Hijaab May-17

میرے خواب زندہ ہیں

نادیہ فاطمہ رضوی

(گزشتہ قسط کا خلاصہ)
میک ماریہ کے کمرے کی تلاشی لینے کی غرض سے آتا ہے تو یہ جان کر ماریہ شاکڈ رہ جاتی ہے اسے لگتا ہے کہ اب تمام سچائی میک کے سامنے آجائے گی وہ کسی بھی طور سے اس فعل سے باز رکھنے کی کوشش کرتی ہے مگر ناکام رہتی ہے ایسے میں اچانک ولیم کی آمد پر میک کو واپس جانا پڑتا ہے اور یوں ماریہ ولیم کی بے حد مشکور ہوتی ہے مگر وہ ان دونوں سے بد گمان ہوجاتا ہے۔ گلاب بخش یہ جان کر بے حد متفکر ہوتا ہے کہ مہرو پر کسی آسیب وغیرہ کا سایہ ہے جب ہی وہ مہرو کے رشتے سے دستبردار ہوجاتا ہے مہرینہ کا باپ جب اس سے ملنے آتا ہے تو وہ اپنے بیٹے کی صحت کی خرابی کا بہانہ بنا کر رشتے سے منکر ہوجاتا ہے ایسے میں مومن جان پچھتائوں میں گھر جاتا ہے گھر پہنچ کر وہ یہ اطلاع مہرو کی ماں کو دیتا ہے تو وہ بے حد مسرور ہوتی ہے اور لالہ رخ کے دل میں فراز کے لیے خود بخود جگہ بنتی جاتی ہے جو ہر مشکل گھڑی میں اس کی مدد کرتا ہے۔ مہوش اپنی منگنی کو لے کر خوش نہیں ہوتی اور اسی ٹینشن اور فکر میں اس کی طبیعت خراب ہوجاتی ہے زرمینہ اس کے بے ہوش ہونے کی اطلاع احمر کو دیتی ہے جب ہی احمر باسل کے ہمراہ ہاسٹل پہنچتا ہے اور اسے اسپتال لے آتا ہے یہاں آکر اسے معاملے کی سنگینی کا احساس ہوتا ہے جب ہی وہ زرمینہ سے مہوش کے متعلق استفسار کرتا ہے مگر زرمینہ لا علمی کا اظہار کرتی ہے طبیعت بہتر ہونے پر مہوش گھر جانے کے بجائے ہاسٹل آجاتی ہے تاکہ گھر والوں کے سوالوں سے بچ سکے۔ فراز لندن جانے کا ارادہ ظاہر کرتا ہے تو سونیا کو اپنے مذموم مقاصد خاک میں ملتے نظر آتے ہیں جب ہی وہ اس کے روم میں پہنچ کر ہنگامہ کھڑا کردیتی ہے سائرہ سمیر اور کامیش کے سامنے وہ فراز کے کردار کو مشکوک ٹھہراتی ہے کہ فراز اسے اپنی محبت میں الجھائے ہوئے ہے اور اسی کے کہنے پر وہ ملائشیا جانا چاہتی تھی اپنی شادی شدہ زندگی کی ناکامی کی اصل وجہ وہ فراز کو ٹھہراتی ہے جبکہ اس دوران فراز بالکل شاکڈ رہ جاتا ہے اسے سونیا سے اس قدر گھٹیا رویے کی امید نہیں ہوتی۔ دوسری طرف سائرہ بیگم بیٹے کو مورد الزام ٹھہراتی سونیا کی ہمنوا بن جاتی ہیں سمیر کو اپنے بیٹے پر مکمل بھروسہ ہوتا ہے جب ہی وہ فراز کو سمجھا کر خود تمام حالات سنبھالنے کا تہیہ کرتے ہیں۔ لندن پہنچ کر بھی فراز ایک کرب میں مبتلا رہتا ہے کامیش کے رویے کی سرد مہری اسے اپنے اندر اترتی محسوس ہوتی ہے۔ زرتاشہ کو اپنے رویے کی تلخی کا احساس ہوتا ہے تو وہ لالہ رخ سے فون پر معافی مانگ لیتی ہے لالہ رخ بھی تمام باتیں بھلا کر بہن کو اپنائیت کا احساس دلاتی ہے ماریہ ولیم کے گھر پہنچ کر اس کی غلط فہمی دور کرنا چاہتی ہے مگر ولیم اس کی بات سننے سے انکاری ہوجاتا ہے۔ اسے آنکھوں دیکھا ہی سچ نظر آتا ہے جب ہی وہ ماریہ سے شادی سے صاف انکار کردیتا ہے ماریہ یہ سن کر شاکڈ رہ جاتی ہے۔
(اب آگے پڑھیے)
ء…/…ء
ماریہ شاکڈو بے یقینی کے آکٹوپس میں جکڑی کچھ دیر منجمد سی کھڑی رہ گئی پھر پیچھے مڑ کر دیکھا تو ولیم وہاں سے کب کا جاچکا تھا۔
’’جیکولین آنٹی سے کہہ دینا کہ میں تم سے شادی نہیں کروں گا۔‘‘ یک دم ولیم کی آواز اس کے قریب سے ابھری تو ماریہ نے بے ساختہ چونک کر اِدھر اُدھر دیکھا پھر کسی کو بھی نہ پاکر وہ ایک تھکن آمیز سانس کھینچ کر رہ گئی اور بے حد خاموشی سے واپسی کے لیے قدم بڑھا دیئے۔
ہلکی ہلکی سنہری مائل دھوپ اس پل چہار سو پھیلی ہوئی تھی۔ موسم بھی آج کافی خوشگوار تھا‘ بارش کے بعد آسمان بالکل صاف و شفاف ہوگیا تھا‘ لوگ اپنے آپ میں محو و مگن امور زندگی میں مصروف عمل نظر آرہے تھے۔ وہ ولیم کے جملے کے زیر اثر چلی جارہی تھی۔
’’ولیم مجھ سے بری طرح بدظن ہوگیا ہے شاید اب چاہ کر بھی میں اس کے دل و دماغ سے بدگمانی نہیں نکال سکتی اور پھر میں اسے بتائوں بھی تو کیا بتائوں؟ میک کون ہے وہ کیوں میرا پیچھا کررہا ہے بھلا کیا کہوں میں ولیم سے۔‘‘ وہ دل ہی دل میں خود سے باتیں کرتی جارہی تھی۔
’’مجھے تو سمجھ میں نہیں آرہا کہ اس خبر پر میں خوش ہوں یا افسردہ کہ ولیم نے مجھ سے شادی کرنے سے انکار کردیا ہے۔ میں تو خود بھی ولیم سے شادی نہیں کرنا چاہتی تھی اسے اگنور کررہی تھی اور اب جب وہ خود پیچھے ہٹ گیا ہے تو مجھے خوشی اور اطمینان بھی نہیں ہورہا کیونکہ اس کی وجہ میک ہے‘ جس نے میری زندگی کو مشکل سے مشکل تر بنادیا ہے۔‘‘ چلتے چلتے یک دم رکی اور ایک پل پوری طرح بیدار ہوئی۔
’’اوہ گاڈ اب کیا ہوگا ولیم نے مجھ سے شادی سے انکار کردیا ہے تو پھر میک مجھ سے شادی کرنے پر فورس کرے گا اوہ نو… نیور میں میک سے تو ہرگز‘ ہرگز شادی نہیں کروں گی‘ مجھے کسی بھی قیمت پر اس کا ساتھ قبول نہیں۔ یہ لوگ مجھے نہیں چھوڑیں گے اور وہ کمینہ میک… میرے ہاتھ پائوں باندھنے کے لیے مجھ سے ضرور شادی کرنا چاہے گا بلکہ سر پال ہی اسے ایسا کرنے کا کہیں گے اب میں کیا کروں گی؟ پلیز گاڈ ہیلپ می۔‘‘ وہ فٹ پاتھ پر بے انتہا پریشان اور متوحش ہوکر وہیں بیٹھتی چلی گئی۔
ء…/…ء
باسل نے کچن میں جھانکا تو حورین خانساماں کے ہمراہ وہاں کوکنگ کرنے میں مصروف دکھائی دی‘ باسل کے لبوں پر ماں کو دیکھ کر دلکش سی مسکراہٹ در آئی پھر خوش گوار انداز میں اندر آتے ہوئے گویا ہوا۔
’’آپ یہاں ہیں اور میں آپ کو سارے گھر میں تلاش کرتا پھر رہا تھا۔‘‘ باسل کی آواز پر حورین نے رخ موڑ کر اسے دیکھا پھر دھیرے سے مسکراتے ہوئے کہا۔
’’نیکسٹ ٹائم آپ مجھے جب بھی تلاش کریں تو کچن سے اسٹارٹ لے لیا کریں‘ میرے یہاں ہونے کے زیادہ چانسز ہوں گے کیونکہ آپ کے ڈیڈ پندرہ دن کے لیے ابروڈ گئے ہوئے ہیں لہٰذا آپ کی مما کو اپنی من مانی کرنے کا بھرپور موقع مل گیا ہے۔‘‘ خاور حیات حورین کو زیادہ کچن میں جانے نہیں دیتا تھا کیونکہ بقول اس کے کہ جب گھر میں اتنے نوکر چاکر ہیں تو بھلا تم کو ہلکان ہونے کی کیا ضرورت۔ باسل بے ساختہ ہنس دیا پھر سلاد والی پلیٹ میں سے کھیرا اٹھا کر کھاتے ہوئے بولا۔
’’ہوں تو ڈیڈ کی غیر موجودگی میں ان کے احکامات کی خلاف ورزی ہورہی ہے۔‘‘ جواباً حورین نے اپنے بیٹے کو مسکراتی نگاہوں سے دیکھا پھر ہنستے ہوئے بولی۔
’’بیٹا جی یہ وہ خلاف ورزیاں ہیں جن سے آپ کے ڈیڈی بخوبی واقف ہیں اور وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ ان کے پیچھے میں باز آنے والی نہیں ہوں۔‘‘ سی گرین اور آف وائٹ امتزاج کے لان کے دلکش سے سوٹ میں ملبوس حورین بالوں کو جوڑے کی صورت میں لپیٹے بہت پیاری لگ رہی تھی۔ باسل نے محبت بھری نگاہوں سے اپنی ماں کو دیکھا پھر سر اثبات میں ہلاتے ہوئے کہنے لگا۔
’’یہ بات تو آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں۔‘‘ پھر معاً حورین کو کچھ یاد آیا تو باسل پر نگاہ جماتے ہوئے وہ گویا ہوئی۔
’’باسل کل رات آپ دیر سے آئے تھے اور صبح میں آپ کو بتانا بھول گئی کہ کل گھر پر عنایہ آئی تھی۔‘‘ باسل جو بڑے مزے سے سلاد پر ہاتھ صاف کررہا تھا یک دم چونکا پھر قدرے متعجب ہوکر حورین کو دیکھتے ہوئے بولا۔
’’اچھا مگر اس نے تو مجھ سے کوئی رابطہ نہیں کیا نہ ہی یہاں آنے کا بتایا۔‘‘ عنایہ کا رویہ اسے اب تک سمجھ میں نہیں آیا تھا بس اسے ہر بار وہ حیران کردیتی تھی بھلا اس کے پیچھے گھر آنے کی کیا تُک بنتی ہے‘ باسل کچھ بدمزہ سا ہوا تھا۔
’’وہ آپ سے ملنے بھی نہیں آئی تھی بلکہ وہ اسپیشلی میرے پاس آئی تھی۔‘‘ حورین سلیپ کے اوپر چڑھے بیٹھے باسل کے خوب صورت چمک دار بالوں کو پیار سے بگاڑتے ہوئے بولی تو اس پل وہ اپنی حیرت کا برملا اظہار کر گیا۔
’’آپ سے ملنے…! مگر کیوں؟‘‘
’’کیوں بیٹا جی کیا وہ مجھ سے ملنے نہیں آسکتی؟‘‘ حورین مصنوعی طور پر برا مانتے ہوئے گویا ہوئی تو باسل فوراً سے پیشتر بولا۔
’’اوہ نو مام… میرا وہ مطلب ہرگز نہیں تھا‘ آئی مین آپ سے تو اس کی کوئی دوستی نہیں… صرف ایک بار ہی تو وہ اپنے فادر کے ساتھ ہمارے گھر آئی تھی۔‘‘ جب ہی حورین باسل کو باہر آنے کا اشارہ کرتے ہوئے سہولت سے کہنے لگی۔
’’پہلے تو دوستی نہیں تھی مگر اب پکی پکی ہوگئی ہے۔‘‘
’’کیا مطلب؟‘‘ وہ حورین کے پیچھے پیچھے آتا بے ساختہ ہال میں آن رکا تھا‘ حورین نے اسے پلٹ کر دیکھا۔
’’مطلب یہ کہ اب ہماری بہت اچھی فرینڈ شپ ہوگئی ہے۔‘‘ باسل چند ثانیے کچھ سوچتا رہا پھر بولا۔
’’مام… یہ عنایہ کچھ عجیب لڑکی نہیں؟‘‘
’’عجیب لڑکی؟‘‘
’’مطلب چپکو سی۔‘‘
’’چپکو سی…‘‘ حورین زیر لب بولی پھر بے ساختہ زور سے ہنس دی۔
’’ارے نہیں باسل وہ تو بہت پیاری بچی ہے‘ مجھے تو بہت اچھی لگتی ہے۔‘‘
’’مام آپ کو بُرا کون لگتا ہے۔‘‘ وہ تھوڑا منہ بناکر بولتا اس کے قریب بیٹھتے ہوئے بولا۔ ’’آپ کو معلوم ہے وہ سونیا بھابی کے کزن کی سالی ہے۔‘‘
’’کیوں نہیں بیٹا‘ مجھے سب معلوم ہے کہ سونیا کی کزن اس کی بھابی ہے۔‘‘ اور اسی پل باسل کو وہ لمحات پوری جزئیات سمیت یاد آگئے جب باسل کامیش کی شادی والے دن بیگز وغیرہ رکھنے کے لیے برائیڈل روم میںگیا تھا۔
’’اوہ اس بات کا تو ذکر کرنا میں فراز بھائی سے بالکل ہی بھول گیا‘ اوہ گاڈ مجھ سے بہت بڑی غلطی ہوگئی۔ میں اتنی اہم بات بھول کیسے گیا؟‘‘ باسل دل ہی دل میں اپنے آپ کو کوستے ہوئے بولا تو حورین نے اسے ٹوکا۔
’’کیا ہوا بیٹا… کیا سوچنے لگے؟‘‘ حورین استفہامیہ نگاہوں سے باسل کو دیکھتے ہوئے بولی تو باسل نے جلدی سے خود کو سنبھالا۔
