Aanchal Aug-16

دانش کدہ

مشتاق احمد قریشی

(۱)جب انسان رحم مادر سے باہر آتا ہے یعنی پیدائش کا وقت۔
(۲)جب انسان کو موت کا شکنجہ اپنی گرفت میں لیتا ہے۔ دمِ آخر سکرات کی کیفیت۔
(۳)اور جب انسان کو روز آخرت قبر سے زندہ کرکے اٹھایا جائے گا تووہ خود کو میدان حشر کی ہولناکیوں میں گھرا ہوا پائے گا۔
اللہ تبارک وتعالیٰ جو بڑا ہی رحیم وکریم اور مغفرت کرنے والا مہربان ہے وہ اپنے بندوں کی بھلائی بہتری وفلاح کے لئے انہیں آگاہ فرمارہا ہے کہ وہ ان تینوں حالتوں میں خود کو ان کیفیات کی سختیوں سے کیسے محفوظ رکھ کر انعام الٰہی اور سلامتی کا حق دار ٹھہرسکتا ہے۔ انسان کی پیدائش‘وفات اور حشر کے دن اس کے لئے بڑی خصوصیت واہمیت کے حامل ہیں ان میں سے ہر دن ہر مرحلہ زندگی کے لئے ایک نئے اور نامعلوم دور کا یوم آغاز ہے او ر ان ایام میں انسان کی بے بسی اور بے کسی اپنی انتہا کو پہنچی ہوئی ہوتی ہے۔ ویسے تو انسان کو ہر آن ہر لمحہ رحمت الٰہی کی ضرورت ہوتی ہے لیکن ان تین مشکل اورنازک ترین مراحل میں جس شدت سے انسان اللہ تبارک وتعالیٰ کی رحمت شفقت وعنایات کا محتاج ہوتا ہے اس کااندازہ بہ خوبی ہر کوئی کرسکتا ہے۔ یہ تینوں دن یاتینوں مراحل انسان کے لئے انتہائی اندیشہ ناک‘تشویش ناک ہوتے ہیں‘ انسان ان میں وہ کچھ دیکھتا ہے جو اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا ہوتا‘ اس لئے ان تینوں موقعوں پر اسے نہایت وحشت ہوتی ہے۔اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں اپنے نبی حضرت یحییٰ علیہ السلام پر اپنے اکرام وعنایات کا ذکر فرمایا ہے انہیں ان تینوں موقعوں پر امن و سلامتی عطا کی گئی۔ ایسے ہی اللہ تعالیٰ اپنے ہر نیک وصالح‘ اطاعت گزاربندے کو یہ خبر دے رہا ہے قرآن حکیم وہ کتاب الٰہی ہے جس کا ہر ہر لفظ ہر ہر آیت رہتی دنیا تک کے لئے ہے اسے کسی مخصوص زمانے یا حالات پر منطبق نہیں کیا جاسکتا اگر کوئی آیت کسی مخصوص حالت ووقت کا اظہار کررہی ہو تو وہ تمام عالمِ انسانیت کے لئے ویسے ہی حکم کے درجے میں آئے گی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے قرآن حکیم میں سجایا ہے۔اس آیت مبارکہ پر فکر کرنے سے پہلے ہمیں اسے سمجھنے کے لئے اس سے پہلی آیت کے بارے میں بھی علم حاصل کرنا پڑے گا۔آیت مبارکہ قرآن حکیم حضرت یحییٰ علیہ السلام کے بارے میں تینوں حالتوں میں سلامتی کی خبر دے رہا ہے حضرت یحییٰ کی پیدائش بھی ایک معجزہ ہے اللہ کی قدرت کا مظہر بھی ہے اللہ تعالیٰ نے حضرت زکریا علیہ السلام کی دعا ایسی حالت میں قبول فرمائی جب وہ بوڑھے اور ضعیف ہوچکے تھے اور ان کی اہلیہ محترمہ بانجھ تھیں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتے کے ذریعے انہیں بیٹے کی بشارت سنادی جسے سن کر انہیں انتہائی حیرت ہوئی فرشتے نے انہیں یہ بھی کہا کہ ہونے والے بیٹے کا نام حکم الٰہی سے یحییٰ رکھنا۔ حضرت زکریا علیہ السلام کو فرشتے کی اس خوش خبری پر یقین ہی نہیں آرہاتھا۔ تعجب سے انہوں نے کہا کہ میں بوڑھا ہوں میری بیوی بانجھ ہے۔فرشتے نے کہا ظاہری اسباب سے مشکل ہوسکتی ہے لیکن اللہ کے لئے سب آسان ہے۔ چنانچہ بشارت الٰہی کے مطابق حضرت یحییٰ علیہ السلام کی ولادت ہوئی جس سے انہیں سلامتی کی دعا دی گئی ہے اور ایسے تین اوقات میں سلامتی کی دعا دی گئی ہے جوانسان پر تینوں کے تینوں بھاری اورمشکل ہوتے ہیں۔ تقریباً یہی مضمون تھوڑے سے فرق کے ساتھ سورۃ المریم میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں آیا ہے۔
