Hijaab Feb-17

کیسی ہار کیسی جیت

اقبال بانو

وہ بک شیلف میں سجی کتابوں کو کتنی ہی دیر تک غور سے دیکھتی رہی مگر شاید اسے اپنی مطلوبہ کتاب نہ مل رہی تھی۔ یاسر نے کائونٹر پر کہنیاں ٹکائے ٹکائے اسے سترہویں مرتبہ دیکھا اور پھر دیکھتا ہی رہا۔ وہ ڈھیلے ڈھالے گلابی لباس میں ملبوس تھی۔ اس کے سیاہ گھنے لانبے چمکیلے بال اس کی پشت پر پڑے تھے۔ وائٹ پرس‘ بغل میں دبا ہوا تھا‘ فلیٹ نازک پٹیوں والی سفید چپل اس کے گلابی پیروں میں نہایت بھلی لگ رہی تھی۔
یاسر کی نظریں اس کے پیروں پر جم گئیں۔ گلابی نیل پالش سے اس کے ناخن رنگے ہوئے تھے اور پیروں کی انگلیوں میں چاندی کے چھلے بہت ہی اچھے لگ رہے تھے۔
’’لڑکیوں کو کیل کانٹے سے لیس ہونے کے تمام گر آتے ہیں۔‘‘ یاسر نے دل ہی دل میں سوچا تب ہی وہ جھک کر شیلف کے نچلے خانے میں کتابیں دیکھنے لگی تو بالوں کا آبشار ایک طرف جھک گیا۔
رسی نما گلابی دوپٹہ نیچے گر پڑا جس کو اس نے جلدی سے کندھے پر ڈال لیا مگر اسے اپنی مطلوبہ کتاب نہ ملی‘ وہ پلٹی اور کائونٹر کی طرف بڑھی۔
یاسر نے فوراً رخ موڑ کر ’’میگ‘‘ کے صفحات پلٹنے شروع کردیئے۔ جیسے اسے دیکھا ہی نہ ہو۔ وہ اس کے بالکل قریب آکر کھڑی ہوگئی اس کے وجود سے اٹھنے والی مہک نے یاسر کو سرشار کردیا۔
یہ کچے بور جیسی کنواری مہک۔
ان چھوئی لڑکی کی اپنی ایک خوشبو ہوتی ہے جو مرد کے دل کے علاوہ اس کے پورے وجود کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے…
اس میں سے بھی کیکر کے شگوفوں جیسی مہک آرہی تھی اور یہ مہک یاسر کے دماغ کو معطر کیے جارہی تھی۔
یاسر نے دیکھا وہ کائونٹر پر پرس رکھ کر کائونٹر بوائے سے کہہ رہی تھی۔
’’آپ کے پاس خدیجہ مستور کا ناول ’آنگن‘ ہوگا؟‘‘
’’جی نہیں۔‘‘ وہ لڑکا بچھا جارہا تھا۔
’’کہاں سے ملے گا؟‘‘ گھنٹیاں سی بچ اٹھیں۔
’’وہ ہے ہی نہیں مارکیٹ میں۔‘‘
’’آپ کہیں سے منگوا کر دے سکتے ہیں؟‘‘ اس نے چہرے پر آئی بالوں کی لٹ کو ہٹاتے ہوئے کہا۔
’’کوشش کروں گا‘ آپ اپنا کوئی فون نمبر یا ایڈریس دے دیجئے اگر مل گیا تو آپ کو اطلاع دے دوں گا۔‘‘ کائونٹر بوائے نے کہا۔
’’نہیں‘ میں پرسوں آکر پتہ کرلوں گی۔‘‘ وہ نہایت لاپروائی سے بولی۔
’’بہتر۔‘‘ اور پھر وہ کھٹ کھٹ کرتی بک شاپ سے نکل گئی۔ یاسر بھی جلدی سے باہر آیا اور اس کے قریب پہنچ کر بولا۔
’’آنگن کی تلاش ہے آپ کو۔‘‘
’’جی…! آپ کے پاس ہے؟‘‘ اس کی آنکھوں میں عمر خیام کی ساری شاعری سمٹ آئی۔
’’ہاں ہے تو مگر…‘‘ یاسر نے نچلے ہونٹوں کا کونا دانتوں تلے دبا لیا۔
’’مگر کیا؟‘‘ وہ حیرت سے بولی۔
’’خدیجہ مستور کا نہیں ہے وہ آنگن…‘‘ یاسر شوخ ہوگیا۔
’’اور کس نے اس نام کا ناول لکھا ہے۔‘‘ اس نے تحیر آمیز لہجے میں پوچھا۔
’’وہ ناول نہیں بلکہ اصلی آنگن ہے… میرا آنگن چاہیے آپ کو؟‘‘ یاسر شرارت سے بولا۔
’’اسٹوپڈ…‘‘ اس کا چہرہ مارے غصے کے سرخ ہوگیا‘ وہ قہر کی بجلیاں گراتی ہوئی پارکنگ لاٹ میں کھڑی سفید گاڑی کی طرف بڑھ گئی۔ باوردی ڈرائیور نے جلدی سے دروازہ کھولا اور وہ ایک انداز تفاخر سے پچھلی سیٹ پر بیٹھ گئی۔ چند لمحے بعد وہ گاڑی نظروں سے دور ہوگئی‘ تب یاسر چونکا اور جلدی سے اپنی بائیک کی طرف بڑھا۔ چند منٹوں میں اس کی بائیک ہوا سے باتیں کررہی تھی اور اس کا ذہن اسی لڑکی کی طرف الجھا ہوا تھا۔
یقینا کسی اونچے گھرانے کی تھی‘ تبھی تو دماغ ہی نہیں ملتے تھے۔ محترمہ ہم بھی کسی سے کم ہیں بھلا‘ یاسر نے خود کلامی کے انداز میں کہا۔ چند منٹوں میں وہ ہاسٹل پہنچ گیا اور پھر یاسر کی آنکھوں کے سامنے اس کا گلابی چہرہ ہلالی ابرو اور یاقوتی لب تھے وہ لڑکی لحظہ بھر میں ہی یاسر کے دل کی دنیا تہہ وبالا کر گئی تھی۔
