Aanchal Mar 16

ٹوٹا ہوا تارا(قسط نمبر40)

سمیرا شریف طور

ہم عجب مسافر دشت تھے جو چلے تو چلتے چلے گئے
کسی آب جو کی صدا پہ بھی کہیں راستے میں رکے نہیں
کئی اور اہل طلب ملے مجھے راہ شوق میں ہم قدم
جنہیں کر رہا تھا تلاش میں وہی لوگ مجھ کو ملے نہیں

(گزشتہ قسط کا خلاصہ)
ایاز شہوار پر تشدد کی انتہا کرتے اس کی گود اجاڑ دیتا ہے۔ مصطفی انتہائی طیش کے عالم میں ایاز کے ٹھکانے پر پہنچنے میں کامیاب ہوجاتا ہے اور امجد خان اور دیگر ساتھیوں کی مدد سے ایاز کی فرار کی تمام راہیں مسدود کردیتا ہے۔ مصطفی شہوار کی بگڑی حالت کے پیش نظر اسے اسپتال منتقل کرتا ہے جبکہ پیچھے پولیس ان کائونٹر میں ایاز اپنے آخری انجام کو پہنچتا ہے۔ ہمایوں نے اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لیے سکندر کو اغوا کرلیتا ہے۔ ایسے میں لالہ رخ اسے چھڑانے کی خاطر جائیداد کے کاغذات لیے وہاں پہنچتی ہے لیکن ہمایوں اپنی بات سے منکر ہوجاتے ہے اور اسے بھی قید کرلیتا ہے۔ سکندر اور اس کی بیٹی رابعہ کو مار دینے کا حکم دے کر وہ لالہ رخ کو نئے مقام پر منتقل کرکے پرسکون ہوجاتا ہے لیکن لالہ رخ ملازمہ کی مدد سے رات کے اندھیرے میں وہاں سے بھاگنے میں کامیاب ہوجاتی ہے یہ ناکامی ہمایوں کو مشتعل کردیتی ہے۔ جب ہی لالہ رخ کو مارنے کی خاطر اس کے گھر کو جلا دینے کا حکم صادر کرتا ہے۔ دوسری طرف اس گھر میں افشاں عائشہ کے ساتھ موجود تھی ان لوگوں کی باتیں سن کر وہ وہاں سے بھاگنے میں کامیاب ہوجاتی ہے جب ہی تیز رفتار گاڑی سے اس کی ٹکر ہوتی ہے اور وہ ہوش وخرد سے بے گانہ ہوجاتی ہے۔ دوسری طرف ضیاء گھر کو جلتے دیکھ کر حیرت زدہ رہ جاتا ہے۔ بعد میں ایک عورت اور بچوں کی جلی ہوئی لاشیں دیکھ کر افشاں کی زندگی سے مایوس ہوکر وہ بیرون ملک شفٹ ہوجاتا ہے اور عیسیٰ کا نام ولید رکھ دیتا ہے اور یوں اس اذیت ناک حادثے کے بعد ماضی وقت کی دھول میں گم ہوجاتا ہے۔ ولید مصطفی کی زبانی تمام حالات جان کر شاکڈ رہ جاتا ہے انا کی شکی طبیعت پر شدید خائف ہوتے وہ سارے معاملے کے متعلق انا سے باز پرس کرتا ہے اور شدید طیش کے عالم میں اس کا ہاتھ انا پر اٹھ جاتا ہے۔ کاشفہ سے مل کر انا کو دھمکیاں دینے کے حوالے سے سخت سست سناتا ہے جبکہ کاشفہ ولید کا یہ تحقیر آمیز انداز اور تھپڑ برداشت نہیں کرپاتی اور انتہائی خراب حالات میں گھر پہنچ کر ہوش وخرد سے بے گانہ ہوجاتی ہے۔ عادلہ ایک طرف کاشفہ کی ابتر حالت پر متفکر ہوتی ہے ایسے میں ایاز کی ڈیڈ باڈی دیکھ کر اس کے اوسان خطا ہوجاتے ہیں جب ہی پولیس کے آدمی گھر کی تلاشی میں مشغول ہوجاتے ہیں۔ مسز عبدالقیوم جوان بیٹے کی موت کے صدمے سے ڈھے جاتی ہیں جبکہ عبدالقیوم ملک سے باہر ہواتا ہے۔ مصطفی تابندہ بی کی تلاش میں کامیاب رہتا ہے اور انہیں اسپتال لے آتا ہے وہاں شہوار کی سیریس کنڈیشن دیکھ کر تابندہ بی آبدیدہ ہوجاتی ہیں دیگر گھر والوں کے لیے بھی تابندہ بی کی موجودگی حیرت انگیز ہوتی ہے۔ انا ایاز عبدالقیوم کی موت کی خبر پڑھ کر چونک جاتی ہے جب ہی باقی سب گھر والے بھی مصطفی کے ساتھ گزرنے والے اذیت ناک حادثے سے آگاہ ہوتے ہیں ایسے میں صبوحی بیگم بھی انا کے ہمراہ اسپتال پہنچ جاتی ہیں اور وہاں تابندہ بی کے روپ میں افشاں کو دیکھ کر وہ شاکڈ رہ جاتی ہے ہیں۔
(اب آگے پڑھیں)
ء…/…ء
نجانے کون سی قوت تھی جو اسے بھگارہی تھی۔ وہ ذیلی سڑکوں سے نکل کر بڑی سڑک پر آگئی تھی لیکن اس کی رفتار پھر بھی کم نہ ہوئی وہاں اکا دُکا گاڑیاں آجارہی تھیں۔ اسے لگ رہا تھا کہ وہ لوگ اس کے تعاقب میں ہیں۔ وہ اسے اور عائشہ کو بھی آگ میں دھکیل دیں گے تبھی اندھا دھند بھاگتے وہ بہت زور سے مخالف سمت سے آتی ایک تیز رفتار گاڑی سے ٹکرا گئی تھی۔ عائشہ اس کے بازو سے نکل کر کہیں دور جاگری تھی۔ وہ سخت پتھریلی زمین پر گرتے ہی رونے لگی جبکہ گاڑی اسے کچل کر تیزی سے آگے جاکر بے اختیار رکی تھی۔
ء…/…ء
