Hijaab Feb-17

رخ سخن

سباس گل

اقبال بانوسے ملاقات
سخن میںمحبت کی بات ہوتی ہے
ہر ایک لفظ میں چھپی ایک ذات ہوتی ہے
دلوں کو چھو کر گزرتی ہے گفتگو جن کی
نہال جن کے فسوں سے سماعت ہوتی ہے
وہ لوگ آپ سے ہوتے ہیں روبرو ہر ماہ
ہم آپ آپ سے یہ ملاقات ہوتی ہے
اقبال بانو ایک نام ایک شخصیت‘ ایک پہچان نہ صرف قلم کے حوالے سے بلکہ حرف عمل کے حوالے سے بھی ہم نے اقبال بانو کو بہت معتبر پایا ہے۔ خوش اخلاق سادہ مزاج اور دوستانہ انداز گفتگو کی مالک ہماری پیاری اقبال بانو آپی نے ناول اور افسانے کے بعد ڈرامہ نگاری میں بھی اپنی الگ پہچان رکھی ہے۔ ان دنوں آپ ان کا لکھا ہوا ڈرامہ ’’بے چاری مہر النسا‘‘ جیو چینل سے دیکھ رہے ہوں گے۔
حجاب کے قارئین کے لیے انہوں نے اپنی بے حد مصروفیت کے باوجود وقت نکالا جس پر ہم ان کے بے حد شکر گزار ہیں۔ آیئے اقبال بانو جیسی نرم مزاج اور پرخلوص شخصیت کو آپ بھی ہمارے ساتھ جانئے۔
٭ السلام علیکم اقبال آپی!
ج: وعلیکم السلام گل! جیتی رہو۔
٭ پہلے تو آپ اپنے بارے میں کچھ بتایئے؟ کہاں اور کب پیدا ہوئیںاور ابتدائی تعلیم کہاں سے حاصل کی‘ تعلیم کتنی ہے؟
ج: جی میں گدا‘ گرد و گورستان کے شہر ملتان کے ایک گائوں میں پیدا ہوئی۔ دو سال کی تھی تو بڑی خالہ نے اڈاپٹ کیا‘ ابا میاں (خالوجی) پاکستان ریلوے پولیس میں ملازم تھے۔یوں خالہ مجھے کراچی لے آئیں‘ وہیں اسلامیہ اسکول میں پانچویں کلاس تک پڑھا پھر میٹرک گورنمنٹ ریلوے بائی اسکول کراچی کینٹ سے کیا۔ بی اے کراچی کالج سے ایم اردو‘ ایل ایل بی کراچی یونیورسٹی سے جبکہ ایم اے سرائیکی اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور سے پرائیوٹ کیا‘ ملتان آنے کے بعد۔
٭ اب بورے والہ میں رہائش ہے؟
ج: جی ہاں! ملتان میں میرا میکہ ہے اور شادی کے بعد وہاڑی آگئی‘ میرے میاں زمیندار ہیں۔ یہاں بھی گائوں میں رہتے تھے پھر اپنے بیٹے ٹیپو کی ایجوکیشن کے لیے ایجوکیشن سٹی بورے والہ‘ آنا پڑا جو ہمارے گائوں سے تقریباً ایک گھنٹہ کی ڈرائیور پر ہے۔ البتہ ہر ویک اینڈ گائوں چلے جاتے ہیں۔ ٹیپو میٹرک میں ہے‘ ان شاء اللہ ٹیپو میٹرک کرے تو ملتان یا لاہور چلا جائے گا پھر ہم واپس اپنے گائوں چلے جائیں گے۔
٭ پہلی کہانی یا افسانہ کون سا تھا اور اس کا رسپانس کیا ملا تھا آپ کو؟
ج: پہلی سچی کہانی تھی ’’رم جھم کا سماں ہو جیسے‘‘ ماہنامہ گھرانہ کراچی میں فروری 79ء میں شائع ہوئی تھی۔ جب میں دسویں کلاس میں تھی بس بہت خوشی ہوئی تھی‘ سرہانے تلے ڈائجسٹ رکھا تھا اور رات کو اٹھ اٹھ کر دیکھتی تھی۔ اگلے ماہ رسالے میں جو خطوط شائع ہوئے تو پتا چلا کہ یہ کہانی بہت پسندکی گئی ہے‘ بس اسی حوصلہ افزائی نے قلم ایسا تھمایا کہ کتنی بھی مصروفیت ہو سب چھوڑ کر لکھنا پہلی ترجیح رہا۔ 1993ء تک بہت لکھا‘ مسلسل لکھا اور ہر پرچہ کے لیے لکھا۔
٭ کیا لکھنا آسان ہے؟
ج: نہیں… بہت بہت مشکل ہے اور جب آپ کا نام بن جائے تو پھر اسے قائم رکھنے کے لیے لکھنا تو اور بھی مشکل ہوجاتا ہے۔
