Aanchal May 16

آینئہ

شہلا عامر

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! ابتدا ہے رب ذوالجلال کے بابرکت نام سے جو ارض وسماں کا خالق ومالک ہے۔ مئی کا شمارہ سال گرہ نمبر 2 پیش خدمت ہے۔ سابقہ شمارے کو سراہنے‘ پسند کرنے اور اپنی آراء وتجاویز سے آگاہ کرنے کا بے حد شکریہ۔ امید ہے یہ شمارہ بھی آپ کے حسب منشاء ہوگا‘ آیئے اب چلتے ہیں آپ بہنوں کے دلچسپ تبصروں کی جانب جو بزم آئینہ کی شان بڑھا رہے ہیں۔
طیبہ نذیر… شادیوال‘ گجرات۔ السلام علیکم! شہلا آپی کیسی ہیں اور آنچل فرینڈز آپ سب کیسی ہیں‘ امید ہے بالکل ٹھیک ہوں گی۔ آنچل مجھے 24 کو مل گیا تھا‘ سب سے پہلے آنٹی قیصر آراء کی سرگوشیاں سنیں پھر حمدو نعت سے فیض یاب ہوکے درجواب آں میں جھانکا تو میں تو غائب تھی‘ آنٹی مجھے دو ماہ سے اگنور کررہی ہیں (چلو کوئی گل نئیں اسی کی آکھنا وے) ہمارا آنچل میں داخل ہوئی تو چاروں بہنوں نے خوب رونق لگائی‘ بہت مزہ آیا پڑھ کے اس کے بعد ’’موم کی محبت‘‘ اچھی جارہی ہے آگے دیکھتے ہیں کیا بنتا ہے۔ ’’ٹوٹا ہوا تارا‘‘ ولید اتنا پتھر دل کیوں بن رہا ہے‘ مجھے تو انا پر بہت ترس آرہا ہے۔ ’’شب ہجر کی پہلی بارش‘‘ ایک اچھے موڑ پر جارہی ہے۔ نازی آپی زاویار اور عائلہ کی کہانی بھی زیادہ سے زیادہ لکھیں۔ ’’تیس ہزار روپے‘‘ نادیہ فاطمہ جی بہت اعلیٰ اسٹوری تھی‘ دل بہت دکھی ہوگیا پڑھ کے۔ ’’پیار کی بازی‘‘ ہر تیسرے گھر کی ایسی اسٹوری ہے کافی الجھن کا شکار تھی‘ یہ اسٹوری ’’گود کی ڈھال‘‘ شبینہ گل جی زبردست بہت سبق آموز اسٹوری تھی۔ ’’کیک اور سالگرہ‘‘ سمیرا غزل سو نائس۔ ’’بہاریں جھوم کے آئیں‘‘ عروسہ عالم جی بہت بہت مزہ آیا‘ پڑھ کے کیپ اٹ اپ۔ ’’اے ہم نوا‘‘ طلعت نظامی جی گریٹ‘ بڑی پیاری اسٹوری تھی بہت سلیقے سے بڑھایا آپ نے اسٹوری کو رئیلی نائس۔ ’’ف سے فیس بک‘‘ فاخرہ گل آپ کی اسٹوری مزہ دے گئی‘ کافی ہٹ کے لگی۔ ’’صلیب انتظار‘‘ اقبال بانو آپ کی اسٹوری نے تو رُلا دیا‘ کسی کے ساتھ ایسا نہ ہو انتظار بہت بُری چیز ہے ہر انسان کو چاہیے بہت سوچ سمجھ کے کوئی بھی فیصلہ کرے۔ اپنے کان اور آنکھیں ہمیشہ کھلی رکھے‘ نہیں تو انتظار کے ساتھ ساتھ پچھتاوئوں کو بھی گلے لگانا پڑجاتا ہے۔ ’’سانسوں کی مالا پہ‘‘ اقراء صغیر جی (تسی گریٹ او) بہت یونیک سی اسٹوری لکھی‘ آپ نے مزہ دے گئی وہ بھی بھرپور۔ ’’کام کی باتیں‘‘ حریم فاطمہ‘ اریبہ منہاج‘ حنا مہر‘ ہالہ‘ عائشہ سلیم‘ جویریہ ضیاء آپ سب نے کافی معلومات میں اضافہ کیا‘ بہت زبردست باتیں بتائی آپ سب نے۔ ’’ہم سے پوچھئے‘‘ میں پروین افضل‘ عائشہ پرویز‘ شازیہ فاروق احمد‘ میمونہ ناز‘ سمیعہ سیف‘ سندس رفیق‘ مدیحہ نورین‘ لاریب‘ عندلیب آپ سب نے تو دماغ کی صحیح چولیں ہلائیں‘ بہت مزہ آیا پڑھ کے۔ ’آئینہ‘ میں افشاں علی‘ عنبر مجید‘ مونا شاہ قریشی آپ سب کا تبصرہ جاندار تھا۔ یادگارلمحے میں ثناء رسول ہاشمی‘ عائشہ مغل‘ فوزیہ سلطانہ‘ عابد محمود‘ سیدہ لوبا سجاد‘ پروین افضل آپ سب نے لمحوں کو یادگار بنادیا۔ نیرنگ خیال میں نازیہ کنول‘ وجیہہ سحر‘ افشاں شاہد‘ مدیحہ نورین آپ سب نے بہت اعلیٰ لکھا۔ بیوٹی گائیڈ میں ثناء سعد آپ نے بھی کافی معلومات میں اضافہ کیا۔ ڈش مقابلہ میں سحرش فاطمہ‘ نزہت جبین ضیاء‘ طلعت نظامی آپ سب کی ڈشز مزے کی لگیں۔ بیاض دل فضہ جٹ‘ مائرہ جٹ‘ اقراء ماریہ‘ فوزیہ سلطانہ‘ مدیحہ نورین‘ ثمینہ ناز آپ سب کی پسند لاجواب تھی۔ ہومیو کارنر جتنی تعریف کی جائے کم ہے‘ ڈاکٹر طلعت نظامی کافی اصلاحی باتیں بتائیں‘ آپ نے ایک اچھی کاوش ہے۔ اس ماہ کا آنچل بہت لاجواب تھا‘ ہر بہن دوسرے پر بازی لے گئی۔ کہانیوں کے حوالے سے بات کررہی ہوں‘ بہت مزے کی اسٹوریز تھی۔ میری دعا ہے اللہ تعالیٰ آنچل کو تاقیامت ایسے ہی جگمگاتا ہوا رکھے اور ہمیشہ ترقی کی راہوں میں رواں دواں رہے اینڈ پہ آنچل سے وابستہ ہر بہن کے لیے ڈھیروں ڈھیر دعائیں‘ اللہ سب کی پریشانیاں دور فرمائے اور زندگی میں آسانیاں پیدا فرمائے اور سب کو سیدھی راہ پر چلنے کی توفیق دے‘ آمین‘ اللہ حافظ۔
٭ ڈیئر طبیہ! آپ کا مکمل تبصرہ دل میں گھر کر گیا۔ دعا کے لیے جزاک اللہ۔
