Hijaab Mar-17

خوب صورت

عالیہ توصف

’’ماشاللہ آپ کی اسکن کتنی خوب صورت ہے،اتنی ملائم اسکن تو میں نے آج تک کسی کی نہیں دیکھی۔‘‘بیوٹی پارلر والی نے مجھے کرسی پر بیٹھنے کی دعوت دیتے ہوئے میری تعریف کی۔
’’آپ کی اسکن تو اتنی ملائم ہے کہ ہاتھ لگانے سے پگھل جائے،آپ کی سکن کی خوب صورتی ابھی ایسی ہے تو فیشل کرنے کے بعد سوچیں کتنی چمک اٹھے گی۔فیشل کراتی ہیں آپ؟‘‘اس نے میری بھنویں بنانے کے لیے دھاگہ نکالتے ہوئے میرے گال کو چھوتے ہوئے پوچھا۔
’’نہیں‘بہت کم کسی شادی بیاہ پر۔‘‘میں نے اپنی آنکھ بند کر تے اس پر ہاتھ رکھتے ہوئے جواب دیا۔
’’دیکھا مجھے یقین تھا آپ ایسا ہی کوئی جواب دیں گیں۔ تبھی تو اسکن اپنی چمک دمک کھوتی جارہی ہے۔آپ کی جلد کی رنگت اور نکھار اتنا اچھا ہے کہ مستقل فیشل سے آپ دیکھئے گا کتنا فرق پڑے گا۔آپ خود محسوس کریں گی۔آخری بار فیشل کب کروایا تھا؟‘‘اس کے ہاتھ بہت مہارت سے میری بھنوئوں پر چل رہے تھے۔
’’کوئی سال ڈیڈھ سال پہلے کروایا تھا شائد کزن کی شادی تھی۔‘‘میں نے دوسری آنکھ پر ہاتھ رکھتے ہوئے بتایا۔
’’یہیں سے کروایا تھا؟‘‘اس نے اگلا سوال کر دیا۔
’’ارے نہیں یہاں تو ہم ابھی کچھ مہینے ہوئے ہیں شفٹ ہوئے۔‘‘مجھے ایسا لگا جیسے باتوں میں اس نے میری بھنوئوں کو کتر دیا ہو۔
’’اوہ!اچھا اب آپ یہاں سے کروائیں بہت عمدہ نئی فیشل پراڈکٹس منگوائی ہیں ہمارے پارلر نے باہر سے ،جو بھی فیشل کروا کر گیا ہے ،اس نے واضح نتائج دیکھے ہیں۔یقین کریں آپ کی خوب صورت اسکن مزید نکھار دے گی اور آپ کی خوب صورتی میں مزید اضافہ ہوگا۔ اس نے اپنی پیشہ ورانہ مہارت سے میری بھنوئویں مکمل کرنے کے بعد مجھے آئینہ دکھاتے ہوئے کہا۔
’’یہ ہیں ہمارے پارلر کی فیشل ایکسپرٹ‘ جادو ہے ان کے ہاتھ میں‘آپ دیکھیں گی تو دیکھتی رہ جائیں گی۔‘‘ایک لڑکی پاس آکر کھڑی ہوئی تو اس نے تعارف کرایا۔
’’کتنے کا فیشل کرتے ہیں آپ لوگ؟‘‘میں نے اپنی بھئوئوں سے مطمئن ہوکر آئینہ ایک بار پھر دیکھتے ہوئے پوچھا۔
’’مختلف ریٹس ہیں میڈم ہمارے،سب سے سپر ڈیلکس فیشل ہمارا تین ہزار کا ہے ،مگر آپ ہمارے ہاں پہلی بار آئی ہیں تو ہر پہلے آنے والے کو ہم خاص رعایت دیتے ہیں تو بہترین سلیبرٹی اسٹائل ینگر لوکنگ ڈیلکس فیشل ہم آپ کو صرف بارہ سو میں کر دیں گے۔اتنے پیسوں میں آپ کو یہ والا فیشل پورے شہر میں کہیںنہیں ملے گا۔نتائج دیکھ کر آپ حیران رہ جائیں گی ۔یہ ہمارا دعویٰ ہے۔‘‘اس نے پیشہ ورانہ مہارت سے جواب دیا۔
’’اچھا کتنی دیر لگی گی؟‘‘میں نے اپنے ہاتھ پر بندھی گھڑی کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔
’’میڈم ہم آپ کو سپر فاسٹ سروس دیں گے اگر آپ کو جلدی ہے تو،ورنہ آپ کل کی بکنگ کروا سکتی ہیں۔‘‘اس لڑکی کے لہجے میں حد درجہ احترام اور مٹھاس تھی۔مجھے کوئی جلدی تو تھی نہیں،کھانا پکا ہی گھر سے نکلی تھی۔ بچوں کے اسکول سے آنے میں بھی دیر تھی تو سوچا آج خوب آرام کروں گی۔آخر ہم خواتین دن رات کام کرتی ہیں ہمیں بھی تو آرام چاہیے اور بناؤ سنگھار ہمارا حق ہے۔
’’نہیں آپ کر دیں شروع فیشل مجھے کوئی جلدی نہیں۔‘‘میں نے اسی کرسی پر ٹیک لگاتے ہوئے جواب دیا۔
’’میڈم آپ کو ہمارے فیشل روم میں آنا ہوگا ۔آپ پلیز اس کمرے میںتشریف لے آئیں۔‘‘اس لڑکی نے بہت عزت و احترام کے ساتھ مجھے روم میں بلایا۔بہت خوب صورتی سے سجا روم تھا۔نیم دراز فیشل کرسی پر مجھے بٹھایا گیا۔ایسا پروٹوکول مل رہا تھا جیسے کسی شہزادی کو ملتا ہے۔
’’واہ میڈم!آپ کے ہاتھ کتنے خوب صورت ہیں،آپ کی انگلیاں کتنی نازک باریک اور لمبی ہیں لگتا ہے آپ اپنے ہاتھوں کی بہت نگہداشت کرتی ہیں۔‘‘میرے کرسی پر بیٹھتے ہی ایک بیوٹیشن لڑکی نے میرے ہاتھ پکڑ کر کہا۔
’’ارے نہیں کچھ نہیں کرتی ،ٹائم کہاں ملتا ہے۔‘‘میں نے کرسی پر نیم دراز ہوتے ہوئے جواب دیا۔
’’ارے میڈم آپ ابھی کچھ نہیں کرتی تو ہاتھ اتنے خوب صورت دکھ رہے ہیں،ہمارے مینی کیور اور پیڈیکیور کی سروس لیں گیں تو سوچیں مزید کتنے خوب صورت لگے گیں۔ہر ایک دیکھے گا لازمی شرط ہے۔‘‘
’’جی بالکل بلکہ ہمارا دعویٰ ہے،ہماری ہاتھوں اور پیروں کی ریگولر سروس سے ہاتھ پائوں چند مہینوں میں خوب صورت ہوجاتے ہیں،آپ کے تو ویسے بھی اتنے خوب صورت ہیں،اور پھر ہم خواتین چوبیس گھنٹے ہاتھوں سے کام کرتی ہیں،تو ہمارا تو سب سے ذیادہ حق ہونا چاہیے ہاتھوں کی نگہداشت کرنے کا۔‘‘ساتھ کھڑی ایک دوسری لڑکی نے لقمہ دیا۔
’’کتنے کی یہ سروس کرتے ہیں آپ،اور کتنا وقت لگے گا؟‘‘میں نے پوچھا۔
’’میڈم ہماری ماہر ابھی شروع کر دے گی ،ساتھ ساتھ آپ کا فیشل ہوگا ساتھ ساتھ آپ کے ہاتھوں ،پیروں کی سروس بھی ہوجائے گی۔آپ پہلی بار پارلر آئی ہیں تو آپ کے لیے صرف پندرہ سو میں خاص رعایت کے ساتھ کردیں گے۔‘‘اس لڑکی نے کسی دوسری لڑکی کو ہدایت دیتے ہوئے کچھ کہا۔جس نے پھرتی سے عمل کیا اور میرے پیروں کو کسی چیز میں بھگو دیا۔پھر ایک لڑکی میرے پیروں پر مساج کرنے لگی اور ایک میرے چہرے پر ۔مجھے بے حد سکون مل رہا تھا جیسے زمانے بھر کی تھکن دور ہورہی ہو۔
’’میڈم آپ کا ماسک جب لگے گا تب ہم آپ کے خوب صورت ہاتھوں کی سروس کریں گے ابھی،ہم آپ کو مکمل سکون سے فیشل کی سروس دیں گے۔‘‘ایک لڑکی نے میرے قریب ہوکر کہا۔میرے چہرے پر مختلف کریمیں لگی تھیں لہذا صرف گردن ہلا کر اسے ٹھیک ہے کہا۔