٭ اپنے بچپن کے بارے میں بتائیں کیسی تھیں شرارتی یا سنجیدہ؟
ج: بچپن میں کون سنجیدہ ہوتا ہے گل! بہت شرارتی تھی لڑکوں والے کھیل کھیلتی تھی۔ پتنگ اڑانا‘ کنچے کھیلنا‘ لٹو لڑانا وغیرہ وغیرہ ۔ لڑکوں کے ساتھ کھیلتی تھی‘ گڑیا تو پانچویں کلاس میں میرے پاس آئی جو میرے ماموں ناصر نے لاکر دی تھی پھر گڑیا کھیلی اور گڑیا کی شادی بھی کی مگر دوسرے روز ہی اپنی سہیلی ’’کو کو‘‘ سے واپس بھی گڑیا لے لی کہ میری گڑیا زیادہ خوب صورت ہے اور کوکو کا گڈا فضول تھا‘ بد شکل‘ چھوٹے قد کا ایک آنکھ بھی چھوٹی تھی۔ یہ سارے الزام لگا کر ’’کو کو‘‘ کو روتا چھوڑ کر گڑیا لے آئی تھی (کتنا خوب صورت بچپن تھا اور کتنی بد لحاظ تھی نا میں؟ توبہ توبہ…)
٭ کس ٹاپک پر لکھتے ہوئے لگتا ہے کہ آپ نے قلم کا حق ادا کردیا؟
ج: حق… گل کبھی بھی کوئی حق ادا نہیں ہوسکتا‘ جس قدر بھی کوشش کی جائے یوں بھی کوئی مخصوص ٹاپک نہیں ہے جو میں کہہ سکوں کہ حق ادا ہوگیا۔ ابھی بہت لمبا سفر ہے‘ کچھ سال سستانے کو رک گئی‘ بہت دکھ تھا کہ لکھنا چھوٹ گیا اب دوبارہ قلم تھاما ہے شاید کوئی ایسی تحریر لکھ پائوں اورکہوں کہ ’’قلم کا حق ادا کردیا‘‘ کہا نا کہ حق ادا نہیں ہوسکتا چاہے کوئی بھی حق ہو۔
٭ زندگی سے کوئی گلہ؟
ج: نہیں… شکر الحمدللہ بہت اچھی گزری اور گزر رہی ہے۔ بس ایک دکھ ہے کہ اپنے والدین کی خدمت نہیں کرسکی‘ دونوں جلد دنیا سے چلے گئے۔
٭ آپ کی فیملی میں کسی کو لکھنے کا شوق ہے؟
ج: ناں جی ناں‘ صرف میں ہی قلم کی مزدور ہوں البتہ سب پڑھنے کی شوقین ہیں۔
٭ اپنی فیملی کے بارے میں بتایئے کون کون ہے؟
ج: ہماری فیملی چھوٹی سی ہے‘ میرے میاں ملک فیض رسول لنگڑیال جو ریٹائرڈ بینکر ہیں۔ اپنی مرضی سے ریٹائرمنٹ لی‘ آج کل زمینداری کرتے ہیں‘ ایک بیٹا محمد اسماعیل ٹیپو کلاس 10th کا اسٹوڈنٹ ہے۔ یہ ہی میری کل کائنات ہے‘ میرا گھر میری جنت۔
٭ بھائی بہنوں کی تعداد؟
ج: ہم پانچ بہنیں اور چار بھائی ہیں ۔ سب شادی شدہ اور اپنے گھروں کے ہیں ۔ ایک بھائی محمد اعجاز سعودی عرب جدہ میں ہوتا ہے باقی سب ملتان میں ہیں‘ میں بورے والا میں۔
٭ آپ کی اب تک کتنی کتابیں شائع ہوچکی ہیں؟
ج: چار ناول اور سات افسانوی مجموعے اور ایک ناول سرائیکی میں اور میں سرائیکی ادب کی پہلی خاتون ناول نگار ہوں‘ پہلی شاعرہ بھی۔
٭ آپ کی کتابوں کے نام؟
ج: ناول شیشہ گر‘ گونگے دکھ‘ دروازہ کھلا رکھنا‘ تجھے ہر جگہ پکارا۔ سرائیکی ناول ’’سانوں موڑ مہاراں‘‘ یہ ناول بہائو الدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے سرائیکی شعبہ میں سرائیکی ایم اے کی کلاس کے سلیبس میں شامل ہے۔ نظموں کا مجموعہ ’’دل تانگھ تانگھے‘‘ میں سرائیکی کی پہلی صاحب کتاب شاعرہ بھی ہوں۔ ناولٹ کے یہ مجموعے ہیں ’’چاندنی اور آنگن‘ اک بار ملو ہم سے‘ عشق میں روگ ہزار سائیں‘ کوئی سجن موڑے آوے‘ خواہش‘ میرے ساجن‘ میں تیرے ساتھ چلتی رہی۔‘‘ سرائیکی افسانوے مجموعہ ’’کچ دے کھڈاتے‘‘ زیر طبع ہے۔
