Aanchal Jul-16

چراغ خانہ

رفعت سراج

گزشتہ قسط کا خلاصہ
پیاری اضطراب کی کیفیت سے دوچار ہوکر مشہود کو یاد کرتی ہے جس پر مانو پھوپو اسے سمجھاتی ہیں اور صبر کی تلقین کرتی ہیں پیاری کے ضبط کے بندھن ٹوٹ جاتے ہیں لیکن ساتھ ہی پھوپو کی باتوں سے اسے اندازہ ہوجاتا ہے کہ اللہ نے دانیال کے طفیل اسے پُرشفیق خاتون سے ملوادیا تھا۔ مانو آپا پیاری کو لے کر گھر آجاتی ہیں‘ گھر کا ظاہر مکینوں کی خوش حالی ظاہر کرتا پیاری کو دکھائی دیتا ہے۔ مانو آپا پیاری کو اپنے روم میں رکھنے کا کہتی ہیں پیاری کو عالی جاہ کی نظر میں بے باکی ہسپتال میں ہی نظر آگئی تھی اس لیے اسے مانو آپا کے کمرے میں ہی رہنا غنیمت لگا جبکہ وہ اس وقت مانو آپا کی خواہش سے بھی بے خبر تھی۔ دانیال اور عالی جاہ گھر میں آگے پیچھے ہی داخل ہوتے ہیں جس پر عالی جاہ دانیال کو دیکھ کر مشینی انداز میں اپنائیت کا اظہار کرتا ہے جبکہ دانیال کی نظریں مسلسل پیاری کو کھوج رہی ہوتی ہیں۔ عالی جاہ دانیال سے پیاری کی بابت پوچھتا ہے جس پر دانیال ٹال جاتا ہے وہ عالی جاہ کی فطرت سے واقف ہوتا ہے تب ہی پیاری لائونج میں آتی ہے جس پر عالی جاہ معنی خیزی سے پیاری کو دیکھتا رہ جاتا ہے۔ مانو آپا نماز سے فارغ ہوئی تھیں انہوں نے پیاری کا کمرے سے جانا اور واپس آنا محسوس کیا تھا وہ پیاری کو اس کی طبیعت کی وجہ سے لان میں چہل قدمی کے لیے کہتی ہیں جبکہ پیاری باہر عالی جاہ اور دانیال کی موجودگی کا بتاتی ہے‘ پیاری کو اپنے گھر کی آزادی یاد آجاتی ہے۔ دانیال کو عالی جاہ اور پیاری کا ایک چھت کے نیچے رہنا کسی خطرے سے خالی نہیں لگتا‘ عالی جاہ کی بے باک نگاہیں غیر محتاط انداز گفتگو دانیال کے دل میں اٹک کر رہ جاتا ہے۔ دانیال مشہود کی تلاش میں بھی سرگرم ہوتا ہے۔ رشنا کی ماں میمونہ سعدیہ سے دو ٹوک بات کرنے آتی ہیں جبکہ دونوں گھرانوں میں بزنس کے حوالے سے مضبوط تعلق قائم تھا۔ سعدیہ سارا الزام مانو آپا پر رکھ دیتی ہیں جس پر میمونہ اشتعال کا شکار ہوتی ہیں۔ رشنا کے لیے پہلے مانو آپا نے دست سوال کیا پھر دانیال کے لیے سوال کیا تھا۔ کمال فاروقی کو میمونہ اور سعدیہ کی آواز اپنے کمرے سے باہر لے آتی ہے۔ کمال فاروقی میمونہ سے بات کرکے معاملے کو سلجھانا چاہتے ہیں جبکہ میمونہ سعدیہ کو اپنے غصہ کا نشانہ بناتی کمال فاروقی سے معذرت کرتی گھر سے نکل جاتی ہے۔ کمال فاروقی بھی سارا الزام سعدیہ پر رکھ دیتے ہیں ان کی نظر میں میمونہ کا غصہ بجا ہوتا ہے۔ مانو آپا پیاری کو اپنے ماضی سے آگاہ کرتی ہیں وہ خود اس کے حالات جاننا چاہتی تھیں۔ مانو آپا پیاری کا اعتماد قائم کرنا چاہتی ہیں‘ مانو آپا باتوں کے دوران ہی عالی جاہ کی شادی کا تذکرہ کرتی ہیں اور ساتھ ہی پیاری کو بھی اپنے گھر کی خوشیاں دیکھنے کی دعا بھی دیتی ہیں۔ پیاری اسکول میں پڑھانا چاہتی ہے‘ مانو آپا دانیال سے مشورہ لیتی ہیں جس پر عالی جاہ ٹوک دیتا ہے اس کے خیال میں وہ پیاری کا پرنسل میٹر تھا۔ مانو آپا پیاری کے سامنے عالی جاہ کا پرپوزل رکھتی ہے جس پر پیاری بھائی مشہود کے آجانے کا بہانہ گھڑ کر بات کو ٹال دیتی ہے۔
اب آگے پڑھیے
/…٭٭…/
مانو پھوپو جاچکی تھیں اپنے حساب سے وہ اسے سوچ بچار کے لیے تنہائی دے گئی تھیں۔ زندگی پر محیط ہونے والا فیصلہ… منٹوں میں کیسے کیا جاسکتا تھا؟
یہ الگ بات سوچ صدیوں پر بھی محیط ہوجائے فیصلہ تو پل میں ہوتا ہے گھر میں روز مرہ کام کی کوئی مشین لاکر رکھ دی جائے وہ اس وقت تک جگہ گھیرنے والی ایک شے ہے جب تک وہ ایکٹیو نہ ہو سوچ سوچ ہے… فیصلہ فیصلہ ہے۔ مشین کا بٹن غلط دب جائے تو مشین کے بگڑنے کا خطرہ ہوتا ہے۔ فیصلہ غلط ہوجائے تو زندگی بگڑنے کا اندیشہ۔ اس کا ذہن اس وجہ سے شل نہیں ہورہا تھا کہ اسے فیصلہ کرنا تھا۔ ذہنی دبائو کی وجہ محبت کی راہ میں درپیش صحرا تھا ہر سمت سے گمان ہوتا تھا کہ یہ سمت اسے صحرا سے باہر نکال دے گی مگر آگے بڑھ کر پتا لگتا کہ مسافر مزید بھٹک گیا ہے۔
’’مشہود بھائی آجائیں خدا کے لیے یہ بے گھری کی آزمائش ہے۔ اپنے گھر میں ہوں گی تو کوئی ہمدردی جتا کر مجھ سے فیصلے نہیں کرائے گا۔‘‘ بے بسی کی انتہا پر اس کے آنسو یوں ابلے گویا بارشوں سے دریا بپھر گئے ہوں۔
/…٭٭…/
’’پاپا… یہ… یہ… کیا کہہ رہے ہیں، یہ ممکن نہیں ہے۔‘‘ دانیال پل میں وہاں آگیا جہاں پہنچنے میں زمانے لگتے ہیں۔
’’کیا مطلب۔ یہ ناممکن کا‘ کیا مطلب ہوا؟ ایک پریشان حال لڑکی کو مستقل ٹھکانہ مل رہا ہے تمہارے مسائل ختم ہورہے ہیں اس سے اچھی بات کیا ہوسکتی ہے۔‘‘
’’پاپا…! ممی کو کسی کی بات آسانی سے سمجھ نہیں آتی… مگر آپ تو ناممکن کا مطلب سمجھ سکتے ہیں۔ آپ نے مجھ سے پوچھا۔ پھوپو کو فری ہینڈ دے دیا۔‘‘
’’تم پیاری کے گارجین نہیں ہو، فی الحال وہ خود مختار ہے۔‘‘ کمال فاروقی دانیال کی کیفیت سمجھ نہیں پارہے تھے جو سمجھے اس کا جواب دے دیا۔
’’میں گارجین نہیں ہوں مگر اس سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔‘‘ دانیال نے بالآخر بھاری پتھر لڑھکا دیا۔ کمال فاروقی تو ششدر دیکھتے رہ گئے۔
’’یعنی کہ حد ہوگئی تھوڑی دیر اور سوئے رہتے بیٹا۔‘‘ اوسان بحال ہوتے ہی انہوں نے طنز کا تیر کمان سے چھوڑا۔
’’حالات ہی اس طرح سے چل رہے تھے شادی کی بات کیسے ہوتی، آپ خود ہی سوچیے۔‘‘ دانیال نے حقیقت شناسی کی طرف مائل کیا۔ کمال فاروقی کو فطری بات ہضم بھی ہوگئی۔
’’کچھ بھی سہی بیٹا، کم از کم تمہیں اسی وقت مجھ سے شیئر کرنا چاہیے تھا جب تمہاری ممی رشنا کے لیے شور مچا رہی تھیں۔‘‘ کمال فاروقی کو بہرحال دانیال کی کوتاہی کا شدت سے ادراک ہوا۔
’’پاپا اس وقت ہمارے درمیان مشہود تھا میں نے رشنا سے شادی کرنے سے صاف صاف انکار کیا تھا تو اس کی وجہ پیاری ہی تھی۔‘‘ وہ مشہود کے خیالات باپ تک نہیں پہنچا سکتا تھا کہ مشہود تو دوستی کو رشتے داری میں بدلنے کا قائل ہی نہیں۔ یہ بتانا تو ایسا ہی تھا گویا کمال فاروقی کو خدانخواستہ مشہود کی آخری وصیت سنا دی ہو۔
’’ہوں شکر ہے تم نے جمعے کو عصر سے پہلے بتانے کا نہیں سوچا… اور بروقت بتادیا۔ میں تو شادی کے معاملے زور زبردستی کا قائل ہی نہیں ہوں اور تمہاری اطلاع کے لیے عرض ہے اپنے طور پر تمہاری ممی سے میں نے بات کی تھی جس کو سن کر وہ کچھ دیر کے لیے اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھی تھی، میں اصرار کس بنیاد پر کرتا۔ تم نے تو کبھی اشارے کی حد تک بھی مجھ سے کوئی بات نہیں کی تھی۔‘‘ کمال فاروقی بات بھی کر رہے تھے ساتھ ساتھ ذہن بھی تیز چل رہا تھا کہ یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔ سعدیہ کے ساتھ تو ایک عظیم الشان معرکہ خود بخود طے ہورہا تھا، مگر دو مردوں کے مقابلے میں سعدیہ کی پسپائی بھی یقینی تھی۔
