Aanchal Aug-16

نپلا پہ دہلا

راشدہ رفعت

میں چاہتا نہ تھا جواب دینا اسے
ورنہ جواب میرے پاس اس کے ہر سوال کا تھا
اس کی جیت سے ہوئی خوشی مجھ کو
یہی جواز میرے پاس اپنی ہار کا تھا

’’توبہ ہے بھئی ہما کی ساس نے تو لگتا ہے طنزیہ بات میں پی ایچ ڈی کر رکھی ہے۔ پندرہ منٹ کے لیے ان کے پاس بیٹھی تھی اور انہوں نے ان پندرہ منٹوں میں ذو معنی فقروں اور طنزیہ باتوں کے سوا کوئی سیدھی بات نہ کی۔ ہمت ہے ہما کی جو ایسی ٹیڑھی ساس کو برداشت کیے جارہی ہے۔‘‘ تارہ آپی نے ہما کے کمرے میں آکر ہما کی برداشت کو سلام پیش کیا‘ ہما کے چہرے پر پھیکی سی مسکراہٹ پھیل گئی وہ عام شادی شدہ عورتوں کی طرح سسرال والوں کی برائیاں میکے میں کرنے کی عادی نہ تھی یہ سبق اسے اس کی مرحومہ ماں نے پڑھایا تھا وہ کہتی تھیں۔
’’شوہر اور شوہر کے گھر والوں کی اِدھر اُدھر برائیاں کرنے سے عورت صرف اپنا بھرم کھوتی ہے لوگ یا تو ترس کھاتے ہیں یا پھر چسکے لے کر مزید کن سوئیاں لیتے ہیں اس لیے کوشش کرنی چاہیے کہ اپنے گھریلو مسئلے، گھر کی چار دیواری سے باہر نہ نکلنے دیے جائیں اور ویسے بھی وقت گزرنے کے ساتھ عورت کے قدم سسرال کی سر زمین پر مضبوطی سے ٹک جاتے ہیں اور چھوٹے مسئلے مسائل خود بخود دم توڑ دیتے ہیں۔‘‘ ہما نے تو ماں کی یہ نصیحت پلوں سے باندھ لی تھی اس نے کبھی میکے والوں کے سامنے سسرال کی کوئی برائی نہ کی تھی لیکن میکے میں کوئی بھی رشتہ دار اس سے ملنے سسرال آتا تو اسے چند منٹوں میں ہی سسرال میں ہما کی اوقات کا پتا چل جاتا، اپنا بھرم ٹوٹنے پر ہما کے پاس چہرے پر پھیکی سی مسکراہٹ سجانے کے سوا کوئی چارہ نہ رہتا۔ آج اس کی خالہ زاد بہن تارہ آپی چھوٹی بھابی کو ساتھ لے کر اس سے ملنے اس کے سسرال آئی تھیں وہ عرصہ دراز سے بیرون ملک مقیم تھیں برسوں بعد پاکستان آئیں ان کا قیام اپنے جیٹھ کے ہاں تھا۔
سب رشتہ دار ان سے ملنے ان کے پاس پہنچتے رہے جو جاتا انہیں اپنے ہاں آنے کی خصوصی دعوت دے کر جاتا، صرف ہما کو ہی تارہ آپی کے پاس جانے کی فرصت نہ مل پائی تھی، تارہ آپی ویسے تو اس کی خالہ زاد بہن تھیں لیکن ہما کو وہ سگی بہنوں کی طرح ہی عزیز تھیں۔ ہما کے بچپن میں تارہ آپی نے اس کے بہت لاڈ اٹھائے تھے وہ شادی کے بعد کینیڈا جا بسی تھیں برسوں بعد ان کا پاکستان چکر لگتا وہ جب بھی پاکستان آتیں ہما سب سے پہلے ان سے ملنے پہنچتی لیکن یہ اس کی شادی سے پہلے کی بات تھی اس بار تارہ آپی کو آئے بیس دن سے زیادہ ہوگئے تھے ہما باوجود خواہش کے ان سے ملنے نہ جا پائی تھی تارہ آپی چھوٹی بھابی کو ساتھ لے کر خود ہی ہما سے ملنے اس کے سسرال پہنچ گئی تھیں وہ ہما اور ثاقب کے لیے ڈھیروں تحفے لائی تھیں ہما تارہ آپی کو اچانک دیکھ کر پہلے تو بے تحاشا خوش ہوئی لیکن اگلے ہی لمحے اس خوشی پر بوکھلاہٹ نے غلبہ پالیا تھا امی جان لائونج میں آن نکلی تھیں اور ان کی شکل دیکھ کر ہما کے اوسان ویسے ہی خطا ہوجاتے تھے اس نے فوراً ہی تارہ آپی سے ساس کا تعارف کرایا تھا۔
’’کتنی دیر سے اپنے کمرے میں لیٹی تھی کانوں میں آوازیں تو پڑ رہی تھیں‘ بہو کی چہکتی آواز سن کر اندازہ تو ہوگیا تھا کہ کوئی خاص مہمان ملنے آئے ہیں پہلے تو ہم منتظر رہے کہ کوئی ہم سے ملنے ہمارے بھی کمرے میں جھانکے گا پھر سوچا کیوں بہو کے معزز مہمانوں کو اپنے کمرے تک آنے کی زحمت دوں خود ہی سلام کرنے حاضر ہوجاتی ہوں۔‘‘ چہرے پر مسکراہٹ سجا کر امی جان پُرتپاک انداز میں تارہ آپی سے ملی تھیں لیکن ان کا طنزیہ لہجہ کسی طور نظر انداز کرنے کے قابل نہ تھا ایک لمحے کو تو تارہ آپی بھی چپ کی چپ رہ گئی تھیں ہما کی تو ایسے کسی بھی موقع پر خودبخود بولتی ہی بند ہوجاتی تھی آخر بھابی نے ہی ان سے ان کی طبیعت کے متعلق استفسار کرکے گفتگو کا موضوع بدلنے کی کوشش کی۔
’’گھٹنوں اور جوڑوں کے درد نے عاجز کر رکھا ہے‘ بیٹی لیکن شکر ہے پھر بھی اللہ نے اتنی ہمت دے رکھی ہے کہ اپنے کام لشم پشم خود ہی نمٹا لیتے ہیں کسی کا احسان لینے کی نوبت نہیں آتی۔‘‘ سیدھے سے سوال کا پھر ٹیڑھا سا جواب ملا تھا چھوٹی بھابی خود خاصی تنک مزاج تھیں انہوں نے ہما کی ساس کو مزید لفٹ کرانا مناسب نہ سمجھا۔
’’چلو اپنے بیڈ روم میں جا کر اے سی آن کرو، میں تمہارے بیڈ پر دو گھڑی لیٹ کر کمر سیدھی کرلوں، اب تو زیادہ دیر نہ تو کھڑا ہوا جاتا ہے نہ بیٹھا جاتا ہے۔‘‘ بھابی نے ہما کو مخاطب کیا ان کی پریگننسی کا آخری مہینہ چل رہا تھا تارہ آپی جانے کیا سوچ کر انہیں ساتھ لے آئی تھیں ان کی ہیئت دیکھ کر ہما کو خود ہی شرم سی آگئی وہ فوراً انہیں ساتھ لیے اپنے بیڈ روم میں آگئی، تارہ آپی مروت میں اس کی ساس کے پاس لائونج میں ہی بیٹھ کر گپ شپ لگانے لگی تھیں۔ شکر ہے ثاقب کسی کام سے گھر سے باہر گئے ہوئے تھے چھوٹی بھابی مزے سے پائوں پسار کر بیڈ پر لیٹ گئی تھیں۔
’’آپ گھر پر ریسٹ کرتی بھابی تارہ آپی کے ساتھ کسی اور کو بھیج دیتیں۔‘‘ اس نے رسانیت سے انہیں مخاطب کیا۔