سکندر اور بچی کو لے کر وہ نہر کنارے چلے آئے تھے۔ وہ تین لوگ تھے انہوں نے کھینچ کر گاڑی سے سکندر کو نکالا تھا‘ سکندر کا جسم بری طرح مجروح تھا جگہ جگہ زخم تھے یوں جیسے بہت بے دردی سے مارا گیا ہو۔ وہ بے ہوش تھا‘ ایک آدمی نے روتی بلکتی بچی کو تھام رکھا تھا۔
’’ان دونوں کو مار کر نہر میں پھینک دو‘ جلدی کرو۔‘‘ ان کے ایک ساتھی نے دوسرے سے کہا تھا۔
’’یہ تو پہلے ہی مرا ہوا ہے اس کو اور کیا مارنا‘ ایسے ہی پھینک دیتے ہیں۔‘‘ ایک اور ساتھی نے کہا تھا۔
’’باس سے شامت بلوانی ہے کیا جو ایسے ہی پھینک دیتے ہیں بچ گیا تو اور مصیبت ہوگی۔‘‘ دوسرے نے ڈانٹ کر پہلے کو کہا تھا۔
اس کے کہنے پر اس آدمی نے بے ہوش سکندر کو زمین پر ڈال دیا اور گولی اس کے وجود میں اتاردی تھی۔ بندوق چلنے کی آواز دور دور تک سنائی دی تو اندھیرے میں جیسے ایک شور بلند ہوا تھا۔
’’کون ہے… کون ہے ادھر؟‘‘ وہاں کیمپ میں لیٹے دو وجود ایک دم ڈر گئے تھے۔ انہوں نے اطراف میں دیکھنا چاہا لیکن تاریکی میں کچھ سجھائی نہ دیا البتہ جھاڑیوں میں کسی چیز کے ہلنے کا شور بلند ہوا ساتھ ہی درختوں کے جھنڈ میں ہلکی سی روشنی بھی ہوئی تھی‘ وہ سب بوکھلا گئے تھے۔
’’جلدی کرو اس کو نہر میں پھینکو اور بھاگو کوئی دیکھ نہ لے۔ لگتا ہے ادھر کوئی موجود ہے۔‘‘ ایک ساتھی چلایا تھا۔ انہوں نے جلدی سے سکندر کو اٹھایا اور نہر میں پھینک دیا اور بڑی تیزی سے جس گاڑی میں آئے تھے بیٹھ کر فوراً بھاگ گئے تھے۔
ننھی بچی وہیں سڑک پر پڑی حلق پھاڑ پھاڑ کر رو رہی تھی وہ شاید عجلت میں اس کو نہر میں پھینکنا بھول گئے تھے اور وہیں چھوڑ کر بھاگ گئے تھے۔ جھاڑیوں میں موجود وہ دونوں آدمی ایک دم نکل کر باہر آئے تھے۔ ایک نے دوڑ کر روتی ہوئی بچی پر ٹارچ کی روشنی ڈالی تھی‘ اردگرد اچھی طرح دیکھنے کے بعد اس نے بچی کو اٹھالیا تھا۔
’’میں نے ان آدمیوں کو کسی کو نہر میں پھینکتے دیکھا ہے۔‘‘ جس نے بچی کو اٹھایا تھا وہ دوسرے آدمی سے بولا تھا۔
’’کوئی پولیس کیس ہی نہ بن جائے‘ نجانے کون لوگ تھے اور کیا کرنے آئے تھے؟‘‘
’’نہر میں پانی اتنا گہرا نہیں میں تیر سکتا ہوں آرام سے‘ دیکھتا ہوں کیا مسئلہ ہے تم اس بچی کو سنبھالو۔‘‘ بچی کو دوسرے آدمی کے حوالے کرتے اپنی قمیص اتار کر وہ خود نہر میں کود گیا تھا۔ دوسرا آدمی دم سادھے گہری تاریکی میں صرف پانی کا شور سن رہا تھا۔
کچھ دیر بعد اس کو اپنے ساتھی کی آواز سنائی دی تھی‘ وہ اس کو کنارے پر بلارہا تھا وہ جلدی سے بچی کو اٹھائے آگے بڑھا اور کنارے کی طرف آیا تھا۔ روتی ہوئی بچی کو اس نے ایک طرف زمین پر بٹھایا اور خود اپنے ساتھی کی مدد کرنے لگا جو نہر میں سے ایک مردہ وجود کو کھینچ کر باہر نکال رہا تھا۔ دونوں نے اس کو باہر نکال کر زمین پر لٹادیا تھا۔ اس نے اس وجود کی سانس چیک کرنا چاہی تو حیران ہوا۔
’’یہ زندہ ہے ابھی۔‘‘ وہ چلایا تھا۔
’’ہاں خون بہت بہہ رہا ہے۔‘‘
’’لیکن ہم کیا کرسکتے ہیں نجانے کون ہے؟ کیا دشمنی تھی جو اسے مار کر یہاں پھینک گئے ہیں؟‘‘ پہلے والا خوف زدہ تھا۔
’’جو بھی ہے لیکن اب تو اس کو بچانا ہی ہوگا۔‘‘
’’کوئی کیس نہ بن جائے ہم پر۔‘‘
’’اللہ مالک ہے‘ گائوں لے چلتے ہیں مولوی صاحب کے پاس وہی کچھ کرسکتے ہیں۔‘‘ دونوں آپس میں صلاح مشورہ کررہے تھے اور پھر یہ طے پایا کہ وہ دونوں اسے گائوں لے جاتے ہیں۔ وہ لوگ جس وقت سکندر اور بچی کو لے کر مولوی صاحب کے پاس پہنچے بہت رات بیت چکی تھی۔ مولوی صاحب ساری صورت حال دیکھ کر پریشان ہوگئے تھے۔
وہ حکیم تھے اور ساتھ امام مسجد بھی انہوں نے فوراً سکندر پر اپنا ہنر آزمانا شروع کردیا تھا جبکہ بچی کو گھر کے اندرونی حصے میں بھیج دیا گیا۔
’’اجنبی کی حالت بہت تشویش ناک ہے۔‘‘ بہت دیر کوشش کرنے کے بعد بھی وہ مایوس تھے۔ ’’سواری کا بندوبست کرو اس کو شہر لے جانا پڑے گا اگر زندگی ہوئی تو بچ جائے گا ورنہ اﷲ کی مرضی۔‘‘
’’میں بندوبست کرتا ہوں اڈے تک تو ٹانگے کا بندوبست ہوجائے گا وہاں سے گاڑی لینا ہوگی۔‘‘
’’وہاں اڈے پر ساجد مہر ہوتا ہے اس کی اپنی ٹرالی ہے اس سے کہتے ہیں وہ شہر تک لے چلے گا۔‘‘ مولوی صاحب نے کہا تو وہ تینوں چلنے کو تیار ہوگئے تھے۔
