Hijaab May-17

ملو گے تم ہم کو مگر نصیبوں سے

فرح طاہر

’’ایمن…‘‘ وہ سر جھکائے آج کے لیکچرز کے اہم پوائنٹس ہائی لائٹ کررہی تھی۔ امی کی مدھم سرگوشی پر اس نے سر اٹھا کر ان کی طرف دیکھا جو ابھی تک دروازے پر کھڑی پوری طرح اس کی طرف متوجہ تھیں۔
’’وہاں کیوں کھڑی ہیں امی آپ‘ اندر آئیں ناں پلیز۔‘‘ اپنے اردگرد پھیلے نوٹس کے انبار کو سمیٹتے ہوئے اس نے انہیں اندر بلا کر اپنے پاس بیٹھنے کی لیے جگہ بنائی۔
’’ہمم… تم بزی تو نہیں تھیں ناں؟‘‘ سنجیدہ لہجے میں انہوں نے پوچھا‘ حالانکہ وہ اندر داخل ہوتے وقت ہی اس کی مصروفیت کو دیکھ چکی تھیں‘ ایمن ان کا سوال سن کر ذرا سا مسکرا کر بولی۔
’’اٹس اوکے امی… آپ کی بات سے زیادہ اہم تو نہیں تھی میری مصروفیت۔‘‘ اس نے پیار سے ان کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر ان کو مان بخشا تو جواباً امی بھی مسکرادیں مگر ان کی مسکراہٹ میں بڑی نمایاں سی جھجک پنہاں تھی اس نے محسوس کیا تو چونک گئی۔
’’آپ بتائیں کوئی کام تھا کیا؟‘‘
وہ ماں ہوکہ اس کے پاس آئی تھیں وہ بھی اس طرح بے بس حالت میں۔ اسے بات کا کچھ کچھ اندازہ ہونے تو لگا تھا مگر پھر بھی اس نے ان کے منہ سے سننا چاہا تھا۔ جب امی نے اپنے ہاتھ کو اس کے ہاتھ سے آزاد کراتے ہوئے کچھ کہنے کی چاہ میں اپنے لبوں کو آپس میں دبا کر بالآخر بات کا آغاز کیا۔
’’دراصل آج عصر کے بعد کچھ لوگ آئیں گے تو… تم ذرا اچھے سے ان کے سامنے آنا۔‘‘ نظر چراتے ہوئے انہوں نے رک رک کر کہتے ہوئے اپنی بات مکمل کی تو ایمن نے گہری سانس لی جیسے کہنا چاہتی ہو بات آخر وہی ہوئی ناں جس کا اندازہ میں پہلے سے لگاچکی تھی اور بات ہوئی بھی بالکل یہی تو تھی کیونکہ یہ کوئی نئی بات تو نہیں تھی۔ ہفتے میں دو تین بار اسی طرح اس کو ان لوگوں کے سامنے پیش کرنے سے پہلے امی اس کے سامنے عرض نشیں انداز میں حاضر ہوجایا کرتی تھیں۔ پہلے تو وہ بھی کچھ خوشی اور زیادہ جوشیلے انداز میں امی کے ہمراہ ’’ان‘‘ لوگوں کے سامنے پیشگی دیا کرتی تھی مگر پھر ہر گزرتی تاریخ کے ساتھ بڑھتی پیشیوں نے اسے بے زار کرنا شروع کیا تو وہ چڑنے لگی مگر امی کی منت سماجت اور پھر دھمکیوں کے نتیجے میں منہ بناتی وہ کسی نہ کسی طرح خود پر جبر کرتے ’’ان‘‘ لوگوں کے سامنے پیش ہوجاتی مگر ہر بار کی طرح ایک ہی نتیجے کی صورت میں پھر یہ ہونے لگا کہ اس کے ساتھ اب امی بھی بے زار کم اور مایوس زیادہ ہونے لگی تھیں مگر امی مایوس ہونے کے باوجود امید کا دامن بڑی مضبوطی سے پکڑے ہوئے تھیں۔ اس لیے ہر بار ان لوگوں کی آمد کے وقت اس کے پاس آکر اسے کسی نہ کسی طرح ان لوگوں کے سامنے جانے کے لیے راضی کر ہی لیا کرتی تھیں مگر پھر ’’ڈھاک کے وہی تین پات‘‘ ہوتے دیکھ کر اب امی اس کے پاس آتیں تو مگر پشیمان پریشان اور بے بسی کی عملی تفسیر بن کر بالکل اسی طرح جس طرح اب… بے بسی سے ہاتھ ملتی‘ لب کاٹتی اس کے سامنے بیٹھی خود اس سے نظر چراتی دکھائی دے رہی تھیں۔ اسے ایک دم اپنی ماں پر ترس آنے لگا۔
’’آپ پریشان مت ہوں امی‘ جب وہ لوگ آئیں گے میں آجائوں گی۔‘‘ اس نے ایسا کہہ کر جیسے امی کی بڑی مشکل آسان کردی تھی جبھی انہوں نے فوراً سر اٹھا کر نم آنکھوں سے اس کی طرف دیکھ کر کہا۔
’’پرامس‘ اچھے موڈ میں سامنے آئوگی؟‘‘ انہوں نے یقین دہانی چاہی تو وہ ان کے انداز پر نہ چاہتے ہوئے بھی مسکرا دی۔
’’جی ماں‘ پرامس…‘‘ اب لوگوں کی بدسلوکیوں کا بدلہ وہ اپنی ماں سے کیا لیتی۔ وہ بس ان کی خوشی چاہتی تھی اور اگر ان کی خوشی اس میں تھی تو وہ دل پر پتھر رکھ کر ان کو یہ خوشی دینے کو تیار تھی۔
اس لیے عصر کے بعد جب ان لوگوں کی آمد ہوئی تو خود کو فریش کرتی امی کے ہمراہ چائے کی ٹرے لیے ڈرائنگ روم میں موجود ان لوگوں کے سامنے پیش ہوگئی۔ سلیقے سے دوپٹے کو اپنے گرد لپیٹے‘ جھکی نظر سے ٹرے کو درمیانی ٹیبل پر رکھ کر وہ سامنے موجود صوفے پر بیٹھ گئی تو بیک وقت کئی نظروں نے اس کے پوسٹ مارٹم کا آغاز کیا تھا‘ وہ ذرا سا جزبز ہوئی مگر خود پر کنٹرول کیے گود میں رکھے اپنے ہاتھوں پر نظر جمائے ہنوز چہکتی رہی تو ان میں قدرے بڑی خاتون جو غالباً والدہ محترمہ تھیں نے تفتیش کا آغاز کرتے ہوئے سوال کیا۔
’’کیا نام ہے بیٹا آپ کا؟‘‘
’’آئے ہائے کیا ابھی تک نام بھی نہیں معلوم؟‘‘ لبوں کو سختی سے آپس میں پیوست کیے اس نے دل میں ذرا تیکھے انداز میں ابھرتے سوال کیا اور مدھم آواز میں اپنا نام ان کے گوش گزار کیا تو فوراً دوسری کی طرف سے سوال بلند ہوا۔
’’کھانا پکانا تو آتا ہے ناں آپ کو؟‘‘
’’ہاں چھوٹی نے اچھا سوال پوچھا ہے‘ دراصل ہمارے بھائی اچھے کھانے کے بہت رسیا ہیں‘ اس لیے ہم چاہتے ہیں ان کی شادی جس لڑکی سے ہو وہ امور خانہ داری میں ہر طرح سے طاق ہو۔‘‘ تیسری نے دوسری کے سوال کی وضاحت کی تو اس نے قدرے سیدھے ہوتے ہوئے نظر اٹھا کر ان کی طرف دیکھا اور خود کو ممکنہ سوالات کی بوچھاڑ کے لیے تیار کرنے لگی مگر اس سے پہلے کہ وہ جواب میں کچھ بولتی‘ امی نے اس کی مشکل آسان کرتے ہوئے خود جواب دیا۔
