Hijaab May-17

من کی خشبو

صبا ایشل

’’سنو نجمہ… یہ بلیک والا سوٹ لے جانا‘ مجھے اچھا نہیں لگ رہا‘ لیا تو بہت شوق سے تھا لیکن جانے کیوں جچا نہیں۔‘‘ نگین نے اپنی کام کرنے والی ماسی سے مخاطب ہوکر کہا جو کپڑے دھونے کے لیے رنگین اور سفید کپڑے الگ الگ کررہی تھی۔
’’لیکن بی بی جی… یہ سوٹ تو بہت مہنگا ہے اور ابھی آپ نے صرف ایک بار ہی تو پہنا ہے‘ وہ بھی چند گھنٹوں کے لیے۔‘‘ نجمہ پُرشوق نظروں سے اس سیاہ خوب صورت اور نفیس کام والے سیاہ سوٹ کو دیکھنے لگی۔
’’تمہیں پتا تو ہے میری عادت کا جو چیز ایک بار دل سے اتر جائے وہ دوبارہ پسند نہیں آتی‘ تم لے جانا اسے بس۔‘‘ نگین نے نجمہ کی چمکتی نگاہوں کی خوشی دیکھتے ہوئے کہا۔
ء…/…ء
نگین اور ڈاکٹر حنیف کی ازدواجی زندگی بہت پُرسکون اور خوشیوں سے بھرپور تھی۔ پندرہ سالہ شادی شدہ زندگی میں آج تک کوئی ایک بھی بدمزگی کی مثال ڈھونڈنے سے نہ ملتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو دو خوب صورت اور صحت مند بیٹے عطا کرکے جیسے کل کائنات کی خوشیاں ان کی جھولی میں ڈال دی تھیں۔
چالیس سال کی عمر میں بھی نگین ستائیس اٹھائیس سے زیادہ کی نہ لگتی تھیں۔ ان کی شخصیت میں ایک خوب صورت رعب و دبدبہ تھا‘ دل کی بہت اچھی اور سارے جہاں کا درد اپنے سینے میں رکھتی تھیں‘ خوب صورتی کے ساتھ ساتھ سلیقے میں بھی اپنی مثال آپ تھیں۔
کہتے ہیں جس مرد کو خوب صورت‘ نیک سیرت اور سلیقہ شعار بیوی مل جائے تو اس کے لیے دنیا جنت بن جاتی ہے‘ گھر میں ہمیشہ امن و سکون تو رہتا ہی ہے لیکن ساتھ ساتھ سمجھ دار عورت اپنے شوہر کی ہر چھوٹی چھوٹی ضرورت‘ موڈ اور آرام کا خیال رکھتی ہے۔ بلاوجہ بحث و تنقید سے بچتی ہے اور سب سے بڑھ کر اپنے سرتاج کی جیب ہلکی نہیں ہونے دیتی‘ فضول خرچی سے پرہیز اور بچت کرنا جانتی ہے اور یہ سب ہی خوبیاں نگین میں بدرجہ اتم موجود تھیں‘ ڈاکٹر حنیف سرکاری نوکری کرنے کے ساتھ ساتھ شام میں اپنے عالی شان اسپتال میں بیٹھتے تھے۔ ان کے اسپتال میں غریب مریضـوں کے لیے مہنگے سے مہنگا علاج بھی کم فیس لے کر کیا جاتا تھا۔ شروع میں ڈاکٹر حنیف نے غریبوں کے لیے علاج بالکل مفت رکھا تھا لیکن نگین کا خیال تھا کہ برائے نام فیس ضرور ہونی چاہیے تاکہ کسی کی عزت نفس پر بھی حرف نہ آئے۔ گائوں میں وسیع رقبے پر زمینیں ٹھیکے پر دی ہوئی تھیں جس سے ہونے والی آمدن ان کے سال بھر کے اخراجات سے بھی زیادہ تھی۔ اللہ کا دیا سب کچھ تھا لیکن نگین نے کبھی ضرورت سے زیادہ خرچ نہیں کیا تھا۔ سال میں چار بار مارکیٹ جایا کرتی تھیں‘ گرمی‘ سردی یا عید و تہوار وغیرہ پر شاپنگ کرنے۔
