Aanchal Oct-16

عید قرباں(سروے)

سعید نثار

ایمن اظہر… بورے والا
1) عید قرباں ہمیں ایک عظیم کی یاد دلاتی ہے‘ اس لیے یہ ہر لحاظ سے اہم اور خاص ہوتی ہے۔ خاص بات تو قربانی کے جانور لانا اور ان کی دیکھ بھال کرنا ہے‘ ان کی ہر ضرورت کا خیال رکھنا چاہیے‘ وقت پر کھانا اور پانی دینا چاہیے۔
2) قربانی کا جانور تو ہفتہ یا چار پانچ دن پہلے ہی آتا ہے۔ اگر بکرا وغیرہ ہو تو ہمیشہ پہلے دن ہوتی ہے اور دوسرے دن بیل یا بچھڑے کی قربانی ہوتی ہے۔
3) خاص ڈش تو ماما ہی پکاتی ہیں‘ بیف یا مٹن پلائو اور مٹن کڑاہی اور پہلے دن کلیجی تو ضروری ہے۔ ہم تو عید پر آرام کرتے ہیں یا اپنے دوستوں اور گھر والوں کے لیے مختلف ڈشز پکاتے ہیں (گوشت کے علاوہ) بریڈ چکن رولز‘ چنا چاٹ وغیرہ۔
4) عید کا گوشت ہمیشہ پاپا جی بناتے اور بانٹتے ہیں۔ ہمیں تو بس ایک مخصوص حصہ پکانے کے لیے مل جاتا ہے کہ لو بھئی یہ پکالو۔ ہم لوگ پاپا جی کے آرڈر کے مطابق ایک ہفتے کے اندر اندر سارا گوشت ختم کردیتے ہیں‘ فریز نہیں کرتے۔
5) اللہ کا شکر ہے ہمارے ساتھ ایسا کبھی نہیں ہوا البتہ ایک بار کسی اور کا بیل بھاگ کر ہمارے گھر گھس گیا تھا پھر کیا تھا جی ہم سب بھاگ دوڑ کر کمروں میں چھپ گئے پھر اس کا مالک آکر لے گیا تو باہر آئے ہم۔ آخری بات عید الاضحی پر غریبوں کو خراب گوشت مت دیں‘ اچھا اور صاف گوشت دیں اور صفائی کا خاص خیال رکھیں‘ اللہ حافظ۔
عائشہ اے بی… جھڈو
1) میں عید قرباں کی تیاریوں میں کوئی بھی خاص تیاری اور اہتمام نہیں کرتی۔
2) قربانی کا جانور ابو جان اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر ایک یا دو ہفتے پہلے لے آتے ہیں اور چونکہ ابو جان کے دوست بھی ساتھ ہی قربانی کرتے ہیں تو ہم لوگ قربانی عید کے پہلے دن ہی کرتے ہیں۔
3) ہاں جی ایسی ڈش صرف کلیجی ہی ہے جو ہر عید پر ابو جان مجھے ہی تیار کرنے کو کہتے ہیں گزشتہ تین یا چار سال سے معمول ہے کہ ابو کہتے ہیں جائو بیٹا کلیجی پکائو کیونکہ کلیجی کی فرمائش ابو جان ہی کرتے ہیں تو داد بھی انہی سے وصول کرتی ہوں ورنہ مجھے کوکنگ نہیں آتی ہے (ہی ہی ہی)۔
4) مجھے اگر کسی عید پر زیادہ مذاق سوجھ رہا ہو تو گوشت ابو جان کو کہتی ہوں پکا کردیں اور ہاں مرد حضرات چاچو جی‘ تایا جی‘ ابو جان سب ہی گوشت کے برابر حصے کرتے ہیں اور انہیں کاٹ کر بھی امی جان کو دیتے ہیں بس ان سے زیادہ وہ کچھ نہیں کرتے۔
5) نہیں کیونکہ ہم کبھی مویشی منڈی نہیں گئے مگر بقرا عید کے دن جب خبریں آرہی ہوتی ہیں اور جب فنی ویڈیوز میں جانور دکھائے جاتے ہیں کہ کیسے بھاگ جاتے ہیں تب میں دیکھ کر بہت محظوظ ہوتی ہوں اور ہنس ہنس کر برا حال ہوجاتا ہے۔
عائشہ اختر بٹ… سرگودھا
1) عید قرباں کی تیاریوں میں خاص اور اہم بات‘ ہاں یاد آیار خسانہ (سسٹر)گھر کا کونہ کونہ جب تک صاف ستھرا نہ کرلے اسے چین نہیں پڑتا۔ وہ ہر عید پر کمروں کی سیٹنگ تبدیل کرتی ہے اور مجھے اور کائنات (چھوٹی بہن) کو تو سچ مچ کمرے سے اٹھا کر باہر پھینک دیتی ہے جس پر ہم دونوں خوب احتجاج بھی کرتی ہیں چونکہ مجھے تو ڈسٹ الرجی ہے تو میں تومنہ سر لپیٹ کر سیکنڈ پورشن پر اپنا بوریا بستر لے جاتی ہوں لیکن کائنات کی خوب درگت بنتی ہے بیڈ ادھر کروائو‘ الماری یہاں رکھوائو‘ یہ کرو‘ وہ کرو وغیرہ وغیرہ اور ہاں قربانی کے لیے ٹوکے چھریاں‘ چٹائی وغیرہ اور شاپرز ریڈی کرکے رکھتے ہیں تاکہ بھیا عین وقت پر ڈانٹ نہ پلادیں۔
2) قربانی کا جانور لانا بھیا لوگوں کی ذمہ داری ہوتی ہے تو وہ کبھی جلدی کبھی ایک دو دن پہلے بھی لے آتے ہیں مگر ہمیں اس کی تصویر ضرور لاکر دیتے ہیں (جانور گائوں بابا کے گھر رکھا جاتا ہے‘ آئی مین کسی نزدیکی باڑے وغیرہ میں) اور ہمارے ہاں قربانی عید کے پہلے روز ہی کی جاتی ہے۔
3) ایسی کوئی انوکھی اور منفرد ڈش تو نہیں ہے بتانے کے لیے مگر میں ہمیشہ کلیجی آنے کا اور پھر پکنے کا انتظار کرتی ہوں جو مجھے بے حد پسند ہے اور قربانی چونکہ ہمارے آبائی گھر کی جاتی ہے لہٰذا یہاں (شہر) گوشت دو تین بجے تک پہنچتا ہے اس لیے لنچ کی ساری ڈشز ہم لوگ جلدی جلدی چکن سے پکااتے ہیں پھر سارا دن فارغ‘ نان ہوٹل سے منگوالیے جاتے ہیں۔
4) بالکل کرتے ہیں بلکہ ہمارے گھر میں تو سارا گوشت میرے بھائی خود ہی تقسیم کرتے ہیں‘ حصے وغیرہ بناکر ہاں گائوں میں بابا اپنے ہاتھوں سے کرتے ہیں اپنے حصے کا۔ بابا ‘ دادو (مرحومہ) دادا‘ چھوٹی امی اور اپنے حصے کی قربانی کا اور بھائی اپنی‘ یاسر بھائی اور مما کی قربانی کا بانٹتے ہیں (جب دونوں فیملیز اکٹھی تھیں تو بابا ہی کرتے تھے لیکن اب علیحدہ علیحدہ۔
5) مجھے یاد نہیں ہیں چونکہ جانور آبائی گھر ہی لایا جاتا ہے اور وہیں ذبح بھی کیا جاتا ہے لہٰذا اس دفعہ ’’واقعہ‘‘ کے لیے معذرت‘ سب کو بہت خلوص سے عید مبارک‘ رنجش مٹائو‘ اچھے سے عید منائو‘ اللہ حافظ۔
ندا علی عباس… سوہاوہ گجر خان
1) کچھ خاص تیاریاں تو نہیں ہوتیں‘ ہاں ایک چیز جو میں جوش و خروش کے ساتھ کرتی ہوں‘ غریبوں میں گوشت بانٹنا۔ وہ تمام ہمسائے لوگ (جو حق دار بھی ہیں اس چیز کے) ان تمام لوگوں کے گھر میں اور میرا بھائی (جڑواں) اوزین دونوں جاتے ہیں۔ خاص کر ہمارے گھر سے آدھا گھنٹہ دور ڈرائیو کرکے ہم دونوں جاتے ہیں۔ جھونپڑیوں میں بہت سے لوگ وہاں رہتے ہیں ان کا حصہ تو ہر بات نکلتا ہے‘ ہمیں خوشی بھی ہوتی ہے اور کچھ وقت ان کے ساتھ بتاکر اچھا لگتا ہے۔