’’وہ جو بھی ہے اللہ نے اسے میرے لیے ہی زمین پر اتارا ہے۔‘‘ یاسر کے دل سے صدا ابھری تو اس کے لبوں پر بہت خوب صورت سا تبسم مچل گیا۔
؟…{}…؟
کھٹکے کی آواز پر محمود نے پڑھتے پڑھتے کتاب سے نظریں ہٹائیں تو کرسی پر بیٹھتے ہوئے یاسر پر اس کی نظریں جم سی گئیں۔ اس کے لبوں کی مسکراہٹ دیکھ کر وہ شش وپنج میں پڑگیا کیونکہ اسے علم تھا کہ یاسر بلا ضرورت نہیں مسکراتا۔
’’کیا بات ہے یاسر؟‘‘ محمود نے کتاب بند کرکے گود میں رکھ لی۔
’’ہے ایک بات۔‘‘ یاسر نے شوخی سے کہا۔
’’بتائو۔‘‘
’’مجھے ایک لڑکی پسند آگئی ہے۔‘‘
’’رئیلی…‘‘ محمود کو حیرت ہوئی‘ وہ جو کسی کو خاطر میں نہ لاتا تھا آج نہایت سچائی سے یہ اعتراف کررہا تھا کہ اسے ایک لڑکی پسند آگئی ہے۔
’’میں مذاق نہیں کررہا۔‘‘ یاسر نے سگریٹ سلگاتے ہوئے کہا۔
’’کون ہے… کہاں رہتی ہے؟‘‘ محمود نے ایک سانس میں سوال کر ڈالے۔ ’’کوئی پتہ نہیں۔‘‘ محمود نے حیرت سے کہا۔
’’ناں۔‘‘ یاسر نے سر کو نفی میں جنبش دی۔
’’پھر…‘‘ اور یاسر نے اسے بک شاپ میں ملنے والی اس نازک سی لڑکی کے بارے میں سب کچھ بتادیا۔
’’پرسوں وہ پھر آئے گی دکان پر۔‘‘
’’تم جائوگے؟‘‘ محمود نے پوچھا۔
’’آف کورس۔‘‘ وہ مضبوط لہجے میں بولا۔
’’میں بھی چلوں گا۔‘‘ محمود بچوں کی طرح بولا۔
’’نہیں۔‘‘
’’بھئی میں تمہاری پسند پر ڈورے نہیں ڈالوں گا۔‘‘ محمود نے شوخی سے کہا۔
’’مجھ سے زیادہ خوب صورت نہیں ہو تم؟‘‘ یاسر نے فخر سے کہا۔ اسے بہت ناز تھا اپنی خوب صورتی پر‘ اپنے ہینڈسم ہونے پر وہ بہت اتراتا تھا۔
’’منہ دھو رکھو۔‘‘ محمود نے چڑایا تو یاسر نے اٹھ کر اس کے گلے میں بازو حمائل کردیئے۔
’’پرے ہٹو… کوئی لڑکا آگیا تو کیا سمجھے گا؟‘‘ محمود نے اسے دھکیلنا چاہا تو یاسر زور سے ہنسا اور بستر پر دراز ہوگیا۔
محمود اور یاسر روم میٹ ہونے کے ساتھ ساتھ اچھے دوست بھی تھے۔ دونوں میڈیکل کالج میں فائنل ایئر کے طالب علم تھے۔ محمود جہلم سے آیا تھا اور یاسر کا تعلق حسین وادی کشمیر سے تھا۔ محمود اور یاسر کی دوستی مثالی تھی۔ دونوں بھائیوں کی طرح رہتے تھے۔ محمود کا تو شروع سال ہی سے اپنی کلاس فیلو مونا سے زبردست چکر تھا جس کے چکر میں وہ خود بھی گھن چکر ہوکر رہ گیا تھا۔ مونا سے اس نے فلرٹ نہیں کیا تھا بلکہ گزشتہ سال ہی وہ دونوں اٹوٹ بندھن میں بندھ گئے تھے۔ محمود کے والدین لاہور آئے تھے اور مونا کے والدین سے مل کر دونوں کا نکاح کردیا تھا۔ رخصتی محمود کے ہائوس جاب کے بعد ہونی تھی۔
جبکہ یاسر محبت وغیرہ کے معاملے میں کورا ہی تھا۔ اسے کوئی لڑکی پسند ہی نہ آتی تھی‘ جبکہ یاسر کی شاندار پرسنلٹی پر کتنی ہی لڑکیاں مرتی تھیں۔ کتنے ہی دل یاسر کے نام پر دھڑکتے تھے‘ مگر یاسر نے کوئی دھڑکن سننے کی کوشش نہ کی تھی۔ اسے طالب علمی کے دور میں عشق ومحبت فضول چیز لگتی تھی اور نہایت سکون سے ساڑھے چار سال گزر گئے تھے۔
مگر آج اچانک ہی اس نازک سی لڑکی نے یاسر کے دل کی پرسکون ندی میں ہلچل مچا کر رکھ دی تھی۔ کہتے ہیں کہ محبت ایک ایسا جذبہ ہے جو کہ بغیر کسی پلاننگ کے دل میں جنم لے لیتا ہے۔
محبت کو خود رو پودے سے بھی تشبیہہ دی گئی ہے بغیر آبیاری کے دل کی بنجر سر زمین پر اگ آتا ہے اور ایسا ہی یاسر کے ساتھ بھی ہوا تھا۔
؟…{}…؟
یاسر آئینے کے سامنے کھڑا بالوں میں برش کررہا تھا کہ سیل فون کی بپ ہوئی۔
’’ہیلو؟‘‘
’’اوہ… امی آپ بھی نا۔ میں نہیں آسکتا۔‘‘ یاسر تلملا کر بولا۔
’’دیکھو تمہارے ماموں لندن سے آگئے ہیں بمعہ فیملی۔‘‘
’’پھر میں کیا کروں؟‘‘