ترجمہ:سلام ہے مجھ پر جس دن میں پیدا ہوااورجس دن میں مروں اور جس دن زندہ کرکے اٹھایا جائوں۔ (مریم۔۳۳)
تفسیر:اس آیت مبارکہ میں تقریباً وہی مضمون ہے جو اسی سورۃ کی آیت نمبر ۱۵ میں آیا ہے فرق صرف اتنا ہے کہ وہاں حق تعالیٰ نے خوداپنی طرف سے کلام کیا اور یہاں اللہ تبارک وتعالیٰ نے وہی جملے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زبان سے ادا کرائے۔ دراصل یہ وہ نشانی ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ذات میں بنی اسرائیل کے سامنے پیش کی گئی۔ اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو ان کی مسلسل بدکرداریوں پر عبرت ناک سزا دینے سے پہلے ان پر حجت تمام کرنا چاہتا تھا۔ اس لئے یہ تدبیر فرمائی گئی کہ بنی ہارون کی ایک پاکیزہ زاہدہ وعابدہ لڑکی کو جو بیت المقدس میں معتکف تھی اور حضرت زکریا علیہ السلام کی زیر تربیت تھی کو دوشیزگی کی حالت میں حکم الٰہی سے حاملہ کردیاتاکہ جب وہ اپنا بچہ لے کر قوم کے سامنے آئے تو پوری قوم میں ہیجان برپا ہوجائے اور تمام لوگوں کی توجہ اس پر مرکوز ہوجائے۔ پھر جب اس تدبیر الٰہی سے ایک ہجوم نے جمع ہوکر حضرت مریم کو گھیرلیا اور بچے کے بارے میں طرح طرح سے سوال کرنے لگے تو اللہ تبارک وتعالیٰ کے حکم سے خود نوزائیدہ بچے نے کلام شروع کردیا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ساری گفتگو ماضی کے صیغوں میں کی جبکہ ان تمام باتوں کا تعلق مستقبل سے تھا ایسا اس لئے تھا کہ جب یہ بچہ بڑا ہو کر نبوت کے منصب پر فائز ہو تو قوم کے ہزاروں افراد شہادت دینے کے لئے موجود ہوں کہ وہ خود ایک معجزہ الٰہی ہے جسے وہ اس کے بچپن میں خود دیکھ چکے ہیں اگر پھر بھی قوم ان کی نبوت سے انکار کرے اور پیروی قبول نہ کرے تو پھر اس قوم کو ایسی عبرت ناک سزا دی جائے جو اس سے پہلے دنیا میں کسی قوم کو نہ دی گئی ہو۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس آیت مبارکہ میں اعلان کررہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے موت کا ایک دن مقرر کردیا ہے مروں گا اور پھر اٹھایا جائوں گا‘ اللہ نے میرے لئے سلامتی‘ امن‘ اطمینان کا پورا پورا سامان کردیا ہے‘ ولادت کے وقت بھی‘ موت کے وقت بھی‘ اور مرنے کے بعد آخرت میں دوبارہ زندہ کرکے اٹھائے جانے کے وقت بھی۔ یہ آیت مبارکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت اور دوبارہ اٹھائے جانے پرنص صریح ہے۔ اس میں کوئی تاویل نہیں کی جاسکتی اور نہ اس میں بحث ہی کی کوئی گنجائش ہے۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کا معجزہ الٰہی کوئی نیا عمل نہیں تھا اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے حضرت آدم علیہ السلام کو بغیر کسی نطفے‘ بغیر کسی ذریعے کے صرف مٹی سے پیدا فرمادیا اوران کا جوڑا جیسا کہ خود قرآن حکیم میں سورۃ النساء کی پہلی آیت میں فرمایا گیا ہے۔(لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اسی جان سے اس کا جوڑا بنایا‘ حضرت حوا علیہ السلام کواللہ نے کیسے پیدا فرمایا یہ اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ ایسے ہی حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ان کے بڑھاپے میں جب انہیں اولاد کی کوئی امید نہیں رہی تھی۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام اور حضرت اسحاق علیہ السلام دو فرزند عطا کئے اور حضرت زکریا علیہ السلام کے یہاں بھی بڑھاپے اور بانجھ پن کے باوجود اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے ایک صالح بیٹا حضرت یحییٰ علیہ السلام عطا فرمایا توحضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بغیر باپ کے پیدا کرنا اللہ کے لئے کچھ مشکل نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے تو قوم ثمودکے مطالبے پر پتھر کی چٹان سے اونٹنی پیدا فرما کر ظاہر کردی جیسا کہ سورۃبنی اسرائیل کی آیت ۵۹میں آیا ہے اورایسے ہی کئی واقعات و معجزات الٰہی قرآنِ حکیم میں موجود ہیں۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش بھی ان ہی معجزاتِ الٰہی کے سلسلے کی ایک کڑی ہے تاکہ کفروشرک کرنے والے عبرت پکڑیں اور راہ راست پر آجائیں۔اللہ تعالیٰ خود اپنے بندوں کی بڑی نازبرداری فرماتا ہے وہ ہرہرطریقے سے انہیں بھلائی وفلاح کی جانب آنے اور صراط مستقیم اپنانے کی ترغیب دیتا ہے کبھی نرمی اور شفقت سے تو کبھی عذاب وسزا اور اپنے قہر سے ڈرا کر۔ اس آیت مبارکہ میں بھی اللہ تبارک وتعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نومولودگی کے باوجود ان کی زبان سے اپنی والدہ محترمہ حضرت مریم کی پاکیزگی اور عفت کی گواہی دلا کرمعجزہ در معجزہ کا ظہور فرمایا تاکہ بنی اسرائیل کے شقی القلب اور ظالم لوگوں کو اللہ کاخوف پیدا ہواور وہ راہ راست کو اپنا لیں اور اپنے کفروشرک سے باز آجائیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش سے پہلے حضرت زکریا علیہ السلام انہیں راہ حق کی دعوت دیتے رہے تھے اور حضرت مریم علیہ السلام حضرت زکریا علیہ السلام کے ہی زیرتربیت تھیں۔
ترجمہ:کہا اچھاتم پرسلام ہو‘ میں تو اپنے پروردگار سے تمہاری بخشش کی دعا کرتا رہوں گا وہ مجھ پر حددرجہ مہربان ہے۔ (مریم۔۴۷)
تفسیر:آیت مبارکہ میں سلام تحیہ نہیں کہاجارہابلکہ یہ سلام ترک مخاطبت کے اظہار کے طور پر ہے حضرت ابراہیم نے یہ اس وقت کہا تھا جب انہیں مشرک کے لئے مغفرت کی دعا کرنے سے منع نہیں کیا گیا تھا جب انہیں منع کردیاگیا تو دعا کا سلسلہ موقوف ہوگیا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نہایت ہی حلیم الطبع اور فرماںبردار شخص تھے۔ وہ اللہ کی مشیت پر راضی ہونے والے شخص تھے۔آیت میں جو سلام ترک مخاطبت کیا وہ اپنے مشرک باپ سے تعلقات منقطع کرتے وقت کہے تھے۔ان کی شخصیت کے خدوخال کا اندازہ ان کے الفاظ ان کے انداز کلام سے بہ خوبی کیاجاسکتا ہے والد کی جاہلیت کے مقابلے میں ان کے رویے سے بھی ان کی شخصیت واضح ہو رہی ہے ان کی شخصیت کے بارے میں سورۃ التوبہ کی آیت ۱۱۴ میں اللہ تعالیٰ فرمارہا ہے’’ابراہیم بڑا رقیق القلب وخداترس اور بردبار آدمی تھا۔‘‘حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے باپ کے لئے اس لئے بھی دعائے مغفرت کی کہ وہ رقیق القلب انسان تھے وہ اس خیال سے ڈرجاتے تھے کانپ اٹھتے تھے کہ کہیں میرا باپ جہنم کاایندھن نہ بن جائے وہ ایسے حلیم الطبع تھے کہ باپ کے ظلم وستم جو اس نے اسلام سے انہیں روکنے کے لئے ان پر ڈھائے اس کے باوجود ان کی زبان اس کے حق میں دعا ہی کے لئے کھلی۔جیسا کہ اس آیت مبارکہ میں بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے باپ سے ترک تعلق کا اعلان کرنے کے باوجود ان سے کہہ رہے ہیں کہ میں تمہاری بخشش کی دعا اپنے پروردگار سے کروں گا وہ مجھ پر حددرجہ مہربان ہے۔ ایسے میں انہوں نے سور ہ الممتحنہ آیت ۴ میں اس طرح دعا فرمائی۔’’میں آپ کے لئے معافی ضرور چاہوں گااور میرے اختیار میں کچھ نہیں ہے کہ آپ کو اللہ کی پکڑ سے بچوالوں۔‘‘ چنانچہ اسی وعدے کی بنا پر حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے باپ کے لئے دعا مانگتے رہے ایسے ہی سورۃ الشعرا کی آیت ۸۶تا۸۹ میں اس طرح دعا فرمائی۔ ’’اور میرے باپ کو معاف کردے‘ بے شک وہ گمراہ لوگوں میں سے تھا‘ اور اس دن مجھے رسوانہ کرجبکہ سب انسان اٹھائے جائیں گے‘ جبکہ نہ مال کسی کے کچھ کام آئے گا اور نہ اولاد‘نجات صرف وہ پائے گا جو اپنے اللہ کے حضور بغاوت سے پاک دل لے کرحاضر ہوگا۔‘‘حالاںکہ یہ دعا انتہائی محتاط لہجے اور انداز میں کی گئی تھی لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اللہ کے حکم سے جب یہ احساس ہوا کہ میں جس شخص کے لئے دعا کررہا ہوں وہ اللہ کا کھلم کھلا باغی ہے اور اس کے دین کاسخت دشمن تو پھر انہوں نے ایک سچے مومن اور اللہ کے وفادار ہونے کے ناتے اللہ کے باغی کی ہمدردی سے اپنے آپ کو روک لیا۔ حالانکہ اللہ کا وہ باغی ان کاباپ تھا جس نے کبھی انہیں بڑے لاڈ پیار ومحبت سے پرورش کیا تھا۔ اس طرح یہ بات بالکل واضح اور صاف ہوجاتی ہے کہ اللہ کے باغیوں کے ساتھ‘ایسے لوگوں کے ساتھ جو اللہ کا کھلم کھلا باغی ہو اس کے ساتھ ہمدردی ومحبت رکھنااس کے جرم کو قابل معافی سمجھنا بالکل غلط ہے۔ اگر ہم محض اس بنا پر کہ وہ اللہ کا باغی ہمارا رشتہ دار ہے اس کے لئے یہ چاہیں کہ اللہ اسے معاف کردے تو اس سے یہ بات واضح ہوگی کہ ہمارے لئے اللہ کے حقوق ومقتضیات کی نسبت رشتہ داری زیادہ عزیز وقیمتی ہے اور یوں اللہ کے دین کے ساتھ ہمارااخلاص ہماری محبت بے غرض وبے لاگ نہیں رہے گی یوں ہم خود اللہ کے مجرم بن جائیں گے اور یہ کیسی عجیب بات ہوگی کہ اسی جرم کی سزا میں دوسروں کو تو جہنم رسید کردیا جائے اور اپنے رشتہ دار اور تعلق کی بنا پر ان کی مغفرت اور جہنم سے بریت چاہے۔ قرآن حکیم نے اس مسئلے پر خوب کھل کر بار بار جگہ جگہ یہ بات واضح کردی ہے کہ اللہ کا دوست ہمارا دوست اور اللہ کادشمن ہمارا دشمن ہے اس لئے اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا۔ ’’مشرکوں کے لئے مغفرت کی دعا نہ کرو‘‘ یہی بات اللہ تعالیٰ نے سورۃ التوبہ میں اس طرح فرمائی ہے۔
ترجمہ: نبی کواور ان لوگوں کو جوایمان لائے ہیں‘ زیبا نہیں ہے کہ مشرکوں کے لئے مغفرت کی دعا کریں چاہے وہ ان کے رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں‘ جبکہ ان پر یہ بات کھل چکی ہے کہ وہ جہنم کے مستحق ہیں۔ (التوبہ۔۱۱۳)
اس آیت مبارکہ کی تفسیر کے بارے میں صحیح بخاری شریف میں اس طرح آیا ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچاابو طالب کا آخری وقت آیا تونبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لے گئے اس وقت ان کے پاس ابوجہل اور عبداللہ بن ابی امیہ بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا سے فرمایا’’چچا جان لاالہ الااللہ پڑھ لیں‘ تاکہ میں اللہ کے یہاں آپ کے لئے حجت پیش کرسکوں۔‘‘ تو اس وقت ابوجہل اور عبداللہ بن ابی امیہ نے کہا۔ ’’اے ابوطالب کیا تم اپنے باپ عبدالمطلب کے مذہب سے انحراف کروگے؟‘‘ حتیٰ کہ اسی حال میں ان کا انتقال ہوگیا۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ’’جب تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھے روک نہیں دیا جائے گا‘ میں آپ کے لئے استغفار کرتا رہوں گا۔‘‘ اس پر یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی۔(صحیح بخاری)مسنداحمد کی ایک روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی والدہ کے لئے مغفرت کی دعا کرنے کی اجازت طلب فرمائی‘ جس پر یہ آیت نازل ہوئی۔جیسا کہ سورۃ قصص کی آیت۔۵۶ میں آیا ہے۔(مسند احمد)
(جاری ہے)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close