Aanchal Aug-16

عید سروے

سعیدہ نثار

سحرش فاطمہ… کراچی
ہر سال عید کی رنگینیوں میں آنچل ہمیشہ سروے کے ساتھ حاضر ہوتا ہے اور الحمدُ للہ میں بھی ۲ عیدوں سے اِس سلسلے میں اپنی حاضری دے رہی ہوں۔ جہاں ہم اپنی عید کی باتیں اپنے خیالات کا اظہار آپ سب سے کرتے ہیں۔اِس بار کے سوالات بڑے مزے کے ہیں لیکن جوابات؟؟ چلیں آئیں دیکھتے ہیں کیسے ہوتے میرے جوابات۔
۱: جناب ابھی تک تو اِس رشتے سے میرا کوئی تعلق نہیں جڑا تو یہ سوال میں اسکپ کررہی ہوں (کھانستے ہوئے)
۲: بچپن سے لے کر اب تک میں نے کبھی تاخیر نہیں کی (ہائے اللہ یہ لڑکیوں والی بات تو نہ تھی؟) ، لیکن کبھی کبھار زیادہ وقت لگنے کا اندیشہ ہو تو میں تھوڑا ٹائم پہلے سے تیاری شروع کردیتی ہوں تاکہ مقرہ وقت پہ تیار ملوں (اب یہ بات تو قابلِ قبول ہے ناں؟) اچھا سوال یہ بھی ہے کہ کہاں جانے کے لئے جھٹ پٹ تیار ہوجاتی ہیں تو کہیں بھی جانا ہو میں فوراََ تیار ہوجاتی ہوں۔
۳:عید کی شاپنگ کا اصل مزہ چاند رات پہ ہی ہوتا ۔ میں بھائی اور بھابھو کے ساتھ جاتی ہوں مہندی لینا،چوڑیاں یا کڑے وغیرہ لینا۔ عید کی ویسے تمام شاپنگ تو اب بھائی ہی کرواتے مجھے (اللہ ایسا بھائی سب کو دے آمین)
۴:جو ہمیشہ سے پڑھتے آئی ہوں وہی پڑھتی ہوں۔
۵: کوکنگ۔
۶:میں اِس معاملے میں بھی سادہ ہی ہوں۔ اپنا وہی شلوار قمیض ہاں کبھی فیشن کے حساب سے کروا بھی لیا تو بھی تمیز کے دائرے میں (ھاھاھا )
۷:پہلے امی ابو کے ساتھ کرتی تھی اب بھائی بھابھو کے ساتھ۔
۸: نہیں ایسا کوئی یاد نہیں پڑتا۔
۹: میں کھیر بناتی ہوں اپنے اسٹائل سے۔
دودھ دیڑھ لیٹر اور آدھا لیٹر پانی
چینی حسبِ ذائقہ،
چاولوں کو بھگو کر گرائنڈ کرلیں۔
جب دودھ کو بالنے کے لئے رکھیں ساتھ ہی چینی بھی ڈال دیں ۔ میں الائچی نہیں ڈالتی۔ جب ابال آنے لگے آنچ دھیمی کرکے اُس میں چاول ڈالیں اور لکڑی کے چمچ سے ہلاتے رہیں ۔
گھر میں روز بلائی جمع کی ہوئی ہوتی ہے میں وہ ایک پیالی ڈالتی ہوں اور ساتھ میں ساگو دانہ ۔
اب آخر میں کنڈینسڈ ملک آدھے سے ایک پیالی لے لیں ۔ خیال رہے کہ چینی کی مقدار کم ہو کیوں کہ کنڈینسڈ ملک خود میٹھا ہوتا ہے۔ اگر کوئی کنڈینسڈ ملک نہیں لے سکتا تو وہ کوئی بھی پاوڈر فارم میں دودھ لے اور ایک پیالی پاوڈر میں تھوڑا سا پانی ڈال کر پیسٹ بنا لیں۔
ہلکی آنچ میں کھیر پکائیں اور ٹھنڈا سا سرو کریں۔
کیسی لگی میری یہ ریسپی؟ مجھے بتائیے گا ضرور ۔
سلمیٰ غزل… کراچی
1) میرا کوئی سسرال نہیں ہے اور جو دور پرے کے سسرالی ہیں وہ پنجاب میں ہیں کیونکہ میاں پنجابی اور میں اردو اسپیکنگ مگر شوہر صاحب کبھی کبھی ساس نند کا رول ادا کردیتے ہیں اس لیے کمی محسوس نہیں ہوتی۔
2) عید کی نماز پر جاتے ہوئے شوہر کا یہ کہنا کہ ’’نماز پڑھ کر آئوں تو تیار ملنا ماسی بنی نہ رہنا۔‘‘ اور پھر بچوں کا گلے مل کر عیدی مانگنا ساری تھکن دور کردیتا ہے مگر اب یہ باتیں خواب ہوئیں کہ دونوں بیٹے امریکہ میں اور بیٹی سسرال میں اس لیے معمولات رات ہی سے شروع ہوجاتے ہیں مثلاً پردے ‘ چادریں بدلنا گھر کی صفائی‘ پکوان کوئی خاص نہیں کہ بچے باہر ہیں۔
3) میں ورکنگ وومن ہونے کی وجہ سے کبھی تیاری میں دیر نہیں لگاتی۔ میرے شوہر بے حد وقت کے پابند ہیں اور ان کے ساتھ رہ رہ کر میری بھی عادت ہوگئی ہے لیکن تقاریب میں ہمیشہ سے ساڑھی باندھتی ہوں تو پندرہ منٹ اضافی سمجھ لیں۔
4) شادی سے پہلے ٹھٹھہ میں رہتی تھی اور وہاں خواتین کا بازار جانا برا سمجھا جاتا تھا اس لیے کراچی میں بھیا مرحوم یا والد مرحوم کے ساتھ خریداری ہوتی تھی لیکن نہ کوئی نخرہ نہ کوئی فرمائش ۔
5) عبادت میرا شوق ہے جو میں جوانی سے کررہی ہوں شکر الحمدللہ فرض روزوں کے علاوہ بھی ہر سال ایک دو ماہ کے روزے رکھ لیتی ہوں (گرمی کی وجہ سے کمی آگئی ہے) تفصیل کیا بتائوں ایک چیز کا گزشتہ سال جنوری 2015ء سے اضافہ ہوا ہے میں ’’سورۃ بقرہ‘‘ روزانہ ایک ہی نشست میں پڑھتی ہوں کہ کسی نے بتایا تھا کہ جس گھر میں اس سورت کی تلاوت ہو وہاں شیطان نہیں آتا۔ رمضان شریف میں چھ نفل مغرب میں ضرور پڑھتی ہوں غالباً اسے ’’نماز اوابین‘‘ کہتے ہیں۔
6)مجھے ہر کام کا شوق ہے سلائی و بنائی‘ کڑھائی اور کوکنگ مگرعمر کے ساتھ اور بچوں کے بعد ہر کام سے دل بے زار ہونے لگا ہے پھر بھی کوکنگ شوق سے کرلیتی ہوں۔
7) عید پر شلوار قمیص بڑے سے دوپٹے کے ساتھ اچھا لگتا ہے وہ بھی لان یا کاٹن کا۔
8) عید کی شاپنگ عموماً بیٹی کے ساتھ کرتی ہوں یا تنہا کیونکہ میاں کو بالکل شوق نہیں بلکہ ان کے لیے خریداری بھی میں ہی کرتی ہوں صرف شعبان کے مہینے میں رمضان میں بازار نہیں جاتی سوائے مجبوری کے۔
9)جب تک ماں باپ زندہ رہے میں نے کوئی عید کراچی میں نہیں کی اور جو عید ان کی زندگی میں کراچی میں کی وہ یادگار ہے۔ عین چاند رات کو جبکہ میں ٹھٹھہ جانے کی تیاری کررہی تھی روزہ کھول کر میں ہسپتال پہنچ گئی اور عین عید کے دن دوسرا بیٹا پیدا ہوا اور ڈاکٹر نے مبارک باد دے کرکہا آپ کو ’’عیدی مل گئی‘‘ اور میرے پورے روزے بھی ہوئے۔
10)مجھے میک اپ میں کاجل‘ لپ اسٹک اور پرفیوم بے حد پسند ہے میک اپ کی کوئی خاص شدہ بدہ نہیں۔ کھانے کی ٹپس ضرور بہنوں کو دوں گی جو میں روزمرہ زندگی میں استعمال کرتی ہوں اندازاً پانچ دن کے کھانوں کے لیے مصالحہ بھون کر رکھ لیں مثلاً
بڑی پیاز
پانچ عدد
ادرک لہسن پسا ہوا
پانچ چمچ
پسی لال مرچ
ڈھائی چمچ
دھنیا
ایک بڑا چمچ
ہلدی
ایک بڑا چمچ
ثابت گرم مصالحہ

دہی
ایک پائو
ٹماٹر
ایک کلو
تیل
ایک پائو
یہ سب ڈال کر پکائیں پھر اچھی طرح بھون لیں‘ پانچ پلاسٹک کے ڈھکن والے ڈبوں میں برابر سے تقسیم کرکے فریز کرلیں۔ کوفتے بناکر ایک دن ٹرے میں پھیلا کر وہ بھی فریز کرلیں پھر سخت ہونے پر زپ لاک میں ڈال کر فریز میں رکھ دیں۔ اب سالن پکانا بہت آسان ہے‘ ایک چمچ تیل میں گوشت اچھی طرح تلیں‘ مصالحہ ڈالیں‘ سبزی ڈالیں‘ آلو‘ گوبھی‘ لوکی‘ مٹر یا ٹنڈے کوئی بھی سبزی ڈال کر گلنے کے لیے چھوڑ دیں۔ گوشت اور سبزی گل جائے تو پسا ہوا گرم مصالحہ اور ہرا دھنیا ڈال کر اتار لیں آدھا گھنٹے میں ہر طرح کا سالن تیار کیونکہ میں جانتی ہوں پنجاب کے کلچر میں ’’روٹی شوٹی‘‘ کھاکر جانا جملہ عام ہے اور مجھے خوشی بھی ہے اور فخر بھی کہ کھانے کے وقت میں کسی کو بغیر کھاناکھائے جانے نہیں دیتی۔ اچار چٹنی اور مربے ہر موسم میں میرے گھر کے ہوتے ہیں۔ پتا نہیں آج کل لڑکیاں یہ کہنے میں کیوں فخر محسوس کرتی ہیں کہ ہمیں کوئی کام نہیں آتا اور میںاس عمر میں بھی یہ کہہ کر خوش ہوتی ہوں کہ مجھے ہر کام آتا ہے سوائے فلائنگ کے‘ میرا خیال ہے کچھ زیادہ ہی ہوگیا۔
عرشیہ ہاشمی… آزاد کشمیر
۱۔ سسرال سے عیدی ایک ہی بار آئی اور اس میں ڈریس کلر لیمن تھا جو اس زمانے میں میرے ناپسندیدہ کلرز میں شمار ہوتا تھا باقی چیزیں بھی میچنگ نہیں تھیں (یہ تو بعد میں پتا چلا کہ ہسبینڈ صاحب نے تمام شاپنگ اپنی پسند سے کی تھی) بہر حال امی کی گھوریوں، ہسبینڈ کی فرمائش اور احساس مروت کے باوجود وہ ڈریس عید کی صبح تک تیار نہ ہو سکا۔
۲۔ عیدالفطر روزہ دار کے لیے دوہری خوشی لے کر آتی ہے۔ ہمارے ہاں تو عید زبردست طریقے سے منائی جاتی ہے ایریا کے سب لوگ مل کر عید مناتے ہیں ایک دوسرے کے گھر جا کر کھانے سرو کیے اور کھائے جاتے ہیں اس طرح مصروفیت بھرے دن کا اختتام ڈھیروں تھکان کے ساتھ ہوتا ہے۔
۳۔ ہی ہی ہی شوہر کی جیب ہلکی تو ہو جاتی ہے لیکن کیا ہو سکتا ہے ہم مجبور ہیں (ہاہاہاہا)
۴۔ رمضان المبارک کی ہر گھڑی کو موقع غنیمت جانتے ہوئے بہت سے وظائف کا ورد کیا جاتا ہے میں جب بھی تسبیح اٹھاتی ہوں آیت کریمہ اور درود پاک کا ورد کرتی ہوں۔
۵۔ شاپنگ اپنی بہن کے ساتھ جا کر کرتی ہوں وہ بزی ہوں تو اکیلی بھی کر لیتی ہوں۔
۶۔کوکنگ تو ہمیشہ میری ہی ذمہ داری ہوتی ہے چاہے عیدین ہوں۔کوئی دعوت ہو یا مہمان نوازی اس کے علاوہ برتن دھونے کا کام بھی میری ذمہ داری میں شامل ہے۔
۷۔ عید کے موقع پر موسم کی مناسبت سے کپڑے لیتی ہوں ویسے بھاری اور بہت زیادہ فینسی سوٹ مجھے بالکل بھی نہیں پسند لباس سمپل اور سٹائلش ہونا چاہیئے۔
۹۔ شادی سے پہلے تو ہم چوڑیاں پہننے کے لئے چاند رات کو ہی جایا کرتے تھے کئی سال پہلے ہم بہنیں اپنے ابو،امی، ماموں اور بھائیوں کے ساتھ چاند رات کی رونق بازار میں دیکھنے کے لئے گئے ہم نے چوڑیاں بھی خریدیں۔ چاٹ کھائی اور گفٹس بھی خریدے وہ چاند رات بہت اسپیشل تھی کیونکہ ہم سب اکٹھے ایک ساتھ تھے۔
۱۰۔ ٹپس یہ ہیں کے اپنے پہناوے اور میک اپ میں موسم کی نوعیت کا خاص خیال رکھیں اکثر خواتین گرم موسم میں بھاری فینسی سوٹ پہن کر نک سک سے تیار تو ہو جاتی ہیں لیکن کچھ دیر بعد ہی پسینے کی بوچھاڑ سے سب میک اپ بہہ جاتا ہے۔
میک اپ کرتے ہوئے اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ اگر آپ آنکھوں پر گہرا میک اپ اپلائی کر رہی ہیں تو لپ اسٹک لائٹ شیڈ کی یوز کریں یا اگر آنکھوں پر ہلکا میک اپ ہے تو لپ اسٹک ڈارک ہونی چاہیے۔
عائشہ پرویز… کراچی
1) ہائے میرا سسرال ہوگا تو عیدی آئے گی نا۔
2) عید تو جب ہوا کرتی تھی جب ہم سب سکھیاں ساتھ تھیں‘ ہم سب ایک دوسرے کے گھر عید کا تحفہ لے کر جایا کرتے تھے۔ عید کارڈ کے تبادلے ہوا کرتے تھے اور افطاری بھی وہیں کرتے تھے حتیٰ کہ اسکول و کالج میں ٹیچرز کو بھی عید کارڈ دیا کرتے تھے۔ اب تو سب دوستوں کی شادیاں ہوگئیں تو دو تین سال سے عید کا وہ مزا نہیں رہا ورنہ ہم تو عید سے پہلے عید کی خوشیاں منانا شروع کردیتے تھے اب تو عید بالکل سادہ انداز سے مناتی ہوں۔ نئے کپڑے بنا تو لیتی ہوں مگر گھر کے کام کرنے کے بعد پہنوں تو زیادہ اچھا لگتا ہے پھر سارا دن تیار ہوکے بس مہمانوں سے ملنا ملانا رہتا ہے۔ مہندی‘ چوڑیاں پہلے بھی اچھی لگتی تھیں۔اب بھی لگتی ہیں مگر پہلے جو کشش ان میں ہوتی تھی اب تو وہ عیدیں خواب ہوئیں‘ اپنی دوستوں سے کہوں گی۔
چلو عہد محبت کی ذرا تجدید کرتے ہیں
چلو تم چاند بن جائو ہم پھر سے عید کرتے ہیں
3) میں ان لڑکیوں میں نہیں جو ہار سنگھار میں ہمیشہ تاخیر کردوں‘ ہاں جی ریسٹورنٹ جانے کے لیے جھٹ پٹ کیا ہر وقت تیار رہتی ہوں۔
4) عید کی شاپنگ اللہ پاک پاپا کا سایہ ہم پر سلامت رکھے‘ آمین۔کبھی جیب خالی کرانے کی نوبت نہیں آئی ہمیشہ سے پاپا نے یہی کہا جو پسند آئے لے لو‘ پیسے کا منہ مت دیکھو اور یوں عید کی شاپنگ شاندار ہوتی ہے‘ الحمدللہ۔
5) رمضان میں روزمرہ کے معمولات واقعی تبدیل ہوجاتے ہیں اور چونکہ میں گھر میں سب سے بڑی ہوں اس لیے ذمہ داریاں بھی ہیں ایسے میں میری کوشش ہوتی ہے کہ امی کے ساتھ مل کر گھر کے سارے کام صبح سویرے ہی نبٹالوں تاکہ عبادت کے لیے زیادہ سے زیادہ وقت مل سکے۔رمضان کی عبادات میرے دل کو پرسکون کردیتی ہیں بالکل ہلکا پھلکا۔ پہلی تراویح کے ساتھ ہی مجھے اپنے قلب میں ہمیشہ ایک تبدیلی کا احساس ہوتا ہے‘ ادھر رمضان کا چاند نکلا اُدھر میری آنکھیں پانیوں سے بھرجاتی ہیں اس احساس سے کہ یہ رحمتوں کا مہینہ ہے جب اللہ تعالیٰ ہر ایک کی توبہ قبول فرماتا ہے اور اس ماہ کسی کی کوئی دعا رد نہیں ہوتی خاص کر روزہ دار کی۔
6) بڑے نازو انداز سے سنورتی ہے
عید دلہن کی طرح لگتی ہے
عام دنوں سے بالکل منفرد اور انوکھا ہوتا ہے جیسے ہی مغرب کے وقت سحاب مل کر شفق اوڑھ لیتے ہیں‘ سورج کسلمندی سے آنکھیں موند لیتا ہے‘ بادِ صبا حسین دوشیزائوں کے آنچل اور گیسوئوں سے چھیڑ چھاڑ کرتے گزرتی ہے۔ گلدان میں نئے گل لگادیئے جاتے ہیں‘ بس نہ پوچھئے کہ کیا خوشی کا عالم ہوتا ہے تمام کمروں کی آرائش و زیبائش اور چیدہ چیدہ صفائی مابدولت کے سپرد ہوتی ہے۔
7) عید کے پہناوے میری پسند سادگی ہے جس پہ دل آجائے لمبی فراک اور بڑا سا دوپٹہ۔
8) ہر آنگن میں خوشیوں بھرا سورج اترے
چمکتا رہے ہر آنگن عید کے دن