’’شکر ہے تمہیں جمعے سے پہلے ہوش آگیا مگر کام بہت ہے پہلے تو تمہاری ممی سے نپٹنا ہے پھر آپا سے بات کرنی ہے۔‘‘ کمال فاروقی عجلت کا شکار ہونے لگے یہ بھی اندیشہ تھا کہ مانو آپا عالی جاہ کو لے کر نہ بیٹھ جائیں، معاملہ اور خراب ہوجائے گا اب کا ایک ہی راستہ تھا کہ پیاری خود ہی عالی جاہ کے لیے انکار کردے۔
’’پھوپو سے تو آپ فون پر بھی بات کرسکتے ہیں۔‘‘ دانیال نے کمال فاروقی کو الجھن سے نکالنے کی کوشش کی۔
’’ہوں ٹھیک ہے تم اپنا کام کرو میں دیکھتا ہوں۔‘‘ کمال فاروقی نے نظروں ہی نظروں میں اپنا سیل فون تلاش کرنا شروع کردیا۔ دانیال فوراً اپنی جگہ سے کھڑا ہوگیا کمال فاروقی کو کارروائی کے لیے فوراً راستہ دینا چاہا تھا۔
/…٭٭…/
’’ہیں… کیا مطلب… رک جائوں مگر کیوں… نیک کام میں دیر کیوں؟‘‘ مانو آپا پیاری کے سامنے ہی کمال فاروقی کی کال ریسیو کرکے حیران ہوکر سوال کررہی تھیں۔ بجائے اس کے کہ پیاری کی طرف سے کوئی جواب آتا رکاوٹ باہر سے آرہی تھی۔
’’آپا ایک مسئلہ ہوگیا ہے… اس پر تو میں آپ کے پاس آکر بات کروں گا، فی الحال آپ رک جائیے اور عالی جاہ سے ابھی کوئی بات نہ کیجیے۔‘‘ کمال فاروقی بہت مودبانہ انداز میں بہن سے ہمکلام ہوئے۔
’’ٹھیک ہے… یہ بتائو کب تک آرہے ہو۔‘‘ مانو آپا کو ایک ادھیڑ بن تو لاحق ہوہی گئی تھی۔
’’بس رات تک آپ سے ملتا ہوں خدا حافظ۔‘‘ کمال فاروقی کی طرف سے رابطہ منقطع ہوگیا تھا۔
مانو آپا سیل کان سے ہٹا کر یوں گھورنے لگیں جیسے کمال فاروقی اسکرین سے نکل کر آنے والے ہوں۔ پیاری بظاہر ایک تاریخی ناول پڑھ رہی تھی مگر کان مانو آپا کی طرف ہی لگے ہوئے تھے کچھ واضح تو نہ تھا مگر اندازہ ہورہا تھا کہ بات اسی کی بابت ہورہی تھی۔
’’پتا نہیں کیا معاملہ ہے۔‘‘ مانو آپا بڑبڑائیں۔
پیاری کا جی تو چاہا پوچھے کہ معاملہ کیا ہے مگر مانو آپا کا الجھا ہوا انداز اسے کلام کرنے سے روک رہا تھا۔
/…٭٭…/
’’سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اس ٹاپک پر ہماری اچھی خاصی تو تو میں میں ہوچکی ہے۔ مجھے تو اس لڑکی کے نام سے ہی چڑ ہوچکی ہے۔‘‘ سعدیہ تو آدھی بات سن کر ہی ہتھے سے اکھڑنے لگیں۔
’’مگر تمہارے بیٹے کو محبت ہوچکی ہے۔‘‘ کمال فاروقی نے برجستہ کہا۔
’’مرد ذات اور کسی سے محبت کر جائے، اس سوسائٹی میں لو میرج کرکے دشمنیاں چلا کر دوسری شادی بھی کرلی جاتی ہے۔ کوئی مردوں سے پوچھے تو وہ اس ایک زندگی میں کتنی محبتیں کرتے ہیں۔‘‘ سعدیہ نے تو جیسے کانوں پر ڈھکن لگا کر بولتے چلے جانے کا تہیہ کرلیا تھا۔
’’اس سوسائٹی میں مجھ جیسے مرد بھی ہوتے ہیں دانیال میرا بیٹا ہے بلال بھی سات سال سے ایک ہی کو نباہ رہا ہے… دونوں بیٹے باپ پر گئے ہیں ناں اور وہ تو مثل بھی مشہور ہے باپ پر بیٹا نسل پہ گھوڑا… بہت نہیں تو تھوڑا تھوڑا۔‘‘
’’مجھے کچھ نہیں سننا۔‘‘ سعدیہ نے واقعی کانوں پر ہاتھ رکھ لیے۔ ’’بہو ایسے خاندان سے لائوں گی کہ چار لوگوں میں عزت ہو۔ رہ گئی محبت… تو یہ فلمی کہانیوں کی باتیں ہیں۔ جب پیاری سے لاکھ درجے بہتر بیوی ملے گی تو خودبخود سارے نشے اتر جائیں گے۔ مانو آپا سے کہیں وہ عالی جاہ سے بیاہ دیں، یوں بھی اسے ڈھنگ کی لڑکی ملنا مشکل ہے۔‘‘ یہ کہہ کر وہ اٹھ کر جانے لگیں اس ٹاپک پر اس سے زیادہ بات کرنا ان کے نزدیک وقت کا زیاں تھا۔
’’ایک منٹ سعدیہ بیگم! ہم اپنی اولاد کو بہت سارے معاملات میں پابند کرسکتے ہیں لیکن شادی کسی بھی انسان کا سو فیصد ذاتی معاملہ ہے کیونکہ شادی دو فریقین کے درمیان ہونے والا معاہدہ ہے جو معاہدہ کرتا ہے پابندی بھی اسی کو کرنا ہوتی ہے۔ خدانخواستہ جب کہیں طلاق ہوتی ہے تو ماں باپ بچوں کو طلاق سے کیوں نہیں بچا لیتے، یہ روزانہ طلاقیں کیوں ہوتی ہیں شادی کرانے والے کہاں چھپ کر بیٹھے ہوتے ہیں۔ جس طرح طلاق کے وقت دو فریق آمنے سامنے ہوتے ہیں اور فیصلہ کرتے ہیں اسی طرح شادی بھی سراسر دو افراد کا ذاتی معاملہ ہے۔‘‘ کمال فاروقی نے آخری شاٹ بہت سوچ سمجھ کر کھیلنے کی کوشش کی۔
’’ماں کا صرف یہی کام ہے پالے پوسے محنت کرے جان مارے اور پھر اپنا بچہ الٹے سیدھے لوگوں کے حوالے کردے۔‘‘ وہ اب بری طرح پھٹ پڑیں۔
’’ہاں… ماں کا یہی کام ہے وہ یہ سب کچھ کرے گی… مگر اولاد کو ہمیشہ خوش رہنے کی ضمانت نہیں دے سکتی۔‘‘
’’بولتے رہیں بولتے رہیں… یہ تو نہیں ہوگا کسی قیمت پر نہیں ہوگا۔‘‘ سعدیہ کو اپنی ہٹ دھرمی اور اڑ جانے کی اہلیت پر کامل بھروسہ تھا۔
’’تو پھر سن لو۔ میں کل ہی دانیال کا نکاح پیاری سے کررہا ہوں، مرضی ہے شرکت کرو… مرضی ہے بائیکاٹ کرو واک آئوٹ کرو۔‘‘ کمال فاروقی کی مردانہ انا کو ضرب کاری لگی تلملائے اور فیصلہ سنادیا۔
سعدیہ تقریباً باہر جاچکی تھیں وہیں سے پلٹ کر کمال فاروقی کی طرف دیکھا۔
’’یہ صلہ ہے میری ساری عمر کی محنت کا۔‘‘
’’تمہیں وہ کچھ ملتا رہا ہے جس کی تم مستحق نہیں تھیں جس شوہر کو اپنی بیوی سے ایک کپ چائے کا بولتے ہوئے سو بار سوچنا پڑے تو لعنت ہے ایسی شادی شدہ زندگی پر۔‘‘ برسوں کا زہر جو روح کے دروں کہیں ملفوف تھا پھٹ کر باہر نکلا اب انہوں نے سعدیہ کے بولنے کا انتظار کیا نہ ہی ان پر نگاہ کی‘ آگے بڑھے اور دروازہ بند کرکے لاک کردیا بے دخلی کا بڑا ذلت آمیز اشارہ تھا۔
اسی گھر کو جسے آٹھ پہر سجاتی سنوارتی رہتی تھیں بلا شرکت غیرے اپنی راجدھانی سمجھتی تھیں اگر اس کا کوئی دروازہ بند ہوجائے تو وہ سارا زور لگا کر کھلوا بھی نہیں سکتیں۔ بہت سی عورتوں کو علم ہی نہیں کہ مرد پل بھر میں عورت کو اس کی قیمت بتادیتا ہے۔
’’یہ مانو آپا کی سازش ہے اب تو انہیں موقع ملا ہے ساری عمر کے حساب چکانے کا۔ دانیال کو اگر اس فضول سی لڑکی سے محبت ہوگئی تھی تو اس وقت کیوں نہ بولا جب گھر میں رشنا کی بات صبح شام ہورہی تھی۔ اگر کمال نے واقعی یہ سب کچھ کیا جس کی وارننگ دے رہے ہیں تو میں بھی وہ کروں گی جو کوئی سوچ بھی نہیں سکتا۔‘‘ پندار کا شیشہ کرچی کرچی ہوکر بند دروازے کے سامنے بکھرا ہوا تھا۔
اتنا گہرا زخم کمال فاروقی کے فیصلے سے نہیں لگا تھا جتنا دروازہ بند ہونے پر لگا تھا۔ چھوٹی بڑی ضرورت کی ہر شے اسی کمرے میں تھی جس سے بے دخلی کے خاموش احکامات صادر ہوئے تھے۔
/…٭٭…/
دانیال کئی دن بعد ہیڈ آفس میں اپنے آراستہ و پیراستہ کمرے میں آیا تھا اور کچھ ایسے ڈاکومنٹس فائل کررہا تھا جن کی بہت زیادہ یاددہانی کرائی جارہی تھی۔ کوٹ اسٹینڈ پر لٹکا دیا تھا ٹائی کی گرہ ڈھیلی کرکے شرٹ کا اوپری بٹن کھول کر آرام دہ حالت میں بیٹھا تھا جس سے اندازہ ہوتا تھا کہ اب دیر تک یہاں سے اٹھنے کا پروگرام نہیں۔ مگر جب اس نے اپنے سیل پر ماں کی کال آتی دیکھی تو سارا دفتر ہی ذہن سے خارج ہوگیا۔
باپ سے سب کچھ کہہ سن کر شانت ہوگیا تھا اسی لیے لوگوں کی یاددہانیاں بھی یاد آئیں، دفتر، ذمہ داریاں ضروری ملاقاتیں اور بہت کچھ یاد آیا۔ اس لیے کہ اسے سو فیصد یقین تھا کہ کمال فاروقی اور مانو پھوپو کی اہم بات چیت کسی فیصلہ کن نتیجے پر ختم ہوگی۔