’’گھر پر تمہاری بڑی بھابی کے میکے والوں نے ہلہ بول رکھا تھا بڑی بھابی کو میری طبیعت کی کب پروا ہوتی ہے اپنے پورے خاندان کو ظہرانے پر مدعو کیا وہ تو شکر ہے تارہ باجی آگئی میں تو فوراً ان کے ساتھ نکل آئی، اب تمہارے ہاں سے فارغ ہوکر آصفہ چچی کے ہاں جانے کا ارادہ ہے۔‘‘ چھوٹی بھابی نے بتایا تو ہما نے اثبات میں سر ہلایا پھر انہیں ٹی وی کا ریمورٹ دے کر خود خاطر تواضع کا سامان کرنے کچن میں جا گھسی تھی۔ کولڈ ڈرنکس اور انسیکس کی ٹرے لے کر جب وہ واپس بیڈ روم میں آئی تو تارہ آپی بھی وہیں آگئی تھیں اور اب اس کی ساس کی تیزی طراری پر اظہار خیال کررہی تھیں۔
’’ثاقب اپنی ماں کو ایسی باتوں پر نہیں ٹوکتا کیا بندہ گھر آئے مہمان کا ہی کچھ لحاظ کرلیتا ہے تمہارے بارے میں مستقل طنزیہ فقرے بولتی رہیں، میرے جی میں تو آیا کہ کہوں کہ ہمارے خاندان کی سب سے بھولی بھالی بچی سے بھی اگر آپ کو شکایت ہے تو پھر آپ کا اللہ ہی حافظ ہے بڑی بی، پھر یہ سوچ کر خاموش رہی کہ میں تو ذرا سی دیر میں چلی جائوں گی بعد میں تمہیں ان کی اور الٹی سیدھی برداشت کرنا پڑے گی۔‘‘ تارہ آپی کو ہما کی خرانٹ ساس سے مل کر ٹھیک ٹھاک غصہ آگیا تھا۔
’’امی جان دل کی بری نہیں آپی، بس ان کی عادت ہی کچھ ایسی ہے۔‘‘ ہما نے خوامخواہ ساس کی صفائی پیش کرنے کی کوشش کی۔
’’دل میں کون جھانک کر دیکھ سکتا ہے چندا، بندے کی اچھائی برائی کا زبان سے ہی پتا چلتا ہے۔‘‘ تارہ آپی نے گہری سانس اندر کھینچی تھی ہما خاموش ہوگئی، تارہ آپی اور چھوٹی بھابی ذرا سی دیر میں واپس چلی گئی تھیں ہما نے ان سے وعدہ کیا تھا کہ وہ بہت جلد ثاقب کے ساتھ ان سے ملنے آئے گی، ثاقب واقعی اسے دو دن بعد تارہ آپی سے ملوانے لے گیا تھا۔
’’بہت سمجھدار اور صابر شاکر بیوی ہے تمہاری ثاقب میاں، اس کی قدر کیا کرو۔‘‘ تارہ آپی نے ثاقب کو نصیحت کی تھی ثاقب نے مسکرا کر اثبات میں سر ہلا دیا، وہ بھلا مانس شخص تھا ہما سے محبت بھی کرتا تھا اور اس کا خیال رکھنے کی اپنی سی ہر ممکن کوشش بھی کرتا تھا لیکن اپنی ماں کی ہر وقت طنز کرنے والی عادت کا اس کے پاس بھی کوئی توڑ نہ تھا، وہ بیوی کو ہی برداشت کی تلقین کرتا ہما میں برداشت کا مادہ بہت تھا لیکن جب کسی دوسرے کے سامنے عزت افزائی ہوتی تب ضبط کرنا مشکل ہوجاتا اس روز وہ دوپہر کے کام نمٹا کر ذرا سستانے لیٹی تو جلد ہی گہری نیند نے آن گھیرا، روز کی نسبت خاصی دیر سے آنکھ کھلی وہ بوکھلا کر کمرے سے نکلی، امی جان کی چائے کا وقت تھا اور انہیں اپنے کسی بھی کام میں ذرا سی بھی دیر سویر گوارا نہیں تھی۔
کچن میں جانے سے پہلے لائونج سے گزر ہوا تو پڑوس کی فاطمہ آنٹی کو ان کے پاس بیٹھے دیکھا، اس نے رک کر انہیں سلام کیا۔