اپنے حلقے کی بیگمات کی طرح نمود و نمائش کرنا ان کو ہرگز پسند نہیں تھا۔ ڈاکٹر حنیف مختلف مواقع پر ان کو قیمتی تحائف سے نوازتے رہتے تھے جن میں بہترین ملبوسات اور قیمتی زیورات سرفہرست تھے۔ وہ جانتے تھے کہ نگین خود سے کبھی بھی اپنے لیے خرچ نہیں کریں گی اس لیے وقتاً فوقتاً تہواروں اور خاص دنوں پر ان کو نوازتے رہتے۔ نگین ناصرف گھریلو معاملات میں بلکہ نوکروں سے بھی حسن اخلاق سے پیش آتی تھی‘ یہی وجہ تھی کہ ان کے ملازم ان کے پیٹھ پیچھے بھی تعریف ہی کرتے۔
ء…/…ء
پچھلے کچھ عرصے سے عجیب معاملہ پیش آنے لگا تھا‘ جس کے باعث نگین بہت پریشان تھیں‘ ان کے نئے کپڑوں میں اچانک سے سوراخ ہونے لگے تھے۔ ہر بار کپڑے دھلنے کے بعد ایک آدھ سوٹ تو ضرور خراب ہوتا۔ کپڑوں میں سوراخ اگرچہ معمولی ہوتا تھا لیکن وہ جانتی تھیں کہ عیب دار سوٹ کے استعمال پر ڈاکٹر حنیف ناراض ہوسکتے ہیں اس لیے کتنے ہی بہترین سوٹ ان کی الماری سے نکلتے چلے گئے تھے۔
’’سمجھ نہیں آرہی حنیف… اچھے بھلے کپڑوں میں سوراخ کیسے ہونے لگے‘ دیکھیں ناں یہ سوٹ تو ابھی پچھلے ماہ آپ نے گفٹ کیا تھا۔ حورالعین کی سالگرہ پر پہنا اور پرسوں کچھ دیر کے لیے آپ کے کہنے پر پہنا تھا‘ یہ دیکھیں اس میں بھی سوراخ ہوگیا۔‘‘ نگین بھتیجی کی سالگرہ کا ذکر کرتے ہوئے میرون اور گولڈن رنگ کے امتزاج کے ایپلک اور مشینی کڑھائی کے نفیس کام والے فراک کا بازو دکھاتے ہوئے کہہ رہی تھیں‘ لہجہ افسردگی سے بھرپور تھا۔ انہیں اس سوٹ کے خراب ہونے کا واقعی دکھ تھا۔
’’ہوسکتا ہے نجمہ نے مشین میں دھو دیا ہو‘ ایسے نازک کپڑے مشین سے نہ دھلوایا کرو۔‘‘ حنیف چائے کا سپ لیتے ہوئے بولے تھے وہ ابھی ہسپتال سے آئے تھے کہ نگین ان کے لیے چائے لے آئی تھیں اور اتنی دیر میں حنیف چینج کرکے فریش ہوگئے تھے۔ نگین کی یہی عادتیں تو ڈاکٹر حنیف کو ان کا دیوانہ کیے ہوئے تھیں کہ وہ ہر کام وقت پر کرتی تھیں‘ ادھر حنیف صاحب کو خواہش ہوتی ادھر نگین ان کی خواہش پوری کیے حاضر۔
’’نہیں حنیف… نجمہ نے میرے سامنے یہ سوٹ ہاتھ سے ہی دھویا تھا‘ اگر آپ کہیں تو میں اس کا بازو درزن سے کہہ کر ٹھیک کروا لیتی ہوں۔ یہ ذرا سا ہی سوراخ ہے پتا بھی نہیں چلے گا۔‘‘ نگین دھیمے لہجے میں حنیف سے مخاطب ہوئیں‘ ان کو علم تھا کہ حنیف یہ بات پسند نہیں کریں گے جب ہی انہوں نے پوچھ تھا۔