کنول گل… گجرات۔ السلام علیکم! سویٹ ہارٹ شہلا آپی… خیریت موجود وخیریت مطلوب‘ تعلیم سے فراغت کے بعد گھر کے کام جو کہ نہ ہونے کی برابر ہیں اور اپنی ہابی کے مطابق مختلف لٹریچرز کا مطالعہ کیا لیکن مطلوب لاحاصل‘ آنچل ڈائجسٹ کئی بار نظروں سے گزرا‘ فرینڈز اور کزنز وغیرہ کے ہاں پائے جانے کی وجہ سے لیکن آج پہلی دفعہ اس خوب صورت بلکہ میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔ اس پیارے سے ڈائجسٹ کے لیے پڑھتے ہی آپ کو لکھنے کی جسارت کی ہے‘ ساتھ دیجیے گا۔ میں نے جب یہ ڈائجسٹ پڑھا تو مطلوب حاصل ہوا‘ انٹرٹینمنٹ‘ گائیڈنس‘ غرض تمام سلسلے خوب سے خوب تر ہیں۔ دل سے دعائیں ہیں میری اس ڈائجسٹ کے لیے‘ آپ کے لیے اور تمام معاونین کے لیے۔ وہ کیا کہتے ہیں ناں ذوق اپنا اپنا‘ مختلف لائبریریوں کی چھان پھٹک تو اپنی بچپن سے عادت ہے آج جب اتنا خوب صورت ڈائجسٹ پڑھا تو فیصلہ کیا ہے کہ بھئی میری تو نسلیں اس خوب صورت لٹریچر‘ خوب صورت اندازِ رہنمائی اور خوب صورت تفرح سے فائدہ اٹھائیں گی۔ پہلی نظر میں محبت والا معاملہ ہوگیا ہے‘ آنچل کے ساتھ اہم وجہ خط لکھنے کی ایک یہ بھی ہے کہ آنچل کے سابقہ شمارے مجھے مل سکتے ہیں؟ پتا بتادیجیے گا‘ نیز شعروں میں سے کچھ انتخاب بھی زیر خدمت ہے‘ بتایئے گا پسند آنے نہ آنے کے بارے‘ آپ کی رہنمائی کے لیے مشکور ہوں گی۔ سمیرا شریف طور میری فیورٹ رائٹر ہیں ان کے ناولز میں پڑھ چکی ہوں۔ ’’محبت یقین اعتماد‘‘ بہت بیسٹ ہے‘ آج کل ’’یہ چاہتیں یہ شدتیں‘‘ پڑھ رہی ہوں بلکہ ساتھ میں یہ والا ’’ٹوٹا ہوا تارا‘‘ بھی شامل ہوگیا ہے اب راحت وفا کا بھی انداز بہت خوب ہے‘ اللہ حافظ۔
٭بہت دیر کی مہرباں آتے آتے۔ پرانے ڈائجسٹ کے لیے آفس کے نمبر پر رابطہ کریں۔
رابعہ عمران چوہدری… رحیم یار خان۔ آنچل کا سرورق بہت زبردست لگا‘ سباس گل اور فاخرہ گل کی حمدو نعت بہت خوب صورت اور دل کو سکون دینے والی تھی۔ دانش کدہ ہمیشہ کی طرح ہماری معلومات میں اضافے کا سبب بنا‘ ہمارا آنچل میں مہوش نواز‘ ماریہ کنول‘ ایس گوہر اور ادیبہ ارشد سے ملاقات اچھی لگی۔ نگہت عبداللہ سے باتیں اچھی لگیں‘ میری موسٹ فیورٹ ہیں نگہت عبداللہ۔ سروے میں سب دوست اپنے خوب صورت لفظوں کے ساتھ چھاگئیں۔ اقبال بانو کی تحریر بے حد پسند آئی‘ کتنا کمینہ بن کر جاتا ہے مرد جس راہ پر چلنے کے بعد واپسی کے تمام تر نشانات مٹا ڈالتا ہے عورت کو کہتا ہے کہ وہ انہی مٹے ہوئے نقش پا کو تلاش کرکے اسے تلاشے اور اس تک پہنچے۔ بہت گہرے الفاظ اور بہت خوب صورت اندازِ بیاں‘ ماشاء اللہ۔ ف سے فاخرہ کی فیس بک‘ واہ واہ کمال لکھا‘ لاجواب کردیا۔ ہنس ہنس کے میں تو بس پاگل ہوگئی‘ اتنا زبردست مشاہدہ اور انداز بیاں کا کیا کہنا‘ ویل ڈن۔ آئوٹ کلاس لکھا فاخرہ گل۔ طلعت نظامی کی تحریر اچھی لگی‘ ارتضیٰ کا کردار پوری کہانی میں چھایا رہا‘ سمیرا غزل صدیقی‘ عروسہ عالم‘ عالیہ حرا نے خوب صورت تحریریں لکھیں اور جب پڑھی شبینہ گل کی تحریر تو بے اختیار کہا کہ کمال لکھا۔ ’’گود کی ڈھال‘‘ ہر لفظ لاجواب کرتا ہوا نظر آیا۔ انداز بیاں بے حد مضبوط‘ ویل ڈن ڈئیر‘ تمام سلسلے لاجوب رہے۔ آئینہ میں طیبہ نذیر‘ افشاں علی‘ دلکش مریم کا شکریہ جو میرے لیے تعریفی کلمات ادا کیے ابھی دوستوں مصروفیت کی بنا پر مکمل تبصرہ نہیں لکھا۔ عائشہ پرویز نے آئینہ میں اپنی ماما کی صحت خرابی کا بتایا‘ اللہ پاک ان کو صحت وتندرستی والی زندگی دے‘ آمین۔ باقی سب فرینڈز کو آنچل ٹیم کو میری طرف سے سلام‘ اللہ نگہبان۔
سلمیٰ ناز… لیاری‘ کراچی۔ السلام علیکم! سب سے پہلے تو حمد ونعت سے اپنے دل کو منور کرتی ہوں‘ پہلی دفعہ آپ کی بزم میں شامل ہورہی ہوں۔ 15 سال سے آنچل پڑھ رہی ہوں‘ کبھی خط نہیں لکھ پائی لیکن آج ہمت کی ہے جس تحریر نے لکھنے پر مجبور کیا وہ ہے سمیرا شریف طور کا ناول ’’ٹوٹا ہوا تارا‘‘ اگر آج میں نے قلم نہیں اٹھایا تو سمیرا کے ساتھ ناانصافی ہوجائے گی۔ کیا اس ناول کی تحریر ہے 40 اقساط ہوچکی ہیں‘ اللہ تعالیٰ نظر بد سے بچائے۔ بابا صاحب کے ایک خواب کو لے کر اس نے پورے ناول پر اپنی گرفت مضبوط رکھی‘ اتنی سوچ‘ اتنا شعور‘ اتنا دماغ لڑانا‘ اتنے رشتوں کو ساتھ لے کر چلنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ مارچ کی قسط میں شہوار اور مصطفی کی شاعری نے دل لوٹ لیا‘ کبھی بہنیں تنقید بھی کرتی ہیں‘ تنقید بُری لگتی ہے لیکن یہ سوچیں ہماری یہ بہن میکے کو دیکھنا‘ سسرال کا خیال رکھنا‘ شوہر پر توجہ دینا‘ گھر کو دیکھنا اور اس بیچ ہمارے لیے ٹائم نکال کر کہانی لکھنا‘ دل گردے کا کام ہے۔ ماشاء اللہ اس کا قلم بہت اچھا چلتا ہے‘ میری دیوانگی کا اندازہ اس بات سے لگاسکتی ہیں‘ میرے پاس پورے 40 اقساط کے ڈائجسٹ موجود ہیں‘ میں کبھی اکیلی ہوتی یا بور ہوجائوں تو شروع سے کہانی پڑھنا شروع کردیتی ہوں۔ رائے ضرور دیجیے گا کہ آئندہ میں تبصرہ لکھ سکتی ہوں یا نہیں۔