عید تو نام ہے خوشیوں کا‘ محبتوں کا… جیسے ہی دور افق پر عید کا باریک سا چاند مسکراتا ہے۔ ہر طرف خوشی کی لہر دوڑ جاتی ہے ایسے میں گھر والوں کے ساتھ شاپنگ کا مزہ دوبالا ہوجاتا ہے۔
9) ہائے عید بھی آدھی‘ شب برات بھی آدھی… بن ساجن کے چاند رات بھی آدھی۔
10 ) عید کی تیاری کے لیے میں کوئی میک اپ نہیں کرتی سو آپ کو ایک ہی ٹپ بتا سکتی ہوں وہ ہے سادگی۔ سادگی میں خوب صورتی ہے سادگی اپنایئے‘ سادگی میں اچھی زندگی ہے۔
افشاں علی… کراچی
1) سسرال… (آہم) ابھی تک ہمارا شمار ’’شدہ‘‘ میں نہیں ہوتا مطلب نہ منگنی شدہ نہ شادی شدہ۔ اس لیے ابھی نہ کوئی سسرال ہے نہ سسرال والوں کی جانب سے عیدی کا تصور۔
2) عید کا دن تو ہمارے لیے نعمت خداوندی ہے‘ عید خوشیوں اور محبتوں کا تہوار‘ ہر طرف خوشیاں‘ مسکراہٹیں‘ کھنکتی چوڑیاں‘ مہندی سے سجی کلائیاں‘ زرق برق ملبوسات اور قہقہوں کی برسات الغرض جابجا حسن بکھرا دکھائی دیتا ہے۔
میری عید بہت اچھی گزرتی ہے پر بہت ہی مصروف ترین‘ میں اپنی نانی ماں کے پاس کراچی میں مقیم ہوں۔ نانی ماں چونکہ پورے خاندان کی واحد بڑی بزرگ ہیں اس لیے ہر چھوٹے بڑے تہوار پر سب رشتہ دار و احباب ہمارے گھر ہی آتے ہیں۔ عید کی صبح نماز فجر پڑھ کر گھر سنوارتی ہوں کیونکہ باقی تیاری (آرائش و زیبائش) رات ہی مکمل کرلیتی ہوں گھر کی صفائی اور ناشتے سے فارغ ہوکر اپنے بنائو سنگھار پر توجہ مرکوز کرتی ہوں۔
جیولری میں ٹاپس‘ میک اپ میں آئی لائنر اور لپ گلوز‘ دونوں ہاتھوں میں میچنگ ڈھیروں ڈھیر چوڑیاں‘ لیجیے جناب ہوگئے ہم تیار۔ اپنی تیاری مکمل ہونے کے بعد نانی اماں سے عید مل کر دعائیں لیتی ہوں اور پھر مہمانوں کا ایک نا تھمنے والا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ کبھی کمرے میں ان سے آکر ملنا ملانا تو کبھی کچن میں جاکر ان کی خاطر توازضع کے انتظامات کرنا (اف ننھی اکیلی سی جان) اور ساتھ ساتھ ان سب سے عیدی بٹورنا‘ پہلا دن یوں ہی مہمانوں میں مصروف گزر جاتاہے۔ عید کا دوسرا دن اپنی دوستوں کے لیے وقف ہے یا تو دوستوں کی شاہی سواری افشاں علی کے دربار خاص میں تشریف لاتی ہے یا پھر مابدولت خود مہمان بن کر ان کو میزبان بننے کا شرف بخشتی ہیں (آخر ہر کسی کو میزبان و مہمان بننے کا برابر حق میسر آنا چاہیے) دوستوں کے سنگ خوش گپیوں اور موج مستیوں میں عید کا دن بھی گزر جاتا ہے۔ رات کی سیاہی ہمیں احساس دلاتی ہے کہ اب دن تمام ہوچلا اور عید کا تیسرا دن ہم م م… فارغ… ارے بالکل نہیں جنابّ جب عید ہی ختم نہیں ہوئی تو کیسی فراغت؟ وہ احباب و رشتے دار جو ہمیں اپنی ملاقات کا شرف بخشنے سے رہ جاتے ہیں وہ عید کے تیسرے دن ہمیں میزبانی نبھانے کا موقع دیتے ہیں اور یوں عید اور ہماری مصروفیات کا اختتام ہوتا۔
عید کا دن اور اتنا مختصر
دن گنے جاتے تھے اس دن کے لیے
3) بالکل بجا فرمایا خواتین و لڑکیوں کو اپنی تیاری آخری مراحل تک بھی ادھوری سی محسوس ہوتی ہے خلاف توقع عید کے دن ہم جلدی اور جھٹ پٹ تیار ہوجاتے ہیں بانسبت کسی تقریب یا شادی بیاہ کے اور اگر یہ تقریب یا شادی رشتے داروں میں ہو تو پھر تو ہم لیٹ لطیف بن جاتے ہیں۔ (ارے بھئی اس لیے نہیں کہ ہم خوب سولہ سنگھار میں مگن ہوتے ہیں بلکہ اس لیے کہ ہماری تاخیر کے سبب فیملی کو اکیلے ہی جانا پڑے اور ہم شرکت سے بچ جائیں مگر وائے قسمت ایسا ممکن نہیں ہوپاتا)۔
4) اس کی نوبت ہی نہیں آتی کیونکہ رمضان کے شروعات میں ہی ابو عیدی و شاپنگ کے پیسے بھیج دیتے ہیں اس لیے جیب خالی کروانا فی الحال یہ ہماری ادھوری سی ننھی منی حسرت ہے۔
5) رمضان المبارک ایک مقدس و بابرکت ماہ‘ اس ماہ میں جو اور جتنی عبادت کی جائے وہ کم ہے۔ عام دنوں کی نسبت میری کوشش ہوتی ہے کہ ماہ رمضان میں کچن اور دیگر کاموں کے بجائے میرا زیادہ وقت عبادت میں صرف ہو سب سے پہلے تو میری اولین ترجیح ہوتی ہے کہ ہر عشرہ میں ایک قرآن پاک مکمل ہوجائے اور الحمدللہ ایسا ممکن بھی ہوجاتا ہے۔ اس کے علاوہ پانچوں نمازوں کے بعد پڑھنے والی تسبیحات اور صبح و شام کے دیگر وظائف کو بھی میں اپنا معمول بناتی ہوں۔ الغرض میری کوشش ہوتی ہے جو بھی وقت ملے وہ عبادت و دعا کی نذر ہو‘ بس دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب سے ہماری عبادتوں سے ہمارے اعمال سے راضی ہوجائے‘ آمین۔
6) عید کی تیاری ہو یا کسی دعوت کی‘ گھر کے تمام کام میرے ہی ذمہ ہیں پھر چاہے وہ گھر کی شاپنگ ہو‘ گھر کی آرائش و زیبائش ہو کوکنگ ہو یا پھر عیدی کے طور پر دیئے جانے والے تحائف الغرض گھریلو امور کی مکمل ذمہ داری میرے ہی سپردہے۔
7) عید ازخود ایسا سجا اور خو شبوئوں سے بھرا لفظ ہے کہ مزید کچھ کہنے کی ضرورت ہی نہیں بچتی اور جہاں اہتمام کی بات ہو تو پھر رنگوں ‘ خوشبوئوں اور ملبوسات کا ایک خوش رنگ سیلاب امڈ آتا ہے۔ ہمارا یہ اہم ترین روایتی تہوار چوڑیوں‘ مہندی اور نئے ملبوسات کے بغیر نامکمل ہے۔ جب تک ہاتھ مہندی سے سجے اور چوڑیوں سے کھنکتے ہوئے نہ ہوں تہوار ادھورا سا لگتا ہے۔ اس لیے عید پر چوڑیاں‘ مہندی اور نئے ملبوسات کا اہتمام لازمی ہے‘ سوٹ چاہے لان کا ہو یا کاٹن کا‘ پرنٹڈ ہو یا سادہ ۔ ریڈی میڈ ہو یا ہوم میڈ لیکن نیا ہونا ضروری ہے اور پسندیدہ لباس میں مجھے لانگ شرٹ یا فراک زیادہ پسند ہے میری ترجیح ہوتی ہے کہ ڈریس چاہے نیا کیوں نہ ہو مگر ہو سادہ اور آرام دہ اور ڈریس کے ساتھ میچنگ چوڑیوں کا ہونا لازمی جز ہے۔
8) اگر یہاں امی اور سسٹر ہوتیں تو یقینا انہی کے ہمراہ شاپنگ کی جاتی مگر خیر عید کی شاپنگ ہو یا کسی شادی بیاہ کی تقریبات کی‘ میں اپنی اور فیملی کی شاپنگ اپنی دوست امبرین کے ہمراہ ہی کرتی ہوں۔
9) فی الحال تو ایسی حسن فسوں خیز چاند رات ابھی زندگی میں وارد نہیں ہوئی۔ البتہ بچپن کی چاند رات واقعی یادگار ہوا کرتی تھیں۔یادوں کی چلمن ہٹائی تو بہت سے یادگار لمحے ستاروں کی مانند میری آنکھوں کے پردوں پر جھلملانے لگے اور مسکراہٹ لبوں کو چھوگئی۔ بچپن کی چاند رات کو جب میں اور میری بہن بار بار اپنے ڈریس‘ سینڈل‘ پرس دیکھتے اور پہننے کی حسرت و خوشی لیے آئینہ کے آگے کھڑے ہوکر دیکھتے جاتے‘ مہندی سے سجے نقش و نگار والے ہاتھوں کو بار بار دیکھتے اور سوکھی ہوئی مہندی پر یوں پھونک مارتے جیسے پھونک مارنے سے رنگ و ڈیزائن اور نکھر کر آئے گا۔عید کی خوشی میں بند ہوتی آنکھوں کو زبردستی جگانا‘ الغرض یہ ہی سب وہی میٹھی یادگار یادیں ہیں جو ذہن و دل میں کسی خزانے کے مانند محفوظ ہیں۔
10 ) میک اپ وغیرہ تو خیر میں زیادہ کرتی نہیں اس لیے میک اپ کے حوالے سے کوئی ٹپ نہیں بلکہ بیوٹی گائیڈ سے ہی ہر ماہ ہمیں اتنی اچھی و کارآمد ٹپ مل جاتی ہے کہ اور کیا بتائیں جبکہ رہی عید کی روایتی ڈش تونانی ماں اپنے ہاتھوں سے کھوئے والا شیرخورمہ بناتی ہیں جس کی ترکیب و طریقہ کار عموماً سب کو ہی ازبر ہے۔ آخر میں ایک بار پھر دل کی گہرائیوں سے محبتوں کے سنگ عید الفطر کی ڈھیروں ڈھیر مبارک باد‘ اپنی دعائوں میں افشاں علی کو بھی شامل دعا رکھیے گا اوریہ شعر آپ سب کے نام…
سنو الفاظ کم ہیں اور تمنائیں ہزار
مبارک ہو تم سب کو عید کی خوشیاں یار
اریبہ شاہ… ملتان
1) کیا دکھتی رگ پہ ہاتھ رکھ دیا ہے یار ابھی تو منگنی کی حسرت بھی پوری نہیں ہوئی‘ ہاں اگر کبھی آئی تو خوشی سے پاگل ہوجائوں گی۔
2) دادا جی‘ بابا جان اور چاچو‘ عدیل بھیا سے عیدی لینا بے حد پسند ہے۔ رات کو تاخیر سے سونے کے باوجود بھی صبح اذان فجر سے دن کا آغاز کرتی ہوں پھر عید کی نماز پٖڑھ کر تمام کزنز‘ بابا اور چاچو ہمارے گھر عیدی ملنے کے لیے آتے ہیں ان سب کو کھیر‘ چنا چاٹ‘ دہی بڑے‘ دسو‘ شیر خورمہ اور کولڈ ڈرنک وغیرہ سرو کرتی ہوں پھر سب کے جانے کے بعد خود تیار ہوکر پھوپو اور چاچو وغیرہ کے گھر جاتے ہیں اور خوب ہلہ گلہ کرتے ہیں۔ رات کو چاچو اور ہماری فیملی باہر سیر کے لیے جاتے ہیں اور یہیں سے ایک خوب صورت دن کا اختتام ہوتا ہے۔
3) ویسے تو میں سدا کی سست رہی ہوں ہاں اگر عید کے روز ہوٹلنگ کرنی ہو تو میری پھرتیاریاں دیکھنے لائق ہوتی ہیں اور اگر کسی کے گھر جانا ہو تو سب سے آخر میں تیار ہوتی ہوں۔
4) میرا بھائی ابھی چھوٹا ہے ہاں اپنے بابا جان کی جیب ‘ میں بڑی ہوشیاری سے خالی کرواتی ہوں‘ ہما آپی اور طوبیٰ کے ساتھ مل کر ‘ ہاہاہا۔
5) آیت کریمہ‘ استغفار اور ہر عشرے کی دعا کرتی ہوں‘ قرآن پاک کی پانچوں وقت تلاوت کرتی ہوں۔
6) ہاہاہا‘ گھر والوں کا دماغ تھوڑی ناخراب ہے جو میرے سپرد کوئی کام کریں گے۔
7) اسٹائلش سا کرتا‘ لمبا دوپٹہ اور پاجامہ۔
8) امی اور بہنوں کو اپنی پسند بتادیتی ہوں وہی میری شاپنگ کرتی ہیں ہاں جوتا میں بابا جان کے ساتھ جاکر لاتی ہوں۔
9) ہم م م… اس بار شاید میں چاند رات حسن فسوں خیز میں مبتلا ہوجائوں‘ ہاہا۔
10 ) چکن اسٹائلش
اجزاء:۔
چکن بریسٹ
چار عدد
سفید و سیاہ مرچ
ایک ایک چائے کا چمچ
سویا ساس‘ سرکہ
دو دو کھانے کے چمچ
چینی یا شہد
ایک کھانے کا چمچ
مسٹرڈ پائوڈر
ایک چائے کا چمچ
نمک
حسب ذائقہ
تیل
حسب ضرورت
ترکیب:۔
چکن بریسٹ پرکٹ لگائیں اور ہڈی الگ کرکے چھری کی مدد سے گود لیں۔ سارے مصالحے یکجان کرلیں اور چکن اسٹیکس پر لگائیں اور دو گھنٹے کے لیے رکھ دیں‘ ہلکی آنچ پر دو دو چکن اسٹیکس پھیلا کر رکھ دیں ایک طرف سے سینک لیں تو آنچ تیز کردیں تھوڑا سا تیل اور تھوڑا سا پانی ڈالیں۔فرائنگ پین میں آگ سی بھڑک اٹھے گی‘ اس طریقے سے باربی کیو کا مزہ آتا ہے‘ دو منٹ بعد اتار لیں چکن اسٹیکس تیار ہیں‘ کھائیں اور مجھے دعائیں دیں۔
شفق افتخار… سکھر
سب سے پہلے تو آنچل پڑھنے والے تمام قارئین کو میری طرف سے رمضان بہت مبارک اور عید کی پیشگی مبارک باد۔ آنچل کے کسی بھی سلسلے میں، میں پہلی دفعہ شرکت کر رہی ہوں۔
۱۔کچھ محسوس نہیں ہوتا کیوں کہ ایسا کوئی سلسلہ ابھی تک نہیں ہے۔
۲۔ عید بذات خود نام ہی خوشی کا ہے تو پورا عید کا دن ہی خاص لگتا ہے۔ خاص کر جب لوگ آپ کو یاد کرتے ہیں مبارک باد دیتے ہیں تو بہت اچھا محسوس ہوتا ہے معمو لات وہی ہوتے ہیں جو عید کے دن عموماً سب کے ہوتے ہیں۔ صبح جلدی اٹھ کر ناشتے کی تیاری کرنا شیر خرمہ امی بناتی ہیں تقریبا آدھا دن تو کچن کی نذر ہو جاتا ہے پھر شام میں عید کے دن کہیں آنا جانا تو کم ہی ہوتا ہے کیوں کہ کوئی نہ کوئی آجاتا ہے تو یونہی عید کا دن گزر جاتا ہے کوئی خاص معمولات نہیں ہوتے ہاں دوپہر میں تھوڑا ٹا ئم نکال کر سو جاتی ہوں کیوں کہ ایک تو گرمی پھر پورے مہنیے کی اتنی تھکن ہوتی ہے۔
۳۔ عام روٹین میں کہیں جانا ہو تو میں جھٹ پٹ ہی تیار ہوتی ہوں ہاں اگر کسی خاص موقع یا خاص جگہ جانا ہو تو تھوڑا ٹائم لیتی ہوں۔
۴۔ اب جب سے عید گر میوں میں آنے لگی ہے میں عید کی شاپنگ رمضان سے پہلے ہی کر لیتی ہوں کیوں کہ پھر روزے میں نکلنے کی ہمت نہیں ہوتی اور افطاری کے بعد اتنا ٹائم نہیں مل پاتا اور جہاں تک جیب خالی کرانے کی بات ہے ضروت نہیں پڑتی ابو بنا کہے ہی پیسے دیتے ہیں۔
۵۔ رمضان میں، میں جو فر ض عبادات ہیں انہیں ہی ذمہ داری سے پورا کرنے کی کوشش کر تی ہوں۔
۶۔گھریلو امور میں جناب سب کچھ ہی ذمے ہوتا ہے…مگر خاص کر کوکنگ میرے ذمے ہے سحری اور افطاری دونوں میرے ذمے ہیں اور میں اسے خوش اسلوبی سے نبھانے کی کوشش کرتی ہوں۔
۷۔ اسٹائلش مگر موسم کے حساب سے کوئی سمپل آرام دہ سا ڈریس کیوں کہ آپ کو عید پر صرف تیار ہوکر بیٹھنا نہیں ہوتا آپ کو کچن بھی دیکھنا ہوتا ہے اور دعوتیں بھی بھگتانی ہوتی ہیں۔
۸۔ عید کی شاپنگ عموماً بھائی کے ساتھ جاکر کرتی ہوں۔
۹۔ ایسی تو کوئی بھی چاند رات یاد نہیں ہے جس کا حسن سحر زدہ کر دے۔
۱۰۔ ڈشز تو بہت ساری ہیں پر عموماً وہ ساری چیزیں تھوڑے بہت فرق سے ہم سب کے گھروں میں بن رہی ہوتی ہیں ہاں کوشش کریں کہ جو چیزیں فیریز ہو سکتی ہیں ان کو عید سے ایک دو دن پہلے بنا کر فیریز کریں بوائل والی بوائل کرلیں تاکہ عین ٹائم پہ آپ کو پریشانی نہ ہو اور وقت بھی بچ جائے اورآپ عید اورمہمانوں دونوں کو انجوائے کر سکیں۔ رمضان اور عید کی خوشیوں میں ان لوگوں کو بھی یاد رکھیں جو عید کواس طرح نہیں منا سکتے جس طرح میں اور آپ منا سکتے ہیں… پھر چاہے وہ آپ کے رشتے دار ہی کیوں نہ ہوں۔ دعاؤں میں یاد رکھیے گا۔ اللہ حافظ