’’رہنے دو… ہم ایسا ہی اور لے لیں گے‘ یہ نجمہ کو دے دو۔‘‘ انہوں نے دو ٹوک انداز میں کہہ کر ٹی وی آن کرلیا اور نگین نے ناچاہتے ہوئے بھی سوٹ نجمہ کو دے دیا تھا۔
ء…/…ء
نجمہ اس گھر میں پچھلے چھ سات سال سے کام کررہی تھی‘ دھان پان سی ادھیڑ عمر نجمہ عادت و اطوار میں اچھی تھی۔ ہر کام وقت پر کرنا اور وقت پر آنا اس کی خوبی تھی۔ عام کام کرنے والیوں کی طرح کام سے جی چرانے اور جان چھڑانے والیوں میں سے نہ تھی پھر اتنے عرصے میں اس نے نگین کو کسی بھی قسم کی شکایت کا موقع نہ دیا تھا‘ بلاوجہ تنخواہ میں جلدی کرنا اور مانگتے رہنا بھی اس کی عادت نہ تھی۔ یہی وجہ تھی کہ نگین نے اتنے سالوں میں کبھی ماسی بدلنے کا نہیں سوچا۔
نجمہ سے پہلے نگین اپنے اس خوب صورت گھر کا کام خود کرتی تھیں لیکن زیان کے بعد ریحان کی پیدائش اور اس کے کچھ عرصے بعد زیان کا اسکول شروع ہوا تو نگین کو گھر کے کاموں میں مشکلات پیش آنے لگیں۔ ڈاکٹر حنیف نے ایسے میں ایک جاننے والے کی مدد سے گھر کے کاموں میں مدد کروانے کے لیے نجمہ کا انتظام کردیا تھا۔ نجمہ کے آنے سے جہاں گھر کے کاموں میں نگین کی مدد ہوجاتی وہیں نگین کو نجمہ کی شکل میں بہترین سامع بھی مل گئی تھی۔ پہلے پہل نگین کو کام والی رکھتے ہوئے ڈر لگتا تھا‘ آس پڑوس سے روز بروز کوئی نہ کوئی کہانی سننے کو ملتی رہتی تھی۔
’’میری ماسی کام چور ہے… صوفے کے نیچے سے صفائی نہیں کرتی… میری نئی انگوٹھی اچانک دراز سے غائب ہوگئی‘ مجھے تو پکا یقین ہے ہماری ماسی کا ہی کام ہے لیکن بنا ثبوت کے اسے کیا کہوں… میں نے جلدی میں ماسی سے بچے کو فیڈر میں دودھ ڈال کر دینے کو کہہ دیا اور اس نے فیڈر دھوئے بنا دودھ پلادیا۔ میرے بیٹے کے دو دن سے لوز موشن ہی ختم نہیں ہورہے… ہماری ماسی‘ توبہ توبہ… اتنی باتیں کرتی ہے کہ لگتا ہے اسے ہم باتیں کرنے کی تنخواہ دیتے ہیں۔‘‘ یہ سب اور اس جیسے جانے کتنے جملے اکثر وہ آس پڑوس میں ہونے والی محافل میں سنتی رہتی تھیں اور تو اور باقی رہی سہی کسر ٹی وی ڈراموں نے پوری کردی تھی۔ جہاں ماسی کا کردار لگائی بجھائی کرنے والی کے طور پر ہی مکمل ہوتا تھا۔ اس لیے نگین ماسی رکھنے میں تردد کا شکار تھی لیکن جوں جوں وقت گزرتا گیا نگین کا نجمہ پر اعتماد بڑھتا چلا گیا تھا۔ نجمہ عام گھریلو ملازمائوں سے بہت الگ ثابت ہوئی تھی بلاوجہ وقت سے پہلے پیسے مانگنا یا اپنی محرومیوں کی داستان سنانا اس کی فطرت میں نہ تھا۔ وہ خاموشی سے اپنا کام کرتی‘ غیر ضروری باتوں میں وقت صرف نہ کیا کرتی تھی نہ ہی اسے یہ جاننے کا تجسس ہوتا تھا کہ نگین کے کس کمرے کی کس دراز اور الماری میں کیا رکھا ہے؟ گھر کے مالکین چابی کہاں رکھتے ہیں؟ یہی وجہ تھی کہ سادہ سی نجمہ پر نگین کا بھروسہ دن بدن بڑھتا چلا گیا تھا۔
جب سے کپڑوں میں سوراخ ہونا شروع ہوئے تھے نگین کے ذہن میں ایک لمحے کو بھی یہ خیال چھو کر نہ گزرا تھا کہ نجمہ ایسا کرسکتی ہے اور آتا بھی کیوں کر آج تک نجمہ نے بنا اجازت کوئی چیز یہاں سے وہاں نہ کی تھی اور ان چھ برسوں میں آج تک کبھی ان کی کوئی چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی غائب نہیں ہوئی تھی پھر نگین کیوں بھلا اس پر کوئی ایسا گماں کرتیں لیکن شام سے نگین بار بار یہی سوچ رہی تھیں کہ کہیں واقعی نجمہ ہی تو یہ سب نہیں کررہی ہے۔ اب انہوں نے سوچ لیا تھا کہ اب سے نجمہ پر کپڑے دھوتے وقت کڑی نظر رکھیں گی تاکہ جان سکیں کہ کہیں وہ ہی تو ان کے نئے کپڑے خراب نہیں کررہی اور اگر وہ ہی یہ سب کررہی ہے تو اسے اس سے کیا حاصل ہورہا ہے؟
ء…/…ء
’’نجمہ… کپڑے کافی جمع ہوگئے ہیں‘ کیا خیال ہے آج اگر فرصت ہو تو مشین ہی لگالو۔ اگلے ہفتے زیان کی سالگرہ ہے تو گھر کے پردے وغیرہ اتار کر دھوبی کو بھیجنے پھر دوبارہ لگانے اور باقی کے کام بھی کافی زیادہ ہوجائیں گے۔ بہتر ہے کہ آج کپڑے دھوکر فارغ ہوجائو۔‘‘ نگین‘ نجمہ سے مخاطب ہوئیں‘ اصل مقصد تو نگرانی کرنا تھی وہ جاننا چاہتی تھی کہ نجمہ ایسا کیوں کررہی ہے۔
’’جی بی بی جی… لگا لیتی ہوں میں ذرا صفائی سے فارغ ہولوں تو یہی کام کرتی ہوں۔‘‘ نجمہ تو جیسے اسی انتظار میں تھی کہ کب وہ کپڑے دھوئے‘ نگین نے اسے عجیب سی نظروں سے دیکھا۔
’’میں بھی تمہارے ساتھ مدد کروا دیتی ہوں‘ ذرا جلدی کام نمٹ جائے تو اچھا ہے۔ حنیف کے آنے تک کام بکھرا ہو تو ان کو اچھا نہیں لگتا۔‘‘ نگین پُرسوچ گہری نظروں سے نجمہ کو دیکھتے ہوئے بولیں گویا اس کے اندر کا راز پالینا چاہتی ہوں۔
’’ارے نہیں بیگم صاحبہ‘ آپ آرام کریں میں کرلوں گی خود۔ ہم تو عادی ہیں کام کاج کے آپ کیوں تھکنے لگیں۔‘‘ نجمہ رسان سے بولی۔
