رچی دیواریں ان احوال کو بیان نہیں کرسکتیں، جو اس چار دیواری کے مکینوں نے اپنی جانوں پر جھیلے ہیں۔ جائو کہہ دو جاکر اپنے اعلیٰ عہدے داروں سے، میں نہیں ڈرتا ان سے، ان کے ڈر سے سچ کہنے سے، کیونکہ میں نے بہت کچھ کھویا ہے وہاں۔‘‘ صرف ایک لمحے کے لیے اس نے رک کر اپنا سانس ہموار کیا تھا۔’’تم کہتی ہو وہ دہشت گرد تھے، وہ کیسے دہشت گرد تھے انزلہ، جو آخری لمحے تک امن کا پرچم بلند کرتے رہے، نفاذ اسلام کے لیے اپنی رگوں میں جوش مارتے قوتِ ایمانی کے سبب، سب کی بچت، سب کو اللہ کے عذاب سے بچانے کے لیے، ظلم اور بدکرداری کے خلاف ڈٹ گئے۔ کیسے دہشت گرد تھے وہ جو اپنے ہی اسلامی بھائیوں کی گولیوں سے خوف زدہ ٹوٹے کواڑوں والے دروازوں پر بیٹھ کر صرف اپنی عصمت اور ایمان کی حفاظت کے لیے رات رات بھر مصلے پر بیٹھ کر روتے رہے اور فتح کی دعائیں کرتے رہے، بھوکے، پیاسے، بارش کے پانی اور درختوں کے پتّوں کو نگلتے رہے، کیا سمجھتی ہو تم فتح صرف مخالفین کو پچھاڑنے کا نام ہے۔ نہیں… کبھی کبھی جانیں لٹا کر ظلم اور بے عدل حکمران کے سامنے کلمۂ حق کی سر بلندی کے لیے قربان ہوجانے کانام بھی فتح ہے۔ کوئی کچھ بھی سمجھے، کچھ بھی کہے، جنہیں اپنے ربّ کے حضور سر خرو ہونا تھا وہ تو ہوگئے مگر وہ لوگ جنہوں نے وقت کے یزید کا ساتھ دیا۔ میں نے ان لوگوں میں سے ایک شخص کو ایڑھیاں رگڑ رگڑ کر بہت عبرت ناک حال میں مرتے دیکھا ہے انزلہ۔ جاننا چاہوگی وہ شخص کون تھا؟‘‘ انزلہ سانس روکے اسے سُن رہی تھی جب اس نے اچانک پوچھ لیا۔
’’ہُوں…‘‘
’’دوست تھا میرا، بہت عزیز، بچپن کا، بہت مجبور تھا۔ بہت سے افسروں کی طرح ریزائن دے کر گھر نہیں آسکتا تھا، کیونکہ باپ بستر پر پڑا تھا اس کا اور بہنیں ابھی بیاہی تھیں پھر کچھ روشن خیال بھی تھا وہ اسے بھی بہت سے شکوے تھے ان سیاہ برقعوں میں سرتاپا لپٹی جنتی شہزادیوں سے، کیونکہ جس مساج سینٹر کی چینی عورت کو وہ پردے دار لڑکیاں بے عزت کرکے لے کرگئی تھیں، اس سینٹر میں وہ بھی باقاعدگی سے مالش کر وانے جاتا تھا۔ منہ کو لگی شراب کوئی چھین لے تو غصہ آہی جاتا ہے۔ جیسے سجاد کو آگیا تھا، میرے دوست کو۔‘‘ بہزاد علی مراد کی نگاہیں اب دور کچی پگڈنڈی پر جیسے کچھ تلاش کررہی تھیں۔ ’’اپنی موت سے پہلے بہت سے راز منکشف کیے تھے اس نے۔ وہاں اس چار دیواری کے اندر کیا ہوا، کیسے ہوا، سب جانتا تھا وہ۔ تم اسے دیکھتی ناں انزلہ تو ساری عمر اپنے انسان کہلائے جانے پر شرمسار رہتیں، جیسے میں رہتا ہوں۔‘‘ چند لمحوں کے لیے گہری سانس بھر کر وہ پھر خاموش ہوا تھا۔ جب اس نے سر اٹھا کر اس کی آنکھوں میں دیکھا۔
’’میں بہت شرمندہ ہوں آپ سے بھی اور اپنے ربّ سے بھی کہ مجھے اصل حقیقت کا پتا نہیں تھا۔ میں نے جو سُنا، جو پڑھا اسی کے مطابق بات کی۔ وگرنہ وہ واحد و لاشریک جانتا ہے انزلہ شاہ مر سکتی ہے مگر ظالم لوگوں کا ساتھ کبھی نہیں دے سکتی۔‘‘ بہزاد نے اس کی معذرت پر سرسری سی نظر اس کے جھکے سر پر ڈالی پھر نگاہ پھیرلی۔
’’اماں جی انتظار کررہی ہوں گی۔ میرا خیال ہے حویلی چلتے ہیں۔‘‘
’’جی!‘‘ اثبات میں سر ہلا کر وہ اس کے ساتھ زیر تعمیر اسکول کی عمارت سے نکل آئی۔
نیچے کچے فرش پر بیٹھے چھوٹے چھوٹے ننھے فرشتے گاہے بگاہے سر اٹھا کر اسے دیکھتے اور مسکراتے وہ ان سے نگاہ چُرا کر کچی پگڈنڈی پر چڑھ آئی جو سیدھی گائوں مراد شاہ کی حویلی کو جاتی تھی۔
’’بُرا نہ مانیں تو ایک سوال پوچھوں آپ سے؟‘‘ کچھ دیر سے خاموشی سے قدم اٹھانے کے بعد وہ بولی تو بہزاد نے اس کی طرف دیکھے بغیر اثبات میں سر ہلادیا۔
’’آپ نے کہا، آپ نے وہاں اس چھوٹی سی خوب صورت دنیا میں بہت کچھ کھویا ہے، کیا کھویا ہے؟‘‘
بہزاد کو گمان نہیں تھا کہ وہ اس سے یہ سوال پوچھے گی تبھی وہ رکا تھا۔
’’بہت کچھ، صرف ایک زندگی بچ گئی، باقی سب کچھ کھوگیا، سب کچھ…‘‘ وہ تحمل و برداشت والا شخص تھا مگر اس لمحے اس کی آنکھوں میں ایسی ویرانی تھی کہ انزلہ چاہنے کے باوجود دوبارہ سر اٹھا کر اس کے چہرے کی طرف نہیں دیکھ سکی۔ کچھ دور کا سفر مزید خاموشی کی نذر ہوگیا تھا جب وہ بولا۔
’’آپ چاہیں تو میں اس ڈرائیور کے قتل کی ایف آئی آر درج کروادیتا ہوں۔‘‘
’’نہیں… جب اس کا کوئی فائدہ ہی نہیں تو کیوں زحمت میں پڑیں آپ۔‘‘
’’فائدہ تو ہوسکتا ہے، اگر کوئی اس چوہدری کے خلاف گواہی دے دے تو۔‘‘
’’اور یہ گواہی دے گا کون؟‘‘
’’کوئی بھی دے سکتا ہے، چاہیں تو آپ بھی دے سکتی ہیں۔‘‘
’’میری گواہی سے کیا ہوگا، کون سنے گا میری۔ آپ ہی کا تو کہنا ہے کہ یہ ملک اندھوں، گونگوں اور بہروں کا ہے۔ پھر صرف ایک میری گواہی سے کیا ہوگا۔‘‘ وہ افسردہ تھی بے حد افسردہ…
بہزاد شاہ نے اس کی مایوسی پر گہری سانس بھر کر اپنے قدموں کی رفتار مزید بڑھادی کہ ابھی کھانا کھا کر اسے انزلہ شاہ کو واپس گائوں شاہ والا بھی چھوڑنے جانا تھا۔
///
کشادہ آنگن میں ڈھیر ساری چڑیاں چُوں چُوں کرتی، صحن کے کونے کھدروں سے اپنے حصے کا رزق تلاش کررہی تھیں۔ جب اس کی آنکھ ایک عجیب سی چنگھاڑتی آواز کے شور سے کھلی۔
’’میرے میاں کی کمائی درختوں سے نہیں لگی کہ توڑ توڑ کر آپ کو کھلاتی رہوں۔ سارے دن سوائے مصلے پر بیٹھ کر دانے گھمانے کے اور کوئی کام ہے آپ کو۔ جو آئے روز کبھی بازو تڑوالیتی ہیں تو کبھی ٹانگ…‘‘
وہ غور نہ بھی کرتی تب بھی جان لیتی کہ یہ آواز کس کی ہے، مگر اس وقت وہ کیوں چنگھاڑ رہی تھی، گوری کی سمجھ سے باہر تھا۔ تبھی بی اماں کی اکلوتی بہو پھر چلائی تھی۔
’’اتنی مہنگائی میں، اتنا بھی مل جاتا ہے، بہت ہے۔ ان لوگوں کی طرف دیکھیں جن کے نہ گھر بار ہیں نہ ایک وقت کھا کر دوسرے وقت ملنے کی امید۔ آپ تو پھر بھی نوابوں کی طرح رہ رہی ہیں بیٹے کے گھر میں اور نہ صرف خود عیش سے رہ رہی ہیں بلکہ اِدھر اُدھر کے لوگوں کوبھی لاکر میرے سر پر مسلط کررکھا ہے۔‘‘
گوری کو اس گھر میں دوسرا ہفتہ تھا اور اتنے سے دنوں میں وہ ایک بار بھی نہ تو سکون سے سوپائی تھی نہ ٹھیک سے کھا پائی تھی،پھر بھی طعنے تھے کہ کم نہ ہوتے تھے۔ پچھلے دو روز سے وہ بخار کی لپیٹ میں تھی۔ سارا بدن درد سے چُور تھا، مگر وہاں سوائے بی اماں کے دوسرا کوئی ہمدرد نہیں تھا اس کا۔ جان لٹانے والے رشتے تو کب کے خاک اوڑھ کے سُو چکے تھے۔
تیز بخار سے جلتی آنکھیں تھوڑی ہی دیر میں تھک کر اس نے پھر بند کرلی تھیں مگر آنکھیں بند کرلینے سے دل کو چیرتی آواز نہیں رکی تھی۔
’’میرا منہ کیا دیکھ رہی ہیں اب۔ کھانا ہے تو کھائیں نہیں تو بے شک چھوڑ کر اٹھ جائیں۔ دیکھتی ہوں میں پردیس میں بیٹھا بیٹا جب آکر اپنے ہاتھوں سے کھلائے گا، ہونہہ…‘‘
بند آنکھوں کے باوجود وہ اس لمحے بی اماں کی بھیگی آنکھوں کے کناروں کو دیکھ رہی تھی اس عورت کی بھیگی آنکھوں کے کناروں کو کہ جس نے اجنبی سرزمین پر ایک نئے سچے دین کی خوش بُو کو سینے میں چھپائے، اپنے چھوٹے سے اکلوتے بیٹے پر اپنی ساری جوانی نچھاور کردی تھی اور اب جب اس شجر کے پھل دینے کا وقت آیا تھا تو انہیں کانٹے کھانے کو مل رہے تھے۔ اگلے دس منٹ بعد وہ کمرے میں آئی تھیں۔
’’اماں…‘‘ گوری نے ان کی آہٹ محسوس کرتے ہی آنکھیں کھول دیں۔
’’جی بیٹے…‘‘ وہ اس کے پاس ہی چار پائی پر آبیٹھیں۔
’’کتنا صبر کریں گی اور پچھلے دو ہفتے سے میں آپ کو رات رات بھر جائے نماز پر بیٹھی عاجزی سے روتے دعائیں مانگتے دیکھتی رہی ہوں۔ اس عمر میں بھی کتنا خیال رکھتی ہیں آپ پردے کا، نہ کسی کا بُرا سوچتی ہیں نہ کرتی ہیں، پھر بھی اللہ آپ سے راضی نہیں۔ پھر بھی اس نے آپ کو اتنی کڑی آزمائش میں ڈال رکھا ہے، کیوں اماں؟‘‘
’’کیسی آزمائش بیٹی؟ یہ تو کرم ہے مجھ پر میرے مالک کا کہ اس نے مجھے صبر کی دولت دی،اچھائی اور بُرائی میں تمیز کا شعور دیا، کیسے شکر ادا کروں اس کی رحمتوں کا کہ جس نے مجھ حقیر و فقیر کو کسی بھی مشکل اور امتحان میں ڈولنے نہیں دیا۔ وہ اللہ ہے بیٹی،کائنات کی ہر چیز کا مالک، اس نے جنت کے بدلے مومن مردوں اور عورتوں کے نفس خرید لیے ہیں۔ اس کا حق ہے اپنے بندوں پر کہ وہ جسے چاہے اتنی بڑی قیمت کے عوض انہیں آزمائے، پرکھے۔ ان کی خود سے محبت اور صبر کا امتحان لے۔ کسی انسان کی کیا مجال کہ وہ اس رحیم و رحمن، قہارو جبار، زبردست پکڑ والے اپنے معبود حقیقی سے ذرا سا شکوہ کرنے کی گستاخی کرسکے۔ وہ پاک و بے نیاز ہے مگر اپنے بندے کی شاہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے۔ اسی کا کرم ہے بیٹی کہ میں نے ہزار صعوبتیں اٹھا کر بھی عزت کے ساتھ جوانی بسر کرلی۔ وگرنہ شیر محمد کے بعد تو لگتا تھا میں کھلے آسمان تلے بالکل برہنہ ہوگئی ہوں۔ اس وقت اگر میرا خدا میرا ہاتھ نہ تھامتا تو میں کہاں جاتی، کیا کرتی؟‘‘ وہ اپنے ربّ کی شکر گزار تھیں۔ گوری نے بیزاری سے رخ پھیرلیا۔
’’کیا ملا آپ کو اماں؟ کچھ بھی نہیں۔ اس سے تو بہتر تھا کہ آپ اپنے ملک…‘‘
’’توبہ استغفار! ایسی بات بھول کر بھی منہ سے نہ نکالنا بیٹی! تجھے کیا پتا میرے پاس کیسی دولت ہے؟ جنہیں وہ اپنا کرلیتا ہے وہ دنیا کی معمولی معمولی چیزوں کے لیے نہیں جیتے، تجھے کیا پتا یہ آگاہی کیا ہے؟ یہ سرور، یہ سکون کیا ہے؟ خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس نے مجھے ’’تماشا‘‘ نہیں بنایا۔ وگرنہ یہ بے خبری کا عذاب جانے کہاں لے جاکر ڈبوتا مجھے۔‘‘ بی اماں کی باتیں، ہربار اس کے سر کے اوپر سے ہی گزر جاتی تھیں، اب بھی ایسا ہی ہوا تھا۔
’’تُو نہیں جانتی، یہ مختصر لباس، بناوٹ، یہ زیادہ سے زیادہ دلوں کو لُبھانے کی خواہش، مردوں کی نگاہ میں جچنے کا جنون، یہ کیسا عذاب ہے عورت کے لیے۔ کتنا گرا دیا ہے اس جنون نے عورت کو۔ تُو نہیں جانتی بیٹی کہ اللہ نے عورت کا وقار پردے میں رکھا ہے، جو اس کا خیال نہیں رکھتی۔ وہ پھسل جاتی ہے، بہت سی نگاہوں کے لیے تماشا بن جاتی ہے، وقت گزر جاتا ہے مگر اس کی زندگی کے دامن پرلگا ذرا سی بھول اور غلطی کا داغ کبھی نہیں دُھلتا، دُھل بھی جائے تو اس کا نشان ہمیشہ باقی رہتا ہے اور داغ لگی کوئی بھی چیز کبھی اچھے داموں نہیں بکتی۔‘‘ اپنے ہی آپ میں مگن وہ اسے کتنی گہری بات کہہ گئی تھیں۔
’’مم… میں نے زندگی میں کبھی ایمان کا سودا نہیں کیا اماں۔‘‘ اسے لگا وہ جیسے اسے سمجھارہی تھیں۔ تبھی فوراً وضاحت دی تو بی اماں نے اپنا ہاتھ اس کے سر پر رکھ دیا۔
’’اللہ ربّ العزت تجھے اپنی پناہ میں رکھے بیٹی، سدا خوش رہ۔‘‘ دعائیں دیتی وہ اٹھ گئیں تو گوری کے ذہن میں ان کا ایک ہی جملہ اٹک گیا۔
’’جنہیں وہ (اللہ) اپنا بنالیتا ہے وہ دنیا کی معمولی معمولی چیزوں کے لیے نہیں جیتے۔‘‘
’پھر وہ کس کے لیے جیتے ہیں ؟ کیا وہ ہر چیز سے بے نیاز ہوجاتے ہیں؟ کیا بے نیاز ہوکر جینا آسان ہوتا ہے؟ اللہ صبر کیسے دیتا ہے؟ کیا ہر نقصان پر صبر کرنا آسان ہوتا ہے؟ بی اماں نے کیوں کہا کہ وہ بہت سکون میں ہیں؟ کیا جنہیں اللہ اپنالیتا ہے انہیں کوئی غم نہیں ملتا؟ ان کے ساتھ کوئی حادثہ پیش نہیں آتا؟ کیسے لوگوں کو اپناتا ہے اللہ؟ وہ کیسے لوگ ہوتے ہیں جو اس کی نگاہ میں جچتے ہیں؟ وہ کیسے لوگ ہوتے ہیں، جن کے دل اور نفس وہ جنت کے بدلے خرید لیتا ہے؟ عورت تو فتنہ ہے، شر ہے، وہ کیسے کیچڑ میں رہ کر اپنا دامن بے داغ رکھ سکتی ہے؟‘‘ کتنے سوال تھے جو اس وقت اس کے اندر سے اٹھ رہے تھے۔ ابھی چند دن پہلے اس نے بی اماں کو کہتے سُنا تھا۔
’’پاکیزگی صرف عمدہ لباس اور پاک جسم کا نام ہی نہیں ہے، بلکہ ہر انسان کی سوچ، اس کا ہر خیال زبان سے نکلی ہر بات کا پاکیزہ ہونا بھی لازم ہے، روزِ محشر ہر انسان اپنے اچھے بُرے اعمال کا حساب دیتے وقت اپنی ہر سوچ، خیال اور زبان سے نکلی ہر بات کا جواب دہ بھی ہوگا۔‘‘ اور وہ تو جانے کیا کیا سوچتی رہ گئی۔
ایک لمحے کے لیے اس کا پورا جسم پسینے میں نہا گیا، زندگی کی شاہراہ پر سنبھل سنبھل کر چلنے کے لیے ایک اچھے رہ نما کا ہونا کتنا ضروری تھا اس روز اس نے جانا تھا۔
///
’’ہیلو…‘‘ وہ بے حد اداس، باورچی خانے میں بیٹھی چائے بنارہی تھی جب سامنے الماری میں رکھا اس کا سیل فون بج اٹھا۔
صاعقہ نے چائے چھوڑ کر لپک کر موبائل اٹھایا تو سامنے اسکرین پر ’’زین‘‘ کا خوب صورت نام چمک رہا تھا۔ اس نے فوراً سے پیشتر دھڑکتے دل کے ساتھ بٹن پریس کردیا۔
’’السّلام علیکم!‘‘ اس کی ہیلو کے جواب میں عباد نے سلام کیا تھا۔ جب وہ شرمندہ سی بولی۔
’’وعلیکم السّلام… میں ابھی آپ کو ہی یاد کررہی تھی۔‘‘
’’خیریت؟‘‘
’’ہُوں، آپ کا فون دو دن سے بند تھا۔ مجھے پریشانی ہورہی تھی۔‘‘
’’وہ تو ہونی تھی، اِدھر میں جو پریشان تھا۔‘‘
’’کیوں! اللہ خیر کرے، کیا ہوا؟‘‘
’’بہت کچھ، بہت عزیز دوست کے ساتھ حادثہ پیش آگیا۔ خیر کیا کررہی تھیں آپ؟‘‘
’’کچھ نہیں، بس فارغ ہی بیٹھی تھی۔‘‘
’’آپ کی والدہ کے علاج کا کیا ہوا؟‘‘
’’اب تو بہتر ہیں، میرا خیال ہے ڈاکٹر عارف نے صرف مجھے حاصل کرنے کے لیے جھوٹ بولا تھا۔‘‘
’’آپ کو اب لگا ہے، مجھے تو پہلے ہی یقین تھا کہ وہ جھوٹ بول رہا تھا۔ بہرحال جان بچی سو لاکھوں پائے۔‘‘
’’اس کا کریڈٹ تو اللہ کے بعد آپ کو جاتا ہے۔‘‘
’’وہ تو ہے۔‘‘
’’اب کہاں ہیں آپ اور آپ کے دوست کیسے ہیں؟‘‘
’’ٹھیک ہے، میں تو ابھی پنڈی میں ہی ہوں، کیوں خیریت؟‘‘
’’ہُوں خیریت ہی ہے، بس کچھ بات کرنی تھی آپ سے۔‘‘
’’تو کرو ناں یار! میں ہمہ تن گوش ہوں۔‘‘
’’ایسے فون پر نہیں، آپ جب کراچی آئیں تو بتایئے گا۔‘‘
’’آپ کہیں تو ابھی آجائوں؟‘‘
’’جی نہیں! اتنے اچھے نہیں ہیں آپ۔‘‘ وہ ہنسی۔
عباد جیسے بے اختیار سا ہوگیا۔
’’آپ کہہ کر تو دیکھیں، دو گھنٹے کے اندر اندر کراچی نہ پہنچ جائوں تو کہنا۔‘‘
’’چلو ٹھیک ہے پھر، میں آپ کا انتظار کررہی ہوں۔‘‘
’’اوکے! میں آرہا ہوں۔‘‘ صرف ایک لمحے میں فیصلہ کیا اس نے۔
صاعقہ سرشار سی موبائل بند کرگئی۔
وہ تیزی سے سیڑھیاں پھلانگتا نیچے ہال میں آیا تھا جب شاہ زر نے اسے پکارا۔
’’کہاں جارہے ہو؟‘‘
’’کراچی واپس جانا ہے یار، بہت ارجنٹ کام آپڑا ہے۔‘‘
’’ٹھیک ہے، مجھے اسپتال چھوڑتے جائو۔‘‘
’’لیکن شاہ…‘‘
’’بحث کرنے کے لیے نہیں کہا ہے عباد۔ چھوڑ سکتے ہو تو بتادو۔ نہیں چھوڑ سکتے تو میں خود چلا جائوں گا۔‘‘
’’اوکے چلو۔‘‘
ایک لمحے میں ہتھیار پھینکے تھے اس نے، اوپر سیڑھیوں کے دہانے پر کھڑی بُریرہ انہیں جاتے دیکھ کر محض لب کاٹ کر رہ گئی۔
///
انوشہ کی آنکھیں کھلی تھیں اور بہت بے تاثر نگاہوں سے کمرے کی چھت کو گھور رہی تھی۔ کتنے دن ہوگئے تھے اسے دنیا سے کنارہ کیے، آنکھ کھلتے ہی جو پہلی چیز اسے یاد آئی، وہ اس کا بچہ تھا۔ وہ کہاں ہوگا؟ کتنا رویا ہوگا میرے لیے؟ میں تو بدنصیب ہوں مگر اسے کس بات کی سزا مل رہی ہے؟ جو کچھ بھی زندگی نے میرے ساتھ کیا اس میں اس بے شعور، معصوم بچے کا کیا قصور؟
شاہ زر جس وقت اس کے کمرے میں داخل ہوا وہ اپنے بچے کے بارے میں سوچ رہی تھی۔ اس کا سر سفید پٹیوں میں جکڑا تھا۔ بایاں بازو اور پسلیاں بھی حادثے میں شدید متاثر ہوئی تھیں۔ وہ خاموشی سے اس کے قریب کھڑا ہوگیا۔
’’اب کیسی ہو انوشہ؟‘‘ بہت سنجیدگی سے مگر اپنائیت بھرے لہجے میں اس نے پوچھا تو انوشہ نے اپنی آنکھیں بند کرلیں۔
’’میرا بیٹا کہاں ہے؟‘‘ ہوش میں آنے کے بعد پہلا جملہ یہی اس کے لبوں سے نکلا تھا۔ شاہ زر اس کے سوال پر چونک اٹھا۔
’’بیٹا…‘‘ سُن دماغ میں اچانک جیسے دھماکا ہوا تھا۔ پچھلے تین روز سے اس نے اپنے بچے کو نہیں دیکھا تھا۔ وہ کہاں تھا؟
’’میں ! میں آتا ہوں ابھی۔‘‘ فوراً واپس پلٹتے ہوئے وہ کمرے سے نکل گیا۔
اسپتال سے گھر تک پہنچتے پہنچتے وہ تین بار ایکسیڈنٹ سے بچا، گیٹ پر کھڑے چوکیدار نے اسے خاصی حیرانی سے گھر میں داخل ہوتے دیکھا۔
’’ہنی… کہاں ہے؟‘‘ پہلا سوال چوکیدار سے ہی ہوا تھا۔
’’پتا نہیں صاب… میں نے نہیں دیکھا۔‘‘
’’کیوں نہیں دیکھا، یہاں کھڑے ہوکر پیسے کس چیزکے لیتے ہو۔‘‘ وہ دہاڑا تھا۔چوکیدار سر جھکا کر رہ گیا۔
گیٹ سے ہال اور اوپر بیڈروم تک، کوئی جگہ نہیں چھوڑی تھی اس نے، بُریرہ چپ اور حیرانی سے اسے دیکھتی رہی۔
’’کیا ڈھونڈ رہے ہو؟‘‘
’’میرا بیٹا کہاں ہے؟‘‘ وہ اسے مخاطب کرنا نہیں چاہتا تھا مگر کر بیٹھا تھا۔
’’مجھے کیا پتا۔‘‘ اسے بُرا لگا تھا۔ شاہ زر نے پروا نہیں کی۔ اس کا دل جیسے کوئی مٹھی میں لے کر مسل رہا تھا۔
’’میرا بیٹا چاہیے ابھی۔‘‘ تین دن سے خود پر چڑھایا سختی کا خول اس لمحے وہ توڑ بیٹھا تھا۔ بُریرہ کو لگا جیسے وہ ابھی رو پڑے گا۔
’’ہمارا کوئی بیٹا نہیں ہے۔‘‘
’’تمہارا نہیں ہے، میرا ہے۔‘‘ چلا کر کہتے ہوئے وہ بیڈ سے اٹھ کھڑا ہوا تھا۔ بُریرہ اسے دیکھتی رہ گئی۔
وہ گھر اور اردگرد سے اچھی طرح پوچھ تاچھ کے بعد سیدھا پولیس اسٹیشن گیا تھا، بُریرہ سوچ بھی نہیں سکتی تھیں کہ پاکستان واپسی پر اس کے ساتھ کچھ ایسا بھی ہوگا۔
///

اسے کہنا قسم لے لو
تمہارے بعد جو ہم نے کسی کا خواب دیکھا ہو
کسی کوہم نے چاہا ہو، کسی کو ہم نے سوچا ہو
کسی کی آرزو کی ہو، کسی کی جستجو کی ہو
کسی کی راہ دیکھی ہو، کسی کا قرب مانگا ہو
کسی سے آس رکھی ہو، کوئی امید باندھی ہو
کوئی دل میں اُتارا ہو، کوئی تم سے جو پیارا ہو
کوئی دل میں بسایا ہو، کوئی اپنا بنایا ہو
کوئی روٹھا ہو تو ہم نے اسے رورو منایا ہو
دسمبر کی حسیں رُت میں کسی کا ہجر جھیلا ہو
کسی کی یاد کاموسم، میرے آنگن میں کھیلاہو
کسی سے بات کرنے کو، کبھی یہ ہونٹ ترسے ہوں
کسی کی بے وفائی پر، کبھی یہ نین برسے ہوں
کبھی راتوں کو اٹھ اٹھ کر تیرے دکھ میں نہ روئے ہوں
اسے کہنا قسم لے لو!
تمہارے بعد جو اکثر کبھی اک پل بھی سوئے ہوں
اسے کہنا قسم لے لو
کبھی جگنو، کبھی تارا، کبھی ماہتاب دیکھا ہو
اسے کہنا قسم لے لو!تمہارے بعد جو ہم نے

’’کسی کا خواب دیکھا ہو…‘‘
’’علیزہ… !‘‘ گاڑی گائوں کی حدود سے نکل کر شہر والی سڑک پر گامزن ہوئی تھی، جب خاموشی سے ڈرائیو کرتے ایان نے اسے پکار لیا۔ وہ رُخ موڑے مکمل بے نیازی سے کھڑکی کے پار دیکھ رہی تھی۔
’’مجھے معاف کردو علیزہ! اس روز عورت ذات کے حوالے سے جو کچھ میں نے تم سے کہا، شاید مجھے وہ نہیں کہنا چاہیے تھا۔‘‘
وہ اب بھی چپ تھی، ایان نے گاڑی روک دی۔
’’کیا تم اب بھی مجھے معاف نہیں کروگی۔‘‘
’’کیا مجھے تمہیں معاف کرنا چاہیے؟‘‘
’’ہاں۔‘‘
’’تو ٹھیک ہے، جائو معاف کیا۔‘‘
’’شکریہ! تم بہت اچھی ہو علیزہ، بہت اچھی۔ میں اصل میں عورت ذات سے بہت متنفر ہوں۔ کیونکہ اس صنف نے کبھی میرے ساتھ ہی کیا، کسی کے ساتھ بھی اچھا نہیں کیا، اسی لیے میں خود کو تم سے دور رکھنا چاہتا تھا۔ میری اماں کہتی ہیں عورت فتنہ ہے، شر ہے۔ اگر اس سے جائز تعلق نہ ہو تو وہ مرد کی زندگی تباہ کردیتی ہے اور میں تو تباہ ہوچکا ہوں، اسی لیے غلطی دُہرانے سے ڈرتا ہوں، کیونکہ کہا جاتا ہے مومن ایک سوراخ سے دوبارہ نہیں ڈسا جاتا۔‘‘
’’پھر؟‘‘
’’پھر… پھر کچھ نہیں۔ بس تم اچھی ہو، میرے دل کو اچھی لگی ہو، سو اب کچھ بھی ہو، میں تمہارا دل کبھی نہیں توڑوں گا۔‘‘
’’وعدہ!‘‘
’’جی ہاں، پکا وعدہ۔‘‘
’’شکریہ ایان! تم خود بھی بہت اچھے ہو، دنیا کے سارے لڑکوں سے مختلف ہو،سب سے الگ، اسی لیے تومیری رال ٹپک پڑی تم پر۔‘‘ وہ اب مسکرا رہی تھی۔
ایان کو لگا جیسے اس کا دل ایک دم سے ہلکا پھلکا ہوگیا ہو۔
اس روز اس نے علیزہ کو خوب گھمایا پھرایا، جیب میں جتنے پیسے تھے سب خرچ کرڈالے۔ ایک مدت کے بعد وہ خوش تھا بے حد خوش۔
بالکل اسی طرح جیسے اندھی محبت کی تاریک نگری میں ٹھوکر کھا کر گِرنے سے پہلے سب خوش ہوتے ہیں۔ دن ابھی ڈھلنے ہی والا تھا۔ جب ایان نے واپسی کا قصد کیا مگر علیزہ نے انکار کردیا۔
’’ابھی نہیںایان، ابھی تو میں نے تمہیں اپنا شہر والا بنگلہ بھی نہیں دکھایا۔‘‘
’’گولی مارو شہر والے بنگلے کو۔ ملک صاحب پریشان ہورہے ہوں گے۔‘‘
’’ہونے دو، ساری دنیا کی فکر سر پر سوار رہتی ہے تمہیں، ایک میرے سوا۔‘‘
’’اب بھی یہی گلہ ہے تمہیں؟‘‘ وہ مسکرایا تھا۔ علیزہ نے ناک چڑھا کر مصنوعی خفگی سے منہ پھیرلیا۔
’’ٹھیک ہے، دیکھ لیتے ہیں تمہارا شہر والابنگلہ، پھر واپس چلتے ہیں، تمہیں تو ملک صاحب کچھ نہیں کہیں گے، مجھے گولی سے اُڑا دیں گے۔‘‘
’’نہیں اُڑنے دوں گی تمہیں گولی سے۔‘‘ وہ مسکرائی اور ایان نے جیسے بے بسی سے گاڑی اسٹارٹ کرلی۔
شام کے دھندلکے اب اردگرد پھیلنے لگے تو علیزہ نے ایک سنسان سے علاقے میں شان دار گھر کے سامنے گاڑی رکوالی۔
’’یہ دیکھو یہ ہمارا بنگلہ ہے، جب میں اپنی اماں کی بیماری کے دنوں میں ان کے ساتھ رہا کرتی تھی تو یہیں ہمارا قیام ہوتا تھا۔‘‘
’’ماشاء اللہ! شان دار گھر ہے۔‘‘
’’اندر سے اور زیادہ شان دار ہے۔ یہ گھر خالصتاً میری پسند سے بنایا گیا ہے۔ بابا کہتے ہیں شادی کے بعد وہ یہ گھر مجھے گفٹ کردیں گے۔‘‘
’’چلو اچھی بات ہے۔ ابھی تو گیٹ پر تالا پڑا ہے۔ پھر کبھی آئیں گے تو اندر سے بھی دیکھیں گے۔‘‘
’’پھر کبھی کیوں، آج ہی دیکھیں گے۔ تالے کی چابی ہے میرے پاس۔‘‘
سفر کے آغاز میں وہ جتنی اداس تھی، اب اتنی ہی چہک رہی تھی۔ ایان کا دل کسی انہونی کے خدشے کو محسوس کررہا تھا مگر عجیب سی بے بسی تھی کہ وہ چاہنے کے باوجود خود کو علیزہ کی کسی بات سے انحراف کرنے کے لیے تیار نہیں کرپارہا تھا۔ وہ اب لاک کھول رہی تھی۔
’’علیزہ! دیر ہوجائے گی۔‘‘
’’ہوجانے دو، میں نے بابا کو کہہ دیا تھا اگر دیر ہوگئی اور مجھے اپنی دوست کے گھر رکنا پڑا تو پھر صبح ہی آئوں گی۔‘‘
’’وہ اعتراض کریں گے۔‘‘
’’نہیں کریں گے، میں تو شہر آتی جاتی رہتی ہوں اور دو، دو دن ٹھہر بھی جاتی ہوں۔ اصل میں بابا کی خواہش پر، میں یہاں پرائیویٹ پڑھ رہی ہوں۔ بھائی اسکول کالج وغیرہ کے خلاف ہیں، اس لیے بابا نے گھر بیٹھ کر پڑھنے کی اجازت دے دی، کبھی کبھی کچھ مشکل ہو یا سمجھ میں نہ آئے تو میں بابا کو بتاکر اپنی دوست کے پاس شہر چلی آتی ہوں۔ وہ یہاں کالج میں پڑھتی ہے، بہت اچھی دوست ہے میری اور بابا کو اس پر اعتبار بھی بہت ہے۔ اس لیے میرے یہاں رُکنے پر اعتراض نہیں کرتے، آج بھی میں انہیں یہی کہہ کر آئی ہوں۔‘‘ اس کے تفکر پر کھل کر وضاحت دیتی وہ اسے بے حد اچھی لگی۔
لاک کھل چکا تھا۔ ایان اس کی ہمراہی میں اِدھر اُدھر احتیاط سے دیکھتا آگے بڑھ رہا تھا۔
’’یہ دیکھو، یہ جو باغیچہ ہے ناں۔ یہاں اکثر پھول اور پودے میں نے اپنے ہاتھوں سے لگائے ہیں اور وہ،وہ ہال ہے۔ یہیں میری اماں جی کی موت ہوئی تھی۔ میری جو شہر والی دوست ہے ناں وہ اماں کی بیماری کے دنوں میں اسپتال میں میری دوست بنی تھی۔ اس کا وہاں اسپتال میں بھائی داخل تھا۔ یہ دیکھو یہ اِدھر شہری کچن اور وہ اوپر کی منزل کوجاتی سیڑھیاں، تم ذرا سکون سے بیٹھو، میں ابھی آتی ہوں۔‘‘
پٹر پٹر بولتی اسے کچھ کہنے کا موقع دیئے بغیر، اسے ہال میں رکھے صوفے پر دھکیلنے کے بعد وہ خود واپس پلٹ گئی۔ ایان دلچسپ نگاہوں سے ہال کی بیش قیمت چیزوں کا جائزہ لیتا رہا، جب کہ وہ گاڑی سے سارا سامان،ایان کی کروائی گئی شاپنگ کی تمام اشیاء ایک محفوظ کمرے میں منتقل کرنے کے بعد دوبارہ پھر اس کے پاس چلی آئی۔
’’ایان! موبائل ہوگا تمہارے پاس۔‘‘
’’ہاں ہے، کیوں؟‘‘
’’مجھے چاہیے۔ اپنی فرینڈ کو کال کرکے بلواناہے، تم سے ملوانا ہے اور بابا کو بھی بتانا ہے کہ ہمیں تھوڑی دیر ہوجائے گی، وہ پریشان نہ ہوں۔‘‘
’’ٹھیک ہے، باباکو کال کرلو، مگر فرینڈ کو یہاں بلوانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ ہمیں ابھی نکلنا ہے یہاں سے۔ میں زیادہ دیر تمہارے ساتھ نہیں ٹھہرسکتا۔‘‘
’’پتا ہے مجھے، بہت شریف ہو۔ پوری دنیا میں ایک تمہیں ہی تو پتا ہے کردار کی حفاظت کا۔ باقی سب تو جیسے ہاتھ پر ایمان لیے پھرتے ہیں۔‘‘
’’نہ پھرتے ہوں، میرا کوئی واسطہ نہیں ہے کسی کے ساتھ۔ تمہیں نہیں پتا حالات کیسے جارہے ہیں، دنیا کو تو موقع چاہیے کسی کی زندگی جہنم بنانے کا۔‘‘
’’اچھا بابا موبائل تو دو، ہر وقت مولانا بنے رہتے ہو۔‘‘ وہ جھنجلائی۔ ایان نے خاموشی سے اسے اپنا موبائل نکال کر دے دیا۔
’’شکریہ، میں چائے لاتی ہوں، تب تک تم ذرا گھوم پھر کر دیکھ لو، پھر واپس چلتے ہیں، ٹھیک۔‘‘
’’ہُوں!‘‘ گہری سانس بھر کر اس کی طرف دیکھتے ہوئے وہ دوبارہ وہیں بیٹھ گیا۔
علیزہ اس کا موبائل لے کر وہاں سے ایک کمرے میں چلی آئی، جہاں اسے یقین تھا کہ اس کی آواز، کسی بھی طور سے ایان تک نہیں پہنچ سکے گی۔
مکمل اطمینان کے ساتھ اس نے اپنے بابا کا نمبر ملایا تھا اور دوسری جانب کال وصول ہوتے ہی وہ روپڑی۔
’’بابا…‘‘
’’علیزہ… کہاں ہو تم؟ کیا ہوا؟‘‘
بڑے ملک صاحب اس کی تاخیر پر پہلے ہی پریشان تھے کہ وہ صرف ایک گھنٹے کی بمشکل اجازت لے کر نکلی تھی کہ اب اسے روتے ہوئے بھی سُن رہے تھے۔ وہ ان کی پریشانی پر مزید پھپکی۔
’’بابا… بابا وہ کمینہ ایان… نمک حرام نکلا بابا۔ اس کی نیت خراب ہوگئی ہے مجھ پر، زبردستی شادی کرنا چاہتا ہے۔ میں بہت مشکل میں ہوں بابا۔ اس نے مجھے یہاں اس کمرے میں لاکر قید کررکھا ہے۔ میں مرجائوں گی بابا، مگر آپ کا اٹھا ہوا سر کبھی جھکنے نہیں دوں گی۔ ‘‘
بڑے ملک صاحب کے لیے اس کے الفاظ کسی شاک سے کم ہر گز نہیں تھے۔ ایک طرف اگر عزیز از جان بیٹی تھی تو دوسری طرف وہ شخص تھا جسے ان کی زیرک نگاہ نے اندر تک جانچ لیا تھا۔ وہ پھسلنے، بہکنے والوں میں سے نہیں تھا۔ ا س کے باوجود اگر اس نے ان کی عزت کو مٹی میں ملانے کا ارادہ کیا تھا تو بہت غلط کیا تھا۔ اس وقت ان کا خون جیسے سارے کا سارا ان کی شریانوں میں جمع ہوگیا تھا۔
’’خود کہاں ہے وہ اس وقت؟‘‘ وہ گرجے تھے۔ علیزہ کی مصنوعی سسکیوں میں شدت آگئی۔
’’وہ مولی کو لینے گیا ہے بابا۔ کہتا ہے دیکھ لوں گا تمہارا باپ میرا کیا بگاڑ لیتا ہے۔ اسی کا موبائل ہے بابا، بے خبری میں گِرگیا اس سے۔ شاید اللہ نے میری مدد کرنے کے لیے یہ ایک وسیلہ بنادیا۔‘‘
’’اس وقت کہاں ہو، جگہ کا کچھ پتا ہے کہ نہیں؟‘‘
’’جو پتا ہے وہ بتاتی ہوں بابا، آپ فوراً پہنچ جائیں، فوراً۔‘‘ مکمل پلان کے تحت اس نے اپنی سوچ کو عملی جامہ پہناتے ہوئے بڑے ملک کے قہر کو دعوت دے دی تھی۔ اپنے منصوبے پر سرشار وہ فون بند ہونے پر، مسرور سی، واپس پلٹی تو دہلیز کے اس پار ایان کو بُت بنے کھڑے دیکھ کر شاکڈ رہ گئی۔
اس کایقین غلط تھا کہ ہال تک اس کی آواز نہیں پہنچ سکے گی۔
///

اپنے نرم ہاتھوں سے
کوئی بات اچھی سی‘ کوئی خواب سچّا سا
کوئی بولتی خوش بُو‘ کوئی سوچتا لمحہ
جب بھی لکھنا چاہو گے
سوچ کے دریچے سے‘ یاد کے حوالوں سے
میرا نام چُھپ چُھپ کر‘ تم کو یاد آئے گا
ہاتھ کانپ جائیں گے‘ شام ٹھہر جائے گی

’’میری یاد آئے گی‘‘
عباد کراچی پہنچ گیا تھا۔
صاعقہ جھاڑو لگاتے ہوئے اس کا میسج پڑھ کر مسکرا دی۔
’’کہاں جا رہی ہو؟‘‘
پندر منٹ بعد وہ جھاڑو سے فارغ ہو کر قدرے ستھرے حلیے میں چادر لے کر گھر سے نکلنے لگی تو برتن دھوتی صائمہ نے پوچھ لیا۔
’’اسپتال جارہی ہوں‘ اماں کی دوا لینے۔‘‘
’’جلدی آجانا‘ اماں بار بار پوچھتی ہے تیرا‘ ویسے بھی آج کل حالات اچھے نہیں ہیں۔‘‘
’’پتا ہے مجھے۔‘‘
تیز لہجے میں کہہ کر وہ جلدی سے دروازہ پار کر گئی تھی۔
عباد ساحلِ سمندر پر اس کا منتظر تھا۔
’’السّلام علیکم!‘‘
اسے مقابل پاتے ہی وہ خوش ہوئی تو عباد کو لگا اس کی ساری تھکن ہَوا ہوگئی ہو۔
’’وعلیکم السّلام‘ دیکھ لیں آپ نے کہا اور میں پہنچ گیا یہاں۔‘‘
’’مہربانی‘ لگتا ہے ائر پورٹ سے سیدھے یہیں چلے آئے۔‘‘
’’کیوں؟‘‘
’’تھکے ہوئے لگ رہے ہیں‘ آنکھیں بھی سرخ ہو رہی ہیں۔‘‘
’’وہ تو ہوں گی‘ سویا جو نہیں تین روز سے۔‘‘
’’کیوں؟‘‘
بس‘ پریشان تھا‘ آپ سے بات بھی تو نہیں ہو پائی تھی تین روز سے۔‘‘
’’یہ اتنی بڑی بات تو نہیں۔‘‘
’’آپ کے لیے نہیں ہوگی۔ میرے لیے ہے۔‘‘
’’اچھا! دوست کیسے ہیں اب آپ کے اور ہوا کیا ہے ان کے ساتھ؟‘‘ذرا سا رخ پھیر کر اس نے اپنا اضطراب عباد سے چھپایا تھا۔ جب وہ گہری سانس بھرتے ہوئے بولا۔
’’پلین کریش میں کچھ عزیزوں کی موت ہوگئی ہے اس کے اسی لیے پریشان تھا۔‘‘
’’بہت قریبی عزیز تھے؟‘‘
’’ہاں۔‘‘
’’پھر تو آپ کو بھی وہیں رہنا چاہیے تھا۔‘‘
’’ہوں آپ کی طرف سے فوری پہنچنے کا حکم نہ ہوتا تو وہیں رہتا۔‘‘
صاعقہ کے پاس اس کے لفظوں کے جواب میں فوری طور پر کہنے کے لیے کچھ نہیں رہا تھا۔
’’زرنیل!‘‘ کچھ لمحوں کی خاموشی کے بعد اس نے پکارا۔
’’جی!‘‘ وہ اس کی طرف دیکھنے سے گریز کر رہی تھی۔
’’کوئی پریشانی تو نہیں ہے ناں؟‘‘
’’نہیں۔‘‘
’’ڈاکٹر عارف سے دوبارہ ملاقات ہوئی؟‘‘
’’نہیں۔‘‘
’’پھر…!‘‘
’’کیا پھر…!‘‘
’اتنی چپ چپ سی کیوں ہیں؟ کیا آپ کو مجھے یہاں اس طرح سے دیکھ کر خوشی نہیں ہوئی؟‘‘
’’ایسی بات نہیں ہے۔‘‘
پھر کیسی بات ہے؟‘‘
وہ بے چین ہوگیا۔ صاعقہ نے کچھ سوچتے ہوئے اپنی انگلی سے اس کی گفٹ کی ہوئی انگوٹھی کھینچ لی۔
’’مجھے کچھ واپس کرنا ہے آپ کو۔‘‘
کہتے ہی اس نے اپنی مٹھی عباد کے سامنے کھول دی تھی۔ شفاف گلابی ہتھیلی پر اس کی دی ہوئی رنگ اوندھی پڑی تھی۔ اسے دھچکا لگا۔
’’وجہ پوچھ سکتا ہوں اس کی؟‘‘
صاعقہ نے سر جھکا لیا۔
’’جی…! میں نہیں جانتی کہ آپ کون ہیں؟ کیا ہیں؟مگر میں آپ کو بتا دینا چاہتی ہوں کہ میں کون ہوں‘ کیا ہوں۔‘‘
اس کا لہجہ دھیما تھا۔ عباد کی نگاہیں اس کے چہرے پر جمی رہیں۔
’’مطلب…؟‘‘
’’کوئی مطلب نہیں‘ سوائے اس کے کہ میں نے اپنے بارے میں جو کچھ بھی آپ کو بتایا وہ سب جھوٹ تھا‘ غلط تھا‘ میں کوئی لینڈ لارڈ لڑکی نہیں ہوں۔ نہ ہی عباد انڈسٹری کے مالک سے میرا کسی قسم کا کوئی تعلق رہا ہے۔ میں تو‘ میں تو لوئر مڈل کلاس کے ایک بہت ہی غریب گھرانے کی بیٹی ہوں۔ جس کے کندھوں پر گھر کی بھاری ذمہ داریوں کا بوجھ ہے۔ جس کی ماں ایک بیٹے کی معذوری اور ایک جوان بیٹے کی گمشد گی سے نڈھال بیمار پڑی ہے۔ میں نے جھوٹ کہا تھا کہ مجھے کاروبار میں نقصان ہوا ہے۔ اصل میں…! اصل میں میں آپ سے سچ چھپانا چاہ رہی تھی۔ ہر عام سی کمزور لڑکی کی مانند‘ مجھ میں بھی آپ کو کھو دینے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی‘ مگر جھوٹ کی لہروں پر خوابوں کے محل نہیں ٹکتے۔ میں نہیں چاہتی کہ کل جب آپ میری اصل حقیقت سے واقف ہوں تو مجھے بُرا بھلا کہیں۔ میری کلاس پر مزید کچھ نئے ریمارکس پاس کریں۔ میں دکھ اٹھا سکتی ہوں ذلت نہیں اٹھا سکتی۔‘‘
اس کی آنکھیں آنسوئوں سے بھری تھیں۔
عباد کے لبوں پر ہلکی سی مسکان پھیل گئی۔
’’بس!‘‘
وہ دو قدم قریب آیا تھا۔ صاعقہ کا جھکا سر جھکا ہی رہا۔
’’آپ سمجھتی ہیں مجھے آپ کے منہ سے اصل حقیقت سن کر آپ سے نفرت ہوجائے گی۔ میں آپ پر دو حرف بھیج کر چلا جائوں گا۔‘‘
وہ اب سنجیدگی سے کہہ رہا تھا۔ صاعقہ سر اٹھا کر اس کی طرف دیکھنے لگی۔
’’بس اتنا ہی جان سکیں مجھے؟‘‘
وہ اب گلہ کر رہا تھا۔ وہ پھر سے سر جھکا گئی۔
’’اپنے اور میرے تعلق کو اتنا سستا مت کریں۔ صاعقہ…! پلیز!‘‘
قطعی نا دانستگی میں اس کے لبوں سے اس کا اصل نام نکل گیا تھا۔ صاعقہ نے فوراً چونک کر اس کی طرف دیکھا۔ جو غلطی کرنے کے بعد مسکرا رہا تھا۔
’’سوری زرنیل!‘‘
’’میرا اصل نام کیسے جانتے ہیں آپ؟‘‘
اس کی مسکراہٹ کو قطعی نظر انداز کرتے ہوئے اس نے پوچھا تھا۔ عباد مسکرا کر اسے دیکھتے ہوئے گیلی ریت پر بیٹھ گیا۔
’’جیسے بھی جانتا ہوں‘ آپ کو کیوں بتائوں؟‘‘
وہ اب اسے تنگ کر رہا تھا۔
’’کیا آپ مجھے پہلے سے جانتے ہیں؟‘‘
’’جی ہاں۔‘‘
’’تو بتایا کیوں نہیں؟‘‘
’’میری مرضی۔‘‘
’’آپ بے وقوف بنا رہے تھے مجھے؟‘‘
’’نہیں… بے وقوف بن رہا تھا۔‘‘
’’کیوں؟‘‘
’’میری مرضی۔‘‘
شانِ بے نیازی سے کندھے اچکاتے ہوئے وہ اسے چڑا رہاتھا۔
صاعقہ خفا ہوگئی۔
’’ٹھیک ہے میں جا رہی ہوں۔ خبردار جو آج کے بعد کوئی رابطہ رکھا مجھ سے تو…!‘‘
پائوں پٹختے ہوئے وہ واپس پلٹی تھی۔ عباد مسکراتے ہوئے دیکھتا رہا۔ ’’پاگل لڑکی ہو پاگل۔‘‘
وہ نظروں سے اوجھل ہوگئی تھی۔ جب وہ ساحل کی گیلی ریت پر دیر تک اس کا نام لکھنے کے بعد دھیرے سے بڑ بڑایا اور خود بھی اٹھ کھڑا ہوا۔ تھکن سے بے حال اعصاب اس وقت شدت سے نیند کی خواہش کر رہے تھے۔ جب کہ مہمانوں سے بھرا گھر اس کی تھکن کو مزید بڑھا رہا تھا۔
///
’’تم بدل گئے ہو عباد اور یہ بات میں بہت دنوں سے نوٹ کر رہی ہوں۔‘‘
تھکن سے بے حال وہ اپنے کمرے میں آیا تھا۔ جب ہادیہ اس کے پیچھے ہی چلی آئی۔
’’اچھا کیسے بدل گیا ہوں۔ پہلے سینگ تھے سر پر جو اَب نہیں ہیں؟‘‘
بیڈ پر بیٹھ کر جوتے اور موزے اتارتے ہوئے وہ مسکرایا۔
ہادیہ جی جان سے جل گئی۔
’’اتنے بھولے نہیں ہو تم جو میری بات کا مطلب نہ سمجھ سکو۔‘‘
’’پاگل ہو تم اور کچھ نہیں۔‘‘
’’میں سیریس ہوں عباد! پاپا مجھے تمہاری زندگی میں ایڈجسٹ کرنا چاہتے ہیں۔ اکٹھے دیکھنا چاہتے ہیں ہمیں۔ اسی لیے بہت جلد ہماری شادی طے کرنے کا پروگرام بھی بنارہے ہیں۔ مگر مائینڈ اِٹ اگر تم اپنا رویّہ تبدیل نہیں کرو گے تو میں کسی صورت تم سے شادی نہیں کروں گی۔‘‘
’’اچھی بات ہے‘ ویسے بھی میری کہاں بنتی ہے تم سے۔‘‘
وہ اب مسکرا رہا تھا۔ ہادیہ کا چہرہ مزید سرخ ہوگیا۔
’’میرا خیال ہے اب تم سے پاپا اور انکل آنٹی ہی بات کریں تو بہتر ہے۔‘‘
اسے دھمکا کر وہ کمرے سے نکل گئی تھی۔
عباد کچھ دیر کمپیوٹر کے ساتھ مصروف رہا۔ پھر نیچے کی سرگرمیوں سے قطعی بے نیاز شاہ زر کا نمبر ملایا۔
’’کیسے ہو شاہ؟‘‘ کال پک ہوتے ہی دعا سلام کے بعد اس نے پوچھا تھا۔ جب وہ یاسیت سے بولا۔
’’کیسا ہو سکتا ہوں؟‘‘ عباد نے اس کے جواب پر گہری سانس بھری۔
’’ہمت سے کام لو یار‘ نشیب و فراز تو زندگی کا حصہ ہیں۔ اللہ نے چاہا تو انوشہ جلد ٹھیک ہوجائے گی۔‘‘
’’تم میرے لیے دعا کرو عباد‘ اللہ سکون دے دے مجھے‘ وہ مجھے معاف نہیں کررہا۔ صرف ایک بھول‘ ایک گناہ پر اپنی گرفت میں لے لیا اس نے یہاں کتنے لوگ ہیں عباد‘ جن کی ساری عمر گناہوں میں گزر جاتی ہے۔ پھر وہ بھی بخشے جاتے ہیں۔ صرف ایک بار توبہ پر وہ معاف کردیتا ہے انہیں۔ مجھے کیوں نہیں معاف کر رہا وہ۔ میں کیا اس کا بندہ نہیں ہوں؟‘‘
شاہ زر کی آواز بھرا رہی تھی۔ عباد بے کل ہوگیا۔
’’سب ٹھیک تو ہے ناں شاہ؟‘‘
’’کچھ بھی ٹھیک نہیں ہے عباد۔ میری زندگی میں کہیں بھی‘ کچھ بھی ٹھیک نہیں ہے۔‘‘
’’اب کیا ہوا؟‘‘
’’پتا نہیں‘ میرا بیٹا کہاں کھو گیا ہے۔ اس کی حفاظت بھی نہیں کرسکا۔ میں نے سب رشتے چھین لیے انوشہ سے۔ سب رشتے عباد۔‘‘
شاہ زر کے لہجے میں درد تھا۔ عباد کی سمجھ میں نہ آیا وہ اسے کیا کہے۔
’’میں کل آرہا ہوںتمہارے پاس تم ٹینشن مت لو۔ سب ٹھیک ہوجائے گا۔ مل جائے گا تمہارا بیٹا۔ ان شاء اللہ۔‘‘
شاہ زر نے اس کی دعا پر چپکے سے کال کاٹ دی تھی۔ وہ کچھ دیر چپ لیٹا چھت کو گھورتا رہا۔ پھر کروٹ بدل کر صاعقہ کا نمبر پریس کردیا۔ کافی دیر بیل جانے کے بعد اس نے کال پک کی تھی۔
’’السّلام علیکم!‘‘
’’وعلیکم السّلام کیسی ہو؟‘‘
’’بہت اچھی‘ بے حد پیاری۔‘‘
صاعقہ کا جواب بر جستہ تھا۔ وہ بے ساختہ مسکرا دیا۔
’’جی ہاں! اس میں کوئی شک نہیں، کیا کررہی تھیں؟‘‘
’’اماں کو دوا پلا رہی تھی۔ ابھی وہ سوئی ہیں تو سوچا کچھ پڑھ لوں۔‘‘
’’کسی دن وقت نکال کر مجھے بھی پڑھ لیں پلیز۔‘‘
’’اتنا فضول ٹائم نہیں ہے میرے پاس۔‘‘
وہ ہنسی تھی تو عباد آہ بھر کر رہ گیا۔
’’اُف… ! اتنے اچھے‘ خوبرو‘ کمائو لڑکے کی ایسی نا قدری۔‘‘
وہ ٹینس تھا اور صاعقہ ہمیشہ اس کی اعصابی تھکن کو دور بھگانے میں بہتر معاون ثابت ہوتی تھی۔ اس وقت بھی ایسا ہی ہوا تھا۔
’’رنگ دوبارہ پہن لی کہ نہیں؟‘‘
’’نہیں پہلے آپ کو بتانا ہوگا کہ آپ مجھے پہلے سے کیسے جانتے ہیں؟‘‘
’’اگر نہ بتائوں تو؟‘‘
’’تو میں بات نہیں کروں گی آپ سے۔‘‘
فوراً سے پیشتر اس نے کہا تھا عباد کو چپ لگ گئی۔
’’میں صرف آپ کا نام جانتا ہوں۔ صاعقہ اور کچھ بھی نہیں۔ معلوم نہیں مجھے آپ کے بارے میں آپ کا نام بھی آپ کی دوست کی وجہ سے پتا چلا۔ جب انہوں نے کال کے دوران آپ کو پکارا۔‘‘ وہ سنجیدہ ہوچکا تھا۔ صاعقہ مسکرادی۔
’’اتنی سی بات پر اتنا ستانے کی کیا ضرورت تھی؟‘‘
’’اچھا لگتا ہے آپ کو تنگ کرنا۔ امی کیسی ہیں اب آپ کی؟‘‘
’’پہلے سے بہتر ہیں۔ کل پے ملے گی تو کسی اچھے سے ڈاکٹر کو دکھائوں گی۔‘‘
’’پے کو گولی ماریں کل ہر صورت ان کا چیک اپ کروائیں۔ پیسے میں دے دوں گا۔‘‘
’’کس خوشی میں؟‘‘
’’ہماری منگنی کی خوشی میں۔‘‘
’’لگتا ہے بہت پیسا ہے آپ کے پاس۔‘‘
’’کہاں یار! کھینچ تان کر بہ مشکل مہینہ نکلتا ہے۔ ویسے اگر میں بہت امیر ہوتا تو آپ کے کیا احساسات ہوتے میرے لیے؟‘‘
کب سے ذہن میں کلبلاتا سوال بالآخر اس نے پوچھ لیا تھا۔
’’پتا نہیں۔ لیکن اگر ایسا ہوتا تو شاید میں آپ سے اتنی فری کبھی نہ ہوپاتی۔ مجھے اپر کلاس لوگوں سے چڑ ہے پتا نہیں کیوں۔‘‘
وہ کچھ دیر کی خاموشی کے بعد بولی تو عباد کا دل جیسے دھک سے رہ گیا۔
’’اس کا مطلب ہے اگر میں امیر ہوتا…؟‘‘
’’اگر آپ امیر ہوتے تو میرا آپ سے کسی بھی قسم کا کوئی تعلق نہ ہوتا۔ میں خوابوں کی دنیا میں جینے والی لڑکی نہیں ہوں زین۔ مجھے زندگی اپنے حقیقی رنگوں کے ساتھ ہی اچھی لگتی ہے۔ ہاں اگر میں بہت امیر ہوتی تب بھی آپ سے یونہی بات کرتی۔‘‘
’’یہ تو غلط بات ہوئی نا۔‘‘
’’غلط صحیح کا مجھے نہیں پتا۔ بس میں ایسا ہی کرتی۔‘‘
’’چلو پھر تو شکر ہے اللہ کا کہ اس نے مجھے امیر نہیں بنایا۔‘‘
’’جی ہاں ویسے آپ نے ابھی تک اپنے بارے میں کچھ بھی نہیں بتایا۔‘‘
’’آپ نے پوچھا ہی نہیں۔‘‘
’’اب پوچھ رہی ہوں ناں۔‘‘ وہ خوش تھی۔
عباد پھر سے بیڈ پر اٹھ بیٹھا۔
’’کیا پوچھ رہی ہیں؟‘‘
’’یہی کہ آپ کا گھر کہاں ہے‘ فیملی میں کون کون ہے‘ جاب کے علاوہ کیا مصروفیات ہیں؟‘‘
’’کچھ بھی نہیں‘ گھر میں امی ابو ہوتے ہیں ایک چھوٹی بہن ہے ہانیہ اور بس میں ہوں اپنے ماں باپ کا اکلوتا‘ لاڈلا بیٹا۔‘‘
’’اور گھر؟‘‘
’’گھر بھی ہے‘ مگر زیادہ شاندار نہیں۔ بس گزارہ ہوجاتا ہے۔‘‘
’’ابو کیا کرتے ہیں؟‘‘
’’انہیں کیا کرنا ہے۔ گھر پر ہی ہوتے ہیں جوان بیٹے کے ہوتے ہوئے انہیں کچھ کرنے کی ضرورت بھی نہیں ہے۔‘‘
’’ہاں یہ تو ہے۔ کیا آپ مجھے اپنا گھر نہیں دکھائیں گے؟‘‘
’’کیا کریں گی دیکھ کر‘ یہاں تو ہَوا بھی نہیں آتی۔ مچھروں نے کاٹ کاٹ کر بے حال کر رکھا ہے۔‘‘
اس کا لہجہ کچھ ایسا تھا کہ صاعقہ بے ساختہ ہنس دی اور عباد کے لیے اس کی یہ ہنسی دنیا کی ہر شے سے زیادہ قیمتی تھی۔
’’افسوس میرے بس میں ہوتا تو میں آپ کو پیارا سا شاندار گھر گفٹ کردیتی۔‘‘
’’اچھا…؟‘‘ وہ مسکرایا۔
’’جی ہاں اور اب میں سونے لگی ہوں۔ صبح بات ہوگی۔ خدا حافظ۔‘‘
صائمہ کمرے میں آچکی تھی لہٰذا اس نے فوراً سے پیشتر کال ڈراپ کردی۔
’’تم باز نہیں آئو گی ناں صاعقہ!‘‘ وہ تھکی ہوئی تھی۔ صاعقہ نے نظر چُرالی۔
’’کس بات سے…؟‘‘
’’اتنی انجان نہیں ہو تم جو یہ نہ جان سکو کہ میرا اشارہ کس بات کی طرف ہے۔‘‘ وہ تپی تھی۔ صاعقہ نے اس کی طرف سے رخ موڑ لیا۔
’’مت چنو وہ راہیں جن پر چل کر پچھتانا پڑے۔ مڈل کلاس گھرانے کی لڑکی ہو تم‘ لوئر مڈل کلاس گھرانے کی۔ جہاں صرف خواب دیکھے جاتے ہیں۔ ان کی تعبیر پانے کی ضد نہیں کی جاتی‘ یہ معاشرہ‘ اس معاشرے کے لوگ تمہارا گلا گھونٹ دیں گے۔ نوچ لیں گے تمہاری آنکھوں سے یہ خوش نما خواب۔‘‘
’’اچھا بس ہر وقت نصیحتوںکے پٹارے کھول کر نہ بیٹھ جایا کرو۔ میرا کسی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اگر ہنسی مذاق میں کسی سے بات ہوجاتی ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ تم فوراً فتوے دینا شروع کردو۔ پتا ہے مجھے، کس کلاس سے تعلق ہے میرا۔ تم بار بار یہ یاد نہ بھی دلائو تب بھی یاد رہتا ہے مجھے، لہٰذا میری طرف سے بے فکر رہو۔ میں کچھ ایسا نہیں کروں گی جس سے میرے گھر والوں کی عزت پر حرف آئے۔‘‘
اسے غصہ آگیا تو صائمہ اس کا منہ دیکھتی رہ گئی۔
اگلے روز اس نے پھر سے ماں کی طبیعت خراب ہونے پر انہیں اسپتال میں داخل کروا دیا۔ عباد کے صرف ایک فون نے اس کی ساری مشکلات حل کردی تھیں۔ وہ خوش تھی بے پناہ خوش۔ عباد کا مقام اس کے دل میں بڑھ رہا تھا۔ خود وہ بھی اپنی بے پناہ مصروفیات کے باوجود اسے یاد رکھتا تھا اور ایک لوئر مڈل کلاس‘ حساس سی صاف گو لڑکی کے لیے یہ چاہ‘ یہ اہمیت‘ یہ محبت‘ یہ توجہ۔ کتنی اہم اور قیمتی تھی کوئی نہیں جان سکتا تھا۔
///
سانول شاہ کے ڈرائیور افضل کا جوشیلا پڑھا لکھا بیٹا اپنے چچا کی ہزار منتوں اور نصیحتوں کے باوجود سانول شاہ کے خلاف ایف آئی آر کٹوانے پولیس اسٹیشن چلا گیا تھا۔ جہاں ڈیوٹی نبھاتے ’’اندھے قانون کے فرض شناس‘‘ سپاہی اس کی داد رسی کے لیے ایف آئی آر تو کیا کاٹتے الٹا سانول شاہ کا نام سن کر اسے ذلیل کرنے لگے۔
وہ صبح گھر سے نکلا۔ ایس ایچ او کے حکم پر پورے دو گھنٹے ایس ایچ او کے کمرے سے دور باہر دھوپ میں بیٹھا اس کے فارغ ہونے کا انتظار کرتا رہا۔ جو اندر سانول شاہ کو فون کر کے اس سے گپیں لگا رہا تھا۔
وہ جب بھی پاس سے گزرتے کسی سپاہی کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھتا اسے مخاطب کرتا وہ اسے کھانے کو پڑتے پورا دن پولیس اسٹیشن میں شدید خوار ہونے کے بعد جب بے حد دل برداشتگی کے ساتھ وہ گھر میں داخل ہوا تو سامنے سانول شاہ کو بیٹھے دیکھ کر ٹھٹک گیا۔ جو اسے دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔
’’بڑے وقت پر پہنچے ہو‘ میں نے منع کیا تھاناں میرے مقابل مت آنا۔ مگر تم باز نہیں آئے۔ اب اس کا انجام دیکھنا۔‘‘
اس کی نظروں میں عجیب سی تضحیک تھی اور وہ اس کی دوسرے نمبر والی بہن کو مسکرا کر دیکھ رہا تھا۔ اسے لگا جیسے اس کی رگوں میں خون ابلنے لگا ہو۔ بے حد طیش کے عالم میں وہ آگے بڑھا۔
’’منہ سنبھال کر بات کر چوہدری… تو اس گائوں کا سردار ہے۔ ساری دنیا کا خدا نہیں ہے۔ نہیں ڈرتا میں تجھ سے نہ تیرے جیسے دوسرے فرعونوں سے۔ میں لڑوں گا تیرے خلاف چاہے ساری دنیا کی خاک کیوں نہ چھاننی پڑے مجھے۔‘‘
’’اب خاک ہی چھانو گے شہزادے‘ یہ یاد رکھنا۔‘‘
چیلنج دیتی نگاہوں میں عجیب سی ضد تھی۔ افضل ڈرائیور کا بیٹا تیوری چڑھائے اسے دیکھ رہا تھا۔ اگلے دن کا سورج طلوع ہونے سے پہلے اس نے اپنی دوسرے نمبر والی بہن کو گھر سے غائب پایا۔ ابھی چند روز کے بعد وہ اور اس سے بڑی دونوں بہنوں کی شادی ایک ہی گھر میں طے ہوئی تھی۔ مگر چھوٹی بہن کی گھر سے عدم موجودگی نے سب کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا۔
فیصل (افضل ڈرائیور کا بیٹا) کو لگا جیسے اس کی شریانیں غم و غصے سے پھٹ جائیں گی۔ وہ جانتا تھا یہ سانول شاہ کی شرارت ہے مگر اس کے پاس اس کا کوئی ثبوت نہیں تھا۔ تیسرے دن کے ڈھلتے سورج کے ساتھ اسے اپنی شہزادیوں جیسی بہن کی لاش‘ قریبی کھیت سے ملی تھی۔ وہ کیسے گھر سے غائب ہوئی اس کے ساتھ کیا کیا ظلم ہوا۔ کسی کو پتا ہی نہ چل سکا۔ انزلہ کو لگا جیسے وہ مر جائے گی۔
اس کا بس نہ چلتا تھا کہ خود سانول کا گلا اپنے ہاتھوں سے گھونٹ دیتی۔ اس نے جس طرح سے ایک ماں کو بلک بلک کر جوان بیٹی کی ناگہانی موت پر روتے دیکھا تھا اس کا بس چلتا تو وہ عدل کے ایوانوں کو ہلا کر رکھ دیتی۔ اس روز اسکول سے واپسی پر اس نے پھر بہزاد علی مراد کو ہر بات بتائی تھی۔
’’آپ کیا سمجھتی ہیں۔ وہ یہ سب کیوں کر رہا ہے؟‘‘
’’میں نہیں جانتی‘ مگر وہ مجھے اذیت دینا چاہتا ہے اور بس۔‘‘
’’کیوں اذیت دینا چاہتا ہے۔ کیا پرانی دشمنی کی وجہ سے؟‘‘
’’نہیں‘ اصل میں وہ یونیورسٹی میں میرا کلاس فیلو رہ چکا ہے۔ وہیں اسے مجھ سے خاموش محبت بھی ہوگئی تھی۔ اب وہ شادی کے لیے اصرار کر رہا ہے مگر میں ایسے درندہ صفت شخص کی رفاقت کا سوچ بھی نہیں سکتی۔‘‘
وہ غم زدہ تھی۔ بہزاد کے قدموں کی رفتار میں سستی آگئی۔
’’آپ چاہیں تو اسے انسان بنا سکتی ہیں۔‘‘
کیسے؟‘‘
’’محبت کے ہتھیار کا استعمال کر کے‘ وہ طاقت ور ہے انزلہ! آپ طاقت سے اس کا مقابلہ کریں گی تو ہار جائیں گی۔ طاقت اور اقتدار دونوں مل جائیں تو اکثر رگوں میں دوڑتا خون آگ بن جاتا ہے۔ اچھے برے کی تمیز رہتی ہے نہ گناہ ثواب کا خیال۔ لہٰذا میں سمجھتا ہوں کسی بھی طورسے کسی بھی برائی کو‘ برائی سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ اگر برائی کو برائی سے ختم کرنا بھی چاہیں تو یہ مزید بڑھتی ہے۔ کم نہیں ہوتی۔ اسی لیے میرا آپ کو یہ مشورہ ہے انزلہ کہ آپ اپنی ذات اور احساسات کو ایک طرف رکھ کر دوسرے لوگوں کے لیے ان کی زندگی کے لیے سوچیں اور اس شخص کو ایسا سبق سکھائیں کہ وہ زندگی کی آخری سانس تک یاد رکھے۔ مرد کو صرف اس کی کسی نہ کسی کمزوری سے زیر کیا جاسکتا ہے۔ آپ بھی اس کی کمزوری سے فائدہ اٹھائیں اور اسے سیدھے راستے کی طرف لائیں۔ پھر اس کے بعد آپ جو چاہیں اپنے لیے فیصلہ کرسکتی ہیں۔‘‘
بہزاد علی مراد کی بات اور مشورے میں وزن تھا۔
انزلہ پُر سوچ نگاہوں سے اس کی طرف دیکھتی جیسے کسی نتیجے پر پہنچ گئی تھی۔
’’تو یہ طے ہوا سانول شاہ کہ انزلہ تمہیں کہیں کا نہیں چھوڑے گی۔ تمہاری کمزوری میرا حصول میری محبت ہے اور اب میں تمہاری اسی کمزوری کو ہتھیار بنا کر تمہیں اس انجام تک پہنچائوں گی کہ تم جیسے سیکڑوں مست ہاتھی اس سے عبرت حاصل کریں گے۔‘‘
اس سوچ کے ساتھ ہی اس کی رگوں میں خون جیسے ابلنا شروع ہوگیا تھا۔
وہ جانتی تھی کہ قدرت کے اپنے فیصلے ہوتے ہیں اور مٹی سے بنے انسانوں کو قدرت کے ہر فیصلے کے سامنے سر تسلیم خم کرنا ہی پڑتا ہے۔
///
وہ تھکا ہوا گھر واپس آیا تھا۔
لائونج میں ٹی وی کے سامنے بیٹھی بریرہ اسے دیکھتے ہی صوفے سے اٹھ کھڑی ہوئی۔
’’شاہ زر…!‘‘
وہ جو خاموشی سے اپنے بیڈ روم کی طرف بڑھ رہا تھا اس کی پکار پر ٹھٹک گیا۔
’’میں یہاں تمہارے لیے آئی ہوں شاہ زر‘ ان وحشت ٹپکاتے در و دیوار کے لیے نہیں۔‘‘ دو قدم آگے بڑھ کر وہ اس کے سامنے آکھڑی ہوئی۔
’’کوئی اتنا کیسے بدل جاتا ہے۔ کیسے بدل سکتا ہے کوئی اس قدر؟‘‘
بھیگی پلکوں کے ساتھ مضطرب انداز میں اس کی طرف دیکھتی وہ کتنی بے چین دکھائی دے رہی تھی۔ شاہ زر نے خاموشی سے رخ پھیر لیا۔
’’تمہیں کیسے یاد دلائوں شاہ زر کہ میں بریرہ رحمن… تمہاری بہترین دوست تھی، کبھی تمہیں مجھ سے پیار تھا۔ بے حد پیار‘ تم تو وہ تھے شاہ زر کہ حسین سے حسین تر لڑکی بھی تمہیں اپنی طرف متوجہ نہیں کرسکتی تھی۔ پھر… پھر کیا ایسا ہوا کہ آج تمہیں میری طرف دیکھنا بھی گوارہ نہیں۔ میں جانتی ہوں میری ماں نے تمہاری انوشہ رحمن کی ماں سے ان کا شوہر چھینا تھا۔ مجھے علم ہے شاہ زر کہ انہوں نے بہت کچھ غلط کیا اور مجھے یہ بھی خبر ہے کہ صرف ان کے بہکاوے کی وجہ سے تم نے بھی بہت کچھ غلط کیا مگر مما اور تمہاری غلطیوں کی سزا میں کیوں بھگتوں۔ میں نے کیا گناہ کیا ہے شاہ زر کہ مجھے ایسی اذیتوں بھری دھتکاری ہوئی زندگی ملے۔ میرا کیا قصور ہے شاہ زر کہ تمہارے نام سے منسوب ہو کر بھی میں تمہارے لیے ترسوں؟‘‘
وہ رو پڑی توشاہ زر پلٹ کر خاموشی سے صوفے پر جا بیٹھا۔
’’میں تمہیں اس حال میں نہیں دیکھ سکتی شاہ زر! انوشہ رحمن کے ساتھ جو کچھ بھی ہو رہا ہے اس میں تمہارا کوئی قصور نہیں ہے۔ تم کیا سمجھتے ہو کیا مجھے اس کا کوئی دکھ اور ملال نہیں؟ کیا وہ میری کچھ نہیں لگتی؟ مما کی نفرت اور تربیت اپنی جگہ‘ مگر ایک انسان کی حیثیت سے مجھے اس کے ساتھ پیش آنے والے ہر حادثے پر گہرا دکھ اور رنج ہے۔ مگر کیا میرا رنج میرا دکھ اس کی تقدیر بدل سکتا ہے۔ کیا تمہارا یہ پچھتاوا؟‘‘
’’چپ کر جائو بریرہ خدا کے لیے چپ کرجائو۔‘‘
وہ اس کے قدموں میں بیٹھی تھی جب وہ اس کی بات مکمل ہونے سے قبل ہی چلّا اٹھا۔
’’کوئی وضاحت کوئی صفائی نہیں چاہیے مجھے‘ خدارا۔‘‘
آزردہ لہجے میں کہتا اگلے ہی پل وہ صوفے سے اٹھ کھڑا ہوا تھا۔ بریرہ از حد ہتک محسوس کرتی اسے دیکھتی رہ گئی۔
///
ارسلان حیدر پاکستان آرہا تھا اور امامہ حسن کے قدم جیسے زمین پر نہیں لگ رہے تھے۔ وہ خوش تھی بے پناہ خوش۔
شجاع، گڑیا کے ساتھ فائزہ آپا کی طرف گیا ہوا تھا جب کہ وہ خوشی سے بے حال قدرت اللہ صاحب کے ساتھ لان میں پھول پودوں کی کانٹ چھانٹ میں مصروف تھی۔
قدرت اللہ صاحب اس کی کمپنی میں بہت خوش رہتے تھے اور اسی چیز نے شجاع کو اس کا گرویدہ کردیا تھا۔ وہ بیوی ہونے کا سکھ و راحت نہ پہنچا کر بھی اس کی نظر میں معتبر تھی۔ کیونکہ امامہ حسن نے اس کے باپ اور بیٹی کا دل جیت لیا تھا۔ فائزہ آپا اور ان کی فیملی باہرشفٹ ہو رہی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ آج کل کبھی وہ ان کے گھر پر ہوتیں تو کبھی شجاع آفس سے سیدھا ان کی طرف چلا جاتا۔ اس وقت بھی جب وہ اپنی بیٹی کے ساتھ گھر واپس آیا تو امامہ بچوں کی طرح پائوں موڑے زمین پر بیٹھی ایک نیا پودا مٹی میں دبائے اسے پانی دے رہی تھی۔ وہ گڑیا کو گود میں لیے ٹخنوں کے بل اس کے قریب جا بیٹھا۔
’’لگ گیا پودا؟‘‘
’’جی۔‘‘ سر اٹھا کر اس کی طرف دیکھتے ہوئے اس نے مسکرا کر کہا اور مٹی میں لتھڑے دونوں ہاتھ بڑی اپنائیت سے اس کے دونوں گالوں پر پھیر دیے۔ گڑیا اس کی اس حرکت پر ہنسی تھی جب کہ قدرت اللہ صاحب مسکرا کر رخ پھیر گئے۔
’’بد تمیز۔‘‘ وہ سٹپٹا کر کھڑا ہوا تھا جب وہ منہ بسور کر بولی۔
’’بابا دیکھ لیں یہ مجھے بد تمیز کہہ رہے ہیں۔‘‘
’’تو اور کیا کہوں چڑیل؟‘‘
’’بابا۔‘‘ اب اس نے دہائی دیتے ہوئے پائوں پٹخے تو شجاع کا کان قدرت اللہ صاحب کی گرفت میں آگیا۔
’’کیوں تنگ کر رہے ہو میری بیٹی کو؟‘‘
’’میں تنگ کر رہا ہوں۔؟ بابادیکھیں اس نے سارا چہرہ خراب کردیا ہے۔ گڑیا بھی ہنس رہی ہے اسے ڈانٹیں ناں پہلے۔‘‘
’’اس نے تو پیار سے کیا ہے۔‘‘
’’آہ… یہ کس طرح کا پیار ہے؟‘‘
معصوم سی شکل بنا کر اس نے امامہ کو گھورا تو وہ اسے منہ چڑا کر ہنس دی۔ اس کا منہ اپنے دوپٹے کے پلّو سے صاف کیا۔
’’یہ لیں ہوگئی صاف اب پانی سے منہ دھو لیجیے جا کر کوئی ملنے بھی آسکتا ہے۔‘‘
’’دیکھ لوں گا تمہیں؟‘‘ گڑیا کو گود سے اتار کر اسے وارننگ دیتا وہ سیل کال آجانے کے باعث اندر کی طرف بڑھ گیا۔ جب کہ امامہ ہاتھ جھاڑتی یہ سوچ رہی تھی کہ اس سارے ڈرامے کے بعد اسے شجاع سے جو اصل بات کرنی ہے وہ ابھی کرے یا رات میں؟
شجاع اس وقت کسی ضروری کام کا کہہ کر گھر سے نکل گیا تھا۔ رات میں اس کی واپسی خاصی لیٹ ہوئی تھی۔ وہ کمرے میں آیا تو امامہ گڑیا کے ساتھ بیڈ پر نیم دراز اسی کی واپسی کا انتظار کر رہی تھی۔
’’السّلام علیکم!‘‘
’’وعلیکم السّلام! یاد آگیا آپ کو کہ گھر بھی جانا ہے؟‘‘
’’جی ہاں۔‘‘ امامہ کے لہجے میں ہلکی سی خفگی محسوس کر کے وہ چونکا تھا۔ آج صبح سے وہ اسے حیران کر رہی تھی اور شجاع گھاگ ہونے کے باوجود یہ بات سمجھ نہیں پا رہا تھا۔
’’خیریت…؟‘‘
’’جی ہاں خیریت ہی ہے موسم ٹھیک نہیں تھا مجھے ڈر لگ رہا تھا۔‘‘
’’بڑی حیران کن بات ہے یہ میرے لیے کہ آپ موسموں سے ڈرتی ہیں۔‘‘
کن اکھیوں سے اس کا خفا خفا سا چہرہ دیکھ کر وہ سیدھا ڈریسنگ روم میں گھس گیا۔ واپس آیا تو وہ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی تھی۔
’’اپنے لیے ڈر نہیں لگ رہا تھا مجھے‘ آپ کی فکر ہو رہی تھی۔ کتنے خراب حالات ہیں آج کل ملک کے پولیس والوں کے لیے تو اور بھی مشکلات ہیں۔‘‘
نظریں سامنے آئینے پر جمائے وہ بول رہی تھی۔ شجاع کو لگا وہ بے ہوش ہوجائے گا۔
’’تم نے آج مجھے خوشی سے مارنے کی کہیں قسم تو نہیں کھالی؟‘‘
بے حد سرشار وہ قریب آیا تھا امامہ مسکرادی۔
’’اللہ نہ کرے ایسا کوئی ارادہ ہو میرا‘ اصل میں آپ اتنے مشکل مشکل کیس پر کام کرتے ہیں کہ ہزار بے نیازی کے باوجود فکر رہتی ہے۔ ابھی کچھ عرصہ پہلے آپا بتا رہی تھیں کسی لڑکی کے ریپ اور مرڈر کا بہت پیچیدہ کیس نمٹا رہے تھے آپ جس میں براہِ راست کوئی وزیر یا مشیر ملوث تھا۔‘‘
’’ہوں وہ تو اب دوسرے افسر کے پاس ہے‘ تم فکر مت کرو خطروں سے کھیلنا میری بچپن کی عادت ہے۔‘‘
’’مگر میں آپ کو کھونا نہیں چاہتی شجاع۔ پلیز مجھے بتائیے اس کیس میں آپ کو کوئی خطرہ تو نہیں ہے ناں۔‘‘
’’خطرہ تو ہر کیس میں رہتا ہے پگلی‘ وہ کیس تو اب ویسے بھی پرانا ہوگیا ہے۔ تین ملزم لاک اپ میں ہیں۔ دو فرار ہیں۔ جس روز سب پکڑے گئے کوئی نہ کوئی حل نکل آئے گا اس کا بھی۔‘‘
’’لیکن آپا بتا رہی تھیں آپ اس کیس کو ذاتی لے رہے تھے؟‘‘
’’ہوں ایک بہت عزیز دوست کی بہن تھی وہ جس کا مرڈر ہوا۔ بہت پیاری لڑکی تھی‘ مگر تم بے فکر رہو‘ میرا کوئی افیئر نہیں تھا اس کے ساتھ۔‘‘
وہ مسکرا رہا تھا۔ امامہ بے چینی سے رخ پھیر گئی۔
’’اپنی وائف کے ساتھ تو تھا ناں؟‘‘
قطعی غیر دانستگی میں اس کے لبوں سے نکلا تھا۔ شجاع کی مسکراہٹ فوراً معدوم ہوگئی۔
’’مجھے بھوک لگی ہے امامہ۔‘‘
وہ ڈسٹرب تھا۔
’’ٹھیک ہے میں کھانا لاتی ہوں۔‘‘
وہ خود بھی اب مزید گفتگو کے حق میں نہیں تھی۔ یہی وجہ تھی کہ فوراً سر ہلا کر کمرے سے نکل گئی۔ جب کہ شجاع اس رات پھر اضطراب کی وادی میں اتر گیا تھا۔
///

ہَوا تھمی تھی ضرور لیکن وہ شام جیسے سسک رہی تھی
کہ زرد پتوں کو آندھیوں نے عجیب قصہ سنا دیا تھا
کہ جس کو سن کر تمام پتے سسک رہے تھے بلک رہے تھے
جانے کس سانحے کے غم میں شجر جڑوں سے اکھڑ چکے تھے
بہت تلاشا تھا ہم نے تم کو ہر ایک رستہ‘ ہر ایک گھاٹی
ہر ایک پربت‘ ہر ایک وادی
کہیں سے تیری خبر نہ آئی
تو یہ کہ ہم نے دل کو ٹالا
ہَوا تھمے گی تو دیکھ لیں گے ہم اس کے رستوں کو ڈھونڈ لیں گے
مگر ہماری یہ خوش خیالی جو ہم کو برباد کر گئی تھی
ہَوا تھمی تھی ضرور لیکن بڑی ہی مدت گزر چکی تھی
ہمارے بالوں کے جگنوئوں میں سفید چاندی اتر چکی تھی
فلک پر تارے نہیں رہے تھے
گلاب پیارے نہیں رہے تھے
وہ جن کے دم سے تھی دل کی بستی
وہ لوگ ہمارے نہیں رہے تھے
یہ المیہ سب سے بالاتر تھا
کہ ہم تمہارے نہیں رہے تھے
کہ تم ہمارے نہیں رہے تھے
ہَوا تھمی تھی ضرور لیکن بڑی ہی مدت گزر چکی تھی!

///
ساکت نگاہوں سے علیزہ کو دیکھتا وہ جیسے خود بھی پتھر ہو رہا تھا۔ علیزہ اس کی نگاہوں سے گھبرا کر فوراً رخ پھیر گئی تو وہ ٹھہرے ہوئے لہجے میں بولا۔
’’بس یہی اصلیت تھی تمہاری میں سمجھا تھا تم دوسری لڑکیوں سے مختلف ہو‘ تم نے عورت کی بے حیائی اور پاکیزگی پر جو کہا تھا مجھے اس نے متاثر کیا تھا مگر تم نے بھی میرا اعتبار توڑ دیا۔ میری شرافت‘ میری سادگی کا کتنا غلط فائدہ اٹھایا تم نے۔ میں چاہوں تو کیا نہیں کرسکتا تمہارے ساتھ‘ جب تک تمہارا باپ اور بھائی یہاں پہنچیں گے میں تمہارے وجود کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے جہاں چاہوں پھینک سکتا ہوں‘ مگر میں ایسا نہیں کروں گا کیونکہ یہ انسانیت نہیں حیوانیت ہے۔ محض طاقت کے بل بوتے پر اپنے سے کمزور کو مٹا دینا۔ کتنا کبیرہ گناہ اور بربادی ہے۔ کاش میں تمہیں بتا سکتا تم نے پیٹھ سے وار کیا ہے علیزہ ملک! میرے مضبوط کردار کی دھجیاں بکھیری ہیں تم نے‘ لہٰذا تمہارا قصور میں معاف نہیں کروں گا۔ تمہیں اپنے فریب اورگھٹیا شیطانی منصوبے کی سزا بھگتنا پڑے گی۔‘‘
شدید ضبط اور غصے سے اس کا چہرہ سرخ ہو گیا تھا۔
علیزہ نے چہرے پر ناگواری کے ساتھ اسے دیکھا۔
’’تم میرے باپ اور بھائیوں کی طاقت سے واقف نہیں ہو ایان احمد! زمین کی سات تہوں میں بھی چلے جائو تو یہ لوگ تمہیں ڈھونڈ کر کتے کی موت مار ڈالیں گے۔ ان سے بچ بھی گئے تو میرا منگیتر سانول شاہ نہیں چھوڑے گا تمہیں۔ کہاں جائو گے بھاگ کر اور کیا کر سکتے ہو تم میرے ساتھ؟ بے وقوف عاقبت نااندیش مرد‘ علیزہ ملک کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے تم، کیونکہ میں عورت کا وہ روپ ہوں جو زخمی ہونے کے بعد ناگن سے زیادہ خطرناک ہوجاتی ہے۔ تم میرا اصل جان گئے تھے۔ لہٰذا تمہیں سبق سکھانے کے لیے یہ سب کھیل ضروری تھا۔ کہو کیسی رہی؟‘‘
وہ لڑکی تھی‘ کمزور صنف تھی‘ مگر اس وقت اس کی آنکھوں میں کوئی خوف نہیں تھا۔ یوں لگتا تھا جیسے وہ زندگی کے ہر بھیانک طوفان سے لڑ چکی ہو اور اب اسے کسی پتھر، کسی سنگ باری سے کوئی خوف محسوس نہ ہوتا ہو۔
ایان نے بے حد دکھ سے اس کی طرف دیکھا۔
’’عورت حیا اور ایمان کا دوسرا نام ہے‘ مگر تم میں نہ حیا رہی ہے نہ ایمان۔ تم اب کسی کی منزل کا خواب نہیں رہی ہو علیزہ ملک۔ گزر گاہ بن گئی ہو۔ ایسی راہ جس پر کوئی بھی آئے اور روند کر چلا جائے۔ یہ خدا کی طرف سے سزا ہے تمہارے لیے۔ مگر یاد رکھنا میرا قرض تم پر واجب رہے گا۔ جب بھی حالات و تقدیر نے ساتھ دیا۔ میں تمہیں تمہاری اس شرارت پر سبق سکھانے ضرور آئوں گا۔‘‘
خوب صورت آنکھوں میں عجیب سی ضد لیے وہ الٹے قدموں واپس پلٹا اور پھر بغیر کسی رکاوٹ کے لاکڈ بیرونی گیٹ کو مہارت سے پھلانگتا اس کی نظروں سے اوجھل ہوگیا۔ علیزہ اپنے منصوبے کی اتنی بڑی ناکامی پر خون کے گھونٹ پی کر رہ گئی۔ وہ پہلا مرد تھا جو اس کے وار سے بچ نکلا تھا۔ ادھر گائوں سید والا میں گویا اک بھونچال آگیا تھا۔
ملکوں کی عزت پر حویلی کے ایک معمولی کمی کمین کا ہاتھ ڈالنا کوئی معمولی بات نہیں تھی۔ ایسے میں بی اماں کا گھر بھی جیسے اک آگ کی لپیٹ میں آگیا تھا۔ بی اماں کی ہٹلر بہو جو جانے ان کا وجود کیسے برداشت کیے ہوئے تھی۔ گوری اور ایان کی اپنے گھر آمد و رفت پر شدید نکتہ چین بی اماں پر الٹ پڑی۔
وہ بی اماں کی کسی نیکی کے لیے اپنے گھر اور بچوں کو کسی بھی مشکل کا شکار ہوتا نہیں دیکھ سکتی تھی یہی وجہ تھی کہ گوری کے لیے وہ ٹھکانہ بھی چھن گیا۔ برستی آنکھوں سے بی اماں کو مل کر گھر سے نکلتے ہوئے وہ خود بھی یہ بات جانتی تھی کہ اگر ملکوں کو ذرا سی بھی اس بات کی بھنک پڑ گئی کہ ایان کا ان کے گھر آنا جانا ہے۔ وہ تو اس گھر کو آگ لگوا دیں گے۔ گوری کو چونکہ ایان ہی لایا تھا لہٰذااس سے پہلے کہ وہ بھی ایسا کوئی قدم اٹھاتی۔ اس سے نجات حاصل کرلینا ہی بہو بیگم کو اپنی عافیت لگ رہا تھا۔ ہَوا ساکن تھی اور غروب ہوتے سورج کی نارنجی کرنوں نے پیڑوں پر پھدکتی چڑیوں میں عجیب سی ہلچل مچا دی تھی۔
گائوں سے شہر جانے والے کچے رستے کی پگڈنڈی پر بیٹھی وہ اپنے آنسو ضبط کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔
کیسا نصیب پایا تھا اس نے کہ کوئی ٹھکانا راس نہ آرہا تھا، نہ رشتہ۔دربدری ہی دربدری جیسے اس کے نصیب میں لکھ دی گئی تھی۔ اس سے پہلے کہ سورج مکمل غروب ہوجاتا اس نے کب سے پلو میں بندھا ایک مڑا تڑا سا کارڈ نکالا اور اس پر ایک تھکی تھکی سی نگاہ ڈالتی دوبارہ اسی راستے پر گامزن ہوگئی جہاں سے کچھ عرصہ پہلے ایان ملک اسے بی اماں کے گھر لایا تھا۔
///
’’کیا نام ہے تمہارا؟‘‘
’’جی… گوری…!‘‘
’’ نام تو بہت خوب صورت ہے‘ خیر کہاں سے آئی ہو؟‘‘
’’جی گائوں سید والا سے۔‘‘
’’پیدل آئی ہو؟‘‘
’’نہیں جی‘ دو بسیں بدل کر آئی ہوں۔‘‘
’’زاور حسین کو کیسے جانتی ہو؟‘‘
’’وہ جی وہ دوست تھے میرے بھائی کے۔ کچھ روز ہمارے گھر رہے تھے انہوں نے ہی بھائی کو اپنا پتا دے کر کہا تھا کہ کسی مدد کی ضرورت پڑے تو…!‘‘
ایک دم اس کا لہجہ بھاری ہوا تھا۔ بریرہ نے اس کے سادہ سے خوب صورت سراپا سے نگاہ ہٹالی۔
’’وہ اب اس دنیا میں نہیں ہے۔‘‘
گوری کو لگا بریرہ کے اس ایک مختصر سے جملے نے اس کے قدموں تلے سے زمین کھینچ لی ہو۔
’’کیا؟ وہ… وہ تو اچھے بھلے تھے جوان تھے… پھر…!‘‘
’’موت صرف بوڑھوں کو نہیں آتی‘ کبھی کبھی کچھ ایسے لوگ بھی لقمہ بن جاتے ہیں اس کا جن کی ابھی زندگی کو بہت ضرورت ہوتی ہے۔‘‘
’’مم… مگر… میں تو یہاں بڑی آس و امید کے ساتھ آئی تھی۔‘‘
چٹانوں سے مضبوط اس لڑکی کو حالات نے کتنا کمزور کر ڈالا تھا۔ بریرہ نے ایک تھکی تھکی سی نظر اس پر ڈالی پھر رخ پھیر لیا۔
’’اگر تم پناہ کی تلاش میں ہو تو یہاں اس گھر میں رہ سکتی ہو۔ میں یہاں کبھی کبھار ہی آتی ہوں۔ میری مما اور باقی فیملی یہاں سے باہر شفٹ ہوگئے ہیں۔ تم اس گھر کی دیکھ بھال کر سکتی ہو۔ ملازمین پر نظر رکھ سکتی ہو۔ بہر حال جس شخص کا حوالہ لے کر تم یہاں آئی ہو۔ وہ میرا بھی بھائی تھا۔ کچھ نہ کچھ تعلق تو دل کا تھا اس سے۔‘‘
اس بار گوری کو لگا جیسے اسے زندگی کی نوید سنا دی گئی ہو۔ اس کا سر اپنے مالک کے حضور شکرانے کے لیے جھک گیا۔ اس کی دعائیں رائگاں نہیں گئی تھیں۔ کائنات کے خالق و مالک نے اس کے لیے پھر اپنی دنیا میں ٹھکانے کا بندوبست کردیا تھا۔ لہٰذا وہ اس کے کرم کا جتنا شکر ادا کرتی کم تھا۔
///
’’مجھے شجاع حسن کہتے ہیں۔‘‘
کمرے میں داخل ہوتے ہی اس نے مصافحہ کیا تھا۔ عباد اس سے ہاتھ ملاتا اٹھ کھڑا ہوا۔
’’اور میں عباد ہوں‘ عباد انڈسٹری کا سپر وائزر۔ یہ شاہ زر ہے میرا دوست‘ اسی کے بیٹے کی گمشدگی کی رپورٹ درج کروائی تھی ہم نے‘ مگر تین دن گزرنے کے باوجود کوئی پیش رفت دکھائی نہیں دے رہی اسی لیے آپ کو زحمت دینی پڑی۔‘‘
’’مجھے افسوس ہے اگر ایسا ہے تو‘ ان شاء اللہ میں خود اپنی نگرانی میں یہ کیس کسی ذمہ دار افسر کے سپرد کرتا ہوں۔ امید ہے بہت جلد آپ کے بیٹے کا سراغ مل جائے گا۔‘‘
مکمل یونیفارم میں تیار وہ بے حد شاندار دکھائی دے رہا تھا۔ عباد ایک نظر اپنی کلائی پر بندھی گھڑی پر ڈالتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا۔
’’بہت شکریہ شجاع صاحب! اگر میرا بیٹا مجھے مل جاتا ہے تو میں آپ کا بے حد ممنون رہوں گا۔‘‘ شاہ زر نے اس بار ممنونیت سے کہا تھا۔
شجاع بھی ا س کے ساتھ ہی کھڑا ہوا۔
’’ان شاء اللہ میں پوری کوشش کروں گا۔ آپ اللہ سے اچھی امید رکھیے۔‘‘
وہ گھر ہی تھا۔ عباد، شاہ زر کے ساتھ مزید وقت ضائع کیے بغیر۔ شجاع کی چائے کی آفر سے معذرت کرتا اس کے گھر سے نکل آیا۔
’’اب گھر چلو گے یا اسپتال۔‘‘
’’اسپتال لے چلو مجھے انوشہ کو گھر لانا ہے۔ وہ وہاں آرام محسوس نہیں کر رہی۔‘‘
’’مگر ابھی اس کی حالت…!‘‘
’’معلوم ہے مجھے اس کی حالت اچھی نہیں ہے۔ مگر میرے لیے اب اس کی کسی بھی خواہش کو رد کرنا ممکن نہیں۔‘‘
شاہ زر کے لہجے میں ٹھہرائو تھا۔ عباد لب بھینچتا گاڑی اسپتال کی طرف جاتے راستے کی طرف موڑ گیا۔
’’بریرہ بھابی کو انوشہ کی آمد اچھی نہیں لگے گی شاہ‘ تم اپنے گناہ ثواب کے چکر میں ان کے ساتھ بہت زیادتی کر رہے ہو۔‘‘
’’معلوم ہے مجھے۔ انوشہ، بریرہ کے ساتھ نہیں رہے گی۔‘‘
تو پھر…؟‘‘
’’پھر…! پھر کیا نزہت آنٹی اور جمال انکل اب یہیں رہیں گے۔ اس کے ساتھ‘ گھر میں نے دیکھ لیا ہے۔‘‘
’’نزہت آنٹی کا جو گھر تھا کیا وہ انہوں نے فروخت کردیا؟‘‘
’’ہاں وہ سمجھتی تھیں‘ شاید وہ اب کبھی پاکستان میں نہیں رہیں گی۔‘‘
’’اور انوشہ نے گھر آنے کے بعد پھر اپنے بچے کا تقاضا کیا تو…؟‘‘
’’وہ اب کوئی بھی تقاضا کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہی ہے عباد۔ نزہت آنٹی کے آنسوئوں نے سارے بھید کھول دیے ہیں اس پر۔ اب اسے دیکھو گے تو کسی ساکن جھیل کا گمان ہوگا۔‘‘
شاہ زر کے لہجے میں ٹھہرائو جب کہ آنکھوں میں اضطراب تھا۔ عباد نے پھر اس کے بعد کوئی سوال نہیں پوچھا جس وقت وہ دونوں انوشہ کے کمرے میں داخل ہوئے وہ اپنے زخموں سے بے نیاز بیڈ پر بیٹھی۔ عجیب سرد نگاہوں سے اپنی ہتھیلیوں کو گھور رہی تھی۔
’’انوشہ!‘‘ شاہ زر کی پکار پر اس نے چونکتے ہوئے سر اٹھایا تھا اور پھر خاموشی سے اسے دیکھنے لگی تھی۔
’’گھر چلیں؟‘‘ وہ آگے بڑھا تھا۔ نزہت بیگم جو انوشہ کے قریب بیٹھی تھیں رو پڑیں۔ انوشہ نے اگلے ہی پل اپنا ہاتھ شاہ زر کی طرف بڑھا دیا تھا۔
وہ لڑکی جو نفرتوں سے گندھی تھی۔ اس وقت کسی پتھر کے مجسمے سے کم دکھائی نہیں دے رہی تھی۔ عباد نے پہلی بار انوشہ رحمن کے لیے اپنے دل میں کوئی ہم دردی محسوس کی تھی۔
///
زمینوں پر کام ہو رہا تھا اور وہ ملازمین کی نگرانی کر رہا تھا۔ جب اسے انزلہ شاہ کا پیغام ملا اور وہ جیسے حیران رہ گیا۔ کیا یہ ممکن تھا کہ انزلہ شاہ اسے خود ملنے کے لیے بلاتی۔ وہ خوش ہوا تھا مگر پھر اگلے ہی پل اس کا دماغ گھوم گیا۔
’’جا کر کہہ دو اسے میں فارغ نہیں ہوں۔‘‘
پیغامبر اس کا جواب لے کر پلٹ گیا تھا مگر اگلے تیس منٹ میں وہ خود اس کے سامنے کھڑی تھی۔
’’کیوں آئی ہو یہاں؟‘‘
وہ اسے دیکھ کر جہاں حیران تھا وہیں اسے غصہ بھی آیا تھا۔ اسے قطعی گمان نہیں تھا کہ وہ اس سے ملنے کے لیے یوں وہاں کھیتوں میں بھی آسکتی ہے۔ تاہم انزلہ اس کی خفگی پر مسکرائی تھی۔
’’مجھے تم سے ملنا تھا سانول شاہ! کچھ بات کرنی تھی تم سے۔‘‘
’’ایسی کیا افتاد آ پڑی جو یہاں چلی آئیں۔‘‘
اس سے غصہ ضبط نہیں ہو رہا تھا۔ انزلہ نے لب سمیٹ لیے۔
’’افتاد کا ذکر ہی کرنے آئی ہوں۔ آپ فارغ ہوں گے تو ہی سنا سکوں گی ناں۔‘‘
آج اس کا انداز جدا تھا۔ وہ مشکوک نگاہوں سے اسے دیکھتا ڈیرے کی طرف چلا آیا۔ انزلہ نے بھی اس کی پیش قدمی کی تھی۔
’’کہو کیا مسئلہ ہے؟‘‘
’’بہت سے مسئلے ہیں اور بہت سوچنے کے بعد مجھے یہ بات سمجھ آئی ہے سانول کہ میں کچھ بھی کرلوں مگر یہاں اس گائوں میں تم سے جیت نہیں سکتی۔ اس لیے میں ہر اس بات کی معافی مانگنے آئی ہوں تم سے، جس نے تمہیں مشتعل کیا۔ تب مجھے سمجھ لینا چاہیے تھا کہ تمہاری طاقت اور اختیار مجھ سے بڑھ کر ہے۔‘‘
’’اس سارے ڈرامے کا مقصد؟‘‘ وہ ہوشیار تھا۔ انزلہ بے بسی سے اسے دیکھ کر رہ گئی۔ اس نے اسے بات پوری کرنے کا موقع نہیں دیا تھا۔
’’تمہیں لگتا ہے کوئی تم سے ڈراما کر سکتا ہے؟‘‘
’’تم کرسکتی ہو کیونکہ تمہیں میں بہت اچھی طرح سے جانتا ہوں۔‘‘
’’چلو ٹھیک ہے اگر ایسی بات ہے تو پھر میں چلتی ہوں۔ خدا حافظ۔‘‘
اسے ٹریپ کرنے کی آخری کوشش کے طور پر وہ کھڑی ہوئی تھی۔
سانول خاموشی سے اسے سمجھنے کی کوشش کرتا‘ دونوں بازو سینے پر باندھے اسے دیکھتا رہا۔
///

درختِ جاں پر عذاب رُت تھی‘ نہ برگ جاگے نہ پھول آئے
بہار وادی سے جتنے پنچھی ادھر کو آئے ملول آئے
وہ ساری خوشیاں جو اس نے چاہیں‘ اٹھا کے جھولی میں اپنی رکھ لیں
ہمارے حصے میں عذر آئے‘ اصول آئے…!