ام رباب …ڈیرہ اسماعیل خان
۱۔ ابھی ہم سسرال والے نہیں ہوئے کہ تاثرات بیان کر سکیں۔
۲۔ عید کی خاص بات یہ ہے کہ روٹھے ہوئے بھی مان جاتے ہیں مہمانوں کی آمد اور ان کی مہمان نوازی کرنا یہی معمولات ہوتے ہے۔
۳۔ دوستوں کے پاس جانے کے لئے جھٹ پٹ تیار ہو جاتی ہوں کیونکہ ان کے ساتھ وقت بہت اچھا گزر جاتا ہے جبکہ رشتیداروں کے ہاں جانے میں تاخیر ہو جاتی ہے
۴۔ تھوڑا بہت کچھ چیزوں کے لئے ابو کو منانا پڑھتا ہے باقی ابو خود لے آتے ہیں۔
۵۔ قرآن مجید کی تلاوت اور صبح شام معمول کی تسبیحات پڑھتی ہوں۔
۶۔ عید کی تیاری کے حوالے سے میں امی کے ساتھ کوکنگ میں مدد کرتی ہوں اور گھر کی صفائی و آرائش کا کام میرے سپرد کیا جاتا ہے
۷۔ عید کے پہناوں پر میرا پسندیدہ لباس قمیص شلوار اور دوپٹہ۔
۸۔ عید کی شادی کے لیے عموماً بہنوں اور کزنز کے ساتھ جانا ہوتا ہے۔
۹۔ بچپن کی ایک چاند رات مجھے اب بھی سحر میں مبتلا کر دیتی ہے جب میرے ابو اعتکاف سے چاند رات کو گھر آئے تو بہت خوشی ہوئی تھی کیونکہ میں اپنے ابو سے بہت زیادہ اٹیچ ہوں اور ۱۰ دن کی دوری مجھے ۱۰ سال کے برابر محسوس ہوئی اور میں نے ان کو بہت مِس کیا تھا۔
زینب ملک ندیم (مصنفہ، کالم نگار)
۱۔ سسرال والوں کی عیدی ابھی تو وہ وقت ہی نہیں آ پہنچا جب سسرال سے عیدی آئے ابھی تو بچے ہیں(آہم آہم )
۲۔ عید کا تو پورا دن خاص ہوتا ہے رمضان کے جانے کا جہاں غم ہوتا ہے وہی عید کی بے تحاشہ خوشی دل کو خوشی سے منور کردیتی ہے مگر عید کے دن کی خاص بات جو بے حد خوشی دیتی ہے وہ عید کی نماز ہے اس نماز کی خوشی سب سے انمول ہوتی ہے۔ نماز پڑھ کر مما کے ہاتھوں کی لذیذ سویاں پھر رشتے داروں کا آنا جانا بڑوں سے عیدی پہلے دن کا تو یہی معمول ہوتا ہے ورنہ تو بچپن کی عید کمال تھی بغیر کسی جھجک کے بلا خوف و خطر گھومنا پھرنا اب تو زیادہ وقت گھر پر ہی گزرتا ہے۔
۳۔ جہاں تک سنگھار کی بات ہے وہ کم ہی کرتی ہوں کیونکہ بقول مما کے سادگی میں حسن ہے جھٹ پٹ تیاری میں جیولری پہننا ہی زیادہ کام ہے اور پپا کی آواز جلدی کرو نماز کے لیے لیٹ ہورہی ہے وہ آواز جھٹ پٹ تیار کراتی ہے اور رشتہ داروں کے گھر جاتے وقت آرام سے تیار ہوتی ہوں کیونکہ تب ڈانٹ نہیں پڑتی تب آرام و سکون سے تیاری ہوجاتی ہے مگر اب آنے والی عید پرکوئی ڈانٹ نہیں سننی پڑے گی نماز پڑھنے کے لیے جلدی کرنے کے لیے کیونکہ وہ آواز وہ انسان ۱۲ مئی ۲۰۱۶ کو ہم سے بچھڑ گیا اب کہاں کی عید کہاں کی رعب دار آواز کا جھٹ پٹ تیار کرانا اور تیاریاں۔
۴۔ عید کی شاپنگ مما کے ساتھ ہی کی جاتی ہے اور عید کے قریب تر تو بازار میں انواع و اقسام کی اشیاء موجود ہوتی ہیں کہ دل کی خواہش سب لینے کو جاگتی ہے۔ بھائی تو ہیں نہیں اور شوہر صاحب تو پتہ نہیں دنیا کے کس کونے میں ہوں گے (مطلب کے ابھی ہم غیر شادی شدہ ہیں آہم)
۵۔ رمضان مبارک کا مہینہ تو مجھے ہمیشہ تازگی بخشتا ہے روح پرور سا مہینہ ہمیشہ خوشیوں کی نوید لاتا ہے رمضان میں قرآن پاک کی زیادہ سے زیادہ تلاوت اور تینوں عشروں کی مخصوص تسبیح کو ہی اپنا معمول بناتی ہوں یہی ماہ تو ہوتا ہے رحمتوں اور برکتوں کا تمام رحمتیں اور نیکیاں سمیٹ لینے کا۔ کوکنگ تو مابدولت کو آتی نہیں ہاں مگر چھٹیوں میں سیکھنے کا آرادہ پختہ ہے (اگر انگلی جلی یا کٹی نہیں تو )
۶۔ عید کی تیاریوں میں گھر کی صفائی میں آپی جان کا ہاتھ بٹا لیتی ہوں یا ان سب کو مہندی لگانا میرے ذمے ہے۔
۷۔ لباس ہی عورت کا حسن ہے اچھے لباس کی چوائس ہمیشہ آرام اور خوب صورتی دیتی ہے مجھے عید کے پہناوے میں فراک یا کرتا اور چوری دار پاجامہ پسند ہے پچھلی بار تو ہم نے پہلی بار سفید رنگ کا فراک لے ہی لیا تب سے اندازہ ہوگیا کہ ہم پر جچے نا جچے مگر بچتا نہیں کبھی ہماری نادانیوں سے پھٹ جانا اسی طرح ایک واقعہ ہماری عید کا سفید لباس (جی جی جس کا اوپر ذکر کیا) ہم تو پہلی بار دھو بیٹھے ایک ہی ٹب میں فراک اور دوپٹے کو اکھٹے ڈبو دیا اور وہ بھی پورے دن کے لیے اور پھر ماشااللہ سے ڈوپٹہ کا رنگ جو فراک کو چڑھا دیکھنے لائق تھا اور ساتھ ساتھ اپنی نادانی پر بنا ہمارا منہ اس کے بعد سے اب تک اگر سوٹ بھگو بھی لوں تو مما سے سو بار نصیحت سنتی ہوں۔
۸۔ مما جان کے ساتھ وہ بھی اپنی چوائس کی کیونکہ اگر چیز پسند نہ آئے تو بار بار چکر لگانے سے بہتر مما مجھے ساتھ ہی لے جاتی ہیں۔
۹۔ ابھی تک کوئی ایسی چاند رات نہیں جو سحر طاری کردے یا پھر پچھلے ماہ تک نہ ہوتا ایسا کوئی بھی واقعہ یا لمحہ مگر اب محسوس ہوتا ہے پچھلی گزرے سالوں کی چاند راتوں میں پاپا جان کا ساتھ ان کی موجودگی میرے لیے سب سے حسین تھی اور وہ یادگار لمحے ہی سحر میں مبتلا کردیتے ہیں ساتھ ہی اشک بھی رخساروں پر بہہ نکلتے ہیں مگر وہ لمحے ان کی خوشی ان کا سحر بہت یادگار ہے اور ساتھ ہی آنے والی عید پر سر زمین دل کو بنجر کردینے والا۔
۱۰۔ عید کی تیاری کے لیے چونکہ اس پر بہت آرٹیکل لکھ چکی ہوں سب سے بہتر ہے میک اپ کا کم استعمال اور اگر استعمال کیا بھی جائے تو اچھے پراڈکٹ کی خریداری سے کیا جائے عید کی تیاری تو مکمل ہی تب ہے جب صنف نازک کے ہاتھوں پر مہندی لگی ہو رنگ والی خوشبودار مہندی یہی مہندی عید کی تیاری کو مکمل کرتی ہے اور اگر عید کے دن آپ چاہتی ہیں چہرہ نکھرا رہے تو ملائی کا استعمال بہت بہتر ہے اس سے صبح چہرہ تروتازہ رہے گا تب بھی جب آپ کچن میں کھانا بنا کر فارغ بھی ہوجائیں۔
صباء عیشل… فیصل آباد
عید نام سنتے ہی چہروں پر مسکراہٹ پھیل جاتی ہے۔ دل خوشی سے بھر جاتا ہے آس پاس تصور کے پردے پر رنگ برنگے آنچل چوڑیاں مہندی کے رنگ جھلملانے لگتے ہیں۔ قوس و قزح کے سارے رنگ جیسے زمین پر اتر آتے ہیں۔اور میرے ذہن کے گوشوں میں وہ عیدیں ابھرنے لگتی ہیں جب لاابالی پن اور بے فکری تھی۔کیا عیدیں ہوتی تھیں وہ بھی نا ادھر کی پروا نا ادھر کی خبر۔ ہر دور کا اپنا ہی مزہ ہے لیکن جو بات لڑکیوں کی عید منانے کی ہے وہ مزا شادی کے بعد کہاں۔ ذمہ داری کا احساس وقت سے پہلے ہی سمجھدار کردیتا ہے پھر خود سے زیادہ دوسروں کی پروا ہوتی ہے ویسے تو یہ فیز بھی بہت اچھا ہے لیکن کبھی کبھی عید پر جی کرتا ہے کہ کچھ سال پہلے والا وہ دور پھر سے واپس لوٹ آئے۔
۱۔’’سسرال کی طرف سے عیدی ہائے رے!‘‘ حسرت ہے ان غنچوں پر جو بن کھلے مرجھا گئے۔ باقاعدہ منگنی تو ہوئی نہیں تھی۔ تیرہ برس کی عمر میں بڑوں میں بات چیت ہوئی تھی جو پانچ برس قائم رہی۔ بابا کی فیملی کراچی میں اور سسرال فیصل آباد تو ہر عید پر آنا جانا ناممکن ہوتا تھا تو عیدی میں پیسے ہی ملتے تھے اور پہلی عیدی کے تاثرات اس وقت بالکل بھی یاد نہیں آرہے کہ عمر میں چھوٹی تھی تو سسرال اور عیدی ان سب سے انجان تھی۔
۲۔عید کے دن صبح اٹھتے ہی ماما، بابا کے فون کا انتظار ہوتا ہے جو اکثر جلد ہی پورا ہوجاتا ہے اور جو لیٹ ہوجائے تو میرے آنسو رکنے کا نام نہیں لے رہے ہوتے۔(بس ایک شکوہ گردش کرنے لگتا ہے بھول گئے نا سب مجھے)۔ بابا سے بات کرنا بہت اچھا لگتا ہے۔
گھر کی ذمہ داری مجھ پر ہے تو صبح نماز کے بعد سے ہی کچن سنبھال لیتی ہوں کچھ تیاری رات کو کرلی ہوتی ہے۔شیر خورما سویاں یا کھیر بنتی ہے۔ میٹھا بنانے کے ساتھ ساتھ دوپہر کے کھانے کی تیاری بھی ساتھ ساتھ چل رہی ہوتی ہے۔ بریانی کا مصالحہ اور کڑاہی صبح ہی بنا لیتی ہوں شامی کباب کا مصالحہ رات ہی پیس کر رکھ لیا ہوتا ہے۔ ساتھ ہی سب کو میٹھا سرو کرنا اور عید کی تیاری کا ہنگامہ۔جس جس کو جو چیز چاہیئے ہو آوازیں دیتا رہتا ہے۔ مرد حضرات کے نماز کے لیے نکلنے کے بعد گھر کی صفائی(جو رات کو ہی اکثر مکمل کرلیتی ہوں) پر ایک تنقیدی نظر ڈال کر بیڈ شیٹس اور کورز چینج کرتی ہوں پھر عیشل(بیٹی)کو تیار کرتی ہوں اس کے بعد باری آتی ہے میری۔ نک سک سے تیار ہونے کے بعد اب میں عید کا دن گذارنے کے لیے تیار ہوں۔ دوپہر اور شام میں نندوں اور دیگر مہمانوں کی آمد ان کے کھانے اور دیگر اہتمام سارا دن کاموں میں گذر جاتاہے۔ عید کے شروع کے دو دن مہمانوں کے لیے مختص ہوتے ہیں اور تیسرے دن ہم باہر جاتے ہیں۔
۳۔بالکل ہارسنگھار کے بغیر تو عید ادھوری ہے۔ میرے ساتھ بھی ایسا ہے میں ویسے تو بالکل سادہ رہتی ہوں لیکن عید پر میری کوشش ہوتی ہے سجی سنوری رہوں موتیوں کے گجروں کے بنا مجھے ہر ایونٹ ادھورا لگتا ہے اس لیے گجرے تو ضروری ہوتے ہیں۔ ہار سنگھار میں صرف عید کے پہلے دن بہت وقت لیتی ہوں باہر جاتے وقت تو ویسے بھی مجھے بہت زیادہ میک اپ کرنا اچھا نہیں لگتا۔اس لیے کہیں بھی جانا ہو زیادہ سے زیادہ دس سے پندرہ منٹ لیتی ہوں۔اور فیصل آباد میں ننھیال اور ددھیال دونوں ہی ہیں دونوں جگہ جانے میں خوشی محسوس ہوتی ہے اور اس سال میری جان سے پیاری بہن شکیلہ کی شادی بھی اسی شہر میں ہوئی ہے تو سب سے زیادہ خوشی یقیناً وہاں جانے کی ہوگی۔
۴۔بابا اور بھائی سے عیدی اکثر رمضان سے قبل لی جاتی ہے اس کے بعد کچھ لینے کی ضرورت تو کم ہی محسوس ہوتی ہے۔ فضول خرچ تو میں بالکل بھی نہیں ہوں اس لیے شوہر کبھی بازار لے جاتے ہوئے نہیں ہچکچاتے۔ عیدی کے نام پر جو بھی چاہیئے ہو آرام سے لے دیتے ہیں۔
۵۔رمضان المبارک کے علاوہ بھی قرآن پاک کی تلاوت صبح میں معمول کا حصہ ہے لیکن رمضان المبارک میں صبح کے علاوہ عشاء کے بعد بھی تلاوت کلام پاک پڑھنا اور دورانیہ بڑھ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ باقی دن میں درور شریف استغفار اور دیگر دعائیں و تسبیحات پڑھنے کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ ہر جمعتہ المبارک کو گھر پر صلوتہ التسبیح پڑھانے اور درس کا سلسلہ رکھتی ہوں۔ کوشش کرتی ہوں کہ رمضان المبارک کے فیض و برکات سے فائدہ اٹھانے میں کمی نا رہنے دوں۔
۶۔گھر بھر کے سارے کام ہی میرے ذمہ ہیں آرائش و زیبائش سے لے کر کھانا بنانے تک اور کپڑے جوتوں کی سلیکشن سے لے کر میزبانی تک۔
۷۔کہتے ہیں لباس شخصیت کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ مشرقی پہناوے سب ہی میرے پسندیدہ ہیں۔ لیکن سلیکشن کے وقت خیال رکھتی ہوں کہ لباس ایسا ہو جو میری شخصیت پر سوٹ کرے۔ الگ الگ اسٹائلز میں لونگ شرٹس بڑے دوپٹے کے ساتھ اور لمبی ٹخنوں کو چھوتی فراک بہت پسند ہے۔ اسکے علاوہ جو فیشن میں ان ہو لیکن خریدتے وقت ہمیشہ خیال رکھتی ہوں کہ ایسا لباس خریدوں کہ باوقار نظر آؤں۔
۸۔عید کی شاپنگ ہسبنڈ کے ساتھ ہی کرتی ہوں اور ساتھ عیشل(بیٹی) ضرور ہوتی ہے۔
۹۔شادی سے پہلے ہمیشہ چاند رات پر باہر جانا ہوتا تھا۔ وہ تمام چاند راتیں یادگار ہیں۔ اور مجھے تو ہر چاند رات یادگار ہی لگتی ہے مہندی لگانے میں ایکسپرٹ ہوں تو ہمیشہ سے ہی چاند رات سب کو مہندی لگانے اور پھر خود کو مہندی لگاتے گذر جاتی ہے۔۔ سب لڑکیاں مل کر بیٹھتی ہیں تو مہندی لگاتے لگاتے خوش گپیاں بیت بازی اور دیگر مزیدار چیزیں ہوتی رہتی ہیں۔ ہمیشہ سے ہی چاند رات کا بے چینی سے انتظار ہوتا ہے۔
۱۰۔اسپیشل ڈش جو میں عید والے دن شام میں بناتی ہوں رس ملائی ہے۔ ترکیب یہ ہے۔
ایک کلو دودھ میں ایک کپ چینی پانچ دانے الائچی اور بادام پستے کٹے ہوئے حسب منشاء ڈال کر چولہے پر رکھ دیں۔
پھر ایک کپ سوکھے دودھ کو ایک چائے کا چمچ بیکنگ پاؤڈر اور ایک کھانے کا چمچ گھی کے ساتھ گوندھ لیں۔پندرہ منٹ بعد چکنے ہاتھ سے چھوٹی چھوٹی گولیاں بنائیں۔ جب دودھ ابلنے لگے تو ساری گولیاں دودھ میں ڈال دیں اور آنچ ہلکی کردیں۔وقفے وقفے سے چمچ چلاتے رہیں۔ گولیاں پھول جائیں اور دودھ گاڑھا ہوجائے تو اتارلیں اور فرج میں ٹھنڈا کرکے بادام پستہ چھڑک کر سرو کریں۔
نسیم سحر… نامعلوم