وہ لوگ سکندر کو ٹانگے پر اڈے تک لائے تھے‘ مولوی صاحب نے ساجد سے بات کرلی تھی وہ مان گیا تھا۔ مولوی صاحب کسی ہسپتال میں لے جانے کے بجائے اپنے ایک شاگرد کے پاس لے آئے تھے۔ اس نے سکندر کو دیکھا اور پھر ایک کلینک میں لے آیا تھا۔ کلینک اس کے دوست کا تھا‘ وہ بہت راز داری سے سکندر کا علاج کرنے پر آمادہ ہوگیا تھا۔ وہیں سکندر کا علاج شروع ہوا اور گولی نکال کر باقی علاج شروع کردیا گیا تھا۔ شاید سکندر کی زندگی باقی تھی سو وہ موت کے منہ سے نکل آیا تھا لیکن بدقسمتی سے اس کا بازو اور ٹانگ ٹوٹ چکی تھی۔
مولوی صاحب کے ساتھ آنے والے وہ دونوں آدمی واپس چلے گئے تھے مولوی صاحب خود سکندر کے پاس رکے ہوئے تھے۔ تین چار دن بعد سکندر کو ہوش آیا تھا لیکن ابھی وہ اس قابل نہ تھا کہ اپنے بارے میں کچھ بتا پاتا۔ سکندر کا علاج مہینوں پر مبنی تھا۔ جیسے ہی وہ خطرے سے باہر ہوا تو مولوی صاحب کو بھی اس کی زندگی کی امید بندھ گئی تھی۔ دو تین دن بعد سکندر نے اپنے بارے میں جو بتایا وہ سن کر مولوی صاحب کا دل ایک دم شدید غم کی لپیٹ میں آگیا تھا۔ وہ اپنے شاگرد کو لے کر سکندر کے بتائے گئے ایڈریس پر گئے تھے لیکن وہاں جو داستان تھی وہ اور بھی زیادہ دل گداز تھی۔ سکندر کے گھر کو آگ لگ گئی تھی جس کی وجہ سے اس کے بیوی بچے سب جل کر راکھ کا ڈھیر بن چکے تھے۔
مولوی صاحب خوف خدا کے سبب سکندر کی زندگی بچانے کے لیے بھاگ دوڑ کررہے تھے۔ وہ مزید مسائل میں نہیں الجھنا چاہتے تھے سو پولیس تک اس معاملے کی رپورٹ نہیں کروائی تھی اور کچھ دن بعد سکندر کو واپس اپنے گائوں لے آئے تھے۔ سکندر چلنے پھرنے اور کھانے پینے سے قاصر تھا‘ وہ ہر وقت اس کی دیکھ بھال میں لگے رہتے تھے۔ ان کی بیٹی چند دن پہلے ہی بیوہ ہوئی تھی‘ سسرال والوں نے گھر سے نکال دیا تھا وہ باپ کے گھر میں ہی عدت کے دن گزار رہی تھی۔ بیوی وفات پاچکی تھیں صرف ایک بیٹی ہی تھی جس کا ایک بیٹا تھا۔
رابعہ کو ثریا نے بہت خوش دلی سے سنبھال لیا تھا۔ انہیں خوب صورت سی رابعہ بہت پسند آئی تھی۔ مولوی صاحب مسجد کی امامت اور بچوں کو پڑھانے کے علاوہ حکیمی بھی کرتے تھے ان کے پاس کوئی نہ کوئی مریض آتا رہتا تھا۔ سکندر کا بستر ان کے کمرے میں ہی لگادیا گیا تھا۔ انہوں نے گائوں والوں کو یہی بتایا تھا کہ وہ ان کا دور پرے کا بھتیجا ہے اور ایک ایکسیڈنٹ کا شکار ہوگیا ہے جس کے سبب وہ اسے اپنے پاس لے آئے ہیں اور اب وہ ان کے ساتھ ہی رہے گا۔ مولوی صاحب نے سکندر کو قطعی نہیں بتایا تھا کہ اس کی فیملی پر کیا غضب ڈھایا جاچکا ہے وہ ہر بار سکندر کے پوچھنے پر اسے تسلی دیتے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ سکندر اچھی طرح صحت یاب ہوجائے‘ اپنے پیروں پر چلنے پھرنے کے قابل ہوجائے تو پھر اس کو بتائیں گے۔
وہ دونوں آدمی جنہوں نے سکندر کو بچایا تھا وہ اکثر اس کی عیادت کو آتے رہتے تھے۔ وہ مولوی صاحب کے بہت مخلص دوست تھے اور شہد کے بیوپاری تھے۔ وہ مختلف جگہوں پر شہد کے مصنوعی چھتے لگاتے تھے اور شہد بنایا کرتے تھے۔ وہ اس مقصد کے لیے زیادہ تر نہر کے کنارے جہاں درختوں کے جھنڈ ہوتے تھے ان کا انتخاب کیا کرتے تھے۔ ان دنوں انہوں نے وہاں کیمپ لگا رکھا تھا اور وہیں کیمپ میں ہی رات گزارا کرتے تھے تاکہ کوئی رات کی تاریکی میں وہاں موجود شہد کے چھتوں کو چرا کر نہ لے جائے۔ اس رات بھی وہ اپنے کیمپ میں لیٹے ہوئے تھے وہاں گاڑی آکر رکی تھی انہوں نے کوئی توجہ نہ دی تھی کیونکہ وہ اڈہ تھا وہاں اکثر کوئی نہ کوئی گاڑی کسی نہ کسی مسافر کو اتارنے کے لیے رکتی تھی لیکن وہ لوگ تب چونکے جب گولی چلنے کی آواز سنائی دی تھی۔ وہ دونوں ٹارچ لے کر باہر نکلے تھے اور باہر جو کچھ دکھائی دیا وہ بڑا حیران کن تھا۔ وہ لوگ تو سکندر کو نہر میں ڈال کر رفو چکر ہوگئے تھے اور معصوم بچی کو وہیں سڑک پر چھوڑ گئے تھے لیکن وہ دونوں خوف خدا کے سبب بچی اور سکندر کو ان کے حال پر نہ چھوڑ سکتے تھے اسی لیے یہاں لے آئے تھے لیکن سکندر اپنے گھر والوں سے ملنے کو بے تاب تھا۔