دن خاصا ڈھل چکا تھا۔
اوپر نیلے آسمان پر اُڑتے پرندے اب جیسے تھک ہار کر اپنے ٹھکانوں کو واپس پلٹ رہے تھے۔ فضا میں حبس بڑھ گیا تھا۔ اونچے اونچے درختوں کے سر سبز پتوں نے حرکت کرنا بند کردی تھی۔ دور افق کے اس پار غروب ہوتا سورج اب اپنی نارنجی کرنیں خاصی تیزی کے ساتھ سمیٹ رہا تھا۔ قریب ہی کچے گھروں کے باہر موجود کچھ دیہاتی عورتیں دیواروں پر اُپلے لگا رہی تھیں۔
انزلہ شاہ نے تھکی تھکی سی نظر اٹھا کر دیکھا۔ وہاں سامنے شہر کو جاتے کچے راستے پر اب دور دور تک کسی سانول شاہ کا کہیں نام و نشان نہیں تھا۔ وہ وہیں بیٹھ گئی۔ یک لخت ہی اس کے اندر جیسے تھکن اُتر آئی تھی۔ جانے یوں اس وقت اسے بے ساختہ یونیورسٹی کے وہ دن یاد آئے تھے جب سانول شاہ خواب بن کر اس کی آنکھوں میں اُترا تھا۔ عورت خواہ کتنی بھی سمجھ دار‘ سوشل‘ اعلیٰ عہدے پر فائز ہوجائے محبت کے وار سے نہیں بچ سکتی۔ وہ بھی نہیں بچ سکی تھی۔
وہ اوائل سردیوں کے دن تھے۔
انزلہ اپنی دوستوں کے ساتھ‘ یونیورسٹی لان کے ایک گوشے میں بیٹھی خوش گپیوں میں مصروف تھی۔ جب سانول شاہ اور اس کے شرارتی دوستوں کا ٹولہ ان سے کچھ ہی فاصلے پر آکر بیٹھ گیا۔
’’واہ‘ انزلہ! دیکھ بلیک سوٹ میں کتنا شاندار لگ رہا ہے تیرا شہزادہ‘ ہائے کتنی خوش نصیب ہے تو کہ سانول جیسا شاندار بندہ تجھ پر مرتا ہے۔ کاش مجھ پر مرجاتا کم بخت تو میں جان وار دیتی اس پر۔‘‘ اس کی عزیز دوست نے ہنس کر اس کے کان میں سرگوشی کی تھی جب وہ غصہ ہوتے ہوئے بولی۔
’’شرم و حیا کرلو کچھ‘ وہ اِدھر ہی دیکھ رہا ہے۔ تمہارا کچھ لگتا…!‘‘
’’تو میں کیا کروں وہ کہتے ہیں ناں ’’جس نے کی شرم اس کے پھوٹے کرم‘‘ اور سانول شاہ کے تجھ پر مرمٹنے کا راز تو ساری یونیورسٹی جانتی ہے اب ایویں تو میران سے جھگڑا نہیں کیا تھا اس نے‘ دیکھ کتنے مزے سے مسکرا رہا ہے۔‘‘
’’تم نہیں سدھرنے والی کبھی بھی‘ چلو اٹھو یہاں سے نکمی نہ ہو تو۔‘‘ وہ اٹھ کھڑی ہوئی تھی اور ادھر سانول کی آنکھوں میں جیسے بے چینی بڑھ گئی۔
’’ہائے صدقے جائوں‘ یہاں لیلیٰ پَروں پر پانی پڑنے نہیں دے رہی اور وہاں قیس کو دیکھو! آنکھیں ہی سیراب نہیں ہو پا رہی ہیں جناب کی۔‘‘
اس کی دوست زوبی ہنسی اور وہ اس لمحے اسے محض گھور کر رہ گئی تھی۔ جانے اسے اس شخص سے چڑ ایسی کیوں تھی۔ ادھر وہ سامنے سے آتا دکھائی دیتا اور ادھر وہ فوراً راستہ بدل لیتی۔ اس روز وہ لائبریری میں اس سے ٹکرا گیا تھا۔
’’راستہ چھوڑیں میرا۔‘‘
انزلہ جو لائبریری سے نکل رہی تھی اسے دہلیز پر براجمان پا کر خفا ہوئے بغیر نہ رہ سکی۔ جواب میں وہ آسانی سے اس کے سامنے سے ہٹ گیا۔
’’لڑکیوں کو اتنا غصہ زیب نہیں دیتا انزلہ شاہؔ! محبت کی مٹی سے گندھا ہوتا ہے عورت کا وجود‘ سراپا محبت ہی ہونا چاہیے اسے۔‘‘
’’ایسی فضول نصیحتوں کی مجھے ضرورت نہیں ہے۔‘‘ تلخی سے بولی تو سانول مسکرا دیا۔
’’آج نہ سہی مگر زندگی کے کسی نہ کسی موڑ پر یہ نصیحت بہت کام آئے گی آپ کو۔ خیر ایک گزارش کرنی تھی آپ سے۔‘‘ وہ اب واپس پلٹ کر اس کے ساتھ ساتھ چل رہا تھا۔
’’فرمائیے۔‘‘ انزلہ کا لہجہ نا چاہنے کہ باوجود نا خوش گوار ہوگیا۔
’’فرمانا کیا ہے بس گزارش کرنی ہے کہ خود کو اس میران شاہ سے ذرا دور رکھا کریں۔ مجھے آپ کا اس سے بے تکلف ہونا پسند نہیں ہے۔‘‘
’’تو میں کیا کروں‘ وہ میرا بچپن کا دوست ہے۔‘‘
’’بچپن اور جوانی میں بہت فرق ہوتا ہے۔ اب بچی نہیں ہیں آپ کہ لڑکوں کے ساتھ کھیلیں۔‘‘
’’آپ مجھ پر منسٹر نہیں لگے کہ میں وہی کروں جو آپ کہیں۔ یہ خالص میرا ذاتی معاملہ ہے۔‘‘
’’تو ٹھیک ہے‘ میری اور اس کی زندگی میں اگر کچھ غلط ہوا تو اس کی ذمہ دار آپ ہوں گی۔‘‘ ایک بار پھر وہ اسے تنبیہہ کر رہا تھا۔ انزلہ الجھ کر رہ گئی۔
چند ہی روز کے بعد وہ واقعہ پیش آگیا تھا کہ جب اس کے دل میں سانول شاہ کے لیے موجود کدورت ختم ہوگئی تھی۔
///
کہا جاتا ہے کسی کے مر جانے سے کوئی ان کے پیچھے مر نہیں جاتا‘ کائنات کا نظام رک نہیں جاتا مگر… کہنے والوں نے یہ کبھی نہیں کہا کہ کچھ پیارے رشتوں سے دائمی جدائی کے بعد زندگی اپنا مفہوم یکسر بدل لیتی ہے۔ اللہ ربّ العزت کی عطا کی ہوئی سانس مٹی کے وجود میں جاری ضرور رہتی ہے مگر پھر زندگی جی نہیں جاتی‘ محض ’’گزاری‘‘ جاتی ہے۔ اپنا بوجھ اپنے کندھوں پر لاد کر چلتی پھرتی زندہ لاشیں اپنا قبرستان‘ ویران اور اُجاڑ آنکھوں میں ساتھ لیے پھرتی ہیں۔ خاک اوڑھ کے سونا آسان ہے مگر اذیت ساتھ لے کر چلنا بہت جاں گسل ہوتا ہے۔
انوشہ رحمن کے لیے بھی حالات ایسے ہی ہوگئے تھے۔ اپنی چوبیس سالہ زندگی میں اس نے کبھی کوئی ایک لمحہ بھی ہنس کر نہیں گزارا تھا۔ بچپن میں ہی والدین کی علیحدگی کے بعد ان دونوں بہن بھائیوں کی تقسیم بھی ہوگئی تھی۔ زاور بڑی خالہ کے پاس تو وہ چھوٹی خالہ کے پاس ٹھہرا دی گئی تھی۔ کیسے کیسے دن نہیں دیکھے تھے اس نے وہاں‘ سمندر پار گھر بسا کر بیٹھی ماں سے تو اس کی خالہ اکثر فون پر بھی اس کی بات نہیں کرواتی تھیں۔ جیسے جیسے عمر بڑھی اسے خالہ کے ساتھ ساتھ خالو سے بھی خوف آنے لگا جو اچانک اس پر خاص توجہ دینے لگے تھے۔ ایسے میں اس کے لیے اپنا آپ بچا کر اس پنجرے میں رہنا کتنا مشکل ہوگیا تھا۔ جس میں اس کی ماں اسے ڈال کر بے فکر ہوگئی تھی۔
اسکول سے کالج اور وہاں سے یونیورسٹی تک‘ جن مشکلات اور رکاوٹوں کو عبور کرتی وہ پہنچی تھی یہ بھی محض اس کا دل ہی جانتا تھا۔ وگرنہ کتنی خواہش تھی اس کی کہ اس کا بھی اپنا گھر ہو۔ جس میں وہ اپنے والدین اور بہن بھائیوں کے ساتھ بے فکری کی زندگی بسر کرے۔ دوسری تمام لڑکیوں کی طرح وہ بھی خوب صورت خواب دیکھے۔ نت نئی فرمائشیں کرے۔ اپنی ماں کی گود میں سر رکھ کر ان سے اپنی دوستوں اور یونیورسٹی کی ڈھیروں باتیں کرے۔ اپنے باپ کے کندھے سے سر ٹکا کر ان سے اپنی جائز ناجائز ضدیں پوری کروائے مگر…!

ہر خواب کی قسمت میں تعبیر نہیں ہوتی۔
ہر خواہش کے حصے میں تکمیل نہیں ہوتی۔

اس نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ وہ ایک عذاب سے نکل کر دوسرے عذاب میں جا پڑے گی۔ یونیورسٹی میں شاہ زر کا بیر اور حسد اس کی سمجھ سے باہر تھا۔ وہ ہر ممکن طور پر اس سے بچنے کی کوشش کرتی تھی۔ ان دنوں وہ یہی سوچتی تھی کہ وہ سر زمان کی زندگی کا حصہ بن کر ہر دکھ ہر مشکل سے نجات پالے گی مگر ایسا نہیں ہوا تھا۔
سر زمان کی زندگی کا حصہ بننے کے بجائے وہ اپنی سوتیلی ماں کے بھانجے کی بھینٹ چڑھ کر ہر رشتے سے محروم ہوتی چلی گئی تھی۔ نہ عزت رہی تھی نہ خود داری‘ عارضی سہارا ثابت ہونے والے لوگ بھی نہیں رہے تھے۔ چن چن کر حالات نے اس کے سارے رشتوں کو نگل لیا تھا۔ پورا ایک ہفتہ اسپتال میں بستر پر چت پڑے رہ کر بار بار اسے صرف ایک ہی رشتے کا خیال آیا تھا اور وہ رشتہ اس بچے کا تھا جس نے قدرت کے جائز طریقے سے اس کے بطن سے جنم لیا تھا۔
اسے اپنے اور اپنے بچے کے نصیب میں کوئی خاص فرق محسوس نہیں ہو رہا تھا۔ وہ بھی اپنے بیٹے کے ساتھ وہی کر رہی تھی جو اس کی ماں نے اس کے ساتھ کیا تھا۔ زندگی میں پہلی بار اسے اپنے کردار پر شرمندگی محسوس ہورہی تھی۔
دروازہ آہستہ سے ناک ہوا تھا اس نے چونک کر سر اٹھایا تو شاہ زر آفندی‘ تھکا تھکا سا اندر چلا آیا۔ انوشہ نے سرد نگاہوں سے اسے دیکھا۔
’’اب کیسی طبیعت ہے انوشہ؟‘‘
وہ شاید ان نگاہوں کا مفہوم جان گیا تھا۔ تبھی نرمی سے پوچھا تو انوشہ نے سر جھکا لیا۔
’’مجھے کیا ہونا ہے؟ میں تو زندگی کے سب سے بھیانک باب کی ہیروئن ہوں شاہ زر آفندی اور تم نے پڑھا ہوگا۔ کسی بھی کردار میں ہیروئن کبھی نہیں مرتی‘ چاہے اس کا ریپ ہوجائے‘ چاہے اس کی شادی ایک نفسیاتی مریض شخص کے ساتھ ہوجائے‘ چاہے وہ صبح و شام اس شخص کے ہاتھوں اُدھڑتی رہے‘ چاہے وہ شخص بھی مرجائے‘ چاہے ایک ایک کر کے اس کے سارے رشتے مرجائیں‘ چاہے دنیا اس پر اور اس کے کردار پر تھو تھو کرے… وہ کبھی نہیں مرتی‘ اپنا قبرستان اپنے ساتھ لیے ڈھیٹ بنی‘ زندہ لاش کی مانند جیتی ہی چلی جاتی ہے۔ زندگی‘ تقدیر اور موت کوئی بھی رحم نہیں کھاتا اس پر۔‘‘
کتنا درد تھا اس کے لہجے میں۔ وہ تڑپ کر رہ گیا۔
’’تم نے… تم نے صرف ایک غلط فہمی کی آگ میں صرف ایک رشتے کے لیے میرے سارے رشتے مجھ سے چھین کر بھلا دیے۔ کنگلا کر ڈالا تم نے مجھے‘ کیا رہنے دیا تم نے میرے پاس‘ کچھ بھی تو نہیں۔‘‘
وہ دل میں شگاف ڈال رہی تھی۔ شاہ زر کی آنکھیں ضبط کی کوشش میں جل اٹھیں۔
’’میرے پاس بھی تو کچھ نہیں رہا انوشہ! میں نے بھی تو اپنا سب کچھ گنوا دیا۔ سب کچھ…‘‘
’’کس کے لیے؟ کیا میرے لیے؟‘‘ اچانک وہ جذباتی ہوئی۔
’’میرے لیے کیا کیا تم نے‘ بہت بلند و بالا دعوے کرتے ہو محبت کے‘ ہمدردی کے‘ مگر کچھ کر نہیں سکتے۔ دنیا میں اتنے لوگ مر رہے ہیں۔ اتنے حادثات ہو رہے ہیں۔ تمہارے ساتھ کوئی حادثہ کیوں نہیں ہوتا۔ تم کیوں نہیں مرجاتے کسی کی جگہ… تم سے تو عداوت نہیں ہے موت کو‘ پھر تمہیں موت کیوں نہیں آتی‘ خدا کا واسطہ ہے شاہ زر آفندی! مرجائو۔ جیسے بھی ممکن ہو مرجائو… خدارا۔‘‘
کتنی جذباتی ہوگئی تھی وہ‘ شاہ زر کو لگا وہ جیسے سانس بھی نہیں لے سکے گا۔
’’اور کچھ نہیں‘ تم تو زندگی کے بھیانک باب کے ہیرو نہیں ہو‘ تم تو مر سکتے ہو‘ جب چاہو گلے لگا سکتے ہو موت کو۔‘‘
وہ اب رو رہی تھی۔ شاہ زر سکتے کی کیفیت میں کھڑا اسے دیکھتا رہا۔ جو مطالبہ وہ اس سے کر رہی تھی کیا وہ اس کے اختیار میں تھا؟ اس سے پہلے کہ وہ مزید جذباتی ہوکر اسے کمرے سے باہر دھکیل دیتی وہ اسی حال میں پلٹ گیا۔ مگر یہ کیا…! وہاں انوشہ رحمن کے کمرے کی دہلیز پر اس وقت بریرہ کھڑی تھی۔ لب بھینچے بالکل خاموش‘ وہ آنسو چھپاتا جانے کسی تذلیل کے زیر اثر فوراً اس کی دوسری طرف سے نکل گیا۔ جب کہ وہ اعتماد سے چلتی عین انوشہ رحمن کے قریب آکھڑی ہوئی تھی۔
’’بس نکل گیا دل کا غبار‘ یا ابھی اور بھی کچھ کہنا باقی ہے؟‘‘
وہ دونوں بازو سینے پر باندھے کھڑی تھی۔ انوشہ نا سمجھی کے انداز میں اسے دیکھے گئی۔
’’تم خود کو سمجھتی کیا ہو انوشہ رحمن! یہی کہ تم دنیا کی سب سے زیادہ مظلوم لڑکی ہو۔ جو کچھ تمہارے ساتھ ہوا وہ کسی کے ساتھ نہیں ہوا؟ مجھے بتائو‘ یہاں اس ملک میں کتنی لڑکیاں انتقام کی بھینٹ نہیں چڑھتیں۔ بنا کسی معمولی سے قصور کے کیا کیا نہیں ہوتا ان کے ساتھ؟ ایک پل ایک لمحے میں موت کی بھینٹ چڑھا دیا جاتا ہے انہیں اور وہ آہ تک نہیں کر پاتیں۔ پھر تم کس ستم کا ڈھنڈورا پیٹ رہی ہو؟‘‘
وہ اشتعال کا شکار تھی۔ انوشہ دم بخود سی اسے دیکھتی رہی۔
’’ایک ریپ ہوا تمہارا اور تم نے سارا آسمان سر پر اٹھالیا۔ یہاں ہزاروں لڑکیوں کے روز جسم بھی بکتے ہیں اور وہ ماری بھی جاتی ہیں مگر کسی کو ذرا سا احساس نہیں ہوتا ان کا‘ نہ کوئی توجہ دیتا ہے ان پر۔ پھر تم یہ سب ڈراما کیوں کر رہی ہو‘ کیا اس نے کچھ نہیں کھویا؟ کیا اس نے اذیت نہیں سمیٹی؟ کیا اس نے وہ جہاز گرایا؟ جس میں تمہاری ماں اور بھائی مرا‘ قدرت کا فیصلہ تھا ناں یہ۔ پھر اسے سولی پر کیوں لٹکا رکھا ہے تم نے؟ کب تک زندگی کو یونہی گھسیٹتی رہو گی تم؟ اسے مرنے کا مشورہ دیتی ہو‘ خود کہیں دفعان کیوں نہیں ہوجاتیں‘ کیوں میری زندگی اور خوشیوں پر اپنی نحوست بکھیر رکھی ہے تم نے؟ کیوں سکون سے جینے نہیں دیتی ہو تم مجھے… کیوں؟‘‘
اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ انوشہ رحمن کا چہرہ نوچ لے‘ جمال صاحب اور نزہت بیگم اس کی تیز چنگھاڑ پر گھبرا کر اندر آئے تھے جب وہ ان پر برس پڑی۔
’’اور آپ لوگ… آپ لوگوں کو تو شرم آنی چاہیے۔ ایسی گھٹیا‘ غلیظ لڑکی کو سینے سے لگائے بیٹھے ہیں۔ میری مانیے‘ ایک کام کیجیے‘ اسے فلم انڈسٹری میں چھوڑ آئیے۔ خوش بھی رہے گی اور چار پیسے بھی کما لے گی۔ کم از کم میری جان تو چھوٹے گی اس منحوس سے۔‘‘ زہر ہی زہر تھا اس کے لہجے میں‘ انوشہ کو لگا وہ ایک بار پھر کنویں میں دھکیل دی گئی ہو۔
اس کا دل چاہا پھوٹ پھوٹ کر روئے‘ مگر آنکھیں جیسے خشک جھیلیں ہوگئی تھیں۔ بریرہ رحمن اسے چُور چُور کرنے کے بعد وہاں رُکی نہیں تھی۔ مگر انوشہ کی سانس ضرور اس کے سینے میں اَٹکنے لگی تھی۔ نزہت بیگم نے لپک کر اسے سینے سے لگایا تھا۔ جب وہ سسکتے ہوئے بولی۔
’’ہم یہاں نہیں رہیں گے خالہ! یہ شہر‘ اب ہمیں راس نہیں ہے۔‘‘
’’ہاں بیٹی! ہم کل صبح ہی شہر چھوڑدیں گے۔ بہت بڑی زمین ہے میرے مالک کی‘ کہیں نہ کہیں تو آسرا مل ہی جائے گا۔‘‘ جمال صاحب نے افسردگی سے کہتے ہوئے اس کے سر پر ہاتھ رکھا تھا۔
انوشہ دیر تک نزہت بیگم کے سینے میں منہ چھپائے روتی رہی۔
///
اس روز کے بعد شجاع کے لبوں کو جیسے چپ لگ گئی تھی۔ اپنے کام میں مشغول‘ اس نے ہر وقت گھر سے باہر اپنی سرگرمیوں میں مصروف رہنا شروع کردیا تھا۔ رات میں بھی خاصی تاخیر سے آتا اور چپ چاپ بیڈ روم سے ملحقہ سائیڈ روم میں اپنی بیٹی کو لے کر سوجاتا۔ کھانا تو روز ہی باہر سے کھا کر آنا شروع کردیا تھا۔ امامہ پریشان ہوگئی۔
وہ شخص چاہے اس کے لیے ایک فیصد دل چسپی کا باعث بھی نہیں تھا۔ پھر بھی وہ اسے ناراض کرنے کے حق میں نہیں تھی۔ نا ہی اس نے دانستہ اسے زک پہنچانے کی کوئی کوشش کی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ اب اس کی خاموشی پر اسے الجھن ہو رہی تھی۔
اس روز بھی وہ لائونج میں بیٹھی اس کا انتظار کر رہی تھی جب ارسلان کی کال آگئی۔
’’ہیلو سویٹ ہارٹ! کیسی ہو؟‘‘ آج کئی دنوں کے بعد وہ اسے یاد آئی تھی۔ امامہ خوش ہوگئی۔
’’ٹھیک ہوں‘ تم کیسے ہو اور اتنے دن رابطہ کیوں نہیں کیا؟‘‘
’’مصروف تھا یار! پاکستان آنے کی تیاری کر رہا تھا۔ اپنی سویٹ ہارٹ کے پاس۔‘‘
’’پھر کیا بنا؟‘‘
’’بننا کیا تھا‘ پہنچ گیا ہوں پاکستان‘ اپنی سویٹی کے پاس۔‘‘
’’سچ!‘‘ وہ اس کی خوشی پر خود بھی خوشی سے چلائی۔ جب وہ بولا۔
’’کیوں؟ یقین نہیں آرہا‘ آکر اپنی آنکھوں سے دیکھ لو۔‘‘
’’کہاں ہو تم اس وقت؟‘‘
’’ائر پورٹ کے باہر تم آرہی ہو؟‘‘
’’ہاں‘ میں آرہی ہوں۔ پلیز وہیں رہنا‘ کہیں جانا مت پلیز۔‘‘ خوشی سے اس کا حال برا ہو رہا تھا۔
ارسلان حیدر نے مسکرا کر کال کاٹ دی۔ اگلے بیس منٹ میں وہ اس کے مقابل تھی۔ آف وائٹ کلر کے سادہ مگر نفیس سوٹ میں ملبوس کتنی باوقار لگ رہی تھی وہ‘ ارسلان اسے دیکھتا رہ گیا۔
’’واہ‘ تم تو بہت بدل گئی ہو مون! قسم سے پہچانی ہی نہیں جا رہیں۔‘‘
’’تم بھی تو کتنے بدل گئے ہو‘ پہلے اتنے اسمارٹ تھے اب کتنے موٹے ہوگئے ہو۔‘‘
’’اچھا…!‘‘ وہ ہنسا۔
امامہ آنکھوں میں جگنو لیے اسے دیکھتی رہی۔
’’یہاں سے کہاں جائو گے کسی دوست کے پاس؟‘‘
’’ہاں… کسی دوست کے پاس ہی جائوں گا۔ اپنی کون سی کوئی جاگیر ہے یہاں‘ کچھ پیسے ہوں گے تمہارے پاس۔‘‘
’’نہیں کیوں؟‘‘ اچانک اس نے پوچھا تو وہ بو کھلا گئی۔
’’ٹیکسی کرنی تھی یار‘ میری جیب میں تو پھوٹی کوڑی نہیں ہے اور مزید پیدل چلنے کا تصور بھی محال ہے۔‘‘
وہ مایوس ہوا تھا۔ امامہ شرمندہ ہوگئی۔
’’مجھے کیا پتا تھا ایسا ہوگا۔ میں تو فرطِ مسرت میں اپنا موبائل بھی گھر ہی بھول آئی۔ ٹیکسی کے پیسے بھی وہیں ادا کیے تھے بابا نے۔ انہیں میں مارکیٹ کا کہہ کر گھر سے نکلی ہوں۔‘‘
’’اوہ… تمہاری تو زندگی سنور گئی ہے‘ پیسوں میں کھیلتی رہو گی۔‘‘
’’کیا پیسوں سے زندگی سنور جاتی ہے؟‘‘ اسے دکھ ہوا تھا۔ جب وہ بولا۔
’’ہاں…! پیسہ ہی سب کچھ ہے۔ زندگی‘ موت‘ دین ایمان‘ دنیا آخرت‘ سب کچھ پیسہ ہی تو ہے۔‘‘
’’تمہارے لیے ہوگا‘ میرے لیے پیسے کی کوئی اہمیت نہیں زندگی میں‘ میرے لیے تو اگر کوئی چیز اہم ہے تو وہ محبت ہے‘ سچے جذبوں سے گندھی خالص محبت۔‘‘
’’تم بس پینڈو کی پینڈو رہو گی۔ بے وقوف۔‘‘
وہ اس پر ہنسا تھا۔ امامہ دکھ سے اسے دیکھ کر رہ گئی۔
’’پیسے کا کوئی قبلہ نہیں ہوتا ارسلان! محبت کا ہوتا ہے۔ پیسہ بہت مل جاتا ہے زندگی میں‘ محبت نہیں ملتی۔‘‘
’’کون کہتا ہے نہیں ملتی‘ پیسہ جیب میں ہو تو کسی بھی شخص کی جان اور ایمان خریدا جا سکتا ہے۔ محبت کی تو اوقات ہی کیا ہے؟‘‘
’’اچھا اگر یہ بات ہے تو جائو‘ امامہ حسن کی خالص بے لوث محبت خرید کر دکھائو بازار سے۔‘‘
’’امامہ حسن کی محبت خریدنے کی کیا ضرورت ہے وہ تو مفت میں ملی ہے۔‘‘
’’اسی لیے تمہیں قدر نہیں۔‘‘ اس نے فوراً طنز کیا اور وہ بے پروائی سے رخ پھیر گیا۔
’’قدر ہے تو یہاں آیا ہوں یار! ورنہ میرا کیا پڑا ہے یہاں۔ اب بتائو بھلا دوست کے گھر تک کیسے جائوں گا میں؟‘‘ وہ پریشان ہوا تو امامہ بھی فکر مند ہوگئی۔
’’پریشان کیوں ہوتے ہو‘ اللہ کوئی نہ کوئی سبب بنا دے گا۔ کسی دوست کو کال کرو۔‘‘
’’کیسے کال کرلوں‘ ایک روپے کا بیلنس نہیں ہے پتا نہیں کیا ہوگا۔‘‘
متفکر لہجے میں کہتا وہ بار بار اس کی کلائی میں پڑے خوب صورت کنگن کو دیکھ رہا تھا۔ امامہ نے کچھ سوچتے ہوئے کنگن اتار کر اسے دیے۔
’’یہ رکھ لو ارسلان! کچھ روز کے لیے تو پیسوں کا انتظام ہو ہی جائے گا۔‘‘
’’نہیں‘ تمہارا پہلے ہی بہت قرض ہے مجھ پر۔‘‘
’’اف بیگانوں جیسی باتیں مت کیا کرو‘ مشکل میں اپنے ہی اپنوں کے کام آتے ہیں اور یہ کنگن تو بہت معمولی ہیں ارسلان! تم تو مجھ سے میری جان بھی مانگ لو تو میں کبھی انکار نہ کروں۔‘‘
اس کے لہجے میں کچھ تھا جو وہ چونک کر اسے دیکھنے پر مجبور ہوا تھا۔ وہاں اس سادہ سے چہرے پر کیسی سچائی‘ کیسا نور تھا۔ ارسلان کا دل چاہا وہ اسے اپنی بانہوں میں سمیٹ کر اس مادّہ پرست دنیا سے کہیں دور چلا جائے۔ مگر اگلے ہی پل اس نے سر جھٹک دیا۔ وہ وقت جذبات کے بہائو کا نہیں تھا۔ ہوش سے کام لینے کا تھا۔ تبھی اس نے امامہ کے ہاتھ تھامے۔
’’تم بہت عظیم لڑکی ہو امامہ! دنیا کی سب سے اچھی لڑکی ہو تم۔ مجھے تم پر ہمیشہ فخر رہے گا۔‘‘
’’بس‘ زیادہ ممنون ہونے اور جھوٹ بولنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ اس نے آہستگی سے ہاتھ چھڑا کر اس کے کندھے پر ہلکا سا مُکّا رسید کیا تو وہ سرشار ہوگیا۔ پندرہ بیس منٹ امامہ کو وہاں اپنے سامان کے پاس کھڑا رکھنے کے بعد وہ واپس آیا تو اس کے پاس کچھ نوٹ تھے۔ وہ سمجھ نہ سکی کہ اتنی جلدی اسے کوئی جیولر کیسے اور کہاں سے مل گیا؟
’’بہت شکریہ‘ لگتا ہے اللہ نے تمہیں میری مدد کے لیے ہی بھیجا ہے۔ اب گھر جائو گی یا میرے ساتھ چلو گی؟‘‘ وہ خوش دکھائی دے رہا تھا۔
’’نہیں میں گھر جائوں گی‘ شجاع آنے والے ہوں گے‘ تم جائو اب‘ پھر ملتے ہیں۔‘‘
’’چلو ٹھیک ہے۔ آئو پہلے تمہیں چھوڑ دیتا ہوں۔ اس فائل کا پتا تو نہیں چلا ہوگا تمہیں۔‘‘
’’نہیں۔‘‘ وہ اس سوال پر ہمیشہ شرمندہ ہوجاتی تھی۔
’’پتا تھا مجھے‘ اس ایس پی کا دل جیت لیا۔ اس کے اعتبارپر پوری اتر گئیں۔ دل میں اتر گئیں۔ یہاں تک کہ شادی بھی رچالی مگر وہ فائل نہ ڈھونڈ سکیں‘ کتنی مضحکہ خیز بات ہے یہ۔‘‘ وہ ہنسا تھا امامہ نظریں چُرا گئی۔
’’چلو تمہارا گھر بس گیا‘ میری خیر ہے۔‘‘
اب وہ ٹیکسی روک رہا تھا۔ امامہ سر اٹھانے کے قابل نہیں رہی۔
’’تم سمجھتے ہو یہ سب میری خوشی سے ہوا ہے؟ میری خوشی سے نہیں ہوا کچھ بھی۔ بہت مجبور تھی میں صرف تمہارے لیے، تمہاری محبت میں سر خرو ہونے کے لیے یہ سب کرنا پڑا مجھے‘ مگر اب میں مزید وہاں نہیں رہ سکتی‘ میں طلاق لے لوں گی اس ایس پی سے۔ اب مزید کسی امتحان میں پڑنا گوارا نہیں ہے مجھے۔‘‘
’’ٹھیک ہے اب چلو۔‘‘ گہری سانس بھرتے ہوئے اس نے ٹیکسی کا دروازہ اس کے لیے کھول دیا اور امامہ سارے راستے‘ شجاع حسن سے علیحدگی کے بہانے سوچتی رہی ۔ وہ گھر آئی تو شجاع مضطرب سا اوپر ٹیرس پر ٹہل رہا تھا۔ گھر کے چاروں طرف ڈیوٹی دیتے درجنوں سپاہیوں نے اسے ٹیکسی سے ارسلان کے ساتھ نکلتے دیکھا تھا۔
وہ ابھی اسے اپنا خیال رکھنے کی ہدایت کرنا ہی چاہتی تھی کہ وہ اس سے جان چھڑا کر جلدی سے دوبارہ ٹیکسی میں جا گُھسا اور اگلے ہی پل وہاں سے یہ جا‘ وہ جا۔ وہ خجل سی اندر آئی تھی۔ جس وقت اس نے لائونج میں قدم رکھے شجاع سیڑھیوں پر کھڑا تھا۔ وہ اسے مقابل پا کر ٹھٹک گئی۔
’’کہاں سے آرہی ہو اس وقت اور کس کے ساتھ آئی ہو؟‘‘
اس وقت وہ اس کے مشفق شوہر سے زیادہ پولیس آفیسر ہی لگ رہا تھا۔
امامہ کے چہرے کا رنگ اُڑ گیا۔
’’وہ… کزن تھا میرا… باہر سے آیا ہے ائر پورٹ سے لینے گئی تھی اسے…!‘‘
’’چٹاخ!‘‘
پوری وضاحت دینے سے قبل ہی جاندار طمانچہ پڑا تھا اسے۔ وہ منہ کے بل زمین پر جا گری۔
’’نفرت ہے مجھے دھوکے باز عورت سے‘ سمجھیں تم۔‘‘
اگلے ہی پل وہ دہاڑا تھا اور اسی غصے میں تیز چلتا وہاں سے نکل گیا۔ امامہ کے حواس اس کے جاندار تھپڑ اور غیر متوقع الفاظ پر دیر تک بحال نہ ہوسکے۔
///
’’تم نے ایان ملک کے ساتھ اچھا نہیں کیا علیزہ۔‘‘ وہ سپاٹ چہرے کے ساتھ ایک طوفان سے گزر کر بیٹھی تھی۔ جب اس کی دوست صاحبہ نے اس سے کہا۔
’’وہ اچھا لڑکا تھا‘ تمہیں کم از کم اسے اپنے انتقام کی بھینٹ نہیں چڑھانا چاہیے تھا۔‘‘
’’کیوں نہیں چڑھانا چاہیے تھا؟ وہ بھی تو ایک مرد تھا۔‘‘
’’مَردوں میں بھی فرق ہوتا ہے۔ وہ شہزاد جیسا نہیں تھا۔‘‘
’’شہزاد جیسا کوئی بھی نہیں ہوسکتا۔‘‘ وہ چلّائی تو صاحبہ اسے دیکھتی رہ گئی۔
’’ہاں‘ جس نے تیرے جیسی بے وقوف کو ذلیل کیا‘ بد نام کیا‘ دھتکارا‘ خاک چٹائی اس جیسا کوئی ہو بھی کیسے سکتا ہے۔‘‘
’’تم زخم اُدھیڑنے آئی ہو میرے؟‘‘ صاحبہ کے طنز پر وہ پھر چلّائی۔ کچھ لمحے خاموشی کی نذر ہوگئے۔ علیزہ کی آنکھوں میں اب آنسو جھلملا رہے تھے۔
’’مرد کبھی بھی قصور وار کہاں ہوتا ہے‘ سارے قصور سارے ستم ساری جفائیں کر کے بھی‘ ہمدردیاں مرد کے حصے میں آتی ہیں اور پھٹکار عورت کے حصے میں۔ قصور تو ہم لڑکیوں کا ہوتا ہے صاحبہ‘ جو کبھی باپ کی عزت پر اپنا آپ قربان کردیتی ہیں تو کبھی بھائیوں کی اونچی ناک پر اپنے حسین خوابوں کا گلہ گھونٹ دیتی ہیں۔ ساری عمر خوش رہنے کی کوشش میں اون کے گولوں کی مانند ادھڑتی ہی چلی جاتی ہیں۔ کبھی اپنے لیے نہیں سوچتیں۔ کبھی اپنے من کی خوشی کی پروا نہیں کرتیں۔ بس بکھرتی ہی چلی جاتی ہیں۔‘‘ شدت کرب سے اس کا گلا رندھ گیا تھا۔ صاحبہ نے اسے ساتھ لگالیا۔
’’لڑکی‘ لڑکی میں فرق ہوتا ہے یار! بہت اعتبار کھو دیا ہے ہم لڑکیوں نے بھی اپنا۔ ذرا سوچ سارے گائوں میں جو تیرے حویلی سے بھاگ جانے کی افواہ اُڑی ہے کیا تیرے منگیتر تک بات نہیں پہنچی ہوگی۔ اس نے اگر شادی سے انکار کردیا تو؟‘‘
’’مجھے نہیں پتا یار! بس تو دعا کر میرے لیے۔‘‘ وہ شدید اضطراب کا شکار تھی۔
صاحبہ ٹھنڈی سانس بھرتے ہوئے اس کے گال سہلاتی‘ وہاں سے اُٹھ گئی۔ اسے ابھی چارا کاٹنا تھا‘ گائیوں کو اندر باندھنا تھا‘ شام کی ہانڈی پکانی تھی۔ بہت سے کام اس کی جان کو پڑے تھے۔ وہ ابھی حویلی سے نکلی تھی کہ سانول شاہ کا فون آگیا۔ وہ جو پہلے ہی بہ مشکل اس شادی کے لیے مان رہا تھا اب علیزہ کے حویلی سے فرار کی خبر کے بعد قطعی طور پر اس سے شادی سے انکاری ہوگیا۔ گو اس جسارت پر اسے حویلی سے بے دخل ہونا پڑا تھا مگر اس نے کسی صورت بڑے بھائی کی یہ بات نہیں مانی۔ جو سراسر اس کی توہین اور مردانگی پر چوٹ لگاتی تھی۔ ماں کی خواہش اور بچپن کی منگ ایک طرف… مگر وہ تو داغ لگا سوٹ نہیں پہنتا تھا پھر ساری عمر کے لیے داغ لگی بیوی کیسے قبول کرلیتا۔ علیزہ کو لگا قدرت نے اسے منہ کے بَل گرا دیا ہو۔
///
’’آپ نے مجھے بلایا پاپا!‘‘
ابھی تھوڑی دیر پہلے وہ کراچی واپس پہنچا تھا جب آزر صاحب (عباد کے پاپا) کی طرف سے بلاوے کا پیغام آگیا۔ کمپیوٹر شٹ ڈائون کرتا اگلے پانچ منٹ میں وہ ان کے حضور پیش ہوا۔ ہادیہ شکایتی نگاہوں سے اس کی طرف دیکھتی‘ آزر صاحب سے جڑ کر بیٹھی تھی جب کہ نیچے ہال میں اس کی مما‘ مہندی کے فنکشن کی تیاری کے لیے ملازمین کو ہدایت دے رہی تھیں۔
’’ہاں‘ آئو بیٹھو۔‘‘ وہ جان گیا کہ ضرور ہادیہ نے اس کی شکایت کی ہے۔ تبھی ایک کڑی نظر اس پر ڈالتا وہ آزر صاحب کے قریب بیٹھ گیا۔
’’جی پاپا۔‘‘
’’پاپا کے بچے‘ آج کل ہوتے کہاں ہو تم؟ شادی والا گھر ہے۔ سو کام ہیں‘ مگر تمہارا کوئی اتا پتا نہیں‘ بزنس ہے تو وہ تمہاری توجہ کو ترس رہا ہے‘ ادھر یہ بچی ہے جو سمندر پار سے صرف تمہارے لیے تم سے کچھ سیکھنے کے لیے آئی ہے مگر اس کے لیے تمہارے پاس کوئی وقت نہیں‘ کر کیا رہے ہو تم آج کل؟‘‘ وہ برہم ہو رہے تھے اس پر۔ عباد، ہادیہ کو دیکھ کر رہ گیا۔
’’سوری پاپا! وہ اصل میں شاہ کے ساتھ کچھ مسائل چل رہے ہیں۔ گزشتہ روز کچھ قریبی عزیزوں اور بہن کا انتقال بھی ہوگیا۔ اس کو اس وقت میری ضرورت ہے اس لیے اسی کے ساتھ ہوتا ہوں۔‘‘
’’وہ ٹھیک ہے مگر باقی رشتوں کے بھی کچھ حقوق ہیں تم پر‘ بہر حال تمہارے چچا‘ کل ہانیہ کے نکاح کے موقع پر تمہارا اور ہادیہ کے رشتے کا بھی اعلان کرنا چاہ رہے ہیں۔ دیکھا جائے تو اس میں کوئی برائی بھی نہیں ہے۔ تم کیا کہتے ہو؟‘‘
’’میں نے کیا کہنا ہے پاپا! جیسی آپ کی مرضی۔‘‘
’’شاباش‘ اب شکایت نہیں ہونی چاہیے‘ چلو ہادیہ بیٹی کو کچھ شاپنگ کرنی ہے۔ اسے مارکیٹ گھما لائو۔ جب سے یہاں آئی ہے ایک بار بھی کہیں نہیں گئی‘ تمہارے ساتھ۔‘‘ اگلے ہی پل نیا حکم جاری ہوا تو وہ کندھے اُچکاتا اُٹھ کھڑا ہوا۔
’’یہ خود ہی نہیں جاتی پاپا! میں نے تو انکار نہیں کیا اسے کہیں لے جانے سے۔‘‘
’’بس رہنے دو‘ میرا منہ مت کھلوائو انکل کے سامنے۔ وگرنہ بھاگنے کو جگہ نہیں ملے گی۔‘‘ فوراً سے پیشتر وہ بولی تھی۔ عباد مسکرا کر رہ گیا۔
’’ٹھیک ہے شہزادی صاحبہ! آپ کو پاکستانی بازار دکھا لائوں‘ کہیں اس سعادت سے محروم ہی نہ رہ جائیں آپ۔‘‘
وہ پھر مسکرایا تو ہادیہ خفا خفا سی‘ منہ بناتی اُٹھ کر اس کے ساتھ چل دی۔
’’بہت بے وقوف ہو تم ہادیہ‘ قسم سے۔‘‘
گاڑی میں بیٹھتے ہی وہ چپ نہیں رہ سکا تھا۔ جواباً وہ اسے گھورنے لگی۔
’’تم اسی سلوک کے مستحق ہو‘ یہی طریقہ ہے تمہیں قابو کرنے کا۔‘‘
’’غلط‘ تمہارے پاس مجھے قابو کرنے کے اور بھی بہت سے طریقے ہیں۔‘‘
’’مثلاً۔‘‘ اس نے گاڑی اسٹارٹ کی۔
’’مثلاً… مثلاً ابھی بتائوں گا تو تم پھر پاپا سے شکایت کرو گی۔ شادی کے بعد بتائوں گا۔‘‘
’’شادی کے بعد میں نے تمہیں لفٹ ہی نہیں کروانی۔‘‘ وہ ہنسی۔
’’ایسی کی تیسی تمہاری۔ دیکھوں گا کیسے لفٹ نہیں کرواتیں۔ بہت چپکو قسم کا شوہر ثابت ہوں گا میں تمہارے لیے۔ دعائیں مانگا کرو گی تم کب آفس کا ٹائم ہو اور میں تمہاری جان چھوڑوں۔‘‘
’’تم ڈرا رہے ہو مجھے؟‘‘
’’نہیں‘ آگاہ کر رہا ہوں۔ ابھی سے تیار کرلو خود کو۔‘‘
’’مما کہتی ہیں ابھی دو سال تک ہماری شادی کا کوئی امکان نہیں۔‘‘
’’تمہاری مما کہتی ہے نا‘ میری مما کا تو بس نہیں چلتا‘ وہ شام سے پہلے تمہیں بہو بنا کر گھر لے آئیں۔‘‘
’’اور مما کا بیٹا؟‘‘ اس بار اس نے ترچھی نگاہوں سے عباد کو دیکھا۔
’’آہ‘ اس کا کیا پوچھتی ہو یار‘ اس کا تو بس نہیں چلتا۔ اسی تقریب میں تمہاری رخصتی کروا کر تمہیں ہمیشہ کے لیے یہیں رکھ لے واپس جانے ہی نہ دے۔‘‘
ابھی وہ مزید کچھ کہتا کہ موبائل اسکرین پر صاعقہ کے نام پر محفوظ ’’اجنبی‘‘ جگمگا اٹھا۔ صرف ایک پل کے لیے اس نے گاڑی آہستہ کی اور فوراً کال کاٹ دی۔ مگر اگلے ہی پل پھر وہی نام جگمگانے لگا۔ تب مجبوراً اسے بات کرنی پڑی۔
’’جی السّلام علیکم!‘‘
’’وعلیکم السّلامؔ! زین آپ کہاں ہو؟ مجھے اس وقت آپ کی ضرورت ہے۔‘‘ دوسری طرف وہ پریشان تھی۔ عباد کا دل دھڑک اُٹھا۔
’’خیریت! کہاں ہو اس وقت؟‘‘
’’خیریت نہیں ہے اسپتال میں ہوں‘ امی کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔‘‘
’’ٹھیک ہے میں آتا ہوں تھوڑی دیر میں۔‘‘ سرعت سے کہتے اس نے کال ختم کی تو ہادیہ نے پوچھا۔
’’کس کی کال تھی؟‘‘
’’دوست تھا یار! کوئی کام پڑ گیا ہے اسے مجھ سے‘ بلا رہا تھا۔‘‘
’’بلا رہا تھا کہ بلا رہی تھی؟‘‘ وہ مشکوک ہوئی تو وہ فوراً بولا۔
’’خدا کا نام لو یار! تم ایسا سمجھتی ہو مجھے؟‘‘
’’مرد ذات کا کوئی اعتبار نہیں‘ لوٹے کے پیندے کی طرح ایمان پھرتا ہے عورت کے معاملے میں ان کا۔‘‘
’’پھر تا ہو گا میں ان مردوں میں سے نہیں ہوں‘ میری زندگی میں ہر فرد کی علیحدہ جگہ ہے۔ اب کہو تو خدا کو حاضر ناظر جان کر قسم اٹھا کر یقین دلائوں؟‘‘
’’کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اتنا تو مجھے پتا ہے کہ بالکل شریف نہیں ہو تم‘ کہیں نہ کہیں کوئی نہ کوئی چکر تو ضرور ہوگا۔ وہ جو تین دن گھر سے باہر رہے تھے۔ فون بھی بند تھا۔ وہ یونہی تو نہیں تھا۔‘‘
’’شاہ زر کی وجہ سے پریشان تھا یار! بتایا تو تھا کتنے بڑے حادثے سے گزرا ہے وہ۔‘‘
’’ٹھیک ہے چلو پہلے کسی اچھے سے میڈیکل اسٹور پر چلتے ہیں۔ پاپا کے لیے دوا لینی ہے۔ پھر بوتیک چلیں گے۔‘‘
’’جو حکم۔‘‘ ہادیہ کے کہنے پر اس نے گاڑی موڑی اور اس سے دوا کا نسخہ لے کر قریبی اسٹور کے سامنے گاڑی روک دی۔ ہادیہ اس کے منع کرنے کے باوجود اس کے ساتھ ہی گاڑی سے نکل آئی۔ جس وقت وہ اسٹور میں داخل ہونے لگے اچانک باہر نکلتی صاعقہ سے عباد کا ٹکرائو ہوگیا۔
’’زین!‘‘ وہ اسے سامنے دیکھ کر حیران رہ گئی تھی جبکہ عباد گھبرا گیا۔
’’سوری… میں آپ کو نہیں جانتا۔‘‘
جلدی سے کہہ کر وہ آگے بڑھ گیا تھا۔ جب کہ صاعقہ کو لگا جیسے وہ وہیں پتھر ہوگئی ہو۔ اسے سمجھ نہ آئی اس کی نظر نے دھوکا کھایا ہے۔ سماعتوں نے‘ یا پھر دل نے؟ وہ شخص کوئی عام سا تھرڈ کلاس لڑکا تو نہیں تھا۔ جو گرگٹ کی طرح رنگ بدل لیتا۔ مگر وہاں تو حلیے کے ساتھ ساتھ اس شخص کی آنکھوں کے رنگ ہی بدل گئے تھے۔ وہ ہاتھ میں پکڑے سستی ترین دوائیوں کے شاپر کو دیکھتی‘ جیسے بے یقینی کے انداز میں ایک بار پھر پلٹ کر اسے دیکھ رہی تھی۔ ہادیہ پر اس نے دھیان ہی نہ دیا کہ وہ کون ہے اور کس کے ساتھ آئی ہے۔ وہ تو صرف اسے دیکھ رہی تھی جو کسی دیوی کی مانند‘ اس کی یوں پرستش کرتا تھا گویا وہ خود سچ مچ کا کوئی پجاری ہو۔ اس لمحے اچانک ذہن میں آئے خیال کے تحت اس نے فوراً عباد کا نمبر ملایا تھا اور اسی وقت وہاں میڈیکل اسٹور میں اس کے موبائل پر لگی مخصوص گھنٹی گونجی تھی۔ پیچھے کیا رہ گیا تھا؟
عباد نے اس کی کال فوراً کاٹ دی۔ تب شکستہ قدموں کو گھسیٹتی وہ آگے بڑھی‘ محبت کے بھی اپنے اصول ہوتے ہیں۔ معیار ہوتا ہے اور اس کا تعلق جس کلاس سے تھا وہاں کسی کو محبت کے نام پر بے وقوف تو بنایا جا سکتا تھا۔ بہلایا تو جاسکتا تھا مگر خالص محبت دان نہیں کی جا سکتی تھی۔ عباد نے اس کے اسٹور سے نکلنے کے بعد صرف ایک بار پلٹ کر دیکھا تھا اور پھر سے سیلز مین کی طرف متوجہ ہوگیا۔
وہ چل رہی تھی اور سامنے راستہ جیسے دھند لا رہا تھا۔ ابھی دو روز پہلے ہی تو کتنی آسانی سے کہا تھا اس نے کہ وہ دکھ اٹھا سکتی ہے‘ ذلت نہیں اٹھا سکتی‘ مگر اس وقت اس سے وہ’’دکھ‘‘ نہیں اٹھایا جا رہا تھا۔ چلتے چلتے ٹھوکر لگی تھی اور لڑکھڑا گئی۔ اسے لگا اس کے منہ پر صائمہ نے طمانچہ مارا ہو اور کہہ رہی ہو۔
’’کہا تھا ناں تجھ سے‘ مت چنو وہ راہیں جن پر چل کر پچھتانا پڑے۔ دکھ اٹھانا پڑے۔ کہا تھا نا‘ مڈل کلاس گھرانے کی لڑکی ہو تم لوئر مڈل کلاس گھرانے کی۔ جہاں صرف خواب دیکھے جاتے ہیں ان کی تعبیر پانے کی ضد نہیں کی جاتی۔ ورنہ یہ معاشرہ‘ اس معاشرے کے لوگ گلا گھونٹ دیتے ہیں۔ نوچ لیتے ہیں کنواری آنکھوں کے خوشنما خواب‘ کب سمجھو گی یہ حقیقت کب عقل آئے گی تمہیں؟‘‘
اور وہ بے بس سی‘ چہرہ چادر میں چھپائے بس روتی رہی۔ میڈیکل اسٹور سے اسپتال تک کا لمبا فاصلہ کب طے ہوا۔ اسے اپنے خیالوں اور اذیت میں احساس ہی نہ ہو سکا۔ وہ تو اس وقت چونکی جب کسی نے اس کا نام لے کر اسے آواز دی۔
’’صاعقہ!‘‘ وہ وہ جو گم صم سی چل رہی تھی اس نے فوراً سر اٹھا کر سامنے دیکھا تھا۔
’’ایان بھائی! آپ؟‘‘ آنسوئوں سے بھری آنکھیں حیرت کی شدت سے پھیلی تھیں۔ دوسری طرف ایان جو خود میں مگن جا رہا تھا‘ کا حال بھی اس سے مختلف نہ تھا۔
///

سنو لوگو! میری آنکھیں خریدو گے؟
مجھے اک خواب کا تاوان بھرنا ہے
اک ایسا خواب تھا جو جاگتی آنکھوں نے دیکھا تھا
بہت ہی چائو سے اور کتنے ارمانوں سے دیکھا تھا
مگر دیکھے ہوئے اس خواب کی تعبیر اُلٹی تھی
نہیں شکوہ کسی سے‘ اپنی ہی تقدیر اُلٹی تھی
جو اب تک ہو چکا ہے مجھ کو وہ نقصان بھرنا ہے
اب آنکھیں بیچ کر ہی خواب کا تاوان بھرنا ہے

کمرے میں اندھیرا کیے‘ تنہا بیٹھا۔ وہ شافیہ کی تصویر کو سینے سے لگائے بے آواز رو رہا تھا۔ بے درد زندگی کے سفّاک لمحوں نے بالآخر اس سے خون کے آخری رشتے کو بھی چھین لیا تھا۔ وہ بہن جو اس کی جان تھی‘ جس کے لیے اس نے اپنا جیون الجھا لیا تھا، کیسے بھاگ کر خاک میں چھپ گئی تھی کیا رہ گیا تھا اس کے پاس‘ کچھ بھی تو نہیں…!
پچھلے ایک ماہ سے اسے اپنی خبر نہیں تھی۔ سارا دن گھر سے باہر گزارتا۔ رات میں دیر سے واپس لوٹتا تو اکثر کمرا بند کر کے شافیہ کی تصویر کو سینے سے لگا کر اس سے معافی مانگتا‘ بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رو پڑتا پچھلے ایک ماہ میں اس کی صحت اچھی خاصی گر گئی تھی۔ اب تو جو بھی اسے دیکھتا تھا اس پر ترس کھاتا تھا۔ بریرہ جلے پیر کی بلی کی مانند لائونج میں کئی چکر لگانے کے بعد بالآخر اس کے کمرے میں چلی گئی جو کمرے کے وسط میں کرسی ڈالے بیٹھا سر کرسی کی پشت گاہ سے ٹکائے سسک رہا تھا۔ وہ ٹھنڈی سانس بھرتی اس کے پاس آکھڑی ہوئی۔
’’شاہ زر…!‘‘ اور اس نے فوراً آنکھیں کھولیں۔
’’تمہیں‘ سکون چاہیے نا؟‘‘
’’ہاں…!‘‘
’’آئو میں سکون دیتی ہوں تمہیں۔‘‘ وہ سراپا محبت بنی کھڑی تھی۔
شاہ زر نے پھر سے پلکیں موند لیں۔
’’مجھے میرے حال پر چھوڑ دو بریرہ! خدا کے لیے۔‘‘
’’آئو تو سہی۔‘‘ وہ زبردستی اس کا بازو پکڑ کر اسے کھینچ رہی تھی۔ وہ کھڑا ہوا۔
’’چلو وضو کرو‘ شاباش۔‘‘ ہاتھ پکڑ کر اسے واش روم میں لاتے ہوئے اس نے اگلا حکم جاری کیا تھا جب وہ ہچکچا گیا۔
’’نہیں‘ میں اس پاک ذات کے سامنے جانے کے قابل نہیں ہوں۔‘‘
’’تم وضو تو کرو‘ اللہ بہتر جانتا ہے کہ تم کس قابل ہو۔‘‘ وہ اس کی ہمت بندھا رہی تھی۔ شاہ زر نے روتے ہوئے وضو مکمل کرلیا۔
’’شاباش! چلو اب میں جائے نماز بچھا رہی ہوں‘ آجائو اور خوب رو کر بھڑا س نکال لو اس ذات کے سامنے جس سے بڑھ کر کوئی غم خوار اور مہربان نہیں۔‘‘
وہ خود نماز کی پابند نہیں تھی۔ مگر اسے وہ راہ دکھا رہی تھی جس میں سکون تھا‘ نجات تھی۔ شاہ زر نے حیرانی سے اس کی طرف دیکھا۔ پھر جھجکتے ہوئے جائے نماز پر کھڑا ہوگیا۔ بریرہ اس کی نیت کے بعد کمرے سے نکل گئی۔ اس روز دیر تک اپنے خالق حقیقی کے سامنے سجدہ ریز رہنے کے بعد وہ دل بھر کر رویا۔ جتنا وہ روتا رہا اتنا ہی دل کو سرور و قرار نصیب ہوتا جاتا۔ بہت تاخیر سے ہی سہی مگر اس نے حقیقی نجات کا راستہ پا لیا تھا۔
///
ٹرین سست روی سے پٹریاں روندتی‘ اپنی مستی میں آگے بڑھ رہی تھی اور وہ کسی مجسمے کی مانند خاموش کھڑکی کی طرف بیٹھی باہر کے مناظر کو دیکھ رہی تھی۔ ذہن میں اس وقت بھی بریرہ رحمن کے نوکیلے جملے گونج رہے تھے۔
’’تم خود کو سمجھتی کیا ہوا انوشہ رحمن! یہی کہ تم دنیا کی سب سے زیادہ مظلوم لڑکی ہو‘ جو کچھ تمہارے ساتھ ہوا۔ کسی کے ساتھ نہیں ہوا۔ کس ستم کا ڈھنڈورا پیٹ رہی ہو تم؟ ایک ریپ ہوا تمہارا اور تم نے سارا آسمان سر پر اٹھالیا۔ یہاں ہزاروں لڑکیوں کے روز جسم بکتے ہیں اور وہ ماری جاتی ہیں۔ پر کسی کو احساس تک نہیں ہوتا ان کا‘ پھر تم یہ سب ڈراما کیوں کر رہی ہو۔ کیا اس نے جہاز گرایا‘ جس میں تمہاری ماں اور بھائی مرا‘ قدرت کا فیصلہ تھا یہ۔ پھر اسے سولی پر کیوں لٹکا رکھا ہے تم نے؟‘‘
کیسی تلخی‘ کیسی نفرت تھی اس کے لہجے میں۔ انوشہ نے سر کھڑکی پر زور سے دے مارا۔ کیوں پیچھا نہیں چھڑا پا رہی تھی وہ اس بازگشت سے۔
کتنی سفّاکی سے اس نے کہہ دیا تھا۔
’’شرم آنی چاہیے آپ لوگوں کو‘ ایسی گھٹیا‘ غلیظ لڑکی کو سینے سے لگائے بیٹھے ہیں۔ میری مانیے ایک کام کیجیے اسے فلم انڈسٹری میں چھوڑ آئیے۔ خوش بھی رہے گی اور چار پیسے بھی کما لے گی۔‘‘
’’اللہ…!‘‘ درد کی شدت سے پھٹتے سر اور آنکھوں کی جلن سے بے تاب ہو کر اس نے‘ سر اٹھایا اور آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے رو پڑی۔
’’کیا بات ہے انوشہ! ٹھیک تو ہے ناں۔‘‘ نزہت بیگم جو اونگھ رہی تھیں اس کی کراہ پر بے دار ہو کر پریشانی سے پوچھنے لگیں۔ جواب میں وہ سر سیٹ کی پشت گاہ سے زور زور سے ٹکرانے لگی۔
’’میں مر کیوں نہیں جاتی خالہ! عزت کی زندگی نہ سہی عزت کی موت تو دے ہی سکتا ہے وہ مجھے‘ میں کیا اس کی بندی نہیں ہوں۔ کون ترس کھانے والا ہے مجھ پر سوائے اس کے۔‘‘ وہ پھر رو رہی تھی۔ نزہت بیگم کا دل بھر آیا۔
’’وہ اپنے خاص بندوں کو آزماتا ہے بیٹی! بندہ صبر کرے تو اس کے درجات بڑھا دیتا ہے۔ گلہ شکوہ کرے‘ اس کی ذات سے مایوس ہو تو چھوڑ دیتا ہے اسے اس کے حال میں خوش۔ اس کا کرم سب پر ہے۔ چاہے کوئی اس سے مانگے نہ مانگے۔‘‘
دکھی دل سے وہ اسے تسلی دے رہی تھیں اور انوشہ ان کے کندھے سے لگی بے آواز روتی رہی۔ گاڑی کی رفتار رات بھر کے سفر کے بعد اب دھیمی ہو رہی تھی۔ شاید وہ کسی اسٹیشن پر رکنے والی تھی۔ انوشہ نے آہستہ سے پلکیں موند لیں۔ خشک آنکھیں‘ خشک لب اسے لگا جیسے حلق میں کانٹے چبھ رہے ہوں۔
’’انوشہ… وہ دیکھ…!‘‘ نزہت بیگم نے اچانک اس کا کندھا ہلایا تھا۔ وہ پٹ سے آنکھیں کھول گئی۔
’’کیا ہے خالہ؟‘‘
’’تیرا منّا لگتا ہے‘ اُدھر دیکھ۔‘‘ جمال صاحب ٹرین سے اُتر چکے تھے۔
انوشہ نے مچلتے دل سے بے قرار ہو کر اس طرف دیکھا تھا جدھر نزہت بیگم اشارہ کر رہی تھیں اور اسے لگا جیسے اس کا دل پھٹ جائے گا۔ وہ اس کا بیٹا ہی تھا‘ محض ڈھائی سال کا۔ اسے تو ٹھیک سے باتیں کرنا بھی نہیں آتی تھیں پھر بھی وہ ایک نابینا لڑکے کی قمیص کا دامن پکڑے وہاں اسٹیشن پر بھیک مانگ رہا تھا۔ کتنی معصومیت اور مظلومیت تھی اس کے چہرے پر‘ جانے کن لوگوں کے ہاتھ لگ گیا تھا وہ۔
اس لمحے ایک پل سے پیشتر وہ اٹھی اور لپک کر ٹرین سے باہر نکل گئی۔ بچہ اب دوسری طرف جا رہا تھا۔ وہ لوگوں کو پیچھے دھکیلتی کسی کی پروا کیے بنا اپنے بیٹے تک جا پہنچی۔
’’چاند…!‘‘ اس کی صدا پر بچے نے پلٹ کر دیکھا تھا اور اس پر نظر پڑتے ہی رو پڑا تھا۔
’’مما!‘‘ وہ اسے بھولی نہیں تھی‘ اس کے ذہن میں اس کا چہرہ محفوظ تھا۔ انوشہ نے اسے چوم کر سینے سے لگالیا۔
’’مجھے معاف کردو میری جان‘ میں نے تم سے منہ موڑا‘ کسی اور کے گناہ کی سزا تمہیں دی۔ جب کہ تم بھی اتنے ہی بے قصور ہو جتنی کہ میں خود۔‘‘
وہ بڑ بڑا رہی تھی مگر بچہ اس کی کوئی بھی بات سمجھنے کی پوزیشن میں نہیں تھا۔ وہ بس رو رہا تھا۔ اس کے ساتھ گیارہ بارہ سال کا جو نا بینا لڑکا ڈھونگ رچائے پھر رہا تھا۔ خوف کے مارے وہاں سے بھاگ کھڑا ہوا۔ لوگ اب دائرے کی صورت میں وہاں جمع تھے اور انوشہ اپنے بیٹے کو سینے سے لگائے بلند آواز میں روتی رہی۔
///
’’میں یہ گھر چھوڑ کر جا رہی ہوں۔‘‘
شجاع حسن کے جاندار تھپڑ کے بعد فوری اس نے فیصلہ کیا اور اپنا مختصر سا سامان پیک کرکے وہ بیڈ روم میں اسے اطلاع دینے چلی آئی۔ شجاع جو کسی کیس میں الجھا ہوا تھا۔ نظر اٹھا کر اسے دیکھنے کا روادار بھی نہ ہوا۔
’’ٹھیک ہے‘ مجھے کوئی پروا نہیں۔‘‘ کیسا غیر متوقع جواب تھا اس کا۔ وہ حیران رہ گئی۔ کوئی اتنا بھی بدل سکتا ہے۔
پریشان پریشان سی وہ اس کے کمرے سے نکل کر گڑیا کے کمرے میں آئی اور اسے پیار کرتے ہوئے اس پر کمبل ڈالتی باہر نکل آئی۔ اب وہ ارسلان کو فون کر رہی تھی۔ جس نے دوسری ہی بیل پر کال ریسیو کرلی۔
’’ہاں مون! ابھی میں تمہیں ہی یاد کر رہا تھا۔‘‘
’’مجھے تم سے ملنا ہے ارسلان! ابھی اور اسی وقت۔‘‘
’’خیریت…؟‘‘
’’ہاں خیریت ہی ہے‘ کہاں ملو گے؟‘‘
’’تم نکلو گھر سے‘ میں آتا ہوں۔‘‘ وہ شاید جلدی میں تھا۔
امامہ شجاع حسن کے محل کو ایک ٹھوکر پر رکھتی‘ اپنا بیگ اٹھائے اس کے گھر سے نکل آئی۔ گیٹ پر موجود گارڈ کسی طور اسے روکنے کا پابند نہیں تھا کیونکہ شجاع نے امامہ کو پورے اختیارات دے رکھے تھے۔ وہ جب چاہے جہاں دل کرے جا سکتی تھی۔ کتنے عرصے بعد اسے لگا جیسے وہ آزاد ہوگئی ہو۔ اس کی تمنا‘ اس کا خواب صرف اور صرف اپنی محبت‘ ارسلان کو پانا تھا اور اب اسے لگ رہا تھا جیسے ان دونوں کے بیچ کوئی دیوار نہ رہی ہو۔
سنسان سڑک پر روشنیوں کی پروا نہ کرتی وہ آگے ہی آگے بڑھتی گئی۔
///

ہم جگنو تھے‘ ہم تتلی تھے‘ ہم رنگ برنگے پنچھی تھے
کچھ ماہ و سال کی جنت میں ماں ہم دونوں بھی سانجھی تھے
میں چھوٹا سا اک بچہ تھا‘ تیری اُنگلی تھام کے چلتا تھا
تُو دور نظر سے ہوتی تھی‘ میں آنسو آنسو روتا تھا
اک خواب کا روشن بستہ تُو‘ ہر روز مجھے پہناتی تھی
جب ڈرتا تھا میں راتوں کو‘ تُو اپنے ساتھ سلاتی تھی
ماں تُو نے کتنے برسوں تک اس پھول کو سینچا ہاتھوں سے
جیون کے گہرے بھیدوںکو‘ میں سمجھا تیری باتوں سے
میں تیرے ہاتھ کے تکیے پر ماں اب بھی رات کو سوتا ہوں
ماں! میں چھوٹا سا اک بچہ‘ تیری یاد میں اب بھی روتا ہوں

مسجد کے وسیع احاطے میں بیٹھا وہ رو رہا تھا اور ساتھ ساتھ تسبیح بھی کررہا تھا۔ جانے آج کیوں اسے اپنی مما بے حد یاد آرہی تھیں۔ وہ ان کی گود میں منہ چھپا کر رونا چاہتا تھا۔ دل کا سکون پانا چاہتا تھا۔
کئی گھنٹے مسجد میں گزار کر رونے کے بعد وہ وہاں سے اٹھ کر سیدھا قبرستان چلا آیا‘ جہاں اس کی جنت مٹی کے ڈھیر میں چھپی‘ شہرِ خاموشاں کا حصہ بنی ہوئی تھی‘ شافیہ کی قبر بھی ان کے پہلو میں ہی بنی تھی‘ جب کہ زاور اور صدف بیگم کی قبریں ساتھ ساتھ تھیں۔
مٹی کے ان بڑے ڈھیروں کے نیچے‘ کیسے کیسے محبوب رشتے‘ کیسے کیسے پیارے چہرے چھپ گئے تھے۔ وہ فاتحہ پڑھتا رہا اور کسی ننھے سے بچے کی مانند بلک بلک کر روتا رہا۔ اگلے کئی گھنٹے رو کر دل ہلکا کرنے کے بعد وہ شکستہ سا اٹھا اور گاڑی میں بیٹھ کر انوشہ کے گھر کی طرف چلا آیا مگر وہاں دروازے پر تالا دیکھ کر ٹھٹک گیا۔
قدرے بوکھلاہٹ میں ساتھ والوں کا دروازہ کھٹکھٹایا تو ایک ادھیڑ عمر خاتون نے سر باہر نکالا۔
’’السّلام علیکم آنٹی! یہ ساتھ والے آپ کے پڑوسی…؟‘‘
’’وہ تو کل یہاں سے چلے گئے بیٹا! اپنا سارا سامان سمیٹ کر۔‘‘
’’چلے گئے… کہاں چلے گئے…؟‘‘ بہت زور کا دھچکا لگا تھا اسے، جب وہ خاتون بولی۔
’’پتا نہیں… کچھ بتا کر نہیں گئے‘ بس یہی کہا کہ اب اس شہر میں دل نہیں لگتا۔‘‘
خاتون کا لہجہ سادا تھا۔ شاہ زر کو لگا وہ گِر پڑے گا۔ پتا نہیں زندگی کو ابھی اس سے اور کتنے امتحان مطلوب تھے۔
انوشہ رحمن کے گھر سے اپنے گھر تک جیسے وہ پہنچا تھا وہی جانتا تھا۔ یوں لگتا تھا جیسے کسی بھی لمحے دل یا دماغ کی رگ پھٹ جائے گی۔ آنکھوں میں جیسے لہو اُمڈ آیا تھا۔ بُریرہ اس وقت کچن میں تھی جب وہ لائونج میں آکر دہاڑا۔
’’بُریرہ…!‘‘ اور بُریرہ کے ہاتھ سے کرسٹل کی پلیٹ چھوٹ کر زمین پر جا پڑی۔
’’اللہ خیر… کیا ہوگیا؟‘‘ گھبرا کر وہ فوراً کچن سے نکلی‘ جب وہ قہر برساتی نگاہوںسے اسے دیکھتا اس کے سر پر آکھڑا ہوا۔
’’کیا کہا تھا تم نے کل انوشہ سے‘ جو وہ لوگ راتوں رات شہر چھوڑ کر چلے گئے‘ بولو…؟‘‘
اپنی انگلیوں کو اس کے گداز بازوئوں میں گاڑ کر زور کا جھٹکا دیا تھا اس نے‘ وہ سہم گئی۔ شاہ زر کا یہ روپ اس کے لیے بالکل نیا تھا۔
’’کچھ نہیں…‘‘ بہت مشکل سے وہ کہہ پائی ‘ جواب میں شاہ زر نے اسے تھپڑ دے مارا۔
’’بکواس نہیں سننی مجھے‘ جو سچ ہے وہ بتائو۔‘‘
وہ جنونی ہورہا تھا۔ عین اسی لمحے سائلہ بیگم کے قدم اس کی دہلیز پر پڑے تھے‘ وہ بیٹی کو سرپرائز دینے‘ بنا بتائے آئی تھیں مگر بیٹی نے آگے ان کے لیے سرپرائز تیار کررکھا تھا‘ ان کی آنکھیں جیسے پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ اتنی ہمت بھی نہ رہی تھی کہ دھاڑ کر شاہ زر کو آواز ہی دے سکتیں۔
’’ممی…‘‘ بُریرہ کی نگاہ ہی ان پر پڑی تھی اور وہ خود کو شاہ زر کی گرفت سے نکالتی فوراً ان کی طرف لپکی۔
’’کیا ہورہا ہے یہاں…؟‘‘ اگلے پل ان کا سکتہ ٹوٹا۔
شاہ زر غیر متوقع طور پر انہیں وہاں دیکھ کر خود پر ضبط کرگیا جب کہ بُریرہ رو پڑی۔
’’گھٹیا‘ ذلیل‘ کمینے انسان! میں تو سمجھی تھی بہن کی موت نے تمہیں توڑ کر رکھ دیا ہوگا‘ تم خود کو سنبھال نہیں پارہے ہوگے‘ اس لیے میری بیٹی کا ‘ جو بدقسمتی سے تمہاری بیوی ہے‘ تمہارے پاس ہونا ضروری ہے مگر مجھے کیا پتا تھا کہ تم تو جانور ہو‘بلکہ جانور سے بھی بدتر… بہت غلط کیا میں نے جو اپنی شہزادیوں جیسی بیٹی تم جیسے جنگلی کے سپرد کردی۔‘‘ وہ بُریرہ کو چھوڑ کر اس کے مقابل آئی تھیں۔ شاہ زر نے رُخ پھیرلیا۔
’’یہ صلہ ہے میری محبتوں اور احسان کا؟ ساری عمر بیٹا سمجھ کر دل سے لگا کر رکھا‘ ہر خواہش پوری کی اور تم اس کا بدلہ یوں دے رہے ہو‘ میری بیٹی کو جہنم میں جھونک کر۔‘‘ حلق کے بل چلاتی وہ آپے سے باہر ہورہی تھیں‘ جب وہ گہری سانس بھرتے ہوئے بولا۔
’’لے جائیں اپنی لاڈلی کو یہاں سے‘ مجھے ا س کی ضرورت نہیں۔‘‘
’’لے جائوں گی‘ لے جانے کے لیے ہی آئی ہوں مگر تم یاد رکھنا‘ میں تمہارے ساتھ وہ کروں گی اس وحشت کے بدلے میں کہ ساری زندگی یاد رکھو گے۔‘‘
’’ٹھیک ہے کرلیجیے گا‘ جہاں حالات نے اتنے تھپڑ لگائے ہیں اس چہرے پر‘ وہاں آپ بھی لگالیجیے گا‘ کوئی فرق نہیں پڑتا اب مجھے اس سے۔‘‘ ٹھہرے لہجے میں کہتا وہ اپنے کمرے میں چلا آیا۔ سائلہ بیگم بُریرہ پر چڑھ دوڑیں۔
’’یہی سب دیکھنے اور دکھانے کے لیے آئی تھیں یہاں‘ دیکھ لو! جوتے کی نوک پر رکھ کر چلا گیا ہے تمہیں‘ اب بھی یہیں رُکو گی؟‘‘
’’وہ بہت پریشان ہے مما۔‘‘
’’تو ہو‘ میں نے کیا ہے اسے پریشان یا تم نے۔ کیا قصور ہے تمہارا جو وہ یوں تھپڑ ماررہا تھا تمہارے منہ پر۔‘‘
’’محبت…‘‘ بہت دھیرے سے اس نے کہا تھا مگر سائلہ بیگم نے سن لیا۔
’’لعنت بھیجو ایسی محبت پر‘ جس میں عزت اور احساس ہی نہ ہو‘ تمہیں اچھے رشتوں کی کمی نہیں ہے بُریرہ! چلو میرے ساتھ۔‘‘
’’نہیں مما! وہ اس وقت حقیقت میں پریشان ہے‘ میں سمجھالوں گی اسے۔‘‘
’’کیا سمجھالوگی‘ محبت سمجھانے سے ہوئی ہے کبھی۔ وہ بھٹک گیا ہے‘ سمجھنے سمجھانے کی حد سے نکل گیا ہے‘ اب کچھ نہیں کرپائو گی تم۔ عورت چاہے زندگی سے پیاری کیوں نہ ہو‘ دل سے اُتر جائے تو پائوں کی جوتی کے برابر بھی اہمیت نہیں رہتی اس کی‘ تم بھی دل سے اُتر گئی ہو اس کے۔ اب کیا کرو گی یہاں رہ کر‘ ا س مقبرے میں رہ کر؟‘‘ وہ تلخ ہوئی تو بُریرہ کا دل کٹ گیا۔
وہ شکستہ سی بیڈ روم میں آئی تو شاہ زر بیڈ پر نیم دراز‘ آنکھوں پر بازو رکھے لیٹا تھا۔ بُریرہ نے روتے ہوئے وارڈ روب کے پٹ کھولے‘ وہاں رکھا ہی کیا تھا جو وہ ساتھ لے جاتی‘ بس یونہی بے مقصد کپڑے اِدھر اُدھر کرتی رہی‘ جب تھک گئی تو شاہ زر کے پاس چلی آئی۔
’’کیا واقعی اب تمہاری زندگی میں میری کوئی گنجائش نہیں رہی شاہ؟‘‘ کتنی ملول تھی وہ‘ اس نے آنکھوں سے بازو ہٹا دیئے۔
’’گنجائش ہے مگر زندگی نہیں رہی ہے یہ…! نہیں انصاف کرپارہا میں تمہارے ساتھ‘ مجھے لگتا ہے تم یہاں رہیں تو میں تمہیں بھی گنوادوں گا۔‘‘ اس کا لہجہ نم تھا۔ وہ بیڈ کے کنارے پر ٹک گئی۔
’’تو تم چاہتے ہو میں تمہاری زندگی سے چلی جائوں‘ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے؟‘‘
’’نہیں… مجھے بس کچھ وقت چاہیے‘ میرے اندر ابھی بہت اضطراب ہے‘ طوفان ہے‘ ابھی پلیز تم آنٹی کے ساتھ چلی جائو‘ میں وعدہ کرتا ہوں‘ ٹھیک ہوتے ہی تمہیں خود لینے آئوں گا۔‘‘
وہ اسے اپنے پنجرے سے رہائی دے رہا تھا۔ بُریرہ جھوٹی تسلی پر اٹھ کھڑی ہوئی۔
’’آئی ایم سوری بُریرہ! ایم رئیلی ویری سوری!‘‘ اس کے کھڑے ہونے پر اس نے بہت محبت سے اس کا ہاتھ تھاما تھا۔
’’کاش! ہم لڑکیوں کا دل بھی خدا تم مردوں جیسا بنادیتا۔ ہمیں بھی فرق نہ پڑتا کسی کو کھودینے سے‘ ہر نئے موڑ پر‘ نئے چہرے سے محبت کا عہد کرتے ہوئے ہمیں بھی پچھلی محبتیں یاد نہ رہتیں۔ کاش! یہ بے وفائی ہمارے لیے بھی اتنی آسان ہوتی شاہ زر… کاش…!‘‘ وہ دل برداشتہ ہوئی تو شاہ زر بیڈ سے اُٹھ کھڑا ہوا۔
’’تمہیں بھلانا اور کھونا آسان نہیں ہے میرے لیے…‘‘
اس سے زیادہ شاید وہ خود کو یقین دلا رہا تھا ۔ بُریرہ ابھی کچھ کہنا ہی چاہتی تھی کہ اس نے اپنے لب اس کی پیشانی پر دھر دیئے۔
’’میری جان ہو تم بُریرہ رحمن! مگر کاش میں اپنے اختیا رمیں ہوتا۔‘‘
جانے کیا ہوا تھا اسے کہ بھیگے لہجے میں اپنی بے بسی کا اعتراف کرتے ہوئے اس نے بُریرہ کو کسی قیمتی متاع کی طرح اپنی پناہ میں جکڑ لیا یوں کہ اس سے سانس لینا بھی دشوار ہوگیا۔
’’کاش! میں زبردست پکڑ والے کی گرفت میں نہ آیا ہوتا‘ کاش…!‘‘ بُریرہ کے کندھے پر چہرہ ٹکائے‘ وہ اب ٹوٹ رہا تھا۔ وہ چپ چاپ اس کی دھڑکنیں سنتی رہی۔ تھوڑی دیر بعد نیچے آکر اس نے سائلہ بیگم سے معافی مانگی تھی اور بہت مشکل سے انہیں منایا تھا۔ اگلے ایک ہفتے کے لیے اس نے زبردستی انہیں اپنے پاس روک لیا۔ وہ اس کی ماں نہیں تھیں مگر ماں جیسی تو تھیں۔ ان کے وجود سے اسے اپنی مما کی خوش بُو آتی تھی‘ لہٰذا روز آفس سے واپسی کے بعد وہ اپنا تمام وقت بُریرہ اور ان کے ساتھ ہی گزارتا تھا۔
اس ایک ہفتے میں نماز اور بُریرہ کے ساتھ ساتھ سائلہ بیگم نے بھی اسے خاصا سنبھالا تھا۔ وہ ان کے ساتھ ہی انگلینڈ چلے جانا چاہتا تھا مگر جو دل اور روح پر بوجھ تھا وہ اسے کسی صورت قرار لینے نہیں دے رہا تھا۔ انوشہ اور بیٹے کی گمشدگی جیسے پھانس بن کر سینے میں چبھ گئی تھی۔ ایک ہفتہ اپنی بیوی اور ساس کے ساتھ خوب انجوائے کرنے کے بعد اس روز جب وہ انہیں ائرپورٹ چھوڑنے آیا تو بہت اداس تھا۔
تمام راستے بُریرہ کا ہاتھ اس کے ہاتھ میں رہا تھا اور وہ ایک ہاتھ سے گاڑی سنبھالے رہا‘ دو تین بار بُریرہ نے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے نکالنے کی کوشش کی تھی مگر اس نے ہر بار اس کی کوشش ناکام بنا کر گرفت مضبوط کرلی۔
ائرپورٹ کی عمارت کے باہر گاڑی ایک جھٹکے سے رُکی تھی۔انگلینڈ کے لیے روانہ ہونے والی فلائٹ میں ٹائم بہت کم رہ گیا تھا۔ شاہ زر آخری وقت تک بُریرہ کے ساتھ رہا۔ وقتِ رخصت اس نے بُریرہ کی پیشانی چومی تھی جس پر وہ اس کا ہاتھ تھام کر رو پڑی۔
’’لو یو سو مچ شاہ… آئی آل ویز مس یواِن مائی لائف…‘‘
’’می ٹو…‘‘ نرمی سے کہتے ہوئے اس نے بُریرہ کا ہاتھ تھپتھپایا۔ وہ اس کا شکریہ ادا کرتی سائلہ بیگم کے پیچھے لپکتی پلٹ گئی۔ شاہ زر دیر تک ان دونوں کو رخصت ہوتا دیکھتا رہا۔
///
گاڑی کی ہیڈ لائٹس اس کی آنکھوں میں پڑی تو وہ رُک گئی۔
سنسان روڈ پر جھٹکے کے ساتھ رُکی گاڑی سے ارسلان باہر نکلا تو امامہ کا دل خوشی سے دھڑک اٹھا۔ ڈھیلے ڈھالے ٹرائوزر اور شرٹ میں وہ کتنا پیارا لگ رہا تھا۔ وہ جانتی تھی وہ آئے گا‘ ضرور آئے گا اور وہ آگیا تھا۔ وہ بے تابی سے اس کی طرف بڑھی۔
’’مون! تم ٹھیک ہو…؟‘‘ وہ پریشان تھا جب وہ مسکرائی۔
’’ہاں! الحمد للہ… کیوں کیا ہوا؟‘‘
’’وہ! تم نے ایمرجنسی میں بلایا تو میں فکر مند ہوگیا کہ جانے کیا ہوا ہے؟‘‘
’’پاگل ہو تم اور کچھ نہیں‘ میں نے تو اس لیے بلایا تھا کہ میں نے شجاع کا گھر چھوڑ دیا ہے‘ بس آج سے ہم اکٹھے رہیں گے۔‘‘
’’یہ کیسے ممکن ہے؟‘‘ اس کے چہرے کا رنگ اُڑا تھا۔
’’کیوں… کیوں ممکن نہیں؟ اب کس کا پریشر ہے تم پر؟ ہم نکاح کرسکتے ہیں ارسلان…!‘‘
’’نہیں کرسکتے… نہ میرے پاس کوئی جاب ہے نہ ٹھکانہ ہے‘ کہاں رکھوں گا تمہیں؟‘‘
’’جہاں تم رہوگے میں بھی وہیں رہ لوں گی‘ تم کہو گے تو سڑک کنارے جھونپڑی میں بھی رہ لوں گی‘ تمہارے ساتھ۔‘‘
’’دماغ خراب ہوگیا ہے تمہارا مون اور کچھ نہیں‘ اچھی بھلی سکون سے رہ رہی ہو‘ کیوں چھوڑ کر آئی ہو وہ گھر؟‘‘
’’تمہاری وجہ سے کیونکہ میں تم سے محبت کرتی ہوں‘ اس ایس پی سے نہیں۔‘‘
’’تو کیا ہوا؟ محبت انسان کا پیٹ نہیں بھرتی‘ ابھی میں اس پوزیشن میں نہیں ہوں کہ تمہاری ذمہ داری اٹھا سکوں‘ لہٰذا پلیز واپس چلی جائو مون! بلکہ آئو میں خود تمہیں چھوڑ کر آتا ہوں۔‘‘
’’ہر گز نہیں… میں واپسی کے سارے راستے بند کرآئی ہوں‘ اب وہاں پلٹنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔‘‘
’’تم حماقت کررہی ہومون! مگر میں تمہیں یہ حماقت نہیں کرنے دوں گا؟‘‘
’’کیوں… کیا تم مجھ سے پیار نہیں کرتے؟‘
’’کرتا ہوں‘ مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ تمہاری ہر حماقت پر سمجھوتا بھی کرلوں‘ ابھی میں جن لڑکوں کے ساتھ رہ رہا ہوں وہ اچھے لوگ نہیں ہیں‘ میں نہیں چاہتا کہ تم ان کی نظروں میں آئو۔‘‘
’’مجھے کچھ نہیں پتا‘ بس مجھے تمہارے ساتھ رہنا ہے۔‘‘ وہ اپنی ضد پر اڑی تھی۔ ارسلان کچھ کہتے کہتے رُک گیا۔
’’ٹھیک ہے‘ ایک شرط پر تم میرے ساتھ رہ سکتی ہو۔‘‘
’’مجھے تمہاری ہر شرط منظور ہے۔‘‘ وہ جذباتی ہوئی تھی جب وہ کچھ سوچتے ہوئے بولا۔
’’تو ٹھیک ہے‘ جس گھر میں تم ایس پی شجاع حسن کے ساتھ رہ رہی ہو وہ اپنے نام کروالو‘ میں وعدہ کرتا ہوں فوری نکاح کرلوں گا تم سے۔‘‘
’’کیا…؟‘‘ اسے حیرت سے جھٹکا لگا۔
’’حیران ہونے کی ضرورت نہیں ہے‘ میں کوشش کرکے جاب ڈھونڈ سکتا ہوں‘ گھر بنا کر نہیں دے سکتا تمہیں۔ اس لیے جس گھر میں رہ رہی ہو وہ اپنے نام کروالو‘ تاکہ بعد میں کوئی پریشانی نہ ہو۔‘‘ وہ اس کے کندھے پر بندوق رکھ کر چلا رہا تھا۔ امامہ پریشان ہوگئی۔
’’وہ اپنا گھر میرے نام کیوں کرے گا‘ اب تو شاید وہ مجھے طلاق بھی دے دے۔‘‘
’’کیوں! اب کیا ہوگیا ہے؟‘‘
’’بہت کچھ… اس نے مجھے تمہاری گاڑی سے نکلتے دیکھ لیا تھا‘ میں نے جھوٹ بولا تو اس نے تھپڑ مارا‘ جس پر میں اس سے جھگڑا کرکے چلی آئی۔‘‘
’’بہت غلط کیا تم نے‘ میں اس کی جگہ ہوتا تو جانے کیا کر بیٹھتا۔
’’ارسلان…!‘‘ ارسلان نے رُخ پھیرلیا۔
’’تم زندگی میں کچھ بھی نہیں کرسکتیں امامہ حسن! انتہائی بے کار فضول لڑکی ہو تم‘ تمہاری جگہ میں ہوتا تو اب تک جانے کتنا کچھ ہتھیا چکا ہوتا اس ایس پی سے۔‘‘
’’ایس پی نہیں رہا اب وہ‘ ڈی آئی جی بن چکا ہے اور مجھے چیزوں سے کبھی محبت نہیں رہی‘ سنا تم نے۔‘‘
’’جو بھی ہو‘ مگر مجھے ابھی سرمائے کی ضرورت ہے‘ تم نے اب تک میرے لیے کچھ نہیں کیا‘اب کرنا ہوگا‘ جیسے بھی ہو وہ گھر اپنے نام کرائو۔‘‘
’’میرے لیے یہ ممکن نہیں ہے۔‘‘
’’تو ٹھیک ہے پھر آج کے بعد تمہارے اور میرے راستے جدا جدا ہیں۔‘‘ ایک لمحے میں اس نے فیصلہ سنا دیا تو امامہ کی آنکھیں جیسے جل اُٹھیں۔
’’ایک اور آپشن بھی ہے میرے پاس اگر تم قبول کرنا چاہو۔‘‘ فوراً سے پیش تر اس نے اپنے فیصلے میں ترمیم کی تھی۔ وہ نم آنکھوں سے اسے دیکھتی رہی۔
’’یہ دیکھو…! یہ بے ہوشی کی دوا ہے‘ میں سوچ رہا تھا کہ ضرور میری وجہ سے شجاع نے تمہیں ٹارچر کیا ہوگا تو یہ دوا اسی وقت خریدلی تھی میں نے‘ شام کو دوگی تو صبح ہی اُٹھے گا‘ تب تک تم اس کی ہر قیمتی چیز‘ چیک بُک جو بھی ہاتھ لگتا ہے ہتھیا لینا‘ یقینا گارڈ تمہیں روکنے کی جرأت نہیں کرے گا‘ پھر اس کے بعد اگر اس ایس پی کو پتا بھی چل جاتا ہے تو کوئی پریشانی کی بات نہیں‘ زیادہ سے زیادہ وہ تمہیں طلاق ہی دے گا‘ دے دے۔ اِدھر وہ فارغ کرے گا اور اُدھر میں تمہیں اپنے ساتھ لے جائوں گا‘ یہاں سے کہیں دور۔ جہاں کوئی ہمیں پریشان کرنے والا نہ ہو‘ ٹھیک ہے نا!‘‘
بڑی مہارت سے جال پھینکتے ہوئے وہ اپنے پہلے سے پلان کیے منصوبے پر عمل کررہا تھا۔ امامہ بے بسی سے اسے دیکھتی آخری بازی کے طورپر یہ فعل سرانجام دینے کے لیے بھی تیار ہوگئی تھی‘ جس کے لیے اس کا دل اسے کسی طور پر اجازت نہیں دے رہا تھا۔
///
سنسان سڑک پر ارسلان حیدر اسے تنہا چھوڑ کر گاڑی میں واپس جابیٹھا تھا۔ یہ وہ شخص تھا جس کی محبت اس کے مفاد اور شرائط سے مشروط تھی۔
وہ اس کے معیار اور مفاد پر پوری اُترنے کے لیے ہلکان ہوتی جارہی تھی مگر‘ وہ شخص تھا کہ اب بھی اس سے خوش نہیں تھا۔ خطرناک موسم کے تیور بدلے تھے اور دیکھتے ہی دیکھتے اس کی آنکھوں کے ساتھ ساتھ بادلوں نے بھی اپنے انمول موتی گرانے شروع کردیئے تھے۔
اس کے شکستہ قدموں کی رفتار میں تیزی آئی تھی‘ جب کہ دل بے تکان دھڑک رہا تھا۔ جو راستہ ابھی تھوڑی دیر پہلے وہ اپنے لیے بند کر آئی تھی اب اسی راستے پر واپس پلٹنا کیسی ناقابلِ تصور شرمندگی کا باعث تھا۔ کیسے سامنا کرسکتی تھی وہ شجاع حسن کا‘ جسے بڑے کروفر سے ٹھکرا کر آئی تھی اور اب پلٹ کر واپس جانے کے بعد بھلا کیا حیثیت رہ جانی تھی اس کی‘ سوچیں تھیں کہ اسے الجھاتی جارہی تھیں۔
تیز قدموں کو گھسیٹتی وہ گھر کے سامنے پہنچی تو شرمندگی سے مرجانے کا مقام تھا۔ شجاع جو بے قراری سے سگریٹ نوشی کرتے ہوئے ٹیرس پر ٹہل رہا تھا‘ اسے سر جھکائے گیٹ سے اندر داخل ہوتے دیکھ کر بے ساختہ پُرسکون ہوگیا۔ آپ ہی آپ یہ لفظ اس کے ہونٹوں پر اُمڈ آئے تھے۔

ہجر کی رات آنکھوں میں گزاروں گا تو رو دوں گا
خیالوں میں تیری زلفیں سنواروں گا تو رو دوں گا
یونہی سنسان راتوں میں‘ پریشانی کے عالم میں
گلی میں آکے جب تجھ کو پکاروں گا تو رو دوں گا
تیری تصویر آنکھوں کو جھپکنے ہی نہیں دیتی
میں جب دیوار سے اس کو اُتاروں گا تو رو دوں گا
اگر میں زندگی بھی ہار دوں تو مسکرائوں گا
مگر اے دوست! جب تجھ کو میں ہاروں گا رو دوں گا