٭ یاد ہے اب تک کتنے افسانے لکھے؟
ج: یاد تو نہیں لیکن لگ بھگ چھ سو سے اوپر ہی افسانے لکھے ہیں بمعہ ناولٹ۔ اس کے علاوہ سرائیکی کے بھی تیس سے پینتیس افسانے ہیں۔
٭ ہمارے ہاں خواتین رائٹرز کو فیملی سپورٹ کم ملتی ہے‘ شادی کے بعد آپ کے خیال میں ان حالات میں رائٹرز کو کیا کرنا چاہیے کیا لکھنا چھوڑ دینا چاہیے؟
ج: میرے خیال میں تو حالات سے سمجھوتہ بہت ضروری ہے عورت نام ہی ایثار اور کمپرومائز کا ہے۔گھر عورت کی پہلی ترجیح ہونی چاہیے‘ لکھے بغیر عورت رہ لے گی مگر گھر کے بغیر کیسے رہے گی؟ سپورٹ نہ ملے تو لکھنا چھوڑ دے گھر خراب نہ کرے۔
٭ آپ کو فیملی سپورٹ ملی؟
ج: شروع میں جب میں نے بچوں کے لیے لکھنا شروع کیا تو امی (خالہ) بہت خفا ہوئیں مگر ابا میاں (خالو) نے کہا تم لکھو جب میں پانچویں کلاس میں تھی اور ابا میاں میری کہانیاں خود پوسٹ کرکے آتے۔ میرے میاں کی بھی مجھے بہت سپورٹ ہے جن دنوں میں نہیں لکھتی تھی تو کہتے تم لکھا کرو موٹو (یہ محبت سے بولتے ہیں) تمہارا لکھنا مجھے اچھا لگتا ہے۔ اللہ کا شکر ہے مجھے شوہر کی بھی بھرپور سپورٹ ہے۔
٭ اگر آپ سے کہا جائے کہ آپ لکھنا چھوڑ دیں تو…؟
ج: کون کہے گا؟ ارے بھئی میرے میاں چاہتے ہیں میں لکھوں اور کسی کی کیا ماننی ہے۔ پہلے بھی چند سال نہیں لکھا تو اپنی مرضی سے کسی نے مجھے روکا نہیں اورکوئی روکے بھی کیوں؟
٭ کس جگہ کی سیر کرنے کو جی چاہتا ہے؟
ج: مجھے اگر بہت پسند ہے تو کراچی کا کلفٹن‘ ساحل سمندر‘ منوڑہ۔ سمندر میرے لیے بہت اہم ہے‘ سمندر مجھے بہت متاثر کرتا ہے‘ کوئی بھی بیچ ہو۔ جب میں کراچی میں تھی ہر دوسرے ہفتے کلفٹن جانا‘ اونٹ کی سیر کرنی‘ لہروں سے کھیلنا اور ریت پر ہلتی چولوں والی لکڑی کی کرسیوں پر بیٹھ کر فرائی فش کھانا‘ وہ دن لوٹ آئیں تو… میری دوست نگار ہوتی کبھی میمونہ طاہر بھی ہم تینوں ملنگیاں جاتے خوب انجوائے کرتے۔ امت الصبور اور ناظمہ طالب کے ساتھ بھی جاتی تھی۔ امتل تو ساحل پر کھڑی ہوتی میں اور ناظمہ پانی میں دور تک چلے جاتے اور امتل زور زور سے بلاتی ’’آگے مت جائو‘‘ ہا وہ دن…
٭ اقبال بانو مزاجاً کیسی ہے بہت غصہ آتا ہے؟
ج: نہیں اب غصہ نہیں آتا اور مزاجاً کیسی ہوں دوسرے بتاسکتے ہیں۔ شاید نرم مزاج ہوں بقول عامرہ شاہد کے ’’بانو آپ بہت سیدھی خاتون ہیں‘‘ شاید ایسا ہو بھی۔
٭ کوکنگ کا شو ق کس حد تک ہے؟
ج: مجھے کوکنگ کرنا بہت اچھا لگتا ہے‘ شادی سے پہلے میں کچھ بھی نہیں پکاتی تھی حتیٰ کہ چائے بھی نہیں مگر سب کچھ شادی کے بعد سیکھا۔ خودبخود ہی پکانا آگیا‘ میں کچھ اور گھر کے کام کروں یا ناں مگر کوکنگ میں خود کرتی ہوں۔
٭ شادی کے بعد پہلی ڈش کون سی پکائی تھی؟
ج: کھیر پکائی تھی بغیر کسی ہیلپر کے اور چکن جنجر‘ میں نے سیکھنے میں کبھی شرمندگی محسوس نہیں کی جو چیز سمجھ نہ آئے پوچھ لیتی ہوں۔
٭ کبھی باہر کھانے کا موڈ ہو تو کیا کھانا پسند کرتی ہیں؟