’’پھر یہ کرو کہ تم گھر آجائو۔‘‘
’’آج کل میری ہائوس جاب ہے اور میں نہیں آسکتا۔‘‘
’’یہ تو تم فضول کی بات کررہے ہو۔‘‘
’’یقین کریں امی…‘‘
’’دفعہ ہوجائو۔‘‘ امی نے غصہ سے فون پٹخا۔
’’اوکے۔‘‘ یاسر ہنسا۔ تبھی محمود گنگناتا ہوا کمرے میں داخل ہوا تھا۔
’’کیوں بھئی یہ بانچھیں کیوں کانوں تک جارہی ہیں۔‘‘
’’بس یونہی۔‘‘
’’کس کا فون تھا؟‘‘
’’امی کا…‘‘ یاسر نے کہا۔
’’کیا کہہ رہی تھیں؟‘‘
’’یہی کہ لندن سے میرے ماموں واپس آگئے ہیں بمعہ میری نام نہاد منگیتر ماریہ سلطان کے جس نے گزشتہ سال ہی سنیئر کیمرج کیا ہے۔‘‘
’’یعنی تمہاری منگیتر بھی ہے؟‘‘ محمود کو اس بات کا آج تک پتہ نہیں تھا۔
’’ہاں… جب میں چار پانچ سال کا تھا تب وہ پیدا ہوئی تھی‘ پھر ماموں اور میری امی نے مل ملا کر ہماری منگنی کردی تھی جبکہ ہم دونوں کو پتہ ہی نہیں تھا‘ میں بھی قسمت پر شاکر ہوگیا… مگر اب…‘‘
’’اب…!‘‘ محمود نے حیرت سے اسے دیکھا۔
’’اب یہ ممکن نہیں‘ میں اسی لڑکی سے شادی کروں گا‘ جسے آج بک شاپ میں دیکھا ہے۔‘‘ وہ بولا۔
’’بائولے ہوئے ہو… نہ جانے کون ہے‘ شادی کرنے چلے ہو۔‘‘ محمود نے ٹوکا۔
’’کچھ بھی کہہ لو۔‘‘
’’اگر نہ ہوسکی اس سے شادی پھر…‘‘ محمود نے خدشہ ظاہر کیا۔
’’پھر… پھر محمود فائق میرا یہ عہد ہے کہ کسی لڑکی سے شادی نہیں کروں گا۔‘‘
’’بڑکیں مت مارو۔‘‘
’’یہ بڑک نہیں‘ عہد ہے میرا خود سے اور اس محبت سے جو ایک دم ہی میرے دل کے دالان میں پائل بجاتی اتری ہے۔‘‘ یاسر کا لہجہ مضبوط تھا۔
’’یاسر اپنے فیصلے میں لچک پیدا کرو‘ میرے دوست‘ انسان کو ہر قسم کے حالات کے لیے تیار رہنا چاہیے۔‘‘ محمود نے سمجھایا۔
’’میری بات پتھر پر لکیر ہوتی ہے۔ وہ نہیں تو پھر کوئی بھی نہیں… پسندیدہ ہستی نہ ملے تو زندگی اجیرن ہوجاتی ہے‘ میں شدت پسند ہوں… تبھی تو محبت نہیں کرتا تھا‘ مگر کم بخت اچانک ہی ہوگئی اور جب چاہا ہے تو پالوں گا‘ اگر شکست کھا گیا تو پھر کسی کو بھی اپنے دل میں داخل نہیں ہونے دوں گا صرف وہی ہوگی ان آنکھوں میں اور…‘‘ یاسر نے سینے پر ہاتھ رکھ کر کہا۔
’’اس دل میں…‘‘
’’تم نے اپنی منگیتر کو دیکھا؟‘‘ محمود نے پوچھا۔
’’نو…‘‘ یاسر نے کہا۔
’’دیکھ لو کیا خبر وہ اس سے بھی حسین ہو۔‘‘
’’کچھ بھی ہو‘ اگر وہ لڑکی نہیں تو کوئی بھی نہیں۔‘‘ وہ اپنے فیصلے سے ہٹنے کو ایک انچ تیار نہ تھا۔
’’تم نے ماریہ کی تصویر تو دیکھی ہوگی؟‘‘
’’اونہوں۔‘‘
’’کیوں…!‘‘ محمود نے حیرت سے اسے دیکھا۔
’’ماریہ کی خواہش تھی کہ ہم دونوں تصویری حد تک بھی ایک دوسرے کو نہ دیکھیں‘ خواہش ہی رہے ایک دوسرے سے ملنے کی اور پتہ ہے وہ ساجدہ آپا کو فون کرتی تھی تو نہایت بے تکلفی سے ان سے میرا ذکر کرتی اور میں بھی جب اس کے بھائی عمران کو فون کرتا تو میں بھی اس کا ذکر ضرور کرتا مگر یقین جانو محمود میرے دل کے سمندر میں کبھی بھی ماریہ کے نام سے ایسی ہلچل نہیں مچی جیسی کہ آج اس لڑکی کو دیکھ کر مچی ہے اور میں نے اسے سترہ مرتبہ دیکھا۔‘‘
’’پھر بھی سوچ لو‘ جذباتی فیصلے ناپائیدار ہوتے ہیں۔‘‘ محمود نے کہا۔
’’مگر میرا فیصلہ جذباتی نہیں… جو فیصلے میں لمحوں میں کرتا ہوں‘ وہی میری زندگی کا سرمایہ ہوتے ہیں اور اللہ کا شکر ہے کہ میں نے کبھی غلط فیصلہ نہیں کیا۔‘‘ یاسر نے اپنے گلے میں پڑی چین کو مسلتے ہوئے کہا۔
اور محمود تو بس اسے دیکھ کر رہ گیا کہ اب اسے سمجھانا فضول ہے‘ اسے علم تھا کہ یاسر جو کہتا ہے کر گزرتا ہے‘ اسے ترس آرہا تھا ان دیکھی ماریہ سلطان پر کہ وہ اتنی دور سے آئی بھی‘ مگر اس کا منگیتر کسی اور کی زلف کا اسیر ہوگیا۔ وہ جو اب تک ان ریشمی جالوں سے بچتا آیا تھا بالکل اچانک ہی بک شاپ میں نظر آنے والی لڑکی کے جال میں پھنس گیا کہ اب باہر نکلنے کا کوئی راستہ بھی نظر نہ آرہا تھا۔