امامہ کی نظر اس پر نہیں پڑی تھی۔ وہ سر جھکائے چلتی سیدھی گڑیا کے کمرے میں آئی۔ کپڑے بارش میں بھیگنے کی وجہ سے خراب ہوگئے تھے‘ اس نے دروازہ لاک کیا اور بیگ سے کپڑے نکال کر تبدیل کرلیے۔
بھیگے کپڑے اٹھا کر ابھی وہ پھیلانے کا سوچ ہی رہی تھی کہ دروازہ ہلکی سی دستک سے بج اُٹھا۔ یک لخت اس کا دل زور سے دھڑکا تھا۔ تاہم وہ کپڑے وہیں صوفے پر پھینک کر دروازے کی سمت چلی آئی۔ کپکپاتے ہاتھوں سے چٹخنی گِرا کر جونہی اس نے دورازہ کھولا‘ شجاع حسن کو مقابل پاکر بے ساختہ سر جھکاگئی۔ تاہم اس نے اس کی طرف توجہ نہیں کی‘ آہستگی سے اسے سامنے سے ہٹا کر وہ اندر آیا اور بیڈ پر گہری نیند میں سوئی اپنی بیٹی کو اپنے مضبوط بازوئوں میں اُٹھالیا۔
امامہ اسے روکنا چاہتی تھی مگر وہ جس خاموشی سے آیا تھا اسی خاموشی سے واپس پلٹ گیا‘ نہ کوئی استفسار‘ نہ سرزنش‘ اس شخص کی خاموشی بھی کیسی جان لیوا تھی۔
وہ کچھ دیر دروازے میں کھڑی رہی‘ پھر گہری سانس بھرتے ہوئے واپس پلٹ آئی۔ اس رات وہ ایک پل کے لیے بھی سکون کی نیند نہیں سوسکی تھی۔ صبح ہونے میں ابھی کچھ وقت باقی تھا جب شجاع پھر اس کے کمرے میں آیا تھا‘ وہ جو بازو پر سر رکھ کر کروٹ کے بل لیٹی تھی‘ اسے دیکھتے ہی اٹھ بیٹھی۔
’’گڑیا کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے‘ تمہیں بلا رہی ہے۔‘‘
اس کی سرخ آنکھیں بھی رتجگے کی چغلی کھارہی تھیں۔ وہ سرعت سے اُٹھی اور جوتا پہنے بغیر اپنے بیڈ روم کی طرف بڑھ گئی۔ جہاں گڑیا بیڈ پر بیٹھی‘ ہچکیاں لے لے کر رو رہی تھی‘ اس کا دل جیسے کسی نے مٹھی میں لے لیا۔ لپک کر اسے اپنے سینے سے لگایا تھا۔
’’گڑیا…! میری جان… کیا ہوا؟‘‘
بچی اس کی پناہ میں آتے ہی اور بلک بلک کر رونے لگی‘ وہ شاید خواب میں ڈر گئی تھی‘ اسی لیے اسے دبوچے بس مما‘ مما کی گردان کرتی رہی اور وہ اس کا چہرہ‘ اس کے ہاتھ بے تحاشا چومتی رہی۔
شجاع آکر خاموشی سے دوسری سائیڈ پر ٹک گیا تھا۔ اس کا دایاں ہاتھ گڑیا کے سر میں چلتا‘ پیار سے اس کے بال سہلاتا‘ تحفظ کا احساس دلاتا رہا۔ امامہ شرمندہ سی بیٹھی رہی۔
’’میرا خیال ہے یہ کسی بھیانک خواب سے ڈر گئی ہے۔‘‘ تھوڑی دیر بعد اسے شجاع کی آواز سنائی دی تھی۔ اس نے کوئی رائے نہیں دی‘ گڑیا اس کے سینے سے لگی دونوں ہاتھوں میں‘ شجاع کا بازو تھام کر سہمی سہمی سی روتی رہی۔
///
مجھے محسوس ہوتا ہے جہاں میں آنکھ جھپکوں گی وہیں پہ حادثہ ہوگا
ٹرین چلنے لگی تھی! جمال صاحب انوشہ کے سر پر ہاتھ رکھے اسے پلیٹ فارم سے اُٹھا لائے۔ بہت ممکن تھا کہ جن لوگوں کے ہاتھ اس کا بچہ لگا تھا وہ اس پر قبضہ جمانے کے لیے‘ فساد کھڑا کرنے پہنچ جاتے۔ وہ سوچ رہی تھی کہ اگر صدف بیگم کی رحلت پر نزہت بیگم نے اس کا بچہ نہ دیکھا ہوتا تو آج شاید وہ اسے یوں فوری نہ پہچان پاتی اور وہ اپنے بچے کے کتنے قریب سے ہوکر گزر جاتی۔
ٹرین کی وِسل کے ساتھ اس نے اپنے بچے کو بانہوں میں بھرا تھا اور شکستہ وجود کے ساتھ اُٹھ کھڑی ہوئی تھی‘ پلیٹ فارم پر موجود لوگوں کا رش اب چھٹنے لگا تھا۔
وہ دوبارہ ٹرین میں چڑھ آئی۔ بچہ اب خاموش ہوچکا تھا۔ اس کا دل تیزی سے دھڑکتا اپنے خالقِ حقیقی کا شکر ادا کررہا تھا کہ جس کے کرم سے وہ اپنے بچے تک پہنچ پائی تھی‘ وگرنہ دنیا کے اس سمندر میں سارے رشتے گنوانے کے بعد بھلا اسے اپنا بیٹا پانے کی امید ہی کہاں رہی تھی۔ حالات نے جیسے اسے اپنی ٹھوکر پر رکھ رکھا تھا‘ اس کے بعد تو وہ کوئی اختیار بھی استعمال کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہی تھی۔ زاور اور صدف بیگم کی رحلت کے بعد یوں بھی اس کا دماغ پہلے جیسا نہیں رہا تھا۔ وہ قدم قدم پر تھکنے اور ہانپنے لگی تھی۔
ٹرین سے باہر بھاگتے مناظر کے ساتھ‘ سرد ہَوا کا سلسلہ پھر شروع ہوگیا تھا۔ اس نے اپنے بچے کو اچھی طرح آغوش میں چھپا کر اپنا دوپٹا اس پر پھیلادیا۔ نزہت بیگم اب جاگ رہی تھیں‘ وہ سر سیٹ کی پشت گاہ سے ٹکا کر سکون سے پلکیں موند گئی۔
رات بھر کے سفر کے بعد گاڑی اگلے اسٹیشن پر رکی تو وہ جھٹکے سے بیدار ہوگئی۔ منزل آگئی تھی۔مگر وہ ابھی تک لاعلم تھی کہ اسے کہاںجانا ہے۔
جمال صاحب ٹیکسی رکوا چکے تھے‘ وہ نزہت بیگم کے ساتھ اپنے بچے کو اُٹھائے خاموشی سے ٹیکسی میں آبیٹھی‘ تقریباً ایک گھنٹے کے بعد ٹیکسی ایک پوش علاقے میں داخل ہوئی تھی۔ تبھی جمال صاحب نے اسے بتایا۔
’’کچھ عرصہ پہلے زاور نے یہاں ایک گھر خریدا تھا تمہارے لیے مگر وہ اسے تعمیر نہ کرسکا۔ انگلینڈ میں سیٹل ہونے کی وجہ سے اس نے یہاں اپنی ساری پراپرٹی فروخت کردی تھی۔ اسی لیے اس گھر کی تعمیر بھی رک گئی۔ وہ چاہتا تھا کہ تمہیں بھی وہیں سیٹ کروادے‘ اس سلسلے میں کئی بار اس کی تمہارے شوہر سے بات بھی ہوچکی تھی مگر… قدرت نے اسے اتنا وقت ہی نہیں دیا‘ وہ بدنصیب تو چند ماہ بعد دنیا میں آنے والے اپنے بچے کی خوشی بھی نہ دیکھ سکا‘ بہرحال یہاں تمہارے نام پر جو گھر ہے وہ زاور نے یہاں اپنے ایک دوست کے سپرد کردیا تھا‘ اسی نے سنا ہے تعمیر مکمل کروائی ہے اس گھر کی۔ ابھی ہم وہیں چل رہے ہیں‘زاور کا جو بزنس انگلینڈ میں ہے اس کی دیکھ بھال بھی وہی کررہا ہے‘ سال میں دوچار بار چکر لگالیتا ہے پاکستان کا‘ بہت اچھا لڑکا ہے۔‘‘ جمال صاحب بتارہے تھے‘ اس کی آنکھیں یک لخت آنسوئوں سے بھر آئیں۔
اسی پل ٹیکسی ایک جھٹکے کے ساتھ جس شان دار گھر کے سامنے رُکی تھی۔ وہ واقعی اپنی شان و شوکت کے لحاظ سے اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتا تھا۔ گیٹ پر گارڈ موجود تھا‘ جمال صاحب اپنا تعارف کروا کر نزہت بیگم اور انوشہ کو ساتھ لیے اندر چلے آئے۔
’’اب تم جب تک چاہو یہاں رہ سکتی ہو بیٹی! کبھی مت سمجھنا کہ تمہارا دنیا میں کوئی نہیں رہا‘ وہ اوپر سات آسمانوں پر بیٹھا ربّ ہے ناں‘ اپنے ہر بندے پر نظر رکھتا ہے‘ کس کی آنکھ میں آنسو ہیں‘ کس کے لبوں پر مسکراہٹ ہے‘ سب پتا ہوتا ہے اسے‘ وہ اپنے بندے کو آزماتا ہے مگر اس پر ظلم نہیں کرتا۔‘‘ انوشہ کے سر پر ہاتھ رکھے وہ اسے سمجھارہے تھے۔ وہ سر جھکائے آنسو ضبط کرتی رہی۔
اس کابیٹا وہاں آکر بہت خوش تھا۔ وہ دلچسپی سے اسے دیکھتی دیر تک نزہت بیگم سے باتیں کرتی رہی۔ جمال صاحب کے بقول وہاں روزانہ صفائی والی آتی تھی مگر پھر بھی گھر کو توجہ کی ضرورت تھی۔ وہ ایک ایک چیز کو بغور دیکھتی‘ خامیاں نوٹ کرتی رہی‘ رات میں تھکن سے بے حال کب اس کی آنکھ لگ گئی‘ اسے پتا ہی نہ چلا۔
اگلے روز صبح وہ جلدی بیدار ہوگئی تھی۔ایک مدت کے بعد ٹھنڈے پانی سے وضو کرکے اس نے فجر کی نماز ادا کی تو رگ و پے میں عجیب سا سکون اُتر آیا۔ اس لمحے اس کا دل شدت سے قرآن پاک کی تلاوت کو چاہا تھا مگر ابھی وہ نہیں جانتی تھی کہ اسے کون سی چیز کہاں ملے گی؟ دو تین کمرے لاک بھی تھے۔ لہٰذا نماز کے بعد وہ دیر تک تسبیح کرتی رہی‘ پھر کچھ سوچ کر ناشتے کی تیاری کے لیے کچن کی طرف چلی آئی۔ جہاں بند ڈبوں میں ضروریات زندگی کی ہر چیز موجود تھی۔
گیس آن کرکے اس نے چائے کا پانی رکھا تھا‘جب نزہت بیگم بھی بیدار ہوگئیں‘ اس کا مُنا جمال صاحب کے پاس سورہا تھا۔ نزہت بیگم، انوشہ کے پاس چلی آئیں‘ تھوڑی دیر اِدھر اُدھر کی باتوں کے بعد وہ اپنے اصل مقصد کی طرف آگئیں۔
’’مجھے تم سے کچھ بات کرنی تھی انوشہ!‘‘ بڑے محتاط انداز میں انہوں نے اسے مخاطب کیا تھا۔ وہ آٹا گوندھتی رک گئی۔
’’جی کیجیے!‘‘
’’دیکھو غصہ مت ہونا‘ میں جس جگہ پر ہوں اگر تم اس جگہ پر ہوتیں تو میری پریشانی بہتر سمجھ سکتی تھیں۔ خدا گواہ ہے میں نے کبھی یہ نہیں سمجھا کہ تم اور زاور میرے بچے نہیں ہو‘ یا یہ کہ تم نے میرے بطن سے نہیں‘ صدف کے بطن سے جنم لیا ہے‘میں وہاں انگلینڈ میں تھی تب بھی دل یہیں تمہارے پاس پڑا رہتا تھا۔ اب تو خیر بات ہی اور ہے۔‘‘ وہ تمہید باندھ رہی تھیں‘ انوشہ کے کان کھڑے ہوگئے۔
’’تم جس اذیت اور کرب سے گزر کر آئی ہو اور گزر رہی ہو‘ مجھے اس کا اندازہ ہے‘ اس کے باوجود تمہارے بابا چاہتے ہیں کہ تمہاری شادی کردی جائے۔‘‘
’’کیوں…؟ کیا بابا کو میں زندہ چلتی پھرتی اچھی نہیں لگتی؟‘‘کتنی بدتمیزی سے فوری جواب دیا تھا اس نے۔ نزہت بیگم گڑبڑا کر رہ گئیں۔
’’نفرت ہے مجھے مرد ذات کے نام سے‘ شدید نفرت ہے مجھے شادی کے لفظ سے۔ اچھی یا بُری‘ جیسی زندگی بھی میرے ربّ نے میرے نصیب میں لکھ دی ہے مجھے قبول ہے‘ بنا کسی کے ساتھ‘ کسی کے سہارے کے‘ سمجھیں آپ…‘‘ وہ اتنی تلخ ہوجائے گی انہیں اندازہ نہیں تھا۔ انوشہ اب رُخ پھیرے آٹے پر اپنا بقیہ غبار نکال رہی تھی۔
نزہت بیگم مایوس ہوکر جمال صاحب کے پاس کمرے میں چلی آئیں۔ انوشہ کا بیٹا ان کے ساتھ کھیل رہا تھا۔
’’نماز پڑھ لی…؟‘‘
’’ہوں… مسجد جانے کی ہمت نہیں تھی‘ اس لیے گھر پر ہی ادا کرلی‘ انوشہ کیا کررہی ہے؟‘‘
’’ناشتا بنا رہی ہے… آج تو اس نے بھی نماز ادا کی ہے۔‘‘
’’ماشاء اللہ! وہ پاک پروردگار چاہے گا تو آہستہ آہستہ دل کے سارے جالے صاف ہوجائیں گے اس کے۔ میں ہر نماز میں اس کے لیے خصوصی دعا کرتا ہوں‘ تم بھی دعا کرنا بیگم! کل سرمد بیٹا آئے تو اسے وہ پسند آجائے‘ میں اب زیادہ دن اسے بے آسرا نہیں دیکھ سکتا۔‘‘
’’میں بھی نہیں دیکھ سکتی مگر وہ بہت ضدی ہے‘ میرا خیال ہے اس بار اگر اس کے ساتھ زبردستی ہوئی تو وہ برداشت نہیں کرے گی۔‘‘
’’تمہاری بات ہوئی ہے اس سے؟‘‘
’’ہاں! وہ کسی طور دوبارہ شادی کے حق میں نہیں ہے۔‘‘
’’پاگل ہے وہ‘ تم نے سمجھایا نہیں اسے؟‘‘
’’سمجھایا تھا‘ مگر بچے جب بڑے ہوکر کندھوں تک آجائیں تو پھر انہیں کچھ بھی سمجھانا بہت مشکل ہوجاتا ہے جمال! میرا نہیں خیال کہ اس بار وہ کسی بات پر سمجھوتا کرے گی۔‘‘
’’اچھا! اللہ بہتر کرے گا‘ تمہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے‘ ابھی وہ ذہنی طور پر ٹھیک بھی تو نہیں ہے‘ وقت کے ساتھ ساتھ سب ٹھیک ہوجائے گا۔‘‘
’’اللہ کرے ایسا ہی ہو۔‘‘
نزہت بیگم خدشات کا شکا رتھیں‘ جمال صاحب اپنے تیزی سے بجتے سیل کی طرف متوجہ ہوگئے۔
///
بارش خوب برس رہی تھی۔ کھلے آسمان کے نیچے وہ تن تنہا کھڑی‘ موسم کی ہولناکی کا نظارہ کررہی تھی جب اچانک اس نے دیکھا کہ بادلوں کی گرج کے ساتھ آسمان پر دراڑیں پڑنا شروع ہوگئی تھیں‘ وہ خوف کے مارے سہم کر اندر کی طرف بھاگی مگر تب تک آسمان کا ایک ٹکڑا ٹوٹ کر زمین پر آپڑا۔
آسمان کے ٹوٹنے کے ساتھ ہی زمین سے بادلوں تک پانی کی دیوار بن گئی اور یوں لگا جیسے دنیا پانی میں گھِر کر رہ گئی ہو‘ہر طرف چیخ و پکار شروع ہوگئی تھی۔ گوری نے لوگوں کے ساتھ اندھا دھند بھاگنا شروع کردیا‘ اسے سمجھ ہی نہیں آرہی تھی کہ یہ پل بھر میں کیا ہوگیا تھا۔
لوگ قیامت‘ قیامت پکار رہے تھے اس کا دل جیسے خون میں ڈوب کر رہ گیا‘ بس اتنی جلدی اختتام ہوگیا تھا دنیا کا؟ اتنی سی زندگی تھی اس کی؟
وہ بھاگتی جاتی تھی اور خوف سے روتی جاتی تھی‘ کسی کو نہیں پتا تھا کہ وہ کہاں جارہا ہے عجیب افراتفری اور نفسانفسی کا عالم تھا‘ زمین اُدھڑتے ہوئے قالین کی مانند سمٹتی جارہی تھی‘ نیچے گہرے کھدان اور آگ کا سمندر تھا‘ اس کی کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کرے‘ تبھی اسے زور کی ٹھوکر لگی اور وہ منہ کے بل گِری تھی‘ اسی اثناء میں منظر بدلا تھا اور اس نے اپنے سامنے سفید لباس میں ملبوس ایک نورانی چہرے والے نیک بزرگ کو دیکھا تھا۔ وہ تسبیح پرکچھ پڑھ رہے تھے اور گوری مٹی سے بے حال ان کے سامنے زمین پر اوندھے منہ گِری زارو قطار رو رہی تھی۔بزرگ نے آنکھیں کھول کر ایک نظر اسے دیکھا تھا پھر بارعب آواز میں بولے تھے۔
’’اب کیوں روتی ہے بچی! اب تو عمر کی نقدی ختم ہوچکی‘ اب اگلے سفر کا سوچ۔ یہ دنیا تو صرف بازار تھی جس میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے تمہیں دوسرے اربوں لوگوں کے ساتھ عمر کی مخصوص نقدی دے کر بھیجا تھا کہ جا ! دنیا کے بازار سے اپنی آخرت کے لیے کچھ خرید لا‘ کیا خریدا تُو نے؟ عمر کی ساری نقدی خرچ کرکے اپنی آخرت کے لیے کیا خریدا؟ نیکی یا بُرائی‘ آخرت کی فکر یا گمراہی‘ دین کی معلومات‘ سچے دین کا علم یا دنیا داری؟ جھانک اپنے گریبان میں اور دیکھ اپنی جھولی کی طرف… صرف دنیا داری خریدی تُو نے‘ عمر کی ساری نقدی خرچ کرکے کمایا تو کیا کمایا؟ صرف دنیا داری؟‘‘ بزرگ کی آواز میں جلال تھا وہ مزید بلک بلک کر رو پڑی۔
’’دنیا والوں کی پروا کی تُو نے‘ ان کی خوشنو دی کا خیال رکھا‘ ان کی پروا کی‘ اپنے ربّ کا کیوں نہیں سوچا‘ جس نے تجھے دنیا کے بازار میں خریداری کے لیے بھیجا تھا‘ اپنی آخرت کی فکر کیوں نہیں ہوئی تجھے… کس گمان میں اپنے اصل سے غافل رہی تُو‘ بول…‘‘ وہ کیا بولتی‘ بولنے کے لیے کچھ تھا ہی نہیں۔
’’اب کیوں روتی ہے‘ اب تو اختیار میں کچھ بھی نہیں‘ عمر کی ساری نقدی‘ سارے ماہ و سال خرچ ہوچکے۔ بھٹک گئی تُو بھی دنیا کے اس بازار میں‘ اب کس بات کا غم؟ دنیا والوں سے امید رکھی تُو نے‘ رشتوں کی ڈوری میں الجھ کر دنیا کی طرف دیکھا‘ اپنے ربّ کی طرف کیوں نہیں دیکھا‘ جس کا در ہمیشہ کھلا رہتا ہے‘ جہاں ہمیشہ واپسی کا انتظار ہوتا ہے۔ عمر کی نقدی تک تجھے واپسی کا خیال نہیں آیا‘ اب جب اس نے ڈوری کھینچ کر واپس بلالیا تو روتی ہے‘ اپنے اعمال پر غم کرتی ہے‘ بڑی بدنصیب ہے تُو…‘‘ بزرگ کے جلال میں کوئی فرق نہیں آیا تھا‘ گوری کی آنکھ کھل گئی۔
آدھی رات کے اس پہر میں اس کا سارا وجود پسینے سے شرابور ہوچکا تھا‘بدن پر ایک عجیب سی کپکپی طاری تھی‘ یہ کیسا خواب تھا؟ کیسی آگہی تھی؟ دنیا کے بازار… عمر کی نقدی کی کیا کہانی تھی؟
وہ کیا نقصان تھا جس کا احساس اسے خواب میں دلایا جارہا تھا؟ وہ کچھ دیر بستر پر بیٹھی سہمی رہی‘ پھر پانی پینے کے لیے اُٹھی تو دوبارہ نیند ہی نہ آئی‘ دن بھر کام میں مصروف رہنے کی وجہ سے کتنی تھک کر سوئی تھی مگر اس عجیب و غریب خواب نے کتنا بے چین کردیا تھا اور یہ پہلی بار تو نہیں تھا‘ بی اماں کے گھر بھی وہ ایسے خوابوں کی زد میں رہی تھی‘ کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا کرے؟
شہر آنے کے بعد وہ بہت بدل گئی تھی‘ خود کو مصروف رکھنے کے لیے بہت سے کام ڈھونڈ لیے تھے اس نے مگر سکون تھا کہ ابھی بھی دسترس سے دور تھا۔
فجر کی نماز میں ابھی کافی وقت تھا‘ وہ وضو کرکے جائے نماز پر آگئی‘ مختلف سوچوں اور ذہن میں بھٹکتے ڈھیروں خیالات کے ساتھ‘ جیسے تیسے اس نے تہجد کی نماز ادا کی ۔ بی اماں بارہ نفل پڑھتی تھیں اس سے صرف آٹھ ادا ہوسکے تھے‘ نماز کی ادائیگی کے بعد ہاتھ دعا میں اُٹھے تو صرف ایک ہی دعا لبوں پر آئی۔
’’اے میرے مالک! مجھے اس روندی ہوئی دنیا سے بے نیاز کردے‘ میں ان میں سے نہیں ہوں جن کے لیے یہاں سکون ہے‘ مجھے یہ دنیا داری نہیں چاہیے میرے مالک! مجھے وہ راستہ دکھا جو خیر اور نجات کا راستہ ہے۔ میں بُرائی اور بُرائی پھیلانے والوں سے بے نیاز ہوں‘ میرے ہر دانستہ و غیر دانستہ فعل کوپاک کردے مالک! میری زبان‘ ہاتھ اور عمل کے شر سے ہر کسی کو محفوظ رکھ(آمین)۔‘‘ شفاف موتیوں کی طرح آنسو ٹوٹ ٹوٹ کر اس کے گالوں پر بکھر رہے تھے اور وہ روتی جارہی تھی۔
///

مجھ سے بچھڑ کے تُو بھی نہ پائے گا کبھی چین
آئیں گی یاد میری وفائیں تمام عمر
تجھ پر تھا اعتبار مگر اب نہیں رہا
اب غیر کو دکھانا ادائیں تمام عمر

ایان مل گیا تھا۔ وہ خوشی سے بے حال ہوتی اسے اپنی ماں کے پاس لے آئی۔ اسی اثناء میں اس کے سیل نے بیٹری ختم ہونے کا سگنل دیا تھا‘ اس نے تیزی سے یہ قطعہ ٹائپ کیا اور عباد کوبھیج کر موبائل بند کردیا۔
دل تھا کہ بھائی مل جانے کی خوشی کے باوجود جیسے غم سے پھٹا جارہا تھا۔ وہ اسپتال سے نکل آئی۔ ارادہ گھر جاکر سب کو ایان کے مل جانے کی خوش خبری سنانے کا تھا‘ مگر قدم تھے کہ مزید چلنے سے انکاری ہوگئے تھے‘ بہت مجبور ہوکر اسے رکشہ لینا پڑا تھا۔ وہ زندگی میں بہت کم روئی تھی مگر اس وقت جانے کیا ہوا تھا کہ آنسو بھل بھل بہہ رہے تھے۔
’’واہ ری غربت! تجھے کسی کی خالص محبت بھی نصیب نہیں۔‘‘
’’کہاں جانا ہے بی بی؟‘‘ رکشے والے کی آواز اس کی سماعتوں سے ٹکرائی تھی اور جانے کس بے خیالی میں اس کے لبوں سے نکلا تھا۔
’’ساحلِ سمندر…‘‘
پھٹ پھٹ کی تیز آواز کے ساتھ رکشہ چلتا رہا اور وہ خود میں کھوئی رہی‘ ہوش اس وقت آیا جب رکشہ ڈرائیور نے ساحل کے قریب لا اُتارا۔
’’ایک سو پچیس روپے ہوگئے باجی!‘‘
’’ایک سو پچیس؟‘‘ حقیقی معنوں میں وہ اب چونکی تھی۔
’’ہاں جی‘ ایک سو پچیس! فارسی میں بولوں کیا؟‘‘
دن بھر مشقّت سے اُکتایا رکشہ ڈرائیور تپا تھا۔ صاعقہ اپنی بے خبری پر جی بھر کے پچھتائی‘ مٹھی میں پکڑے پیسوں کی گنتی کرنے لگی‘ کل دو سو روپے تھے‘ اس نے ایک سو پچیس نکال کر رکشہ والے کو تھمادیئے۔ رکشہ پھٹ پھٹ کرتا آگے بڑھ گیا جب کہ وہ ہونق سی وہیں کھڑی رہی۔
’’کیوں آئی ہوں میں یہاں‘ بھلا میرا یہاں کیا ہے؟‘‘ منہ ہی منہ مین بڑبڑاتی وہ سمندر کے قریب چلی آئی۔ اسے لگا جیسے سمندر کی ہر لہر اس پر ہنس رہی ہو۔
’’سوری… میں آپ کو نہیں جانتا۔‘‘ اُف کتنی اذیت تھی اس ایک جملے میں‘ کاش! وہ کسی کو بتا سکتی۔ وہ سُن سی گھٹنوں کے گرد بازو لپیٹ کر بیٹھ گئی۔
’’آپ کو کیا لگا میں آپ کے منہ سے اصل حقیقت جان کر آپ سے نفرت کرنے لگوں گا؟ دو حرف بھیج کر چلا جائوں گا‘ اپنے اور میرے تعلق کو اتنا سستا مت کریں صاعقہ! پلیز…‘‘ وہ کہیں قریب ہی سے بولا تھا۔ وہ سر اٹھائے سمندر کی لہروں کو دیکھتی رہی۔
’’تم باز نہیں آئوگی ناں صاعقہ! مت چُنو وہ راہیں جن پر چل کر پچھتانا پڑے‘ مڈل کلاس گھرانے کی لڑکی ہو تم‘ لوئر مڈل کلاس گھرانے کی‘ جہاں صرف خواب دیکھے جاتے ہیں‘ ان کی تعبیر پانے کی ضد نہیں کی جاتی۔‘‘ کتنی بلند باز گشت تھی سمندر کی لہروں کی‘ وہ اچانک پھٹ پڑی۔
’’کیوں… کیوں ضد نہیں کی جاتی۔ مڈل کلاس گھرانے کی لڑکیاں کیا انسان نہیں ہوتیں‘ ان کے سینے میں کیا دل کی جگہ پتھر ہوتا ہے؟ کیوں بانٹ دیا ہے محبت کو گھرانوں میں؟ کوئی اپنی رضا سے نصیب لکھوا کر لاتا ہے اپنے؟کیوں روند دیا ہے معاشرے نے انسانوں کو اسٹیٹس میں بانٹ کر؟ مڈل کلاس گھرانے کی لڑکیاں کہاں جائیں؟ کیوں پتھر سے بنا کھلونا سمجھ لیا ہے لوگوں نے مڈل کلاس گھرانے کی لڑکیوں کو‘ کیوں…‘‘ ساحل سمندر پر اس وقت زیادہ رش نہیں تھا لہٰذا کوئی اس کی طرف متوجہ نہیںہوا۔ سمندر کی تمسخر اڑاتی لہریں اب بھی اس پر ہنس رہی تھیں‘ اس نے اشتعال میں آکر کئی پتھر اُٹھائے اور سمندر کی طرف اُچھال دیئے۔
’’صرف مڈل کلاس گھرانوں کی میراث ہے یہ محبت سنا تم نے۔ اپر کلاس گھرانوں کی لڑکیاں یہ روگ نہیں پالتیں‘ سوحیلے ہوتے ہیں ان کے پاس خود کو مصرو ف رکھنے کے لیے نوکریاں‘ کلب‘ نیٹ‘ دوست اور نہیں تو ملک چھوڑ کر چلی جاتی ہیں وہ مگر… مڈل کلاس گھرانے کی لڑکی تو کہیں جا بھی نہیںسکتی۔ ایک ایک محبت کو سنبھال کر اثاثے کی طرح رکھتی ہے‘ خواب دیکھتی ہے اور ٹوٹ جانے پر خاموشی سے اپنی ذات کی کرچیاں چُن لیتی ہے‘ کوئی وایلا نہیں کرتی‘ کسی کلب‘ کسی انٹرنیٹ‘ کسی پارٹی میں سکون نہیں ڈھونڈ سکتی وہ۔ چھوٹی سی چار دیواری ہوتی ہے اور احساسات کا رستالہو ہوتا ہے بس۔ کون قدر کرسکتا ہے مڈل کلاس لڑکی سے بڑھ کر محبت کی‘ بولو… ہے کوئی جواب تمہارے پاس؟‘‘ اس بار پھر وہ چلاّئی تھی‘ جواب میں سمندر کی لہریں خاموش ہوگئیں۔
’’بہت اذیت ناک ہے یہ غریب ہونا بھی‘ نہ خودداری رہتی ہے نہ قدر۔ کاش! تم ادھوری تمنائوں کی اس اذیت کو سمجھ سکتیں‘ مگر میں یہ اذیت ساتھ لے کر نہیں چلوں گی‘ اس نے فریب کیا ہے تو کیا؟ مجھے اپنی قدر ہے‘ صاعقہ سو بار لعنت بھیجتی ہے ایسے دکھ اور ایسی محبت پر‘ سنا تم نے… کبھی ٹوٹا ہوا نہیں دیکھو گی تم مجھے‘ کبھی نہیں…‘‘ وہ چلاّ رہی تھی اور زار و قطار رو رہی تھی۔
’’مڈل کلاس گھرانے کی لڑکی ہوں‘ جانور تو نہیں ہوں نا‘ پھر کیوں کیا اس نے میرے ساتھ ایسا‘ آخر کیوں؟‘‘ اذیت تھی کہ کسی طور کم ہونے کانام نہیں لے رہی تھی۔
’’کیوں کہا اس نے کہ اسے میرے غریب ہونے سے فرق نہیں پڑتا‘ اسے کیا پتا کیا ہوتی ہیں مڈل کلاس گھرانے کی لڑکیاں۔ زندگی کی چھوٹی چھوٹی چیزوں، چھوٹی چھوٹی خوشیوں کے لیے ترستی‘ جائز باتوں پر بھی بُری طرح پٹتی… آہ!‘‘
سورج ڈوبتا جارہا تھا۔ وہ مغموم سی اٹھ کھڑی ہوئی۔
بچھڑنے کی اذیت کو
اگر تم جاننا چاہو
تو کچھ پل کو ذرا یہ سانس اپنی روک کر دیکھو
تمہیں محسوس یہ ہوگا
بچھڑنا ’’موت‘‘ جیسا ہے
///
’’کیابات ہے عباد! پریشان دکھائی دے رہے ہو؟‘‘
وہ دوا لینے کے بعد گاڑی میں آکر بیٹھا تھا‘ جب اسے خاموش پاکر ہادیہ نے پوچھا‘عباد بنا کوئی جواب دیئے خاموشی سے گاڑی اسٹارٹ کرنے لگا۔
’’بتائو نا! کیا ہوا ہے؟‘
’’کچھ نہیں یار! دوست کی وجہ سے پریشان ہوں‘ اس کی مما کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔‘‘
’’ایک تو تم بھی ناں! چُن چُن کر دکھی دوست بنا رکھے ہیں تم نے۔‘‘ اس بار وہ پھر خاموش رہا۔
’’اب میں ایسے موڈ کے ساتھ مارکیٹ نہیں جائوں گی‘ بس گھر چلو۔‘‘ وہ خفا ہوئی تھی‘عباد نے خاموشی سے گاڑی گھر کے راستے پر ڈال دی۔
’’تم بہت بُرے ہو عباد! کبھی کبھی شدید نفرت محسوس ہونے لگتی ہے مجھے تم سے۔‘‘ اب وہ غبار نکال رہی تھی‘ عباد ہنوز خاموش رہا۔وہ دل جلاتی رُخ پھیرے بیٹھی رہی۔
’’جانے کیوں مجھے لگتا ہے جیسے کہیںپر کچھ غلط ہے‘ تم کچھ چھپا رہے ہو مجھ سے‘ یاد رکھنا عباد! اگر تم نے مجھ سے کچھ غلط کیا تو میں کبھی تمہیں معاف نہیں کروں گی۔‘‘
’’ٹھیک ہے۔‘‘ وہ جیسے بہت پریشان تھا۔
ہادیہ شدید غم و غصے کا شکار ہوئی‘ گاڑی رُکنے پر ایک جھٹکے سے نکل گئی۔
وہ گاڑی لاک کر رہا تھا جب اسے صاعقہ کا میسج موصول ہوا۔ دل کو کھینچ لینے والا قطعہ تھا۔ اس نے فوراً کال بیک کی مگر دوسری طرف سے کوئی جواب نہیں آرہا تھا۔ اس نے بے ساختہ گاڑی کے بونٹ پر زور دار مکا رسید کیا۔
’’کیوں کیا میں نے اس کے ساتھ ایسا؟ کیوں اتنا کمزور پڑ گیا میں‘ کیوں؟‘‘ اپنے عمل اپنی حرکت پر اب اسے پچھتاوا ہورہا تھا‘ مگر …
’’مجھے معاف کردو‘ میں بہت شرمندہ ہوں۔‘‘
اگلے ہی پل وہ بڑبڑایا تھا مگر یہ پچھتاوا فی الحال اس کی بے چینی کو کم کرنے میں کسی طور معاون ثابت نہ ہوسکا۔
اسے خبر ہی نہیں تھی کہ آنے والے دن اسے مزید کیا کیا دکھانے والے ہیں۔
///
’’سانول! تُو یہاں۔‘‘
’’ہاں آپا! حویلی چھوڑ آیا ہوں میں۔‘‘
’’ہائے او ربّا! مگر کیوں …؟‘‘
’’بس‘ غلامی نہیں کرسکتا میں کسی کی۔‘‘ وہ شکستہ دکھائی دے رہا تھا۔
آپا جو سانول کی پھوپو تھیں اور خاندان میں برابر کا رشتہ نہ ملنے کے جرم کی پاداش میں کنواری ہی بڑھاپے کی دہلیز پر آبیٹھی تھیں‘ آزردہ ہوگئیں۔
’’بہت خراب ہے تُو سانول! بچپن سے جانتی ہوں تجھے‘ میری ہی گود میں پل کر جوان ہوا ہے‘ کیسے نہیںجانوں گی پھر‘ مگر دیکھ سانول! زندگی کے ہر معاملے میں اکڑ نہیں چلتی۔‘‘
’’خدارا پھوپو! مجھے کچھ بھی سمجھانے کی کوشش مت کرنا‘ آپ جانتی ہو ناں میں مکھی بیٹھے آٹے کی روٹی نہیں کھاتا‘ وہ تو پھر لڑکی ہے‘ جو دو روز گھر سے باہر گزار کر برآمد ہوئی ہے‘ نہیں چاہیے ایسی بچپن کی منگ اور اس کے ساتھ زمین جائیداد۔ میرا پہلے ہی دل نہیں تھا اُدھر‘ بھائی کو بول میرا حصہ مجھے دے دے۔‘‘ کچھ بھی سننے پر آمادہ نہیں تھا وہ‘ پھپھو رنجیدہ سی سر جھکاگئیں۔
’’اتنا غصہ اچھا نہیں ہوتا سانول! جو زیادہ اکڑ کر چلتا ہے وہ جب ٹوٹتا ہے ناں تو ٹوٹنے کی تکلیف برداشت نہیں ہوتی اس سے۔ خدا کا واسطہ ہے تجھے‘ زندگی کے ساتھ سمجھوتا کرنا سیکھ لے‘ ورنہ بہت پچھتائے گا۔‘‘
’’کہاناں پھوپو! کوئی نصیحت نہیں‘ اپنا حصہ تو میں لے کر ہی رہوں گا‘ چاہے کچھ ہوجائے۔‘‘ وہ اشتعال کا شکار ہورہا تھا۔ پھوپو بے بسی سے اس کا منہ دیکھتی رہ گئیں۔
اسی شام انہوں نے حویلی جاکر بہزاد کے بڑے بھائی سے بات کی تھی اور انہیں ہر ممکن طور سے سمجھانے کی کوشش کی مگر نتیجہ کچھ بھی نہ نکلا تھا۔ دونوں بھائی اپنی اپنی ضد پر اُڑے تھے‘ نتیجتاً سانول شاہ نے حتمی قدم اٹھا لیا۔
دوست تو گائوں میں بھی کم نہیں تھے اس کے‘ پھر بھی شہر سے کئی غنڈے بلوائے تھے اس نے‘ تاہم اس کے اس اقدام کی خبر اس کے بھائی کو ہوگئی تھی اور اس نے بھی طیش میں آکر تیاری مکمل کرلی۔
آپا کی نہ پہلے کوئی اہمیت تھی نہ اس وقت ہی وہ کچھ کرسکیں۔ وہ چوہدری خاندان جس نے صرف بے بس نادار لوگوں پر ظلم کرنا سیکھا تھا اب اسی کا تماشہ لگا تھا اور گائوں کے بے بس نادار لوگ تماشائی تھے۔
دونوں طرف برابر کی جنگ تھی کہ اچانک منظر بدل گیا۔
سانول شاہ کے بھائی کے پسٹل سے نکلنے والی دو گولیاں جو سانول کے وجود میں اُتری تھیں‘ ساری کہانی کا پانسہ پلٹ گئی تھیں۔ دونوں طرف طاقت کا تصادم تھا اور اس تصادم میں ہار سانول شاہ کا مقدر بن گئی تھی۔
///
’’اب گڑیا کی طبیعت کیسی ہے؟‘‘
رات بھر جاگ کر اپنی بیٹی کے سرہانے بیٹھے رہنے کے بعد وہ صبح تھوڑی دیر کے لیے کمرے سے باہر گیا تھا‘ جب امامہ نے اس سے پوچھا۔ وہ رات دیر تک گڑیا کے پاس بیٹھ کر اسے مختلف کہانیاں سناتی رہی تھی۔ کل فجر سے لے کر پورا دن اور پوری رات‘ گڑیا نے اسے اپنے ساتھ ہی مصروف رکھا تھا۔ اس اثناء میں کئی بار ارسلان کا فون آیا تھا اور اس نے اسے شجاع کو وہ دوا دینے پر مجبور کیا تھا‘ جو اس نے خود امامہ کو دی تھی۔
جانے کیا بات تھی کہ کل سے اب تک وہ اسے ٹال رہی تھی‘ شاید گڑیا کی طبیعت کی وجہ سے مگر اب جب کہ وہ خفا ہونے لگا تھا تو اس نے ہمت باندھ لی۔
قدرت اللہ صاحب ابھی کمرے سے نہیں نکلے تھے‘ اس نے شجاع کو کچن میں ہی روک لیا۔
’’پہلے سے بہتر ہے۔‘‘
بنا اس کی طرف دیکھے وہ جواب دے کر کچن سے نکلنے لگا تھا‘ جب اس نے پھر پکار لیا۔
’’سنیں! میں ناشتہ تیار کررہی ہوں پلیز آج کرکے جایئے گا۔‘‘
’’کوئی ضرورت نہیں‘ اس گھر میں ہر کام کے لیے ملازم موجود ہیں‘ آپ کو کسی بھی زحمت کی کوئی ضرورت نہیں مس امامہ! ہاں ابا جی چیک اپ کے لیے آپا کے ساتھ ہی بیرون ملک جارہے ہیں‘ ہفتہ دو ہفتہ کے لیے ان کا سامان پیک کردیجیے گا۔ دوپہر میں گاڑی آئے گی انہیں لینے۔‘‘
’’آپ نہیں آئیں گے۔‘‘ اس کے احکامات کے جواب میں فوری اس نے پوچھا تھا جب وہ بولا۔
’’نہیں…‘‘ اور وہ مایوس ہوکر رہ گئی۔
دوپہر سے پہلے ہی فائزہ آپا اس سے ملنے چلی آئیں۔ وہی ان کا پیار‘ وہی شجاع کی باتیں اور وہی اسے بار بار اپنا خیال رکھنے کی ہدایت‘ وہ عورت مجسم پیار تھی۔ امامہ کو ان سے باتوں میں وقت گزرنے کا پتا ہی نہیں چلا۔
وہ رخصت ہوگئی تھیں‘ قدرت اللہ صاحب بھی جاتے ہوئے اسے خوب پیار کرکے گئے تھے۔ وہ کتنی ہی دیر اُن کے جانے کے بعد آزردہ سی بیٹھی رہی‘پھر ارسلان کی کال آگئی تو نئے سرے سے بے کلی کا شکار ہوکر رہ گئی۔
شجاع شام میں جلد لوٹ آیا تھا‘ وجہ گڑیا کی طبیعت کی خرابی تھی‘ وہ کھانا کھا کر آیا تھا۔ امامہ نے اسے شربت کا گلاس لا تھمایا۔
’’تھک کر آئے ہیں‘ میرے ہاتھ کا پانی تو پی ہی سکتے ہیں آپ۔‘‘
شجاع کے دیکھنے پر اس نے فوری وضاحت دی تھی جواب میں وہ گلاس تھام کر ایک ہی سانس میں خالی کر گیا۔
’’شکریہ!‘‘
مشروب پی کر فوراً اٹھتے ہوئے وہ اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا تھا جب کہ وہ گہری سانس بھر کر باہر لان کی طرف چلی آئی جہاں اس نے ارسلان کو کال کی تھی۔
’’ہیلو ارسلان! خوش ہوجائو‘ میں نے شجاع کو وہ دوا پلادی۔‘‘
’’شاباش! کب پلائی؟‘‘ فوری کال پک کرتے ہوئے وہ بے تحاشا خوش ہوا تھا۔ جب وہ بولی۔
’’ابھی دو منٹ پہلے‘ بتائو اب کیا کرنا ہے؟‘‘
’’انتظار! ایس پی شجاع حسن کی موت کا انتظار۔‘‘
’’کیا مطلب؟‘‘ اس کا دل بہت زور سے دھڑکا تھا۔ دوسری طرف وہ دل کھول کر ہنسا۔
’’مطلب تھوڑی ہی دیر میں اس کی زندگی کا چراغ گُل ہوجائے گا‘ کیونکہ تم نے اسے بے ہوشی کی دوا نہیں زہر پلایا ہے جان! اب دیکھنا ساری کہانی ٹھیک ہوجائے گی۔‘‘
وہ خوش ہورہا تھا۔ امامہ کے ہاتھ سے موبائل گِر پڑا۔ یہ کیاہوگیا تھا اس کے ہاتھوں۔ وہ چکراتے سر کو تھامتی وہیں بیٹھ گئی۔
///

کسی بھی موڑ پر‘ اگلے پڑائو پر
جدا ہی ہم کو ہونا ہے تو پھر آئو
یہیں پر اپنے اپنے آنسوئوں کو ہم الگ کرلیں
یہ جتنے زخم ہیں دل پر‘ اِدھر میری طرف کردو
کہ تم اکثر یہ کہتے ہو‘ یہ سب میری وجہ سے ہیں
مگر ٹھہرو…
یہاں کچھ خواب بھی ہوں گے‘ جو مل کے ہم نے دیکھے تھے
سنہری خواب تم رکھ لو ادھورے سب مجھے دے دو
کہ میری یوں بھی عادت ہے
مجھے ٹوٹی ہوئی چیزوں سے اک بے نام الفت ہے!

شام کے پھیلتے دھندلکوں کے ساتھ‘ وہاں دیہاتی خواتین کے کاموں میں مزید چستی آگئی تھی۔ شہر کو جاتی کچی سڑک کے کنارے پر بیٹھی‘ وہ چپ چاپ سی خود سے کچھ ہی فاصلے پر دہکتے تندور کے گرد کھڑی خواتین کو دیکھتی رہی۔ خشک اوپلوں سے تندور دہکاتی ایک دوسری سے باتوں میں مگن‘ وہ زندگی کو کتنے بھرپور انداز سے گزار رہی تھیں۔ انزلہ کی نگاہیں بے ساختہ اپنے ہاتھوں کی شفاف گلابی ہتھیلیوں پر ٹھہر گئیں۔
زمین کے وجدان میں کہیں وہ دن آج بھی اپنی پوری اہمیت کے ساتھ تازہ تھا کہ جس روز پہلی بار وہ سانول شاہ پر فدا ہوئی تھی۔
اوائل سردیوں کے دن تھے اور یونیورسٹی میں طلبہ کی حاضری کا زور کچھ روز کی ہڑتال کی وجہ سے قدرے ٹوٹ گیا تھا۔ وہاں یونیورسٹی میں کسی وزیر کا بگڑا ہوا سپوت کسی دوسرے شہر سے مائیگریشن کروا کر آیا تھا اور آتے ہی اس کی کچھ لوگوں سے ٹھن گئی تھی۔
اپنے باپ کے بڑے نام اور ان گنت دولت پر ملکیت نے اس کا دماغ آسمان پر پہنچا رکھا تھا‘ اساتذہ سے بات کرتے ہوئے بھی اس کا لہجہ خاصا گستاخانہ ہوتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ یونیورسٹی میں سوائے سانول شاہ کے گروپ کے دوسرا کوئی بھی اسے منہ نہیں لگاتا تھا۔ گزشتہ روز اپنی خدائی کے نشے میں چُور اس نے فزکس کے پروفیسر کے گریبان کو پکڑ کر ان سے خاصی بدتمیزی کی تھی جس پر ان پروفیسر کے ہونہار طلبہ نے اسے اور اس کے ساتھیوں کو پکڑ کر ان کی اچھی خاصی ٹھکائی کردی‘ بات پرنسپل کے ساتھ ساتھ ’’اوپر‘‘ پہنچی تو فوراً فزکس کے‘ پروفیسر کو جاب سے فارغ کرنے کے ساتھ ساتھ ان طلبہ کو بھی یونیورسٹی سے خارج کرنے کا حکم آگیا کہ جنہوں نے عزت مآب وزیر کے سپوت پر ہاتھ اٹھانے کی سنگین غلطی کے ساتھ ساتھ کبیرہ گناہ کیا تھا۔ پرنسپل احتجاج کا حق رکھتا تھا مگر صرف اپنی سیٹ کی سلامتی کے لیے حق اور سچائی سے مکمل آگاہی کے باوجود اس نے پروفیسر کو فارغ کرنے کے ساتھ ساتھ ان تمام طلبہ کو بھی یونیورسٹی سے نکال دیا۔ جو استاد کی محبت میں ان کے وقار اور عزت کے لیے‘ جناب وزیر صاحب کے سپوت سے الجھے تھے۔ سزا کڑی اور ناحق تھی‘ یہی وجہ تھی کہ یونیورسٹی کے دیگر طلبہ نے اس ظلم پر شدید احتجاج کرتے ہوئے اسٹرائیک کردی۔
پورے ایک ہفتے کے بعد حالات معمول پر آئے تھے۔ وہ بھی پروفیسر صاحب کی اپنے اس بگڑے ہوئے طالب علم سے معافی مانگنے پر کیونکہ وہ اپنے ساتھ ساتھ‘ اپنے ہونہار طلبہ کے روشن مستقبل کو دائو پر نہیں لگاسکتے تھے۔
انزلہ تمام حالات سے باخبر نہیں تھی‘ پھر بھی اسے سانول شاہ پر غصہ آیا تھا جو ایک آوارہ لڑکے کا ساتھ دے رہا تھا۔ یہ بات اس کے علم میں بہت بعد میں آئی تھی کہ وزیر کا وہ رئیس بیٹا سانول کا بچپن کا گہرا دوست تھا اور صرف سانول کی وجہ سے مائیگریشن کروا کے وہاں آیا تھا۔ میران نے اسے سانول اور اس کے دوستوں سے محتاط رہنے کی تنبیہہ کی تھی کیونکہ وہ اساتذہ کا چہیتا اور سانول گروپ کا سب سے بڑا مخالف تھا۔
انزلہ کو اس روز کچھ ضروری نوٹس تیار کرنے تھے۔ میران اس روز یونیورسٹی نہیں آیا تھا اگر اسے لائبریری سے چند اہم کتابیں درکار نہ ہوتیں تو شاید وہ بھی نہ آتی‘ زوبی بھی اس کی دھمکیوں پر صرف اس کے ساتھ کے لیے زبردستی آئی تھی۔
موسم بے حد حسین تھا۔ کبھی ہلکی ہلکی بوندا باندی ہونے لگتی تو کبھی ہلکی سی دھوپ نکل آتی‘ وہ لائبریری میں گھسی تو پھر وقت ختم ہونے پر ہی باہر نکلی۔
اپنے کام میں محویت کی وجہ سے اسے وقت کا اندازہ ہی نہیں ہوسکا تھا۔ وہ اپنے نوٹس سمیٹتی ‘ لان کی طرف چلی آئی جہاں زوبی اس کا انتظار کررہی تھی۔
’’صد شکر کہ تمہارا چلہ ختم ہوگیا۔ کچھ اپنے قیس کی خبر بھی ہے کہ نہیں؟‘‘
ان کا ارادہ موسم کے حُسن کی وجہ سے پیدل مارچ کا تھا‘ لہٰذا وہ اس کے قدموں سے قدم ملا کر چلتی ہوئی بولی تو انزلہ کے قدم رک گئے۔
’’کون قیس؟‘‘
’’وہی… جس کی آنکھیں خراب ہیں اور جسے پوری یونیورسٹی میں تم جیسی اسٹوپڈ لڑکی کے سوا دوسری کوئی نظر ہی نہیں آتی۔‘‘
’’او… سانول شاہ؟‘‘ وہ مبہم سا مسکرائی تھی جس پر زوبی چڑ گئی۔
’’جی ہاں‘ اس کے سوا دورِ حاضر کا قیس اور ہو بھی کون سکتا ہے۔‘‘
’’کیا ہوا اسے؟‘‘
’’بخار اور قے ہورہی ہے پھر بھی یونیورسٹی آیا ہے۔‘‘
’’تو…؟‘
’’تو یہ کہ سب دوست چھیڑ رہے ہیں اسے‘ ویسے بدمعاش بنتا ہے مگر تیرا ذکر آتے ہی لبوں کی مسکراہٹ ماند نہیں پڑتی جناب کی۔‘‘
’’اچھا… تمہارا بڑا دھیان لگتا ہے ایسی باتوں میں۔‘‘
’’ساری یونیورسٹی کا لگتا ہے۔‘‘ وہ مسکرائی۔
انزلہ اسے دیکھ کر رہ گئی۔ ابھی وہ لوگ یونیورسٹی روڈ کراس کرکے دوسری طرف تک آئی تھیں کہ سانول شاہ کا دوست اور وزیر صاحب کا بگڑا ہوا سپوت حمزہ کیانی‘ اپنی چمچماتی گاڑی کے ساتھ ان کے راستے میں آگیا۔
’’آئو انزلہ… میں گھر چھوڑ دیتا ہوں۔‘‘
وہ اس کی جرأت پر ٹھٹکی تھی۔ تبھی ناگواری سے بولی۔
’’جی نہیں… میں چلی جائوں گی… شکریہ۔‘‘
’’کم آن یار‘ ہم یونیورسٹی فیلو ہیں‘ ویسے بھی میران صاحب تو یونیورسٹی آئے نہیں تو میں چھوڑ دیتا ہوں۔‘‘
’’کیوں…؟ خدمت خلق کی کوئی تنظیم جوائن کرلی ہے آپ نے یا آج سے یونیورسٹی کی ڈرائیوری شروع کردی ہے؟‘‘
اس پر غصے کا کوئی اثر نہ ہوتا دیکھ کر وہ مزید تپی تھی مگر مخالف بھی اپنے نام کا ایک ہی ڈھیٹ تھا‘ تبھی مسکراتے ہوئے بولا۔
’’آپ کہیں گی تو کوئی بھی تنظیم شروع کرلوں گا‘ مگر ڈرائیوری تو صرف ایک آپ کی کرسکتا ہوں‘ بس۔‘‘
’’میں ڈرائیوروں کو جوتے مارتی ہوں کبھی کبھی‘ کھالیں گے؟‘‘
’’بالکل…‘‘ اسے زچ کرنے کی وہ قسم کھائے بیٹھا تھا۔زوبی نے بات بڑھتے دیکھ کر انزلہ کا بازو کھینچ لیا۔
’’تمہیں اس شخص کے منہ لگنے کی ضرورت نہیں ہے انزلہ‘ چلو۔‘‘ زوبی کے کہنے پر اسے تائو آیا تھا‘ تبھی گاڑی عین ان دونوں کے قدموں کے قریب روک دی۔
’’جب کہہ دیا کہ آج تم میرے ساتھ جائوگی تو بس بات ختم ہوگئی۔‘‘ وہ گھمنڈی اور ضدی تھا۔ انزلہ کا خون کھول کر رہ گیا تھا۔
’’تمہارے ساتھ جاتی ہے میری جوتی… انزلہ شاہ نام ہے میرا‘ معمولی لڑکی سمجھنے کی بھول مت کرنا اور نہ ہی اس گمان میں رہنا کہ اپنے منسٹر باپ کی منسٹری پر جو چاہو کرسکتے ہو۔ میںجوتے کی نوک پر رکھتی ہوں‘ تمہیں بھی اور تمہارے باپ کی منسٹری کو بھی‘ سمجھے تم۔‘‘ وہ اس سے الجھنا نہیں چاہتی تھی مگر اس شخص کی باتوں نے اسے مجبور کردیا تھا۔ زوبی کا دل زور سے دھڑک اٹھا۔
’’چلو دیکھ لیتے ہیں کون کس کو جوتے کی نوک پر رکھتا ہے۔‘‘ رعونت سے کہتے ہی وہ گاڑی سے نکلا اور دیکھتے ہی دیکھتے انزلہ کا بازو تھام لیا۔ زوبی نے اس غنڈہ گردی پر اسے فائل دے ماری تھی‘ جواب میں وہ اسے پرے دھکیلتے ہوئے‘ انزلہ کے تمام تر احتجاج کے باوجود اسے اپنی گاڑی میں دھکیل گیا۔ اردگرد سے گزرتے بے حس لوگوں نے یہ تماشا بڑی دلچسپی سے دیکھا تھا۔
گاڑی آگے بڑھ گئی تھی اور چیختی‘ روتی زوبی رانا بہت پیچھے رہ گئی تھی۔
سانول اپنے دوست کے ساتھ بائیک پر پیچھے بیٹھا‘ کسی سے سیل فون پر باتوں میں مصروف بنا اردگرد دھیان دیئے وہاں سے گزرا تھا۔ زوبی کی نظر اس پر پڑی تو اس نے بنا کسی کی پروا کیے پوری قوت سے اسے آواز دے ڈالی۔
وہ چونکا تھا اور سیل فون کان سے لگائے لگائے ہی اس نے گردن ذرا سی ترچھی کرکے ایک نظر زوبی رانا پر ڈالی تھی‘ جو رو رہی تھی۔ تب فوراً سے پیشتر کال ڈراپ کرکے اس نے اپنے دوست سے بائیک رکوائی اور زوبی اس اثناء میں لپک کر اس کے پاس چلی آئی۔
’’سانول بھائی… وہ آپ کا بگڑا ہوا آوارہ دوست ہے نا حمزہ کیانی…‘‘ ٹپ ٹپ گرتے آنسوئوں کے ساتھ وہ بس اتنا ہی بول پائی تھی۔ سانول حیرانی سے اسے دیکھ رہا تھا۔
’’سب ٹھیک ہے ناں مس زوبی؟‘‘
’’نہیں… کچھ بھی ٹھیک نہیں ہے‘ وہ آپ کا دوست اسٹوپڈ حمزہ کیانی‘ اس نے انزلہ سے بدتمیزی کی ہے‘ ابھی تھوڑی دیر پہلے وہ زبردستی اسے اپنی گاڑی میں بٹھا کر نجانے کہاں لے گیا ہے۔‘‘
زوبی کی اطلاع پر اس کے چہرے کا رنگ ایک پل میں تبدیل ہوا تھا۔ فوراً سے پیشتر اس نے ہاتھ میں پکڑے سیل سے کوئی نمبر پریس کیا تھا مگر دوسری طرف سے اس کی کال ریسیو نہیں کی گئی۔ وہ اس کا اپ سیٹ ہونا صرف دیکھ نہیں سکتی تھی‘ محسوس بھی کرسکتی تھی۔ کئی بار کال ٹرائی کرنے کے بعد اس نے زوبی سے کہا تھا۔
’’ٹھیک ہے‘ آپ میرے ساتھ آئیں۔ میں جانتا ہوں وہ کہاں گیا ہوگا۔‘‘
زوبی اس وقت روڈ پر تنہا نہ ہوتی تو کبھی اس کے ساتھ نہ جاتی۔ مگر اس وقت مجبوری تھی‘ سانول کے دماغ میں اس وقت جیسے جھکڑ چل رہے تھے۔ بائیک اب بھی اس کا دوست چلا رہا تھا۔ مگر ہدایت وہ دے رہا تھا۔ زوبی کادل مارے خوف اور خدشات کے جیسے سکڑتا جارہا تھا۔ وہ اعتبار کرکے اس کے ساتھ بیٹھ تو گئی تھی مگر اب پچھتارہی تھی۔ اندر کہیں یہ وہم بھی سر اٹھا رہا تھا کہ شاید وہ حمزہ کیانی کے ساتھ مل کر اس سے اورانزلہ سے کوئی گیم کررہا ہو۔ سو طرح کے خدشات تھے جو دل کو لاحق تھے۔
تقریباً پندرہ منٹ کی رائیڈ کے بعد اس نے حمزہ کیانی کی گاڑی کو سڑک پر ہی جالیا تھا۔ انزلہ فرنٹ سیٹ پر بیٹھی تھی اور گاڑی میں جیسے جنگ کا سماں تھا۔ سانول کو دیکھنے کے بعد حمزہ نے گاڑی روکی تھی۔ جس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے فوری انزلہ نیچے اُتر آئی۔ جب کہ حمزہ کو سانول نے گریبان سے پکڑ کر باہر نکالا تھا۔
وہ جو بچپن کے گہرے دوست تھے۔ اس وقت جانی دشمنوں کی طرح ایک دوسرے سے الجھ رہے تھے‘ حمزہ کیانی نے اس کے اٹھتے ہاتھ کو روکنے اور اسے کچھ بتانے کی کوشش کی تھی مگر سانول نے اسے کچھ بھی بولنے کا موقع نہیں دیا تھا‘ اس وقت اس کے سر پر جیسے خون سوار تھا۔بہت مشکل سے تیسرے دوست کی مداخلت کے باعث حمزہ کیانی کی جان سانول شاہ کے ہاتھوں سے بچی تھی اور یہی وہ وقت تھا جب انزلہ نے جانا تھا کہ وہ اس کے لیے کیا تھی؟
حمزہ کیانی کے بھاگنے کے بعد اس نے اپنی حالت کی پروا کیے بغیر‘ ان دونوں کے لیے ٹیکسی رکوائی تھی اور خود کرایہ ادا کرکے انہیں پوری ذمہ داری کے ساتھ گھر روانہ کیا تھا۔ انزلہ اس رات بہت دیر تک جاگتی رہی تھی‘ زوبی کی معرفت جو کچھ بھی اس کے علم میں آیا تھا۔ وہ ساری رات اسے بے چین رکھنے کے لیے کافی تھا۔ اگلے روز ابھی وہ بستر میں تھی کہ زوبی اسے لینے کے لیے آگئی۔
’’چلو انزلہ… سانول کا پتا کرکے آتے ہیں‘ کل سے وہ اور اس کا دوست اسپتال میں ہیں۔‘‘
’’کیوں…؟‘‘ وہ پریشان ہوئی۔
’’یار گہری چوٹ لگی ہے اسے سر اور بازو پر۔‘‘
وہ متفکر تھی‘ انزلہ کچھ سوچتے ہوئے اپنی نانو کو بتا کر زوبی کے ساتھ اسپتال چلی آئی۔ جہاں پرائیوٹ کمرے میں بیڈ پر بیٹھا سانول شاہ اپنے دوست سے گپ شپ لگا رہا تھا‘ انزلہ کو دیکھتے ہی اس کی آنکھیں جیسے چمک اٹھی تھیں۔
’’السّلام علیکم!‘‘ سانول کی نگاہوں نے انزلہ کو کنفیوز کیا تھا جس پر وہ چپکے سے مسکرا دیا۔
’’وعلیکم السّلام‘ آپ یہاں؟‘‘ خوش ہونے کے ساتھ ساتھ وہ حیران بھی ہو اتھا۔ تبھی زوبی بول اٹھی۔
’’جی… وہ اصل میں یونیورسٹی میں آپ کے دوستوں سے آپ کی طبیعت اور حالت کا پتا چلا تو انزلہ یہاں آنے سے خود کو روک نہ سکی‘ اب کیسی طبیعت ہے آپ کی؟‘‘
’’ٹھیک ہوں الحمد للہ! کیا انزلہ یونیورسٹی گئی تھی؟‘‘
’’نہیں! میں گئی تھی۔ یہ تو کل سے دعائوں پر لگی ہے۔‘‘ زوبی مسکرائی تھی۔ وہ سانول کی نگاہیں خود پر جمی دیکھ کراسے گھور کر رہ گئی۔
’’شکریہ…!‘‘ اب وہ مسکرایا تھا انزلہ سر اٹھا کر اس کی طرف دیکھ بھی نہ سکی۔
’’نہیں شکریہ تو مجھے آپ کا ادا کرنا ہے کہ آپ نے کل میرے لیے وہ سب کچھ کیا جو شاید آپ کو نہیں کرنا چاہیے تھا۔‘‘
’’کیا نہیں کرنا چاہیے تھا؟‘‘ فوراً سنجیدہ ہوا۔
’’وہی اپنے عزیز دوست سے جھگڑا‘ مارپیٹ… آپ تو جانتے ہی ہیں وہ کس باپ کا بیٹا ہے۔‘‘
’’ہاہ… اتنی سی بات پر اتنی پریشان ہیں آپ؟‘‘
انزلہ اس بار کوئی جواب نہ دے سکی۔
’’آپ فکر نہ کریں‘ مجھے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا وہ‘ کیونکہ وہ مجھے اچھی طرح سے جانتا ہے کہ میں کس باپ کا بیٹا ہوں اور یہ بھی کہ اس کے باپ کو منسٹر بنانے میں کس کا ہاتھ ہے۔‘‘
’’پھر بھی وہ یونیورسٹی میں…‘‘
’’یونیورسٹی کا تو منہ بھی نہیں دیکھنے دوں گا میں اسے اور جہاں تک آپ کی عزت ہے تو میں ضمانت دیتا ہوں انزلہ‘ وہ دوبارہ کبھی اپنے ہونٹوں پر آپ کا نام بھی نہیں لاسکے گا‘ نہ میں اسے لانے دوں گا۔‘‘
کتنی مضبوطی تھی اس کے لہجے میں‘ انزلہ اسے دیکھتی رہ گئی۔ وہ سخت جان اور بہادر تھا۔ اس کی خواہش کے عین مطابق‘ تھوڑی دیر اِدھر اُدھر کی باتوں کے بعد وہ جانے کے لیے کھڑی ہوئی تو زوبی نے آہستہ سے اس کے کان میں سرگوشی کی۔
’’کہا تھا ناں اتار دے نظر اپنے شہزادے کی‘ مگر تم نے میری ایک نہیں سنی اب دیکھ لو نتیجہ۔‘‘ اس کی سرگوشی سانول کی سماعتوں تک تو نہیں پہنچ سکی تھی البتہ اس کا دوست جو اُن کے پیچھے ہی کھڑا تھا‘ اس نے سن لی تھی۔ تبھی وہ مسکراتے ہوئے بولا تھا۔
’’میرا یار تو ہر نظر میں جچتا ہے‘ یہ کب تک نظر اتارتی رہیں گی؟‘‘
’’اُف! میری یہ زبان بھی ناں‘ کبھی چپ نہیں رہ سکتی۔‘‘ دوسرے ہی پل انزلہ کی طرف مسکرا کر دیکھتے ہوئے اس نے اپنی زبان دانتوں تلے دبائی تھی۔ جواب میں سانول اٹھ کر ان کے قریب آکھڑا ہوا۔
’’میں آج ڈسچارج ہوجائوں گا یہاں سے‘ آیئے آپ کو چھوڑ آئوں۔‘‘
’’نہیں شکریہ‘ ہم چلے جائیں گے‘ آپ آرام کریں۔‘‘
سرعت سے کہہ کر وہ فوراً وہاں سے نکل آئی تھیں۔ سانول دروازے کی دہلیز پر کھڑا کوریڈور کے آخر تک انہیں دیکھتا رہا‘ آنے والے دنوں میں واقعی نہ کسی نے حمزہ کیانی کو دوبارہ یونیورسٹی میں دیکھا۔ نہ اس واقعے سے متعلق کسی کے لبوں سے کوئی تذکرہ سنا۔
میران کو اس نے مختصراً یہ بات بتائی تھی مگر وہ پھر بھی سانول شاہ سے اس کی دوستی کا قائل نہیں تھا اوریہ بات انزلہ کو اچھی نہیں لگی تھی۔
اسے سانول اچھا لگتا تھا‘ وہ اس کے بارے میں بہت کچھ جاننا چاہتی تھی‘ یہی وجہ تھی کہ اکثر میران کی ناراضگی کی پرواکیے بغیر وہ اس سے بات کرلیتی تھی۔ ان دنوں سانول شاہ میں بہت واضح تبدیلی آئی تھی‘ وہ سب سے کٹنے لگا تھا۔ صرف انزلہ کی راہ دیکھتا‘ وہ یونیورسٹی کی ہر لڑکی سے دامن بچاتا دکھائی دیتا تھا۔ اس کے تمام دوست احباب اور کلاس فیلوز نے اس کا نام ’’قیس‘‘ ہی مشہور کردیا۔
کتنے خوب صورت دن تھے وہ…؟
اپنے شفاف ہاتھوں کی گلابی ہتھیلیوں پر نگاہ جمائے وہ جیسے انہی دنوں کو دیکھ رہی تھی۔
ہم چھین لیں گے تم سے یہ شانِ بے نیازی
تم مانگتے پھرو گے ہم سے غرور اپنا
زیر لب یہی شعر دہراتے ہوئے اس نے جیسے اپنے عزم کو مزید پختہ کیا تھا۔
///

ہم ہی ناداں تھے‘ کیا اس پہ بھروسہ ہم نے
ہم ہی پاگل تھے کہ لوگوں کی نہ مانی‘ لوگو
ہم تو اس کے لیے گھر بار بھی تج بیٹھے تھے
اس ستمگر نے مگر قدر نہ جانی‘ لوگو

سُن ہوتے اعصاب کے ساتھ وہ لائونج میں بیٹھی تھی۔ دل جیسے سینے میں دھڑکنا ہی بھول گیا تھا۔ وہ بُری تھی‘ مجبور اور منافق تھی۔مگر اتنی ظالم نہیں تھی کہ اپنے ہاتھوں اپنی غرض اور مفاد کے لیے کسی کی جان لے لیتی اور جان بھی اس شخص کی جو اس کا ’’محسن‘‘ تھا۔
اسے لگا جیسے وہ کھل کر سانس بھی نہیں لے سکے گی‘ پہلی بار اس کے دل میں شجاع کے لیے فکر نے سر اٹھایا تھا۔
شجاع باہر کھانا کھا کر آیا تھا‘ کمرے میں جاتے ہی ابھی وہ بیڈ پر بیٹھا تھا کہ اس کا سر زور سے چکرانا شروع ہوگیا۔ فوراً سے پیشتر اس نے ڈاکٹر موسی کو فون کرکے گھر بلوایا تھا مگر تب تک اس کا گلا بھی جکڑنا شروع ہوگیا تھا یوں جیسے کوئی پوری قوت سے اس کا گلا گھونٹ رہا ہو‘ وہ امامہ کو آواز دے کر بلانا چاہتا تھا مگر اس کی صدا حلق میں گھٹ کررہ گئی تھی۔
شدید گھبراہٹ کے عالم میں سست پڑتے وجود کے ساتھ اس نے واش روم کا رخ کیا تھا‘ جہاں اسے خوب منہ بھر کے قے آئی تھی۔ وہ ابھی واش روم میں تھا کہ ڈاکٹر موسیٰ اور ڈاکٹر عاطف دونوں اکٹھے چلے آئے۔ شجاع واش روم سے نکلا اچھا خاصا نڈھال ہوچکا تھا۔
’’شجی… کیا تم ٹھیک ہو؟‘‘ دونوں اسے دیکھ کر اس کی طرف لپکے تھے۔
اگلے پندرہ منٹ میں ڈاکٹر موسیٰ نے اس کا اچھی طرح معائنہ کیا اور پھر قدرے تشویش کے ساتھ ڈاکٹر عاطف کو ایک طرف لے جاکر سرگوشی میں کچھ ڈسکس کرتے رہے۔ وہ دونوں واپس پلٹے تو پریشان تھے۔
’’تم ابھی تھوڑی دیر پہلے کہیں گئے تھے کیا؟‘‘ ڈاکٹر موسیٰ نے سوال کیا تھا۔ شجاع نے اثبات میں سر ہلادیا۔
’’ہوں… ایک ضروری کام سے گیا تھا‘ وہیں سے کھانا کھاکر ابھی گھر لوٹا ہوں۔‘‘
’’اس کا مطلب ہے اس کھانے میں ہی گڑ بڑ تھی۔‘‘
’’میں سمجھا نہیں؟‘‘ وہ تکلیف میں مبتلا ہونے کے باوجود حیران ہوا تھا۔ جب ڈاکٹر عاطف بولے۔
’’تمہیں ابھی تھوڑی دیر پہلے زہر دیا گیا تھاشجاع‘ خدا کا معجزہ سمجھو یا کچھ اور کہ معدہ بھرا ہونے کی وجہ سے زہر قے کی صورت باہر نکل گیا‘ ورنہ اب تک صورتِ حال جانے کیا ہوتی‘ یہ میرا تجربہ ہے۔ اصل حقائق میڈیکل رپورٹ کے بعد ہی سامنے آسکیں گے‘فی الحال فوری اسپتال چلو‘ ابھی تم مکمل طور پر خطرے سے باہر نہیں ہو۔‘‘ ڈاکٹر عاطف کے الفاظ اس کے لیے کسی شاک سے کم نہیں تھے۔
’’یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ؟‘‘
’’ڈاکٹر عاطف صحیح کہہ رہے ہیں شجی! کسی نے تمہیں جان سے مارنے کی کوشش کی ہے۔‘‘ ڈاکٹر موسیٰ اس کے بچپن کے دوستوں میں سے تھے‘ تبھی اس کی حیرانی پر وضاحت دیتے ہوئے بولے تو شجاع کو چکر آگیا‘ یہ کیسے ممکن تھا؟
’’اب اٹھ جائو جلدی سے ‘تاخیر تمہارے لیے اچھی نہیں ہے۔‘‘
اس کی چپ پر وہ پھر بولے تو شجاع اٹھ کھڑا ہوا۔ باہر ہال میں امامہ صوفے پر بیٹھی رو رہی تھی۔ شجاع نے ایک نظر اسے دیکھا تو چونک گیا‘ بھلا وہ کیوں رو رہی تھی؟ کیا وہ ڈاکٹر موسیٰ اور ڈاکٹر عاطف کی باتیں سُن چکی تھی؟ پہلی بار بڑا افسر ہوتے ہوئے بھی وہ شدید الجھن کا شکار ہوا تھا۔
اسپتال میں تین چار گھنٹے جیسے اس نے گزارے وہی جانتا تھا۔ فوری طور پر اس کا معدہ واش کیا گیا تھا۔ جس کے بعد رپورٹ تیار کی جانی تھی‘ میڈیکل رپورٹ آنے تک ڈاکٹر موسیٰ اور ڈاکٹر عاطف دونوں اس سے رابطے میں رہے تھے۔
وہ ضروری ٹریٹمنٹ کے بعد گھر چلا آیا تھا کہ اسپتال میں اس کے لیے سکون نہیں تھا‘ وہاں سے آکر وہ سیدھا اپنے کمرے میں گھس گیا۔ نیند ٹوٹ کر آرہی تھی لہٰذا اس نے خود کو نیند کے سپرد کردیا۔ امامہ کو اس نے دوبارہ نہیں دیکھا تھا۔ نہ ہی اسے اپنی بیٹی کی طبیعت کے بارے میں مزید کوئی اطلاع مل سکی تھی۔ شام میں مغرب سے پہلے ڈاکٹر موسیٰ رپورٹ کے ساتھ اس کے گھر پر چلے آئے تھے۔امامہ انہیں ڈرائنگ روم تک چھوڑ کر شجاع کے کمرے میں چلی آئی جو اس وقت تکیہ بانہوں میں چھپائے گہری نیند سورہا تھا۔
دل کی جو حالت تھی‘ وہ اس کی سمجھ سے باہر تھی‘ روح پر جیسے ایک عجیب سے خوف کی چادر تن گئی تھی‘ وہ جانتی تھی کہ تھوڑی دیر بعد کیا ہونے والا ہے اور شاید اسی خدشے نے اس کا سارا خون نچوڑ لیا تھا‘ اپنی موت اسے آنکھوں کے سامنے رقص کرتی واضح دکھائی دے رہی تھی۔ اس کے باوجود کتنی عجیب بات تھی کہ نہ وہ گھر سے فرار ہوئی تھی‘ نہ اس نے ارسلان حیدر سے ہی دوبارہ کوئی رابطہ کرنے کی کوشش کی تھی۔
اپنا سیل بھی اس نے کرچی کرچی کر ڈالا تھا۔ اس بار اس نے اپنے فرار کی ساری راہیں خود مسدود کرڈالی تھیں۔ جو جرم اس کے ہاتھوں سر زد ہوا تھا‘ اس جرم کی سزا تو بھگتنا ہی تھی۔ وہ ایمان دار لڑکی تھی۔ نفرت اور محبت دونوں میں یکساں ایمان دار لڑکی۔ لہٰذا اپنی خطاء کی سزا بھگتے بغیر وہاں سے فرار ہونا اس جیسی ایمان دار لڑکی کے لیے ممکن ہی نہیں تھا۔
///

اس کی جدائی کھاگئی مجھے گُھن کی طرح
ہم سخت جان پہلے تو یوں کھوکھلے نہ تھے
جو کچھ ہمارے ساتھ ہوا ہے بجا نہ تھا
اتنے بُرے بھی کب تھے اگر ہم بھلے نہ تھے