ج: مہینے میں دو تین بار ہوٹلنگ کرتے ہیں ہم‘ ٹیپو کی خواہش پر اور مینو بھی ٹیپو کی پسند کا ہی ہوتا ہے جو بھی وہ آرڈر کردے‘ ہماری مرضی پر تو صرف آخر میں چائے یا آئس کریم ہوتی ہے۔
٭ کون سی ڈش بہت اچھی پکالیتی ہیں؟
ج: پائے‘ یخنی پلائو اور سرسوں کا ساگ گوشت‘ میرے شوہر کا خیال ہے کہ یہ چیزیں بہت مزے کی پکاتی ہوں البتہ چکن اور مٹن کی ہر طرح کی ڈشز بھی پکالیتی ہوں۔ چائنیز بھی پکالیتی ہوں‘ فش پلائو میرے میاں کو بہت پسند ہے۔
٭ آپ کی اپنی پسندیدہ ڈش؟
ج: ثابت مسور کی دال اور تڑکے والے چاول مجھے بہت پسند ہیں اور کڑھی بھی۔ یہ میری مرغوب خوراک ہے‘ میرے میاں میری محبت میں کھالیتے ہیں مگر بیٹا ہاتھ بھی نہیں لگاتا۔ اس کے لیے مجھے لازمی کچھ اور تیار کرنا پڑتا ہے۔
٭ آپ کی زندگی کا خوب صورت لمحہ؟
ج: جب میں ماں بنی۔
٭ زندگی کا کُل اثاثہ؟
ج: میری کتابیں او ر میرا بیٹا۔
٭ ایسی بات جس سے چڑ ہو؟
ج: جھوٹ منافقت سے چڑ ہے۔
٭ کوئی ایسی بات جس پر پچھتاوا ہوا ہو؟
ج: ویسے تو زندگی میں جو کچھ بھی کیا کبھی نہیں پچھتائی‘ ہر فیصلے پر کہ وقت نے ثابت کیا وہ فیصلہ درست تھا البتہ جب کوئی وعدہ کروں اور وہ پورا نہ کرسکوں تو دکھ بھی ہوتا ہے اور پچھتاوا بھی۔
٭ موسم‘ رنگ‘ خوشبو‘ تہوار کون سا پسند ہے؟
ج: ساون پسند ہے۔ رنگ پنک ‘ گیلی مٹی کی سوندھی خوشبو اور تہوار دونوں عیدین کے علاوہ شب برأت بھی بہت پسند ہے۔
٭ فیس بک پیجز اور گروپس کے بارے میں کیا خیال ہے؟
ج: سچ بتائوں ہنسئے گا مت‘ مجھے ان کا پتا ہی نہیں مجھے تو تب پتا چلتا ہے جب مجھے گروپ میں شامل کرکے بتایا جاتا ہے کہ ’’بانو آپا ہم نے آپ کو اپنے گروپ میں شامل کرلیا ہے آپ کو کوئی اعتراض تو نہیں‘‘ اور پھر اس کا جواب تو یہی ہے کہ ’’نہیں مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے‘‘ کیا خیال ہے؟
٭ شہرت کیسی لگتی ہے؟
ج: ابھی کہاں مشہور ہیں گل ہم‘ ویسے جب لوگ جانتے ہیں بہت اچھا لگتا ہے۔
٭ آپ بہت سے لوگوں کی پسندیدہ رائٹر ہیں آپ کے پسندیدہ رائٹرز کون سے ہیں؟
ج: میرے پسندیدہ رائٹرز بہت سے ہیں جس کی تحریر بھی پسند آجائے وہی میرے پسندیدہ رائٹرز میں شامل ہوجاتا ہے ابتدا میں ابن صفی کی عمران سیریز سے شروع کی جب میں ساتویں کلاس میں تھی‘ ناصر ماموں یہ کتابیں لائے تھے اور میں بھی ان کے تکیے کے نیچے سے نکال کر پڑھتی تھی۔ میں یہ کہتی ہوں کہ مسلسل پڑھنے کی ’’لت‘‘ ابن صفی صاحب نے لوگوں کو لگائی اور مطالعہ روم کی غذا بن گیا یعنی کچھ پڑھے بغیر نیند ہی نہ آتی تھی‘ آج بھی مجھے ابن صفی کی کوئی کتاب مل جائے تو پڑھے بغیر نہیں رہتی۔ اور پسندیدہ رائٹرز میں منٹو کو بہت پڑھا ’’کرشن چند‘ بلونت سنگھ بیدی‘ ممتاز مفتی بھی میرے پسندیدہ رائٹرز رہے پھر ڈائجسٹوں میں بشریٰ پسندیدہ ٹھہریں‘ رفعت ناہید سجاد کی تحریریں دل میں اتر جاتی ہیں۔نگہت سیما بہت پسند ہیں پھر اپنی ہم عصر میں غزالہ نگار اورکزئی۔ عنزہ سید‘ رفعت سراج‘ شمیمہ نقوی مرحومہ یہ بھی میری پسندیدہ رائٹرز ہیں اور آج کل بھی بہت اچھا ادب لکھا جارہا ہے۔ پسندیدہ رائٹرز کی بہت طویل فہرست ہے‘ پڑھتی میں سب کو ہوں ان دنوں مطالعہ ذرا کم ہے کہ پرچے آئے رکھے رہتے ہیں اور نئے پرچے آنے تک بھی پڑھ نہیں پاتی۔