سکون کے ساتھ ایک مضبوط یقین کا سہارا بھی مزید تقویت کا باعث تھا کہ ملن چند دن کے فاصلے پر ہے۔ جب مل بیٹھیں گے تو سارے گلے بھی جاتے رہیں گے۔ مگر سعدیہ کی کال نے کوئی طبل جنگ بجایا تھا۔ سکون سے چارہ کھاتے ہوئے گھوڑے طبل سن کر ہنہنانے لگے۔ ماحول اچانک ہی تبدیل ہوگیا۔
’’السلام علیکم… ممی…!‘‘ اس کا انداز بلا کا محتاط تھا۔
’’دانیال تمہیں ماں کی آئیڈیالوجی کا پتا ہے ناں… پھر کیوں مجھے ہرٹ کررہے ہو۔ مجھے وہ لڑکی پسند نہیں اور بس… ہر ماں کو وہ لڑکی زہر لگتی ہے جو کسی ماں سے اس کا بیٹا چھین لیتی ہے۔ یہ محبت وحبت کے ڈرامے کرکے ہم نے جان نہ ماری ہوتی تو یہ پلا پلایا کسی کی نظر میں آتا۔ دیکھو اگر تم نے اس لڑکی سے شادی کی تو میں اس شادی کا بائیکاٹ کروں گی۔‘‘ سعدیہ غالباً تواتر سے بولنے کی وجہ سے ہانپ گئیں وگرنہ دل تو کرتا تھا ساری بھڑاس ایک سانس میں نکالیں۔ دانیال کے لیے یہ اچنبھا نہیں تھا وہ اسی قسم کے رد عمل کے لیے تیار تھا۔ مشکل یہ تھی کہ مانو پھوپو نے جمعہ سر پر اچھی طرح جما دیا تھا۔ جمعرات تک اگر وہ دانیال کی نہیں تو جمعے کو عالی جاہ کو واقعی جمعتہ المبارک… مبارک ہوجائے گا۔‘‘
’’ممی… مجھے شادی اگر کرنی ہے تو صرف پیاری سے‘ آپ برونائی کی پرنسس سے بھی کرائیں تو نہیں کروں گا۔ گھر آکر آپ سے ڈیٹیل میں بات کروں گا۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے سیل آف کردیا تھا۔ ماں کا عورت پن اور جذباتیت کو اچھی طرح جانچ سکتا تھا۔
انہیں صرف ایک چیز تنگ کررہی تھی کہ شادی اس جگہ کیوں نہیں ہوتی جہاں ہونے سے ان کا سماجی قد ایک رات میں بلند ہوکر آسمان تک پہنچتا دکھائی دیتا۔ ایک سنجیدہ، ذمہ دار اور انسانیت کے اصول و قوانین کو سمجھنے والا باپ اس کے ہمراہ تھا اس لیے اب وہ مکمل طور پر پُرسکون تھا آخر اس کا باپ اس کی ماں کو گزشتہ اٹھائیس سال سے بڑی مہارت سے سنبھال رہا تھا۔ اب دونوں مل کر ایک ضدی، انا پرست عورت کو سنبھالیں گے کبھی کبھی وہ دانیال کو بہت بے رحم اور سخت دکھائی پڑتی تھیں مگر اس کا ایمان تھا کہ ماں بالآخر ماں ہوتی ہے پھر وہ تجزیہ کرکے مطمئن ہوجاتا کہ اصل میں دل میں جو شوہر کے خلاف کڑھن ہوتی ہے وہ بیٹے پر الٹ دیتی ہیں۔
’’ماں ہیں… نہ نفرت کرسکتی ہیں نہ بے زار ہوسکتی ہیں اسی یقین کی وجہ سے یہ گستاخی بھی سرزد ہوگئی تھی کہ اپنی طرف سے فون بند کردیا تھا۔
/…٭٭…/
’’نکاح تو جمعے ہی کو ہوگا مگر دانیال کے ساتھ۔‘‘ مانو آپا نے بھائی کی طرف یوں دیکھا جیسے بڑی مضبوط آس ہو اور بھائی اگلے ہی لمحے کہے گا کہ میں تو مذاق کررہا تھا۔ چند ثانیے تو ہک دک کمال فاروقی کی صورت تکی پھر اوسان سنبھالتے ہوئے بڑے دل شکستہ انداز میں گویا ہوئیں۔
’’ناک کے نیچے سے اونٹ گزر گیا تم سوئے ہوئے تھے۔‘‘
’’یہ بات نہیں آپا میں سعدیہ سے پہلے ڈسکس کرچکا تھا مگر ذہن میں تھا کہ اگر دانیال کی اس طرف سوچ ہوتی تو وہ مجھ سے تو کم از کم ذکر کرتا مگر جانے کیوں وہ اب تک خاموش تھا۔ اب جو میں نے اسے بتایا کہ مانو آپا اس طرح چاہ رہی ہیں تو بول پڑا۔‘‘ کمال فاروقی نے ایک ایک لفظ ناپ تول کر ادا کیا۔ مانو آپا نے اپنے اتھاہ میں گرتے دل کو تھامنے کی کوشش کی۔ رشنا بھی ہاتھ سے گئی، پیاری بھی ریت کی طرح مٹھی سے پھسل رہی تھی۔
’’آپا پیاری ایک وضع دار خاندانی بچی ہے دانیال کا مشہود کی وجہ سے اس گھر میں بہت آنا جانا تھا ممکن ہے اس کا میلان بھی دانیال کی طرف ہو۔ اب ایک ہی راستہ ہے کہ براہ راست پیاری سے پوچھ لیا جائے کہ یہ دو پرپوزلز تمہارے سامنے ہیں تم جس کے لیے ہاں کرتی ہوں ہمیں قبول ہے۔‘‘ کمال فاروقی نے بہن کو ذہنی خلفشار سے نجات دلانے کی کوشش کی اور بات بھی معقول تھی امیدواروں کی اپنی پسند مگر کوئی پسند پیاری کی بھی تو ہوسکتی ہے۔
’’ٹھیک کہا۔ اب یہ تو قسمت کے کھیل ہیں۔ تقدیر سے تو ماں باپ بھی نہیں لڑسکتے۔‘‘ مانو آپا کے لہجے کی شکستگی میں کچھ کمی ضرور واقع ہوئی۔
’’اب یہ آپ ہی کی ذمہ داری ہے کہ پیاری سے اس کی رائے معلوم کرلیں کیونکہ اصل اہمیت تو اس کی رائے کی ہے۔‘‘ کمال فاروقی نے پھر مانو آپا کے کاندھے پر ذمہ داری ڈال دی۔
’’ٹھیک ہے میں اس سے معلوم کیے لیتی ہوں۔ پرائی بچی ہے گھر سے بے گھر ہوئی بیٹھی ہے زور زبردستی والی بات تو ہم نہیں کرسکتے۔‘‘ مانو آپا نے کچھ دیر بعد کھل کر سانس لیتے ہوئے منطقی بات کی۔
’’خیر سے سعدیہ سے تمہاری بات ہوگئی اسے تو کوئی اعتراض نہیں۔‘‘ معاً مانو آپا کو سعدیہ کا دھیان آیا۔ کمال فاروقی بہن سے نظریں چرانے لگے اور جلدی سے آستین اونچی کرکے ٹائم دیکھنے لگے۔ مانو آپا گہری عمیق نظروں سے مشاہدہ کررہی تھیں۔
کمال فاروقی نے اپنے ذہن کو متوازن حالت میں لانے کی بھرپور سعی کی اور کھنکھار لینے کے عمل سے آغاز کیا۔
’’بات یہ ہے آپا رشنا کا معاملہ اور طرح کا تھا وہ سعدیہ کی خواہش اور پسند تھی۔ یہاں حساب دوسرا ہے دانیال پیاری سے شادی کرنا چاہتا ہے اور شادی ہر انسان کی ذاتی زندگی کا معاملہ ہے۔‘‘ کمال فاروقی نے کہا۔
’’اتنی محبت ہے پھوپو سے زمانے بھر کی باتیں کرتا ہے مجھ سے بھی تو کچھ کہتا۔‘‘ مانو پھوپو درحقیقت خواب ٹوٹنے کے عمل سے گزر رہی تھیں ان کے لہجے کی فطری اور معمول کی توانائی ابھی تک بحال نہیں ہوئی تھی۔ ’’کچھ سمجھ نہیں آئی کیا سوچتا رہا ہے وہ بہرحال بروقت باپ کو دل کی بات بتا دی۔‘‘
’’بروقت۔‘‘ مانو آپا نے چونک کر لاڈلے بھائی کی طرف دیکھا۔
کیسا وقت چنا تھا بھتیجے نے جب زندگی بھر کے ارمان ایک جگہ ڈھیر ہوئے پڑے تھے۔ ایک ہلکا سا امکان شدید مایوسی کے اندھیرے میں ہمیشہ جگنو کی سی روشنی کی جھلک دکھاتا ہے۔ ابھی تو پیاری سے پوچھنا باقی ہے کیا خبر اس طرف سے ایسا جواب آئے کہ دل پھول کی طرح کھل اٹھے۔ خواہش کی شدت کا کمال ہے کہ خود فریبی کی طرف گھسیٹ کر لے جاتی ہے۔
/…٭٭…/
’’ایک منٹ ممی فرض کریں میں آپ اور پاپا کو بتائے بغیر کسی سے چھپ کر بھی شادی کرسکتا ہوں ناں۔ پھر آپ کیا کریں گی۔‘‘ دانیال دلائل سے سعدیہ کو قابو کرنے کی کوشش کررہا تھا۔
’’تم جانتے ہو دانیال ہم خاندانی اور عزت دار ہیں‘ عام لوگ نہیں ہیں ہم عام سے لوگوں میں رشتے داریاں نہیں بنا سکتے یہ باتیں ہمیں نیچا کرتی ہیں اور ہم اپنے قابل بیٹوں کے ذریعے ہی اپنا اسٹیس اور زیادہ بلند کرتے ہیں بلکہ قابل بیٹے ہمارا فخر ہوتے ہیں۔‘‘ سعدیہ نے گھما پھرا کر بات کرنے کے بجائے دھائیں کرکے ایک لوہار کی ضرب کاری لگانا بہتر سمجھا۔
’’قابل بیٹا انسان نہیں ہوتا انسانی حقوق سے آئوٹ ہوتا ہے ڈمی ہوتا ہے۔ قابل بیٹا اپنی محنت سے قابل بنتا ہے پیسے سے تو جعلی ڈگری ہی خریدی جاسکتی ہے۔‘‘
’’تم جو مرضی وضاحتیں دو، میں اس لڑکی کو قبول نہیں کرسکتی۔‘‘
’’ممی… شادی میں کررہا ہوں قبول مجھے کرنا ہے۔‘‘