’’او خدایا میڈم آپ کے بال تو میں نے دیکھے ہی نہیں آپ کے بال کتنے لمبے اور خوب صورت ہیں۔‘‘اس میں کوئی شک نہیں تھا کہ میرے بال شروع ہی سے لمبے ،گھنے اور خوب صورت تھے۔یہ تعارفی جملہ میں اپنے بالوں کے لیے اکثر ہی سنتی رہتی تھی۔
’’شکریہ۔‘‘لڑکی کے ہاتھ اب میرے چہرے سے رک چکے تھے اس نے کوئی کریم لگا کر مجھے کچھ دیر ٹھہرنے کو کہا۔
’’میڈم آج کل بہت خوب صورت دو رنگ کے بالوں کے اسٹریک چلے ہوئے ہیں،ہمارا پارلر اس سروس کے ساتھ بالوں کی چمک اور سلکی بڑھانے والے ٹریٹمنٹ مفت میں دے رہا ہے آج کل اسپیشل آفر چل رہی ہے۔‘‘فیشل کی ماہر لڑکی نے میرے چہرے پر سے اس کریم کو صاف کرتے ہوئے بتایا۔
’’اچھا،اس سے کیا ہوتا ہے؟‘‘میں نے وقت گزاری کے لیے پوچھا۔
’’میڈم یہ ٹریمنٹ بہت اسپیشل ٹریٹمنٹ ہے،ہماری پارلر کی میڈم نے باہر سے سیکھ کر ہم سب کو سکھایا ہے،ساری پراڈکٹس بھی باہر کی ہیں،صرف ایک بار بالوں کی یہ ٹریٹمنٹ لینے سے آپ کے خوب صورت بالوں میں مزید نکھار اور خوب صورتی شرط ہے،یہ دیکھیں ہمارے پارلر کی یہ بالوں کی سب سے تازہ ٹریٹمنٹس ہیں جو ہمارے پارلر نے کیں،پہلے اور بعد کی تصاویر ۔میںآپ فرق دیکھ سکتی ہیں۔‘‘اس نے ایک بڑا سا پوسٹر نما کارڈ اٹھا کر دکھایا جس میں چند تصاویر تھیں۔واقعی فرق بہت واضح دکھائی دے رہا تھا۔
’’یہ کتنا عرصہ رہے گی؟‘‘میں نے تصاویر دیکھتے ہوئے پوچھا۔
’’میڈم !دیکھیں کوئی بھی چیز لافانی تو نہیں ہوتی نا‘ہر انسان اپنے بالوں،جلد،ناخن،ہاتھ کو خوب صورت رکھنے کے لیے اس کی نگہداشت کرتا رہتا ہے،ہر مہینے آپ فیشل کروائیں تو آپ خود فرق محسوس کریں گی،کہ آپ کی خوب صورت جلد کتنی خوب صورت ہوگئی،اسی طرح بالوں کی یہ ٹریٹمنٹ بھی ہے،ہر ماہ تو ضرورت نہیں پڑے گی آپ کو مگر آپ ہر چھ ماہ بعد یہ ٹریٹمنٹ لیں گی تو آپ دیکھیں گی کہ آپ کے بالوں کی خوب صورتی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔آج کل ویسے بھی تعارفی آفر چل رہی ہے تو خاص رعایت سے ہم یہ ٹریٹمنٹ کر رہے ہیںورنہ تو یہ بہت مہنگی ہوتی ہے۔‘‘
’’جی بالکل کوثر ٹھیک کہہ رہی ہیں،پانچ سے چھ ہزار اس کی فیس ہوتی ہے لیکن آج کل اسپیشل آفر کی وجہ سے یہ خوب صورت سروس صرف دو ہزار میںکر رہے ہیں۔آپ دیکھئے گا کہ اس کے بعد آپ کے بال مزید خوب صورت ہوجائیں گے۔‘‘ساتھ کھڑی دوسری لڑکی نے لقمہ دیا۔
’’کتنا ٹائم لگتا ہے اس میں؟‘‘میں نے اس کی تفصیل سننے کے بعد پوچھا۔
’’میڈم آپ کا جب تک مینی کیور ہوگا تب تک آپ کے بالوں میں خوب صورت نکھار آجائے گا۔میں بلاتی ہوںہماری بالوں کی اس سروس کی ماہر کو تاکہ وہ آپ کے بالوں کو پرکھ کر آپ کو بہتر آگاہی دے سکے۔‘‘فیشل کرتی ہوئی لڑکی نے کہا اور ایک دوسری لڑکی کو بلانے کو کہا،دو سیکنڈ کے اندر وہ بالوں کی ماہر لڑکی میرے سر پر تھی۔میرے چہرے کے مساج کو اس نے چند لمحوں کے لیے روک دیا۔