صائمہ اکرم چوہدری‘ سمیرا شریف طور‘ نازیہ کنول ‘ عشنا کوثر‘ صدف آصف پسند ہیں۔ پھر تمہارا نام بھی لے لوں سباس گل کہ تمہاری تحریریں بھی مجھے پسند ہیں۔ تمہاری شاعری اور انٹرویو بھی اچھے لگتے ہیں۔ نسیم نیازی اور فصیحہ خان بھی اچھا لکھتی ہیں اور ہاں قرۃ العین خرم ہاشمی‘ امت العزیز‘ اقراء صغیر صدیقی‘ نفیسہ سعید‘ عفت سحر اور سحر ساجد‘ راحت جبین‘ فاخرہ گل کی تحریریں بھی میں شوق سے پڑھتی ہوں۔ ہاں کچھ رائٹرز فضول کی طوالت کرکے کہانی کا حشر بگاڑ دیتی ہیں۔ انجم انصار نثر کے ساتھ مزاح بھی بہت زبردست لکھتی ہیں۔ نفیسہ سعید اور آمنہ ریاض‘ تنزیلا ریاض کو بھی ضرور پڑھتی ہوں اور راشد رفعت کی گھریلو اور سادہ سی تحریریں بھی اچھی لگتی ہیں۔ ثمینہ عظمت علی کی کرنٹ ایشو پر لکھی کہانیاں زبردست ہیں‘ کنیز نبوی اور سدرۃ المنتہیٰ ان کی تحریر کا سندھی ٹچ اور ان میں عبد الطیف بھٹائی کا کلام مجھے بہت پسند ہیں۔
٭ شاعری پسند ہے تو شاعر کون سا پسند ہے؟ مزاح بھی پڑھتی ہیں تو کون پسند ہے؟
ج: شاعروں کی بھی لمبی فہرست ہے ‘ غالب اور اقبال بہت پسند ہیں۔ ایم اے میں اقبالیات میرا پسندیدہ مضمون رہا ۔ پروین شاکر کو بہت پڑھا‘ ادا جعفری کمال کی شاعرہ ہیں۔ شمیم شکیل اور نوشی گیلانی بھی زیر مطالعہ رہیں‘ نیلما سرور کی نظمیں کمال ہیں۔ مزاح نگاروں میں تو کرنل محمد خان‘ شفیق الرحمن بہت پسند ہیں۔ اب بھی کبھی بھی بجنگ آمد ضرور پڑھتی ہوں کہ بجنگ آمد میرے بچپن کی دوست ہے۔
٭ سفر نامے بھی پڑھے؟
ج: جی ہاں‘ مجھے سفر نامے صرف مستنصر حسین تارڑ کے پسند ہیں۔
٭ ڈرامہ نگاری کی طرف کیسے آنا ہوا؟
ج: بس آگئی اس طرح یہ دسمبر 2011 کی بات ہے جب عامرہ شاہد ہم ٹی وی پر ہوتی تھیں انہوں نے میرا ناول ’’گونگے دکھ‘‘ پڑھا تو کہیں سے نمبرلے کر مجھے فون کیا (آج تک عامرہ نے مجھے نہیں بتایا کہ میرا فون نمبر کہاں سے لیا کیونکہ میں لکھنا چھوڑ کر ایک گائوں میں بیٹھی تھی) عامرہ نے کہا کہ آپ کا ناول ہے ‘‘گونگے دکھ‘‘ ہم سوپ بنانا چاہتے ہیں‘ آپ رائیلٹی لے لیں اور ہمیں دے دیں یا آپ لکھ سکتی ہیں؟ میں نے کہا میں خود لکھ سکتی ہوں آپ مجھے کوئی اسکرپٹ بھجوادیں میں اسکرپٹ لکھنے کا اسٹائل دیکھ لوں تو لکھ لوں گی تو یوں میں نے لکھنا شروع کیا یعنی مجھے ڈرامے کی طرف عامرہ شاہد لے کر آئیں۔ میرا وہ سوپ ’’مرجائیں بھی تو کیا‘‘ کے نام سے آن ائر ہوا۔ اب تک میں عامرہ شاہد کے ساتھ اٹیچڈ ہوں‘ وہ جہاں بھی ہوتی ہاں کرواتی ہیں یعنی لکھواتی ہیں۔
٭ کیا دور دراز علاقوں میں رہنے والی رائٹرز کو ٹی وی ڈرامے لکھنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟
ج: میرے خیال میں تو نہیں‘ لکھنے والا کہیں بھی بیٹھ کر لکھ سکتا ہے اب میں نے وہاڑی کی ایک چک (گائوں) میںبیٹھ کر ’’مر جائیں بھی تو کیا‘‘ اور ’’جینا دشوار سہی‘‘ لکھا (یہ سیریل تھا پی ٹی ہوم سے ٹیلی کاسٹ ہوا 2015-16 میں۔