’’ٹھیک ہے۔‘‘ سعدیہ نے غیض وغضب کے شعلوں کی تپش سے جھلستے ہوئے انگارہ نگاہ سے بیٹے کی طرف دیکھا۔
’’تم شادی کرو، مگر اسے کبھی اس گھر میں لانے کی غلطی نہ کرنا ورنہ بری طرح پچھتائو گے۔‘‘ سعدیہ نے دھمکی دی مگر پچھتانے کی وجہ کیا ہوگی۔ یہ نہیں بتایا اس کے بعد وہ تنتناتی ہوئی اس جگہ سے چلی گئیں۔ دانیال چند ثانیے تو بند ذہن کے ساتھ ساکت و صامد رہا پھر باپ کا تعاون، شفقت، حقیقت پسندی نے سانس بحال کرنے کا عمل آغاز کیا۔
’’ممی ایسی نہ ہوتیں تو پاپا اتنا برداشت کیوں کرتے، اب اس بات کو پاپا ہی سنبھالیں گے۔‘‘ باپ کے تصور نے بہرحال اسے سنبھالا دیا۔
/…٭٭…/
’’اماں جان مہمان کھانا نہیں کھائیں گے۔‘‘ عالی جاہ نے دو چار نوالے لینے کے بعد بالآخر پوچھ ہی لیا۔
’’بے تابی سمیت ہر بات کی حد ہوتی ہے تمہیں مہمانوں کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہ فکریں میری ہیں تم بیوپار کی فکریں خبریں سنبھالو۔‘‘ مانو آپا نے ٹکڑا توڑ جواب سے بیٹے کی تواضع کی عالی جاہ کی تو مارے حیرت کے بھوک ہی اڑ گئی۔ مانو آپا کے خصوصی لاڈ و پیار تو ہوا ہو ہی گئے تھے معمول کے دلار بھی رخصت پر تھے۔ سنجیدگی اور بے انتہا سنجیدگی تفکر اور عمیق تفکر، اس پر مستزاد مہمان کی کھانے کی میز پر غیر حاضری اس کا ماتھا ٹھنکنے لگا۔
یوں بھی وہ بطور بروکر باڈی لینگویج کا ماہر بن چکا تھا۔ حتمی طور پر خاموشی اختیار کرنے والے بندے کی بھی مکمل بات سمجھ لیا کرتا تھا ماں تو پھر ماں ہوتی ہے بچہ گود میں آنکھ کھول کر سب سے پہلے ماں کا چہرہ ہی دیکھتا ہے۔ اسے ماں کی مسکراہٹ ہی یقین دلاتی ہے کہ وہ جس کی گود میں ہے وہ اس کی ماں ہے۔ اجنبی چہروں سے گھبراتا ہے اور ماں کے سینے میں دبکتا ہے۔
’’اماں جان مجھے فیل ہورہا ہے کہ کچھ خاص ہے اور خاص ہونے کے ساتھ ساتھ اچھا نہیں ہے، کم از کم جو کچھ ہے وہ میرے لیے ٹھیک نہیں ہے۔ ٹھیک سمجھا ہوں نا۔‘‘ اللہ نے کرم کیا مانو آپا کو اچھو نہیں لگا سلامتی سے گھونٹ حلق سے نیچے اتر گیا۔ گلاس رکھتے ہوئے انہوں نے بہت تعجب سے عالی جاہ کی طرف دیکھا۔
ماشاء اللہ ان کا ایک نمبر کا لا ابالی عالی جاہ کسی گھڑی اتنا سمجھ دار ہوگیا۔ اب انہوں نے محتاط ہوکر اپنے تمام اعضا کی زبان درازی قابو کی مسکرانے کا تکلف البتہ نہیں کیا۔ وہ بیٹے کی عمیق نگاہوں کی قائل ہوکر اب کوئی کچا عمل کرکے اس کی نظروں میں خود کو بے وقعت بنانا نہیں چاہتی تھیں۔ سو اسی سابقہ تاثرات اور سنجیدگی سے گویا ہوئیں۔
’’بیٹا سکون سے کھانا کھائو، کھانا کھا کر شکر بجا لائو پرائی بچی کے پیٹھ پیچھے اس کا ذکر کرنا مناسب محسوس نہیں ہوتا میرے حساب سے یہ اخلاقی برائی ہے جبکہ بچی حیا دار بھی ہو تو دوسروں کو بھی لحاظ کرنا چاہیے۔ تمہیں اس کا ذکر فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔‘‘
’’حیات عورت کا زیور ہے تو مرد کی زینت، حیا مرد کی مردانگی کو چار چاند لگا دیتی ہے۔‘‘
’’ماں صدقے جائے اپنے بیٹے پر۔‘‘ آخری جملہ انہوں بطور خاص عالی جاہ کو مکمل ریلیف دینے کی نیت سے کہا تاکہ وہ مطمئن ہوجائے کہ سب کچھ معمول کے مطابق ہے کچھ خاص نہیں ہوا۔
ماں نے بیٹے کو اخلاق کی اتنی بھاری بیڑیاں پہنائیں کہ بس وہ تو فولادی کھن کھن میں ہی الجھ کر رہ گیا، کوئی بات ہی نہ کرسکا۔
/…٭٭…/
سعدیہ نے کمال فاروقی کے گھر میں موجود ہونے کا یقین کرنے کے بعد شدید احتجاج پر عمل در آمد شروع کیا ملازمہ کو احکامات جاری ہوئے کہ ان کی وارڈ روب سے تمام ڈریسز نکال کر اوپر گیسٹ روم کی وارڈ روب میں لٹکائے ساتھ ہی تمام سینڈلز ہینڈ بیگز اور ضروری اشیا بھی آخر میں ان کی ڈریسنگ ٹیبل سے تمام اشیا بھی گیسٹ روم میں منتقل کردی جائیں۔ یہ ایک طرح سے غیر قانونی علیحدگی کا اعلان تھا۔ کمال فاروقی نے بھی کمال ضبط و تحمل کا مظاہرہ کیا مجال ہے جو جبیں پر کوئی شکن ابھری ہو یا تڑپ کر ملازمہ سے سوال کیا ہوا۔ سعدیہ نے ہر تیسرے چوتھے چکر پر البتہ ملازمہ سے ضرور پوچھا۔
’’صاحب کیا کررہے ہیں، تم سے کچھ پوچھا؟‘‘ ملازمہ جو حیرت کے انتہائی اعلیٰ درجے پر گم صم تھی۔ بس نفی میں سر ہلا کر رہ گئی۔ جس پر سعدیہ کو مزید بھڑیں چمٹ گئیں۔
’’یہ تو ان کی شروع ہی سے نیت تھی کہ میں یہاں سے دفعان ہوجائوں بچوں کی شرما شرمی میں برداشت کرتے رہے۔ اب ان کے شکوک یقین کامل میں ڈھل رہے تھے اور اپنا فیصلہ بروقت اور بہت صائب محسوس ہونے لگا۔
’’دو چار دن اٹھ اٹھ کر نوکروں کو آوازیں لگانا پڑیں موزے کا دوسرا پیر ڈھونڈنا پڑا تو میری قدر و قیمت کا اندازہ ہوجائے گا مگر میں اب ناقدرے شخص کی خدمتیں نہیں کروں گی۔‘‘ سعدیہ نے مصمم ارادہ کر ہی لیا۔
’’ساری عمر کی محنت کا یہ صلہ جانے کس کو میرے سر پر لا کر بٹھا رہے ہیں اسے دیکھ کر مسکرائوں بھی اس کی فرمائش بھی پوری کرو اس کے ماتھے کے بل بھی گنوں؟ اس گھر میں تو اسے پائوں نہیں رکھنے دوں گی زیادہ غصہ آئے تو گولی مار دیں مجھے۔ میرا نام بھی سعدیہ ہے شیخ عبدالقوی کی اکلوتی بیٹی ہوں۔‘‘ اب نوبت اعزاز و فخر و مباہات پر آگئی تھی کڑھن کی بھی کوئی حد تو ہوتی ہے۔ کمال فاروقی ایک ضدی و ہٹ دھرم عورت کو نباہتے نباہتے اب تجربے کی اس منزل پر آچکے تھے کہ کسی عمل سے چونکتے ہی نہیں تھے۔
عقل کی انتہا کی علامت یہ ہے کہ مقام حیرت سے گزر کر ہمیشہ کے لیے پُرسکون ہوجانا، جہاں حیرت ختم ہوتی ہے وہاں عقل کی تکمیل ہوتی ہے۔ ملازمہ بہت پرانی اور ہوشیار تھی کمال فاروقی کی طرف سے اسے مکمل اطمینان تھا کہ وہ سو مرتبہ کمرے کے چکر لگا کر سعدیہ کا سامان اٹھا اٹھا کر آتی جاتی نظر آئے وہ کوئی سوال نہیں کریں گے اور ہوا بھی یہی غصہ ور، انا پرست انسان کی ایک مشکل یہ بھی ہے کہ اگر کوئی اس سے دو بدو لڑنے سے انکار کرکے خاموشی کی پناہ لے کر بیٹھ جائے تو اسے مزید غصہ آتا ہے کیونکہ دل کی دل میں رہ جاتی ہے۔ کوئی دو بولے تو چار سنے۔
در حقیقت کمال فاروقی کو اس یقین کے بعد کہ آج کمرے میں کسی قسم کی ہنگامہ آرائی کا امکان نہیں عجیب سی طمانیت اور ٹھنڈک محسوس ہورہی تھی۔ اس احساس طمانیت کے ساتھ ہی میٹھی نیند کے جھونکتے آنے لگے ایسی میٹھی نیند جو عالم شیر خوارگی میں بس ماں کی گود ہی میں آئی ہوگی۔ حالت سکون میں فلسفہ سوجھنے لگا۔
اس دنیا میں بے شمار جوڑے ’’تنگ جوتے‘‘ کی تکلیف اٹھا رہے ہوں گے یہ راحت تو وہی محسوس کرسکتا ہے جس نے ابھی ابھی تنگ پھنسا ہوا جوتا پائوں سے اتارا ہو۔
کبھی کسی یار دوست سے ہنسی مذاق میں سنتے تھے کہ بیگم نے ناک میں تنکا چلایا ہوا ہے سوچتا ہوں دوسری شادی کرلوں، تو وہ حیرت سے برامان کر مفت کا مشورہ دیتے خبردار برا تجربہ ایک ہی کافی ہوتا ہے سنا نہیں مومن ایک سوراخ سے دو بار نہیں ڈسا جاتا۔