؟…{}…؟
دو دن یاسر نے بڑی مشکل سے گزارے‘ وہ دن جو کہ چٹکی بجاتے گزر جاتا تھا‘ اب لگتا جیسے سورج ایک ہی جگہ پر رک گیا ہو۔ دو دن دو صدیاں بن کر گزرے اور تیسرے دن وہ محمود کے ساتھ بک شاپ پر جا پہچا۔ قسمت اچھی تھی یا پھر اس کے جذبے سچے کہ صرف دس مٹ کے جان لیوا انتظار کے بعد وہ آگئی۔ یاسر نے محمود کو ٹہوکا دیا۔
آج وہ بالکل وائٹ سوٹ میں ملبوس تھی۔ فل سلیوز کا ڈھیلا ڈھالا لباس اس کے بید مجنوں جسم پر نہایت بھلا لگ رہا تھا‘ بال پہلے کی طرح کھلے ہی تھے۔ سفید باریک باریک پٹیوں والی نازک سی ہائی ہیل کی سینڈل اس کے گلابی پیروں میں سجی ہوئی تھی۔ سفید نگینوں سے جڑے کنگن اس کی دونوں کلائیوں میں عجیب بہار دے رہے تھے‘ ناک میں ہیرے کی لونگ لشکارے مار رہی تھی اور اس کا لشکارا یاسر کے دل میں چاندنی کی طرح اتر رہا تھا۔ محمود بھی اسے دیکھ کر ششدر رہ گیا تھا۔ واقعی وہ تھی ہی ایسی چاہے جانے کے لیے اگر اس نے یاسر کے دل کے گوشے مہکا دیئے تھے تو اس کا کوئی قصور نہ تھا تب ہی دونوں نے سنا وہ کائونٹر پر کھڑے لڑکے سے کہہ رہی تھی۔
’’میں آپ سے ناول آنگن کے بارے میں کہہ گئی تھی۔‘‘
’’ہاں جی‘ مل جائے گا مگر شام کو۔‘‘ وہ بولا۔
’’اوہو… جلدی نہیں مل سکتا۔‘‘ وہ بے چین ہوئی۔
’’آپ کل لے لیجیے گا۔‘‘
’’مگر شام کو تو میں اسلام آباد واپس جارہی ہوں۔‘‘
’’مجبوری ہے۔‘‘ لڑکا بولا۔
’’اچھا کل ڈرائیور آئے گا اسے دے دیجیے گا۔‘‘
’’بہتر۔‘‘ پھر وہ کھٹ کھٹ کرتی ہوئی چلی گئی۔ یاسر نے دیکھا اس کا رخ اپنی موٹر کی طرف نہیں تھا اب وہ ریڈی میڈ کپڑوں کی دکان میں گھس گئی تھی۔
’’تم اس پر نظر رکھو‘ میں ذرا اس کے ڈرائیور سے گپ لگا کر آئوں۔‘‘ یاسر نے محمود سے کہا۔
’’کیا مطلب؟‘‘ محمود بولا۔
’’مطلب پھر بتائوں گا بس جیسے ہی یہ آنے لگے سیٹی بجا دینا۔‘‘ یاسر نے جلدی سے کہا اور سفید موٹر کی طرف بڑھ گیا۔ جہاں ڈرائیور موٹر سے ٹیک لگائے کھڑا تھا۔
’’سنیے جناب۔‘‘ یاسر نے آہستگی سے نہایت شائستہ انداز میں کہا۔
’’جی۔‘‘
’’یہ جو آپ کے ساتھ بی بی ہیں‘ کون ہیں؟‘‘
’’کیوں؟‘‘ ڈرائیور غرایا۔
’’وہ جی ان کی تصویر میں نے اپنی بیوی کے پاس دیکھی تھی۔ نام تو بتایا تھا پر یاد نہیں رہا۔‘‘ یاسر نے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے کہا۔ ڈرائیور نے سوچا کہ شادی شدہ آدمی ہے اور کیا خبر کہ واقعی اس کی بیوی کی سہیلی ہو یہ… ایسا نہ ہو ڈانٹ دے بعد میں جلدی سے بولا۔
’’جی سویٹی نام ہے۔‘‘
’’اچھا… اچھا‘ یاد آگیا یہی نام بتایا تھا بیوی نے۔‘‘ یاسر جلدی سے بولا۔
’’اسلام آباد میں رہتی ہیں نا؟‘‘ یاسر نے اس طرح پوچھا جیسے کہ سب کچھ جانتا ہو۔
’’ہاں جی‘ آج واپس جارہی ہیں۔ یہاں اپنی بڑی بہن سے ملنے آئی تھیں۔ انہوں نے نئی کوٹھی بنوائی ہے گارڈن ٹائون میں۔‘‘ ڈرائیور نے بتایا اور یاسر کے ذہن میں تو سویٹی نام امرت گھول رہا تھا۔ پھر اس نے سویٹی کو آتے دیکھا تو جلدی سے کھسک گیا۔
تھوڑی دیر بعد شالا مار باغ کے سبزہ زار پر وہ محمود کو بتارہا تھا کہ اس نے ڈرائیور سے کیا گفتگو کی ہے اور محمود تو اس کی ہمت پر حیران رہ گیا تھا۔ اور دل ہی دل میں عش عش کررہا تھا۔
؟…{}…؟
پھر بہت سارے دن بنا آہٹ کے گزر گئے۔ محمود اور یاسر فائنل ائیر سے فارغ ہوئے تو یاسر بجائے اپنے گھر جانے کے محمود کو ساتھ لے کر اسلام آباد چلا آیا۔ محمود کے بڑے بھائی مقصود فائق جو کہ آرمی میں تھے اور پنڈی میں رہتے تھے۔ انہی کے ہاں دونوں نے ڈیرہ ڈال دیا۔