٭ پسندیدہ ڈرامہ نگار کون ہے؟
ج: اشفاق احمد‘ بانو قدسیہ‘ منور بھائی‘ اصغر ندیم سید اور امجد اسلام امجد۔ پی ٹی وی کا ہر ڈرامہ رائٹرز پسندیدہ ہے۔انور مقصود بہت اچھے ڈرامہ رائٹر ہیں‘ آج کل میں بورے والا میں ہوں تو اسے اس گائوں سے ذرا ایڈونس سمجھ لیں کہ کراچی‘ لاہور‘ اسلام آباد والی بات تو نہیں۔
٭ ڈائجسٹ اور ٹی وی ڈرامہ لکھنے میں آپ کو کیا واضح فرق لگتاہے؟
ج: بالکل فرق ہے‘ ڈائجسٹ کی کہانی میں آپ کے اپنے جذبات و احساسات بھی شامل ہوتے ہیں۔ منظر نگاری ہوتی ہے جبکہ ڈرامہ میں تو تابڑ توڑ ڈائیلاگ ہوتے ہیں‘ بات سے بات نکلتی ہے۔
٭ ڈرامہ لکھنا آسان ہے کہ افسانہ؟
ج: دونوں ہی مشکل ہیں‘ آپ کے پاس الفاظ کا ذخیرہ بہترین کہانی ہو تو ڈرامہ اور افسانہ لکھنے میں مزا آتا ہے۔ میرے لیے افسانہ لکھتے ہوئے صرف پہلا صفحہ لکھنا دقت طلب ہوتا ہے۔اسٹارٹ پسند نہ آئے توکئی صفحات پھاڑتی ہوں اور جب اسٹارٹ پسند آجائے تو پھر چل سوچل اور ڈرامے میں بھی یہی ہے کہ ہر قسط کا پہلا سین لکھنا دوبھر ہے پھر اللہ کا شکر ہے کہ فریز تک آسانی سے لکھ لیتی ہوں۔
٭ آج کل کن پروجیکٹ پر کام کررہی ہیں‘ ڈرامے کے حوالے سے بتائیں؟
ج: آج کل میرا لکھا ہوا سوپ ’’بے چاری مہر النساء‘‘ جیو سے آن ائر ہے ساتھ ساتھ لکھ بھی رہی ہوں‘ یہ مکمل کررہی ہوں7th Skyپروڈکشن کے ساتھ ایک سیریل کررہی ہوں‘ اس کی تین چار اقساط رہتی ہیں۔ ان شاء اللہ فروری 17ء سے اور سیریل اے پلس کے ساتھ کرنا ہے مزید بھی تین ڈرامے لاک ہیں یعنی 2017ء پورا ہی ڈرامہ لکھنے میں جائے گا‘ ان شاء اللہ (اگر صحت اور زندگی رہی تو)۔ عنیزہ سید بہت اچھی رائٹر ہونے کے ساتھ ساتھ میری بیسٹ فرینڈ بھی ہیں‘ ان کے کہنے پر ایک ناول شروع کیا ہے کہ روز کے پانچ صفحات لکھتی ہوں‘ ابھی تو صرف چند صفحات ہوئے ہیں تو دل چاہتا ہے یہ ناول مکمل کروں۔
٭ موسم کا اثر آپ کے موڈ پر بھی ہوتا ہے؟ بارش‘ ٹھنڈی ہوا‘ سردی؟
ج: میں چاروں موسم انجوائے کرتی ہوں‘ بارش‘ ہاں کبھی موسم سرما کی پہلی بارش ہوتی تھی تو کچھ نہ کچھ ضرور لکھتی تھی اور موڈ ایسا ہوتا تھا کہ افسانہ یاناولٹ ایک نشست میں مکمل کرکے اٹھتی تھی …ہا کیا زمانے تھے‘ سردی اچھی تو لگتی ہے مگر اب یہ ہڈیوں میں گھستی ہے اس لیے ہیٹر استعمال کرنا پڑتا ہے۔
٭ محبت کے بارے میں کیا سوچتی ہیں؟ کیا محبت کے بغیر زندگی میں کوئی خلا یا کمی رہتی ہے؟
ج: محبت بہت خوب صورت پاور فل جذبہ ہے۔ محبت کے بغیر تو زندگی کچھ بھی نہیں‘ ضروری تو نہیں کہ ہم وہ فضول سی محبت کریں جس میں شادی ہوتی ہے یا نہیں ہوتی۔ محبت تو پھولوں سے ‘ تتلیوں سے‘ رنگوں سے‘ بارش سے‘ آسمان پر اڑتے بادلوں اور پرندوں سے‘ بچوں سے بھی ہوتی ہے۔ اپنے وطن سے محبت کی تو کیا ہی بات ہے تو اتنی ساری محبتیں ہیں کرنے کو‘ مجھے تو انہی چیزوں سے محبت کرنے سے فرصت نہ ملی اور وہ ساری محبتیں میں نے اپنے قلم کے ذریعے کورے کاغذ پر بھی بکھیری ہیں۔ باقی سب خواب تھا‘ خیال تھا‘ محبت اب بھی کررہی ہوں‘ اپنے گھر سے‘ اپنے شوہر سے‘ اپنے بیٹے سے اور اپنے ڈھیر سارے ریڈرز سے۔