خراب شادی کے بعد تو شادی کے نام سے ہی تھرتھری چھوٹنا چاہیے کم از کم وہ تو اس قسم کے خوف ناک تجربے کے بعد دوسرا تجربہ کرنے کی ہمت نہیں کرسکتے۔ اس وقت اس وسیع و کشادہ کمرے میں انہیں خود پر ٹوٹ کر پیار آرہا تھا کہ انہوں نے کتنی سمجھداری اور دانش وری کے ساتھ زندگی گزاری کہ صرف ایک بیوی ہو تو جان آسانی سے چھوٹنے کے امکانات تو روشن ہوتے ہیں دو ایک جیسی ہوں تو قبر میں اتر کر ہی سکون ملے۔
ملازمہ نے کافی دیر تک چکر نہ لگایا تو سمجھ گئے کہ ’’پروجیکٹ‘‘ مکمل ہوگیا ہے۔ بیڈ سے اتر کر پہلے دروازہ مقفل کیا پھر پردے برابر کیے اور ساری لائٹس آف کرکے سکون سے لمبی تان کر سوگئے کہ آنکھیں نیند سے بوجھل ہورہی تھیں۔
اپنے تئیں طے ہوا کہ گہری نیند لے کر بیدار ہوں گے تو سارے معاملات مرتب کریں گے سکون کے لیے یہ احساس ہی کافی تھا کہ بیٹے کی خوشی کے لیے کمر بستہ ہوچکے ہیں۔ دوسری طرف سعدیہ شاور لینے کے بعد بھی سلگ رہی تھیں۔
/…٭٭…/
دعا بہار کی مانگی تو اتنے پھول کھلے
کہیں جگہ نہ رہی میرے آشیانے کو
پیاری کسی خواب کے عمل میں تھی۔ یوں لگا کوئی اس کی محرومیوں پر ترس کھا کر یونہی مژدہ سنا کر اسے زندہ رہنے کی لگن بخش رہا ہو، تاکہ وہ جیتی رہے اور مزید محرومیوں کے ذائقے چکھتی رہے۔
کل کسی کا حرف تمنا بنی تو نڈھال سی ہوگئی
آج کسی نے طلسمی سوال کیا تو بے حال ہوگئی
اتنی تاب نہ تھی کہ حیران نگاہوں کی حیرانی سے مانو آپا کو آگاہ کردے سر بھی جھکا ہوا تھا اور نگاہ بھی۔
مانو آپا پیاری کی طرف ٹکٹکی باندھ کر دیکھ رہی تھیں۔ منصفانہ طبع کے باعث بات تو کر بیٹھی تھیں مگر مامتا دعا گو تھی کہ پیاری دانیال کے لیے انکار کردے۔
’’میں تو کمال پر ناراض بھی ہوئی کب سے بچی سامنے ہے تمہیں‘ اب ہوش آیا ہے۔ بہرحال جو بھی ہو تمہارے حق میں بہتر ہو، تمہارا جو بھی فیصلہ ہو سر آنکھوں پر۔‘‘ مانو آپا نے خواہش کو پھر حق کے پائوں تلے روند دیا بلکہ سر پر شفقت بھرا ہاتھ بھی رکھ دیا جس سے در حقیقت پیاری نے بہت تقویت محسوس کی۔
’’پھوپو، دانیال مشہود بھائی کے دوست ہیں، اگر وہ ہوتے تو لازمی ان کا فیصلہ دانیال کے حق میں ہی ہوتا۔‘‘ غلط بیانی تھی مگر خوابوں کی تعبیر اسی راستے سے مل رہی تھی۔
محرومی کے شدید ترین احساس سے گزرنے کے بعد اب نئے سرے سے وہ کوئی روحانی اذیت اٹھانے کے لیے تیار نہ تھی۔ یہ موقع آخر کیوں گنواتی؟ غصہ تھا… گلہ تھا… دکھ تھا مگر ان سب کے ساتھ وہ بھی تو تھا جسے اس نے اپنا پندار بچا کر ایک بار گنوا دیا تھا۔ نہ اس سے پہلے کوئی نہ اس کے بعد تو یہ آنکھ مچولی کیوں، عالی جاہ کے مقابل آنے سے تو وہ کھل کر نمایاں ہوگیا تھا۔ بالکل اسی طرح جس طرح صبح صادق، پھر اشراق بعد چاشت، کرہ ارض کی ہر شے چمکنے اور نمایاں ہونے لگتی ہے۔
’’اچھی بات ہے بیٹا جوڑے تو آسمانوں پر بنتے ہیں شکر و احسان میرے مالک کا کہ اس نے بچا لیا کسی کی مجبوری و کمزوری سے فائدہ اٹھانا تو ایسا ہی ہے جیسے عمر بھر کی جمع پونچی کی پوٹلی کہیں گر گئی ہو اور اللہ کے سامنے خالی ہاتھ کھڑے ہوں۔‘‘ مانو آپا نے نفس کی قوت کو روحانی قوت سے زیر کرتے ہوئے بہت ہمت و حوصلے کے ساتھ اس کے فیصلے کو قبول کیا۔
پیاری اپنی جگہ یوں بیٹھی تھی گویا اقرار جرم کرکے فارغ ہوئی ہو۔
’’اللہ لے کر بھی آزماتا ہے اور دے کر بھی اللہ مجھے ہر ہر مرحلے پر اپنی مدد اور تعاون عطا کرے، آمین۔‘‘ دکھ اپنی جگہ مگر حق کا ساتھ دینے کی طمانیت دکھ پر غالب آگئی دل بوجھل تھا مگر ضمیر پھول کی پتی کی طرح ہلکا تھا۔
/…٭٭…/
اب تم ڈبل مائنڈ ہوکر زندگی بھر کے لیے اپنے ضمیر پر بوجھ نہ ڈالنا میں تمہارا نکاح کرنے کے لیے تیار ہوں۔ رہی تمہاری ممی کی ضد یہ میرے لیے نئی بات نہیں ہے۔‘‘ کمال فاروقی بیٹے کو ہر قسم کے جذباتی بوجھ سے آزاد کرانے کی سعی کررہے تھے انہیں دکھ تھا کہ بیٹا زندگی کی سب سے بڑی مسرت حاصل کرتے ہوئے ماں کی ناراضگی پر کڑھ رہا تھا۔
’’یہ تمہارا اخلاقی، قانونی، مذہبی حق ہے جو ماں باپ بھی تم سے نہیں چھین سکتے اور پھر معیار، اسٹیٹس، کلاس یہ باتیں اللہ کو پسند نہیں۔ اللہ کے نزدیک تو سب سے واضح معیار برتری، نیکی اور تقویٰ ہے جبکہ مشہود کے والدین پڑھے لکھے اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے اور معاشرے میں عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے ان کی یتیم اولاد کو حقیر سمجھنا تو گناہ کی بات ہے۔‘‘ کمال فاروقی بہت سکون و تفصیل سے ہمکلام تھے۔ یہ اعلیٰ شعور و ادراک و اخلاق رکھنے والے مرحومین والدین ہی کا تحفہ تھا انہی کے خون کی وجہ سے دونوں بہن بھائی دولت و آسائشات کے ہونے کے باوجود اعلیٰ اخلاقی قوتوں کے حامل تھے دونوں درجنوں خاندانوں کی خفیہ انداز میں کفالت کرتے اور یہی اعلیٰ درجے کی اخلاقی قوت تھی جس کی وجہ سے وہ اپنی شعلہ مزاج بیوی کو نباہتے سنبھالتے چلے آرہے تھے۔
’’نکاح جمعے ہی کو ہوگا اور آپا کے گھر پر ہی ہوگا۔ میرے آٹھ دس دوست نکاح میں شریک ہوں گے تم اپنی طرف سے جس جس کو انوائٹ کرنا چاہو تمہاری مرضی۔ مگر بتا دینا کہ کتنے لوگ آرہے ہیں کیونکہ کیٹرنگ کے لیے بھی آرڈر کرنا ہوگا وہ فی کس کے حساب سے سروس دیتے ہیں۔ یہ تو تمہیں پتا ہی ہے۔‘‘ دانیال جیسے خواب میں جنت کی سر سبز وادیوں میں سیر کناں تھا ہونٹوں سے صندل کی بانسری لگی تھی۔ محبت کے سر وادیوں کے سبزے کو انوکھی چمک دے رہے تھے۔ وہ الوہی گیت جن کا خاموش وادیاں بڑی چاہ سے انتظار کرتی ہیں۔ محبت سے ترغیب شدہ سر، روح سے پھوٹتے ہیں تو کائنات کی عمر بڑھتی ہے قیامت ٹلتی ہے انجام کی طرف بڑھتی زندگی پھر پلٹ کر دیکھتی ہے خالق کائنات کی منت کرتی ہے کہ ابھی کاروبار حیات نہ سمیٹیں… ابھی محبت باقی ہے۔
/…٭٭…/
عالی جاہ کن انکھیوں سے اِدھر اُدھر دیکھتا انگلی میں کی رنگ گھماتا اپنی شاہانہ چال کے ساتھ آگے بڑھ رہا تھا۔ گھر میں دور تک پھیلی ہوئی خاموشی کو اچانک مانو آپا کی آواز نے توڑا۔
’’خیر سے آگئے ہو۔‘‘ عالی جاہ چونک کر پلٹا مانو آپا اپنے بیڈ روم کی سمت سے اس کی طرف آرہی تھیں۔
’’السلام علیکم اماں جان۔‘‘ اس نے سر کو ہلکا سا خم دے کر ماں کو سلام کیا۔
’’وعلیکم السلام جیتے رہو، میں تمہاری ہی راہ دیکھ رہی تھی۔ آج پھر دیر سے آئے ہزار مرتبہ کہا ہے دیر ہوجاتی ہے تو کم از کم ایک فون تو کردیا کرو۔‘‘ مانو آپا قریب آکر گویا ہوئیں۔
’’بس اماں جان ایک پارٹی کے ساتھ کھانے پر چلا گیا۔ وہاں لین دین کی بحث میں وقت گزرنے کا پتا ہی نہیں چلا۔ آئی ایم سوری۔‘‘ عالی جاہ کی نظر ہنوز بھٹک رہی تھی لہجہ بھی معمول سے زیادہ مودبانہ تھا۔
’’خیر یہ تو تمہاری پرانی عذر داری ہے۔ چلو ہاتھ کے ہاتھ یہ بھی پتا چل گیا کہ کھانا کھا کر آئے ہو۔ اب تھک کر آئے ہو صبح دیر تک پڑے سوتے رہوگے۔ کام کی بات کب کی جائے اٹھو گے تو پھر تیار ہوکر منہ اٹھا کر چلو پڑو گے۔‘‘ مانو آپا الجھن میں دکھائی دیں۔
’’ارے تو کیجیے ناں کام کی بات‘ کیوں اتنا تکلف کررہی ہیں۔‘‘ عالی جاہ واقعی مانو آپا کا رد عمل دیکھ کر حیران ہوا۔