۱۔شادی کم عمری میں ہوئی تھی ۔ منگنی چھ ماہ رہی اور شادی ہوگئی ۔ عیدی البتہ ایک مرتبہ آئی تھی اور کم عمری میں تو ہر چمکتی چیز سونا لگتی ہے اس لیے ہم بھی بہترین جوڑا‘ خوب صورت سینڈل اور چوڑیاں اور مٹھائی کے ٹوکرے دیکھ کر بہت خوش ہوئے تھے۔
۲۔ بچپن میں عید کی خاص بات تو عیدی کا ملنا ہی تھا اور بڑے ہوتے ہی شادی شدہ ہونے کے بعد تو فیملی ٹو گیدر ہی اچھا لگتا ہے اور معمولات بھی عام دن والے ہوتے ہیں کام کام اور بس کام۔
۳۔ میں تو تیاری میں بالکل ٹائم نہیں لگاتی۔ میرے میاں کو میری یہی بات پسند ہے۔ ان کے ساتھ جانے کو ہر وقت تیار رہتی ہوں۔ بہت ٹائم کی پابند ہوں ۔ کہیں بھی جانا ہو ٹائم سے ہی جاتی ہوں ۔ ٹائم ضائع کرنا سخت ناپسند ہے۔
۴۔ اس کی نوبت نہیں آتی ۔ میرے میاں کو میری ضروریات کا علم رہتا ہے اور یہ سب طے شدہ ہوتا ہے ۔ اس لیے ہر چیز مجھے آسانی سے مل جاتی ہے۔
۵۔ سچ کہوں تو نماز ہی پڑھتی ہوں اور چلتے پھرتے کام کرتے تسبیحات پڑھتی رہتی ہوں ۔ سحری میں اٹھنے کے بعد تہجد کی توفیق ہوجاتی ہے۔
۶۔ خاتون خانہ کی حیثیت سے کوکنگ ہی ذمہ داری ہے۔
۷۔ کچھ عرصے سے تو عید گرمیوں میں ہی آرہی ہے۔ اس لیے اچھی سی لان یا کاٹن کا خوب صورت سا شلوار قمیں یا ٹراؤزر شرٹ۔
۸۔ ابھی تک تو نہیں آئی اور ابھی شاید امکان بھی نہیں۔
۹۔ میاں کو یہ انتہائی فضول کام لگتا ہے شاپنگ اس لیے اپنی بیٹی کے ساتھ یا پھر اکیلی چلی جاتی ہوں اور اگر ساتھ غلطی سے چلے جائیں تو شاپنگ مال کے باہر ہی رہتے ہیں اور ٹائم بتادیا جاتا ہے کہ اتنی دیر میں واپس آجاؤ و رنہ چلا جاؤں گا اور ہم آلو پیاز کی طرح جلدی جلدی کپڑے جوتے لیتے ہیں اور واپس آجاتے ہیں۔ لہذا میںنے خود ہی ان کے ساتھ جانا چھوڑدیا ہے۔ وہ بھی خوش اور ہم بھی خوش۔
۱۰۔ رمضان میں معمولات ذرا مشکل ہوجاتے ہیں ایسے میں ہمت ہی نہیں ہوتی کچھ دیکھنے کی۔ مجھے پارلر جانا آسان لگتا ہے بڑے آرام سے کرسی پر آنکھیں بند کرکے بیٹھ جاؤ پارلر والی خود ہی کرلے گی۔ اگر دو چمچ دہی میں آدھا چمچ شہد ‘ آدھا چمچ جو کا دلیہ اور چٹکی ہلدی ڈال کر پیسٹ سا بنالیں اور منہ دھو کر یہ مکسچر لگالیں ۔ سوکھنے پر اتار لیں ۔ اور میں عموماً یہ کرتی ہوں ۔ اس کے علاوہ جو فروٹ کھاتی ہوں وہ منہ پر بھی مل لیتی ہوں۔
ارم کمال…فیصل آباد
سب سے پہلے تو آنچل کے تمام قارئین کو میری طرف سے دل کی گہرائیوں سے ’’عید مبارک‘‘ قبول ہو۔ اﷲ تعالیٰ ہم سب کو عید کی سچی اور خالص خوشیاں عطا کرے۔ (آمین)
میری منگنی تقریباً تین سال رہی ۔ پہلی عیدی جب سسرال سے آئی تو سارے رشتے دار مثلاً نا نی اماں ‘ خالہ ‘ ماموں ‘ چچا وغیرہ آئے سب نے ہر چیز پر تبصرے کیے ہر جوڑے‘ پرس ‘ میک اپ کے سامان کے ساتھ ایک خاص احساس جڑا ہوا تھا۔ جس سے مجھے اپنے بہت خاص ہونے کا احساس ہوا۔
۲۔ عید کے دن کی جو خاص بات مجھے بہت پسند ہے وہ ہے جوش۔ پورا مہینہ عبادتوں میں گزار کر عید کی آمد کو لمحہ بہ لمحہ محسوس کرنا۔
۳۔ عورتوں میں گھر کو سجانے سنوارنے کا جوش ۔ سارے کاموں سے نبٹ کر تھوڑا سا وقت اپنی تیاری کو دینا اسی میں کب صبح ہوجاتی ہے پتہ ہی نہیں چلتا۔۔اگر امی کے گھر جانا ہوتا ہے تو فوراً تیار ہوجاتی ہوں ۔
۴۔رمضان میں پنج وقتہ نمازوں کے علاوہ کوشش کرتی ہوں کہ ایک سپارہ بمعہ ترجمہ پڑھوں ۔ اس کے علاوہ گھر کے کاموں کو کرتے ہوئے کلمہ طیبہ کا ورد ‘ تیسرا کلمہ پڑھتی رہتی ہوں۔ تہجد بھی پڑھتی ہوں۔
۵۔عید کے دن چھوٹے موٹے کام چلتے ہی رہتے ہیں۔ اس لیے میں قمیص شلوار میں ایز ی فیل کرتی ہوں۔
۶۔ شادی کے بعد جو پہلی چاند رات آئی اس کا سحرآج بھی جادو جگاتا ہے۔ جب میاں صاحب کا آرڈر ہوتا تھا فوراً تیار ہوجاؤ پھر چاند رات کو لانگ ڈرائیو پر جانا‘ سخت سردیوں میں آئس کریم کھانا۔ ان کا گجرے پہنانا اور پھر میٹھا پان کھا کر بارہ ایک بجے گھر آنا۔
۷۔ آپ کے کچن کے ایک کیبینٹ میں عرق گلاب‘ لپ اسٹک‘ ہیر برش او ر کاجل ہونا ۔ جیسے ہی کسی مہمان کی آمد کی اطلاع ملے فوراً منہ دھو کر تیار ہو اور پھر باہر آکر فریش سی مسکراہٹ کے ساتھ مہمانوں کو عید مبارک کہیں۔
۸۔ عید کے مخصوص پکوان تقریباً سب کو ہی آتے ہیں لہذا اس کی ترکیب کیا لکھنی۔
سعدیہ اخلاق ‘شازیہ اخلاق
جھنگ صدر
۱۔ ارے جی…کیا پوچھا‘ ابھی تو بچیوں کے شاپنگ کرنے کے دن ہیں اور ماں باپ کے خرچے۔ جی ہاں ابھی بھائیوں کی جیبیں خالی کروانے کے دن ہیں۔
۲۔ فی الحال تو ہر گزرتے دن پر عید کا گمان ہوتا ہے۔ لیکن خاص عید کا دن اس لیے بھی پر رونق لگتا ہے کہ سب ہی چھوٹے بچے ‘ کزنز اکٹھے ہو کر آجاتے ہیں ۔ صبح ہی صبح ہمارے پاس۔
۳۔رمضان میں درود پاک بکثرت پڑھتے ہیں۔
۴۔ عید کے حوالے سے خصوصی تیاری ہو یا نارمل روٹین لائف ہیں۔ ہمارے ذمہ گھر کی سٹینگ ہے اور وہی کام سب سے بیسٹ کرپاتے ہیں ہم۔
۵۔ عید کی ڈریسنگ فیشن کے حساب سے کرتی ہوں۔
۶۔ عید کی شاپنگ کرنے اپنی امی کے ساتھ جاتی ہوں یا دوستوں کے ساتھ جاتی ہوں۔
۷۔ ایسی کوئی یاد گار نہیں ہے ۔ سب نارمل وے ہیں ۔ ہر چاند رات کو مہندی لگاتے ہیں ۔ کپڑے پریس کرتے ہیں۔ جتنا بھی کرکے رکھیں کچھ نہ کچھ رہ ہی جاتا ہے اینڈ میں۔
۸۔ سب سے بیسٹ بیوٹی ٹپ یہی ہے کہ بھرپور نیند لیں۔ تاکہ آپ کی آنکھیں رلیکس ہوں اور آپ فریش اسکین کے ساتھ مہمانوں کو ویلکم کرسکیں۔ نارمل تو ہماری اسکن ٹھیک ہی ہوتی ہے مگر ایسے موقع پر اسپیشل کیئر کی ضرورت ہوتی ہے۔
فیاض اسحاق … سلا نوالی
۱۔ عید کے دن کی خاص بات یہ ہے کہ ہماری فیملی میں شروع سے ہی عید مل کر منائی جاتی ہے ۔ میرے سارے خاندان والے چاند رات کو ہی آجاتے ہیں اور مل جل کر عید منائی جاتی ہے۔ عید کے دن کے معمولات میں میرا کام دوسروں کو خوب ٹائم دینا اور ان کی خدمت گزاری کرنا ہے۔
۲۔اپنی کسی فرینڈ کی طرف جانا ہوتو پھر جن کے بوتل کی طرح اسپیڈ سے تیار ہوجاتی ہوں اگر ماما کے ساتھ کہیں جانا ہوتو دن ہی ڈھل جائے اور ماہ بدولت کی تیاری مکمل نہ ہو۔
۳۔شاپنگ کے لیے پہلی بات تو یہ ہے کہ ہمارے ہاں لڑکیوں کو شاپنگ کرنے کی اجازت نہیں ہے اگر کبھی چانس ملا تو چھوٹے بھائی حافظ ثمر عباس کے ساتھ جاتی ہوں اور جب اس کی جیب خالی ہوجاتی ہے تو مجھے تب سکون ملتا ہے۔
۴۔رمضان المبارک میں عام دنوں سے ہٹ کر خوب عبادت کی جاتی ہے نوافل اور تہجد کو اپنا معمول بنایا جاتا ہے زیادہ سے زیادہ تلاوت قرآن پاک کی جاتی ہے اور کوشش ہوتی ہے کہ پانچ چھ قرآن پاک مکمل ہوجائیں ۔
۵۔عید کی تیاری کے حوالے سے ماہ بدولت کو کوکنگ کا کام سونپا جاتا ہے جو کہ انتہائی ذمہ داری اور خلوص نیت سے نبھایا جاتا ہے۔
۶۔میرا پسندیدہ لباس شلوار قمیص اور لمبا دوپٹہ ۔
۷۔عید کی شاپنگ عموماً بھائی یا فرینڈ کے ساتھ کی جاتی ہے۔
۸۔میری لائف کی سب سے زیادہ اہم چاند رات وہ تھی جن دنوں میرے پاپا بھی حیات تھے عید کا چاند ہمیشہ میں خود چھت پر جا کر دیکھتی ہوں اس چاند رات کو میں اپنے پاپا جانی کے ساتھ میوزیکل پروگرام دیکھ رہی تھی آپی کے ذمہ تھا کہ وہ بتائیں گی چاند نظرآیا ہے یا نہیں اس عید پر چاند نظر نہیں آیا تھا آپی نے مذاق سے کہہ دیا کہ چاند نظرآگیا ہے پھر کیا تھا میں نے تصدیق کیے بغیر سب کو عید کی مبارک باد دینا شروع کردی اور خود چاند رات کا ڈریس زیب تن کیا اور ہلکا پھلکا سا میک اپ کرکے جب تیار ہوئی تو آپی نے کہا میری پیاری سسٹر چاند نظر نہیں آیا عید کل نہیں پرسوں ہے پھر غصہ بھی بہت آیا اور پاپا نے بھی خوب انجوائے کیا اب بھی ہر چاند رات پر یہ واقعہ میرے ذہن میں تازہ ہوجاتا ہے۔
*میرا خیال ہے کہ ہم جیسے بڑی عمر کی خواتین زیادہ بہتر جواب نہ دے سکے گی بہ نسبت کم عمر خواتین کے بہرحال میں پھر بھی کوشش کرتی ہوں۔ میری شادی کے بعد بہت جلد ہی عید آگئی تھی میں میری ساس اور میرے شوہر بالکل مختصر سی فیملی تھی میں نے اپنے شوہر سے کہا کہ مجھے کپڑے نہ بنا کر دیں میرے پاس ماشا اللہ شادی کے بہت سے جوڑے ہیں اماں جان ساس کو بنا دیں اور آپ خود بنالیں۔ پھر عید والے دن میری ایک نند اور ایک جیٹھ تھے نند کے بچے نہیں تھے جیٹھ کے ماشاء اللہ کافی بچے تھے لیکن عید کے دن نند نندوئی آئے سارا دن اسی مصروفیت میں گزر گیا پہلے ناشتہ‘ شیر خورمہ کا دور چلا پھر میں نے کھانا پکایا۔
*عید کے دن کی کوئی خاص بات جو آپ کو بے حد پسند ہو نیز عید کے دن آپ کے کیا معمولات ہوتے ہیں؟
*عید کے دن چھوٹے بچے لڑکے لڑکیاں جب رنگ برنگے کپڑے پہن کر لڑکے چشمے لگا کر اپنی عیدی خرچ کرتے ہیں ان کے چہروں کی خوشی اور چمک دیدنی ہوتی ہے لڑکیاں اپنے شولڈر پر چھوٹے چھوٹے پرس لٹکاتی خوب صورت تتلیوں کی طرح چھن چھن کرتی چوڑیاں کھنکھاتی سرخ سرخ ہونٹوں پر حقیقی مسکراہٹ سجاتی گھومتی پھرتی ہیں بہت پیاری پریاں لگتی ہیں۔یہ لمحات مجھے اچھے لگتے ہیں مگر کبھی کبھی میری آنکھیں نم بھی ہوجاتی ہیں جب گدا گر سڑک کے کنارے میلے کچیلے کپڑے پہنے گدا گر بچے نظر آتے ہیں ۔اب تو ماشاء اللہ دادی نانی بن گئے ہیں عید پر بہو بیٹیوں کا انتظار ہوتا ہے جب کہ یہ معلوم ہے کہ میرے ہاں عید کے دوسرے دن ماشاء اللہ سے دو بیٹیاں بمعہ فیملی چار بہنیں بمعہ فیملی بھائی بمعہ فیملی کے مدعو ہوتے ہیں جب تک بابا جانی حیات تھے سب امی کے پاس عید کے دوسرے روز جمع ہوتے تھے جب سے میری شادی ہوئی یہ ہی ہوتا تھامگر 29دسمبر 1991میں بابا کا انتقال ہوا جب سے میرے پاس یہ محفل جمتی ہے ماشاء اللہ بڑی رونق لگتی ہے۔
*بھئی ہم شادی کے بعد سے خاص طورپر سب سے پہلے کہیں بھی جانے کو تیارہوجاتے ہیں میری یہ عادت ہے کہ اگر کسی تقریب میں دس بجے پہنچنا ہوتو میں کوشش یہی کرتی ہوں کہ ساڑھے نو یا پونے دس پر وہاں پہنچ جائوں میں اکثر تیار ہوکر سینڈل پہن کر چادر اوڑھ کر بالکل تیار ہوجاتی ہوں پتہ چلتا ہے کہ میاں صاحب بیٹھے اخبار پڑھ رہے ہیں یا ٹی وی دیکھ رہے ہیں بڑی کوفت ہوتی تھی اب بھی یہی حال ہے کسی تقریب میں جانا ہے بہو بیٹیوں کو باربار ٹوکتی رہتی ہوں۔
*بھئی میری عادت شروع سے یہ ہے کہ شادی سے پہلے بابا کپڑے مالا‘ ٹاپس بینگل رومال خود خرید کر لاتے شادی کے بعد جب شوہر کے ساتھ شاپنگ پر گئی تو اگر ان کے پاس جتنے بھی پیسے ہوں گے کوش یہی کروں گی کہ خریداری کے بعد بھی خاصی رقم بچ جائے۔
*اس پاک اور مقدس مہینے میں میری زیادہ سے زیادہ یہ کوشش رہتی ہے کہ قرآن پاک کی زیادہ سے زیادہ تلاوت کروں اور درود پاک کا ورد کرتی رہتی ہوں۔
*اب مجھے بچے کچھ نہیں کرنے دیتے ماشاء اللہ سے بہویں آگئی ہیں طبیبہ نزہت کی بیٹی دوسرے نمبر کی بہو میرے ساتھ ہی رہتی ہے وہ زیادہ تر یہ کوشش کرتی ہے کہ مجھے کام نہ کرناپڑے میری زبردستی پر میں کچھ اس کا ہاتھ بٹا دیتی ہوں۔
*مجھے ساڑھی پسند ہے یہ ہی میرا پسندیدہ لباس ہے۔
*ماشاء اللہ بہوئیں بیٹے ہیں۔ وہ خود میری شاپنگ کرلیتے ہیں اب میں بہت کم شاپنگ پر جاتی ہوں اور اب تو عید پر نئے کپڑے پہنا ضروری نہیں سمجھتی میرے بچے اور بچوں کے بچے جب تیار ہوکر ملنے آتے ہیں تو دل خوشی سے معمور ہوجاتا ہے سب پر نظر کی دعا پڑھ کر دم کرتی ہوں یہ لمحات زندگی کا حاصل لگتے ہیں۔ اب اجازت چاہوں گی اس دعا کے ساتھ اللہ رب العزت ہم سب پر رحم فرمائے ہمیں ہمارے جیسے بندوں کے آگے مجبور وبے بس نہ کرے صرف اور صرف اپنی ذات کا محتاج رکھے۔
مدیحہ نورین مہک… برنالی
۱۔ہاہاہاہا ابھی شادی کیا منگنی بھی نہیں ہوئی تو سسرال والوں کی طرف سے کیا عیدی آنی ہے اور کیا تاثرات ہونے ہیں ویسے یہ رسم مجھے اچھی لگتی ہے چوڑیاں مہندی وغیرہ وغیرہ عیدی میں آتی ہیں۔
۲۔عید کے دن کی خاص بات مجھے یہ پسند ہے کہ اس دن سب اپنی اپنی مصروفیات کو بھلا دیتے ہیں ایک دوسرے کو گلے لگاتے ہیں سب ایک دوسرے کے گھر آتے جاتے ہیں جو کہ عام روٹین میں نہیں ہوتا اور اس دن بھلے تھوڑی دیر کے لیے ہی سہی سب دل سے دوریاں بھلا کر عید کی خوشیاں مناتے ہیں۔
۳۔ بھائی بہت کنجوس ہیں چھوٹے جو ہیں اور عید کی شاپنگ کے لیے ابو جی کو ہی کہتے ہیں اور ان کی جیب خالی کراتی ہوں یہ دھمکی دے کر کہ میں تو کچھ لگتی ہی نہیں ہوں آپ کی مجھے پتا ہے۔