٭ پہلی بار آمد پر خوش آمدید اور ساتھ ہر ماہ آنے کی تاکید۔
ایس گوہر طور… تاندلیانوالہ‘ فیصل آباد۔ السلام علیکم! آپی شہلا کیسے ہیں آپ؟ آنچل کے تمام قارئین آپ سب کیسی ہیں؟ اللہ سے دعا ہے کہ وہ آپ سب کو خوش رکھے‘ آمین۔ اس بار آنچل 28 کو ملا اور ٹائٹل دیکھ کر میں اتنا خوش ہوئی کہ مت پوچھیے‘ بہت اچھا تھا ٹائٹل‘ سب سے زیادہ خوشی تب ہوئی جب اپنا تعارف دیکھا‘ تھینکس آنچل پھر جلدی سے دوڑ لگائی ’’ٹوٹا ہوا تارا‘‘ کی طرف‘ واہ آپی مزہ آگیا‘ برے لوگوں کا یہی انجام ہوتا ہے۔ میرے خیال میں لالہ رخ بھی زندہ ہے وہ جو ہادیہ کی آنٹی (یعنی ٹیچر) بار بار رابعہ کو دیکھ رہی تھی مجھے پتا نہیں کیوں لگ رہا ہے کہ وہ لالہ رخ ہے۔ ’’شب ہجر کی پہلی بارش‘‘ یار آپی یہ شہرزاد کچھ زیادہ نہیں اوور ہورہی‘ مجھے صیام کے کردار سے بہت عشق ہے میں کسی قیمت پر اسے شہرزاد کو نہیں ملنے دوں گی۔ مجھے ذمہ داریوں کو اپنے کندھوں پر اٹھائے‘ لوگ بہت پسند آتے ہیں خوددار لوگ (گریٹ آپی)۔ ’’موم کی محبت‘‘ بھی اچھی تھی۔ ’’چراغ خانہ‘‘ آپی پلیز پیاری کے ساتھ کچھ برا مت کیجیے گا۔ مکمل ناول سب بہت اچھے تھے‘ افسانوں میں ’’گود کی ڈھال‘‘ بازی لے گیا۔ پر شبینہ بہت اچھا تھا‘ سبق بھی مل گیا اور مزہ بھی آگیا‘ افسانے بھی اچھے تھے۔ یادگارلمحے میں ثمینہ ناز‘ شبانہ امین‘ پروین آپی‘ امامہ اور مشی ان سب کی نگارشات بہت پسند آئیں۔ بیاض دل میں شاہی رحمان‘ اقراء ماریہ‘ ثناء اعجاز‘ نورین مسکان‘ کرن شہزادی اور ندا مسکان کے شعر پسند آئے۔ اس ماہ کا سارا آنچل ہی زبردست تھا‘ اللہ آپ سب کو خوش رکھے‘ آمین۔ اگلے ماہ تک کے لیے اجازت چاہتی ہوں رب راکھا۔
بی بی اسماء سحر… راولپنڈی۔ السلام علیکم! زندگی میں پہلی بار شریک محفل ہوں‘ آنچل کی پرانی قاری ہونے کے باوجود آئینہ میں شرکت کی جسارت کے بارے میں کبھی نہیں سوچا۔ ہم کیا کسی لکھاری خصوصاً آنچل میں لکھنے والیوں کی تعریف یا تنقید کریں گے مگر اس بار جس خوب صورت تخلیق نے قلم اٹھانے پر مجبور کردیا وہ ہے ’’چراغ خانہ‘‘ اس میں تخلیق محبت کے رنگوں کی پاکیزگی ہو یا معاشرے کے ناسوروں کی نوک قلم سے سرجری مزاح اور سبق آموزی کے ساتھ جملوں کی برجستگی موتی نما الفاظ کے خوب صورت چنائو محاوروں اور خوب صورت استعاروں نے تحریر کو چار چاند لگادیئے ہیں۔ بہتے جھرنوں جیسی روانی اور بادلوں کے ساتھ اٹھکھیلیاں کرتے سورج جیسے سسپنس نے تحریر میں خوب دلچسپی پیدا کی ہے۔ اس تحریر کی مصنفہ محترمہ رفعت سراج کو مبارک باد‘ دعا ہے کہ محترمہ کا زور قلم اور زیادہ ہو اور دیگر لکھاری بہنوں کو اسی طرز کی پاکیزہ اور سبق آموز تحریریں لکھنے کی توفیق ہو‘ آمین۔ دیگر تمام سلسلوں کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے مگر ہمارے خیال سے ٹائٹل کی مصور گری میں جدت اور نئے ٹرینڈ کا خیال رکھا جائے تو یہ اور پُر بہار ہوجائے گا‘ فی امان اللہ‘ اللہ حافظ۔
٭ ڈیئر اسما! خوب صورت لفظوں سے سجا آپ کا تبصرہ پسند آیا۔
شمائلہ رفیق… سمندری۔ السلام علیکم! آئینہ میں پہلی بار حاضر خدمت ہوں۔ آنچل کی تعریف یہ کہ آنچل… آنچل ہے چاہے ڈائجسٹ کی صورت میں ہو یا آنچل (دوپٹے) کی صورت میں‘ بناء آنچل کے کوئی بھی حیا کے قریب نہیں لگتی کوئی بھی پاکستانی لڑکی۔ جی تو آنچل کی بات ہو اور ہم بیان کرتے جائیں روک لو ہم بیان شروع ہوگیا۔ چلیں جی اب باری ہے ’’ٹوٹا ہوا تارا‘‘ کی بہت اچھا جارہا ہے‘ مجھے اس طرح کی کہانیاں بہت پسند ہیں جو خاندان کے الجھائو کی وجہ سے دوبارہ بن جائیں۔ درشہوار کا ولید کے گلے لگ جانا بھائی کہہ کر واہ واہ۔ ’’موم کی محبت‘‘ مکالمے جیسی لگتی ہے‘ نازیہ جی گھومانے والی کہانیاں نہ لکھا کریں۔ آپ کو بیٹے کی مبارک باد۔ ابتدائیہ سے لے کر آخر تک رسالہ لاجواب ہوتا ہے آپ سے عرض کرنی تھی کہ کوئی انعامی سلسلہ شروع کریں کیونکہ میرے خیال میں میں بھی مقابلہ جیت سکتی ہوں‘ انعام گھر میں شرکت کرسکتی تھی اگر وہ سمندری میں ہوتا‘ ہاہاہا۔ تمام رائٹرز سدا خوش رہیں‘ آباد رہیں کہ تم سے شان ہے ہماری۔ جیو آنچل صبح و شام دن و رات‘ دوپہر اور سہ پہر۔
٭ڈئیر شمائلہ! مقابلے کے لیے حجاب میں شرکت کریں۔