’’آج منگل ہے کل بدھ پرسوں جمعرات۔‘‘
’’اماں جان کیا ہوگیا ہے آپ کو منگل کے بعد بدھ اور جمعرات ہی آتے ہیں پھر آپ کا سیچر اور اتوار آتا ہے پھر ہمارا منڈے اور آپ کا سوموار یعنی ورکنگ ڈے اسٹارٹ۔‘‘
’’بے وقوف سیچر سے پہلے جمعہ پڑتا ہے جمعے کے جمعے نماز پڑھتے ہو پھر بھی دھیان نہیں ہوا۔‘‘ مانو آپا نے عالی جاہ کی کھنچائی کی جو بے صبری اور جلد بازی کی وجہ سے جمعہ ڈراپ کر گیا تھا۔
’’ڈونٹ وری، میں جمعہ پڑھنے چلا جائوں گا تو یہ تھی آپ کی کام کی بات۔‘‘ عالی جاہ بے مزہ ہوا وہ تو کام کی بات سے کسی خوش خبری کا حریص ہوا تھا۔
’’نہیں یہ تو مجھے یقین ہے ان شاء اللہ جمعہ تو پڑھ ہی لو گے بتانا یہ ہے کہ جمعے کو عصر اور مغرب کے درمیان دانیال اور پیاری کا نکاح ہے۔‘‘ گھر کے پچھواڑے کوئی ہینڈ گرنیڈ آکر گرا تھا عالی جہاں چونکا۔ قدرے وزن نہ ہوتا تو اچھل ہی پڑتا۔
’’دونوں کا نکاح ایک ہی دن ہے۔‘‘ واقعی کچھ سمجھ نہ آئی کیونکہ خبر انتہائی غیر متوقع تھی۔
’’اس لیے کہ دانیال کا نکاح پیاری سے ہورہا ہے۔‘‘ مانو آپا جانے کیوں بتاتے ہوئے خود کو گناہ گار محسوس کرنے لگیں۔ حالانکہ ابھی تک وہ بیٹے کو باقاعدہ اس موضوع پر لے کر نہیں بیٹھی تھیں مگر محسوس یوں ہورہا تھا گویا عالی جاہ نے ان کے دل سے کان لگا کر سب کچھ سن لیا تھا۔
’’اوہ…!‘‘ عالی جاہ کا اوہ اتنا لمبا تھا دو چار منٹ کی سانسیں اکٹھیں اور پیشگی لے لی تھیں۔
’’اٹس آ سرپرائز۔‘‘ عالی جاہ کو دکھ اور شاک سے گزرنے کا کوئی تجربہ نہ تھا۔ چند لمحے تو سوچتا ہی رہ گیا کہ کیا یہ شاک ہے۔ نیچے کی طرف لڑھکتا دل اسے یقین دلایا رہا تھا کہ اس نے ایک شاکنگ نیوز سنی ہے۔
’’اماں جان یہ کیا تماشہ ہے اس لڑکی کو آپ یہاں کیوں لائی تھیں ماموں جان کے گھر پہنچا کر اسی وقت نکاح کردیتیں۔‘‘ خواہش کے چھن چھن ٹوٹنے کے عمل کا تاثر عالی جاہ کے لہجے کی بدلحاظی، بداخلاقی، بے مروتی، نروٹھے پن سے ملنے لگا۔ اسے تو مسکرانے کے بھی پیسے ملتے تھے یہ کیا ہوا؟ فضول میں خوش اخلاقی کی ایکسر سائز کی۔
’’کچھ عقل سے بھی کام لے لیا کرو ایک ہی دن میں اس طرح نکاح ہوتا ہے آس پاس ملنے جلنے والوں کو بھی مدعو کیا جاتا ہے۔ کل میں سارا وقت گھر سے باہر رہوں گی نکاح کی تیاری کرنا ہے کپڑا، لتا زیور کھانے اور مہمان داری کا تو تمہارے ماموں جان سنبھال رہے ہیں، اس لیے تمہیں سوچ بچار کی ضرورت نہیں البتہ جمعے کو شام کا کوئی پروگرام نہ رکھنا گھر پر رہنا۔ کہیں ضروری جانا ہو تو نکاح کے بعد چلے جانا۔‘‘ مانو آپا عالی جاہ کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے اسے سارا پروگرام سمجھا رہی تھیں جو اب کچھ سننے کے موڈ میں ہی نہیں تھا اور تیز گام اپنے بیڈ روم کی طرف جارہا تھا۔ مانو آپا تو گویا اس کے ساتھ دوڑ لگا رہی تھیں۔
’’اماں جان جمعے کو تو میں دن رات مصروف ہوں سوری میں اپنے شیڈول سے نہیں ہٹ سکتا۔‘‘ عالی جاہ شدید غصے اور مایوسی کی کیفیت میں بولا تھا۔ ’’مجھے نہیں پتا وہ کون ہے، کہاں سے آئی ہے میرے لیے صرف وہ ایک اجنبی ہے تو اس کے نکاح کی تقریب میں، میں کیوں شرکت کروں۔‘‘ پیاری سے اپنی لاتعلقی کا اظہار کرنے کی کوشش میں اپنے فطری پھکڑپن کے باعث الف عیاں ہوگیا۔ مانو آپا صدمے سے پھر قدم آگے نہ بڑھا سکیں۔ بیٹے نے اپنی انا سنبھالنے کے چکر میں دل کھول کر رکھ دیا تھا عالی جاہ نے دروازہ بند کرنے سے پہلے یہ دیکھنے کا تکلف بھی نہیں کیا کہ ماں اندر آنا چاہتی ہے یا نہیں… دھاڑ… دروازہ بند ہوا تھا۔
/…٭٭…/
چاند زمین پر اتنا جھک آیا تھا کہ وہ ہاتھ اونچا کرکے چھو سکتی تھی۔ وہ اس کا ہونے جارہا تھا جس کے بغیر زندگی صحرا کا سفر تھی۔ کتنی بے دردی سے لمحے کے اندر اندر ٹھکرا دیا تھا مگر وہ گرد جھاڑ کر پھر اس کا دامن تھامنے لپکا تھا۔ یہی ادا تو اس سرسبز عمر کو سدا بہار بنا دیتی ہے محبت خود کو ثابت کرکے جب چٹان کی طرح جم جاتی ہے تو آندھی، باد مخالف مقامی طوفان اسے چھو چھو کر گزرتے رہتے ہیں محبت قائم رہتی ہے۔
اف اس احساس میں بھیگنا ہی نصیبوں کی بات ہے کہ آپ کسی کے محبوب ہیں۔ بائرن کہتا ہے ’’عورت اپنے پہلے جذبے میں اپنے چاہنے والے کو چاہتی ہے پھر اسے سچ مچ محبت ہوجاتی ہے۔‘‘ دکھوں کے شدید موسموں میں یہ نرم ہوا کا جھونکا یونہی تھا گویا آخری سانسوں پر زندگی پلٹ آئی ہو۔ اب وہ دانیال کے ساتھ مشہود کا انتظار کرے گی ہر دعا میں ایک ہاتھ اس کا اور دوسرا دانیال کا ہوگا۔
’’پہلے کی بات اور تھی اس وقت زندگی حادثے کے موسم سے نہیں گزری تھی مشہود بھائی کو تو آنے کے بعد یہ دیکھ کر بہت اچھا لگے گا کہ میں تنہا نہیں ہوں۔‘‘ خوشی کی انتہا پر وہ اپنا پوری قوت سے یاد آتا ہے جو حادثاتی طور پر بچھڑ جاتا ہے۔ ماں بھی یاد آرہی تھی باپ بھی، بوا بھی لیکن مشہود کا سایہ ہر آن ساتھ ساتھ محسوس ہورہا تھا اور یقین کی قوت کہتی تھی کسی بھی وقت یہ سایہ وجود و شہود میں ڈھل جائے گا۔ مدت بعد امید نے از سر نو لباس فاخرہ زیب تن کیا امید مردہ دلی سے بھاگتی ہے۔ جذبوں سے مستحکم دل میں بارش کے پہلے قطرے کی طرح ٹپکتی ہے۔
/…٭٭…/
مانو آپا کے چہرے پر ایسا کچھ نہیں تھا جو پیاری کو خلفشار میں مبتلا کرتا یا الجھاتا ان کے انداز معمول کے تھے بس فرق اتنا کہ کلام مختصر تھا دس بجے کمرے میں آکر انہوں نے اسے ذہنی طور پر تیار کردیا تھا کہ لنچ کے بعد وہ اسے شاپنگ کے لیے لے جائیں گی۔ پیاری کو فوراً دانیال کی ماں سعدیہ کا دھیان ہوا۔ یہ ذمہ داری تو دانیال کی ممی کی ہے۔ اس خیال کے ساتھ ہی وہ چونک پڑی۔ پرسوں نکاح ہے اور دانیال کی ممی ابھی تک اس سے ملنے نہیں آئیں، دل کو کچھ ہوا مگر اشارہ سمجھ نہ آیا۔ وہ پھوپو سے ضرور پوچھے گی کہ دانیال کی ممی اس سے ملنے کیوں نہیں آئیں۔ پھر اس کے سامنے سعدیہ کا وہ چہرہ گھومنے لگا جس سے پہلا تعارف اسپتال میں ہوا تھا درحقیقت وہی نقش اول تھا اس نقش اول سے کوئی مثبت تاثر قائم نہ ہوتا تھا مگر عقل کہتی تھی اتنا کام ہونے جارہا ہے جو ان کے بغیر تو تکمیل تک نہیں پہنچ سکتا تھا۔ کسی بھی ماں کے لیے تو یہ تاریخی واقعہ ہوتا ہے جب اس کا خواب تعبیر پاتا ہے یہ تو مانو پھوپو سے پوچھنا ہی پڑے گا اسی آن مانو آپا کمرے میں آئیں اور ایک چیک اس کے سامنے لہراتے ہوئے بولیں۔
’’اب ان کے کام دیکھو، کمال نے یہ چیک بجھوا دیا ہے کہ آج کل کون کیش اٹھا کر گھومتا ہے۔ میں تو ویزہ کارڈ بھی نہیں رکھتی اب پہلے بینک جانا ہوگا۔ جیولر کو تو چیک دے دوں گی تو وہ لے لے گا مگر کپڑوں وغیرہ کے لیے تو کیش چاہیے ہوگا۔‘‘ مانو آپا سوچ بچار میں گھری آپ ہی تیل کی آپ ہی گھی کی کررہی تھیں۔ پیاری کو سمجھ نہ آئی کہ وہ کیا ردعمل ظاہر کرے۔