۴۔رمضان المبارک میں زیادہ تر لوگ قرآن مجید کی تلاوت کرتے ہیں میں بھی کرتی ہوں اور کلمہ طیبہ اور درود شریف کواپنا معمول بناتی ہوں۔
۵۔عید کی تیاری کے لیے بس اتنا کہوں گی جو لوگ عید کے دن بھی سوئے رہتے ہیں اور کہتے ہیں ہماری عید بور گزری تو وہ لوگ دراصل خود بور ہوتے ہیں ان میں اتنی اہلیت نہیں ہوتی کہ وہ عید کی خوشیوں کو مناسکیں سب اچھے سے تیار ہوں اور گرمی بہت ہے تو اس لحاظ سے ہی میک اپ کریں اور کوئی ایسی ڈش ضروربنائیں جو اکثر خاندانوں میں ہرسال عید پر بنتی ہے۔سب کو عید مبارک ہو اجازت دیں۔ اللہ حافظ۔
فوزیہ سلطانہ… تونسہ شریف
السلام علیکم آنچل پڑھنے اور اوڑھنے سنوارنے بنانے اور سنبھالنے والوں کو دل کی گہرائیوں سے عید مبارک۔
۱۔پہلا سوال جن لوگوں کے لیے ہے ہم اس کیٹگیری میں نہیں آتے سو رہنے دیتے ہیں۔
۲۔عید کے دن کے معمولات بھی عام دن والے ہی ہوتے ہیں بلکہ عید کے دن تو اور بھی اداس دن گزرتا ہے اللہ کرے یہ عید اچھی گزرے۔
۳۔یہ میرے معاملے میں تو سراسر جھوٹ ہے بھئی‘ میں اتنا ٹائم تو نہیں لگاتی آپ کہیں گے کہ ہر لڑکی یہی کہتی ہے اول تو کپڑے بدلنے کا ہی دل نہیں چاہ رہا ہوتا ظہر تک عید کے کپڑے اگرپہن لوں تو بس پھر یہی کافی ہوتا ہے بس ہلکی پھلکی تیاری کے ساتھ دادی کے گھر جاتی ہوں اور کزنوں کے ساتھ تھوڑا بہت ہلا گلا کرلیتی ہوں۔
۴۔عید کے دن کے حساب سے تو اسٹائلش سوٹ کرتا شلوار پسند ہے اس باربلیو اوروائٹ رنگ کا سوٹ ہے بلیو قیصں کے‘ ساتھ وائٹ شلوار اور وائٹ اینڈ بلیو دوپٹہ ہے اوکے جناب اجازت۔
طیبہ نذیر…شادیوال گجرات
۱۔سسرال والوں کی جانب سے ابھی عید نہیں آئی ویسے آنے والی ہے جب آئے گی تو بتائوں گی تاثرات۔
۲۔عید کا دن بہت بورنگ سا گزرتا ہے بس گھر کے کام کاج کھانا پکانا اور سونا یا فرینڈز سے گپ شپ خاص بات عید کے حوالے سے تو عید کا مطلب ہی خوشی ہے تو اندرونی خوشی محسوس بھی ہوتی ہے۔
۳۔میں تو کوئی بھی بنائو سنگھار نہیں کرتی ویسے گھومنے پھرنے کی بہت شوقین ہوں میں کسی پارک وغیرہ میں جانا ہوتو جلدی تیار ہوجاتی ہوں ویسے کہیں بھی جانا ہوتو میں لیٹ نہیں ہوتی۔
۴۔عید کی شاپنگ کے لیے جیب ایسے خالی کرواتی ہوں کہ بھائیوں اور ڈیڈ جان کے کندھے پکڑ لیتی ہوں جیب ہلکی کروا کے پھر چھوڑتی ہوں۔
۵۔رمضان المبارک میں روزانہ 800دفعہ بسم اللہ شریف پڑھتی ہوں اور بھی بہت سارے وظائف ہیں جو معمول میں شامل ہوتے ہیں۔
۶۔عید کے دن ہم تینوں بہنیں مصباح‘ مکیہ اور اب بھابی آپی زینت بھی ساتھ ہوں گی تو مل کر سب کام کریں گی لیکن میں زیادہ کچن کا کام ہی سنبھالتی ہوں اور گھر آئے مہمانوں کو بھی میں نے ہی دیکھنا ہوتا ہے مل کے کام کرنے میں زیادہ مزہ آتا ہے ۔
۷۔ٹرائوزر اوپر لمبی قمیص ویسے شرارہ بھی بہت پسند ہے۔
۸۔عید کی شاپنگ مما کے ساتھ اور بہنوں کے ساتھ ہی کرتی ہوں عید کی تیاری کے لیے یہی کہنا چاہوں گی کہ ٹائم ٹیبل بنالیں تو آسانی رہے گی۔
عائش کشمالے… رحیم یار خان
السلام علیکم ڈیئر آنچل اسٹاف اور قارئین اینڈ رائٹرز‘ جب سے سروے کاپڑھا بے حد خوشی ہوئی اتنی خوشی کے لکھنے پرمجبور کر گئی پہلے بھی ایک سروے ایک شمع فروزان ہے میں لکھ کربھیجا تھا مگر شاید تاخیر سے موصول ہو اتھا آپ کو۔ مگر اب 25مئی کو لکھ رہی ہوں اور ان شاء اللہ8جون تک تو پہنچ ہی جائے گا آپ تک۔ میری طرف سے سب پیارے دوستوں کو رمضان المبارک کی آمد مبارک ہو۔ اور عید کی بھی ایڈوانس مبارک باد قبول فرمالیں اور اب آتے ہیں سوالوں کی طرف سوال توبڑے مزے کے ہیں۔
۱۔بھئی پہلا سوال بڑے کام کا ہے مگر کیا کریں ہماری صرف منگنی ہوئی ہے اور سسرال میں صرف ایک ساس اور دیورانی ہیں بہت کنجوس ہیں اور ہے بھی اس سال میری پہلی عید‘دیکھتے ہیں ہم انہیں کتنے پیارے ہیں۔ اگر جہاں تک تاثرات کی بات ہے تو میرے خیال میں‘ میں ہی پہلی لڑکی ہوں گی جو بے شرموں کی طرح اپنا حق سمجھ کر عیدی وصول کروں گی۔ ویسے آپس کی بات ہے پچھلے سال ساس صاحبہ تو نہیں مگر فیائنسی نے 1000روپے عیدی دی تھی۔
۲۔دوسرا سوال مزے کا ہے عید کا دن ہمیشہ میرے لیے خوشیوں سے بھرا اور دلچسپ رہاہے عید کے دن کی خاص بات تو یہ ہوتی ہے کہ اس دن سب بڑے گھر میں جمع ہوتے ہیں پہلے نانا ابو نانی امی آتے تھے ہمارے گھر اب تو بڑے ہی نہیں رہے‘ گھر میں امی ابو بہن بھائی اور ہم مگر میں ہر عید خوب انجوائے کرنے کی کوشش کرتی ہوں مگر ہو نہیں پاتی۔
۳۔اس سوال کے جواب پر کم ہی لڑکیاں متفق ہوں گی مگر میرے ساتھ تو ایسا ہی ہوتا ہے پہلی بات میں تو بڑی مشکلوں سے امی اور آپی کے کہنے پر کپڑے چینج کرتی ہوں میری باقی بہنیں بھی ایسی ہی ہیں۔
۴۔ہم تو اپنے ابو جان کی جیب خالی کرواتے ہیں بھائی تو ابھی پڑھ رہے ہیں اور جب تک وہ اپنے پائوں پر کھڑے ہوں گے تب تک تو ہماری کیوٹ سی بھابیاں آچکی ہوں گی ہمارے والدین دنیا کے سب والدین کی طرح بے حد گریٹ نائس اورپیارے ہیں اللہ پاک والدین کا سایہ ہر مسلمان پر سلامت رکھے آمین۔
۵۔تسبیحات ہم تو قرآن پاک بے حد پڑھتے ہیں ہماری قرآت بے حد پیاری ہے ارے واقعی میں سب کہتے ہیں ۔
۶۔مجھے تو گھر کے کاموں سے بے حد پیار ہے سچ کہتی ہوں ہم سب بہنیں ماشاء اللہ سگھڑ ہیں اور ہمارا درختوں سے بھر اپیارا گھر ہماری ترجمانی کرتا ہے ماسوائے ہمارے ہم صرف باتیں ہی بنا سکتے ہیں مگر میں آرائش و زیبائش میں پیش پیش اور سب سے آگے ہوتی ہوں پسندیدہ لباس لانگ شرٹ ٹرائوزر اور بڑا سا دوپٹہ ہاں فراکس کچھ کچھ پسند ہیں۔
رباب اصغر… گجرات
السلام علیکم میری طرف سے تمام آنچل لکھنے اور پڑھنے والوں کو رمضان المبارک کی مبارک باد اللہ تعالیٰ ہمیں اس رمضان میںاپنی رحمتوں سے نوازے اب آتے ہیں سوالات کے جوابات کی طرف۔
۱۔سوال تو بے حد دلچسپ لگا اگر ایک سال بعد پوچھا جاتا تو جواب یقینا لمبا ہوتا بات دراصل یہ ہے کہ منگنی اسی سال 16جنوری کو ہوئی اسی لیے ابھی عیدی تو نہیں آئی مگر خالہ شب برات پر آئیں تھیں تو فروٹس اور میٹھائی ساتھ لائیں تھیں اور جاتے ہوئے کچھ پیسے دے گئیں تھیں مگر مجھ سے بڑی دو جیٹھانیاں ہیں ان کو تو بہت زبردست عیدی ملتی تھی اب ہماری باری ہے دیکھتے ہیں کیا آتا ہے تاثرات یقینا فطری ہی ہوں گے۔
۲۔عید کا تو پورا دن ہی بہت خاص ہوتا ہی آج کل کی مصروفیات میں جہا ںایک دوسرے کی طرف آنا جانا کم ہوگیا ہے وہ عید کا دن غنیمت لگتا ہے ہماری خاندانی روایت ہے کہ اگر خاندان میں کوئی کسی سے کتنا بھی ناراض کیوں نہ ہوں عیدکے دن لازماً وہ ایک دوسرے کے گھر جاتے ہیں۔
۳۔نامعلوم کیوں خواتین کو دیر سے تیار ہونے پر بدنام کر رکھا ہے جب کہ آج کل کے مرد حضرات کسی بھی طور کم نہیں ہیں البتہ جہاں بھی جانا ہو جلدی ہی تیار ہوجاتی ہوں خاص طورپر ماموں کے گھر تو بھاگ بھاگ کر جاتی ہوں بس بہانہ ملنے کی دیر ہے اس کی بڑی خاص وجہ یہ ہے کہ میرے ماموں اکلوتے ہیں اور ان کے گھر پر میری ہی ہم عمرکزن صدف جس سے میری خوب بنتی بھی ہے۔
۴۔بھائیوں کی جیب ہلکی کروانے کے لیے زیادہ محنت کی ضرورت نہیں ہوتی بس چاند رات پر لسٹ ان کے ہاتھ میں دینا پڑتی ہے پہلے منہ کے زاویے بگڑتے ہیں پھر کم کرنے کی فرمائش ہوتی ہے پھر بہانہ تلاشا جاتا اور بازار نہ جانے کا عذر مگر ہم بھی ہم ہیں رام کرکے ہی دم لیتے ہیں۔
۵۔رمضان المبارک میں زیادہ وقت تلاوت کلام پاک میں اور درودشریف پڑھنے میں گزرتا ہے اور 21 رمضان المبارک سے جتنا ہوسکے اتنا رات کو عبادت کرتے ہیں۔
۶۔عید کی شاپنگ امی اور کزن وغیرہ کے ساتھ کرتی ہوں کیونکہ ہم سب کزنز قریب ہی رہتی ہیں اور جو مزہ مل کر خریدنے کا ہے وہ اکیلے نہیں آتا۔
۷۔یاد گار چاند رات بچپن کی ایک رات ہے جن میں اپنی پھوپو اور چچی جان کے ساتھ بازار گئی تھی پہلے ہم نے چوڑیاں پہنیں پھر مہندی لگوائی اور پھر آخر میںآئس کریم کھاتے ہوئے گھر واپس آئے اس کے بعد ہماری بہت عزت کی گئی کہ اتنے دنوں سے بازار جارہے ہو ابھی چوڑیاں باقی تھیں باقی آپ سب سمجھ دار ہیں کہ کیا ہوا ہوگا پھر ہم نے توبہ کرلی کہ آئندہ کبھی نہ جائیں گے۔
عدیلہ رانی… نامعلوم
۱۔جی ابھی اسی مہینے ہی میری منگنی ہوئی ہے ظاہر ہے منگنی کے بعد یہ میری پہلی عید ہوگی اب دیکھتے ہیں سسرال والے کیا عیدی دیتے ہیں اور عیدی ملنے پر میرے کیا تاثرات ہوں گے۔
۲۔عید کے دن بہت سی خاص باتیں جو بے حد پسند ہیں پہلے تو ابو سے عیدی لینا پھر تیار ہو کر دوستوں کے گھر جانے کی جلدی اور ڈائجسٹ پڑھنا بقول امی عید کے دن تو اس کی جان چھوڑ دیا کرو۔
۳۔چونکہ مجھے میک اپ کا اتنا زیادہ شوق نہیں اس لیے جلد ہی تیار ہوجاتی ہوں رشتہ داروں میں کسی کی شادی پر جانا ہوتو کوشش ہوتی ہے کہ دیر سے جائوں ہاں فرینڈزوغیرہ کی شادی ہو یا ان کے گھر جانا ہوتو پھر تو جھٹ پٹ تیار ہوجاتی ہوں۔
۴۔رمضان المبارک میں روزانہ قرآن پاک کی تلاوت کرنا اور طاق راتوں میں عبادت کرنا جو ہم ساری کزنز مل کر کرتی ہیں۔
۵۔گھریلو امور میں عید کی تیاری کی حوالے سے میں ہمیشہ گھر کی آرائش وزیبائش کاکام کرتی ہوں گھر کو سنوارنا میرا پسندیدہ کام ہے۔
۶۔عید کی شاپنگ میں ہمیشہ امی کے ساتھ اور سسٹر انعم کے ساتھ کرتی ہوں
۷۔کوئی خاص یاد گار چاند رات تو نہیں ہاں چاند رات کو سسٹر کے ساتھ بحث ہوتی ہے کہ مہندی لگا دو مہندی لگا دو پھرکہیں جاکر وہ مہندی لگاتی ہے۔
نبیلہ ناز… ٹھینک موڑ آلہ آباد
۱۔سسرال کا ڈھول ابھی گلے میں نہیں لٹکا ‘ نہ ہی اس ڈھول کی ڈھولک سے کانوں کو آشنائی ہوئی ہے سوں ہم کیا جانے تاثرات کیسے ہوتے ہیں وہ کہاوت ہے بندر کیا جانے ادرک کا مزہ۔
۲۔عید کا دن خاص ہوتا ہی ہے اگر محسوس کریں تو ۔ مگر مجھے وہ منظر بہت خاص اور بے حد دلکش لگتا ہے جب مرد حضرات عید کی نماز پڑھنے کے بعد گھر لوٹتے ہیں بابا اور بھائی گلے لگا کر مبارک باد دیتے ہیں عید کے دن معمولات عام ہی ہوتے ہیں چاند رات کی تھکن عید کے دن سو کر اتارتے ہیں۔
۳۔یہ بات سو فیصد درست ہے خواتین کا ہار سنگھار مرد حضرات کے لیے ہر جگہ لیٹ جانے کا موجب بنتا ہے ان کے ہار سنگھار الامان میں تو صرف اس وقت جلدی تیار ہوتی ہوں جب اپنی فرینڈ سے ملنے جانا ہو۔
۴۔بھائی ابھی اس عہدے پر نہیں پہنچے ابھی والدین پر اکتفا ہے ہاں مگر بھائیوں کی کوشش ضرور ہوتی ہے کسی چیز کی کمی نہ ہو۔
۵۔رمضان المبارک میں عام دنوں کی تسبیحات سے ہٹ کر دوسری تسبیحات اور وظائف خودبخود شامل ہوجاتے ہیں ۔ہاں نوافل کا اہتمام بہت کرتی ہوں باقی تمام بہنوں سے گزارش ہے کہ استغفار کی تسبیحات کو معمول بنائیں۔
۶۔عید کے پہناوے میں شلوار قمیص ڈوپٹہ پلین جوتا پسند ہے باقی اتنی ڈیمانڈ نہیں ہیں میری کیونکہ میں خود بہت سمپل ہو۔
۷۔عید کی شاپنگ اپنے بھائی کے ساتھ جاکر کرتے ہیں۔
۸۔میری لائف میں ابھی تک کوئی ایسی عید کا گزر نہیں ہوا۔
۹۔ہمیشہ ان رنگوں کا استعمال کریں جو چہرے کو پہلے سے زیادہ بھرپور انداز میں پیش کریں مثلاً آنکھوں کا رنگ آپ کے بالوں کو بھی دیں اگر آپ بلونڈ کلر کا استعمال کرتی ہیں تو آنکھوں کے پپوٹوں پر ایسی رنگ کا کریمی شیڈ دیں اس کے علاوہ ڈارک گرے اور چاکلیٹ برائون رنگ بھی بہترین ہے اگر آپ چاہیں تو کاپر پیچ اور سرخی مائل بھورا رنگ بھی استعمال کرسکتی ہیں۔
شائستہ جٹ… چیچہ وطنی
۱۔سسرال سے تو نہیں کیونکہ ابھی تو ہم پڑھائی کررہے ہیں اس لیے کوئی تاثر نہیں ویسے جو مزہ گھر والوں سے عیدی لینے میں ہے وہ کسی اورمیں کہاں۔
۲۔عید کے دن مجھے نیوز میں ہر طرف پورے ملک کی خبریں دیکھنے میں مزہ آتا ہے ہر کوئی عید کی شاپنگ میں لگا ہوتا ہے اور عید کی صبح نماز فجر کے بعد میں لیٹ جاتی ہوں پر امی کچن میں سوئیاں بنا رہی ہوتی ہیں تو برتنوں کا شور بے حدپسند ہے اس کے بعد آس پڑوس میں سوئیاں دینے کا رواج بے حد پسند ہے اس کے بعد میں اٹھ کر صفائی کرتی ہوں تاکہ گھر صاف رہے وہ اسپیشل صفائی نہ جو عموما رمضان المبارک میں ہی شروع ہوجاتی ہے۔