٭ کوئی ایسی ہستی جس سے آپ اپنے دل کی باتیں کہہ دیتی ہیں؟
ج: دل کی باتیں… رہنے دو گل! کسی سے کہہ کر اپنا مذاق اڑوانے والی بات ہے البتہ کبھی کبھی وہ دل کی باتیں عنیزہ سید سے کہہ دیتی ہوں وہ آرام سے سن لیتی ہے‘ مذاق نہیں اڑاتی۔
٭ خواب دیکھتی ہیں اور کیا آپ کے خواب پورے ہوتے ہیں؟
ج: اب خواب دیکھنے کی عمر کہاں ہے گل! کبھی خواب دیکھتی تھی اللہ کا شکر ہے سب پورے ہوئے۔ اب تو ایک ہی خواب ہے جو کھلی آنکھوں سے دیکھتی ہوں۔ میرا ٹیپو اعلیٰ مقام تک پہنچے اور اس کی ترقی میں دیکھ سکوں۔
٭ کوئی ایسی شرارت جسے یاد کرکے آج بھی ہنسی آتی ہے؟
ج: ایسی کوئی شرارت یاد نہیں آرہی۔
٭ اسکول کے دور میں کیسی طالب علم تھی؟
ج: درمیانی سی ٹاپ ٹین میں آتی تھی کبھی ٹاپ تھری میں نہیں آئی اس کی وجہ یہ ہے کہ پانچویں کلاس سے تو میں لکھنے لگی تھی۔ روزنامہ امن کے بچوں کے صفحہ پر ہر ہفتے میری کہانی لگتی تھی۔ بس اس شوق میں پڑھائی بہت نہیں کرتی تھی کہ لکھنا اچھا لگتا تھا۔ اسکول میں بھی لڑکیاں پہچانتی تھیں مزا آتا تھا‘ شاید اس لیے پڑھائی پر زیادہ توجہ نہ تھی۔
٭ آپ کا پسندیدہ مضمون کون سا تھا؟
ج: اسلامیات اور کیمسٹری‘ میٹرک میں میرے اسلامیات میں 100 میں سے 94 نمبر تھے اور کیمسٹری میں 92 نمبرز‘ اب تک یاد ہے۔
٭ بچپن میں سوچتی تھیں کہ بڑی ہوکر کیا بننا ہے؟
ج: ہاں سوچتی تھی ڈاکٹر بنوں گی مگر جب مینڈک سے ہی خوف آئے تو کیا ڈاکٹر بنتے ایف یس سی کے بعد بی اے کرلیا اور پھر اردو میں جامعہ کراچی سے ماسٹرز کیا۔
٭ زندگی کا کون سا دور اچھا لگتا ہے؟
ج: اسکول کا زمانہ اور پھر کراچی یونیورسٹی میں پڑھائی کا دور بہت مزا آیا‘ اساتذہ بھی بہت اچھی تھے اور دوست بھی۔ میں نے ابو الخیر کشفی سے پڑھا‘ شمیم اختر صاحب‘ حنیف فوق صاحب‘ جمیل اختر خان صاحب‘ یونس حسنی صاحب اور سحر انصاری صاحب جیسے جید اور بڑے اساتذہ سے علم حاصل کیا۔ میری کلاس کی دوستوں میں روبینہ زریں‘ سائرہ وسیم‘ فرحت تنویر بہت اچھی شاعرہ۔ ساحرہ انور‘ فرزانہ فرح اور شہپال تھیں۔ ہمارا گروپ سیون اسٹار کے نام سے مشہور تھا‘ میں یونیورسٹی دور میں بھی مشہور تھی اور ڈیپارٹمنٹ کی لڑکیاں (جو ڈائجسٹ پڑھتی تھیں) مجھے تلاشتی ہوئی آجاتی تھیں۔ وہ میری تحریروں کی تعریف کرتیں اور نہ جانے کیوں مجھے شرم سی آتی‘ آج بھی یہی حال ہے۔
٭ پاکٹ منی کتنی ملتی تھی؟
ج: کوئی مخصوص نہیں تھی پاکٹ منی‘ کبھی ملتی تھی اور کبھی نہیں۔ نہ کبھی ڈیمانڈ کی‘ آج کل کے بچے جس طرح کہتے ہیں رکھواتے پیسے یہاں ہتھیلی پر ‘ ہم شریف بچے تھے شاید یا اچھے بچے تھے جو بھی سمجھ لو۔
٭ گول گپے‘ چورن‘ گجک کیا شوق سے کھایا کرتی تھیں؟