’’میرا خیال ہے عالی جاہ کے پاس کیش ہوگا اسے چیک دے کر پیسے لیتی ہوں۔‘‘ آپ ہی کہہ سن کر اب وہ عالی جاہ سے رجوع ہونے چل پڑیں۔ عالی جاہ کے نام پر پیاری کے احساسات میں کچھ بوجھ سا پڑا مگر اس کیفیت کا کوئی نام نہ تھا۔
’’یہ صبح صبح آپ کو اتنے کیش کی کیا ضرورت پیش آگئی۔ آج کل کون کیش سے لین دین کرتا ہے ایک کاغذ کے ٹکڑے پر کروڑوں ادھر سے ادھر ہوجاتے ہیں۔‘‘ عالی جاہ کا موڈ ہنوز خراب تھا بات نہیں کررہا تھا ٹھیکرے توڑ رہا تھا مانو آپا بہت کچھ جان کر بھی انجان بننے پر مجبور تھیں۔
’’ارے بازاروں میں تو نقد چاہیے ہوتا ہے۔‘‘ اس پر عالی جاہ پہلے سے زیادہ بدمزہ ہوکر گویا ہوا۔
’’یہ ویزہ کارڈ کا پیریڈ ہے اماں جان مگر آپ کو تو پتھر کے زمانے سے عشق ہے۔ پتا نہیں آپ کے پاس کون سی ڈیوائس ہے جو آپ کو دو سو سال پہلے زمانے میں پہنچائے ہوئے ہے۔‘‘
’’پیسے ہیں تو دے دو، فضول کے مضمون کیوں پڑھ رہے ہو۔‘‘ مانو آپا اب خفا ہونے لگیں۔
’’یہ ایک دم اچانک اتنی بڑی رقم کی ضرورت کیوں پڑ گئی، کیا خرید لیا صبح صبح۔‘‘
’’صبح ہوگی تمہاری دنیا تو دوپہر کے لیے دال چاول بگھار رہی ہے پرسوں پیاری کا نکاح ہے بتایا تھا ناں، اس کے نکاح کا جوڑا، جیولری اور دوسری دس ضروری چیزیں لینا ہیں۔‘‘ مانو آپا بول رہی تھیں۔ عالی جاہ کا ہاتھ وارڈ روب کے دروازے کے ہینڈل پر پڑا تھا اور جم گیا تھا۔ مانو آپا نوٹوں کے انتظار میں اسی کی طرف متوجہ تھیں مگر انہوں نے دیکھا کہ عالی جاہ نے ہینڈل سے اپنا ہاتھ ہٹا لیا تھا۔
’’کیش نہیں ہے میرے پاس اور یہ میری ڈیوٹی بھی نہیں ہے جن کا مسئلہ ہے وہ اپنے کام خود کریں ناشتہ تیار ہے یا آفس جا کر کرلوں۔‘‘ وہ بدمزاجی سے پوچھ رہا تھا۔
’’ناشتہ ہمیشہ تیار ملتا ہے آج کیا سورج مغرب سے نکلا تھا۔‘‘ مانو آپا جو سناٹے میں کھڑی رہ گئی تھیں یک دم تڑپ کر گویا ہوئیں اتنی عملی خاتون جن کے پندرہ بچے ہوتے تو سب کو وقت پر ناشتہ ملتا ناشتے کے بغیر گھر چھوڑنا تو ان کے لیے ایک قیامت تھی عالی جاہ پیٹ پوجا کرکے دس مرتبہ بھی فارغ ہوچکا ہوتا صبح ناشتہ نہ کرنے کا قلق اگلی صبح تک رہتا ایسا کئی بار ہوا بھی وہ بھی عالی جاہ کی ہڑبونگ کی وجہ سے وہ دیکھتی کی دیکھتی رہ گئیں عالی جاہ یہ جا وہ جا۔
بنا کچھ بولے وہ ڈائننگ میں چلا گیا تھا کیش اس سے ملنا نہیں تھا اس کا پیچھا کرنے کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔ مگر عالی جاہ نے کھل کر اپنا مدعا بیان کردیا تھا اگر چہ الفاظ کا منت کش نہ ہوا لفظ تو خاشاک کی طرح اڑ کر اپنی آبرو بچا رہے تھے بیان کیا تھا اعلیٰ درجے کا زور بیان تھا۔ مانو آپا ہک دک کھڑی سوچ رہی تھیں۔
اسے بھی چار دن میں عشق ہو چلا تھا ادیب فاضل کی سند کے لیے دوڑ دھوپ بہت کی تھی اسی زمانے میں پڑھا کسی استاد کا شعر یادداشت کے کواڑ کھٹکھٹانے لگا۔
اچھی صورت پہ غضب ٹوٹ کے آنا دل کا
یاد آتا ہے ہمیں ہائے وہ زمانہ دل کا
چولہے بھاڑ میں پڑے یہ نامراد عشق اچھے بھلے کام کے بندے کا ستیاناس کرنے کو کافی ہے۔ بیٹے کے دل ٹوٹنے کی آگہی میں آنچ بلا کی تھی دل تھا کہ تپا جاتا تھا۔
/…٭٭…/
ماں کی خفگی کا تدارک کرنے کی کوشش میں کمال فاروقی اپنے سارے کام چھوڑ کر دانیال کے ساتھ ساتھ تھے۔ درحقیقت باپ کی طرف سے ملنے والی اس زبردست اخلاقی قوت و تعاون نے اسے مزید مضبوط بنادیا تھا۔
’’یہ سب کچھ اپنی بات منوانے کی حد تک ہے جب کام ہوجائے گا۔ تو خودبخود رسی کے بل کھلنے لگیں گے۔‘‘ کمال فاروقی نے اس کا مورال بلند کرتے ہوئے تسلی دی تاکہ بیٹا اپنی زندگی کی خوب صورت ترین گھڑیاں تذبذب میں نہ گنوا دے۔
سب کچھ ٹھیک تھا مگر ماں کے ایک طرف ہونے سے دل پر بوجھ تو فطری تھا دوئم پیاری بہت زیادہ محسوس کرے گی ایک طرح سے اپنی ہتک محسوس کرے گی مگر نقد ہاتھ سے جاچکا تھا سودا تو باندھنا ہی تھا۔
نکاح کے لیے کمخواب کی شیروانی رائو سلک کا کرتا، تنگ پائجامہ، کلاہ، سلیم شاہی جوتا، پرفیوم، رومال سب کچھ کمال فاروقی آگے بڑھ بڑھ کر خرید رہے تھے۔ کمال فاروقی نے تو مانو آپا کو مشورہ دیا تھا کہ پیاری کو دانیال کے ساتھ بھیج دیں دونوں اپنی اپنی پسند سے شاپنگ کرلیں گے۔ مگر مانو آپا نے جواب میں جو کہا وہ بہت مختصر اور لاجواب کرنے کے لیے کافی تھا۔
’’کمال… پیاری اور مزاج کی بچی ہے ایسی بچیوں کو روڈوں پر پھرنے کا ویسے بھی شوق نہیں ہوتا۔ دانیال کے ساتھ تو کرلی اس نے شاپنگ، شرارے کے بجائے پلہ مچھلی بھی دلا دے گا تو چپ چاپ خرید لے گی۔‘‘ چار دن پیاری کے ساتھ رہ کر مانو آپا اسے کتاب کی طرح پڑھ چکی تھیں دونوں باپ بیٹا شاپنگ بیگز اٹھائے رات گئے گھر میں داخل ہوئے تو سعدیہ کی کارپورج میں نہیں تھی اور چاروں اور عمیق سناٹے کا راج تھا۔ دانیال کو خوشی کی انتہا پر آزردگی کی کیفیت چکھنے کا بھی تجربہ ہوا۔ اسی لیے کہتے ہیں زندگی روز سکھاتی ہے۔
/…٭٭…/
سعدیہ اٹالین ونڈو سے بلائنڈ سرکا کرینل فائل سے اپنے ناخن سنوا رہی تھیں کہ دروازے پر پڑنے والی ہلکی سی تھاپ نے چونکا دیا نئے نویلے سورج کی کرنیں ابھی نرمی سے مسکرا رہی تھیں۔ چاشت پڑھنے والے انتظار میں بیٹھے تھے جن کو توفیق نہیں ملی وہ ابھی محو استراحت تھے۔
’’اتنی صبح کون آگیا۔‘‘ دھیان فوراً کمال فاروقی کی طرف گیا مگر اپنا خیال خود ہی مسترد کردیا۔
’’گز بھر لمبی ناک کا بوجھ اٹھا کر پھرتے ہیں وہ میرے لیے سیڑھیاں چڑھ کر آئیں گے۔‘‘ اسی ادھڑ بن میں بہرحال انہوں نے دروازہ کھول دیا مگر چونک کر دو قدم پیچھے ہٹ گئیں سامنے بے ترتیب بالوں کے ساتھ دانیال کھڑا تھا۔ خفگی سے منہ پھیر لیا اندر آنے کا راستہ نہیں دیا۔
’’السلام علیکم ممی۔‘‘ دانیال نے مودبانہ سلام عرض کیا۔
’’وعلیکم السلام کوئی کام ہے مجھ سے۔‘‘ سعدیہ نے بے نیازی سے ضرب کاری لگانے کی کوشش کی۔
’’یہی سمجھ لیجیے۔‘‘ دانیال کو بھی راستہ چاہیے تھا ان کے سوال سے ہی جواب نکال لیا۔
’’بولو۔‘‘ دروازے سے ٹل کر نہ دیں اسی طرح کھڑے کھڑے پوچھ رہی تھیں۔
’’ممی… آرام سے بیٹھ کر بھی تو بات کرسکتے ہیں۔ ہم دونوں اپنے ہی گھر میں تو ہیں۔‘‘
’’ٹو دی پوائنٹ بات کرو، کنفیوژ مت کرو۔‘‘ اب انہوں نے برہم نظریں اٹھا کر کہا۔
’’ممی کل میرا نکاح ہے بلال بھائی کی طرح یہ بزنس میرج نہیں ہے ایک بیٹے کے نکاح میں تو شرکت کرلیں، کورٹ میرج تو نہیں کررہا آج کل سب پیرنٹس احساس کرتے ہیں کہ شادی بچوں کی پسند سے کرنا چاہیے آپ تو الٹرا، ماڈرن سوسائٹی کی ممبر ہیں میری باری پر اتنی قدامت پسند کیوں بن رہی ہیں۔ اس طرح تو کوئی لڑکیوں پر دبائو نہیں ڈالتا۔‘‘ دانیال نے بہت پیار سے ماں کے شانے پر ہاتھ رکھ دیا۔
’’بس یہی کہنے آئے تھے۔ جو ابھی تک تمہارے پاپا نے نہیں کہا تھا وہ بچا ہوا تم نے کہہ دیا بنڈل آف تھینکس ڈیئر سن۔‘‘ سعدیہ پر کچھ تو اثر ہوا تھا ناراضگی ہنوز تھی مگر دروازہ کھلا چھوڑ کر کمرے کے مرکز تک چلی گئی تھیں۔
’’ممی… ایک سچ سن لیں اس کے بعد میں آپ سے ایک لفظ نہیں کہوں گا۔ خاموشی سے چلا جائوں گا۔‘‘