۳۔میں کہیں بھی جانا ہو جلدی تیار ہوجاتی ہوں کیونکہ میں بہت وقت کی پابند ہوں پر مانو بہت تنگ کرتی ہے تیار ہونے میں۔
۴۔عید کی شاپنگ کے لیے میں امی اور شگفتہ بہن سے پیسے نکلواتی ہوں اوربھائی تو اناڑی بھیا ٹھہرے ان سے پیسے لینا اونٹ کو رکشے میں بٹھانے کے مترادف ہے۔
۵۔رمضان المبارک میں کوشش کرتی ہوں کہ ہر وقت درد پڑھوں اور یا اللہ ھوکا ورد ضرور کرتی ہوں۔
۶۔چاند رات تو ہر بار خاص لگتی ہے آسمان کی وسعتوں پر محبتیں بکھیرتا چاند دل کے قریب محسوس ہوتا ہے مہندی کی خوشبو چوڑیوں کی کھنک کپڑوں کی ٹینشن سب چاند رات کی مستیاں ہیں جو پسند ہیں مجھے۔
۷۔عید کی تیاری میں مجھ جیسا اناڑی غلط ہی ٹپ بتائے گا اس لیے صرف ایسا کریں صفائی کریں اور کولڈ ڈرنگ سروکردیں مہمانوں کو۔ میک اپ میں بیس لگا کر کاجل کی ہلکی لائن آنکھوں کے باہر لگالیے آنکھیں بڑی لگیں گی۔
نسیم سحر… گلشن اقبال
سروے کے لیے جواب پیش خدمت ہیں امید ہے پسند آئیں گے۔
۱۔سسرال والوں کی جانب سے آنے والی پہلی عید پر تاثرات کا جواب دینے سے ہم قاصر ہیں فی الحال اس کا جواب تو پیا دیس سدھار چکی بہنیں ہی دے سکتی ہیں ہم جیسے نا تجربہ کار کو کیا خبر بھئی کہ کیا محسوس ہوتا ہے۔
۲۔عید کے دن چھوٹے بڑے بچے سب ہی خصوصی تیاری کرتے ہیں رنگ برنگے کپڑوں کی زرق برق‘ بچوں کی خوشیاں عید کی صبح یہ سب چیزیں بہت اٹریکٹو لگتی ہیں ایک کشش محسوس ہوتی ہے سب کے چہروں پر خوشی جھلکتی ہے یہ سچ ہے کہ اب خوشیاں پہلے جیسے نہیں رہیں مگر پھر بھی ان تہواروں کا ایک خاص طلسم ہر ایک پر چھا سا جاتا ہے کچن میں عید کے دن آنا ہم گوارہ نہیں سمجھتے بھئی ایک ہی تو دن ہوتا ہے مزے کرنے کا سو امی جانیں اور آنٹی دن گیارہ بجے کے بعد مہمانوں کی آمد کزنز ماموں خالہ سب آرہے ہوتے ہیں بڑی بہن ہونے کی وجہ سے انہیں کولڈ ڈرنگ اور میٹھا مجھے ہی سرو کرنا پڑتا ہے۔
۳۔ہار سنگھار کا کچھ خاص شوق نہیں۔ مجھے کاجل اور ہلکی لپ اسٹک لگانا پسند ہے بھاری جیولری پہننا بہت مشکل ہے ماموں لوگوں کی طرف جانے کے لیے ہم جھٹ پٹ تیار ہوجاتے ہیں۔
۴۔میرے خیال میں سب سے زیادہ مزے اس ایک کام میں ہی ہے میں جاب کرتی ہوں ماشاء اللہ میرے پاس اچھے خاصے پیسے ہونے کے باوجود ہم جب تک بھائی کی جیب خالی نہ کروائیں مزہ نہیں آتا میں اور میری چھوٹی بہن دونوں مل کر یہ فریضہ سرانجام دیتی ہیں بھائی انجینئر ہیں عید پر ان کی چھٹی کی دعائیں مانگی جاتی ہیں کیونکہ دو تین عیدوں پر چھٹی نا ملنے کی وجہ سے وہ گھر آئے ہی نہیں تو عید کا مزہ کرکراہ ہوگیا۔
۵۔رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ جس کی اہمیت لفظوں میں بیان ہی کی جاسکتی ہے اس قدر رحمتوں کا نزول ہوتا ہے اس مہینے میں‘ہمیں چاہئے کہ ہم اس سے بھرپور فائدہ اٹھائیں سارا دن دردوشریف سے زبان تر رہتی ہے اور مختلف وطائف پورا ماہ کیے جاتے ہیں۔
۶۔میٹرک کے بعد سے ہم نے عید پر گھر کی صفائی زیبائش کا کام اپنے ذمہ لیا ہوا ہے اورہم جناب اس میں خاصے ماہر بھی ہیں رمضان سے پہلے اور آخری عشرہ میں عید کے لیے گھر کی تمام صفائیاں جس میں پردوں کی تبدیلی صوفوں کے کور کچن کی کراکری میںردبدل اور دوسری مختلف چیزیں شامل ہیں رمضان المبارک کی آمد پر ہم گھر شیشے کی مانندچمکا دیتے ہیں تاکہ عید کے قریب کام کا بوجھ زیادہ نہ ہو اور عبادت بھی خشوع وخضوع کے ساتھ کی جائے۔
۷۔شلوار قمیص نفیس کڑھائی والا کرتا پاجامہ پسندیدہ لباس ہیں۔
۸۔ایسی توکوئی خاص چاند رات یاد نہیں جو کہ ہمیں ابھی تک اپنے سحر میں جکڑے ہوئے ہو۔ ہمیشہ ایک سی ہی ہوتی ہے مگر بہت مزہ بھی آتا ہے کبھی کسی کی چوڑیاں رہ گئیں تو کسی کا دوپٹہ‘ ہار‘ مہندی لگوانے کب جانا ہوتمام چیزوں کا لطف بھرپور ہوتا ہے۔
۹۔میری تو عید کی تیاری بہت سادہ سی ہوتی ہے میک اپ کم ہی کرتی ہوں۔عید والے دن تو نہیں مگر عام دنوں اور رمضان المبارک میں کچن میں ہی زیادہ وقت گزرتا ہے جاب سے واپسی پر دوپہر کا کھانا اور رات کا میں ہی بناتی ہوں ۔
اقصیٰ حریم… فتح جنگ
۱۔سسرال والوں کاتوپتا نہیں کیوں کہ ابھی میں چھوٹی سی بچی ہوں ہاہاہا‘ ہاں البتہ ابو کا ضرور بتائوں گی میں جب بھی سب کے سامنے میرا مطلب ساری کزنز کے سامنے ابو سے عیدی مانگتی ہوں کہ ابو زیادہ عیدی دیں گے تب ابو مجھے دس روپے پکڑا دیتے ہیں اف اللہ جی تب میں سوچتی ہوں کہ میں ہی شاید دنیا کی واحدبے چاری معصوم لڑکی ہوں۔
۲۔عید کے دن کی خاص بات یہ ہے کہ ساری کزنز اکٹھی ہوجاتی ہیں اور پھر مل کرپارٹی کرتی ہیں کچھ بازار سے منگواتی ہیں مثلاً پیزا آئس کریم وغیرہ اور معمولات میں عید کے دن امی سارا کام خود کرتی ہیں۔
۳۔عید کی شاپنگ پہلے تو امی کے ساتھ ہی کرتی تھی لیکن اس بار بھائی نے کہا ہے کہ چاند رات کو میں لے جائوں گا اب دیکھے کون لے کرجاتا ہے یا…
۴۔رمضان میں کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ ٹائم عبادت کو ملے کیونکہ کام تو ختم ہوتے نہیں ان شاء اللہ اس بار رمضان مبارک میں کاص تسبیحات ووظائف کو معمول بنائے گئے۔
۵۔خاص کام یہ کہ جب کوئی چاٹ وغیرہ بنانی ہوتو پھر اپنی ڈیوٹی ہوتی ہے اور ہاں سب کے کپڑے پریس کرکے ان تک پہنچانا میری ذمہ داری ہے اور یاد آیا سب کزنز کو تیارکرنا کسی کا ہیر اسٹائل اور کسی کا میک اپ۔
۶۔کچھ خاص نہیں لونگ شرٹ ٹرائوزر اور بڑاسا دوپٹہ اور ساتھ میں میچنگ چوڑیاں ہوتی ہیں۔
۷۔ہم گائوں میں ہوتے ہیں اس لیے چاند رات کو کچھ خاص تو نہیں ہوتا البتہ یہ ہے کہ ہمارا گھر چونکہ فیملی میں سب سے بڑا ہے سو ساری کزنز ہمارے گھر آتی ہیں پھر مل کر چاند کا انتظار کیاجاتا ہے اور چاند نظرآتے ہی مہندی لگنی شروع ہوجاتی ہے کوئی مہندی لگا رہا ہے‘ کوئی کپڑے پریس کررہا ہے اور کوئی بالوں کی کٹنگ کروارہا ہوتا ہے ہرطرف شور ہی شور ہوتا ہے۔
کنزہ مریم… نامعلوم
۱۔پہلا سوال میرے مطلب کا تو بالکل بھی نہیں کیونکہ میری ابھی شادی نہیں ہوئی۔
۲۔چاند رات کو دیر تک جاگ کر مہندی لگا نا بہت اچھا لگتا ہے۔ عید کے دن کے معمولات تو ہماری کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ تر کچن کا کام رات کو ہی ختم کرلیں اور اس میں کامیابی بھی ہوتی ہے ۔کوشش ہوتی ہے کہ عید کی صبح اٹھ کر کم از کم گیارہ بجے تک تو تیار ہوجاتی ہوں۔
۳۔ جیب خالی کرانا بھی خاصا جان جوکھم کا کام ہے۔ عیدی لینے میں کافی محنت کرنی ہوتی ہے بھائیوں سے۔
۴۔ہم اتنے نیک نہیں کہ تسبیحات وغیرہ کی فکر کریں اﷲ جتنی توفیق دیتا ہے ۔ زیادہ سے زیادہ تلاوت ہوتی ہے۔ تین قرآن پاک بھی پڑھے جاتے ہیں۔
۵۔کام وہ بھی تیاری کے حوالے سے خیر ہونا ایسا ہے جس کام کا موڈ ہو وہ کرلیتے ہیں۔ لانگ شرٹ کے ساتھ چوڑی دار پاجامہ ۔ اور آج کل جو کیپری چل رہی ہے وہ اچھی لگتی ہے۔ جس چیز کا فیشن ہو وہی چلتا ہے۔
۶۔ عید کی شاپنگ خود کرنے کا کبھی اتفاق نہیں ہوا۔ سب کچھ گھر بیٹھے ہی مل جاتا ہے۔ بھابی لے آتی ہیں ڈریس بس کلر بتادیتی ہوں ۔ مجھے کتابیں خریدنے کے علاوہ اور کچھ خریدنے کا خاص شوق نہیں۔
۷۔ ایک تو ہماری فیملی تنازعات سے بھر ی ہے۔ یاد گار چاند رات ناممکن ہے۔ سب تیاری چاند رات میں ہی کرلیتی ہوں۔ مہندی لگانا ‘ فیشل کرانا‘ کپڑے پریس کرکے رکھنا ‘ جیولری نکال کر رکھنا ۔ یادگار کام یہی ہیں۔
۸۔ ٹپ وغیرہ تو ایسے کوئی نہیں ہے۔ ڈش کیا خاک بتاؤں کہ کوکنگ تو بس کرنی پڑتی ہے ورنہ مجھے ایک فیصد بھی شوق نہیں ۔ آپ اگر میک اپ سے پہلے ٹھنڈے عرق گلاب کا ہلکا سا مساج کریںاور میک اپ سے تھوڑی دیر پہلے ملتانی مٹی لگالیں تو میک اپ اچھا ہوگا اور پسینہ بھی کم آئے گا۔ شکریہ
پارس فضل…لیہ شریف
ا۔ ہم اس جھنجھٹ سے فارغ ہیں سو اس کے جواب سے بھی معذرت۔
۲۔ کوئی ایک نہیں بہت سی ہیں ۔ سب سے پہلی تو عید کے تین دن لائیٹ نہیں جاتی جس سے بڑی کوئی خوشی کی بات نہیں ہوسکتی۔ پھر سب کا اکھٹے ہونا تمام گلے شکوے بھلا کر ایک دوسرے کے ساتھ خوشی خوشی ملنا مجھے بہت اچھا لگتا ہے۔
۳۔ لو جی ہمیں تو اس طرح کا کوئی شوق نہیں ہے کہیں بھی جانا ہو اور جلدی سے منہ دھویا کپڑے چینج کیے اور ہم تیار لیکن پھر بھی جلدی اور تاخیر تو ہو ہی جاتی ہے۔
۴۔ ہائے یہ حسرت ہی ہے ابھی تک میرے بھائی جیب خالی نہیں کرتے بلکہ میری کردیتے ہیں۔ کبھی کوئی فرمائش کرکے اور کبھی کچھ ان کو ناراض کرنا مشکل ہے۔
۵۔ رمضان میں الحمد اﷲ میری کوشش ہوتی ہے کہ کچھ تو ہم بھی گناہ بخشوالیں۔ اس لیے پہلے سے ہٹ کر ہی کچھ عبادت کی جاتی ہے۔ اور میرے خیال سے یہ اﷲ اور اس کے بند ے کا معاملہ ہے۔ بس اﷲ ہمت دے۔
۶۔ سب سے پہلے تو گھر کی صفائی ستھرائی پھر ظاہر ہے آرائش و زیبائش بھی مجھ بے چاری کو ہی کرنی پڑتی ہے اور مجھے ہر کام کرنا پڑتا ہے مدد کے لیے کوئی نہیں۔
۷۔ بچپن میں ہوتا تھا اب تو کچھ خاص نہیں جو بھی مل گیا پہن لیا۔
۸۔ ہماری شاپنگ اکثر امی کرتی ہیں لیکن کبھی کبھی میں اور میری بہن بھی کرلیتی ہیں۔
۹۔ ہم ہر چاند رات جاگ کر گھر پر مناتے ہیں۔ مہند ی لگاتے ہیں خوب انجوائے کرتے ہیں ۔
۱۰۔ ہائے ظالمو! کیا پوچھ لیا مجھ جیسے پھوہڑ بندے بھی تو ہوتے ہیں ناں جنہیں نہ میک اپ آتا ہے نہ ڈش۔ میں تو سادہ سے کھانے بناتی ہوں ۔ کوئی اسپیشل ڈش نہیں ہاں ہر عید پر حلوہ بناتی ہوں۔ میری بہن گوشت کی کوئی نمکین ڈش ٹرائی کرتی ہے۔ اچھا اب اجازت چاہتی ہوں ۔ اﷲحافظ
روبینہ شاہد…ایف بی ایریا، کراچی
۱۔ ماضی کی سنہری ندی میں ڈوب جائیں تو پور پور یادوں سے بھیگنے لگتا ہے۔ گلابی جاودانی عکس ہمارے سامنے لہرانے لگتا ہے۔ جی! کیونکہ سسرال سے پہلی عیدی پر رو پہلی کام کا نفیس گلابی جوڑا، میچنگ سینڈل، چوڑیاں، جیولری وغیرہ وغیرہ۔ اتنا ڈھیروں سامان دیکھ کر تو ہم خوشیوں کے جھولے میں بیٹھ کر تیز تیز جھونٹے لے رہے تھے کیونکہ ہمارے ان کو ہم پر گلابی رنگ بہت اچھا لگتا ہے سو ہمارے تاثرات پر مسرت اور خوشگوار تھے۔
۲۔ہمارے یہاں عید کا خاص مزہ ہے کیونکہ ہم اپنے میکے میں بھی جوائنٹ فیملی سسٹم میں رہتے تھے یعنی ہمارے دادا، دادی اور ان کے چار عدد بیٹے بمعہ فیملی ایک ہی گھر میں رہائش پذیر تھے۔ ہمارے ابو کا نمبر دوسرا تھا۔ اور ہم سب کزنز مل کر خوب ہلہ گلہ کرتے، عیدی وصولتے، موج مستی کرتے تھے۔ اور اتفاق یہ ہے کہ سسرال میں بھی ہمارے شوہر اور ان کے چار عدد بھائی ایک ساتھ ہی رہتے ہیں۔ ہم جیٹھانی، دیورانیوں میں بے حد انڈر اسٹینڈنگ ہے۔ دن میں مل جل کر خوب پکوان تیار کرتے ہیں اور پھر شام کو سب مل کر گھومنے جاتے ہیںباہر ہی کھانا کھاتے اور رات گئے لوٹتے ہیں۔ اگلے دن سب میکے جاتے ہیں۔
۳۔ہم ذرا سادگی پسند واقع ہوئے ہیںتو تاخیر کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ البتہ میکے جانے کے لئے جھٹ پٹ کیا کھٹ پٹ تیار ہو جاتے ہیں بلکہ ہر وقت تیار ہی ہوتے ہیں۔
۴۔ خیر جیبیں خالی کرانے کی نوبت ہی نہیں آتی، عید کی شاپنگ زبردست ہو جاتی ہے۔
۵۔ رمضان المبارک کا مقدس مہینہ آتے ہی ہماری روٹین یکسر بدل جاتی ہے، ہم سب تمام رات جاگتے ہیں، کثرت سے استغفار پڑھتے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ وقت عبادات میں صرف ہوتا ہے۔ تلاوت کلام پاک، مختلف تسبیحات اور وظائف تو جاری رہتے ہی ہیں مگر رمضان المبارک کی اکیسویں شب سے انتیسویں شب تک ’’لیلۃ القدر‘‘ کی تلاش میں ہم سب پورے خشوع و خضوع کے ساتھ اپنے رب کے سامنے سر بسجود رہتے ہیںتاکہ ’’نیکیوں کا موسم بہار‘‘ جب تک چھایا رہے ہم مسرور و مسحور اس میں گم رہیںاور اس با برکت مہینے کی رحمتیں سمیٹیں۔
۶۔ ایک زمانہ تھا کہ جب بالکل ہی کورے تھے پر اب نہیں۔ گھر کی آرائش و زیبائش کا کام ہو یا پھر کوکنگ سب مزے سے کرتے ہیں۔ تمام گھر کی جھالر والی چادروں اور تمام ہی تکیوںاور گاؤ تکیوں کے کور اور بھی جتنے کورز ہیں، سب سلائی کے کام پوری ذمہ داری سے کرتے ہیں اور بریانی اور شیر عید کے دو خاص پکوان بنانابھی ہمارا ہی کام ہے اور دہی بڑے بھی ہمارے ہاتھوں کے فرمائش کر کے بنوائے جاتے ہیں۔ باقی دوسرے کام ہماری ہیلہپرز دیورانیاں کرتی ہیں۔ ہاہاہا… ہوہوہو… ہی ہی ہی… کھی کھی کھی۔ کرتے تمام کام بخیر و خوبی انجام پاتے ہیں۔