پچھلے تین روز سے وہ تیز بخار میں مبتلا تھی۔ دن میں قرار رہا تھا نہ ہی راتوں کی پُرسکون نیند اپنی رہی تھی۔
صرف ایک شخص… ایک انجان شخص کے ہاتھوں ٹوٹے مان نے کتنا شکستہ کردیا تھا اسے‘ اس کا بس نہ چلتا تھا کہ وہ شخص اس کے سامنے ہوتا اور وہ پے درپے تھپڑوں سے اس بے ایمان فریبی شخص کا چہرہ سرخ کر ڈالتی۔
گھر بھر میں ایان کے واپس مل جانے کی خوشی رقصاں تھی‘ زندگی سے ہارے ہوئے ان غریب مجبور چہروں پر‘ امید کی ایک نئی کرن نے اپنا عکس ڈالا تھا۔ سمعان‘ صائمہ چھوٹے دونوں بھائی اور اس کی ماں‘ جیسے سب ہی سنبھل گئے تھے۔
بس نہیں سنبھل رہا تھا تو صرف ایک اس کا دل…
اپنی توہین‘ اپنی بے عزتی‘ ہر پل بے چین کیے رکھتی تھی اسے۔اس روز رات میں وہ سونے کے لیے لیٹی تو صائمہ نے اس سے پوچھ لیا۔
’’کیا بات ہے صاعقہ! دو تین دن سے نوٹ کررہی ہوں۔ کوئی مسئلہ ہے تیرے ساتھ‘ ڈاکٹر کے پاس بھی نہیں جاتی اور دفتر سے بھی چھٹی کررہی ہے۔‘‘ وہ پہلو کے بل تکیے پر گال رکھے لیٹی تھی۔ صاعقہ نے بے زاری سے پلکیں موند لیں۔
’’کوئی مسئلہ نہیں ہے میرے ساتھ۔‘‘
’’ہاں‘ جھوٹ میں بھلا تیرا ثانی کوئی ہوسکتا ہے‘ سب سمجھتی ہوں میں‘ ضرور اندر کہیں چوٹ لگی ہے۔‘‘
بڑی ملانی تھی وہ‘ ہر بار اس کا قیاس درست ہوتا تھا‘ صاعقہ جھٹکے سے بستر پر اٹھ بیٹھی۔
’’ہاں لگی ہے چوٹ… پھر…؟ ہے کوئی علاج تیرے پاس میرے غم میری اذیت کا‘ بول۔‘‘
’’ناراص کیوں ہوتی ہے؟‘‘ اسے خفا دیکھ کر وہ بھی اٹھ بیٹھی تھی۔
’’میں نے تو سمجھایا تھا تجھے مگر تُو میری بات سمجھ نہیں سکی اور یہ تیرا قصور نہیں ہے صاعقہ! اس رستے پر چلنے والے سارے مسافر ایسے ہی سر پھرے ہوتے ہیں‘ انہیں سمجھائو یا صحیح راستے کا پتا بتائو تو اپنے رہنما کا گریبان پکڑنے کو ہی آتے ہیں مگر میری ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا‘ صدیوں کانچوڑ‘ سالوں کا تجربہ ہے۔ یہ جو مرد ہوتا ہے نا‘ یہ ہمیشہ عورت کے تکیے کے نیچے چھپا سانپ ثابت ہوا ہے اس کے لیے۔ عورت چاہے تو ساری زندگی اپنی دانش مندی‘ سمجھداری سے اس کے ساتھ گزارہ کرتی رہے‘ نہیں تو ذرا سی بھول‘ ذرا سی غفلت کا فائدہ اٹھا کر یہ کسی بھی موقع پر عورت کو کاٹنے سے باز نہیں آتا۔ سالوںکی وفاداری‘ قربانیاں‘ خون پلانا کچھ بھی تو معنی نہیں رکھتا اس سانپ کے لیے۔ کاٹنا اس کی فطرت ہے اور فطرت کبھی بدلتی نہیں‘ اسی لیے کہا تھا راہِ راست پر چل‘ گمراہی کے راستے کا انتخاب مت کر‘ وگرنہ پچھتائے گی‘ کہا تھا ناں؟‘‘ وہ مڈل کلاس گھرانے کی عام سی لڑکی‘ کتنی گہری باتیں کررہی تھی۔ صاعقہ کا سر جھک گیا۔
’’صحیح کہتی ہو صائمہ… مگر اس رستے کے مسافر صرف سر پھرے ہی نہیں ہوتے‘ بڑے ڈھیٹ اور عاقبت نااندیش بھی ہوتے ہیں‘ ٹوٹ ٹوٹ کر جب تک بس نہ ہوجائے خود کو آزمانے سے باز نہیں آتے۔ میں ٹوٹی ضرور ہوں مگر ہاری نہیں ہوں۔ وہ شخص اگر یہ سمجھتا ہے کہ اس نے مجھے برباد کیا ہے تو یہ اس کی بھول ہے‘ اس نے صرف میری سادگی سے فائدہ اٹھا کر مجھے بے وقوف بنایا ہے اور میں اس کی یہ خطاء کبھی معاف نہیں کروں گی۔‘‘ ہاتھ کی پشت سے گالوں پر پھسلتے آنسو رگڑتے ہوئے وہ کہہ رہی تھی۔ صائمہ کے لبوں پر ہلکی سی مسکان بکھر گئی۔
’’پاگل ہے تُو اور کچھ نہیں… بھلا تجھ جیسی معمولی‘ لوئر مڈل کلاس لڑکی کے معاف نہ کرنے سے اسے کیا فرق پڑتا ہے اسٹوپڈ‘ دولت جن کی جیب میں ہو ان کے لیے جذبے ویسے بھی مٹی کے ڈھیر سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتے۔ میں نے کہیں پڑھا تھا یار کہ لڑکی وہ چاند نہیں ہونی چاہیے جسے کوئی بھی نظر اٹھائے اور دیکھ لے‘ بلکہ عورت وہ آفتاب ہو کہ کوئی اگر سر اٹھا کر دیکھنا بھی چاہے تو اسے نہ دیکھ سکے۔ بہت اہمیت ہوتی ہے زندگی میں کردار اور ایمان کی حفاظت کی… تم سمجھ رہی ہو ناں میری بات؟‘‘
’’ہوں…‘‘
’’شاباش! چلو اب سوجائو‘ ایان بھائی واپس آگئے ہیں ناں‘ ان شاء اللہ سب ٹھیک ہوجائے گا اب۔ اللہ نے چاہا تو ہمارے حالات بھی…‘‘ صائمہ کے لہجے میں حوصلہ اور امید تھی۔
صاعقہ نے سر دوبارہ تکیے پر رکھ دیا۔ پلکیں موندتے ہی پھر عباد کا چہرہ اس کے تصور میں آیا تھا اور اس کے ساتھ ہی اس کے الفاظ۔
’’سوری! میں آپ کو نہیں جانتا۔‘‘
بھلا دنیا میں اس سے زیادہ تکلیف دہ الفاظ کوئی اور ہوسکتے تھے؟
///
شجاع حسن گہری نیند میں مدہوش بیڈ پر آڑھا ترچھا لیٹا تھا‘ جب وہ کپکپاتے وجود کے ساتھ بیڈ کے کنارے پر ٹک گئی۔ حلق میں جیسے کوئی بھاری گولا پھنس گیا تھا۔ وہ اسے آواز دے کر جگانا چاہتی تھی مگر حلق سے آواز ہی نہیں نکل رہی تھی۔
بہت دیر کشمکش کے بعد‘ بڑی ہمت کرکے اس نے اس کا بازو جھنجوڑا تھا اور جواب میں شجاع نے پٹ سے آنکھیں کھول دیں۔ امامہ کی آنکھوں میں اب بھی آنسو تیر رہے تھے۔
’’شجاع…وہ… وہ آپ کے دوست ڈاکٹر…‘‘ بمشکل تھوگ نکل کر وہ اتنا ہی بول پائی تھی۔ جب وہ گہری نگاہوں سے اسے دیکھتا‘ تکیہ ایک طرف پھینک کر بیڈ سے اٹھ کھڑا ہوا۔ پولیس والا ہونے کی وجہ سے وہ بے چین تھا کہ آخر اسے مارنے کی کوشش کس نے کی ہوگی؟ جب کہ وہ کھانا بھی اپنے عزیز دوست کے گھر سے کھا کر آیا تھا۔
اچھی طرح فریش ہونے کے بعد وہ ڈرائنگ روم میں آیا تو امامہ ملازم کے ہاتھوں کافی اور دیگر لوازمات ڈرائنگ روم میں بھجوا چکی تھی۔ ڈاکٹر موسیٰ اسے دیکھتے ہی اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ شجاع سے مصافحے کے بعد اس کا حال احوال دریافت کرتے وہ اسے بتارہے تھے۔
’’میرا خدشہ بالکل صحیح ثابت ہوا شجی! یہ دیکھو رپورٹ۔ اس کے مطابق تمہیں کسی مشروب میں پوائزن ملا کر پلایا گیا تھا اور اس کا اثر اتنا شدید تھا کہ اگر سخت جان اور بھرے پیٹ سے نہ ہوتے تو آدھ گھنٹے کے اندر اندر تمہاری موت واقع ہوسکتی تھی۔ خدا کا معجزہ ہی سمجھو کہ اس نے تمہیں بچالیا اور قے کی صورت زہر باہر نکل گیا وگرنہ…‘‘ وہ جانے کیا کیا بتا رہے تھے مگر شجاع کا دماغ تو لفظ ’’مشروب‘‘ پر ہی بھک سے اڑ گیا تھا۔ فوراً سے پیشتر ایک منظر تصور میں جھلملایا تھا۔
’’تھک کر آئے ہیں‘ میرے ہاتھ کا پانی تو پی ہی سکتے ہیں آپ۔‘‘
ڈاکٹر موسیٰ نے اس کا چہرہ نہیں دیکھا تھا جو ضبط سے سرخ پڑگیا تھا۔ تھوڑی دیر اِدھرادھر کی باتوں کے بعد وہ اسے اپنا خیال رکھنے اور مزید احتیاط کرنے کی ہدایت کرتے وہاں سے رخصت ہوگئے تھے۔ تب وہ لائونج میں آیا تھا۔ امامہ سامنے ہی صوفے پر مغموم بیٹھی تھی۔ وہ اس کے قریب چلا آیا۔ سرخ چہرہ‘ سرخ آنکھیں… وہ سہم کر جلدی سے اٹھ کھڑی ہوئی تھی تبھی وہ چبا چبا کر بولا تھا۔
’’کیوں… کیوں مارنا چاہتی تھیں تم مجھے‘ کیوں؟‘‘
اس کے مضبوط فولادی ہاتھوں کی انگلیاں اس کے گداز بازوئوں میںگڑ گئی تھیں۔ پیارو محبت سے گندھا وہ شخص اس لمحے قہر بنا اس کے مقابل کھڑا تھا۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر بچوں کی طرح روتی اس کے گلے لگ گئی۔
’’مجھے معاف کردیں پلیز… میں ایسا نہیں کرنا چاہتی تھی۔‘‘
’’جسٹ شٹ اپ!‘‘ چنگھاڑ کر اسے خود سے الگ کرتے ہوئے اس نے خاصا جان دار تھپڑ رسید کیا تھا۔
’’نفرت ہے مجھے دھوکہ باز لوگوں سے‘ کہا تھا ناں میں نے پھر بھی… پھر بھی تم نے فریب کیا‘ کیوں؟‘‘ اب وہ اسے جھنجوڑ رہا تھا۔
’’کیا بُرا کیا میں نے تمہارے ساتھ‘ جس کا یہ صلہ دیا ‘ بولو… ایک آیا تھیں تم‘ بے گھر بے آسرا… میں نے اپنا نام دیا‘ اپنی عزت بنایا‘ اندھا اعتبار کیا تم پر‘ ہر سہولت‘ ہر خوشی دی پھر بھی… پھر بھی میری موت چاہی تم نے… کیوں؟ کیا یہی وہ مقصد تھا جسے لے کر تم اس گھر میں آئی تھیں‘ بولو…؟‘‘ وہ جنونی ہورہا تھا۔ امامہ بے دم سی اس کے قدموں میں گر پڑی۔
’’مجھے معاف کردیں شجاع! خدا شاہد ہے میں نے آپ کو مارنا نہیں چاہا تھا۔‘‘
’’اچھا… تو پھر وہ ’’آب حیات‘‘ کس مقصد کے لیے پلایا تھا‘ زندگی دان کرنے کے لیے؟‘‘ اسے بازوئوں سے پکڑ کر اس نے پھر مقابل کھڑا کرلیا تھا‘ امامہ جیسے بے جان سی ہوگئی۔
’’نہیں… وہ… وہ صرف آپ کوبے ہوش کرنے کے لیے تھا تاکہ… تاکہ میں یہاں سے سب کچھ چُرا کر لے جاسکوں۔‘‘ روتے ہوئے اعتراف کرتی وہ اسے سخت حیران کرگئی تھی۔
’’کیا…؟‘‘
’’ہاں شجاع! خدا کے واسطے میرا یقین کیجیے‘ میں اس بار جھوٹ نہیں بول رہی۔‘‘ بڑی مشکل سے وہ خود کو سچ بولنے پر آمادہ کرپائی تھی۔
’’مم… میرا ایک کزن ہے۔ جس سے میں بہت محبت کرتی ہوں‘ اس نے مجھ سے کہا کہ اگر میں آپ کے گھر سے کافی سارا مال و متاع لے کر آئوں تو وہ مجھے قبول کرلے گا‘ اسی نے مجھے وہ دوا دی تھی‘ یہ کہہ کر کہ یہ بے ہوشی کی دوا ہے اور اس سے میرے کام میں آسانی رہے گی۔‘‘ نظریں جھکائے ٹھہر ٹھہر کر بولتی‘ وہ اس کے اندر کتنے شگاف ڈال گئی تھی، اسے خبر ہی نہ ہوسکی۔ شجاع خاموشی سے اٹھا تھا اور بیڈ روم سے اپنی چیک بُک اٹھا کر لے آیا‘ فوراً سے پیش تر اس نے ایک سادہ چیک پر اپنے دستخط کرکے امامہ کی طرف بڑھادیا۔
’’میرے گھر میں رشتوں سے بڑھ کر کچھ بھی ایسا قیمتی نہیں ہے مس امامہ! جو آپ چُرا کر لے جاسکیں‘ اس لیے یہ لیں بلینک چیک اور جتنی چاہیں رقم بھر کر اپنے اس کزن کے حوالے کردیجیے‘ فی الحال میں اتنا ہی کرسکتا ہوں آپ کے لیے۔‘‘ اسے بنا کوئی سزا دیئے‘ اس کی امنگوں کے عین مطابق وہ اسے رہائی کا پروانہ دے رہا تھا۔ امامہ کی آنکھیں حیرانی سے پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔
’’آپ چاہیں تو طلاق بھی ابھی دے سکتا ہوں کہ دل سے اُتری اور نظر سے گِری چیزوں کو میں اپنے پاس نہیں رکھتا۔ اب جہاں جانا ہے آپ کو جائیے میں زندگی میں دوبارہ کبھی آپ کی شکل دیکھنا نہیں چاہتا۔‘‘ وہ پل میں اجنبی ہو اتھا اور اِدھر پل میں امامہ کو لگا جیسے اس کی شخصیت کا تابوت ایک لمحے میں کرچی کرچی ہوگیا ہو۔ وہ سر اٹھانے کے قابل بھی نہیں رہی تھی۔ صحیح کہا تھا کہنے والوں نے کہ جو مسافر جان بوجھ کر بھٹکا دینے والے راستوں کا انتخاب کرتے ہیں ان کا سفر ہی کبھی ختم ہوتا ہے نہ انہیں منزل ملتی ہے۔
کتنے موقع دیئے تھے قدرت نے اسے سنبھلنے کے مگر یہ ذلت و رسوائی تو جیسے اس کی قسمت میں لکھ دی گئی تھی۔ کچھ عاقبت نااندیش لوگوں کو اپنے حصے کی ٹھوکر کھا کرہی سمجھ آتی ہے۔ شجاع اپنا حکم سنا کر وہاں سے جاچکا تھا۔ جب کہ وہ آنسوئوں سے بھری نگاہوں کے ساتھ‘ اس کے دان کیے ہوئے اس خالی چیک کو دیکھتی رہی تھی۔ جو اسے اس کی خواہشوں کے عین مطابق زندگی عطا کرسکتا تھا۔ مگر کتنا عجیب ہوا تھا کہ اس نے کچھ دیر ڈبڈبائی نگاہوں سے وہ چیک دیکھنے کے بعد اسے پُرزے پُرزے کرکے اُچھال دیا۔
’’مجھے اب یہاں سے کہیں نہیں جانا شجاع حسن! چاہے تم اپنے ہاتھوں سے مار ہی کیوں نہ ڈالو۔‘‘ شجاع کے بند کمرے کو دیکھتے ہوئے وہ بڑبڑائی تھی اور پھر وہیں صوفے سے ٹیک لگا کر پلکیں موند گئی۔
///
چار پائی سے پائوں نیچے لٹکائے وہ ملول بیٹھی تھی جب آمنہ کڑھی کا پیالہ لیے چلی آئی۔
’’آہ… آہ… آج تو آتے ہی شہزادی کے درشن ہوگئے‘ ورنہ میں تو سمجھ بیٹھی تھی کہ ضرور مرور گئی ہوگی اور گھر والوں نے اس خوف سے کہ کہیں محلے والوں کا صدمے سے ہارٹ فیل نہ ہوجائے‘ تیرے مرنے کی خبر نشر نہیں کی‘ کیسی ہو؟‘‘
’’ٹھیک ٹھاک… مجھے کیا ہونا ہے؟‘‘
’’ہاں… تجھے کیا ہوسکتاہے؟ تُو دوسروں کی سٹّی گم کردیتی ہے‘ خیر یہ بتا موبائل کیوں آف ہے تیرا؟‘‘
’’چارج نہیں ہے۔‘‘
’’تو چارج کرلے یار‘ مانا کہ ہمارا ملک بدترین لوڈشیڈنگ کی لپیٹ میں ہے مگر اتنی سی بجلی تو نصیب ہو ہی جاتی ہے کہ موبائل چارج کیا جاسکے۔‘‘ بنا اس کے حال پر غور کیے وہ اپنے پٹاخے چھوڑ رہی تھی۔صاعقہ نے اکتاہٹ سے اسے دیکھا۔
’’تم کہاں گئی ہوئی تھیں اتنے دنوں سے؟‘‘
’’شکر… تجھے پوچھنے کا خیال تو آیا ہے‘ شادی پر گئی تھی پھوپی کے گھر۔ واپس آئی تو چھوٹی بہن نے بتایا کہ تمہارے گھر بڑا ہینڈ سم سا لڑکا آیا ہے۔ پہلے میں نے سوچا ضرور وہی ہوگا تیرا ایکس وائی زیڈ! لیکن جب اس نے بتایا کہ تم اس ہینڈسم سے لڑکے کو بھائی کہتی ہو تو بس… مجھ سے رہا نہیں گیا‘ تم تو جانتی ہی ہو میری اماں! میری شادی کی وجہ سے کتنی پریشان رہتی ہیں تو میں نے سوچا کہ چلو تھوڑا فلمی ہیروئنوں کی طرح میں بھی دعا سلام کر آئوں۔ کیا پتا تیرے بھائی کا دل ول آجائے مجھ پر۔‘‘ وہ حسب عادت شروع ہوچکی تھی۔ صاعقہ نے زور کا دھموکا اس کے شانے پر رسید کردیا۔
’’خبردار جو میرے بھائی پر نیت لگائی تُو نے تو؟‘‘
’’کیوں… تیرا بھائی آسمان سے اُترا ہے؟ ویسے بھی میرے جیسی بھابی کہاں ملے گی تجھے۔‘‘ اردگرد کا لحاظ کیے بغیر وہ بول رہی تھی۔ تبھی ایان نے کھنکھار کر اپنی موجودگی کا احساس دلایا۔
’’صاعقہ! میں ذرا باہر جارہا ہوں۔ اماں کا خیال رکھنا۔‘‘ مختصراً کہہ کر وہ باہر نکل گیا تھا۔ آمنہ نے دل پر ہاتھ رکھ لیا۔
’’ہائے… یہ پاکستانی لڑکے… صاعقہ جلدی سے پانی پلا‘ نیئں تو میں لگی ہوں بے ہوش ہونے۔‘
’’ہوجا شاباش… میں بتاتی ہوں اندر جاکر سمعان بھائی کو۔‘‘
’’عقل کر لڑکی… مذاق کررہی تھی میں‘ کبھی سمجھ بھی جایا کر۔‘‘ سمعان کے ذکر پر وہ فوراً سنبھلی تھی۔ جواب میں صاعقہ مسکرادی۔
’’شکر جو تیرے بے سُرے چہرے پر بھی مسکراہٹ دیکھنے کو ملی‘ اب بتا کیا بات ہے؟ گھر میں تو سب ٹھیک ہے نا؟ کھویا ہوا بھائی بھی مل گیا‘ پھر بھی یہ اداسی‘ اوپر سے جاب پر بھی نہیں جارہی‘ پتا ہے قاسمی صاحب نے کل کتنی باتیں سنائی تھیں۔‘‘
’’کیوں؟‘‘
’’بغیر بتائے چھٹی کرو گی تو باتیں تو سنائیں گے نا وہ؟‘ آخر مالک جو ہوئے‘ خیر بتا ناں کیا ہوا ہے؟‘‘ وہ اس کی جان بخشی کے موڈ میں نہیں تھی۔ صاعقہ نے سر جھکا کر سارا ماجرا کہہ سنایا۔
’’دفع دور… اتنی سی بات کی اتنی ٹینشن لے رکھی ہے تُو نے۔ پاگل نہ ہو تو۔ مجھے تو وہ شکل سے ہی لوفر لگ رہا تھا۔‘‘ بیان بدلنے میں تو وہ سیاستدانوں کی بھی استاد تھی۔ صاعقہ اس کے انداز پر مسکرادی۔
’’لوفر لگ رہا تھا تو بتایا کیوں نہیں؟‘‘
’’لو… مجھے کیا پتا تھا کہانی اتنی آگے بڑھ گئی ہے‘ خیر سیانوں کا قول ہے اپنے سے اوپر کبھی نہ دیکھو… ہم جیسے ہیں‘ ویسا ہی کوئی مل جائے بس سادا سا‘ غریب سا‘ مگر بے حد چاہنے والا‘ دس بارہ بچوں کا ہونے والا ابا!‘‘ آخری جملہ اس نے ہنستے ہوئے کہا تھا‘ صاعقہ نے ایک مرتبہ پھر اس کے شانے پر دھموکا رسید کردیا۔
’’تیرے دس بارہ ہی ہوں گے بے فکر رہ۔‘‘ وہ پھر ہنسی تھی اور پیالہ وہیں چھوڑ کر اندر سمعان کے کمرے کی طرف بڑھ گئی تھی۔ صاعقہ گہری سانس بھر کر موبائل چارج کرنے کو اٹھ کھڑی ہوئی۔
///
انوشہ کچن میں مصروف تھی اور اس کا بیٹا باہر لان میں کھیل رہا تھا۔ جب کوئی سفری بیگ کندھے پر لٹکائے ہشاش بشاش سا گھر کے اندر چلا آیا۔ لان میں بچے کو کھیلتا دیکھ کر وہ اسی کی طرف بڑھ گیا۔
’’ہیلو چاند۔‘‘
اپنے کھیل میں مشغول چاند نے فوراً سر گھما کر اسے دیکھا تھا۔
’’پاپا؟‘‘ اس نے جیسے قیاس لگایا۔ نووارد اپنی جگہ پر ٹھٹک گیا۔
’’کیا یہ بچہ اپنے باپ کی پہچان سے تاحال محروم تھا؟‘‘
’’آپ میرے پاپا ہو نا!‘‘ شاہ زر کے بعد اب وہ ایک اور چہرے میں اپنی تکمیل ڈھونڈ رہا تھا۔ سرمد نے کچھ سوچتے ہوئے اپنے مضبوط بازو پھیلا دیے۔ بچہ ایک لمحے میں اس کے سینے سے آلگا۔
’’نہیں‘ لیکن آپ کے پاپا کا دوست ہوں۔‘‘
’’تو پاپا کیوں نہیں آئے آپ کے ساتھ؟‘‘ بہ مشکل تین سال کا وہ بچہ کتنے مشکل سوال کر رہا تھا۔
وہ سر کھجا کر رہ گیا۔
انہیں کام تھا بیٹے لیکن وہ جلدی آئیں گے۔‘‘
’’کب آئیں گے۔ جب میں بڑا ہوجائوں گا تب؟‘‘
’’ہاں۔‘‘ بعض اوقات بچوں کو مطمئن کرنا بھی کتنا مشکل ہوجاتا ہے۔ انوشہ چہرے سے پسینہ پونچھتی کچن سے باہر نکلی تو اپنے بیٹے کو ایک اجنبی شخص کی بانہوں میں دیکھ کر حیران رہ گئی۔
’’السّلام علیکم! مجھے سرمد کہتے ہیں۔ یقینا جمال انکل نے میرے بارے میں بتایا ہوگا آپ کو۔‘‘
’’جی… وعلیکم السّلام آئیے۔‘‘
’’سوری میں بہت لیٹ ہوگیا۔ اصل میں وہاں انگلینڈ میں زاور کا جو اکائونٹ تھا وہ اس کی اچانک ڈیتھ کے باعث سیل ہوگیا۔ دو ماہ انہی معاملات کو سلجھانے میں نکل گئے۔‘‘ وہ اپنے دیر سے آنے کی وجہ بیان کر رہا تھا۔
انوشہ سر ہلا کر رہ گئی۔
’’بابا اکثر ذکر کرتے ہیں آپ کا۔ دو ماہ پہلے جب ہم یہاں شفٹ ہوئے تو ان کے لبوں پر بس آپ کا ہی نام تھا۔ زاور کا دوست ہونے کی حیثیت سے بہت پیار کرتے ہیں وہ آپ سے۔‘‘
’’یہ تو ذرہ نوازی ہے ان کی‘ آپ انوشہ ہی ہیں نا۔‘‘
چاند کو ساتھ لیے وہ صوفے میں دھنس چکا تھا۔ انوشہ نے پھر سر ہلانے سے کام لیا۔
’’جی۔‘‘
’’بہت خوشی ہوئی آپ سے مل کر۔ اصل میں زاور اور شافیہ بہت ذکر کرتے تھے آپ کا۔ میرا تو جگری یار تھا وہ۔ جن دنوں ان کے ساتھ حادثہ پیش آیا۔ میں اسپتال میں تھا۔ بہت بعد میں گھروالوں نے بتایا مجھے۔ آپ یہاں خوش ہیں نا؟‘‘
’’جی کہہ سکتے ہیں۔‘‘
’’آپ کا بیٹا بہت پیارا ہے انوشہ! بہت میٹھی باتیں کرتا ہے۔ بابا جب فون پر بتاتے تھے تو مجھے یقین ہی نہیں آتا تھا۔ آج اپنی آنکھوں سے دیکھ کر اور کانوں سے سن کر یقین آگیا ہے۔‘‘ وہ فرینڈلی طبیعت کا مالک خوش شکل نوجوان تھا۔
انوشہ نے محض مسکرانے پر اکتفا کیا۔
’’بابا اور آنٹی دکھائی نہیں دے رہے۔ کہیں گئے ہیں کیا؟‘‘
’’نہیں‘ بابا مسجد گئے ہیں اور خالہ اندر دوا کھا کر لیٹی ہیں۔ آپ انتظار کریں۔ میں بلا کر لاتی ہوں انہیں۔‘‘
سرعت سے کہتی وہ فوراً وہاں سے کھسکی تھی۔ سرمد دوبارہ چاند سے باتوں میں لگ گیا۔
جمال صاحب اور نزہت بیگم دونوں ہی سرمد کے آنے پر بہت خوش تھے۔ وہ پورے دو ماہ کی تاخیر سے آیا تھا اور آتے ہی گھر کے فرد کی طرح گھل مل گیا تھا۔ خصوصاً انوشہ کے بیٹے کے ساتھ اس کی بہت دوستی ہوگئی تھی۔
ابتداء میں انوشہ اسے نظر انداز کیے رہی۔ مگر وہ اتنی اچھی عادتوں اور طبیعت کا مالک تھا کہ وہ زیادہ دن اس سے بے رخی نہ برت سکی۔ اس روز رات خوب چاندنی تھی۔ انوشہ چاند کو سلا کر لان میں چلی آئی۔ اسے ابھی بھی تنہائی اچھی لگتی تھی۔
رات کی خاموشی‘ پُر اسرار ہَوا اور خوش بُو لٹاتے پودوں کا سُرور وہ کچھ گھنٹوں کے لیے جیسے اپنا ہر دکھ بھول جاتی تھی۔ اس وقت بھی وہ ایزی چیئر پر بیٹھی‘ پلکیں موندے گلاب اور موتیا کی خوش بو اپنے اندر اتار رہی تھی۔ جب سرمد اسے ڈھونڈتا وہاں چلا آیا۔
’’انوشہ۔‘‘ بہت دھیمے لہجے میں اس نے پکارا تھا مگر انوشہ نے پٹ سے آنکھیں کھول دیں۔
’’آپ یہاں؟‘‘ وہ سنبھل کر بیٹھی تھی۔
’’ہاں‘ چاند اور آنٹی سو رہے ہیں‘ بابا مطالعے میں مشغول ہیں۔ انہیں ڈسٹرب کرنا اچھا نہیں لگا تو آپ کو ڈھونڈتا یہاں چلا آیا۔ آپ نے مائنڈ تو نہیں کیا؟‘‘
’’نہیں۔‘‘ وہ محض یہی کہہ سکتی تھی۔ وہ اس کے قریب دھری کرسی پر ٹک گیا۔
’’مجھے بابا نے آپ کی لائف کے بارے میں مختصراً بتایا تھا۔ بہت افسوس ہوا۔ اصل میں یہ جو زندگی ہے نا انوشہ بڑا عجیب کھیل ہے اور اس کھیل میں ہارتے ہمیشہ وہی لوگ ہیں جو اسے سمجھ لیتے ہیں۔ دیکھا جائے تو میری کہانی بھی آپ سے مختلف نہیں ہے۔ بڑے دکھوں اور آزمائشوں کا سامنا کیا ہے میں نے‘ مگر کبھی ٹوٹا نہیں۔ نتیجتاً آج میں ایک کامیاب انسان ہوں۔ آپ کو ایک پتے کی بات بتائوں۔‘‘
وہ بولنے کا شوقین تھا۔
’’جی۔‘‘
’’آپ شاید میری بات سے اتفاق نہ کریں‘ مگر یہ حقیقت ہے آنسوئوں کے خزانے سے بھری آنکھوں والے زندگی کے اس کھیل کے بڑے کھلاڑی ہوتے ہیں۔ یہ جو دکھ اور افسردگی ہے ناں یہ ہر کسی کی میراث نہیں ہوتی۔ احساس اور جذبات مختلف روپ میں‘ مختلف دلوں میں گھر کرتے ہیں۔ یہاں ہمارا یہ المیہ ہے کہ ہمیں صرف ہنستے مسکراتے لوگ ہی اچھے لگتے ہیں۔مگر حقیقت میں وہ لوگ زیادہ انمول ہوتے ہیں جنہیں حساسیت اور اداسی اپنی گرفت میں جکڑے رکھتی ہے۔ ایسے لوگ زندگی کے ہر رنگ کی پہچان رکھتے ہیں۔ ہزاروں کے ہجوم میں واہ‘ واہ وصول کرتے جب پلٹ کر گھر کی تنہائیوں میں آتے ہیں تو…!‘‘
اس کا لہجہ اچانک بھرّایا تھا۔ انوشہ چونک کر اسے دیکھنے لگی۔
’’تو…؟‘‘
’’تو… تو ان کے اندر کی اداسی اور اکیلا پن انہیں چھید ڈالتا ہے۔ ہزاروں لاکھوں فین ہیں میرے‘ مگر پھر بھی لگتا ہے جیسے بھری دنیا میں‘ میں بالکل اکیلا ہوں۔ اپنی تمام خوبیوں اور خامیوں کے ساتھ۔‘‘
چہرے کا رخ پھیر کر اس نے انوشہ رحمن سے اپنے آنسو چھپائے تھے۔ جب اس نے پوچھا۔
’’کس فیلڈ سے وابستہ ہیں آپ؟‘‘
’’سنگر ہوں۔ وہاں انگلینڈ میں شوقیہ کئی پروگرام کیے ہیں میں نے‘ نیٹ کے ذریعے بھی سیکڑوں فین بنائے ہیں پھر بھی‘ پھر بھی ایک اچھے مخلص ساتھی کی کمی‘ بہت شدت سے محسوس ہوتی ہے۔ ایک دوست ایک ہم راز جس سے آپ بلا جھجک اپنا ہر دکھ‘ ہر سکھ شیئر کرسکیں۔ جس کے ہونے سے آپ کو اپنے اکیلے پن کا احساس نہ رہے۔ آپ ہر کسی کے پیچھے نہ بھاگیں۔ جو آپ کا ہو صرف آپ کا۔‘‘
اس کا لہجہ عجب تشنگی لیے ہوئے تھا۔ انوشہ اسے سمجھ نہ سکی۔
’’انگلینڈ جیسے ملک میں رہ کر کوئی تنہا کیسے رہ سکتا ہے؟‘‘
اس کے سوال پر مقابل بیٹھا وہ شخص دھیمے سے مسکرایا تھا۔
’’تنہائی کا تعلق آپ کے اندر سے ہوتا ہے انوشہ! ملکوں سے نہیں۔‘‘
’’پھر… شادی کیوں نہیں کی ابھی تک؟‘‘
’’کمپرومائز نہیں کرسکا۔ جو اچھی لگی وہ ملی نہیں اور جو ملیں وہ دل کو لگی نہیں۔‘‘
’’مطلب؟‘‘
’’مطلب…! مطلب میں بہت عجیب سا شخص ہوں۔ میں ہی کیا ہر وہ شخص جس کے اندر کوئی نہ کوئی فن ہے وہ شاید عجیب ہی ہوتا ہے۔ اس کی سوچ‘ اس کی خواہشات‘ اس کے خواب۔ بہت مشکل ہوتا ہے ہم جیسے لوگوں کو سمجھنا اور ان کے ساتھ نباہ کرنا۔‘‘
’’جو اچھی لگی وہ کیوں نہیں ملی؟‘‘
انوشہ کو اب اس سے گفتگو کرنے میں مزہ آرہا تھا۔
سرمد نے اس کے سوال پر گہری سانس فضا کے سپرد کی پھر بولا۔
’’وہ کسی اور کو پسند کرتی ہے‘ میری چاہت‘ میری دیوانگی سے با خبر ہونے کے باجود اس نے کسی اور سے شادی رچالی۔ مگر کتنی عجیب بات ہے ناں انوشہ! کہ وہ پھر بھی خوش نہیں ہے‘ کسی اور کے دکھ میں بے حال وہ اب بھی میرا دل جلاتی ہے۔ کیا کروں میں۔ کچھ سمجھ نہیں آتی کہ آخر یہ محبت کس بلا کا نام ہے‘ عجیب مصیبت ہے یار۔ کہیں کا نہیں چھوڑتی یہ بندے کو‘ نہ جینے دیتی ہے نہ مرنے دیتی ہے۔‘‘
’’کیا نام ہے اس کا؟‘‘
’’آپ کیا کریں گی نام جان کر؟‘‘
’’کچھ نہیں‘ یونہی پوچھ رہی ہوں۔ آپ نہ بتانا چاہیں تو کوئی مسئلہ نہیں۔‘‘
’’ایسی کوئی بات نہیں‘ یقینا آپ تو جانتی ہوں گی اسے‘ بہت قریبی رشتہ ہے اس کا آپ سے۔‘‘
’’اچھا‘ پھر تو ضرور بتائیے۔‘‘
وہ حیران ہوئی تھی سرمد خان مسکرا دیا۔
’’یونیورسٹی فیلو ہے میری‘ بریرہ رحمن نام ہے اس کا۔‘‘
’’کیا؟‘‘ اسے واقعی دھچکا لگا تھا۔ اس بار سرمد اسے دیکھ کر رہ گیا۔
’’ہاں‘ وہی اسٹوپڈ ہے‘ بہت اچھی ہے دل کی‘ یونیورسٹی میں بہت دوستی رہی ہے ہماری۔ مگر قدرت نے اس کی آنکھوں اور دل میں میرے لیے محبت کا رنگ نہیں ڈالا۔ میں اسے خوب صورت نہیں لگتا۔ وہ مجھے اچھا دوست مانتی ہے مگر…!‘‘
جملہ ادھورہ چھوڑ کر وہ مسکرایا تھا اور اس مسکراہٹ میں جو اذیت چھپی تھی۔ وہ انوشہ رحمن کی نگاہوں سے مخفی نہیں رہ سکی تھی۔
’’آپ مزید کتنی دیر یہاں بیٹھیں گی؟‘‘
’’بس‘ اٹھ ہی رہی تھی کیوں؟‘‘
’’کافی پینے کو دل چاہ رہا تھا۔ بابا کے بقول آپ بہت اچھی کافی بناتی ہیں۔‘‘
وہ پھر مسکرا رہا تھا۔ انوشہ کا دل چاہا وہ اسے مسکرانے سے منع کردے۔ کتنی اذیت‘ کتنی تلخی تھی اس کی مسکراہٹ میں۔ وہ اسے دیکھتی رہ گئی۔
’’ٹھیک ہے۔ چلیں۔‘‘
فوراً سے پیشتر وہ اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔ سرمد بھی فوراً اٹھ کھڑا ہوا۔ کون کہہ سکتا تھا کہ زندگی سے بھر پور وہ خوب صورت شخص اندر سے اتنا خالی ہے۔
///
’’انزلہ باجی۔‘‘
شہر جانے والی کچی سڑک سے اٹھ کر وہ ابھی چند قدم ہی آگے بڑھا پائی تھی کہ چھنو کی مانوس صدا نے اس کے قدم وہیں روک لیے۔ اُڑی رنگت اور پھولی سانسوں کے ساتھ وہ بہت دنوں کے بعد اس کے سامنے آئی تھی۔ انزلہ حیران حیران سی اسے دیکھے گئی۔
’’کیا بات ہے چھنو‘ تُو ٹھیک تو ہے؟‘‘
’’غضب ہوگیا ہے انزلہ باجی! گائوں میں کچھ بھی ٹھیک نہیں ہے۔‘‘
’’مطلب؟‘‘ اس نے بھنوئیں اچکائی تھیں۔ جب وہ بولی۔
’’چھوٹے چوہدری کو گولیاں لگی ہیں جی‘ خود اس کے بڑے بھائی نے ماری ہیں۔ وہ وہاں حویلی کے قریب پڑا تڑپ رہا ہے‘ مگر کوئی بھی بڑے چوہدری کے ڈر سے اس کے قریب نہیں جا رہا۔ فیقے اور اس کے ساتھیوں کو بھی گولیاں لگی ہیں۔ آپ کچھ کریں انزلہ باجی‘ نئیں تو سب کچھ ختم ہوجائے گا۔‘‘
خبر کیا تھی کوئی بم تھا جو انزلہ کو اپنے قریب پھٹتا محسوس ہوا تھا۔
بے ساختہ اس کے کانوں میں اپنے ہی لہجے کی بازگشت گونج اٹھی۔
’’تمہاری موت انزلہ شاہ کے ہاتھوں لکھی جا چکی ہے۔ سانول شاہ‘ یاد رکھنا۔‘‘
اور اب… اب جب کہ یہ کہانی ختم ہو رہی تھی تو اس کے اندر بے چینی پھیل گئی تھی۔
جسم جیسے بے جان ہوگیا تھا۔
یہ کیسا المیہ تھا زندگی کا کہ جس شخص کی غلط حرکتوں نے اسے اس سے نفرت کرنے پر مجبور کردیا تھا اب اس سے دائمی جدائی کے تصور کے ساتھ ہی جیسے اس کی ساری برائیاں بھی پس پشت چلی گئی تھیں۔ یاد رہا تھا تو محض اتنا کہ وہ اس کی ’’چاہت‘‘ تھا۔
جانے کیسے فون کر کے اس نے فوراً سے پیشتر بہزاد کو گاڑی کے ساتھ بلوایا تھا اور پھر بنا اپنی جان کی پروا کیے وہ ملکوں کی حویلی پہنچی تھی۔ جہاں قدرے فاصلے پر‘ ڈیرے کے ایک طرف وہ زمین پر پڑا تڑپ رہا تھا۔
انزلہ کا دل جیسے کسی نے مٹھی میں لے لیا۔ بھاگ کر اس تک پہنچتے ہوئے اس نے اپنے حوصلے ٹوٹتے ہوئے محسوس کیے تھے۔ زندگی کے اجالوں کو الوداع کہتے اس شخص سے نفرت کا گلیشئر تیزی سے پگھل رہا تھا۔ وہ اس کا سر اپنی گود میں رکھتے ہوئے رو پڑی۔
’’قیس…‘‘
ایک مدت کے بعد اس نے اسے اس نام سے پکارا تھا جو اس کی پہچان بن چکا تھا۔ جو اب میں سانول شاہ نے آنکھیں کھولی تھیں۔ اس کے لب اس سے کچھ کہنے کی تمنا میں محض پھڑ پھڑا کر رہ گئے تھے۔
’’کہا تھا ناں میں نے۔ مت خدا بن کر چلو زمین پر‘ کہا تھا نا‘ خدائی کا دعویٰ کرنے والے‘ مٹی کے پتلے جب اس زبردست پکڑ والے کی گرفت میں آتے ہیں تو توبہ کرنے کا موقع بھی نہیں ملتا انہیں میں نے کہا تھا نا سانول شاہ مگر تم نے میری کوئی بات نہیں سنی۔‘‘ وہ اب بلند آواز سے رو رہی تھی۔ اسی اثناء میں بہزاد جیپ لے کر آگیا۔
’’سب ٹھیک تو ہے نا انزلہ؟‘‘
جیپ سے اترتے ہی اس نے پوچھا تھا۔ جواب میں اس نے سانول کا ہاتھ مضبوطی سے تھام لیا۔
’’نہیں بہزاد… کچھ بھی ٹھیک نہیں ہے‘ پلیز‘ پلیز جلدی کرو۔ ہمیں جلد از جلد سانول کو اسپتال پہنچانا ہے۔‘‘
’’ٹھیک ہے‘ آپ پریشان نہ ہوں۔ گولیاں پیٹ میں لگی ہیں۔ اللہ نے چاہا تو اسے کچھ نہیں ہو گا۔‘‘
انزلہ کی جذباتیت و ہمدردی پر از حد حیران‘ اس نے آگے بڑھ کر سانول شاہ کو اٹھایا اور جیپ کی پچھلی سیٹ پر لٹا دیا۔ انزلہ بنا دادی کو بتائے بہزاد کے ساتھ ہی جیپ میں بیٹھ گئی۔ اسے چھنو کی آواز‘ اب بھی اپنے قریب سے آتی سنائی دے رہی تھی۔
’’پتا ہے انزلہ باجی! بڑے چوہدری نے سانول شاہ کو گولیاں ماری ہیں۔‘‘
’’نہیں۔‘‘
’’آپ کو کیسے پتا ہوگا جی! چھوٹے چوہدری بھلا کسی کی سمجھ میں آنے والی چیز تھوڑی ہیں۔ اب تک تو میں انہیں منہ بھر بھر گالیاں اور بد دعائیں دیتی رہی تھی مگر‘ مجھے تو کل ہی فیقے نے بتایا تھا کہ چھوٹے چوہدری نے میران شاہ کی پھانسی ختم کروا کر اسے پورے تحفظ کے ساتھ کہیں بھگا دیا تھا۔ اس پر بڑے چوہدری کی اس سے جنگ ہوئی تھی اور تو اور …! اس نے اپنی بچپن کی منگ بھی ٹھکرا دی۔ سب کہتے ہیں جی وہ صرف آپ کا نام لیتا ہے…!‘‘
چھنو اور بھی جانے اسے کیا کیا بتارہی تھی مگر اس کا دل تو رک گیا تھا۔
جو پھانس دل میں چبھی تھی‘ جو نفرت کی اصل وجہ تھی‘ وہی ختم ہوگئی تھی تو اب کیا جواز باقی رہ گیا تھا اس شخص سے بے تحاشا نفرت و عداوت کا۔ جب کہ وہ یہ بھی جانتی تھی کہ اس کے باپ کا قاتل بڑا چوہدری ہے اور اب اسی بڑے چوہدری نے اس شخص کے وجود میں بھی گولیاں اتار دی تھیں۔ جو باپ کے بعد اسے بے حد محبوب تھا۔
///
’’یہ سرمد خان کون ہے؟‘‘
وہ اوپر ٹیرس پر کھڑا نیچے سڑک کے مناظر دیکھ رہا تھا۔ جب عباد کی کال آگئی اور ابتدائی دعا سلام کے بعد جو پہلا سوال اس نے کیا وہ یہی تھا۔
’’کیوں تم کیوں پوچھ رہے ہو؟‘‘
’’بس یونہی‘ تمہارے آفس سے پتا چلا کہ کسی سرمد خان کے ساتھ مل کر بزنس کو شیئر کر رہے ہو؟‘‘
’’ہاں یار۔‘‘
’’کیوں؟‘‘
’’بس‘ اب تنہا کچھ بھی سنبھالا نہیں جاتا‘ وہ زاور کا پارٹنر تھا۔ اس کے انتقال کے بعد بہت ایمانداری سے اس نے وہاں انگلینڈ میں زاور کا کام سنبھالا۔ اسی لیے میں نے اسے یہاں بلوایا۔ کل میٹنگ رکھی ہے اس سے تم بھی آجانا۔‘‘
’’میں نہیں آسکوں گا۔ تمہیں پتا تو ہے گھر میں کتنی مصروفیت رہی ہیں۔ ہانیہ کی شادی کے بعد‘ ماما کی طبیعت بہت خراب رہنے لگی ہے‘ پھر دل کا موسم بھی بہت عجیب ہو رہا ہے یار! کسی چیز میں جیسے سکون نہیں رہا۔‘‘
’’کیوں‘ کیا ہوا؟‘‘
’’کیا ہونا تھا یار! وہی محبت کی کارستانیاں اور ہجر کی آگ۔‘‘
’’میں سمجھا نہیں‘ تمہارا راوی تو چین ہی چین لکھ رہا تھا پھر…؟‘‘
’’پھر اب نہیں لکھ رہا۔ ایک ہفتے سے نہ اس کی شکل دیکھی ہے نہ آواز سنی ہے۔‘‘ از حد افسردہ لہجے میں کہتا وہ شاہ زر کو اچھا خاصا حیران کر گیا تھا۔
’’کیا مطلب… منگنی شدہ ہو کر بھی تو ابھی وہیں اٹکا ہوا ہے؟‘‘
’’ہاں… تو… تُو بھی تو شادی شدہ ہے۔ پھر بھی محترمہ آنسہ انوشہ رحمن میں جان اٹکی رہتی ہے تمہاری۔‘‘
وہ بلا کا ذہین اور حاضر دماغ تھا۔ شاہ زر کے لبوں پر چپ لگ گئی۔
’’ایک سوال پوچھوں شاہ؟‘‘ کچھ لمحوں کی خاموشی کے بعد عباد کی آواز آئی تھی۔ وہ چپ رہا۔
’’لگ گئی ہے نا دل پر؟‘‘ اس کی چپ پر وہ ہنسا تھا مگر بہت پھیکی سی ہنسی تھی اس کی۔ اس بار شاہ زر نے چپ توڑ دی۔
’’پوچھو۔‘‘
’’یہ محبت کیا بلا ہے کیا تجھے اس کی سمجھ آتی ہے؟‘‘
’’نہیں۔‘‘ شاہ زر کی ’’نہیں‘‘ میں بہت تھکن تھی۔
’’مجھے بھی سمجھ نہیں آتی شاہ! پتا نہیں کیا مصیبت ہے‘ جتنا نظر چراتا ہوں‘ اتنا ہی بے بسی محسوس ہوتی ہے‘ کیا کروں؟‘‘
’’کسی ایک کنارے پر لگ جائو‘ محبت میں شرک نہیں چلتا۔‘‘
’’کیسا شرک؟‘‘
’’یہی کہ ایک وقت میں‘ ایک ہی مقام کئی لوگوں کو دینا۔‘‘
’’یہ تو تم بھی کر رہے ہو۔‘‘
’’نہیں‘ میں نہیں کر رہا۔ زندگی اگر میرے سامنے انوشہ اور بریرہ دونوں کی چوائس رکھے تو میں لمحے سے پیشتر انوشہ کو چنوں گا۔ ہاں اگر اس کے بغیر بریرہ ملتی ہے تو پھر وہی سب کچھ ہے۔‘‘
’’اور اگر وہ دونوں ایک ہی شخص کی اولاد نہ ہوتیں تو؟‘‘
’’تو میں انوشہ اور بریرہ دونوں کو ساتھ رکھتا۔ ایک پل کے لیے بھی خود سے دور نہ کرتا۔‘‘
’’ٹھیک ہے‘ چلو فرض کرتے ہیں کہ انوشہ تمہیں مل جاتی ہے۔ تو کیا تم بریرہ کو چھوڑ دو گے؟‘‘
’’شاید میرے لیے یہ مشکل ہو‘ مگر یہ طے ہے کہ اگر بریرہ کسی اور کے ساتھ خوش رہ سکتی ہے۔ تو میں اسے چھوڑ دوں گا۔‘‘
بہت مشکل سوال کا جواب بہت سوچ کر دیا تھا اس نے تبھی اس نے پھر پوچھا۔
’’اور انوشہ‘ اگر وہ کسی اور کے ساتھ خوش رہ سکتی ہے تو…؟‘‘
اس بار اسے پھر چپ لگ گئی تھی۔ کئی لمحوں کے بعد وہ بولا تھا۔
’’بہت مشکل ہے میرے لیے اس کے بغیر خوش رہنا‘ بہت نقصان کیا ہے میں نے اس لڑکی کا عباد۔ بہت قرض ہیں میری ذات پر اس کے وہ میرے بغیر خوش رہ سکتی ہے۔ مگر میں اسے اب مزید کسی اور کے ساتھ شاید کبھی برداشت نہ کرسکوں۔‘‘
’’تم پاگل ہو شاہ زر اور کچھ نہیں۔‘‘
’’محبت میراث ہی پاگلوں کی ہے میری جان! بھلا ہوش مندوں نے بھی کبھی اپنا کچھ گنوایا ہے۔ اس راہ میں تو جو بھی لُٹا ہے سب دیوانوں کا ہی لُٹاہے۔ شعر نہیں سنا تم نے کہ …
ایک ہمیں آوارہ کہنا‘ کوئی بڑا الزام نہیں
دنیا والے دل والوں کو اور بہت کچھ کہتے ہیں
’’واہ… اب تو شعر و شاعری بھی شروع کردی کیا بات ہے۔ اچھا منّے کا کچھ پتا چلا…؟‘‘
’’نہیں یار یہ پولیس والے بھی کبھی کسی کے ہوئے ہیں۔ بجائے فائدے کے مجھے تو ان سے نقصان ہی نظر آتا ہے۔ کب کہاں کس موقع پر ’’وردی‘‘ چڑھ جائے۔ کچھ پتا نہیں چلتا۔‘‘
’’چل چھوڑ یار‘ پہلے کیا کم مسائل ہیں کہ اب ان ’’قانون دان‘‘کے مسئلے کو بھی سر پر سوار کر لیں۔ میں آرہا ہوں ایک دو روز میں تیرے پاس‘ اپنا خیال رکھنا۔‘‘
’’ٹھیک ہے خدا حافظ۔‘‘
عباد سے بات کرنے کے بعد اس کے اندر کا ’’حبس‘‘ قدرے کم ہوگیا تھا۔ بے شک نفسا نفسی کے دور میں ایسا سچا‘ مخلص دوست خدا کی طرف سے اس کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں تھا۔
///
چاند کب سے آئس کریم کھانے کی فرمائش کر رہا تھا۔
انوشہ اس کے زکام کی وجہ سے اسے مسلسل ٹال رہی تھی۔ تبھی وہ سرمد کی گود میں چڑھ آیا جو جمال صاحب کے ساتھ‘ بزنس امور پر ڈسکس کررہا تھا۔
’’انکل‘ مجھے آئس کریم کھانی ہے۔‘‘
’’چلو بھئی‘ نئی فرمائش پوری کرو۔‘‘ جمال صاحب مسکرائے تھے۔
سرمد نے چاند کے ہاتھ چوم لیے۔
’’کتنی ساری کھانی ہے۔‘‘
’’ڈھیر ساری۔‘‘
’’مگر ڈھیر ساری آئس کریم کے پیسے تو آپ کے پاپا نے نہیں دیے مجھے۔‘‘
’’تو آپ میری ان سے بات کروا دیں نا۔ میں ان سے کہوں گا وہ آپ کو ڈھیر سارے پیسے بھجوا دیں گے۔‘‘
چاند کی بات پر انوشہ کا خون جلا تھا جب کہ سرمد ہنس دیا تھا۔
’’چلو ٹھیک ہے‘ پھر میں گاڑی نکالتا ہوں آپ مما سے بولو وہ ہمارے ساتھ آئیں۔‘‘
سرمد کے کہتے ہی وہ اس کی گود سے اتر کر انوشہ کے سر ہوگیا تھا۔
’’مما چلیں انکل کے ساتھ آئس کریم کھانے۔‘‘
’’تم ہی جائو ندیدے کہیں کے میں نہیں جا رہی کہیں۔‘‘
وہ برہم ہوئی تھی۔ تبھی سرمد نے ٹوک دیا۔
’’بری بات انوشہ! بچوں کے ساتھ ایسا رویہ نہیں رکھتے۔ یہ عمر بہت حساس ہوتی ہے۔ چھوٹی چھوٹی بات کو اندر بٹھاتے ہیں بچے۔ خیر جلدی سے اٹھ کھڑی ہوں۔ نہیں تو میں کہیں نہیں جا رہا۔‘‘
’’اچھی بات ہے۔ میرا موڈ نہیں ہے کہیں جانے کا۔‘‘
’’موڈ بننے میں دیر نہیںلگتی۔ اب اٹھ جائیں نہیں تو میں نے اور چاند نے کھینچ کر اٹھا لینا ہے۔‘‘
وہ چاند کا ہاتھ پکڑ کر واقعی اس کے قریب چلا آیا تھا۔
انوشہ سٹپٹا کر اسے دیکھتی اٹھ کھڑی ہوئی۔
’’دنیا میں سو ضدی مرے ہوں گے جب آپ کا نزول ہوا ہوگا۔‘‘
کلس کر اس نے کہا تھا۔ سرمد دل کھول کر ہنس پڑا۔
’’چلیے بابا…! آپ اور آنٹی بھی چلیں۔ کیا یاد کریں گے اس عمر میں آئس کریم کو۔‘‘
چاند کو بانہوں میں اٹھا کر وہ جمال صاحب کے قریب آیا تھا۔ جب وہ بول اٹھے۔
’’نہیں بیٹا تم لوگ جائو۔ میں تو ابھی عصر کی نماز کے لیے جا رہا ہوں اور تمہاری آنٹی دوا لے کر لیٹی ہیں۔ انہیں آرام کرنے دو۔‘‘
’’واہ اس عمر میں بھی بیوی کے آرام کی کتنی پروا ہے آپ کو‘ بھئی شوہر ہو تو آپ جیسا۔‘‘ وہ پھر ہنسا تھا۔ جمال صاحب شرمندہ سے ہوگئے۔
انوشہ گاڑی میں آکر بیٹھی تو سرمد نے گاڑی اسٹارٹ کرتے ہوئے اس سے پوچھ لیا۔
’’آپ مائنڈ نہ کریں۔ تو ایک بات پوچھوں انوشہ؟‘‘
’’میں مائنڈ نہیں کیا کرتی‘ آپ پوچھیں کیا پوچھنا ہے۔‘‘
وہ چونکی تھی مگر اس نے سر گھما کر سرمد کی طرف نہیں دیکھا تھا۔
’’اچھی بات ہے۔‘‘
سرمد نے ایک نظر اسے دیکھا تھا اور پھر نگاہ سامنے روڈ پر جما دی۔
’’کیا چاند عبدالصمد کی اولاد نہیں ہے؟‘‘
’’چٹاخ۔‘‘ انوشہ کو لگا اس نے سوال نہیں طمانچہ رسید کیا ہے اس کے منہ پر۔
کیا عجیب ستم ظریفی تھی کہ وہ اس ’’کالک‘‘ سے باہر نکل ہی نہیں پا رہی تھی۔ ہر جگہ اس کی رسوائی‘ منہ کھولے اس کے سامنے کھڑی دکھائی دیتی تھی۔ وہ بوجھل اعصاب کے ساتھ خاموشی سے باہر دیکھتی رہی۔
’’ایم سوری اگر آپ نے مائنڈ کیا تو۔‘‘
وہ اب اسے دیکھ رہا تھا۔ انوشہ نے سر سیٹ کی پشت گاہ سے ٹکا دیا۔
’’اٹس اوکے۔‘‘ وہ بہت آزردہ ہوگئی تھی۔ سرمد کو اپنے سوال پر پچھتاوا ہونے لگا۔
تقریباً پچیس منٹ گاڑی میں خاموشی چھائی رہی تھی۔ جب گاڑی ایک جھٹکے سے ایک ریستوران کے سامنے رک گئی۔ سرمد نے گاڑی سے نکل کر پہلے چاند کو اٹھایا پھر انوشہ کی سائیڈ پر آگیا۔ مگر وہ اس سے قبل ہی گاڑی سے نکل آئی تھی۔
’’موسم کتنا اچھا ہو رہا ہے نا انوشہ!‘‘
شاید وہ اس کا موڈ بحال کرنے کو پوچھ رہا تھا۔
انوشہ نے خاموشی سے اثبات میں سر ہلا دیا۔
’’چلیں پھر اسی خوشی میں آپ کو شاندار سا ایڈوانس ڈنر کرواتا ہوں‘ کیا یاد کریں گی آپ کہ کس سخی اجنبی سے واسطہ پڑا تھا آپ کا۔‘‘
براہِ راست اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے وہ مسکرایا تھا۔
انوشہ بے ساختہ نظریں چرا گئی۔
عین اسی لمحے وہاں کسی اور گاڑی کے ٹائر چرچرائے تھے اور گاڑی میں بیٹھے شاہ زر آفندی کی نگاہیں انوشہ اور اپنے بیٹے کو ایک اجنبی شخص کے ساتھ اکٹھے دیکھ کر حیرانی سے کھلی رہ گئی تھیں۔
تو کیا واقعی اس کے امتحان کا وقت شروع ہوگیا تھا؟
///
اس روز پورے دو ماہ کے بعد وہ جاب پر واپس آئی تھی اور یہ دو ماہ عباد نے کیسے گزارے تھے محض اس کا دل جانتا تھا۔
صاعقہ جانتی تھی کہ وہ بھی عباد انڈسٹری میں ہی کام کرتا ہے۔ اسی لیے اس نے بیماری کا بہانہ بنا کر دو ماہ کی درخواست بھیج دی تھی۔ عباد اس سے پہلے کبھی باقاعدگی سے آفس نہیں آتا تھا۔ زیادہ تر غیر ملکی ٹورز پر ہی رہتا تھا مگر اب پچھلے دو ماہ سے وہ پوری پابندی سے آفس آرہا تھا۔ اسی امید پر کہ شاید وہ اسے مل جائے۔
کئی بار وہ اس کی گلی میں بھی گیا تھا مگر‘ ہر بار وہ دروازہ اسے بند ہی ملا۔
اس روز اسے کہیں جانا تھا۔ وہ صرف چند لمحوں کے لیے آفس کا چکر لگانے آیا تھا۔ جب اس کی نظر اپنے کیبن کی طرف جاتی صاعقہ پر پڑی تھی۔ صرف دو ماہ میں وہ لڑکی کیا سے کیا ہو کر رہ گئی تھی۔ اس کا دل اس کے پہلو میں دھڑکا تھا اور بہت زور سے دھڑکا تھا۔
عین اسی لمحے اسے شاہ زر کی بات یاد آئی تھی۔
’’کسی ایک کنارے پر لگ جائو عباد‘ محبت میں شرک نہیں چلتا۔‘‘
’’ہاں اسی لیے تو خدا بھی شرک کرنے والوں کو معاف نہیں کرتا۔ تم نے صحیح کہا تھا شاہ زر‘ محبت توحید‘ وحدانیت کا نام ہے شرک کرنے والے ہمیشہ بھٹک جاتے ہیں۔‘‘
وہیں کھڑے کھڑے اس نے سوچا تھا اور سیدھا اپنے روم میں چلا آیا تھا۔ وہاں ضروری کام نپٹانے کے بعد اس کے قدم صاعقہ کے کیبن کی طرف اٹھ گئے۔
///

شجر پہ جو کوئی جال ہوگا
تو پنچھیوں کا زوال ہوگا
ستارا مٹّی میں گم ہوا تو
تمہیں بھی اس کا ملال ہوگا
وفا کی مٹّی کو چھوکے دیکھو
ہمارے جیسا ہی حال ہوگا
جواب تم سے جو گم ہوا ہے
کوئی تو ایسا سوال ہوگا
جو بیچ رستے میں ٹوٹ جائے
وہ ربط کیسے بحال ہوگا؟
بتولؔؔ دل جو لہو لہو ہو
تو رنگ آنکھوں کا لال ہوگا!

’’اللہ ہدایت کیسے دیتا ہے؟‘‘
حسبِ معمول وہ سونے جاگنے کی کیفیت میں مبتلا تھی اور وہی جلالی بزرگ پھر اس کے سامنے تھے۔ جب اس نے خوف زدہ ہو کر ان سے پوچھا تھا۔
جواب میں بزرگ کی موندی ہوئی آنکھیں کھل گئیں۔ ان آنکھوں کی سرخی اور جلال نے گوری کا دل سہما دیا تھا۔
’’بہت مہربان ہے وہ اپنی مخلوق پر‘ اپنے محبوب کی محبوب امت پر‘ گناہ سے لتھڑے یہ لوگ جو دنیا کی مستی میں گم ہیں۔ جن کے لیے آخرت ایک قصے کہانی کے سوا اور کچھ نہیں یہ لوگ ہدایت کے حق دار نہیں ہیں بیٹی کہ ان کے ظاہر و باطن میں تضاد ہے۔ یہ نماز میں اللہ ربّ العزت کی پاک ذات کے سامنے سر جھکاتے ہیں مگر ان کے دل… ان کے دماغ‘ ان میں دنیا ہی چل رہی ہوتی ہے۔ بکری کے مردہ بچے سے زیادہ حقیر دنیا‘ یہ عمر کی نقدی خرچ ہونے تک ہوش میں نہیں آئیں گے۔ دنیا ان کے لیے نشہ ہے اور یہ اس نشے میں مدہوش ہیں۔ انہی لوگوں کے لیے شیطان مردود نے بڑے کرو فر کے ساتھ اللہ تبارک و تعالیٰ سے کہا تھا کہ وہ قبر تک ان کا پیچھا نہیں چھوڑے گا۔ ان لوگوں کے لیے دنیا کی زندگی ہی سب کچھ ہے مگر… اللہ کی مخلوق میں اس کے وہ بندے جو اس کی رضا اور خوشنودی کے لیے اللہ کے نا پسندیدہ تمام کاموں سے کنارہ کشی کرلیتے ہیں خواہ وہ ان کے کتنے ہی محبوب ہوں تو یہ ہدایت اور بڑا انعام ہے بیٹی۔ یہ دنیا کی زندگی تو گہری نیند کا نام ہے۔ اس نیند سے آنکھ نزع کی آخری ہچکی کے ساتھ ہی کھلے گی مگر افسوس‘ تب تک عمر کی ساری نقدی خرچ ہوچکی ہوگی۔‘‘
’’کیسی عمر کی نقدی بابا؟ کیسا دنیا کا بازار؟‘‘
وہ پریشان تھی۔ بابا کے ہاتھ میں موجود تسبیح کے گرتے دانے رک گئے۔
’’عمر کی نقدی کا نہیں پتا تجھے…؟ یہ مہلت کا نام ہے بیٹی‘ دس سال‘ بیس سال‘ پچاس سال وہ اپنے جس بندے کو جتنی چاہتا ہے عمر کی نقدی دے کر بھیجتا ہے کہ جا تجھے دنیا کے بازار میں جینے کے لیے اتنی مہلت اتنے ماہ و سال دیے۔ اس مقرر کی ہوئی مہلت میں اپنے لیے جو کما سکتا ہے کما‘ چاہے تو نیکی اور اچھے اعمال کی گھٹری تیار کر‘ جو تیرے اخروی سفر میں تیرے کام آئے۔ وہ وقت کہ جب جنم دینے والی ماں بھی بچے کی نہیں ہوگی۔ نفسا نفسی کے اس وقت میں صرف اپنے اعمال کام آئیں گے۔ نہیں تو برائی کے شیطانی ٹھیلوں کی طرف چلا جا اور آخرت میں اپنی ذلت کے لیے اپنے اعمال نامے میں گناہوں کا بوجھ اکٹھا کرتا جا۔ پھر جیسے ہی سانسوں کی مہلت ختم ہوگی۔ حساب شروع ہوجائے گا۔ امتحان کا وقت گزر جائے تو پھرنتیجہ ہی تیار کیا جاتا ہے بیٹی! یہی عمر کی نقدی اور دنیا کے بازار کی کہانی ہے۔‘‘
’’مگر… میں تو اس راہ کی بھٹکی ہوئی راہی نہیں ہوں بابا‘ میں تو بے زار ہوں اس روندی ہوئی دنیا سے…!‘‘
وہ روئی تو بزرگ کے لبوں پر تمسخر اڑاتی مسکراہٹ پھیل گئی۔
’’کیسی بے زاری ہے یہ جس میں دنیا کی چاہ ختم نہیں ہوئی، کیا کِیا تُو نے اپنے اصل کے لیے؟‘‘
کتنا مشکل سوال تھا اور کیسی تلخی تھی۔
وہ پسینے میں شرابور سر جھکاگئی۔
خوابوں کا یہ سلسلہ لا متناہی ہوتا جا رہا تھا۔
اس کی آنکھ کھلی تو دل پوری شدت سے دھڑک رہا تھا۔ شب آدھی سے زیادہ بیت گئی تھی۔ وہ بستر پر اٹھ بیٹھی۔
خواب کا ایک ایک منظر ذہن میں تازہ تھا۔ آپ ہی آپ اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔
’’کیا کروں میں؟ یہ خواب… یہ آگہی… آخر کیا مقصد ہے ان کا؟ میرا ربّ مجھ سے کیا کام لینا چاہتا ہے؟‘‘
وہ الجھ رہی تھی اور اس الجھن کا سرا سوائے قرآن پاک اور نماز کے اور کسی سے نہیں مل سکتا تھا۔
///
پچھلے دو ماہ میں وہ بہت زیادہ سنجیدہ اور مصروف ہو کر رہ گیا تھا۔
گھر میں ہادیہ کے ساتھ ساتھ باقی لوگوں نے بھی یہ بات محسوس کی تھی مگر اس سے استفسار کسی نے نہیں کیا۔ ہادیہ اس روز نہیں آئی تھی اور عباد کو فوری اسلام آباد جانا تھا مگر صاعقہ کو دیکھنے کے بعد جیسے اس کے سارے کام ملتوی ہوگئے تھے۔ وہ تیز قدموں سے چلتا اس کے کیبن میں آیا تھا۔ جہاں وہ سر جھکائے بیٹھی۔ اپنے کام میں مصروف تھی۔
’’صاعقہ!‘‘
مانوس پکار پر اس نے فوراً سر اٹھایا تھا اور پھر جیسے سر جھکانے کے قابل نہیں رہی تھی۔ دل اتنی شدت سے دھڑکا تھا کہ وہ خود اپنی بے اختیاری پر گھبرا اٹھی۔
’’مجھے تم سے بات کرنی ہے۔ میرے ساتھ چلو پلیز۔‘‘
دو قدم مزید آگے بڑھاتے ہوئے وہ اس کے سر پر آکھڑا ہوا تھا۔
صاعقہ کا چہرہ ضبط سے سرخ ہوگیا۔
’’سوری… میں آپ کو نہیں جانتی۔‘‘
’’صاعقہ پلیز… ایک بار میری سن لو پھر جو بھی فیصلہ کرو گی مجھے قبول ہوگا۔‘‘
’’مجھے کوئی فیصلہ نہیں کرنا‘ نہ میرا آپ سے کوئی واسطہ ہے سمجھے آپ۔‘‘
’’صرف ایک بار… پلیز…!‘‘
اسے ارد گرد کا کوئی لحاظ نہیں تھا۔ صاعقہ اس کی ہٹ دھرمی پر تپ اٹھی۔
’’میں اس وقت کام میں مصروف ہوں مسٹر زین اور میرے ایم ڈی اس وقت مجھے کہیں جانے کی اجازت نہیں دیں گے۔‘‘
’’بھاڑ میں گیا کام‘ میں ایم ڈی سے بات کرلیتا ہوں۔ تم ابھی اور اسی وقت میرے ساتھ چل رہی ہو بس۔‘‘
’’ضد مت کریں مسٹر زین میں…!‘‘
’’تم بھی نہ کیا کرو ضد‘ چلو جلدی کام سمیٹو شاباش‘ میں ابھی آتا ہوں۔‘‘
اپنی مخصوص ہٹ دھرمی سے کہتا وہ ایم ڈی کے کمرے کی طرف بڑھ گیا تھا۔ صاعقہ اس کی ضد اور دل ہی دل میں تلملاتی آفس میں تماشا نہ بننے کے لیے مجبوراً آفس سے نکل آئی۔ عباد اس کے پیچھے ہی نکلا تھا۔
دل میں اس کی طبیعت صاف کرنے کا ارادہ کرتی۔ خاموشی سے اس کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ گئی۔
///
گاڑی ایک جھٹکے کے ساتھ ساحل سمندر کے قریب رکی تھی۔
موسم بے حد سہانا تھا تبھی اس نے ساحل کا رخ کیا تھا۔ وگرنہ وہ اسے کسی پارک یا ریستوران میں ہی لاتا۔ پورے راستے صاعقہ گاڑی سے باہر دیکھتے ہوئے اپنا غصہ ضبط کرتی رہی تھی۔
وہ گاڑی سے باہر نکلا تو صاعقہ اس سے پہلے ہی گاڑی سے نکل آئی۔ خوب صورت گندمی چہرے پر غصے کی شدت کے باعث جیسے دھوپ چمک رہی تھی۔ وہ ترچھی نظر سے اسے دیکھتا۔ قدرے نادم سا قریب آکھڑا ہوا۔
’’ایم سوری صاعقہ میں آپ سے بہت شرمندہ ہوں۔‘‘
’’کیوں…؟‘‘
وہ بڑی سلگتی نگاہوں سے سامنے سمندر کو دیکھ رہی تھی۔
عباد کو لگا جیسے شاید اس کے الفاظ اندر ہی کہیں دم توڑ گئے ہوں۔ بہت مشکل سے وہ اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولا تھا۔
’’اس روز میرے باس کی بیٹی میرے ساتھ تھی۔ اسی لیے میں نے آپ کو پہچاننے سے انکار کیا مگر خدا گواہ ہے صاعقہ! میں پچھلے دو ماہ میں ایک پل بھی سکون سے نہیں رہ سکا۔ باربار میرا ضمیر مجھے ملامت کرتا رہا‘ مگر نہ فون پر آپ سے رابطہ ہو رہا تھا نہ آپ آفس آرہی تھیں۔ یہ بہت غلط ہے صاعقہ! کم از کم آپ کو مجھ سے وضاحت ضرور مانگنی چاہیے تھی۔‘‘
اس کا لہجہ دھیما تھا اور صاعقہ کا دل چاہا وہ اس کا چہرہ تھپڑوں سے سرخ کردے۔
’’ہوگیا آپ کا لیکچر مکمل؟‘‘
اس کی طرف دیکھے بغیر وہ مکمل اجنبی دکھائی دے رہی تھی۔ وہ تڑپ اٹھا۔
’’صاعقہ پلیز…!‘
’’مر گئی صاعقہ اور مار دیا اسے آپ پر اعتبار نے‘ آپ نے کیا سمجھا مسٹر زین میں غریب ہوں تو میری کوئی عزت نہیں؟ آپ امیر ہیں تو جب جو چاہے سلوک کرسکتے ہیں؟ نہیں‘ میں نے آپ کو پسند کیا تھا۔ اپنا آپ فروخت نہیں کیا۔ یہ ساری دنیا بھی اگر میری غربت کی وجہ سے مجھے دھتکار دے تب بھی میرے لیے میری ذات کی بہت اہمیت ہے کیونکہ میں خود کو دنیا کی نظر سے نہیں دیکھتی۔ میرا ہونا میرے لیے اہم ہے۔ خواہ دنیا کو میرے ہونے نہ ہونے سے کوئی فرق پڑے یا نہ پڑے۔‘‘
وہ کھل کر دل کا غبار نکال رہی تھی۔
عباد دانستہ خاموش رہا کہ اس وقت خاموشی میں ہی عافیت تھی۔ اب بھی اگر وہ دل کا غبار نہ نکالتی تو شاید ان دونوں کے درمیان قائم فاصلے کبھی کم نہ ہوتے۔
’’آپ نے کیا سمجھا… آپ مجھے کسی سستے سے کھلونے کی مانند دھتکار دیں گے تو میں ٹوٹ کر بکھر جائوں گی۔ روتی پھروں گی آپ کے ہجر میں یا آپ کے پائوں پکڑ کر آپ سے محبت کی بھیک مانگوں گی؟ بھیک میں نہیں ملتی محبت اور نہ ہی بدلے ہوئے محبوب کا دل پائوں پکڑنے سے موم ہوتا ہے۔ آج تک رُوئے زمین پر کوئی ایسی دوا بھی ایجاد نہیں ہوئی جو محبت کے زخموں کا تریاق بن سکے۔ بدلے ہوئے لہجوں کا کوئی حل نکال سکے۔ آپ نے اچھا کیا کہ مجھے میری اوقات یاد دلا دی۔ وگرنہ کاغذ کی محبت کے کاغذی دلاسوں پر جیتی ابھی آگے چل کر جانے کتنی تکلیف اٹھانی پڑتی مجھے‘ آخر جو جتنی اونچائی پر جائے گا اسے منہ کے بل گرنے پر اتنی ہی چوٹ اور زخموں کا عذاب سہنا پڑے گا۔‘‘
’’صاعقہ…!‘‘
’’اور ہاں‘ ایک بات ہمیشہ یاد رکھیے گا مسٹر زین‘ یہ جو ہم جیسے کم حیثیت‘ فقیر لوگ ہوتے ہیں ناں‘ بڑے ایماندار ہوتے ہیں یہ جذبوں میں‘ ہر چیز خالص ہوتی ہے ہمارے پاس چاہے وہ آنسو ہوں‘ احساسات ہوں یا جذبات۔ قدرت نے ہم جیسے کنگلوں کو ایک چیز بڑی فراوانی سے ودیعت کی ہوئی ہے اور وہ ہے ’’محبت‘‘ بہر حال صاعقہ احمد آپ کے غم میں ٹوٹ کر بکھرنے والوں میں سے نہیں ہے۔‘‘
بنا اس کی صدا کو خاطر میں لائے وہ سمندر کی پر سکون موجوں پر سلگتی نگاہیں جمائے اپنی کہہ رہی تھی۔ یوں جیسے ان خاموش‘ پر سکون موجوں کو جتا رہی ہو کہ دیکھو اس روز تم مجھ پر میری بے بسی‘ میرے دکھ‘ میرے اکیلے پن پر ہنس رہی تھیں۔ آج میں نے اپنے محبوب کو پرایا کردیا اور تم خاموش ہو دیکھا تم نے… میں نے کہا تھا ناں۔ تم کبھی صاعقہ کو ٹوٹ کر بکھرتے ہوئے نہیں دیکھو گی۔
’’بس…! یا ابھی کچھ اور بھی کہنا ہے؟‘‘
کچھ لمحوں کی خاموشی کے بعد بالآخر عباد نے لبوں کو جنبش دی تھی۔
صاعقہ نے اس کا سوال سنا ان سنا کردیا۔
غصے اور جذبات کی شدت سے جہاں اس کی ٹانگیں اور ہونٹ کانپ رہے تھے وہیں آنکھیں آنسو ضبط کرنے کی کوشش میں لہو رنگ ہور ہی تھیں۔ عباد کو اس لمحے اس سادہ سی لڑکی پر بے حد ترس اور پیار آیا۔
اس کے مقابل آکر براہِ راست اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے وہ ذرا سا مسکرایا تھا۔ پھر انتہائی اپنائیت اور نرمی سے اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے بولا۔
’’میری آنکھوں میں دیکھو صاعقہ! تمہیں خبر ہوجائے گی کہ تم ٹوٹنے سے بچ نہیں سکی ہو۔ اپنا چہرہ دیکھو فقط دو ماہ میں کتنا کملا گیا ہے۔ اپنی یہ خوب صورت آنکھیں دیکھو۔ کیسے پرانے مزاروں کے دیپ کی مانند بجھ کر رہ گئی ہیں ایک نظر ذرا اپنے سراپا پر دوڑائو‘ وہ پہلے سی جاذبیت اور دل کشی کہیں کھو گئی ہے کیوں…؟‘‘
اس کا ہاتھ صاعقہ کے گال پر ٹکا تھا اور وہ اتنے دن سے ضبط کا پہاڑ بنی ہوئی تھی۔ ایک دم سے جیسے سارا گلیشئر پگھل گیا۔ ایک بار جو آنسو ٹوٹ کر گالوں پر پھیلے تو پھر قطار ہی لگ گئی عباد نے پہلی بار اتنے قریب سے کسی لڑکی کو یوں روتے ہوئے دیکھا تھا تبھی اس کا دل جیسے ٹھہر سا گیا تھا۔
صرف ایک لمحے میں اس پر آشکارہ ہوا تھا کہ وہ صاعقہ احمد کے بغیر کچھ بھی نہیں‘ صاعقہ اب اپنا ضبط کھو بیٹھی تھی۔ وہ دونوں ہاتھوں میں چہرہ چھپائے بری طرح رو رہی تھی۔
’’تم بہت برے ہو زین! دنیا میں تم سے زیادہ اسٹوپڈ دوسرا کوئی نہیں۔‘‘
’’سیم ٹو یو‘ میرا بھی یہی خیال ہے تمہارے بارے میں‘ چاہوں تو ابھی تم سے زیادہ آنسو بہا سکتا ہوں مگر وہ ایک شعر ہے ناں!

ہم نے ہنس ہنس کے بھرم اہلِ وفا کا رکھا
ہم بھی رو دیتے اگر عشق میں جھوٹے ہوتے
اس کے کہنے پر صاعقہ نے اپنا سر اوپر اٹھایا تھا۔

’’میں نہ جھوٹی ہوں نہ چال باز۔‘‘
’’میں نے کب کہا کہ تم جھوٹی ہو‘ میں تو یہ کہہ رہا ہوں کہ تم بہت اسٹوپڈ ہو‘ کوئی ذرا سی بات پر اتنا سخت ناراض ہوتا ہے۔‘‘
’’ذرا سی بات… تمہارے لیے وہ ذرا سی بات تھی؟‘‘
ازحد دکھ کے ساتھ اس نے پوچھا تو عباد نے نگاہیں چرالیں۔
’’کہا ناں صاعقہ اس وقت مجبور تھا۔ قسم سے وہ لڑکی اگر تمہیں میرے ساتھ دیکھ لیتی تو بات کا بتنگڑ بنا لیتی۔ جانے باس کو کیا کیا کہتی جا کر… اور پھر بس اس ذرا سی بات پر میری نوکری‘ یہ شاہانہ ٹھاٹھ باٹھ۔ یہ سب ختم اور میں آجاتا سڑک پر۔ ذرا سوچو‘ اگر ایسا ہوجاتا تو ہم اپنے آنے والے بچوں کو کیا منہ دکھاتے۔‘‘
سنجیدگی سے بات کرتے کرتے وہ اچانک فنی ہوا تھا۔
صاعقہ جو بغور اس کے چہرے کی طرف دیکھ رہی تھی ایک دم سے سرخ پڑ گئی۔
’’دیکھو اس وقت کتنا خوب صورت رنگ ٹھہرا ہے تمہارے چہرے پر۔ اسی لیے کہتا ہوں یار‘ مت امتحان لیا کرو میرا اور اپنا۔ جس اذیت میں یہ دو ماہ میں نے گزارے ہیں صرف میرا خدا اور یہ دل جانتا ہے۔ تم تو فیصلہ کر کے سکون سے گھر میں بیٹھ گئی تھیں۔ میں بے چارا قیس ہر کام چھوڑ کر صبح سے شام تک صرف اس امید پر کہ شاید تمہاری کوئی ایک جھلک کہیں دکھائی دے جائے تمہاری گلی کے نکڑ پر پاگلوں کی طرح کھڑا رہتا تھا۔ دو ایک بار تو لوگ مشکوک بھی ہونے لگے تھے۔ تبھی دل پر پتھر رکھ کر یہ سلسلہ ترک کیا۔‘‘
اس کی آنکھوں میں محبت کے چشمے پھوٹ رہے تھے۔
صاعقہ مسرور سی رخ پھیرے کھڑی مسکرا اٹھی۔
’’ادھر دیکھو صاعقہ‘ کتنے لڑکے لڑکیاں آزادانہ گھوم رہے ہیں۔ ایک دوسرے کو اپنی اپنی محبت کا یقین دلا رہے ہیں۔ گھر والوں کے اعتبار کا خون کر کے جھوٹ کا سہارا لے کر صرف یہیں نہیں ہوٹلوں‘ پارکوں کی زنیت بنے ہوئے ہیں اور شاید روز بنتے ہیں۔ مگر یہ پیار نہیں ہے یہ صرف ضرورت ہے۔ جو ان کو ایک دوسرے کے قریب لاتی ہے۔ یہاں ساحل سمندر پر آنے والا ہر لڑکا زین نہیں ہے۔ نہ ہی ہر لڑکی صاعقہ احمد ہے۔ جس کا اندر اجلے دودھ کی مانند شفاف ہے۔ اس لیے ہمیشہ یقین رکھنا‘ مجھے تمہاری غربت یا حیثیت سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ میرے لیے اگر اہم ہے تو صرف تمہاری ذات‘ تمہارے اندر کا اجلا پن‘ تمہاری پاکیزگی، تمہاری حیا اور یہ وہ چیز ہے جو ہر لڑکی کے پاس نہیں ہوتی۔ یہ زیور‘ یہ خزانہ‘ یہ دولت۔ کسی بھی لڑکی کو سب کچھ عطا کرسکتا ہے صاعقہ! مجھ سے خاکسار کی تو اوقات ہی کیا ہے۔‘‘
اس کی زبان سے نکلے ان لفظوں نے پل میں معتبر کردیا تھا اسے۔ وہ سر اٹھا کر اسے دیکھتی مسکرا دی۔۔
’’چلو اب اس صلح کی خوشی میں اچھا سا لنچ کرتے ہیں۔‘‘
’’نہیں بہت دیر ہوجائے گی۔ ایم ڈی صاحب ناراض ہوجائیں گے۔‘‘
’’ہونے دو ناراض میں خود بات کرلوں گا ان سے۔ تم چلو۔‘‘
وہ کہاں اس کی سننے والا تھا۔
صاعقہ محض منمنا کر رہ گئی۔
واپسی کا یہ سفر کتنا دل کش اور سہانا تھا۔ وہ بے مقصد ہی ڈرائیو کرتے عباد کو نک سک سے تیار اس شاندار لباس میں‘ بار بار نظر بچا کر چوری چوری دیکھتی رہی۔ کہنے والوں نے کتنا صحیح کہا ہے کہ عشق و محبت کے روگی کا علاج سوائے اس کے محبوب کے اور کسی کے پاس نہیں۔
///
’’ہادیہ لنچ کے لیے چلنا ہے کہ نہیں؟‘‘
سجی سنوری ہانیہ نے کوئی تیسری مرتبہ اسے آواز دی تھی جب وہ کنگن پہنتے ہوے کمرے سے نکلی اور سرعت سے سیڑھیاں کراس کرنے لگی۔
’’میں تو تیارہی ہوں بس آپ کے بھائی صاحب کا انتظار ہو رہا ہے۔ وہ اسٹوپڈ فون ہی ریسیو نہیں کررہا۔‘‘
’’مصروف ہوں گے۔ ویسے بھی ہوسکتا ہے وہ اسلام آباد کے لیے نکل گئے ہوں۔ آج اسلام آباد جانا تھا انہیں۔‘‘
’’لیکن اس نے لنچ پر آنے کا وعدہ کیا تھا۔‘‘
’’تو کیا ہوا یار! مصروف بھی تو ہوسکتے ہیں۔ اب جلدی چلو‘ تمہارے بھائی اس سے زیادہ انتظار نہیں کریں گے۔‘‘
وہ عجلت میں تھی۔ ہادیہ اثبات میں سر ہلاتے ہوئے ایک مرتبہ پھر عباد کا نمبر پریس کر گئی مگر دوسری طرف پھر اس کا سیل کوئی رسپارنس نہیں دے رہا تھا۔ وہ کوفت زدہ سی ہانیہ کے ساتھ گاڑی میں آ بیٹھی۔
لنچ کا جو پروگرام ہانیہ کی شادی کے بعد اس نے صرف عباد کے لیے بنایا تھا۔ ایک دم سے بے مزہ ہوکر رہ گیا تھا۔
///
محبت عام اک سانحہ تھا!
ہمارے ساتھ پیش آنے سے پہلے وہ اور گڑیا گہری نیند سو رہے تھے۔ جب امامہ سست روی سے چلتی اپنے بیڈ روم میں چلی آئی۔
پرسوں شجاع کی نفرت اور بے تحاشا غصے کے بعد وہ سر جھکائے مغموم بیٹھی تھی۔ جب ریاض بابا (چوکیدار) نے اس کے سر پر دستِ شفقت رکھتے ہوئے اسے تسلی دی تھی اور اسی گھر میں بنے اپنے کوارٹر کے دروازے اس پر کھول دیے تھے۔ شجاع سے ان کا واسطہ بہت پرانا تھا۔ وہ اس کی ضد اور غصے سے بخوبی واقف تھے۔ وہ ایک بار جو فیصلہ کرلیتا تھا پھر اس کو پتھر کی لکیر بنا دیتا۔
وہ جانتے تھے کہ شام میں گھر واپس لوٹنے کے بعد اگر امامہ اسے دوبارہ نظر آئی تو وہ کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔ خاندانی ملازم ہونے کی حیثیت سے وہ شجاع کی زندگی کے بہت سے نشیب و فراز سے آگاہ تھے۔ لہٰذا امامہ کو سمجھا بجھا کر وہ اپنی طرف لے آئے تھے۔ جہاں ان کے ساتھ ان کی بیمار بوڑھی بیوی رہتی تھیں۔
شجاع نے گھر واپسی کے بعد امامہ کو موجود نہ پا کر گہرا سانس بھرا تھا۔ رات میں وہ سونے کے لیے بستر پر لیٹا تو نظر سائیڈ ٹیبل پر پڑی اور اپنی شادی کی تصویر پر جا ٹھہری۔ دل میں ایک لمحے کے لیے ہلچل سی مچی تھی اور اس نے شکوہ کناں نگاہوں سے تصویر کو دیکھتے ہوئے ٹیبل پر واپس رکھ دیا۔
گڑیا اس سے امامہ کے بارے میں سوال پر سوال کر رہی تھی۔ وہ بہ مشکل اسے بہلاتا۔ اس کے بالوں میں ہاتھ چلاتے ہوئے اسے سلانے لگا۔ تھوڑی دیر بعد وہ سو گئی تو وہ اٹھ کر ٹیرس پر چلا آیا۔
رات خوب چاندنی تھی مگر اس چاندنی میں ایک عجیب سا حزن بکھرا صاف دکھائی دے رہا تھا۔ وہ جیسے بے زار ہو کر واپس پلٹا اور کمرے میں آکر نیند کی گولی ہتھیلی پر رکھی۔ گلاس پانی سے بھرا اور گولی نگل کر بازو آنکھوں پر دھرتے ہوئے لیٹ گیا۔
امامہ جس وقت وہاں آئی وہ گہری نیند میں مدہوش سو رہا تھا۔ بڑی احتیاط سے قدم اٹھاتے ہوئے وہ کوارٹر سے نکلی تھی اور بنا کسی کو بتائے وہاں پہنچی تھی۔ جہازی سائز بیڈ کے دائیں طرف گڑیا لیٹی تھی وہ اسی طرف چلی آئی۔ اس کا منا سا ہاتھ پہلو میں گرا تھا۔ وہ جب یہاں آئی تھی تو یہ گڑیا بہت چھوٹی تھی۔ شاید اسی لیے اسے جان کا عذاب لگتی تھی۔ مگر اب جب کہ اس کا دل بدل گیا تھا تو یہ بازی پلٹ گئی تھی۔
ہائے افسوس…
وہ بیڈ کے کنارے پر ٹک کر بچی پر جھک گئی۔ چھ سال کی عیشاء میں اس وقت اسے اپنا آپ دکھائی دے رہا تھا۔ اس نے جھک کر بے ساختہ اپنے ہونٹ اس کی سرد پیشانی پر رکھ دیے۔ وہ کمبل کے بغیر لیٹی تھی اس نے کمبل کھول کر اچھی طرح اس پر پھیلا دیا۔ پھر وہ گھوم کر بیڈ کی بائیں سائیڈ پر آئی اور شجاع کے پائوں کے قریب بیٹھ کر اس نے اپنے ہاتھ اس کے پائوں پر دھر دیے۔ ٹپ ٹپ آنسوئوں کا سلسلہ تاحال جاری تھا۔ اس کے دل میں جانے کیا آئی کہ جھک کر اپنے لب اس کے پیروں پر رکھ دیے۔ عین اسی لمحے شجاع کی آنکھ کھلی تھی۔
اپنے پیروں پر جھکی اس روتی ہوئی لڑکی کو دیکھ کر ایک لمحے کے لیے تو اسے کچھ سمجھ ہی نہیں آیا کہ کیا معاملہ ہے مگر اگلے ہی لمحے جب سمجھ میں آیا تو اس نے تیزی سے اپنے پائوں کھینچ لیے پھر فوراً اٹھتے ہوئے اسے بازو سے تھاما اور بیڈ روم سے باہر لے آیا۔
’’کیا کر رہی ہو تم اس وقت یہاں؟ میں نے کہا تھا ناں دوبارہ کبھی شکل مت دکھانا۔‘‘
اس کا بازو جھنجوڑتے ہوئے وہ غرایا تھا۔
امامہ بے بسی سے رو پڑی۔
’’میں گڑیا کے بغیر نہیں رہ سکتی شجاع! خدا کا واسطہ ہے آپ کو، مجھے اس معصوم بچی سے دور مت کریں۔‘‘
’’جسٹ شٹ اپ۔ تم جیسی بے ایمان‘ بے ضمیر‘ دھوکے باز لڑکی کو بہت اچھی طرح سمجھ گیا ہوں میں۔ تم جانتی ہو کہ میری بیٹی میں میری جان ہے اور اس بار تم اسی کو مہرہ بنا کر فائدہ اٹھانا چاہتی ہو‘ مگر میں ایسا نہیں ہونے دوں گا۔ سمجھی تم۔‘‘
وہ اپنا اعتبار کھو چکی تھی۔
شجاع بنا اس کے آنسوئوں کی پروا کیے کمرے میں گیا اور قمیص پہن کر پھرلائونج میں چلا آیا۔
’’چلو۔‘‘
اگلے ہی پل وہ پھر اسے بازو سے تھامے اپنے ساتھ گھسیٹ رہا تھا۔
وہ ہکّابکّا رہ گئی۔
’’کہاں لے جا رہے ہیں آپ مجھے؟‘‘
’’گاڑی میں بیٹھو پھر بتاتا ہوں۔‘‘
کتنی سختی تھی اس چہرے پر اور اس لہجے میں۔ اس نے ایک جھٹکے سے بازو چھڑانا چاہا مگر گرفت بے حد سخت تھی۔ وہ آنسو پیتی بے بس سی ساتھ گھسٹتی رہی۔
گیٹ پر موجود گارڈ ابھی بھی الرٹ تھا۔ شجاع کے اشارے پر اس نے فوراً سے پیشتر گیٹ کھول دیا۔ گاڑی گیٹ سے نکلی تو اس نے پوچھا۔
’’اپنے کزن کا ایڈریس بتائو چھوڑ کر آرہا ہوں اس کے پاس۔‘‘
’’کوئی ضرورت نہیں ہے گاڑی روکیں۔پپ…پلیز۔
’’ایڈریس بتائو امامہ! نہیں تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔‘‘
اس بار وہ دہاڑا تھا۔
امامہ سمجھ گئی کہ چوکیدار بابا نے کیوں فی الوقت اسے اس کے سامنے آنے سے منع کیا تھا۔ اس وقت اس کے غصے سے ڈرتے ہوئے اس نے ارسلان کا ایڈریس ٹھہر ٹھہر کر اسے بتا دیا۔ اگلے پینتیس منٹ میں گاڑی اس گھر کے باہر کھڑی تھی۔ جہاں ارسلان ٹھہرا ہوا تھا۔
’’جائو اور اب کبھی پلٹ کر پیچھے نہ دیکھنا۔‘‘
اس کی سائیڈ کا دروازہ کھولتے ہوئے اس نے نیا حکم سنایا تھا۔
امامہ سر جھکائے بیٹھی رہی۔
’’شجاع میں…!‘‘
’’گاڑی سے نکلو امامہ حسن! اس سے پہلے کہ میرا دماغ گھوم جائے۔‘‘
درشتگی سے کہتے ہوئے اس نے زبردستی اسے کھینچ کر گاڑی سے نیچے اتار لیا تھا۔
’’اب جائو…!‘‘
امامہ نے سر اٹھا کر دیکھا وہاں معافی کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔
اس نے اپنی محبت کو پانا چاہا تھا۔ شجاع حسن سے چھٹکارے کی خواہش بھی کی تھی اور دل کی گہرائیوں سے دعا بھی مانگی تھی مگر اس وقت اسے یہ معلوم نہیں تھا کہ اس دعا کی مقبولیت کیسی اذیت سے دوچار کردے گی اسے۔ محبت کے یوں حصول کا تو اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔ آنسوئوں سے بھری آنکھوں کے ساتھ آخری بار سر اٹھا کر اس نے شجاع حسن کو دیکھا تھا مگر وہ رخ پھیرے کھڑا تھا۔ وہ شدید مایوس ہو کر آگے بڑھ آئی۔
اس کے اٹھتے قدموں کے ساتھ ہی وہ گاڑی میں بیٹھا تھا اورجس وقت امامہ نے اس گھر کے بند دروازے پر دستک دی اور جواب میں وہ دروازہ کھلا۔ وہ اطمینان سے گاڑی اسٹارٹ کرتے ہوئے زن سے وہاں سے نکلتا چلا گیا۔
گو دل اس وقت سخت اضطراب کا شکار تھا مگر… انا سکون پا گئی تھی۔
اندر کے مرد کو جیسے قرار آگیا تھا۔
وہ نہیں جان پایا تھا کہ اس رات اس نے اپنی زندگی کی کتنی بڑی سنگین غلطی کی تھی۔
///
دھول اڑاتی نگاہوں سے وہ گاڑی میں بیٹھا انوشہ اور اپنے بیٹے کو اس اجنبی مرد کے ساتھ ریستوران کے اندر جاتے ہوئے دیکھتا رہا تھا۔
عجیب ستم ظریفی تھی کہ اس نے انگلینڈ میں کبھی سرمد کو روبرو نہیں دیکھا تھا۔ ان دونوں کے درمیان ہمیشہ فون پر بات ہوتی رہی تھی۔ تبھی وہ اس کی شناخت میں ناکام رہا تھا۔
انوشہ اپنے لیے اتنی جلدی کوئی فیصلہ کرسکتی ہے اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔ اسے خبر نہ ہوئی کہ وہ کتنی دیر وہاں گاڑی میں بیٹھا رہا تھا۔ وہ لوگ ڈنر سے فارغ ہو کر باہر نکل آئے تھے تب بھی وہ وہیں موجود تھا۔
واپسی کے سفر میں اس نے اپنی گاڑی ان لوگوں کی گاڑی کے پیچھے ڈال دی تھی۔ ایک طویل مسافت کے بعد جس عمارت کے سامنے رکی تھی‘ وہ عمارت شاہ زر کے لیے ہر گز غیر شناسا نہیں تھی۔ زاور کے ساتھ وہ اکثر وہاں آتا رہا تھا بلکہ اسی کے مشورے اور رہنمائی کے بعد زاور وہ پلاٹ خرید کر وہاں عمارت کھڑی کرنے میں کامیاب ہوا تھا۔
انوشہ اور سرمد کے گھر میں داخل ہونے کے بعد وہ پلٹا اور اس بار جیسے ہاتھوں میں اسٹیرنگ وہیل تھامنے کی ہمت ہی نہیں رہی تھی۔ جانے کس عالم میں ڈرائیو کے بعد وہ ہوٹل واپس پہنچا تھا۔
ایک لمحے کے لیے دل چاہا کہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر گھر واپس بھاگ جائے مگر‘ پھر سر جھٹک دیا۔ جب وہ قسمت میں ہی نہیں تھی تو بھلا خود کو تھکانے سے کیا حاصل تھا؟ انوشہ کو ’’چاند‘‘ کیسے اور کہاں ملا یہ ایک اور الجھا دینے والا سوال تھا۔
کل سرمد کے ساتھ اس کی میٹنگ تھی۔
حاشر نفیس صاحب کے گھر منعقد ایک چھوٹی سی پارٹی میں اسے سرمد کے ساتھ اور بھی کئی لوگوں سے ملنا تھا۔ انوشہ اپنی دانست میں اس سے چھپ کر دور چلی گئی تھی‘ مگر اس نے پھر سے اس کا سراغ ڈھونڈ لیا تھا۔
اضطراب کے ساتھ ساتھ اپنے بیٹے کی سلامتی پر دل کو قدرے قرار نصیب ہوا تھا۔ چاہے وہ دنیا کی نظر میں اس کا بیٹا نہیں تھا۔ صرف اور صرف انوشہ کے ماتھے کا کلنک تھا اک گناہ تھا۔ مگر شاہ زر کو اس ننھے سے وجود میں اپنی جان دوڑتی دکھائی دیتی تھی۔ وہ اس کے لیے امید کی ایک کرن تھا۔
ناجائز تعلق سے جائز جنم لینے والا وہ ننھا فرشتہ اس کی ہر چیز کا مالک تھا۔
سوچ کا محور انوشہ اور چاند سے ہو کر بریرہ کی طرف رخ موڑ گیا تھا۔ اسے انگلینڈ گئے کئی ہفتے ہوگئے تھے مگر وہ ابھی تک اس کے حق میں کوئی فیصلہ نہیں کرپایا تھا۔ اچھا ہی ہوا کہ اس نے بریرہ کی دل آزاری نہیں کی وگرنہ انوشہ کے یوں فیصلہ کرلینے کے بعد کیا باقی رہ جاتا اس کے پاس۔
رات انہی سوچوں کی نذر ہوگئی تھی۔ صبح دیر تک پڑا سوتا رہا۔ ظہر کی نماز کے بعد کہیں آنکھ کھلی تو فریش ہو کر نیچے چلا آیا۔ اگلے دو گھنٹے یونہی سستی میں گزر گئے جب اس کے سیل پر سرمد کی کال آگئی۔
’’ہیلو!‘‘
’’السّلام علیکم جناب! کہاں ہیں آپ؟‘‘
’’بس نکل ہی رہا تھا یار! تم پہنچ گئے کہ نہیں؟‘‘
’’کب سے پہنچا ہوا ہوں یار‘ اب تو سب تمہاری راہ دیکھ رہے ہیں۔‘‘
’’ٹھیک ہے میں بس ابھی آیا۔‘‘
جلد سے جلد اس نے بات سمیٹی تھی کہ طبیعت ابھی بھی بے حد بوجھل تھی۔
اگلے پچیس منٹ کے بعد وہ حاشر صاحب کے گھر پہنچا تو وہاں واقعی رنگ و نور کا سیلاب آیا ہوا تھا۔ وہ سب سے ہاتھ ملاتا اچانک سرمد کو دیکھ کر رک گیا۔
’’رک کیوں گئے یار‘ میں سرمد ہوں‘ سرمد خان کیا نہیں پہچانا؟‘‘
وہ شاید اسے پہلے دیکھ چکا تھا۔ شاید کہیں تصویروں میں مگر شاہ زر اسے دیکھ کر ضرور ٹھٹک گیا تھا۔ یہی تو وہ شخص تھا جسے اس نے انوشہ کا ممکنہ شوہر تسلیم کرلیا تھا۔
’’نائیس ٹو میٹ یو‘ کیسے ہیں آپ؟‘‘
سرمد نے خود ہاتھ بڑھا کر اس کا ہاتھ تھام لیا تھا۔ وہ نادم سا سر جھٹک کر اس کا ہاتھ دبا گیا۔
’’شکریہ! مجھے بھی آپ سے مل کر خوشی ہوئی‘ آپ کیسے ہیں؟‘‘
’’فٹ فاٹ‘ بہت خواہش تھی آپ سے ملنے کی چلو تمنا تو پوری ہوئی۔‘‘
وہ مسکرا رہا تھا۔ شاہ زر نگاہ چُرا گیا۔
تھوڑی دیر سب سے گپ شپ کے بعد وہ دونوں الگ کونے میں آ بیٹھے تھے۔
’’اور سنائیے شاہ زر! کیا ہو رہا ہے آج کل۔ زاور اکثر ذکر کرتا تھا آپ کا۔ بلکہ شافیہ کے پاس تو سوائے آپ کی باتوں اور یادوں کے اور کچھ تھا ہی نہیں۔ اسی کے پاس کئی تصویروں میں آپ کو دیکھا تھا میں نے۔‘‘
’’ہوں‘ مجھ سے بھی اکثر آپ کا ذکر کیا کرتے تھے دونوں۔ سُوئے اتفاق کہ کبھی روبرو ملاقات نہیں ہوسکی بہر حال شادی کی بہت بہت مبارک ہو۔‘‘
صرف اپنے دل کی تسلی کے لیے اس نے وہ جملہ کہا تھا جواب میں سرمد ہنس پڑا۔
’’کس کی شادی میرے بھائی اور کب ہوئی یہ شادی؟‘‘
’’آپ کی اور کس کی کل انوشہ کے ساتھ ریستوران میں دیکھا تھا آپ کو۔‘‘
’’او ہاں ضرور دیکھا ہوگا۔ مگر وہ میری وائف نہیں ہیں۔‘‘
ہنستے ہوئے اس نے کہا تھا۔ شاہ زر کو لگا اس کے پورے وجود میں سکون کی لہر سرایت کر گئی ہو۔
’’او سوری اور سنائیں۔‘‘
’’نہیں سوری کی کوئی بات نہیں‘ انوشہ جیسی صبر و تحمل والی لڑکیاں قسمت والوں کو ملتی ہیں۔ بہر حال بریرہ کیسی ہے؟‘‘
’’فائن‘ آج کل تو انگلینڈ گئی ہوئی ہے۔‘‘
’’اچھا کیا انگلینڈ واپس چلی گئی ہیں؟‘‘
’’ہاں کچھ ہفتے پہلے ہی گئی ہیں۔‘‘
’’اور آپ؟ میرا مطلب ہے آپ نہیں گئے؟‘‘
’’نہیں میرا یہاں رہنا زیادہ ضروری ہے۔‘‘
وہ ضرورت سے زیادہ اداس اور سنجیدہ تھا۔ سرمد نے بزنس کو چھیڑ لیا۔ وہ ابھی باتیں کر ہی رہے تھے کہ اچانک شاہ زر کی نظر اپنے بیٹے پر جا پڑی۔ وہ وہاں موجود تھا اور رو رہا تھا۔ تب سرمد خان سے ایکسکیوز کر کے فوراً بچے کی طرف لپکا تھا۔
’’چاند۔‘‘
مانوس صدا پر چاند نے بھی سر اٹھا کر اسے دیکھا تھا اور پھر جیسے اس کی آنکھوں میں شناسائی کی دمک جھلکی۔ شاہ زر نے آگے بڑھ کر اسے بانہوں میں اٹھا لیا اور باہر لان میں لے آیا۔
’’کیوں رو رہے ہو میری جان؟‘‘
’’مجھے پاپا یاد آرہے ہیں۔‘‘
اس کے بے تحاشا پیار پر بچے نے فوری رونے کی وجہ بیان کی تھی۔
’’مما کہتی ہیں میرے پاپا بہت دور رہتے ہیں۔ جب میں بڑا ہوجائوں گا تب وہ آئیں گے۔ مگر مجھے پاپا کی ضرورت ہے مجھے ڈھیر سارے غبارے چاہئیں۔‘‘
وہ ہنوز رو رہا تھا۔ شاہ زر کو لگا جیسے کسی نے اس کا دل جکڑ لیا ہو۔
’’آئو میں غبارے لے کر دیتا ہوں آپ کو۔‘‘
’’نہیں‘ مجھے اپنے پاپا کے پاس جانا ہے بس۔‘‘
بچہ اس کی بانہوں میں مچلا تھا۔ شاہ زر اس کے آنسوئوں سے ہار گیا۔
’’ٹھیک ہے تو چلو میں آپ کے پاپا سے ملواتا ہوں۔‘‘
اسے اٹھا کر کچھ ہی قدموں کے فاصلے پر رکھی کرسی پر بٹھاتے ہوئے وہ خود پنجوں کے بل اس کے سامنے گھاس پر بیٹھ گیا۔ پھر جیب سے والٹ میں رکھا اپنا آئی ڈی کارڈ نکالا اور اسے چاند کے سامنے کردیا۔
’’مل لو اپنے پاپا سے یہی تمہارے پاپا ہیں۔‘‘
بچے نے اشتیاق سے کارڈ تھام کر کچھ دیر بغور اسے دیکھا پھر بول اٹھا۔
’’یہ تو آپ کی تصویر ہے۔‘‘
’’یہ آپ کے پاپا کی تصویر ہے چاند کیا آپ کی مما نے نہیں بتایا آپ کو۔‘‘
’’نئیں۔ آپ ہی میرے پاپا ہوناں؟‘‘
’’ہاں میری جان! میں ہی آپ کا پاپا ہوں۔‘‘
اسے بانہوں میں سموتے ہوئے اس نے اعتراف کیا تو بچے کو لگا جیسے اس نے ایک دنیا فتح کرلی ہو۔
’’چلو اب بتائو آپ کہاں کھو گئے تھے اور مما کو کہاں سے ملے؟‘‘
دوسرے ہی لمحے وہ اسے خود سے الگ کیے اس کے ننھے منے ہاتھ تھامے پوچھ رہا تھا۔ بچے نے سر جھکا کر جیسے سب یاد کرنے کی کوشش کی۔
’’مجھے بھوک لگی تھی پاپا‘ وہ لوگ کہتے ہم تمہیں ٹافیاں دیں گے اس لیے میں وہاں چلا گیا۔‘‘
’’کہاں چلے گئے اور کون تھے وہ؟‘‘
’’پتا نہیں‘ مجھے وہاں روڈ پر ملے تھے‘ یہ بڑی سی گاڑی تھی ان کے پاس۔ جب میں ان کے ساتھ گیا وہ بچوں کو بہت مار رہے تھے۔ میں نے کہا میں نے مما کے پاس جانا ہے تو انہوں نے مجھے بھی مارا۔‘‘
بچے کے ذہن میں جو جو محفوظ تھا وہ بیان کر رہا تھا۔ تین سال کی غیر شعوری عمر میں اس کا ذہن اور ذہانت کمال کی تھی۔ لہجہ اتنا صاف اور رواں تھا کہ کوئی مان ہی نہیںسکتا تھا کہ وہ تین سال کا ہے۔
’’پھر انہوں نے آپ کو چھوڑا کیسے؟‘‘
’’چھوڑا نئیں پاپا‘ انہوں نے مجھے ندیم کے ساتھ بھیج دیا تھا کہ جائو باہر سے کھانا مانگ کر لائو۔ میں روز اس کے ساتھ کھانا مانگ کر لاتا تھا۔‘‘
کروڑ پتی شخص کا وہ بیٹا کیسے کیسے دل خراش انکشافات کر رہا تھا۔
شاہ زر نے کٹتے دل کے ساتھ اس کے ہاتھ چوم لیے۔
’’پھر مما کو کیسے ملے آپ؟‘‘
’’مما نے مجھے پکارا تھا۔ ادھر پلیٹ فارم پر‘ وہاں گاڑی جاتی ہے ناں اِدھر، پھر مما مجھے اپنے ساتھ لے گئیں۔ پھر سرمد انکل آگئے۔ انہوں نے کہا آپ کے پاپا جلد آئیں گے۔ آپ کہاں تھے پاپا؟ آپ نے مجھے بتایا کیوں نہیں کہ آپ ہی میرے پاپا ہیں۔‘‘
شاہ زر کی ٹائی کو چھیڑتے ہوئے وہ حساب لے رہا تھا۔ تبھی انوشہ پریشان سی اسے ڈھونڈتے ہوئے وہاں چلی آئی۔
’’مما… مما دیکھیں میرے پاپا مل گئے ہیں۔‘‘
شاہ زر کی اس کی جانب پشت تھی مگر بچے کی نظر اس پر پڑ گئی تھی۔ تبھی وہ خوشی سے چلایا تھا وہ اپنی جگہ ٹھٹک گئی۔ کیونکہ شاہ زر اب رخ پھیرے اسے دیکھ رہا تھا۔
’’چلو اب بھاگ جائو مما کے پاس‘ میں کل شام میں آپ کو لینے آئوں گا۔ پھر ڈھیر سارے غبارے خریدیں گے ٹھیک ہے؟‘‘
اس سے پہلے کہ وہ بچے کے سامنے اس کا بھرم توڑتی۔ وہ جلدی جلدی اٹھا اور پھر اس کے کچھ کہنے سے پہلے ہی اس کی سائیڈ سے گزر کر اندر ہال کی جانب بڑھ گیا۔ جہاں پارٹی اپنے عروج پر تھی۔
///
اس کی زور دار دستک کے جواب میں دروازہ کھلا تھا مگر دروازہ کھولنے والا ارسلان حیدر نہیں تھا۔
’’جی فرمائیے۔‘‘ وہ جو کوئی بھی تھا نشے میں دھت تھا۔
امامہ نے پلٹ کر ایک نظر پیچھے ڈالی۔ شجاع حسن گاڑی ریورس کر رہا تھا۔
’’جی… وہ… وہ مجھے ارسلان سے ملنا تھا۔ مم… میں اس کی کزن ہوں۔‘‘
اس کے تعارف پر نشے میں دھت لڑکے نے بہت گہری نگاہوں سے اس کا جائزہ لیا تھا اور عین اسی پل شجاع کی گاڑی وہاں سے گئی تھی۔ پیچھے اب کچھ بھی نہیں تھا۔ وہ ایک انجانے سے خوف کا شکار اپنا دوپٹا مزید پھیلانے لگی۔
’’ٹھیک ہے… آئیے۔‘‘
نشے سے بند ہوتی آنکھیں بہ مشکل کھولے وہ امامہ کے لیے گیٹ سے ہٹ گیا تھا۔ امامہ کا دل جانے کیوں اس لمحے بہت تیزی سے دھڑک رہا تھا۔ وہ اندر جانا نہیں چاہتی تھی۔ خود ارسلان نے بھی اسے وہاں آنے سے منع کیا تھا مگر آدھی رات کے اس پہر وہاں اندر جانے کے سوا اب اس کے پاس اور کوئی چارہ نہیں رہا تھا۔
ڈرتے جھجکتے ایک بڑے سے ہال سے ہوتی ہوئی نیم تاریکی والے کمرے میں آ رکی تھی اور وہاں اچانک جس منظر پر اس کی نظر پڑی۔ اسے دیکھ کر بے ساختہ اس کی چیخ نکل گئی۔ تبھی کسی نے اس کے منہ پر ہاتھ دھرا تھا۔
’’یہ کون ہے بھئی‘ آدھی رات کو اتنی حسین بلا کہاں سے ٹپک پڑی۔‘‘
کمرے میں موجود دوسرے مرد نے قدرے حیران اور بد مزہ ہو کر پوچھا تھا۔ جب کہ وہاں موجود لڑکی سنبھل گئی تھی۔ اسے اندر لانے والا لڑکا اب دانت نکوستے ہوئے کہہ رہا تھا۔
’’ارسلان حیدر کی کزن ہے اس سے ملنے آئی ہے۔‘‘
’’ہاہاہاہا چلو یہ تو بڑا اچھا قرض ادا ہوگیا اور بڑی جلدی لے کر چلو پھر بیڈ روم میں اس سے نمٹ کے آتا ہوں۔‘‘
سامنے موجود ادھیڑ عمر کا وہ شخص خباثت کی اعلیٰ مثال لگ رہا تھا۔
امامہ دوبارہ نظر اٹھا کر اس وجود کو دیکھنے کی ہمت نہ کرسکی تاہم اس نے خود کو چھڑانے کی بھر پور کوشش ضرور کی تھی۔
ارسلان ایسے گھٹیا اور غلیظ دوستوں کے ساتھ رہتا ہوگا یہ سوچ کر ہی اس کا دل پھٹ رہا تھا۔
لڑکا اب ایک ہاتھ اس کے منہ پر رکھے ایک اور ہاتھ سے اسے کھینچتے ہوئے دوسرے کمرے میں لے جا رہا تھا۔
’’ادھر مر بھاگ گیا ہے وہ یہاں سے تیرا کچھ لگتا۔ سالا لڑکیوں کا نشئی ہے۔ جہاں اچھا مال ملا وہیں رال ٹپک گئی اس کی۔ تین سال پہلے بھی اس ایس پی کے دوست کی بہن کو اس نے موت کے گھاٹ اتارا‘ بے عزت بھی اسی نے کیا اور پھنس گئے ہم مفت میں۔ اب بھی لڑکی کو پٹایا ہم نے اور لے کر بھاگ گیا وہ خبیث۔ مگر کوئی بات نہیں۔ اس سے اچھی مل گئی ہے ہمیں۔‘‘
دھڑ… دھڑ… دھڑ کتنے آسمان تھے جو اس ایک لمحے میں اس کے سر پر آگرے تھے۔ وہ ہکّا بکّا سی اس نشے میں دھت لڑکے کا منہ دیکھتی رہ گئی تھی۔ صرف ایک لمحے میں وہ آسمان سے زمین پر گر کر کرچی کرچی ہوگئی تھی۔
کس کے پیچھے بھاگ رہی تھی وہ ایک زانی‘ لٹیرے اور دھوکے باز کے پیچھے؟
وہ شخص کیا تھا اور اب تک اسے کیا سمجھتی رہی تھی؟
کیا سے کیا ہو کر رہ گئی تھی اس شخص کے لیے جو اس سے مخلص بھی نہیں تھا۔ اس کا دل چاہا وہ روئے چیخ چیخ کر روئے، یوں کہ زمین بھی اس کے دکھ‘ اس کے نقصان پر لرز اٹھے مگر… کیا رہنے دیا تھا ارسلان حیدر نے اس کے پاس؟ کچھ بھی تو نہیں۔
وہ پلٹی تھی اور سن اعصاب کے ساتھ خطرہ بھانپتے ہوئے اس نے بھاگنے کی کوشش کی تھی مگر نشے میں پاگل اس گدھ نے اس کی یہ کوشش ناکام بنا دی۔
///

اپنا بھی درد مجھ کو میرے راز دار دے
کچھ اپنی زندگی پر مجھے اختیار دے
ایسا نہ ہو کہ کل تو میرا ساتھ چھوڑ دے
جتنا نبھا سکیں مجھے اتنا ہی پیار دے