2) پہلے تو جانور دس پندرہ دن پہلے آجاتا تھا اس حوالے سے میں ایک واقعہ شیئر کرنا چاہوں گی‘ ایک دفعہ شاہ زین بھیا اور بابا جان بکرے لے کر آئے‘ دس دن تو بکرے ٹھیک ٹھاک رہے مگر آخری دن (عید سے ایک دن پہلے) ایک بکرے کو ٹھنڈ لگ گئی‘ جو چیز کھائے قے کردے‘ کھائے پئے بھی کچھ نہ۔ ایسے پڑا رہے جیسے خدانخواستہ مرگیا ہو‘ تب میں پندرہ سال کی تھی رو روکے میرا بُراحال (بھئی اتنے دنوں میں اس سے انسیت جو محسوس ہونے لگی تھی) پھر عید کے پہلے دن اسی کو پہلے قربان کیا تھا اس دن کے بعد اب بھیا دو دن پہلے لے کر آتے ہیں ہم ہر سال دو بکرے ذبح کرتے ہیں تو ایک پہلے دن اور دوسرا تیسرا دن کیونکہ عید کے دوسرے دن تایا ابا قربانی دیتے ہیں۔
3) چونکہ کچن میں میرا جانا بہت کم ہوتا ہے۔ اس لیے عید کے دن خاص کر اوزین اور اس کے فرینڈز کے لیے بریانی پکاتی ہوں (جو وہ میرے ہاتھ کی شوق سے کھاتا ہے) اور شاہ زین بھیا کے لیے چکن کڑاہی۔ بس بھائیوں کی فرمائشیں کبھی رد نہیں کرسکتی‘ اس لیے عید کے عید ہی کچن کو اپنا دیدار کروانا فرض سمجھتی ہوں۔
4) عید کے دن گوشت کی تقسیم سب کے ساتھ مل کر کرتی ہوں اور جہاں تک بات ہے دوسرے کاموں کی تو ویسے تو مما ہر روز کرتی ہی رہتی ہیں‘ میں تو کم کم ہی ہاتھ بٹاتی ہوں۔ ہاں عید والے دن میں اوزین‘ شاہ زیب بھیا‘ جازب (بھتیجا جو ابھی پانچ سال کا ہے) ہم سب کچن میں دھاوا بول دیتے ہیں‘ کرنز بھی آجاتے ہیں‘ مما کو باہر نکال دیا جاتا ہے پھر ہم سب لڑکے لڑکیاں مل کر سارا کام سنبھالتے ہیں۔ کھانا پکانا سے لے کر صفائی ستھرائی تک کا‘ عید کا ہی دن نہیں کوئی بھی خاص دن ہو ماشاء اللہ سے ہمارے گھر کے سارے مرد ہمارے ساتھ ساتھ کھڑے رہتے ہیں۔
5) ہاں ایک بار تایا ابا کے گھر ایسا ہوا تھا پچھلے سال تایا ابا نے گائے کی قربانی دی تھی تو عید کے پہلے دن ہم سارے ان کے گھر اکٹھے تھے تو عید کے دن سارے کزنز اور بڑے بزرگ (مرد حضرات کی بات کررہی ہوں) عید کی نماز کے لیے گئے تو جو کزنز لڑکے تھے وہ سارے جلد نماز پڑھ کر لوٹ آئے۔لڑکے آٹھ بجے کی مسجد میں گئے جبکہ بزرگ پارٹی ساڑھے آٹھ بجے نماز کے لیے نکلے‘ اب ہوا کچھ یوں قصائی کے آنے کا ٹائم تھا دس بجے‘ ادھر لڑکے نماز پڑھ کر لوٹے اُدھر قصائی صاحب آپہنچے اب لڑکے سارے بوکھلا گئے کبھی بڑوںکے نہ ہوتے ہوئے قربانی کی نہیں تھی اب بڑے تو مسجد میں تھے‘ مرتے کیا نہ کرتے‘ جوش و خروش سے اٹھ گئے کہ چلو اس بار بڑوں کے آنے سے پہلے قربانی کرواکے داد وصول کرنی ہے۔ ماشاء اللہ سے آٹھ لڑکے تھے بیس سے تیئس سال کی عمر کے تھے‘ سارے جوش سے گائے کو نیچے گرایا۔ قصائی صاحب بھی گائے پر جھک گئے‘ ہوا کچھ یوں گائے صاحبہ پہلے تو چپ چاپ تماشہ دیکھتی رہیں‘ جیسے ہی گردن پر چھری پھیری آدھی کٹی گردن کے ساتھ اپنا آپ چھڑوا کے اٹھ بھاگی۔ قصائی صاحب شور مچاتے ہوئے گائے کے پیچھے بھاگے‘ لڑکے تو ہک دک کھڑے قصائی کو گائے کے پیچھے بھاگتے دیکھتے رہے اور ہم لڑکیاں ٹیرس پر کھڑی لڑکوں کو قصائی کا ساتھ دینے کو چلارہی تھیں۔ ایک دوسرے کو آگے کرتے رہے۔ میں اور عائشہ (کزن) نے لڑکوں کو بزدلوں والے دوچار طعنے مارے تو پارٹی جوش میں آگئی جوش میں گائے کو پکڑنے دوڑے‘ تھوڑی دیر کو منظر کچھ یوں تھا کہ لڑکے آگے بھاگ رہے اور گائے ان کے پیچھے اور قصائی صاحب سر پکڑ کر سڑک پر بیٹھے نظر آئے۔ قصہ مختصر شاہ زیب بھیا ‘ ازہان اور روحان بھیا کو اطلاع دی گئی وہ آئے تب تک گائے بے دم ہوکر بیٹھ چکی تھی۔ پانی وغیرہ پلاکر اسے قربان کیا گیا ۔ یہ واقعہ گو کہ اتنا پرانا نہیں ہے مگر جب بھی یاد کرو مسکرانے پر مجبور کردیتا ہے۔
فیاض اسحاق مہیانہ… سلانوالی
1) ہمارے ہاں عید قرباں کی خاص اور اہم بات یہ ہے کہ چھوٹی عید کی نسبت اس عید کی تیاری انتہائی زور و جوش سے کی جاتی ہے اور قربانی کی خاص تیاری گھر کو اور جانور کے رکھنے کی جگہ کو صاف کرکے کی جاتی ہے۔
2) قربانی کا جانور عموماً سال پہلے ہی لے لیا جاتا ہے اور گھر میں چاند رات کو لایا جاتا ہے اور قربانی ہمیشہ پہلے ہی دن کی جاتی ہے‘ ہمارے ہاں پہلا دن ہی قربانی کے لیے مخصوص ہوتا ہے۔
3) قربانی کے گوشت سے ویسے تو بہت سی ڈشیں تیار کی جاتی ہیں لیکن نمکین گوشت پکاکے خوب داد وصول کی جاتی ہے۔
4) عید پر چاہے گوشت کی تقسیم ہو یا گھریلو امور ہمارے مرد حضرات ہمارے ساتھ بالکل بھی تعاون نہیں کرتے‘ عید کے دن سارا کام ہم خواتین کو ہی مینج کرنا پڑتے ہیں۔
5) ہم نے اپنے مویشی کو کبھی بھی بھاگنے کا چانس ہی نہیں دیا‘ اس کو اتنا پیار دیتے ہیں کہ جانور خود ہی کہتا ہے کہ بھاگنے سے بہتر ہے آپ ہمیں ابھی ذبح کردو‘ یہ ہے ہماری جانور کے ساتھ لو اسٹوری۔
ثناء اعجاز حسین قریشی… ساہیوال
1) ہمارے ہاں عید قربان کی تیاریاں اتنی خاص نہیں ہوتیں‘ چاند نظر آنے کے بعد گھر کی صفائی ستھرائی شروع ہوجاتی ہے۔ تھوڑی سی شاپنگ بھی کرلیتے ہیں‘ ہاں اس دفعہ میں کچھ زیادہ ہی خوش ہوں کیونکہ عید کے چوتھے دن 17 ستمبر کو میری برتھ ڈے ہے اور کچھ دن بعد میری باربی ڈول طتمیئن زہرہ کی بھی دوسری سالگرہ ہے تو پھر ہم نے بہت زبردست سا پلان بنایا ہے۔ عید کے پہلے تین دنوں میں دونوں بڑی بہنیں اپنے گھروں میں مصروف ہوتی ہیں۔ ہاں اب دوسرے سال سے باجی شہلا عید یہاں آکر کرتی ہیں تو بہت مزہ آتا ہے۔ عید کے دوسرے دن وہ اور بھائی منیر ہمارے گھر آجاتے ہیں تو پھر ایسا لگتا ہے کہ اب اصل عید ہے کیونکہ پھر دوسری بہنیں بھی آجاتی ہیں اور عید کی اصلی خوشیاں بہن بھائیوں سے مل کر ہی ملتی ہیں نا۔