سنبل ملک اعوان… لاہور۔ تمام اسٹاف ممبر اور قارئین کو میری طرف سے السلام علیکم! آنچل اپریل کا میرے ہاتھ میں ہے سب نے پیغام بھیجے ہیں‘ مگر میں کس کو پیغام دوں میرا کوئی بھی نہیں ہے نہ دوست اور نہ آنٹی۔ ’’تیس ہزار روپے‘‘ نادیہ فاطمہ رضوی کا دل دہلادینے والا افسانہ۔ ’’پیار کی بازی‘ گود کی ڈھال‘ کیک اور سالگرہ‘‘ آنچل کی سالگرہ کے حوالے سے اچھا اور مزے کا افسانہ۔ ’’اے ہم نوا‘‘ نے سوچ کے بہت سے راستے کھولے‘ واقعی ہم کو ڈگریوں اور سفید گائون کی ضرورت نہیں ہوتی اگر ہم کچھ کرنا چاہیں تو خدمت خلق انسانیت کی معراج ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے محبوب بندوں کو ہی منتخب کرتا ہے۔ یہاں میں اللہ پاک کا لاکھ بار شکر ادا کرنا چاہوں گی‘ جس مالک نے مجھے بھی انسانوں کی خدمت کے لیے چنا ہے الحمدللہ۔ سلسلے وار ناولوں میں ’’موم کی محبت‘ ٹوٹا ہوا تارا‘ شب ہجر کی پہلی بارش‘‘ زبردست ناول ہیں۔ ہومیو کارنر‘ بیاض دل‘ ڈش مقابلہ میں پلیز کوفتے بھی شامل کریں (مجھے بنانا نہیں‘ آتے)۔ بیوٹی گائیڈ سے استفادہ کیا ’’نیرنگ خیال‘ دوست کا پیغام آئے‘‘ میرا پیغام ہی شامل نہیں تھا (افسوس)۔ یادگارلمحے‘ آئینہ میں بھی ہم کو آئوٹ کردیا۔ کام کی باتیں‘ کترنیں سب لاجواب‘ جیسے ہی میں بک شاپ پر گئی اور آنچل مانگا تو یہ موٹا تازہ دائجسٹ میرے حوالے کردیا۔ میں دیکھ کر ہی حیران ہوگئی کہ آنچل بھی صحت مند ہوگیا۔ آپ سب سے درخواست ہے کہ میری والدہ کے لیے دعا کریں پلیز اللہ ان کو اولاد کا سکھ دیکھنا نصیب کرے‘ میرے بھائی واپس لوٹ آئیں اپنے آشیانے میں۔ میری دعا ہے کہ آنچل مزید ترقی کرے اور میں بطور مصنفہ اس میں شامل ہوتی رہوں‘ آمین‘ ہاہاہا۔ آنٹی رفعت سراج کا ’’چراغ خانہ‘‘ اچھا جارہا ہے مگر مجھے وہ جملہ بہت اچھا لگا کہ ’’رات کے ڈھائی بجے کا عمل تھا‘ آپا تہجد کے نوافل ادا کرکے خشوع وخضوع کے ساتھ دعا مانگ رہی تھیں‘ اللہ پاک سب کی دعائیں قبول کرے‘ آمین‘ والسلام۔
فریدہ فری… لاہور۔ سویٹ شہلا جی السلام علیکم! اپریل کا آنچل ملا ٹائٹل بے حد دلکش لگا۔ سب سے پہلے اقبال بانو کا افسانہ صلیب انتظار پڑھا‘ واہ کیا افسانہ لکھا ہے‘ بانو جی بے حد سلام دعا۔ ’’سانسوں کی مالا‘ بہاریں جھوم کے آئیں‘ کیک اور سالگرہ‘ تیس ہزار روپے‘‘ نادیہ فاطمہ کی یادگار تحریر لگی‘ خوش رہو فاطمہ جی۔ سوال جواب میں اپنی جانو پروین افضل شاہین کے سوال اور میمونہ ناز کے سوال پسند آئے۔ بس اتنا ہی لکھا جارہا ہے بہت زیادہ بیمار ہوں مگر آنچل سے محبت ہی ایسی ہے لکھے بغیر نہیں رہ سکتی‘ تمام دوستوں کو قارئین کو بے حد دعا اور سلام۔ پروین افضل آپ کا لیٹر پڑھ کر اچھا لگا‘ پرنس بھائی کو بے حد سلام اور دعا۔ اچھا جی اللہ حافظ۔
٭ فری اللہ آپ کو صحت عطا کرے آمین۔
عائشہ پرویز… کراچی۔ السلام علیکم! آنچل کے قارئین کو بہت بہت سلام اور آنچل کی سالگرہ مبارک۔ سب سے پہلے تو شہلا آپی کا شکریہ ادا کروں گی‘ خوش رہیں آباد رہیں۔ مجھ ناچیز کو آپ نے پھر موقع دیا‘ میرا آنچل سے بہت گہرا مضبوط اور خوب صورت رشتہ ہے اور یہ اٹوٹ رشتہ ہے جو کبھی آپ کی رہنمائی میں چھوٹ نہیں سکتا‘ ان شاء اللہ۔ اب آتے ہیں اپریل کے آنچل کی طرف دلہن کا روپ دھارے ماڈل دل پر بجلیاں گرا گئیں۔ حمدونعت سے مستفید ہوکر مشتاق انکل کے دانش کدہ سے فیض یاب ہوئے۔ بہنوں کی عدالت میں نگہت عبداللہ سے مل کر اچھا لگا۔ سلسلے وار ناول میں ’’ٹوٹا ہوا تارا‘‘ سمیرا آپی بہت اچھے طریقے سے اینڈ کررہی ہیں‘ اللہ کرے زور قلم اور زیادہ۔ ’’شب ہجر کی پہلی بارش‘‘ نازیہ آپی کا ناول اپنی مثال آپ ہے پلیز درمکنون اور صیام کو ملادیں۔ ’’موم کی محبت‘‘ راحت آپی کچھ ٹرن لائیں۔ مکمل ناول میں ’’چراغ خانہ‘‘ رفعت آپی بہت عمدہ لکھ رہی ہیں‘ پیاری کا ہیرو عالی جاہ کو بنایئے گا پلیز کیونکہ مجھے دانیال سے زیادہ عالی جاہ پسند آئے۔ ’’سانسوں کی مالا پہ‘‘ اقراء آپی نے مزے دار اسٹوری لکھی آگے شدت سے انتظار ہے۔ ’’ف سے فیس بک‘‘ فاخرہ آپی نے ہمیشہ کی طرح بہت اچھا لکھا کہ انسان سحر زدہ ہوجائے۔ ناولٹ ’’ترے عشق نچایا‘‘ میں نشا کے ساتھ بہت بُرا ہوا ایک نئی آزمائش کا سامنا ہے۔ افسانے تمام ہی بیسٹ تھے اسپیشلی ’’گود کی ڈھال‘‘ شبینہ گل کا اسلوب اور لفظوں کا چنائو بہت منفرد لگا۔ یادگارلمحے تو سارا ہی لاجواب تھا۔ بیاض دل سب کے دل میں بس گئے‘ آئینہ میں سب کے خطوط پڑھ کے مزہ آیا۔ دوست کا پیغام آئے میں حسرت ہی رہتی ہے کہ کوئی پیغام ہمارے نام بھی آئے لیکن ساڈی قسمت‘ چلو جی کوئی گل نہیں۔ ہم سے پوچھئے شمائلہ آپی سب کو ہنساتی‘ ڈانٹتیں نظر آئیں۔ ڈش مقابلہ میں سحرش فاطمہ کی ڈش سویوں کا قلفہ مجھے لالچ دلا گئی۔ نیرنگ خیال اور کام کی باتیں زبردست۔ اچھا تو اب ہم چلتے ہیں‘ اللہ حافظ۔