’’ماشاء اللہ میڈم آپ کے بال تو بہت ذیادہ خوب صورت ہیں،ان کو مزید خوب صورت کرنے کے لیے جیسا کہ مائرہ نے آپ کو بتایا تو آپ اگر وہ ٹریٹمنٹ آج ہی لے لیں گی تو آپ کے بال بے حد خوب صورت ہوجائیں گے،بالوں میں ایک نئی زندگی،تازگی،چمک پیدا ہوجائے گی۔‘‘
’’اچھا اس سے بال گرنے تو نہیں لگیں گے؟‘‘میں نے کچھ تذبذب سے پوچھا۔
’’نہیں میڈم سوال ہی پیدا نہیں ہوتا بلکہ یہ تو آپ جیسے خوب صورت بالوں کی مزید خوب صورتی کو برقرار رکھتا ہے۔آپ مطمئن نہ ہوئیں تو بے شک آپ ادائیگی نہیں کرئیے گا۔‘‘
’’آپ کی ماشاللہ جلد اتنی خوب صورت ہے اور جلد کی رنگت بھی اتنی خوب صورت ہے تو اس سے ملتا ہوا جو آپ کی خوب صورت رنگت سے میچ کرے وہ اسٹریک دیں گے ،یہ آپ چارٹ دیکھ لیں،یہ رنگ دوسرے والے اس رنگ کے ساتھ مل کر آپ میں بہت خوب صورت بدلائو لائے گا۔‘‘
’’جی بالکل یہ آپ دیکھ سکتی ہیں اس تصویر میں یہ آپ کے بالوں پر لگنے کے بعد ایسا دکھے گا۔‘‘ایک دوسری لڑکی نے پہلی لڑکی کی تائید کرتے ہوئے ایک تصویر میرے سامنے کی،کافی اچھی تصویر تھی۔
’’ٹھیک ہے…آ…‘‘
’’چلو ثروت میڈم کے بالوں کی ٹریٹمنٹ تیارکرو جلدی سے۔‘‘فیشل والی لڑکی اب میرا فیشل مکمل کر کے ماسک لگا چکی تھی۔اس نے ماسک لگاتے ہوئے ہدائت کی۔ہدائت پر فوراً ہی عمل ہوا اور اب کوئی لڑکی میرے بالوں کو کچھ کر رہی تھی۔
’’بہت خوب صورت بال ہیں۔‘‘لڑکی نے بالوں کے بل نکالتے ہوئے تعریف کی۔
’’مجھے تو میڈم کے ہاتھوں پر پیار آرہا ہے اتنے خوب صورت ہاتھ کم ہی دیکھے ہیں میں نے۔‘‘میرے ہاتھوں کا مساج کرتی ہوئی لڑکی نے کہا۔
’’میڈم اس کے ساتھ آپ ہلکا سا ٹرم بھی لے لیں،مکمل چینج محسوس کریں گی آپ، ٹرم کی آپ کے خوب صورت بالوں کو بہت ضرورت ہے،دیکھیں نہ کتنے خشک اور بے ترتیب ہوگئے ہیں۔‘‘میرے بالوں کے ساتھ کھیلتی لڑکی نے مزید کہا۔
’’اچھا…لیکن…‘‘
’’میڈم!دو شاخہ ہوچکے ہیں آپ کے بہت سے بال،سال میں دو تین بار ایک خوب صورت ٹرم تو بہت ضروری ہوتا ہے،لگتا ہے آپ نے بہت عرصے سے نہیں کروایا،چلیں میں بلاتی ہوں نزہت کو وہ بہت ہلکا ٹرم دے گی کہ آپ کے بالوں میں ایک اسٹائل سا آجائے گا۔چلو نزہت پہلے ان کا ٹرم کردو پھر بالوں پر ڈائی لگانا۔‘‘میرے کچھ کہنے سے پہلے اس لڑکی نے کہا۔میرے چہرے پر ماسک لگا ہوا تھا اور میرے ہاتھوں پیروں پر مساج ہورہا تھا۔ہاتھوں پیروں کا مساج ایسا سکون دے رہا تھا کہ مزہ آگیا تھا،بلاشبہ لڑکیاں بہت محنت سے کام کر رہی تھیں،ہلکی ہلکی موسیقی چل رہی تھی،مدہم روشنی والے کمرے میں مجھے اپنا آپ کسی شہزادی جیسا لگ رہا تھا۔یہ حقیقت ہے کہ کافی عرصہ بعد میں آج خود کو بہت ریلکس محسوس کر رہی تھی۔کام بس کام اپنا آپ تو ہم عورتیں بھول ہی جاتیں ہیں،بس گھر،بچے،میاں اپنی ذات کی ہم اتنی پرواہ ہی نہیں کرتے،آج کسی نے اپنی پرواہ کرنے کا بھی احساس دلایا تو اچھا لگا۔میرے بال کٹنا شروع ہوچکے تھے۔
