Aanchal Nov-16

اس طور ملے

ام اقصٰی

مجھے یقین تو نہیں ہے مگر یہی سچ ہے
میں تیرے واسطے عمریں گزار سکتی ہوں
یہی نہیں کہ تجھے جیتنے کی خواہش ہے
میں تیرے واسطے خود کو بھی ہار سکتی ہوں

لائونج کا دروازہ کھول کر وہ ڈھیلے قدموں سے اندر آئی تھی۔ سامنے ندا بیٹھی کوئی میگزین پڑھ رہی تھی۔
’’آئیے… آئیے محترمہ زہے نصیب…‘‘ ندا کی شوخی سے بھرپور آواز ابھری۔ وہ وہیں کھڑی تذبذب کے عالم میں انگلیاں چٹخاتی رہی۔
’’ندا وہ حاشر گھر پر ہیں…‘‘ چند سیکنڈز کے بعد قدرے جھجک کر اس نے پوچھا۔
’’ہاں اپنے روم میں ہیں وہ۔‘‘ ندا نے شرارتی نگاہوں سے مسکرا کے کہا۔
’’مجھے ذرا ان سے بات کرنی تھی۔‘‘ کہتے ہوئے وہ سیڑھیوں کی جانب بڑھ گئی۔ دروازہ قدرے کھلا تھا جھجکتے ہوئے اس نے دستک دی۔
یس کم ان…‘‘ کی آواز پہ چند لمحے رک کے اس نے اندر قدم رکھا۔
حاشر نے قدرے چونک کے اسے دیکھا‘ وہ ابھی ابھی نہاکے نکلا تھا شاید‘ گیلے بال ماتھے پر بکھرے ہوئے تھے سرخ ٹی شرٹ اور بلیو ٹرائوزر میں وہ جوگرز کے تسمے کس رہا تھا۔
’’مجھے آپ سے بات کرنی ہے۔‘‘ قدرے ٹھہرے لہجے میں اس نے کہا۔
’’میں ہمہ تن گوش ہوں۔‘‘ مصروف لہجے میں عجلت نمایاں تھی۔
’’مجھے وہ انگوٹھی واپس چاہئے تھی۔‘‘ اس کی دھیمی آواز نے کمرے کے سکوت کو توڑا۔
’’کون سی انگوٹھی تقویٰ بی بی۔‘‘ وہ اب شیشے کے سامنے بال بنانے لگا۔
’’وہ جو میں نے اس دن واپس کی تھی۔‘‘
’’واپس نہیں کی تھی میرے منہ پہ ماری تھی۔‘‘ حاشر کے لہجے میں ترشی در آئی۔
’’آئی ایم سوری پلیز آپ مجھے وہ واپس کردیں۔‘‘ حاشر نے شیشے میں نظر آتے اس کے عکس کو دیکھا۔ قدرے کنفیوز لہجہ‘ انگلیاں چٹخاتی تقویٰ کے چہرے پہ ندامت نمایاں تھی۔
’’مے ٹو سوری وہ انگوٹھی تو میں اب پاپا کے حوالے ہی کروں گا۔‘‘
’’دیکھیں اب آپ زیادتی کررہے ہیں۔‘‘ تیز لہجے میں کہتے ہوئے معذرت کے لیے ترتیب دیئے جملے سب بھک سے اڑ گئے تھے۔
’’جو بھی تم سمجھو…‘‘ کمرے سے باہر جانے کے لیے قدم بڑھاتے ہوئے حاشر نے کہا۔
’’ہمیشہ ایسے ہی کرتے ہیں آپ۔‘‘ تقویٰ کا لہجہ رندھ گیا۔
’’مجھ سے اپنے روم میں ناپسندیدہ چیزیں نہیں برداشت ہوتیں‘ سو پلیز…‘‘ وہ جاتے جاتے پلٹ کے دروازے میں کھڑا ہو کر بولا۔
اہانت کے احساس سے تقویٰ چٹخ اٹھی تھی پل بھر کی تاخیر کیے بغیر وہ پلٹی اور تیزی سے دروازے سے نکلتی چلی گئی۔ اپنے روم میں آکے بیڈ پر گرتے ہی وہ ہچکیوں سے رونے لگی۔
ء…ز… ء
حمید صاحب کے دو ہی بیٹے تھے شاہد اور عابد… بیوی ان کے بچپن میں ہی وفات پاگئی تھیں۔ حمید صاحب نے دونوں کو ماں بن کے پالا تھا‘ بڑے شاہد کی شادی انہوں نے اپنی بھانجی سلیمہ سے کی تھی جبکہ عابد نے اپنی کلاس فیلو امبرین کو پسند کیا تھا‘ شاہد صاحب کے چار بچے تھے حنا‘ ندا سعدیہ اور حاشر جبکہ عابد کی اکلوتی بیٹی تقویٰ تھی امبرین نے اپنا ایک بھانجا بچپن سے ہی گود لے رکھا تھا‘ سو ولید تقویٰ کا رضائی بھائی تھا… اچھے وقتوں میں حمید صاحب نے شہر کے وسط میں ہی دوکنال کا پلاٹ لے لیا تھا اور مستقبل کے پیش نظر اس میں دو پورشن بنوائے تھے‘ ایک کرائے پہ اٹھا دیا تھا جو عابد کی شادی کے بعد اس کے حصے میں آیا تھا۔ دونوں بھائیوں میں سلوک اتفاق تو تھا ہی مزید مضبوطی کے لیے حاشر اور تقویٰ کا رشتہ بچپن میں ہی طے کردیا گیا تھا‘ لیکن بچپن سے ہی دونوں کی ایک منٹ نہ بنتی تھی لیکن دوستی بھی بے حد تھی‘ لڑنے پہ آتے تو لگتا ایک دوسرے کی جان لے لیں گے اور جو صلح ہوتی تو یک جان دو قالب کے مظاہرے ہورہے ہوتے… بڑے سب ان کی کٹھی میٹھی لڑائیوں کو انجوائے کرتے رہتے تھے۔