یاسر نے اسلام آباد کی ہر جگہ پر سویٹی کو کھوجا مگر وہ نجانے کہاں چھپ گئی تھی کہ اس کی ایک جھلک بھی نظر نہ آئی اور آخرکار وہ مایوس ہوکر گھر چلا گیا۔
امی بچھ بچھ گئیں۔ ساجدہ آپا نے حسب معمول ماریہ کی تعریفوں کے پل باندھنے شروع کردیئے۔ امی کی خواہش تھی کہ اب یاسر کی جلد شادی ہوجائے۔ اس سے بڑا بھائی ناصر جو کہ واپڈا میں انجینئر تھا اس کے لیے لڑکی زور وشور سے دیکھی جارہی تھی مگر ابھی تک پسند نہ آئی تھی۔
’’امی ایک مشورہ ہے؟‘‘ یاسر نے کہا۔
’’کیا…؟‘‘ جمیلہ خاتون نے پوچھا۔
’’آپ ماریہ سے ناصر بھائی کی شادی کردیں۔‘‘
’’بائولا ہوا ہے کیا…!‘‘ ساجدہ آپا تنک کر بولیں۔
’’میں بالکل ٹھیک کہہ رہا ہوں۔‘‘
’’وہ تمہاری منگیتر ہے۔‘‘ امی نے یاد دلایا۔
’’کچھ بھی ہو‘ میں ماریہ سے کسی طور بھی شادی نہیں کرسکتا اور اگر آپ نے زبردستی کی تو میں کہیں چلا جائوں گا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے۔‘‘ یاسر کے لہجے میں سختی‘ دھمکی سب کچھ تھا۔ جمیلہ خاتون کا دل دکھ سے بھر گیا۔
’’یاسر تم اچھی طرح سوچ لو۔‘‘ ساجدہ آپا نے کہا۔
’’میں نے بہت سوچا ہے۔‘‘ وہ ہٹ دھرمی سے بولا۔
’’ماریہ نہیں مانے گی۔‘‘
’’یہ آپ لوگو کا معاملہ ہے۔ میں نے جو کہنا تھا کہہ دیا۔‘‘ وہ شانے اچکا کر رہ گیا۔
’’تمہیں پتا نہیں وہ کتنی حساس لڑکی ہے۔‘‘ ساجدہ آپا نے کہا۔
’’ہر کوئی حساس ہوتا ہے۔‘‘
’’اس نے بچپن سے تمہارے خواب دیکھے ہیں۔‘‘
’’میں نے کہا تھا کہ میرے خواب دیکھے؟‘‘ یاسر تنک کر بولا۔
’’مغرب میں رہ کر بھی اس نے مشرقی لڑکیوں والے روایات کو نبھایا‘ اس نے ہمیشہ تمہیں چاہا۔‘‘ ساجدہ آپا اس کی وکالت کررہی تھیں۔
’’میں کچھ نہیں جانتا‘ بس اپنی مرضی سے شادی کروں گا۔‘‘ یاسر کا لہجہ حتمی تھا۔
’’تم ایک بار اسے دیکھ تو لو۔‘‘ ساجدہ آپا نے ہولے سے کہا۔
’’دیکھنے سے کیا میں اسے پسند کرنے لگوں گا‘ ساجدہ آپا یہ بھول ہے آپ کی اور سب کی۔‘‘ یاسر کے لہجے میں غصہ تھا۔
’’تمہاری پسند کون ہے؟‘‘ ساجدہ آپا نے پوچھا۔
’’جب اس کا اتا پتہ معلوم ہوجائے گا‘ بتادوں گا۔‘‘ یاسر نے نہایت بے پروائی سے کہا۔
اور پھر محبت اور سختی سے سب اسے سمجھا سمجھا کر تھک گئے مگر یاسر کا انکار اقرار میں نہ بدلا۔
رزلٹ آچکا تھا اور وہ واپس لاہور آگیا۔ میو ہسپتال میں ہائوس جاب بھی شروع کردی۔ یونہی چھ ماہ بیت گئے‘ یاسر کو سویٹی پھر نظر نہ آئی اور وہ اس کو دیکھنے کے لیے پاگل ہوا جارہا تھا‘ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا کرے‘ اس نے سوچ لیا تھا کہ اب جیسے ہی وہ نظر آئی تین لفظ کہہ دے گا۔
’’آئی لو یو… پھر جو ہوگا دیکھا جائے گا۔ مگر وہ نظر آتی تب نا۔‘‘
انہی دنوں امی نے فون کرکے بتایا کہ ناصربھائی کی شادی ہے وہ بھی ماریہ کے ساتھ تو یاسر نے ایک پرسکون سانس لی۔ ناصر کی شادی ماریہ سے ہورہی تھی۔ مصروفیت اس قدر تھی کہ وہ چاہتے ہوئے بھی نہ جاسکا۔ یا وہ خود ہی جانا نہ چاہتا تھا‘ لوگوں کی باتیں سننے کا اس میں حوصلہ نہ تھا۔
اسے علم تھا کہ شادی والے دن بھی وہی موضوع سخن ہوگا۔ کیونکہ سب رشتہ داروں کو علم تھا کہ ماریہ کی یاسر سے شادی ہوگی اور اب جبکہ وہ ناصر کی بن رہی تھی سب طرح طرح کی باتیں بناتے اور یاسر وہ باتیں نہ سن سکتا تھا۔
ناصر کی شادی کے ایک ہفتہ بعد ہی یاسر کو ساجدہ آپا نے فون کرکے پہلے تو بھائی کی شادی پر نہ آنے پر خوب ڈانٹا اور پھر بتایا کہ ناصر بہت خوش ہے اور ماریہ بھی۔
’’دیکھا میں جانتا تھا وہ خوش رہے گی۔‘‘ وہ ہنسا۔
’’تمہیں نہیں پتہ یاسر جب دل مر جائیں تو اوروں کی خوشی کے لیے خوش رہنا پڑتا ہے۔‘‘ ساجدہ آپا کہہ رہی تھیں۔