اسی حالت میں بمشکل ایک ماہ گزرا تھا جب سکندر کے اصرار پر مولوی صاحب نے اسے سچ بتادیا تھا اور سچ جان کر سکندر ایک دم سکتے میں آگیا تھا۔ اس کا پورا گھر اجڑ چکا تھا بیوی بچے سب مرچکے تھے۔ سکندر کے اندر جیسے زندگی ختم ہوگئی تھی اور پھر اس دن مولوی صاحب اس کے پاس ننھی رابعہ کو لے آئے تھے اس سے پہلے مولوی صاحب نے سکندر کو رابعہ کے بارے میں نہیں بتایا تھا‘ سکندر رابعہ کو دیکھ کر ساکت ہوا تھا۔
’’یہ تو میری بچی ہے رابعہ!‘‘ مولوی صاحب چونکے تھے۔
’’اگر یہ تمہاری بچی ہے تو آگ میں تو تینوں بچے جل کر مرے تھے۔‘‘ سکندر بھی الجھ گیا تھا۔
’’یہ وہاں تک کیسے پہنچی؟ ہمایوں نے تو صرف مجھ اکیلے کو اٹھایا تھا۔‘‘ سکندر پریشان ہوگیا تھا۔
’’ہوسکتا ہے بعد میں بچی کو بھی اٹھالیا ہو۔‘‘ مولوی صاحب نے کہا تو سکندر گم صم سا ہوگیا۔
’’تو پھر مرنے والا تیسرا بچہ کون تھا؟‘‘ سکندر کے اندر بہت دن تک یہ سوال کلبلاتا رہا تھا وہ آہستہ آہستہ روبہ صحت ہورہا تھا۔
سکندر کے اصرار پر مولوی صاحب ایک بار پھر سکندر کے بتائے گئے پتے پر گئے تھے اور اس بار وہ افشاں کی پھوپو والے گھر میں بھی گئے تھے لیکن وہاں تالا لگا ہوا تھا۔ مولوی صاحب نے اردگرد کے لوگوں سے معلومات حاصل کرنا چاہی تو معلوم ہوا کہ اس گھر میں رہنے والی خالہ بی اپنے جیٹھ کے گھر شفٹ ہوگئی ہے اور ضیاء باہر جاچکا ہے۔ مولوی صاحب نے سکندر کے بارے میں پوچھا تو کوئی معقول جواب نہ ملا تھا۔ وہ واپس لوٹ آئے تھے۔ مولوی صاحب کی فراہم کردہ معلومات ایسی تھیں کہ سکندر کے اندر مزید مایوسی کی فضا پیدا ہوتی چلی گئی تھی۔
لالہ رخ اور اس کے دونوں بچے اب اس دنیا میں نہیں تھے وہ کس کے لیے جیتا ایسے میں بس ننھی رابعہ کا وجود سکندر کے اندر زندہ رہنے کی لگن پیدا کرنے کا سبب بنا تھا۔ وہ صحت یاب ہوا تو خود اس جگہ گیا تھا لیکن ہمیشہ کی طرح خالہ بی کے گھر تالا لگا ہوا تھا اور اس کے اپنے گھر کی حالت دل کو خاک کرگئی تھی وہ گھر جو انہوں نے بہت محبت اور توجہ سے بنایا تھا وہ جل کر اپنی حالت پر ماتم کناں تھا‘ سکندر جو زندگی بھر کبھی حوصلہ نہ ہارا تھا۔ جس کی آنکھ سے کبھی آنسو کا قطرہ تک نہ ٹپکا تھا وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دیا تھا اس کا گھر تباہ ہوچکا تھا بیوی بچے سب جل کر راکھ کا ڈھیر بن چکے تھے۔ سکندر کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ کچھ کر بیٹھے۔ وہ پولیس اسٹیشن جانا چاہتا تھا اپنے بیوی بچے کی قبریں دیکھنا چاہتا تھا لیکن مولوی صاحب سکندر کی ناگفتہ بہ حالت دیکھتے ہوئے اسے زبردستی واپس لے آئے تھے۔ سکندر بہت دن تک مضمحل رہا‘ ذہنی لحاظ سے وہ بہت بکھر چکا تھا۔ مولوی صاحب اس کا خاص خیال رکھتے اور اسے کبھی تنہا نہ ہونے دیتے تھے۔ وہ واپس شہر جانا چاہتا تھا لیکن مولوی صاحب چاہتے تھے کہ وہ سب کچھ بھول کر کچھ عرصہ کے لیے اس واقعہ کو فراموش کردے تاکہ ذہنی طور پر کچھ سنبھل جائے۔
دوسری طرف وہ ہمایوں کی طرف سے بھی خوف زدہ تھے‘ وہ نہیں چاہتے تھے کہ کسی کو علم ہو کہ سکندر اور اس کی بچی زندہ ہے‘ وہ ہر وقت سکندر کو سمجھاتے رہتے تھے اور شاید ان کے سمجھانے کا اثر تھا کہ سکندر کا رجحان دین کی طرف ہوتا چلا گیا تھا‘ وہ مولوی صاحب کے پاس ہی سارا دن بیٹھا رہتا تھا۔ اس کے اندر سے انتقام‘ نفرت اور ہر چیز کا احساس مٹ گیا تھا۔ کچھ وقت یونہی بیتا اور پھر سکندر ایک دن گھر سے نکلا تو مولوی صاحب کو یہی لگا کہ وہ باہر کھیتوں کی طرف گیا ہوگا لیکن دن دوپہر اور دوپہر رات میں بدل گئی تو مولوی صاحب کی تشویش بڑھنے لگی۔ وہ ساری رات مولوی صاحب کی ازحد پریشانی میں گزری تھی‘ دو تین دن لگا تار بیت گئے لیکن سکندر واپس نہ لوٹا تھا۔ مولوی صاحب خود شہر گئے لیکن وہاں کوئی خبر نہ مل سکی تھی۔ دن پر دن بیتتے گئے۔ پھر دن مہینوں اور مہینے سال میں بدل گئے اور سکندر لوٹ کر نہ آیا‘ مولوی صاحب بیمار رہنے لگے تھے۔ بیوی بیٹی کا دکھ اور سکندر کی گمشدگی وہ ہر وقت متفکر رہتے تھے۔