وقت کچھ اور آگے سر کا حنا کی شادی ہوگئی… سدا کی پڑھاکو ندا نے ایم فل میں ایڈمیشن لے لیا‘ اپنے ماموں زاد سے اس کا نکاح ہوچکا تھا۔ رخصتی ایم فل کے بعد ہونا تھی… حمید صاحب اپنے سفر آخرت کو روانہ ہوچکے تھے۔ سعدیہ آرمی ڈاکٹر بننے کے شوق میں پنڈی اپنی خالہ کے ہاں مقیم تھی۔ ولید بھی جاب کے سلسلے میں پنڈی میں ہی تھے… تقویٰ نے حال ہی میں ایم اے انگلش میں داخلہ لیا تھا جبکہ حاشر نے ایم بی اے کے بعد آفس جوائن کرلیا تھا۔
تقویٰ کی آنکھ کھلی تو شام کے چھ بجے تھے وہ روتے روتے شاید سو گئی تھی۔ آنسو ابھی تک اس کی پلکوں کی باڑوں پہ ہی ٹھہرے ہوئے تھے… وہ کسلمندی سے بیڈ کی کرائون سے ٹیک لگا کے بیٹھ گئی اور حاشر سے اپنی آخری لڑائی کے متعلق سوچنے لگی۔
اس دن کوئی بھی تو خاص بات نہ ہوئی تھی‘ تقویٰ کو نوٹس لینے اپنی دوست کے ہاں جانا تھا سو وہ حسب معمول حاشر کی طرف آئی تھی کہ وہ اسے ساتھ لے چلے لیکن سعدیہ کی دوستیں آئی ہوئی تھیں اور حاشر انہیں چھوڑنے جارہا تھا اور تقویٰ کو ساتھ لے جانے سے اس نے صاف انکار کردیا تھا۔ تقویٰ کا کل بے حد اہم ٹیسٹ تھا اور پڑھائی کے معاملے میں وہ شروع سے بہت سنجیدہ تھی سو جھٹ کہہ دیا۔
’’تمہیں تو میرا ذرا احساس نہیں۔‘‘
’’اچھا تو وہ جو صبح شہر کے دوسرے کونے پہ بنی یونیورسٹی میں چھوڑنے اور لینے گیا تھا وہ بغیر کسی احساس کے تھا…‘‘ حاشر چڑ گیا تھا۔
’’وہ تو تمہارا آفس اسی سائڈ پر تھا تبھی گئے تھے۔‘‘
’’آفس سے آف تھا میرا آج…‘‘ حاشر جتاتے ہوئے بولا۔
’’تو نہیں جانا تھا نا۔‘‘
’’تو اب کب جارہا ہوں۔‘‘ تقویٰ کے چٹخنے پہ وہ بھی دو بدو بولا تھا۔
’’میں لعنت بھیجتی ہوں تم پہ اور تمہارے لانے لے جانے پہ۔‘‘ غصے میں وہ یونہی آئوٹ ہوجایا کرتی تھی۔
’’شوق سے بھیجو پر اپنے گھر جاکے…‘‘ حاشر نے دروازے کی سمت اشارہ کرتے ہوئے کہا… مارے غصے کے تقویٰ کا اور بھی برا حال ہوگیا‘ اس نے انگوٹھی اتار کے حاشر کی طرف اچھالی… اسے بھی رکھو سنبھال کے‘ کہتی وہ اپنے پورشن کی جانب آگئی۔
یہ کوئی ایک دن کی بات نہیں تھی‘ ہمیشہ دونوں کی ایسے ہی لڑائی ہوتی تھی‘ زیادتی جس کی بھی ہوتی صلح میں پہل ہمیشہ تقویٰ ہی کیا کرتی تھی۔ ابھی آٹھ دن پہلے ہی تو تقویٰ کی دن بھر کی منتوں کے بعد حاشر نے صلح کی تھی اور پکا وعدہ بھی کہ اب کبھی لڑائی نہیں ہوگی۔
معاً کچھ خیال آنے پہ تقویٰ نے لیپ ٹاپ قریب کیا اور حسب معمول حاشر اسے اپنی آئی ڈی سے ریموو کرچکا تھا۔ تقویٰ نے سیل اٹھا کے حاشر کا نمبر ڈائل کیا اور ہمیشہ کی طرح یہاں سے بھی وہ اسے بلاک کرچکا تھا۔
’’بس اب میں بھی کبھی بھی نہیں صلح کروں گی نہ بلائوں گی اسے سمجھتا کیا ہے خود کو…‘‘ بہتے آنسوئوں کے ساتھ وہ دل میں تہیہ کررہی تھی۔
سیل پہ بجتی مدہم ٹیون پہ دل میں ایک خواہش نے انگڑائی لی۔ تقویٰ نے جھٹ سے روشن اسکرین سامنے کی ’’ولید بھائی کالنگ‘‘ وہ بجھے دل سے کال اٹینڈ کرنے لگی۔
’’تم رو رہی ہو…؟‘‘ ولید کے لہجے میں تشویش تھی۔
’’نہیں تو…‘‘ تقویٰ نے امڈ آنے والے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا۔
’’حاشر سے لڑائی ہوئی ہے کیا…؟‘‘ ولید ان کی لڑائیوں سے باخبر تھا۔
’’نہیں…‘‘ یک لفظی کہا… ’’ولید بھائی ایک بات کہوں۔‘‘
’’پوچھ کیوں رہی ہو… بہنا کہو۔‘‘ ولید کے لہجے میں ہمیشہ والی بشاشت تھی۔
’’پوچھ نہیں رہی اندازہ کررہی ہوں کہ آپ میری حمایت کریں گے یا نہیں۔‘‘
’’کیسی حمایت…؟‘‘
’’ولید بھائی حاشر کی مجھ سے کتنی لڑائیاں ہوتی ہیں ناں… ہم دونوں خوش نہیں رہ سکتے‘ کبھی بھی آپ پلیز یہ بات بڑوں تک پہنچادیں‘ پلیز…‘‘ بے ربط سے انداز میں کہتے ساتھ ہی تقویٰ نے سیل بند کردیا اور پھوٹ پھوٹ کے رونے لگی۔
’’غلطی تو میری بھی تھی ناں…‘‘ دل میں حاشر کی حمایت کی ایک کونپل پھوٹی تھی۔
’’نہیں اب نہیں کبھی بھی نہیں…‘‘ اس نے کونپل کو کچل ڈالا۔
اسے بھولنے کو دل کسی صورت مانتا ہی نہیں
میں ہاتھ جوڑتی ہوں تو پائوں پڑ جاتا ہے
ء…ز… ء