’’قسم سے تم بہت ضدی ہو زین! ہمیشہ اپنی منواتے ہو۔ کبھی میری بھی مان لیا کرو۔‘‘
عباد کے فیوریٹ ریستوران میں اس کے مقابل بیٹھتے ہوئے صاعقہ نے گلہ کیا تھا۔ جب وہ مسکرا کر بولا۔
’’ابھی… میری مان لو‘ شادی کے بعد صرف تمہاری مانوں گا۔‘‘
بہت بے ساختگی میں روانی سے اس نے کہا تھا۔ صاعقہ ٹھٹک کر اس کا چہرہ دیکھنے لگی۔
’’مجھ سے شادی کرو گی ناں صاعقہ؟‘‘
آسمان زمین پر جھک کر اس سے پوچھ رہا تھا۔
صاعقہ کے اندر کی دنیا پھر سے ہلچل کا شکار ہوگئی۔
’’پتا نہیں‘ ابھی شادی کے لیے کچھ سوچا نہیں ہے میں نے۔‘‘
’’تو سوچ لو ناں یار! سوچنے میں ٹائم ہی کتنا لگتا ہے؟‘‘
’’اچھا سوچ لوں گی‘ تم تو ٹک کر اپنی سیٹ پر بیٹھو۔‘‘
وہ اس کی جانب جھکا ہوا تھا تبھی اس نے پیچھے دھکیلا تو وہ ہنس پڑا۔
’’کر لو نخرے‘ میں امیر ہوگیا ناں تو پچاس پچاس لڑکیاں آگے پیچھے پھریں گی میرے‘ تب تمہیں پتا لگے گا میری اہمیت کا۔‘‘
’’ہونہہ… وہ دن آنے سے پہلے ہی میں تمہاری زندگی سے نکل جائوں گی۔‘‘
’’کیوں…؟‘‘
’’بتایا تو تھا اپنی حیثیت سے اوپر کے لوگوں سے تعلق رکھنا مجھے بالکل بھی پسند نہیں‘ کلاس ڈیفرینس میں بندہ نا چاہتے ہوئے بھی دوسرے سے مرعوب رہتا ہے۔ کھل کر کچھ بھی شیئر نہیں کرسکتا۔‘‘
’’اس کا مطلب اگر میں امیر ہوگیا تو تم مجھے چھوڑنے میں ایک پل لگائو گی۔‘‘
’’نہیں مگر ہو بھی سکتا ہے‘ کیونکہ دولت ایسی چیز ہے جو سب سے پہلے آپ کے اندر سے انسانیت ختم کرتی ہے اور میں… میں انسانیت کو بہت اہمیت دیتی ہوں زین!‘‘
وہ از حد سنجیدہ ہوچکی تھی۔
عباد کے دل میں اس کا مقام مزید بڑھ گیا۔
’’ہاتھ کی پانچوں انگلیاں برابر تو نہیں ہوتیں صاعقہ۔‘‘
وہ بہت دنوں تک اس سے اپنا اصل چھپا کر نہیں رکھ سکتا تھا۔ تبھی راہ ہموار کر رہا تھا۔ جواباً صاعقہ کی نظر اپنے ہاتھوں پر ٹک گئی۔
’’ہوسکتا ہے ایسا ہی ہو مگر مجھے ڈر لگتا ہے۔ یہ دولت میں صبح و شام کھیلنے والے لوگ انسان کو انسان نہیں رہنے دیتے۔ بہت بدلی ہوئی خاص نظر سے دیکھنے لگتے ہیں۔ یہ اپنے سے نیچے لوگوں کو۔‘‘
’’تم اتنی حساس کیوں ہو صاعقہ؟‘‘
اس کی اداسی پر وہ بے چین ہوا تھا۔ وہ پھیکے سے انداز میں مسکرا دی۔
’’غربت بہت کچھ سمجھا دیتی ہے زین!‘‘
’’اچھا چھوڑو فلسفے کو یہ بریانی چکھو کیسی ہے؟‘‘
ماحول کی کثافت کو دور کرنے کے لیے اس نے فوراً موضوع بدلا تھا۔ صاعقہ بھوک نہ ہونے کے باوجود صرف اس کی خوشی کے لیے چاول پلٹ میں ڈالنے لگی۔ عین اسی لمحے ہانیہ اس کے شوہر‘ اور ہادیہ وہاں داخل ہوئی تھی۔ ہانیہ اپنے شوہر کے ساتھ باتوں میں مشغول تھی مگر ہادیہ کی نظر اس پر پڑی تھی۔
سوٹڈ بوٹڈ حلیے میں عباد کو ایک عام سی لڑکی کے ساتھ لنچ کرتے دیکھ کر وہ حیران ہی تو رہ گئی تھی۔ وہ تو اسلام آباد جانے والا تھا مگر اس وقت کتنے اطمینان سے وہاں بیٹھا ہوٹلنگ کر رہا تھا۔ مارے غصے کے اس کا دماغ سنسنا اٹھا۔
’’السّلام علیکم!‘‘ اگلے ہی پل وہ اس کے سر پر کھڑی تھی۔
عباد غیر متوقع طور پر اسے وہاں دیکھ کر‘ کھانے سے ہاتھ روکتے ہوئے فوراً اٹھ کھڑا ہوا۔
’’وعلیکم السّلام! تم یہاں کیسے؟‘‘
جلدی سے اپنی سیٹ سے کھڑے ہو کر اس نے ہادیہ سے پوچھا پھر اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتی وہ صاعقہ سے ایکسکیوز کر کے اسے زبردستی سائیڈ پر لے آیا۔ اگلے پندرہ منٹ کے بعد وہ اپنی ٹیبل پر دوبارہ آیا تو صاعقہ کے اندر کی دنیا جل کر خاکستر ہوچکی تھی۔
’’کون تھی یہ لڑکی!‘‘
خود کو دیے حق کے تحت اس نے پوچھا تھا۔ عباد سے وضاحت مشکل ہوگئی۔
’’وہی باس کی بیٹی تھی یار!‘‘
’’تو اس سے میرے سامنے بھی بات ہوسکتی تھی۔ سائیڈ پر لے جانے کی کیا ضرورت تھی؟‘‘
’’تم جیلس ہو رہی ہو؟‘‘
بات کو ٹالتے ہوئے وہ ذرا سا مسکرایا تھا۔ جب وہ ٹشو سے ہاتھ صاف کرتے ہوئے بولی۔
’’مجھے کیا ضرورت ہے جیلس ہونے کی‘ تمہاری اپنی زندگی ہے جو چاہو کرو۔‘‘
’’ٹھیک ہے پھر میں جا رہا ہوں اسے پرپوز کرنے۔‘‘
وہ مسکرایا تھا۔ صاعقہ اسے گھور کر رہ گئی۔
’’پکے بے ایمان ہو تم‘ قسم سے۔‘‘
’’چلو جیسا بھی ہوں اب تو تمہارا ہی ہوں۔‘‘
وہ مسکرا رہا تھا۔
صاعقہ نے بے ساختہ نظر اس کے چہرے سے ہٹالی کہ مبادا اسے اس کی نظر ہی نہ لگ جائے۔
جس وقت وہ صاعقہ کے ساتھ ریستوران سے نکل رہا تھا ہادیہ کی گہری نگاہیں دور تک اس کے تعاقب میں اٹھی تھیں۔ اس نے ہانیہ کو اس کی وہاں موجودگی کا نہیں بتایا تھا‘ مگر عباد کے بدلے ہوئے رویے کی وجہ کسی حد تک ضرور اس کی سمجھ میں آگئی تھی۔
اگلے روز آفس میں عباد کی پیشی ہوگئی تھی۔
///
سانول شاہ کا فوری آپریشن ہوا تھا اور اب ڈاکٹرز کی کئی گھنٹوں کی محنت و تگ و دو کے بعد اس کی حالت خطرے سے باہر تھی۔ تاہم وہ ابھی ہوش میں نہیں آیا تھا۔ بہزاد نے اس کے کمرے میں شفٹ ہونے کے بعد زبردستی انزلہ کو گائوں واپس بھیج دیا تھا۔
وہ رات میں خاصی تاخیر سے گھر واپس آئی تو دادی ماں اس کے انتظار میں جاگ رہی تھیں۔
اس کی دستک کے جواب میں دروازہ کھول کر وہ ناراضگی کے اظہار کے طور پر کمرے میں چلی آئیں۔ انزلہ بھی ان کے پیچھے ہی چلی آئی تھی۔
’’میں نے تیرا سامان تیار کردیا ہے انزلہ‘ صبح کے نکلتے سورج کے ساتھ شہر واپس چلی جانا۔ میں اب مزید تجھے اپنے پاس نہیں رکھ سکتی۔‘‘
پیٹھ موڑے اپنے بستر کی شکنیں درست کرتے ہوئے دادی ماں نے اپنا فیصلہ سنایا تھا۔ وہ وہیں دہلیز پر رک گئی۔
’’کیوں؟‘‘
’’مجھ سے نہ پوچھ اس کیوں کا جواب‘ اپنے آپ سے پوچھ۔‘‘
وہ اپنا غصہ دبائے ہوئے تھیں۔ انزلہ تھکن سے چور اپنے بستر پر آبیٹھی۔ صحیح تو کہہ رہی تھیں وہ۔ اسے اپنے آپ سے جواب لینا چاہیے تھا مگر اس کے پاس بھلا کسی بھی بات‘ کسی بھی سوال کا جواب رہا ہی کہاں تھا۔
اعصاب اس وقت اتنے بوجھل تھے کہ وہ چاہ کر بھی دادی ماں سے کوئی بحث نہ کرسکی اور چپ چاپ بستر پر ڈھے گئی۔
سانول شاہ کا چہرہ‘ اس کا زخمی وجود‘ تصور سے نکل ہی نہیں رہا تھا۔
ساری رات کروٹوں اور آنسوئوں کی نذر ہوگئی تھی۔
صبح ذرا سی دیر کے لیے آنکھ لگی تھی۔ پھر فوراً ہی کھل گئی۔ سانول کے ہوش میں آجانے کا خیال بے قرار کر گیا تھا۔ وہ بستر سے اٹھ کر غسل خانے کی طرف بڑھی تو دادی صحن میں چار پائی پر بیٹھی چڑیوں کو رات کی بچی روٹی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ڈال رہی تھیں۔ اس نے فریش ہونے کے بعد وضو کیا اور سکون سے نمازِ فجر ادا کر کے دادی ماں کے قریب چلی آئی۔
’’آپ مجھ سے خفا ہیں دادی اماں…؟‘‘
’’میرا کیا حق ہے تم سے خفا ہونے کا…؟‘‘
’’کیوں حق نہیں ہے‘ آپ ہی کے تو سارے حقوق ہیں مجھ پر۔‘‘
’’ہاں زبان سے کہنے میں کیا جاتا ہے۔‘‘
’’دل سے کہہ رہی ہوں دادی اماں! جو چاہیں قسم لے لیں۔ مگر اب میں خود بھی یہاں ٹھہرنا نہیں چاہتی۔ آپ بھی شہر چلیں ناں میرے ساتھ۔‘‘
بازی الٹ ہوگئی تھی۔ وہ اسے پریشان کر کے بندے کی پتر بنانا چاہتی تھیں۔ الٹا اس نے اپنا ارادہ ظاہر کر کے انہیں پریشان کردیا تھا۔
’’تم ہی جائو بی بی! میں اپنے شوہر اور بیٹے کی ڈھیریاں چھوڑ کر نہیں جاسکتی۔‘‘
’’ہاہ‘ ان ڈھیریوں میں اب کیا رکھا ہے دادی اماں کچھ بھی تو نہیں۔‘‘
’’دماغ چل گیا ہے تیرا۔ خوب سمجھتی ہوں میں۔ باپ کے قاتلوں سے ہمدردیاں سوجھ رہی ہیں۔‘‘
’’غلط اطلاع دی ہے کسی نے آپ کو۔ اپنے بابا کے قاتل کو مر کر بھی معاف نہیں کرسکتی میں۔ ہاں ان کے دشمن کو صرف اللہ ربّ العزت کی رضا کے لیے راہِ راست پر لانے کا ارادہ ضرور کیا ہے میں نے۔ آپ چاہیں تو بہزاد سے پوچھ سکتی ہیں۔‘‘
اسے وضاحت سے چڑ تھی۔ پھر بھی وہ وضاحتیں دے رہی تھی۔ دادی ماں کا غصہ بالآخر اس کی شادی کے لیے رضا مندی پر ختم ہوا تھا۔ وہ اپنی ذات کے تمام حقوق انہیں دے کر ان کی رضا کے بعد اس شام شہر کے لیے روانہ ہوئی تھی۔ جہاں سانول بارہ گھنٹے گزر جانے کے باوجود تا حال ہوش میں نہیں آیا تھا۔
///

آنکھوں سے خواب دل سے تمنا تمام شد
تم کیا گئے کہ شوق نظارہ تمام شد
کل تیرے تشنگاں سے عجب معجزہ ہوا
دریا پہ ہونٹ رکھے تو دریا تمام شد
دنیا تو ایک برف کی سل کے سوا نہ تھی
پہنچی ذرا جو آنچ تو دنیا تمام شد
شہر دل تباہ میں پہنچوں تو کچھ کھلے
کیا بچ گیا ہے راکھ میں اور کیا تمام شد
اک یادِ یار ہی تو پس انداز ہے محسنؔ
ورنہ وہ عشق کار تو کب کا تمام شد

تقریب سے وہ سیدھا ’’یزدانی پیلس‘‘ چلا آیا تھا کہ یہ قریب پڑتا تھا۔
وہ اندر آیا تو گوری جائے نماز پر بیٹھی‘ ہاتھ دعا میں اٹھائے رو رہی تھی۔ وہ سمجھ نہ سکا کہ یہ کون ہے؟
مالکن وہ ہو نہیں سکتی تھی اور نوکرانی وہ لگ نہیں رہی تھی۔
دعا میں ہاتھ اٹھائے زار و قطار روتے ہوئے اس کے ذہن میں بزرگ کی باتیں گونج رہی تھیں جو آج صبح ہی وہ اس کے خواب میں کہہ رہے تھے۔
’’یہ دنیا… یہ محض گزر گاہ ہے۔ ایسی گزر گاہ جہاں سے ہو کر تمہیں اپنی اصل منزل تک جانا ہے اور وہ منزل جنت ہوگی یا جہنم‘ یہ فیصلہ اللہ ربّ العزت کی ذات پاک‘ تمہارے اعمال سامنے رکھ کرے گی۔ یاد رکھنا بیٹی گمراہی ہر قدم پر انسان کے ساتھ چلتی ہے۔ یہ دنیا کا عشق‘ ہمیشہ بد نظری سے ہی پیدا نہیں ہوتا۔ بری صحبت‘ بری بات سننے اور پڑھنے سے بھی پیدا ہوجاتا ہے۔ جیسا راستا اختیار کرو گی۔ ویسی مراد پائو گی۔ قرآن پڑھو گی تو دل میں اللہ ربّ العزت کی پاک ذات کا عشق پیدا ہوگا۔ احادیث سنو گی تو اس کے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق کرنے لگو گی۔ لیکن کسی غیر محرم سے بلا ضرورت بات کرو گی تو اندرونی جذبات ابھریں گے اور دل میں دنیا داری کا عشق پنجے گاڑ کر بیٹھ جائے گا۔ تباہی و بربادی کا یہ ’’بیج‘‘ بڑھتے بڑھتے تناور درخت بن جائے گا اور آخر کار تمہاری ہستی کو ہلا کر رکھ دے گا۔ یہ چند روزہ فانی دنیا تمہارا امتحان ہے بیٹی‘ وہ عورت مت بن جسے شر اور فتنہ کہا جائے۔ رحمت بن‘ اپنی زبان‘ نفس اور خیالات کو قابو میں رکھ۔ مت دیکھ کہ دنیا کیا سمجھتی ہے؟ یہ دیکھ کہ تیرے ربّ کے ہاں تیرا کیا مقام ہے۔ وہ کیا سمجھتا ہے۔ یہ زبان کی نرمی اور لچک کسی کو تیری طرف راغب نہ کرلے۔ گمراہ نہ کرلے یاد رکھ وہ عورت جو اپنی زبان کی نرمی اورلچک سے کسی غیر محرم مرد کا دل لبھائے گی اس کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ اس میں اوندھے منہ لٹکائی جائے گی۔‘‘
یہ کیسی آگاہی تھی کیسی تنبیہ تھی کہ وہ بے چین ہو کر رہ گئی تھی۔
کیسا کرم تھا یہ اس پر اللہ ربّ العزت کی پاک ذات کا کہ اسے ان باتوں سے آگہی نصیب ہو رہی تھی۔ جن سے لا علمی کے سبب جانے کتنے ایمان والوں کو آخرت میں رسوائی کا سامنا کرنا تھا اور وہ اسی پر رو رہی تھی جب شاہ زر نے قریب آکر ہلکا سا گلا صاف کیا۔
’’السّلام علیکم!‘‘
وہ چونکی اور آنسوئوں کے موتی پل بھر کو پلکوں پر ٹھہرے تھے۔ پلٹ کر نظر شاہ زر کے اجنبی چہرے پر پڑی تو مزید حیرانی ہوئی۔ عباء پہنے اس نے سر بھی اچھی طرح ڈھانپ رکھا تھا۔
’’وعلیکم السّلام! فرمائیے۔‘‘
’’مجھے شاہ زر کہتے ہیں لیکن معاف کیجیے گا میں نے آپ کو پہچانا نہیں۔‘‘
’’میرا نام گوری ہے۔ بریرہ جی نے یہاں پناہ دی تھی۔ آپ ان کے شوہر ہیں ناں؟‘‘
’’ہاں‘ مگر اس نے مجھے یہاں آپ کی موجودگی کا نہیں بتایا تھا۔ خیر کیسے جانتی ہیں آپ انہیں۔‘‘
وہ اب صوفے پر بیٹھ چکا تھا۔
گوری جائے نماز پر ہی بیٹھی رہی۔
’’میں انہیں نہیں جانتی مگر ان کے بھائی زاور حسن صاحب ادھر ہمارے گائوں کے قریب زخمی ہوگئے تھے تو میرے بھائی انہیں اٹھا کر گھر لائے تھے۔ کچھ روز وہ ادھر ہمارے مہمان رہے تھے۔ جب ان کے زخم بھر گئے تو وہاں سے چلے آئے۔ مگر آتے ہوئے انہوں نے میرے بھائی سے کہا تھا کہ انہیں جب بھی کسی مدد کی ضرورت پڑے وہ شہر چلے آئیں پھر بھائی کا قتل ہوگیا اور میری پھوپو بھی وفات پاگئیں۔ تو میرا شوہر مجھے اپنے ساتھ لے گیا۔ اس کی بھی موت ہوگئی تو میں یہاں چلی آئی کیونکہ بھری دنیا میں اب میرا کوئی بھی رشتہ سلامت نہیں رہا۔‘‘
’’اوہ‘ ویری سیڈ۔ یہاں کا ایڈریس کیسے ملا؟‘‘
’’وہ… جی… کارڈ تھا میرے پاس‘ زاور صاحب آتے ہوئے اپنا کارڈ دے کر آئے تھے۔ اسی کی مدد سے میں یہاں تک پہنچ گئی۔‘‘
گفتگو کے دوران اس نے ایک بار بھی نظریں اٹھا کر سامنے نہیں دیکھا تھا۔
شاہ زر کو چہرے کی معصومیت اور لہجے کی سادگی بے حد اچھی لگی۔
’’یہاں‘ خالی گھر میں رہتے ہوئے کوئی پریشانی تو نہیں ہے؟‘‘
’’ہوتی ہے جی‘ کام والی تو صفائی کر کے صبح صبح ہی چلی جاتی ہے۔ اکثر دو دو دن آتی ہی نہیں‘ پیچھے چوکیدار اور باورچی دونوں مرد ہوتے ہیں۔ میں سارا دن کمرا بند کر کے اندر بیٹھی رہتی ہوں۔ صرف صبح کے وقت جب کام والی آتی ہے تب ہی باہر نکلتی ہوں۔‘‘
’’اوہ‘ اس طرح تو آپ خاصی مشکل کا شکار ہوتی ہوں گی۔ اگر آپ کو برا نہ نہ لگے اور ذہن مانے تو آپ میرے ساتھ‘ میرے گھر چل سکتی ہیں۔ وہاں آپ کو کسی سے کوئی خطرہ نہیں۔‘‘
اس نے شاہ زر کو تصویروں میں دیکھا تھا اور وہ اسے بہت اچھا لگا۔ مگر اس وقت اس کا لہجہ صورت سے بھی زیادہ اچھا تھا۔ گوری کی آنکھیں یک لخت ادریس کی یاد میں بھیگ گئیں۔ جانے آج کل موقع بے موقع وہ اسے اتنا یاد کیوں آتا تھا۔
’’کیا ہوا‘ اگر آپ نہیں جانا چاہتیں تو کوئی بات نہیں‘ میں تو صرف آپ کی مشکل کی وجہ سے کہہ رہا تھا۔‘‘
وہ پریشان ہوا تھا۔ گوری نے جلدی سے آنسو پونچھ لیے۔
’’ایسی بات نہیں ہے شاہ زر بھائی۔ بس جانے کیوں آپ کو دیکھ کر مجھے میرا بھائی یاد آگیا۔‘‘
’’اگر میں کہوں کہ میرے ساتھ بھی یہی معاملہ ہوا ہے تو…!‘‘
اس بار گوری نے سر اٹھایا۔
’’میری بھی ایک ہی بہن تھی دنیا میں ’’شافیہ آفندی‘‘ جان دیتا تھا اس پر اور وہ مر کر سچ مچ میری جان ہی لے گئی۔ آپ کے چہرے پر پہلی نظر میں ہی مجھے اس کا چہرہ اس کی شباہت نظر آئی تھی۔‘‘
وہ وضاحت دے رہا تھا۔ گوری کے آنسو تھم گئے۔
’’بریرہ کو کال ملاتا ہوں۔ اس سے بات کر کے تسلی کرلیں۔ پھر چلیں گے میں تو صرف دیکھ بھال کے لیے آیا تھا یہاں آپ کا سبب اللہ ربّ العزت کی طرف سے بن گیا۔‘‘
بریرہ کو کال ملاتے ہوئے وہ اسے بتا رہا تھا۔ تھوڑی دیر کے بعد وہ آن لائن تھی۔
’’السّلام علیکم! کیسی ہو؟‘‘
’’وعلیکم السّلام! تم سنائو۔‘‘
’’میں تو ٹھیک ہوں‘ یزدانی پیلس آیا تھا دیکھ بھال کے لیے یہاں گوری سے ملاقات ہوگئی۔ مجھے تو بالکل شافیہ کا گمان ہوا۔ یہ یہاں محفوظ نہیں ہے بریرہ۔‘‘
’’ہوں‘ میں سمجھتی ہوں‘ مگر وہ خود چل کر میرے پاس آئی تھی اسے سر چھپانے کے ٹھکانے کی تلاش تھی اسی لیے میں نے وہاں ٹھہرا لیا۔ اب انگلینڈ تو ساتھ لے کر نہیں آسکتی تھی۔‘‘
’’وہ تو ٹھیک ہے مگر اب میں اسے ’’شاہ پیلس‘‘ لے جا رہا ہوں۔ وہاں اور بھی خواتین ہیں جو کام کے لیے آتی ہیں۔ اسے وہاں بہتر محسوس ہوگا۔‘‘
’’ٹھیک ہے جیسا تم مناسب سمجھو۔ مجھے تو کوئی اعتراض نہیں۔‘‘
وہ ایسی ہی تھی بے ضرر سی‘ شاہ زر نے تھوڑی دیر اِدھر اُدھر کی باتوں کے بعد گوری کی بریرہ سے بات کروا کر کال ڈراپ کردی۔
’’شاہ پیلس‘‘ میں آنے کے بعد گوری کو یک گونہ قرار نصیب ہوا تھا کہ شاہ زر صبح کا نکلا رات گئے ہی گھر واپس لوٹتا تھا اور آتے ہی تھوڑا سا کھانا کھا کر اپنے کمرے میں گھس جاتا‘ صبح کام والی آتی تھی اور پھر تمام گھر کے کام نمٹا کر شام ڈھلے ہی گھر واپس جاتی تھی۔ ایسے میں وہ بالکل آزاد ہوتی کہ جہاں دل چاہا وہاں بیٹھی۔ شاہ زر واقعی اس کے لیے سگے بھائیوں کی طرح ثابت ہوا تھا۔
خوابوں کا سلسلہ یہاں آکر بھی ویسے ہی جاری تھا۔ تبھی اس روز ناشتے کے وقت اس نے پہلی بار شاہ زر کو خود سے مخاطب کرنے کی ہمت کی تھی۔
’’شاہ بھائی‘ آپ سے ایک فرمائش کروں تو پوری کریں گے۔‘‘
وہ چونکا تھا اور پھر اس کا جھکا سر دیکھ کر مسکرایا تھا۔
’’ہوں‘ سو فرمائشیں بھی کرو تو پوری کروں گا۔‘‘
اس کی حوصلہ افزائی پر کچھ لمحے سوچنے کے بعد وہ بولی تھی۔
’’وہ‘ مجھے ایک اکیڈمی بنانی ہے۔ چھوٹے بچوں کے لیے جہاں میں انہیں قرآن کی تفسیر اور ترجمہ پڑھا سکوں۔ انہیں زندگی کے حقیقی معنی بتا سکوں۔ انہیں بتا سکوں شاہ بھائی کہ قرآن کیا ہے اور ہماری زندگیوں میں یہ کتنی اہمیت کا حامل ہے۔ اس کا ایک ایک حرف کتنی گہرائی لیے ہوئے ہے۔ غیر مسلم اس کی تعلیمات سے فائدہ اٹھا کر کہاں سے کہاں پہنچ گئے اور جس محبوب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوب امت کے لیے اللہ ربّ العزت نے اسے نازل کیا وہ اسی قرآن سے دوری کے سبب کیسی کیسی تباہ کن مصیبتوں اور پستیوں میں جا گری۔‘‘
’’بہت اچھا ارادہ ہے مگر شاید آپ کے علم میں نہ ہو میری پیاری بہن کہ ہمارے اس ماڈرن معاشرے کے ماڈرن لوگ۔ اپنے بچوں کی دینی تعلیم صرف قرآن پاک ایک مرتبہ پڑھا کر مکمل سمجھتے ہیں پھر چاہے وہ بچہ ساری عمر اس قرآن کو ہاتھ لگائے نہ لگائے کوئی فکر نہیں‘ یہاں ایسے گھرانے بھی ہیں گوری‘ جن میں بچے اگر کسی وجہ سے مذہب میں دل چسپی لینے لگیں تو مائیں پریشان ہوجاتی ہیں۔ انہیں بے ہنگم پارٹیز‘ گیٹ ٹو گیڈرنگ‘ بے حیا تعلقات‘ انٹر نیٹ کی تباہی و بربادی کی طرف لانے کے لیے ہزار جتن کرتی ہیں۔ قرآن کی تفسیر اور تعلیمات سے زیادہ انگریزی زبان اور لٹریچر میں اپنے بچوں کو دھکیل کر بے حد خوشی و اطمینان محسوس کرتی ہیں۔ یہ معاشرہ ایسے ہی لوگوں اور مائوں سے بھرا ہے گوری۔ یہاں آپ کی کون سنے گا۔ نقار خانے میں طوطی کی ویسے بھی کوئی نہیں سنتا۔ یہاں لوگوں کو تفریح کے لیے رومانوی باتیں اور ماحول مطلوب ہے اللہ رسول کی باتوں کے لیے شاید ان کے پاس وقت ہی نہیں ہے کیونکہ ہدایت بھی اس کی نصیب ہوتی ہے جس کے دل میں ذرا سی گنجائش ذرا سی نمی ہو‘ گونگے‘بہرے‘ اندھے لوگوں کو ہدایت نصیب نہیں ہوتی۔‘‘
وہ ماڈرن شہری تھا مگر اس کی باتیں ’’اندر‘‘ کی باتیں تھیں۔ گوری کو بے حد دکھ ہوا۔
’’یہ ہماری بد نصیبی ہے شاہ بھائی‘ مگر میں پھر بھی اکیڈمی بنانا چاہتی ہوں۔ کیونکہ جس اللہ نے یہ خیال میرے دل میں ڈالا ہے یقیناً وہی میری مدد بھی فرمائے گا۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو وہ یہ خیال کبھی میرے دل میں نہ ڈالتا۔‘‘
’’ٹھیک ہے‘ میں آج ہی بات کرتا ہوں‘ اس سلسلے میں کسی سے تم فکر نہ کرو۔‘‘
’’جزاک اللہ بھائی! یقینا اللہ آپ کو اس کا بہتر اجر دینے والا ہے۔‘‘
وہ دعا دے کر پلٹ گئی تھی۔ شاہ زر گم صم سا کتنی ہی دیر وہیں بیٹھا رہا۔کیا وہ ’’بہتر اجر‘‘ کے قابل تھا؟
///
رات بھر کی سخت بے سکونی کے بعد صبح جب وہ بستر سے نکلا تو طبیعت بے حد بوجھل تھی۔
رات اس نے جو امامہ کے ساتھ کیا تھا۔ اب اس پر پچھتاوا ہو رہا تھا۔ مگر… وہ پیچھے پلٹ کر دیکھنے والوں میں سے نہیں تھا اور جو پیچھے پلٹ کر نہیں دیکھتے اکثر وہی منہ کے بل گرتے ہیں۔ گڑیا ابھی سو رہی تھی۔ وہ فریش ہو کر تیار ہونے کے بعد بِنا ناشتہ کئے باورچی کو گڑیا کا خیال رکھنے کی ہدایت کرتا آفس چلا آیا۔
اپنے شاندار‘ ڈیکوریٹڈ کمرے میں سیٹ سنبھالنے کے بعد‘ ٹی وی آن کرتے ہوئے ابھی وہ فون کا ریسیور ہی اٹھا رہا تھا کہ اچانک نشر ہونے والی خبر نے اسے ٹھٹھکا دیا۔
’’وقار کالونی کے علاقے‘ وقاص ٹائون میں گزشتہ شب ایک نوجوان لڑکی کو انتہائی بے رحمی کے ساتھ موت کے گھاٹ اتار دیاگیا۔ پولیس کے مطابق اس علاقے میں تین انتہائی مطلوب مجرم مقیم تھے۔ تا حال لڑکی کی شناخت نہیں ہوسکی ہے۔ تاہم ملزمان کا کہنا ہے کہ وہ لڑکی پناہ کی تلاش میں خود وہاں چل کر آئی تھی۔‘‘
خبر کے ساتھ اسکرین پر ملزمان کے چہرے اور کپڑے میں لپٹی لڑکی کی مسخ شدہ تصویر بھی دکھائی جا رہی تھی۔ شجاع حسن کا وجود جیسے لمحے میں سرد پڑ گیا تھا۔ کل رات وقاص ٹائون کے علاقے میں ہی تو امامہ کو چھوڑ کر آیا تھا اور جو گھر اسکرین پر دکھایا جا رہا تھا یہ وہی تو تھا جس کے دروازے پر اس نے دستک دی تھی۔
///

ڈھونڈو گے اگر ملکوں ملکوں‘ ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم
تعبیر ہے جس کی حسرت و غم‘ اے ہم نفسو وہ خواب ہیں ہم
اے درد بتا کچھ تُو ہی بتا‘ اب تک یہ معما حل نہ ہوا
ہم میں ہے دل بے تاب نہاں‘ یا آپ دل بے تاب ہیں ہم
میں حیرت و حسرت کا مارا‘ خاموش کھڑا ہوں ساحل پر
دریائے محبت کہتا ہے آ‘ کچھ بھی نہیں پایاب ہیں ہم
لاکھوں ہی مسافر چلتے ہیں منزل پر پہنچتے ہیں دو ایک
اے اہلِ زمانہ قدر کرو نایاب نہ ہوں کم یاب ہیں ہم

اس کا سیل کب سے بج رہا تھا۔
نگاہیں ٹی وی اسکرین سے ہٹا کر اس نے موبائل فون کی اسکرین پر ڈالی تھیں۔ دوسری طرف فائزہ آپا کا نمبر تھا۔ وہ بے خیالی میں کال ریسیو کرگیا۔
’’السّلام علیکم!‘‘
’’وعلیکم السّلام کیسے ہو‘ کہاں ہو؟‘‘ دوسری طرف وہ بے حد مسرور تھیں۔ وہ الجھ کر رہ گیا۔
’’ابھی آفس پہنچا ہوں آپا! خیریت…!‘‘ کیسے ہو۔ کا جواب دینا اس نے ضروری نہیں سمجھا تھا۔
’’ہاں خیریت ہی ہے۔ وہ اصل میں ابا جی کو امامہ کی یاد ستا رہی تھی۔ یہاں بلوانا چاہتے ہیں اسے اپنے پاس تمہیں کوئی اعتراض تو نہیں نا۔‘‘ وہ شاید اسے تنگ کر رہی تھیں مگر شجاع ایک لفظ کہنے کی پوزیشن میں نہیں رہا تھا۔
’’ویسے وہ ہے کہاں؟ سیل نمبر بھی آف مل رہا ہے اور گھر پر بھی نہیں ہے؟‘‘
’’پتا نہیں آپا۔ جب میں گھر سے نکلا تھا تو وہ کمرے میں ہی تھی۔‘‘
’’چلو ٹھیک ہے میں کچھ دیر بعد پھر ٹرائی کروں گی۔‘‘
’’نہیں‘ میں شام میں خود آپ کی بات کرا دوںگا۔ آپ پریشان نہ ہوں۔‘‘
’’چلو جیسے تمہاری مرضی۔ ابا جی تو ابھی دوا لے کر سو رہے ہیں۔ اٹھیں گے تو پھر امامہ اور گڑیا کا پوچھیں گے۔‘‘
’’میں بات کروا دوں گا آپا! ابھی آفس میں مصروف ہوں۔ بات نہیں کرسکوں گا۔‘‘
’’ٹھیک ہے اپنا خیال رکھنا۔‘‘
’’خدا حافظ۔‘‘
وہ اس وقت کسی سے بھی بات کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھا۔ تبھی جلدی سے لائن ڈراپ کردی۔ عین اسی لمحے ٹیلی فون کی بیل بجی تھی اور اپنے گھر کا نمبر دیکھ کر اسے نا چاہتے ہوئے بھی کال سننی پڑی تھی۔
’’ہیلو۔‘‘
’’السّلام علیکم سر! وہ چھوٹی بی بی ناشتے کے لیے بہت تنگ کر رہی ہیں۔ بار بار بیگم صاحبہ کو پکارتے ہوئے رو رہی ہیں۔‘‘
ریسیور کان سے لگاتے ہی ایک اور اذیت نے اس کا منہ چڑایا تھا۔ شجاع نے اس بار بنا کچھ کہے ریسیور کریڈل پر ڈال دیا تھا۔ دماغ کی نسیں اس لمحے جیسے پھٹنے کو تیار تھیں۔ ریسیور پٹختے ہی اس نے ٹی وی آف کر کے متعلقہ علاقے کے ایس پی کو فون کیا تھا اور وہاں ڈیوٹی پر موجود ڈی ایس پی اور ایس ایچ او کو فوری اپنے حضور طلب کیا تھا۔
اگلے پینتالیس منٹ میں دونوں اس کے آفس میں موجود تھے۔
’’جی سر خیریت۔‘‘
ڈی ایس پی نے لب کھولنے کی ہمت کی تھی جب کہ ایس ایچ او مؤدب کھڑا رہا تھا۔
’’بیٹھیے۔ مجھے کل رات وقاص ٹائون میں ہوئے سانحے کی رپورٹ چاہیے۔‘‘
اس کے چہرے پر چٹانوں سی سختی تھی۔ ڈی ایس پی اور ایس ایچ او دونوں مقابل بیٹھ گئے۔ پھر ڈی ایس پی کی ہدایت پر ایس ایچ او نے اسے بریف کیا تھا۔
’’رپورٹ تیار ہے سر! وہاں پچھلے تقریباً تین چار ہفتوں سے کرائے پر کچھ لڑکے رہ رہے تھے۔ ایک دو مقدمات میں نام زد بھی ہیں وہ۔ یہ کل آدھی رات کے بعد کا واقعہ ہے سر! دو لڑکے اور دو لڑکیاں اس وقت وہاں موجود تھیں۔ ایک کا قتل ہوگیا ہے دوسری موقع سے فائدہ اٹھا کر بھاگ گئی۔ لڑکے دونوں گرفتار ہیں۔‘‘
’’کیا نام ہے مرنے والی لڑکی کا۔‘‘
’’امامہ… امامہ حسن یہی نام بتا رہے تھے وہ لڑکے۔‘‘
ایس ایچ او کے لبوں سے نکلنے والے وہ الفاظ کیا تھے کوئی بم تھا جو شجاع حسن کو اپنے ارد گرد پھٹتا محسوس ہوا تھا۔
بھلا یہ کیسے ممکن تھا امامہ حسن یوں اچانک کیسے مر سکتی تھی؟
وہ تو اپنے محبوب کے پاس گئی تھی۔ اس شخص کے پاس کہ جسے پانے کے لیے اس نے اس کی جان لینے سے بھی گریز نہیں کیا تھا۔ پھر اسی شخص کے ہاتھوں وہ کیسے مرسکتی تھی؟
’’نہیں امامہ حسن! دس از ناٹ فیئر۔‘‘
ہلکے سے نفی میں سر ہلاتے ہوئے اس کی آنکھوں کے سرخ گوشے نم ہوئے تھے۔
’’سر آپ ٹھیک ہیں؟‘‘
مقابل بیٹھے ڈی ایس پی اور ایس ایچ او دونوں حیران ہوئے تھے۔ شجاع نے خفیف سا سر جھکا کر دونوں ہاتھوں کے انگوٹھوں سے اپنی آنکھوںکے گوشوں کو دبایا تھا۔
’’جی ہاں‘ قتل کیسے ہوا ہے لڑکی کا؟‘‘
یہ سوال پوچھتے ہوئے وہ جس اذیت سے گزرا تھا محض اس کا دل جانتا تھا۔
ایس ایچ او اب اسے بتا رہا تھا۔
’’اس کے چہرے اور جسم پر تیزاب پھینکا گیا ہے سر! تاہم اس کی موت دم گھٹنے سے واقع ہوئی ہے۔ آپ چاہیں تو لاش کا معائنہ کر سکتے ہیں۔ پوسٹ مارٹم کے بعد اس کی لاش سرد خانے میں رکھ دی گئی ہے۔‘‘
’’ٹھیک ہے۔‘‘
ڈوبتے دل کے ساتھ اس لمحے اس نے ڈی ایس پی اور ایس ایچ او کو فارغ کردیا تھا۔ امامہ حسن کے بارے میں اسے ایسی تفتیش سے واسطہ پڑے گا‘ اس نے سو چا بھی نہیں تھا۔ اس لمحے بے ساختہ اسے اپنے الفاظ یاد آئے تھے۔
’’اب جائو اور زندگی میں دوبارہ کبھی مجھے اپنی شکل مت دکھانا۔‘‘
کبھی کبھی غصے اور جذبات میں انسان کیا سے کیا کہہ جا تا ہے مگر وہ نہیں جانتا کہ اس کے منہ سے نکلی ہوئی ہر بات درج ہوتی ہے۔ کوئی اس لمحے شجاع حسن سے پوچھتا کہ اس کا دل کس اذیت میں گرفتار تھا۔ اس کا بس نہ چلتا تھا کہ خود کو شوٹ کر ڈالتا یا امامہ حسن کی جان لینے والے ان عادی مجرم لڑکوں کا مار مار کر بھرکس نکال دیتا۔ کیسا امتحان تھا یہ زندگی کا کہ جس میں اسے کسی کا ساتھ راس ہی نہیں آرہا تھا۔
اگلے پورے پینتیس منٹ اس نے کمرا لاک کر کے خود اپنا ضبط آزمانے کی نذر کیے تھے۔ تنہائی میں کسی حد تک دل کا بوجھ ہلکا کرنے کے بعد‘ اس نے فائزہ آپاکے سیل نمبر پر مسیج چھوڑا تھا۔
’’امامہ حسن اب اس دنیا میں نہیں رہی آپا۔ کل رات ایک ایکسیڈنٹ میں اس کی موت ہو گئی ہے۔‘‘
وہ جانتا تھا اس کا مسیج وصول ہونے کے بعد سمندر کے اس پار بھی قیامت آئے گی۔ مگر اب اس کے سوا وہ اور کر بھی کیا سکتا تھا۔ اس نے شام میں بابا سے امامہ کی بات کروانے کا وعدہ کیا تھا مگر…!‘‘ وہ شام اب کبھی نہیں آنی تھی۔
مسیج بھیج کر سیل پاور آف کرتے ہوئے وہ اپنی سیٹ سے اٹھا تھا اور اگلے ہی پل کمرے سے باہر نکل آیا۔ ڈرائیور چاق و چوبند اسے کمرے سے باہر دیکھ کر فوراً اٹھ کھڑا ہوا۔
’’اسپتال…!‘‘
مختصر کہہ کر اس نے خود کو جیسے بہ مشکل جیپ کی فرنٹ سیٹ پر دھکیلا تھا۔ اگلے کچھ لمحوں میں گاڑی اس کے مطلوبہ راستے پر فراٹے بھر رہی تھی۔
///
بریرہ رحمن کی انگلینڈ روانگی کا سن کر سرمد خان سے زیادہ دن پاکستان میں نہیں رکا گیا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ شاہ زر سے ملاقات کے بعد تیسرے روز ہی وہ خود بھی انگلینڈ میں تھا۔
شام اس وقت تیزی سے گہری ہو رہی تھی۔ اچانک اس کی نظر بریرہ رحمن پر پڑی تھی۔ اس کی طرح وہ بھی شاید سکون ڈھونڈنے وہاں نائٹ کلب میں آئی تھی۔ وہ خود کو اس کی جانب بڑھنے سے نہ روک سکا۔
’’بریرہ!‘‘
ساری دنیا سے بے نیاز‘ جام پر جام چڑھاتی وہ خود کو تباہ کررہی تھی۔ جب سرمد کی پکار پر چونک کر سر اٹھاتے ہوئے اس نے بڑا سا گھونٹ بھرا اور گلاس سامنے دھری ٹیبل پر پٹخ دیا۔
’’تم…؟‘‘
’’ہاں‘ اچھا نہیں لگا مجھے یہاں دیکھ کر؟‘‘
’’ہاں۔‘‘ وہ نشے میں تھی۔ سرمد آہ بھر کر رہ گیا۔
’’مجھے بھی تم ایسی جگہوں پر اچھی نہیں لگتیں مگر تمہارے معاملے میں میں بہت بے بس ہوں بریرہ!‘‘
’’تو…؟‘‘
’’تمہیں ترس کیوں نہیں آتا مجھ پر؟‘‘
اس کے سامنے بیٹھتے ہوئے وہ جیسے ٹوٹا تھا۔
بریرہ رحمن نے نیا پیگ بنانے کے لیے گلاس تھاما ہی تھا کہ اس نے ہاتھ بڑھا کر اسے روک دیا۔
’’بس کرو‘ خدا کا واسطہ ہے تمہیں۔‘‘
’’جسٹ شٹ اپ! مجھے مت روکو۔ ‘‘
جھٹکے سے اپنا ہاتھ اس کی گرفت سے نکالتے ہوئے وہ غرائی تھی۔
سر مد خان اسے دیکھ کر رہ گیا۔
’’سب کچھ پا کر بھی ایسی تشنگی بریرہ…! مجھے تو کچھ نہیں ملا‘ دل بھی خالی ہے اور ہاتھ بھی‘ پھر بھی میں کبھی تلخ نہیں ہوا۔ کیا میں انسان نہیں ہوں؟‘‘
’’مجھے نہیں پتا۔ بس اس وقت مجھے میرے حال پر چھوڑ دو پلیز۔‘‘
’’نہیں چھوڑ سکتا میں تمہیں تمہارے حال پر اور یہ تم بہت اچھی طرح سے جانتی ہو۔‘‘ وہ بھی ضد میں آیا تھا بریرہ سر جھکائے خود پر ضبط کرتی رہی۔
’’تمہارے دل میں میرے لیے محبت نہیں ہے۔ ٹھیک ہے‘ مگر جس کے لیے ہے پلیز اس کے ساتھ خوش رہو‘ میں تمہیں اداس نہیں دیکھ سکتا۔ ‘‘
ٹیبل پر رکھے اس کے دونوں ہاتھ تھامے وہ بہت بے بسی سے اعتراف کر رہا تھا۔ بریرہ کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔
’’میری مدد کرو گے؟‘‘
کچھ لمحوں کے بعد وہ بولی تو اس کے لہجے میں آنسوئوں کی آمیزش تھی۔
’’ہوں‘ یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے۔‘‘
وہ مسلسل اسے نگاہوں کے حصار میں رکھے ہوئے تھا۔
بریرہ رحمن نے اس بار آنسو پونچھ لیے۔
’’کیا تم انوشہ رحمن سے شادی کرسکتے ہو سرمد!‘‘
اس قطعی غیر متوقع سوال اور فرمائش پر وہ سٹپٹا کر رہ گیا۔
’’انوشہ رحمن ایک بہترین لڑکی ہے بریرہ! اور اس میں کوئی شک نہیں کہ زندگی کی ہم سفر کے لیے اس کا انتخاب بہترین ہے مگر سر مد خان کا جو دل ہے اس پر بریرہ رحمن کے قدموں کے نشان ہیں اس کی چاہ‘ دل کے صحرا کو بگولے کی صورت گھیرے ہوئے ہے۔ میں اس کی یاد سے منکر نہیں ہو سکتا۔‘‘
وہ دل اور زبان کا صاف شخص تھا۔ بریرہ نے عجیب بے بسی کے ساتھ اس کی طرف نگاہ کی۔
’’محبت صرف پانے کا نام تو نہیں ہے سرمد!‘‘
’’میں نے کب پانے کا سوال کیا ہے؟ میں تو ہمیشہ تمہاری رضا میں راضی رہا ہوں۔ اچھا برا جو بھی تم نے کہا۔ چاہا میں نے کبھی اختلاف نہیں کیا۔ اب کم از کم مجھ سے میری خود داری تو مت چھینو بریرہ!‘‘
’’تمہیں صرف اپنی خوشی سے مطلب ہے۔ میرا غم‘ میری خوشی تمہارے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتی ہے نا۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ میں شاہ سے پیار کرتی ہوں۔ اس کے بغیر نہیں رہ سکتی۔ تم میری کوئی مدد نہیں کرسکتے۔‘‘
وہ رو پڑی تھی اس وقت اس کے حواس اس کا ساتھ بھی نہیں دے رہے تھے۔ سرمد بنا اس کے آنسوئوں سے متاثر ہوئے فوری اٹھ کھڑا ہوا۔
’’چلو گھر چلتے ہیں۔ تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔‘‘
’’نہیں مجھے شاہ زر کو پانا ہے۔ وہ میرا ہے صرف میرا۔‘‘
’’باہر بارش شروع ہوگئی ہے بریرہ! چلو۔‘‘
اس بار قدرے سختی سے کام لیتے ہوئے اس نے بریرہ کو زبردستی کھڑا کیا تھا۔ وہ اسی کے سہارے کلب سے نکل کر باہر گاڑی تک آئی تھی۔ اگلے چالیس منٹ کی ڈرائیونگ میں وہ سیٹ پر سر گرائے سوتی رہی تھی۔ گاڑی اس کے گھر کے باہر پارک کرنے کے بعد اس نے اسی حالت میں اسے گاڑی سے باہر نکالا تھا اور سہارا دے کر اس کے کمرے تک لایا۔
سائلہ بیگم بیٹی کے انتظار میں جاگ ضرور رہی تھیں۔ مگر اس کے ہر معاملے میں بے بس دکھائی دیتی تھیں۔ وہ انہیں سر سری سا سلام کر کے وہاں سے چلا آیا۔
سامنے ایک بار پھر‘ شفاف روڈ تھا اور لا تعداد ہلکان کرنے والی سوچیں…!
’’کیا تم انوشہ رحمن سے شادی کرسکتے ہو سرمد!‘‘
بریرہ کا نشے میں غرق بھاری لہجہ اور یہ سوال اسے پوری رات بے چین رکھنے کو کافی تھا۔ بارش ہو رہی تھی مگر اسے اپنا تن من جلتا سلگتا محسوس ہورہا تھا۔
’’کیا تھا بریرہ رحمن! اگر تم میری زندگی میں نہ آتیں۔ کیا تھا اگر میرے دل میں میری نظر میں تمہاری بہن کے لیے بھی تھوڑی سی محبت بے دار ہوجاتی؟‘‘
کرب سے لب کچلتے ہوئے وہ جیسے اس کے تصور سے گلہ کر رہا تھا۔
///

غم زندگی نے لا کر‘ ہمیں اس جگہ پر مارا
جہاں اس طرف کنارا‘ نہ ہی اس طرف کنارا
یہاں کس کو اتنی فرصت کہ ہمارا حال پوچھے
یہ مزاج ہے سبھی کا نہیں ذکر ہے تمہارا
یہ عجیب سا جہاں ہے یہاں سب ڈسے ہوئے ہیں
کوئی دشمنی کا مارا کوئی دوستی کا مارا
کئی کام رہ گئے ہیں تیرے عشق کی وجہ سے
تیرے ساتھ بھی خسارا تیرے بعد بھی خسارا
تیرے ساتھ بیتے لمحے‘ میری زندگی کا حاصل
تیرے بعد پھر کسی کو نہیں پیار سے پکارا

اگلے روز آفس میں عباد کی پیشی ہوگئی تھی۔ کیونکہ اس کی غیر موجودگی میں یاور صاحب آفس چلے آئے تھے اور انہیں بزنس سے متعلق بہت سے معاملات میں عباد کی پچھلے کچھ دنوں کی کارکردگی دیکھ کر قطعی تسلی نہیں ہوئی تھی۔ جلتی پر تیل کا کام ہادیہ کی شکایت نے کیا تھا۔ جو اس کی ہیلپر کی حیثیت سے اس کے ساتھ کام کر رہی تھی۔ کل ریستوران میں عباد کو ایک قطعی اجنبی لڑکی کے ساتھ دیکھ کر جتنی وہ جلی تھی اس کا دل ہی جانتا تھا۔
وہ شخص جو اس کی اولین پسند تھا جس کا نام اس کے نام کے ساتھ منسوب تھا۔ وہ اسے کسی صورت شیئر نہیں کرسکتی تھی۔ خواہ معاملہ محض دوستی یا دل لگی کا ہی کیوں نہ ہوتا۔ پھر آج کل پچھلے دو ماہ سے جو رویہ وہ اس کے ساتھ رکھ رہا تھا اس نے اسے ایک انجانے سے خوف میں مبتلا کردیا تھا۔
عباد کا چھن جانا اس کے لیے موت کے مترادف تھا۔ کم از کم اس کے معاملے میں وہ بہت پوزیسو تھی۔
عباد، یاور صاحب کے آفس میں داخل ہوا تو وہ صوفے پر ان کے ساتھ ہی بیٹھی تھی۔
’’السّلام علیکم!‘‘
’’وعلیکم السّلام! تمہارا ہی انتظار کر رہا تھا میں۔‘‘
سگار سلگاتے ہوئے انہوں نے سرسری نگاہ اس پر ڈالی تھی۔
عباد ایک نظر ہادیہ پر ڈالتے ہوئے قدرے ٹھٹک گیا۔
’’خیریت!‘‘
’’ہوں‘ خیریت ہی ہے‘ تمہارے ساتھ کوئی مسئلہ ہے تو شیئر کرلو۔ سنا ہے بزنس کو آج کل تمہاری مکمل توجہ نصیب نہیں ہو رہی ہے۔‘‘
اب وہ باقاعدہ اسے گھور رہے تھے۔ عباد نظر چرا گیا۔
’’ایسی کوئی بات نہیں ہے پاپا۔‘‘
’’جسٹ شٹ اپ۔ جھوٹ سے سخت نفرت ہے مجھے‘ ایسی کوئی بات نہیں ہے تو مسٹر ہمدانی کے ساتھ اسلام آباد والی میٹنگ کیوں کینسل کی تم نے۔ جانتے تھے نا یہ میٹنگ ہماری کمپنی کے لیے کتنی اہم تھی کتنا بڑا کانٹریکٹ ملنے والا تھا اس کمپنی سے ہمیں۔‘‘ وہ برہم ہوئے تھے۔
عباد سر جھکا گیا۔
’’سوری پاپا! دراصل اس وقت میں ایک ضروری کام میں پھنس گیا تھا۔‘‘
’’ضروری کام‘ کیسا ضروری کام؟ باپ سے جھوٹ بولتے ہو‘ خوب اچھی طرح جانتا ہوں میں تمہارے ضروری کاموں کو۔ دو دو ٹکے کی لڑکیوں کے پیچھے سر عام تماشا لگائے پھرتے ہو تم اپنا۔‘‘
وہ اس وقت کچھ بھی سننے کے موڈ میں نہیں تھے۔
عباد کا چہرہ سرخ ہوگیا۔
’’وہ دو ٹکے کی لڑکی نہیں ہے۔‘‘
’’بکواس بند کرو۔ شرم نہیں آتی باپ کے سامنے اپنی نالائقیوں کا اعتراف کرتے ہوئے؟ یاد رکھو بر خوردار! بزنس کے تمام امور تمہارے ہاتھ میں دینے کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ تم اپنی بے پروائیوں سے اسے دیوالیہ کردو سمجھے!‘‘ وہ سخت غصے کا شکار تھے۔ عباد ہادیہ کو خفگی سے گھورتا فوراً اٹھ کھڑا ہوا تھا۔
’’ایک بات اور کان کھول کر سن لو تمہاری شادی وہیں ہوگی جہاں میں چاہوں گا۔ یہ یاد رکھنا۔ اب جاسکتے ہو تم۔‘‘
اچھی طرح اس کی طبیعت صاف کرنے کے بعد انہوں نے رخ پھیر لیا تھا۔
عباد سامنے پڑی ٹیبل کو ٹھوکر مارتا ان کے شاندار آفس سے باہر نکل آیا۔ ہادیہ کی طرف سے اس کا دل بے حد برا ہوا تھا۔ اسی وقت بنا کسی تیاری کے وہ اسلام آباد کے لیے روانہ ہوگیا۔
جس وقت اس کی گاڑی شاہ زر کے گیٹ کے سامنے رکی وہ ٹیرس کی ریلنگ سے ٹیک لگائے جانے کن خیالوں میں کھویا دکھائی دے رہا تھا۔
عباد کو گاڑی سے نکلتے دیکھ کر وہ بے اختیار چونکا تھا۔ جب کہ عباد نے وہیں کھڑے ہو کر گاڑی کو لاک کرتے ہوئے اسے دیکھ کر ہاتھ ہلایا تھا۔ اگلے ہی پل وہ تیزی سے سیڑھیاں عبور کرتا گھر سے باہر تھا۔ عباد سے گلے ملتے وقت اس نے اسے بہت زور سے بھینچا تھا۔
’’بڑی لمبی عمر ہے تیری‘ ابھی میں تجھے ہی یاد کررہا تھا اور تُو شیطان کی طرح حاضر بھی ہوگیا۔‘‘
’’بس دیکھ لو‘ سیانے ایسے ہی نہیں کہتے کہ دل کو دل سے راہ ہوتی ہے۔‘‘
جواباً اس نے بھی جوش دکھایا تھا۔ شاہ زر چلا اٹھا۔
’’کیا کر رہے ہو؟ ہڈی پسلی ایک کرنی ہے کیا؟‘‘
’’نہیں تجھے دکھا رہا ہوں کہ میرے بازوئوں میں آج بھی تجھ سے زیادہ طاقت ہے۔‘‘
’’یہ تو ہے‘ چل اوپر ٹیرس پر چلتے ہیں۔‘‘
’’نہیں یار! آج کوئی ٹیرس‘ کوئی ہال‘ کوئی ڈرائینگ روم نہیں۔ بس آج یہیں بیٹھتے ہیں باہر سیڑھیوں پر۔‘‘
’’دماغ ٹھیک ہے تیرا لوگ موالی سمجھیں گے۔‘‘
’’سو وہاٹ! سمجھتے رہیں جو سمجھتے ہیں مجھے کوئی پروا نہیں چل بیٹھ!‘‘
زبردستی شاہ زر کا ہاتھ کھینچ کر وہ گھر سے باہر کی سیڑھیوں پر ٹک گیا تھا۔
’’کبھی کبھی دولت کی اس مشینی‘ مصنوعی دنیا سے نکلنے کو دل چاہتا ہے شاہ! دم گُھٹتا ہے میرا اس سوسائٹی میں۔ شدت سے دل چاہتا ہے کہ میں بھی زندگی کی تلخیوں کو بہت قریب سے محسوس کروں۔ گھر کے کچے آنگن میں اپنے گھر کے تمام افرد کے ساتھ چار پائی سے چار پائی لگا کر سوئوں تاکہ اگر رات میں کسی وجہ سے میری آنکھ کھلے مجھے کوئی مسئلہ ہو تو میری ماں‘ میرا باپ میرے ساتھ اٹھے۔ میری ذرا سی کھانسی پر ان کی نیند ٹوٹ جائے۔ یوں تنہا قبر کی مانند بند کمرے میں میں ایڑیاں رگڑ رگڑ کر نہ مروں۔ میرے اپنے میری اذیت‘ میری تکلیف سے بے خبر نہ رہیں۔ میں سچ میں اکتا گیا ہوں شاہ! اس لگی بندھی زندگی سے۔ جہاں صرف دو سے چار اور چار سے آٹھ کرنے کی فکر زندگی کو گھیرے ہوئے ہے۔ میں اس فکر کو اعصاب سے اتار پھینکنا چاہتا ہوں۔‘‘
وہ دل برداشتہ دکھائی دے رہا تھا۔ شاہ زر نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں دبا لیا۔
’’عباد تم ٹھیک ہو نا؟‘‘
’’پتا نہیں یار بس آج چل کہیں کسی سستے سے ہوٹل میں جا کر کھانا کھائیں۔ بنا گاڑی کے پیدل چلتے ہوئے بارش میں بھیگیں اور جب بیمار پڑ جائیں تو کسی معمولی فیس والے ڈاکٹر کے پاس جا کر اپنی باری کے انتظار میں گھنٹوں خوار ہونے کے بعد دوا لے کر آئیں پلیز۔‘‘
’’عباد تم!‘‘
’’چل نا شاہ! آج زندگی کو اس کے حقیقی رنگوں میں دیکھ کر آتے ہیں۔ جیسے وہ فرحت عباس شاہ کہتے ہیں 

آ کسی روز کسی دکھ پہ اکھٹے روئیں
جس طرح مرگِ جواں پر کہیں دیہاتوں میں
بوڑھیاں روتے ہوئے بَین کیا کرتی ہیں
جس طرح ایک سیاہ پوش پرندے کے کہیں گرنے سے
ڈارکے ڈار زمینوں پر اتر آتے ہیں
چیختے‘ شور مچاتے ہوئے‘ کُرلاتے ہوئے
اپنے محروم رویوں کی الم ناکی پر
اپنی تنہائی کے ویرانوں میں چھپ کر رونا
اجنبیت کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں کہیں
شہر سے دور‘ سیاہ غاروں میں چھپ کر رونا
اک نئے دکھ میں اضافے کے سوا کچھ بھی نہیں
اپنی ہی ذات کے گنجل میں الجھ کر رونا
اپنے گمراہ مقاصد سے وفا ٹھیک نہیں
ہم پرندے ہیں نا مقتول ہَوائیں پھر بھی
آ کسی روز کسی دکھ پر اکھٹے روئیں

ٹوٹے ہوئے لہجے میں ٹھہر ٹھہر کر بولتا وہ اس کی جان پر بنا گیا تھا۔
’’عباد تو کچھ بتائے گا کہ لگائوں ایک…؟‘‘
’’کیا بتائوں؟‘‘
’’سب کچھ‘ کیوں اتنا اداس ہو رہا ہے۔ کیوں بنا بتائے یوں اچانک گاڑی پر آیا ہے؟‘‘
’’بس دل چاہ رہا تھا گھر سے فرار کو تیری طرف دوڑ لگادی تجھے اچھا نہیں لگا؟‘‘
’’ایسی بات نہیں ہے‘ خیر! وہاں سب ٹھیک تو ہے نا؟‘‘
ہلکی ہلکی بارش میں بھیگتے دونوں موسم سے قطعی بے نیاز دکھائی دے رہے تھے۔
’’ہاں‘ الحمد للہ بس یہ میرا دل کچھ ٹھیک نہیں لگ رہا۔‘‘
اس کا سیل بج رہا تھا۔
ہادیہ کی مسلسل کالز اور ایس ایم ایس آرہے تھے مگر اس نے بنا کوئی رسپانس دیے سیل آف کردیا۔
’’کیوں کیا ہوا ہے اب دل کو؟‘‘
’’راہِ راست پر آگیا ہے یار! تُو نے کہا تھا نا محبت شرک سے پاک ہے اور محبت کے اصل مفہوم کو وہی لوگ سمجھتے ہیں جن کی طلب اور محبت میں وحدانیت ہوتی ہے۔ یہ محبت چاہے خدا سے ہو یا اس کے بندوں سے، درمیان میں کوئی تیسرا نہیں ہونا چاہیے۔ مجھے اس کی سمجھ آگئی ہے شاہ! میں نے جان لیا ہے میں صاعقہ احمد کو کھو کر ہادیہ کے ساتھ زندگی بسر کرسکتا ہوں‘ مگر کبھی مطمئن نہیں رہ سکتا۔ جب کہ صاعقہ کے ساتھ اس کی محبت پا کر میں صرف ایک ہادیہ تو کیا‘ ہزاروں ایسی ہادیہ کو ٹھکرا سکتا ہوں۔ میں نہیں جانتا میں یہ سب کیوں کر رہا ہوں۔ شاید یہ میرے لیے اتنا آسان نہ ہو‘ مگر میں نے فیصلہ کرلیا ہے میں صاعقہ احمد کے بغیر نہیں رہ سکتا۔‘‘
اپنی بے کلی کی اصل وجہ اس نے بیان کردی تھی۔
شاہ زر ایک نظر اوپر برستے آسمان کو دیکھتا اداسی سے مسکرا دیا۔
’’چلو خدا کا شکر ہے کہ محبت کی یہ کشتی کسی کنارے تو لگی۔ مجھے اپنی تو کوئی سمجھ ہی نہیں آرہی عباد! میں بھی انوشہ کے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اسے پھر سے گنوا دینے کا تصور نہیں کرسکتا مگر مجھے لگتا ہے جیسے اس کے اور میرے درمیان ایک سمندر حائل ہے اور مجھ میں اتنی ہمت نہیں کہ میں اس سمندر کو عبور کرسکوں۔ میں انوشہ کی خود ساختہ نفرت سہہ سکتا ہوں مگر بریرہ کو اپنی وجہ سے مزید کوئی دکھ نہیں دے سکتا۔‘‘ اس کے لہجے میں تھکن تھی۔
اس بار عباد کے لبوں پر مسکراہٹ رینگ گئی۔
’’بہت سیدھی سادی زندگی کو ہم نے خود بہت الجھا لیا ہے شاہ! ساری عمر ان جھمیلوں میں بسر نہیں ہوسکتی۔ تمہیں کوئی نا کوئی فیصلہ تو کرنا ہی پڑے گا۔ ایک ہی شخص کی دو بیٹیوں میں سے ایک کو اس کے تمام تر آنسوئوں اور دکھوں کے ساتھ چھوڑنا پڑے گا مجھے بتائو کسے چھوڑنے کا حوصلہ کرو گے۔‘‘
’’میرے لیے یہ فیصلہ کرنا بہت مشکل ہے عباد!‘‘
’’مشکل خود بنا رکھی ہے تم نے۔ آج سب کچھ کلیئر ہوجانے دو مکمل ایمان داری سے اپنے اندر جھانک کر دیکھو۔ وہاں طاقِ دل پر کس کے نام کا دیا جل رہا ہے کس کی طلب دل کی سلطنت پر سر پٹخ رہی ہے۔‘‘
’’پتا نہیں۔ چلو بارش کو انجوائے کرتے ہیں۔‘‘
’’نہیں شاہ زر! بہت ہوگیا فرار، اب اور نہیں آج یہ کشتی بھی کسی ایک ساحل کے کنارے لگ کر رہے گی پلیز بتائو۔ تم کیا چاہتے ہو؟‘‘
’’میں نہیں جانتا یار! بس مجھے اتنا پتا ہے میں اپنے بیٹے کے بغیر نہیں رہ سکتا۔‘‘
’’چلو ٹھیک ہے بیٹا تمہیں عدالت سے مل جائے گا۔ پھر جلد سے جلد یہاں سے سب کچھ سمیٹ کر انگلینڈ چلنے کی تیاری کرو۔ بریرہ بھابی کے پاس۔‘‘
’’نہیں یار! میں انوشہ کو مزید کوئی دکھ دے سکتا ہوں نا اسے بے یار و مددگار تنہا چھوڑ سکتا ہوں۔ زاور کے بعد وہ اب میری ذمہ داری ہے۔‘‘
’’تو ٹھیک ہے نا اس سے میں شادی کرلیتا ہوں۔ اپنی ذمہ داری بنا لیتا ہوں اسے‘ تم جب چاہو میرے پاس آکر اس سے مل لیا کرنا۔‘‘
وہ اسے بخشنے کے موڈ میں نہیں تھا۔
شاہ زر نے اس بار مسکرا کر اسے دیکھتے ہوئے اس کے شانے پر زور کا مکا رسید کردیا۔
’’بارش تیز ہو رہی ہے اپنا نہیں تو میرا ہی خیال کرلو‘ بیمار پڑجائوں گا میں۔‘‘
’’کوئی پروا نہیں آج یہاں سے تم میری طرح کوئی فیصلہ کر کے اٹھو گے۔ یہ یاد رکھو۔‘‘
’’کیا مصیبت ہے تھوڑا وقت تو دو۔‘‘
’’تین سال بہت ہوتے ہیں اسٹوپڈ! اب تمہاری مزید آوارگی برداشت نہیں ہوتی مجھ سے۔ ویسے بھی وقت لے کر سوچتے رہے تو کبھی کوئی فیصلہ نہیں کرسکو گے بس فیصلہ وہی ہوتا ہے جو ایک لمحے میں ہو۔‘‘
’’اٹس اوکے۔ میں بری کو چھوڑ دوں گا مگر ابھی نہیں۔‘‘
’’گڈ۔‘‘ اس کے اٹھ کھڑے ہونے پر وہ بھی اٹھ کھڑا ہوا تھا۔
شاہ زر کے چہرے پر اب سنجیدگی تھی۔
’’کاش وہ میری کزن اور بچپن کی دوست نہ ہوتی۔ کاش میرا اس سے نکاح نہ ہوا ہوتا عباد! کاش میری مما نہ مرتیں‘ کاش… کاش میں نے اسے ہمیشہ کے لیے ماں بننے کے حق سے محروم نہ کیا ہوتا۔‘‘
’’یہ سب نہ ہوتا تو کیا تم اسے آسانی سے چھوڑ سکتے تھے۔‘‘
’’ہاں۔‘‘ رخ پھیرے اعتراف کرنے میں اس نے ایک لمحہ نہیں لگایا تھا۔ عباد گہری سانس بھر کر رہ گیا۔
تُونے دامن میں سمیٹے ہیں زمانے کتنے
اے محبت تجھے انسان سا فانی کم ہے
’’بس اب خوش ہو نا۔‘‘
اس کے شعر پر نثار ہونے کے بعد اس نے پوچھا تھا۔ عبادرخ پھیر گیا۔
’’تو بریرہ بھابی سے تمہیں صرف ہمدردی ہے کیونکہ تم نے ان کا نقصان کیا ہے۔ اس لیے انہیں چھوڑتے ہوئے تمہیں دکھ ہو رہا ہے؟ ہے نا۔‘‘
’’پتا نہیں یار وہ بہت اچھی ہے۔ بہترین دوست ہے۔ شادی سے پہلے ہمارا کبھی جھگڑا نہیں ہوا۔ انوشہ رحمن کے زندگی میں آنے سے پہلے میں نے کبھی یہ سوچا بھی نہیں تھا کہ میں اس سے شادی کے بعد کبھی اس سے علیحدگی کا یوں سوچ بھی سکوں گا مگر میں خود بھی نہیں جانتا کہ زندگی نے میرے ساتھ اتنا بھیانک مذاق کیوں کیا ہے؟ ایک لڑکی جس نے میرے لیے اپنا سب کچھ گنوا دیا میں اس کے ساتھ خوش نہیں رہ پا رہا ہوں۔ حالانکہ میں نے بہت کوشش کی ہے خوش رہنے اور خود کو سمجھانے کی‘ بریرہ رحمن کے نقصانات کا ازالہ کرنے کی مگر میں خوش نہیں رہ پا رہا۔ میں نا اپنے ساتھ انصاف کر رہا ہوں نا اس کے ساتھ۔ پھر کیا فائدہ ایسی زندگی کا عباد! جس میں‘ میں اسے کوئی خوشی ہی نہ دے سکوں۔ جب کہ دوسری طرف وہ لڑکی جسے میرے تصور سے بھی نفرت ہے میں اسے نظر انداز نہیں کر پا رہا۔ تم اندازہ نہیں کرسکتے عباد! جب اس لڑکی کے بطن سے جنم لینے والے بچے کو میں نے باپ کے لیے ترستے دیکھا تو میرے اندر سے کیسی ہوک اٹھی۔ کیا قصور ہے اس معصوم بچے کا کہ اسے دنیا کی ٹھوکریں ملیں‘ گم نامی کی شرم ناک زندگی ملے؟ میں بیتے لمحات کو واپس لانے پر قادر نہیں ہوں۔ مگر بگڑے حالات کو درست تو کرسکتا ہوں نا اور یہ فیصلہ مجھ سے کسی نے نہیں کروایا عباد! بس اس ننھے سے معصوم بچے نے کروایا ہے جو میرا کل ہے۔‘‘
وہ شکستہ دکھائی دے رہا تھا۔
عباد نے آہستہ سے اپنا ہاتھ اس کے کندھے پر دھر دیا۔
’’کیا تمہیں یقین ہے کہ تم انوشہ رحمن کے ساتھ ایک خوش گوار زندگی بسر کرو گے؟‘‘
’’پتا نہیں سچ پوچھو تو مجھے اب اپنی زندگی کی پروا بھی نہیں ہے۔ وہ رشتے جو میری زندگی کا سرمایہ تھے۔ چھن گئے عباد! منوں مٹی اوڑھ کر سو گئے زمین میں‘ اب کیا فرق پڑتا ہے کہ میں کیسے رہتا ہوں۔ کون میری خوشیوں کے نظارے دیکھنے والا ہے۔ کون دعا کرنے والا ہے میری مسکراہٹوں کے لیے۔ یہاں اب کسی کو میرے آنسوئوں سے بھی کوئی سروکار نہیں ہے میرے یار! شب کی تنہائیوں میں چھپ کر روئوں یا دن کے اجالوں میں‘ کوئی فرق نہیں پڑتا یہاں کسی کو۔‘‘
’’کیا مجھے بھی نہیں۔‘‘
اس کے دل برداشتہ ہونے پر وہ بھی دکھی ہوا تھا۔ تبھی شاہ زر نے اسے مسکرا کر دیکھنے کے بعد سینے سے لگا لیا۔
’’تُو تو میری جان ہے عباد! میرا سایہ ہے۔ بھلا تجھے کیوں فرق نہیں پڑے گا؟‘‘
’’ہوں یہ ہوئی نا بات۔ چل اب بارش انجوائے کریں۔‘‘
’’چلو۔‘‘ اپنی ہر الجھن عباد سے شیئر کرنے کے بعد وہ واقعی ہلکا پھلکا ہوگیا تھا۔
اگلے تین روز ان دونوں نے اپنی خواہشات کے مطابق اکٹھے ہی بسر کیے تھے۔ تین روز کے بعد عباد کراچی چلا آیا جب کہ شاہ زر نے انگلینڈ کے لیے سیٹ بک کروالی۔ اس نے پہلی بار بریرہ کو اپنی آمد سے متعلق با خبر نہیں کیا تھا۔ وہ گھر سے باہر تھی جب وہ برستی بارش میں اس کے گھر تک پہنچا تھا۔
ساحل اور اثنان سائلہ بیگم کو چھوڑ کر پیرس سٹیل ہوگئے تھے۔ لہٰذا بریرہ کے ساتھ وہ آج کل اکیلی تنہائیوں کے عذاب اٹھا رہی تھیں۔ شاہ زر کو اچانک وہاں دیکھ کر انہیں بے تحاشا خوشی ہوئی تھی۔
وہ دیر تک ہال میں آتش دان کے پاس بیٹھا ان سے جانے کیا کیا باتیں کرتا رہا تھا۔ بریرہ کی گھر واپسی بہت لیٹ ہوئی تھی مگر وہ پھر بھی تھکن کے باوجود اس کا انتظار کرتا رہا تھا۔
بریرہ کو گمان نہیں تھا کہ وہ گھر واپسی پر یوں اچانک اسے اپنے سامنے بیٹھا دیکھے گی۔
وہ تھکن سے چُور گھر واپس لوٹی تھی مگر پھر بھی شاہ زر کو مقابل دیکھ کر وہ ساری تھکن بھول گئی تھی۔
’’شاہ…! تم… تم یہاں… او میرے خدا! اتنا بڑا سر پرائز؟‘‘
پلکیں جھپک جھپک کر اسے دیکھتی وہ خوشی سے جھوم اٹھی تھی تبھی وہ مسکرا دیا۔
’’کیوں‘ کیا بنا اطلاع کے میں یہاں نہیں آسکتا۔‘‘
’’کیوں نہیں آسکتے جب چاہو آسکتے ہو‘ مگر مجھے یقین نہیں آرہا کاش مجھے پتا ہوتا کہ تم آئو گے تو میں کہیں نہ جاتی۔‘‘
’’اٹس اوکے یار! واپس تو آگئی ہو نا بس کافی ہے۔‘‘
سائلہ بیگم اٹھ گئی تھیں کہ داماد کے سامنے شرمندہ ہونے کا حوصلہ ان میں نہیں تھا۔ بریرہ ان کے اٹھنے کے بعد شاہ زر کو اپنے کمرے میں لے آئی۔
’’مجھے یقین تھا شاہ! تم آئو گے اور ضرور آئو گے۔ تمہیں لوٹ کر آنا ہی تھا کیونکہ جو پیار تمہیں بریرہ رحمن دے سکتی ہے وہ دنیا کی کوئی اور لڑکی کبھی نہیں دے سکتی۔ اللہ ربّ العزت کی اس اتنی بڑی کائنات میں‘ صرف تم میرے لیے بنے ہو شاہ! صرف تم۔ یہ دیکھو میں نے دو ہفتے پہلے تمہارے لیے کتنی پیاری جیکٹ خریدی ہے۔ ایک دم شہزادے لگو گے پہن کر اور یہ… گھڑی دیکھو‘ صرف اور صرف تمہارے لیے ایک ماہ پہلے خریدی تھی۔ پہلے سوچا تمہیں پارسل کردوں مگر پھر خیال آیا کہ نہیں جب تم یہاں آئو گے تو تمہیں اپنے ہاتھوں سے دوں گی اچھی ہے نا۔‘‘
’’ہاں۔‘‘
’’تھینکس تم بیٹھو یہاں میں بس ابھی آئی۔‘‘
وہ خوشی سے بے حال تھی۔
شاہ زر کے لیے فیصلہ کرنا مشکل ہوگیا۔
اگلے پچیس منٹ میں وہ دوبارہ اس کے مقابل آئی تو وہ ٹھٹک گیا۔ بلیک شیفون کی ساڑھی میں لائٹ میک اپ اور لائٹ سی جیولری کے ساتھ‘ وہ بے حد دیدہ زیب دکھائی دے رہی تھی۔ چوڑیوں سے بھری کلائیاں اور ترشے ہوئے سلکی بالوں میں گندھی ہلکی سی چٹیا اسے ایک انوکھا سا روپ دے رہی تھی۔
وہ کیا کرنے جا رہی تھی؟
’’دیکھو‘ تمہیں عورت اسی روپ میں اچھی لگتی ہے نا شاہ! میں نے فیصلہ کرلیا ہے۔ میں آئندہ اس طرح ہی رہوں گی خوش۔‘‘
اس کے دونو ںہاتھ تھامے وہ قربان ہوجانے کو تیار تھی۔
شاہ زر نے اپنے ہاتھ اس کے ہاتھوں کی گرفت سے چھڑا لیے۔
’’تمہیں پتا ہے بریرہ! میں یہاں کیوں آیا ہوں‘‘
بہت دیر بعد کمرے میں اس کی آواز گونجی تھی۔ وہ حیران سی اسے دیکھتی رہ گئی۔
’’کیوں آئے ہو؟‘‘
اس کی آواز جیسے کسی کنوئیں سے آئی تھی۔ وہ بے ساختہ رخ پھیر گیا۔
’’تمہیں طلاق دینے۔‘‘
بہت آسانی سے کہہ دیا تھا اس نے مگر بریرہ رحمن کو لگا اس کی ہستی کی دیوار ہی ہل گئی ہو۔
’’وہاٹ‘ کیا کہا تم نے ایک بار پھر سے کہو۔‘‘
وہ جانتا تھا اسے شاک لگے گا مگر پھر بھی دل مضبوط کرتے ہوئے اس نے کہہ دیا تھا۔
’’بار بار نہیں کہہ سکتا۔‘‘
’’تم مذاق کر رہے ہو نا شاہ!‘‘
’’کاش میں اس پوزیشن میں ہوتا بریرہ! میرے لیے یہ فیصلہ کرنا آسان نہیں ہے۔ مگر اتنے دن مسلسل سوچنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں بَری کہ ہمارے لیے یہی بہتر ہے میں تمہیں خوش نہیں رکھ سکتا۔ تم چاہتی ہو کہ میں صرف تمہارا ہو کر رہوں مگر میرے لیے یہ ممکن نہیں ہے۔ میں چاہتے ہوئے بھی انوشہ رحمن کو اپنی زندگی سے بے دخل نہیں کرسکتا‘ تم اچھی لڑکی ہو بریرہ! دنیا کی سب سے بہترین لڑکی…! ‘‘
’’چٹاخ۔‘‘
اس سے پہلے کہ وہ اپنی بات مکمل کرتا بریرہ کے جاندار طمانچے نے اسے خاموش کر دیا۔
’’جسٹ شٹ اپ شاہ زر آفندی… جسٹ شٹ اپ۔‘‘
پل میں لہو رنگ آنکھوں کے ساتھ وہ غضب ناک ہوئی تھی۔
’’دنیا کی بہترین لڑکی ہوتی تو تم مجھے یوں دو کوڑی کا کرتے؟ کسی اور کو مجھ پر ترجیح دیتے؟ نہیں بریرہ رحمن درخت سے گرے زرد پتے سے بھی ہلکی ہے۔ کیچڑ ہے کیچڑ تبھی تم اپنا دامن بچا لینا چاہتے ہو۔ کیا رہنے دیا ہے تم نے دنیا کی اس اچھی لڑکی کے پاس۔ کچھ بھی تو نہیں؟‘‘
بولتے بولتے اچانک اس کا لہجہ بھر آیا تھا۔
’’کیا مانگا تھا میں نے تم سے ہیرے جواہرات‘ تاج محل‘ ڈالر؟ بتائو کیا مانگا تھا میںنے کچھ بھی تو نہیں۔ مانگا تو صرف تمہیں مانگا‘ تمہاری چاہ مانگی۔ کتنی بڑی کائنات ہے میرے ربّ کی۔ سیکڑوں‘ ہزاروں‘ کروڑوں مردوں سے بھری ہوئی۔ ایک سے بڑھ کر ایک بہترین مرد انوشہ رحمن جسے چاہے پا سکتی ہے جس کے ساتھ چاہے رہ سکتی ہے مگر بریرہ رحمن کو ان سیکڑوں‘ کروڑوں ہزاروں مردوں میں صرف ایک شاہ زر چاہیے صرف شاہ زر۔‘‘
پلکوں سے ٹوٹ کر آنسو اس کے گالوں پر پھسل آئے تھے۔ شاہ زرنے لب بھینچ لیے۔
’’تم انوشہ رحمن کو اپنی زندگی سے بے دخل نہیں کرسکتے۔ کیونکہ تم اس پر مرتے ہو۔ مگر بریرہ رحمن کی تمہاری زندگی میں کوئی وقعت نہیں ہے۔ اس لیے اسے اپنی زندگی سے بے دخل کرنا تمہارے لیے کوئی مسئلہ نہیں؟ ہے نا؟‘‘
وہ زخمی ہو رہی تھی۔
شاہ زر نے چپ چاپ رخ پھیر لیا۔
’’تم بھی اس ظالم خود غرض دنیا کے عام سے مرد نکلے شاہ زر‘ دھوکے باز‘ مطلبی‘ ہوس پرست۔ صحیح کہتے ہیں کہنے والے تم مرد اعتبار اور وفا کے قابل نہیں ہو۔ صرف نفرت کے قابل ہو تم، صرف نفرت کے۔ ہر گام‘ ہر منزل پر صرف اپنے مفاد کو دیکھتے ہو دوسرا کوئی جان سے چلا جائے تمہیں پروا نہیں۔‘‘ وہ ٹوٹی تھی اور ٹوٹ کر بکھرنے والی ہر چیز شور مچاتی ہے لہٰذا وہ بھی چلا رہی تھی۔
’’دفع ہوجائو یہاں سے۔ ابھی اسی لمحے۔ میں زندگی میں دوبارہ کبھی تمہاری شکل بھی دیکھنا نہیں چاہتی۔‘‘
شاہ زر کے بازو کو گرفت میں لے کر اسے کمرے سے باہر دھکیلتے ہوئے وہ پاگل ہی تو ہو گئی تھی۔ سائلہ بیگم شور سن کر وہاں آئی تھیں مگر روتی اور چلاتی ہوئی بریرہ رحمن نے انہیں کچھ بھی کہنے کا موقع نہیں دیا۔
شاہ زر نے احتجاج نہیں کیا۔ برستی بارش میں بریرہ رحمن کے ہاتھوں وہ سڑک پر آیا تھا۔ مگر پھر بھی اسے اس کے دکھ پر تکلیف ہو رہی تھی۔
وہ کب اسے یوں توڑنا چاہتا تھا؟
بریرہ رحمن نے اسے دھکے دے کر گھر سے نکالنے کے بعد وہیں دہلیز پر بیٹھ کر بلند آواز میں رونا شروع کردیا تھا۔
سائلہ بیگم کو لگا جیسے ان کا دل پھٹ جائے گا۔
’’بَری کیا ہوا میری جان! کیا کہا ہے شاہ زر نے تجھ سے؟‘‘
لپک کر اس کی طرف بڑھتے ہوئے انہوں نے اسے اپنے سینے سے لگایا تھا۔ جواباً وہ مزید بلک بلک کر رو پڑی۔
’’کہا جاتا ہے مما! بیٹی ماں کا نصیب چراتی ہے۔ میرے نصیب پر بھی آپ کے نصیب کا سایہ پڑگیا۔ آپ نے صدف رحمن سے سید کمال کو چھینا تھا۔ اس کی بیٹی نے مجھ سے میرے شاہ زر کو چھین لیا مما۔ حساب برابر کردیا اس نے۔‘‘
وہ زندگی میں کبھی یوں بلک بلک کر نہیں روئی تھی۔
سائلہ بیگم کا وجود جیسے ساکت ہوگیا۔ وقت نے کیسا جما کر طمانچہ لگایا تھا ان کے چہرے پر۔ تیس سال پہلے کسی عورت کا بسا بسایا گھر اجاڑ کر اس کے شوہر کو اپنی جاگیر بناتے ہوئے انہوں نے سوچا ہی نہیں تھا کہ کبھی اس عمل کا رد عمل بھی ہوگا۔
///
وہ گہری نیند میں سو رہا تھا جب سیل فون کی مسلسل بجتی ٹون۔
’’چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں۔‘‘
(جو اس نے صرف صاعقہ کے نمبر پر سیٹ کر رکھی تھی) نے اس کی نیند کا گلا گھونٹ دیا۔ کراچی واپسی کے بعد گھر آکر وہ سیدھا اپنے کمرے میں قید ہوگیا تھا۔ تھکن اس قدر تھی کہ کچھ کھائے پیئے بغیر ہی بیڈ پر ڈھیر ہوگیا تھا۔ ابھی آنکھ کھلی تھی اور اسکرین پر صاعقہ احمد کا نمبر جگمگا رہا تھا۔ اس نے غنودگی کے باوجود فوراً سے پیشتر کال پک کرلی کہ صاعقہ احمد کی ناراضگی اسے کسی طور گوارا نہیں تھی۔
’’السّلام علیکم!‘‘
’’وعلیکم السّلام! تم بند کرو‘ میں ابھی کال کرتا ہوں تمہیں۔‘‘
عادت کے عین مطابق اس نے اس کی کال کاٹ کر فوری اس کا نمبر پریس کردیا تھا۔ دوسری طرف صاعقہ نے تیسری بیل پر کال ریسیو کرلی۔
’’اب بولو‘ خیریت؟‘‘
’’ہوں‘ کیا میں خیریت کے علاوہ تمہیں کال نہیں کرسکتی؟‘‘
’’کیوں نہیں کرسکتی‘ آدھی رات کو بھی کرو تو پہلی بیل پر اٹھائوں گا۔‘‘
’’بس رہنے دو تین دن سے خبر نہیں لی کہ زندہ ہوں یا مر گئی ہوں۔ بڑے آئے آدھی رات کو پہلی بیل پر کال اٹھانے والے۔‘‘ وہ اس کی خفگی بھرے انداز پر مسکرائے بغیر نہیں رہ سکا تھا۔
’’الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے، عزیز از جان آنسہ! میں نے پچھلے تین روز میں سیکڑوں ایس ایم ایس کیے ہیں تم نے ایک کا بھی جواب نہیں دیا۔ میں چونکہ یہاں نہیں تھا۔ شاہ زر کے ساتھ تھا۔ اس لیے کال نہیں کرسکا۔ خیر کیسی ہو؟‘‘
’’ٹھیک ہوں تم کہاں ہو؟‘‘
’’ابھی تو گھر پر ہوں۔ تھوڑی دیر میں دوست کی طرف جائوں گا کیوں خیریت۔‘‘
’’ہاں‘ وہ اصل میں آج میں آفس نہیںگئی کل رات یہاںہمارے علاقے میں بہت دیر تک طوفانی بارش ہوئی ہے۔ تو جو بڑا کمرا تھا اس کی چھت گر گئی۔ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ہم اس وقت چھوٹے کمرے میں چائے پی رہے تھے۔ سامان البتہ سارا برباد ہوگیا ہے۔ اوپر سے سارا گھر تالاب کا نقشہ پیش کر رہا ہے۔ ایان بھائی شہر میں نہیں ہیں اور سمعان بھائی کا تم جانتے ہو معذور ہیں۔ زیادہ کام نہیں کرسکتے‘ چھوٹے دونوں بہت چھوٹے ہیں۔ ایسے میں آپا اور میں کیا کرسکتے ہیں؟ اگر تم فری ہو تو پلیز آجائو زین! میرے ساتھ مل کر جو تھوڑا بہت سامان جو بچ رہا ہے وہ باہر نکلوا دو۔‘‘
کیسی عجیب درخواست و فرمائش تھی اس کی۔ ایک لمحے کے لیے وہ سوچ میں پڑ گیا پھرفوراً فیصلہ کرتے ہوئے بولا۔
’’اوکے‘ میں ابھی پہنچ رہا ہوں۔ تم فضول میں کسی بھی چیز کو مت چھیڑنا سمجھیں۔‘‘
’’جی! سمجھ گئی۔‘‘
وہ اس کا مان تھا۔ سکھ اور دکھ کے ہر موسم کا ساتھی تھا پھر کیسے نثار نہ ہوتی وہ اس پر۔
عباد نے کال ڈراپ کرنے کے بعد کراچی میں ہی مقیم اپنے ایک دوست کا نمبر ملایا اور اسے فوری ایک گھر ہائیر کرنے کی ہدایت کرنے کے بعد ان تنگ و تاریک بوسیدہ گلیوں کی طرف چلا آیا کہ جہاں رہنے والی ایک لڑکی اسے زندگی سے پیاری تھی۔
///
بریرہ رحمن کو علیحدہ راستوں کا ’’مژدہ‘‘ سنانے کے بعد شاہ زر آفندی ایک رات کے لیے بھی وہاں نہیں رکا تھا۔ اس میں اتنی ہمت بھی نہیں تھی کہ وہ منہ پر بریرہ رحمن کو جدائی کا فیصلہ سناتا۔ لہٰذا اسی رات پاکستان واپسی کے بعد اس نے پہلے سے تیار شدہ طلاق کے پیپرز سائن کرنے کے بعد اگلے ہی روز انہیں بریرہ رحمن کو روانہ کردیا تھا۔
یہ عمل کٹھن تھا۔ جسم سے لہو نچوڑ لینے والا تھا مگر…!
آج نہیں تو کل یہ قدم تو اسے اٹھانا ہی تھا۔ مسلسل ذہنی تھکاوٹ اور اذیت کے سمندر میں ہچکولے لیتی اپنی ذات کی کشتی کو کسی ایک کنارے تو لگانا ہی تھا۔
بریرہ رحمن سے اپنے راستے جدا کرنے کے بعد پورے تین دن وہ اپنے کمرے سے باہر نہیں نکلا تھا۔ تین روز کے بعد بالآخر گوری کے اصرار و مداخلت پر اسے کمرا چھوڑ کر باہر نکلنا پڑا تھا۔ گھر کے ملازمین کی زبانی گوری اس کی زندگی کے بارے میں بہت کچھ جان گئی تھی۔ اب بھی اسی نے فریش ہونے کے بعد زبردستی اسے کھانا کھلا کر جمال صاحب اور نزہت بیگم کے پاس بھیجا تھا کہ وہ ان کے سامنے انوشہ کے لیے اپنا پرپوزل پیش کرسکے۔ وہ ذہنی طور پر اس کے لیے تیار نہیں تھا مگر صرف اس کی ضد اور اپنے بیٹے کو ایک نظر دیکھ لینے کی خواہش اسے پھر سے انوشہ رحمن کے گھر کی دہلیز پر لے آئی تھی۔
///
’’قیس…!‘‘ پچھلے ایک گھنٹے سے کسی بت کی طرح ساکت وہ اس کے بیڈ کی سائیڈ پر بیٹھی اسے گہری نیند میں مدہوش دیکھے جا رہی تھی۔ اب جو سانول کی پلکوں میں ہلکی سی جنبش ہوئی تو وہ اسے پکارے بغیر نہ رہ سکی۔ سانول شاہ نے اس کی پکار پر فوراً پلکیں کھولی تھیں۔
’’خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ تمہیں ہوش آگیا۔ کوئی اتنی گہری نیند بھی سوتا ہے قیس!‘‘ اس کی آنکھوں میں نمی تھی۔ وہ حیران ہی تو رہ گیا۔
’’تم‘ یہاں…؟‘‘
’’ہاں مجبور تھی گائوں میں کسی کی ہمت ہی نہیں تھی تڑپتے ہوئے سانول شاہ کو بڑے چوہدری کی حویلی کے پچھواڑے سے اٹھا لانے کی۔ اسی لیے مجھے تم پر یہ احسان کرنا پڑا ورنہ تم تو جانتے ہو‘ مجھے تم سے کتنی نفرت ہے۔‘‘
سانول اس بار خاموش رہا تھا۔ کچھ لمحوں کی خاموشی کے بعد اس نے پھر سے پلکیں موند لیں۔
’’کیا شکریہ ادا نہیں کرو گے میرا؟‘‘
’’نہیں۔‘‘
’’یہی امید تھی تم سے تم بھی سوچتے ہو گے میں نے تمہاری مدد کیوں کی جب کہ میں تو تم سے نفرت کرتی ہوں ہے نا۔‘‘
سانول پھر خاموش رہا تھا۔ وہ مسکرا دی۔
’’تمہاری موت میرے ہاتھوں لکھی ہے مائی ڈیئر قیس! پھر کسی اور کی گولی سے کیسے مرنے دے سکتی ہوں میں تمہیں؟‘‘
’’ٹھیک ہے اب جائو یہاں سے۔ نہیں تو اٹھا کر کھڑکی سے باہر پھینک دوں گا۔‘‘
اس کی خفگی پر وہ ہنسی تھی۔
’’پہلے خود سے اٹھ کر بیٹھ تو جائو‘ پھر مجھے بھی اٹھا کر کھڑکی سے باہر پھینک دینا۔‘‘
وہ جانتا تھا کہ وہ اسے تنگ کررہی ہے تبھی آنکھوں پر بازو رکھ کر لیٹا رہا۔
’’دیکھ لیا نا قیس! جتنا بھی اکڑ کر چل لو خدا کی زمین پر اس خدا کی گرفت سے نہیں بچ سکتے۔ یہ سیکڑوں مربع پر پھیلی زمین یہ بینکوں میں رکھے دولت کے انبار‘ آگے پیچھے ہاتھ باندھ کر چلتے لوگ۔ کیا یہ خدا کی گرفت سے بچا سکتے ہیں؟ نہیں یہ سب تو دھوکا ہے قیس! جس میں ہم انسانوں نے خود اپنے آپ کو ڈال رکھاہے۔ پلیز نکل آئو اس دھوکے سے کچھ نہیں رکھا اس خدائی میں پلیز…!‘‘
’’تم چپ کرو گی انزلہ! یا میں یہاں سے اٹھ کر چلا جائوں؟‘‘
غلط وقت پر اس کی مداخلت نے اسے برہم کردیا تھا۔
انزلہ اسے دیکھ کر رہ گئی۔
’’یہ میری ضد ہے ڈیئر قیس! کہ تمہیں بندے کا پتر بنا کر ہی دم لوں گی۔‘‘
’’خوش فہمی ہے تمہاری۔‘‘
’’نہیں اپنے ربّ پر یقین ہے۔ خیر ایک خوش خبری سن لو۔ میں گائوں سے جا رہی ہوں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے۔‘‘
جانے کیوں وہ اس کی تکلیف سے بے خبر ہوگئی تھی تبھی مسلسل بول رہی تھی۔ سانول شاہ نے ایک مرتبہ پھر اس کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا تھا۔ اسی پل نرس کمرے میں داخل ہوئی تو وہ خاموش ہوگئی۔
’’اب کیسی طبیعت ہے مسٹر شاہ! خاصا میجر آپریشن تھا آپ کا۔ جانے کس کی دعائیں کام آگئیں آپ کے۔‘‘
اسے چیک کرتے ہوئے وہ بتا رہی تھی۔ وہ اب بھی خاموش رہا۔
’’لگتا ہے پھر سے غنودگی طاری ہورہی ہے ان پر‘ شاید رات تک صحیح ہوش میں آجائیں۔‘‘ نرس نے اسے بتایا تھا۔ وہ خاموشی سے سر ہلا کر رہ گئی۔ تھوڑی ہی دیر میں بہزاد وہاں چلا آیا تھا۔
’’آپ ابھی تک یہیں ہیں مس انزلہ! گھر نہیں گئیں۔‘‘
’’نہیں ابھی گھر سے ہی آئی ہوں۔ پہلے سے بہتر طبیعت ہے ان کی۔‘‘
’’اچھی بات ہے میرا خیال ہے آپ نے اپنا فرض ادا کردیا ہے اب یہاں سے چلنا چاہیے آپ کو۔‘‘
’’ہاں مگر ان کے پاس کوئی بھی نہیں ہے۔ اگر کسی چیز کی ضرورت پڑ گئی تو؟‘‘
’’تو وہ ان کا مسئلہ ہے آپ کا نہیں۔ مت بھولیں کہ آپ ایک پرائی لڑکی ہیں۔ ویسے بھی دادی ماں ادھر ہماری حویلی میں ہیں۔ بابا کہہ رہے تھے کہ میں آپ کو ساتھ لے آئوں۔‘‘
’’خیریت…؟‘‘
بہزاد کی اطلاع پر وہ چونکی تھی۔ جب وہ رخ پھیر کر سانول شاہ کو دیکھتے ہوئے بولا۔
’’جی ہاں‘ خیریت ہی ہے۔ میں ایک دو ضروری کام نمٹا کر آتا ہوں۔ آپ چلنے کی تیاری کیجیے۔‘‘
اس کا لہجہ غیر معمولی سنجیدہ تھا۔ وہ خاموشی سے سر ہلا کر رہ گئی۔
تھوڑی دیر میں سانول کی بڑی پھوپو وہاں آگئیں تو اس نے خدا کا شکر ادا کیا کہ اسے اس حال میں تنہا چھوڑ کر جانے کو قطعی دل نہیں مان رہا تھا۔ اگلے تیس منٹ میں بہزاد کے ہمراہ اس کی گاڑی میں گائوں مراد شاہ کا سفر طے کرتے ہوئے اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ وہاں حویلی میں دادی ماں اس کی تقدیر کا کیا فیصلہ کیے بیٹھی ہیں۔
///
ہادیہ کے پاپا کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی لہٰذا وہ کچھ دنوں کے لیے اپنی بیگم کے ہمراہ پاکستان چلے آئے تھے۔ جس پر ہادیہ کے ساتھ ساتھ یاور صاحب بھی بے حد خوش تھے۔ عباد البتہ ان کی آمد سے بے خبر تھا کیونکہ وہ کراچی میں نہیں تھا۔ شاہ زر کے پاس اسلام آباد چلا گیا تھا۔ واپسی پر بھی اس کی گھر کے کسی فرد سے کوئی بات نہیں ہوسکی تھی۔
وہ گھر سے نکلا تھا اور اسی روز شام میں یاور صاحب اپنی بیگم کے ساتھ باقر صاحب کی طرف چلے آئے تھے تاکہ ان کی مزاج پرسی کرسکیں۔ مدت کے بعد محفل جمی تھی۔ دونوں بھائی یوں فرصت سے اکٹھے بیٹھے تھے باتوں باتوں میںمسز باقر نے ہادیہ کی شادی کا موضوع چھیڑ دیا تو باقر صاحب کہہ اٹھے۔
’’یاور بھائی! میں ہادیہ کی طرف سے بہت پریشان ہوں۔ اکلوتی بیٹی ہے اور زندگی کا کوئی بھروسا نہیں۔ خدارا غلط مت سمجھیے گا مگر میں اب جلد از جلد اپنی بیٹی کے فرض سے سبک دوش ہونا چاہتا ہوں۔ آپ کیا کہتے ہیں؟‘‘
’’مجھے کیا کہنا ہے یار! میں تو خود شام سے پہلے اپنی بیٹی کو اپنے گھر لے جانے کے لیے تیار ہوں۔ بس تیری طرف سے ہی سستی ہو رہی تھی۔ بول کب آئوں بیٹے کی بارات لے کر؟‘‘
’’جب آپ کا جی چاہے۔‘‘ وہ خوش ہوگئے تھے۔
’’تو پھر ٹھیک ہے اس مہینے کی بائیس تاریخ کو بارات تیرے گھر کی دہلیز پر ہوگی، خوش؟‘‘ بنا بیوی اور بیٹے سے بات کیے انہوں نے پروگرام طے کردیا تھا۔
مسز یاور کوئی اعتراض نہ ہونے کے باوجود اپنی جگہ پر پہلو بدل کر رہ گئی تھیں۔ جب کہ ہادیہ کا چہرہ اندرونی خوشی سے دمک رہا تھا۔
مسز باقر فوراً اٹھ کر مٹھائی لے آئی تھیں۔
’’کاش ہانیہ اور عباد بھی اس وقت یہاں ہوتے تو مزا آجاتا۔‘‘
سب کا منہ میٹھا کرواتے ہوئے انہوں نے کہا تھا۔ جب باقر صاحب بولے۔
’’ہاں‘ بلکہ میرا خیال تھا کہ آپ کو عباد بیٹے سے پوچھ کر ہی یہ بات طے کرنی چاہیے تھی۔‘‘
’’ارے چھوڑو عباد کو‘ میرا بیٹا ہے وہ‘ میں باپ ہوں اس کا وہ میرا باپ نہیں ہے جو برسوں سے طے بات کو فائنل کرتے ہوئے اس کی رضا پوچھوں بس تم اپنی تیاری مکمل رکھو۔ ان شاء اللہ میری طرف سے تاخیر نہیں ہوگی۔‘‘
وہ خوش تھے۔ بے پناہ مسرور تھے۔ مسز یاور انہیں پر سوچ نگاہوں سے دیکھتی آئندہ آنے والے دنوں کی خوشیوں کی دعا کرتی رہیں۔
///

سرد رویہ‘ الجھا لہجہ
کھوئی آنکھیں‘ ٹھنڈے ہاتھ
بے رنگ چہرہ‘ بد اخلاق
دیکھو تم بن کون ہوں میں؟

اپنے آفس سے اسپتال تک جیسے وہ پہنچا تھا اس کا دل ہی جانتا تھا۔ یہ کیسے آنسو تھے جو بہہ نہیں رہے تھے۔ ڈائریکٹ دل پر گرتے ہوئے اس کا سینہ فگار کر رہے تھے۔ یہ کیسی اذیت تھی جو اندر ہی اندر اسے مسمار کر رہی تھی۔ فقط چند گھنٹوں میں اتنی ٹوٹ پھوٹ ہوگئی تھی کہ اس کے لیے ایک کے بعد دوسرا قدم اٹھانا محال ہو رہا تھا۔
بھلا وہ کیوں جا رہا تھا اسپتال؟
کیا امامہ حسن کی بے جان لاش‘ اس کا عبرت انگیز انجام دیکھنے؟
کیا اس میں اتنی ہمت بچ رہی تھی کہ وہ اس کا عبرت انگیز انجام دیکھ سکتا۔ اس کا سامنا کرسکتا۔ نہیں…! تو پھر وہ کیوں جا رہا تھا۔ جب کہ اسے مارنے والے بھی اس کے نام کی تصدیق کرچکے تھے۔
اس نے سوچ لیا تھا۔ اسپتال سے جانے کے بعد وہ پہلی فرصت میں بنا جسمانی ریمانڈ کے بھی ان لڑکوں کو چھوڑے گا نہیں۔ خواہ اس کی ملازمت ہی خطرے میں کیوں نا پڑ جائے۔
قتل ہونے والی لڑکی کی لاش پوسٹ مارٹم کے بعد سرد خانے میں رکھ دی گئی تھی۔
لڑکی کا چہرہ اور پورا جسم تیزاب کے باعث یوں مسخ ہوچکا تھا کہ اس کی پہچان ممکن ہی نہیں رہی تھی۔
وہ ضبط کا پہاڑ بنا خاموشی سے لاش کا جائزہ لیتا رہا۔ بے شک شناخت مشکل تھی مگر…! وہ جسم ’’اس کی‘‘ امامہ حسن کا نہیں تھا۔ امامہ اتنی صحت مند نہیں تھی۔ بے تحاشا تشدد کے سبب یہ ممکن تھا کہ اس کا جسم پھول گیا ہو مگر‘ اس کے اندر دل کی جگہ کوئی چیز دھڑک دھڑک کر اسے یہ یقین دلا رہی تھی کہ وہ اس کی امامہ حسن نہیں تھی تو پھر اس کی امامہ حسن کہاں تھی؟
///