2) ہمارا پیشہ ہی کھیتی باڑی ہے اور جانور پالنا۔ قربانی کا جانور تقریباً ایک ماہ پہلے ہمارے ہاں آجاتا ہے اور پھر اس کی خوب تواضع کی جاتی ہے اور اس کو بادشاہ کی طرح رکھا جاتا ہے اور اس کا نام اللہ کی گائے رکھا جاتا ہے‘ ہمارے ہاں قربانی ہمیشہ پہلے دن ہی کی جاتی ہے۔ ہرچہرہ خوشی سے مسکرارہا ہوتا ہے تو بہت اچھا لگتا ہے۔ عید کا ہر دن اپنے ساتھ خوشیاں اور ایک منفرد احساس لے کر آتا ہے۔
3) ہاہاہا… بہت اچھا اور مزے کا سوال ہے‘ پہلے میری بہنیں ہر عید پر کوئی نہ کوئی ڈش پکاتی تھیں۔ ہم تو صرف دور سے بیٹھ کر دیکھتے تھے اور باجی شہلا تو باقاعدہ پروگرام کرنے لگ جاتی۔ عید کے ہر روز دونوں بڑی بہنیں کچھ نہ کچھ پکالیتی تھیں‘ میں اور باجی شہلا تو صرف کھانے کے ٹائم پر پہنچ جاتی تھیں اور وہ دونوں ہم سے کہتیں کہ تم دونوں تو مفت خور ہوبیٹھ کر کھانے کی ترکیب توکوئی تم دونوں سے پوچھے۔ہم ڈھٹائی سے صرف مسکرادیتی تھیں‘ ہائے واہ کیا زمانے تھے وہ بھی‘ اب یاد آتے ہیں تو آنکھیں نم ہوجاتی ہیں اور لبوں پر مسکراہٹ پھیل جاتی ہے۔ اللہ ان کو اپنے گھروں میں ہمیشہ خوش رکھے‘ آمین۔ اب میں خود ہی ڈائجسٹ سے کوئی نہ کوئی ڈش تلاش کرکے پکالیتی ہوں اور اللہ کا شکر ہے ہمیشہ تعریف ہی ہوتی ہے اور سب اس ڈش کودوبارہ پکاانے کا کہتے ہیں کہ وہ ہمیں پکا کر دو بہت ذائقہ دار تھی (ارے یہ اپنے منہ میاں مٹھو نہیں بن رہی واقعی سب ایسا کہتے ہیں۔ اب ہم معصوم اور بھولے آپ سے جھوٹ تو بولنے سے رہے‘ ہاہاہا) ویسے اس دفعہ میرا ارادہ شامی کباب تیار کرنے کا ہے پھر دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔
4) ہمارے گھر جب گوشت آتا ہے تو ہم اس کو ایک چٹائی پر رکھ دیتے ہیں اور پھر اس کے حصے کرتے ہیں‘ دونوں بھائی ادھر اُدھر رشتہ داروں کو جاکر دے آتے ہیں‘ سارا گوشت ابو ہی تقسیم کرتے ہیں۔ ہمارا تو ایک پائوں کچن میں دوسرا ٹی وی والے کمرے میں ہوتا ہے اور جب کوئی کام وغیرہ کرنے باہر آتی ہوں تو ٹی وی دیکھ لیتی ہوں تاکہ پتا چلتا رہے کہ اب ٹی وی پر کیا لگ رہا ہے ویسے ہم صرف پی ٹی وی ہوم دیکھتے ہیں جو ہمارا قومی چینل ہے۔
5) ہوں اس بارے میں تو سوچنا پڑے گا مگر جہاں تک ہماری سوچ جاتی ہے ہمیں توایسا کوئی واقعہ یاد نہیں آتا ویسے بھی ہمارے ہاں جب کوئی گائے آتی ہے تو ہم اس کو دوسرے جانوروں کے ساتھ باندھ دیتے ہیں اس طرح وہ صبر و تحمل سے رہتی ہے۔
عائش کشمالے… رحیم یار خان
1) عید قربان کی تیاریوں کی جہاں تک بات ہے‘ ہماری تیاری تو کچھ نہیں ہاں امی اور بہن کی سب مل کر ارینج کرتی ہیں اور ہم صرف کلیجی‘ بریانی اور گوشت سالن ہی پکاتے ہیں یعنی ہماری امی اور سسٹر اور ہم لوگوں کو پکانا ہی نہیں آتا اور اہم بات یہ کہ سب ہی شوق اور رغبت سے کھاتے ہیں مگر جب آپ لوگوں کے اسپائسی کھانوں کے بارے میں پڑھتی ہوں تو دل کرتا ہے ہمیں بھی کچھ پکانا آجائے‘ دعا کیجیے گا۔
2) قربانی کا جانور پچھلے کچھ سال سے ہمارے گھر میں ہوتا تھا مگر اب ابو کسی دوست کے ساتھ مل کر اپنا حصہ رکھ لیتے ہیں اور ہم تو ہر سال پہلے دن ہی قربانی کرتے ہیں۔
3) ایسی ڈش ذرا یاد کرنے دیں‘ ارے ہم ایسے اہل کہاں ہماری سسٹر اور ہماری امی جان ہی مزے دار کھانے پکاتی ہیں اور ہم سب بہن بھائی‘ امی ابو‘ کزنز وغیرہ کی فیورٹ بریانی اور گوشت سالن ہے جو میری سسٹر اور پیاری امی جان بڑے مزے کا پکاتی ہیں۔
4) گھر کے امور میں تو ہر گز نہیں ہاں بھیا کو باغبانی کا شوق ہے جو وہ خوب صورت پودوں سے سجاتا رہتا ہے مگر گوشت کی تقسیم میں صرف ابو ہی امی اور سسٹر کے ساتھ ہاتھ بٹاتے ہیں۔ ابواور بھائی لوگ نماز عید ادا کرنے کے بعد فوراً ہی قربانی کا فریضہ ادا کرنے چلے جاتے ہیں۔
5) ابھی ابھی میرے بھائی نے مجھے دو واقعے سنائے ہیں مگر میں نے ابھی تک ایسے دیکھا تو نہیں ہاں وہی سنادیتی ہوں۔ ایک دفعہ عید قرباں کی نماز (ہمارے گھر کے ساتھ ہی مسجد ہے) ادا کی جارہی تھی‘ ابو‘ کزنز‘ بھائی سب ہی موجود تھے۔ نماز کے دوران مسجد کے امام صاحب کا بڑا جانور (اب کیا لکھوں جانور کا نام نہیں آتا) اپنا کھونٹا توڑکر میرے کزن کے پیچھے لگ گیا‘ میرا کزن آگے آگے اور جانور پیچھے پیچھے‘ دو تین نمازیوں کو بھی کچلتا گیا۔ بڑی مشکل سے قابو کیا اور دوسرا واقعہ بستی کا ہے جہاں قربانی ہورہی تھی۔ ابو بھائی وغیرہ سب وہیں پر تھے‘ قربانی کے جانور پر چھری پھیری گئی جانور تکلیف سے بھاگ رہا تھا‘ گردن سے خون بہہ رہا تھا پھر بھی بڑا جانور بڑی مشکلوں سے چند آدمیوں نے قابو میں کیا۔ مجھے تو یہ سن کر ہی رونا آگیا‘ کتنا زخمی تھا۔ سب بھائیوں سے التجا ہے کہ آپ پہلے جانورکو مضبوطی سے پکڑلیا کریں تاکہ اسے بھی تکلیف نہ ہو اور آپ کو بھی۔ آپ سب کو میری طرف سے دلی عید مبارک‘ اللہ حافظ۔
عنزہ یونس انا… حافظ آباد
1) عید قرباں کی تیاریوں میں گوشت ہی خاص ہوتا ہے مگر معذرت میں کسی قسم کا گوشت نہیں کھاتی تو اپنے ہار سنگھار کے علاوہ کوئی تیاری نہیں کرتی (آہم)۔