جاتی سردیاں بے کیف دنوں کو طویل کرتی جارہی تھیں اوپر سے فراغت اور بے معنی سوچیں‘ تقویٰ کو جی بھر کے بور کرتیں اوپر سے اس دشمن جاں کو دیکھے ہوئے کتنے ہی دن ہوگئے تھے۔ کتنے دن ہوگئے بھلا اس نے انگوٹھے کا سرا چھوٹی انگلی کی پور پہ رکھ کے شمار کرنا چاہا ہی تھا کہ دل نے حساب سامنے رکھ دیا نو دن اور سات گھنٹے… بے بس سی مسکراہٹ اس کے لبوں پہ آٹھہری اب حساب کتاب کا فائدہ…؟
کتنے دن ہوگئے فیس بک یوز کیے ہوئے… بوریت سے بچنے کی خاطر وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔ اپنا اکائونٹ تو وہ اس دن کا ہی آف کرچکی تھی سو ٹائم پاس کے لیے نئی آئی ڈی بنانے کا سوچا… بیلا پردہ اسکرین پہ یہی نام ابھرا‘ یہ حاشر کا پسندیدہ نام تھا اکثر وہ اسے اسی نام سے پکارا کرتا تھا۔ رات سونے سے پہلے تک وہ بیلا نام سے اپنا اکائونٹ بنا کے پانچ لوگوں کو ایڈ بھی کرچکی تھی… فراغت کے ہاتھوں مصروفیت کا یہ پہلو آچکا تھا۔ فضول سوچیں بھی دم توڑ گئی تھیں اور رات وہ پُرسکون نیند سوئی تھی۔
…٭٭٭…
چڑیوں کی چہچہاہٹ سے ایک نئے اور بھرپور دن کے آغاز کا پتہ چل رہا تھا‘ مگر تقویٰ کسلمندی سے لیٹی رہی‘ اٹھ کے کرنا بھی کیا تھا… روز وشب میں جمود در آیا تھا… ایک سے سپاٹ دن رات نہ جوش‘ امنگ نہ ولولہ… ڈھیلے قدموں سے روز مرہ کے کام نبٹاتی وہ لیپ ٹاپ لے کے بیٹھ گئی نوٹیفکیشنز میں اس کی دو دوستیں اس کو پانچ گروپس میں ایڈ کرچکی تھیں‘ اف یہ فضول گروپس…‘‘ شاعری‘ شاعری‘ شاعری نجانے لوگوں کو اور کچھ کیوں نہیں سوجھتا ہر فیس بک یوزر کے دو تین گروپ لازمی اور گروپ بھی شاعری کے… ابھی چند ہی روز قبل تقویٰ کو فنانس میں انٹرسٹ ہوا کہ حاشر ایم بی اے فنانس کرچکا تھا گوگل سے مغز ماری کی بجائے اس نے فیس بک کا رخ کیا۔ اس حوالے سے گروپ تو کوئی ملا ہی نہیں‘ ہاں ایک دو پیج ملے مگر جامد… نو پوسٹ نو انفارمیشن‘ تقویٰ کو سخت جھنجلاہٹ ہوئی اور وہ پکا تہیہ کرچکی تھی کہ ماسٹرز کے بعد اپنے مضمون کے حوالے سے گروپ اور پیج بنانے کا… اس کے پاپا پروفیسر تھے اور بقول ڈاکٹر صفدر محمود کے پروفیسر لوگوں کو جہاں چار آدمی ملے لیکچر دینا شروع کردیتے ہیں۔ سو اس کے پاپا کے بقول علم امانت ہوتا ہے اور یہ بات امانت امانت داری سے آگے پہنچا دینی چاہیے‘ ذخیرہ نہیں کرنا چاہئے‘ سو تقویٰ اپنے علم کو اس طرح آگے پہنچانا چاہتی تھی کتنے ہی لاکھوں کی تعداد میں لوگ اس ویب سائٹس پہ موجود ہیں اور کتنے ہی ان میں ماسٹرز یا کسی ہنر میں طاق ہیں اگر سب اسی طریقے سے اپنے علم یا ہنر کو آگے پہنچانے کا بیڑہ اٹھا لیں تو کتنے ہی لوگوں کو فائدہ ہوسکتا ہے یہ بھی تو ایک طرح جہاد بالقلم کے ہی زمرے میں آتا ہے‘ چلو جہاد نہ سہی نیکی تو ہے ہی… فیس بک پہ اِدھر اُدھر نظریں بھٹکاتی‘ یکلخت ٹھٹکی‘ مون نام کے کسی شخص نے اس کو فرینڈ ریکویسٹ بھیجی تھی… میل کی ہر آئی ڈی کو بغیر جانے ہی وہ مٹا دیتی تھی…
’’جو اصول و قوانین واضح ہیں سو ہیں جب معاشرے میں ایک لڑکا اور لڑکی کی دوستی کو اچھی نظر نہیں دیکھا جاتا تو فیس بک پہ کیسے ٹھیک ہے یہ۔‘‘ یہ خیالات تقویٰ کے اس آئی ڈی کو دیکھنے سے قبل کے تھے… اس نام کو وہ اگنور نہیں کرسکتی تھی۔ کیسے کرتی۔ ’’کہ یہ حاشر کا فیورٹ نام تھا‘ وہ اکثر اس سے فرمائش کرتا کہ مجھے مون کہہ کر پکارو… لوگ نہیں بھولتے کبھی نہیں بھولتے کیونکہ ان سے وابستہ یادیں ہمیں کبھی کچھ بھولنے نہیں دیتیں… اور ماضی کی یادیں تلخ ہوں یا خوش گوار‘ ان میں ہمیشہ خوش گواریت ہوتی ہے۔
سو اس نام کو بنا کچھ سوچے اس نے ایڈ کرلیا تھا۔
’’تھینکس ٹو ایڈ می…‘‘ چند لمحے بعد ایک خوب صورت پھول کے ساتھ کہا گیا تھا۔