پروین افضل شاہین… بہاولنگر۔ اس بار سالگرہ نمبر کا سرورق نازیہ علی کے دلکش انداز سے سجا پسند آیا۔ حمدو نعت اور دانش کدہ پڑھ کر ایمان کو تازہ کیا‘ بہنوں کی عدالت میں نگہت عبداللہ کے جوابات مزہ دے گئے۔ سلسلے وار ناولز کے ساتھ ہی ’’چراغ خانہ‘ ف سے فیس بک‘ سانسوں کی مالا پہ‘ تیرے عشق نچایا‘ صلیب انتظار‘ کیک اور سالگرہ‘‘ پسند آئے۔ یاسمین کنول کی والدہ کو اور سمیرا شریف طور کی دادی ساس کو اللہ تعالیٰ جنت الفردوس میں جگہ دے۔ شازیہ فاروق آپ کو اور فریدہ جاوید فری اور عائشہ پرویز کی والدہ کو اللہ صحت دے۔ میں نے اپنے میاں جانی سے کہا کہ ’’ہم دونوں ہی جنتی ہیں۔‘‘ میرے میاں نے پوچھا ’’وہ کیسے؟‘‘ میں نے کہا ’’آپ مجھے دیکھ کر شکر کرتے ہیں اور میں آپ کو دیکھ کر صبر کرتی ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے کہا ہے کہ صابر و شاکر جنتی ہیں۔‘‘
مانو… گوجرہ۔ آداب! طویل غیر حاضری کے لیے معافی‘ سب سے پہلے آنچل کو سالگرہ مبارک ہو‘ بائے دا وے‘ میری بھی سالگرہ تھی یکم اپریل کو۔ ٹائٹل پر آتے ہیں بے حد زبردست جی۔ ’’ترے عشق نچایا‘‘ بے حد زبردست بٹ مونی کو کچھ مت کیجیے گا۔ صبا اور آصف جاہ کی شادی‘ نگار کی بربادی اس بار میرے ساتھ بہت بڑا دھوکہ ہوگیا آپی جی! میرے آنچل کو گنتی بھول گئی‘ صفحات آگے پیچھے تھے۔ آدھی ’’موم کی محبت‘‘ پڑھی اس لیے کچھ سمجھ نہیں آرہی رہی۔ ’’چراغ خانہ‘‘ اُف مانو آپا غلط ٹریک پر جارہی ہیں اور دانیال کی مدد کا بھی اللہ ہی حافظ ہے۔ ’’ٹوٹا ہوا تارا‘‘ اینڈ چل رہا ہے فیضان بھی مل گیا‘ بابا صاحب کو۔ انا اور ولید کی شادی ہوگی‘ حماد صاحب چھٹی کریں۔ ’’شب ہجر کی پہلی بارش‘‘ پر شہرزاد خوش فہمی میں مبتلا ہورہی ہے (صیام کو اس سے محبت) اور ابھی ماضی کھل رہا ہے باقی تبصرہ ادھار رہا‘ اپنا خیال رکھیے گا‘ اللہ حافظ۔
اسماء نور عشاء… بھوج پور۔ السلام علیکم! کیسے مزاج ہیں شہلا جی؟ اپریل کا ٹائٹل اگر اچھا نہیں تھا تو برا بھی نہیں تھا۔ حمدونعت پڑھ کر ہمیشہ کی طرح دل کو سکون آگیا۔ ’’ٹوٹا ہوا تارا‘‘ بہت خوب صورت ناول‘ سب کچھ اچھا ہوتا جارہا ہے بس ولید اور انا ایک ہوجائیں تو کیا ہی بات ہے۔ نازیہ جی شہرزاد کی غلط فہمی دور کریں‘ فاخرہ جی آپ کا ہر ناول سبق آموز ہوتا ہے۔ ’’ترے عشق نچایا‘‘ اس ناول کی تعریف کے لیے میرے پاس الفاظ نہیں‘ ویل ڈن نگہت جی۔ ابھی بھی ہمارا دل چاہتا ہے کہ نشاء احسن کی ہوجائے حالانکہ ہم یہ جانتے ہیں اب یہ بات غلط ہے۔ ’’صلیب انتظار‘ گود کی ڈھال‘ ف سے فیس بک‘ بہاریں جھوم کے آئیں‘ اے ہم نوا‘ پیار کی بازی‘ کیک اور سالگرہ‘ تیس ہزار روپے‘‘ سب ایک سے بڑھ کر ایک تھے۔ بیاض دل میں حمیرا قریشی کا شعر دل کو بھایا۔ یادگارلمحے میں عابد محمود اینڈ میمونہ ناز مونا نے بہت اچھا لکھا۔ تمنا بلوچ آپ کو شادی بہت بہت مبارک ہو‘ اللہ سے دعا ہے آپ کی ازدواجی زندگی بہت اچھی‘ خوشگوار گزرے‘ آمین۔
سمیہ کنول… مانسہرہ۔ السلام علیکم! پیارے پیارے سویٹ دوستو‘ کیسے ہو سب؟ آپ سوچ رہے ہوں گے یہ کیا پیپرز اتنی جلدی ختم؟ نہ نہ جی ابھی تو ہوئے ہی نہیں آج آف تھا تو سوچا کیوں نہ آنچل میں خط لکھوں‘ پر لکھوں کیا بیاض دل پڑھا (سارے مستقل سلسلے پڑھے ہیں گھر والوں سے چھپ چھپاکے)۔ کرن شہزادی کا شعر اچھا لگا‘ مدیحہ نورین آپ کے نام تو بہت کچھ لکھ سکتے ہیں پر شائع نہیں ہوتا۔ نیرنگ خیال میں مدیحہ نورین مہک کی نظم اچھی لگی۔ بالوں کی حفاظتی تدابیر پڑھی پر عمل نہیں کرنا (آل ریڈی پیارے ہیں ہاہاہا)۔ شاہی رحمان آپ کو بہت مبارک ہو شادی کی (سب مبارک دو نہ) اینڈ سمیرا سواتی تھینک یو پھر ملاقات ہوگی خوش رہیں اور دوسروں کو خوش رکھیں‘ پاکستان زندہ باد‘ اللہ حافظ۔