2) قربانی کا جانور مہینہ بھر پہلے آجاتا ہے تاکہ اچھی دیکھ بھال کی جاسکے اور قربانی کے لیے زیادہ تر پہلا دن ہی مخصوص ہے۔
3) ہاہاہا… کافی مزے کا سوال ہے مگر میں نے بتایا ناں میں گوشت نہیں کھاتی تو پکانے سے گریز کرتی ہوں مگر چونکہ میں اچھی کوکنگ کرلیتی ہوں تو کبھی کبھار چکن پلائو‘ اچار گوشت اور قورمہ پکالیتی ہوں۔
4) عید کے دن بہت کام ہوتے ہیں مگر امی تائی ممانی لوگوں کو سو وہ خود ہی کرتی ہیں۔ مرد حضرات کچن کا سامان اور قربانی کا گوشت لاکر فری ہوتے ہیں‘ کوئی خاص ہاتھ نہیں بٹاتے چند ایک کزنز میں جو ہاتھ تو نہیں ہاں مگر کاموں کے دوران کچن میں ٹانگ ضرور اڑاتے ہیں‘ ہاہاہا۔
5) ہاہاہا… بالکل جی ہے ایک قصہ ‘ ہوا کچھ یوں کہ ماموں جان بکرا لے کر آئے (ہمارے گھر میں بڑے جانوروں کے ساتھ ساتھ ایک دو بکرے لازمی بچوں کی خوشی کے لیے لائے جاتے ہیں اور قربانی تو بے شک اللہ کی رضا کی خاطر کرتے ہیں) تو وہ بکرا لے کر آئے‘بکرا کافی الہڑ ہوشیار اورباغی تھا۔ ماموں نے حویلی میں باندھ دیا ہم چونکہ چھوٹے تھے تبھی بھاگ کر دیکھنے گئے‘ پتا نہیں وہ ڈرا تھا کہ ویسے ہی رسہ تڑوا کے بھاگنے لگا اس کوشش میں بھائی آگے بڑھے مگر میں نے اور میری کزن اقراء نے منع کردیا‘ خوشی خوشی خود پیار سے باندھنے لگی مگر ہائے ری قسمت‘ بکرا میں میں کرتا‘ ائر جوان امتیاز کی طرح کدکڑے لگانے لگا‘ ہم نے کمال جرأت سے باندھنا چاہا مگر ایسی ٹکر ماری کے منہ کے بل گریں‘ پنڈال میں کھڑے بچے دانت نکوس کر ہنسنے لگے۔ درد سے بے حال اٹھی تو بہت رونا آیا‘ ماتھا سہلاتے گھر آکر آئینہ دیکھا کہ آیا چوٹ کہاں لگی ہے مگر عین ماتھے کے اوپر گومڑہ دیکھ کر (وہ بھی عید کے دن) ایسی چیخیں نکلیں کہ خدا کی پناہ پھر کزنز مل کر ہنستے ہی رہے جبکہ میں اور اقراء کپڑا گرم کرکرے (بھاپ) لیتی رہیں گومڑہ ٹھیک کرنے کے لیے‘ ہاہاہا۔ آیا نہ مزہ تو پلیز ایسے بکرے کے نزدیک مت جایئے گا‘ عید مبارک۔
سنبل ملک اعوان… شاہدرہ‘ لاہور
1) میرے لیے عید قربان کی تیاریوں میں خاص بات محرم سے ہی شروع ہوجاتی ہے‘ بتاتی ہوں جناب! وہ ایسے کہ میں محرم کے مہینے سے ہی قربانی کے جانور کے لیے پیسے جمع کرنے شروع کردیتی ہوں اور الحمدللہ اب میں اس قابل ہوں کہ ایک حصہ قربانی کا بڑے جانور کا اور دوسرا ہم چھوٹا جانور خود کرتے ہیں۔ میری تو خاص تیاری یہی ہے سب کی تیاری وہ بھی خاص اپنے اپنے حوالے سے مختلف ہوگی۔
2) بھئی پہلے تو قربانی کا جانور ہمارے ہاں پورا مہینہ پہلے سے خرید لیا جاتا تھا‘ اس کی خدمت کی جاتی‘ ماما پورے مہینے اسے دال کھلاتیں۔ صبح کھانڈ میں مکھن ڈال کر کھلاتیں‘ دوپہر میں آرام کروانے کے لیے سہ پہر کو گھومانے بھی لے کر جاتے بلکہ صبح کی سیر بھی کرواتے تھے مگر آہاہاہاہا… وہ وقت نہیں رہا تو یہ وقت بھی کٹ جائے گا مگر پنچھی جب اڑ جائیں تو پنجرا خالی رہ جاتا ہے۔ میرے بھائی بھی اڑان بھرچکے ہیں‘ دیکھو واپس آتے ہیں یا نہیں ویسے لگتا نہیں کیونکہ دونوں کو سسرال پیارا ہے وہ جوتیوں پر بھی روٹی دیں تو سر آنکھوں پر اورہم بات بھی کرلیں تو بس بُرے… مگر اب تو ہم چاند رات کو ہی جانور خرید کر لاتے ہیں اور عید کے دن ہی ہم لوگ قربانی کرتے ہیں۔
3) جی ہاں… قربانی کا گوشت ہو اور گھر میں ڈش نہ تیار ہو ایسا تو ہو نہیں سکتا تو جناب ہم آپ کو مزے دار نمکین گوشت کی ترکیب بتاتے ہیں جیسے ہی قربانی کا جانور ذبح کیا ویسے ہی ہم لوگ گھیرا ڈالے بیٹھ جاتے ہیں اور گوشت کی تقسیم کے بعد اپنے حصے کا گوشت لے کر سائیڈ پر رکھتے ہیں اور ساتھ ہی گوشت نکال کر دیگچی میں ڈال‘ دھویا‘ نمک اور پانی ڈال کر چولہے پر رکھ دیا ۔
ترکیب:۔
بکرے کا گوشت
ایک کلو
نمک
حسب ذائقہ
پانی
گوشت گلانے کے لیے
گوشت کو اچھی طرح دھوکر چولہے پر رکھ دیں‘ دیگچی میں صرف نمک اور پانی ڈالنا ہے اور دھلا ہوا گوشت بھی دیگچی میں ڈال کر دھیمی آنچ پر پکائیں۔ قربانی کا گوشت جلد گل جاتا ہے‘ تب تک آپ آرام سے گوشت کی تقسیم کرسکتی ہیں جب گل جائے تو ڈش میں نکل کر سرو کریں۔ اوپر ادرک‘ دھنیا اور سبز مرچ کاٹ کر گارنش کرلیں۔ کہتے ہیں نمکین گوشت کے بعد آپ جتنا مرضی گوشت کھائیں بدہضمی نہیں ہوگی۔
4) عید پر گوشت کی تقسیم یا گھریلو امور میں مردحضرات کا تعاون نہ ممکن ‘ بھائی خیر سے تین ہیں ماشاء اللہ‘ اللہ زندگی دے‘ خوشیاں دے مگر ایک بھی ایسا نہیں جو مدد کروائے حتیٰ کہ اپنے کام بھی مجھ سے کرواتے ہیں۔ پانی تک نہیں پیتے خود سے‘ دو کی تو شادیاں ہوگئیں‘ وہ تو بالکل سیدھے ہوگئے ہیں۔ اب تو بچوں کے پیمپر تک بدل لیتے ہیں‘ جو سبزی نہیں کھاتے تھے وہ بھی کھالیتے ہیں بلکہ خود لاکر دیتے ہیں۔ باقی میرے پاپا‘ ہاہاہا… کچھ نہ پوچھو‘ تکبیر پڑھ کر قربانی کرنی ہے اس کے بعد گوشت کے حصے کرکے ماما کے حوالے‘ ماما بے چاری کچن دیکھ رہی ہیں‘ مہمان بھگت رہی ہیں۔ گوشت محلے میں خود دینے جارہی ہیں‘ رشتہ داروں کے گھر خوددینے جارہی ہیں‘ وغیرہ وغیرہ۔ مگر گھر کے مرد کام میں ہاتھ بٹادیں‘ بالکل بھی نہیں۔