ہَوائیں دل دُکھائیں گی
سنو پاگل!
کھڑے رہنے سے کیا حاصل؟
ہوا تو بس یہی ہوگا
ہَوائیں دل دکھائیں گی
نگاہیں بھیگ جائیں گی
چلو‘ اندر چلے آئو!
سنا ہے جو بھی مرضی سے چلا جائے
کبھی واپس نہیں آتا۔

’’اور وہ لوگ جو ایمان لائے ان کے دل اللہ کی یاد سے چین پاتے ہیں۔ بے شک اللہ کی یاد میں ہی دلوں کا چین ہے۔‘‘
قرآن پاک کھلا ہوا اس کے سامنے رکھا تھا اور اس کی آنکھوں سے آنسوئوں کے موتی ٹوٹ ٹوٹ کر اس مقدس کتاب کے پاک اوراق پر گر رہے تھے۔ سورہ الرعد کی بظاہر کتنی چھوٹی سی آیت تھی مگر‘ بہت گہرا مفہوم سمیٹے ہوئے تھی اپنے اندر…!
وہ مفہوم کیا تھا؟
دلوں کے چین کی کہانی کیا تھی؟
اللہ ربّ العزت کی پاک ذات نے اس بظاہر چھوٹی سی آیت میں علم و حکمت کے کتنے خزانے پوشیدہ رکھے تھے؟ زندگی سے ہارے ہوئے وہ مایوس لوگ‘ جنہیں اعلیٰ ڈگری ہولڈرز ڈاکٹرز نے جواب دے دیا تھا۔ جن کے دل بہترین‘ ماہرین ڈاکٹرز کے علم میں لا علاج ہوچکے تھے۔ یہ آیت ان ’’ناکارہ دلوں‘‘ کی شفا تھی۔ دوا تھی۔ بہت گہرے راز تھے اس آیت کے اندر۔ سمندر کی تہوں سے بھی زیادہ گہرے راز۔جنہیں سمجھنے کے لیے بہت سمجھ کی ضرورت تھی۔
ایک ایک حرف‘ ایک ایک لفظ حکمت سے بھرا ہوا تھا اور وہ رو رہی تھی۔
اپنی لا علمی و غفلت پر اپنی نادانی پر…!
اس کے نزدیک وہ کتاب صرف احترام سے بہت اونچی جگہ رکھ کر سجا دینے کے لیے تھی۔ یا پھر کبھی بے سکونی و بے قراری اور فرصت کے لمحات میں زور زور سے ہل کر وہ الفاظ دہرا لینے کے لیے۔ وہ کبھی سمجھ ہی نہ سکی کہ اس کتاب کا حق کیا ہے؟ ایسی کیا بات ہے اس کتاب میں‘ جو اللہ ربّ العزت نے اس پاک کتاب کو قیامت تک کے انسانوں کے لیے مکمل قرار دے دیا۔ زندگی میں واقعی کچھ باتوں کی سمجھ بہت دیر سے آتی ہے۔ پہلے پارے سے تیرہویں پارے تک کے سفر میں جیسے اس کی شخصیت ہی بدل گئی تھی۔ کیسے کیسے حالات و واقعات سے آگاہی ہو رہی تھی۔ کیا کیا آشکار نہیں ہوا تھا اس پر۔
اب کوئی اسے دیکھتا تو شاید پہچان ہی نہ پاتا کہ وہ گائوں کی وہ گوری ہے جو لڑائی جھگڑے میں مردوں کو بھی مات دیتی تھی۔ جسے محض تن کر چلنا آتا تھا۔ جو اپنی شادی سے لے کر بھائی کی موت تک زندگی سے بے زار‘ حالات سے نالاں‘ خدا سے شکوے کرتی پھرتی تھی۔ اس کی آنکھوں میں اس وقت جو آنسو تھے وہ ان گزرے دنوں کی کوتاہیوں کے آنسو تھے جو کنکر بن کر اس وقت آنکھوں میں چبھ رہے تھے۔ وہ رو رہی تھی اور اس کا دل جیسے پہلو میں کٹتے ہوئے کہہ رہا تھا۔
’’اے میرے مالک! میرے معبود حقیقی! اے واحدہ‘ لاشریک! میری کیا اوقات جو تیری شان رحیمی و کریمی سے کوئی شکوہ کروں۔ میں تو تیرے ٹکڑوں پر پلنے والی بھکارن ہوں۔ تو عطا کرے تو تیرا شکر ادا کروں گی اور محروم کردے تو صبر کروں گی۔ مجھے میری کم فہمی و غفلت کے لیے معاف کردے مالک! شیطان مردود سے بچا کر اپنی پناہ کے حصار میں لے لے۔‘‘
اور اس دعا کے ساتھ سکون کی لہر جیسے اس کے رگ و پے میں اترتی جا رہی تھی۔
///
شجاع اسپتال سے سیدھا گھر چلا آیا تھا۔ اس کی بیٹی تھی کہ امامہ کے لیے روتی روتی سو گئی تھی۔ جب کہ دماغ کی شریانیں جیسے پھٹنے کو تیار ہو رہی تھیں۔ اس کا بس نہ چل رہا تھا کہ وہ کچھ کھا کر سو رہتا۔ اسے لگا وہ زندگی میں کبھی کسی عورت کی وفا نہیں پا سکے گا۔
اس رات ایک مرتبہ پھر امامہ کے لیے سوچتے ہوئے اور سلگتے ہوئے اس نے بہت زیادہ سگریٹ پی تھی۔ اس کا موبائل تاحال آف تھا۔ چوکیدار کو بھی اس نے سختی سے ہدایت کردی تھی کہ کوئی بھی ملنے کے لیے آئے‘ اسے مطلع نہ کیا جائے۔ دل اس وقت جیسے ساری دنیا سے کٹ جانے کی خواہش کر رہا تھا۔
’’وہ کہاں کس حال میں ہو گی؟‘‘ یہ سوال اس کے اندر آتش فشاں بنا ہوا تھا۔
ایک کے بعد ایک سگریٹ ختم ہو رہی تھی اور اسی کے ساتھ سلگتے آنسوئوں کا لاوا تھا جو گالوں پر بہہ نکلا تھا۔
’’کاش میں تمہیں تمہاری بے وفائی کی سزا دے سکتا امامہ حسن! کاش…!‘‘ اس کے نکاح کے روز والی تصویر کو ہاتھوں میں لیے اس نے حسرت سے سوچا تھا اور وہاں تقدیر ایک نئی کہانی رقم کرنے جا رہی تھی۔
///
’’شکریہ ارسلان! اس وقت اگر تم موقع پر نہ آتے تو جانے میرا کیا حال ہوتا۔‘‘ سڑک کنارے سنگی بنچ پر نڈھال بیٹھی وہ کہہ رہی تھی اور ارسلان کے لبوں پر یوں چپ کا قفل لگا تھا جیسے وہ کچھ بھی بولا تو اس کی ذات چٹخ جائے گی۔
کچھ لمحے یونہی خاموشی کی نذر ہوگئے تھے۔ جب وہ بولا۔
’’مجھے خبر نہیں تھی کہ تم وہاں ہو یا ہوسکتی ہو‘ مجھے تم سے ایسی حماقت کی توقع بھی نہیں تھی۔ میں تو محض اپنا سامان لینے آیا تھا وہاں۔ ان لوگوں سے میرا جھگڑا چل رہا تھا۔ ایک لڑکی کی وجہ سے‘ اسی لیے میں مزید وہاں ان لوگوں کے ساتھ رہنا نہیں چاہتا تھا مگر‘ سامنے جو منظر میں نے دیکھا اس نے میرا خون کھولا دیا۔ کاش وہ دونوں کتے مرجاتے میرے ہاتھوں۔‘‘ وہ ابھی بھی کھول رہا تھا۔
امامہ حسن نے اس کی دی ہوئی شال ٹھیک کر کے کندھوں کے گرد لپیٹ لی۔
’’وہ کتے ہیں تو تم کیا ہو ارسلان۔ جو کام وہ کرتے ہیں وہی تم بھی کرتے ہو‘ تم نے مجھ سے کہا کہ تم بے قصور ہو‘ تم پر وہ کیس جھوٹا بنا تھا۔ مگر حقیقت میں تم بے قصور نہیں تھے۔ تم پر بنا وہ کیس جھوٹا نہیں تھا۔ بس تم مجھے فریب دیتے رہے۔ میری محبت کی کمزوری سے فائدہ اٹھا کر حماقتیں کرواتے رہے مجھ سے۔‘‘
’’جانے دو‘ اب ان باتوں کا فائدہ نہیںہے۔ مجھے بتائو تم اب کیا چاہتی ہو‘ میرے ساتھ چلو گی یا اس ایس پی کے گھر چھوڑ آئوں تمہیں؟‘‘ وہ مضطرب تھا اس لیے اس کی بات کاٹتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا۔
امامہ حسن کی آنکھیں پھر سے جلنے لگیں۔
’’اس شخص کے گھر میں اب میرے لیے کوئی جگہ نہیں رہی ہے ارسلان! گِر گئی ہوں میں اس کی نظروں سے تم پلیز کسی دارالامان میں پہنچا دو مجھے۔‘‘
’’خاموش ہوجائو۔‘‘ اس بار وہ دہاڑا اور اگلے کچھ ہی لمحوں میں وہ اس کے لیے ٹیکسی روک رہا تھا۔ امامہ نے اس کے بعد پھر لب نہیں کھولے۔
’’فی الحال ہم میری ایک دوست کے گھر جا رہے ہیں۔ جہاں میرا قیام ہے۔ میں اس سے کہوں گا تم باہر سے پاکستان دیکھنے آئی ہو۔ تم بھی یہی کہنا اوکے۔‘‘ وہ اسے ہدایت کر رہا تھا۔ امامہ چپ چاپ ٹیکسی میں بیٹھ گئی۔
’’ایک بات پوچھوں ارسلان؟‘‘ کچھ لمحوں کی مسافت کے بعد اس نے لب کھولے۔
’’ہوں۔‘‘
’’تم ضرورت کے لیے کب تک محبت کرتے رہو گے۔‘‘
’’میں ابھی تمہارے کسی سوال کا جواب دینے کی پوزیشن میں نہیں ہوں امامہ! لہٰذا چپ رہو پلیز۔‘‘ وہ اضطراب کا شکار تھا اور امامہ وجہ جانتی تھی تبھی اس کے جواب پر رخ کھڑکی کی طرف موڑ کر بیٹھ گئی۔ سر سیٹ کی پشت گاہ سے ٹکاتے ہی کچھ مناظر پھر ذہن کی اسکرین پر روشن ہوئے تھے اور وہ جیسے کانپ کر رہ گئی تھی۔
’’کیا ہوتا اس وقت اگر اس کا ربّ اس پر کرم نہ کرتا…؟ اور وہ وقت جب اس کے حوصلے جواب دے گئے تھے۔ اس وقت ارسلان حیدر کو رحمت بنا کر اس ’’قتل گاہ‘‘ کی طرف نہ بھیجتا؟‘‘ قریب تھا کہ آنکھیں پھر چھلک پڑتیں۔ اس نے جلدی سے پلکیں موند لیں۔
’’میں تمہیں معاف نہیں کروں گی شجاع حسن! اپنی زندگی کے اس حادثے کے لیے میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گی۔‘‘
///
اس نے ڈور بیل پر ہاتھ رکھا تھا اور پھر جیسے اٹھانا بھول گیا۔
انوشہ گھر پر نہیں تھی‘ جمال صاحب کو بستر سے نکل کر دروازے تک آنے میں کئی منٹ لگ گئے۔
’’السّلام علیکم انکل!‘‘
’’وعلیکم السّلام تو یہ تم ہو؟ میں سمجھا کوئی شرارتی بچہ یونہی تنگ کر رہا ہوگا۔ آئو اندر آجائو۔‘‘ دروازہ کھول کر شاہ زر پر نگاہ ڈالتے ہی وہ ایک لمحے کے لیے پریشان ہوگئے تھے۔ شاید بریرہ کے ہاتھوں اسی شاہ زر کے لیے انوشہ کو پہنچنے والی تکلیف وہ ابھی تک فراموش نہیں کر پائے تھے۔ شاہ زر نادم سا ان کے خلوص پر اندر بڑھ آیا۔
نزہت بیگم لائونج میں بیٹھی تسبیح پڑھ رہی تھیں۔ شاہ زر پر نگاہ پڑتے ہی ان کے چہرے کا رنگ بھی بدلا تھا۔ شاید انہیں یہ گمان نہیں تھا کہ وہ ان کی تلاش میں یہاں بھی پہنچ جائے گا۔
’’السّلام علیکم آنٹی۔‘‘ وہ جھکا تھا۔ نزہت بیگم نے پریشان نگاہوں سے جمال صاحب کی طرف دیکھتے ہوئے اس کے سر پر ہاتھ پھیر دیا۔
’’وعلیکم السّلام کیسے ہو بیٹا!‘‘
’’الحمد للہ! ٹھیک ہوں‘ آپ کیسی ہیں۔ مجھے بتایا بھی نہیں اور شہر چھوڑ دیا؟‘‘ ان کے پاس بیٹھتے ہی اس نے گلہ کیا۔ جواب میں وہ بے بس سی۔ نظروں کا رخ پھیر گئیں۔
’’بس مجبوری بن گئی تھی بیٹے!‘‘
’’میں شرمندہ ہوں آنٹی! میں نہیں جانتا کہ اس روز بریرہ نے انوشہ سے کیا کہا‘ مگر اس روز جو بھی ہوا ہوگا‘ مجھے اس کی بہت اذیت ہے۔ آپ نہیں جان سکتیں میں اس روز کے بعد کتنا اپ سیٹ رہا ہوںبہر حال میں نے بری کو چھوڑ دیا ہے۔‘‘ بہت بڑی بات کو اس نے بہت روانی سے کہہ دیا تھا۔ نزہت بیگم ہکّا بکّا سی اس کا منہ دیکھتی رہ گئیں۔
’’یہ کیا کہہ رہے ہو۔‘‘
’’سچ کہہ رہا ہوں آنٹی! ہمارا اب ایک ساتھ چلنا بہت مشکل ہوگیا تھا۔‘‘
’’مگر کیوں؟ بریرہ اچھی لڑکی ہے۔ اگر انوشہ کی وجہ سے کوئی مسئلہ ہو بھی گیا ہے تو اسے در گزر کردو کیونکہ انوشہ کی شادی ہو رہی ہے۔‘‘ ایک پہاڑ اس نے گرایا تھا اور دوسرا نزہت بیگم نے گرا دیا۔ وہ چکرا ہی تو گیا تھا۔
’’انوشہ کی شادی؟‘‘
’’ہاں انوشہ کی شادی! زاور کا بہت اچھا دوست ہے سرمد۔ انگلینڈ میں رہتا ہے۔ابھی تک شادی نہیں کی اس نے‘ انوشہ کے بیٹے سے بھی بہت پیار کرتا ہے۔ اسی کے ساتھ ہو رہی ہے۔‘‘
’’مگر…!‘‘
’’مگر کیا…! ساری عمر گھر بٹھا کر تو نہیں رکھ سکتے اسے!‘‘
اس بار نزہت بیگم کے لہجے میں لچک نہیں تھی۔ شاہ زر کو لگا اس کا دل رک جائے گا۔
’’کیا انوشہ اس شادی سے خوش ہے؟‘‘
’’نہیں۔ مگر جلد ہی ہوجائے گی زندگی بھر حالات سے سمجھوتا ہی تو کیا ہے اس نے‘ اب بھی کر لے گی۔‘‘
وہاں اس کے مزید رکنے کا جیسے کوئی جواز نہیں رہا تھا۔ مگر پھر بھی اس نے ہمت نہیں ہاری۔
’’آنٹی! میں انوشہ کے لیے اپنا پرپوزل پیش کرنے آیا تھا۔‘‘
’’جانتی ہوں مگر یہ ممکن نہیں۔‘‘
’’کیوں ممکن نہیں ہے؟ میں اس کے لیے بریرہ رحمن کو طلاق دے چکا ہوں۔‘‘
’’بہت غلط کیا تم نے اتنا بڑا قدم اٹھانے سے پہلے تمہیں ہم سے بات کرنی چاہیے تھی۔‘‘
’’بات ہی تو کرنے آیا ہوں آنٹی! اور غلط بھی کچھ نہیں ہوا۔ میرے اور انوشہ کے بیچ اب تک جو ہوتا رہا ہے‘ وہ غلط تھا آنٹی! اسی غلطی کو صحیح کرنے کی کوشش میں یہاں تک آیا ہوں میں۔‘‘
’’کیا مطلب؟‘‘
’’آپ آئیے میرے ساتھ‘سب بتاتا ہوں۔سوری انکل! میں یہ بات آپ کے سامنے نہیں کرسکتا۔‘‘
اس نے آر یا پار کرنے کی ٹھان لی تھی۔ جمال صاحب اور نزہت بیگم دونوں اس کا منہ دیکھتے رہ گئے۔
اگلے دو منٹ کے بعد وہ علیحدہ کمرے میں نزہت بیگم کو بتا رہا تھا۔
’’انوشہ کی بربادی کا ذمہ دار میں ہوں آنٹی! اس کے ساتھ جو بھی ہوا وہ میں نے کیا۔ میں نے عین نکاح کے وقت شافیہ کی بے وقوفی کا سبب زاور کو سمجھا اسی لیے انتقام کی آگ میں انوشہ کا وجود جلا دیا۔ میں بہت شرمندہ ہوں آنٹی! ایک پل کا سکون میسر نہیں ہے مجھے وہ بچہ جو میرا خون ہے۔ میں اسے مزید محرومیوں کا شکار نہیں دیکھ سکتا۔ اسی لیے ساری کشتیاں جلا کر یہاں آپ کی دہلیز پر چلا آیا ہوں۔ خدا کا واسطہ ہے آنٹی! مجھے معاف کردیں اور میری خوشیاں پانے میں میرا ساتھ دیں پلیز!‘‘ شاہ زر کا حال اس وقت کسی سوالی سے مختلف نہیں تھا۔
نزہت بیگم پتھرائی ہوئی بے یقین آنکھوں سے اسے دیکھے گئیں۔
’’بہت طمانچے کھا لیے ہیں میں نے حالات کے اب مزید کچھ مت کہیے گا آنٹی پلیز! وہ لڑکی صرف میرے لیے بنی ہے۔ اسے صرف میں خوش رکھ سکتا ہوں اور کوئی نہیں۔‘‘ وہ سوال کر رہا تھا اور نزہت بیگم کے دماغ میں اس کی صرف ایک ہی بات گونج رہی تھی۔
’’انوشہ کی بربادی کا ذمہ دار میں ہوں آنٹی۔‘‘
اس بات کے بعد اب کچھ بھی کہنے کی گنجائش رہی ہی کہاں تھی۔ اب جو بھی کرنا تھا بہت سمجھداری سے کرنا تھا انہیں۔
///
صاعقہ چارپائی پر بیٹھی تھی۔ تھوڑی دیر کے بعد دروازے پر دستک ہوئی۔
’’لگتا ہے آگیا تیرا ہیرو۔‘‘ آمنہ نے دستک سنتے ہی سرگوشی کی۔ اس کا دل زور سے دھڑک اٹھا۔ صائمہ اندر کمرے میں پانی نکال رہی تھی۔ اس نے دھڑکتے دل سے دروازہ کھول دیا۔
’’السّلام علیکم!‘‘
’’وعلیکم السّلام! آئو۔‘‘ کتنا خوب صورت لگ رہا تھا وہ اس وقت۔ اس کے لیے نظریں اٹھا کر اس کے چہرے کو دیکھنا دشوار ہوگیا۔
’’سوری! مجھے تھوڑی دیر ہوگئی۔ وہ اصل میں باس نے ایک ضروری کام سے بھیج دیا تھا۔ میں نے ابھی ایک دوست سے بات کر کے گھر کا انتظام کرلیا ہے۔ تمہیں جو ضروری سامان لینا ہے وہ لے لو‘ شام تک یہ گھر خالی کردیں گے ہم۔‘‘
’’لیکن زین! تمہیں یہ سب کرنے کی ضرورت…‘‘
’’چپ! دادی اماں نہ بنی رہا کرو ہر وقت میری۔‘‘
اس کے ہونٹوں پر شہادت کی انگلی رکھ کر کہتے ہوئے وہ آگے بڑھا تو پاس کھڑی آمنہ نے صاعقہ کو مسکرا کر دیکھا۔ انگلیوں سے وکٹری کا نشان بنا دیا۔ اگلے ہی پل عباد شرٹ کے بازو فولڈ کیے کمرے سے سامان نکال رہا تھا۔ سمعان کو بخار تھا لہٰذا آمنہ رشک بھری نگاہوں سے صاعقہ کو دیکھتی دوسرے کمرے میں سمعان کے پاس چلی آئی۔
’’کون آیا ہے؟‘‘ اسے پاتے ہی سمعان نے آنکھوں سے بازو ہٹایا تھا۔ وہ چارپائی کے کنارے پر ٹک گئی۔
’’صاعقہ کے آفس سے کوئی صاحب آئے ہیں۔ مدد کے لیے شام تک کہتے ہیں۔ شفٹنگ ہوجائے گی۔‘‘
’’ایان کا پتا چلا کہاں گیا ہے؟‘‘
’’نہیں شاید صاعقہ کو پتا ہو‘ تمہارا بخار کیسا ہے اب؟‘‘
’’پتا نہیں تم جائو اب اپنے گھر۔ سارا دن اِدھر ہی نہ گھسی رہا کرو۔‘‘
’’کیوں نہ رہوں‘ تمہیں کیا تکلیف ہے میرے گھسے رہنے سے۔‘‘
’’مجھے کوئی تکلیف نہیں‘ تمہارے سسرال والوں کو ہوسکتی ہے۔‘‘
’’بھاڑ میں گئے ایسے سسرال والے‘ میرا سسرال یہی ہے بس!‘‘
’’پاگل پن کا مظاہرہ مت کرو‘ کچھ نہیں دے سکتا میں تمہیں۔‘‘
’’مجھے تم سے کچھ چاہیے بھی نہیں‘ سوائے نام کے سمجھے تم!‘‘
سمعان جانتا تھا وہ اس سے کبھی جیت نہیں سکے گا۔ تبھی خاموش ہوگیا۔
’’اور ویسے بھی میں اپنی ماں کو منا کر ہی تم سے شادی کروں گی۔ بے فکر رہو تم!‘‘ جل کر کہتی وہ اٹھ کر اس کے کمرے کا سامان سمیٹنے لگی۔ سمعان پھر سے آنکھوں پر بازو رکھ کر اپنے آنسو ضبط کرنے کی کوشش میں لگ گیا اور دوسرے کمرے میں صائمہ، عباد کا شکریہ ادا کر رہی تھی۔
’’اب تو پریشان نہیں ہو نا؟‘‘ سارا سامان نکال کر قدرے پھولی ہوئی سانس کے ساتھ وہ صاعقہ سے پوچھ رہا تھا۔ جواب میں اس نے مسکراتی نگاہوں سے اسے دیکھتے ہوئے نفی میں سر ہلا دیا۔
’’چلو شکر ہے میں چاہتا تو یہ کام کسی سے پیسے دے کر بھی کروا سکتا تھا۔ مگر مجھے اچھا نہیں لگا۔ تم کہو نا صاعقہ! تو میں ساری دنیا چھوڑ کر آجائوں تو صرف ایک لمحے میں‘ میں ساری دنیا ترک کر کے تمہارا ہاتھ تھام سکتا ہوں۔ بہت بہادر بنا دیا ہے تمہاری محبت نے مجھے سچ میں۔‘‘
’’بہت شکریہ!‘‘
’’اپنے پاس رکھو اپنا شکریہ اور چلو ایک کپ چائے بنائو۔ تب تک میں ذرا آنٹی کے پاس بیٹھتا ہوں۔‘‘
’’ٹھیک ہے مگر… وہ چائے کا سامان تو پانی کی نذر ہوگیا۔‘‘ کتنی شرمندگی تھی اس وقت اس کے لہجے میں عباد مسکرایا۔
’’کوئی بات نہیں سادا پانی تو پلا سکتی ہو نا پھر آنٹی سے مل کر مارکیٹ چلتے ہیں۔ جو چیز چاہیے ہو‘ لے لینا۔‘‘
’’ٹھیک ہے۔‘‘ بنا سر اٹھائے وہ زیرِ بار ہوئی تھی۔ عباد ہلکی سی ایک چپت اس کے سر پر لگاتے ہوئے آگے بڑھ گیا۔ تبھی صائمہ اس کے پاس آئی تھی۔
’’بہت اچھا لڑکا ہے صاعقہ! اگر یہ تمہاری پسند ہے تو یقیناً لا جواب ہے۔‘‘
کتنی اچھی لگی تھی اس وقت اسے صائمہ کے منہ سے عباد کی تعریف یوں جیسے وہ بہت معتبر ہوگئی ہو۔ صائمہ اب چارپائی پر بیٹھی پائوں کے انگوٹھے سے گیلی زمین کھرچ رہی تھی۔ وہ کچھ لمحے خاموشی سے اسے دیکھتی رہی‘ پھر اس کے گھٹنوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے نیچے زمین پر بیٹھ گئی۔
’’کیا تم خدا کی رحمت سے مایوس ہونے کا سوچ سکتی ہو صائمہ!‘‘
’’نہیں۔‘‘
’’توپلیز ہمت رکھو نا اداس مت ہو‘ اللہ بہتر کرے گا۔ کہیں نہ کہیں کوئی نہ کوئی تو ہوگا نا! جس کے ہاتھوں کی لکیروں میں تمہارا نام ہوگا۔‘‘
’’پتا نہیں یار!‘‘
’’میرا ایمان ہے‘ ضرور ہوگا۔ اب جو تھوڑی بہت چیزیں رہ گئی ہیں۔ وہ سمیٹ لو۔ میں زین کے ساتھ کھانے پینے کی چیزیں لے آئوں۔ ٹھیک ہے۔‘‘
’’ٹھیک ہے لے آئو۔ ایان کب تک آئے گا؟‘‘
’’پکّا نہیں پتا۔ مگر امکان ہے آج ہی آجائیں گے۔ میں پانی دے آئوں زین کو۔‘‘ اچانک یاد آنے پر وہ اٹھی مگر تب تک عباد اس کے سر پر پہنچ چکا تھا۔
’’بہت بے وقوف لڑکی ہو تم‘ پانی تک نہیںپلا سکتیں۔‘‘
’’سوری۔‘‘
’’چھوڑو سوری ووری کو۔ مارکیٹ چلنا ہے کہ نہیں؟‘‘
’’بس چل رہی ہوں چادر لے آئوں۔‘‘ جلدی سے کہہ کر وہ اندر کمرے میں گئی اور اگلے کچھ ہی منٹوں میں اس کے ساتھ باہر آگئی۔
’’دوست کی گاڑی مانگ کر لایا تھا۔ بے چارہ انتظارکر رہا ہوگا۔‘‘ صاعقہ کے بیٹھنے کے بعد گاڑی اسٹارٹ کرتے ہوئے اس نے کہا تو وہ پریشان ہوگئی۔
’’کیا ضرورت تھی گاڑی مانگ کر لانے کی…؟ ہم رکشہ یا ٹیکسی سے بھی تو جا سکتے تھے۔‘‘
’’مجھے رکشہ یا ٹیکسی کی عادت نہیں ہے۔ ویسے بھی پریشان ہونے کی ضرورت نہیں‘ دوست جان دیتے ہیں مجھ پر تم آنٹی کا سنائو ڈاکٹر کیا کہتے ہیں۔‘‘
’’ابھی تو سب ٹھیک ہے۔ وہ جو کینسر کا کہا تھا ڈاکٹر عارف نے وہ سب غلط نکلا۔ الحمد للہ امی کی رپورٹس بالکل ٹھیک ہیں۔ بس گھریلو حالات اور مسائل کی وجہ سے پریشان ہوتی ہیں۔ تو مسئلہ بن جاتا ہے۔‘‘
’’چلو شکر ہے خدا کا۔ میںنے منیجر صاحب سے بات کی تھی تمہارے لیے بہت خوش ہیں وہ تمہارے کام سے‘ اللہ نے چاہا تو اگلے ماہ سے ڈبل تنخواہ ہوگی تمہاری۔‘‘
’’کیا…! تم نے پہلے کیوں نہیں بتایا مجھے۔‘‘
ایک پل میں گلاب کی طرح کھل اُٹھی تھی وہ۔ عباد دیکھتا رہ گیا۔
’’سرپرائز بھی تو کوئی چیز ہوتی ہے عزیز از جان! اور ابھی میں مما سے ہماری شادی کے لیے بھی بات کرنے والا ہوں۔‘‘
آج کا دن خوشیوں بھرا تھا۔ اس کے گالوں پر سرخی دوڑ گئی۔
’’تم بہت اچھے ہو زین! کبھی کبھی مجھے لگتا ہے جیسے میں تمہیں سمجھ ہی نہیں سکی۔ تم آسمان ہو اور میں زمین‘ پھر بھی تمہارا مجھ سے اتنا پیار! سمجھ میں نہیں آتا کن الفاظ میں تعریف کروں تمہاری۔‘‘
’’جن الفاظ میں بھی کرو گی‘ مجھے تو اچھا لگے گا۔‘‘ وہ مسکرایا تو صاعقہ اسے دیکھتی مسکرا کر نگاہ پھیر گئی۔
’’کون کہتا ہے زین کہ محبت کا وجود ختم ہوگیا ہے۔ کون کہتا ہے موجودہ وقت کی لڑکیوں کی قسمت میں وفا نہیں رہی۔ دیکھو میرے ہاتھوں میں خوشیوں اور راحت کے کتنے پھول ہیں۔ دیکھو میں کتنی سرخرو ہوں ایک انسان کی محبت میں…! اب مجھے اپنے ربّ سے اور کچھ بھی نہیں چاہیے۔‘‘
’’شکریہ! اللہ نے چاہا تو بہت جلد تمہارے ہر خواب کی تعبیر دوں گا تمہیں اور اس کے ساتھ ایک بہت خوب صورت سرپرائز بھی۔‘‘ مہارت سے ڈرائیو کرتے اس کے ہاتھوں میں مضبوطی تھی۔
صاعقہ کا دل چاہا وہ ہَوائوں میں اڑنے لگے۔ اس روز اس نے عباد کے ساتھ بہت سا وقت بتایا تھا۔ شاپنگ کے ساتھ ساتھ عباد نے اسے رات کا کھانا بھی کھلایا تھا۔ وہ شام اس کی زندگی کی ایک حسین شام تھی۔
عباد گھر آیا تو آسیہ بیگم اس کے انتظار میں جاگ رہی تھیں۔
’’مما! آپ ابھی تک سوئی نہیں…؟‘‘
’’نہیں! جوان اولاد رات دیر تک گھر سے باہر رہے تو مائوں کو نیند اور قرار ذرا کم ہی آتا ہے۔‘‘ وہ غیر معمولی سنجیدہ تھیں۔ عباد قدرے پریشان ان کے پاس آکر بیٹھ گیا۔
’’پریشان لگ رہی ہیں۔ سب ٹھیک تو ہے نا!‘‘
’’پتا نہیں! لیکن تمہاری وجہ سے میں حقیقت میں بہت پریشان ہوں۔ تمہارے پاپا نے تمہاری شادی طے کردی ہے اور تم ہو کہ آزاد بیل کی طرح مست بے پروائی کا مظاہرہ کر رہے ہو‘ کیا چاہتے ہو تم آخر…؟‘‘
’’میں یہ شادی نہیں کرنا چاہتا مما! ہادیہ میری پسند نہیں ہے۔‘‘
’’بکواس بند کرو‘ تم شاید بھول گئے ہو تمہاری مرضی پر ہی ہادیہ سے تمہاری نسبت طے ہوئی تھی۔‘‘
’’ہوئی ہوگی مگر اب وہ میری پسند نہیں ہے۔‘‘
’’یہ کیا بکواس ہے عباد! تم رشتوں کو مذاق سمجھتے ہو؟‘‘
وہ غصے سے دہاڑی تھیں۔ جواب میں عباد نے محبت سے ان کے ہاتھ تھام لیے۔
’’آئی ایم سوری مما! میں واقعی بہت شرمندہ ہوں آپ سے۔ میرا مقصد کسی بھی طرح سے آپ کو اذیت پہنچانا نہیں‘ مگر آپ میری ماں ہیں اور میں جو بات آپ سے شیئر کرسکتا ہوں اور کسی سے نہیں کرسکتا۔ مجھے سمجھنے کی کوشش کریں۔ میں ہادیہ کے ساتھ خوش نہیں رہ سکتا۔‘‘
’’تو یہ بات اپنے پاپا کو بتائو مجھے نہیں۔ میرا کوئی اختیار نہیں ہے‘ نہ تم پر نہ ان پر۔‘‘
’’اوکے‘ کہہ دوں گا۔‘‘
’’بہت بدتمیز ہوگئے ہو تم۔ کون ہے وہ لڑکی جس نے اتنی خود سری سکھادی ہے تمہیں؟‘‘ اچانک وہ بھڑکی تھیں۔ عباد نے اس بار گہری سانس بھر کر سر سوفے کی پشت گاہ سے ٹکا دیا۔
’’میں کسی کی باتوں میں آنے والا نہیں ہوں مما! اور یہ بات آپ بہت اچھے طریقے سے جانتی ہیں۔‘‘
’’پھر اس شادی سے انکار کی وجہ؟‘‘ اس بار آواز اس کے پیچھے سے آئی تھی۔ عباد نے چونک کر گردن موڑی اور سوفے کی پشت پر یاور صاحب کو کھڑے دیکھ کر اٹھ کھڑا ہوا۔
’’السّلام علیکم پاپا!‘‘
’’وعلیکم السّلام برخوردار! کچھ پوچھا ہے میں نے آپ سے؟‘‘ ان کے تیور کڑے تھے۔ عباد کو لگا اگر اس وقت وہ کمزور پڑ گیا تو پھر کبھی ان سے اپنی بات نہیں منوا سکے گا۔ تبھی اس نے لب کچلتے ہوئے رخ پھیرا تھا۔
’’میں کسی اور کو پسند کرتا ہوں پاپا! اور اسے پرپوز بھی کرچکا ہوں۔‘‘
’’ہمیں مطلع کیے بغیر۔ کسی بھی اہمیت کے قابل نہیں سمجھا تم نے ہمیں؟‘‘
’’ایسی بات نہیں ہے پاپا! میں نے صرف پرپوز کیا ہے نکاح نہیں کیا۔‘‘
’’تو وہ بھی کرلو۔ ہم سمجھ لیں گے ہمارا کوئی بیٹا تھا ہی نہیں۔‘‘
’’ٹھیک ہے۔ جیسی آپ کی خوشی‘ میں کل ہی یہاں سے شفٹ ہوجائوں گا۔‘‘
وہ انہی کا بیٹا تھا اور بے حد ضدی‘ یاور صاحب کے ساتھ آسیہ بیگم بھی اس کا منہ دیکھتی رہ گئی تھیں۔ مگر وہ وہاں سے سیدھا اپنے کمرے میں چلا آیا تھا۔
’’سن لیا آپ نے…؟ وہ گھر چھوڑنے کو تیار ہے۔‘‘
’’ہوں‘ مگر میں بھی اس کا باپ ہوں۔ اتنی آسانی سے اسے اپنی من مرضی نہیں کرنے دوں گا۔‘‘
’’مجھے ڈر لگ رہا ہے یاور!اولاد قد میں برابر آجائے تو ان کے ساتھ زبردستی نہیں چلتی۔‘‘
’’جانتا ہوں مگر تم فکر مت کرو۔ ان شاء اللہ وہی ہوگا جو ہم چاہیں گے۔‘‘ ان کے ذہن میں کچھ تھا۔ آسیہ بیگم ان کے ارادے سے بے خبر‘ساری رات بے چینی سے کروٹ بدلتی رہیں۔ اگلے روز عباد ابھی بے دار نہیں ہوا تھا کہ وہ یاور صاحب کی ہدایت پر اس کے کمرے میں چلی آئیں۔
عباد کی آنکھ اپنے بالوں میں ان کی نرم انگلیوں کے لمس سے کھلی تھی۔ وہ رو رہی تھیں۔
’’مما! آپ یہاں…؟‘‘ فوراً سے پیشتر وہ اٹھ بیٹھا جواب میں آسیہ بیگم نے اپنے آنسو پونچھ لیے۔
’’ہاں دیکھنے آئی تھی کہ جس بیٹے کو میں نے اپنی کوکھ سے جنم دیا راتوں میں جس کے لیے جاگی‘ وہ آج خود مختار ہو کر کسی ایک لڑکی کے لیے اسی ماں کو چھوڑ جانے کا فیصلہ کر کے کیسے سکون کی نیند سوتا ہے۔‘‘
’’اونو مما! کسی لڑکی کے لیے آپ کو کبھی نہیں چھوڑ سکتا۔ مگر … پاپا جو چاہتے ہیں وہ کرنا بھی میرے لیے آسان نہیں ہے۔‘‘
’’ٹھیک ہے‘ تمہارے پاپا کچھ بھی کہتے رہیں مگر میرے لیے میرے چاند کی خوشیوں سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں ہے۔ جو تم چاہو گے وہی ہوگا۔ بس ابھی خاموش رہو۔ بلکہ مکمل طور سے خود کو بزنس میں گم کر کے ثابت کردو کہ تم کسی سے کم نہیں ہو‘ اگر وہ تمہیں عاق کریں گے تو نقصان اٹھائیں گے۔ کل سڈنی جانا ہے انہیں‘ ایک ماہ کے ٹور پر میں چاہتی ہوں اس بار ان کی جگہ اس ٹور پر تم جائو اور جب واپس آئو تو اتنے کامیاب ہو کہ وہ خوش ہو کر ہماری ہر ایک بات تسلیم کرنے کو تیار ہوجائیں۔‘‘ عباد کے مضبوط گرم ہاتھوں کو اپنے نرم ہاتھوں میںدباتے ہوئے وہ اس کا ذہن بنا رہی تھیں۔ عباد نے ان کے چہرے پر ممتا کے رنگ دیکھتے ہوئے کچھ سوچ کر اثبات میں سر ہلا دیا۔
’’ٹھیک مما! اگر آپ میرے ساتھ ہیں تو جیسا آپ کہیں گی ویسا ہی ہوگا۔‘‘
’’شاباش میری جان! چلو اب جلدی سے اٹھ کر شاور لو اور ناشتا کرو‘ تب تک میں تمہارے پاپا سے بات کرتی ہوں۔‘‘ اس کے اقرار پر بے پناہ خوش ہوتے ہوئے انہوں نے اس کی پیشانی چومی تو جواب میں وہ کمبل ہٹاتے ہوئے بستر سے اٹھ کھڑا ہوا۔ آسیہ بیگم کی محبت اور رضا مندی نے اس کے اندر جیسے نئی روح پھونک دی تھی۔ اس کا دل چاہا وہ فوری صاعقہ کو فون کر کے یہ خوش خبری سنائے مگر پھر خوب صورت سر پرائز کا سوچ کر اس کام کو بھی اپنی واپسی پر اٹھاتے ہوئے اس نے صبح بخیر کے مسیج کے ساتھ اسے اپنی سڈنی روانگی کی اطلاع دی اور مسرور سا واش روم کی طرف بڑھ گیا۔
///
انزلہ کے قدم جونہی حویلی کے وسیع صحن میں پڑے بہزاد کی ماں اور بابا دونوں کے چہروں پر مسرت دوڑ گئی۔ دادی ماں کا چہرہ البتہ ابھی بھی سنجیدہ تھا۔ وہ حیران سی آگے بڑھ آئیں۔
’’آگئی میری دھی! بڑے مبارک قدم ہیں اس کے…!‘‘
بابا کے لہجے میں اس کے لیے صرف محبت ہی نہیں‘ توصیف اور ستائش بھی تھی اور یہ توصیف و ستائش کیوں تھی‘ اس وقت وہ نہیں جان پائی تھی۔
’’السّلام علیکم! سب ٹھیک تو ہے نا!‘‘ قدرے حیران‘ سب سے پیار لیتی وہ دادی ماں کے پہلو میں ٹک گئی تھی۔ بہزاد الٹے پیروں ڈیرے کی طرف بڑھ گیا۔ دادی اب احسن کی طرف دیکھے بغیر کہہ رہی تھیں۔
’’ہاں‘ اللہ کے فضل سے سب ٹھیک ہے بس آج سے تو اس حویلی کی امانت ہوگئی ہے۔ کنیز کا فون آیا تھا بہزاد بیٹے کی طرف اسی نے اجازت دی ہے۔‘‘
’’کیسی اجازت! اور مما کا بہزاد سے کیا تعلق ہے؟‘‘ وہ ساکت ہی تو رہ گئی تھی تاہم اس سے پہلے کہ دادی ماں اسے جواب دیتیں بابا بول اٹھے۔
’’تعلق کیسے نہیں ہوگا بیٹے! بتایا تو تھا آپ کے بابا کا بہت گہرا تعلق تھا اس حویلی سے اور بہزاد تو کھیلا ہی کنیز کی گود میں ہے‘جب آپ پیدا ہوئی تھیں تو تبھی میں نے بہزاد کے لیے آپ کو مانگ لیا تھا۔‘‘
’’مگر ماما نے مجھ سے کبھی ایسی کوئی بات نہیں کی۔‘‘ اس کا دل بہت تیزی سے دھڑک رہا تھا چہرے کی رنگت بھی بدل گئی تھی۔ تبھی دادی ماں نے سختی سے اس کا ہاتھ تھاما تھا۔
’’ہر بات وقت سے پہلے تیرے علم میں لانا ضروری نہیں۔‘‘
’’مگر یہاں میری زندگی کی بات ہو رہی ہے دادی ماں!‘‘
’’تو کوئی سولی تو نہیں چڑھا رہا ہے تجھے۔ رشتہ ہی پکّا کر رہے ہیں پھر اتنا شور مچانے کی کیا ضرورت ہے؟‘‘
بڑی ماں اور بابا کے سامنے یہ عزت افزائی اسے غرق کر رہی تھی۔ وہ روہانسی سی اٹھ کر حویلی کے کشادہ صحن سے نکل آئی۔ باہر ڈیرے کی طرف بہزاد اپنی گن صاف کر رہا تھا۔ وہ اس کی طرف بڑھ آئی۔
’’بہزاد! یہ سب کیا ہے۔ آپ نے مجھ سے کہا تھا میں اسے اپنی محبت سے انسان بنا لوں‘ ساری برائیاں سارے غلط کام چھڑا دوں اور اب جب کہ وہ ہوش میں بھی نہیں آیا ہے۔ آپ چاہ رہے ہیں میں پھر اسے اس کے حال پر چھوڑ دوں۔ بھٹکنے دوں اسے گمراہی میں تنہا۔‘‘
’’ہاں۔‘‘
ٹھہرے جامد لہجے میں اس کی ’’ہاں‘‘ نے پل میں برف کر دیا تھا اسے وہ ہکّا بکّا سی اس کا منہ دیکھتی رہ گئی۔
’’مگر کیوں؟‘‘
’’کیونکہ تم نے ساری دنیا کی بھلائی کا ٹھیکہ نہیں لے رکھا۔ نہ ہی وہ شخص تمہاری کوششوں سے سدھرنے والا ہے۔‘‘
’’مگر پھر بھی میں اسے تنہا نہیں چھوڑ سکتی فی الحال اسے سہارے کی ضرورت ہے۔‘‘
’’تو ہو‘ اس شخص کے لیے تمہاری اس درجہ ہمدردی میری سمجھ سے باہر ہے انزلہ شاہ!‘‘ وہ برھم ہوا تھا۔ انزلہ کو لگا اس کا دماغ پھٹ جائے گا۔
’’سوری بہزاد علی مراد! میں اپنی زندگی کے ذاتی معاملات میں کسی کی بھی پابند نہیں ہوں۔ جیسے خوش بو پر کوئی پہرا نہیں‘ جھرنوں پر کوئی بندش نہیں‘ ایسے ہی انزلہ شاہ بھی آزاد ہے۔ وہ شخص اس وقت ٹوٹ پھوٹ کے عمل سے گزر رہا ہے اور یہی وہ وقت ہے جب مجھے اس کی مدد کرنی ہے۔ اسے حیوان سے انسان بنانا ہے۔ تم اس کے لیے چاہو تو سمجھوتا کرلو۔ چاہو تو مجھ سے دستبردار ہوجائو۔مجھے کوئی پروا نہیں۔‘‘ اپنی بات مکمل کرنے کے بعد وہ پلٹ آئی تھی اور بہزاد علی مراد کی پُر سوچ نگاہیں دور تک اسے جاتے ہوئے دیکھتی رہیں۔
///
دونوں بازو سر کے نیچے ٹکائے بستر پر چت لیٹا وہ جانے کس سوچ کے حصار میں تھا کہ انزلہ شاہ کی کمرے میں آمد نے اسے چونکا دیا۔ خیالوں کا تسلسل ٹوٹا تھا اور اب وہ صرف اسے دیکھ رہا تھا۔
’’السّلام علیکم!‘‘ اداس چہرے پر بہت نرم مسکراہٹ سجا کر اس نے کہا تھا مگر سانول نے جواب نہیں دیا۔ وہ شاید اس سے بہت خفا تھا۔
’’تو اب تم سلام کا جواب بھی نہیں دو گے؟ ٹھیک ہے مت دو مگر میں تو پھر بھی یہاں آئوں گی اور بار بار آئوں گی۔‘‘ وہ مسکرا کر کہتی پاس چلی آئی تھی۔ سانول نے اس بار اپنی نظریں اس کے چہرے سے ہٹا لیں۔
’’آتی رہنا‘ میں آج ڈسچارج ہو رہا ہوں یہاں سے۔‘‘
’’پاگل ہوئے ہو؟ اتنا بڑا آپریشن ہوا ہے‘ ابھی ٹھیک نہیں ہوئے اور تم…!‘‘
’’ہاں میں ڈسچارج ہو رہا ہوں۔ زخموں کی پروا نہ میں نے پہلے کبھی کی تھی نہ اب کروں گا۔ تم رکھو اپنی ہمدردیاں اپنے پاس سنبھال کر۔‘‘
’’صرف ہمدردیاں سانول…؟‘‘ کس قدر دکھ سے اس نے اس کی طرف دیکھا تھا۔ وہ نظریں چرا گیا۔
’’پچھلے چند روز سے گائوں میں بہت سکون ہوگیا ہے۔ لوگوں نے پھر سے اپنے بچوں کو اسکول بھیجنا شروع کردیا ہے۔ اب وہ جھولیاں اٹھا اٹھا کر تمہاری موت کے لیے دعا نہیں کرتے۔ کیونکہ انہیں یقین ہے اس بار تم زندہ گائوں واپس نہیں آئو گے۔ ہاں‘ تمہارے مرحوم ڈرائیور کی بیوی اور بیٹیاں ضرور دن رات تمہاری عبرت ناک موت کی دعائیں مانگتی ہیں اور وہ ڈرائیور کا بیٹا اس کی رگوں میں تا حال انتقام کا خون جوش مار رہا ہے۔ سنا ہے راتوں کو نیند نہیں آتی اسے۔ کچھ کھاتا پیتا بھی نہیں ہے۔ اصل میں کسی طاقت ور امیر کے ہاتھوں جب کسی بے کس غریب پر ظلم ڈھایا جاتا ہے تو یہی کیفیت ہوتی ہے سانول! بہت اذیت میں گرفتار ہو کر رہ جاتا ہے وہ بے کس غریب۔ دنیا کی عدالتوں میں انصاف نہیں ملتا اسے مگر…!‘‘
’’تم اپنی بکواس بند کرو گی یا میں کمرے سے باہر نکالوں تمہیں؟‘‘ اس کی توقع کے عین مطابق وہ بھڑکا تھا۔ وہ مسکرادی۔
’’اب گھائو کیسے ہیں تمہارے؟‘‘ اگلے ہی پل اس نے موضوع بدل دیا تھا۔ سانول نے خاموشی سے پلکیں موند لیں۔
’’چھوڑوں گا نہیں میں اپنے بڑے بھائی کو‘ جتنے گھائو اس نے میرے وجود پر لگائے ہیں ایک ایک کا حساب لوں گا۔‘‘
’’ضرور لینا‘ دولت اور اقتدار کی سب سے بڑی پہچان ہی یہی ہے کہ خون کے رشتے کو بے حس کر کے بے جان چیزوں کی اوقات بڑھا دیتی ہے اور کتنے مزے کی بات ہے قیس کہ یہ بے جان چیزیں مدتوں یونہی پڑی رہتی ہیں مگر رشتے نہیں رہتے۔‘‘
’’خدا کا واسطہ ہے انزلہ شاہ! تم جائو یہاں سے۔‘‘ ایک بار پھر وہ بے زار ہوا تو انزلہ خاموشی سے اٹھ کر اس کی دوائیاں چیک کرنے لگی۔ کل بہزاد علی مراد کی حویلی میں جو فیصلہ اس کی تقدیر کا ہوا۔ وہ اس پر بہت دل برداشتہ تھی۔ جانے کیوں کل سے پھر میران شاہ بہت یاد آرہا تھا اسے جانے وہ کہاں چلا گیا تھا۔ زوبی کے بعد ایک وہی تو تھا جو اسے اندر سے جانتا اور سمجھتا تھا۔
دوائیاں چیک کرنے کے بعد وہ پلٹی تو سانول کو پلکیں موندے بے خبر سوتے پایا۔ نجانے وہ جاگ رہا تھا یا نہیں۔ وہ بنا اس کے چہرے سے نظریں ہٹائے قریب آبیٹھی۔
موٹی موٹی بند غلافی آنکھیں۔ مغرور تنی ہوئی تیکھی ناک‘ کشادہ پیشانی پر بکھرے سیاہ ریشمی بال‘ مضبوط چوڑے کندھے‘ بھاری مونچھوں تلے دبے گداز ہونٹ‘ وہ واقعی اس قابل تھا کہ اسے نظر بھر کر دیکھنے کے بعد سراہا جاتا۔ جانے وہ کیوں بھٹک کر رہ گیا تھا۔ اعلیٰ تعلیم بھی اس کے اندر سے روایتی جاگیردار کی سوچ تبدیل نہیں کرسکی تھی۔ اس لمحے جانے کیا سوچتے ہوئے اس نے شہادت کی انگلی سے اس کی پیشانی‘ پھر ناک‘ پھر ہونٹوں کو چھوا تھا۔
’’تم برے ہو سانول شاہ! قابل نفرت ہو لوگوں کے لیے پھر بھی انزلہ شاہ تم سے پیار کرتی ہے۔‘‘ اس کا لہجہ سرگوشی سے بلند نہیں تھا مگر پھر بھی سانول شاہ نے آنکھیں کھول دی تھیں۔
’’انزلہ شاہ سے کہو‘ مت پیار کرے مجھ سے۔ میں اس کی محبت کے قابل نہیں ہوں۔ بہت برا انسان ہوں میں۔‘‘
’’اسے برے نہیں لگتے وہ تمہیں اپنانا چاہتی ہے قیس!‘‘
’’اس کا قیس نہیں رہا اب۔‘‘
’’اچھا! تو پھر بچپن کی منگ سے تعلق کیوں توڑا؟ اپنے بھائی کی بات مان کر شادی کیوں نہیں کرلی؟‘‘
’’وہ لڑکی میرے قابل نہیں تھی۔‘‘
’’ایسا کب تک چلے گا قیس! کیا تم ساری زندگی خود سے یونہی لڑتے رہو گے؟‘‘
’’پتا نہیں‘ مگر یہ طے ہے انزلہ کہ اب کسی خوب صورت خوش گوار زندگی پر میرا کوئی حق نہیں رہا ہے۔ بابا کے بعد خدائی کا جو نشہ میں نے چکھا ہے وہ اب سکون سے جینے بھی نہیں دے گا۔ میں جانتا ہوں ایک روز میں انہی پر پیچ راستوں پر بھٹکتے بھٹکتے کسی بد نام دہشت گردوں کی طرح موت کی بے رحم بانہوں میں چلا جائوں گا۔ مگر مجھے اب اس کا افسوس نہیں ہے انزلہ! کیونکہ میں جانتا ہوں میں دنیا کے لیے جتنا بھی قابلِ نفرت سہی مگر اب بھی کوئی ہے‘ جو میرے مرنے کے بعد…!‘‘
اس سے پہلے کہ وہ اپنی بات مکمل کرتا انزلہ شاہ نے سرعت سے ہاتھ اس کے منہ پر رکھ دیا۔
’’جب تک انزلہ شاہ کے جسم سے روح کا تعلق برقرار ہے قیس! تب تک تمہیں کچھ نہیں ہوسکتا۔‘‘ ایک دم سے بہت حساس‘ بہت جذباتی ہوگئی تھی۔ سانول شاہ اسے دیکھتا رہ گیا۔
’’تمہیں خدائی کرنے میں مزا آتا ہے‘ تم کرو خدائی‘ مگر خدا کا واسطہ ہے سانول! مجھے میرا قیس واپس کرو۔ میں اس کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی ہوں خوش نہیں رہ سکتی۔‘‘ وہ رو رہی تھی۔ سانول کا دل جیسے کسی نے مٹھی میں لے لیا۔
’’میں جانتی ہوں قیس! تم بہت اچھے ہو۔ یقینا تم نے بھی زندگی میں بہت دکھ اٹھائے ہیں۔ میرا یقین کرو میرا دل تمہارے ہر نقصان پر تازہ زخم کی مانند رس رہا ہے۔ مگر میں تمہیں مزید ان اذیتوں کی گود میں سانس لیتے ہوئے نہیں دیکھ سکتی۔ وہ خوب صورت دن جو ہاتھ سے نکل گئے ہیں۔ بہت انمول تھے۔ میں انہیں دنوں میں واپس جانا چاہتی ہوں قیس! تمہارے ساتھ ایک خوش گوار زندگی بسر کرنا چاہتی ہوں۔ اس سے پہلے کہ میری تقدیر ہمارے درمیان صدیوں کے فاصلے حائل کردے۔ میں تمہیں پالینا چاہتی ہوں۔ تمہیں یہ احساس دلانے کے لیے ایک عاجز انسان بن کر جینے میں بھی زندگی بہت خوب صورت ہے۔ میں ساری کشتیاں جلا کر آسکتی ہوں سانول! پلیز میرے ہوجائو۔‘‘ وہ مضبوط سوشل گرل تھی مگر اس لمحے محبت کے احساس میں بکھر رہی تھی۔ سانول نے بہت آہستگی سے اپنا ہاتھ اس کے سرد ہاتھوں کی گرفت سے نکال لیا تھا۔
’’میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے انزلہ! پلیز اس وقت تم جائو یہاں سے۔‘‘ اس کا کوئی لفظ اس وقت اس پتھر دل انسان پر اثر نہیں کر رہا تھا۔ وہ مایوس سی اٹھ آئی۔
سانول نے اس کے کمرے سے باہر نکلنے پر بے ساختہ گہری سانس بھری تھی۔
کچھ مرحلے وفا کے جفا کے سپرد ہیں
وہ دیپ کیا جلیں جو ہَوا کے سپرد ہیں
اس نے بھی اپنی ضد نہیں چھوڑی کسی طرح
ہم کیا کریں ہم اپنی انا کے سپرد ہیں
///
دن خاصا ڈھل چکا تھا۔
دور نیلے آسمان پر اڑتے پرندے اب جیسے تھک ہار کر اپنے ٹھکانوں کو واپس پلٹ رہے تھے۔ فضا میںحبس قدرے بڑھ گیا تھا۔ اونچے اونچے درختوں کے سر سبز پتے ساکت تھے۔ دور افق کے اس پار غروب ہوتا سورج‘ اب اپنی نارنجی کرنیں تیزی کے ساتھ سمیٹ رہا تھا۔ قریب ہی کچے گھروں کے کھلے احاطے میں خواتین اپنے گھریلو فرائض سر انجام دیتی دکھائی دے رہی تھیں۔
گھر سے اسکول جاتے ہوئے انزلہ شاہ نے عجیب تھکی تھکی سی نظر اٹھا کر دیکھا تھا۔ وہاں بہت دور تک مٹی سے اٹے کچے راستے پر کسی سانول شاہ کا نام و نشان بھی نہیں تھا۔ گائوں کے لوگ مسرور تھے‘ مگر اس کا دل جیسے سنسان ہو کر رہ گیا تھا۔ آج کتنے دن ہوگئے تھے اس کی صورت دیکھے۔اب تو بہزاد علی مراد بھی ملک سے باہر تھا۔ دادی ماں کے رویے میں تھوڑی بہت لچک آئی تھی مگر اب وہ زیادہ خود ہی ان سے بات نہیں کرتی تھی۔
دل جیسے بجھ کر رہ گیا تھا۔
تھکے تھکے سے قدم اٹھاتی وہ قبرستان کے قریب سے گزر رہی تھی جب اچانک ٹھٹک کر رک گئی۔ وہاں قبرستان سے کچھ ہی فاصلے پر درختوں کے جھنڈ کے قریب سانول شاہ کا ڈیرہ تھا اور وہیں درختوں کے جھنڈ کے قریب سے قدرے فاصلے پر وہ ایک درخت سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا۔
وہ سرعت سے اس کی طرف لپکی۔
’’قیس!‘‘
اس کی پکار پر سانول شاہ نے بھی آنکھیں کھولنے میں ایک لمحے کی تاخیر نہیں کی تھی۔ ہلکی ہلکی بڑھی ہوئی شیو کے ساتھ ساری دنیا سے بے نیاز وہ کتنا دل کے قریب لگ رہا تھا۔ گو ابھی اس کے زخم پوری طرح سے مند مل نہیں ہوئے تھے مگر پھر بھی وہ گائوں چلا آیا تھا۔ انزلہ دھڑکتے دل کے ساتھ وہیں اس کے مقابل بیٹھ گئی۔
’’اب کیسی طبیعت ہے؟‘‘
’’ٹھیک ہوں‘ تم آئیں نہیں دوبارہ۔‘‘
’’کوئی فائدہ ہی نہیں تھا آنے کا۔ بلکہ اب تو تمہیں بہت خوش ہوجانا چاہیے ڈیئر کہ میں یہاں سے جارہی ہوں شاید ہمیشہ کے لیے۔‘‘
’’کہاں جا رہی ہو؟‘‘
’’مما کے پاس۔‘‘
’’کیوں؟‘‘
’’تمہارے ’’کیوں‘‘ کا جواب نہیں ہے میرے پاس‘ مگر میری تقدیر کا فیصلہ ہوچکا ہے۔ مجھے کسی سے کوئی شکایت نہیں ہے سانول! شاید جو بھی ہوا اچھا ہی ہوا۔ میں اب کبھی تم سے یہ نہیں کہوں گی کہ تم یہ غنڈہ گردی چھوڑ دو۔ کیونکہ میں جانتی ہوں‘ تمہیں اپنی خوشی‘ اپنی آن و شان آج بھی ہر شے سے زیادہ پیاری ہے۔ میں کیا اور میری بے لوث محبت کیا۔‘‘ بہت دھیمے لہجے میں بولتے ہوئے اس کی آنکھیں جل رہی تھیں۔ تبھی وہ بولا۔
’’کیوں جا رہی ہو؟‘‘
’’شادی طے ہوگئی ہے میری بہزاد علی مراد سے اور اب اسے میرا تم سے میل جول رکھنا گوارا نہیں ہے۔ سچ پوچھو تو میں خود بھی اب کوئی تعلق نہیں رکھنا چاہتی تم سے نفرت کا‘ نہ محبت کا۔ تمہارا جو دل چاہے وہ کرنا‘ کوئی منع نہیں کرے گا تمہیں نہیں پوچھوں گی اب کہ تم نے میران شاہ کے ساتھ کیا کیا؟ ادریس شاہ کی بہن گوری کا کیا بنا‘ وہ کہاں گئی؟ کچھ نہیں پوچھوں گی اب میرا تم سے جو تعلق تھا وہ ایک سہانے خواب کے سوا اور کچھ بھی نہیں تھا اور تمہاری مجھ سے جو نام نہاد محبت تھی وہ ایک بکواس کے سوا اور کچھ نہیں تھی۔‘‘
’’بس! آگے ایک لفظ بھی مت بولنا انزی! میں اپنی محبت کے معاملے میں تمہارا کوئی بہتان برداشت نہیں کروں گا۔‘‘ شدتِ ضبط سے اس وقت اس کی آنکھیں خوب سرخ ہو رہی تھیں۔ مگر وہ بالکل سپاٹ چہرہ لیے اس کے مقابل بیٹھی ان آنکھوں میں دیکھتی رہی جہاں اس وقت ایک طوفان مچل رہا تھا۔
’’سچ کڑوا ہوتا ہے سانول شاہ! اور تمہاری محبت کا سچ یہی ہے کہ وہ محض ایک بکواس کے سوا اور کچھ نہیں تھی۔‘‘
’’چٹاخ۔‘‘
بہت دنوں کے بعد اس نے انزلہ شاہ کی کسی بات پر ضبط کھویا تھا۔ مگر وہ تھپڑ کی شدت سے سرخ گال کے ساتھ بھی مسکرا رہی تھی۔
’’تھینکس۔‘‘ ڈبڈبائی آنکھوں میں تشکر کا احساس لیے اس کی طرف دیکھتے ہوئے بہت آہستگی سے اس نے کہا تھا۔ جواب میں سانول شاہ نے از حد اضطراب کے عالم میں رخ پھیر لیا۔
’’میں زندگی میں سب کچھ کھو چکا ہوں انزلہ! سب کچھ گنوا دیا ہے میں نے‘ سب کچھ۔ مگر تمہیں کھو کر جینے کا حوصلہ نہیں ہے مجھ میں۔ خدا کا واسطہ ہے تمہیں۔ اپنی فضول ضد چھوڑ دو۔ یہاں چھپکلی کی طرح سہم کر دیوار سے لگ جانے والوں کو کوئی نہیں پوچھتا۔ بس جس کے پاس طاقت ہے وہی سر اٹھا کر زندہ رہ سکتا ہے۔‘‘
’’ہمیں ایسی زندگی نہیں چاہیے سانول! ہمیں لوگوں پر اپنی دہشت‘ اپنی دھاک بٹھا کر نہیں جینا۔ یہاں جس کو دیکھو وہی طاقت کے نشے میں چُور مست ہاتھی کی طرح جھوم رہا ہے۔ اپنے سے کمتر کو دبا کر سکون محسوس کرتا ہے۔ خدا کی زمین پر خدائی کا دعویٰ کرتا ہے۔ ہنستی مسکراتی زندگیوں کا فیصلہ کرتا ہے۔ یہاں بہت سے دیہات ایسے ہیں سانول جہاں کوئی نہ کوئی چوہدری‘ کسی نہ کسی میران شاہ پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہا ہے۔ جہاں تعلیم منہ چھپائے رو رہی ہے۔ زہریلی رسمیں فروغ پا کر انسانیت کو خون کے آنسو رونے پر مجبور کر رہی ہیں۔ جہاں زندگی تھک رہی ہے سانول! مگر آج تک کوئی کسی ڈرائیور کا بیٹا‘ بندوق اٹھا کر ان برائیوں کو جڑ سے ختم نہیں کرسکا ہے۔ کسی وزیر مشیر کے پاس اتنی فرصت ہی نہیں کہ وہ محض چند گھڑیوں کے لیے ہی سہی۔ کبھی ان دیہاتوں میں آکر یہاں فروغ پاتی حیوانیت کا نظارہ کرسکے جہالت کی بھینٹ چڑھتی زندگیوں کے اوراق پلٹ سکے۔ درد سے چور دلوں کا حال سن سکے۔ رنج و کرب سے برستی بے بس آنکھوں کے انمول موتیوں کو چن سکے۔ ہم سب مر گئے ہیں قیس! نفسانفسی اور بے حسی کے زہر نے ہم سب کو پتھر کا بنا دیا ہے۔ اب ہم پر اچھے برے موسم اثر انداز نہیں ہوتے۔ کسی کی سسکیاں، کسی کی بد دعائیں ہمارے ذہن کو نہیں جھنجوڑتیں۔ ہم سب بھنبھوڑ‘ بھنبھوڑ کر اپنے ہی مسلم بھائیوں کا گوشت کھا رہے ہیں۔ اسی لیے تو اللہ ربّ العزت نے بھی ہمیں ہمارے حال پر چھوڑ دیا ہے۔ قدم قدم پر ٹوٹتی آفتیں ہمارا نصیب بن کر رہ گئی ہیں۔ جب مرجانا ہی مقدر ٹھہرا تو پھر کیوں نا سر خرو ہو کر مریں۔ کیوں نا اپنے معبودِ حقیقی کے سامنے سرشار ہو کر مریں کہ جس نے ہم سب پر اپناخاص کرم فرماتے ہوئے ہمیں اپنے محبوب نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوب امت میں پیدا فرمایا۔ سانول کیوں نا ہم وہ راستے ہی بند کردیں جو ہمارے اس معاشرے میں جانے کتنے ہی بے بس نوجوانوں کو غلط منزل کی طرف لے جا رہے ہیں۔ جب مرجانا ہی مقدر ٹھہرا تو کیوں نا اس زندگی کو کسی کی بھلائی کے لیے وقف کردیں؟‘‘ خوب صورت سیاہ آنکھوں میں اک جوت جگائے وہ اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہہ رہی تھی۔ جواب میں سانول نے گہری سانس بھرتے ہوئے رخ پھیر لیا۔
’’کیا کرنا چاہتی ہو تم؟‘‘
’’کچھ نہیں! بس جہالت کو ختم کرنا چاہتی ہوں۔ بھٹکے ذہنوں کو راہِ راست پر لانا چاہتی ہوں۔ گمراہ لوگوں کی درست رہنمائی کرنا چاہتی ہوں۔‘‘
’’نہیں کرسکو گی تم چاہ کر بھی ایسا نہیں کرسکو گی انزلہ شاہ! کیونکہ جب بھی تم اپنے ان احساسات کو ذہن کے طاقچے سے نکال کر عمل کی دہلیز تک لائو گی تمہیں مار دیا جائے گا۔ تمہارے اپنے آزاد وطن میں تمہارے اپنے لوگ تمہیں مار ڈالیں گے۔ کسی سڑک پر چلتے ہوئے، کسی ان دیکھی گاڑی کے نیچے آکر کچلی جائو گی۔ کسی انجانی سمت سے آتی ہوئی گولی سینے پر کھا کر مرجائو گی۔ کسی طاقت ور بم کے پھٹنے سے تمہاری موت ہوجائے گی۔ یہاں کوئی تمہیں سچ کی راہ پر چلنے نہیں دے گا۔ حکمرانی کے نشے میں چُور یہ لوگ تم سے تمہاری زندگی کو چھین لیں گے۔ انزلہ! مار ڈالیں گے تمہیں۔‘‘
یونیورسٹی کے بعد وہ پہلی بار اسے یوں جذباتی دیکھ رہی تھی۔ تبھی لبوں پر مسکراہٹ پھیلاتے ہوئے بولی۔
’’جب مرجانا ہی مقدر ٹھہرا تو کیوں نا سچائی کی راہ گزر پر چلتے ہوئے موت سے ہاتھ ملائیں قیس! بد دعائیں لے کر کیوں مریں۔ حبس زدہ فضا میں مزید اندھیرے کیوں بکھیریں؟ ہماری زندگی میں کچھ تو ایسا ہو کہ ہم دنیا سے سر خرو ہو کر جا سکیں۔‘‘
اس وقت انزلہ شاہ کے لہجے میں جو مضبوطی اور آنکھوں میں جو پیاس تھی اس نے سانول شاہ کی ذات پر چڑھے بے حسی اور کٹھور پن کے خول کو توڑ دیا تھا۔ وہ ٹوٹنا نہیں چاہتا تھا مگر انزلہ شاہ نے بالآخر اسے ریزہ ریزہ کر کے توڑ ڈالا تھا۔ تیز سیلاب کی مانند اس کی محبت کے بہائو نے اس مضبوط درخت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا تھا۔ وہ اس کی آنکھ میں مچلتے جدائی کے خوف سے لڑھکتے آنسوئوں سے ہار گیا تھا۔

کوئی زنجیر ہو چاہت کی‘ چاندی کی‘ روایت کی
محبت توڑ سکتی ہے
یہ ایسی ڈھال ہے جس پر
زمانے کی کسی تلوار کا سکہ نہیں چلتا
اگر چشم تماشا میں ذرا سی بھی ملاوٹ ہو
یہ آئینہ نہیں رہتا
یہ ایسی آگ ہے جس میں
بدن شعلوں میں جلتے ہیں تو روحیں مسکراتی ہیں
یہ وہ سیلاب ہے جس کو
دلوں کی بستیاں آواز دے کے خود بلاتی ہیں
یہ جب چاہے کسی بھی خواب کو تعبیر مل جائے
دعا جو بے ٹھکانا ہو‘ اسے تاثیر مل جائے
کسی رستے میں‘ رستہ پوچھتی تقدیر مل جائے
محبت روک سکتی ہے‘ سمے کے تیز دھارے کو
کسی جلتے شرارے کو‘ فنا کے استعارے کو
محبت روک سکتی ہے‘ کسی گرتے ستارے کو
یہ چکنا چُور آئینے کی کرچیں جوڑ سکتی ہے
جدھر چاہے‘ محبت یہ باگیں موڑ سکتی ہے
کوئی زنجیر ہو اس کو محبت توڑ سکتی ہے

’’تو تم نے قسم کھا لی ہے کہ تم مجھے میری مرضی کے مطابق جینے نہیں دو گی؟ ہے نا!‘‘ اگلے ہی پل انزلہ کا ہاتھ اس کی گرفت میں تھا وہ مسکرا دی۔
’’ہاں! تمہیں شاید یاد نہیں ہے یونیورسٹی پریڈ میں تم نے خود کو میرے سپرد کردیا تھا۔ تو پھر میری مرضی۔ جس رستے پر بھی چلائوں۔‘‘
’’چلو ٹھیک ہے مگر مجھے میری ڈگر سے ہٹانے کے بعد اگر ساتھ چھوڑا تو معاف نہیں کروں گا انزلہ!‘‘
’’نہیں چھوڑوں گی بس تم میرا ساتھ دینا۔ ہر منزل‘ ہر گام پر پلیز قیس!‘‘
’’ٹھیک ہے۔‘‘
نئے سفر کے لیے نئے عہد ہو رہے تھے اور ادھر تقدیر ان کی بے خبری پر مسکرا رہی تھی۔
///
نئے گھر میں شفٹ ہونے کے بعد وہ بہت خوش تھی۔
عباد جیسے شاندار‘ مخلص شخص کا ساتھ کسی جنت سے کم نہیں تھا اس کے لیے۔ اوپر سے اس کی نوازشیں اس کا بس نہ چلتا تھا کہ وہ ہَوا ئوں میں اڑنے لگے۔ گھر میں سب اس کی قسمت پر رشک کرتے نہ تھکتے تھے۔ صائمہ اور آمنہ کی نگاہوں میں الگ ستائش ہوتی تھی۔ اس ایک شخص نے جیسے بہت معتبر کردیا تھا اسے۔ اس نے سوچ لیا تھا وہ اب کبھی اس سے بد گمان نہیں ہوگی۔ کبھی شک نہیں کرے گی اس کی محبت پر‘ ہمیشہ اس کے چرنوں کی داسی بن کر اسے محبت اور راحت دیتی رہے گے۔
عباد کو سڈنی گئے دو ہفتے ہوگئے تھے اور ان دو ہفتوں میں وہ پل پل اس سے رابطے میں رہا تھا۔ دو ہفتوں کے بعد اچانک اس کی طرف سے خاموشی چھا گئی تھی اور اسی خاموشی نے اسے پریشان کیا تھا۔ ایک دن‘ دو دن‘ تین دن‘ صبر کی انتہا ہوگئی تھی۔
اس نے خود سے عہد کیا تھا کہ وہ بد گمان نہیں ہوگی مگر وہ بد گمان ہو رہی تھی۔ اس نے سوچا تھا کہ وہ شک نہیں کرے گی مگر وہ شک کر رہی تھی۔ غیر ملک میں‘ کسی بھی حسینہ کے حسن کا جادو چل سکتا تھا اس پر اور یہ خیال اس کے بدن سے لہو نچوڑنے کو کافی تھا۔ دل کے اندر اس کے خیریت بخیر نہ ہونے کا خدشہ بھی سر اٹھا رہا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ اس روز وہ ’’عباد انڈسٹری‘‘ کے مین آفس میں آئی تھی۔ آمنہ اس کے ہمراہ تھی۔
اسی کے ساتھ لنچ بریک سے قبل جب استقبالیہ پر اس نے ’’زین‘‘ کا نام لیا تو وہاں موجود لڑکی نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔
’’سوری! یہاں اتفاق سے زین نام کے کوئی صاحب کام نہیں کرتے۔ منیجر صاحب کا نام سعد صدیقی ہے وہ ابھی آئے نہیں ہیں۔ آپ پلیز انتظار گاہ میں چاہیں تو بیٹھ کر انتظار کرسکتی ہیں۔‘‘ ریسیپشنسٹ کے الفاظ نے اس کے دل کو جیسے دھچکا لگایا تھا۔ وہ ہکّا بکّا سی اس کا منہ دیکھتی رہ گئی ۔
’’مگر اس نے تو یہی کہا تھا کہ وہ…!‘‘
’’کس نے کہا تھا؟‘‘
ریسیپشنسٹ اب اس کی بو کھلاہٹ کو شک کی نگاہوں سے دیکھ رہی تھی۔ وہ روہانسی سی آمنہ کی طرف منہ پھیر گئی۔
’’کسی نے نہیں ہم منیجر صاحب کا انتظار کرتی ہیں۔‘‘
بالآخر آمنہ نے لب کھولے تھے۔ صاعقہ آنکھوں میں آنسوئوں کے ساتھ جیسے سرد پڑتی جارہی تھی۔ اگلے پون گھنٹے کے کوفت آمیز انتظار کے بعد انہیں کمپنی منیجر کے آنے کی اطلاع ملی تھی اور عباد نے یہی بتایا تھا کہ وہ کمپنی منیجر کا اسسٹنٹ ہے۔ یقیناً اسی سے اس کے حال احوال کی خبر مل سکتی تھی۔ اسے اب خود پر اور اپنی بے پروائیوں پر غصہ آرہا تھا کہ ایک ہی کمپنی میں کام کرتے ہوئے وہ اس کے مقام سے کیوں لا تعلق رہی۔
جانے وہ واقعی وہاں کام کرتا بھی تھا یا نہیں۔ ایک کے بعد ایک خدشہ سر اٹھا رہا تھا اور اس کا دل دھڑک دھڑک کر صرف یہی صدا بلند کر رہا تھا۔
’’نہیں وہ ایسا نہیں ہے‘ مجھے اپنے ربّ پر اور اپنے پیار کی سچائی پر پورا یقین ہے۔ وہ ایسا ہو ہی نہیں سکتا کہ مجھ سے جھوٹ بولے۔ یقینا وہ کسی مشکل میں ہوگا۔ یقینا ریسپشنسٹ کو کچھ بھول رہا ہے۔‘‘
اگلے مزید بیس منٹ کے بعد وہ منیجر کے آفس میں بیٹھی تھی۔
’’جی بی بی فرمائیے!‘‘
عام سی شکل و صورت کا حامل ادھیڑ عمر منیجر خاصا خشک بندہ دکھائی دے رہا تھا۔ وہ خشک ہونٹوں پر زبان پھیر کر انہیں تر کرتی۔ بہت مشکل سے بول پائی تھی۔
’’وہ… سر وہ مجھے زین یاور صاحب سے ملنا تھا۔ وہ اسی کمپنی میں آپ کے اسسٹنٹ کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں۔ آج کل سڈنی میں ہیں شاید!‘‘
’’آج کل سڈنی میں ہیں تو یہاں کس طرح مل سکتے ہیں آپ کو؟ ویسے بھی میرے کسی اسسٹنٹ کا نام زین نہیں‘ ضرور آپ کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہوگی۔‘‘
منیجر کا لہجہ اخلاق سے مبرا تھا۔ عین اسی پل کمرے کا دروازہ کھلا تھا اور ہادیہ کی سینڈل کی آواز اس کی سماعتوں میں اتری تھی۔
’’سعد صاحب! یہ چند فائلز ہیں آج فائنل کرنی ہیں۔ انکل کہہ رہے ہیں۔ آپ ایک نظر انہیں دیکھ لیں تو آج بھجوا دیتے ہیں۔‘‘ منیجر اس کی آمد پر فوراً کھڑا ہوگیا تھا۔ تبھی صاعقہ نے پلٹ کر دیکھا تھا۔ تنگ ٹرائوزر پر انتہائی شارٹ قمیص اور گلے میں لٹکتا دوپٹا اس کے ماڈرن ہونے کے ساتھ اس کی حیثیت و مقام بھی عیاں کررہا تھا۔ تاہم وہ اسے فوری پہچان گئی تھی۔ یہ وہی لڑکی تھی جسے عباد نے اپنے باس کی بیٹی کہہ کر متعارف کروایا تھا۔ دوسری طرف وہ لڑکی بھی اسے پہچان گئی تھی تبھی اس کے چہرے پر نگاہ پڑتے ہی ٹھٹک گئی۔
’’تم… یہاں…؟‘‘
کیا نہیں تھا ان دو لفظوں میں؟ اسے لگا وہ بھرے بازار میں ننگے سر ہوگئی ہو۔
’’انہیں میرے کمرے میں بھیجیں سعد صاحب! بہت اہم مہمان ہیں یہ ہماری۔‘‘ استہزائیہ نگاہوں سے عجیب سی جلن چھلکاتی وہ ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیلاتے ہوئے بولی اور اگلے ہی پل منیجر کے کمرے سے باہر نکل گئی۔
صاعقہ کو لگا جیسے آج کا دن طلوع ہی اسے ذلیل کرنے کے لیے ہوا ہے۔ وہ اب وہاں آنے پر پچھتا رہی تھی۔ جانے ابھی آگے اور کون سی سچائی اس کا منہ چڑانے کو تیار بیٹھی تھی۔
منیجر نے اسے ہادیہ کے کمرے میں بھجوا دیا اور وہ جیسے ان دونوں کی منتظر ہی تھی۔
عباد یاور کی بہت خوب صورت سی‘ فریش تصویر اس کی ٹیبل پر سیٹ تھی۔ صاعقہ وہ تصویر وہاں دیکھ کر مزید الجھ گئی۔ عین اسی پل یاور حیات صاحب وہاں کمرے میں داخل ہوئے تھے۔
’’انکل! یہ کچھ گیسٹ آئے ہیں آپ کے عباد صاحب سے ملنے۔‘‘ بنا انہیں بیٹھنے کی آفر کیے اس نے کھڑے کھڑے گولا داغ دیا تھا۔
یاور صاحب اس کی اطلاع پر چونکے تھے۔
’’کون ہے یہ…؟‘‘
’’وہی‘ آپ کے عباد کی اسپیشل فرینڈ جسے اس روز ریستوران میں دیکھا تھا میں نے اور شاید وہی لڑکی جس کی وجہ سے آج کل وہ بزنس سے بے پروا ہو رہا ہے۔‘‘
کتنا عجیب اور الجھا ہوا تعارف تھا اس کا۔ صاعقہ کی سمجھ میں کچھ نہ آیا کہ آخر وہ اسے عباد نام کے شخص سے کیوں منسوب کر رہی ہے۔ آمنہ الگ پریشان اور حیران ہو رہی تھی۔
یاور صاحب اب خاصی تنقیدی نگاہوں سے اسے گھور رہے تھے۔
’’بیٹھو!‘‘ حکم یوں تھا جیسے وہ ان کی زر خرید غلام ہو۔
وہ دونوں از حد کنفیوز سی بیٹھ گئی تھیں۔ جواب میں وہ بھی ان کے مقابل ٹک گئے۔
’’شکل سے تو دونوں شریف گھرانے کی لگتی ہو پھر ہوٹلوں میں پرائے لڑکوں کے ساتھ ماں باپ کی عزت اچھالتے ہوئے شرم نہیں آتی؟‘‘
اگلے ہی پل سگار جلاتے ہوئے انہوں نے جیسے اسے زندہ درگور کیا تھا۔ وہ رو پڑی۔
’’معاف کیجیے گا سر! آپ کو ضرور کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔ ہم ویسی لڑکیاں نہیں ہیں جیسی آپ سمجھ رہے ہیں۔‘‘ یہاں بھی آمنہ نے شدید برھم ہو کر لب کھولے تھے۔
صاعقہ کا دماغ تو جیسے کام ہی نہیں کر رہا تھا۔
’’عباد کو کیسے جانتی ہو تم؟‘‘ اگلے ہی پل وہ پھر اس کی روح کو رگید رہے تھے۔ اس بار صاعقہ نے سر اٹھایا تھا۔
’’کون عباد…؟‘‘
’’اللہ رے معصومیت! عباد ان کا بیٹا‘ اس کمپنی کا مالک۔ وہی شخص جس کے ساتھ اس روز تم وہاں ریستوران میں بیٹھی کھانا کھا رہی تھیں۔‘‘ اس کے حیرانی سے پوچھنے پر ہادیہ نے آگ برساتے لہجے میں جواب دیا۔ صاعقہ کو لگا جیسے وہ کسی پہاڑ کے نیچے آگئی ہو۔
’’وہ عباد نہیں تھا۔ زین تھا‘ زین اس کمپنی کا ایک معمولی سا ورکر۔‘‘
’’جسٹ شٹ اپ زیادہ اسمارٹ بننے کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ عباد تھا۔ میرا منگیتر۔‘‘ حلق کے بل چلاتے ہوئے اس کا بس نہ چلتا تھا کہ صاعقہ کا چہرہ نوچ لیتی۔ یاور صاحب کے ماتھے کے بلوں میں بھی اضافہ ہوا تھا۔
’’میں جھوٹ نہیں بول رہی اس نے اپنا نام زین ہی بتایا تھا۔‘‘
’’جھوٹ بولا تھا اس نے تم جیسی لڑکیوں کی کمی نہیں ہوتی امیر زادوں کو۔ کان کھول کر سن لو لڑکی! عباد کی بات ہادیہ بیٹی سے طے ہے اور شادی بھی عنقریب اسی کے ساتھ ہوگی۔ تم اپنا وقت کہیں اور برباد کرو۔ پہلے ہی تمہاری وجہ سے بہت نقصان کردیا اس نے کمپنی کا۔ سمجھیں تم…!‘‘ اس وقت ان کے لبوں سے نکلنے والا ہر لفظ کسی نشتر سے کم نہیں تھا اس کے لیے۔ کوئی عرش سے فرش پر کیسے آتا ہے، یہ اس لمحے صاعقہ احمد سے بہتر کوئی نہیں جان سکتا تھا۔ اس کا دل چاہا وہ چلّا چلّا کر اپنی صفائی دے۔ روئے اور اپنے ساتھ ہوئے فریب کا گلہ کرے مگر اب اس کا فائدہ ہی کیا تھا۔
اس کے اور یاور حیات صاحب کے درمیان محض ایک ٹیبل نہیں دولت اور حیثیت کی بلند فصیل بھی تھی۔ جس کے اوپر سے جھانک کر انہیں دیکھنا اس کے لیے ممکن ہی نہیں رہا تھا۔ کیونکہ عباد یاور کے جھوٹ اور فریب نے بہت پستہ قد کردیا تھا اسے۔
آمنہ کچھ کہنا چاہتی تھی مگر اس نے اس کا ہاتھ دبا کر اسے خاموش کروا دیا۔ اتنی تذلیل اس جیسی لڑکی کے لیے کافی تھی۔
اس وقت وہاں اس کے محض خواب نہیں ٹوٹے تھے۔ بلکہ وہ خود بھی ٹوٹ کر بکھر گئی تھی۔
جسم میں اتنی سی سکت بھی نہیں رہی تھی کہ وہ خود سے اٹھ کر کھڑی ہی ہوجاتی۔ لبوں پر چپ کا قفل لگائے خود سے کھڑے ہونے کی کوشش میں وہ لڑ کھڑا کر رہ گئی تھی۔
اس روز اگر آمنہ عباس اس کے ساتھ نہ ہوتی تو شاید وہ صحیح سلامت گھر نہ پہنچ پاتی۔
///

آئو اداس راتوں میں
دل کی بستی میں آکے دیکھو
ہر ایک رستہ‘ ہر اک دریچہ
تمہاری چاہت کا منتظر ہے
فلک سے تکتا ہے چاند تم کو
ستارے تم کو بلا رہے ہیں
مجھے گماں ہے تمہارے دل میں
گئے دنوں کے ملال ہیں کچھ
نئی رُتوں کے سوال ہیں کچھ
نئے سفر کے خیال ہیں کچھ
اگر یہ سچ ہے تو میری مانو
پرانے رستوں پہ لوٹ آئو
پرانی بستی میں کوئی اب تک
تمہاری آمد کا منتظر ہے