’’کچھ خاص نہیں مام‘ ویسے کافی دن نہیں ہوگئے سمیر انکل ہمارے گھر نہیں آئے۔‘‘ باسل نے حورین کو دیا دلایا تو وہ بھی کچھ چونک اٹھیں۔
’’ارے ہاں آپ بالکل ٹھیک کہہ رہے ہو‘ واقعی بہت دن ہوگئے سمیر بھائی صاحب اور ساحرہ بھابی سے ملے ہوئے‘ ان کی دعوت کے بعد سے تو میں ایک فون بھی نہیں کرسکی۔‘‘ حورین تھوڑا ملامت آمیز لہجے میں بولی پھر باسل کو دیکھ کر گویا ہوئی۔
’’بیٹا آپ کے ڈیڈی تو یہاں ہیں نہیں اگر شام کو آپ میرے ساتھ چلو تو…‘‘ وہ خود ہی اپنا جملہ ادھورا چھوڑ گئی۔
’’آف کورس مام‘ کیوں نہیں شام کو ہم ان کے گھر چلیں گے ویسے بھی مجھے فراز بھائی سے کچھ کام ہے۔‘‘ باسل جلدی سے بولا تو حورین نے مسکرا کر کہا۔
’’اوکے پھر ڈن۔‘‘
ء…/…ء
’’ایک بات تو بتائو احمر‘ آخر تمہارا پرابلم ہے کیا‘ تم نے بہانے سے اپنی بہن سے اس لڑکی کا نمبر بھی حاصل کرلیا اور دوبار ڈرتے سہمتے تم نے کال بھی ملالی مگر تمہارے منہ سے ایک بھی لفظ کیوں نہیں نکلا؟‘‘ عدیل بے پناہ تلملاتے ہوئے احمر کو خشمگیں نگاہوں سے دیکھتے ہوئے کہہ گیا جواباً احمر نے اپنا جھکا سر مزید جھکا لیا جس پر عدیل بری طرح چڑ گیا۔
’’شاباش بہت اچھے میرے یار… تم نے تو لڑکیوں کو بھی مات دے دی۔ ارے قسم سے مجھے تو اب تمہیں اپنا دوست کہتے ہوئے شرم آرہی ہے‘ افسوس ہے تمہاری مرادنگی پر۔‘‘ عدیل کو اس لمحے احمر پر ٹھیک ٹھاک غصہ آرہا تھا‘ وہ چاہتا تھا کہ احمر کی اس یک طرفہ دیوانگی کا کوئی نہ کوئی منطقی انجام تو سامنے آئے مگر احمر یزدانی کی پست ہمتی اور بزدلی نے اس کہانی کو ایک جگہ منجمد کردیا تھا نہ احمر اسے آگے بڑھا رہا تھا اور نہ خود پیچھے ہٹنے کو تیار تھا۔
’’یار میں کیا کروں ایسا نہیں ہے کہ میں اس سے بات کرتے ہوئے جھجکتا یا کتراتا ہوں مگر اس سے اظہار محبت کرنے کی مجھ میں ہمت نہیں…‘‘ بولتے بولتے آخر میں اس کا لہجہ بے چارگی سے لبریز ہوگیا۔
’’تو… تُو بیٹھا رہ یونہی چپکا‘ دیکھ لینا ایک نہ ایک دن وہ لڑکی تیری آنکھوں کے سامنے کسی اور کے سنگ چلی جائے گی۔‘‘
’’اللہ نہ کرے۔‘‘ وہ بے اختیار بول اٹھا جب کہ عدیل نے اسی پل بے ساختہ اپنا ماتھا پیٹ ڈالا۔
’’اُف میرے اللہ تیرا تو کچھ نہیں ہوسکتا… ابے او گھامڑ‘ ابھی بھی وقت ہے تھوڑی ہمت پکڑ اور کہہ دے اس سے اپنے دل کی بات مگر ہاں…‘‘ بولتے بولتے وہ کچھ رکا پھر کچھ سوچ کر گویا ہوا۔ ’’احمر اس بات کا خاص دھیان رکھنا کہ وہ لڑکی باسل کے کزن فراز کی بہت ہی خاص جان پہچان والی ہے۔ تمہیں یاد ہے ناکہ اس دن تم نے ریسٹورنٹ میں ولن کا ایکشن دکھایا تھا تو باسل تمہارے اوپر کتنا ناراض ہوا تھا اور تمہیں باآور کرایا تھا کہ وہ اس کے کزن کی شاید رشتہ دار ہے۔‘‘
’’آئی نو مجھے معلوم ہے یہ سب اور میں کون سا اسے اغوأ کرنے کا پلان کررہا ہوں۔‘‘ احمر عدیل کی بات پر بے زاری سے بولا تو عدیل نے احمر کے کندھے پر زور سے ہاتھ مارا۔
’’اچھا اب چل رائونڈ لگائیں بہت آرام ہوگیا۔‘‘ عدیل اور احمر کا گھر ایک ہی علاقے میں تھا لہٰذا دونوں کو جب بھی موقع ملتا دن ڈھلے اس علاقے میں بنے خوب صورت سے پارک میں آکر جاگنگ وغیرہ کرلیا کرتے تھے‘ ابھی بھی وہ اسی مقصد سے یہاں موجود تھے۔
’’ویسے یار اس لڑکی کے ساتھ جو دوسری لڑکی تھی وہ بھی کچھ کم نہیں تھی‘ اس کے چہرے پر کتنی معصومیت اور اٹریکشن تھی نا۔‘‘ عدیل کی بات پر احمر نے اسے تادیبی نظروں سے دیکھا۔
’’زیادہ بکو مت۔‘‘ یہ کہہ کر وہ تیزی سے جاگنگ ٹریک کی جانب بڑھ گیا۔
ء…/…ء
وادی میں اترتی گلابی سہانی سی شام کی پریوں نے اپنا ڈیرہ ڈال لیا تھا‘ بنفشی سورج کی شعاعیں چہار سو پھیلی بے حد دلفریب اور دلکش لگ رہی تھیں۔ چیڑ اور بادام کے درختوں کے پتوں سے چھلکتی روشنی آہستہ آہستہ اپنا وجود کھو رہی تھی‘ بے حد خوشگوار سی خنکی کی چادر اوڑھے فضا بے حد بھلی تھی‘ لالہ رخ اور مہرینہ خراماں خراماں اپنے گھروں کی طرف جارہی تھیں۔ لالہ رخ مہرینہ کی خاموشی کو بخوبی نوٹ کررہی تھی حسب معمول وہ اسے لینے گیسٹ ہائوس چلی آئی تھی مگر آج وہ خلاف معمول اسے کافی چپ چپ اور گم صم سی نظر آرہی تھی۔
’’کیا بات ہے مہرو… آج تم اتنی خاموش کیوں ہو‘ گھر میں سب ٹھیک تو ہے نا؟‘‘ رائل بلو اور پنک کنٹراسٹ کے لیلن کے پرنٹڈ جوڑے میں ملبوس مہرو کو لالہ رخ نے کافی توجہ سے دیکھتے ہوئے استفسار کیا۔ مہرو جس کا ذہن نجانے سوچوں کی اڑان بھرتے ہوئے کہاں جانکلا تھا‘ لالہ رخ کی آواز پر چونکی تھی پھر یک لخت اس کے صبیح چہرے پر بے زاری اور تھکن کے رنگ بکھرتے چلے گئے‘ اس نے بے اختیار ایک گہری سانس کھینچی۔ فضا میں چہار سو پھیلی پھولوں کی خوشگوار سی خوشبو اس کے نتھنوں کے ذریعے اندر جاپہنچی مگر پھر بھی اس کی طبیعت پر چھائی اکتاہٹ و بے زاری ہنوز برقرار رہی۔
’’ایک تو پہلے ہی زندگی میں ہلچل کیا کم تھی اب ایک نئی افتاد مجھ پر آن پڑی۔‘‘ لالہ رخ کے قدم بے ساختہ ٹھٹک کر رکے‘ اس نے کافی الجھ کر مہرو کو دیکھا جو خود بھی اپنی جگہ ٹھہر گئی تھی۔
’’کیا مطلب مہرو سب خیر تو ہے نا مجھے بتائو بھی کہ آخر ہوا کیا ہے؟‘‘ اسی پل ایک ٹھنڈا ہوا کا جھونکا لالہ رخ کے وجود سے ٹکرایا تو وہ بے ساختہ اپنی چادر میں سمٹ سی گئی۔
’’لالہ میرا دل کسی کام میں لگتا ہی نہیں‘ کرنے کچھ لگتی ہوں ہو کچھ اور جاتا ہے۔‘‘ مہرو اپنی مخصوص جون میں واپس پلٹتے ہوئے بولی تو لالہ رخ نے اسے صبر آمیز نظروں سے دیکھا۔
’’کل اماں نے مجھ سے کہا کہ آٹا گوندھ لو‘ میں نے آٹا گوندھنے کی بجائے پانی کا پورا برتن ڈال کر اس کی لئی بنا ڈالی پھر اماں بولیں کہ باتھ روم میں جاکر تولیہ رکھ دو ابا کو نہانا ہے میں نے کھونٹی میں تکیے کا غلاف لٹکا دیا۔‘‘ وہ ابھی مزید بھی کچھ بولتی جب ہی لالہ رخ نے اپنے لبوں کو بھینچ کر کہا۔
’’مہرو اصل مسئلہ بتائو کہ ہوا کیا ہے؟‘‘
’’کیا بتائوں لالہ… میرا تو دماغ کام ہی نہیں کرتا اب۔‘‘ مہرو ایک بار پھر شروع ہوچکی تھی جب کہ لالہ رخ کا ضبط جواب دے چکا تھا۔
’’مہرو دو منٹ میں اصل بات بتائو ورنہ میں گھر جارہی ہوں اوکے۔‘‘ یہ کہہ کر لالہ رخ نے اپنے قدم تیزی سے آگے بڑھائے تو مہرو نے بڑی سرعت سے اس کا بازو تھاما۔
’’اچھا نا بتاتی ہوں وہ دراصل بات یہ ہے کہ… لالہ وہ میں یہ کہنا چاہتی ہوں کہ وہ بات کچھ ایسی ہے…‘‘
’’مہرو…‘‘ لالہ رخ نے اسے بے پناہ خشمگیں نگاہوں سے دیکھتے ہوئے غصے میں کہا تو وہ جلدی سے بول دی۔
’’مجھے اس مونچھوں والے سے محبت ہوگئی ہے لالہ…‘‘ مجھے وہ یاد آتا ہے اٹھتے بیٹھتے اس کی صورت آنکھوں کے سامنے گھومتی رہتی ہے، مہرو اپنا سر جھکا کر گویا اقرار جرم کرنے والے انداز میں بولی۔
’’اف مہرو… اس بچپنے سے باہر آجائو میں تو سمجھی تھی کہ تم مذاق کررہی ہوں گی۔‘‘ لالہ رخ نے سر تھام لیا۔
’’تمہیں میری محبت مذاق اور بچپنا نظر آرہا ہے۔‘‘ مہرو برا مانتے ہوئے بولی۔
’’مہرو… بس ایک یہی کام تمہارے کرنے سے رہ گیا تھا۔‘‘ لالہ رخ طنزیہ انداز میں بولی۔
’’تم جیسی دوست سے تو دشمن اچھا۔ بھاڑ میں جائو۔‘‘ وہ پیر پٹخ کر بولتی وہاں سے چند قدم ہی آگے گئی تھی جب ہی اسے عقب سے لالہ رخ کی کھنکتی آواز سنائی دی۔
’’ارے میری بائولی سہیلی ہوسکتا ہے کہ وہ تیرا میگزین والا مونچھڑ چار بچوں کا باپ ہو یا پھر تین پیارے پیارے بچے ہوں یا پھر…‘‘
’’کالی زبان والی لڑکی‘ جب شکل اچھی نہ ہو تو بات تو اچھی کرلیا کرو۔‘‘ وہ فاصلے سے ہی تقریباً چلا کر اس کی جانب رخ کرکے بولی اور پھر تقریباً بھاگتی چلی گئی جب کہ پیچھے پیچھے آتی لالہ رخ اسے آوازیں دیتی رہ گئی۔
ء…/…ء
حورین کے ساتھ ساتھ باسل نے بھی یہ بغور نوٹ کیا تھا کہ سمیر شاہ بظاہر تو ان دونوں سے بہت خوش مزاجی سے ہمکلام تھے مگر بار بار ان کی ذہنی رو کہیں بھٹک جاتی تھی‘ اس وقت وہ تینوں سمیر شاہ کے ڈرائنگ روم میں موجود تھے۔ حورین کے استفسار پر سمیر نے ساحرہ کی بابت مختصراً بتایا تھا کہ اس کی طبیعت کچھ ناساز ہے لہٰذا اس پل وہ اپنے کمرے میں سو رہی ہے آج نجانے کیوں حورین کو خلاف معمول گھر میں بے حد سناٹا اور خاموشی محسوس ہورہی تھی۔ در و دیوار جیسے عجیب سی اداسی اور یاسیت کی لپیٹ میں تھے۔
’’اور بھائی صاحب‘ کامیش اور سونیا کیسے ہیں؟‘‘ حورین اپنے مخصوص انداز میں نرمی سے گویا ہوئی تو اس پل سمیر شاہ چونک کر اسے دیکھنے لگے پھر بڑی دقتوں سے خود کو سنبھال کر گویا ہوئے۔
’’آں… ہوں… ٹھیک ہیں وہ دونوں۔‘‘ سمیر شاہ جس نے ہمیشہ زندگی کے نامساعد حالات کا مقابلہ بہت ہمت و جرأت اور جواں مردی سے کیا تھا مگر نجانے آج کیوں وہ اپنے بیٹے پر آئی آنچ کو برداشت نہیں کر پارہے تھے جو اُن کا فخر ان کا غرور اور مان تھا۔ وہ یہ بات بخوبی جانتے تھے کہ سونیا کے انتہائی اخلاق سوز الزامات کے زیر اثر ان کا پیارا بیٹا ایک اذیت و کرب کے سمندر سے گزر رہا ہے مگر اس پل وہ فراز سے کہیں زیادہ دکھ و تکلیف کی کیفیت سے گزر رہے تھے۔ انہیں بار بار ایسے محسوس ہورہا تھا جیسے کوئی کند چھری بہت آہستگی سے وقتاً فوقتاً ان کے دل پر پھیر رہا ہو جس کی وجہ سے بے پایاں اذیت کی لہر ان کے اندر سے امڈتی تھی۔ وہ بار بار دل ہی دل میں اپنے خالق کائنات سے مخاطب ہوکر کہتے تھے کہ الٰہی مجھے تیری ہر آزمائش قبول ہے میں نے زندگی کے ہر امتحان کو بڑی کامیابی سے جھیلا تھا مگر اولاد پر آئی آزمائش میرے لیے بہت کٹھن اور بے پناہ مشکل ہے۔