5) جی ہاں واقعہ تو یاد ہے اور بڑا ہی دلچسپ واقعہ ہے کہ 2012ء میں ہم لوگوں نے قربانی کرنے کا ارادہ ترک کردیا پھر اچانک سے مجھے کمیٹی مل گئی‘ میں نے ماما سے مشورہ کیا تو ماما نے پاپا سے پوچھا‘ پاپا نے کہا کہ ’’دیکھ لو‘ حالات تمہارے سامنے ہیں بیٹے تو الگ ہوگئے‘ پتا نہیں کیا بنے‘ میرا تو دل بجھ ہی گیا ہے۔‘‘ پاپا دراصل چھوٹے بھائی کے باہر چلے جانے کی وجہ سے بھی پریشان تھے لہٰذا ماما نے بتایا کہ سنبل کی کمیٹی کھلی ہے ہم قربانی کا جانور خرید سکتے ہیں۔ ہم لوگ عید سے تین دن پہلے خوشی خوشی بکرا منڈی گئے‘ 25 ہزار کا خوب تگڑا چھترا خریدا اور خوشی خوشی گھر لوٹ آئے۔ گھر لاکر پانی پلایا‘ چارہ کھلایا‘ چھترا خوب صورت اور پیارا تھا کہ محلے کے سارے بچے اس کے اردگرد اکٹھے ہوگئے ۔ چھترا اتنے زیادہ بچوں میں اپنے آپ کو ہیرو سمجھ کر زور آزمائی کرنے لگا‘ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ رسّی سمیت لے کر بھاگ نکلا۔ پاپا منڈی سے ہی اپنے دوست کے گھر چلے گئے‘ میں اور ماما چھترا ویگن پر لے کر گھر آئے تھے لہٰذا حواس باختہ بھی ہم دونوں ہوئے ۔ ابھی منڈی کی تھکاوٹ اتری نہیں تھی کہ چھترے نے ہمیں میراتھن ریس میں شامل ہونے کے لیے ہوم ورک کروانا شروع کردیا‘ اللہ جی ہم دونوں ماں بیٹیاںچھترے کے پیچھے پیچھے اور بچے ہمارے پیچھے گائوں کی گلیوں میں بھاگتے پھررہے تھے اور اتنا شوق تھا کہ کچھ نہ پوچھیں۔ آخر چھتر انہ جانے کدھر چھپ گیا‘ وہ تو ایسے بھاگ رہا تھا جیسے قاتل ہو اور ہم پولیس والے‘ خیر چار گھنٹے کی ایکسرسائز کے بعد چھترا تو نہ ملا مگر منہ لٹکا کر ہم لوگ مایوس سے گھر واپس آگئے۔ ہم نے دل میں سوچنا شروع کردیا‘ اللہ تم کو ہماری نیت کا پتا ہے کہ ہم نے کتنے چائو سے جانور خریدا ہے‘ ماما نے تسلی دی جو اللہ کو منظور مگر دل کو منظور نہ تھا۔ آنسو تھے کہ ابل ابل کر چہرہ دھورہے تھے‘ رہ رہ کر پچیس ہزار کے نوٹ آنسو کے درمیان میں ہی نظر آتے۔پانی وغیرہ پی کر چادر تان کر میں لیٹ گئی کہ محلے کی ایک اماں بھاگی بھاگی آئی اور ماما سے بولی ’’سیما… سیما… جلدی قصائیوں کے گھر جائو‘ ان کو ایک چھترا ملا ہے‘ لگتا ہے وہ تمہارا ہے جلدی جائو‘ وہ ذبح کرکے بیچ دیں گے۔‘‘ ماما بھاگی بھاگی گئیں‘ چھری کے نیچے سے چھتر نکالا اور پکڑ کر گھر لائیں‘ میں نے اسی وقت نماز نوافل ادا کی یہ یادگار وقعہ ہے عید کے حوالے سے ۔ محبت قرض ہوتی ہے آنٹی کو ثرکی محبت کا شکریہ‘ سب کو خوشیاں مبارک۔
انیلا طالب… گوجرانوالہ
1) عید قربان کے دن خاص بات یہ ہوتی ہے کہ سب لوگ عزیز و اقارب آتے تو ہیں بھنی کلیجی سے ان کی تواضع کی جاتی ہے اور پھر قریبی عزیز و اقارب کے ساتھ ساتھ ہر مستحق کو اچھا خاصا گوشت بطور تحفہ دیتے ہیں جنہوں نے قربانی نہیں دی ہوتی۔ ان کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔
2) قربانی کا جانور چند دن پہلے ہی آتا ہے اور کسی شخص کے سپرد کردیا جاتا ہے اسے پورا معاوضہ دیتے ہیں اور قربانی کے لیے پہلے دن کو ترجیح دی جاتی ہے۔
3) ماما اس دن کھانا پکاتی ہیں‘ اس لیے ایم سو سوری۔
4) ہمارے گھر بہت میلہ لگا ہوا ہوتا ہے‘ گھر کے مرد تو بس ایک ہی ہیں وہ ہیں بہت ہی اچھے میرے والد صاحب‘ لیکن وہ گھر کے کام نہیں کرتے‘ ہاہاہا۔ ہاں اپنی نگرانی میں وہ ہی گوشت تقسیم کرواتے ہیں ہمیں تو پتا بھی نہیں ہوتا۔
5) جی ایک بار جب ہم نے مینڈھا قربان کیا تھا وہ قصاب کے ہاتھ میں چھری دیکھ کے بھاگا تھا پھر بڑی مشکل سے اسے مردوں نے قابو کیا اور بڑی دیر بعد اسے سنبھال کے قربانِ راہ خدا کردی۔
سباس گل… رحیم یار خان
1) خاص اور اہم بات تو قربانی کے جانور اور ان سے متعلق انتظامات ہوتے ہیں‘ سب گھر والوں کی عید سے کپڑوں‘ جوتوں کی تیاری‘ اہتمام چاند رات سے پہلے کرلیا جاتا ہے تاکہ صبح کسی کو پریشانی نہ ہو اور ہم بھی بوکھلاہٹ کا شکار نہ ہوں‘ اس کے علاوہ عید قربان کی خاص تیاری مختلف پکوان کے حوالے سے ہوتی ہے ہم تمام مصالحہ جات تیار کرکے رکھتے ہیں مثلاً لہسن‘ ادرک کا پیسٹ کافی سارا بنالیتے ہیں‘ پیاز بھی دو کلو تو کاٹ کر رکھ ہی لیتے ہیں۔ آج کل گرمیاں ہیں تو یہ کام صبح سویرے کرلیں گے‘ ان شاء اللہ۔ دو‘ تین قسم کی چٹنیاں پیس کر رکھتے ہیں اور گوشت میں استعمال ہونے والے تمام لوازمات دہی‘ ٹماٹر‘ پیاز‘ لہسن ادرک‘ ہری مرچیں‘ ہرا دھنیا‘ لیموں وغیرہ وافر مقدار میں منگوا کر فریج میں رکھتے ہیںکیونکہ عید قرباں کے دن اور اس کے بعد کئی دن تک سبزی کی دکانیں نہیں کھلتیں اور اگر پہلے سے ضروری اشیاء خرید کر رکھ لی جائیں تو عید کے دنوں میں پکاتے ہوئے پریشانی کا سامنا بھی نہیں کرنا پڑتا۔
2) قربانی کا جانور بکرے تو بچوں کی وجہ سے دوچار دن پہلے گھر آجاتے ہیں تاکہ بچے بکروں کی خدمت کرکے ان کے ساتھ اپنا وقت گزار کر اپنی خوشی پوری کرلیں اور گائے ‘ بیڑی عید کی صبح ہی گھر لائی جاتی ہے اکثر اور قربانی ہمارے گھر ہمیشہ عید کے پہلے روز ہی کی جاتی ہے۔
3) بھئی ہمارے ہاتھوں کی بنی ہر ڈش ہی خاص ہوجاتی ہے (آہم)۔ عید کے روز ہم کلیجی‘ مغز اور مٹن قورمہ پکاتے ہیں جو الحمدللہ! سب کو ہمیشہ پسند آتا ہے اور عید کے دوسرے روز یخنی والا پلائو اور شامی کباب ہوتے ہیں خوب داد وصول کرتے ہیں یقین نہ آئے تو آجایئے اس عید پر آپ کی ایسی خاطر مدارت کریں گے کہ آپ ہمیشہ یاد رکھیں گے ارے ارے آپ تو گھبراگئے بھئی آزمائش شرط ہے۔