’’جی جی… میری ایمن کو ہر طرح کا کھانا پکانا آتا ہے بلکہ اس کو تو خود اتنا شوق ہے۔ آئے دن ٹی وی پر کوئی نہ کوئی دیکھ کر اگلے دن خود ٹرائی کرنے کھڑی ہوجاتی ہے۔‘‘ تھوڑے سے جھوٹ‘ سچ کی آمیزش کے ہمراہ امی نے جواب دیا تو خواتین قدرے مطمئن نظر آئیں‘ اب ایک دوسرے کی طرف معنی خیز نظروں سے دیکھ کر گویا کہ نظروں ہی نظروں میں ان کے اشاروں میں چھپی پسندیدگی کو تاڑا تو امی کو ’’ہاں‘‘ کی امید ہوچلی تھی۔ اس لیے اپنی خوشی کو دباتے ہوئے انہوں نے چائے کے کپ ان کی طرف بڑھاتے ہوئے باقاعدہ چائے پینے کا اصرار بھی کیا تو انہوں نے بڑی نزاکت سے امی کی سات پشتوں پر احسان فرماتے ہوئے چائے کے کپ تھام لیے۔
لڑکی وہ دیکھ چکی تھیں‘ ایک سوال کرکے اس کی آواز و انداز بھی ملاحظہ کرہی چکی تھی یعنی کہ اس سارے ڈرامے میں اس کا کردار ختم ہوچکا تھا۔ اس لیے اس نے جونہی جانے کے لیے اٹھنا چاہا تو والدہ حضور نے فوراً تیز لہجے میں بڑی رفتار سے کہا۔
’’ارے… ارے تم کہاں چل دی بیٹا؟ ابھی کچھ دیر اور بیٹھو ہمارے پاس۔‘‘ تڑپتا لپکتا لہجہ ذرا فلمی سا تھا‘ ایمن کو ہنسی تو آئی مگر بردباری کی اوٹ میں اپنی ہنسی چھپاتی وہ ’’آگے آگے دیکھئے اب ہوتا ہے کیا‘‘ دیکھنے کے لیے دوبارہ اپنی نشست پر براجمان ہوگئی۔
’’ویسے آپ کا رنگ نیچرلی گورا ہے یا آپ کوئی کریم لگاتی ہیں؟‘‘ تکلف کی دیوار گراتے ہوئے بہن محترمہ نے تکلف کے لفظ کو منہ چھپانے پر مجبور کیا تھا‘ دوسری جانب ایسا سوال سن کر اس نے دانت کچکچائے تھے۔ ایسے رویے‘ ایسی باتیں سن کر ہی تو وہ اس سارے ڈرامے سے تنگ آنے لگی تھی مگر اپنی امی کا کیا کرتی جو ہر آئے گئے کے سامنے اس کو لے کر حاضر ہوجاتیں۔ یہ سوچے اور پرکھے بناکہ لوگ کس مزاج کے ہیں‘ ان کی برابری کے ہیں۔ کیا ان کی بیٹی کے ساتھ نبھا کرسکیں گے یا ان کی بیٹی ان کے ساتھ نبھا کرسکے گی‘ بنا کوئی جانچ پڑتال کیے بس ’’لڑکے والوں‘‘ کا سن کر جوشیلی ہوتی امید کی ڈور کو دونوں ہاتھوں سے پکڑے اس کو آگے دھکیل دیتی۔
اس کو اب پھر نئے سرے سے غصہ آنے لگا مگر امی نے کہا تھا غصہ نہیں کرنا۔ اس لیے اپنے غصے کو دبا کر اس نے بے بس نظروں سے امی کی طرف دیکھا جو خود اس ٹائپ کے سوال پر کھسیانی محسوس ہورہی تھیں جس کا مطلب یہ تھا کہ اب ایسی صورت حال پر اسے ہی کچھ بولنا تھا‘ اس لیے وہ ماں پر سے نظر ہٹا کر ان کی طرف نظر کرتی آہستہ سے بولی۔
’’میں کوئی کریم استعمال نہیں کرتی۔‘‘
’’اچھا ذرا اپنے بال تو دکھائیں‘ وہ دراصل بھائی نے گھر سے چلتے وقت کہا تھا لڑکی جیسی بھی ہو مگر اس کے بال بہت لمبے اور خوب صورت ہونے چاہیں۔‘‘ دلارے بھائی کی دلاری فرمائش اس کے گوش گزار کی گئی تو ایک بار پھر دانت آپو آپ کچکچاہٹ پر اترنے لگے مگر صبر کے گھونٹ بھر کر اس نے دوپٹے کے اندر سے اپنے کمر تک آتے بالوں کی گندھی چٹیا کو باہر نکال کر ان کے سامنے کیا تو والدہ محترمہ نے ارشاد فرمایا۔