’’تھکنا کیسا نجمہ… مجھے تو شروع سے بیٹھنے کی عادت ہی نہیں ہے۔ تمہارے سامنے ہی ہے میں بھلا کب آرام سے بیٹھتی ہوں‘ بس یہ تو زیان اور ریحان نے یکے بعد دیگرے آکر بہت مصروف کردیا ہے‘ خیر تم یہ جلدی ختم کرو میں جب تک کپڑے اکٹھے کرکے مشین لگالیتی ہوں۔‘‘ نگین نے صوفے سے اٹھتے ہوئے ڈسٹنگ کرتی نجمہ کو دیکھا اور آگے بڑھ گئی۔ نجمہ حیران تھی کہ اچانک نگین کو کیا ہوگیا ہے پھر مشین لگانے سے لے کر کپڑے دھونے تک کے ہر عمل میں نگین نجمہ کی مدد کرتی رہی تھیں۔
’’چلو… اب کپڑے چھت پر ڈال آئیں۔‘‘
’’بیگم صاحبہ… آپ کپڑے چھت پر ڈالنے جائیں گی؟‘‘ نجمہ شدید حیران تھی۔
’’کیوں میں چھت پر نہیں جاسکتی کیا؟‘‘ نگین نے چبھتی نظر سے اسے دیکھا۔
’’میرا وہ مطلب نہیں تھا جی‘ آپ کبھی اوپر جاتی نہیں ہیں ناں بس اسی لیے کہا۔‘‘ نجمہ نے وضاحت دی اور یہ واقعی سچ تھا کہ جب سے نجمہ آئی تھی اس نے نگین کو ایک بار بھی چھت پر جاتے نہ دیکھا تھا‘ کوئی کام ہوتا تو وہ نجمہ سے ہی کہا کرتی تھیں۔
’’خیر… چلو آجائو ساتھ۔‘‘ نجمہ نے دھلے ہوئے کپڑوں کی دو ٹوکریوں میں سے ایک کو اٹھالیا تھا۔ دوسری نگین نے آگے بڑھ کر اٹھالی۔ کپڑے تار پر پھیلاتے ہوئے نگین نے اپنے نئے سوٹ میں سوراخ دیکھا تو جہاں اس کا دل اس خوب صورت سوٹ کے خراب ہونے پر دکھی ہوا‘ وہیں اسے نجمہ کے لیے اپنی سوچ پر جی بھر کر افسوس ہوا کہ ایسے ہی اس کی اتنے برس کی محنت پر شک کیا حالانکہ وہ اچھی طرح جانتی تھی کہ نجمہ میں یہ عادت نہیں ہے پھر بھی ایسا خیال وہ بار بار خود کو ملامت کررہی تھیں۔
ء…/…ء
نگین کے نئے سوٹ خراب ہونے کا سلسلہ یونہی جاری تھا‘ کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا ہو کیا رہا ہے۔ نگین نے احتیاطاً الماریوں‘ مشین اور کپڑے پھیلانے والی تار تک جانچ لیے تھے کہ کہیں کسی چیز میں پھنس جانے کی وجہ سے تو یہ سب نہیں ہورہا لیکن ایسا بھی نہ تھا۔ نوبت یہ آگئی تھی کہ اب صرف ضرورت کے وقت بازار جانے والی نگین کو ہر ماہ کپڑے لینے کے لیے بازار جانا پڑ رہا تھا ورنہ اکثر حنیف صاحب کے دیئے گئے گفٹ ہی ان کے لیے کافی ہوتے تھے۔ مہینے میں ایک دو بار ہی باہر آنا جانا ہوتا تھا‘ وہ بھی زیادہ سے زیادہ پیرنٹس ٹیچر میٹنگ اور کبھی کسی جاننے والی کے ہاں کوئی تقریب ہوتی‘ اس سے زیادہ گھومنے کا نہ تو ان کو شوق تھا اور نہ ہی فرصت ملتی تھی لیکن اب نگین محسوس کررہی تھیں کہ ان کو کہیں آنے جانے کے لیے نئے کپڑوں کی ضرورت ہے کیونکہ یکے بعد دیگرے تمام ہی اچھے سوٹ پچھلے کچھ عرصے سے خراب ہوگئے تھے۔