’’انوشہ…!‘‘
گھر واپسی کے بعد وہ اپنے کمرے کی طرف بڑھ رہی تھی جب نزہت بیگم کی پکارنے اس کے قدم جکڑ لیے۔ چاند کو گود سے اتارنے کے بعد وہ ان کی طرف پلٹی تھی۔
’’جی۔‘‘
’’کہاں تھیں صبح سے۔‘‘ بہت چونکا دینے والا سوال اور لہجہ تھا ان کا۔ وہ جی بھر کے آزردہ ہوئی۔
’’ملازمت کی تلاش میں گئی تھی۔‘‘
’’کیوں۔ ایسی کیا مشکل آن پڑی تم پر جو چند ہزار کی نوکری کے لیے سڑکوں پر دھکے کھاتی پھر رہی ہو؟‘‘
’’آپ کو نہیں پتا۔ کیا مشکل پڑی ہے مجھ پر۔‘‘ اس کی آنکھوں کے کٹورے پل میں آنسوئوں سے لبریز ہوئے تو نزہت بیگم نے رخ پھیر لیا۔
’’ایسی کوئی انہونی نہیں ہوئی تمہارے ساتھ کہ زندگی کا سوگ ہی کم نہ ہو۔ بہر حال میں نے تمہاری بات طے کردی ہے۔ اسی جمعہ کو نکاح اور رخصتی ہے تمہاری۔ جو تھوڑی بہت تیاری کرنی ہے کرلو۔‘‘ جس طرح موت کی سزا سناتے ہوئے کسی جج کے لہجے میں بے رحمی در آتی ہے بالکل ویسا ہی لہجہ نزہت بیگم کا بھی تھا۔ انوشہ پھٹی پھٹی آنکھوں میں بے یقینی کے ساتھ انہیں دیکھتی رہ گئی تھی۔ کیا اس سے بڑھ کر بھی زندگی کی کوئی انہونی ہونی تھی۔
یہ کیسا داغ لگا تھا زندگی کے دامن پر جس کا رنگ پھیکا ہی نہیں پڑ رہا تھا۔
اس کی آنکھو سے آنسو کا ایک قطرہ ٹوٹ کر زمین پر گرا تھا۔
’’میں یہ شادی نہیں کروں گی۔‘‘
’’بس بہت میں‘ میں کرلی تم نے اور بہت برداشت سے کام لے لیا ہم نے۔ اب اور نہیں۔جب میری عمر میں آئو گی تو پتا چلے گا تمہیں کہ یہ اذیت کیا ہوتی ہے۔ جوان بیٹی کی ناکام ازدواجی زندگی کا دکھ رات کی پر سکون نیند حرام کردیتا ہے ماں باپ پر تمہیں دس بیس سال کی زندگی کا اعتبار ہوگا انوشہ! مجھے ایک پل کی زندگی کا بھروسا نہیں ہے۔ تمہارے بابا کی صحت بھی گرتی جا رہی ہے۔ میں مرنے کے بعد صدف کی روح سے شرمندہ نہیں ہونا چاہتی۔ تو نے جہاں اتنی قربانیاں دی ہیں وہاں ایک قربانی اور سہی۔‘‘ کیا نہیں تھا نزہت بیگم کے لہجے میں۔ بے رحمی‘ اکتاہٹ‘ حق‘ ہمدردی‘ تفکرات‘ عاجزی۔
انوشہ کو لگا اس کی سانس جیسے سینے میں پھنس کر رہ گئی ہو۔ جانے زندگی کو ابھی اس سے اور کتنے امتحان مطلوب تھے۔ اس رات کا ایک ایک پل آنکھوں میں بسر کیا تھا اس نے۔شدید ٹھنڈ کے باوجود ساری رات کمرے کی کھڑکی کھلی رہی تھی۔ چاند نزہت بیگم کے پاس تھا لہٰذا رات پھر بنا کمبل کا سہارا لیے وہ کمرے میں سوفے سے ٹیک لگائے قالین پر بیٹھی رہی تھی۔ اس کی دانست میں وہ سرمد خان سے منسوب کی جارہی تھی۔ مگر پھر بھی ایک عجیب سی بے چینی تھی کہ کسی طور کم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ نزہت بیگم اور جمال صاحب اس کے نکاح کے فوری بعد انگلینڈ واپس جانے کا پروگرام طے کیے بیٹھے تھے۔ تاکہ وہاں زاہد کے گھر اور آفس کی خود بہتر دیکھ بھال کرسکیں اور یہ انوشہ کے لیے قدرے اطمینان کی بات تھی کیونکہ سرمد سے نکاح کے بعد اس کا اپنا فیصلہ بھی ہمیشہ کے لیے وہ ملک چھوڑ دینے کا تھا۔ جس کی فضائوں میں اس کے لیے سوائے درد کی آمیزش کے اور کچھ بھی نہیں تھا۔
///
’’الم‘ اہلِ روم مغلوب ہوں گے نزدیک کے ملک میں اور وہ مغلوب ہونے کے بعد جلد غالب ہوجائیں گے چند ہی سال میں پہلے بھی اور پیچھے بھی خدا ہی کا حکم ہے اور اس روز مومن خوش ہوجائیںگے۔ اور وہ جسے چاہتا ہے مدد دیتا ہے اور وہ غالب و مہربان ہے۔ یہ خدا کا وعدہ ہے اور خدا اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے یہ تو دنیا کی ظاہری زندگی ہی کو جانتے ہیں اور آخرت کی طرف سے غافل ہیں تو کیا انہوں نے اپنے دل میں غور نہیںکیا کہ خدا نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے ان کو اپنی حکمت سے ایک وقت مقرر تک کے لیے پیدا کیا ہے اور بہت سے لوگ اپنے پروردگار سے ملنے کے قائل نہیں تو کیا ان لوگوں نے ملک میں سیر نہیں کی؟ سیر کرتے تو دیکھ لیتے کہ جو لوگ ان سے پہلے تھے ان کا انجام کیسا ہوا؟ وہ ان سے زور اور قوت میں کہیں زیادہ تھے اور انہوں نے زمین کو جوتا اور اس کو ان سے زیادہ آباد کیا تھا جو انہوں نے کیا اور ان کے پاس ان کے پیغمبر نشانیاں لے کر آتے رہے تو خدا ایسا نہ تھا جو ان پر ظلم کرتا‘ بلکہ وہی اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے۔ پھر جن لوگوں نے برائی کی ان کا انجام بھی برا ہوا کہ یہ خدا کی آیتوں کو جھٹلاتے اور ان کی ہنسی اڑاتے تھے۔‘‘
پارہ نمبر 21کی سورہ الروم کا ترجمہ پڑھتے ہوئے اس کا دل جیسے کٹ رہا تھا۔ کیسی کیسی قوموں کے عروج اور زوال کی داستان اور حالات نہیں تھے اس مقدس کتاب میں۔ خدائے بزرگ و برتر نے کیسے کیسے صاف کھول کھول کر اپنے بندوں کو غلط اور صحیح سے با خبر نہیں کیا تھا۔ کیسی کیسی خوب صورت مثالیں پیش نہیں کی تھیں انہیں سمجھانے کے لیے۔ پھر بھی جہالت کا اندھیرا تھا کہ چَھٹنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔ غفلت اور گمراہی کا پردہ تھا کہ چاک ہونے میں ہی نہیں آرہا تھا۔ کیوں…؟ اگر خدا چاہتا تو اپنا ذکر نہ کر کے سونے والے مٹی کے پتلوں کی آنکھوں سے شب کی پر سکون نیند چھین لیتا۔ پھر چاہے کوئی گولیاں پھانکتا یا رات بھر کروٹیں بدلتا۔ وہ میٹھی نیند کی نعمت عطا نہ کرتا کوئی تھا جو اس پاک و بے نیاز ذات کو اس کے اس ارادے سے باز رکھ سکتا؟ نہیں…! پھر بھی اس نے ایسا نہیں کیا تھا۔ کیوں؟ کیونکہ رحم اور کرم اس کی صفات ہیں۔ کائنات میں کوئی اس سے بڑھ کر معاف کرنے والا‘ در گزر کرنے والا نہیں اپنے بندوں کی خطائیں دیکھ کر بھی وہ اپنی عطائیں کم نہیں کرتا۔ ایسے پیارے مہربان ربّ کی نافرمانی اس کے احکام کی خلاف ورزی خود انسان کے اپنے ہی حق میں خسارہ ہے اور یہی بات وہ اس سورہ میں اپنے بندوں کو سمجھا رہا تھا۔ کیا تھے یہ سرکش غفلت میں پڑے ہوئے لوگ خاک کے ذرے کے برابر بھی تو نہیں۔ اپنی حیثیت‘ اپنی دولت‘ اپنے منصب پر گھمنڈ کر کے‘ اکڑ کر چلنے والے ان لوگوں سے کہیں افضل‘ طاقتور‘ مٹی ہوگئے تھے۔ تو پھر یہ لوگ کس دھوکے میں جی رہے تھے؟
شاہد حسین! جس نے کبھی اسے کوئی خوشی نہیں دی ہمیشہ حقیر اور پائوں کی جوتی ہی سمجھا‘ مگر خود اس کا اپنا انجام کیا ہوا۔ حقیقی مالک کے احکام و فرمان سے غفلت برت کر بدبو دار مٹی سے بنے اپنے باس کی فرمانبرداری میں جان قربان کرتے ہوئے اسے توبہ کرنے کا موقع بھی نہیں ملا۔ ملتا بھی کیوں۔ وہ محض نا فرمان ہی نہیں مشرک بھی تھا۔ اس نے بد بو دار مٹی سے بنے انسان کی تابعداری میں اپنی آخرت دائو پر لگا دی تھی۔ کتنے مواقع دیے اس کے حقیقی مالک نے اسے توبہ کے‘ مگر وہ ظلم اور سرکشی میں مست اپنی طاقت پر مغرور کبھی سنبھلا ہی نہیں‘ آگے ہی آگے بڑھتا چلا گیا۔ یوں کہ بہرہ‘ اندھا‘ گونگا ہوگیا۔ جان کنی کے عالم میں عینی شاہدین کے مطابق اس نے بار بار کلمہ پڑھنے کی کوشش کی تھی مگر وقت آخر میں اس کی زبان سے ادا ہی نہیں ہو پایا۔
عشق مجازی ہو یا حقیقی‘ اس میں شرک کی کوئی معافی نہیں‘ محبت کا پہلا اصول ہی وحدانیت ہے۔ مگر یہ کوڈ بہت کم لوگ سمجھ پاتے ہیں۔ شاہد حسین بھی سمجھ نہیں پایا تھا۔ اسی لیے تودونوں جہاں کی سرخروئی سے ہاتھ دھو بیٹھا۔
آج کتنے دنوں کے بعد اسے شاہد حسین یاد آیا تھا اور شاہد حسین کے ساتھ کتنی اور بہت سی یادیں جڑی تھیں۔ گائوں شاہ والا کی ہر گلی‘ ہر کوچے‘ ہر گھر کی یاد۔ کتنے دنوں سے شاہ زر نے اس کی شکل نہیں دیکھی تھی۔ جب بھی وہ گھر آتا وہ سو رہی ہوتی یا تلاوت قرآن پاک میں مشغول ہوتی۔ جواباً وہ اسے ڈسٹرب کیے بغیر ملازمہ سے ہی اس کا حال احوال دریافت کر کے کمرے سے باہر چلا جاتا۔ گوری کی خواہش و فرمائش پر اس نے اس کے لیے ایک ایسی اکیڈمی کا انتظام کردیا تھا جہاں وہ مسلمان بچوں کو قرآن پاک کی تفسیر کا علم دے سکتی۔ وہ دولت بانٹ سکتی کہ جس کا نعم البدل کوئی نہیں تھا اور آج اسی اکیڈمی میں اس کا پہلا دن تھا اور وہ خوشی سے بے حال تھی۔ فی الحال وہاں چند بچے ہی آسکے تھے وہ بھی شاہ زر کی وساطت سے کہ موجودہ وقت کی اپر کلاس سوچ کی حامل مائوں اور گھرانوں کے لیے قرآن پاک کی تفسیر سے کہیں زیادہ۔ انگلش لٹریچر اور انگلش سیکھنے سیکھانے والی اکیڈمیوں میں زیادہ دل چسپی تھی۔ انہیں اس بات کی پروا نہیں تھی کہ ان کی اولاد اعلیٰ ڈگریاں حاصل کرنے کے بعد ان کی میت پر دعائے جنازہ پڑھ سکے گی کہ نہیں۔ ان کے مرنے کے بعد ان کی روح کے ایصالِ ثواب کے لیے کوئی پارہ‘ کوئی تسبیح پڑھ کر بخشے گی کہ نہیں۔ شایدانہیں اس میٹھے پھل کی ضرورت تھی بھی نہیں۔ ضرورت تھی تو فنا ہوجانے والی دنیا میں جھوٹی واہ واہ اور عزت و توقیر کی۔ تبھی خونِ جگر سے سینچ کر پروان چڑھنے والی اولاد کو وہ کڑوے پھل کے درخت بنا رہی تھیں۔ جیسی آمدنی تھی ویسا ہی خون زندگی بن کر ان کے بچوں کی رگوں میں دوڑ رہا تھا۔ اپنے اصل سے قطعی بے نیاز‘ مالک حقیقی کے ہر فرمان کو نظر انداز کیے اپنے طور سے انہوں نے خود کو جہنم میں اوندھا لیٹنے کے لیے تیار کر لیا تھا۔
گوری اب بچوں سے ان کا تعارف لے رہی تھی۔ کومل پھولوں جیسے وہ ننھے فرشتے‘ اعلیٰ گھرانوں کے چشم و چراغ ہی تھے۔ ان میں سے ایک کا نام معاذ تھا۔ ایک صالح تھا۔ ایک کا نام جواد تھا۔ ایک ریان اور ایک فہد سب کے مزاج اور اطوار مختلف تھے۔ معاذ کم گو شرمیلا بچہ تھا تو صالح ڈرا سہما‘ جواد ایک نمبر کا ہوشیار اور شرارتی تھا۔ جب کہ ریان بے حد فرمانبردار محبت کرنے والا بچہ تھا۔ فہد کو البتہ وہ سمجھ نہیں پائی تھی وہ بروکن فیملی سے تھا اور بہت کم جواب دے رہا تھا اس کی کسی بات کا‘ گوری اسے نظر انداز نہیں کر پائی تھی۔ معصوم ذہنوں کو حقیقی آگاہی دینے کے لیے اس نے سب سے پہلے ایک چھوٹے سے واقعے کا سہارا لیا تھا۔ وہ جانتی تھی کہ انسانی ذہن بھی کسی کاشت ہونے والی زمین کی طرح ہوتا ہے۔ اگر ہم کسی زمین کو ہموار اور گداز کیے بغیر اس میں اعلیٰ سے اعلیٰ بیچ بھی بودیں تو بہترین فصل حاصل نہیں کرسکتے۔ اسی طرح اللہ ربّ العزت کی حقیقی محبت سے دور اس کے گمراہ بندوں کو بھی ایک دم کسی کوشش کے تحت راہِ راست پر نہیں لایا جاسکتا۔ بہترین نتائج حاصل کرنے کے لیے اللہ ربّ العزت کے کرم خاص کے ساتھ ساتھ انسانی ذہن کی زمین کی ہمواریت بھی ضروری ہے۔
صاف ستھرے کشادہ کمرے میں قالین پر بچوں کے ساتھ بیٹھی وہ اب ان سے پوچھ رہی تھی۔
’’معاذ کیا آپ نے قرآن پاک پڑھا ہے؟‘‘
’’جی ٹیچر۔‘‘
’’اور باقی لوگوں نے؟‘‘ اب اس نے سب کی طرف دیکھا تھا۔ سب نے ایک ساتھ کو رس میں جواب دیا تھا۔
’’ہم نے بھی پڑھا ہے ٹیچر!‘‘
’’لیکن میں نے ابھی پورا نہیں پڑھا۔‘‘ ریان نے فوراً منہ بسورا تو وہ مسکرادی۔
’’کیوں‘ آپ نے پورا کیوں نہیں پڑھا ابھی تک۔‘‘
’’وہ حافظ صاحب نے مجھے تھپڑ مارا تھا تو مما نے ان کی بے عزتی کر کے انہیں نکال دیا۔ پیسے بھی نہیں دیے ان کو۔‘‘
’’صرف ایک تھپڑ کی وجہ سے۔‘‘
’’جی ٹیچر۔‘‘ بچہ نادم تھا۔ گوری کا دل دکھ سے بھر گیا۔ ’’ٹیچر میری مس نے بھی کلاس میں میری انسلٹ کی تھی۔ میرے پاپا نے ان پر کیس بنوا دیا۔ مس دوبارہ اسکول نہیں آئیں۔‘‘ ریان کی بات پر معاذ کو بھی اپنا قصہ یاد آگیا تھا۔ وہ دکھ سے اسے دیکھتی رہ گئی۔ بے ساختہ اس لمحے اسے استاد کی عزت و حرمت پر حضرت علیؓ کے اقوال یاد آئے مگر وہ اپنے درس کے پہلے ہی دن بچوں کو ان کے گمراہ والدین سے متنفر کرنا نہیں چاہتی تھی‘ تبھی نظر انداز کر گئی۔
’’ایک کہانی سنو گے بچو!‘‘
’’جی ٹیچر!‘‘
’’ایک بزرگ تھے بہت نیک‘ بہت اللہ والے اپنی جوانی میں ہی انہوں نے دنیا ترک کر کے ایک اونچے پہاڑ پر بسیرا کرلیا۔ وہاں وہ سارا دن اللہ کی عبادت کرتے۔ جوانی سے بڑھاپا آگیا۔ مگر ان کا معمول نہیں بدلا۔ ایک دن شیطان نے ان کے دل میں یہ خیال ڈالا کہ انہوں نے ساری زندگی اللہ کی عبادت کی ہے لہٰذا وہ ضرور جنت میں جائیں گے۔ جب ان کے دل میں یہ خیال آیا تو اللہ نے اپنے اس نیک بندے سے پوچھا۔
’’اے میرے بندے! تو نے ساری زندگی میری عبادت کی۔ مجھے یاد کیا تاکہ تو آخرت میں جنت کو پاسکے۔ میں تجھے اپنے عذابوں سے محفوظ رکھوں یہ سب تو تُو نے اپنے لیے کیا میرے لیے کیا کیا؟‘‘
بزرگ اللہ ربّ العزت کی طرف سے اس سوال پر لاجواب ہوگئے۔ واقعی جو عبادت انہوں نے کی تھی وہ تو صرف اپنے لیے کی تھی۔ تاکہ انہیں اللہ ربّ العزت کی محبت حاصل ہوجائے اور وہ بخشے جائیں اس میں اللہ کے لیے تو کچھ بھی نہیں تھا۔‘‘
بچے انہماک سے اس کی بات سن رہے تھے۔ جب وہ سانس لینے کو رکی اور پھر بولی۔
’’جب اللہ نے بزرگ سے پوچھا کہ تُو نے میرے لیے کیا کِیا تو وہ سوچ میں پڑ گئے اور سوچ سوچ کر خوب نادم ہوئے کہ انہوں نے ساری زندگی اللہ کے لیے تو کچھ بھی نہیں کیا تھا۔ تب انہوں نے اللہ سے پوچھا۔ اے میرے پاک پروردگار میں نے جو کیا تجھے پانے کے لیے کیا تیری رضا اور خوشنودی کے لیے کیا۔ مجھے بتا میں اور کیا کروں کہ تو مجھ سے راضی ہوجائے۔ تب اللہ ربّ العزت نے فرمایا میری رضا کے لیے میرے بندوں کے پاس جا اور ان کے کام سنوار‘ انہیں راضی کر‘ جنت تو میں تجھے اپنے رحم و کرم سے بھی عطا کردوں گا۔ دیکھا…! یہ محبت کا حقیقی رنگ ہے۔ اس کائنات میں اللہ ربّ العزت کی اپنے بندوں سے محبت کے سوا اور کوئی چیز خالص نہیں۔‘‘
’’ٹیچر میں اللہ سے محبت کروں گا اور اس کی رضا کے لیے حافظ صاحب سے بھی معافی مانگ لوں گا۔‘‘ ریان پر اس کے لیکچر کا اثرا ہوا تھا۔ وہ اطمینان سے مسکرادی۔
’’شاباش! خوب جان لو ریان! ہر وہ کام جو ہمارے لیے خواہ کتنا ہی نا پسندیدہ یا مشکل ہو اگر ہم اللہ کی رضا کے لیے کرتے ہیں تو وہ پاک و بے نیاز اسی کام میں ہماری بہتری اور بھلائی رکھ کر اسے ہمارے لیے مبارک کردیتا ہے۔‘‘
’’ٹیچر‘ پھر ہم نماز نہ پڑھیں۔‘‘ اب کے جواد نے سوال اٹھایا۔
’’کیوں؟‘‘ وہ قدرے حیران ہوئی تو وہ بولا۔
’’آپ نے خود ہی تو بتایا ہے اللہ اگر چاہے تو اپنے بندے کو اپنی رحمت سے جنت عطا کر سکتا ہے۔‘‘
’’بے شک‘ مگر اس کی رحمت کا حق دار ہونے کے لیے اس کا فرمانبردار بندہ ہونا بھی تو ضروری ہے۔ بھلا جس سے محبت کی جاتی ہے کیا اس سے قریب ہونے کو دل نہیں چاہتا۔ اس کی ہر بات ماننے کو دل نہیں چاہتا۔‘‘
’’چاہتا ہے ٹیچر! میں پاپا سے بہت پیار کرتاہوں۔ اس لیے ان کی ہر بات مانتا ہوں۔‘‘
’’اور میں اپنے چاچو سے وہ مجھ سے بہت پیار کرتے ہیں ٹیچر! کیا آپ میرے چاچو کو بھی ایسی پیاری پیاری کہانیاں سنا سکتی ہیں۔ وہ نماز نہیں پڑھتے۔‘‘ ریان کی زبان میں پھر کھجلی ہوئی تھی۔ گوری اس کی معصومیت پر مسکرادی۔
’’نئیں‘ مگر جو بات آپ یہاں سے سیکھیں وہ خود اپنے چاچو کو بھی بتا دیا کریں۔ ٹھیک ہے۔‘‘
’’جی ٹیچر! ریان نے فرمانبرداری دکھائی تھی اس نے اس کے گال کا بوسہ لیا۔ اکیڈمی سے گھر آئی تو شاہ زر اس کی راہ دیکھ رہا تھا۔ وہ اسکارف مزید ٹھیک کرتی اسی کی جانب بڑھ گئی۔
’’السّلام علیکم شاہ بھائی! کیسے ہیں آپ؟‘‘
’’وعلیکم السّلام میں تو ٹھیک ہوں۔ تم سنائو کہاں رہتی ہو آج کل۔ حال چال پوچھنے سے بھی گئیں۔‘‘
’’بس اپنے ربّ کو راضی کرنے میں لگی ہوئی ہوں بھائی! آپ سنائیں کچھ بات بنی۔‘‘
’’ہوں‘ آج آفس میں جمال انکل کا فون آیا تھا۔ اسی جمعہ کو نکاح کا پروگرام فائنل ہے۔‘‘
’’کیا انوشہ مان گئی۔‘‘
’’پتا نہیں بہر حال میری بہن ہونے کے ناتے اب جو کرنا ہے تم ہی نے کرنا ہے۔‘‘
’’آپ فکر ہی نہ کریں بھائی! اللہ ربّ العزت نے چاہا تو سب بہتر ہوگا۔‘‘
’’اللہ تمہاری زبان اور قدم مبارک کرے۔ اب آرام کروں گا۔ بہت تھکن ہورہی ہے۔‘‘
’’جی بہتر!‘‘
شاہ زر کے اٹھنے پر وہ بھی مودّب سی فوراً اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔ جمعہ کب آگیا پتا ہی نہیں چلا۔
پھر شاہ زر کے ساتھ اس نے انوشہ کے لیے بہت سی قیمتی چیزیں خریدی تھیں۔ انوشہ کو گمان بھی نہیں تھا کہ وہ کس کی زندگی کا حصہ بننے جا رہی ہے۔ نا اس نے نزہت بیگم سے پوچھنے کی ضرورت محسوس کی تھی۔ مسلسل کمرا نشینی نے اسے اس سوچ و خیال کی طرف آنے ہی نہیں دیا تھا۔ یہ پہاڑ تو عین نکاح کے وقت گرا تھا۔ جب وہ مہمانوں کے بیچ گھر کر بیٹھی تھی اور مولوی صاحب اس سے سائن لے رہے تھے۔ تو انہوں نے پوچھا۔
’’شاہ زر ولد آزر آفندی بحق مہر پانچ لاکھ سکہ رائج الوقت آپ سے نکاح کے خواہاں ہیں کیا آپ کو قبول ہے؟‘‘
ہلکے پھلکے میک اپ سے جگمگاتا چہرہ جیسے کسی طوفان کی زد میں آیا تھا۔ اس نے تڑپ کر نزہت بیگم کی طرف دیکھنا چاہا مگر وہ وہاں نہیں تھیں۔ یہ کیسی سز اتھی۔ کیا امتحان تھا اس کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا۔ ایک لمحے میں سارے جسم پر جیسے بے حسی کی چادر تن گئی تھی۔ مکمل بے بسی کے عالم میں کوئی راہِ فرار نہ پاتے ہوئے اس نے یوں اثبات میں گردن ہلائی تھی جیسے میدان جنگ میں ہاری ہوئی فوج کا کوئی زخمی سپاہی اپنے ہتھیار پھینک کر خود کو دشمن کے حوالے کرتا ہے۔ نکاح نامے پر سائن گھسیٹتے ہوئے اس کے ہاتھوں کی انگلیوں کی کپکپاہٹ واضح دکھائی دے رہی تھی۔ اسے زندگی کی اسٹیج پر اپنا کردار بار بار مر کر زندہ ہونے والا لگ رہا تھا اور نکاح کا مرحلہ مکمل ہوتے ہی ہر طرف مبارک سلامت کا شور اٹھ گیا تھا۔ ایک محض اس کے زندہ جلنے کے عمل نے اور کتنے بہت سے لوگوں کو مسرور کردیا تھا۔ وہ اندر ہی اندر جلتی کڑھتی اپنے آنسو پیتی رہی۔گوری نے اس تقریب میں بھرپور طریقے سے شرکت کی تھی۔ سادہ لباس میں مکمل اسکارف کے ساتھ وہ انوشہ کے پاس ہی بیٹھی رہی تھی۔ صبح صادق میں ابھی کچھ ہی دیر تھی۔ جب وہ لوگ انوشہ کو لے کر واپس ’’شاہ پیلس‘‘ پہنچے تھے۔ چاندپوری تقریب کے دوران ایک پل کے لیے بھی شاہ زر کی گود سے نیچے نہیں اترا تھا۔ شاہ زر سے زیادہ وہ خوش اور مسرور تھا۔
اگلا پورا دن انوشہ کمرے میں بند رہی تھی۔ جب کہ وہ دوستوں کو اور آفس کے ورکرز کو دعوت کھلانے میں۔ ولیمہ کا پروگرام ابھی لیٹ تھا۔ رات گئے تھکن سے چور وہ گھر واپس لوٹا تو چاند گوری کی آغوش میں سو چکا تھا۔ وہ کچھ سوچتے ہوئے اپنے بیڈ روم کی طرف چلا آیا مگر اس وقت اس کی حیرت کی انتہاہ نہ رہی جب اس نے چند گھنٹے پہلے شاندار سجے ہوئے کمرے کا ابتر حال دیکھا۔ مزید ستم کہ یہ حال کرنے والی خود بھی وہاں نہیں تھی۔ اوپر فرسٹ فلور کا کمرا لاکڈ تھا اور وہ اسی میں تھی۔ شاہ زر زیر لب مسکراتا ‘ گہری سانس بھرتے ہوئے واش روم کی طرف بڑھ گیا کہ شدید تھکن کے باوجود اپنے ربّ کے قرض کی ادائیگی اس پر فرض تھی۔
///

ہم نے سوچ رکھا ہے
چاہے دل کی ہر خواہش
زندگی کی آنکھوں سے
اشک بن کے بہہ جائے
چاہے اب مکینوں پر
گھر کی ساری دیواریں‘ چھت سمیت گر جائیں
اور بے مقدر ہم اس بدن کے ملبے میں
خود ہی کیوں نہ دب جائیں
تم سے کچھ نہیں کہنا
کیسی نیند تھی اپنی‘ کیسے خواب تھے اپنے
اور اب ان خوابوں پر
نیند والی آنکھوں پر‘ نرم خو گلابوں پر
کیوں عذاب ٹوٹے ہیں
تم سے کچھ نہیں کہنا
گھر گئے ہیں راتوں میں
بے لباس باتوں میں
اس طرح کی گھاتوں میں
کب عذاب ٹلتے ہیں
کب چراغ جلتے ہیں
اب تو ان عذابوں سے
بچ کے بھی نکلنے کا
راستہ نہیں جاناں!
جس طرح تمہیں سچ کے لازوال لمحوں سے
واسطہ نہیں جاناں!
ہم نے سوچ رکھا ہے
چاہے کچھ بھی ہوجائے
تم سے کچھ نہیں کہنا!

صاعقہ کا ہاتھ آمنہ کے ہاتھ میں تھا اور وہ سرد پڑتی جا رہی تھی۔ اسے لگا جیسے سڑک پر بھاگتی درجنوں گاڑیاں اس کے وجود کو روندتی ہوئی گزر رہی ہوں۔ جیسے اس کا وجود ہَوا میں معلّق ہو کر رہ گیا ہو۔ عجیب حال تھا کہ نہ آنکھوں سے کچھ دکھائی دے رہا تھا۔ نہ کانوں سے کچھ سنائی دے رہا تھا۔ یہ کیسی آندھی چلی تھی کہ چند لمحوں میں اس کی محبت اور خوابوں کا درخت جڑ سمیت اکھڑ کر رہ گیا تھا۔
آمنہ اسے تھام کر ایک طرف لے کر بیٹھ گئی۔
’’صاعقہ! ٹم ٹھیک ہو نا!‘‘
’’ہوں۔‘‘
’’دیکھو پلیز جو بھی ہوا اسے دل پر نہیں لینا۔ ہوسکتا ہے کہیں کوئی مجبوری ہو‘ جس کی وجہ سے اس نے …!’’
’’میرا ایک کام کرو گی آمنہ!‘‘ سرد کپکپاتے ہاتھوں سے آمنہ کا ہاتھ تھامتے ہوئے اس نے آمنہ کی بات کاٹی تھی۔
’’ہوں بولو۔‘‘
’’میرا ریزائن دے دینا کل عباد انڈسٹری میں۔‘‘
’’مگر…!‘‘
’’کوئی اگر مگر نہیں‘ اپنی تنخواہ بھی نہیں لوں گی میں۔‘‘
’’صاعقہ تم۔‘‘
’’میرا سر درد سے پھٹ رہا ہے آمنہ! بہت مشکل سے سانس لے پا رہی ہوں میں۔ خدارا کوئی بحث مت کرو اس وقت۔‘‘
’’ٹھیک ہے جیسا تم کہو گی ویسا ہی ہوگا۔ مگر میں بھی یہاں کام نہیں کروں گی اب۔‘‘ وہ اسے تسلی دے رہی تھی۔ صاعقہ سن سی سر جھکائے بیٹھی رہی۔
محبت کی عمارت گر گئی ہے
کوئی ملبے پہ بیٹھا رو رہا ہے
ہَوا ساکن ہے سارا شہر ویراں
تیرے جانے کا ماتم ہو رہا ہے
///
عباد کی پاکستان واپسی کنفرم ہوگئی تھی۔ ہادیہ مسرور سی یاور حیات صاحب کے آفس میں چلی آئی۔
’’انکل! ہمارے لیے ایک خوش خبری ہے۔‘‘
’’اچھا وہ کیا؟‘‘
وہ کسی فائل میں سر دیے بیٹھے تھے۔ اس کی آمد پر سر اٹھا کر اسے دیکھنے لگے۔ وہ سرشار سی ان کے مقابل بیٹھ گئی۔
’’وہ لڑکی تھی نا صاعقہ‘ آپ کے ہونہار سپوت کا دُم چھلا یہاں ہماری ہی کمپنی میں ملازم تھی۔ کل شام سے یہ علاقہ اور جاب دونوں چھوڑ گئی ہے۔‘‘
’’گڈ تمہیں یہ خبر کہاں سے ملی؟‘‘
’’آفس کا ایک رپورٹر لگا رکھا تھا اس عجوبے کے پیچھے۔ اسی نے اطلاع دی۔‘‘
’’چلو‘ اچھی بات ہے۔ میں تو پہلے سے جانتا تھا کہ ایسا ہی ہوگا۔ اصل میں یہ مڈل کلاس گھرانوں کی لڑکیاں بہت خود دار اور تھوڑی سی سائیکی ہوتی ہیں۔اسی لیے انہیں ان کی اوقات میں رکھنا بہت آسان ہوتا ہے۔ بہر حال عباد آتا ہے تو شادی کی ڈیٹ پھر سے فائنل کرتے ہیں۔ اب تو خوش ہو نا۔‘‘
’’جی انکل! بہت بہت خوش ہوں۔ آپ حقیقتاً بہت عظیم ہیں۔‘‘ وہ سرشار تھی بے پناہ سرشار۔
یاور حیات صاحب اسے مسرور دیکھ کر پیار سے اس کا سر سہلاتے ہوئے خود بھی مسکرا دیے۔ دولت کے اونچے ایوان میں‘ محبت کا پنچھی پھر پھڑ پھڑا کر اپنے پر زخمی کر بیٹھا تھا اور اس تماشے پر کسی غریب کی مفلس تقدیر پھر بین کر رہی تھی۔
///
عباد نے کراچی ایئر پورٹ پر قدم دھرتے ہی سب سے پہلے صاعقہ کو کال کی تھی مگر اس کا نمبر ہنوز آف مل رہا تھا۔ کئی بار کوشش کے باوجود لائن نہ مل سکی تو وہ مایوس ہوگیا۔ ہادیہ گاڑی لیے اس کی منتظر تھی۔
’’السّلام علیکم‘ کیسی ہو۔‘‘ اپنے مختصر سامان کے ساتھ اس سے روبرو ہوتے ہی اس نے اخلاقیات کا تعلق نبھایا تھا۔ جواب میں وہ چپ چاپ سی ایک نظر اس پر ڈالتی سر اثبات میں ہلا گئی۔
’’کیا ہوا ناراض ہو؟‘‘
اپنے گھر والوں کی پلاننگ سے قطعی بے خبر وہ اس کے موڈ پر الجھتے ہوئے گاڑی میں بیٹھا تھا۔ ہادیہ نے اس کے بیٹھتے ہی فوری گاڑی اسٹارٹ کردی۔
’’نئیں میرا تم سے اب ایسا کوئی تعلق نہیں رہا ہے۔‘‘ لا تعلق سے لہجے میں کہتی اسٹیئرنگ کو مضبوطی سے تھامے وہ سامنے سڑک پر دیکھ رہی تھی۔
عباد مزید الجھ کر رہ گیا۔
’’کیا مطلب! کیامجھ سے کوئی خطاء سر زد ہوئی ہے۔‘‘
’’نہیں مگر پھر بھی تم نے مجھے بہت ہرٹ کیا ہے عباد! مجھے کم از کم تم سے ایسی امید نہیں تھی۔‘‘
وہ واقعی دکھی دکھائی دے رہی تھی۔ عباد سمجھ نہ سکا کہ آخر ہوا کیا ہے۔
’’میں سمجھا نہیں تم کیا کہنا چاہ رہی ہو۔‘‘
’’تم سمجھ بھی نہیں سکو گے بہر حال میں آسٹریلیا واپس جا رہی ہوں۔ زندگی میں پھر کبھی پاکستان واپس نہ آنے کے لیے۔‘‘
’’کیوں ایسا کیوں کہہ رہی ہو۔‘‘
’’دماغ خراب ہوگیا ہے میرا اس لیے۔ جس شخص کے خواب بچپن سے دیکھتی آئی۔ وہ شخص اب مجھ سے دستبردار ہو رہا ہے۔ اس لیے۔‘‘ اس بار اس کا لہجہ بھرایا تھا۔ عباد بے ساختہ گہری سانس بھر کر رہ گیا۔
’’اوہ‘ تو یہ بات ہے۔ میں بہت شرمندہ ہوں ہادی! میں نے واقعی تمہیں دکھی کیا ہے اور اس کے لیے میں شاید کبھی خود کو معاف نہ کرسکوں۔ مگر یہ حقیقت ہے۔ میں اس لڑکی کے بغیر خوش نہیں رہ سکتا۔ شاہ زر کو تو جانتی ہو تم؟ بہت عزیز دوست ہے میرا۔ اس کی بھی اپنی کزن سے کمنٹ منٹ تھی پھر انگیج بھی ہوگئے ایک دوسرے سے۔ مگر اچانک اسے کسی اور لڑکی سے محبت ہو گئی۔ دونوں کے بیچ جو پیار تھا سمٹ گیا۔ شاہ اس دوسری لڑکی سے شادی نہیں کرسکا مگر جس کزن سے شادی کی اسے بھی کچھ نہیں دے سکا۔ بہت نقصان کیا ہے اس نے اس لڑکی کا۔ میں تمہارا نقصان نہیں کرنا چاہتا۔ ہادی! پھر سے وہی کہانی اپنے اور تمہارے ساتھ نہیں دہرانا چاہتا‘ بہت اذیت ہوتی ہے اس کھیل میں اور حاصل کچھ بھی نہیں ہوتا۔‘‘ وہ بہت سنجیدگی سے کہہ رہا تھا۔ ہادیہ لب بھینچے سپاٹ موڈ کے ساتھ ڈرائیو کرتی رہی۔ گھر آکر وہ بنا اس سے مزید کچھ کہے سیدھی اپنے کمرے میں جا چھپی تھی۔ عباد کچھ دیر آسیہ بیگم کے پاس لائونج میں بیٹھا اپنے ٹور کی باتیں کرتا رہا۔ پھر آرام کی غرض سے اٹھ گیا۔ اگلے روز ناشتے پر اس کی مسز یاور سے بات ہوئی تھی۔ اتفاق سے اس وقت یاور صاحب اور ہادیہ ناشتے کے لیے وہاں نہیں تھے۔
’’مما! آپ نے صاعقہ کے لیے پاپا سے بات کی؟‘‘
’’ہوں تمہیں کیا لگتا ہے تم وہاں دن رات ایک کر کے بنا اپنی صحت کی پروا کیے کام کر رہے تھے تو میں یہاں بے نیاز بیٹھی تھی؟ نہیں میں مسلسل تمہارے پاپا کو کنوینس کررہی تھی اور خوش ہوجائو تمہاری لگن تمہاری محنت تمہارا کام دیکھتے ہوئے وہ مان بھی گئے ہیں۔‘‘ یاور صاحب کی معرفت انہیں صاعقہ کے راستے سے ہٹنے کی خبر ہوگئی تھی تبھی یوں دھڑلے سے جھوٹ بول رہی تھیں۔ تاہم عباد کھل اٹھا تھا۔
’’او تھینک یوں مما! مجھے یقین تھا آپ میری مدد کریں گی۔ میں واقعی بہت خوش ہوں۔‘‘ بانہیں ان کے گلے میں حمائل کرتے ہوئے وہ خوشی سے جھوم اٹھا تھا۔ آسیہ بیگم دل ہی دل میں اس کی سادگی اور اپنی کامیاب پلاننگ پر مسکرا دیں۔ عباد اسی روز اسلام آباد فلائی کر گیا تھا کہ ابھی اس کے بغیر شاہ زر کی خوشیاں ادھوری تھیں۔ بہت دنوں کے بعد ان دونوں نے پھر ایک دوسرے کو بھرپور کمپنی دی تھی۔ اپنی ڈھیروں باتیں ایک دوسرے سے شیئر کی تھیں۔ شاہ زر کی ہمراہی میں بھی اس نے کئی بار صاعقہ کا نمبر ٹریس کیا تھا مگر ہر بار آف ہی ملا۔ اگلے روز کراچی واپسی پر وہ سیدھا آفس چلا آیا تھا تاکہ صاعقہ سے مل سکے مگر وہاں جس اطلاع سے اس کا واسطہ پڑا اس نے اس کے قدموںتلے سے زمین نکال دی تھی۔
’’سر! صاعقہ بی بی تو ملازمت چھوڑ کر جا چکی ہیں۔‘‘
’’وہاٹ! مگر کیوں…؟‘‘
’’پتا نہیں سر! وہ اپنی تنخواہ بھی چھوڑ گئی ہیں۔‘‘
’’مگر یہ کیسے ہوسکتا ہے؟ اچھا ان کے ساتھ جو بی بی تھیں‘ کیا وہ بھی نہیں آرہیں؟‘‘
’’نہیں سر! ایک دو روز وہ آئی تھیں پھر وہ بھی نہیں آئیں۔ استعفیٰ مل گیا تھا ان کا۔‘‘
’’لیکن وہ ایسے کیسے کرسکتی ہے۔ ابھی تو وہ مشکل حالات کا شکار تھی۔ اتنی اچھی پے کہیں اور سے ملنے کا چانس بھی نہیں کہ یوں ملازمت ترک کردے؟‘‘
زیر لب بڑ بڑاتے ہوئے وہ اچھا خاصا پریشان ہوگیا تھا۔ برانچ مینیجر الگ الجھ کر رہ گیا۔
اگلے بیس منٹ میں وہ ہادیہ کے کمرے میں تھا۔
’’زہے نصیب! تو آج آفس کی یاد آگئی آپ کو۔‘‘ وہ اسے دیکھتے ہی چہکی تھی مگر عباد نے لب بھینچ لیے۔
’’مجھے تم سے کچھ پوچھنا ہے ہادیہ!‘‘
’’ہاں پوچھو۔‘‘
’’کیا میری غیر موجودی میں یہاں صاعقہ نام کی کوئی لڑکی آئی تھی۔‘‘
’’پتا نہیں‘ آئی ہوگی۔ مجھ سے تو نہیں ملی کیوں! کوئی اسپیشل لڑکی تھی کیا؟‘‘
’’ہاں۔‘‘
’’اوہ! پھر تو ملنا چاہیے تھا۔ کہیں وہ ریستوران والی لڑکی تو نہیں تھی؟‘‘ وہ اب لطف لے رہی تھی۔ عباد بے بس سا پلٹ گیا۔
’’سنو! انکل سے پوچھ لینا ہوسکتا ہے ان سے ملی ہو۔‘‘
’’جسٹ شٹ اپ۔‘‘ بھنّا کر کہتا وہ کمرے سے نکل گیا تھا۔ پیچھے ہادیہ کھل کر مسکرادی۔
///
دھول اڑاتی کچی سڑک پر بے نیازی سے چلتی وہ کوئی سودائی ہی دکھائی دے رہی تھی۔ وہ کنواں جو اس نے محض ایان کو سبق سکھانے کے لیے کھودا تھا اس کنویں میں وہ خود گر پڑی تھی۔ نا صرف پورے گائوں میں رسوائی ہوگئی تھی بلکہ سانول کو بھی کھو دیا تھا۔ اس سانول کو جو اس کا خواب اس کا غرور تھاکیا۔ رہا تھا اس کے پاس‘ کچھ بھی تو نہیں!
نفرتوں کے سلسلوں میں کبھی کسی نے کچھ پایا بھی نہیں۔ بس کھویا ہی کھویا ہے۔ جیسے اس نے کھو دیا تھا۔
اپنے خیالوں میں غرق‘ نپے تلے قدم اٹھاتی‘ وہ پرانے کنویں کے پاس پہنچی تھی۔ جب اچانک دھواں اڑاتی ایک ٹیکسی اس کے عین قریب آرکی۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ سنبھل پاتی ٹیکسی کا اگلا دروازہ کھلا اور اگلے ہی پل ایان اس کے مقابل آ کھڑا ہوا۔ علیزہ کی آنکھیں اسے مقابل پا کر کھلی کی کھلی رہ گئی تھیں۔
’’چلو ڈیئر! حساب کتاب کا وقت شروع ہوگیا ہے۔‘‘ لبوں کی تراش میںہلکی سی مسکراہٹ لیے وہ بولا تھا۔ علیزہ نے گھبرا کر اِدھر اُدھر دیکھا وہاں اس سڑک پر دور دور تک کسی ذی روح کا نام و نشان تک نہیں تھا۔ ادریس شاہ کی لاش اس پرانے کنویں سے بر آمد ہونے کے بعد گائوں کے لوگوں نے شام ڈھلنے کے بعد وہ راستا جیسے ترک کردیا تھا۔ علیزہ خود آج پہلی بار حویلی سے باہر نکلی تھی۔ وہ بھی ’’سائیں جی‘‘ کے مزار پر حاضری دینے اور دیا جلانے کہ پچھلے دنوں سے حویلی کی چار دیواری میں اس کا دل بہت گھبرا رہا تھا۔
اس وقت خود کو مشکل میں گرفتار پا کر وہ الٹے پائوں بھاگی تھی۔ جب ایان نے لپک کر اس کا بازو دبوچا اور اگلے ہی پل گھسیٹ کر ٹیکسی کا پچھلا دروازہ کھول کر اندر دھکیل دیا۔
’’بہت ہوشیاری دکھالی تم نے علیزہ بی بی! اب اور نہیں‘ یہ گائوں‘ یہ گلی کوچے‘ تم نے میرے لیے شجرِ ممنوع بنا دیے تھے۔ آج سے تمہارے لیے بھی یہ شجر ممنوع ہی ہوں گے۔ رہتی زندگی تک تم دھول اڑاتی ان کچی سڑکوں کے لیے تڑپو گی۔ مگر چاہتے ہوئے بھی کبھی دوبارہ یہاں آ نہیں پائو گی۔ تم نے میری ہمدردی‘ میری محبت کا مذاق اڑا کر‘ مجھے رسوائی سونپی تھی۔ آج سے میں تمہیں بتائوں گا ہمدرد اور محبت کرنے والا مرد جب بے حس ہوجاتا ہے تو وہ عورت کو کیسے رکھتا ہے۔‘‘ اپنا دایاں ہاتھ سختی سے اس کے منہ پر جمائے چبا چبا کر کہتے ہوئے وہ اسے تنبیہ کر رہا تھا اور علیزہ کی جان جیسے اس کے جسم سے نکلتی جا رہی تھی۔
انسان کو اپنا بویا ہمیشہ کاٹنا پڑتا ہے۔ ایک مرد کی محبت میں دکھ اٹھانے کے بعد نازوں پلی اس حسین دوشیزہ نے‘ ہر مرد کو جیسے اپنا شکار بنالیا تھا اور یہی سب سے بڑی حماقت تھی اس کی۔ اچھے برے ہر انسان کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنا بھلا جائز بھی کہاں تھا؟ دو گھنٹے کا تیز رفتار سفر اسے صدیوں پر محیط لگا تھا۔ ٹیکسی دو‘ سوا دو گھنٹے کے بعد ایک پرانے کھنڈر نما مکان کے قریب رکی تھی۔ ایان نے ڈرائیور کو مطلوبہ کرایہ دے کر رخصت کیا اور مکان کے اندر لے کر آگیا۔ علیزہ نے دیکھا کچی آبادی کا بوسیدہ اجاڑ علاقہ تھا۔ گنتی کے چند گھر وہاں آباد تھے مگر اس کے باوجود ایک عجیب سی وحشت اور سنّاٹا تھا جو وہاں ہر سُو پھیلا دکھائی دے رہا تھا۔ اس کا دل خوف سے مزید دھڑکنے لگا۔ جانے وہ اس کا کیا حشر کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔ ابھی وہ اندر داخل ہی ہوا تھا کہ چار پانچ مزید مرد ایک ٹیکسی میں وہاں پہنچ گئے۔ علیزہ انہیں دیکھتے ہی خوف سے دہل گئی تھی۔ اپنا بھیانک انجام اسے آنکھوں کے سامنے دکھائی دے رہا تھا۔ شاید تبھی اس نے روتے ہوئے ایان کے سامنے ہاتھ جوڑے تھے۔
’’مجھے معاف کردو‘ خدا کا واسطہ ہے تمہیں‘ مجھے معاف کردو۔ میری اتنی تذلیل مت کرو ایان! خدا نے تمہیں انتقام کا موقع دے ہی دیا ہے تو اسی پاک خدا کے واسطے میرا گلا گھونٹ کر مجھے ابدی نیند سلا دو مگر یوں میری آخرت خراب مت کرو‘ پلیز۔‘‘
’’ہاہاہاہا تم جیسی بد کردار بھٹکی ہوئی لڑکی کے منہ سے آخرت کی بات بہت عجیب لگ رہی ہے ڈیئر۔ بہر حال مستحق تو تم ایسے ہی کسی انجام کی ہو مگر تمہاری خوش قسمتی ہے کہ میں نے ایک مومن عورت کے بطن سے جنم لیا ہے۔ غصے اور انتقام میں بھی میں اپنے ربّ کی قائم کردہ حدود کی خلاف ورزی نہیں کرسکتا اور نہ ہی میرے ان دوستوں کا ایسا کوئی ارادہ ہے۔ ابھی یہ لوگ یہاں میری درخواست پر‘ بطور نکاح کے گواہان آئے ہیں۔ تمہیں اگر یہ نکاحِ منظور نہ ہوا تو آگے کیا کہوں اب رہنا تو تمہیں یہاں میرے ساتھ ہی ہے۔‘‘ وہ اسے جتنا سیدھا سمجھتی تھی۔ وہ اتنا سیدھا نہیں تھا اور نا ہی اس وقت وہ جو کچھ کہہ رہا تھا۔ وہ محض ’’بڑھکی‘‘ تھی۔ اسے عقل سے کام لینا تھا اور عقل کا تقاضا اس وقت یہی تھا کہ وہ اس کی بات مان لے۔آنے والے پانچ افراد میں ایک مولوی صاحب بھی تھے۔ وہ جتنی خود سر اور لاڈلی تھی۔ زندگی کے اس خوب صورت بندھن کے لیے جتنے خواب اس نے آنکھوں میں سجائے تھے وہ سب اس لمحے چکنا چُور ہوگئے تھے۔ فقط چند گھڑیوں میں بہت خاموشی اور سادگی کے ساتھ وہ علیزہ ملک سے علیزہ ایان بن گئی تھی۔
کیسا عجیب مذاق تھا زندگی کا کہ نکاح کے خوب صورت بندھن میں بندھنے کے باوجود اندر کہیں کوئی امنگ نہیں جاگی تھی۔ کسی قسم کی سرشاری نے اس کے وجود میں سر نہیں اٹھایا تھا۔ شاید وہ جانتی تھی کہ اس بندھن کی بنیاد کیا ہے اور شاید اسی لیے اس نے خود کو اس لمحے اس قیدی کی طرح محسوس کیا تھا جس کا جرم ثابت ہوجانے کے بعد اسے عدالت سزائے موت سے بچا کر عمر قید کی نوید سنا دے۔
ایان اب مہمانوں کو کھانا کھلا رہا تھا اور وہ دوسرے کمرے میں سر نہیوڑائے بیٹھی اپنے ہاتھوں کو آپس میں مسلتے ہوئے وہاں سے فرار کی ترکیب سوچ رہی تھی۔
///
نشے میں دھت وہ ٹیبل پر اوندھے منہ پڑی تھی۔ جب سرمد اسے ڈھونڈتا وہاں آ پہنچا۔
’’بریرہ…!‘‘ اس کی پکار میں درد تھا۔ مگر سننے والی کاہوش قائم ہی کہاں رہا تھا۔ جو وہ اسے کوئی جواب دیتی نتیجتاً اسے جھک کر خود اسے سنبھالنا پڑا تھا۔
’’منع کیا تھا نا تمہیں مت آیا کرو ان کلبوں میں کیوں اثر نہیں ہوتا تم پر۔‘‘ شدت دکھ سے اسے جھنجوڑتے ہوئے وہ برہم ہوا تھا۔ جب بریرہ نے آنکھیں کھول دیں۔
’’سونے دو نا مت ڈسٹرب کرو مجھے پلیز۔‘‘
’’سونے کی جگہ نہیں ہے یہ چلو!‘‘ اسے بازو کا سہارا دے کر سختی سے گھسیٹتا ہوا وہ ’’نائٹ کلب‘‘ سے باہر آیا تھا۔
’’کیوں ہاتھ دھو کر خود اپنے پیچھے پڑ گئی ہو بریرہ! شاہ زر کو کھو چکی ہو‘ اب کیا عزت سے بھی ہاتھ دھو گی؟‘‘ وہ رنجیدہ تھا مگر بریرہ جسے کچھ سن ہی نہیں رہی تھی۔ سوئے اعصاب اور بوجھل پلکوں کے ساتھ وہ مکمل طور پر اس کے رحم و کرم پر تھی۔ سرمد نے گاڑی کے قریب پہنچ کر اسے فرنٹ سیٹ پر دھکیل دیا۔
’’تمہیں پتا ہے‘ اس نے شادی کرلی ہے۔ انوشہ رحمن سے…؟‘‘
پلکیں موندے سر سیٹ کی پشت سے ٹکائے وہ مد ہوشی میں بڑبڑا رہی تھی۔ سرمد نے ایک نظر اسے دیکھا اور دروازہ بند کردیا۔ جب وہ گھوم کر اپنی سیٹ پر آیا تو اس کی بند پلکوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔
’’وہ میرا دوست تھا صرف میرا‘ اس نے کہا میں دنیا کی سب سے بہترین لڑکی ہوں۔ پھر بھی‘ پھر بھی اس نے مجھے چھوڑ دیا۔ دنیا کی سب سے بہترین لڑکی کو۔ کوئی محبت میں ایسا کرتا ہے؟ کوئی سب سے بہترین لڑکی کو یوں اس طرح سے چھوڑتا ہے؟ وہ بھی انوشہ رحمن جیسی لڑکی کے لیے۔‘‘ وہ بری طرح ٹوٹی تھی اور سرمد اس کا درد سمجھ سکتا تھا تبھی مسکرا یا۔
’’جو چھوڑ دیتے ہیں وہ محبت نہیں کرتے بری!‘‘
’’تو کیا کرتے ہیں؟‘‘ اس کی پلکیں ہنوز بند تھیں۔ سرمد نے گاڑی اسٹارٹ کرلی۔
’’خون کرتے ہیں دلوں کا، حسین خوابوں کا۔‘‘
’’کیوں؟‘‘
’’پتا نہیں سالوں صدیوں سے کسی کو اس ’’کیوں‘‘ کا جواب نہیں ملا ہے۔ اگر مل جاتا تو شاید یہ سلسلہ بھی رک جاتا۔‘‘
’’ہم کہاں جا رہے ہیں؟‘‘
’’گھر…!‘‘
’’نہیں‘ مجھے گھر نہیں جانا وہ گھر نہیں زندان ہے میرے لیے۔ میرا دم گھٹتا ہے وہاں۔‘‘
’’تو ٹھیک ہے میرے ساتھ میرے گھر چلو‘ میں آنٹی کو فون پر مطلع کروں گا کہ تم میرے ساتھ ہو۔‘‘ اس نے آفر کی تھی۔ بریرہ اس بار خاموش رہی اس کے اندر جیسے الائو دہک رہا تھا۔ ’’آج موسم میں بہت خنکی ہے اور تم نے کوئی شال کوئی اوور کوٹ نہیں لیا۔‘‘
’’تمہیں خنکی محسوس ہو رہی ہوگی۔ مجھے تو لگتا ہے میں دوزخ میں جل رہی ہوں۔ یہ سزا بہت بھاری ہے سرمد! میں نہیں سہہ پا رہی اسے۔ میری آنکھیں جل جل کر راکھ ہوگئی ہیں۔ سانس ہے کہ کھینچ کر لینے سے بھی نہیں آتی۔‘‘
’’تھوڑی سی بہادری سے کام لو اور خود کو سنبھالو گی تو اس کیفیت سے نکل آئو گی۔‘‘
’’نہیں میں نا اسے بھلا سکتی ہوں نا خود کو سنبھال سکتی ہوں۔‘‘
’’ایسے تو جینا بہت مشکل ہوجائے گا بری!‘‘
’’ہوگیا ہے اب اور کیا ہوگا۔‘‘
’’تمہیں اچھا لگتا ہے اپنے غم کو اشتہار بنا کر گلے میں لٹکانا۔‘‘
’’نہیں! مگر اس غم نے مجھے اشتہار بنا ڈالا ہے۔‘‘
’’تو نکل آئو ناں اس عذاب سے میں وعدہ کرتا ہوں بری! تمہیں کبھی ٹوٹ کر بکھرنے نہیں دوں گا۔‘‘
’’یہ وعدہ تو اس نے بھی کیا تھا مگر کیا ہوا؟ تم مَردوں کو بھلا اپنے وعدے یاد ہی کہاں رہتے ہیں۔‘‘ اس کا یقین ٹوٹ کر چکنا چُور ہوچکا تھا اور اب چکنا چُور ہوئے اس یقین کو دوبارہ بحال ہونے میں کچھ وقت تو لگنا ہی تھا۔ سرمد نے سست روی سے چلتی گاڑی اپنے گھر کے پورچ میں روک دی۔
’’چلو…!‘‘ اپنی سیٹ چھوڑ کر وہ پچھلی سائیڈ پر جھکا تھا۔ بریرہ مدہوش سی گاڑی سے نکل آئی۔
’’میں اس سے انتقام لینا چاہتی ہوں سرمد! اسے اس کی بے وفائی کی سزا دینا چاہتی ہوں۔ جیسے اس نے مجھے تماشا بنایا ہے‘ میں بھی اسے تماشا بنانا چاہتی ہوں۔ وہ بھی رات کو نرم بستر پر سوئے تو اسے کانٹے چُبھیں وہ بھی میری طرح بے بس ہو کر خود سے فرار کے لیے کلبوں کی خاک چھانتا پھرے‘ اسے بھی سکون کی دولت نصیب نہ ہو سرمد! ایڑھیاں رگڑ رگڑ کر محبت مانگے مگر اسے اس لڑکی کی محبت نہ ملے۔‘‘ لڑکھڑاتے قدموں سے چلتی ہوئی وہ کہہ رہی تھی۔ سرمد ضبط سے سنتا رہا۔
’’بس! میں یہیں رکوں گی۔ یہاں اس پول کے پاس۔ دیکھو اس کے شفّاف پانی میں میرا چہرہ کتنا بھیانک دکھائی دے رہا ہے۔ دیکھو سرمد! وہ چاند ہنس رہا ہے مجھ پر۔ مجھے اپنی اوقات دیکھنے دو۔‘‘
بچوں کی طرح مچل کر وہ سوئمنگ پول کے قریب بیٹھ گئی تھی۔ سرمد خود کو عجیب بے بس سا محسوس کرتا خود بھی وہیں ٹک گیا۔ اس نے صبح سے اب تک کچھ بھی نہیں کھایا تھا۔ نہ ہی کل رات سے وہ سو سکا تھا۔ اس وقت اس کا وجود تھکن سے چور ہو رہا تھا مگر یہ بریرہ رحمن کے لیے اس کی محبت تھی کہ وہ پھر بھی اس کے ساتھ شدید ٹھنڈ میں جا گ رہا تھا۔
’’پتا نہیں وہ اس وقت کیا کر رہا ہوگا۔ شاید اس لڑکی کو اپنی محبت کا یقین دلا رہا ہو۔ شاید اسے بھی کہہ رہا ہو کہ وہ دنیا کی سب سے بہترین لڑکی ہے‘ ہے نا۔‘‘اپنے حال میں مست وہ قیاس لگا رہی تھی۔ سرمد کے لب خاموش رہے۔
’’جب جب وہ اس کے پاس جائے گا تو کیا اسے میری یاد نہیں آئے گی۔ جب‘ جب وہ اس سے بات کرے گا۔ تو کیا میرا تصور اسے بے کل نہیں کرے گا؟ مم… میں اس کی بیوی تھی… سرمد… مم… میں نے اس کے لیے ماں بننے کا اعزاز بھی گنوا دیا۔ ہری بھری شاخ سے اجاڑ درخت ہوگئی میں‘ پھر بھی… پھر بھی اس نے مجھے طلاق دے دی۔ کیوں؟ میں نے کچھ مانگا تھا اس سے؟ کچھ بھی تو نہیں مانگا‘ میں تو اس کے حکم پر چپ چاپ یہاں چلی آئی تھی۔ اس امید پر کہ وہ کبھی تو پلٹ کر میری طرف آئے گا مگر‘ وہ میری طرف نہیں آیا۔‘‘
نیند اور نشے سے خمار آلود نگاہیں آنسو بہاتی ہوئی کیسے اس کا درد اجاگر کر رہی تھیں۔ سرمد بخوبی دیکھ رہا تھا۔ شاید تبھی بے کل ہو کر اس نے اپنا رخ اس کی طرف پھیرا تھا۔
’’ان درد ناک تصورات سے نکل آئو بری! خدا کا واسطہ ہے تمہیں… مت یوں بے مول لٹائو یہ موتی جو مجھے جان سے بھی پیارے ہیں۔‘‘ اس کی انگلیوں کی پوریں بریرہ کے آنسو سمیٹ رہی تھیں جواب میں وہ نڈھال سی سمٹ کر اپنا سر اس کے زانوں پر رکھ گئی۔
’’تمہیں برا نہ لگے تو آج کی رات میں یہیں سوجائوں سرمد!‘‘ اس وقت وہ پچیس سالہ دوشیزہ نہیں کوئی پانچ سالہ معصوم سی بچی لگ رہی تھی۔ شاید تبھی اس کا سر اثبات میں ہل گیا تھا اور بریرہ اجازت ملتے ہی فوراً اس کے دائیں زانو پر سر ٹکا کر پلکیں موند گئی۔

ہَوا بن کر بکھرنے سے اسے کیا فرق پڑتا ہے؟
میرے جینے سے مرنے سے اسے کیا فرق پڑتا ہے؟
اسے تو اپنی خوشیوں سے ذرا فرصت نہیں ملتی
میرے غم کے ابھرنے سے اسے کیا فرق پڑتا ہے؟
میں کہ اس شخص کی یادوں میں رو کر ختم ہوجائوں
میرے اس طرح کرنے سے اسے کیا فرق پڑتا ہے؟

سرگوشیانہ انداز میں دل کی تمام تر شدتوں کے ساتھ وہ بول رہی تھی۔ سرمد دھیرے دھیرے اس کی ریشمی زلفوں میں انگلیاں چلاتا گہری سانس بھر کر رہ گیا۔
’’میں تمہیں اس شخص کے غم میں فنا ہونے نہیں دوں گا بری! بہت جلد تم بھی ہنسو گی۔ ہر دکھ کا کانٹا اپنے دل سے نکال کر زندگی کی بہاروں کا لطف اٹھائو گی۔ تمہارا ہر آنسو میں اپنی پلکوں سے چنوں گا۔ تمہارا ہر دکھ میں اپنے سینے میں چھپائوں گا۔ یہ وعدہ ہے میرا تم سے اور خود اپنے آپ سے بھی کہ میں بہت جلد تمہارے دل میں اپنا مقام بنالوں گا۔ تم گردن جھکا کر دیکھو گی تو صرف سرمد نظر آئے گا۔ شاہ زر کا نام و نشان بھی نہیں ہوگا کہیں۔‘‘ اس کا لہجہ بھی سرگوشی سے بلند نہیں تھا مگر سننے والی کو نیند آگئی تھی۔
’’ایک نا محرم مسیحا کی پناہ میں درد سے بے حال وہ زخمی چڑیا اب سکون کی نیند سو رہی تھی اور وہ جو تھکن سے چور میٹھی نیند کا خواہاں تھا۔ اپنی انمول محبت کو قیمتی متاع کی طرح آغوش میں سنبھالنے پوری رات کسی پتلے کی طرح بے حس و حرکت تالاب کے کنارے بیٹھا رہا تھا کہ کہیں اس کی ہلکی سی جنبش سے اس کی محبت کی آنکھ نہ کھل جائے۔ تھکن‘ بھوک اور ٹھنڈ‘ بریرہ رحمن کے سکون اور نیند کے بدلے میں ہلکی پڑ گئی تھی۔ وقت بے شک بہت آگے نکل آیا تھا مگر انگلینڈ جیسے بے باک ملک کی سرد فضائوں میں اس رات پول کے کنارے بیٹھا‘ ساری رات آنکھوں میں کاٹتا وہ شخص موجودہ وقت کا سرمد خان سہی مگر گزرے ہوئے وقت کا ’’مہینوال‘‘ ثابت ہوا تھا۔
کچے گھڑے پر تیر کر چناب کی تند خو موجوں سے کھیلنے والی سوہنی کی طرح اگر اس کی بریرہ اس سے اس کی زندگی کی فرمائش کرتی تو اس وقت وہ یہ بھی کر گزرتا کہ بریرہ رحمن کے لیے اس کی محبت ایسی ہی گہری تھی۔
///
پوری رات عذاب کے عالم میں بسر کرنے کے بعد صبح جب وہ بیدار ہوا تو آنکھیں خوب سرخ ہو رہی تھیں۔ فجر سے کچھ پہلے آنکھ لگی تھی اور اب صبح کے نو بج رہے تھے۔ گڑیا کو شدید بخار تھا مگر وہ اسے سنبھال نہیں پا رہا تھا۔ پچھلے چند ماہ سے وہ مکمل طور پر امامہ کی ذمہ داری بن گئی تھی۔ بہت چالاکی سے اس نے اسے اور اس کی بیٹی کو اپنا عادی بنا لیا تھا اور اب وہ اس کے بغیر جی نہیں پا رہا تھا۔ اس کا سیل اب بھی آف تھا مگر گھر کے نمبر پر مسلسل بیل ہو رہی تھی۔ وہ جانتا تھا لائن کے دوسری طرف فائزہ آپا ہوں گی اور وہ اس سے اس کے ایس ایم ایس کی وضاحت مانگیں گی مگر وہ اس وقت انہیں کوئی بھی وضاحت دینے کی پوزیشن میں نہیں تھا۔ تبھی سختی سے ملازمین کو بھی فون اٹھانے سے منع کردیا تھا۔ ایک ہفتہ اسی عذاب کی نذر ہوگیا تھا جب اس روز اچانک ثانیہ (سابقہ بیوی) کی کال آگئی۔ وہ ٹینس نہ ہوتا تو شاید کبھی اس اجنبی نمبر کو ریسیو نہ کرتا۔
’’ہیلو شجی!‘‘ اور یہیں پر وہ ٹھٹکا تھا۔ شجی کہنے والی ثانیہ کے علاوہ اور کوئی نہیں ہوسکتی تھی۔
’’ہوں بولو۔‘‘ بہت تاخیر کے بعد اس نے جواب دیا تھا جب وہ بولی۔
’’کیسے ہو‘ سنا ہے ترقی ہوگئی ہے؟‘‘
’’ہوں۔‘‘ کیسے ہو کو پھر نظر انداز کردیا تھا اس نے۔
’’میں تم سے ملنا چاہتی ہوں شجی! بہت کمی محسوس ہو رہی ہے تمہاری۔‘‘
’’ٹھیک ہے آفس آجانا۔‘‘
’’کیوں… گھر پر ملنے سے ڈر لگتا ہے؟ خیر لگنا بھی چاہیے۔ سنا ہے بہت خوب صورت لڑکی سے شادی کرلی ہے تم نے۔‘‘ وہ اسے تنگ کر رہی تھی شجاع نے اکتا کر کال ڈراپ کردی۔ تبھی ڈاکٹر عاطف بنا‘ اطلاع دیے چلے آئے تھے۔
’’شجی تم ٹھیک تو ہو؟‘‘ قدرے متفکر سے وہ سیدھے اس کے بیڈ روم میں گھس آئے تھے۔ شجاع بے بس سا انہیں دیکھتا اثبات میں سر ہلا گیا۔
’’بہت ٹینس لگ رہے ہو‘ کال بھی ریسیو نہیںکر رہے‘ میرے پاس فائزہ آپا کی کال آئی تھی۔ بہت بری طرح رو رہی تھیں۔ بتا رہی تھیں کہ بابا کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔ اسپتال میں ایڈمٹ ہیں۔ سب ٹھیک تو ہے نا!‘‘
’’پتا نہیں یار! کہیں کچھ بھی نہیں ہے۔ میں کرتا ہوں ابھی آپا سے بات‘ بلکہ میرا خیال ہے کل صبح یا شام کی فلائٹ سے آپا کے پاس ہی چلا جاتا ہوں۔‘‘
’’ہوں یہی بہتر ہے۔ میرا خیال ہے اس وقت تمہارا وہاں ہونا ضروری ہے۔ یہاں تو ویسے بھی محفوظ نہیں ہو تم۔‘‘ وہ امامہ والے واقعے سے قطعی بے خبر تھے۔ شجاع نے پھر اثبات میں سر ہلادیا۔
ڈاکٹر عاطف کے جانے کے بعد اس نے اپنی غفلت پر افسوس کرتے ہوئے فوری فائزہ آپا کو کال ملائی تھی۔ جواباً وہ روپڑیں۔
’’کیا ہوا ہے امامہ کے ساتھ شجی! تم نے اکیلے باہر نکلنے کیوں دیا اسے؟‘‘
’’بابا کیسے ہیں آپا!‘‘
’’زندگی اور موت کے درمیان جھول رہے ہیں۔ امامہ والی خبر سن لی تھی انہوں نے۔ اسی سے ہارٹ اٹیک ہوگیا۔‘‘
’’میں آرہا ہوں آپ کے پاس فوری۔‘‘
’’’پاگل ہوئے ہو؟ وہاں امامہ کی تدفین۔‘‘
’’چھوڑ دیجیے امامہ کے ذکر کو آپا پلیز۔ کچھ نہیں ہوا ہے اسے۔ بس کہیں کھو گئی ہے۔ میں آرہا ہوں۔ آپ کے پاس۔ بات مکمل کرتے ہی اس نے کال ختم کی تھی۔ ایک شاک پہلے دیا تھا اس نے اور ایک اب دے دیا تھا۔ فائزہ آپا ہکّا بکّا سی رہ گئیں۔ اگلے روز کے ڈوبتے سورج سے قبل وہ ان کے پاس پہنچ گیا تھا مگر اگلے روز کا ڈوبتا سورج اپنے ساتھ قدرت اللہ صاحب کی زندگی بھی لے گیا تھا۔ شجاع نے جس وقت ان کے کمرے میں قدم رکھا تھا اسی لمحے انہوں نے ہمیشہ کے لیے پلکیں موندی تھیں۔ شجاع حسن کی زندگی کا ایک اور بڑا نقصان ہوگیا تھا۔ فائزہ آپا بلک بلک کر رو رہی تھیں مگر وہ خاموش تھا یوں جیسے طوفان آنے سے پہلے سمندر خاموش ہوجاتے ہیں۔ گڑیا کو فائزہ آپا کی بیٹی نے سنبھالا ہوا تھا۔
پندرہ بیس روز اسی غم اور نقصان کے حصار میں گزر گئے تھے۔ شجاع حسن کا پاکستان واپس آنے کو دل ہی نہں چاہ رہا تھا مگر واپس تو آنا ہی تھا۔ تاہم واپسی سے قبل اس نے امامہ حسن کی ساری کہانی فائزہ آپا کو سنا دی تھی۔ جسے سن کر وہ اس پر خاصی برہم ہوئی تھیں۔
’’مجھے تم سے ایسی جہالت کی امید نہیں تھی شجی! وہ جیسی بھی تھی تمہاری عزت تھی۔ اس سے جو حماقت بھی سر زد ہوئی مگر سزا بہت بڑی دی تم نے۔ کوئی اپنی عزت کو یوں اوباش لوگوں کے سپرد کرکے آتا ہے وہ بھی آدھی رات کو؟ اور وہ بھی ایک پڑھا لکھا‘ ذہن و فطین‘ سمجھدار ڈی آئی جی۔‘‘
’’مجھے اوباش لوگوں کا اندازہ نہیں تھا آپا! ویسے بھی عورت کے معاملے میں ہمیشہ مرد کی عقل جواب دے جاتی ہے۔‘‘
’’ٹھیک ہے ایک پل کو مان لیتی ہوں کہ تمہاری عقل جواب دے گئی تھی مگر کوئی اپنی بیوی کو‘ اس کے نا محرم کزن کے سپرد بھی کر کے آتا ہے کوئی۔ کیا سوچ کر اسے سونپنے گئے تھے تم کہ بڑی بہادری کا کارنامہ سر انجام دے رہے ہو۔ کچھ اندازہ ہے تمہیں کہ کیا ہوا ہوگا اس کے ساتھ۔ جانے کہاں گئی ہو گی وہ۔ اتنی پیاری گڑیا سی لڑکی‘ جانے زندہ بھی ہو گی کہ نہیں۔‘‘ آپا کے آنسو تھے کہ خشک ہونے کا نام نہیں لے رہے تھے۔
وہ بے کل سا ان کے قریب سے اٹھ کھڑا ہوا۔
’’میں پہلے ہی بہت پریشان ہوں آپا! خدا کا واسطہ ہے آپ مزید پریشان مت کریں۔ گڑیا کو آپ کے پاس چھوڑے جا رہا ہوں۔ خیال رکھیے گا اس کا ایک ماہ بعد دوبارہ چکر لگائوں گا تو واپس لے جائوں گا۔‘‘
اس کی فلائٹ کا وقت ہو رہا تھا۔ لہٰذا بیگ سنبھال کر وہ جانے کو تیار ہوگیا۔ گڑیا اس وقت سو رہی تھی۔ جاگ رہی ہوتی تو اسے کبھی تنہا واپس نہ آنے دیتیں۔فائزہ آپا نے رخصتی کے وقت اسے خوب پیار کیا تھا۔ ساتھ ہی اپنا خیال رکھنے کی ہدایت بھی کی۔ رات دو بجے پاکستان اپنے گھر واپس پہنچا تھا۔ جناب قدرت اللہ صاحب کی تدفین وہیں ہوگئی تھی کہ فائزہ آپا کا مستقل ٹھکانا وہیں تھا۔
گھر واپسی کے بعد جونہی اس نے ٹی وی لائونج میں قدم رکھا۔ ٹھٹک کر رک گیا۔ ثانیہ ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے بڑے استحقاق کے ساتھ صوفے پربیٹھی ٹی وی دیکھ رہی تھی۔ وہ ضبط کی ہزار کوشش کے باوجود اسے دیکھ کر تڑپ اٹھا۔
’’تم…؟‘‘
’’اوہ! آگئے تم؟ کتنے دنوں سے تمہارا انتظار کر رہی تھی۔ میری بیٹی کہاں ہے؟‘‘
’’تمہاری کوئی بیٹی نہیںہے۔ سنا تم نے؟ اب چلی جائو یہاں سے۔ میں تمہاری شکل دیکھنا بھی نہیں چاہتا۔‘‘
’’جانتی ہوں‘ مگر میں تم سے بہت شرمندہ ہوں شجی! میرا خدا جانتا ہے میں اپنے فیصلے پر بہت پشیمان ہوں‘ کوئی رات ایسی نہیں ہے جب رو کر نہ سوئوں۔‘‘
’’مگر مجھے تمہارے ہنسنے رونے سے کوئی دل چسپی نہیں ہے۔ دوبارہ اس گھر میں قدم رکھنے کا سوچنا بھی مت۔‘‘
’’ٹھیک ہے نہیں سوچوں گی مگر کبھی کبھی تو مل ہی سکتے ہیں ہم۔‘‘
’’کیوں اب کیا رہ گیا ہے ملنے کو؟‘‘
وہ تلخ ہوا تھا ثانیہ کا سر جھک گیا۔
’’کیا تم مجھے معاف نہیں کرسکتے شجاع!‘‘
’’نہیں!‘‘
’’ٹھیک ہے مت کرو معاف مگر میں اب تمہارے بغیر نہیں رہ سکتی۔‘‘
اسے بیٹی کی پروا اب بھی نہیں تھی۔ شجاع اسے نظر انداز کرتا اپنے بیڈ روم میں چلا آیا۔
’’دوسری بیوی کہاں ہے تمہاری۔ دکھائی نہیں دے رہی۔ گڑیا کا بھی نہیں بتایا تم نے؟‘‘ وہ بھی اس کے پیچھے ہی چلی آئی تھی۔ شجاع نے بیگ سائیڈ پر رکھ کر خود کو بیڈ پر گرا لیا۔
’’وہ دونوں ملک سے باہر ہیں‘ فائزہ آپا کے پاس۔ اب جائو۔‘‘
’’جا رہی ہوں۔ مگر کل پھر آئوں گی۔ میری زندگی میں اب حقیقتاً تمہارے سوا کوئی نہیںہے شجاع!‘‘
’’جسٹ شٹ اپ ثانی! اب چلی جائو یہاں سے!‘‘
اس عورت کے لیے کبھی وہ جان دیتا تھا مگر اب وہی عورت خود چل کر اس کے پاس آگئی تھی پھر بھی وہ اسے دھتکار رہا تھا۔ وقت وقت کی بات ہوتی ہے۔ ثانیہ اس کے لہجے پر مسکرائی تھی۔
’’اس وقت گرج کر کسے دکھا رہے ہو تم؟ ملازم تو سب جا چکے لائو میں سر دبا دوں تمہارا۔ بیوی نہ سہی دوست ہی سہی۔‘‘
’’کوئی ضرورت نہیں ہے۔‘‘
’’ٹھیک ہے‘ خیر میں ایک کام سے آئی تھی تمہارے پاس۔‘‘
’’جانتا ہوں میں۔ کام سے ہی آسکتی ہوں تم۔ بولو کیا چاہتی ہو اب؟‘‘
’’کچھ خاص نہیں معمولی سی سفارش چاہیے تمہاری۔ اصل میں‘ میں نے ایک چھوٹا سا کلب ارینج کیا ہے یونہی موج مستی کے لیے۔ کئی معزز خواتین کی رکنیت بھی حاصل ہوگئی ہے۔ بچے بچیاں بھی آجاتے ہیں یونہی خود کو فریش کرنے۔ تو میں چاہ رہی تھی کبھی کبھی کوئی خاص فنکشن ہو تو ذرا سا پینے پلانے کا بندوبست بھی ہوجائے۔ مگر اس کی اجازت نہیں مل رہی۔ اگر تم ذرا سی سفارش کردو تو میرا کام بن سکتا ہے۔‘‘
’’تمہیں کیا لگتا ہے میں یہ کام کروں گا۔‘‘
’’نہیں‘ میں جانتی ہوں تم نہیں کرو گے مگر‘ میں نے سوچا تم سے گزارش کروں تو شاید تم مان جائو۔‘‘
’’سوری میں اس سلسلے میں تمہارئی کوئی مدد نہیں کرسکتا۔ نا آج نا کبھی۔‘‘
’’مگر میں بہت امید لے کر آئی ہوں شجاع! تم تو جانتے ہو آج کل نوجوان نسل۔‘‘
’’بھاڑ میں گئی نوجوان نسل اور بھاڑ میں گئیں ان کے ساتھ تم۔ کان کھول کر سن لو ثانیہ بیگم! میں تمہیں اپنی زندگی‘ اپنے دل‘ اپنے گھر سے بے دخل کرچکا ہوں۔ لہٰذا میرا اب تم سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔ اگر میں خواتین کے معاملے میں نرم خو ہوں تو اسے میری کمزوری مت سمجھو‘ کبھی سب کچھ تھیں تم میرے لیے مگر اب… کچھ بھی نہیں ہو۔ خدا کا واسطہ ہے تمہیں۔ اب جائو یہاں سے میرا سر پہلے ہی سفر کی تھکان اور درد سے پھٹ رہا ہے۔ تمہاری بہتری اسی میں ہے کہ اس وقت یہاں سے چلی جائو‘ ورنہ میں بھول جائوں گا کہ تمہارا اس گھر سے کیا تعلق رہا ہے۔‘‘ وہ غصے سے بپھر رہا تھا۔ ثانیہ ایک نظر اس کے سرخ چہرے پر ڈالتی سر جھکا گئی۔
جانے سے قبل اس نے اپنا کارڈ‘ سوفے پر رکھا تھا اور پھر بنا ایک لفظ بھی کہے کمرے سے نکل گئی۔
///

ہر وعدۂ وفا کو بھلانے کا شکریہ
دیوانہ کرکے آنکھ چرانے کا شکریہ
ہم جانتے تھے آپ کے قابل نہیں ہیںہم
کچھ روز دل کی آس بڑھانے کا شکریہ
تعبیر جن کی دیکھ کر آنکھیں ہیں زخم زخم
اتنے حسین خواب دکھانے کا شکریہ
جن خوش گمانیوں پر تھے آنسو تھمے ہوئے
ان خوش گمانیوں پر ہنسانے کا شکریہ
مانا اسی سلوک کے قابل تھے ہم صنم
ہر فاصلہ مٹا کے بڑھانے کا شکریہ

گوری اس وقت گھر پر نہیں تھی۔ شاہ زر کو ایک ضروری میٹنگ میں پہنچنا تھا مگر اتفاق سے اس وقت اس کا کوئی بھی سوٹ پریس نہیں تھا تبھی مجبوراً اسے کچن میں چاند کے لیے دودھ بوائل کرتی انوشہ کو مخاطب کرنا پڑا۔
’’انوش!‘‘ وہ اس کی پکار پر نہیں اس انوکھے طرزِ مخاطب پر چونکی تھی۔ شاہ زر کپڑے اٹھائے عین اس کی پشت پر آکھڑا ہوا۔ ’’اگر ذرا سا وقت نکال کر احسان کرسکو تو پلیز میرا سوٹ پریس کردو‘ بہت ضروری میٹنگ میں شرکت کرنی ہے۔‘‘
’’بلقیس (نوکرانی) سے کہہ دیں‘ کردے گی۔‘‘
’’بلقیس بیوی نہیں ہے‘ تم پریس کرو پلیز!‘‘ اسے بے مقصد ضد ہوئی تھی‘ وہ تپ اٹھی۔
’’بلقیس بیوی نہیں ہے تو میں بھی نوکرانی نہیں ہوں سمجھے آپ!‘‘
’’نوکرانی سمجھ کر تو نہیں کہہ رہا تم سے… بیوی سمجھ کر کہہ رہا ہوں ‘ قسم سے۔‘‘ ایک لمحے میں اس کے لہجے کا انداز اور آنکھوں کا رنگ بدلا تھا۔ وہ سٹپٹا گئی۔
’’سوری! میں فارغ نہیں ہوں۔‘‘
’’وہ تو میں بھی دیکھ رہا ہوں‘ محض پانچ منٹ نکال لوگی تو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔‘‘ کہنے کے ساتھ ہی اس نے اپنے ہاتھ انوشہ کے دونوں کندھوں پر دھر دیئے تھے۔ انوشہ کو لگا جیسے وہ آگ کی لپیٹ میں آگئی ہو۔
’’اپنے ہاتھ پیچھے ہٹائو شاہ زر آفندی! میں آپ کی ایسی گستاخی قطعی برداشت نہیں کروں گی۔‘‘
’’گستاخی کی کیا بات ہے اس میں؟ اب تو قانوناً اور اسلامی نکتہ نظر سے شرعی بیوی ہو میری‘ کوئی دیوی تو نہیں ہو جو چھونے سے بے حرمتی ہوجائے گی۔‘‘ وہ شرارت پر آمادہ تھا۔ انوشہ کا بی پی شوٹ کر گیا۔
’’تم جیسا بے غیرت‘ بے ضمیر‘ اور گھٹیا انسان میں نے آج تک نہیں دیکھا۔‘‘
’’آگے بھی نہیں دیکھو گی ان شاء اللہ! چلو یہ سوٹ پریس کرو شاباش!‘‘ پل میں غصے ہوئے بغیر اس کا موڈ بدلا تھا۔
وہ اس کی ہٹ دھرمی پرمجبوراً سوٹ تھامتی پائوں پٹختی ہوئی وہاں سے گئی تھی۔ شاہ زر نے اس کے جانے کے بعد ایک مرتبہ پھر بُریرہ کا نمبر ٹرائی کیا مگر اس کا نمبر ہنوز آف مل رہا تھا وہ اداس اداس سا اپنے بیڈ روم میں چلا آیا جہاں چاند کمبل میں چھپا بے خبری کی میٹھی نیند سورہا تھا۔ وہ کہنیوں کے بل بیڈ کے کنارے پر ٹکتے ہوئے اس کے چہرے پر جھک گیا۔ زندگی ایک دم سے کتنی خوب صورت اور مکمل ہوگئی تھی‘ چاند اس کے بے تحاشا پیار پر کسمسا کر بیدار ہوا تھا۔
’’پاپا! سونے دیں نا!‘‘
’’صبح ہوگئی ہے پاپا کی جان! اب اٹھ جائو۔‘‘
’’میں نے نیئں اٹھنا‘ آپ بھی سوجائو نا!‘‘
’’ہاہ ہاہ ہاہ میں بھی سوگیا نا تو آپ کی مما نے طوفان اٹھا دینا ہے۔‘‘
’’کیوں…! مما ہر وقت ناراض کیوں رہتی ہیں آپ سے؟‘‘ مکمل بیدار ہوکر وہ اب شاہ زر کے گلے میں بانہیں ڈالے پوچھ رہا تھا۔ وہ لاجواب سا ہوگیا۔
’’پتا نیئں یار! آپ کی مما کے دماغ کا کوئی پیچ ڈھیلا ہے۔ کسنا پڑے گا کسی دن…!‘‘ کہنے کے ساتھ ہی اس نے اسے کمبل سے نکال کر بانہوں میں اٹھالیا تھا۔ چاند اب اس کی بات پر کل کل ہنس رہا تھا۔ انوشہ نے اس کا سوٹ پریس کردیا تھا مگر اس کے لیے ناشتا نہیں بنایا تھا۔ وہ ہرٹ تو ہوا مگر اس پر ظاہر نہیں کیا۔
’’شکریہ! اس احسانِ عظیم کے لیے۔‘‘ چاند کو گود سے اتار کر اس کے ہاتھ سے سوٹ لیتے ہوئے اس نے سنجیدگی سے کہا اور سوٹ لے کر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔ آفس کے لیے دیر ہورہی تھی لہٰذا اس روز بنا ناشتا کیے ہی وہ چاند کو پیار کرکے آفس کے لیے نکل آیا تھا۔ تاہم آنے سے پہلے اس نے ملازم کو بیڈ روم کے علاوہ باقی تمام کمرے لاک کرنے کا حکم دے دیا تھا۔
رات میں وہ خاصی تاخیر سے گھر واپس لوٹا تو وہ لائونج میں بیٹھی شاید اسی کا انتظار کررہی تھی۔ شاہ زر جانتا تھا کہ وہ اس کا انتظار کررہی ہوگی تبھی زیر لب مسکراتا بنا اس پر نگاہ ڈالے سیدھا اپنے بیڈ روم کی طرف چلا آیا۔ انوشہ جس کی آنکھیں نیند سے بند ہورہی تھیں اس کی اس درجہ چالاکی پر سٹپٹا کر رہ گئی۔ اگلے دس منٹ تک وہ اس کے لائونج میں آنے کا انتظار کرتی رہی پھر مجبوراً خود ہی اٹھ کر اس کے اور اپنے مشترکہ بیڈ روم میں چلی آئی۔ شاہ زر کپڑے تبدیل کرنے کے بعد اب چاند کے برابر میں لیٹا اسے پیار کررہا تھا۔
’’آپ نے گھر کے تمام کمرے کیوں لاک کروائے ہیں‘ چوری یا ڈاکے کا خوف تھا آپ کو ‘ میری بے ضرر ذات سے؟‘‘ کچھ تو نیند اور کچھ غصے کی شدت نے اس کی آنکھوں میں خوب سرخی بھردی تھی۔ وہ چونک کر اس کی طرف متوجہ ہوا۔
’’کیا چُرا سکتی ہو تم شاہ زر آفندی کے گھر سے…؟‘‘ بھر پور نگاہیں اس کے چہرے پر جمائے وہ اٹھ کر پاس آیا تھا۔ انوشہ نے خفگی سے رخ پھیر لیا۔
’’میرے لیے اس گھر میں کوئی بھی چیز اتنی نایاب نہیں ہے کہ جسے میں چُرانے کی خواہش کروں۔‘‘
’’تو پھر سمجھ جائو نا کہ میں نے تمام کمرے کیوں لاک کروائے ہیں۔‘‘ اس نے ہاتھ بڑھایا تھا مگر وہ بدک کر پیچھے ہٹ گئی۔
’’سمجھ گئی ہوں مگر آپ اچھی طرح سے سمجھ لیں مجھے آپ کا ساتھ‘ آپ کی رفاقت کسی طور قبول نہیں‘ میری مجبوری یا بے بسی سمجھ لیں کہ میں یہاں آپ کے ساتھ رہ رہی ہوں ایک چھت کے نیچے‘ وگرنہ جس طرح سے یہاں میرا دم گھٹتا ہے میں ایک پل بھی نہ رکوں۔‘‘
’’اٹس اوکے‘ بار بار جتانے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ لب بھینچتے ہوئے وہ برہم ہوا تھا۔ انوشہ نے سر اٹھا کر اس کی طرف دیکھنا گوارا نہیں کیا۔
’’آپ اپنی فضول حرکتوں سے بار بار مجبور کرتے ہیں کہ آپ کو سب جتایا جائے۔‘‘
’’کیا مفاد ہے میرا اس میں‘ بتائو…؟ جان دینے والی لڑکی کو چھوڑ کر تمہیں اپنایا‘ اپنا نام دیا‘ کیوں؟ میرا کوئی مفاد تھا اس میں…؟ نہیں… یہ سب میں نے تمہارے لیے کیا‘ کیونکہ میں جانتا ہوں جو خطا مجھ سے سرزد ہوئی‘ اس خطا کی پاداش میں تم کسی بھی بہترین سے بہترین انسان کی ہم سفر تو بن جائو گی مگر کبھی خوش نہیں رہ پائوگی۔ یہ معاشرہ‘ اس معاشرے کے لوگ کبھی جینے نہیں دیں گے تمہیں اور وہ بچہ جس نے ابھی ٹھیک سے ہوش بھی نہیں سنبھالا ہے اسے کوئی مکمل آسودگی اور زندگی نہیں دے سکے گا۔ اسی لیے بُریرہ کو طلاق دی میں نے کہ یہاں صرف ایک نہیں دو زندگیوں کا سوال تھا۔ تم ساری عمر بھی چلاّ چلاّ کر لوگوں کو اپنی پارسائی کا یقین دلاتی رہو پھر بھی سب کومطمئن نہیں کرسکوگی مگر اب… کسی کی مجال نہیں کہ کوئی تمہاری ذات پر انگلی اٹھاسکے‘ جو زخم تمہاری ذات پر تمہاری روح پر میرے ہاتھوں لگا‘ اس پر مرہم بھی مجھے ہی رکھنا تھا اور یہی میں نے کیا ہے۔ اب اسے میری شرافت کہو یا محبت کہ میں تمہاری کسی فضول حرکت کا بُرا نہیں مناتا وگرنہ میری جگہ کوئی اور ہوتا تو عبد الصمد کی طرح تمہیں تمہاری اوقات چند لمحوں میں اچھی طرح بتاکر رکھ دیتا۔‘‘ لفظوں کے دانت نہیں ہوتے مگر پھر بھی یہ کاٹ لیتے ہیں اور جب یہ کاٹ لیتے ہیں تو ان سے لگنے والے زخم زندگی بھر نہیں بھرتے۔ انوشہ رحمن کی روح پر بھی کچھ ایسے ہی زخموں کے آبلے پڑے تھے۔ شاہ زر آفندی کے لبوں سے نکلنے والے زہریلے لفظوں کی کاٹ سے اس کی آنکھیں بھر آنے کو بے تاب ہوئی تھیں مگر اس نے کمال ضبط سے اپنے آنسو روک لیے۔ وہ کم از کم اس شخص کے سامنے کبھی کمزور پڑنا نہیں چاہتی تھی جو دنیا میں اس کا سب سے بڑا دشمن تھا۔
’’بہت شکریہ میرے بارے میں اتنا سوچنے اور میرا اتنا خیال رکھنے کے لیے‘ واقعی بہت عظیم انسان ہیں آپ۔ اتنے عظیم کہ مجھ جیسی دو ٹکے کی رسوا لڑکی آپ کے ساتھ رہنے کے قابل ہی نہیں‘ مجھے آپ کے احسانوں کا پورا احساس ہے مگر معذرت‘ میں پھر بھی آپ کے ساتھ ایک کمرے میں نہیں رہ سکتی۔‘‘
’’کیوں… ڈرتی ہو تسخیر ہونے سے؟‘‘ ایک اور چوٹ… وہ بلبلا کر رہ گئی۔
’’نہیں…! سوائے اللہ ربّ العزت کی پاک ذات کے میں کسی چیز سے نہیں ڈرتی اور رہا تسخیر ہونے کا سوال تو آپ کی خوش گمانیوں کا بھرم قائم رہے‘ اسی میں ہم دونوں کی بہتری ہے۔‘‘ اس بار ضرب شاہ زر کے دل پر پڑی تھی اور وہ سرتاپیر سلگ کر رہ گیا تھا۔
’’اگر ایسی بات ہے تو پھر آج کی رات تم یہیں اسی کمرے میں بسر کرو گی۔‘‘
’’ہر گز نہیں! مر کر بھی آپ کی یہ خواہش پوری نہیں کرسکتی میں۔‘‘
’’اتنی آگے کی سوچنے کی ضرورت نہیں ہے‘ ابھی فی الحال تم اپنے پورے ہوش و حواس میں زندہ سلامت وہ سب کرو گی جو میں کہوں گا۔‘‘ وہ ضد میں آیا تھا اور اسی ضد میں اس نے انوشہ کے منہ پر ہاتھ جما کر اسے بیڈ پر دھکیل دیا تھا۔ ’’بہت گھمنڈ اور خوش فہمی ہے تمہیں اپنی بہادری پر‘ آج دیکھ لینا میری طاقت کے سامنے تمہاری اس فضول اکڑ کی کیا اوقات ہے۔‘‘ چاند کے اٹھ جانے کے خدشے سے وہ دھیمی آواز میں بول رہا تھا۔ انوشہ کو لگا وہ کسی معصوم چڑیا کی طرح ظالم صیاد کے شکنجے میں پھنس گئی ہو۔ اپنی رہائی کے لیے اس نے ہر حربہ آزمالیا تھا مگر صیاد کی مضبوط گرفت کے سامنے اس کی ہر کوشش بے کار گئی۔ تبھی آخری حربے کے طور پر وہ روپڑی تھی اور شاہ زر جو آج اسے کسی طور بخشنے کے موڈ میں نہیں تھا اس کے رونے پر کمزور پڑگیا۔
’’اب کیوں رو رہی ہو‘ وہ سارا طنطنہ وہ اکڑ کہاں گئی؟‘‘
’’تم مرجائو شاہ زر! خدا کرے تمہیں کل کا سورج دیکھنا بھی نصیب نہ ہو۔‘‘ رونے کے بعد وہ بددعائوں پر اتر آئی تھی۔
شاہ زر زیر لب مسکراتا اسے اپنی فولادی گرفت سے آزاد کرگیا۔
’’یہ جو زبان ہوتی ہے نا عورت کی‘ یہی سارے فساد کی جڑ ہے۔ عورت اگر اس چھوٹی سی چیز کو قابو میں رکھ لے تو ساری دنیا پر حکومت کرسکتی ہے۔‘‘ وہ طنز کرنے سے باز رہنے والا نہیں تھا۔ انوشہ زارو قطار روتی رہی۔ ’’اب چپ کرجائو خدا کا واسطہ ہے تمہیں‘ چاند اٹھ گیاتو دوبارہ نہ سوئے گا نہ سونے دے گا‘ ویسے بھی میں نے تمہارا کوئی نقصان نہیں کیا۔‘‘
’’بکواس بند کرو۔‘‘ بھنا کر کہتی وہ اس پر دھاڑی تھی اور پھر بیڈ سے اٹھ کھڑی ہوئی۔
’’یہ لو چابیاں… اور جہاں دل چاہتا ہے جاکر سوجائو۔ رات میں ڈر و گی نا کسی دن تو میں نہیں آتا مدد کے لیے۔‘‘ اب وہ اسے تنگ کررہا تھا۔ انوشہ بنا اس پر نگاہ کیے تیزی سے کمرا چھوڑ گئی۔
’’پاگل…!‘‘ اس کے جانے کے بعد سر جھٹک کر مسکراتے ہوئے اس نے کہا اور پھر سوئے ہوئے چاند کو ایک ہاتھ سے اٹھا کر اپنے بازو پر سلاتے ہوئے خود بھی وہیں لیٹ کر سکون سے پلکیں موند گیا۔
فجر سے کچھ پہلے یونہی اس کی آنکھ کھل گئی تھی۔ پیاس کا احساس نہیں تھا مگر ایک عجیب سی بے چینی ضرور دل و دماغ کو حصار میں لیے ہوئے تھی۔ کئی بار کروٹ بدلنے کے بعد بالآخر وہ بیڈ سے اٹھ کھڑا ہوا تھا۔ کمرے میں ہیٹر آن ہونے کی وجہ سے ٹھنڈک کا احساس زیادہ نہیں تھا۔ لہٰذا ایک نظر سکون سے سوئے چاند پر ڈالتے ہوئے وہ کمرے سے نکل آیا۔ انوشہ لائونج میں صوفے پر سورہی تھی اور سردی سے بچنے کے لیے اس کے پاس سوائے اپنی گرم شال کے اور کچھ بھی نہیں تھا۔ وہ سست روی سے چلتا اس کے قریب آکھڑا ہوا۔
کیسی کڑی سزا کے سپرد کر رکھاتھا اس لڑکی کی فضول نفرت اور اَنا نے اس کو‘ اس وقت سردی کی شدت سے اس کا وجود کانپ رہا تھا اور ہونٹ جیسے نیلے پڑ رہے تھے۔ وہ جانتا تھا اگر اس نے اسے اٹھانے کی کوشش کی تو ضرور وہ جاگ جائے گی اور پھر وہ چاہتے ہوئے بھی اس کے لیے کچھ نہیں کرسکے گا تبھی کچھ سوچتے ہوئے وہ واپس اپنے بیڈ روم میں گیا اور اپنا گرم آرام دہ کمبل لاکر اس پر ڈال دیا۔ جانے کیوں اس لمحے اس کا شدت سے دل چاہ رہا تھا کہ وہ صوفے سے نیچے ڈھلکتے اس کے ریشمی بالوں کو سمیٹ کر اس کے شانوں پر ٹکادے‘ مگر محض اس کی آنکھ کھل جانے کے ڈر سے یہ خواہش اپنے اندر ہی دبا گیا۔
انوشہ کی صبح آنکھ کھلی تو خود کو آرام دہ نرم کمبل میں دیکھ کر حیران رہ گئی۔ رات وہ خاصی اشتعال میں رو کر سوئی تھی۔سردی سے اس کا پورا جسم سُن ہورہا تھا۔ اوپر سے نیند تھی کہ مہربان ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی مگر… پھر جانے کب اس کے ربّ کو اس پر رحم آگیا تھا اور وہ سوگئی تھی‘ سونے تک اس کے پاس سوائے گرم شال کے اور کچھ بھی نہیں تھا تو پھر یہ کمبل…!
خاصا الجھا دینے والا معاملہ تھا مگر وہ جان گئی تھی کہ یہ مہربانی کس نے کی ہوگی۔
تو کیا اس کی طرح وہ بھی جاگتا رہا تھا۔
کیا اس پر بھی نیند کی دیوی مہربان نہیں ہوئی تھی؟
ناچاہتے ہوئے بھی وہ سوچتی‘ صوفے سے اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔
’’مجھے یہاں نہیں رہنا‘ کسی صورت بھی نہیں۔‘‘
اگلے ہی پل غصے سے سوچتے ہوئے وہ گویا فیصلہ کررہی تھی۔
///

پیار دے پرم نئی رہ گئے اج کل یاراں وچ
کئی واری میں خبر پڑھی اخباراں وچ
شکلوں سوہنے‘ اندرون نیتاں بُریاں نیں
منہ تے ہا سے‘ بغلاں دے وچ چھڑیاں نیں
مار کے سُٹ گئے یار نوں یار بازاراں وچ
کئی واری میں خبر پڑھی اخباراں وچ