ج: گجک ہمیشہ پسند رہی‘ آج بھی شوق سے کھاتی ہوں۔ بے شک شوگر بھی ہے کوئی پروا نہیں۔کھٹی چیزیں زیادہ پسند نہیں رہیں‘ البتہ امت الصبور (ایڈیٹر خواتین ڈائجسٹ) کے ساتھ جامعہ کلاتھ کے باہر کئی بار دہی بھلے کھائے‘ بہت مزا آتا تھا۔ امتل اور ناظمہ کے ہمراہ برنس روڈ سے حلیم کھاتے تھے‘ کیا دور تھا وہ بھی بھولا بھالا سا۔
٭ وقت سے کیا سیکھا؟
ج: کتابوں میں لکھا ہی نہیں تھا
جو سبق سکھایا زمانے نے
وقت تو بہت بڑا استاد ہے
لوگوں کے رویے سکھائے ہیں وقت نے
٭ گرہستی کو شادی شدہ زندگی کو کامیاب بنانے کا کوئی گر ہے؟
ج: ہاں‘ ایثار اور قربانی کے ساتھ ساتھ خاموشی۔
٭ سیاست سے دلچسپی ہے؟ پسندیدہ لیڈر؟
ج: کسی زمانے میں بہت تھی اب نہیں رہی‘ سب جھوٹے لگتے ہیں۔ پسندیدہ لیڈر ذوالفقار علی بھٹو شہید ہیں۔
٭ آپ کے خیال میں اچھا ادب کیا ہے؟
ج: اچھا ادب وہ ہے جومعاشرے پر مثبت اثرات مرتب کرے۔
٭ ڈائجسٹوں میں چھپنے والی تحریروں کو آپ ادب میں شمار کریں گی؟
ج: بالکل یہی ادب ہے اور میں تو کہوں گی کہ ڈائجسٹوں نے ہی ادب کو زندہ رکھا ہوا ہے‘ چاہے ادب کے ٹھیکے دار مانیں یا نہ مانیں۔
٭ اقبال بانو اپنی شخصیت کو ایک جملہ میں کیسے بیان کریں گی؟
ج: قائد اعظم یونیورسٹی کی پروفیسر ہیں کرن احمد امریکا سے پی ایچ ڈی کررہی ہیں‘ افسانوی ادب پر۔ میرا انٹرویو کرنے وہ میرے گھر پچھلے سال آئی تھیں اور یہی سوال انہوں نے میرے شوہر سے کیا تھا تو ملک صاحب نے انہیں کہا تھا ’’بانو میں صبر بہت ہے‘‘ میں سمجھتی ہوں اس سے بڑھ کر کوئی جملہ نہیں ہوسکتا۔
٭ اللہ سے کیا رشتہ ہے؟
ج: بہت اچھا‘ بہت ہی قریبی ‘ کوئی بھی پریشانی ہو تو مصلے پر بیٹھ کر اپنے اللہ سے باتیں کرنا بہت اچھا لگتا ہے۔ مجھے یقین ہوتا ہے کہ میرا اللہ میرے بہت قریب ہے اور سب سن رہا ہے‘ کبھی کبھی تو لیٹے لیٹے بھی اللہ سے باتیں کرتی ہوں۔
٭ دعائیں قبول ہوتی ہیں؟
ج: جی ہاں اللہ کا شکر ہے ہر دعا قبول ہوتی ہے‘ چاہے دیر سے سہی مگر اللہ نے قبول کی ہے۔
٭ پاکستان کے لیے کیا جذبات و احساسات ہیں آپ کے؟حالات کو دیکھ کر کیا سوچتی ہیں؟
ج: پاکستان ہمیشہ تاقیامت رہے گا‘ اللہ کا خاص کرم ہے ہم پر ہمارے ملک پر، نہیں تو ہمارے حکمراں جو ہمارے وطن کے ساتھ کررہے ہیں۔ یہ ڈول جاتا مگر اللہ کا احسان ہے یہ محفوظ ہے اور ہمیشہ قائم و دائم رہے گا‘ ان شاء اللہ۔
٭ حجاب کے قارئین کے لیے کوئی پیغام؟
ج: حجاب ابھی کم عمر ہے مگر اس نے اپنا آپ منوایا ہے۔ حجاب کو ہم بڑے اور پرانے پرچوں کے برابر رکھ سکتے ہیں‘ اللہ سے دعا ہے کہ آنچل اور نئے افق کے ساتھ ساتھ حجاب بھی دن دگنی ترقی کرے اور کامیاب ٹھہرے‘ آمین اور اس کی ترقی قارئین کی ترقی ہے اور اسے کامیاب اس کے رائٹرز اور قارئین ہی کریں گے ان شاء اللہ۔
٭ بہت شکریہ اقبال بانو آپ کا کہ آپ نے اپنی مصروفیت میں سے وقت دیا۔
ج: گل! آپ کا بھی شکریہ کہ آپ نے مجھے آواز دی اور ہم نے بہت اچھی باتیں کیں‘ اللہ حافظ۔
یہ تو تھی اقبال بانو سے ملاقات بہنو! بتایئے گا کیسی لگی۔ بھئی ہمیں تو بہت ہی مزا آیا پھرملیں گے ایک نئی مہمان کے ساتھ ‘ اللہ حافظ۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close