’’بھائی صاحب آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے نا مجھے آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی۔‘‘ اس پل حورین کی پریشانی میں ڈوبی آواز سمیر شاہ کے کانوں سے ٹکرائی تو وہ جیسے حال کی دنیا میں لوٹے تھے۔
’’انکل کوئی پرابلم ہے کیا آپ بہت ٹینس لگ رہے ہیں۔‘‘ باسل حیات نے بھی آج سے پہلے سمیر شاہ کو اتنا ڈسٹرب اور غائب دماغ نہیں دیکھا تھا جب ہی وہ اپنائیت بھرے لہجے میں گویا ہوا‘ جواباً سمیر شاہ ایک تھکی تھکی سانس بھر کر رہ گئے بھلا وہ کس منہ سے بتاتے کہ ان کا بیٹا ان کا غرور جسے دیکھ دیکھ کر ان کی سانسیں چلتی تھیں کس طرح ذلت آمیز بہتان و الزاموں کا بوجھ اٹھائے اپنوں کی نفرت و حقات کو سمیٹ کر یہاں سے نکلا ہے۔
’’کچھ نہیں بیٹا بس آج کل بہت تھکن محسوس کررہا ہوں‘ شاید اب بوڑھا ہو چلا ہوں۔‘‘ سمیر شاہ آخر میں پھیکی سی ہنسی ہنس کر بولے تو باسل نے مسکرا کر انہیں دیکھا۔
’’اوہ کم آن انکل… آپ خود کو بوڑھا کہہ کر بڑی زیادتی کررہے ہیں۔‘‘ باسل کی بات پر سمیر مسکرا دیے۔ ابھی وہ باتیں ہی کررہے تھے کہ ملازم لوازمات سے بھری ٹرالی اندر لے آیا‘ معاً باسل کو کچھ یاد آیا تو سمیر سے استفسار کرتے ہوئے بولا۔
’’انکل فراز بھائی کہاں ہیں؟‘‘ انجانے میں باسل نے سمیر شاہ کے کلیجے پر ہاتھ رکھا تھا ایک ٹیس سی ان کے دل سے ابھری تھی۔ ملازم کے ہاتھ سے چائے کا کپ تھامتے ہوئے واضح کپکپاہٹ ان کے ہاتھ میں ہوئی تھی جس سے چائے ساسر میں چھلک گئی تھی۔
’’ہاں بھائی صاحب یہ فراز بیٹا ہے کہاں‘ اس دن مجھ سے تو بہت یقین سے کہہ رہا تھا کہ وہ مجھ سے ملنے آیا کرے گی۔‘‘ حورین چائے کا ایک سپ لے کر مسکراتے ہوئے بولی تو اس وقت سمیر شاہ جیسے مضبوط اعصاب کے مالک شخص کا دل چاہا کہ وہ پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع کردے۔
’’ہاں… ہاں وہ آج کل کچھ مصروف ہے۔‘‘ وہ کتراتے ہوئے انداز میں ٹالتے ہوئے بولے پھر تیزی سے باسل سے مخاطب ہوئے۔
’’اور بیٹا جی آپ کی اسٹڈیز کیسی چل رہی ہیں۔‘‘ انہوں نے سرعت سے موضوع بدلا تھا۔
ء…/…ء
’’میری تو یہ سمجھ میں ہرگز نہیں آرہا تھا کہ ابو اتنے ضدی اور سخت گیر کیسے ہوگئے‘ مہوش وہ کسی بھی صورت میری بات سننے کو راضی نہیں ہیں۔‘‘ احمر مہوش سے ملنے ہاسٹل آیا تھا۔ اس وقت وہ دونوں ہاسٹل کے ویٹنگ روم میں بیٹھے تھے۔ زرمینہ نے جو بات ہسپتال میں اس سے کہی تھی اس نے اس بہناپے کی محبت کو جگادیا تھا اور کچھ مہوش کی حالت کے پیش نظر تھا اور پھر وہ بھی تو مہوش والی کیفیت میں مبتلا ہوگیا تھا۔ زرمینہ تو صرف کچھ عرصے پہلے اس کی زندگی میں آئی تھی جب کہ مہوش تو نجانے کتنے عرصے سے اپنے دیوتا کی پوجا کررہی تھی۔
’’اُف بھائی تو آپ انہیں سمجھایئے نا‘ آپ کو معلوم ہے منگنی میں صرف دس دن رہ گئے ہیں۔ میری جان تو جیسے سولی پر اٹکی ہوئی ہے۔‘‘ مہوش کچھ جھنجھلا کر بولی تو احمر نے اسے تادیبی نظروں سے دیکھا پھر بے حد چڑ کر بولا۔
’’اپنے ابا جی کو تم کیا جانتی نہیں ہو غصے میں وہ سامنے والے کا کیا حشر کرتے ہیں اور میں دو دن سے مسلسل ان کی عتاب کا نشانہ بنا ہوا ہوں سمجھیں۔‘‘ احمر کی بات پر مہوش ڈھیلی سی پڑگئی۔
’’یہ بات تو ہے بھائی ویسے جب وہ کسی بات پر اڑ جائیں تو پھر پیچھے ہٹنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔‘‘
’’میری تو حالت ابتر ہوگئی ہے وہاں ابا جان کچھ سننے کو تیار نہیں اور یہاں تم کچھ ماننے کو راضی نہیں۔‘‘ احمر انتہائی بے زاری سے بولا تو مہوش کسی گہری سوچ میں ڈوب گئی پھر قدرے توقف کے بعد گویا ہوئی۔
’’بھائی کچھ ایسا ہوجائے کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔‘‘ جواباً احمر نے اسے کافی چڑ کر دیکھا پھر ہنوز لہجے میں بولا۔
’’اب یہ تم ہی سوچو کہ کیسے سانپ کو مارنا ہے اور کس طرح لاٹھی کو بچانا ہے۔‘‘
’’افوہ بھائی… آپ بھی تو کچھ سوچئے ناں ارے ہاں میں زرمینہ سے مشورہ لیتی ہوں۔‘‘ بولتے بولتے یک دم مہوش چونکی جب کہ احمر کی مراد ہی بر آئی پھر تیزی سے احمر کی جانب دیکھتے ہوئے کہنے لگی۔
’’آپ کو نہیں پتا احمر بھائی‘ یہ اپنی زرمینہ بڑی ذہین ہے یقینا وہ کوئی نہ کوئی راستہ تو ضرور نکالے گی میں ابھی کال کرکے اسے بلاتی ہوں۔‘‘ پھر مہوش اپنے سیل فون سے اسے کال ملانے لگی جب کہ احمر کے دل کی دھڑکنیں بے ساختہ تیز ہوگئیں اور پھر کچھ ہی دیر بعد وہ دشمن جاں اس کے سامنے تھی۔ زرمینہ جو مہوش کے بلانے پر یونہی سر جھاڑ منہ پھاڑ اپنے روم سے چلی آئی تھی اندر داخل ہوتے ہی یک دم احمر کو دیکھ کر ٹھٹکی۔
’’او مائی گاڈ یہ جنگلی بھی یہاں ہے‘ بھلا اس مہوش کی بچی کو مجھے بلانے کی کیا ضرورت تھی حد ہے مہوش۔‘‘ وہ اندر ہی اندر مشتعل سی ہوکر خود سے بولی پھر جلدی سے اپنا دوپٹہ اچھی طرح اپنے وجود پر پھیلایا۔
’’زری پلیز یہاں آئو ہمیں تم سے بہت ضروری بات کرنی ہے یار…‘‘ مہوش جلدی سے صوفے پر تھوڑا کھسک کر اس کے لیے جگہ بناتے ہوئے بولی جب کہ احمر اس پورے وقت اسے بڑی پُرشوق نگاہوں سے دیکھتا رہا۔
’’افوہ مہوش… تم نے تو مجھے تنگ ہی کردیا‘ میں سیدھا بستر سے اٹھ کر یہاں بھاگی ہوں۔‘‘ اسے ابھی تک مہوش پر غصہ آرہا تھا وہ تھوڑی دیر پہلے ہی تو کیمپس سے آکر سستانے کے لیے لیٹی تھی مہوش کا یہ کہنا کہ دو منٹ میں نیچے آئو اسے اچھا خاصا پریشان کرگیا تھا اسے لگا کہ شاید پھر مہوش کی طبیعت وغیرہ خراب نہ ہوگئی ہو‘ وہ یونہی اٹھ کر آگئی تھی جب کہ زرتاشہ بڑے مزے سے خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہی تھی۔
’’بولو کیا بات کرنی تھی؟‘‘ وہ اپنے ہاتھوں کی انگلیوں سے اپنے بکھرے بالوں کو سمیٹتے ہوئے بولتی صوفے پر جاٹکی جب کہ احمر کی نگاہیں لائٹ گرین اور آف وائٹ کنٹراسٹ کے لان کے سوٹ میں ملبوس الجھے بالوں اور آنکھوں میں کچی نیند کی سرخی لیے زرمینہ کے چہرے سے ہٹنے کو صاف انکاری تھیں‘ پھر مہوش نے تمام معاملہ اس کے گوش گزار کردیا سب کچھ سننے کے بعد زرمینہ نا چاہتے ہوئے بھی کہہ اٹھی۔
’’مہوش تم اپنے بھائی صاحب کی ہیلپ کیوں نہیں لیتیں ماشاء اللہ یہ تو کافی جینئس ہیں۔‘‘ زرمینہ کے لب و لہجے میں چھلکتی طنز کی کاٹ کو احمر نے بخوبی محسوس کیا تھا اور بے ساختہ ایک دلکش مسکراہٹ اس کے لبوں کو چھوگئی تھی۔
’’مس زرمینہ اس بات میں تو کوئی شک نہیں ہے کہ میں واقعی بہت ذہین ہوں مگر ہم نے سوچا کہ چلو آپ کی ذہانت کا بھی امتحان لے لیتے ہیں کون کتنے پانی میں ہے۔‘‘ احمر کی بات پر زرمینہ نے اس پر بے پناہ کٹیلی نگاہ ڈالی پھر انتہائی ناگواری سے رخ مہوش کی جانب کرکے گویا ہوئی۔
’’مجھے یہاں اپنی ذہانت کے جھنڈے گاڑنے کا کوئی شوق نہیں اور نہ مجھے فضول لوگوں کو امپریس کرنے کا کوئی اشتیاق ہے۔‘‘
’’اوہ نو پلیز… پلیز آپ دونوں جھگڑا مت کریں۔‘‘ مہوش ان دونوں کی باتیں سن کر حقیقی معنوں میں پریشان ہوگئی اگر پہلے کی طرح پھر ان دونوں میں جھڑپ ہوجاتی تو اس کا معاملہ تو درمیان میں ہی رہ جانا تھا۔
’’بھائی پلیز آپ بالکل خاموش بیٹھیں اور زری میری اچھی سہیلی تم بھائی کی کوئی بات مت سنو یہاں میری جان سولی پر لٹکی ہوئی ہے۔ تم پلیز کوئی راستہ بتاؤ…‘‘ آخر میں بولتے بولتے اس کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں تھاما تو زرمینہ مجبور سی ہوگئی۔
’’اچھا بابا اچھا… میں کچھ سوچتی ہوں مگر آئیڈیا میرے دماغ میں یوں چٹکی بجا کر تو آنے سے رہا ایک تو اتنی اچھی نیند سے مجھے تم نے جگادیا‘ پہلے میں جاکر تھوڑا سوئو پھر شام کو آرام سے تمہارے معاملے پر سوچوں گی‘ اوکے۔‘‘ بولتے بولتے وہ اپنی جگہ سے اٹھی تو مہوش اثبات میں سر ہلا کر گویا ہوئی۔
’’ٹھیک ہے زری‘ تم ابھی آرام کرو میں پھر رات میں تم سے آکر ملتی ہوں۔‘‘ زرمینہ احمر کو نظر انداز کرکے وہاں سے چلی گئی تو احمر بھی جانے کے لیے اٹھ کھڑا ہوا۔
ء…/…ء
اسے لندن آئے پانچ دن ہوگئے تھے مگر وہ کسی سے بھی رابطہ نہیں کررہا تھا۔ سمیر شاہ نے اسے بارہا کالز کی واٹس ایپ پر میسجز کیے مگر جواباً اس نے انتہائی مختصر پیغام ٹائپ کیا۔
’’ڈیڈ آئی ایم اوکے۔‘‘ اس کے علاوہ اس نے کسی کو بھی کوئی جواب نہیں دیا اس کے آفس والوں کی مسلسل کالز آرہی تھیں زرمینہ اور زرتاشہ کے بھی میسجز آئے ہوئے تھے مگر وہ تو جیسے سب سے ناراض بیٹھا تھا۔ ان پانچ دنوں میں وہ کس قدر ذہنی اور روحانی اذیت اور کرب میں مبتلا رہا تھا اس کے بارے میں صرف وہی جان سکتا تھا۔ کھانے کے نام پر بریڈ کے چند سلائس اور بلیک کافی ہی اس نے اپنے معدے میں انڈیلی تھی‘ وہ اپنے فلیٹ میں محصور تھا۔ بس رات دن اسی حادثے کو اپنے ذہن میں دہرائے جارہا تھا جس نے اس کے کردار کی پختگی اس کی شرافت کو بری طرح داغ دار کردیا تھا۔ کئی بار اپنے بھائی اور ماں کا رویہ یاد کرکے اس کی آنکھیں ناچاہتے ہوئے بھی نم ہوچلی تھیں‘ جب جب وہ سونیا خان کی بابت سوچتا ایک جملہ اس کے کانوں میں گونج اٹھتا کہ عورت ذات جب اپنے وقار اور مقام سے گر جاتی ہے تو اس سے زیادہ شر انگیز اور فتنہ باز چیز اس روئے زمین پر اور کوئی نہیں ہوتی۔ وہ جب انسانیت کا لبادہ اتار کر حیوانیت کا روپ دھار لیتی ہے تو ایک ایسی خطرناک ناگن بن جاتی ہے جس کا ڈسا پانی بھی نہیں مانگتا اور یہی کچھ سونیا اعظم خان نے کیا تھا‘ انتقام کی آگ میں اس نے فراز شاہ سے ایک جھٹکے میں ہی سب کچھ چھین لیا تھا وہ اپنے بستر پر آڑھا ترچھا لیٹا چھت کو مسلسل گھورے جارہا تھا۔ جب ہی واٹس ایپ پر آتی کال نے اس کے سکتے کو توڑا اس نے انتہائی بے زاری سے اپنے اسمارٹ فون کو دیکھا پھر بپ کا گلا گھوٹنے کی غرض سے اس نے جونہی فون اٹھایا۔ لالہ رخ کا نام جگمگاتا دیکھ کر اس کا ذہن پل بھر کو رکا وہ چند ثانیے یونہی خالی خالی نگاہوں سے اسکرین کو دیکھتا رہا پھر نجانے کون سی غیر مرئی طاقت کے زیر اثر اس نے لالہ رخ کی کال کو ریسیو کیا۔