میلے پُرشکن لباس میں سڑک کے بائیں جانب فٹ پاتھ پر بیٹھی وہ چہرے پر آیا پسینہ صاف کررہی تھی‘جب ترنگ میں یہ اشعار گنگناتے ہوئے واصف کی نگاہ اس پر پڑی۔
’’مصحف… وہ دیکھ‘ میرال…!‘‘ اور اس کی اطلاع پر وہ جو بے نیازی سے ڈرائیو کررہا تھا ایک دم گاڑی کو بریک لگا گیا۔
’’میرال… اور یہاں…؟‘‘
’’یار! مجھے تو وہی لگ رہی ہے۔‘‘ کبھی نہ سنجیدہ ہونے والا واصف اس لمحے سنجیدہ دکھائی دے رہا تھا۔ مصحف کے ہاتھوں میں ہلکی سی کپکپاہٹ واضح جھلکنے لگی تھی۔
’’وہ میرال نہیں ہے مگر میرال کی فوٹو کاپی ضرور ہے۔‘‘
’’میرا خیال ہے ہمیں ایک بار اسے قریب سے جاکر دیکھنا چاہیے۔‘‘
’’نہیں… وہ بُرا منا سکتی ہے۔‘‘
’’جانے دے یار! تو نکل باہر… شاباش!‘‘ گاڑی میں اب بھی وہی بول گونج رہے تھے۔
’’کئی واری میں خبر پڑھی اخباراں وچ‘‘
فٹ پاتھ زیادہ دور نہیں تھا اور اس وقت ہلکی ہلکی چبھتی ہوئی دھوپ میں خود اپنے حال سے بے نیاز‘ کسی کے انتظار میں بیٹھی‘ صاعقہ احمد کو وہ بول بخوبی سنائی دے رہے تھے۔ درد بھری آواز میں گانے والے نے کمال کیا تھا‘ اسے لگا وہ اشعار جیسے اسی کے لیے تخلیق ہوئے اور گنگنائے گئے ہیں۔ آنکھوں کے گوشوں میں صرف چند لمحوں کے اندر خاصا پانی بھر آیا تھا جسے اس نے ہاتھ کی پشت سے صاف کرلیا۔
’’یہ تو رو رہی ہے یار!‘‘
’’ہوں… مگر پھر بھی میں اس سے بات ضرور کروں گا۔‘‘ واصف اپنے ارادے میں پختہ دکھائی دے رہا تھا۔ مصحف نے کندھے اُچکا دیئے۔
’’ایکسکیوزمی!‘‘
صاعقہ اس پکار پر متوجہ ہونا نہیں چاہتی تھی مگر پھر بھی اس نے سر اٹھا کر ان دونوں پر نگاہ ڈالی تھی۔
’’جی…!‘‘
’’اگر آپ بُرا نہ مانیں تو کیا ہم آپ کا نام جان سکتے ہیں؟‘‘
’’نہیں!‘‘
’’اوکے…! کیا آپ کسی میرال کو جانتی ہیں؟‘‘
’’نہیں…‘‘ اس کا چہرہ سپاٹ اور لہجہ برفیلا تھا۔ مصحف بے ساختہ رخ پھیر گیا۔
’’دیکھیے… میرا نام واصف ہے اور یہ مصحف ہے میرا دوست۔ اس شہر میں ہمارے نام اور مقام سے شاید کوئی بھی ناواقف نہ ہو‘ آپ اچھی لڑکی ہیں اور مجھے آپ سے کچھ ضروری بات کرنی ہے‘ کیا آپ ہم پر بھروسا کرتے ہوئے کسی اچھی جگہ بیٹھ کر ہماری بات سن سکتی ہیں؟‘‘
’’نہیں…!‘‘
اس کا انداز نہیں بدلاتھا۔ اسی لمحے آمنہ وہاں چلی آئی۔
’’صاعقہ یار! یہاں بھی بات بننا مشکل ہے۔ میرا خیال ہے تمہیں یہ احمقانہ خیال اب اپنے دماغ سے نکال ہی دینا چاہیے۔‘‘ بنا مصحف اور واصف پر توجہ دیئے وہ خاصی مایوسی سے اسے بتارہی تھی۔ صاعقہ کا چہرہ لمحے میں تاریک پڑ گیا۔
’’ٹھیک ہے‘ چلو! مگر میں ہمت ہارنے والوں میں سے نہیں ہوں۔‘‘ وہ کھڑی ہوئی تھی تبھی واصف نے دوبارہ مخاطب کر لیا۔
’’ایکسکیوزمی! اگر آپ بُرا نہ مانیں تو ہم آپ کی مدد کرسکتے ہیں۔‘‘
’’کیا مدد کرسکتے ہیں آپ ہماری؟‘‘ اس بار وہ سلگی تھی جب کہ آمنہ حیرانی سے ان دونوں کو جانچ رہی تھی۔
’’آپ کو کیا مدد چاہیے؟‘‘ وہ بھی سنجیدہ تھا۔ صاعقہ نے کچھ سوچتے ہوئے دونوں بازو سینے پر باندھ لیے۔
’’مجھے ٹیلی ویژن میں کام کرنا ہے‘ ڈھیر سارا روپیہ کمانا ہے۔ بتایئے دلا سکتے ہیں مجھے کام…؟‘‘
’’ہاں…! ٹیلی ویژن میں کیا‘ آپ چاہیں تو فلم میں بھی کام کرسکتی ہیں۔‘‘ اس بار حیران ہونے کی باری آمنہ اور صاعقہ کی تھی۔
’’میرا خیال ہے ہمیں ان کی بات سننی چاہیے۔‘‘ صاعقہ نے فوری فیصلہ کرلیا تھا۔ آمنہ اس کا منہ دیکھتی رہ گئی۔
’’پاگل ہوگئی ہو‘ کیا تم نہیں جانتیں آج کل کراچی میں کیسے حالات چل رہے ہیں؟ مجھے تو شکل سے ہی دونوں خطرناک دکھائی دے رہے ہیں۔‘‘ اس کے کان میں منہ گھساتے ہوئے اس نے اسے باز رکھنا چاہا تھا جب واصف بول اٹھا۔
’’آپ اللہ کو حاضر ناظر جان کر ہم پر مکمل بھروسا کرسکتی ہیں سسٹر!‘‘
’’تو ٹھیک ہے آپ اپنا سیل نمبر دے دیجیے‘ ہم گھر جاکر خود آپ سے فون پر بات کرلیں گے۔‘‘
’’ٹھیک ہے یہ لیجیے وزیٹنگ کارڈ‘ میں آپ کی کال کا انتظار کروں گا۔‘‘ واصف نے مایوس نظر آتے ہوئے والٹ سے اپنا کارڈ نکالنے میں ایک لمحے کی تاخیر نہیں کی تھی۔ صاعقہ اس کا کارڈ تھام کر اس پر سرسری نگاہ ڈالتی‘ آمنہ کے ساتھ آگے بڑھ گئی۔
’’تمہیں کیا لگتا ہے‘ کیا یہ کال کرے گی؟‘‘
’’ہاں‘ ضرورت سب کچھ کروا دیتی ہے۔‘‘ وہ پُر امید تھا۔ مصحف شانے جھٹک کر گاڑی کی طرف چلا آیا۔
///
’’کیا تم اس لڑکے کو کال کرو گی؟‘‘ گھر آکر آمنہ نے چادر اتارتے ہی اس سے پوچھا تھا۔ جواب میں وہ چارپائی پر آڑی ترچی لیٹ گئی۔
ہوں‘ ضرور کروں گی۔ جانے کیوں مجھے لگتا ہے جیسے میرا خدا میری غیبی امداد کرنا چاہ رہا ہے۔‘‘
’’لیکن مجھے یہ سب ٹھیک نہیں لگ رہا‘ میرا خیال ہے ہم پھر سے کوئی جاب ڈھونڈتے ہیں۔‘‘
’’ہر گز نہیں… دس بارہ ہزار کی جاب بھی اب میری زندگی کامقصد نہیں ہے‘ مجھے ہزاروں‘ لاکھوں روپیہ چاہیے آمنہ ! بینک بیلنس گاڑی سب کچھ چاہیے۔‘‘
’’مگر کیوں…؟ جب تمہیں اس شخص کے سنگ چلنا ہی نہیں‘ اسے پانا ہی نہیں تو پھر اس کے لیے یوں خود کو برباد کرنے کاکیا مقصد۔‘‘
’’تمہیں نہیں بتاسکتی‘ جو آگ میرے اندر سلگ رہی ہے اس کی اذیت کو تم جان بھی نہیں سکتیں‘ میں چاہے مرجائوں مگر صرف ایک بار اسے دکھانا ضرور چاہوں گی کہ عورت اگر کسی چیز کو زندگی کا مقصد بنالے تو پھر اسے حاصل کرکے رہتی ہے‘ صرف محبت ایک ایسی چیز ہے آمنہ جو ہرا دیتی ہے عورت کو وگرنہ دنیا کی کون سی چیز ہے جو عورت پانا چاہے اور پا نہ سکے۔‘‘
’’ہوسکتا ہے وہ مجبور ہو‘ تمہیں سب کچھ سچ سچ بتانا چاہتا ہو مگر…‘‘
’’پلیز اسٹاپ اٹ آمنہ… کوئی ذکر نہیں ہوگا ہمارے بیچ اس شخص کا‘ شدید نفرت کرتی ہوں میں اس شخص کے تصور سے بھی۔‘‘
’’اِٹس اوکے‘ میں ٹھنڈا لاتی ہوں۔ پھر بیٹھ کر بات کرتے ہیں۔‘‘
’’نہیں اماں کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے میں گھر جائوں گی اب‘ صبح میرے ساتھ پھر مزید خواری کے لیے تیار رہنا۔‘‘
’’مگر…!‘‘
’’نو اگر مگر مائی ڈیئر! بس چلوں گی اب!‘‘ وہ آج کل بہت تلخ اور ضدی ہوگئی تھی۔ آمنہ کا دل دکھ سے بھرگیا۔
’’کاش! تمہارا منہ ہوتا اے محبت اور میں وہ نوچ سکتی۔‘‘
بیرونی دروازے کی دہلیز پار کرتی صاعقہ احمد کی چال کی شکست دیکھتے ہوئے بے ساختہ وہ بڑبڑائی تھی اور پھر دروازہ بند کرکے وہیں گھٹنوں میں سر دے کر بیٹھ گئی۔
صاعقہ رکشہ لے کر گھر پہنچی تو شام خاصی ڈھل چکی تھی۔
’’کہاں تھیں تم! مالک مکان تین چکر کاٹ گیا ہے گھر کے… کہہ رہا تھا شام تک کرایہ نہ دیا تو سامان نکال کر باہر پھینک دے گا‘ سمعان کو بخار تھا پھر بھی دیہاڑی کے لیے چلا گیا ہے‘ چھوٹے دونوں بھی کام کے لیے گئے ہیں‘ ابھی تک واپس نہیں لوٹے۔‘‘
’’ایان بھائی کا پتا نہیں چلا؟‘‘
’’کہاں سے چلنا ہے خبر تک تو ہونے نہیں دی تُو نے ان کی‘ اتنا نہیں ہوسکا کہ ایک دو دن کا صبر ہی کرلیتیں۔ اچھا بھلا گھر مل گیا تھا آرام دہ‘ پتا نہیں اچانک کیا سمائی دماغ میں جو کھینچ کر یہاں لے آئیں۔‘‘ صائمہ بناء اس کے حال پر غور کیے غصہ نکال رہی تھی۔ وہ بے حس سی کچن میں چلی آئی۔
’’اپنی مرضی سے تعلق بناتی ہو اور پھر بنا کسی سے مشورہ کیے اپنی مرضی سے ختم بھی کردیتی ہو‘ پتا نہیں کیا چاہتی ہو تم ذرا گھر والوں کی خوشیوں کا خیال نہیں ہے تمہیں۔‘‘ وہ بڑبڑاتی اس کے پیچھے ہی کچن میں چلی آئی تھی۔
صاعقہ کا دماغ گھوم گیا۔
’’میں نے گھر والوں کی خوشیوں کا ٹھیکا نہیں لیا ہوا… سمجھیں تم! نہ ہی کسی کی خیرات پر جیتی ہوں میں۔‘‘
’’تم پاگل ہوگئی ہو صاعقہ! اور کچھ نہیں ہے۔‘‘
’’کاش ہوجاتی پاگل!‘‘ اس سے پہلے کہ آنکھیں بھر آتیں‘ زیر لب بڑبڑاتے ہوئے وہ چولہے کے سامنے بیٹھ گئی۔
’’اماں کو کچھ بنا کردیا ہے کہ نہیں…؟‘‘
’’کہاں سے بنا کردوں؟ جو راشن تم لائی تھیں کب کا ختم ہوچکا‘ اب پانی ہی ابال کر دے سکتی ہوں۔‘‘
’’دودھ بھی نہیں ہے؟‘‘
’’نہیں!‘‘
’’ٹھیک ہے میں کرتی ہوں کچھ بلکہ پہلے مالک مکان کے پاس جاتی ہوں‘ سنا ہے بڑا دل پھینک آدمی ہے اس عمر میں بھی۔‘‘
’’ہاں! مگر تم کیوںجائو گی اس کے پاس؟‘‘
’’اپنے گھر والوں کی راحت کے لیے…‘‘
’’کیا مطلب…؟‘‘
’’مجھ جیسی لڑکیوں سے ان کے کسی بھی عمل کا مطلب نہیں پوچھا کرتے صائمہ!‘‘
’’کیا مطلب ’’مجھ جیسی‘‘…؟‘‘
’’پتا نہیں… یہ دنیا اس دنیا کے لوگ‘ بہت تکلیف دہ رائے اور لفظ استعمال کرتے ہیں ’’مجھ جیسی‘ حالات اور تقدیر کی ستائی ہوئی باغی لڑکیوں کے لیے‘ کوئی آوارہ کہتا ہے تو کوئی بدکردار‘ کسی کے پاس اتنی فرصت نہیں ہوتی کہ وہ ’’مجھ جیسی‘‘ لڑکیوں کے پیچھے ان کی مجبوریوں کے احوال بھی جان لے۔‘‘
’’تمہیں کیا ہوگیا ہے صاعقہ! تم ایسی تو نہیں تھیں۔‘‘
’’پتا نہیں کیا ہوگیا ہے مجھے‘ میں آتی ہوں ابھی۔‘‘
بے سدھ سی‘ دھیمے لہجے میں کہتی وہ جانے کے لیے اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔ صائمہ پریشان سی اس کی عزت اور سلامتی کی دعا کرتی جانے کیا کیا پڑھ کر اس پر پھونکتی رہی۔ مغرب کے قریب کہیں وہ واپس آئی تو اس کے ہاتھ میں کھانے پینے کی کچھ اشیاء کے شاپرز تھے۔
’’کیوں گئی تھیں تم مالک مکان کے پاس… سمعان کئی بار تمہارا پوچھ چکا ہے۔‘‘
’’بتاکر تو گئی تھی تمہیں کہ کیوں جارہی ہوں۔ وہ دل پھینک بڈھا ہے اور میں اسے بے وقوف بنانے گئی تھی تاکہ میری غیر موجودگی میں وہ دوبارہ تم لوگون کو پریشان نہ کرے۔‘‘
’’یہ ٹھیک نہیں ہے صاعقہ! کسی کو پتا چل گیا تو بہت غلط باتیں پھیلیں گی۔‘‘
’’پہلے کیا ٹھیک ہے ہماری زندگی میں؟ ویسے بھی جس کے پاس پیسہ نہیں ہوتا لوگ ا ن کی خوبیاں بھی خامیوں میں شمار کرتے ہیں۔ کیسی محبت‘ کیسی انسانیت‘ سب بکواس ہے صائمہ! کسی غریب کو کوئی حق نہیں کہ وہ عزت دار کہلائے‘ یہاں عزت کے لائق صرف وہی لوگ ہیں کہ جن کی جیب نوٹوں سے بھری ہوتی ہے۔ وہ نوٹ خواہ کسی غریب کا خون نچوڑ کر حاصل کیے گئے ہوں یا اپنا ضمیر بیچ کر… اب شرافت اور محبت کا اچار نہیں ڈالتا کوئی…‘‘
’’مگر…!‘‘
’’اگر مگر کی بحث میں پڑنا چھوڑ دو صائمہ! ہماری سزا ہے یہ کہ لوگ ہماری تضحیک کریں اور جو چاہیں الزام لگائیں۔ میں نے کان لپیٹ لیے ہیں تم بھی لپیٹ لو۔‘‘ وہ ازحد سنجیدہ اور آزردہ تھی‘ صائمہ اسے دیکھتی رہ گئی۔
///
’’عباد…! ‘‘ اپنا والٹ اٹھا کر وہ ابھی کمرے سے نکلنے کا قصد کررہا تھا کہ آسیہ بیگم نے اسے پکارلیا۔
’’جی مما…!‘‘
’’کہاں جارہے ہو؟ مجھے بات کرنی تھی تم سے۔‘‘
’’ابھی تو ایک ضروری کام سے جارہا ہوں‘ آپ بتایئے کیا بات ہے…؟‘‘
’’تمہارے کام کی بات ہے‘ اصل میں تمہارے پاپا اس لڑکی کے گھر والوں سے ملنا چاہتے ہیں۔‘‘ وہ خوب ہوشیاری سے پتے پھینک رہی تھیں۔ عباد کے اندر پھر بے چینی پھیل گئی۔
’’ٹھیک ہے مما! ایک دو روز میں ملواتا ہوں ان سے۔‘‘ وہ پریشان بھی تھا اور مصروف بھی۔ آسیہ بیگم اسے دیکھ کر رہ گئیں۔
’’ٹھیک ہے‘ میں کہہ دوں گی ان سے۔‘‘
’’شکریہ!‘‘ سرعت سے کہہ کر وہ کمرے سے نکل آیا تھا۔
اگلے ڈیڑھ گھنٹے میں وہ صاعقہ کے علاقے میں تھا… وہ گھر لاک ملا تھا جو سڈنی جانے سے قبل اس نے خود اسے کرایہ پر لے کر دیا تھا۔
وحشت سی وحشت تھی!
’’کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا ہواہے۔ وہ لڑکی جو اس کے لیے خوش بُو کے احساس کی مانند تھی‘ اسے زمین کھاگئی یا آسمان نکل گیا۔ دل کی بے چینی حد سے سوا تھی‘ کئی بار آمنہ سے رابطے کی کوشش کی مگر وہ گھر پر ہی نہ ملی۔ اس کا دل چاہا وہ سڑک پر بیٹھ کر روئے یا گاڑی کسی درخت میں دے مارے۔ اگر اسے خبر ہوتی کہ اس کا ٹور اس سے اس لڑکی کی محبت چھین لے گا تو وہ کبھی سڈنی نہ جاتا۔مسلسل ایک ہفتہ اس نے صاعقہ کی تلاش جاری رکھی تھی مگر بدلے میں سوائے مایوسی کے اور کچھ ہاتھ نہیں آیا تھا۔ آسیہ بیگم اس کی حالت نوٹ کررہی تھیں‘ پچھلے ایک ہفتے سے وہ بے حال تھا‘ کھانے پینے سے بے پروائی کے ساتھ ساتھ وہ خود اپنی ذات سے بے پروائی بھی برت رہا تھا۔ رات بھر اس کے کمرے کی لائٹ جلتی رہتی تھی۔ اس روز ناشتے سے فارغ ہونے کے بعد وہ اوپر اس کے کمرے میں چلی آئی تھیں۔
’’عباد!‘‘ وہ تکیہ بانہوں میں دبائے گہری نیندسو رہا تھا۔ کمرے کا حال بھی اس کی طرح ابتر تھا۔ کہیں کوئی چیز ٹھکانے پر پڑی دکھائی نہیں دے رہی تھی۔ سرخ و سفید چہرہ کملا کر رہ گیا تھا‘ آنکھوں کے نیچے حلقے الگ پڑگئے تھے۔ انہیں لگا جیسے کسی نے ان کا دل مٹھی میں لے لیا ہو۔ ’’عباد!‘‘ بہت پیار سے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے انہوں نے پھر اسے پکارا تھا۔ جواب میں عباد نے ہلکا سا کسمسا کر آنکھیں کھول دیں‘ اس کا جسم آگ کی مانند دہک رہا تھا۔
’’کیا ہوگیا ہے تمہیں‘ کیا حالت بنا رکھی ہے اپنی؟‘‘ ان کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ عباد نے اپنا سر چپکے سے ان کی گود میں رکھ دیا۔
’’مما…! مجھ سے وہ لڑکی کھوگئی ہے۔‘‘ کہنے کے ساتھ ہی وہ بلک بلک کر روپڑا تھا بالکل کسی ننھے سے معصوم بچے کی طرح۔ آسیہ بیگم کو لگا ان کا دل رک جائے گا۔
’’اتنا پیار کرتے ہو اس سے تو کہاں گئی؟‘‘
’’پتا نہیں مما! لیکن کہیں کچھ بہت غلط ہوا ہے‘ وہ ایسی نہیں ہے کہ یوں راستہ بدل کر کہیں جا سکے۔‘‘
’’اتنا یقین ہے اس پر؟‘‘
’’اس پر نہیں مما اپنی محبت پر یقین ہے۔‘‘
’’اچھا سنبھالو خود کو… تمہارے پا پا دیکھیں گے تو کیا سوچیں گے۔‘‘نظریں چراتے ہوئے انہوں نے اس کے بال سہلائے تھے۔
’’ہادیہ اچھی لڑکی ہے خاندان سے ہے پھر بہت پیار بھی کرتی ہے تم سے… میری مانو تو اس کے لیے ہامی بھرلو‘ خوش رہو گے۔‘‘
’’نہیں…! وہ نہیں تو کوئی نہیں مما!‘‘
’’ایسا کیا ہے اس میں؟ تمہیں پتا ہے یہ مڈل کلاس گھرانے کی لڑکیاں بہت چالاک ہوتی ہیں‘ پیسوں کے لیے امیر لڑکوں کو پھانستی ہیں اور جب کنگال کردیتی ہیں تو خالی برتن کی طرح پھینک کر چلی جاتی ہیں‘ تمہیں اس کے لیے اتنا جوگ لینے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘
’’وہ ایسی نہیں ہے مما! مجھے نہیں پتا مڈل کلاس گھرانوں کی لڑکیاں کیا ہوتی ہیں کیا نہیں‘ میں جاننا بھی نہیں چاہتا مگر میں اس کو جانتا ہوں۔ وہ ایسی نہیں ہے‘ اسے نہیں پتا میں کون ہوں‘ کیا ہوں‘ میری کیا حیثیت‘ کیا مقام ہے وہ تو بس پیار کرنا جانتی ہے‘ زندگی کی آزمائشوں اور ذمہ داریوں میں پھنسی وہ صرف مجھے دل سے پیار کرتی ہے‘ میری ذات کی قدر کرتی ہے۔‘‘
’’اچھا ٹھیک ہے‘ مل جائے گی کہیں نہ کہیں‘ ابھی اٹھو اور تھوڑا سا کچھ کھالو‘ پھر میں ڈاکٹر صاحب کو بلوالیتی ہوں‘ چیک اپ کر لیں گے۔‘‘
’’نہیں! اس کی ضرورت نہیں ہے‘ میں ٹھیک ہوں‘ آفس جارہا ہوں تھوڑی دیر میں۔‘‘
’’پاگل ہوئے ہو؟ اتنا بخار ہے اور کہتے ہو ٹھیک ہوں‘ ہر گز نہیں اور آفس کا تو نام بھی نہیں لینا۔‘‘
’’نہیں مما! مجھے آفس جانا ہے‘ کیا پتا وہ آجائے۔‘‘
’’تم پاگل ہوگئے ہو عباد! اور کوئی بات نہیں ہے۔‘‘
’’محبت پاگل ہی توکردیتی ہے مما!‘‘ زخمی سی مسکراہٹ لبوں پر پھیلا کر کہتے ہوئے وہ اٹھ کھڑا ہوا تھا۔ آسیہ بیگم بے بس سی اسے دیکھتی رہ گئیں۔
///
’’صاعقہ! تمہارے لیے ایک خوش خبری ہے۔‘‘
’’خوش خبری…! اور میرے لیے… ہاہ! مذاق تو نہ اڑائو یار!‘‘
’’سچ کہہ رہی ہوں پاگل لڑکی! وہ پرسوں ہم جن ڈائریکٹر صاحب سے ملنے گئے تھے نا! انہوں نے کال بیک کی تھی کہہ رہے تھے کہ آکر مل لیں‘ کوئی نئی سیریل ڈائریکٹ کررہے ہیں آج کل۔‘‘
’’سچ…!‘‘
’’اور نہیں تو کیا !‘‘
’’پھر تو واقعی اچھی خبر ہے چلو چلیں۔‘‘
’’چلتے ہیں‘ بس یہ ذرا سے کپڑے دھوکر پھیلادوں۔‘‘
’’کہیں جانے کی ضرورت نہیں ہے تمہیں… سمجھیں!‘‘ آمنہ کی والدہ کی کڑک دار آواز پر وہ دونوں چونکی تھیں۔
’’جب دیکھو یہ لڑکی کہیں نہ کہیں آوارگی پر تیار رہتی ہے اور تم اتنی بے شرم ہوکہ ماں سے اجازت لینا بھی گوارا نہیں کرتیں‘ تمہارے باپ کو تمہارے کرتوتوں کا پتا چل گیا تو تمہارے ساتھ میری چٹیا بھی پکڑ کر گھر سے باہر کردیں گے۔‘‘
’’اماں!‘‘
’’چلائو مت… اس کی ماں ا س کی کمائی کھاتی ہوگی اسی لیے روک ٹوک نہیں کرتی مگر مجھے ایسا کوئی لالچ نہیں ہے۔ آئی سمجھ! بہت دن برداشت کرلی تیری خود سری‘ اب دیکھتی ہوں کیسے ہماری عزت کا جنازہ نکالتی پھرتی ہو تم۔‘‘ وہ اپنی جگہ ایک فیصد بھی غلط نہیں تھیں مگر صاعقہ کو لگا جیسے کسی نے زہر میں بجھا خنجر اس کے سینے میں پیوست کردیا ہو۔ دکھ کی شدت سے گنگ وہ انہیں دیکھتی رہ گئی تھی۔
’’صاعقہ! پلیز تم اماںکی بات کا بُرا مت ماننا‘ انہیں عادت ہے وقت بے وقت فضول بولنے کی۔‘‘
’’بکواس بند کرو اور جاکر ہانڈی چڑھائو‘ بڑی آئی تمیز دار ہمدرد بی بی!‘‘ اس کی معذرت پر وہ پھر ڈپتتے ہوئے بولی تھیں۔ صاعقہ کو لگا وہ اگر ایک منٹ بھی وہاں رکی رہی تو رو پڑے گی۔
’’میں چلتی ہوں آمنہ! تم اپنا خیال رکھنا۔‘‘
’’صاعقہ!‘‘ وہ تڑپ کر اسے روکنا چاہتی تھی مگر صاعقہ اس کے ہاتھوں سے اپنے سرد ہاتھ چھڑاتے ہوئے سرعت سے پلٹ کر اس کے گھر کی دہلیز پار کرگئی۔
’’جب دیکھو یہ لڑکی کہیں نہ کہیں آوارگی پر تیار رہتی ہے اور تم اتنی بے شرم ہوکہ ماں سے اجازت لینا بھی گوارا نہیں کرتیں‘ تمہارے باپ کو تمہارے ان کرتوتوں کا پتا چل گیا تو تمہارے ساتھ میری چٹیا پکڑ کر مجھے بھی گھر سے باہر نکال دیں گے۔‘‘
آمنہ کی ماں کی زہریلی آواز نے دور تک اس کا پیچھا کیا تھا۔ وہ کھینچ کر سانس لیتی‘ آنسوئوں کی دھند میں چلتی رہی۔
’’اس کی ماں اس کی کمائی کھاتی ہوگی اسی لیے روک ٹوک نہیں کرتی‘ مگر مجھے ایسا کوئی لالچ نہیں ہے‘ سمجھیں!‘‘
کتنے نوکیلے تھے یہ لفظ… کانٹوں اور پتھروں سے بھی زیادہ مگر وہ ضبط کیے چلتی رہی۔ نصف راستہ طے کرنے کے بعد اچانک اس کے پائوں میں شدید تکلیف کا احساس ہوا رک کر دیکھا تو سارا پائوں لہولہان ہورہا تھا۔ جانے کب کہاں کانچ کا ٹکڑا پائوں میں پیوست ہوکر اسے زخمی کرگیا تھا۔ اس نے رک کر پائوں کو پکڑا اور زور سے کھینچ کر خون سے سُرخ ہوا کانچ کا ٹکڑا باہر نکال لیا۔
اگلے تیس منٹ کے بعد وہ مطلوبہ ڈائریکٹر کے سامنے تھی۔
’’تو آپ ہیں صاعقہ!‘‘
’’جی…!‘‘
’’شوبز میں کیوں آنا چاہتی ہیں؟‘‘
’’اور لوگ کیوں آتے ہیں۔‘‘
’’مختلف مقاصد ہوتے ہیں ان کے‘ کوئی شہرت کے لیے تو کوئی دولت کے لیے‘ البتہ کچھ اپنا آپ بھلانے اور خود کو بہلانے کے لیے بھی آجاتے ہیں اس طرف…!‘‘
’’میں بھی خود کو بھلا دینا چاہتی ہوں‘ ڈھیر سارا پیسہ کمانا چاہتی ہوں۔‘‘
’’خود کوبھلانا آسان نہیں ہوتا مس صاعقہ!‘‘
’’جانتی ہوں اسی لیے تو آپ کے پاس آئی ہوں۔‘‘
’’یہ جانتے ہوئے بھی کہ لوگ اس فیلڈ کو اچھا نہیں سمجھتے۔‘‘
’’ہوں!‘‘
’’گڈ…!‘‘ وہ مسکرائے تھے پھر اچانک نگاہ اس کے پائوں پر پڑی تو چونک اٹھے۔
’’ارے… یہ آپ کے پائوں اتنے زخمی کیوں ہیں؟‘‘
ان کی نشان دہی پر صاعقہ نے ذرا سا سر جھکا کر اپنے زخمی پائوں پرنگاہ کی تھی پھرگہری سانس بھرتے ہوئے بولی۔
’’یہ محبت کے زخم ہیں آصف صاحب! جو بھی اس نگر کو گیا اسے واپسی کی راہ میں یہ زخم سمیٹنا ہی پڑتے ہیں۔‘‘
’’اوہ! میرا خیال ہے آپ کو ایک چانس ضرور ملنا چاہیے۔ ٹھیک ہے آپ کل اسی ٹائم مل لیجیے گا مجھ سے…!‘‘
’’شکریہ…!‘‘ بنا سامنے چائے کے کپ کو ہاتھ لگائے وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔
///
’’جلدی تیار ہوجائو یار! آج کے فنکشن میں ٹائم پر پہنچنا بہت ضروری ہے۔‘‘
’’کیوں؟‘‘ وہ جو بیڈ پر گھٹنوں میں سر دیے بیٹھی تھی ارسلان کی آمد پر جیسے خواب سے جاگ اٹھی۔
’’کیوں سے کیا مطلب… کل بتایا تو تھا بہت بڑا فنکشن ہے۔ بڑے بڑے نامور لوگ شرکت کریں گے‘ اگر ان میں سے کسی ایک کو بھی تم پسند آگئیں تو سمجھو بات بن گئی تمہاری۔‘‘ وہ ترنگ میں کہتا بیڈ کے کونے میں ٹک گیا تھا۔
امامہ کے لبوں پر زخمی سی مسکان بکھر گئی۔
’’اس کا مطلب ہے تم ’’چارا‘‘ تیار کرنے آئے ہو تاکہ بھینس کو کھلا کر اس سے دودھ حاصل کرسکو۔‘‘
’’بکواس نہ کرو یار! جینے کے لیے سو حیلے کرنے ہی پڑتے ہیں۔ اس وقت ہمارا کوئی ٹھکانا نہیں ہے‘ یوں دوستوں کے گھر کب تک رکھوں گا میں تمہیں، نہ تو شادی کرسکتا ہوں نہ ہی تنہا چھوڑ کر کہیں جاسکتا ہوں۔‘‘
’’ٹھیک ہے‘ تم چلو میںتیار ہو کر آتی ہوں۔‘‘ عادت کے بر خلاف اس نے بہت جلدی بات مان لی تھی۔ ارسلان خاموشی سے اٹھ کر کمرے سے نکل گیا۔
اگلے ڈیڑھ گھنٹے کے بعد وہ دونوں نائٹ کلب میں تھے۔
’’یہ امامہ ہیں میری کزن! انگلینڈ سے آئی ہیں۔‘‘ ہزار بار کا بولا ہوا جھوٹ وہ ایک مرتبہ پھر بول رہا تھا۔ اس بار مقابل کوئی ماڈل تھا۔
’’نائس ٹو میٹ یو… میرا نام فہد ہے‘دیکھا ہوگا ٹی وی پر آپ نے۔‘‘ مسکرا کر اپنا تعارف کرواتے ہوئے اس نے مصافحہ کو ہاتھ بڑھایا تھا۔ جواب میں امامہ نے ذرا سی جھجک کے بعد اس کا ہاتھ تھام لیا۔
’’سوری…! میں ٹی وی نہیں دیکھتی‘بہرحال آپ سے مل کر خوشی ہوئی۔‘‘
’’شکریہ! ویسے میرا خیال ہے آپ کو ماڈلنگ کی طرف آنا چاہیے۔‘‘
’’کیوں…؟‘‘
’’کیوں کیا…! آپ خوب صورت ہیں‘ ذہین ہیں‘ پھر اس فیلڈ میں بہت پیسہ ہے۔‘‘
’’مگر مجھے انفارمیشن نہیں ہے‘ کوئی ہیلپ بھی نہیں۔‘‘
’’ہیلپ کو چھوڑیں آپ… آپ جیسے خوب صورت لوگوں کو ہیلپ کی ضرورت نہیں ہوتی‘ بس ہامی بھریں اور آفر پکی جھولی میں۔‘‘ ارسلان قریبی میز پر بیٹھا سب سن رہا تھا اور خوش ہورہا تھا‘ امامہ مسکرادی۔
’’آپ تو ایسے کہہ رہے ہیں جیسے آفرز آپ کے ہاتھ میں ہوں۔‘‘
’’بس یہی سمجھ لیںکہ ہاتھ میںہے‘ میرے ساتھ ہی کچھ ایڈ کرلیجیے گا۔‘‘
’’یہ تو بہت امیزنگ ہے‘ میں ضرور کرنا چاہوں گی۔‘‘
’’شکریہ! بات ماننے کے لیے… چلیں کہیں بیٹھ کر باتیں کرتے ہیں۔‘‘ وہ جانتی تھی کہ اب اسے کیسی باتیں کرنی ہیں‘ تبھی مسکرا کر اثبات میں سر ہلادیا۔ ارسلان نے بے ساختہ گہری سانس بھر کر سر کرسی کی پشت سے ٹکایا تھا۔
آنے والے دنوں میں فہد کی مدد سے امامہ نے بہت کامیابیاں سمیٹیں۔ شروع کے دو تین ایڈز میں بھرپور پزیرائی کے بعد جیسے اس پر آفرز کی بوچھاڑ ہوگئی تھی۔ اب فہد کو اس سے تعلق رکھنے پر رشک آرہا تھا۔ فہد کے بعد جہاں زیب نامی ماڈل کے ساتھ اس کی دوستی ہوگئی تھی اور جہاں زیب اسے ماڈلنگ سے فلم کی طرف لایا تھا۔ ایک کے بعد ایک کامیابی اس کے قدم چوم رہی تھی۔ ارسلان کو اسی کی مدد سے کام مل گیا تھا۔ دونوں مل کر مصروف ہوگئے تھے۔ دن بھر خود کو ’’دنیاداری‘‘ اور ’’رنگ و نور‘‘ کے نشے میں مصروف رکھنے کے بعد رات کو جب وہ بستر پر لیٹتی‘ تو شجاع اور گڑیا کے ساتھ ساتھ قدرت اللہ صاحب بھی شدت سے یاد آتے اور آنکھ سے ان کی یاد شفاف موتیوں کی صورت گالوں پربکھر آتی۔
’’جانے گڑیا کس حال میں ہوگی‘ اسے یاد بھی کرتی ہوگی کہ نہیں…‘‘ یہی سوال اسے بے چین کیے رکھتا۔ اس روز کسی نئے پروجیکٹ کے سلسلے میں اسے ایک تقریب اٹینڈ کرنی تھی۔ جہاں زیب نے اسے اس تقریب کے لیے اپنے پیسوں سے شاپنگ کروائی تھی۔ گہرے نیلے رنگ کی خوب صورت ساڑھی میںملبوس وہ نظر لگ جانے کی حد تک خوب صورت دکھائی دے رہی تھی۔ جہاں زیب اسے اپنے حوالے سے مختلف لوگوں سے ملوارہا تھا۔ جانِ محفل بنی وہ ہرکسی سے دادو تحسین سمیٹ رہی تھی۔ کھانے کے بعد جہاں زیب اور وہ ایک میز کے گرد بیٹھے باتیں کررہے تھے جب جہاں زیب نے چپکے سے اس کا ہاتھ تھام کر اپنے ہاتھوںمیں لے لیا۔
’’مومی! آگے کی زندگی کے لیے کیا سوچا ہے تم نے…؟‘‘
’’کیا سوچنا ہے؟‘‘
’’میں شادی کی بات کررہا ہوں۔‘‘
اس کا ہاتھ ایک اندا ز سے اپنے لبوں سے لگاتے ہوئے اس نے کہا تھا اور امامہ کے مسکراتے لب فوراً سمٹ گئے۔ دایاں ہاتھ اٹھا کر جہاں زیب کے ہاتھوںسے اپنا بایاں ہاتھ چھڑاتے ہوئے اس نے ذرا سی نگاہ پھیری تھی اور پھر جیسے وہیں پتھر کی ہوگئی۔
شجاع حسن مکمل یونیفارم میں ملبوس قہر برساتی نگاہوں سے اسی کی طرف دیکھتا اسے شاکڈ کر گیا تھا۔
///

ابھی ٹھہرو ابھی کچھ دن لگیں گے
وصل کوخواہش بنانے میں
تمہیں اپنا سمجھنے کے لیے دل کو منانے میں
وفا کیا ہے‘ تقاضائے محبت کی حدیں کیا ہیں؟
حدوں کی سرحدیں کیا ہیں؟
پھران کے پارجانے کا سبب کیاہے؟
دھیان وبے دھیانی میں
تمہاری بھیگتی باتوں کی ندیا کی روانی میں
کہانی ہی کہانی میں
ابھی ٹھہرو‘ ابھی کچھ دن د لگیں گے
رشتہ بے نام کو‘ ہم نام کرنے میں
کہانی کو کسی آغاز سے انجام کرنے میں
کہیں اظہار کرنے میں‘ کہیں اقرار کرنے میں
ابھی ٹھہرو‘ ابھی کچھ دن لگیں گے

نگاہیں ٹیلی ویژن اسکرین پر جمائے وہ کسی گہری سوچ میں گم تھاجب انوشہ آہستہ سے دروازہ کھول کر کمرے میں چلی آئی۔
’’السّلام وعلیکم !‘‘
وہ بے ساختہ چونکا تھا۔
’’وعلیکم السّلام‘ خدا کاشکر ہے کہ شکل نظر آئی۔ کہاں تھیں دن بھر؟‘‘
انٹرویو دینے گئی تھی جاب کے لیے اور میرا انتخاب بھی ہوچکا ۔‘‘
’’اچھا…انٹرویودیتے ہی انتخاب ہوگیا؟‘‘
’’جی ہاں…‘‘ اس کی مبہم مسکراہٹ پروہ تپی تھی۔
’’کیا میں پوچھ سکتا ہوں کہ تم جاب کیوں کرنا چاہتی ہو؟‘‘
اگلے ہی پل وہ سنجیدہ ہواتھا۔ انوشہ نے رخ پھیرلیا۔
’’ہاں… جو تعلق آپ نے زور زبردستی اور دھوکے سے میرے ساتھ باندھا ہے۔ میرے لیے اس تعلق کی کوئی اہمیت نہیں‘ میں اب بھی نفرت کرتی ہوں تم سے‘ میرے لیے اب بھی تمہارا ایک روپیہ اپنی ذات پرخرچ کرنا حرام ہے۔ تم جانو یانہ جانو مگر میں نے اب تک تمہارے گھر میں سوائے پانی کے اور کوئی چیز اپنے حلق سے نہیں اتاری‘ تم سمجھتے ہو تم نے اس سنسان جزیرے کو فتح کرکے بڑا کام کیا‘ مگر میں آخری سانس تک خود پر تمہارا حق تسلیم نہیں کروں گی۔‘‘
ایک سناٹا تھا جو ان الفاظ پر شاہ زر کے اندر تک اتر گیاتھا۔ وہ سپاٹ نگاہوں سے اسے دیکھتا رہا۔
نفرت اور ضد کی اگر کوئی حد تھی تو انوشہ رحمن پر وہ حد ختم تھی۔
’’ٹھیک ہے اور کچھ…؟‘‘
گہری سانس بھرتے ہوئے اس نے اس لڑکی کی نفرت سے شکست تسلیم کی تھی۔
’’اور کچھ نہیں‘ میں ایک ہی کمرے میں آپ کے ساتھ نہیں رہ سکتی‘ اس لیے میں نے اوپر کا ایک کمرہ اپنے لیے سیٹ کرلیا ہے۔‘‘
’’تم‘‘ اور’’ آپ‘‘ کے درمیان پھنسی وہ نظریں جھکائے مزید مطالبات پیش کررہی تھی۔
شاہ زر نے دونوں ہاتھ سینے پر باندھ لیے۔
’’ٹھیک ہے‘ بات اگر رشتے کی بے وقعتی اورحساب کتاب تک آہی پہنچی ہے تو پھراس معاملے کو اچھی طرح سے حل کرتے ہیں… ہوں…‘‘
اب وہ گہری نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا۔
’’تمہارے لیے میری ہرچیز حرام ہے تو پھر میرے لیے تمہاری خدمتیں حلال کیسے ہوسکتی ہیں؟ماناکہ اس گھر میں ہر کام کے لیے ملازمین موجود ہیں مگر پھر بھی تم میرے بیٹے کو سنبھالتی ہو‘ اس کا خیال رکھتی ہو‘ تمہارے اس کام کا بھی معاوضہ ہونا چاہیے۔‘‘
’’ہرگز نہیں… آپ بھول رہے ہیں کہ آپ کے بیٹے سے میرا بھی کوئی تعلق ہے‘ جائز ماں ہوں‘ میں اس کی‘ اور آج تک کسی ماں نے اپنے بچے کی پرورش کے پیسے نہیں لیے‘ ہاںالبتہ آپ کے پیسے بنتے ہیں میری طرف‘ اس گھر میں رہنے کے پیسے‘ اور وہ میں ضرور دوں گی۔‘‘
اس لڑکی کی کوئی کل سیدھی نہیں تھی۔
شاہ زر لب بھینچ کر اپنے اندر اٹھے غصے کے طوفان کو ضبط کرگیا۔
’’اس سے پہلے کہ میرے لبوں سے کچھ غیر مناسب الفاظ نکلیں‘ یہاں سے چلی جائو انوشہ‘ پلیز…‘‘وہ اس لڑکی سے کبھی جیت نہیں سکتاتھا۔ انوشہ بنا اس کے چہرے پر نگاہ کیے خاموشی سے کمرا چھوڑ گئی۔
///
شدید سردی میں بنا کمبل کے ٹی وی کے سامنے بیٹھا وہ انگلش مووی سے دل بہلا رہا تھا جب ریان زور سے اس کے کمرے کا دروازہ دھکیلتے ہوئے اندر چلا آیا۔
’’چاچو ‘ممابلارہی ہیں۔‘‘
’’مما سے کہو چاچو فری نہیں ہے۔‘‘
بنا نگاہ اسکرین سے ہٹائے اس نے پٹ سے جواب دے دیا۔
’’کیا کررہے ہیں؟‘‘
’’مووی دیکھ رہا ہوں۔‘‘
’’چاچو… ٹیچر کہہ رہی تھیں مووی دیکھنے سے گناہ ہوتا ہے۔ اللہ میاں بہت مارتا ہے۔‘‘
’’اچھا… کس چیز سے مارتا ہے اللہ؟‘‘
وہ مسکرایا تھا۔ریان چپ ہوگیا۔
’’پتا نہیں‘ یہ تو ٹیچر نے نہیں بتایا۔‘‘
’’توپوچھنا ناں یار ٹیچر سے اور اب جائو اپنا ہوم ورک کرو شاباش۔‘‘
ٹیلی ویژن اسکرین پر جو سین تھا‘ وہ ریان کے دیکھنے لائق نہیں تھا تبھی اس نے اسے کمرے سے بھگادیا۔ عین اسی لمحے اس کے سیل پر باقر کی کال آئی تھی۔
’’کہاں ہو شہزادے‘کال کیوں ریسیو نہیں کررہے تھے؟‘‘
’’سائیلنٹ پر تھایار‘ کہو کیا بات ہے؟‘‘
’’میں آرہا ہوں تیری طرف‘ آج رات بہت غضب کا پروگرام سیٹ کیا ہے ہم نے۔‘‘
’’اچھا… کچھ اسپیشل ہے کیا؟‘‘
’’ہاں بہت اسپیشل ہے۔‘‘
’’چلو ٹھیک ہے آجائو‘ میں گھر پر ہی ہوں۔‘‘
سرعت سے کہہ کر اس نے کال ڈراپ کردی تھی اور اب اسے باقر کی آمد کے ساتھ رات کے ڈھل جانے کا بھی انتظار تھا۔
’’کیا پروگرام ہے؟‘‘
اگلے تیس منٹ میں باقر اس کے پاس تھا۔
’’بتایا تو ہے بہت اسپیشل پروگرام ہے۔ شام میں آصف کی طرف چلیں گے۔ اس کے گھر والے کراچی گئے ہیں آج‘ تنہا ہوگا گھر پر‘ وہاں مووی وغیرہ دیکھیں گے پھر ہوٹلنگ وغیرہ کرکے کچھ پینے پلانے کا پروگرام ہوگااور اس کے بعد اسپیشل پروگرام…‘‘
ہاتھ پر ہاتھ مار کر قہقہہ لگاتے ہوئے اس نے بتایا تھا۔
’’عدی نے برا سا منہ بنا کر رخ پھیرلیا۔
’’چلو…‘‘ میں سمجھا پتا نہیں کیا اسپیشل پروگرام ہوگا‘ یہ تو روز کا کھیل ہے۔‘‘
’’یار اس بار لڑکی بہت غضب کی ہے اور زیادہ پروفیشنل بھی نہیں۔‘‘
مووی دیکھنے کی بجائے یار کلب چلیں گے اور کچھ ہلاگلا کریں گے۔‘‘
’’ٹھیک ہے… جیسی تیری خوشی۔‘‘
وہ سارے دوستوں کا لاڈلا تھا۔ اس لیے ہر بار اسی کی خواہش کااحترام کیا جاتاتھا۔
’’اب انکل کی طبیعت کیسی ہے؟‘‘
اگلے ہی پل چلغوزے چھیلتے ہوئے باقر نے اس سے پوچھا تو عدی نے ٹی وی آف کردیا۔
’’پہلے سے بہتر ہیں۔‘‘
’’اور وہ ان کی ول کا کیا بنا‘ تجھے کچھ دیں گے کہ نہیں؟‘
’’مجھے کچھ نہیں چاہیے ان سے‘ نہ دیں کچھ…‘‘
’’مگر یار یہ تیرا حق ہے‘ تو اپنا حق چھوڑ دے گا۔‘‘
’’ڈیم اٹ یار‘ چل مارکیٹ چلتے ہیں‘ کچھ چیزیں خریدنی ہیں اپنی گرل فرینڈ کے لیے۔‘‘
وہ بیزاری سے بولا تو باقر فوراً اٹھ کھڑا ہوا۔
///
طلال ہمدانی کاشمار ارب پتی رئیسوں میں ہوتا تھا۔ اپنی جوانی آرمی میں بھرپور عیش وعشرت کے ساتھ بسر کرنے کے بعد ریٹائر ہوکرانہوں نے اپنا ذاتی کاروبار شروع کردیاتھا۔ جس میں ان کے دو بڑے بیٹوں عفان اور منان نے ان کی بھرپور مدد کی۔
عدنان کا نمبر چوتھا تھا۔ اس کی پیدائش پر طلال صاحب اپنی محبوب بیگم کو کھوبیٹھے تھے۔ لہٰذا ایک گرہ سی پڑگئی تھی دل میں‘ اس کے لیے اور اس گرہ نے ان دونوں باپ بیٹوں کو کبھی ایک دوسرے کے قریب ہونے ہی نہیں دیا۔عدنان سے بڑا اثنان تھا اور وہ تعلیم کے سلسلے میں ملک سے باہر تھا۔ عفان اور منان دونوں شادی شدہ تھے اور ایک ہی گھر میں اکٹھے رہ رہے تھے۔ دونوں کی بیگمات سگی بہنیں تھیں لہٰذا امن وسکون تھا گھر میں‘ ریان عفان ہمدانی کابیٹا تھا اور عدنان سے بے حد کلوز تھا۔ منان کے گھر ابھی اولاد نہیں ہوئی تھی لہٰذا گھر بھر کی محبتوں کاواحد وارث وہی تھا۔
عفان شاہ زر کا دوست تھا اور اسی کے کہنے پراسکول کے بعد اس نے ریان کو گوری کی اکیڈمی میں اسلامی تعلیمات کے لیے بھیجنا شروع کیاتھا۔
ماں کے وجود سے محرومی اور باپ کے سرد رویے نے عدنان کوخودسر اور عیاش بنا دیاتھا‘ اسے ہروہ کام کرکے دل کو تسکین حاصل ہوتی تھی جو اس کے گھر والوں ‘خصوصاً باپ کو ناگوار گزرتا‘ ایم بی اے کرنے کے باوجود اسے جاب یا بزنس میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔
اخلاق سوز فلمیں دیکھنا‘ شراب پینااور غلط کاریوں کواپنا محبوب مشغلہ اپنانے میں اس کے بگڑے ہوئے آوارہ دوستوں نے اس کی پوری پوری مدد کی تھی۔ وہ بلا کا ضدی اور موڈی تھا۔ گھر بھر میں اسے ریان کے سوا کوئی بھی پسند نہیں کرتاتھا تاہم اسے اس کی پروا بھی نہیں تھی۔
کئی بار اس پر کیس بنے تھے۔ کئی بار وہ روڈ ایکسیڈنٹ کی نذر ہوا تھا مگر ہر حادثے کے بعد اس کی ذات پر چڑھی بے حسی کی چادرمزید موٹی ہوتی جاتی تھی۔
اس رات بھرپورعیاشی کے بعد وہ گھر واپس لوٹا تو نشے سے اس کا انگ انگ چور تھا۔
اپنے کمرے میں آنے کے بعد اس کاشدت سے دل چاہا کہ کاش کوئی نرم آغوش ہو جو اس کے وجود کو قیمتی متاع کی طرح سمیٹ کر میٹھی نیند سلادے‘ مگر وہاں اس سرد کمرے میں سوائے بے جان چیزوں کی سجاوٹ کے اور کچھ بھی نہیں تھا۔
وہ بددل سا جوتے اتارے بغیربیڈ پر گر پڑا۔ جسم ہلکاہلکا گرم ہو رہا تھا۔ اگلے روز کہیں شام میں اس کی آنکھ کھلی تھی اور آنکھ کھلتے ہی پہلااحساس ’’درد‘‘ کا ہواتھا۔ یوں لگا جیسے سارا وجود درد کے شکنجے میں جکڑا ہوا ہو‘ تیز بخار کی حدت نے ایک ایک عضو جیسے توڑ کر رکھ دیا تھا۔ اس نے اٹھنے کی کوشش کی مگر خواہش کے باوجود جسم کوحرکت نہ دے سکا۔
حلق میں جیسے کانٹے اگ آئے تھے اور آنکھیں یوں جل رہی تھیں گویاانگارے ہوں۔ یہ سب سرد موسم سے بے پروائی اور ضرورت سے زیادہ عیاشی کے سبب ہوا تھا۔ مگر اسے احساس نہیں تھا نہ ہی گھر کے کسی فرد نے اس کے کمرے میں جھانکنے کی ضرورت محسوس کی تھی۔ تیز بخار کے حصار میں دکھتے وجود کے ساتھ بے سدھ سا وہ یونہی پڑا رہا تھا جب اچانک اسے اپنی پیشانی پر نرم ہاتھوں کی سکون آمیز گرماہٹ کااحساس ہوا‘ خمار سے بوجھل نگاہوں کوبمشکل کھول کر دیکھا تو ریان اس کے کندھے کے قریب بیٹھا اپنے ننھے منے ہاتھوں سے اس کا سر دبا رہا تھا۔
اس کا دل جیسے کسی نے مٹھی میں جکڑ لیا۔
’’چاچو… میں نے کہا تھا ناں مووی نہ دیکھیں اللہ مارتا ہے۔‘‘
معصوم سامنہ بنا کر وہ اسے یاد کروارہاتھا‘ عدی نے ذرا سا مسکرا کر اس کے دونوں ہاتھ تھام لیے۔
’’ٹھیک ہے اور کس کس بات پر اللہ مارتا ہے؟‘‘
’’ٹیچر کہہ رہی تھیں جب ہم سے کسی کو تکلیف پہنچتی ہے تو اللہ ناراض ہوجاتا ہے‘ کیونکہ اللہ اپنے بندوں سے بہت پیار کرتا ہے۔‘‘
’’اوراللہ خوش کیسے ہوتا ہے؟‘‘
’’یہ تو ٹیچر کو پتا ہے‘ کل پوچھوں گا ان سے‘ میری ٹیچر بہت اچھی ہیں۔‘‘
’’چاچو سے بھی زیادہ اچھی؟‘‘
’’اوں…اچھی تو بہت ہیں مگر چاچو سے زیادہ نئیں۔‘‘
وہ مسکرایا تو عدی نے ہاتھ بڑھا کراسے خود سے لپٹالیا۔
’’چاچو… میری ٹیچر بہت اچھی کہانیاں سناتی ہیں‘ قرآن پاک میں اللہ نے ہماری بہتری اور بھلائی کے لیے جو باتیںکی ہیں وہ سب بتاتی ہیں ہمیں او رساری دعائیں بھی یاد کرواتی ہیں۔‘‘
’’اور کیا کیا کرتی ہے آپ کی ٹیچر؟‘‘
’’بچوں سے پیار کرتی ہیں‘ نماز پڑھنا سکھاتی ہیں‘ آپ ٹیچر سے نماز پڑھنا سیکھوگے؟‘‘
’’نہیں یار! میری پٹائی کریں گی وہ۔‘‘
’’نئیں چاچو! میری ٹیچر پٹائی نہیں کرتیں‘ بہت پیار سے پڑھاتی ہیں۔‘‘
’’چلوپھرٹھیک ہے‘ تب تو سیکھنا ہی پڑے گا۔‘‘
ریان کے بالوں میں پیار سے ہاتھ پھیرتے ہوئے اس نے اسے بہلایا تھا تبھی اس کی دوست زاویہ ہلکے سے دروازہ ناک کرتے ہوئے کمرے میں چلی آئی۔
’’ہائے عدی‘ کیسے ہو؟ باقر سے پتہ لگا تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں۔‘‘
’’ہاں یار! کل رات بس خیال نہیں کیا تو بخار ہوگیا۔ تم سنائو کیسی ہو‘ کہاں ہوتی ہو آج کل؟‘‘
’’میں نے کہاں ہونا ہے‘ تمہیں تو پتا ہے کسی مسئلے میں پھنس گئی تھی۔ اوپر سے اس اسٹوپڈ انسان نے مووی بنا کر نیٹ پر پھیلادی۔ پاپا اور مما نے توقطع تعلق کرلیا‘ آج کل دانی کے ساتھ رہ رہی ہوں اب اس کی بھی نت نئی فرمائشیں شروع ہوگئی ہیں۔‘‘
’’ہوں… یہ تو ہے‘ آگ گھی کے پاس رہے تو اس کا جمے رہنا ناممکن ہے۔ اب یہ سارے حالات تو فیس کرناہی پڑیں گے کیونکہ واپسی کا کوئی راستہ نہیں ہے۔‘‘
’’ایک راستہ ہے… اگر تم مجھ سے شادی کرلو تو‘ میں ہر برائی چھوڑ سکتی ہوں۔‘‘
زاویہ نے کہاتھااور وہ بے ساختہ مسکرااٹھا تھا۔
’’سوری یار! میں ابھی شادی کی پوزیشن میں نہیں ہوں‘ تم دانی سے کہو وہ کرلے گا۔‘‘
’’تم سے پہلے اسے ہی کہا تھا‘ شادی کے لیے‘ ایکسکیوز کرلیاہے اس نے ‘مگر دوست کی حیثیت سے تعلق بنانا چاہتا ہے۔‘‘
’’پھر کیا کرنا ہے؟‘‘
’’کیا کرسکتی ہوں‘ چڑیا کے گھونسلے سے گرے بچے کا کوئی مقام نہیں ہوتا۔ نہ ہی درخت سے گرے پتوں کو کوئی اٹھا کر جھولی میں بھرتا ہے۔ یہاں گرنے والی ہرشے کے مقدر میں روندے جانا لکھ دیا گیا ہے عدی! سومیں بھی آج کل ہر ایک کے پائوں تلے آرہی ہوں۔‘‘
’’جسٹ شٹ اپ یار! اتنا مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ ویسے بھی تم نے کوئی انوکھا غلط کام نہیں کیا‘ آج کل سبھی یہی کررہے ہیں پیار میں‘ پھران کی شادیاں بھی ہوجاتی ہیں اور ہنسی خوشی زندگی بھی گزار لیتے ہیں‘ تمہیں بھی کوئی نہ کوئی اچھا لڑکا مل ہی جائے گا۔‘‘
’’خود فریبی ہے یہ اور کچھ نہیں‘ بہرحال کرنی تو بھگتنا ہی پڑتی ہے‘ جس طرح کسی پھل کا اگر چھلکا اتار کر اسے فروخت کیاجائے تو اسے کوئی نہیں خریدتابالکل اسی طرح چادر اتری عورت بھی مکروہ ہو جاتی ہے۔ یہ پردہ ہی ہے عدی جو ہزار آزمائشوں اور مصیبتوں سے بچاتا ہے‘ ہم نفس کی آگ میں بھسم ہو کر جب اس پردے کی حرمت کا سودا کرلیتے ہیں تو پھر دربدر‘ ٹھوکریں کھانا ہی مقدر بن جاتی ہیں۔‘‘
’’اوہیلو! زیادہ مذہبی اور فلسفی ہونے کی ضرورت نہیں ہے‘ زندگی تھرل کانام ہے‘ موج مستی‘ انجوائے منٹ کانام ہے‘ اسے موج مستی میں گزارو‘ بس۔‘‘
’’نہیں عدی! بڑی گمراہی ہے یہ‘ بڑاظلم ہے یہ اپنی ذات پر‘ جس چیز کی کوئی گارنٹی نہیں اس پر بھروسہ کرکے خود کوتباہ کرنا کہاں کی دانش مندی ہے؟‘‘
’’میراخیال ہے اب تم مار کھائوگی مجھ سے‘ کہیں ریان کی ٹیچر سے مل کر تو نہیں آرہیں۔‘‘
’’نہیں…‘‘ وہ اداسی سے مسکرائی تھی۔
عدنان نے کمبل پرے پھینک دیا۔
’’تم بیٹھو میں ابھی فریش ہو کر آتا ہوں‘ پھر آئوٹنگ کے لیے چلتے ہیں۔‘‘
خراب طبیعت کی پروا کیے بنا وہ اٹھ کھڑا ہوا تھا۔ زاویہ اثبات میں سرہلاگئی۔
ریا ن نے دیکھا اس کے بازو اور پیٹ عریاں تھے۔ اس وقت جو جین اس نے پہن رکھی تھی وہ اس کے خوب صورت جسم کومزید عیاں کررہی تھی بے ساختہ اس کے تصور میں اپنی ٹیچر کا سراپا آگیا۔ خوب صورت عبایا میں سر پر اسکارف لپیٹے وہ اتنی پرنور دکھائی دیتی تھی کہ ریان زیادہ دیر اس کی آنکھوں میں دیکھ ہی نہ پاتا مگر سامنے بیٹھی یہ عورت اس کی مما کی کاپی ہی لگ رہی تھی‘ وہ بجھا بجھا سااٹھ کھڑا ہوا۔
’’اگر میں مما سے کہوں کہ وہ ٹیچر جیسے کپڑے پہنیں تو کیا مما مان جائیں گی؟ اگر چاچو اس آنٹی سے وہ کپڑے پہننے کے لیے کہیں تو کیایہ مان جائیں گی…‘
انہی سوالوں میں الجھا وہ عدنان کے کمرے سے نکل گیاتھا۔
اگلے روز اکیڈمی میں وہ گوری کو یہ بات بتارہاتھا۔
’’ٹیچر میری مما اور چاچوکی دوست آپ کے جیسے کپڑے کیوں نہیں پہنتیں؟‘‘
گوری اس کے سوال پر مبہم سا مسکرائی تھی۔
’’اس سوال کا جواب بہت گمبھیر ہے ریان! آپ نہیں سمجھوگے۔ خدا کی اس کائنات میں روئے زمین پر اس شخص سے زیادہ بدنصیب اور قابل ترس شخص اور کوئی نہیں‘ جسے وہ پاک ذات ہدایت نصیب نہ کرے‘ قرآن پاک کی سورہ الروم پارہ نمبر۲۱ آیات نمبر۲۸ اور ۲۹ میں اللہ رب العزت کافرمان ہے۔
’’اللہ غالب حکمت والا ہے اور وہ تمہارے لیے تمہارے ہی مال کی ایک مثال بیان فرماتا ہے‘ بھلا انسانوں میں جن غلاموں کے تم مالک ہو‘ وہ اس مال میں جو ہم نے تم کو عطا کیا ہے‘ تمہارے شریک نہیں؟ کیا تم اس میں ان کو اپنے برابر سمجھتے ہو؟ اور کیا تم ان سے اس طرح ڈرتے ہو جیسے اپنوں سے ڈرتے ہو؟ اور ہم اسی طرح عقل والوں کے لیے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کرتے ہیں مگر جو ظالم ہیں بے سمجھے اپنی خواہشوں کے پیچھے چلتے ہیں تو جس کو خدا گمراہ کرے اسے کون ہدایت دے سکتا ہے؟ اور ان کا کوئی مددگار نہیں۔‘‘
آیت کا ترجمہ سناتے ہوئے اس کی آنکھیں ہلکی سی نم ہوگئی تھیں۔
’’اللہ مہلت دیتا ہے‘ اختیار بھی دیتا ہے‘ مگر انسان جب سرکشی اور جہالت میں حد سے بڑھ جاتا ہے تو پھر وہ اپنی گرفت میں جکڑ لیتا ہے۔ اپنی پکڑ میں لے لیتا ہے اور خدا کی پکڑ بہت سخت ہوتی ہے ریان! بہت پچھتاتا ہے انسان پھر اپنی کوتاہیوں پر‘بالکل ویسے ہی جیسے آخرت میں اس پاک ذات کے منکر‘ کافر اپنے ہاتھ کاٹیں گے دانتوں سے اوراپنی گمراہی پر واویلا کریں گے مگر ان کومعافی نہیں ملے گی۔ مہلت پوری ہوجائے تو سزا اور جزا کا عمل شروع ہوجاتا ہے‘ اور اگر بداعمالی کی سزا نہ ملے تو نیک اور بد میں اللہ کے فرمانبردار اور نافرمان بندوں میں کوئی فرق ہی نہ رہے۔‘‘
’’تو کیا میرے چاچو اور مما کو بھی سزا ملے گی؟‘‘
’’اللہ رحم کرنے والا ہے‘ جسے چاہے بخشنے والا ہے‘ آپ اللہ سے ان کی ہدایت کے لیے دعا کیا کریں۔‘‘
’’کیا دعاکرنے سے ہدایت مل جاتی ہے ٹیچر؟‘‘
بہت معصوم سا سوال تھا مگر گوری کے لبوں پر چپ لگ گئی۔
’’ہاں بھی اور نہیں بھی… انسانی ہستی کی بنیاد ہی جس مرکز پر ہو‘ وہ حاصل ہونا آسان نہیں ہے ریان! ہدایت وہ واحد چیز ہے جو کبھی دل کی گہرائیوں سے گڑگڑا کرمانگے بنا نہیں ملتی‘ اللہ سب کچھ بن مانگے عطا کرتا ہے مگر ہدایت بن مانگے نہیں دیتا۔‘‘
’’آپ بہت اچھی باتیں کرتی ہیں ٹیچر‘ آپ بہت اچھی ہیں۔‘‘
ریان اس کے لیے اپنے جذبات کا اظہار کررہاتھا وہ نرمی سے مسکرادی۔
’’جو اللہ سے پیار کرتے ہیں اللہ ان کے لیے اپنی ساری مخلوق کے دلوں میں عزت اور محبت ڈال دیتا ہے اور جو اللہ سے دور ہوتے ہیں‘ دنیا کے پیچھے بھاگتے پھرتے ہیں مگر انہیں سکون نہیں ملتا‘ آپ نے دیکھا ہوگا ریان! بڑے بڑے فنکار‘ گلوکار‘ خوب صورت سے خوب صورت چہرے‘ جتنی بھی شہرت اور نام کمالیں‘ دنیا والوں کے دلوں میں بس جائیں‘ مگر پوسٹرز اور تصویروں کی صورت پائوں‘ سڑکوں اور گندے نالوں میں رلتے پھرتے ہیں‘ مگر کبھی وہ عورت یا مرد جس کے دل میں اللہ کی محبت اور خوف ہوگا اس کی صورت کسی کیمرے کی آنکھ میں نہیں آئے گی‘نہ ہی اس کی بے حرمتی ہوگی۔‘‘
بہت اچھی مثال پیش کی تھی اس نے مگر ریان کی سمجھ میں نہیں آئی۔
وہ گھر آیا تو عدنان لان میں بیٹھا چائے پی رہاتھا۔ وہ اسی کی سمت بڑھ آیا۔
’’السّلام علیکم چاچو!‘‘
’’وعلیکم السّلام…آگیا میرا پوپٹ؟‘‘
’’جی… اب کیسی طبیعت ہے آپ کی ؟‘‘
’’فٹ فاٹ… تم سنائو‘ آج کیا سکھایا آپ کی ٹیچر نے؟‘‘
’’بہت کچھ… ٹیچر کہتی ہیں اللہ مہلت اور اختیار دیتا ہے مگر انسان جب سرکشی اور جہالت میں حد سے بڑھ جاتا ہے تو پھر وہ اپنی گرفت میں جکڑ لیتا ہے۔ اپنی پکڑ میں لے لیتا ہے اور اللہ کی پکڑ بہت سخت ہوتی ہے۔‘‘
’’اسٹاپ اٹ یار!ابھی آپ کی عمر نہیں ہے ان باتوںکوذہن پر سوار کرنے کی۔ میں کرتا ہوں بھابی سے بات‘ وقت سے پہلے پاگل کردیں گے یہ لوگ تمہیں۔‘‘
سخت برہم ہو کربڑبڑاتے ہوئے وہ اٹھااور دندناتا ہوا ریان کی مما کے کمرے میں جاپہنچا۔ جو ابھی تک نائیٹی میں ملبوس تھیں۔
’’بھابی آپ لوگ ریان کے ساتھ کیا کر رہے ہیں؟ کون سی اکیڈمی میں بھیجنا شروع کیا ہے اسے؟ بچے کی شخصیت مسخ ہو رہی ہے‘ نہ کارٹون دیکھتا ہے‘ نہ ہلاگلا کرتا ہے‘ لے کر آخرت کے عذاب کی باتیں کرتا رہتا ہے آج کل۔‘‘
’’اپنے بھائی سے پوچھنا یہ سوال‘ جن پر مولوی بننے کا بھوت سوار ہوا ہے آج کل۔ میری تو خود بڑی جھڑپ ہوئی ہے ان سے‘ میں کیا کروں۔‘‘
’’بھائی ہر وقت گھر پر نہیں ہوتے‘ آپ کل سے ریان کو اکیڈمی نہیں بھیجیں گی۔‘‘
’’اپناحشر نہیں کروانا میں نے‘ بہت سختی سے تاکید کی ہے انہو ں نے۔‘‘
’’توٹھیک ہے‘ پھراس محترمہ ٹیچر صاحبہ کے دماغ کی برین واشنگ کرنی پڑے گی مجھے۔‘‘
سرخ چہرے کے ساتھ لب کاٹتے ہوئے اس نے گویا اپنا ارادہ ظاہر کیا تھا۔ اگلے روز وہ خود ریان کو اکیڈمی لے کر آیا‘ گوری اندرکلاس میں تھی‘ اسے آفس میں ٹھہرالیاگیا۔
’’میم…آپ سے کوئی عدنان صاحب ملنے آئے ہیں۔‘‘
وہ قرآن پاک کے مطالعے میں مشغول تھی جب آفس بوائے نے آکر پیغام دیا‘ وہ چونک اٹھی۔
’’کتنی بار کہا ہے مجھے میم نہیں آپی یاباجی کہا کرو‘ اور آفس میں کیا نصیر صاحب نہیں بیٹھے؟‘‘
’’بیٹھے ہیں جی‘ پروہ صاحب آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔‘‘
’’ٹھیک ہے‘ انہیں مہمان خانے میں بٹھائیں‘ میں آتی ہوں۔‘‘
شرمندہ سے آفس بوائے کو پراعتماد لہجے میں کہتی وہ پھر سے قرآن پاک کے مطالعے میں مشغول ہوگئی۔
’تقریباً تیس منٹ کے بعد وہ مہمان خانے میں داخل ہوئی تو عدنان کے ضبط کی انتہا ہوچکی تھی۔
’’السّلام علیکم !‘‘
سرسری سی اک نگاہ اس کے رف سراپا پر ڈالتے ہوئے اس نے نرمی سے سلام کیا تھا مگر عدنان نے اس کے سلام کا جواب نہیں دیا۔
’’بیٹھیے‘ مجھے اپنے بھتیجے کے سلسلے میں کچھ بات کرنی ہے آپ سے۔‘‘
’’جی فرمائیے۔‘‘ بلا کی پراعتمادی کے ساتھ وہ قدرے فاصلے پر بیٹھ گئی تھی۔
’’فرماناکچھ نہیں‘ صرف انفارم کرنا ہے۔ آپ قرآن کی آڑ لے کر ننھے منے بچوں کوفضول میں ذہنی مریض بنارہی ہیں۔ میں نہیں جانتا کہ آپ کا اصل کیا ہے اور میں جاننابھی نہیں چاہتا‘ مگر میں آپ کو بتادوں‘آپ برائے مہربانی ریان کو ہراساں مت کریں‘وگرنہ میں برداشت نہیں کروں گا۔‘‘
’’اچھی بات ہے‘ کوئی آپ کے بچے کو ٹارچر یاہراساں کرے تو آپ کو برداشت کرنا بھی نہیں چاہیے مگر یہاں اس اکیڈمی میں ایسا کچھ نہیں ہوتا۔ یہاں صرف قرآن پاک کی تعلیم دی جاتی ہے اور بس۔‘‘
’’قرآن پاک کی تعلیم میں معصوم بچوں کوعذابوں کے احوال سنا سنا کر کون سا علم بانٹ رہی ہیں آپ؟‘‘
’’وہی جو آپ کونہیں ملا۔‘‘
’’جسٹ شٹ اپ! خوب اچھی طرح جانتا ہوں میں آپ جیسی لڑکیوں کی حقیقت۔ یہ عبایا اور اسکارف میں خود کو لپیٹ کر زیادہ پارسا ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ بہت اوپر کی حدوں تک جاتے دیکھا ہے میں نے‘ ایسی اللہ اللہ کرنے والی نیک پروین بیبیوں کو۔ لہٰذا مجھ پر اپنا علم اور عقل مت جھاڑو‘ سمجھیں آپ؟‘‘
وہ صرف عیاش نہیں‘ خود سر بھی تھا‘ گوری کا چہرہ غصے سے سرخ ہوگیا۔
’’میراخیال ہے آپ ضرورت سے زیادہ بکواس کرچکے ہیں‘ اب جائیے یہاں سے۔‘‘
’’جانے کے لیے ہی آیا ہوں‘ دوبارہ شکایت نہ ہو۔‘‘
وہ کھڑا ہواتھا‘ گوری نے اس کی تنبیہہ پر سر جھٹک دیا۔
’’اپنے بھتیجے کو بھی ساتھ لے جائیے‘ تاکہ دوبارہ یہاں آنے کی زحمت گوارہ نہ کرنی پڑے۔‘‘
پل میں فیصلہ سنادیاتھااس نے‘ عدنان بنا توجہ کیے سرخ چہرے کے ساتھ وہاں سے نکل آیا۔
///

دھوپ کے دشت میں شیشے کی ردائیں دی ہیں
زندگی تونے ہمیں کیسی سزائیں دی ہیں
اک دعاگونے رفاقت کی تسلی دے کر
عمربھر ہجر میں جلنے کی دعائیں دی ہیں

ٹیلی ویژن اسٹوڈیو میں اس کا وہ چوتھا چکر تھا۔ کل مالک مکان نے اس سے اپنا مطالبہ پورا نہ ہونے پر گھر کا سامان نکال کر باہر پھینک دیا تھا۔ ایان کا کوئی پتہ نہیں تھا اور سمعان اپنی معذوری کے ساتھ فوری طور پر پانچ ہزار روپے حاصل کرنے میں قطعی ناکام رہاتھا۔ سردی اتنی تھی کہ ہڈیوں میں گھستی تھی۔
رات بھر جاگ کر گلی میں بسر کرنے کے بعد صبح ناشتے کے نام پر بنا کچھ کھائے پیے وہ پھر اسٹوڈیو چلی آئی تھی۔ آج ڈائریکٹر کوشاید اس پر ترس آگیاتھا تبھی پون گھنٹہ انتظار کے بعد بالآخر انہوں نے اسے اپنے آفس میں بلالیا۔
’’جی مس صاعقہ تو آپ پیسے کے لیے شوبز جوائن کرنا چاہتی ہیں۔‘‘
’’جی۔‘‘
’’کہیں کوئی جاب وغیرہ کرتی ہیں کہ نہیں؟‘‘
’’جی نہیں اب نہیں کرتی۔‘‘
’’گھرمیں کون کون ہیں؟‘‘
’’سبھی ہیں بیمار ماں‘ معذور بھائی اور عمر کی سیڑھیاں تیزی سے پھلانگتی لاچار بہن۔‘‘
’’ہوں۔‘‘ مقابل بیٹھے اس گدھ کے چہرے پر اچانک مسکراہٹ آئی تھی۔
’’غربت بھی بڑی ظالم چیز ہے۔ خیر کام مل جائے گا آپ کو‘ مگر پہلے آپ کومیرے ساتھ ایک کپ چائے پینا پڑے گی‘ وہ بھی میرے گھر پر۔‘‘
’’آپ کے گھر پر کیوں؟‘‘ خوش ہوتے ہوتے وہ اچانک ٹھٹکی تھی۔ جواب میں ڈائریکٹر واصف نے آہستہ سے اس کا ہاتھ تھام لیا۔
’’میں گھر پر بہت سکون محسوس کرتا ہوں۔ آج کل تو بیگم صاحبہ بھی میکے گئی ہوئی ہیں‘ بہت تنہائی محسوس ہوتی ہے‘ قسم سے۔‘‘
آنکھوں کارنگ بدلتا وہ شخص کسی طور ’’ڈاکٹر عارف ‘‘ سے الگ نہیں تھا۔
صاعقہ نے بدک کر اپنا ہاتھ کھینچ لیا۔
’’نہیں… میں آپ کے گھر نہیں جاسکتی۔‘‘
’’گھر نہیں جاسکتی تو میرے Play میں کیسے آسکتی ہو‘ بولو۔‘‘
وہ ان چند ایمان فروش لوگوں میں سے تھا جو خفیہ طور پر دوسروں کی مجبوریوں کافائدہ اٹھاتے ہیں۔ صاعقہ نے آنسو بھری نگاہوں کے ساتھ سراٹھا کر اسے دیکھا پھرآہستہ سے کرسی کھسکا کراٹھ کھڑی ہوئی۔
’’میں مڈل کلاس گھرانے کی بھوک سے تنگ آئی لڑکی سہی‘ مگر عزت کاسودا کبھی نہیں کروں گی۔‘‘ شکست کے ساتھ ساتھ اس کے لہجے میں غصہ بھی تھا۔ ڈائریکٹر ہنس دیا۔
سامنے دور تک شفاف سڑک بچھی تھی۔ وہ آزردہ سی سراٹھا کر دیکھتی روپڑی۔
’’کاش تم کبھی میرے مقابل آئوعباد یاور اور میں اپنے جاندار تھپڑوں سے تمہارا چہرہ سرخ کرسکوں۔‘‘ کٹتے دل سے مجبور بہت آہستہ سے اس نے سرگوشی کی تھی۔ تبھی کسی نے اسے پکار لیا۔
’’ایکسکیوز می۔‘‘
///
’’عباد…‘‘
موسم بے حدخراب تھا‘ باہر تیز بارش ہو رہی تھی۔ اسٹاف کے تمام لوگ آفس سے نکل چکے تھے مگر وہ بنا بخار کی پروا کیے نگاہ کمپیوٹر اسکرین پر جمائے کسی گہری سوچ میں گم سب سے کٹ کربیٹھا تھا جب ہادیہ نے سر سری سا اس کے کمرے میں جھانکتے ہوئے اسے پکار لیا۔
عباد نے چند ساعت کے لیے نگاہیں کمپیوٹر اسکرین سے ہٹائیں مگر پلٹ کر اس کی طرف نہیں دیکھا۔
’’تم یہاں بیٹھے ہو اور میں کب سے تمہارے سیل پرٹرائی کررہی ہوں۔ باہر موسم دیکھو کتنا خراب ہے‘ کیا گھر نہیں جانا؟‘‘
’’نہیں… ابھی نہیں۔‘‘
’’کیوں…؟ آنٹی کی تین کالز آچکی ہیں۔ بہت پریشان ہیں تمہارے لیے۔‘‘
’’انہیں کہہ دومیں ٹھیک ہوں‘ اورتم جائو پلیز۔‘‘
’’تمہیںتنہا چھوڑ کر چلی جائوں‘ ہرگز نہیں۔‘‘
’’ہادیہ پلیز…‘‘
’’کیاپلیز… ضروری نہیں کہ ہربات تمہاری مانی جائے‘ تمہیں اب مجھ میں دلچسپی نہیں نہ سہی‘ تمہیں مجھ سے شادی نہیں کرنی‘ نہ کرو۔ مگر تم میرے دوست ہو عابی‘ فرسٹ کزن ہومیرے‘ میں تمہیں اس وقت یوں تنہا چھوڑ کر نہیں جاسکتی سوری۔‘‘
وہ اس کی اندرونی کیفیت سے بے خبر نہیں تھی۔ عباد نے کرب سے پلکیں موند لیں۔
’’بہت بڑا گیم کھیلا ہے تم لوگوں نے میرے ساتھ ہادیہ! بہت بڑاگیم۔‘‘
’’کیامطلب؟‘‘ وہ بڑبڑایا تو ہادیہ چونک اٹھی۔
’’تم جانتی ہو‘ بہت اچھی طرح سے جانتی ہو کہ میں کیا کہہ رہا ہوں۔ایک منصوبے کے تحت آسٹریلیا بھیج کر میری عدم موجودگی میں ‘ پھر دولت کی چھری سے محبت کی گردن کو ذبح کیا ہے تم لوگوں نے۔ مگر یاد رکھنا‘ میں اسے کبھی کھونے نہیں دوں گا‘ ڈھونڈ کر رہوں گا اسے۔ چاہے وہ سمندر پار ہی کیوں نہ چلی جائے۔‘‘
اس کی آنکھوں میں ہلکی نمی کے ساتھ سرخی بھی تھی۔
ہادیہ کا دل عجیب سے خوف میں دھڑک اٹھا۔
’’تمہیں ضرور کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔ مجھے یاانکل آنٹی کو کوئی ضرورت نہیں تمہیں کسی سے دور کرنے کی۔‘‘
’’ضرورت نہیں تکلیف تھی‘ تبھی یہ سب پلان کیا تم لوگوں نے‘ آفس منیجر سب بتاچکا ہے مجھے‘ وہ یہاں آئی تھی ‘تم سے ملی تھی مگر تم نے مجھ سے جھوٹ بولا‘ کتنی اذیت کی بات ہے کہ مما نے بھی اس کھیل میں تمہارا ساتھ دیا۔‘‘
پلٹ کر اٹھتے ہوئے وہ دہاڑا تو ہادیہ نے رخ پھیرلیا۔
’’کھیل کیسا… ہاں میں نے جھوٹ بولاتم سے‘ کیونکہ میں تمہیں اذیت میں نہیں دیکھ سکتی تھی۔‘‘ دھیمے لہجے میں کہتے ہوئے ایک پل میں اس نے کہانی بنائی۔
عباد نے تنفر سے سر جھٹک دیا۔
’’میں جانتی ہوں تم یقین نہیں کروگے‘ مجھے اس سے فرق بھی نہیں پڑتا‘ مگر میں نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا‘ جس سے تم دونوں کے بیچ کوئی دوری آتی۔ ہاں وہ ہرٹ ہوئی‘ کیونکہ تم نے اس سے اپنی اصلیت چھپائی تھی‘ کسی زین کو ڈھونڈتی ہوئی آئی تھی وہ یہاں مگر جب اسے پتا چلا کہ تم زین نہیں عباد ہو‘ میرے فیانسی‘ تووہ جی بھر کر شرمندہ ہوئی‘ معافی مانگ رہی تھی مجھ سے۔ میںنے کہا‘ اس سے کہ تم صرف اس سے پیار کرتے ہو‘ مگر اس نے تھوک دیا تم پر‘ یہ کہہ کر کہ اسے ایک جھوٹے دولت مند ہمسفر کی کوئی ضرورت نہیں‘ اگر نہیں یقین آتا تو پوچھ لومنیجر سے ‘ انکل بھی یہیں تھے‘ مگر آنکھ بھر کر نہیں دیکھا اس نے انہیں اور چلی گئی۔‘‘
اس بار ہادیہ کی بات میں وزن تھا۔ وہ اس کامنہ دیکھتا رہ گیا۔
’’محبت میں ہمیشہ پریقین رہنا اچھی بات ہے‘ مگر بہتر ہوتا ہے اگر اس کی بنیاد بھی سچ پر رکھی جائے۔‘‘ کبھی کبھی سچ کتنا نوکیلا لگتا ہے‘ عباد کو لگا جوآئینہ اس وقت ہادیہ اسے دکھا رہی تھی اس میں اس کاچہرہ بے حد بھیانک ہوگیا ہو۔
وہ پلٹاتھااور پھر بنا ایک لفظ کہے آفس سے نکل گیا۔
باہر اب بھی تیز بارش ہو رہی تھی۔ مگر اسے پروا نہیں تھی‘ اندر لگی آگ پر جتنے بھی سرد قطرے گرتے کم تھے۔
///
’’عدنان…‘‘
وہ ابھی ابھی باہر سے آیاتھااور اب تیزی سے سیڑھیاں پھلانگتے ہوئے اپنے کمرے میں جارہاتھا جب عفان نے اسے زوردار آواز دے کر پکارا۔ وہ وہیں کھڑا گھوم کر ان کی طرف متوجہ ہوا تھا۔
’’جی۔‘‘
’’یہاں آئو‘ مجھے کچھ بات کرنی ہے تم سے۔‘‘
ٹی وی دیکھتے ہوئے ان کا لہجہ خاصاخشک تھا۔ وہ لب کچلتا سیڑھیاں اترآیا۔
’’جی فرمائیے۔‘‘
’’ریان کی اکیڈمی گئے تھے تم؟‘‘ اس کے بیٹھتے ہی تفتیش شروع کی تھی۔
’’جی۔‘‘
’’کس لیے؟‘‘
’’کوئی خاص مقصد نہیں تھا‘ بس یونہی دماغ ٹھیک کرنے گیا تھا اس کی استانی کا۔‘‘
’’جسٹ شٹ اپ…ہوتے کون ہو تم میرے بیٹے کی ٹیچر کا دماغ ٹھیک کرنے والے۔ اس کے ذاتی معاملات میں دخل اندازی کرنے والے؟‘‘
اچانک دہاڑ کر انہوں نے اسے اس کی اوقات یاد دلائی تھی۔ عدنان اندر سے کٹنے کے باوجود خاموش نہ رہ سکا۔
’’آپ کابیٹا میرا بھی کچھ لگتا ہے جناب عفان آفندی صاحب!‘‘
’’بکواس بندکرواپنی ‘وہ میرابیٹاہے اوراس کی بھلائی برائی کی تمام ترذمہ داری مجھ پرہے۔ تم جو روش اپنائے ہوئے ہو‘ اسی پر رہو‘ میرے بیٹے کی زندگی میں دخل اندازی کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ سمجھے؟‘‘
اس کی بدتمیزی کی خبر یقینا ان تک پہنچ چکی تھی۔ تبھی اتنا سخت لہجہ اختیار کیا تھاانہوں نے‘ وہ ضبط سے لب کچلتا اٹھ کھڑا ہوا۔
’’ٹھیک ہے ‘ اوقات یاد دلانے کاشکریہ۔‘‘
باپ کے ساتھ ساتھ بھائیوں سے بھی اس کی نہیں بنتی تھی مگر اس وقت جانے کیوں ہتک کا احساس بہت زیادہ ہوا تھا۔ اپنے کمرے میں واپس آنے کے بعد رات بھراس نے شراب پی تھی‘ رہ رہ کر گوری کا سراپا اس کے تصور میں آرہا تھااور رگوں میں ابلتا خون ایک اسی تصور کے ساتھ اسے جنونی کر رہاتھا۔ ہر دومنٹ کے بعد کوئی نہ کوئی چیز اٹھا کر پٹختے ہوئے وہ اسے غلیظ گالیوں سے نواز رہاتھا۔
’’چھوڑوں گا نہیں میں تمہیں‘ تمہاری اوقات یاد دلا کررہوں گا‘ دیکھ لینا۔‘‘
اس کابس نہیں چل رہا تھا کہ فوری صبح ہوجائے‘ رات ساری یونہی اذیت کی نذر ہوگئی تھی۔ صبح کے قریب کہیں آنکھ لگی تو پھر دوپہر دو بجے ہی جاگا۔ بیدار ہو کر بھی پہلاخیال اسی کا آیا تھا‘ تبھی فریش ہو کراپنا سیل آف کرتے ہوئے وہ دوبارہ ریان کی اکیڈمی چلاآیا۔
’’گوری آپا کوئی عدنان صاحب ملنے آئے ہیں آپ سے۔‘‘
ریان آج نہیں آیا تھا مگر عدنان چلا آیا تھا‘ وہ ابھی ’’سویٹ لیکچر‘‘ کی تیاری کر رہی تھی۔ ملازم کی ہدایت پراثبات میں سرہلاتی‘ اگلے پندرہ منٹ میں مہمان خانے کی طرف چلی آئی۔
’’السّلام علیکم۔‘‘
حسبِ عادت کمرے میں داخل ہوتے ہی اس نے سلام کیا تھا۔ عدنان پینٹ کی پاکٹس میں ہاتھ گھساتا اٹھ کھڑا ہوا۔ اس کی آنکھیں اس وقت بہت سرخ ہو رہی تھیں۔
’’حیرانی ہو رہی ہے ناں اس وقت مجھے یہاں دیکھ کر کہ اتنی بے عزتی کے بعد پھر چلا آیا۔ ہے ناں؟‘‘ گوری کو پہلی بار اس سے ڈر لگا تھا مگر اس نے چہرے سے ظاہر نہیں ہونے دیا۔
’’جی نہیں یہ اسلامی درس گاہ ہے۔ یہاں کوئی بھی ہدایت پانے کے لیے آسکتا ہے۔‘‘
’’اچھا… دکان لگا کربیٹھی ہو کیا ہدایت کی؟‘‘
جل کر کہتا وہ اس کے قریب آیا تھا۔ وہ خاموش رہی۔
’’جاننا چاہوگی میں اس وقت یہاں کیوں آیا ہوں؟‘‘
بنا گوری کے چہرے کے تاثرات کی پروا کیے وہ بولا تھا۔ گوری چپ چاپ اسے دیکھتی رہی۔
’’قیمت بتائو اپنی‘ ایک رات کی کیا لوگی؟‘‘
جملہ کیاتھا‘ کوئی سنسناتا ہوا تیر تھا جو اس کے سینے میں پیوست ہواتھا۔ سرخ چہرے کے ساتھ حدضبط کامظاہرہ کرتی وہ اس پر ہاتھ اٹھاتے اٹھاتے رہ گئی تھی۔
اگر پہلے والی گوری ہوتی تو ضرور پوچھتی۔ ’’اپنے گھر کا ریٹ بتائو‘ تمہاری بہن کتنے پیسے لیتی ہے؟‘‘
مگر وہ اب پہلے والی گوری نہیں رہی تھی ‘ تبھی انتہائی غصے کے باوجود مسکرا کر بولی۔
’’میری قیمت کاجان کر کیا کریں گے‘ میں نے تو اپنا ذہن ودل اپنے رب کی راہ میں رکھ دیا۔ آپ اپنی خواہشات کے لیے کسی اپنے جیسی لڑکی کو تلاش کیجیے۔‘‘
’’بکواس سننے کے لیے نہیں آیا میں‘ قسم کھائی ہے میں نے تمہیں تمہاری اوقات یاد دلانے کی۔ اگر میں نے اپنی قسم پوری نہ کی تو اپنے باپ کانہیں۔‘‘
وہ ضد اور غصے کی بھینٹ چڑھا تھا‘ گوری کی مسکراہٹ سمٹ گئی۔
’’ایسی قسمیں نہیں کھانی چاہئیں جن کا پور اہونا ممکن نہ ہو۔ بہرحال اب جاسکتے ہیں یہاں سے‘ مجھے کلاس لینی ہے‘ ہاں اتنا جان لیجیے‘ دنیا میں ہر چیز بکائو نہیں ہوتی۔‘‘
’’ہرچیز نہ ہو مگر تم بکوگی اور یہ میری ضد ہے۔‘‘
انتہائی حدتنفر سے انگلی اٹھا کر کہتا‘ اگلے ہی پل وہ وہاں سے نکل آیاتھا۔ گوری گم صم سی اسے دیکھتی رہ گئی۔
///
کھڑکی کھلی تھی اور ٹھنڈی ہَوا کے شدید جھونکے اس کے بالوں سے اٹھکھیلیاں کر رہے تھے۔ شجاع کے ساتھ ہونے والے غیر اتفاقی ٹکرائو نے اسے ڈسٹرب کردیا تھا۔ تب ہی ارسلان ہلکے سے دروازہ ناک کرتے ہوئے کمرے میں چلا آیا۔
’’جلدی تیار ہوجائو یار‘ آج کے فنکشن میں ٹائم پر پہنچنا بہت ضروری ہے۔‘‘
’’کیوں…؟‘‘وہ جو بیڈ پر گھٹنوں میں سر دیئے بیٹھی تھی ارسلان کی آمد پر جیسے خواب سے جاگ اٹھی۔
’’کیوں سے کیا مطلب… کل بتایاتو تھا بہت بڑافنکشن ہے‘ بڑے بڑے نام ور لوگ شرکت کریں گے۔ اگر ان میں سے کسی ایک کو بھی تم پسند آگئیں تو سمجھو بات بن گئی ہماری۔‘‘ ترنگ میں کہتا وہ بیڈ کے کونے میں ٹک گیاتھا۔
امامہ کے لبوںپر زخمی سی مسکان بکھرگئی۔
’’اس کامطلب ہے تم’’چارا‘‘ تیار کرنے آئے ہو تاکہ کسی بھینس کو کھلا کر اس سے دودھ حاصل کرسکو۔‘‘
’’بکواس نہ کرو یار! جینے کے لیے سوحیلے کرنے ہی پڑتے ہیں‘ اس وقت ہمارا کوئی ٹھکانا نہیں ہے‘ یوں دوستوں کے گھر کب تک رکھتا پھروں گا؟ میں تم سے نہ شادی کرسکتا ہوں نہ تنہا چھوڑ کر کہیں جاسکتا ہوں۔‘‘
’’ٹھیک ہے‘ تم چلو میں تیار ہو کر آتی ہوں۔‘‘ عادت کے برخلاف اس نے بہت جلدی بات مان لی تھی۔ ارسلان خاموشی سے اٹھ کر کمرے سے نکل گیا۔
اگلے ڈیڑھ گھنٹے کے بعد وہ دونوں نائٹ کلب میں تھے۔
///
’’پتا ہے انزلہ… کل میں نے ایک بہت خوب صورت خواب دیکھا۔‘‘
صاف ستھرے حلیے میں تروتازہ چہرے کے ساتھ‘ گائوں شاہ والا کو کراس کرکے گزرتی نہر کے کنارے بیٹھا وہ انزلہ کو بتارہاتھا۔ جو انہماک سے اسے دیکھتی ہوئی مسکرادی تھی۔
’’اچھا… کیسا خواب؟‘‘
’’بہت ا نوکھا ساتھا‘ تم ہوتی ہو‘ میں ہوتا ہوں‘ ہمارا چھوٹا سا خوب صورت گھر ہوتا ہے اوراس گھر میں ہمارے چھوٹے چھوٹے دو بچے ہوتے ہیں‘ جن کے لیے تم صبح کاناشتہ تیار کررہی ہوتی ہو‘ میں صحن میں بیٹھا اخبار پڑھ رہا ہوتا ہوں اور آپا ہمارے بچوں کو اردگرد بٹھا کر انہیں بڑی اچھی اچھی باتیں بتا رہی ہوتی ہیں۔ میں اخبار کی اوٹ سے چوری چوری تمہیں کام کرتے ہوئے دیکھتا ہوں جب تم‘ اچانک کچن سے نکل کرمیرے پاس آتی ہو اور دہاڑ کرکہتی ہو۔
’’تم یہاں مزے سے بیٹھے اخبار چاٹ رہے ہو اورمیں وہاں کچن میں کھڑی کب سے چینی کے لیے خوار ہو رہی ہوں۔ بچوں نے اسکول جانا ہے ناشتہ کب تیار کروں گی؟ ہائے… قسمت خراب تھی میری جو تم جیسے شوہر سے پالا پڑگیا۔‘‘
وہ اپنا خواب سنا رہاتھااور انزلہ اس کے چہرے کے انداز دیکھتے ہوئے ہنس رہی تھی جب اچانک وہ سنجیدہ ہوتے ہوئے بولا۔
’’ایسے مت ہنسا کرو انزلہ! کہیں میری نظر ہی نہ لگ جائے تمہیں ‘ویسے کبھی کبھی مجھے بہت ڈر لگتا ہے۔‘‘
’’اچھا… ڈر اورتمہیں‘ بہت مضحکہ خیز لفظ ہیں یہ۔‘‘
’’کہہ سکتی ہو۔ اصل میں یہ جو محبت ہوتی ہے ناں‘ بہت قیمتی متاع کی مانند ہوتی ہے‘ اس اثاثے کو کھونے کا ڈر‘ بہت بزدل بنا دیتا ہے انسان کو۔ اسی لیے تو اس راہ پر آنے سے ڈرتا تھا میں۔‘‘
’’اچھا جی… کس بات کا ڈر پڑگیا ہے اب؟‘‘
’’تمہیں کھو دینے کا ڈر انزی! اپنی سفاک تقدیر کی بے وفائی کاڈر‘ اپنے خوب صورت خواب اچانک ٹوٹ جانے کا ڈر۔‘‘
’’تم پاگل ہو قیس اور کچھ نہیں۔‘‘
بے ساختہ نظریں چراتے ہوئے وہ بڑبڑائی تھی‘ جب سانول نے اس کا آنچل اپنی گرفت میں لے لیا۔
’’مجھ سے وعدہ کرو انزی! مجھ سے کبھی بے وفائی نہیں کروگی‘ چاہے کچھ ہوجائے تم میرا ساتھ کبھی نہیں چھوڑوگی۔ میں وہ سب کروں گا جو تم کہوگی مگر بدلے میں آخری سانس تک تم میرا ساتھ نبھائو گی‘ مجھ سے وعدہ کرو۔‘‘
کسی ننھے سے بچے کی مانند ہراساں وہ اس سے عہد لے رہاتھا۔
انزلہ نے ذرا سا رخ پھیر کر نہر کے گدلے پانی پرنگاہ ڈالی پھرسانول کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے جیسے سب کچھ بھول گئی۔
’’میں وعدہ کرتی ہوں قیس! زندگی کی آخری سانس تک تمہارا ساتھ نبھائوں گی‘ چاہے کچھ ہوجائے۔‘‘
’’تھینکس جانم!‘‘ وہ مسرور ہواتھا۔
’’اب چلو… دیکھو سورج ڈوب رہا ہے‘ تم نے وعدہ کیا تھا تم اپنے ڈرائیور کی بے جاموت کا ازالہ کروگے‘ اوراس کے گھر والوں سے معافی مانگوگے۔‘‘
’’ہوں‘ عہد پورا بھی کیا ہے‘ وہ لوگ مجھے معاف نہیں کررہے مگر پھر بھی میں نے وہ سب چیزیں جومیری دسترس میں تھیں ان کے نام کردی ہیں۔‘‘
’’سچ…؟‘‘ انزلہ کا چہرہ خوشی سے دمک اٹھا تھا۔ جب وہ مسکرا کر اثبات میں سرہلاگیا۔
’’ہوں‘ تمہاری قسم۔ اپنے بھائی پرکیس بھی نہیں کررہا‘ سب عیش وعشرت بھی ترک کردی۔ کل سے نماز بھی پڑھ رہا ہوں اوراب گائوں کی بھلائی کے سب کاموں میں تمہارا ساتھ دوں گا۔ تم دیکھنا انزلہ‘ اس گائوں کے لوگوں کے دلوں میں میرے لیے جو نفرت ہے میں اسے محبت میں بدل دوں گا۔‘‘
’’ان شاء اللہ… تم نہیں جانتے قیس میں کتنی خوش ہوں۔‘‘
’’جانتا ہوں‘ بس تم یہ جان لو کہ تمہاری یہ خوشی ہی اب میری زندگی ہے۔‘‘
’’ہوں… میں نے کہا تھا ناں میرا قیس بہت اچھا ہے۔‘‘
انزلہ کابس نہ چل رہاتھا کہ وہ اس پرنثار ہوجائے۔ سانول آخری کنکر نہر کے گدلے پانی کی نذر کرتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا۔ بہزاد علی مراد‘ ملک سے باہر تھا۔ اسے انزلہ کی ماں کنیز نے اپنے پاس بلایاتھا۔ اور انزلہ اس کی غیر موجودگی کے اس وقت کو جی بھر کرانجوائے کرنا چاہتی تھی۔
’’چلو… تمہیں گھر تک چھوڑ آئوں۔‘‘
’’جی نہیں مجھے گائوں کے راستے ازبرہوچکے ہیں۔‘‘اسے جلانے کو کہتی وہ ابھی چند قدم ہی اٹھاپائی تھی کہ اچانک کراہ کررک گئی۔
’’اف… ایک تو تمہیںاس گائوں کے خار راس نہیں ہیں۔ میرا بس چلے تو ان سب کانٹوں کو جمع کرکے آگ لگوادوں جومیری شہزادی کے پائوں میں چبھ کر اسے تکلیف دیتے ہیں۔‘‘ پنجوں کے بل اس کے سامنے بیٹھتے ہوئے اس نے انزلہ کاپائوں اٹھایااور پھرآہستہ سے کانٹا نکال کر پھینکتے ہوئے مسکرادیا۔
///
’’بی بی جی… آپ کوشاہ زرصاحب بلارہے ہیں۔‘‘
اپنے کمرے میں بیڈ پر بیٹھی وہ مکمل انہماک سے ’’شہاب نامہ‘‘ کامطالعہ کررہی تھی جب ملازمہ آہستہ سے اس کے کمرے کا دروازہ ناک کرتے ہوئے اندر چلی آئی۔
گوری نے فوری سراٹھا کر اسے دیکھاتھا۔
’’ٹھیک ہے‘ آتی ہوں۔‘‘
تھوڑی دیر بعد وہ لائونج میں شاہ زر کے مقابل بیٹھی تھی۔
’’آپ نے بلایا بھائی‘ خیریت؟‘‘
شاہ زر، نیوز دیکھ رہا تھا۔ اور چاند اس کی گود میں بیٹھا چاکلیٹ کھا رہاتھا۔
’’ہوں۔ سارا دن کمرے میں بند رہتی ہو‘ شادی کے بعد تو اپنی بہن کی شکل دیکھنے سے بھی گیا۔‘‘
’’کیابات ہے‘ بھابی سے بنتی نہیں کیا؟‘‘
فوراً ٹی وی آف کرتے ہوئے وہ گوری کی طرف متوجہ ہوا تھا۔ جواباً وہ مسکرادی۔
’’ایسی بات نہیں ہے بھائی! انوشہ بھابی تو بہت اچھی ہیں۔‘‘
’’بس ایک میں ہی برا ہوں باقی سب اچھے ہیں۔‘‘
سرد آہ بھر کر اس نے جونہی کہا گوری کی مسکراہٹ مزید گہری ہوگئی۔
’’لگتا ہے بھابی سے تازہ تاز ہ جھگڑا ہوا ہے۔‘‘
’’میرا دماغ خراب ہے جو اس سے جھگڑوں گا۔ تم سنائو اکیڈمی کیسی چل رہی ہے اور وہ عدی نے دوبارہ پریشان تو نہیں کیا؟‘‘
’’اکیڈمی تو بہت اچھی چل رہی ہے بھائی مگر وہ لڑکا پتا نہیں کیوں ہاتھ دھو کر پیچھے پڑگیا ہے‘ آج پھر آیا تھا پریشان کرنے۔‘‘
’’اچھا… کیا کہہ رہا تھا؟‘‘
’’یونہی فضول بولتا ہے‘ پتا نہیں اس لڑکے کے ساتھ مسئلہ کیا ہے؟‘‘
’’سائیکی کیس ہے گوری‘ محبتوں سے محرومی اور احساسِ کمتری کے احساس نے اسے ایسا خودسربنادیا ہے۔ ایسے لوگوں کا علاج سوائے محبت کے اور کچھ نہیں۔‘‘
’’میں سمجھی نہیں۔‘‘
’’ابھی سمجھ بھی نہیں سکوگی‘ بہرحال‘ آئندہ زندگی کے لیے کیاسوچا ہے تم نے؟‘‘
’’کچھ بھی نہیں‘ جومیرے رب کومنظور ہوا بس وہی۔‘‘
’’چلوٹھیک ہے‘ اب کھانے کو کچھ ملے گا کہ نہیں؟‘‘
’’بھابی نہیں آئیں ابھی تک؟‘‘
’’نہیں… نئی نئی جاب ہے ناں‘ ابھی وقت لگے گا خمار اترنے میں۔‘‘
’’بری بات بھائی! ایسا نہیں سوچتے‘ اب وہ اتنی بھی بری نہیں ہیں‘ باہر موسم خراب ہے آپ کو ان کا پتا کرنا چاہیے تھا۔‘‘
’’کیسے کروں؟ محترمہ ایک گھنٹہ قبل آفس سے نکل چکی ہیں اور سیل مسلسل آف جارہا ہے۔‘‘
’’پھر تو پکی بات ہے کہ وہ مشکل میں ہوں گی‘ مگر آپ ہیں کہ مزے سے گھر میں بیٹھے ہیں۔‘‘
’’توکیا کروں‘ اتنی تیز بارش اور سرد ہوامیں اسے انوشہ‘ انوشہ کی صدائیں دیتا سڑکوں پر نکل جائوں؟‘‘
’’بالکل… وہ روز ایک ہی راستے سے آفس آتی جاتی ہیں‘ اور کچھ نہیں تو اسی راستے کو دیکھ آئیے۔‘‘گوری کے پاس مفت مشورے کی کمی نہیں تھی۔
شاہ زر مسکرادیا۔
’’یار تم بہن میری ہو مگر سائیڈ ہمیشہ اس کی لیتی ہو۔‘‘
’’سمجھا کریں‘ عورتیں اتحاد کریں گی تو معاشرے میں تبدیلی آئے گی۔‘‘
’’فارگاڈ سیک گوری! اب کون سی تبدیلی آنا باقی رہ گئی ہے؟‘‘
’’بتائوں گی‘ ابھی اٹھیے آپ‘ اور بھابی کو لے کر آئیے‘ پلیز تب تک میں کھانا لگواتی ہوں۔‘‘ کہنے کے ساتھ ہی اس نے شاہ زر کے بازو سے شرٹ کھینچ کر اسے اٹھادیا۔
باہر بارش اب بھی زوروں پر تھی۔
وہ گاڑی لے کر سردی کی پروا کیے بغیر نکل گیا۔ تیز بارش کی وجہ سے سڑکوں پر لوگوں کی آمدورفت نہ ہونے کے برابر رہ گئی تھی۔ تیز ڈرائیونگ میں بھی مشکل پیش آرہی تھی۔ تیزی سے چلتے وائپر کے اس پار اس کی نظریں صرف انوشہ کو ڈھونڈ رہی تھیں جو بالآخر اسے نظر آگئی تھی۔ مکمل طور پر بھیگے ہوئے کپڑوں میں ملبوس سردی سے کپکپاتے ہوئے وہ دور ایک شیڈ کے نیچے کھڑی جانے کون کون سی قرآنی آیات کاورد کررہی تھی۔
شاہ زر نے گاڑی اس کے قریب لے جاکر آہستہ سے روک دی۔
’’آجائو۔‘‘ بائیں ہاتھ سے اس نے دروازہ بھی پش کردیاتھا۔
انوشہ ایک نظر اپنے کپڑوں سے ٹپکتے پانی پر ڈالتی دل ہی دل میں اللہ رب العزت کاشکر ادا کرنے کے بعد جلدی سے گاڑی میں آبیٹھی۔
’’موبائل کہاں ہے تمہارا؟‘‘
’’گھررہ گیا تھا آج۔ رات چارج نہیں کیا تھا۔‘‘
’’تو آفس سے فون نہیں کرسکتی تھیں کہ جلدی نہیں نکل سکوگی‘ میں تمہارا ملازم نہیں ہوں جو اتنے خراب موسم میں پاگلوں کی طرح سڑکوں پر گاڑی دوڑاتا تمہیں ڈھونڈتا پھروں۔‘‘
دہاڑ کر کہتے ہوئے اس نے غصہ دکھایا تھا۔
انوشہ ایک نظر اسے دیکھتی‘ سیٹ سے اٹھنے ہی لگی تھی کہ اس نے بایاں ہاتھ اس کے ہاتھ پر جما دیا۔
’’بیٹھی رہو‘ چپ چاپ‘ زیادہ ہیروئن بننے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘
کہنے کے ساتھ ہی اس نے تیزی سے گاڑی آگے بڑھادی تھی۔ انوشہ ایک جھٹکے سے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے نکالتی رخ پھیر کر بیٹھ گئی۔
///
’’ایکسکیوز می!‘‘
اجنبی صدا پر صاعقہ نے ذرا سی گردن موڑ کر دیکھا‘ واصف علی ہمدانی اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
وہ بیزار سی رخ پھیر گئی مگرتب تک وہ قریب آچکاتھا۔
’’م