دوسری طرف ثریا کے سسرال والے بیٹے کو مانگ رہے تھے‘ مولوی صاحب چاہتے تھے کہ ثریا کی دوسری شادی کردیں لیکن ثریا اس بات پر رضامند نہ تھی۔ ثریا کے سسرال والوں کا اصرار بڑھنے لگا تو ثریا نے مولوی صاحب کو گائوں چھوڑ کر شہر چلنے کا مشورہ دیا۔ مولوی صاحب کی گائوں میں بہت عزت تھی لیکن بیٹی کی وجہ سے مجبور تھے اور پھر ایک دن شہر منتقل ہوگئے۔ یہ نئی آبادی تھی جمع پونچی کچھ تھی نہیں‘ کرائے پر گھر مل سکا تھا۔ ثریا محلے کے بچوں کو قرآن اور ٹیوشن پڑھادیا کرتی تھی اور سلائی کا کام بھی کرلیتی تھی۔ گزر بسر اچھی ہونے لگی تھی۔ وقت کا کام ہے گزرتے جانا‘ رابعہ بڑی ہورہی تھی وہ ثریا کو سہیل کی دیکھا دیکھی امی کہنے لگی تھی۔ شہر میں رہتے ایک سال گزرا تھا جب ان کے پاس مولوی صاحب کا ایک شاگرد گائوں سے ایک خط لایا تھا‘ یہ خط کسی باہر کے ملک سے بھیجا گیا تھا۔ مولوی صاحب نے وہ خط دیکھا تو وہ سکندر کی طرف سے تھا۔
’’السلام علیکم مولوی صاحب! مجھے علم ہے آپ میری طرف سے بہت پریشان ہوں گے‘ میں نے جب گائوں چھوڑا اس وقت میرے ذہن میں صرف اور صرف ہمایوں سے بدلہ لینے کا خیال تھا۔ میں شہر آیا اور یہاں ایک دوست کے پاس چلا آیا وہ مجھے دیکھ کر حیران ہوا تھا میری کہانی سن کر اس نے میرے ساتھ ہمدردی کا اظہار بھی کیا تھا۔ یہ شخص میرا کاروباری دوست تھا‘ اس کے پاس میری کچھ رقم واجب الادا تھی اس نے میرا بہت ساتھ دیا۔ اسی نے مجھے بتایا کہ میرے بیوی بچوں اور گھر کو جلانے کے سلسلے میں پولیس میرے بارے میں بھی مشکوک ہے اور میری تلاش میں ہے۔ میرے دوست نے مجھے واپس گائوں جانے اور نئی زندگی شروع کرنے کا مشورہ دیا تھا لیکن میرا دل و دماغ کسی بھی چیز کو قبول نہیں کررہا تھا سوائے اس کے کہ میں ہمایوں سے بدلہ لوں۔ میں نے ہمایوں کا پتا کروایا تو معلوم ہوا کہ جن دنوں مجھے قتل کروایا گیا تھا اور میرے گھر کو آگ لگائی گئی تھی اس سے تیسرے دن بعد ہمایوں اپنے خاندان سمیت ملک سے باہر بھاگ گیا تھا۔ اب میرے پاس سوائے صبر کرنے کے اور کوئی چارہ نہ تھا۔ میں اپنے دوست کے ساتھ مل کر دوسرے شہر چلا گیا تھا‘ جہاں ہمارا کام چل نکلا۔ اب میرے پاس اتنی رقم تھی کہ میں باہر جاسکتا تھا اور امریکہ میں میری کچھ جائیداد بھی تھی میں سکندر کے نام کو استعمال نہیں کرسکتا تھا میں نے فیضان کے نام سے اپنے کاغذات تیار کروائے تھے اور پھر میں باہر آگیا لیکن میری بدقسمتی نے ابھی میرا ساتھ نہ چھوڑا تھا۔ میں جیسے ہی یہاں آیا یہاں ایک اور کیس منتظر تھا‘ ضیاء اور وقار دونوں اپنی فیملی سمیت یہاں سے بھاگ گئے تھے وہ یہاں کی پولیس کو مطلوب تھے۔ میری پراپرٹی میں ایک شاپ جس آدمی کے پاس تھی اس سے وقار اور پھر ضیاء کا جھگڑا ہوا تھا۔ ضیاء سے گولی چلی تھی وہ آدمی کچھ دن ہسپتال میں رہا تھا لیکن پھر بعد میں کسی اور حادثے کے سبب مرگیا تھا‘ اس کی اولاد یہ کیس ضیاء اور وقار پر ڈال رہی تھی اور جب میں واپس گیا تو پولیس نے مجھے گرفتار کرلیا تھا۔ میری تمام پراپرٹی پر لوگوں کا قبضہ تھا‘ مجھے جیل میں ڈال دیا گیا اور مجھ پر وقار اور ضیاء کا ساتھی ہونے کے سبب کئی کیس ڈال دیئے گئے تھے۔ میں دونوں ہاتھوں سے خالی تھا اپنے دفاع میں کچھ نہیں کرسکتا تھا۔ میں یہاں کئی ماہ جیل میں بند رہا‘ یہاں کی پولیس میرے بارے میں کچھ بھی ثابت نہ کرسکی تو مجھے رہا کردیا گیا۔ سکندر کے نام کی پراپرٹی پر فیضان کا کوئی حق نہ بنتا تھا‘ میرا یہ نیا نام مجھے جیل سے نکالنے کا سبب بنا لیکن میری پراپرٹی میرے کسی کام نہ آسکی تھی۔ میں یہاں اب مزدور کی سی زندگی گزار رہا ہوں اور وقار اور ضیاء کی تلاش میں بھی لگا ہوا ہوں لیکن کسی کا بھی کوئی سراغ نہیں مل رہا۔ میری بیٹی کا خاص خیال رکھیے گا‘ مجھے نہیں علم کہ میں واپس آئوں گا بھی کہ نہیں اس لیے آپا ثریا سے کہیے گا کہ اسے اپنی بیٹی بناکر پرورش کریں۔ اگر زندگی نے مہلت دی اور یہاں سے واپسی ممکن ہوسکی تو میں ایک دن ضرور لوٹ کر آئوں گا۔ میری زندگی میں آپ لوگوں اور اپنی بیٹی کے سوا اب اور کوئی رشتہ باقی نہ رہا‘ میری بیٹی آپ کے پاس میری امانت ہے اس کا خیال رکھیے گا۔