مشی خان… مانسہرہ۔ السلام علیکم شہلا آنی! کیسی ہیں اور باقی آنچل ممبرز کیسے ہیں؟ اس دفعہ آنچل 28 کو ملا‘ بھاگم بھاگ کھول کر دیکھا اپنا نام دیکھ کر خوشی ہوئی۔ سب سے پہلے ’’اک شمع فروزاں‘‘ میں سب کے جوابات پڑھے‘ سب نے کچھ الٹے سیدھے جوابات دیئے۔ سوائے میرے اور کرن شہزادی کے خوش فہمی‘ اقراء ماریہ نے پہلے دو سوالوں کے جوابات سیم میرے جیسے دیئے‘ اچھا لگا جان کر۔ پھر موسٹ فیورٹ ’’ٹوٹا ہوا تارا‘‘ پڑھا بہت ہی زبردست قسط تھی۔ کاشفہ اور دریہ کو سزا ضرور ملنی چاہیے تھی سو مل گئی۔ رابعہ کو باپ مل گیا‘ شہوار کو ولید بھائی مل گیا‘ اب لگتا ہے کہانی اینڈ کی طرف گامزن ہورہی ہے۔ باقی کہانیاں پڑھی نہیں سو کیا تبصرہ کروں۔ باقی سلسلے اچھے تھے یادگارلمحے میں ثمینہ ناز‘ پروین افضل‘ مسرت بشیر نے سب لمحوں کو یادگار بنا ڈالا۔ بیاض دل میں شاہی رحمان‘ نوشین‘ کرن شہزادی‘ حنا فرمان کے اشعار پسند آئے۔ آئینہ میں مونا شاہ قریشی کا تبصرہ میرے دل کو چھو گیا‘ ویسے تو ان کی ہر بات مجھے اچھی لگتی ہے‘ اور اب اجازت چاتی ہوں زندگی نے وفا کی پھر اگلے ماہ حاضر ہوں گی‘ ان شاء اللہ۔
مہناز یوسف… اورنگی ٹائون‘ کراچی۔ اس بار کا آنچل میرے لیے خوشیوں کی نوید لایا‘ درجواب آں پڑھ کر معلوم ہوا کہ میری تحریریں جلد ہی شائع کردی جائیں گی۔ اس کے علاوہ سروے میں بھی میں موجود تھی‘ ہم سے پوچھئے میں بھی مجھے جگہ دی گئی اور آئینہ میں بھی شریک محفل کیا گیا‘ آپ کا بے حد شکریہ۔ سرورق بے حد خوب صورت تھا پر ماڈل کا صرف چہرہ ہی دکھایا جاتا ہے اکثر آنچل کے ٹائٹل پر۔ ہر مہینے کچھ مختلف ہونا چاہیے۔ ’’سانسوں کی مالا پہ‘‘ بے حد خوب صورت تحریر لگی‘ امید ہے کہ آئندہ ماہ بھی دلچسپی برقرار رکھ سکے گی یہ تحریر۔ ’’چراغ خانہ‘‘ خاصا دلچسپ ہوتا جارہا ہے لیکن یہ تحریر اس بار قدرے مختصر تھی۔ ’’گود کی ڈھال‘‘ شبینہ گل نے اتنے زیادہ حساس موضوع کو تحریر کیا ہے کہ داد نہ دینا زیادتی ہوگی۔ آج کل کی ماں مقابلے کی دوڑ میں خود بھی بھاگ رہی ہے ساتھ ہی بچوں کو بھی تھکا رہی ہے۔ بچوں کا بچپن تو جانے کہاں کھوگیا ہے‘ تین سال کے ہوتے نہیں کہ اسکول میں ڈال دیا جاتا ہے۔ جتنی زیادہ فیس اتنی اچھی پڑھائی بہرحال انہوں نے بہت پیاری تحریر لکھی ہے۔ آج کل بچیاں تو کیا لڑکوں کا بھی خیال رکھنا بے حد ضروری ہے۔ ’’ف سے فیس بک‘‘ زبردست ناول تھا اور ’’صلیب انتظار‘‘ بھی بہترین‘ اللہ حافظ۔
مسز امتیاز… السلام علیکم شہلا جی پہلی بار شرکت کی ہے امید ہے آئینہ خانے میں جگہ ضرور ملے گی۔ جی اب آتے ہیں آنچل کی طرف تو سب سے پہلے حمدو نعت پڑھ کر دل کو سرور آگیا پھر جلدی سے چھلانگ لگائی اور مشتاق احمد کی تحریر پڑھ کر خوش ہوگئے مجھے مدیرہ جی کے جواب اور شمائلہ جی کے جواب بہت متاثر کرتے ہیں۔ اب آتی ہوں ناولوں کی طرف تو ’’ٹوٹا ہوا تارا‘‘ میں انا کے ساتھ جو سلوک ہوا ہم بہت پریشان ہوئے پلیز سمیرا جی آپ انا کو سب حقیقت بتانے دیں اور شہوار کا کردار مجھے بہت بھایا۔ ’’موم کی محبت‘‘ میں پلیز اب زیبا کے ساتھ کچھ اور برا مت کیجیے‘ غلطی انسانوں سے ہوجاتی ہے باقی سب رائٹرز بہت اچھا لکھتی ہیں کیونکہ میں کسی کا دل نہیں توڑتی۔ کسی ایک کا نام لے کر جو بھی رائٹرز لکھتی ہیں ان کا دل کہتا ہے کہ اچھا لکھوں اسی لیے جتنے بھی ناول افسانے ناولٹ پڑھے مجھے سب پسند ہیں‘ اچھا اب اجازت چاہوں گی اس دعا کے ساتھ کہ رب کریم ہماری پاک سرزمین ہمارے پاکستان اور ہماری سب مائوں بہنوں کی حفاظت کرے‘ ہم سب لڑکیوں کو ماں باپ اور شوہر کی عزت رکھنے والا بنائے‘ آمین ثم آمین۔
٭ خوش آمدید… اور آیندہ اپنے شہر کا نام لکھنا نہ بھولیے گا۔
مدیحہ نورین مہک… برنالی۔ آداب عرض ہے آپی جی سالگرہ نمبر بہت ہی اچھا لگا ماڈل کا میک اپ اچھا لگا۔ نعت اور حمد میں سباس گل اور فاخرہ گل نے اپنے لفظوں کے جادو سے دلوں کو منور کیا‘ ماشاء اللہ بیاض دل میں جیا آپی‘ حنا فرحان کے اشعار پسند آئے۔ نیرنگ خیال میں آنچل کے لیے لکھا گیا سب اچھا لگا اور اپنی نظم دیکھ کر بہت خوشی ہوئی مجھے‘ دوست کا پیغام آئے میں اپنوں کی محفل بھرپور تھی خوشیوں بھری۔ یادگارلمحے میں سب کے ارسال کردہ مواد اچھے تھے۔ آئینہ میں تبصرے پہ تبصرے بہت خوب رہا۔ ہم سے پوچھئے میں شمائلہ آپی میری شادی نہیں ہوئی اور آپ ایسے جواب دیتی ہیں کہ میں شادی شدہ ہوں‘ ہاہاہا‘ پلیز آئندہ خیال رکھیے گا۔ طیبہ نذیر آپ نے میری وجہ سے قہقہہ لگایا وائو جی۔ حبا اعوان آپ کا شکریہ میرے اشعار پسند کرنے کا۔ سمیہ کنول بہنا اللہ سے دعا ہے آپ کو کامیاب کریں‘ آپ بھی مجھے دعا میں یاد رکھیے گا۔ سلسلے وار تحاریر کے علاوہ فاخرہ گل‘ عالیہ حرا‘ رفعت سراج‘ اقراء کی تحاریر اچھی لگیں تمام پڑھنے والوں کو سلام‘ اپنا خیال رکھیے گا اور دعائوں میں یاد رکھیے گا‘ رب راکھا۔