’’اتنے زیادہ لمبے تو نہیں ہیں خیر شادی تک کیئر کرنا کچھ اور لمبے ہوہی جائیں گے۔‘‘ پسندیدگی کی سند کے ساتھ ساتھ شرط بھی لاگو کردی گئی تو وہ تلملائی پھر جھنجھلائی۔ اتنے میں اگلا سوال اس کی سماعتوں سے ٹکرایا۔
’’آپ کی امی بتارہی تھیں آپ پڑھتی ہیں‘ کس کلاس میں پڑھ رہی ہیں؟‘‘ اب کی بار بردبانہ انداز اپنانے کی کوشش کی گئی تھی اس کو ذرا تسلی ہوئی تو نرم سے انداز میں جواباً بولی۔
’’جی‘ میں ایم فل کررہی ہوں۔‘‘
’’اوہ ایم فل… پھر تو تمہاری عمر پچیس سال سے بھی زیادہ ہورہی ہوگی؟‘‘ اس کے جواب نے انہیں تشویش میں مبتلا کرکے اس کی تسلی کو منٹوں میں ہوا کرتے ہوئے اس کی برداشت کی حد کو بھی ختم ہی تو کردیا تھا تو وہ اب بس کرتی ہوئی بالآخر سیدھی ہوتی کھلی کھلی لب کشائی پر اترتی آئی۔
’’کیوں آپ کا بیٹا کیا روٹی کو چوچی اور پانی کو مم مم کہتا ہے؟‘‘ تیکھی نظر سے ان کی طرف دیکھ کر اس نے اگلا سوال کرتے ہوئے کہا۔
’’کتنی عمر کا ہے آپ کا بیٹا؟ میں اس سال پورے چھبیس کی ہوکر ستائیس میں لگ جائوں گی۔‘‘ ٹانگ پر ٹانگ چڑھا کر اب اس کی طرف سے باقاعدہ تفتیش کا آغاز ہوا تو مقابل تینوں خواتین کا منہ پورے کا پورا کھل گیا۔
’’آں… یہ تم کیوں پوچھ رہی ہو؟‘‘ پیشانی پر بل سجائے والدہ محترمہ نے تیکھی نظر سے اس کی طرف دیکھ کر استفسار کیا تو وہ اسی انداز میں اطمینان سے بولی۔
’’میں یہ اس لیے پوچھ رہی ہوں کہ آپ نے اپنے سوال کرکے اپنی تسلی کرلی مجھے پسند کرلیا ناں تو کیا اب میں اپنی تسلی نہ کروں۔‘‘ وہ اچھے سے اندازہ لگاچکی تھی ان لوگوں کے مزاج کا۔ اسے یقین ہوچلا تھا کہ ان لوگوں کے ساتھ اس کا گزارا کسی صورت ممکن نہیں‘ اس لیے پھر خود کو دھوکے میں رکھ کر وہ خود اپنا نقصان کیوں کرتی؟ آخر کو شادی زندگی بھر کا بندھن تھا اور وہ قطعی خود کو ایسے لوگوں کے ساتھ کسی بھی بندھن میں جوڑنا نہیں چاہتی تھی اس لیے حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ابرو اچکا کر ان کی طرف دیکھتے ہوئے پھر سے بولی۔
’’تو اب آپ مجھے بتائیں آپ کے بیٹے کی عمر کیا ہے؟ دراصل میں میاں بیوی میں زیادہ عمر کے فرق کی قائل نہیں ہوں۔ میں ستائیس کی ہوگئی تو لڑکا زیادہ سے زیادہ بتیس یا تینتیس سال سے زیادہ نہ ہو۔ پانچ سال کا فرق کافی ہوگا ناں؟‘‘ اس کی فرفر چلتی زبان دیکھ کر والدہ محترمہ کی سٹی تقریباً گم ہوچکی تھی اس لیے ان کی پھٹی آنکھوں اور کھلے منہ کو نظر انداز کرتے ہوئے اب اس نے اپنا رخ بہن محترمائوں کی طرف کرتے ہوئے ان سے سوال کیا۔