’’اٹھ گئی بیٹی، آئو ذرا دو گھڑی کو یہاں فاطمہ کے پاس بیٹھو میں چائے بنانے جارہی ہوں اور تم صرف چائے پیو گی یا ساتھ کوئی کیک بسکٹ بھی لائوں۔‘‘ وہ پائوں میں سلیپر ڈال کر بہو سے استفسار کررہی تھیں۔
’’آپ بیٹھیں امی میں دو منٹ میں چائے بنا کر لائی۔‘‘ ہما شرمندہ ہوتے ہوئے بولی۔
’’ارے ہم تو گھنٹے بھر سے بیٹھے ہی ہوئے تھے کب سے چائے کی طلب ہورہی تھی پھر تمہاری فاطمہ آنٹی بھی آگئیں انہیں اکیلا بٹھا کر کچن میں جاتی اچھی لگتی کیا‘ بس اسی لیے تمہاری منتظر تھی۔ تم جاگ گئی ہو تو بیٹھو، خوب سوئی تھکن تو اتر گئی ہوگی باقی گرما گرم چائے پی کر اتر جائے گی، ابھی تمہیں چائے بنا کر پلاتی ہوں۔ بس دو منٹ کی مہلت دو۔‘‘ وہ چہرے پر مسکراہٹ سجائے اپنے مخصوص طنزیہ انداز میں مخاطب تھیں۔
’’میں چائے لاتی ہوں امی آپ بیٹھیں۔‘‘ ہما دھیرے سے کہہ کر کچن میں چلی گئی وہ مزے سے بیٹھ کر پڑوسن سے گپیں لگانے لگی تھیں، مقصد بہو کو شرمندہ کرنا تھا سو وہ مقصد پورا ہوگیا تھا۔
’’ثاقب کی دلہن تو بہت سیدھی ہے زینب، یہ بتائو سرمد کے لیے لڑکی کی تلاش مکمل ہوگئی کیا۔‘‘ فاطمہ بیگم پوچھ رہی تھیں۔
’’ثاقب کی دلہن اتنی سیدھی نہیں ہے گنوں کی پوری ہے میرے بھولے بھالے بیٹے کو اپنی مٹھی میں کر رکھا ہے، حالانکہ نہ شکل، نہ صورت، میکہ بھی تگڑا نہیں ہے وہ تو میری مت ماری گئی تھی جو میں نے اپنے ہیرے جیسے بیٹے کی یہاں قسمت پھوڑ دی، سرمد کے لیے لڑکی کا انتخاب خود چھان پھٹک کر کروں گی دو ہی تو بیٹے ہیں میرے اب بہو کے انتخاب میں غلطی کی گنجائش ہی کہاں بچتی ہے۔‘‘ وہ نخوت بھرے انداز میں بولی تھیں، فاطمہ بیگم نے بھی ہنکارا بھرا تھا۔
اور پھر درجنوں لڑکیاں مسترد کرنے کے بعد زینب بیگم نے چھوٹی بہو ڈھونڈ ہی لی تھی، خوب امیر کبیر فیملی تھی لڑکی بھی بہت خوب صورت تھی خوب دھوم دھام سے ہما کے دیور کی شادی ہوئی اور نازک اندام شازمین دلہن بن کر سسرال پہنچ گئی، زینب بیگم نے شروع شروع میں نئی بہو کے خوب چائو چونچلے اٹھائے بلکہ یہ چونچلے ہما کو ہی اٹھانے پڑے کہ امی جان کو تو صرف حکم دینا آتا تھا پھر شادی کے دو برس بعد اللہ نے ہما کو خوشخبری سے نواز دیا، ہما کا رواں رواں اپنے رب کا شکر گزار تھا ثاقب کی خوشی کا بھی کوئی ٹھکانہ نہ تھا گائناکولوجسٹ نے ہما کی ویکنیس کی وجہ سے اسے بھرپور ڈائٹ اور مکمل ریسٹ کی تلقین کی تھی۔ ثاقب نے گھر آکر ڈاکٹر کی نصیحتیں من وعن دہرا دی تھیں۔