’’سب فضول باتیں ہیں۔‘‘ یاسر نے زور دار قہقہہ لگایا پھر بولا۔ ’’اچھا بات تو کرائیں میری بھابی سے۔‘‘
’’وہ اور ناصر سوات گئے ہوئے ہیں۔‘‘
’’یعنی ہنی مون۔‘‘
’’ہاں… لاہور بھی آئیں گے۔‘‘
’’موسٹ ویلکم۔‘‘
’’میں نے ماریہ کو منع کیا تھا کہ لاہور نہ جانا۔ اگر جائے تو تم سے نہ ملے مگر…‘‘
’’مگر کیا…؟‘‘ یاسر کا دل نجانے کیوں دھڑک اٹھا۔
’’کہنے لگی‘ میں دیکھنا چاہتی ہوں کہ وہ کون سا راجہ اندر ہے جس نے مجھے ٹھکرایا۔‘‘
’’دیکھے گی تو غش کھا جائے گی۔‘‘ یاسر شوخی سے بولا۔
’’کہیں تمہارے ساتھ ایسا نہ ہوجائے۔‘‘ ساجدہ آپا بولیں۔
’’جب حشر کا وقت آئے گا تب دیکھا جائے گا۔‘‘ یاسر ہنسا۔
’’تمہاری پسند کی لڑکی جو کوئی بھی ہے بتادو اب۔‘‘ ساجدہ آپا بولیں۔
’’ابھی نہیں۔‘‘
’’کیوں؟‘‘
’’وقت آنے پر ہر کام اچھا لگتا ہے۔‘‘
’’تم ہمیشہ اپنی منواتے ہو۔‘‘
’’اسی میں تو مزہ ہے۔‘‘ وہ لہک کر بولا۔
’’جیسی تمہاری مرضی۔‘‘ ساجدہ آپا ہار سی گئیں۔
’’اور سنو…‘‘ جیسے کہ ساجدہ آپا کو ایک دم ہی کوئی بات یاد آگئی۔
’’کہیے۔‘‘
’’ماریہ سے کوئی غلط بات مت کرنا۔‘‘
’’ارے میں کیوں کرنے لگا۔‘‘
’’بس احتیاط کرنا۔‘‘
’’جو حکم۔‘‘ یاسر نے ہنس کر کہا اور پھر ادھر ادھر کی باتوں کے بعد ساجدہ آپا نے سلسلہ منقطع کردیا۔
اس روز یاسر ہاسپٹل سے آیا تو دینو نے اس کے فون کی اطلاع دی۔ یاسر جلدی سے پہنچا تو لائن پر ناصربھائی تھے۔ یاسر کی آواز سنتے ہی بولے۔
’’بہت برے ہو تم… میری شادی پر نہیں آئے۔‘‘
’’یہ کام فرصت کے ہوتے ہیں‘ مجھ سے پوچھنا تو تھا کہ میرے پاس وقت ہے یا نہیں۔‘‘ یاسر نے شوخی سے کہا۔
’’اچھا ڈاکٹر صاحب اب بتائیے وقت ہے آپ کے پاس۔‘‘
’’نکالنا پڑے گا۔‘‘ یاسر بن کر بولا۔
’’بس پھر آجائو‘ کنجوس کہیں کے‘ میری بیوی کے لیے اچھا سا گفٹ بھی لیتے آنا۔‘‘
’’ضروری ہے‘ گفٹ اچھا سا ہو۔‘‘
’’کیونکہ وہ اچھی بلکہ بہت اچھی ہے… اور تحفہ اس کے شایان شان ہونا چاہیے۔‘‘ ناصر کی آواز میں چھنک تھی وہ بہت خوش تھا۔
’’اپنی چیز ہر ایک کو ہی پیاری لگتی ہے سمجھے آپ… خیر مجھے بتائیے کہاں ٹھہرے ہوئے ہیں آپ بمعہ اپنی پیاری سی بیوی کے۔‘‘
’’فی الحال تو میں ضمیر کے ہاں ہوں۔ شام کو ہم لوگ ماریہ کی بہن فائزہ کے ہاں ٹھہریں گے۔‘‘
’’ٹھیک ہے میں کل آئوں گا۔‘‘ یاسر نے کہا۔
پھر ناصر نے اسے گھر کا ایڈریس بتایا اور یاسر نے آنے کا پکا وعدہ کرلیا حالانکہ وہ بالکل فارغ تھا اس کی شام خالی تھی مگر بھائی پر رعب ڈالا تھا کہ مصروف ہوں۔
سرمئی شام پھیل چکی تھی۔ وہ سوکر اٹھا‘ نہا کر لباس تبدیل کیا اور پھر ناصر کو سرپرائز دینے کے لیے فائزہ سکندر کے ہاں پہنچ گیا۔ بائیک پورج میں کھڑی کرکے وہ ملازم کے ہمراہ ڈرائنگ روم میں آگیا اور چند لمحے بعد ہی کھٹکے کی آواز پر چونکا تو اس کا سر گھوم کر رہ گیا۔ دروازے میں سبز حریری پردوں کے بیچوں بیچ کالی پھول دار ساڑھی میں وہ دشمن جاں کھڑی تھی۔
آج پورے ڈیڑھ برس بعد وہ بالکل اچانک نظر آئی تھی‘ وہ جس کا خیال کسی لمحے بھی یاسر کے ذہن سے محو نہ ہوا تھا۔ وہ شہزادیوں کی سی چال سے آگے بڑھی تو یاسر چونکا۔
’’آپ… آپ سویٹی؟‘‘ یاسر کے لب کپکپائے‘ اس نے صوفے کی پشت کا سہارا لیا۔
’’ماریہ ناصر…‘‘ اس کے پنکھڑی جیسے لب وا ہوئے۔
’’نہیں…‘‘ یاسر کے دل میں تعمیر شدہ تاج محل دھڑام سے گرا۔ دل کی دنیا میں شور مچ گیا۔
’’آپ غالباً یاسر ہیں۔‘‘ وہ مسکرائی۔
’’ہوں…‘‘ اس نے خود پر قابو پایا۔ مگر اسے علم تھا کہ اس نے اگر صوفے کی پشت کا سہارا نہ لیا ہوتا تو یقینا گر جاتا۔
’’آپ کھڑے کیوں ہیں بیٹھئے نا۔‘‘ ماریہ اس کے سامنے ہی صوفے پر بیٹھتے ہوئے بولی۔