’’ویلکم…‘‘ کمنٹ میں لکھ کے وہ لاگ آف ہوگئی۔ کتنے ہی کام توجہ طلب تھے… بال روکھے سے ہورہے تھے‘ ان میں تیل لگنا تھا‘ سردیوں کے گرم کپڑے سنبھال کے الماری کے نچلے خانے میں رکھنے تھے‘ مارچ کا آخر ہفتہ چل رہا تھا‘ ریشمی کپڑے تو چل جاتے تھے مگر گرم کپڑے بشمول سویٹرز اور شال کے اپنی مدت پوری کرچکے تھے… سو بے دلی سے وہ سب نبٹاتی رہی۔
ء…ز… ء
وہ ایک بے حد خوب صورت چھوٹی سی بچی کی تصویر تھی جو تقویٰ نے اپنی پروفائل پہ لگائی تھی‘ آج وہ چھ سات دن بعد فیس بک پہ آئی تھی۔ کچھ دیر تصویر کو دیکھنے کے بعد وہ ماڈرن لنگویج کے حوالے سے کسی پیج کی تلاش میں تھی جب نوٹیفکیشن موصول ہوا‘ آپ کی طرح بے حد خوبصورت… تقویٰ نے اس تصویر کے نیچے انگلش میں لکھے اس کمنٹ کو ہلکی سی ناگواری سے دیکھا… فیس بک بھی ’’پبلک پیلس‘‘ ہے جو جب چاہے آپ کے متعلق جو مرضی کہہ دے وہ دوبارہ سے اپنے کام میں مشغول ہوگئی۔
’’آپ کہاں تھیں کسی نے آپ کو مس کیا ڈیئر فرینڈ…؟‘‘ تقویٰ اس کے کمنٹ پہ چونکی اور تو اور میسج بھی موصول ہوا۔ ’’ہائے‘‘
’’اس کا منہ بند کرنا ضروری ہے…‘‘ تقویٰ نے اس سے بات کرنے کا فیصلہ کیا اور وعلیکم السلام ہائے کہا۔
’’کیسی ہیں آپ؟‘‘
’’ٹھیک‘ مجھے آپ سے ایک بات کہنی ہے۔‘‘ تقویٰ نے لکھا۔
’’جی کہیے…‘‘ اس کا جواب فوراً موصول ہوا۔
’’آپ مجھے فرینڈ مت کہیں پلیز میں آپ کی فرینڈ نہیں ہوں۔ نہ ہی مجھے ڈیئر اور اس قسم کے القاب پسند ہیں۔ میں بوائز کو ایڈ نہیں کرتی‘ آپ مجھے ڈیسنٹ لگے سو‘ امید ہے آپ میری خواہش کا احترام کریں گے۔‘‘
’’ایک بات کہوں میں بھی…‘‘
’’جی ضرور۔‘‘
’’آپ فیس بک یوز کرنا چھوڑ دیں۔‘‘ تقویٰ اس کی فرمائش پہ حیران ہوئی۔
’’کیوں؟‘‘
’’بس میں جو کہہ رہا ہوں… آپ بہت اچھی ہیں ویسے۔‘‘ تقویٰ نے جواب دینا مناسب نہ سمجھا۔
’’بیلا آپ کا نام بے حد خوب صورت ہے۔ مجھے یہ نام بہت پسند ہے۔‘‘ چند دن بعد مون اس سے کہہ رہا تھا۔
’’اور اگر میرا یہ نام نہ ہو تو…‘‘ تقویٰ نے جواب میں لکھا۔
’’تو بھی آپ بیلا ہی ہیں‘ میری بیلا۔‘‘ چند لحظے بعد اس نے جواب دیا تھا۔ تقویٰ نے حیرت سے کھلے منہ پہ ہاتھ رکھا اور لیپ ٹاپ بند کردیا۔ وہ سلجھی ہوئی سوچ کا اچھا نوجوان تھا‘ بیلا اب اس سے بات کرنے لگی تھی‘ لیکن اس کی کوئی کوئی بات تقویٰ کو حیرت میں ڈال دیتی‘ اس نے بیلا کو اپنے متعلق سب سچ بتا دیا تھا‘ ایم بی اے کے بعد وہ ایک کمپنی میں جاب کرتا تھا‘ بچپن میں اس کی کزن کے ساتھ اس کی منگنی ہوچکی تھی مگر اس کی کزن اسے پسند نہیں کرتی تھی‘ مون کی شاید اس کے ساتھ کوئی جذباتی وابستگی تھی‘ سو آج کل وہ اس کو بھولنے کے چکروں میں تھا سو جاب کے بعد مزید اسٹڈی اور دیگر ایکٹویٹیز جوائن کر رکھی تھیں اس نے… اچھی بات یہ تھی کہ وہ پرسنل لائف میں دخل اندازی نہیں کرتا تھا‘ اپنے متعلق اس نے سب بتایا تھا مگر تقویٰ سے کچھ نہیں پوچھا تھا‘ بے حد تمیز تہذیب سے بات کرتا تھا‘ تقویٰ سے اس کا نمبر بھی ایک بار مانگا مگر تقویٰ کے انکار کا اس نے بالکل بھی برا نہ مانا… دونوں کے پاس ورڈز تک ایک دوسرے کو معلوم تھے جو بات تقویٰ کے لیے باعث اطمینان تھی کہ اب حاشر کے متعلق سوچنا‘ کڑھنا اور پریشان ہونا کم ہوگئی تھی وہ… اور صرف حاشر کو بھولنے کی خاطر وہ اس سے زیادہ زیادہ بات کیا کرتی تھی۔
اس دن وہ لیپ ٹاپ لیے ٹیرس پہ بیٹھی تھی جب اس نے حاشر کو گھر آتے دیکھا‘ ایک ہاتھ سے موبائل کے بٹنوں سے چھیڑ خانی کرتا دوسرا ہاتھ عادتاً جینز کی جیب میں گھسائے ہوئے… تقویٰ بے اختیار اسے دیکھے گئی‘ چہرے پہ بے حد اطمینان لیے وہ اندر کی جانب بڑھ گیا‘ بغیر اِدھر اُدھر دیکھے حالانکہ شروع سے اس کی عادت تھی کہ گیٹ سے اندر آتے ہی تقویٰ کے ٹیرس پہ ایک نظر دیکھتا اور ہاتھ ہلاتا تھا کہ تقویٰ زیادہ تر یہاں ہی پائی جاتی تھی۔ بے شک کتنی ہی عجلت میں ہوتا وہ… لیکن آج… تو اس نے بھی نئی راہ منتخب کرہی لی… تقویٰ کے دل کو دکھ نے آگھیرا۔ ہمیشہ تو وہ مناتی تھی کیا ہوتا اگر جو اس بار وہ اسے منالیتا‘ قطع نظر اس بات کے کہ غلطی کس کی تھی… مون کے میسجز دھڑ ادھڑ آرہے تھے مگر اس نے لیپ ٹاپ بند کردیا۔ حاشر ایک ہاتھ میں رول کی پلیٹ لیے اور دوسرے میں مگ اٹھائے لان چیئرز پہ آبیٹھا تھا۔ تقویٰ اٹھ کے اندر کی جانب بڑھ گئی۔