’’چھوٹے مت کرئیے گا بال،مجھے اور میرے شوہر کو لمبے بال ہی پسند ہیں۔‘‘میں نے بال کاٹتی لڑکی کو بتایا۔
’’بے فکر رہیں میڈم بالوں کی لمبائی بھی کم نہیں ہوگی اور ایک خوب صورت سا اسٹائل بھی ملے گا آپ کو۔‘‘لڑکی نے کاروباری مہارت سے جواب دیا۔
’’میڈم اب آپ اپنے خوب صورت ہاتھ دیکھ اور محسوس کر سکتی ہیں دیکھیں،کتنے خوب صورت ہوگئے ہیں،ملائم،نرم،چمک دار۔‘‘میں نے اپنی آنکھوں سے کھیرا اتارتے ہوئے اپنے ہاتھوں اور پیروں کودیکھا اس میں کوئی شک نہیں،ہاتھ پائوں میں ایک نمایاں نکھار اور ملائمت آچکی تھی۔تھوڑی دیر بعد میرے چہرے سے فیشل کرنے والی لڑکی نے ماسک اتارا۔
’’دیکھیں میڈم اپنی خوب صورت جلد اور نکھار،آپ کا خوب صورت چہرہ مزید خوب صورت لگ رہا ہے۔‘‘اس نے میری کرسی کو گھما کر آئینے کی طرف میرا رخ کرتے ہوئے کہا۔میں نے اپنی جلد کو چھوا بے حد ملائم اور نرم محسوس ہورہی تھی۔چہرہ دیکھ کر ایسا لگا جیسے پتا نہیں کتنے عرصہ بعد کی کالک ،چکنائی اور زنگ اتر گیا ہو۔نتائج واقعی بہت تسلی بخش تھے۔
’’میڈم آپ کی جلد اتنی ہی خوب صورت اور نکھری نکھری رہے گی آپ ہمارا ماہانہ فیشل کرائیں گی تو،ہم اپنے ریگولر کلائنٹس کو خاص رعائت دیتے ہیں۔‘‘
’’جی بالکل یہ ہمارا سالانہ پاس بھی ہے اگر آپ اس کی ممبر بنناچاہیں تو اس کارڈ سے ہمارے ممبرز کو مزید ڈسکائونٹ ملتے ہیں۔یہ کارڈ بالکل مفت ہے اس کی کوئی فیس نہیں بس آپ کو اپنے نام کا اندراج کرانا ہوگا اور بس۔‘‘ایک دوسری لڑکی نے مزید اضافہ کیا۔’’اچھا دیں دیں کارڈ۔‘‘
’’یہ لیں میڈم آپ کے خوب صورت بالوں کی ٹریٹمنٹ بس مکمل ہونے کو ہے ،بس آدھا گھنٹے بعد آپ کو اچھا سا شیمپو کریں گے ،بلو ڈرائی اور بس آپ کے خوب صورت بال مزید خوب صورت ۔‘‘وہ لڑکی میرا سالانہ کارڈبنا کر لے آئی وہ اپنے پارلر کے بارے میں کچھ بتاتی رہی،کچھ نئی سروسز کے بارے میں،دوسری لڑکی جھٹ پٹ میرے بالوں کا کام ختم کر رہی تھی۔مجھے شیمپو دیا بال خشک کئے ۔
’’یہ دیکھیں میڈم آپ اپنے خوب صورت بال ،کتنی چمک کتنی ملائمت آچکی ہے اور رنگ دیکھیں،کتنا خوب صورت لگ رہا ہے۔‘‘لڑکی نے میری کرسی کو آئینہ کی طرف گھماتے ہوئے کہا۔
’’واہ میڈم آپ کتنی خوب صورت لگ رہی ہیں آپ تو بالکل بدل گئی ہیں۔‘‘میرا فیشل کرنے والی لڑکی کمرے میں داخل ہوئی اور اس نے جی کھول کر تعریف کی۔میں نے آئینہ دیکھا واقعی بہت بدلی ہوئی بہت مختلف اور بہت اچھا لگا مجھے اپنا آپ۔بالوں میں واقعی نمایاں چمک آچکی تھی۔چہرے کی جلد خوب چمک رہی تھی۔ہاتھ اور پائوں ملائم،نرم اور صاف ستھرے چمکتے سے لگ رہے تھے اور سب سے بڑھ کر ہاتھوں پیروں سے لگتا تھا برسوں کی تھکن دور ہوچکی ہے۔میں نے اپنے آپ کو آئینہ میں ایک بار پھر دیکھا۔