’’آپ کے بھائی کا قد کتنا ہے؟ زیادہ چھوٹا تو نہیں ہے ناں؟ میرا قد پانچ فٹ چھ انچ ہے‘ یہ ناں ہو چھوٹے قد کی بدولت آپ کا بھائی میرے ساتھ چلتا ہوا بونگا لگے۔‘‘ جواب کے انتظار میں ذرا دیر رک کر اس نے جب جواب ندارد پایا تو اگلا سوال داغ دیا۔
’’اور ہاں آپ کے بھائی کے بال تو گھنے ہیں ناں؟ سامنے سے بال گرنے کی وجہ سے گنجے تو نہیں لگتے اور یہ تو ضرور بتائیں کہ وہ سگریٹ تو نہیں پیتے؟ سچ پوچھیں تو مجھے زہر لگتے ہیں سگریٹ پینے اور پان کھانے والے مرد۔‘‘ ریل کی رفتار سے چلتی اس کی زبان اب بنا کسی بریک کے سرپٹ دوڑنا شروع ہوئی تو امی نے دونوں ہاتھوں سے اپنا سر پکڑلیا۔ اچھا بھلا رشتہ ان کے ہاتھوں سے یقینا پھسل ہی چکا تھا کیونکہ تینوں خواتین چائے کے کپوں کو ٹیبل پر پٹختے ہوئے چادر سنبھالتی انکار کا پھول بمعہ کانٹوں سمیت اس کی طرف برساتے ہوئے جانے کو کھڑی ہوچکی تھیں۔
مگر وہ اپنی سابقہ پوزیشن میں اطمینان سے بیٹھی اب ان کے بولنے کی منتظر تھی اور پھر اس کی سماعتوں سے ان کے انگارے چباتے الفاظ ٹکرائے۔
’’کس قدر بدلحاظ‘ بدتمیز‘ بد زبان اور بے شرم لڑکی ہے آپ کی‘ کس طرح منہ پھاڑ کے لڑکے کے متعلق سوال کررہی ہے۔‘‘ سارے ’’بد‘‘ اس کی ذات کے ساتھ جوڑتے ہوئے امی کے سامنے اس کی شان میں قصیدہ خوانی کرنے کے بعد اب وہ اس کی جانب پلٹی۔
’’اور تم… جو اگر اتنا ہی من پسند لڑکے کی خواہش مند ہو تو بی بی جاتی تو ہو اتنے لڑکوں کے بیچ پڑھنے انہی میں سے کسی ایک آدھ کو پسند کرکے ماں کو آگاہ کردینا بیاہ رچادیں گی یہ اپنی بنو کا‘ تمہارے ہی من پسند لڑکے کے ساتھ۔‘‘ انداز و الفاظ بڑے ہی نوکیلے تھے‘ اس کو بہت چبھن محسوس ہوئی مگر ضبط کرتے ہوئے دانت پر دانت جما کر سختی سے منہ بند کیے بیٹھی رہی۔
اسے پہلے بھی بولنے پر مجبور تو انہی نے کیا تھا تب بھی ضبط کرتے کرتے بھی وہ بولنے پر مجبور ہوہی گئی تھی۔ نظر جو آرہا تھا پسندیدگی کے باوجود کہیں کہیں کوئی نقص ضرور اس کی ذات پر نمایاں کردیا جائے گا اور نمایاں کرکے باقاعدہ چسپاں کردیا جانے لگا تو وہ بول پڑی اور اب وہ پھر سے ضبط پر کار بند ہوگئی حالانکہ اس کے پاس ان کے لفظوں کے جواب میں بولنے کو انہی کے لفظوں کے سائز کے الفاظ ابھی بھی موجود تھے مگر اب جب وہ ان کی ذہنیت سے واقف ہوہی چکی تھی تو پھر جواب کی صورت ان کے منہ لگ کر کیا کرتی‘ اس لیے بس چپکی بیٹھی رہ گئی جبکہ دوسری جانب چادر کے پلّو کو دائیں ہاتھ سے بھرپور جھٹکے سے بائیں کندھے پر پھینک کر گھورتی نظروں سے اس کو دیکھ کر آگے کی جانب قدم بڑھاتے ہوئے لڑکے کی اماں نے ارشاد فرمایا۔