ء…ز… ء
ولید کافی دنوں بعد آیا تھا‘ ہمیشہ والا مخصوص شفقت بھرا لب ولہجہ وانداز… نہ کوئی استفسار کیا نہ انکار… تقویٰ نے بھی حاشر والے موضوع پر دوبارہ ولید سے کوئی بات نہ کی تھی… اس وقت وہ لائونج میں بیٹھا پکوڑوں کے ساتھ چائے انجوائے کررہا تھا۔ تقویٰ ان سے تھوڑی دیر گپ شپ لگانے کے خیال سے کمرے سے نکلی ہی تھی کہ معاً اسے سعدیہ کی آواز سنائی دی۔ اف یہ بھی آئی ہوئی ہے۔ تقویٰ وہیں دروازے کے قریب رک گئی کہ تایا جی کے گھر کا ہر فرد اسے دیکھتے ہی اپنے گھر پہ آنے کا شکوہ کرتا۔ سعدیہ کی شکایت کہ مجھ سے ملنے ہماری طرف کیوں نہیں آئی اس بات کا اس کے پاس کوئی جواب نہ تھا سو اس نے لائونج میں جانے سے پرہیز کیا اور وہیں دروازے کے قریب چیئر پر بیٹھ گئی۔ دونوں متوقع الیکشن کے حوالے سے سیاسی صورت حال پہ بحث کررہے تھے۔
’’تمہارے سیل پہ میسجز آرہے ہیں۔‘‘ ولید نے سینٹرل ٹیبل پہ پڑے سعدیہ کے موبائل کی طرف اشارہ کیا۔
سیل کی اسکرین پہ نظریں جماتے سعدیہ کے چہرے پہ ہلکی سی ناگواری در آئی تھی۔
’’کس کے میسجز ہیں۔‘‘ ولید نے یونہی سرسری پوچھا۔
’’کوئی unknown ہے۔‘‘
’’unknown مطلب؟‘‘
’’unknown مطلب پتہ نہیں کون ہے تین چار دن سے لگا تار میسجز آرہے ہیں۔‘‘ سعدیہ نے لاپروائی سے کہا۔
’’تو پوچھو بھئی کہ کون ہے؟‘‘
’’کیوں پوچھوں؟ جب کہ میں جانتی ہوں کہ وہ کوئی unknown ہے‘ پوچھنے کا مطلب میں خود اس سے بات کرنا چاہتی ہوں۔‘‘ سعدیہ کی اس نرالی منطق پہ تقویٰ کو بے اختیار مون یاد آگیا۔
’’شاید کوئی فرینڈ ہو… کوئی اپنی یا اپنا جو یونہی تنگ کررہا ہو یا رہی ہو۔‘‘ ولید نے ایک اور نقطہ اٹھایا۔
’’اپنے کبھی یوں تنگ نہیں کرتے۔‘‘
’’اپنے واقعی کب تنگ کرتے ہیں‘ نہ دکھ دیتے ہیں‘ نہ ہرٹ کرتے ہیں‘ پر وہ اپنے ہوں تب ناں۔‘‘ تقویٰ بے اختیار سوچے گئی۔
تقویٰ کے کالج میں اینول پلے کی تیاریاں چل رہی تھیں‘ اسی سلسلے میں وہ بھی آئی ہوئی تھی‘ ایسی کسی چیز میں اسے کوئی دلچسپی تو نہ تھی مگر پچھلے سال پریکٹس کرتے ایک اسٹوڈنٹ کو ڈائیلاگ غلط امپریشن کے ساتھ بولنے پہ وہ ٹوک بیٹھی تھی اور سر انصاری کی نظروں میں آگئی تھی‘ اب سر ہمیشہ اسے ایسی کسی سرگرمی کی تیاری میں ساتھ ساتھ رکھتے اور تقویٰ بھی ہمیشہ نئے آئیڈیاز پیش کرکے سر کا دل جیت لیا کرتی تھی۔ سر انصاری نے بہت اصرار کیا تھا اسے بھی حصہ لینے کو ڈرامیٹک سوسائٹی کی سیکرٹری بنانے تک کی پیش کش کی مگر اسے ایسی کسی سرگرمی میں کبھی بھی کوئی دلچسپی نہ رہی تھی‘ ابھی بھی جونیئرز کے ساتھ کھپتے اسے پانچ گھنٹے ہوچلے تھے‘ اسے بے ساختہ مون یاد آیا وہ ہر دو گھنٹے بعد ایک دو میسجز ضرور کرتا‘ احوال دریافت کرتا‘ آفس میں یا باہر بھی ہوتا تو سیل سے فیس بک آن کرکے کردیتا تقویٰ نے بھی ایک سائیڈ پہ کھڑے ہوکے سیل سے فیس بک کا آپشن ٹرائی کیا‘ چند دن پہلے ہی اس نے سیل پہ نیٹ کی سیٹنگ کروائی تھی۔ مون کے چھ میسجز آچکے تھے‘ تقویٰ نے بغیر پڑھے اپنی مصروفیات کا بتا کے سائن آئوٹ ہوگئی۔
ء…ز… ء
وہ ڈھلتی رات کا کوئی پہر تھا‘ تقویٰ غنودگی میں جانے کو تھی جب سیل ہلکے سے وائبریٹ ہوا… اف یہ مون بھی نا… تقویٰ کو خوش گوار سی کوفت ہوئی… چوبیس گھنٹے یہ بندہ آن لائن رہتا ہے‘ پتہ نہیں باقی کام کیسے نپٹاتا ہے۔ وہ وہیں لیٹے لیٹے میسج پڑھنے لگی۔
تمہیں وہ مل نہیں پایا
کسی کو میں نے چاہا تھا
مجھے وہ مل نہیں پائی!