4) عید قرباں کے موقع پر گھر کے مردوں کو آرام کرنے کا موقع کم ہی ملتا ہے ‘ جانور ذبح ہونے سے لے کر تقسیم ہونے تک سب ہمارا ہاتھ بٹاتے ہیں خواتین گوشت کے پیکٹ بناتی ہیں اور مرد گوشت تقسیم کرنے کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔ غرباء اور مساکین کو بھی گوشت گھر کے مرد پہلے ہی تقسیم کر آتے ہیں‘ رشتے داروں کا اور گھر والوں کا حصہ گھر آتا ہے اور پھر حسب مراتب سب کے حصے تقسیم کردیئے جاتے ہیں۔
5) ایسا کوئی نہیں کئی واقعات ہیں جو خود ہمارے اپنے تجربے اور مشاہدے میں آئے۔ ایک واقعہ ہم آپ کو بتائے دیتے ہیں یہ چند سال پرانی بات ہے‘ عید الاضحی سے چار پانچ دن قبل انکل بیڑی لے کر آئے (عرف عام میں بیڑی کہا جاتا ہے ہمارے علاقے میں جوان گائے کو آپ گائے کہہ لیں)تو جناب جونہی پک اپ گھر کے گیٹ کے قریب رکی اور گائے لانے والے آدمیوں نے اسے پک اپ سے اتارنے کی کوشش کی تو گائے صاحبہ نے زمین پر قدم رکھتے ہی سڑک کی جانب رخ گیا اور رسّی چھڑا کر اس تیزی سے بھاگیں کہ وہ آدمی جس کے ہاتھ میں گائے کی رسی تھی وہ اس اچانک حملے کے لیے تیار نہ تھا سو وہ بے چارا جھٹکے سے نیچے جاگرا اور پھرتی سے اٹھ کر جس سمت گائے نے دوڑ لگائی تھی وہ بھی پوری رفتار سے اس کے تعاقب میں دوڑنے لگا۔ بھائی نے فوراً بائیک اسٹارٹ کی اور وہ بھی اس سمت روانہ ہوگئے۔ انکل جی جو یہ سپر گائے خرید کر لائے تھے‘ دونوں ہاتھوں میں اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گئے۔ پریشانی میں کہنے لگے ’’میں اپنے دوست کو کیا جواب دوں گا ۔‘‘ اب جناب بھائی بائیک پر تھے راستے میں انہوں نے گائے والے اس آدمی کو پیچھے بٹھایا اب گائے پُرہجوم سڑک پر بھاگ رہی تھی‘ جہاں بہت زیادہ ٹریفک تھا۔ وہ آدمی کہنے لگے کہ بائیک گائے کے قریب لے جائو میں رسی کھینچ لوں گا بڑا فلمی سین ہورہا تھا خیر یہی ہوا کہ آخرکار بھائی اس مزدور آدمی کے ساتھ گائے کے قریب پہنچ گئے کہ رسّی کھینچی تو گائے نے پھر سے دوڑلگانے کی کوشش کی وہ بے چارا آدمی رسّی کے ساتھ سڑک پر کافی دور تک گھسٹتا چل گیا مگر اب کی بار اس نے رسی نہ چھوڑی اور گائے بھی اتنے ایڈوانچر کے بعد شاید تھک گئی تھی یا اسے اس آدمی اور بھائی پر ترس آگیا تھا یا بہت زیادہ ٹریفک اور تماشائی راہگیروں سے خوفزدہ ہوگئی تھی جو بھی وجہ تھی وہ سڑک پر کھڑی ہوگئی اور وہاں سے ایک اور راہ گیر کی مدد سے گھر واپس لایا گیا اور اس کے گھر آنے پر انکل کی جان میں جان آئی اور ہم نے بھی اللہ کا شکر ادا کیا بعد میں بھائی نے اس ایڈوانچر کا حال سنایا تو سب کو خوب ہنسی آئی اور عید کے دن وہ گائے قربان کی گئی تو اس نے قصائی حضرات کو ذرا بھی مشکل میں نہ ڈلا اور آرام سے سنت ابراہیمی ادا کرنے کو سرخم کرلیا۔
سلمیٰ غزل…
1) عید کی تیاری میں سب سے اہم بات جانوروں کی خریداری ہے‘ جو شروع سے ہی میرے میاں خود خریدتے ہیں میں ہمیشہ گائے میں حصہ ڈالتی ہوں وہ دو بکرے کرتے ہیں مگر جب سے چھوٹے بیٹے کی ملازمت شروع ہوئی ہے وہ خود کرتا ہے دونوں بیٹے امریکہ میں ہیں ۔ گائے میں دونوں ایک ایک حصہ پاکستان میں ڈالتے ہیں اور بکرا وہیں ذبح کرتے ہیں‘ گزشتہ سال میں امریکہ میں تھی تو چار حصے پاکستان میں بیٹی کے ساتھ ڈال دیئے تھے۔
2) پہلے بچے چھوٹے تھے تو قربانی کا جانور تین چار دن سے پہلے آجاتا تھا بچوں کو گلی میں ٹہلانے کا شوق پھر دوستوں سے مقابلہ بازی کہ میرا جانور بڑا ہے۔ بڑا بیٹا عموماً باپ کے ساتھ مویشی پسند کرنے منڈی جاتا تھا‘ ہمیشہ سے یعنی شادی سے پہلے اور بعد میں بھی ہمارے یہاں قربانی پہلے دن اور بہت صبح ہوجاتی ہے سالوں سے ایک قصائی مقرر ہے جو ایک دن پہلے سامان وغیرہ رکھ جاتا ہے اور صبح نماز کے بعد فوراً آجاتا ہے اور زیادہ تر قربانی گیارہ بجے تک پوری ہوجاتی ہے۔
3) عید والے دن کلیجی اور چانپیں بنتی ہیں جن کے لیے میں ایک دن پہلے مصالحے تیار کرکے رکھ لیتی ہوںترکیب لکھ رہی ہوں۔
کلیجی… کھولتے ہوئے گرم پانی میں کلیجی پانچ منٹ ڈال کر نکال لیں‘ دوسری پتیلی میں تیل ڈال کر کلیجی فرائی کرلیں پھر لہسن ادرک لیں‘ ایک ڈلی پسی پیاز‘ ایک چمچہ لال مرچ‘ ایک چمچہ پسا دھنیا‘ ڈیڑھ چمچہ ہلدی‘ نمک حسب ذائقہ اور دہی ایک پائو ڈال کر اچھی طرح بھون لیں‘ کلیجی گل جائے تو تھوڑی سے قصوری میتھی اور گرم مصالحہ ڈال کر دم پر رکھ دیں‘ کلیجی تیار ہے۔
فرائیڈ چانپیں… چانپوں میں کوئی بھی تکہ مصالحہ۔
ہلدی
تھوڑی سی
پسا دھنیا
ڈیڑھ چمچ
پسی اجوائن
آدھ چائے کا چمچ
دہی
ڈیڑھ پیالی
پیاز
ڈیڑھ پیالی تلی ہوئی
اور تھوڑا سا تیل ڈال کر ایک گھنٹے کے لیے فریج میں رکھ دیں‘ میرینیٹ ہوجائے تو چولہے پر رکھ کر گلالیں‘ پانی بالکل خشک ہوجائے تو دہکتا ہوا بڑا کوئلہ اندر رکھ کر تھوڑا تیل ڈالیں‘ فوراً ڈھک دیں۔ ڈیڑھ گھنٹے بعد دہی کے رائتے اور سلاد کے ساتھ یا کیچپ سے کھائیں‘ مزے دار چانپیں جو بچوں کو بے حد پسند ہیں۔ آپ اپنے مصالحے سے بھی بناسکتی ہیں لیکن پھر ایک چمچ کچا پپیتا بھی لگائیں۔
4) اب میں کام اپنی ماسی کی مدد سے خود کرتی ہوں‘ میاں کے علاوہ کوئی اور ہے نہیں اور وہ نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھتے۔ میرے والد مرحوم باقاعدہ ترازو سے وزن کرکے تین حصے کرتے تھے اور شرعی طریقے سے تقسیم بھی۔ میں بھی بالکل اسی طرح کرتی ہوں پہلے خالی پلاٹوں میں جھونپڑیاں تھیں وہاں دے آتی تھی اب ماسیوں‘ چوکیداروں اور مالیوں کو دینے کے بعد قریب کے مدرسے میں دے آتی ہوں اور یہ سب پورے محلے کے ہوتے ہیں۔ پہلے دن قربانی کرکے میں تھوڑی دشواری ضرور ہوتی ہے لیکن بچپن سے یہی سنتے رہے ہیں کہ اگر استطاعت ہے تو اول دن کا ثواب زیادہ ہے تو زیادہ کیوں نہ لیں۔