’’اللہ کا شکر ہے ہمیں پہلے ہی اس لڑکی کی اصلیت کا پتا لگ گیا ورنہ ہم تو بڑی بُری طرح پھنس جاتے۔‘‘ اس نے پھر سے جواب دیئے بنا ’’اونہہ‘‘ پر اکتفا کرتے ہوئے ناک سکیڑ کر بے نیازی کا مظاہرہ کیا تو والدہ محترمہ دونوں بیٹیوں کے ہمراہ تیزی سے دروازہ پار کر گئی تو وہ ذرا دیر کو اسی پوزیشن میں بیٹھی رہ کر خود کو پُرسکون کرنے کے بعد اپنی جگہ سے اٹھ کر امی کے برابر آن بیٹھی تو وہ شدید ناراضگی کا اظہار کرتیں فوراً اس کے پاس سے اٹھنے لگیں تو اس نے تیزی سے ان کا ہاتھ پکڑ کر ان کو دوبارہ اپنے برابر بٹھاتے ہوئے لجاجت سے کہا۔
’’امی پلیز…‘‘
’’کیا پلیز… کہا تھا ناں اپنی زبان کو بند رکھنا۔‘‘ امی نے افسوس کی حالت میں بری طرح اس کو گھور کر کہا تو وہ فوراً بولی۔
’’میں نے اپنی زبان کو کس حد تک بند رکھا‘ یہ آپ بھی اچھی طرح جانتی ہیں امی ان کے ہر بے تکے سوال کا میں نے جواب دیا تو صرف آپ کی وجہ سے‘ ان کے ان فضول سوالات کی کوئی تک نہیں بنتی تھی میں نے پھر بھی ضبط سے کام لیا مگر ان کے آخری سوال نے میری برداشت کو ختم کیا تو میں بول پڑی بلکہ ایسے سوالات پر میرے بجائے آپ کو ان کو جواب دینا چاہیے تھا مگر آپ… نمی اس کے لہجے میں اترنے لگی تو اس نے ذرا سا رک کر خود کو کنٹرول کیا اور دوبارہ بولی۔
’’آخر سمجھتے کیا ہیں ایسے لوگ خود کو؟ لڑکے والا بن کر یہ نعوذ باللہ اللہ تو نہیں ہوجاتے ناں امی… تو پھر کیوں کرتے ہیں ایسا؟‘‘ وہ اپنے کیے پر ذرا شرمندہ نہ تھی جبکہ امی کا افسوس ہی نہ جارہا تھا۔
’’ان کو تم پسند آگئی تھیں‘ ذرا سا برداشت سے کام لے لیتی تو اب کی بار رشتہ ہو ہی جاتا تمہارا۔‘‘ امی کی آنکھوں میں آنسو ڈیرہ ڈالنے لگے تو وہ ایک دم سنجیدہ ہوگئی۔
’’میں اتنا بوجھ بننے لگی ہوں اب آپ پر امی؟‘‘
’’بات بوجھ کی نہیں ہے۔‘‘ امی نے ایسے انداز میں کہا جیسے اس کی سمجھ پر افسوس کررہی ہوں‘ جسے نظر انداز کرتے ہوئے اس نے کہا۔
’’بوجھ ہی تو ہورہی ہوں میں اب آپ پر جبھی تو کسی بھی صورت کسی کے بھی کندھے پر اتار پھینکنا چاہتی ہیں مجھے۔‘‘ روہانسے لہجے میں بولتی وہ بس رو دینے کو تھی۔
’’غلط بات مت کرو‘ ہر ماں کی طرح میں بس اپنے فرض سے ادائیگی چاہتی ہوں۔‘‘ انہوں نے ٹوک کر کہا تو وہ فوراً بولی۔