فقط
فیضان علی‘‘
خط ایسا تھا کہ مولوی صاحب کئی دن تک غم زدہ رہے تھے۔ رابعہ کو ثریا نے واقعی بیٹی کی طرح پالا تھا اور کبھی اُف تک نہ کی تھی۔ زندگی اپنے مزاج میں چلتی جارہی تھی فیضان نے اس کے بعد کوئی رابطہ نہ کیا تو مولوی صاحب ناامید ہوتے چلے گئے تھے۔ رابعہ کو ثریا نے کبھی نہیں بتایا تھا کہ وہ اس کی بیٹی نہیں ہے‘ رابعہ اسکول جانے لگی تھی۔ رابعہ کی ولدیت سے متعلق ان کے پاس کوئی کاغذات نہ تھے اسکول انتظامیہ نے والدین کے شناختی کارڈ اور پیدائش کا اندراج فارم طلب کیا تھا بصورت دیگر اسکول میں داخلہ ممکن نہ تھا تو مجبوراً ثریا کو سہیل کے والد صاحب کے کوائف جمع کروانا پڑے تھے اور جعلی پیدائش اندراج فارم بنوا کر انتظامیہ کے حوالے کرنا پڑا تھا۔ یہ ایریا کا ایک اچھا اسکول تھا جس میں سہیل اور رابعہ دونوں جاتے تھے۔ وقت تیزی سے گزرنے لگا تھا اس ایک خط کے بعد فیضان کی طرف سے کوئی اطلاع نہ آئی تھی۔
مولوی صاحب مزید ضعیف اور بیمار ہوگئے تھے۔ سہیل نے میٹرک کرلیا تھا اور وہ اب کالج میں داخلہ لینا چاہتا تھا جبکہ رابعہ پانچویں میں تھی جب ایک شام بالکل اچانک اپنے سازو سامان سمیت فیضان نے گھر کے دروازے پر دستک دی تھی۔ دروازہ مولوی صاحب نے کھولا تھا وہ اپنے سامنی کھڑے آدمی کو دیکھ کر چونک گئے تھے‘ فیضان ان کے گلے لگ گیا تھا‘ وہ الجھے ہوئے تھے جیسے اجنبی کو پہنچان نہ پائے ہوں۔
’’تم کون ہو بیٹا؟‘‘
’’میں سکندر ہوں مولوی صاحب فیضان علی۔‘‘ اور مولوی صاحب نے بغور دیکھا اس نے چہرے پر داڑھی رکھ لی تھی۔ قد کاٹھ اور صحت کے اعتبار سے بھی کافی اچھا ہوگیا تھا‘ انہوں نے بے اختیار فیضان کو گلے سے لگالیا تھا۔
فیضان نے بتایا کہ وہ کچھ دن پہلے پاکستان آیا تھا ایک جاننے والے کے پاس ٹھہرا ہوا تھا اور پھر آج صبح وہ گائوں گیا تھا تو وہاں سے علم ہوا کہ مولوی صاحب کئی سالوں سے شہر شفٹ ہوچکے ہیں۔ گائوں والوں سے ہی یہاں کا ایڈریس لیا اور ان کو ڈھونتا ہوا یہاں تک پہنچا تھا۔ فیضان سہیل سے ملا تھا وہ جب گیا تھا تو وہ نو دس سال کا بچہ تھا اور اب جوان تھا۔
’’فیضان پہچانو تو یہ کون ہے؟‘‘ ثریا ایک شرماتی جھجکتی بچی کو ہاتھ سے تھامے اس کے سامنے آئی تو فیضان نے چونک کر بچی کو دیکھا۔ بچی لالہ رخ جیسی نہیں تھی لیکن اس کے نقش ونگار میں لالہ رخ کی جھلک ضرور تھی۔
’’رابعہ۔‘‘ فیضان بے اختیار رابعہ کی طرف بڑھا تھا۔ اسے بازوئوں میں لے کر بہت محبت سے اس کی پیشانی چوم لی تھی۔
عرصہ بعد کسی اپنے کے لمس نے چھوا تو فیضان کی آنکھوں میں نمی آتی چلی گئی تھی اور پھر فیضان نے اس نمی کو بہنے دیا تھا۔ رابعہ اس گرم جوشی پر خوف زدہ ہوگئی تھی وہ رات بڑی عجیب سی تھی۔ فیضان باہر گزرے دنوں کا احوال سناتا رہا اور یہ لوگ یہاں گزرے دنوں کا‘ دو دن گزرے تو فیضان نے اجازت چاہی تھی۔
’’میں رابعہ کو لینے آیا تھا اب جانا چاہوں گا۔‘‘
’’کہاں؟‘‘ مولوی صاحب حیران ہوئے تھے۔
’’میں نے اپنے دوست کو ایک کرائے کے گھر کا بندوبست کرنے کوکہا ہے میرے پاس کچھ رقم ہے پھر اپنا گھرلوں گا۔‘‘
’’لیکن رابعہ کہیں نہیں جائے گی۔‘‘ ثریا ایک دم اندر آئی تھیں‘ مولوی صاحب اور فیضان دونوں نے چونک کر اسے دیکھا تھا۔
’’میں نے اسے ماں باپ سب بن کر پالا ہے‘ وہ بچی مجھے اپنی ماں سمجھتی ہے وہ کہیں نہیں جائے گی۔‘‘
’’لیکن میں آپ دونوں پر مزید بوجھ نہیں ڈالنا چاہتا۔‘‘
’’بوجھ تو تم تبھی ڈال کر چلے گئے تھے جب ہمارا گھر چھوڑا تھا‘ تم نے جہاں جانا ہے بے شک جاسکتے ہو لیکن رابعہ کے بارے میں کوئی دعویٰ نہیں کرنا رابعہ کو جب تم چھوڑ کر گئے تھے تب ہمارے پاس اس کے متعلق کوئی ثبوت نہ تھا پھر مجھے اسے اپنی بیٹی ظاہر کرنے کے لیے معاشرے میں ایک مقام دلانا پڑا تھا۔‘‘ ثریا نے کہا تو فیضان نے چونک کر مولوی صاحب کو دیکھا انہوں نے آہستگی سے ساری بات سمجھائی تو فیضان الجھا۔
’’یہ کیسے ممکن ہے وہ میری بیٹی ہے۔‘‘