’’سچ…!‘‘ سعدیہ ناچاہتے ہوئے بھی چونک پڑی اس لفظ میں جادو ہے بہو کے ہاتھ میں ہونا ہو۔ جھوٹے سے جھوٹا انسان بھی سچ کی قدر و قیمت جانتا ہے سچ کی کشش و جاذبیت کو تسلیم کرتا ہے۔
’’اتنی دیر سے کیا جھوٹ بولے جارہے ہو؟‘‘ یہ ادا بھی کمال تھی اسی میں سچ سن لینے کی رضا مندی بھی تھی۔
’’ممی آپ ہی کی وجہ سے آپ رشنا کے علاوہ کسی کا نام ہی سننا نہیں چاہتی تھیں۔ میں نے پیاری سے خفیہ شادی کرنے کا پکا فیصلہ کرلیا تھا۔‘‘
’’دیکھا، میں بالکل ٹھیک سمجھ رہی تھی یہ بہت تیز لڑکی ہے اس طرح پھنساتی ہیں لڑکیاں۔‘‘ سعدیہ ایک دم چمک کر بڑے جوش و ولولے سے شروع ہوگئیں۔
’’ایک منٹ ممی میری بات مکمل نہیں ہوئی۔‘‘ دانیال نے فوراً بندھ باندھا۔
’’مگر پیاری نے انکار کردیا اور میری ٹھیک ٹھاک عزت افزائی کی ممی اس نے مجھے کہا کہ میں نے اس کی انسلٹ کی ہے۔‘‘
’’تم نے اسے سیکریٹ میرج کی آفر کی اس نے انکار کردیا۔ یہی کہہ رہے ہو ناں۔‘‘ ایک غصہ فطری اور منطقی ہوتا ہے ایک غصہ انا پرست کا ہوتا ہے انا پرست کا غصہ کھوکھلا ہوتا ہے اندرونی کمزوریوں کا پردہ ہوتا ہے اپنے سے دبنگ کی للکار پر جھاگ بن کر اڑ جاتا ہے۔ سعدیہ کی حیرت انا پر غالب آگئی تو قہر کا زور خودبخود ٹوٹ گیا پھر سامنے اپنا ہی تو بیٹا تھا اپنوں کے سامنے تو رویے پل میں برہنہ ہوجاتے ہیں لگی لپٹی پہلی دھلائی میں جاتی ہے۔
’’جی وہ بہت بااصول ہے، اس کی کوئی خواہش اس کی کمزوری نہیں وہ بہت مضبوط کردار کی مالک ہے ممی، عام سی لڑکی نہیں ہے۔‘‘
’’تم ابھی اتنے تجربہ کار نہیں ہو دانیال آج کل کی لڑکیاں بہت چلتا پرزہ ہیں منٹ میں ہزار رنگ بدل سکتی ہیں۔‘‘ لڑکی کی خوبیاں بیٹے کے منہ سے سن کر دل کو کچھ ہوا تو مگر شکی اور جلد بدگمان ہونے والی فطرت نے پھر اکسایا۔
’’اگر وہ اور طرح کی لڑکی ہوتی تو اس وقت جب میں خفیہ شادی کی آفر کررہا تھا وہ مان جاتی ہماری کورٹ میرج ہوجاتی تو آپ اس وقت کیا کررہی ہوتیں، سیدھا سا سوال ہے سیدھا سا جواب دے دیں۔‘‘ اتنی مضبوط دلیل نے تو سعدیہ کے چودہ طبق روشن کردیے اور یہ اصول فطرت ہے جو اب گھر میں پیدا ہوتے ہیںَ باہر سے تو کچھ اور آتا ہے۔
’’فی الحال میرا ذہن بالکل کام نہیں کررہا ویسے بھی تم نے اور کمال نے تو اپنی مرضی ہی کرنی ہے کیوں اپنا ٹائم مجھ پر برباد کررہے ہو۔‘‘ ہار ماننے کا حوصلہ ہو نہ ہو ہار تو نوشتہ دیوار کی طرح چمکتی ہے، اتنے شد و مد سے مخالفت کی تھی اب کچھ تو بھرم رکھنا تھا بڑے نروٹھے پن سے گویا ہوئی تھیں۔
’’شادی تو اپنی مرضی سے کرنا چاہیے ممی، مہمان تو ڈنر کے بعد پوچھتے بھی نہیں ہیں کہ کیسی گزر رہی ہے۔‘‘ دانیال نے ماں کی ادا میں تغیر پایا تو تھوڑا سا ہلکا پھلکا بھی کہہ دیا۔
’’مجھے اکیلا چھوڑ دو دانیال۔‘‘ دھواں ختم ہوگیا تھا ماحول میں تپش باقی تھی دانیال نے غنیمت جانا کہ سعدیہ نے کم از کم کھڑے کھڑے ہی سہی اس کی بات سنی تو سہی۔
ایک بار ممی لائن پر آجائیں باقی تو پھر پیاری خود ہی سنبھال لے گی اس کا با وقار حسن ہی کافی ہے اور اتنی نرم خو ہے کہ بندے کی زبان ہی کاٹ دیتی ہے۔ دانیال پلٹ کر سوچتا آگے بڑھ رہا تھا۔
/…٭٭…/
مانو آپا پیاری کو بصد اصرار بیوٹی سیلون لے جانا چاہ رہی تھیں۔ مگر پیاری نے انکار کردیا پل پل مشہود سامنے آکر کھڑا ہوجاتا تھا اور وہ واش روم میں جا کر گھٹ گھٹ کر روتی تھی اس عالم میں بیوٹی سیلون جانے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔
محبت زندہ باد ہورہی تھی۔ چاند سے چاندنی روشنی کے پھول برسا رہی تھی۔ خواب کی پریاں پلکوں پر تعبیر ٹانک رہی تھیں، مگر دل خوش کی انتہا پر عظیم دکھ سے گلے مل رہا تھا۔ مانو آپا کا بیڈ روم ہی برائیڈل روم بن گیا تھا اس نے نکاح کے لیے شرارے غرارے کا انتخاب نہیں کیا تھا تنگ پاجامہ اور پشوز پسند کی تھی جو سرخ و سنہری امتزاج سے تیار کی گئی تھی۔
عروسی ملبوس زیب تن کرنے کے بعد اس نے سادہ چوٹی بنائی تھی۔ آنکھوں میں کاجل کی لکیریں ہونٹوں پر سرخ لپ اسٹک اور بس یہ اس کا مکمل میک اپ تھا۔ وہ یہ میک اپ نہ بھی کرتی تو بھی عروسی ملبوس نے اسے پھول کی طرح کھلا دیا تھا۔ بال نہ بھی سنوارتی تو زرتار دوپٹے نے حسن باوقار کو چار چاند لگا دیے تھے۔ مانو آپا تو بس دیکھتی ہی رہ گئیں بلکہ دل تھام لیا ایک کسک کسی کٹنی کی طرح بس معنی خیز اشارے کرتی گزر گئی۔ گویا جیب خاص میں ہاتھ ڈالا تو ہاتھ جیب سے باہر نکل گیا حواس ساتھ چھوڑ گئے سوچ قائم ہوگئی۔
’’یااللہ جمع پونجی پھٹی جیب میں ڈالی تھی؟‘‘ دل کو سمجھایا آگے بڑھ کر گلے سے لگایا دعا دی کہ آخر دانیال بھی تو میرا ہی خون ہے اللہ اسے یہ خوشی مبارک کرے سدا سکھی رہے۔
عصر کی نماز کے بعد کمال فاروقی اپنے قریبی دوستوں اور دانیال کے ہمراہ مانو آپا کے گھر پہنچ گئے تھے ساتھ آنے والے مختصر سے باراتیوں کو راستے بھر یقین دلاتے رہے کہ ولیمہ بہت دھوم دھام سے ہوگا۔ نکاح لڑکی والوں کا فنکشن ہوتا ہے اور ہم اپنی طرف سے کوئی بوجھ ڈالنا نہیں چاہتے عالی جاہ منظر سے غائب ہوکر ماں کو دکھی کررہا تھا مانو آپا نے بقدر ظرف بہت سلیقے سے اس چھوٹی سی تقریب کا انتظام سنبھالا تھا۔ دانیال کے پائوں تلے زمین کشش ثقل کھوچکی تھی اس کے پائوں خلا میں تھے ان دیکھے شہیر اسے فضا میں اڑنے پر مجبور کررہے تھے۔
خوشی ایک ایک خلیے سے نکل کر آنکھوں کو مسکن بنائے ہوئی تھی۔ پیاری سے ایجاب و قبول کرانے کمال فاروقی اپنے بزنس پارٹنر اور دوسرے عزیز دوست کے ساتھ مانو آپا کی خواب گاہ میں آئے تھے جہاں پیاری نیم سکتے کی کیفیت میں براجمان تھی۔ حسن و انداز نشست اتنا باوقار تھا کہ کمال فاروقی نے بیٹے کے انتخاب کی داد دی۔
پانچ لاکھ حق مہر پر نکاح ہوا مانو آپا پیاری کو بازو کے گھیرے میں لے کر اسے ایک طرح سے حوصلہ بہم پہنچا رہی تھیں۔
جیسے جھیل میں چاند کا عکس جھلملاتا ہے پیاری کی آنسو بھری آنکھوں میں نکاح نامے پر مندرج الفاظ جھلملا رہے تھے۔ کمال فاروقی نے دست شفقت سر پر رکھ کر دستخط کے لیے رہنمائی کی تیسرا دستخط کرتے ہی پیاری بے ہوش ہوکر دائیں جانب ڈھے گئی تھی قلم انگلیوں سے پھسل کر دور جا پڑا تھا مانو آپا کو ٹھنڈے پسینے چھوٹ گئے پیاری کے تلوے سہلانے لگیں کمال فاروقی اور گواہان باہر کی طرف لپکے تاکہ فرسٹ ایڈ کا بندوبست کیا جاسکے۔
/…٭٭…/
شیروانی کی جیب میں پڑے سیل فون پر لگا تار چوتھی مرتبہ وائبریشن ہوئی تو دانیال کو جیب سے سیل نکال کر دیکھنا ہی پڑا اسکرین پر کالر کا نام نہیں تھا ایک انجانا نمبر آرہا تھا متردد ہوا کال ریسیو کرے یا رہنے دے مگر یہ سوچ کر ریسیو کرلیا کہ کال مسلسل کی جارہی تھی۔
’’ہیلو۔‘‘ اس نے دبی زبان میں کہا۔
’’دانیال مشہود بات کررہا ہوں۔‘‘
(ان شاء اللہ باقی آئندہ ماہ)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close