’’آپ خیریت سے تو پہنچ گئے نا میں نے سوچا آپ سے فون پر دعا سلام کرلوں۔‘‘ لالہ رخ اپنے مخصوص نرم خو انداز میں بولی تو فراز ہنوز خاموش رہا۔
’’وہ دراصل اس وقت میں یونہی فارغ تھی تو آپ کو کال ملادی میرا خیال ہے آپ مصروف ہوں گے۔‘‘ لالہ رخ خوامخواہ میں پزل سی ہوگئی جب کہ دوسری جانب فراز یونہی چپ رہا۔
’’آئی ایم سوری فراز صاحب یقینا آپ کو فون کرکے میں نے آپ کو ڈسٹرب کردیا‘ آئی ایم رئیلی سوری۔‘‘ لالہ رخ کی شرمندگی اس وقت نقطہ عروج پر جاپہنچی تھی‘ وہ فراز کی مسلسل خاموشی کو اس کی ناگواری سے سمجھ رہی تھی جب ہی بے حد جھینپ کر بولی جواباً فراز شاہ گہری سانس بھر کر رہ گیا پھر دھیمے لہجے میں بولا۔
’’ایسی کوئی بات نہیں ہے لالہ رخ‘ میں بالکل فری تھا تم سنائو‘ وہاں سب ٹھیک چل رہا ہے ناں۔‘‘ لالہ رخ بے اختیار فراز کے لب و لہجے کو محسوس کرکے ٹھٹکی تھی‘ یہ وہ فراز شاہ تو ہرگز نہیں لگ رہا تھا جس سے وہ بات کیا کرتی تھی۔
’’آ… جی اللہ کا کرم ہے سب کچھ ٹھیک ٹھاک فرسٹ کلاس چل رہا ہے۔‘‘ وہ جلدی سے خود کو سنبھال کر بولی تو ایک بار پھر فراز بالکل خاموش سا ہوگیا۔
’’اور بتایئے لندن کا موسم کیسا ہے‘ پاکستان کی یاد تو نہیں آرہی؟‘‘ وہ یونہی بات بڑھانے کی غرض سے بولی تو فراز بے پناہ تلخی سے ہنسا۔
’’پاکستان کی یادیں تو اتنی زور آور اور دلکش ہیں کہ میں ابھی تک ان کے حصار سے نہیں نکل سکا۔‘‘ لالہ رخ نے بے حد غور سے اس کی بات کو سنا پھر معنی خیز لہجے میں گویا ہوئی۔
’’یادیں چاہیں تلخ ہوں یا پھر دلکش ان کے حصار سے جلد نکل جانا چاہیے ورنہ یہ آپ کے خوب صورت آج اور سنہرے کل کو خراب کردیتی ہیں۔‘‘
’’اونہہ… آج اور کل کی فکر کسے ہے؟‘‘
’’فکر ہونی چاہیے فراز۔‘‘
’’اب کوئی فکر نہیں ہے لالہ رخ نہ آج کی اور نہ کل کی۔‘‘
’’فکریں تو ہونی چاہیے فراز‘ یہی فکریں تو ہمیں ہمت و حوصلہ دیتی ہیں ہمیں زندگی کو جینے کی امنگ دلاتی ہیں اگر فکر نہیں ہوگی تو سب کچھ ختم ہوجائے گا۔‘‘
’’سب کچھ ختم ہوچکا ہے۔‘‘ وہ بے اختیار چٹخ کر بول اٹھا۔
’’نہیں فراز کبھی سب کچھ ختم نہیں ہوتا‘ جب تک ہماری سانسیں چل رہی ہیں‘ ہمارے سینے میں دل دھڑک رہا ہے‘ اس وقت تک سب کچھ باقی رہتا ہے۔ ہاں یہ ضرور ہوتا ہے کہ کسی بہت بڑی آزمائش کے زیر اثر جب ہم آجاتے ہیں تو بظاہر ہمیں لگتا ہے کہ سب کچھ ختم ہوگیا ہے۔ ہم تہی داماں رہ جاتے ہیں‘ ہمیں لگتا ہے کہ اب زندگی کے دروازے ہمارے لیے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند ہوگئے ہیں مگر ایسا ہوتا نہیں‘ یہی وہ مقام ہوتا ہے جب ہمیں اپنے کپڑے جھاڑ کر ایک بار پھر اپنے قدموں پر مضبوطی سے کھڑا ہونا ہوتا ہے اور پھر ہماری ہمت جرأت اور حوصلہ خود ہمارا ہاتھ تھام لیتا ہے۔‘‘ لالہ رخ بولتی چلی گئی جب کہ فراز انتہائی ٹوٹے لہجے میں جواباً گویا ہوا۔
’’جب ایک بار مان‘ بھروسہ اور رشتے ٹوٹ کر بکھر جائیں تو پھر دوبارہ نہیں سمٹ سکتے لالہ رخ…‘‘
’’کیوں نہیں سمٹ سکتے فراز؟ یہ سب کچھ ہوسکتا ہے مگر ان چیزوں کو سمیٹنے کے لیے پہلے خود کو سمیٹنا ہوگا خود کو نئے انداز سے جوڑنا ہوگا اور میں تو یہ بات جانتی ہوں کہ اگر کوئی آپ کو سچا پیار کرتا ہوگا نا تو وہ ضرور آپ کو آپ کا مان بھی لوٹائے گا اور بھروسہ بھی اور رہا رشتے کا سوال تو جس رشتے میں پیار ہوگا وہ ٹوٹ کر پھر ضرور جڑ جائے گا اور جس رشتے میں جب پیار ہی نہ ہو تو ایسے رشتے کی بھلا ضرورت بھی کیا ہے۔‘‘ لالہ رخ کی بات کو فراز شاہ ناچاہتے ہوئے بھی سنتا چلا گیا جب کہ لالہ رخ مزید کہہ رہی تھی۔
’’فراز… آپ نے ڈوبتے سورج کو دیکھا ہے‘ جب اپنی روشنی سمیٹ کر وہ چلا جاتا ہے تو چہار سو رات کا ہولناک اندھیرا ہر چیز پر چھا جاتا ہے۔ ہمیں کچھ لمحوں کے لیے ایسا لگتا ہے کہ جیسے یہاں تو کبھی روشنی تھی ہی نہیں اور جب سیاہ گہری لمبی رات دبے پائوں گزرتے ہوئے ہمارے اندر اپنی دہشت اور وحشت بھر دیتی ہے تو ہمیں لگتا ہے کہ اب کبھی اجالا نہیں ہوگا‘ کبھی روشنی نہیں ہوگی مگر صبح جب نیا سورج طلوع ہوتا ہے تو ہمارے اندر اور اطراف کا سارا اندھیرا‘ ساری وحشت ایک ہی جست میں دم توڑ جاتی ہے۔ ایک نئی امید‘ نیا عزم اور حوصلہ ہماری رگوں میں سرائیت کر جاتا ہے‘ سورج سے پیٹھ موڑ لینا نہ عقل مندی ہے اور اللہ ہمیں اس کی اجازت نہیں دیتا کیونکہ مایوسی اور ناامیدی کفر ہے‘ کیونکہ ہر نیا سورج ہمیں نئی امید و ہمت دلاتا ہے فراز شاہ اس بار کچھ نہیں بولا بس خاموشی سے سنتا رہا۔
ء…/…ء
جیسکا کلاس لے کر نکلی تو بالکل سامنے گرائونڈ میں ولیم اسے دو لڑکوں کے ہمراہ باتیں کرتا ہوا دکھائی دیا۔ آج پھر ماریہ کالج سے غیر حاضر تھی‘ جیسکا جو سیڑھی کے پہلے اسٹیپ پر کھڑی تھی اس نے ولیم کو دیکھ کر قدرے توقف کے بعد اس کی جانب قدم بڑھائے۔
’’ہیلو ولیم۔‘‘ وہ اس کے قریب پہنچ کر کافی گرم جوشی سے بولی تو ولیم نے ایک نگاہ جیسکا کو دیکھا پھر دونوں لڑکوں سے ایکسکیوز کرکے انہیں وہاں سے چلتا کرکے پوری طرح اس کی جانب متوجہ ہوگیا۔
’’مجھے تو لگ رہا تھا کہ آج کل تم خوب چہک رہے ہوگے‘ تمہاری شادی جو قریب آگئی ہے مگر تمہاری شکل پر تو بارہ بج رہے ہیں یار۔‘‘ جیسکا یہ بول کر آخر میں ہنسی تھی جبکہ ولیم ہنوز سنجیدگی سے اسے دیکھتا رہا۔
’’اچھا یہ بتائو برائیڈیل ڈریس کے لیے تم ماریہ کو اپنے ساتھ لے کر جائو گے یا تمہاری مام پسند کریں گی‘ تمہاری بات ہوئی ماریہ سے؟‘‘ جیسکا جو ماریہ کو ولیم کے ساتھ دوبارہ نارمل ہوتے دیکھ کر اب کافی مطمئن تھی لہٰذا ولیم سے یونہی چھیڑ چھاڑ کرتے ہوئے بولے جارہی تھی۔
’’ویسے ولیم تم ہو بہت لکی‘ ماریہ جیسی کیوٹ لڑکی تمہاری بیوی بننے جارہی ہے۔‘‘ وہ اس پل خود میں اتنی مگن تھی کہ وہ ولیم کے چہرے پر چھائی ناقابل فہم سنجیدگی اور لبوں پر چھائی جامد خاموشی کو محسوس ہی نہیں کرسکی۔
’’اچھا ایسا کرو مجھے ذرا ماریہ کے گھر ڈراپ کردو جیکولین آنٹی نے مجھے بلایا ہے۔ اچھا ہے نا ان کے داماد کے ساتھ میں گھر جائوں گی تو مجھے بھی وی آئی پی پروٹوکول ملے گا نا۔‘‘ یہ بولتے ہوئے اس نے ولیم کا بازو اپنے ساتھ چلنے کی غرض سے کھینچا تو دوسرے ہی پل ولیم نے بے حد ناگواری سے اپنے دائیں ہاتھ سے جیسکا کے ہاتھ کو جھٹکا۔
’’اوہ کم آن جیسکا… مجھے تمہاری ان فضول باتوں میں کوئی انٹرسٹ نہیں…‘‘ جب کہ رخ موڑتی جیسکا نے یک دم دوبارہ پلٹ کر بے حد تحیر کے عالم میں ولیم کو دیکھا جس کے چہرے پر اس وقت عجیب و غریب تاثرات رقم تھے۔ وہ چند ثانیے اسے دیکھتی چلی گئی پھر بے حد الجھ کر استفسار کرتے ہوئے بولی۔
’’سب ٹھیک تو ہے نا ولیم… کیا تم دونوں کی پھر کوئی لڑائی ہوگئی؟‘‘ جواباً ولیم نے اسے بے حد طنزیہ نگاہوں سے دیکھا پھر انتہائی کٹیلے انداز میں بولا۔
’’اب تو سب کچھ حل ہوگیا ہے جیسکا‘ اب کوئی لڑائی کوئی تعلق کوئی رشتہ ہمارے درمیان نہیں رہا‘ وہ پوری طرح سے اب آزاد ہے اس کا جو دل چاہے‘ جیسا من چاہے وہ کرے‘ مجھے کوئی اعتراض نہیں۔‘‘ ولیم کی باتوں سے جیسکا ششدر رہ گئی۔
’’اوہ کم آن ولیم… تم مجھے صاف صاف بتائو کہ کیا بات ہے۔‘‘ وہ چٹخ کر بولی تو ولیم بری طرح تلملا اٹھا۔
’’یہ بات تو تم ماریہ سے جاکر پوچھو جسیکا میں نے اس جیسی مکار اور فریبی لڑکی اپنی پوری زندگی میں نہیں دیکھی یہ کہہ کر وہ جیسکا کو ہک دک کھڑا چھوڑ کر وہاں سے چلا گیا تھا۔
ء…/…ء
اس دن کے بعد سے سونیا خان خود ہی گیسٹ روم میں شفٹ ہوگئی‘ وہ ایسا کیوں کررہی تھی یہ جاننے کی کامیش شاہ نے ضرورت محسوس کی تھی نہ ہی اسے کوئی دلچسپی تھی۔ یہ حقیقت تھی کہ اس نے سونیا سے شادی صرف ساحرہ کے زور دینے پر کی تھی مگر شادی کے بعد سونیا کی عادات و اطوار نے کامیش کو بالکل بھی متاثر نہیں کیا تھا اور نہ ہی وہ اس کے دل میں اپنے لیے کوئی جگہ بنا پائی تھی‘ دوسری جانب صنف نازک میں عدم دلچسپی اور اپنے کام سے بے پناہ لگائو کے سبب بھی وہ سونیا کی طرف راغب نہیں ہوسکا تھا مگر اس دن کے واقعہ کے بعد سونیا نہ ہی اس کے سامنے آئی تھی اور نہ اس نے سونیا کو تلاش کیا تھا۔ وہ حسب معمول رات کو ڈیوٹی سے گھر آیا تو اپنے کمرے میں سونیا کو ایک بیگ سمیت اپنا منتظر پایا‘ بلیک پلین شلوار قمیص کے سوٹ میں وہ بہت سادا اور مختلف لگ رہی تھی وگرنہ تو وہ ہمہ وقت ٹپ ٹاپ میں رہا کرتی تھی۔ کامیش نے ایک نگاہ بیگ اور پھر اس پر ڈالی اور دوسرے ہی لمحے وہ ڈریسنگ روم کی جانب بڑھا ہی تھا کہ عقب سے اسے سونیا کی آواز سنائی دی۔
’’کامیش میں آپ ہی کا ویٹ کررہی تھی۔‘‘ بے اختیار کامیش اپنی جگہ ٹھہرا مگر اس نے فی الفور مڑ کر نہیں دیکھا سونیا وردی میں ملبوس کامیش کی چوڑی پیٹھ کو دیکھتی رہ گئی پھر اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں آپس میں پھنساتے ہوئے بڑی دھیمی آواز میں گویا ہوئی۔