’’تم جس طرح اپنی بچی سے غافل رہے کبھی پلٹ کر پوچھا تک نہیں سوائے اس ایک خط کے ہم کیسے یقین کرلیتے کہ تم پلٹ کر آئو گے؟ اور فرض کرو تم پلٹ کر نہ آتے تو سوچو اس معاشرے میں اس بچی کا کیا مقام ہوتا۔ لوگ اس کو کس نام سے پکارتے‘ میں مجبور تھی میں نے جو بھی کیا رابعہ کے بہتر مستقبل کے لیے کیا تھا۔‘‘ فیضان کا سر جھک گیا تھا۔
’’آپ کو بتایا تو ہے میں نے جیل سے نکل کر کیسی مشقت بھری زندگی گزاری تھی۔ میں وہاں کی پولیس کے حراست میں تھا واپس بھی نہیں آسکتا تھا‘ اور پھر میں خالی ہاتھ نہیں آنا چاہتا تھا سو مجھے وہاں کچھ عرصہ رکنا پڑا تب جاکر میں اس قابل ہوا کہ میں واپس لوٹ سکوں۔‘‘ فیضان کا انداز شکستہ تھا‘ مولوی صاحب نے کندھے پر ہاتھ رکھتے ڈھارس دی۔
’’جو بھی ہے لیکن رابعہ یہاںسے نہیں جائے گی۔‘‘ ثریا کا انداز اٹل تھا۔ مجبوراً فیضان کو چند دن کے لیے اکیلے ہی جانا پڑا تھا کچھ دن بعد وہ پھر لوٹا تو ثریا کا وہی جواب تھا۔
’’ٹھیک ہے جیسے آپ کی مرضی لیکن میری بھی ایک شرط ہوگی پھر۔‘‘ ثریا نے فیضان کو دیکھا تھا۔
’’میں نے ایک گھر لیا ہے آپ لوگوں کو یہ گھر چھوڑ کر وہاں آنا ہوگا میرے ساتھ‘ اس طرح میں بھی اس گھر میں رہا کروں گا۔ گھر دو منزلہ ہے ایک حصے پر آپ لوگ رہائش اختیار کرلیں اور ایک پر میں۔‘‘
’’لیکن یہ کیسے ممکن ہے بیٹا!‘‘ مولوی صاحب نے کہا تو فیضان نے ثریا آپا کو دیکھا وہ شش وپنج میں تھیں۔
’’یا تو رابعہ کو میرے ساتھ روانہ کریں یا سب میرے ساتھ چلیں میں کل آئوں گا پھر۔‘‘ فیضان کہہ کر چلا گیا تھا۔
وہ ساری رات ثریا اورمولوی صاحب سوچتے رہے تھے اور پھر اگلے دن ان کو فیضان کے ساتھ جانا پڑا تھا۔ فیضان اوپر والے حصے میں رہتا تھا نیچے یہ لوگ تھے‘ فیضان نے یہاں ٹیوشن کا سلسلہ شروع کرلیا تھا۔ بیٹھک کا کمرہ مولوی صاحب کے لیے مخصوص تھا‘ فیضان اور اس کے اسٹوڈنٹس بھی وہاں بیٹھ جاتے تو مولوی صاحب سارا دن اس رونق میں لگے رہتے۔ اس کے بعد مولوی صاحب صرف ایک سال جیے تھے اور پھر دنیا سے رخصت ہوگئے تو گھر کی ساری ذمہ داریاں فیضان پر آپڑی تھیں اور فیضان نے پوری جانفشانی کے ساتھ ان کو نبھایا بھی تھا۔ سہیل کی تعلیم کے بعد اس کے باہر جانے کا بندوبست کیا وہ واپس آیا تو اس کی شادی کی وہ پھر باہر چلا گیا تھا رابعہ کے تمام تعلیمی اخراجات اور گھر کے اخراجات خود اٹھا رکھے تھے۔
وقت کے ساتھ ساتھ ثریا بیگم کے سسرالی رشتہ داروں نے بھی ان کو ڈھونڈ نکالا تھا‘ وہ اب ان سے روابط میں رہتے تھے لیکن ثریا کو ان سے ایسے زخم ملے تھے کہ وہ چاہ کر بھی کسی سے روابط نہ بڑھا سکی تھیں۔
سہیل کو شروع سے ہی علم تھا کہ رابعہ اس کی بہن نہیں ہے لیکن رابعہ ابھی تک بے خبر تھی لیکن فیضان صاحب اور ثریا بیگم جانتے تھے کہ یہ بے خبری اب ختم کرنا تھی۔ جب سے ابوبکر سے نکاح کا سلسلہ شروع ہوا تھا وہ دونوں اسی ادھیڑ پن میں رہتے تھے کہ رابعہ کو کیسے بتائیں پھر ابوبکر سے نکاح کا سلسلہ ختم ہوا تو یہ عباس کا سلسلہ چل نکلا تھا۔ فیضان صاحب جانتے تھے کہ عباس کون ہے؟ ان کے لیے رابعہ کی عباس سے شادی کرنا مسئلہ نہیں تھا لیکن عباس کے خاندان میں شادی کرنا مسئلہ تھا۔ انہوں نے ثریا اور سہیل کو بھی اپنی خاندانی حیثیت سے آگاہ کردیا تھا وہ دونوں تو اس رشتے کے حق میں تھے لیکن فیضان صاحب چاہ کر بھی ان لوگوں سے ملنے پر خود کو آمادہ نہیں کر پارہے تھے۔ وہ جب بھی ان لوگوں کے بارے میں سوچتے تھے ان کو اپنی بے رنگ تلخیوں اور مصیبتوں سے بھری زندگی یاد آجاتی تھی اور دل چاہتا تھا کہ وہ سب کچھ ختم کردے لیکن اب جذباتیت کا دور نہ تھا اب ہر فیصلہ بہت سوچ سمجھ کر کرنے والا تھا۔
اب ان کی بیٹی کے مستقبل کا سوال تھا اور وہ نہیں چاہتے تھے کہ جو سودو زیاں وہ اٹھا چکے تھے ویسی ہی زندگی ان کی بیٹی کا مقدر بن جائے‘ عباس کو ہاں کرنے پر مجبور ہوگئے تھے لیکن چاہ کر بھی عباس کے والدین سے ملنے پر خود کو آمادہ نہیں کرپائے تھے۔
ء…/…ء