’’واہ میڈم آپ کا چہرہ اور بال کتنے خوب صورت ہوگئے ہیں۔پہلے بھی خوب صورت تھے مگر اب تو مزید خوب صورت لگ رہے ہیں۔‘‘میرے ہاتھوں پائوں کا مساج کرنے والی لڑکی نے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے کہا۔میں نے آئینہ میں خود کو دیکھتے ہوئے دل ہی دل میں اس کی بات سے اتفاق کیا۔بہت عرصہ بعد مجھے واقعی اپنا آپ خوب صورت لگا۔
’’میڈم! یہ آپ کا بل‘اصل میں یہ آپ کا پہلا چکر تھا ہمارے پارلر میں تو خصوصی رعایت پر اور کچھ سروسز پر اسپیشل آفر تھی تو آپ کا بل تو بہت کم بنا ہے۔‘‘لڑکی نے بل دیکھنے کے بعد میرے کسی بھی متوقع رد عمل کو دماغ میں رکھتے ہوئے بہت ماہرانہ پیشہ ورانہ تجارتی انداز اپناتے ہوئے بل میرے ہاتھ میں پکڑایا۔
’’بارہ سو فیشل،پندرہ سو مینی کیور،پیڈی کیور،دو ہزار بالوں کی ٹریٹمنٹ،دو سو پچاس ٹرم بلو ڈارئی،پچاس روپے آئی برو۔
ٹوٹل پانچ ہزار روپے‘خصوصی رعایت۔
بچت چھ ہزار روپے۔ اگلے فیشل پر پانچ فیصد رعایت۔‘‘
یہ سب بل پر لکھا تھا جو میں نے پڑھتے ہوئے ساتھ کھڑی بیوٹیشن لڑکیوں کی طرف دیکھا۔ان کے چہروں پر پیشہ ورانہ مسکراہٹ تھی۔میں نے بل کو ایک بار پھر دیکھا سب سے آخر میں پچاس روپے آئی برو لکھے تھے جبکہ میں صرف وہی بنوانے آئی تھی۔میں نے آئینہ میں اپنا بدلا ہوا خوب صورت نکھار دیکھا۔ان کے بنے کائنٹر پر رقم کی ادائیگی کرتے ہوئے میں نے سوچا کہ کتنی خوب صورتی سے ان لوگوں نے مجھے بے وقوف بنایا۔خوب صورت خوب صورت سن سن کر مجھے آج اپنا آپ اتنا خوب صورت نا ہوتے ہوئے بھی بہت خوب صورت لگ رہا تھا۔میں نے دل ہی دل میں مسکراتے ہوئے اپنے پرس میں رقم نکالتے ہوئے ان سب پیشہ ورانہ اپنے اپنے کام میں ماہر بیوٹیشن لڑکیوں کی طرف دیکھا جو بلاشبہ بہت محنتی تھیں ،مگر ساتھ ساتھ اپنے کاروباری انداز کی بھی ماہر جو مجھ جیسی سادہ سی خاتون کو بہت خوب صورتی سے بنا گئیں جو آئی تو صرف پچاس روپے کی بھنویں بنوانے تھی ،مگر ان کو پانچ ہزار کا فائدہ دے کر جا رہی تھی۔
’’واہ میڈم آپ کی جلد کتنی خوب صورت ہے اسے تو ہر ماہ فیشل کی ضرورت ہے مزید خوب صورت نکھار کے لیے۔‘‘
میں نے ان کے پارلر سے نکلتے ہوئے اپنے عقب سے آتی آواز پر پیچھے مڑ کر مسکراتے ہوئے ان کے اگلے شکار کو دیکھا جسے ایک لڑکی وہی کچھ کہہ رہی تھی جو مجھے کہہ کر خوب صورتی سے بے وقوف بنایا گیا تھا۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close