5) ایک مرتبہ بڑی عجیب صورت حال ہوئی تھی‘ بچے چھوٹے تھے دونوں بکروں کو لان میں ٹہلا رہے تھے وہ رسّی چھڑا کر بھاگے وہ آگے آگے اور ہم سب پیچھے پیچھے‘ دو گاڑیاں آگے پیچھے لائن سے کھڑی تھیں‘ بونٹ پر چڑھے اور چھت پر چڑھ کر کھڑے ہوگئے اب ڈر یہ لگ رہا تھا کہ اگر انہوں نے چھلانگ ماردی اور ٹانگ وغیرہ ٹوٹ گئی تو قربانی نہیں ہوسکے گی مگر کیا غضب کے بکرے تھے‘ چھلانگ مار کر کود گئے اور بالکل ٹھیک ٹھاک رہے‘ اس وقت تو جان پر بن گئی تھی مگر بعد میں بڑی ہنسی آئی وہ دونوں بکرے کافی جاندار اور خوب صورت تھے مگر اللہ کی راہ میں قربان تو کرنا ہی تھے۔
مدیحہ نورین مہک… گجرات
1) سب سے پہلے تو سب کو عید قربان کی مبارک باد اور ہاں جی عید قربان کی خاص اور اہم بات یہ ہوتی ہے کہ نئے نئے کھانوں کی تراکیب یاد کی جاتی ہیں‘ تین دن عید ہے تین جوڑوں کا شور ہوتا ہے اور وہی مہندی‘ چوڑیاں‘ جوتے ‘ جیولری خریدی جاتی ہے۔ گھومنے پھرنے کے پلان بنائے جاتے ہیں ہر طرح سے انجوائے کیا جاتا ہے۔
2) قربانی کا جانور زیادہ سے زیادہ ایک ماہ پہلے گھر میں آجاتا ہے اور اس کو مہندی اور رنگ لگاتے ہیں‘ سجاتے اور سنوارتے ہیں‘ بہت خوشی بھی ہوتی ہے اور بہت مزہ بھی آتا ہے۔ قربانی ہم لوگ عید کے پہلے دن ہی کرتے ہیں۔
3) قربانی کے گوشت سے پہلی دفعہ قورمہ اور اچارگوشت پکایا تھا جو سب کو بے حد پسند آیا تھا‘ اب ہر دفعہ یہ دو ڈشز ضرور پکاتی ہوں اور بہت اچھی بھی پکاتی ہوں اور داد بھی ملتی ہے اس کے علاوہ بریانی بھی پکاتی ہوں اور سب کو پسند آتی ہے۔
4) قربانی کے لیے ابو جی ہی بزی رہتے ہیں‘ قربانی کا گوشت تیار کرواتے ہیں اور گھر دے کر جاتے ہیں۔ گوشت کی تقسیم تائی امی کرتی ہیں‘ اس کام میں مرد حضرات کوئی مدد نہیں کرتے۔ گھر کی خواتین ہی کرتی ہیں اور بھائی تو بالکل بھی قابو نہیں آتے‘ عید کے تینوں دن وہ اپنی من مانی اور موج مستی کرتے ہیں۔
5) ہمارے گھر زیادہ تر بکرا ہی آتا ہے قربانی کے لیے اور دیکھا ہے جب بکروں کا گروپ گزرتا ہے تو وہ ادھر اُدھر بھاگتے ہیں کچھ بہت آگے نکل جاتے ہیں‘ کچھ پیچھے رہ جاتے ہیں ان کو ہانکنے والے ان کے پیچھے بھاگتے رہتے ہیں۔ یہ واقعہ تو ہر سال دیکھنے کو ملتا ہے اور بہت اچھا بھی لگتا ہے۔
عریشہ سہیل… کراچی
1) عید قربان کے قریب آتے ہی میری کوشش ہوتی ہے کہ گھر میں صفائی ستھرائی کے کام کے ساتھ ساتھ اللہ کے مہمان کے لیے ایسی جگہ بنائی جائے جہاں وہ آرام سے اپنا وقت گزار سکے۔
2) ہمارے گھرقربانی کا جانور عموماً ذوالحج کا چاند ہوتے ہی آجاتا ہے اور کوشش ہوتی ہے کہ عید کے پہلے دن ہی قربان کر دیا جائے۔
3) عید پہ میں تو کچھ نہیں پکاتی لیکن ہمارے گھر میں بکرے کے گوشت کی کڑاہی اور روسٹ ہوئی ران بہت شوق سے کھائی جاتی ہے۔
4) عید قربان پہ اگر مردوعورت مل کر کام نہ کریں تو عید خراب ہو جاتی ہے اور کوئی کام ٹھیک سے نہیں ہوتا۔ اللہ کے شکر سے عید پہ ہمارے گھر میں سب مل کر کام کرتے ہیں۔ مرد حضرات جانور کٹوانے اور گوشت بنوانے کا کام کرتے ہیں اس کے بعد ہم گوشت کے حصے لگواتے ہیں اور مرد قصائی سے فارغ ہونے کے بعد گوشت تقسیم کرنے نکل جاتے ہیں۔اس کے بعد گوشت کا قیمہ بنوانا، سری پائے بنوانا بھی مرد حضرات کے ہی ذمہ ہے۔
5) شاید میں اس دنیا کی واحد لڑ کی ہوں جس نے اپنی زندگی میں کبھی کسی جانور کے بدکنے کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا۔ ہمارے ہاں جو بھی جانور آتا ہے نہایت شریف آتا ہے جو بنا کسی چوں چرا کے ذبح ہو جاتا ہے۔ محلے میں بھی کبھی کسی جانور نے بھاگنے کی کوشش نہیں کی۔
افشاں شاہد… کراچی
1) میں عید قربان کی تیاریاں تو ہفتے پہلے شروع کر دیتی ہوں سارے مصالحہ جات پیس کر ائیر ٹائٹ جار میں رکھ دیتی ہوں تاکہ جلدی جلدی ساری چیزیں پکا کر سب کی داد وصول کر سکوں‘ فریج پہلے سے صاف کر لیتی ہوں تاکہ اچھی طرح سے بکرے کو فریز کر سکوں (ہاہاہا) اور بہت سے لوگ اس عید پر کپڑوں کی کوئی خاص تیاری نہیں کرتے لیکن میرے عید کے تینوں دن دعوتوں کی نذر ہوتے ہیں کبھی سسرال میں تو کبھی میکے میں اس لیے میں تین چار سوٹ اس عید پر بھی بنوا کر رکھتی ہوں بس یہی خاص تیاری ہوتی ہے۔
2)قربانی میرے گھر پر نہیں ہوتی امی کے گھر اور سسرال میں ہوتی ہے اور بچوں کے ماموں بچوں کے پر زور اصرار پر چاند دیکھتے ہی فوراً قربانی کا جانور لے آتے ہیں اور قربانی دوسرے دن ہوتی ہے۔
3) ارے ہمارے ہاتھ سے پکائے ہوئے کھانے تو پورے خاندان میں مشہور ہیں۔ (یہ کچھ زیادہ ہوگیا) ویسے میں کلیجی مصالحہ‘ برین مصالحہ اور مصالحے والی بوٹیاں بہت اچھی پکاتی ہوں سب کو بہت پسند آتی ہیں۔
4)بس اتنا تعاون کرتے ہیں کہ گوشت قصائی سے کٹوا کر گھر پر پہنچاتے ہیں اور قیمہ وغیرہ بنوا کر آتے ہیں باقی ہم جانے اور ہمارا کام۔