’’ہاں بھئی انوکھا بچہ پیدا کرنے چلی ہیں بہو بیگم۔‘‘ زینب بیگم بھی خوش تو تھیں لیکن طنزیہ فقرہ بولے بنا نہ رہ پائیں۔ بہرحال انہوں نے چھوٹی دلہن کو گھر کے کاموں میں ہاتھ ہٹانے کی ہدایت کردی تھی سچ بھی یہی تھا کہ انہیں شازمین کا ہر وقت کمرہ بند کرکے آرام کرنا کھلنے لگا تھا شازمین نے گھر کے کاموں میں حصہ لینا شروع تو کردیا تھا لیکن وہ گھریلو کام کاج میں اناڑی تھی۔
ہما سے طریقے پوچھ کر کوکنگ کرتی چیز اچھی پک جاتی تو فراخدلی سے اس کا کریڈٹ سب کے سامنے ہما کو ہی دیتی، دیورانی کے حوالے سے ہما کے ذہن میں جو خدشات تھے وہ اب دم توڑ چکے تھے شازمین اچھے مزاج کی لڑکی تھی وہ ہما کو جیٹھانی نہیں بلکہ بڑی بہن کا درجہ دیتی تھی، ہما کا بھی اس ہنس مکھ اور لاابالی سی لڑکی سے بہت محبت والا تعلق استوار ہوگیا تھا شازمین کے مزاج میں بہت بچپنا بھی تھا ہما اس کی اکثر بے وقوفیوں پر ہنس ہنس کر دہری ہوجاتی لیکن پھر اسے عقل سے کام لینے کی ہدایت بھی کرتی، دونوں دیورانی جیٹھانی کا تعلق دیکھ کر زینب بیگم بے چین سی رہتیں، ہما پرانی تھی انہیں اس پر زیادہ غصہ نہ آتا البتہ شازمین کے طور طریقے ان کی برداشت سے باہر ہوتے جارہے تھے سرمد تو ثاقب سے بڑھ کر زن مرید ثابت ہورہا تھا زینب بیگم بیوی سے اس کا التفات دیکھ کر پہروں کڑھتیں، اب ان کی توپوں کا رخ شازمین کی جانب ہوگیا تھا لیکن شازمین میں ہما جیسی برداشت نہ تھی، اس روز جب شازمین اور سرمد شام کو سیر سپاٹے کے لیے نکل رہے تھے زینب بیگم کو جلال چڑھ گیا انہوں نے روز روز کے سیر سپاٹوں پر بیٹے، بہو کو بے نقط سنائی سرمد تو ماں کے پاس بیٹھ کر ان کا غصہ ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرتا رہا شازمین واپس اپنے کمرے میں چلی گئی۔
’’میرا گھٹنا پکڑ کر کیوں بیٹھا ہے جا کر اپنی بیوی کو منا دیکھا نہیں کیسے تن فن کرتی گئی ہے۔‘‘ انہوں نے سرمد کو جھڑکا۔
’’پہلے آپ کو تو منالوں پھر بیوی کو بھی منالوں گا مرد بے چارہ تو چکی کے دو پاٹوں کے درمیان پستا رہتا ہے۔‘‘ سرمد نے ٹھنڈی سانس بھر کر خود کلامی کی زینب بیگم بیٹے کو گھور کر رہ گئی۔ رات تک شازمین کمرے سے باہر نہ نکلی، زینب بیگم کو بہو پر مزید تائو چڑہتا رہا، صبح شازمین کمرے سے نکلی تب بھی اس کے چہرے کے زاویے بگڑے ہی ہوئے تھے کوئی بہو بھی یوں تیور دکھا سکتی ہے یہ زینب بیگم کے لیے نیا تجربہ تھا سرمد اور ثاقب آفس چلے گئے تو زینب بیگم نے بہو کی طبیعت صاف کرنے کی ٹھانی، شازمین ہنوز منہ پھلائے اپنے حصہ کے کام نمٹاتی پھر رہی تھی جب زینب بیگم نے اسے آواز دے کر بلایا۔