۷۔خوب صورت، دیدہ زیب، آرام دہ، منفرداور سب سے بڑھ کر ہماری مشرقی اقدار کی عکاسی کرتا ہوا شلوار قمیص اور دوپٹہ۔
۸۔ سبھی کو موقع دیتے ہیں اپنے ساتھ شاپنگ کا۔ کبھی میاں جی ساتھ ہوتے ہیں، تو کبھی امی بہنوں کے ساتھ، کبھی ساس، نند اور دیورانیوں کے ساتھ، مگر سب سے زیادہ ساس، نند اور دیورانیوں کے ساتھ ہی ہوتی ہے شاپنگ۔
۹۔ یہ تو طے ہے کہ سسرال کی پہلی عید پر آپ کتنے ہی گھبرائے ہوئے ہوں مگر چاند رات کو پیار چھلکاتی میاں جی کی نگاہیں ایک ہی تحریر رقم کرتی نظر آتی ہیں گھبراتی کیوں ہو؟ ’’میں ہوں نا‘‘ ہماری شادی کے بعد کی پہلی چاند رات بھی عجیب تھی۔ خوف اور پیار کا ملا جلا امتزاج۔ جہاں کچھ غلط نہ ہوجانے کا خوف بھی تھا محبت پاش نگاہوں کی تپش بھی پگھلا رہی تھی۔ سہمے ہوئے دل کی دھڑکن پیار کے احساس سے اتنی بڑھی ہوئی تھی کہ ہماری سماعتیں اپنے دل کی دھڑکن کے سوا کچھ سن ہی نہ پا رہی تھیں اور اس رات کا فسوں ہماری کھٹی میٹھی یادوں کا حصہ ہے۔
۱۰۔ کئی سالوں سے عید موسم گرما میں آرہی ہے اور اسی مناسبت سے جو ڈش ہم بتا رہے ہیں بچے بوڑھے اور جوان سارے ہی خوب کھاتے ہیں اور کھائے ہی جاتے ہیں
’’اسپیگٹھی کا میٹھا‘‘
اجزا:دودھ ایک کلو، اسپیگٹھی ایک کپ، کریم ایک کپ، ڈبل روٹی دو بڑے سلائس، کنارے ہٹا کر چورا کئے ہوئے، چینی حسب ذائقہ، لال شرب کون میں بھرلیں، بادام بیس عدد (گرم پانی میں بھگو کر، چھلکے اتار کر باریک کاٹ لیں)، پستے بیس عدد (کترلیں)۔
ترکیب: اسپیگٹھی زیادہ پانی میں ابالنے کے لئے رکھ دیں۔ ابلنے کے دوران ایک کھانے کا چمچ کوکنگ آئل ڈال دیں۔ اسپیگٹھی نرم ہوجائے تو گرم پانی مکمل نتھار کر ٹھنڈا پانی بار بار ڈالیں تاکہ گرمائش مکمل نکل جائے۔ دودھ ابالنے رکھ دیں ابال آنے پر چینی اور ڈبل روٹی کا چورا ڈال کر مسلسل چمچ چلاتی رہیں، اچھی طرح مکس ہوجانے پر چولہے سے اتار لیں۔ اب کریم پھینٹ کر مکس کرلیںدودھ میں چمچ چلاتی رہیںکریم مکس کر کے ٹھنڈا ہونے دیں۔ جب دونوں چیزوں کی گرمائش اپنی اپنی جگہ نکل جائے پھر سرونگ باؤل میں پہلے اسپیگٹھی ڈالیں پھر دودھ، کریم اور ڈبل روٹی کا شکر ملا مکسچر اوپر سے ڈالیںاب کون میں بھرے لال شربت اور بادام پستوں سے گارنش کریں اور فریج میں رکھ دیں۔ اگر آپ میوہ جات بڑھانا چاہتے ہیں تو حسب منشا میوہ جات استعمال کر سکتے ہیں اور اگر جیلی استعمال کرنا چاہیں تو وہ بھی کرلیں۔ اس میں سب کچھ سما جاتا ہے حتی کہ آپ کوئی فروٹ پسند کرتے ہیں تو وہ بھی کرلیں۔ ہم نے اپنی ترکیب لکھی ہے جس طرح ہم بناتے ہیں۔ زیادہ ٹھنڈا کھانا مقصود ہو تو ایک ڈیڑھ گھنٹہ فریزر میں رکھ دیں۔
گل افشاں رانا…… نامعلوم
۱۔ جب سسرال بنے گا پہلی عیدی ملے گی تو ضرور بتاوں گی۔
۲۔ روحانیت ہوتی ہے ہر چیز میں ہر چہرہ کھلا کھلا سا پیارا لگتا ہے۔ بہت ساری عیدی ملتی ہے۔ انسان خوب دل لگا کے سولہ سنگھار کرتا ہے، چھوٹے بہن بھائیوں کی چیزیں پوری کرنا تیار شیار کرنا۔ کھانا پکانے کا حساب کتاب رکھنا مہمانوں سے ملنا جلنا۔
۳۔ اگر میرا دل خود چاہے کہیں جانے کو تو خوب دل سے تیار ہوتی ہوں۔ بہت اہتمام سے سنگھار کرتی ہوں۔ دو گھنٹے پہلے ہی تیار ہو کے ایک جگہ بیٹھ کے سب کو افراتفری مچاتے ہوئے دیکھ کے انجوائے کرتی ہوں۔ لیکن اگر کہیں زبردستی جانا ہو تو عبایا پہن کے اسی وقت ریڈی ہو کے کہتی ہوں چلیں جی۔
۴۔ الحمدللہ میرے بابا زندہ باد بہت نخرے کرتی ہوں ان سے اتنے لاڈ چاہ سے فرمائشیں کرتی ہوں کہ وہ خود ہی سب پوری کر دیتے ہیں۔
۵۔ سارے کام سب ہی مل جل کر کرتے ہیں۔ دوسرے تیسرے دن بھابیوں نے اپنے اپنے میکے جانا ہوتا ہے تو سارا کچھ مینج کرنا پڑتا ہے۔
۶۔ سفید بلیو پنک مائی آل ٹائم فیورٹ کلرز چوڑی دار پاجامہ۔ فراک کرتے ہمیشہ سے پسند ہیں اور استعمال کرتی ہوں۔
۷۔ شاپنگ ہمیشہ بابا کے ساتھ جا کے ہی کی ہے۔
۸۔ جدہ میں اپنی ماما کے ساتھ لاسٹ چاند رات جو گزری تھی اس سے زیادہ خوب صورت رات ابھی تک دوبارہ نہیں آئی میری زندگی میں۔ میرے بابا ہم سب کو سمندر کنارے لے کے گئے چاند دیکھا، شاپنگ کی پیزا ہاٹ گئے رات تین بجے واپس آئے اور میں نے اپنی ماما اور بہن کو مہندی لگائی۔
۹۔ میں میک اپ بہت کم یوز کرتی ہوں لیکن جب بھی کرتی ہوں تو دو دن بھی لگا رہے تو خراب نہیں ہوتا اور زیادہ گلوسی ہوجاتا ہے۔ اس کاکریڈت میں وضو کو دیتی ہوں کے میں جب بھی تیار ہوتی ہوں تو پہلے وضو ضرور کرتی ہوں جس سے چہرہ چمکتا رہتا ہے۔
کنول ریاض… سرگودھا
۱۔ ابھی تک آئی ہی نہیں۔
۲۔ صبح اٹھ کر سب کو مہندی دکھانا میری سب سے اچھی عادت ہے۔
۳۔ کہیں بھی نہیں گیارہ بجے میں ہر صورت ریڈی ہوتی ہوں کہیں جانا ہو یا نہ جانا ہو۔
۴۔ پاپا اور دادی ماں کی کراتی ہوں۔
۵۔ کافی تسبیحات ہیں جو اس ماہ پڑھتی ہوں۔
۶۔ کچھ بھی نہیں اپنی مرضی سے جو دل کرے کر لیتی ہوں اب امی کی ہیلپ کرتی ہوں کوکنگ میں۔
۷۔ لمبی فراک اور دوپٹا اور چوڑی دار پاجامہ میرا پسندیدہ لباس ہے۔
۸۔ عموماً دادی ماں کے ساتھ۔
۹۔ ہر چاند رات ہی منفرد ہے، ایک دفعہ میں نے چاند رات پر ایک مووی ڈائون لوڈ کی کہ عید پر دیکھوں گی صبح اٹھی تو لیپ ٹاپ سے غائب تھی بہت افسوس ہوا تب۔
۱۰۔ بس اس دفعہ گرمی بہت ہو گی تو ساری لڑکیاں میک اپ سے گریز کریں۔ ورنہ آدھے گھنٹے میں چڑیل بن جائیں گی، صرف لپ اسٹک استعمال کریں۔ تمام بہنوں کو بہت بہت مبارک باد۔
کرن شہزادی… مانسہرہ
1) ہائے ابھی تو ہمارے کھیلنے کودنے کے دن ہیں بھلا کہاں کی منگنی اور کہاں کی عیدی… ہاں البتہ دوسروں کو منگنیوں کے بعد عیدی لیتے دیکھا ہے اور وہ بھی بہت خوشی خوشی اپنا حق سمجھ کر وصول کرتی ہیں۔
2) تیس روزوں کے بعد (صرف اس ایک دن) عید کی بڑی خوشی ہوتی ہے سب ناراضگیاں‘ گلے شکوے بھلا کر بڑی خندہ پیشانی سے ایک دوسرے سے ملتے ہیں اور عید اجتماعی طور پر مسلمانوں کے لیے (چاہے وہ امیر ہوں یا غریب) خوشی کا باعث ہوتی ہے۔ عید کے روز میرے معمولات میں جھاڑ پونچھ گھر کی صفائی کے اس بعد تیار ہوکر دوستوں کی طرف نکل جاتی تھی۔
3) میرا تو کوئی ہار سنگھار نہیں ہوتا بس منہ ہاتھ دھویا‘ صاف کپڑے پہنے اور چل پڑی ویسے میں اپنی دوستوں کی طرف اور کسی پکنک پوائنٹ پر جانے کے لیے ہر وقت تیار رہتی ہوں جبکہ تاخیر کا مظاہرہ رشتہ داروں کے گھر پر جانے سے کرتی ہوں (رشتہ داروں پڑھنا نہیں)۔
4) بھیا تو بہت اچھے ہیں زیادہ تنگ نہیں کرتے بلکہ انہیں میرے لیے جو چیز پسند آئے خود ہی لے لاتے ہیں اور مطلوبہ رقم بھی دے دیتے ہیں۔
5) رمضان کے بابرکت مہینے میں تین عشروں کی دعائیں عشروں کے لحاظ سے پڑھتی ہوں اور زیادہ سے زیادہ قرآن مجید کی تلاوت کرتی ہوں۔
6) عید کے دن میرا کام گھر کی آرائش و زیبائش تھا ’’تھا‘‘ سے مطلب شاہی اپیا جانی تھیں تو راوی عیش ہی عیش لکھ رہا تھا یہ عید ان کی سسرال میں ہوگی اس لیے اب سب کام میرے ناتواں کندھوں پر پڑگئے ہیں۔
7) مجھے لانگ شرٹ اینڈ چوڑی دار پاجامہ اور ٹخنوں تک چھوتے فراک کے ساتھ چوڑی دار پاجامہ اور لمبا سا دوپٹہ اچھا لگتا ہے اور عید پر ہی میرا یہ خاص لباس ہوتا ہے۔
8) شاپنگ کا مجھے کوئی تجربہ نہیں ہے میرے لیے سب کچھ اپیا جانی ہی اپنی پسند سے لے کر آتی تھیں۔
9) وہ چاند رات آج بھی مجھے مسحور کردیتی ہے جب میں پہلی دفعہ دوست کنزہ کے ساتھ ان کے ہی گھر میں اعتکاف میں بیٹھی تھی اور میری عید کے حوالے سے شاپنگ بھی سرپرائز تھی جب ہلال کمیٹی والوں نے چاند نظر آنے کا عندیہ دیا تو سب نے مل کر دعا کے بعد سفید چادر اوڑھا کر اور ہمیں پھولوں کے ہار پہنا کر اعتکاف سے اٹھایا اور مبارک باد کے ساتھ گفٹ بھی دیئے پھر ہم لوگوں نے مہندی لگوائی اور رات دیر تک باتیں کرتے رہے۔
10 ) آخری سوال نہایت مشکل لگا کیونکہ میں ان دونوں چیزوں میں کوری ہوں کوئی خاص ڈش تو مجھے بنانی نہیں آتی اور میک اپ کا مجھ سے دور دور تک بھی واسطہ نہیں ہے (آخر میک اپ کے بغیر ہی اتنی خوب صورت جو ہوں لپ اسٹک لگانی آتی ہے یقینا آپ کو بھی آتی ہوگی‘ ہاہاہا)۔
تمنا بلوچ… ڈی آئی خان
1) سسرال والوں کی طرف سی ملنے والی پہلی عیدی پر تاثرات کچھ عجیب و انوکھے تھے۔ چیزوں کو بہت پیار اور محبت سے رکھا تھا‘ چوڑیاں تو آج بھی میرے پاس محفوظ ہیں۔
2) عید کے دن کی خاص بات یہ ہے کہ یہ سب کو ایک کردیتا ہے جتنی بھی رنجش ہوں‘ مٹ جاتی ہیں سب ایک دوسرے سے گلے مل رہے ہوتے ہیں۔ نئے نئے کپڑے پہنے جاتے ہیں‘ چوڑیاں‘ مہندی ہر طرف خوشبوئوں کا بسیرا ہوتا ہے۔ سب سے اہم بات یہ اللہ کی طرف سے انعام اور عیدی بھی ملتی ہے‘ ہاہاہا۔
3) جی یہ بات تو سو فیصد سچ ہے کہ خواتین کے ہار سنگھار تاخیر کا سبب بنتے ہیں مجھے بھی تاخیر ہوجاتی تھی اکثر‘ لیکن آج کل جھٹ پٹ کرتی ہوں۔ پہلے میں عید پرکہیں نہیں جاتی تھی۔ اس بار تو شادی شدہ ہوں تو میکے جانے میں جھٹ پٹ کروں گی۔
4) بس معصوم سا منہ بناکے فرمائش کردیتی ہوں تو وہ بڑے پیار سے میری جائز فرمائش پوری کردیتے ہیں بھائی بھی اور شوہر بھی۔ بے جا فرمائش میں نے کبھی نہیں کی۔
5) درود پاک‘ تہجد‘ قرآن پاک اور زیادہ تر یٰسین کو ہی صبح و شام فقط جب بھی موقع ملے معمول بناتی ہوں۔
6)میکے میں میرے ذمہ کوئی کام نہیں تھا جو مرضی کرلوں صرف بھائیوں کی تیاری میں مدد اور اپنا روم صاف کرنا سجانا‘ سنوارنا اور بس اور سسرال میں چونکہ میری پہلی عید ہے تو نو آئیڈیا۔
7) پسندیدہ لباس‘ جو پہن کے اچھا محسوس ہو اور میری خصوصی پسند لانگ شرٹ‘ ٹرائوزر اور بڑا سا دوپٹہ۔
8) اپنی پھوپو اور بھائیوں کے ساتھ۔
9) ایسی تو کوئی یاد نہیں حسرت ہے کہ کوئی ایسی یادگار بنے پر پچھلی عید پر میں بڑے بھائی بھابی پوری رات جاگے تھے‘ مہندی لگائی تھی خوب گپ شپ کی تھی‘ بہت مزہ آیا تھا۔
10 ) ٹپ یہ کہ ماہ مبارک سے پہلے اپنی تیاری مکمل کرلی جائے تاکہ پھر سارا وقت عبادت میں ہی گزرے۔ (میک اپ) خوب صورت سا سوٹ زیب تن کریں‘ بال بنائیں‘ ہلکی سی لپ اسٹک لگائیں اور پسند کے مطابق ہلکی پھلکی جیولری پہنیں‘ لیجیے ہوگئی تیاری میں تو ایسی ہی کرتی ہوں۔
ماریہ ایمان ماہی… نامعلوم
1) پہلی عیدی… جناب جی ابھی آئی ہے پہلی عیدی‘ ویسے تاثرات خاصے محظوظ کن تھے۔ میں شرمانے کی بجائے ہر چیز کو تسلی سے دیکھ رہی تھی اور نقص نکال رہی تھی اور امی کی گھوریاں چونکہ سسرالی بھی بیٹھے تھے ود فیانسی تو پتا نہیں کیوں میں شرمانے کی بجائے کانفیڈنس تھی۔
2) مجھے عید کے دن مہمانوں کا آنا بہت پسند ہے‘ معمولات صفائی کرنے کے بعد سب بچوں کو تیار کرنا‘ ممی کو زبردستی تیار کرنا اور پھر خود تیار ہونا پھر کزنز کے ساتھ گپ شپ ۔
3) پتا نہیں کیوں لیکن ہر شادی میں میں ہمیشہ لیٹ ہوجاتی ہوں‘ سب کو تیار کرنے کی ذمہ داری مجھ پر ہوتی ہے (تھوڑی بیوٹیشن بھی ہوں اس لیے) اگر میں اپنے چاچو کے گھر جائوں تو جھٹ پٹ تیار ہوجاتی ہوں‘ کسی شادی پر بھی جانے کے لیے جلدی تیار ہوجاتی ہوں (زیادہ میک اپ پسند نہیں) ہاں مہندی میں خوب دل لگا کر تیار ہوتی ہوں‘ بالکل ریلیکس موڈ میں…
4) ان میرڈ ہوں (ہم ہم ) شرم آرہی ہے (ہاہاہا) اور بھائی کا نہیں مما کا پرس خالی کرواتی ہوں وہ یوں کہ عیدکی ساری شاپنگ اور پھر عیدی اتنے نخروں سے کہ بس توبہ توبہ…
5) الحمدللہ نماز تراویح کبھی بھی نہیں چھوڑی اور قرآن مجید روز ایک یا پھر دو پارے اور ویسے جب فارغ ہوں سبحان اللہ یا پھر دوسرے چھوٹے وظائف وغیرہ پڑھتی رہتی ہوں۔
6) چونکہ میں بڑی ہوں تو سب کام میرے سپرد ہی ہوتے ہیں آرائش و زیبائش سب کو تیار کرنا سب کے کپڑے چاند رات پریس کرنا‘ غرض سب کچھ اور کوکنگ میں میٹھا میں بناتی ہوں۔ نمکین امی ویسے میری امی کے ہاتھ میں ذائقہ بہت ہے میں کہتی ہوں انہیں شیف ہونا چاہیے تھا۔