یاسر نے کچھ نہ کہا بیٹھ گیا اور ماریہ کو غور سے دیکھنے لگا۔ وہ جو اب اس کی بھابی تھی۔ بہت قریب آکر ایک دم سے ہی دور ہوگئی تھی۔ اس لمحے یاسر کا جی چاہ رہا تھا کہ پھوٹ پھوٹ کر رو دے۔ ساجدہ آپا نے کتنی منتیں کیں کہ صرف ایک بار ماریہ کو دیکھ لو۔
’’کاش میں دیکھ لیتا اسے… تو آج یہ سچویشن نہ ہوتی۔ میں جس کے پیچھے مارا مارا پھرتا رہا وہ تو میری ہی تھی‘ میں نے خود ہی کنارہ کشی کی تھی… اف اللہ…‘‘ یاسر نے اپنا چکراتا ہوا سر دونوں ہاتھوں میں تھام لیا۔
’’کیا سوچ رہے ہیں یاسر؟‘‘ ماریہ کی آواز اسے دکھوں کے گرداب سے چند لمحے کے لیے کھینچ لائی۔
’’آں… کچھ نہیں۔‘‘ یاسر نے مسکرانے کی کوشش کی مگر لب کھلے ہی نہیں۔ بھلا دل میں خون کی ندیاں بہہ رہی ہوں تو لب کیسے کھلے گے۔
’’مجھے علم ہے کہ تم کیا سوچ رہے ہو؟‘‘ وہ ایک دم ہی نہایت بے تکلفی سے بولی۔ یاسر اسے حیرت سے دیکھنے لگا۔
’’حیران مت ہو یاسر۔‘‘ ماریہ بولی۔
یاسر نے دیکھا اس کی آنکھوں کی وہ چمک ختم ہوچکی تھی۔ جس نے اسے زندگی کی راہ بتائی تھی۔ ماریہ نے جب اسے غصے سے ’’اسٹوپڈ‘‘ کہا تھا تو اس کی آنکھوں میں ایسی چمک تھی جس نے یاسر کے دل کے دالان میں قمقمے جلا دیئے تھے۔
ماریہ اب نہایت خاموشی سے ڈرائنگ روم میں ٹہل رہی تھی۔ کمرے میں خاموشی کا راج تھا۔ پھر دونوں کا دم اس خاموشی سے گھٹنے لگا۔ آخر ماریہ نے اس خاموشی کی چادر میں شگاف کیا۔
’’یاسر میں نہایت سچی اور کھری لڑکی ہوں‘ مگر جب سے میری شادی ہوئی ہے میں اپنے خول میں سمٹ گئی ہوں۔ جھوٹ کا ملمع چڑھا لیا ہے۔ کیونکہ میری آئندہ زندگی کا انحصار اسی جھوٹ پر ہوگا… مگر میں تم سے صرف یہ پوچھوں گی کہ مجھے ٹھکرانے کی وجہ کیا تھی؟ میری انا کی شکست ہے یاسر کہ میری طرف کتنے ہاتھ بڑھے مگر میں نے صرف اس لیے وہ ہاتھ جھٹکے کہ مجھے علم تھا کہ میں نے صرف تمہارا ہاتھ تھامنا ہے۔ بن دیکھے ہی میں نے اپنے دل کی دنیا سجالی اور بسالی اور… اور کتنے خوب صورت خواب پلکوں پر سجا کر میں وطن آئی مگر تم نے میری پذیرائی اس طرح کی کہ میرا قصور بتائے بغیر دامن چھڑالیا۔ میں بزدل نہیں ہوں زندگی گزر جائے گی اور شاید بہت اچھی گزرے گی‘ مگر ایک پھانس ہے میرے دل میں‘ میں وہ نکالنا چاہتی ہوں‘ مجھے بتائو کیا وہ مجھ سے زیادہ خوب صورت ہے‘ کیا وہ بہت اچھی ہے‘ بتائو وہ کون ہے‘ مجھے ٹھکرانے کا سبب بتائو۔‘‘ ماریہ نے یاسر کو دونوں بازوئوں سے پکڑ کر جھنجوڑ ڈالا۔ یاسر نے نہایت زخمی نظروں سے اس کامل سی ماریہ کو دیکھا جس کی آنکھوں میں نمی تھی لب کپکپا رہے تھے تب اس نے نہایت سچائی سے کہا۔
’’وہ سبب تم ہو ماریہ… صرف تم…‘‘
’’کیا مطلب؟‘‘ ماریہ یوں پیچھے ہٹی جیسے کہ بچھو نے ڈنک مارا ہو۔
’’ہاں میں نے جب پہلی بار تمہیں بک شاپ پر دیکھا تو میرے دل نے چپکے سے سرگوشی کی کہ تم میری جیون ساتھی بن جائو تو زندگی کتنی خوب صورت ہوجائے گی۔ زندگی تمہاری زلفوں کی چھائوں میں گزر کر شاداب ہوجائے اور میں نے سوچ لیا کہ اس ماریہ سلطان سے کبھی شادی نہ کروں گا جو کہ میرے نام پر لندن میں بیٹھی ہے۔ مجھے نہیں علم تھا کہ وہ تم ہو‘ لوٹ آئی ہو‘ زیادہ تفصیل سے کسی نے نہ بتایا‘ میں تمہیں کھوجنے کے لیے اسلام آباد گیا مگر تمہاری جھلک بھی نہ ملی‘ ہاں سوئیٹی میں نے سوچا تھا تم جب بھی ملیں… تو تم کو آئی لو یو کہوں گا… چاہے تم برا مانو‘ تم مسز ناصر ہو مگر میں تو سویٹی کا دیوانہ ہوں‘ ہاں سویٹی آئی لو یو…‘‘
یاسر نے ماریہ کے گلابی ہاتھ تھام کر آنکھوں سے لگالیے اور پھر کتنے ہی آنسوئوں نے ماریہ کے ہاتھ بھگودیئے۔ دونوں انجانے ہی میں لٹ گئے تھے۔