ادھوری تم بھی ہو اب تک
ادھورا میں بھی ہوں اب تک
ادھورے پن کی تنہائی تمہیں بھی ڈستی رہتی ہے
ادھورے پن کی تنہائی مجھے بھی ڈستی رہتی ہے
ادھورے پن سے تم بھی اب نکلنا چاہتی ہو ناں…
ادھورے پن سے میں بھی اب نکلنا چاہتا ہوں بس
تمہارے اور میرے مسائل سب ایک جیسے ہیں
سبھی غم ایک جیسے ہیں‘ سبھی دکھ ایک جیسے ہیں
سنو لڑکی…!
چلو اک کام کرتے ہیں…
مجھے تم ویسا ہی چاہو کہ جیسا اس کو چاہا تھا
تمہیں میں ویسا ہی چاہوں گا جیسا اس کو چاہا تھا
چلو آئو کہ مل جل کر نیا اک گھر بناتے ہیں…
محبت کے دیئے کو پھر محبت سے جلاتے ہیں
مون کی بھیجی ہوئی نظم پڑھ کر تقویٰ گم صم سی سوچے گئی۔ کئی دنوں سے مون باتوں باتوں میں ایسی کسی خواہش کا اظہار کر جاتا تھا… شادی کے ذکر پہ تقویٰ نے صرف یہی بتایا تھا کہ اس کی کسی کزن سے بات طے تھی لیکن اب سب کچھ ختم ہوگیا ہے‘ تم بالکل ویسی ہو بیلا جیسی لڑکی میں چاہتا تھا… تم میری آئیڈیل جیسی ہو… ہوبہو میرے خوابوں کی ملکہ جیسی… اس کی ایسی باتوں پہ تقویٰ کبھی کبھار چڑ جاتی۔
’’آپ میرے بارے میں جانتے ہی کیا ہو؟‘‘
’’تعلق بنے گا تو جان بھی جائیں گے ناں۔ ابھی جتنا جاننا ضروری تھا جان لیا۔‘‘ تقویٰ کی بات پر وہ بے ساختہ کہتا۔
’’بیلا…‘‘ رات کی آخری ساعت اس نے پکارا۔
’’جی۔‘‘
’’مجھ سے شادی کروگی…؟‘‘ تقویٰ چند لمحے اسکرین کو گھورتی رہی پھر سیل ایک طرف ڈال کے لیٹ گئی‘ اس کا دل وذہن سپاٹ ہورہا تھا‘ نہ کوئی جذبہ‘ نہ خواہش‘ نہ ادراک‘ وہ خاموشی سے آنکھیں موند کے لیٹ گئی‘ جانتی تھی اب مون کا کوئی میسج نہیں آئے گا‘ جب تک کہ وہ جواب نہ دیتی۔ جانے اس کے جذبے سچے تھے یا نہیں لیکن وہ خود سچا تھا اور تقویٰ یہ کئی بار آزما چکی تھی۔ وہ جو کوئی اور جیسا بھی تھا یہ سچ تھا کہ تقویٰ کو اس کی پروا تھی‘ اس کا انتظار رہنے لگا تھا۔ یہ آخری اعتراف تھا جو اس نے سونے سے قبل کیا تھا۔
ء…ز… ء
سعدیہ اور ولید کی منگنی… دونوں گھروں میں سب سے زیادہ حیران کن خبر یہ صرف تقویٰ کے لیے تھی کیونکہ گھر کے حالات سے باخبر رہنا اس نے کب کا چھوڑ رکھا تھا۔ سب صبح سے تیاریوں میں لگے ہوئے تھے‘ گھریلو پیمانے پر چھوٹا سا فنکشن تھا۔ بلکہ فنکشن بھی کیا دنوں گھر کے افراد نے ہی ہونا تھا‘ پھر بھی تیاریاں زور وشور سے جاری تھیں۔ بلیو جینز‘ سفید ٹی شرٹ پہنے رف سے حلیے میں لیکن مطمئن چہرے کے ساتھ حاشر بھی کئی دفعہ گھر آچکا تھا۔
مما اسے بھی کب کا تیار ہونے کو کہہ چکی تھیں مگر تقویٰ کا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ ولید بھی ابھی تھوڑی دیر پہلے کہہ گیا تھا بہنا آپ کو تو سب سے پہلے تیار ہونا چاہیے تھا۔ یہ ولید حاشر کے متعلق کوئی بات کیوں نہیں کرتا؟ تقویٰ کی ذہنی رو پھر بہکی… شاید یہ سمجھتے ہیں کہ یہ ہمیشہ کی طرح معمولی سی لڑائی ہے مگر انہیں کیا پتہ کہ میں نئی راہ کی مسافر بن چکی ہوں‘ اسے بے اختیار مون یاد آیا۔ نجانے وہ کیسا ہوگا؟ مون نے ابھی تک اسے اپنی کوئی تصویر نہیں دکھائی تھی۔ وہ پہلے ہی وعدہ کرچکا تھا کہ اگر تقویٰ کا جواب مثبت ہوا تو وہ تصویر‘ ویڈیو سب دکھائے گا… اس کے اندر ایک جنگ چھڑی ہوئی تھی‘ دل نہ حاشر کو بھلانے پہ آمادہ تھا اور نہ مون سے دستبرداری اسے منظور تھی۔ حال یہ تھا کہ چوبیس گھنٹے سر میں درد رہتا۔
’’تقویٰ تم ابھی تک تیار نہیں ہوئیں۔‘‘ مما بہ عجلت اندر آئی تھیں۔
’’مما میرے سر میں شدید درد ہے۔‘‘
’’کیا مطلب ہے‘ اس بات کا۔‘‘ ان کی آواز میں غصہ نمایاں تھا۔
’’اس کا مطلب یہ ہے کہ میں صرف دو منٹ میں تیار ہوکے آئی‘ آپ بے فکر ہوجائیں۔‘‘ تقویٰ نے ڈانٹ سے بچنے کے لیے کہا‘ حالانکہ اس کا جانے کا قطعی کوئی ارادہ نہیں تھا‘ دکھاوے کو اس نے کپڑے بیڈ پہ نکال کے رکھے ہوئے تھے یونہی ہر کسی کو دو منٹ کا بہانہ کرکے اس کا ٹائم ویسٹ کرنے کا ارادہ تھا۔