وہ گھر سے بازار کے لیے نکلنے لگی تھیں کہ موبائل فون کی آواز پر واپس مڑیں‘ انہوں نے مطلوبہ جگہ نظر دوڑائی تو آواز کچن سے آرہی تھی لیکن وہ ان کے موبائل فون کی آواز نہیں تھی۔ انہوں نے کچن میں جاکر موبائل اٹھایا وہ نجمہ کا تھا‘ فون بج بج کر خاموش ہوچکا تھا۔ نجمہ تو کام کرکے ابھی نکلی ہی تھی یہاں سے پیدل پندرہ منٹ کا راستہ تھا‘ نگین موبائل فون ہاتھ میں لے کر باہر آگئی تھیں۔
’’زمان… نجمہ کے گھر والے راستے سے چلنا‘ اس کا موبائل غلطی سے یہیں رہ گیا ہے راہ میں ہی مل جائے گی تو دے دوں گی ورنہ گھر پر پکڑاتی جائوں گی۔ جانے کب کوئی ضروری فون آجائے خوامخواہ بے چاری کو واپس آنا پڑے گا۔‘‘ نگین نے ڈرائیور سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا جس کے ساتھ وہ بازار جارہی تھیں۔
’’جی بیگم صاحبہ۔‘‘ زمان نے تابعداری سے جواب دیا۔
’’بس‘ یہاں روک لو میں ابھی آتی ہوں۔‘‘ گلی کے نکڑ پر نگین نے زمان کو گاڑی روکنے کا کہا وہ نجمہ کو گھر میں داخل ہوتے دیکھ چکی تھیں‘ وہ بھی گاڑی سے اتر کر اس طرف بڑھیں تھیں‘ چار گھر چھوڑ کر پانچواں گھر نجمہ کا تھا۔ لکڑی کا پرانے زمانے کا دروازہ جس پر کہیں کہیں نیلے رنگ کے آثار باقی تھے‘ باقی کا دروازہ پرانا ہونے اور ایک عرصے سے رنگ نہ ہونے کی وجہ سے سیاہی مائل ہوگیا تھا۔ نگین نے ایک نظر دروازے کی حالت دیکھی اور میلا کچیلا پردہ ہٹا کر اندر داخل ہوئیں‘ اس سے پہلے انہوں نے نجمہ کا گھر صرف باہر سے ہی دیکھا تھا۔ پچھلے برس نجمہ کو عید کے دوران کام کرتے کافی دیر ہو گئی تھی تو وہ ڈاکٹر حنیف کے ساتھ اس کو گھر تک چھوڑنے آئی تھیں۔ وہ گھر میں موجود واحد کمرے کی طرف بڑھی تھیں کہ اچانک رک گئیں۔
کچھ منٹوں کے بعد وہ گاڑی میں آئیں تو چہرے پر پریشانی کے آثار نمایاں تھے۔ نجمہ کا موبائل بھی ان کے ہاتھ میں ہی تھا‘ وہ گاڑی میں بیٹھیں تو ڈرائیور نے گاڑی کا رخ بازار کی طرف کردیا تھا۔ بازار میں نگین نے طوعاً و کرہاً تین سوٹ لیے اور جلدی میں واپس آئی تھیں‘ ڈرائیور اتنی جلدی واپسی پر حیران ہوا تھا۔
’’چلیں بیگم صاحبہ۔‘‘
’’ہاں‘ بس طبیعت عجیب سی ہورہی ہے شاید بلڈ پریشر اوپر نیچے ہوگیا ہے پھر کسی دن آجائوں گی۔‘‘ نگین نے کہہ کر ٹیک لگا کر آنکھیں موند لیں۔ ادھر زمان بے چارہ حیران ہوکر سوچ رہا تھا۔ ’’عجیب نخرہ ہے ان بڑے لوگوں کا گھر سے نکلیں تو ٹھیک ٹھاک تھیں‘ اب اچانک بنا کسی بات کے طبیعت بھی خراب ہوگئی۔‘‘
ء…/…ء
’’سنو نجمہ… یہ بلیک والا سوٹ تم لے جانا مجھے اچھا نہیں لگ رہا‘ لیا تو بہت شوق سے تھا لیکن جانے کیوں جچا ہی نہیں۔‘‘ نگین نے نجمہ کو بظاہر سرسری سا ہی کہا تھا لیکن وہ کب سے دیکھ رہی تھی کہ نجمہ کی نظریں بار بار بھٹک بھٹک کر اس سوٹ کی طرف ہی جارہی تھیں۔