ندا علی عباس… سوہاوہ‘ گجر خان۔ السلام علیکم قارئین کیسی ہیں سب؟ امید ہے ٹھیک ٹھاک ہوں گی۔ اس بار اپریل کا شمارہ بہت لیٹ ملا‘ سب سے پہلے ہمیشہ کی طرح ’’ٹوٹا ہوا تارا‘‘ کی طرف دوڑ لگائی۔ استانی جی کی نئی انٹری‘ مجھے لگتا ہے یہ لالہ رخ ہوں گی۔ سمیرا آپی انا اور ولید کی شادی دھوم دھام سے کرنی ہے۔ ہاں یہ جو چپکے چپکے شادی کی تیاریاں ہورہی ہیں نا یہ میرے خیال سے انا اور ولید کی ہی ہے۔ انا بے چاری کو خوامخواہ تنگ کیا جارہا ہے۔ ’’شب ہجر کی پہلی بارش‘‘ نازو آپی پلیز سدید کو کچھ مت کیجیے گا‘ مجھے لگتا ہے آپ عائلہ کو زاویار سے جوڑنے والی ہیں۔ ’’ترے عشق نچایا‘‘ نگہت آپی‘ محسن کو جلدی سے واپس لے آیئے نشاء بے چاری بہت پریشان ہے۔ ’’چراغ خانہ‘‘ رفعت آپی دانیال کو پیاری ہی ملنی چاہیے ان کو الگ مت کیجیے گا اور مشہود میاں کب واپس آئیں گے۔ اقراء آپی اس بار بھی دل لوٹ لیا تبصرہ ادھار رہا۔ طیبہ نذیر‘ حبا اعوان آپ دونوں کو میری شاعری پسند آئی یقین کرو مجھے خود پتا نہیں میری غزل لگی ہے۔ آپ دونوں کے خطوط سے مجھے پتا چلا سچی‘ اینڈ شکریہ۔ سب کو سلام۔
انعیم زرین‘ سارہ زرین… چکوال۔ السلام علیکم! ڈئیر آنچل اسٹاف‘ ہر دلعزیز رائٹرز اور سویٹ قارئین بہنوں کو ہمارا محبت بھرا سلام قبول ہو۔ امید ہے سب ہی خیر و عافیت سے ہوں گے‘ اس دفعہ کا سالگرہ نمبر واقعی بمباسٹک‘ فنٹاسٹک‘ سوپر ڈوپر تھا۔ ایک سے بڑھ کر ایک مزے دار کہانی‘ تبصرے‘ سروے واہ‘ سب کچھ مکمل۔ کہیں کوئی کمی نہیں چھوڑی‘ خوب تیاریوں سے سجا آنچل ہمارے ہاتھوں میں ہے۔ ٹائٹل ہمیشہ کی طرح خوب صورت‘ شازو نادر ہی ایسا ہوا کہ ہمیں ٹائٹل پسند نہ آئے۔ سب سے پہلے قیصر آنی کی سرگوشیاں سنیں پھر حمدو نعت سے ایمان کومنور کیا۔ اس کے بعد درجواب آں میں داخل ہوئی۔ سمیرا شریف ہماری طرف سے تعزیت قبول کیجیے‘ یاسمین کنول آپ کے لیے یہ بہت بڑا سانحہ ہے‘ ہماری طرف سے تعزیت۔ صندل‘ سونیا‘ عائشہ آپ کا غم دل سے محسوس کیا ہے اللہ آپ کو صبر عطا فرمائے۔ عقیلہ رضی آپ کو ہماری طرف سے ایک پُرمسرت زندگی کی مبارک باد۔ ہمارا آنچل میں مہوش نواز‘ ماریہ کنول‘ ایس گوہر‘ ادیبہ ارشد سب ہی کا تعارف مزہ دے گیا۔ آخرکار نگہت عبداللہ بہنوں کی عدالت میں پہنچ ہی گئیں‘ پڑھ کر مزہ آیا۔ سروے میں افشاں علی‘ طیبہ نذیر‘ میزاب‘ اقراء ماریہ‘ شمع مسکان‘ کرن شہزادی کو پڑھ کر اچھا لگا۔ اس دفعہ سلسلے وار کہانیوں کا جیسے تانتا ہی بندھ گیا لیکن بُرا نہیں لگا کیونکہ بورنگ نہیں ہیں۔ ’’ٹوٹا ہوا تارا‘‘ کی اس دفعہ کی قسط خاصی جاندار تھی‘ آخر کار بابا صاحب نے حقیقت سب کو بتادی۔ دریہ کا ایک جیل کا چکر لگتا تو مزہ آتا لیکن وہی خاندان کی عزت کی وجہ سے اسے رعایت ملی۔ عبدالقیوم کے لیے سچ میں مکافات عمل ہے۔ شہوار کو یہ پتا لگنا کہ ولید اس کا بھائی ہے اس کا ملنا ایک ایموشنل سین تھا۔ ’’شب ہجر کی پہلی بارش‘‘ میں اُف… تینوں ایک سے بڑھ کر ایک ہیں کسی کو بھی کسی کے دل کا حال نہیں معلوم۔ ’’ترے عشق نچایا‘‘ کندن لگتی تو ایک بے ضرر سی لڑکی ہے نجانے آگے چل کر خطرہ بنتی ہے یا خطرہ سے بچنے کا ذریعہ۔ ’’سانسوںکی مالا پہ‘‘ پہلی قسط دلچسپ تھی۔ ’’چراغ خانہ‘‘ میں کہیں عالی جاہ ہی تو نہیں جس نے مشہود کو اغوا کیا ہے اگر ہاں تو اسٹوری بڑی زبردست ہوجائے گی۔ ’’تیس ہزار روپے‘‘ ہمارے معاشرے کا ایک کڑوا سچ ہے۔ ’’پیار کی بازی‘‘ عالیہ حرا میں ذاتی طور پر آپ کی ہم خیال ہوں ایسا لگا میرے خیال کو آپ نے لفظ پہنا دیئے‘ کہانی پڑھ کر ازحد خوشی ہوئی۔ ’’گود کی ڈھال‘‘ شبینہ کی ایک اچھی کہانی تھی۔ آخری سین دل کو چھولینے والا تھا‘ عائزہ کی معصوم دعائیں بے ساختہ پیار آگیا۔ دوست کا پیغام آئے میں تمنا بلوچ‘ فریدہ جاوید فری‘ اقصیٰ کشش‘ تانیہ جہاں کے پیغام اچھے لگے۔ یادگارلمحے میں ثناء رسول‘ مسرت شبیر مغل‘ عائشہ پرویز‘ ثمینہ ناز‘ سعدیہ رمضان کے انتخاب پسند آئے۔ نیرنگ خیال میں سباس گل کی نظم پسند آئی۔ ہم سے پوچھئے‘ میں پروین افضل‘ عروج ناز‘ عائشہ پرویز‘ ثمینہ ناز کے سوالات پسند آئے۔ آخر میں ایک بار پھر آنچل کو سالگرہ کی ڈھیروں مبارک باد۔ دعا ہے آنچل کا سفر ہمیشہ کامیابی وکامرانی کے ساتھ عروج کی طرف گامزن رہے‘ اگلے ماہ تبصرے کے ساتھ حاضر ہوں گی‘ اللہ نگہبان۔
٭خوش آمدید!