’’ہاں تو ہوجائے گی فرض سے ادائیگی بھی مگر اس وقت جب اللہ کا حکم ہوگا۔ جب میرے نصیب کے کھلنے کا وقت ہوگا‘ اس کے حکم اور وقت سے پہلے آپ کسی صورت کچھ بھی نہیں کرسکتیں‘ اس لیے خوامخواہ کی پریشانی کو خود پر طاری کرکے کیوں آئے دن اس طرح کے لوگوں کو گھر میں آنے دیتی ہیں؟ اور اگر آنے کی اجازت دے ہی دیتی ہیں تو کم از کم مجھے سامنے لانے سے پہلے ایک بار خود ان سے تسلی تو کرلیا کریں کہ وہ لوگ ہماری ٹائپ کے ہیں بھی یا نہیں؟ اس کے بعد ہی مجھے بلوایا کیجیے۔‘‘ اس نے اپنی طرف سے تفصیلاً کہہ کر امی کے افسوس کو کم کرنا چاہا تھا مگر امی نے اپنے افسوس میں گھرے شاید پوری توجہ سے اس کی بات سنی نہیں تھی اس لیے اپنے پہلے کے سے انداز میں بولیں۔
’’جو بھی ہے تم ایک لڑکی ہو اور لڑکیاں اپنی شادی بیاہ کے معاملے میں بولتی اچھی نہیں لگتیں‘ تمہیں ان لوگوں سے اس طرح نہیں بولنا چاہیے تھا۔‘‘ قصوروار وہی گردانی جانے لگی تو اس نے سر پکڑلیا پھر ذرا توقف کے بعد بولی۔
’’لڑکی ہونا کوئی گناہ تو نہیں ہے امی… جس کی پاداش میں میں غلط کو غلط بھی نہیں کہہ سکتی؟ اور پھر میں لڑکی ہونے کے ساتھ آپ کی بیٹی بھی تو ہوں تو کیا آپ کو اچھا لگتا ہے جب ہر دوسرے دن اس طرح کے لوگ آکر آپ کے سامنے آپ کی بیٹی کو ذلیل کررہے ہوتے ہیں؟‘‘ اس نے جواب کے انتظار میں ان کی طرف دیکھا مگر ان کے آپس میں جڑے لبوں کو دیکھ کر ان کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے بہت نرمی سے بولی۔
’’آپ اس طرح پریشان ہونا چھوڑ دیں پیاری ماں‘ جب اللہ کا حکم ہوگا تو بنا کسی کے سامنے میری پیشی کے بھی میرا رشتہ ہوجائے گا تب آپ کو پتا بھی نہ لگے گا اور جھٹ پٹ سب کچھ ہو بھی جائے گا‘ یہ بس آپ اس طرح رشتے کی آس میں الٹے سیدھے لوگوں کو بلا کر نہ تو خود پریشان ہوا کریں اور نہ مجھے پریشان کیا کریں پلیز…‘‘ درخواست گزار انداز میں بڑی لجاجت سے کہتے ہوئے اس نے اس امید سے اپنی ماں کی طرف دیکھا شاید اس کے کہے کسی ایک لفظ سے اس کی بات ان کی سمجھ میں آگئی ہو اور واقعی اس بار لفظوں میں خاصا اثر تھا‘ جبھی بات دیر سے ہی صحیح مگر ان کی سمجھ میں آگئی تھی کہ ’’وقت سے پہلے اور نصیب سے زیادہ کسی کو نہ تو کبھی کچھ ملا ہے اور نہ ہی کبھی ملے گا تو پھر وہ جلد بازی میں اتائولی ہوکر خود اپنے ہاتھوں اپنا نقصان کیوں کریں؟‘‘
بات ان کی سمجھ میں آئی تو بے سکون دل میں سکون امڈنے لگا جس کو محسوس کرتے ہوئے انہوں نے اس امید سے اپنے سے ذرا فاصلے پر بیٹھی اپنی نم آنکھوں والی بیٹی کو ہاتھ بڑھا کر اپنی بانہوں میں سمیٹ لیا کہ وہ اب مقررہ وقت پر اپنے نصیب سے اچھا اور بہت اچھا سبھی کچھ پالے گی۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close