انسان کو پتہ بھی نہیں چلتا اور وہ لٹ جاتا ہے‘ تقدیر کے سامنے سب بے بس ہوتے ہیں یاسر نے آہستہ سے پوچھا۔
’’ناصر بھائی کہاں ہیں؟‘‘
’’تم نے کہا تھا کہ تم نہیں آئوگے۔ وہ اپنے دوست کے ہاں گئے ہیں‘ فائزہ آپی اور سکندر بھائی لبرٹی گئے ہیں۔‘‘
’’تم اکیلی؟‘‘ یاسر نے کہا۔
’’میں تو ہمیشہ سے اکیلی ہی تھی یاسر‘ اب ناصر ہے اور… اور میں خوش ہوں‘ بہت خوش‘ آج مجھے ایک اور خوشی ملی ہے کہ میں نے کسی اور لڑکی سے شکست نہیں کھائی‘ مجھے میرے ہی دوسرے نام سویٹی نے شکست دی ہے۔‘‘ اس کے لب مسکرائے۔
’’مگر… میں اپنی محبت کی مقدر کی شکست کا کیا کروں؟‘‘ یاسر ٹوٹ گیا۔
’’تم شادی کرلو۔‘‘ ماریہ نے مشورہ دیا۔
’’نہیں۔‘‘ یاسر کے دل میں شگاف پڑگیا۔
’’کیوں؟‘‘
’’اس لیے کہ میرا عہد ہے کہ تم نہیں تو کوئی اور نہیں۔‘‘ یاسر نے آہ بھر کر کہا۔
’’یہ سب جذباتی باتیں ہیں۔‘‘ وہ سر جھٹک کر بولی۔
’’میں جذبات کو گھٹیا ترین ہتھیار سمجھتا ہوں‘ وقت بتائے گا تم کو۔ محبت مار دیتی ہے۔‘‘
’’پلیز یاسر۔‘‘ ماریہ منمنائی۔
’’اب تو ممکن ہی نہیں‘ کیا بتائوں گا ساجدہ آپا کو اپنی پسند کی لڑکی کے بارے میں؟‘‘ یاسر کی آنکھوں میں وحشت بھر گئی‘ ماریہ نے بڑی مشکل سے آنسوئوں کو پلکوں کی باڑ میں روکا۔
پورچ میں گاڑی رکنے کی آواز آئی تو وہ دونوں چونک گئے۔ فائزہ اور سکندر آگئے تھے۔ ناصر بھی آگئے۔ یاسر نے نہ چاہتے ہوئے بھی رات کا کھانا ان کے ساتھ کھایا۔
’’بھئی تم میری بیوی کے لیے کیا تحفہ لائے؟‘‘ ناصر ہنستے ہوئے بولا۔
’’میں بذات خود ہی تحفہ ہوں۔ کیوں بھابی؟‘‘ یاسر نے ماریہ کی طرف جھکتے ہوئے شوخی سے کہا تو ماریہ مسکرا کر رہ گئی۔
’’اس شریر سے جیتنا بہت مشکل ہے ماریہ۔‘‘ ناصر نے یاسر کے سر پر چپت رسید کرتے ہوئے محبت سے کہا۔
پھر ناصر نے بہت روکا اسے کہ ہاسٹل نہ جائے مگر یاسر نہ مانا اور لوٹ آیا۔ محمود اس کے انتظار میں جاگ ہی رہا تھا۔
’’کہاں گئے تھے؟‘‘ محمود نے غصے سے کہا مگر وہ محمود سے لپٹ کر بالکل لڑکیوں کی طرح رو دیا۔
’’کیا ہوا؟‘‘ اسے بزدلوں کی طرح روتے دیکھ کر محمود پریشان ہوگیا اور یاسر کو خود پر ایک دم ہی غصہ آگیا‘ بھلا یہ بھی کوئی رونے کی بات ہے‘ ہر ایک کو تو من پسند شے نہیں مل جاتی‘ میں بھلا کیوں رونے لگا؟ یاسر نے زور سے آنکھیں رگڑ ڈالیں۔
’’کیا ہوا دوست؟‘‘ محمود نے کچھ اتنی محبت سے پوچھا کہ وہ اس کے خلوص کے سامنے ہار گیا۔ وہ سب سے ہر بات چھپا سکتا تھا مگر محمود کو وہ اپنے وجود کا ایک حصہ ہی سمجھتا تھا۔ اس سے کچھ بھی چھپانا ناممکن تھا۔ اسی لیے یاسر نے اسے سب کچھ بتادیا‘ یاسر کے دکھ پر محمود بھی دکھی ہوگیا۔
’’تمہیں میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ ایک بار ماریہ سے مل لو۔‘‘
’’سب نے کہا تھا مجھے‘ امی‘ ابو جی‘ ساجدہ آپا پر ہر ایک کی خواہش تھی کہ میں ماریہ کو ایک بار دیکھ لوں‘ مگر یہ بھی مقدر کی بات تھی محمود… وہ میری قسمت کا ستارہ ہی نہ تھی‘ اس نے تو ناصر بھائی کے آنگن میں چمکنا تھا۔ حالانکہ میں نے آنگن کی آفر بھی کی تھی۔‘‘ یاسر کے دل میں درد کی لہریں اٹھ رہی تھیں‘ پھر محمود اسے کتنی ہی دیر تک سمجھاتا رہا کہ وہ قسمت کے لکھے پر شاکر ہوجائے‘ ضروری نہیں کہ ہر کوئی پسندیدہ چیز اپنا بھی لے۔
’’محرومیوں کے ساتھ بھی تو جینا پڑتا ہے۔‘‘ یاسر کے لب کپکپائے۔ ’’ہاں میں بھی جی لوں گا۔‘‘
یاسر نے گھٹنوں پر سر رکھ لیا اور محمود دکھ سے اسے دیکھتا رہا کہ کبھی کبھی انسان مقدر سے یوں بھی ہار جاتا ہے۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close