’’جلدی آنا۔‘‘ مما کے لہجے میں تنبیہہ تھی۔ وہ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑے اشیاء کو نئی ترتیب دے رہی تھی جب دروازہ ہلکے سے بجا۔
’’یس…‘‘ ہلکے سے کہتے وہ سوچنے لگی یقینا سعدیہ ہوگی یا ندا… مگر آئینے میں ابھرتی شبیہہ اس نے بے اختیار مڑ کے دیکھا وہ حاشر ہی تھا بلیک ڈنر سوٹ میں ملبوس۔
’’پاپا بلا رہے ہیں۔‘‘ وہ کمرے کے وسط میں آکے بولا۔
’’آرہی ہوں۔‘‘ رخ پھیر کے تقویٰ نے جواب دیا۔
چند ساعتیں یونہی بیت گئیں۔ تقویٰ نے اس کی خاموشی پہ مڑکے دیکھا وہ ویسے ہی کھڑا تھا۔ اس کے دیکھتے ہی بولا۔ ’’پاپا نے کہا تھا ساتھ لے کے آئوں۔‘‘ تقویٰ اس کی ضدی طبیعت سے واقف تھی سو خاموشی سے کپڑے اٹھا کے باتھ روم میں گھس گئی۔ بالوں میں الٹا سیدھا برش کیا تیار ہونے کا ارادہ نہیں تھا سو چپل بدلتے کن انکھیوں سے حاشر کی جانب دیکھا۔ وہ دوسری سمت دیکھ رہا تھا۔ ایک ملال سا دل میں آٹھہرا وہ ہمیشہ گہرے سبز رنگ کے کپڑوں کی بہت تعریف کرتا تھا جو تقویٰ نے پہنے ہوتے‘ اس وقت بھی وہ دوسری طرف متوجہ تھا‘ وہ تو یہاں تک تقویٰ سے کہتا کہ برائیڈل ڈریس اسی کلر کا لینا اور اب… اس نے دروازے کے قریب جاکے مڑ کے دیکھا وہ اسی سمت دیکھ رہا تھا اور کچھ کہنے کے لیے لب کھولے ہی تھے یقینا تیار ہونے کی نصیحت مگر تقویٰ بیشتر اس کے بول اٹھی۔
’’مجھ سے اپنے روم میں ناپسندیدہ چیزیں برداشت نہیں ہوتیں سو پلیز۔‘‘ ایک جھٹکے سے وہ مڑا اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا باہر نکل گیا۔ تقویٰ استہزائیہ ہنستی اس کے پیچھے چل دی۔
ندا‘ سعدیہ تو شاید کچن میں تھیں‘ باقی سب باتوں میں مگن تھے‘ اس کے آنے کا کسی نے کوئی خاص نوٹس نہیں لیا تھا۔ حاشر نے کیوں کہا تایا جی بلا رہے ہیں‘ انہوں نے تو اب کوئی خاص نوٹس نہیں لیا وہ الجھتی کچن میں ندا اور سعدیہ کے پاس آگئی۔
کھانے کے بعد ولید نے سعدیہ کو انگوٹھی پہنائی تھی۔ ندا بہت کوشش کررہی تھی اس سے باتیں کرنے کو مگر تقویٰ ہوں ہاں کے علاوہ کچھ بول ہی نہیں رہی تھی۔ تقویٰ کا سارا دھیان ہنستے مسکراتے پُرسکون مطمئن حاشر کی جانب تھا وہ مسکرا مسکرا کے ہر کام‘ ہر بات میں پیش پیش تھا۔ تقویٰ کو مکمل نظر انداز کرتے ہوئے یہاں تک کہ جب تایا جی نے شادی کا ذکر کیا‘ ان کا پلان موسم گرما کے اختتام پر حاشر اور سعدیہ کی اکھٹی شادی کا تھا تو وہ تب بھی کچھ نہ بولا… وہ کچھ بتاتا کیوں نہیں۔ تقویٰ کو پریشانی نے آگھیرا۔ کہیں وہ کوئی اور لڑکی تو منتخب نہیں کرچکا‘ شادی کے لیے‘ تقویٰ مضطرب ہو اٹھی۔ حاشر کے انداز اسے آگ لگا رہے تھے۔ وہ یونہی سب کے درمیان سے اٹھ کے لائونج میں آگئی۔ سعدیہ جیولری اتار رہی تھی۔
’’سعدیہ میں پی سی یوز کرلوں…‘‘ دل میں ایک فیصلہ کرکے وہ سعدیہ کی جانب پلٹی۔
’’ہاں شیور۔‘‘
’’کیا ہوا…؟‘‘ اسے کافی دیر سے الجھتے دیکھ کے سعدیہ نے پوچھا۔ اوہ ہاں اس میں تو کوئی پرابلم چل رہا ہے‘ تقویٰ آپ حاشر بھائی کا لیپ ٹاپ لے لیں‘ ابھی میں نے فیس بک پر اپنی تصویریں پوسٹ کی ہیں اور اندر آن ہی چھوڑ آئی ہوں۔ سعدیہ کی بات پہ وہ حاشر کے کمرے میں آگئی۔ کمرے کی ترتیب بدستور ویسی ہی تھی اسٹول کھینچ کے اس نے لیپ ٹاپ سامنے کیا ابھی لاگ ان ہی ہوئی تھی کہ حاشر آدھمکا۔
’’مجھے ایک بہت ضروری میسج کرنا ہے۔‘‘ بوکھلا کے تقویٰ نے وضاحت کی۔
’’اوکے…‘‘ کہہ کے وہ وہیں کھڑا رہا۔