5) جی بالکل اور ایسا قصہ جسے جب بھی یاد کرتی ہوں ہنسی آجاتی ہے، میری بڑی بہن گائے بکروں سے بہت ڈرتی ہے ہم لوگ عید کے دنوں میں کچھ چیزیں لینے کے لیے بازار نکلے اور راستے میں ایک گائے بھاگی اب میری بہن جو ڈری اس نے نہ آؤ دیکھا نہ تاؤ فوراً ایک مردانہ ٹیلر کی دکان میں گھس گئی اورکانچ کا دروازہ بند کر دیا اور میں اپنی بہن کو ڈھونڈتی پھررہی تھی کہ میری بہن کہاں چلی گئی۔ اس کے بعد سے میں کبھی بھی عید قربان میں اپنی بہن کے ساتھ باہر نہیں نکلتی۔
ریمل آرزو … اوکاڑہ
1) عید قرباں کی تیاریوں کی فکر ہم سے زیادہ اماں جان کو ہوتی ہے سو وہ ہی جانتی ہیں کہ اس بار کیا خاص اہتمام کیا جا رہا ہے۔
2) قربانی کا جانور ہمارے گھر عید کی رات کو آتا ہے اور قربان عید کے دوسرے روز کیا جاتا ہے کیونکہ عید ہم بڑے بابا جان کے گھر کرتے ہیں اور عید کے دوسرے روز بڑے بابا جان کی فیملی ہمارے گھر مدعو ہوتی ہے۔
3) معذرت کے ساتھ کوکنگ سے کوئی خاص ربط نہیں عید پر اماں اور بھابی مزے مزے کے پکوان تیار کر کے داد وصول کرتیں ہیں۔
4) جی بالکل عید پر گوشت کی تقسیم میں بابا جان بھرپور تعاون کرتے ہیں۔
5) عید کے حوالے سے دلچسپ واقعہ ایک بار بچپن میں ہمارے گھر عید پر بہت ہی شریر بکرا تشریف لے آیا تھا ایک پل بھی اس کی روح کو سکون نہیں تھا ہر دم باہر کی جانب بھاگنے کو تیار سب کی دوڑیں لگوا دی تھیں خاص کر بھیا کو اس نے خوب ناکوں چنے چبوائے تھے بھیا نے بکرے کی رسی کرسی سے باندھ دی اور خود کرسی پہ بیٹھ گئے بکرا اتنا تگڑا تھا کہ کرسی کو بھیا سمیت گھسیٹ کر لے گیا اور بھیا دھڑام سے گر پڑے اور ہماری ہنسی چھوٹ گئی اور پھر بھیا کی وہ عید بستر پر بکرے کو یاد کرتے ہوئے گزری تھی۔
ماورا بشارت چیمہ…وزیرآباد
1) عید قربان کی سب سے اہم تیاری تو قربانی کی ہوتی ہے مگر ایک اور خاص بات قصائی کے ملنے کی دعائیں ہوتی ہیں بھئی ان کا دن ہوتا ہے اور ان کے نخرے بھی آسمانوں پر ہوتے ہیں تو جب بھی بولو بھوک لگی ہے جواب ملتا دعا کرو قربانی ہو جائے تو ہم دعاؤں میں مصروف رہتے ہیں ساتھ ساتھ۔
2) قربانی کے جانور کا کوئی خاص وقت نہیں ہے کئی دفعہ تو عید کے دن بھی آتے ہیں کیوں کہ یہ ذمہ داری میرے بھائی کی ہوتی ہے تو معجزہ ہی ہوتا ہے اگر چاند رات سے پہلے جانور آجائے‘ بھائی سے معذرت کرتے ہوئے۔
3) مجھے چکن کے علاوہ کوئی گوشت نہیں پسند۔ اس لیے میرے لیے چکن کی علیحدہ ڈش تیارہوتی ہے تو جو کھاتی نہیں وہ پکائے گی کیا (اللہ مجھے گوشت کھانے کی توفیق عطا فرمائے )۔
4) عید میں گوشت کی تقسیم میں بھائی بہت مدد کرتے ہیں۔ گوشت بنوانا‘ اس کے حصے کرنا اور اس کو بانٹنے کی ذمہ داری بھائیوں کی ہوتی ہے باقی صفائی اور پکانا عورتوں کے کام ہوتے ہیں۔
5) یہ سوال سب سے مزے کا ہے۔ مجھے جانوروں سے بہت پیار ہے مگر میرا پیار ذرا وکھری ٹائپ کا ہوتا ہے۔ میرا پیار ہوتا ہے اور دوسروں کو لگتا میں ان کو تنگ کرتی ہوں۔ اب آپ بتائے بندہ اس کو نہلائے بھی نہیں اسے بھی تو گرمی لگتی ہے نا؟ ان کے کان دانت بھی تو دیکھنے ہوتے ہیں نا اگر گندے ہو تو… میرا سب سے مزے کا واقعہ پچھلی عید کا ہے بچے اکثر ڈرتے ہیں مگر میری 3 سالہ چھوٹی بہن اس کی آنکھوں میں انگلی ڈالتی تھی اس کی دم کھینچتی تھی اور بکرے صاحب اس سے جان چھڑاتے تھے (آخر بہن کس کی ہے)۔
طالب مہوش…
1) کپڑے جیولری کے علاوہ عید کے دن تیار ہو نے والے پکوانوں کی لسٹ بنانا‘ عید کے جانور کو آخری بار پیار بھری نظروں سے دیکھنا۔
2) ہمارے گھر عید کا جانور کم از کم تین دِن پہلے اور زیادہ سے زیادہ دس دن پہلے آتا ہے اور کوشش ہوتی ہے کہ ساری قربانی پہلے روز ہی ہوجائے۔ پہلے دن کا جو مزہ ہے وہ دوسرے یا تیسرے روز نہیں (یہ میرا ذاتی خیال ہے)۔
3) یہ سوال تو مجھے بے اختیار شرمندہ کرگیا عید کے دِنوں میں ہونے والی دعوتوں کی تمام تیاری میری امی کرتی ہیں۔ ہم بہنوں کا تعاون بس سلاد کاٹنے‘ برتن لگانے تک ہوتا ہے‘ جو کہ یقینا کوئی قابلِ فخر بات نہیں ہے ویسے ایک مرتبہ میں نے فوڈ میگزین سے دیکھ کرعید کے لیے ایک نئی ریسپی ٹرائی کی تھی‘ جو زیادہ اچھی نہیں بنی اس دن کے بعد سے میں نے فوڈ میگزینز پر اعتماد کرناچھوڑ دیا۔
4) بھائی کا تعاون اور مدد یہ ہوتی ہے کہ قربانی کا جانور بروقت گھر آتا ہے۔ عید کے روز قصائی کی مدد سے اس کی قربانی ہوتی ہے۔ گوشت بن کر گھر آتا ہے پھر سارا کام امی کے ذمہ ہوتا ہے‘ تجربہ کار خاتونِ خانہ کے سِوا کوئی یہ کام احسن طریقے سے نہیں کرسکتا۔
5) بالکل ہے‘ ہاہاہا… جب پرانا گھر ہوتا تھا تو اس کے بڑے سے صحن میں جانور کو باندھ دیتے تھے مگر چند سال پہلے کی بات ہے ہم لوگوں نے چاند رات کو جانور (چھترہ) لیا۔ اسے رکھنے کے لیے چھت کہ علاوہ کوئی جگہ موزوں نہ لگی کہ نئے گھر کے صحن میں پودوں کی بہتات تھی۔ اپنی طرف سے تو ہم نے جانور کو مضبوطی سے باندھا تھا مگر ( ہائے یہ بے خبری) ہم لوگ لاؤنج میں بڑے مزے سے ٹی وی دیکھ رہے تھے جب دھڑ دھڑ کسی کہ سیڑھیاں اترنے کی آواز آئی اور جب تک ہم سمجھے وہ ہینڈسم چھترہ سہج سہج آخری سیڑھی سے اتر رہا تھا۔ اس سے پہلے کہ وہ اپنا بھاری بھرکم سر ہماری پسلیوں میں پیوسط کرتا‘ ہم سب فوراً سے کچن میں بھاگے اور دروازہ بند کیا اب وہ جانور بے بسی سے شیشے کے دروازے سے ہمیں تکتا رہا کچھ دیر بعد بھائی آئے اور اسے قابو کیا۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close