’’لیکن بی بی جی… یہ سوٹ تو بہت مہنگا ہے اور ابھی آپ نے صرف ایک بار ہی پہنا ہے وہ بھی چند گھنٹوں کے لیے۔‘‘ نجمہ نے شاید سوٹ لینے سے انکار ظاہر کرنے کی کوشش کی تھی لیکن نظریں اب بھی بار بار اس سیاہ سوٹ کے گولڈن نفیس کام پر پھسل رہیں تھیں۔
’’تمہیں پتا تو ہے میری عادت کا جو چیز ایک بار دل سے اتر جائے وہ دوبارہ پسند نہیں آتی‘ تم لے جانا اسے۔‘‘ نگین نے نجمہ کی چمکتی آنکھوں میں بغور دیکھا تھا۔ ’’تمہاری بیٹی کی شادی کے کام آئے گا۔‘‘ اب کے نجمہ نے حیران ہوکر نگین کی طرف دیکھا جہاں سکون و اطمینان تھا۔ نگین اب ٹی وی کی طرف متوجہ تھی۔ کپڑے دھوکر نجمہ اب نگین سے جانے کی اجازت طلب کررہی تھی۔
’’بی بی جی… میں جائوں اب۔‘‘ نجمہ نے سیاہ سوٹ تہہ کرکے ایک ہاتھ میں پکڑا ہوا تھا۔
’’ہمم… ایک منٹ رکو ذرا۔‘‘ نگین اسے وہیں چھوڑ کر کمرے کی طرف بڑھ گئی۔
’’یہ لو یہ تمہاری تنخواہ اور یہ کچھ پیسے تمہاری بیٹی کے لیے ہیں‘ اس کی شادی ہونے والی ہے ناں‘ تو ہر ماہ میں کچھ پیسے اس کے لیے الگ سے دے دیا کروں گی تم کوئی چیز لے کر رکھ لیا کرنا اس کے لیے۔‘‘ نگین نے پیسے اس کی طرف بڑھائے۔
’’شادی کی تیاری میں کسی چیز کی ضرورت ہو تو ضرور بتا دینا ہم سے جتنا ہوسکا ہم ضرور کریں گے۔‘‘ نجمہ کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے تھے۔
’’بی بی جی… آپ بہت اچھی ہیں‘ میں کملی آپ کو سمجھ نہ سکی۔‘‘ اس کی آواز بھرا گئی۔
’’کچھ کہنے کی ضرورت نہیں‘ تمہاری بیٹی ہماری بھی تو بیٹی ہے۔ فہمیدہ نے ذکر کیا تھا تمہاری بیٹی کی شادی ہے تو مجھے علم ہوا‘ تم پہلے بتا دیتیں تو زیادہ اچھا ہوتا۔ چلو جو ہوگیا اب آگے کی طرف دیکھو‘ پیچھے مڑ کر رکتے نہیں سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔‘‘ نگین نجانے اسے کیا سمجھانا چاہ رہی تھی اور نجمہ کا جھکا سر دیکھ کر لگ رہا تھا وہ سب سمجھ رہی ہے۔
ء…/…ء
اس دن کے بعد دوبارہ کبھی نگین کے کسی کپڑے میں سوراخ نہیں ہوا تھا جانتے ہیں کیوں؟
آیئے ذرا فلیش بیک میں جاکر دیکھتے ہیں اس دن بازار جاتے وقت نگین نے نجمہ کے گھر کیا دیکھا تھا۔ نگین کمرے کی طرف بڑھی تھیں کہ اندر سے آتی نجمہ کی آواز پر اپنا نام سن کر فطری طور پر چونک کر رک سی گئیں۔
’’یہ لو… اس بار نگین صاحبہ نے سوٹ پھٹنے سے پہلے ہی دان کردیا۔‘‘ نجمہ شاید اپنی بیٹی سے مخاطب تھیں۔