7) ویسے تو مجھے ساڑھی بہت پسند ہے لیکن عید پہ لونگ ٹخنوں تک آتا گھیر دار فراک نیچے تنگ پاجامہ اوپر لانگ دوپٹہ۔
8) عید کی شاپنگ مما اور دادو کے ساتھ جاکر کرتی ہوں‘ رمضان میں ویسے بڑوں کے ساتھ شاپنگ کرنے کا اپنا ہی مزہ ہے جب بھی دادو کے ساتھ جاتی ہوں توبہ کرتی ہیں کہ پھر نہیں جائوں گی لیکن میں… میں بھی میں ہوں۔ میں ذرا چیزیں پسند کرنے میں نخریلی ہوں اس لیے دکاندار بھی اکثر گھبرا جاتے ہیں کہ ایسی اعلیٰ پسند (آہم‘ ہاہاہا)۔
9) یادگار چاند رات اپنی آنٹی کے ہاں‘ اس چاند رات بڑا مزا آیا تھا پہلے ہم سب نے مہندی لگوائی پھر چھت پر چاند دیکھنے گئے سب کزنز دھماکہ چوکڑی شرارتیں بہت مزہ آیا تھا تب اب تو بے مزہ سی ہیں سبھی راتیں۔
10 ) سویوں کا قلفہ
اجزاء:۔
سویاں
150 گرام
دودھ
دو لیٹر(دو کلو)
(سویاں کو تھوڑا سا پانی ڈال کر بوائل کرکے پیس لیں
کھوئے کی برفی
آدھا کلو
چاولوں کا آٹا
آدھا کپ
پستہ کشمش
آدھا‘ آدھا کپ
کارن فلور
دو کھانے کے چمچ
(پانی میں گھول لیں)
شکر دانے
حسب ضرورت
ترکیب:۔
ایک پتیلی میں دودھ گرم کریں اور اتنا پکائیں کہ آدھا رہ جائے اس میں کارن فلور اور سویوں کا پیسٹ ڈال کر اتنا پکائیں کہ وہ گاڑھا ہوجائے آخر میں بادام پستہ پائوڈر‘ کشمش ڈال کر اتار لیں۔ اب اس میں کھوئے کی برفی کا چورا ڈال کر اتار لیں اور بئیر سے اچھی طرح مکس کرلیں اور تین گھنٹے کے لیے کسی چیز میں ڈال کر فریزر کریں ۔ تین گھنٹے بعد نکال کر دوباہ بئیر سے فلافی ہوجانے تک چلائیں‘ دو دفعہ کرنے کے بعد سانچوں میں ڈال دیں‘ مزے دار قلفہ تیار ہے میری مما ہر عید پر پکاتی ہیں ‘ او کے جی اللہ حافظ۔ سب کو عید مبارک‘ سمیر اپیا جی آپ کو بھی‘ فی امان اللہ۔
سلمیٰ عنایت حیا… کھلا بٹ ٹائون شپ
1) ارے جناب میرا سسرال نہیں ہے‘ ابھی میں بچی ہوں اور امی پاپا کے ساتھ رہتی ہوں اس لیے نو سسرال اور نو عیدی۔
2) عید کے دن کی جو خاص بات مجھے پسند ہے وہ یہ ہے کہ عید کے دن ہر شخص اپنی حیثیت کے مطابق عید کی خوشیوں میں شریک ہوتا ہے‘ ہر شخص کے چہرے پر عجیب مسرت کے ستارے چمک رہے ہوتے ہیں یہ جو احساس مسرت جو حاوی ہوتا ہے وہ مجھے بہت پسند ہے۔ عید کے دن میرے معمولات یہ ہوتے ہیں کہ میں تہجد کی نماز پڑھتی ہوں‘ اللہ کا شکر بجالاتی ہوں کہ اس نے رمضان المبارک میں روزے رکھنے کی توفیق دی پھر اس کے بعد فجر کی نماز پڑھ کر گھر کی صفائی ستھرائی کرتی ہوں اور مما جانی ناشتا تیار کرتی ہیں سب مل کر ناشتا کرتے ہیں پھر پاپا اور ذیشان مسجد جانے کے لیے تیار ہوتے ہیں‘ ان کو چیزیں دینا میرا کام پھر اپنے چھوٹے سے بھائی حنظلہ کو تیار کرتی ہوں اور آخر میں رومیصہ کو تیار کرتی ہوں پھر میں اور امی دونوں تیار ہوتے ہیں کیونکہ اگر پاپا کے آنے سے پہلے تیار نہ ہوں تو پاپا ناراض ہوجاتے ہیں۔ پاپا آتے ہیں اور عیدی دیتے ہیں‘مما جان کچن کا رخ کرتی ہیں اور دن کے کھانے کی تیاری اور میرا کام مہمانوں کو ریسیو کرنا اور خاطر مدارت کرنا یعنی امی کی ہاتھوں کی بنی ہوئی چیزوں کو مہمانوں کے سامنے پیش کرنا۔
3) بالکل جناب! خواتین کا ہار سنگھار ہمیشہ تاخیر کا سبب بنتا ہے مگر میرے لیے نہیں۔ یہ بات میری بہن پر بالکل فٹ ہے‘ میں تو بس زیادہ تیار ہی نہیں ہوتی یعنی میک اپ وغیرہ نہیں کرتی‘ میں بہت تنگ ہوتی ہوں میک اپ وغیرہ سے۔ کپڑے تو بڑے پیارے پہنتی ہوں‘ جیولری میں بھی ٹاپس‘ چوڑیاں اور انگوٹھیاں بس میری تیاری مکمل ہوجاتی ہے۔
4) عید کی شاپنگ کے لیے پاپا کی جیب سے پیسہ خرچ کرواتی ہوں یعنی پاپا ہی تو ہیں جو عید کی شاپنگ کرواتے ہیں بھائی تو خود چھوٹے ہیں مجھ سے‘ وہ مجھے کیا دیں گے ظالم مجھ سے ہی پیسے بٹورتے ہیں۔
5) رمضان المبارک میں نماز و قرآن مجید کی تلاوت باقاعدہ کرتی ہوں اس کے علاوہ استغفار اور درود پاک کا ورد کثرت سے کرتی ہوں اور اس سے مجھے بے حد فوائد بھی حاصل ہوتے ہیں یعنی میں بالکل تازہ دم رہتی ہوں۔ آپ یقین کریں مجھے جب کوئی دیکھتا ہے تو کہتا ہے سلمیٰ! تم کتنی تروتازہ اور چاق و چوبند رہتی ہو۔ وجہ یہی ہے کہ ہر نماز کے بعد ایک دو تسبیح استغفار کی اور کسی بھی کام کے دوران اپنی زبان کو درود ابراہیمی سے تر رکھتی ہوں‘ اللہ کے ناموں کا ورد صبح کی نماز کے بعد کرتی ہوں ۔
6) گھریلو امور میں عید کی تیاری کے حوالے سے گھر کی آرائش و زیبائش کا کام میرے سپرد کردیا جاتا ہے جسے میں بڑی خوش اسلوبی سے سر انجام دیتی ہوں اورکبھی کبھار کوکنگ بھی عید کے دن کرتی ہوں۔
7) میرا پسندیدہ لباس فراک اور شلوار قمیص ہے اور اس کے ساتھ خوب صورت سا دوپٹہ جو حجاب کی صورت سر پر لینا پسند کرتی ہوں میں اپنے کسی بھی ڈریس کے لیے حجاب خود ڈایزئن کرتی ہوں اور خاص مواقع پر ضرور زیب تن کرتی ہوں۔
8) جی جناب! شاید آپ کو یہ بات عجیب بھی لگے کہ عید کی شاپنگ کے لیے نہ میں جاتی ہوں اور نہ میری بہن بلکہ عید کی شاپنگ امی اور پاپا جانی کرتے ہیں اور دونوں کی چوائس بہت اچھی ہے‘ امی پاپا کی لائی ہوئی ہر چیز مجھے پسند آتی ہے۔
9) یہ سوال پڑھ کر میں تو سوچوں میں گم ہوگئی‘ میری بچپن کی ہر چاند رات یادگار ہے کیونکہ سب دوستیں اکٹھی ہوتی تھیں‘ خوب ہلہ گلہ کرتے تھے اس کے ساتھ ہی میری وہ چاند راتیں یادگار ہیں جس میں میرے حامد ماموں ہمارے ساتھ ہوتے تھے۔ میری اور ان کی لڑائی ضرور ہوتی تھی کیونکہ وہ مجھے تنگ کرتے تھے میں چونکہ بچپن میں پٹاخوں سے ڈرتی تھی ان کی آواز سے مجھے الجھن ہوتی تھی مگر میرے ماموں لاکر میرے پائوں کے قریب رکھ دیتے اور میں چیختی رہتی تھی کہ نہ کریں مجھے تنگ مگر وہ بھی باز نہ آتے تھے جب تک میں ان سے ناراض نہ ہوجاتی اور یوں وہ مجھے راضی کرتے پھر تنگ کرتے۔ یوں ہم انجوائے بھی کرتے تھے اب تو ماموں بھی مصروف ہوگئے ہیں مگر میری بچپن کی چاند رات کو انہوں نے یادگار بنایا۔ میری دوست لائبہ کے ساتھ گزری ہوئی چاند رات آج بھی یاد ہے کیونکہ ہم دونوں مہندی اکٹھے اور ایک جیسی لگواتے تھے۔
10 ) عید کی تیاری کے لیے میک اپ ٹپ دینے سے قاصر ہوں جی کیونکہ میں میک اپ نہیں کرتی ہاں البتہ یہ میٹھی عید آرہی ہے تو اس کے لیے ایک مٹھی ڈش ضرور بتائوں گی‘ آپ کو میں پینٹ ٹکی بنانا سکھائوں گی۔
اجزاء:۔
چینی
ایک کپ
مونگ پھلیاں صاف کی ہوئی
دو کپ
الائچی پائوڈر
ایک چھوٹا چمچ
کوکنگ آئل
چار چمچ
پانی
تین چمچ
سفید تل
دو چمچ
ترکیب:۔
ایک فرائنگ پین میں دو چمچ آئل ڈال کر پھلیاں فرائی کریں۔ ہلکا سا پک جائیں تو اتار لیں‘ اب کسی اور فرائنگ پین میں باقی تیل ڈالیں‘ اس میں چینی شامل کردیں۔ ساتھ ہی الائچی پائوڈر اور پانی شامل کردیں‘ مکس کرتے جائیں‘ چمچ مسلسل چلاتے رہیں یہاں تک کہ چینی کی چاشسنی بن جائے اور چینی اپنا رنگ بدلنے لگے تو ہلکا برائون کلر ہونے پر چولہے سے اتار کر مکس کریں۔اب پہلے سے چکنے ٹرے میں تل چھڑکیں اور اوپر آمیزہ ڈال دیں اور چمچ کی مدد سے ہموار کرلیں۔ ہموار کرنے کے بعد اس پر تھوڑے سے اور تل چھڑک لیں‘ اب اسے ٹھنڈا ہونے کے لیے رکھیں۔ ٹھنڈا ہونے پر من پسند ٹکڑوں میں کاٹ لیں اور میٹھی عید پر یہ میٹھی ٹکیاں پیش کرکے خوب داد وصول کریں‘ آخر میں سب کے لیے دعا۔
ثناء اعجاز قریشی… ساہیوال
1) ہاہاہا… یہ کیا پوچھ لیا آپ نے (ہائے ایسی باتیں لڑکیوں کے سامنے نہیں کرتے‘ ہاہاہا) ارے بھئی‘ ہم تو شرم سے سرخ گلاب کی طرح ہوگئے ہیں (آہم)۔ یار ابھی ہم کنواروں کی صف میں جو کھڑے ہیں۔ ہاں جب کبھی عیدی ملی تو ضرور اپنے تاثرات بیان کروں گی۔
2) مجھے تو عید کا دن دوسرے دنوں سے مختلف اور خوب صورت لگتا ہے کیونکہ صبح سے ہی چہل پہل شروع ہوجاتی ہے۔ ہم سب گھر والے تقریباً چار بجے سے پہلے اٹھ جاتے ہیں‘ نماز پڑھتے ہیں اور ایک دوسرے کو عید مبارک کہتے ہیں پھر کچن میں گھس جاتی ہوں کوئی چیز بھابی بنالیتی ہے تو کوئی میں۔ امی بھی ساتھ دیتی ہیں ویسے میرے ذمہ صرف سویٹ ڈش ہوتی ہے وہ پکا کر فریج میں رکھ کر گھر کی صفائی میں لگ جاتی ہوں تاکہ جلدی سے صفائی ہوجائے پھر آواز آنا شروع ہوجاتی ہیں کہ بیٹا مجھے یہ چیز اٹھادو‘ ادھر سے بھائی کہتا ہے ثناء جلدی کرو مجھے یہ چیز لاکر دو حالانکہ میں ان سب کے کپڑے رات کو ہی استری کرکے رکھ دیتی ہوں پھر تقریباً آدھا گھنٹہ تو بھابی اور میرا اچھی خاصی ورزش میں گزرتا ہے جب سب عید کی نماز کے لیے جاتے ہیں تب جاکر کہیں سکون ملتا ہے اور پھر ہم ناشتا کرتے ہیں۔ عید کے دن کا تو کھانا بھی منفرد ہوتا ہے‘ اس کے بعد میری کوئی خاص مصرفیات نہیں ہوتیں بس ٹی وی دیکھنا کسی کو پانی دینا یا پھر کوئی اور چھوٹا موٹا کام ویسے بھی عید والے دن تو کام بھی زیادہ نکل آتے ہیں بندہ جتنی جلدی کرے اتنی دیر ہوجاتی ہے۔
3) ہم سب شام کو ہی کہیں جاتے ہیں کیونکہ دن کو مہمانوں سے فرصت ہی نہیں ملتی۔ دن کو بھائی اور ابو دونوں بڑی باجیوں کو اور میں جس کو بھی عیدی دینی ہو جاکر دے آتے ہیں پھر شام کو ہم سب باجی شہلا کی طرف جاتے ہیں کیونکہ وہ دوسرے علاقے میں رہتی ہیں۔ پہلے لاہور میں تھیں تو رمضان میں ہی یا عید کے بعد جاکر ہم ان کو عیدی دیتے تھے مگر اب وہ عید منانے کے لیے ادھر ہی آجاتی ہیں تو بہت مزہ آتا ہے ویسے میں تیار ہونے میں کبھی تاخیر نہیں کرتی کیونکہ مجھے زیادہ میک اپ کرنا اچھا نہیں لگتا (ارے خوب صورت جو ہیں میک اپ کی ضرورت ہی نہیں پڑتی) بس سادہ سا تیار ہوجاتی ہوں‘ ہاں جب کہیں جانے کا دل نہ چاہ رہا ہو تو پھر تاخیر کردیتی ہوں۔
4) بھئی ہمیں کسی کی جیب خالی کرانے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی ہم تو بس یہ بتادیتے ہیں کہ ہم نے یہ یہ چیزیں لینی ہیں اور ہماری امی وہ لاکر دے دیتی ہیں۔ ارے بہت پیار جو کرتی ہیں مجھ سے‘ بس جی غرور کبھی نہیں کیا (ہاہاہا) اﷲ انہیں زندگی اور صحت عطا فرمائے۔ آمین‘ ویسے بھی میرے بھائی بہت اچھے ہیں میری چھوٹی چھوٹی خوشیوں کا خیال رکھتے ہیں۔
5) رمضان میں تو ہر طرف رحمت برس رہی ہوتی ہے ‘ ہر طرف روح کو سکون دینے والی فضا ہوتی ہے جو سکون و چین رمضان میں وہ دوسرے گیارہ مہینوں میں نہیں ہے۔ ہر عشرے کی مخصوص تسبیحات‘ قرآن پاک کی تلاوت اور پانچ وقت کی نماز خاص عبادات میں شامل ہیں۔
6) بہنوں کی شادی سے پہلے تو ہمارا گھریلو امور میں کوئی عمل دخل نہ تھا کیونکہ سارا کام وہی کرتی تھیں ہم تو بس تیار شدہ چیز پر پہنچ جاتے تھے۔ چاہے کپڑے ہوتے یا کھانے کی کوئی چیز‘ اب ان کی شادیاں ہوگئی ہیں تو کچھ کام میرے سپرد بھی کیے جاچکے ہیں (ارے بھئی اب بہنوں والے عیش کہاں) گھر کی آرائش یہ کام تقریباً بھابی اور میں مل کر ہی عید سے پہلے ہی کرلیتی ہیں۔ کوکنگ بھی ہم یعنی امی‘ بھابی اور میں مل کر ہی کرتے ہیں ایسا کوئی خاص کام نہیں جو میرے سپرد ہو کیونکہ ہم مل کر کام کرلیتی ہیں ویسے بھی میرا دل ہو تو کام میں حصہ لے لیتی ہوں اگر دل نہ ہو تو بس ٹی وی کے آگے ہی رہتی ہوں۔
7)عید پرمیرے پسندیدہ لباس لانگ شرٹ ‘ ٹرائوزر اور دوپٹہ ہے مجھے آج کل جو فیشن ہے چھوٹی قمیص پنڈلی تک پاجامہ نما شلوار اور بازو نہ ہونے کے برابر بالکل پسند نہیں ہے۔
8) عید پر شاپنگ کرنے کا اپنا ہی مزہ ہوتا ہے میں اکثر شاپنگ امی اور بھائی کے ساتھ کرتی ہوں اور اپنی پسند کی ہر چیز لیتی ہوں کیونکہ امی کہتی ہیں جو بھی لینا ہے اپنی مرضی سے لو پھر گھر جاکر یہ نہ کہنا کہ یہ تو اچھی نہیں ہے۔
9) چاندنی رات نام ہی بڑا رومینٹک سا لگتا ہے۔ بہت پیاری رات ہوتی ہے یہ بھی ویسے بہت پُررونق رات ہوتی ہے جیسے مہندی کی رات ہو ایک خوشی گوار سی ہوا چل رہی ہوتی ہے۔ ابھی تک ایسا حسن فسوں خیز اور یادگار چاند رات ہماری تو گزری نہیں جو ہمارے ذہن میں ہمیشہ کے لیے محفوظ ہوجائے اورجب بھی یاد آئے لبوں پر مسکراہٹ بکھیردے۔ میری طرف سے آپ سب کو ایک بار پھر عید مبارک۔ اپنا خیال رکھیے گا اور اپنے سے زیادہ دوسروں کا اور مجھے دعائوں میں یاد رکھیے گا۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close