’’کامیش میں جانتی ہوں کہ آپ مجھ سے بہت خفا اور بدگمان ہیں اور آپ کی ساری ناراضی اور غصہ بالکل جائز ہے یقینا میں نے آپ کے ساتھ بہت غلط کیا مگر پلیز کامیش آپ میرا یقین کیجیے میں نے یہ سب کچھ فراز کے کہنے پر کیا۔ فراز نے تو مجھے کہیں کا نہیں چھوڑا…‘‘ بات کرتے ہوئے وہ تھوڑا ٹھہری پھر قدرے توقف کے بعد گویا ہوئی۔
’’میں جانتی ہوں کہ میں آپ کی نظروں سے گر گئی ہوں‘ فراز کی باتوں میں آکر میں نے اپنے ہی آشیانے کو انجانے میں اجاڑ ڈالا۔ میں آپ کے لائق نہیں ہوں اور کامیش اسی لیے میں اس گھر سے اور آپ کی زندگی سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جارہی ہوں۔‘‘ کامیش نے پوری بات بے حد خاموشی سے سنی اور پھر کوئی بھی جواب دیئے بنا وہ تیزی سے ڈریسنگ روم میں گھس گیا جب کہ سونیا نے ایک طمانیت آمیز گہرا سانس کھینچا۔
’’میرا کام تو ہوگیا کامیش… اب تمہارے ساتھ ٹائم ویسٹ کرنے کا کیا فائدہ‘ بائے ڈئیر۔‘‘ وہ دھیرے سے بڑبڑائی پھر بے حد مسرور ہوکر خود سے مزید بولی۔
’’اونہہ فراز شاہ… تم نے مجھے ٹھکرایا تھا نا آج تمہارے چہیتے بھائی اور سگی ماں نے تمہیں کتنی ذلت سے ٹھکرادیا۔ ساری زندگی تم بدکرداری اور آوارگی کا داغ ماتھے پر سجا کر دربدر پھروں گے۔‘‘ پھر دوسرے ہی پل وہ سر جھٹک کر کمرے سے نکلتی چلی گئی۔
ء…/…ء
’’اوہ اللہ کی بندی‘ کچھ تو عقل کے ناخن لو۔ اب کیا تم سلطان راہی کی طرح وہاں جاکر منگنی رکوائو گی؟ اف میں تو تمہاری ان حرکتوں سے تنگ آگئی ہوں زری‘ بھلا کیا ضرورت تھی مہوش کے سامنے ہامی بھرنے کی جب اس کا بھائی یہ منگنی نہیں روک پارہا تو تم کیا کرلو گی۔ آخر تمہیں ٹارزن بننے کا اتنا شوق کیوں ہے؟‘‘ زرتاشہ اسے خوب کھری کھری سنا رہی تھی جب کہ زرمینہ کسی گہری سوچ میں مستغرق ایک ہی زاویے میں بے حس و حرکت بیٹھی تھی۔ کچھ دیر تو زرتاشہ نے اسے بے حد خشمگیں نگاہوں سے دیکھا پھر بے تحاشا چڑ کر بولی۔
’’بھاڑ میں جائو تم زری جو دل میں آئے کرتی پھرو پھر جب کسی مشکل میں پھنسنا تو مجھ سے آکر مت کہنا سمجھیں۔‘‘
’’آگیا…‘‘ اچانک زرمینہ اپنی جگہ سے اتنی زور سے اچھلی کہ زرتاشہ اپنی جگہ بری طرح سہم گئی۔
’’ک… کون آگیا زری؟‘‘ زرتاشہ خوف زدہ نگاہوں سے دیکھ کر گھگھیا کر بولی۔
’’آئیڈیا آگیا میری جان… بڑا زبردست آئیڈیا آیا ہے۔‘‘ جواباً زرتاشہ نے اسے کھا جانے والی نظروں سے گھورا۔
’’زری کی بچی… تُو تو میرا ہارٹ فیل ہی کردے گی۔‘‘
’’میں ذرا مہوش کے پاس سے ہوکر آتی ہوں۔‘‘ وہ زرتاشہ کی بات کو ان سنی کرتے ہوئے اپنے بستر سے اٹھ کر باہر کی جانب بھاگی مگر تھوڑی دیر میں واپس آکر ٹھنڈے انداز میں بولی۔
’’وہ رمشا کے ساتھ مارکیٹ گئی ہے۔‘‘ جبکہ زرتاشہ بے پناہ چڑ کر واش روم کی جانب بڑھ گئی۔
ء…/…ء
وہ بے حد شاکڈ کی حالت میں کالج سے ماریہ کے گھر پہنچی اور اب اس کے کمرے میں موجود ماریہ کے سر پر سوار تھی۔
’’او گاڈ ماریہ… ولیم تم سے منگنی توڑ چکا ہے اور تم نے مجھے بتایا تک نہیں‘ میری تو کچھ سمجھ میں نہیں آرہا کہ یہ سب کچھ ہو کیا رہا ہے۔ پچھلے کچھ دنوں سے تو تم دونوں کے بیچ سب کچھ ٹھیک اور نارمل چل رہا تھا اب اچانک ایسا کیا ہوگیا کہ اس نے خود ہی منگنی توڑ ڈالی۔‘‘ جیسکا نے جب ماریہ کو ولیم کی بات بتاکر استفسار کیا تو اس نے فقط اتنا ہی بتایا کہ ولیم نے اس سے منگنی توڑ دی ہے۔
’’مجھے کیا معلوم جیسکا اس کی مرضی اس نے منگنی توڑ دی اب میں کیا کروں اس کے پیروں میں جاکر گروں۔‘‘ وہ خوامخواہ میں جھنجھلا گئی جیسکا یک دم خاموش سی ہوکر بغور ماریہ کو دیکھنے لگی جو اس پل بہت زیادہ ڈسٹرب اور اپ سیٹ لگ رہی تھی۔ جسیکا بے اختیار ایک گہری سانس بھر کر رہ گئی پھر آہستگی سے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر نرمی سے بولی۔
’’ماریہ میں نے تم سے پہلے بھی کہا تھا کہ پلیز تمہیں جو بھی پریشانی ہے‘ جو مسئلہ ہے۔ وہ تم مجھ سے شیئر کرو میں تم سے وعدہ کرتی ہوں کہ میں ہر قیمت پر تمہارا ساتھ دوں گی مگر یار کچھ تو بتائو مجھے کہ تمہارے دل پر آخر کیا بوجھ ہے۔ تمہارے دل و دماغ میں کون سی ٹینشن اور دبائو ہے‘ جس نے تمہیں اتنا ڈسٹرب کردیا ہے۔‘‘ وہ یہ بات تو بہت اچھی طرح سے سمجھ چکی تھی کہ یقینا ماریہ کے ساتھ کوئی بہت سیریس ایشو ہے جو وہ اسے نہیں بتارہی ہے اور اب ولیم کا اس سے اچانک یوں بدگمان ہوجانا جیسکا کو مزید الجھا گیا تھا۔
’’ابرام نے بھی مجھے نہیں بتایا کہ ولیم نے منگنی توڑ دی ہے۔‘‘ جیسکا کچھ سوچ کر شکایتی انداز میں بولی تو ماریہ نے سپاٹ لہجے میں کہا۔
’’برو کو بھی اس بات کا علم نہیں۔‘‘
’’کیا…!‘‘ اسے ایک اور جھٹکا لگا۔ ’’کیا مطلب ماریہ…؟ کیا تم نے کسی کو بھی نہیں بتایا کہ ولیم نے منگنی ختم کردی۔‘‘ جواباً ماریہ نے سر نفی میں ہلایا تو جیسکا نے بے ساختہ اپنا ہاتھ اپنے ماتھے پر دھرا پھر سر اٹھا کر اسے دیکھتے ہوئے بولی۔
’’تم یہ سب کر کیا رہی ہو‘ وہاں جیکولین آنٹی تمہاری شادی کی شاپنگ میں بزی ہیں اُدھر ابرام ان ہی چکروں میں الجھا ہوا ہے اور تم نے اب تک کسی کو بتایا بھی نہیں۔‘‘
’’ہاں… ہاں… میں نے کسی کو بھی نہیں بتایا‘ بھاڑ میں جائے ولیم اور اس جیسے سب‘ مجھے ان سب کی کوئی پروا کوئی فکر نہیں…‘‘ ماریہ یک دم چلا اٹھی اندر کی گھٹن اور وحشت نے اس پل اس کی ساری برداشت کو جیسے نگل ڈالا تھا۔
’’تم جاننا چاہتی ہو نا کہ میرے ساتھ پرابلم کیا ہے‘ آخر کون سی ایسی بات‘ کیا وہ وجہ ہے جس نے مجھے سرے سے بدل دیا ہے تو سنو جیسکا…‘‘ ماریہ بے حد جنونی انداز میں بولتے ہوئے اس کے دونوں بازو پکڑ کر کچھ توقف کے لیے ٹھہری پھر چٹانوں جیسی مضبوط آواز میں گویا ہوئی۔
’’ماریہ ایڈم نے اپنے پورے ہوش و حواس میں مذہب اسلام قبول کرلیا ہے۔‘‘ جیسکا کے کانوں میں اس پل کسی نے گرما گرم کھولتا ہوا سیسہ انڈیلا تھا وہ بے حس و حرکت یک ٹک ماریہ کو دیکھتی رہ گئی تھی۔ ’’ہاں جیسکا میں یہ سچے دل سے قبول کرتی ہوں کہ اللہ ایک ہے‘ وہ لاشریک ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ جل جلالہ کے آخری رسول ہیں۔‘‘ ماریہ جیسکا کی پھٹی پھٹی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے بے پناہ جذب و عقیدت سے بولی۔ جیسکا کی سائیں سائیں کرتی سماعت نے اسے گونگا بہرہ سا کردیا تھا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے آس پاس بے پناہ شور ہے‘ جیسے کوئی ٹرین گزر رہی ہے اور اسے کچھ سنائی نہیں دے رہا ہو۔
’’جیسکا میں مسلمان ہوں‘ میں نے اپنے مذہب کو عرصہ ہوا ترک کردیا ہے۔ اب میں دین اسلام کی پیروکار ہوں پھر بھلا میں ولیم سے شادی کیوں کرلیتی حالانکہ میرے دین میں اہل کتاب سے شادی جائز ہے مگر میں صرف مسلمان مرد سے ہی شادی کروں گی تاکہ میری نسل بھی مسلمان پیدا ہو۔‘‘ جیسکا ابھی تک مجسمہ بنی بے حس و حرکت کھڑی تھی۔
’’تم کو تو معلوم ہے نا کہ سر پال اپنے مذہب میں کتنے کٹر اور شدت پسند ہیں اور ان کی بنائی ہوئی تنظیم اینٹی اسلام کے لیے کیا کچھ کررہی ہے نجانے ان کو کیسے معلوم ہوگیا کہ میں اسلام قبول کرچکی ہوں۔ انہوں نے مام کو تو نہیں بتایا مگر میرا جینا دوبھر کردیا‘ سرپال نے میک کو میرے پیچھے لگادیا۔‘‘ پھر ماریہ نے میک کے گھر آنے کا مقصد اور اچانک ولیم کی آمد کا تمام قصہ اس کے گوش گزار کردیا۔ جیسکا ایک مسمریزم کی کیفیت میں سب کچھ سنتی چلی گئی۔ ماریہ بتاکر خاموش ہوگئی تو بہت دیر بعد جیسکا سکتے کی کیفیت سے باہر آئی اور بے ساختہ ماریہ کے بستر پر ڈھے گئی۔
’’او گاڈ ماریہ…! یہ تم نے کیا کیا‘ تم نے اپنا مذہب کیسے چھوڑ دیا؟ آخر تمہیں اپنے مذہب میں کس چیز پر اعتراض تھا‘ جس کے سبب تم نے دوسرا مذہب اختیار کرلیا اور وہ بھی اسلام… تم نے اسلام کو ہی کیوں منتخب کیا ماریہ؟ کیا تم جانتی نہیں ہو کہ تمہاری خود کی مام کتنی چڑتی ہیں‘ اس مذہب سے اور ماریہ جس سوسائٹی میں ہم رہتے ہیں وہاں پر اس مذہب کو ناپسند کرنا تو چھوٹی بات اس مذہب کے لوگوں سے بات چیت کرنا بھی معیوب اور گناہ سمجھا جاتا ہے۔‘‘ وہ بے حد دکھ و تاسف کے عالم میں بولتی چلی گئی جواباً ماریہ جیسکا کے ہوائیاں اڑتے چہرے کو دیکھ کر بڑی دلکشی سے مسکراتے ہوئے بولی۔
’’جیسکا تمہیں میرے دین کی خوب صورتی کا اندازہ بھی نہیں ہے‘ اتنا منفرد مکمل اور پیارا دین اس پوری کائنات میں کوئی دوسرا ہے ہی نہیں۔‘‘ وہ جیسے کہیں ڈوب سی گئی تھی‘ اس پل ماریہ کے خوب صورت چہرے پر اتنی پیاری روشنی تھی کہ وہ اسے یک ٹک دیکھتی چلی گئی۔ آج سے پہلے ماریہ اسے کبھی اتنی حسین اور پُروقار نہیں لگی تھی پھر معاً ایک خیال جیسکا کے ذہن میں آیا تو وہ بے حد ہراساں ہوکر بولی۔
’’ماریہ اگر یہ مذاق ہے تو پلیز اس خوف ناک مذاق کو ختم کرو‘ کیا تمہیں معلوم نہیں ہے کہ اس کا انجام کیا ہوگا‘ سر پال اینٹی مسلم تنظیم کتنی شدت پسند ہے اور تمہاری مام اسے پورا سپورٹ کرتی ہیں۔ وہ لوگ اس جرم کی پاداش میں تمہیں الیکٹرک چیئر پر بٹھادیں گے ماریہ… جس طرح انہوں نے انکل نیکس کو…‘‘ اتنا بول کر جیسکا ایک جھرجھری سی لے کر خود ہی خاموش ہوگئی۔ ماریہ نے چند ثانیے جیسکا کو دیکھا پھر بے حد آہستگی سے گویا ہوئی۔