’’جی امی کوئی کام ہے کیا؟‘‘ اس نے لٹھ مار انداز میں پوچھا۔
’’میری ایسی مجال کہاں کہ تمہیں کسی کام کا کہوں، میں نے تو تمہیں معافی مانگنے کے لیے بلایا ہے، معاف کردو بھئی ہمیں کل تمہاری شان میں کچھ گستاخی کردی تھی، تمہارے چہرے کے زاویے درست ہونے کا نام ہی نہیں لے رہے مان لیا بھئی بہت بڑا قصور سرزد ہو گیا تھا مجھ سے آئندہ ہماری توبہ جو تمہیں کسی بات پر ٹوکا، ہاتھ جوڑ کر معافی مانگتے ہیں تم سے۔‘‘ وہ اپنے مخصوص طنزیہ انداز میں بہو سے مخاطب تھیں، ہاتھ بھی جوڑ دیے، پاس بیٹھی ہما نے بوکھلا کر پہلے ساس اور پھر دیورانی کو دیکھا اسے پتا تھا کہ شازمین اب بری طرح سٹپٹا جائے گی کیسی ناراضگی، کہاں کی ناراضگی، اسے اپنے کردہ، ناکردہ جرم کی فوراً معافی مانگنی پڑے گی، ساس کے جڑے ہاتھ کھولتے ہوئے اسے کتنی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
’’حد کرتی ہیں آپ امی جان کیوں مجھے گنہگار کررہی ہیں آپ بڑی ہیں ڈانٹ ڈپٹ اور روک ٹوک کا اختیار رکھتی ہیں آئندہ آپ کو کبھی شکایت کا موقع نہیں دوں گی۔‘‘ ہما منتظر تھی کہ شازمین کچھ اس طرح کے فقرے بولے گی مگر وہ بولی تو کیا۔
’’مجھے اندازہ تھا امی جان کہ آپ کو اپنی غلطی کا احساس ہوجائے گا اب اس بات کو جانے دیں بس آئندہ خیال کیجیے گا۔‘‘ بہت بے نیازی سے ساس کی جانب فقرہ اچھال کر شازمین کچن میں گھس گئی، زینب بیگم کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں، بے ساختہ قہقہے کا گلا گھوٹنے کا جتن کرتے ہوئے ہما کے دانت بھینچ گئے تھے اور آنکھوں میں پانی جمع ہونے لگا اس وقت تو اس نے جیسے تیسے ضبط سے کام لیا مگر اپنے کمرے میں جا کر دل کھول کر ہنسی تھی بعد میں اس نے شازمین کو سمجھایا ضرور تھا۔
’’آئندہ ایسی بے وقوفی مت کرنا امی بڑی ہیں تمہیں ان کا ادب، لحاظ، ملحوظ رکھنا چاہیے تھا، ایسی حرکتوں سے وہ تم سے مزید برگشتہ ہوجائیں گی۔‘‘ اس نے شازمین کو رسانیت سے مخاطب کیا۔
’’جانتی ہوں ہما بھابی، آئندہ احتیاط کروں گی لیکن میں بھی کیا کرتی امی جان کی طنزیہ باتیں اب میری برداشت سے باہر ہوتی جارہی تھیں، اب کچھ دن تک میں اپنی زبان قابو میں رکھوں گی تو کم از کم امی جان بھی کوئی طنزیہ بات کہنے سے پہلے تین بار تو ضرور سوچیں گی۔‘‘ شازمین مزے سے بولی تب ہما نے اسے تادیبی انداز میں گھورنا چاہا تھا مگر اگلے ہی پل وہ ہنس پڑی تھی۔
شازمین کے طرز عمل سے اختلاف سہی مگر جینے کا یہ انداز اس کے من کو بھا گیا تھا۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close