عظمیٰ شفیق… جڑانوالہ۔ آنچل ڈائجسٹ کی محفل میں پہلی بار آئی ہوں‘ سرورق بہت خوب صورت لگا کہ بس۔ تعارف ادیبہ ارشد اور فرحت اشرف گھمن کا اچھا لگا۔ مکمل ناول میں ’’چراغ خانہ‘‘ بہت زبردست ہے۔ فاخرہ گل کا ناول بھی بیسٹ تھا۔ افسانوں میں ’’بہاریں جھوم کے آئیں‘‘ میں شاداب پر بہت غصہ آیا‘ نادیہ فاطمہ کا افسانہ بھی لاجواب تھا نمبرون افسانہ شبینہ گل کا تھا‘ ویل ڈن۔ فائزہ جیسی بے پروائی برتنے والی مائوں کے لیے بہترین سبق تھا‘ ناولٹ ’’اے ہم نوا‘‘ بھی خوب رہا۔ سروے میں مہناز یوسف اور سلمیٰ عنایت حیا کے جوابات پسند آئے۔ تبصرہ نورین مہک کا اچھا لگا جو کہ ہمیشہ لگتا ہے‘ فوزیہ سلطانہ کا شعر اچھا تھا‘ اب اجازت دیں۔
حمیرا نوشین… منڈی بہائو الدین۔ السلام علیکم! خیریت بخیریت احوال آنکہ‘ بہت دنوں کے بعد آئینہ کے روبرو ہوئی ہوں اب پتا نہیں رخ تحریر کو برداشت کرپائے گا یا نہیں بہرحال امید کی لودل میں جلائے مختصر سے تبصرے کے ساتھ حاضر ہوں۔ من موہنی سی دوشیزہ حسین جیولری شوخ پیراہن اور سر پر آنچل سجائے نجانے کس کو مسکراتی نظروں سے دیکھ رہی تھی۔ سب سے پہلے دو گلوں (فاخرہ گل‘ سباس گل) کے لفظوں سے مہکتی حمدو نعت سے فیض یاب ہوئے۔ درجواب آں میں ماشاء اللہ بہت سی بہنوں کی قیصر آراء آپی نے حوصلہ افزائی کرتے ہوئے تحاریر کی اشاعت کی نوید سنائی۔ سب سے پہلے اپنی دوست شبینہ گل کی تحریر کی جانب نظروں نے رخ کیا‘ اُف شبینہ! آپ کی تحریر نے مائوں کے دل ودماغ کو جھنجھوڑ ڈالا۔ یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ اب ایسا دور آگیا ہے جب مائوں کو خواب میں بھی چشم وا رکھنی پڑتی ہے۔ بہت سبق آموز تحریر تھی میرے تو رونگٹے کھڑے ہوگئے‘ زبردست۔ شبینہ گل سے دوسرے گل کے پاس پہنچے تو ف سے فاخرہ اور ’’ف سے فیس بک‘‘ نے دل پر چھائی اداسی و کثافت کو دھو ڈالا۔ واہ فاخرہ جی! جو جو آپ نے لکھا میں نے یوں جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے‘ پُر اثر و پُر لطف تحریر۔ رفعت سراج کی ’’چراغ خانہ‘‘ تسلسل کے ساتھ آگے کی طرف گامزن ہے ہر قسط میں ان کے قلم کا سحر قاری کو بری طرح جکڑلیتا ہے۔ نادیہ فاطمہ رضوی کی ’’تیس ہزار روپے‘‘ پڑھ کر دل دکھ سے بھرگیا۔ آج کے دور میں رشتوں سے خلوص‘ وفاداری‘ رحم دلی سب عنقا ہوچکی ہے۔ فی الحال یہی کہانیاں پڑھ پائی ہوں بوجہ پرنسپل اپنے عہدے کی ذمہ داریاں اور کچھ ناسازی طبع مطالعے میں حائل ہورہی ہے۔ نیرنگ خیال میں نازیہ کنول نازی کی نظم کو نجانے کتنی مرتبہ دہرایا۔ ایک ایک لفظ ایک ایک سطر دل سے لکھی ہوئی۔ یادگارلمحے میں سب نے بہت عمدہ مراسلات بھیجے سبھی بہترین تھے خاص طور پر میمونہ ناز کا۔ آئینہ میں قاری بہنیں بہت عمدہ و جامع تبصرہ کرتی ہیں‘ مونا قریشی اور افشاں علی کے تبصرے بھائے‘ خوب صورت لفاظی نے تبصروں کا حسن دوبالا کردیا۔ میری طرف سے تمام آنچل قارئین اور ادارۂ کارکنان کی خدمت میں ہدیہ خلوص۔
٭ڈیئر حمیرا! آپ کا شگفتہ و برجستہ انداز میں لکھا تبصرہ پسند آیا۔
افشاں علی… ای میل۔ محبت کی جاشنی میں ڈوبا پر خلوص سلام الفت قبول ہو۔ سالگرہ ایک خاص دن، ہماری زندگی کے لیے دعاؤں کا، تحائف کا ایک خاص تہوار۔ بالکل ویسے ہی آنچل کا سالگرہ نمبر ہاتھ میں آتے ہی باہرکے سرورق سے اندازہ ہو گیا کہ سالگرہ نمبر خاص الخاص ہوگا اور آنچل کو پھیلائے اس میں جھلملاتے ستاروں کو دیکھا بے ساختہ سراہنے کو جی چاہا اور ہم ایک بار پھر سے آنچل کے سنگ محبتوں کے دھنک رنگ لیے آئینہ میں افشاں بکھیرنے چلے آئے۔ میٹھی میٹھی سرگوشیاں سنیں اور پھر سباس آپی اور فاخرہ آپی کی لکھی گئی حمد اور نعت سے مستفید ہوتے آگے بڑھے تو سالگرہ کا دعائیہ تحفہ بطور جواب منتظر ملا، اتنے پرخلوص اپنائیت بھرے انداز و محبت کے لیے تہہ دل سے مشکور ہیں اور ساتھ ہی ہمارے خط و سروے کو شامل محفل کرنے کے لیے بہت بہت شکریہ آپی! نگہت آپی سے کیے گئے سوالات کے پیارے سے جوابات پڑھ کے مزہ آیا۔ اک شمع فروزاں ہے سبھی بہنوں کے سروے بہت پسند آئے۔ سالگرہ نمبر کا خوب صورت سا سرپرائز اقرا صغیر احمد کی آمد کے سنگ ملا اتنا زبردست ناول واؤ مزہ آگیا مگر باقی آئندہ کا انتظار پھر سے طویل ۲۰ دن پر محیط ہوگیا۔ ف سے فاخرہ گل نے ’’ف سے فیس بک‘‘ ف سے فیبولس لکھا۔ اقبال بانو جب بھی لکھتی ہیں ہمیشہ بہت خوب لکھتی ہیں۔ آزر نے جو کیا بہت غلط کیا اور خیال آیا بھی تو ۱۳ سال بعد، مگر وہیں شادو کا کیا گیا فیصلہ حق بجانب تھا۔ طلعت نظامی سبق دیتے ’’ہم نوا‘‘ کے سنگ نظر آئیں۔ ’’بہاریں جھوم کے آئی‘‘ اور ’’کیک اور سالگرہ‘‘ ہلکے پھلکے افسانے اچھے رہے۔ شبینہ گل کو پہلی بار پڑھنے کا اتفاق ہوا‘ بہت اچھا سبق دیتا افسانہ لکھا‘ واقعی بچے کے لیے ماں کی گود سے بڑھ کے اور کوئی ڈھال نہیں۔ عالیہ حرا کا افسانہ بھی ہلکے پھلکے موضوع کے سنگ تھا۔ اس ماہ کا شاندار افسانہ ’’تیس ہزار روپے‘‘ بہت ہی عمدہ تحریر۔ معذرت کے ساتھ ابھی سلسلے وار ناول پڑھے نہیں۔ ہومیو کارنر اس بار کافی کارآمد معلومات سے بھرپور تھا۔ ڈش مقابلہ میں اتنی مزے مزے کی ڈشیں واہ کیک تو ٹرائے کرنے سے رہے سو ہم نے آمنہ نور کی بتائی گئی ریسیپی ٹرائے کی شکریہ آمنہ۔ بالوں کے بارے میں بیوٹی گائیڈ کارآمد تھی۔ نیرنگ خیال میں سبھی کی شاعری پسند آئی جبکہ آئینہ میں مونا شاہ، گل مینا، طیبہ نذیر، عائشہ پرویز ان سب کا عکس خوب جھلملایا۔ جاتے جاتے ایک بات کہنا چاہوں گی، آنچل میں ہر اسٹوری کی مناسبت سے لکھا گیا شروعاتی شعر ہر بار دل کی سند پہ براجمان ہو جاتا ہے۔ اب ڈھیر ساری دعاؤں کے سنگ اجازت چاہوں گی پھر حاضر محفل ہوں گے۔
٭ اب اس دعا کے ساتھ اگلے ماہ تک کے لیے رخصت کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہمیشہ ناگہانی آفات و مصائب سے محفوظ رکھے‘ آمین۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close