’’اب اپنے انجام کی مجھے کوئی فکر نہیں جیسکا… میں بہت دور نکل آئی ہوں اگر اس حالت میں مجھے مار بھی دیا گیا تو میں شہید کہلوائوں گی۔‘‘ جیسکا نے بے حد حیران ہوکر اسے دیکھا۔
’’او گاڈ ماریہ… یہ تم کیسی باتیں کررہی ہو‘ کس نے یہ سارا خناس تمہارے دماغ میں انڈیل کر تمہاری برین واشنگ کی ہے۔ یہ ساری باتیں فضول ہیں ماریہ… جس مذہب کو لے کر ہم پیدا ہوئے ہیں وہی سب سے اعلیٰ و ارفع اور مکمل ہے۔ یہ شہادت وغیرہ یہ باتیں تو انتہا پسندی ہے میری جان… نجانے تم کب اور کیونکر بھٹک گئیں۔‘‘ وہ اسے سمجھانے والے انداز میں بولی جواب میں ماریہ ابھی کچھ کہنے ہی والی تھی کہ ڈور بیل کی آواز پر دونوں ہی چونک اٹھیں یہ جیکولین کے گھر آنے کا وقت تھا لہٰذا دونوں نے ہی جیکولین کی آمد پر اپنے موڈ کو بحال کیا تھا۔
ء…/…ء
بے حد دلکش چہرے پر دو ذہین آنکھیں کھڑی مغرور ناک کے نیچے گھنی مونچھیں اور اس کے نیچے عنابی سبک ہونٹ اس کی شخصیت کو بے حد سحر انگیز بنا رہے تھے۔ نین و نقوش میں لالہ رخ کو کسی کی ہلکی سی شباہت محسوس ہوئی تھی جبکہ اسی پل یک دم دو ہاتھ تصویر پر آن دھرے تھے۔
’’افوہ مہرو… مجھے ذرا غور سے دیکھنے تو دو یہ چہرہ مجھے کچھ دیکھا دیکھا سا لگ رہا ہے۔‘‘ مہرو صاحبہ آج میگزین اس کے سامنے لے آئی تھیں اور اترا کر میگزین کا بیچ کا صفحہ کھول کر ان موصوف کی جھلک دکھا رہی تھیں جن کے فراق میں آج کل وہ دن و رات آہیں بھر رہی تھیں۔
’’جی نہیں بس کافی دیکھ لیا تم نے اگر تمہارا بھی اس پر دل آگیا تو پھر میں تو گئی کام سے۔‘‘ مہرو میگزین بند کرکے اپنے سینے سے لگاتے ہوئے بولی تو لالہ رخ نے اسے بے پناہ تپ کر دیکھا۔
’’میرے ابھی اتنے بُرے حالات نہیں ہوئے کہ محض تصویر دیکھ کر ہی میں کسی کو دل دے بیٹھوں۔‘‘ جبکہ مہرو نے لالہ رخ کی بات کو ان سنی کرتے ہوئے ایک بار پھر میگزین کھول لیا پھر کچھ دیر بعد سر اٹھا کر بولی۔
’’ویسے لالہ یہ بات تو تم مانتی ہو نا کہ یہ بندہ کتنا ہینڈسم ہے نا ویسے مجھے اس کی خوب صورتی نے متاثر نہیں کیا بلکہ نجانے اس میں ایسی کیا بات ہے کہ میری نگاہیں اس تصویر سے ہٹتی ہی نہیں…‘‘
’’ہونہہ… زیادہ فلمی ہیروئن بننے کی ضرورت نہیں ہے میڈم… میری نگاہیں اس تصویر سے ہٹتی ہی نہیں۔‘‘ لالہ رخ چہرہ بگاڑ کر اس کی نقل اتارتے ہوئے بولی پھر تیزی سے گویا ہوئی۔
’’جب پھوپا کی پھٹکار اور پھوپو کی مار تجھے پڑے گی نا تو یہ ساری محبت وحبت بھاپ کی طرح غائب ہوجائے گی۔‘‘
’’مجھے تمہارے لب و لہجے سے جلن و حسد کی بو آرہی ہے لالہ۔‘‘ مہرو شبنم والے اسٹائل میں بولی تو لالہ رخ نے فہمائشی نگاہوں سے اسے گھورا پھر مہرو کے سر پر ایک چپت رسید کرتے ہوئے بولی۔
’’تُو نے میگزین کا یہ صفحہ شاید اچھی طرح دیکھا نہیں ارے یہ کوئی پولیس والا ہے جس کا انٹرویو چھپا ہے اور ان پولیس والوں کے بارے میں سنا ہے نا کہ لوگ کیا کہتے ہیں ان کی نہ دشمنی اچھی اور نہ دوستی‘ سمجھیں۔‘‘
’’جی نہیں یہ پولیس والا دوسرے پولیس والوں جیسا بالکل نہیں ہے‘ تم نے دیکھا نہیں لالہ اس کے چہرے پر کتنی شرافت ہے اور ہاں اب ان کے لیے اب ایک لفظ بھی کچھ غلط مت بولنا میں کچھ نہیں سننے والی۔‘‘ مہرو آخر میں تنبیہی انداز میں بولی تو لالہ رخ نے بے اختیار ایک گہری سانس کھینچی پھر ہنوز لہجے میں بولی۔
’’تیرا کچھ نہیں ہوسکتا میں باہر پھوپو کے پاس جارہی ہوں‘ تم بھی باہر آجائو۔‘‘ پھر دوسرے ہی لمحے لالہ رخ سر جھٹک کر مہرو کے کمرے سے باہر نکل آئی۔
ء…/…ء
یہ سب لالہ رخ کی باتوں کا اثر تھا کہ فراز شاہ اپنے خول سے باہر نکل آیا تھا آج اس نے اپنی کمپنی کی برانچ کا چکر بھی لگایا جہاں سب نے اسے بہت کھلے دل سے خوش آمدید کہا گیا۔ وہ جو سب سے منہ چھپائے کان بند کیے بیٹھا تھا‘ آج سمیر شاہ سے بھی خود رابطہ کیا جبکہ سمیر شاہ تو جیسے دوبارہ جی اٹھے تھے۔
’’تم نہیں جانتے فراز… تمہاری حالت نے میرے دل کو کتنا زخمی کیا ہے‘ کتنی اذیت اور تکلیف سے میں تمہارے ساتھ ساتھ خود بھی گزرا ہوں۔‘‘ فراز شاہ کو یک دم ڈھیروں ندامت اور شرمندگی نے آن گھیرا‘ اپنی دکھ و تکلیف میں وہ اپنے باپ کے احساسات کو بھی فراموش کر گیا تھا۔ وہ اس کو لے کر کتنے پریشان اور اپ سیٹ رہے تھے۔
’’ایم ویری سوری ڈیڈ… میں نے آپ کو ہر ٹ کیا لیکن بھروسہ کریں ڈیڈ… میں اب بالکل ٹھیک ہوں آخر میں آپ کا ہی تو بیٹا ہوں اور سمیر شاہ کا بیٹا کبھی حالات کے آگے گھٹنے نہیں ٹیکے لگا۔‘‘ وہ بھرپور عزم سے بولا تو سمیر شاہ کے اندر گویا طمانیت و سکون کی لہر اترتی چلی گئی۔
’’ویری گڈ اینڈ ویل ڈن مائی سن… مجھے تم پر فخر ہے‘ یہ ہے میرا بیٹا‘ میرا فخر جو کبھی ٹوٹ نہیں سکتا۔‘‘ وہ خوشی سے لبریز نم آواز میں سر اثبات میں ہلاتے ہوئے بولے تو فراز شاہ بھی کھل کر مسکرادیا تھا اس نے زرتاشہ اور زرمینہ کے بھی میسجز کے جواب دیے اور باقی دوسرے دوستوں اور آفس کے ورکرز کے ساتھ آج سارا دن بڑی مصروفیت میں گزرا تھا۔
ء…/…ء
وہ دونوں اس وقت جیسکا کے گھر کے سیٹنگ روم میں بیٹھے تھے تینوں ہی خاموش اپنی اپنی جگہ نجانے کن سوچوں میں مستغرق تھے‘ بہت سارے پل یونہی بے حد خاموشی سے ان کے درمیان سے گزر گئے تھے جب بہت دیر بعد جیسکا نے سر اٹھا کر مار یہ کو دیکھتے ہوئے کہا۔
’’ماریہ… میں نے ہمیشہ تمہیں دل سے اپنا دوست سمجھا اور مانا ہے‘ میں تمہارے ساتھ بہت مخلص ہوں ماریہ اور میں ہرگز نہیں چاہوں گی کہ تم پر کوئی مصیبت یا تکلیف آئے پلیز ماریہ… میں تم سے درخواست کرتی ہوں کہ تم ابرام کی بات مان لو یہ راستہ چھوڑ دو اور واپس لوٹ آئو پلیز ماریہ۔‘‘ آخر میں اس کا لہجہ ملتجیانہ سا ہوگیا تھا‘ آنکھوں سے آنسو چھلک آئے تھے جواباً ماریہ نے ایک نظر جیسکا کو دیکھا پھر بے حد طنزیہ انداز میں مسکراتے ہوئے بولی۔
’’تم تو میری ہر طرح سے مدد کرنے کو تیار تھی نا جیسکا مگر اب کیا ہوگیا؟ تمہارے بھی ہوش و حواس اڑ گئے نا۔‘‘ ماریہ کی بات پر جیسکا تھوڑا خفیف سی ہوگئی اس نے بے ساختہ ابرام کو دیکھا جو اس پل بالکل خاموش اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو ایک دوسرے میں پیوست کیے اس پر ٹھوڑی جمائے بیٹھا تھا۔
’’تم میرے لیے کچھ کر نہیں سکتی تو پلیز مجھے ایسے الٹے سیدھے مشورے مت دو اور ویسے بھی تم چاہ کر بھی میرے لیے کچھ نہیں کرسکتیں جب برو کے ہاتھ میں کچھ نہیں ہے تو تم کیا کرلو گی۔‘‘ آخر میں وہ تلخی سے ہنس کر بولی۔ جیسکا نے ایک بار پھر ابرام کو دیکھا مگر اس کی کیفیت میں ذرا فرق نہیں آیا‘ جیسکا نجانے کیوں خوامخواہ میں چڑگئی۔
’’ابرام یہ تم کیوں اتنا خاموش بیٹھے ہو ماریہ کو سمجھاتے کیوں نہیں؟ اسے نتائج کی سنگینی کا ہرگز اندازہ نہیں… یہ جذبات سے کام لے رہی ہے اسے بتائو کہ اس کا انجام کیا ہوگا۔‘‘ وہ لوگ جس سرکل سے تعلق رکھتے تھے‘ وہاں اپنے مذہب کو چھوڑ کر خاص طور پر مذہب اسلام کو قبول کرلینا بے حد سنگین جرم تھا اور اس جرم کی سزا براہ راست سزائے موت تھی اور ماریہ کوئی پہلی ہستی نہیں تھی جس نے یہ قدم اٹھایا تھا اس سے پہلے کئی ایک نے یہ کام کیا تھا جنہیں بناء کوئی نرمی برتے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا جیسکا نے ماریہ کی زبانی جب سے یہ سنا تھا کہ ماریہ نے بھی یہی کچھ کیا ہے اس وقت سے ہی اس کا دل سوکھے پتے کی طرح لرز رہا تھا خود اس کی مدر اور فیملی اینٹی اسلام ایکٹوٹیز میں سرگرم تھے۔
’’میں گزشتہ کتنے عرصے سے اس لڑکی کو سمجھا سمجھا کر تھک گیا ہوں مگر اس لڑکی نے تو کچھ بھی نہ سمجھنے کی قسم کھا رکھی ہے۔‘‘ ابرام اسے فہمائشی نگاہوں سے دیکھتے ہوئے بے پناہ چڑ کر بولا جب کہ ماریہ نے بڑی بے زاری سے چہرہ دوسری جانب موڑ لیا۔
’’اب ہوگا کیا ابرام… ولیم اس سے شادی کرنے کو انکار کرچکا ہے اور وہ میک کسی آسیب کی طرح اس کے پیچھے پڑگیا ہے‘ مجھے تو ابھی تک یقین نہیں آرہا کہ ماریہ نے اتنا سنگین قدم اٹھا لیا ہے۔‘‘ وہ ماریہ کو ایک بار پھر بے حد حیران کن نظروں سے دیکھتے ہوئے بولی اس وقت جیسکا کی مدر جاب پر ہوتی تھیں لہٰذا جیسکا نے ان دونوں کو اپنے گھر پر ہی بلالیا تھا کیونکہ آج جیکولین بھی گھر پر تھی کچھ ذاتی کام کے خاطر وہ آج گھر سے باہر نہیں گئی تھی لہٰذا تینوں نے میٹنگ جیسکا کے گھر پر ہی سیٹ کرلی تھی۔
’’دیکھو ماریہ… شاید تمہیں اندازہ نہیں ہے کہ…‘‘
’’تم ایک بات کو بار بار کیوں دہرا رہی ہو جیسکا‘ میں صدق دل سے دین اسلام کو قبول کرچکی ہوں اور اپنی زندگی کی آخر سانس تک اسی دین کی پیروکار رہوں گی۔‘‘ ماریہ جیسکا کی بات درمیان میں اچک کر بے حد ٹھوس لہجے میں بولی تو جیسکا لمحے بھر کے لیے خاموش ہوگئی۔
’’ہونہہ… نجانے کس نے اس کو یہ ساری پٹیاں پڑھا کر اس کے پیدائشی مذہب سے بدظن کردیا ہے۔‘‘ ابرام اپنے اشتعال پر بمشکل قابو پاکر بولا تو ماریہ نے اسے بے حد خفگی سے دیکھا پھر دھیرے سے گویا ہوئی۔
’’مجھے کسی نے کوئی پٹی نہیں پڑھائی برو اور رہا پیدائشی مذہب کا سوال تو ہر انسان ہر بچہ مسلمان پیدا ہوتا ہے یہ تو انسان ہوتے ہیں جو بعد میں اسے ہندو‘ عیسائی اور یہودی وغیرہ بنا دیتے ہیں۔‘‘ جیسکا اور ابرام نے ناسمجھنے والے انداز میں ماریہ کو دیکھا ان کے سروں پر سے ماریہ کی بات گزر گئی تھی پھر ابرام سر جھٹکتے ہوئے گویا ہوا۔
’’تم بتائو تو سہی کب کہاں اور کیسے یہ سب تمہارے دماغ میں سمایا؟‘‘