’’ہاں میں کروں گی۔‘‘ حاشر نے اسکرین پہ ٹائپ ہوئے ان لفظوں کو کن انکھیوں سے دیکھا تھا۔ میسج سینڈ ہوتے ہی وہ لاگ آئوٹ ہوتی اٹھ گئی تھی۔ رشتے ایسے نہیں بنتے‘ تعلق ایسے نہیں قائم ہوتے مگر ایسی بات ایک ہوش مند انسان سوچتا ہے غصے میں پاگل‘ انتقام کی ضد میں جلتا کلستا نہیں‘ اگر اسے پروا نہیں تو مجھے بھی نہیں ہونی چاہیے‘ ایک نظر حاشر کو دیکھتی وہ اسٹول کھینچ کے اٹھی۔ حاشر بنا اس کو دیکھے اسٹول پہ بیٹھ کر لیپ ٹاپ سیٹ کرچکا تھا۔ وہ جانے کو مڑی ہی تھی کہ جھٹکا کھا کے پیچھے پلٹی‘ اس کے دوپٹے کا ایک کونا اسٹول کے نیچے تھا۔ تقویٰ بے بسی سے وہیں کھڑی دیکھنے لگی‘ حاشر پاس ورڈ ٹائپ کررہا تھا۔
وہ نیچے جھکی جائزہ لینے لگی‘ دوپٹہ کسی طور نہ نکل سکتا تھا۔ جب تک کہ حاشر اسٹول پر سے نہ اٹھتا۔
’’اوہ یس…‘‘ حاشر کی آواز پہ اس نے اٹھ کے دیکھا وہ تھینکس ٹائپ کرکے سینڈ کررہا تھا۔ تقویٰ نے بے حد حیرت سے سینڈ ہوتے میسج اور اس سے اوپر شو ہوتے میسج کو دیکھا اور حاشر کی طرف پلٹی اس کی نگاہوں میں بے یقینی سی بے یقینی تھی۔
’’آپ مون…‘‘ حیرت سے اس کی آواز پھٹی پڑی۔
’’کیا مطلب…؟‘‘ حاشر نے ناسمجھی سے اسے دیکھا۔ ایک نظر لیپ ٹاپ پہ ڈالی اور تقریباً چیختے ہوئے اٹھ گیا۔ ’’تم بیلا…‘‘ اسٹول ایک جانب کو لڑھک گیا تھا۔ تقویٰ کا بے دھیانی سے دوپٹہ کھینچتا ہاتھ پہلو میں آگرا تھا‘ وہ مجرموں کی طرح سر جھکائے کھڑی تھی۔ اس کے تو وہم وگمان میں بھی نہ تھا کہ ایسا بھی کچھ ہوسکتا ہے۔ مون حاشر کیسے ہوسکتا تھا بھلا… مگر ایسا ہوچکا تھا۔ حاشر کچھ پل اس کے جھکے سر کو دیکھتا رہا‘ اسے بھی حیرت تھی بے حد حیرت کہ اس کے سان وگمان میں بھی ایسی کوئی بات نہ تھی۔ پھر وہ مسکرایا اور بے ساختہ ہنستا چلا گیا۔ تقویٰ نے سر اٹھا کے جانچتی نظروں سے اسے دیکھا۔
’’میری بیلا…‘‘ ہنستے ہوئے حاشر نے تصدیق چاہی۔
’’مجھ سے بات مت کریں مجھے بہت سی شکایتیں ہیں آپ سے۔‘‘ وہ رخ موڑے نروٹھے پن سے بولی۔
’’اچھا کیا کیا شکایتیں ہیں؟‘‘
’’آپ نے منایا کیوں نہیں مجھے۔‘‘
’’آج منانے ہی تو آیا تھا مگر تمہیں ناپسندیدہ چیز لگا…‘‘
’’وہ تو میں نے غصے میں کہا تھا ناں…‘‘
’’اچھا اور کیا کیا شکایتیں ہیں…؟‘‘ تقویٰ کے خاموش ہونے پہ حاشر نے پوچھا۔
’’وہ سامنے ہوئے تو عجب سا حادثہ ہوا
ہر حرف شکایت نے خودکشی کرلی‘‘
تقویٰ کے شعر پڑھنے پر اس نے متاثر ہونے کے انداز میں سر ہلایا…
’’اب تو کوئی شکایت نہیں ناں۔‘‘
’’ہے… آپ نے میری تعریف کیوں نہیں کی۔‘‘
’’تم اس کلر میں بہت پیاری لگتی ہو بیلا… مگر اس سڑی بسی شکل میں بالکل نہیں۔‘‘
’’ہاں تو دیکھو میرا کیا حال ہوگیا… آپ کو تو ذرا پروا نہیں تھی ناں۔‘‘
’’پروا تھی ناں‘ یار یہ دل کسی طور بہلتا ہی نہ تھا‘ لیکن تمہیں سبق سکھانا بھی مقصود تھا‘ آخر کب تک چھوٹی چھوٹی غلطیوں پہ یونہی لڑائیاں کرتی رہوگی۔‘‘
’’آئی ایم سوری… غلطی میری ہی تھی۔‘‘
’’اٹس اوکے یار…‘‘ حاشر سے اس کا شرمندہ چہرہ دیکھا نہ گیا۔
’’حاشر اگر وہ مون آپ نہ ہوتے اور بیلا میں نہ ہوتی تو…‘‘ انجانے خدشے کے تحت تقویٰ نے پوچھا۔
’’ہم وہ بات کیوں سوچیں جو ہوئی ہی نہیں۔‘‘ حاشر کے لہجے میں اطمینان تھا۔ ہمیں ہر طور ملنا تھا۔ ہمارا ملنا مقدر میں لکھا تھا‘ ورنہ سوچو فیس بک پہ اور کتنے لوگ ہیں‘ ہم ہی کیوں آپس میں ٹکرائے اور دیکھو وہاں ہماری ایک بار بھی تو لڑائی نہیں ہوئی‘ کتنے اچھے سے اندراسٹینڈ کرتے تھے ہم دونوں۔ اس نے سائیڈ دراز سے انگوٹھی نکال کے تقویٰ کو پہنائی۔
’’اب ٹینس مت ہونا بالکل بھی‘ جب مجھ سے لڑائی ہوا کرے تم اپنے مون سے ٹائم پاس کرلیا کرنا… اور میں اپنی بیلا سے۔‘‘ حاشر کی بات پہ تقویٰ طمانیت سے مسکرائی حاشر اس کو مل گیا تھا اور اس کا مون بھی جو اسے اچھا لگنے لگا تھا۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close