’’اماں ایسے تو نہ کہہ‘ دیکھ بیگم صاحبہ نے کتنے اچھے اچھے سوٹ تجھے دیئے ہیں اگر نہ دیتی تو سوچ میرے جہیز کے لیے ایسے شاندار کپڑے خرید پاتی تو؟‘‘
’’ارے رہن دے‘ سب ڈھکوسلے ہیں اگر ان سوٹوں میں سوراخ نہ ہوتے تو یہ بتا نگین بی بی اپنی اترن مجھے دیتی کبھی نہیں۔‘‘ نجمہ کے لہجے میں زہر بھرا تھا۔ ’’یہ بڑے لوگ ان کی سوچ بس اتنی سی ہے‘ ہم بے چارے تو زمین کے رینگتے کیڑے ہیں‘ ہماری خوشیاں‘ ہماری ضرورتیں سب ان کی محتاج ہوتی ہیں لیکن ان کے پاس ہمارے لیے سوچنے کو ہماری فکر کرنے کو ایک لمحہ تک نہیں ہوتا۔ چل اٹھ کر ہنڈیا چڑھا میں ذرا آرام کرلوں‘ سارا دن کھپ کر مر گئی ہوں۔‘‘
نجمہ کی آواز تھی کہ صور اسرافیل… نگین کو زمین و آسمان گھومتے ہوئے محسوس ہوئے تھے۔ اس وقت اسے محسوس ہوا اگر وہ اسی حالت میں اندر چلی گئی تو ضرور کچھ نہ کچھ برا ہوجائے گا لہٰذا وہ فوراً وہاں سے نکل آئی تھیں۔ نجمہ کا موبائل انہوں نے گھر پہنچ کر زمان کے ہاتھ واپس بھجوادیا تھا‘ پہلے تو ان کا دل کیا وہ نجمہ کو دوبارہ موقع نہ دیں اور گھر سے نکل جانے کا کہہ دیں لیکن رات بھر بے چین رہ کر انہوں نے اس کا مثبت حل ڈھونڈ نکالا تھا۔ اسے تنخواہ کے ساتھ کچھ اضافی پیسے اس کی بیٹی کی شادی تک ہر ماہ دینے کا نہ صرف وعدہ کیا تھا بلکہ یہ بھی سوچ لیا تھا کہ ہر بار بازار جانے پر وہ نجمہ کی بیٹی کے لیے کراکری کا سامان‘ بیڈ شیٹس یا کچھ اور ایک آدھ چیز ضرور لیتی آئیں گی تاکہ اس کا بوجھ کچھ کم ہوسکے۔
گھریلو ملازمین اکثر چوری کرنے‘ کام چوری و دیگر معاملات میں ملوث پائے جاتے ہیں لیکن یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ ان کی یہ حرکت‘ ان کی مجبوری اور ضرورت ہے پیشہ نہیں۔ ہر غلط بات کا جواب ڈانٹ ڈپٹ اور مار دھاڑ نہیں ہوتا‘ ملازموں کی خوشیوں اور ضرورتوں کا خیال رکھنا ہمارے فرائض میں شامل ہے۔
اگر اللہ تعالیٰ نے ہمیں اتنی استطاعت دی ہے کہ ہم ملازم رکھ سکتے ہیں تو پھر ہمیں اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے اتنا عطا بھی کیا ہے کہ ہم ان کی مدد کرسکیں۔ تنخواہ کے علاوہ ان کے گھریلو حالات‘ ان کے بچوں کی تعلیم کا خیال رکھیں تو کوئی وجہ نہیں کہ کوئی ملازم ایسی حرکت کرنے پر مجبور ہو۔ نگین تو یہ بات اچھی طرح سمجھ گئی تھیں کیا آپ بھی سمجھ گئی ہیں…؟

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close