’’یہ کافی لمبا چوڑا قصہ ہے میں بعد میں آپ لوگوں کو بتادوں گی پہلے یہ تو سوچیں کے آگے کیا کرنا ہے۔ ولیم نے منگنی توڑ دی ہے کہیں وہ کمینہ میک اپنا پروپوزل لے کر آدھمکا تو مام ہاں کرنے میں ایک منٹ نہیں لگائیں گی۔‘‘ آخر میں وہ اپنے دونوں ہاتھوں کی نگلیاں مروڑتے ہوئے اضطرابی کیفیت میں گھر کر بولی تو جیسکا اور ابرام دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر رہ گئے۔
ء…/…ء
ان چند دنوں میں ساحرہ جیسے برسوں کی بیمار لگ رہی تھی‘ چہرے کی دلکشی و رعنائی کسی نے نچوڑ لی تھی‘ آنکھوں میں بے رونقی سی چھاگئی تھی۔ درحقیقت اسے فراز سے ایسی امید بالکل نہیں تھی بے شک وہ اپنی اولاد سے ہمیشہ بے پروا اور دور دور رہی تھی مگر اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں تھا کہ وہ اپنے بچوں سے پیار نہیں کرتی تھی۔ فراز کے کردار اور شخصیت کو جس طرح مسخ کرکے سونیا نے اس کے سامنے پیش کیا وہ اسے دکھ و بے یقینی کی گہرائیوں میں دھکیل گیا تھا۔ ساحرہ نے سونیا کے ہر لفظ کو بالکل سچ اور درست سمجھا تھا‘ اسے فراز سے زیادہ سونیا پر بھروسہ تھا اور فراز کے مقابلے میں اس نے سونیا کو ہی مکمل سپورٹ کیا تھا اور جب سے سونیا یہ گھر چھوڑ کر گئی تھی وہ فراز سے اور زیادہ متنفر ہوگئی تھی اور اس کے ساتھ ساتھ وہ کامیش سے بھی بہت خفا تھی کہ بھلا اس نے سونیا کو معاف کرکے اسے روکا کیوں نہیں؟ اسے جانے دیا کھوٹ تو اپنے سکے میں تھا اس میں اس بے چاری کا کیا دوش تھا۔ سمیر شاہ نے ایک دو بار ساحرہ کو سمجھانے اور فراز کی پوزیشن کو کلیئر کرنے کی کوشش کی تھی مگر ساحرہ تو فراز کا نام سنتے ہی ہسٹریائی سی ہوگئی تھی جب کہ سمیر شاہ ساحرہ کی حالت زار کو دیکھ کر مصلحتاً خاموش ہوگئے تھے۔
ء…/…ء
’’تمہیں کیا لگتا ہے زری… یہ آئیڈیا کام کرے گا۔‘‘ مہوش اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو آپس میں چٹخاتے ہوئے گومگو کی کیفیت میں گھر کر بولی اس پل وہ زرمینہ کی بات سن کر کافی الجھن کا شکار دکھائی دے رہی تھی۔
’’میرے خیال میں زرمینہ کا آئیڈیا اتنا برا نہیں ہے اسے آزما کر دیکھ لینے میں کوئی حرج نہیں مہوش…‘‘ رمشا جو اپنے گھر سے واپس آچکی تھی اور تمام تفصیلات جان چکی تھی وہ بھی زرمینہ کی بات سن کر کچھ سوچ کر بولی۔
’’برا نہیں ہے کیا مطلب؟ ارے بیسٹ آئیڈیا ہے‘ بیسٹ۔‘‘ زرمینہ رمشا کی جانب گردن موڑ کر دیکھ کر تیزی سے بولی تو رمشا نے بھی جلدی سے اثبات میں سر ہلادیا جب کہ مہوش ابھی تک ہنوز اسی کیفیت میں گھری بیٹھی تھی۔
’’اُف مہوش میں نے تو تمہیں ترکیب بتادی اب اس پر عمل کرنا یا نہ کرنا تمہارا کام ہے۔‘‘ زرمینہ اس کے پاس سے اٹھتے ہوئے بولی تو مہوش نے جلدی سے اس کے بازو کو تھاما۔
’’اچھا… اچھا… زری ٹھیک ہے میں اس سے بات کرتی ہوں اور جیسا تم نے بتایا ہے ویسے ہی کہتی ہوں۔‘‘
’’یوں منہ بسور کر ہرگز مت کہنا ورنہ وہ موصوف تو اور ڈھیلے ہوکر لمبے ہی پڑجائیں گے‘ ذرا مضبوط انداز میں کہنا اپنے لب و لہجے سے اس پر صاف واضح کرنا کہ تم اس رشتے سے اب پوری طرح راضی ہو اور اب مطمئن بھی ہو سمجھیں۔‘‘ زرمینہ اسے بجھا بجھا دیکھ کر تنبیہی انداز میں بولی تو مہوش نے جلدی سے اثبات میں سر ہلادیا۔
ء…/…ء
جیکولین شاکڈ و بے یقینی کے آکٹو پس میں جکڑی نجانے کتنی ہی دیر یونہی ایک ہی پوزیشن میں بیٹھی رہی تھی ابھی تھوڑی دیر پہلے اس نے ولیم کی مدر کو کسی کام سے فون کیا اور ماریہ اور ولیم کی شادی کے ارینجمنٹ کے بابت کچھ جاننا چاہا تو دوسری طرف کی بات نے حیران و ششدر کردیا تھا۔
’’مگر ماریہ نے تو مجھے کچھ نہیں بتایا۔‘‘ وہ بے ساختہ بیچ میں بول پڑی جس پر ولیم کی مدر نے کافی طنزیہ لہجے میں کہا۔
’’حیرت ہے جیکولین ابھی کچھ دن پہلے ہی تو ماریہ ولیم سے ملنے گھر آئی تھی اور ولیم نے اسے منگنی توڑنے کی خبر دی تھی ویسے ماریہ کو یہ بات تمہیں بتانی چاہیے تھی۔ اچھا جیکولین اس وقت میں کچھ مصروف ہوں‘ فون بند کرتی ہوں‘ بائے۔‘‘ یہ کہہ کر انہوں نے لائن ڈس کنکٹ کردی تھی‘ جیکولین جب بے یقینی و سکتے کی کیفیت سے باہر آئی تو ماریہ پر عود کر غصہ آیا۔
’’آخر یہ لڑکی چاہتی کیا ہے‘ ضرور اسی نے کوئی ایسی ویسی حرکت کی ہے جس کی وجہ سے ولیم اس سے بدظن ہوگیا۔ اوہ ماریہ… تم مجھے اور کتنا رسوا کروائو گی۔‘‘ جیکولین خود سے بڑبڑا کر بولی پھر بڑی بے صبری سے ماریہ اور ابرام کے گھر آنے کا انتظار کرنے لگی تقریباً آدھے گھنٹے بعد وہ دونوں بہن بھائی سر جھکائے اس کے سامنے موجود تھے۔
’’ولیم نے تمہارے ساتھ منگنی ختم کردی اور تم نے مجھے بتایا تک نہیں ماریہ… آخر تم کرنا کیا چاہ رہی ہو‘ کن چکروں میں پڑگئی ہو تم؟‘‘ آخر میں وہ حلق کے بل دھاڑی تھی‘ ماریہ بے اختیار سہم کر رہ گئی۔ ’’میں تم سے کچھ پوچھ رہی ہوں ماریہ… کیا تمہارے کانوں میں میری آواز جارہی ہے یا پھر تم بہری ہوگئی ہو؟‘‘ جیکولین اس کے دونوں بازؤں پر اپنے ہاتھ رکھ کر اسے جھنجھوڑتے ہوئے بولی تو ماریہ نے ڈبڈبائی نگاہیں اٹھا کر جیکولین کو دیکھا۔
’’وہ… وہ دراصل مام… وہ میں…‘‘ ماریہ جیکولین کے غصے سے بے پناہ خائف ہوکر کچھ بول ہی نہیں پارہی تھی۔
’’یہی چاہتی تھیں نا تم یہی سب کرنا تھا تمہیں‘ تم ولیم سے شادی ہی نہیں کرنا چاہتی تھیں‘ بولو ماریہ… ایسا کیوں کیا تم نے ولیم کو خود سے بدظن کیا ہے‘ بولو جواب دو اب کیا تم گونگو کی طرح کھڑی ہو۔‘‘ جیکولین کا غصے کے مارے برا حال تھا اس کا اس پل دل چاہ رہا تھا کہ تھپڑوں سے اس کا چہرہ سرخ کر ڈالے۔
’’وہ… وہ مام… مم… میں نے کچھ نہیں کیا وہ ولیم نے خود ہی…‘‘ وہ فقط اتنا ہی بول سکی تو جیکولین نے اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھا۔
’’اچھا وہ ولیم جو ہر وقت تمہارے آگے پیچھے گھوما کرتا تھا‘ تمہیں اتنا پسند کرتا تھا اپنی شادی کو لے کر اتنا خوش تھا آخر اس نے کیوں شادی سے چند دن پہلے یہ منگنی توڑ دی۔ بولو ماریہ… جواب دو اور ہاں مجھے صرف سچ سننا ہے اگر تم نے مجھ سے جھوٹ بولنے کی کوشش کی نا تو میں تمہاری زبان کاٹ دوں گی‘ سمجھیں۔‘‘ جیکولین اس وقت پوری طرح آپے سے باہر ہوچکی تھی ماریہ نے امداد طلب نگاہوں سے ابرام کو دیکھا تو ابرام خود کو تیار کرتے ہوئے ابھی کچھ بولنے کے لیے منہ کھولنے ہی لگا تھا کہ جیکولین اس کی جانب بل کھا کر سخت مشتعل انداز میں بولی۔
’’خبردار ابرام… تم اس معاملے میں کچھ بولے تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔‘‘ جواباً ابرام کی زبان تو جیسے تالو سے چپک کر رہ گئی۔
ء…/…ء
فراز نے خود کو کافی حد تک سنبھال لیا تھا‘ وہ آج کل برانچ میں بہت مصروف تھا‘ ابھی بھی وہ کافی لیٹ اپنے اپارٹمنٹ میں پہنچا تھا فریش ہوکر ڈھیلا ڈھالا شلوار کُرتا پہن کر فریج کی جانب آیا اور فیروزن فوڈ نکال کر اسے مائیکرو ویو میں گرم ہی کررہا تھا کہ اسی پل اس کے سیل فون کی بپ بج اٹھی۔ فراز نے ٹیبل پر رکھے موبائل پر ذرا نگاہ اٹھا کر دیکھا تو باسل کا نام جگمگاتا دیکھ کر اس نے کافی ریلیکس انداز میں ہاتھ بڑھا کر فون ریسیو کیا۔
’’السلام علیکم! فراز بھائی… کیسے ہیں آپ؟‘‘ باسل ہمیشہ سے ہی فراز کی بہت عزت کرتا تھا اور فراز بھی باسل کو اپنے چھوٹے بھائیوں کی طرح ٹریٹ کرتا تھا۔
’’وعلیکم السلام! باسل ڈئیر میں بالکل ٹھیک ہوں۔‘‘ وہ مائیکرو ویو سے کھانا نکالتے ہوئے خوش دلی سے بولا تو باسل کچھ توقف کے بعد گویا ہوا۔
’’فراز بھائی میں دراصل آپ سے ملنا چاہتا تھا۔ ان فیکٹ مجھے آپ سے ایک ضروری بات کرنی ہے۔‘‘
’’مگر باسل میں تو لندن میں ہوں اس وقت‘ ویسے یہاں آنا چاہو تو مجھ سے ملنے آجائو۔‘‘ وہ مسکراتے ہوئے بولا تو باسل یہ سن کر تھوڑا چونکا پھر ہنس کر کہنے لگا۔
’’کیوں نہیں فراز بھائی‘ میں بالکل وہاں آجاتا مگر آج میری گاڑی چلانے کی ہمت نہیں ہورہی۔‘‘ جواباً فراز بھی ہنس دیا پھر فوراً سے پیشتر گویا ہوا۔
’’اچھا ایسا کرو میں تمہیں کھانا کھا کر پندرہ منٹ بعد واٹس اپ پر کال کرتا ہوں‘ اوکے۔‘‘ پھر تقریباً بیس منٹ بعد وہ دوبارہ باسل سے محو کلام تھا۔
’’اب بولو باسل… تم کیا ضروری بات کرنا چاہتے تھے۔‘‘ وہ اب ریلیکس انداز میں صوفے پر لیٹا استفسار کرتے ہوئے بولا تو باسل نے چند ثانیے کے لیے کچھ سوچا پھر سنجیدگی سے گویا ہوا۔
’’فراز بھائی آپ کو یاد ہے کامیش بھائی کی شادی والے دن جب کچھ بیگز رکھنے کے لیے آپ نے مجھے ہوٹل کے برائیڈل روم میں بھیجا تھا۔‘‘ باسل کے کہنے پر فراز نے اپنے ذہن پر زور دیا تو کچھ ہی دیر میں اسے سب یاد آگیا۔
’’آں… ہاں مجھے یاد آگیا‘ ممی نے مجھے کچھ گفٹ بیگز دیئے تھے تو وہ میں نے تمہارے حوالے کردیئے تھے کہ تم روم میں رکھ آئو۔‘‘ فراز کی بات پر باسل نے اطمینان سے بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا۔
’’فراز بھائی جب میں اس روم میں پہنچا تو وہاں ایک باکس مجھے نظر آیا جس میں انتہائی دلکش سی ڈانسنگ ڈول بنی ہوئی تھی۔‘‘
’’ارے ہاں باسل… وہ تو میں نے سونیا کو…‘‘ یک دم بولتے بولتے وہ سونیا کے نام پر بے اختیار رکا تھا‘ سونیا کا نام اس پل جیسے کانٹے کی طرح اس کے دل میں چبھا تھا جس نے اس وقت ایک اذیت سی اس کی رگ و پے میں اتار دی تھی پھر اپنی کیفیت پر قابو پاکر وہ بے پناہ سنجیدگی سے بولا۔
’’وہ کاسمیٹکس باکس میں نے پیرس سے سونیا کے لیے خریدا تھا‘ دراصل اس ڈانسنگ ڈول کو ایک خاص انداز میں گھمانے پر آپ اپنی وائس ریکارڈنگ بھی کرسکتے ہیں۔‘‘ آخر میں اس کا لہجہ بے پروائی کے رنگ لیے ہوئے تھا‘ باسل بے اختیار ایک گہری سانس بھر کر رہ گیا۔
’’فراز بھائی جب وہ بیگز میں نے وہاں جاکر رکھے تو شاید کوئی بیگ رکھتے ہوئے اس ڈول سے ٹکرا گیا تھا جس سے یک دم وہ حرکت میں آگئی تھی اور سونیا بھابی کی کچھ وائس ریکارڈنگ اسٹارٹ ہوگئی تھی۔‘‘ وہ قدرے ہچکچا کر بولا تو نجانے کیوں اس وقت فراز کو لگا جیسے باسل کوئی انکشاف کرنے والا ہے وہ جو آرام سے لیٹا تھا یک دم الرٹ ہوکر بیٹھ گیا تھا۔
’’پھر باسل…‘‘ وہ یک دم بے چین ہوا ٹھا۔
’’میں انہیں عام سی ریکارڈنگ سمجھ کر نظر انداز کرکے وہاں سے جانے ہی والا تھا کہ اچانک سونیا بھابی کی عجیب سی آواز پورے کمرے میں گونجی فراز بھائی وہ… وہ…‘‘ وہ اٹک سا گیا۔
’’باسل پلیز مجھے بتائو تم نے کیا سنا تھا یار…‘‘ فراز سمجھ گیا تھاکہ باسل اصل بات بتانے سے جھینپ رہا ہے جسے سننے کے لیے وہ بے انتہا بے قرار ہوگیا تھا۔
’’وہ کہہ رہی تھیں آئی مین آپ سے مخاطب ہوکر بول رہی تھیں کہ ’’فراز آئی لو یو… زندگی میں‘ میں نے صرف تمہیں چاہا ہے صرف تمہاری آرزو کی ہے فراز… آئی رئیلی لو یو مگر مجھے اپنی محبت سے نفرت ہوگئی ہے اتنی… اتنی… نفرت جتنی شاید میں نے دنیا کے کسی بھی بندے سے نہیں کی… میں تمہاری زندگی میں آرہی ہوں فراز… صرف تمہیں برباد کرنے کے لیے بس انتظار کرو پھر دیکھنا۔‘‘ باسل کی میموری کافی شارپ تھی سو اس نے لفظ بہ لفظ وہ وائس ریکارڈنگ فراز کے گوش گزار کردی تھی جب کہ فراز جواباً باسل سے کچھ بھی نہیں بولا تھا۔ باسل بھی سب کچھ بول کر قصداً خاموش رہا‘ نجانے کتنے ہی لمحے یونہی خاموشی کی نذر ہوگئے تھے جب ہولے سے گلا کھنکھار کر باسل دھیمے لہجے میں بولا۔
’’آئی ایم ویری سوری فراز بھائی… میں آپ کو اسی وقت بتانا چاہتا تھا مگر مجھے موقع نہیں مل رہا تھا‘ یہ سب سن کر میں بھی بہت ڈسٹرب ہوا تھا کیوں کہ کامیش بھائی کا نکاح ہوچکا تھا پھر نجانے کیسے میں یہ سب آپ کو اپنے چکروں میں پڑ کر بتانا ہی بھول گیا۔‘‘ فراز نے باسل کی وضاحتوں کو خاموشی سے سنا پھر ایک تھکن آمیز لہجے میں بولا۔
’’تم کافی لیٹ ہوگئے باسل… سونیا اپنا وار کرچکی ہے اس نے واقعی مجھے برباد کردیا… بدلے کی آگ اس نے میرے آشیانے کو خاکسر کرکے بجھالی…‘‘ باسل بری طرح چونکا‘ فراز کے لہجے میں ٹوٹے ہوئے شیشوں کی چبھن اور دکھ محسوس کرکے وہ اچھا خاصا پریشان ہوگیا۔
’’کیا مطلب فراز بھائی مم… میں سمجھا نہیں۔‘‘
’’مطلب یہ میرے بھائی کہ میرے شادی سے انکار کو وہ اپنی نسوانیت اور انا کا مسئلہ بناکر مجھے اپنے اندھے انتقام کی بھینٹ چڑھا چکی ہے۔‘‘ پھر وہ اسے سب کچھ بتاتا چلا گیا جب کہ باسل ششدر سا بیٹھا سب کچھ بے حد غیر یقینی کی حالت میں سنتا چلا گیا۔ وہ ابھی تک حیرت و استعجاب کے سمندر میں ڈبکیاں لگائے سونیا کے بارے میں سوچ رہا تھا کہ بظاہر اتنی ڈیسنٹ اور ویل مینرڈ دکھائی دینے والی سونیا اعظم خان اندر سے کس قدر سفاک کریہہ اور مسخ شدہ شخصیت کی مالک ہے جس نے فراز جیسے پیارے انسان کی شخصیت و کردار کی دھجیاں اس کی ماں اور بھائی کے سامنے بکھیر دی تھیں۔ وہ اس پل دکھ و غم کی گہرائیوں میں ڈوب گیا‘ فراز کا دکھ وہ اس وقت اپنے دل میں محسوس کررہا تھا‘ پہلے نیلوفر زمان کا کردار اس کی زندگی میں عورت ذات کے نام پر بدنامی کی صورت میں سامنے آیا تھا اور اب سونیا اعظم خان وہ ان دونوں لڑکیوں کے بارے میں بے ساختہ سوچے گیا پھر بے حد تنفر سے اس نے اپنے ہونٹوں کو سختی سے بھینچ ڈالا‘ اس پل اسے صنف نازک کے وجود سے عجیب سی نفرت اور کراہیت محسوس ہوئی۔
’’اونہہ… یہ سب کی سب مکار اور فریبی ہوتی ہیں ان کا اصل کچھ اور ظاہر کچھ اور ہوتا ہے۔‘‘ باسل دل ہی دل میں خود سے بولا پھر یک دم حال کی دنیا میں لوٹتے ہوئے جلدی سے بولا۔
’’فراز بھائی آپ پلیز ہمت مت ہاریئے گا ان شاء اللہ بہت جلد سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا‘ جھوٹ زیادہ عرصے اپنے قدموں پر ٹک نہیں سکتا جیت ہمیشہ حق اور سچائی کی ہوتی ہے۔‘‘ جواباً فراز کچھ نہیں بولا اس پل اس کے زخم ایک بار پھر تازہ ہوگئے تھے‘ وہ ایک اذیت و کرب میں گرفتار تھا‘ باسل کچھ دیر بعد گویا ہوا۔
’’فراز بھائی میں آنٹی اور کامیش بھائی کو یہ تمام حقیقت بتائوں گا اس طرح انہیں معلوم ہوجائے گا کہ سونیا کتنی جھوٹی ہے اور یہ سب ڈرامہ انہوں نے بہت سوچ کر رچایا ہے۔‘‘ اس وقت وہ خود کو ندامت اور شرمندگی کے سمندر میں ڈوبتا محسوس کررہا تھا‘ کاش وہ یہ بات فراز کو پہلے بتادیتا تو فراز اپنے بچائو کی کوئی ترکیب ہی کرلیتا۔
’’نہیں باسل… اب ان باتوں کا کوئی فائدہ نہیں۔ سونیا کو جو کرنا تھا وہ کر گزری اور رہا اسے جھوٹا ثابت کرنے کا سوال تو مجھے اس بات کی کوئی چاہت نہیں ہے اور نہ ہی خود کو سچا ثابت کرنے کی خواہش ہے‘ جب میری ماں اور بھائی نے میری زبان کا یقین نہیں کیا تو تمہاری گواہی میرے لیے کوئی معنی نہیں رکھتی‘ انہیں اپنے خون سے زیادہ سونیا پر بھروسہ ہے باسل…‘‘ آخر میں فراز بے پناہ ٹوٹے ہوئے لہجے میں تلخی سے ہنس کر بولا تو باسل بے اختیار چپ کا چپ رہ گیا پھر بہت دیر بعد بولا۔
’’مجھ سے بہت بڑی غلطی ہوگئی فراز بھائی کاش یہ سب میں آپ کو پہلے بتادیتا تو نوبت یہاں تک نہ آتی۔‘‘
’’باسل… یہ ٹھیک ہے کہ اگر مجھے پہلے معلوم ہوجاتا تو میں خود کو محفوظ کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتا مگر شاید تم کو پتا نہیں کہ عورت جب اپنی سطح سے نیچے آکر سراپا انتقام بن جائے تو وہ ایک زہریلی ناگن کی طرح اس شخص کا پیچھا قبر تک کرتی ہے۔ وہ ہر طور مجھ سے انتقام لیتی‘ میں جانتا ہوں باسل… وہ چین سے نہیں بیٹھتی اسے یہی سب کچھ کرنا تھا۔‘‘ فراز کی بات کو وہ خاموشی سے سنتا رہا۔
ء…/…ء
’’ہائے اللہ زری… میری جان تُو تو واقعی گریٹ ہے بس آج سے تم میری گرو اور میں تمہاری چیلی ہوں۔‘‘ مہوش بے پایاں جوش و خوشی کے احساس سے لبریز ہوکر زرمینہ سے بری طرح لپٹتے ہوئے بولی تو زرتاشہ نے بھی اس جانب متجسس نگاہوں سے دیکھا وہ بظاہر اس معاملے سے لاتعلق بنی بیٹھی تھی مگر اس وقت مہوش کی کھلکھلاہٹ نے اسے بھی تجسس میں مبتلا کردیا تھا کہ آخر زرمینہ بی بی نے مہوش کو کون سا چورن چٹایا ہے جس سے اس کا کام بن گیا۔
’’زری… تم نے جیسا کہا تھا میں نے بالکل ویسا ہی کہا میں نے کہا کہ میرے والدین تو راضی نہیں ہورہے لہٰذا بہتر یہ ہے کہ ہم حقیقت کو قبول کرلیں شاید ہمارا سنجوگ ہی آسمان میں نہیں لکھا تھا۔ بس پھر کیا تھا زری… وہ تو بری طرح تڑپ اٹھا اس نے مجھے دو دن کا وقت دیا ہے زری…‘‘ وہ بے حد اشتیاق آمیز لہجے میں بولی تو زرمینہ بڑی بردباری سے گردن ہلا کر گویا ہوئی۔
’’بس بی بی سمجھو تمہارا کام ہوگیا۔‘‘ زرتاشہ نے اس پل اسے بڑی طنزیہ نگاہوں سے دیکھا پھر قدرے چڑ کر بولی۔
’’ہونہہ… ابھی کام ہوا نہیں اور سریا گردن میں فٹ ہوگیا۔‘‘ زرمینہ اور مہوش نے متوجہ ہوکر زرتاشہ کو دیکھا پھر زرمینہ بڑے اتراتے ہوئے انداز میں بولی۔
’’چلو مہوش نیچے لان میں چلتے ہیں یہاں تو مجھے کسی کے دل کے جلنے کی بو آرہی ہے۔‘‘ پھر بڑی بے نیازی سے اس نے شانے اچکائے تھے۔ لیمن کلر کے لان کے سوٹ میں بالوں کو چوٹی کی شکل دیئے زرمینہ کو زرتاشہ نے ایک نگاہ ڈال کر دیکھا پھر بڑے اطمینان سے اپنی ٹیبل سے ناول اٹھاتے ہوئے مزے سے بولی۔
’’یہ دل جلنے کی بو نہیں بلکہ پلگ سے بو آرہی ہے‘ لگتا ہے تمہارے چارجر کے ساتھ ساتھ تمہارا موبائل فون بھی اڑ گیا ہے۔‘‘ زرمینہ جو اترائی ہوئی کھڑی تھی‘ یک دم گھبرا کر سوئچ بورڈ کی جانب بھاگی۔
’’او میرے اللہ…! میرا آئی فون…‘‘
ء…/…ء
گھر میں اس پل مکمل خاموشی تھی‘ جیکولین حسب معمول اسٹڈی روم میں مقید تھی اور ابرام شاید اپنے روم میں سو رہا تھا۔ کل شام جیکولین نے اسے بے پناہ ڈانٹا تھا پھر آخر میں ابرام نے بڑی ہمت کرکے آہستہ آہستہ جیکولین کو کنٹرول کرکے ماریہ کو وہاں سے ہٹا دیا تھا۔ کل سے اب تک اس کا سامنا جیکولین سے نہیں ہوا تھا اور اب تو خاصی رات ہوچکی تھی‘ وہ لائونج میں آکر دھیمی آواز میں ٹی وی کھول کر بیٹھ گئی بظاہر اس کی نگاہیں اسکرین پر حرکت کرتی تصویروں پر تھیں مگر اس کا ذہن کسی اور جانب اڑان بھر رہا تھا جب ہی یک دم جیکولین وہاں آدھمکی‘ اسے اچانک وہاں دیکھ کر گڑبڑا سی گئی اور بے ساختہ ریمورٹ اٹھا کر ٹی وی آف کر گئی۔ جیکولین نے انتہائی عجیب سی نظروں سے اسے دیکھا تو وہ پوری طرح سے سر جھکا گئی۔
’’تمہاری شادی کی جو ڈیٹ فیکس ہوئی ہے شادی اسی ڈیٹ پر ہوگی۔‘‘ جیکولین کی آواز اس کی سماعت سے ٹکرائی تو اس نے بے پناہ تحیر کے عالم میں سر اٹھا کر دیکھا اس پل اسے اپنی ماں کے چہرے اور آنکھوں میں ایک فاتحانہ چمک دکھائی دی۔
’’اوہ… تو اس کا مطلب ہے کہ ولیم شادی پر راضی ہوگیا۔‘‘ وہ بے ساختہ دل ہی دل میں بولی تو جیکولین اپنے مخصوص انداز میں دوبارہ گویا ہوئی۔
’’سب کچھ بالکل پہلے جیسا ہے بس فرق یہ ہے کہ دلہا ولیم کی بجائے میک ہے۔‘‘
’’کیا…!‘‘ ماریہ کو اس پل لگا جیسے کمرے کی چھت اس پر آن گری ہو۔
(ان شاء اللہ باقی آئندہ ماہ)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close