گاڑی رکی اور اس میں موجود لوگ فوراً نکلے تھے مہرالنساء بھاگ کر روتی ہوئی بچی کو اٹھالیا۔ بچی کو چوٹ نہیں لگی تھی لیکن افشاں لہولہان ہوچکی تھی۔
’’مائی گاڈ! اس کی حالت بہت خراب ہے۔‘‘ شاہزیب نے افشاں کو دیکھ کر کہا تھا۔
’’صاحب میرا کوئی قصور نہیں یہ عورت خود آگے آئی تھی۔‘‘ ڈرائیور ایک دم پریشان ہوگیا تھا۔
’’وقت ضائع مت کرو اس کو فوراً ہسپتال لے چلتے ہیں۔‘‘ بابا صاحب بھی باہر آچکے تھے‘ افشاں کی حالت دیکھ کر انہوں نے کہا تھا اور پھر وہ سب اس کو ہسپتال لے آئے تھے۔
یہ لوگ شہر میں ایک تقریب میں مدعو تھے رات کے اس پہر تقریب اٹینڈ کرکے شہر والی کوٹھی کی طرف جارہے تھے کہ رستے میں یہ ایکسیڈنٹ ہوگیا تھا مہرالنساء نے بچی کو سنبھال لیا تھا افشاں کی حالت بڑی تشویش ناک تھی‘ وہ آئی سی یو میں تھی۔ اگلے دن تک افشاں کی حالت نہ سنبھل پائی تھی‘ ڈاکٹرز پوری کوشش کررہے تھے مہرالنساء اور بابا صاحب بچی کو لے کر کوٹھی چلے گئے تھے اور شاہزیب ابھی بھی وہیں تھے۔ دو دن مزید گزر چکے تھے لیکن افشاں کو ہوش نہیں آرہا تھا۔
ڈاکٹرز کے بقول اس کے دماغ پر شدید چوٹ لگی ہے جس سے وہ کوما میں بھی جاسکتی ہے یا پھر ایکسپائر بھی ہوسکتی ہے۔ افشاں کی باقی جسمانی توڑ پھوڑ کا علاج جاری تھا لیکن ذہنی چوٹ ایسی تھی کہ کوئی کچھ بھی نہیں کرسکتا تھا۔ ایک ہفتہ اسی کشمکش میں گزر گیا تھا اور پھر ڈاکٹرز نے مریضہ کے کوما میں چلے جانے کی خبر سنائی تو شاہزیب سمیت پوری فیملی ہی پریشان ہوگئی تھی۔ شاہزیب نے پولیس ڈیپارٹمنٹ اور ہر جگہ خبر نشر کروادی تھی ایکسیڈنٹ کی نوعیت اور عورت کا حلیہ بھی درج کروادیا تھا امید تھی کہ شاید ورثاء میں سے کوئی رابطہ کرے لیکن اس دوران کسی نے بھی رابطہ نہیں کیا تھا‘ افشاں کوما میں اور ننھی عائشہ مہرالنساء کی گود میں تھی۔
عائشہ صبا کی ہم عمر تھی مہرالنساء کو عائشہ کو سنبھالنے میں کوئی مسئلہ نہ ہوا تھا۔ گھر میں ملازموں کی بہتات تھی اور بچی کا خاص خیال رکھا جارہا تھا۔ مہینہ بعد افشاں کو ہوش آیا لیکن وہ بولنے سے قاصر تھی‘ اس کے علاوہ اس کی جسمانی چوٹیں ایسی تھیں کہ وہ اپنے سہارے پر چل بھی نہیں سکتی تھی۔ یہ لوگ اس سے اس کا نام پتا؟ وغیرہ پوچھتے تو وہ ٹکر ٹکر سب کو دیکھتی رہتی۔ شاہزیب اور بابا صاحب اس کے علاج میں کوئی کمی نہیں آنے دے رہے تھے۔ وہ ہسپتال سے ڈسچارج ہوئی تو وہیل چیئر پر بٹھا کر وہ لوگ اسے اپنی کوٹھی میں لے آئے تھے۔ مہرالنساء ویسے تو حویلی میں رہتی تھیں لیکن افشاں کی وجہ سے انہیں مجبوراً کوٹھی میں رہنا پڑ رہا تھا۔ شاہزیب کی کسی اور ڈسٹرکٹ میں جاب تھی وہ ایکسیڈنٹ کے ایک ہفتے بعد ہی چلے گئے تھے۔ افشاں کا خیال مہرالنساء خود رکھ رہی تھیں اس کے علاوہ ڈاکٹر اور نرس کا انتظام بھی تھا۔
افشاں کا حال یہ تھا کہ وہ کسی سے بھی بات نہیں کرتی تھی‘ جہاں بٹھایا جاتا وہ گم صم بیٹھی رہتی تھی جبکہ ڈاکٹرز کی رپورٹس کے مطابق افشاں میں سننے اور بولنے کی صلاحیت ابھی بھی کام کررہی ہے لیکن کوما کے سبب وقت کے ساتھ ساتھ وہ پھر سے بولنے لگے تھی۔ افشاں کی فزیشن روزانہ آکر اس کی فزیو تھراپی کرواتی تھی لیکن مزید ایک ماہ گزرنے کے بعد بھی اس کی حالت جوں کی توں تھی البتہ فزیکلی اس میں کافی بہتری آئی تھی۔ مہرالنساء بہت دن تک حویلی کے معاملات سے دور نہیں رہ سکتی تھیں سو وہ افشاں اور عائشہ سمیت حویلی آگئی تھیں۔
حویلی میں بھی افشاں کا علاج جاری تھا‘ وہ اب فزیکلی بالکل فٹ تھی لیکن کسی سے بات چیت پھر بھی نہیں کرتی تھی‘ ایک دو بار شہر لے جاکر اس کے ٹیسٹ بھی کروائے جاچکے تھے اس کو اب کوئی مسئلہ نہ تھا۔ مہرالنساء نے نوٹ کیا کہ اب کچھ دن سے افشاں اکثر بیٹھے بٹھائے رونے لگتی ہے اور پھر ایک دن بڑی عجیب سی بات ہوئی تھی افشاں بابا صاحب کو دیکھ کر چیخنے چلانے لگی تھی۔ بابا صاحب بھی پریشان ہوگئے تھے‘ بڑی مشکل سے ملازمین نے افشاں کو کنٹرول کیا تھا۔
’’میرا خیال ہے اس بار اس کو کوئی ذہنی مسئلہ ہوا ہے ایک دفعہ اس کو شہر لے جاکر چیک اپ کروالینا چاہیے۔‘‘ بابا کا انداز بڑا پرسوچ تھا۔
’’ہاں میں نے بھی شاہزیب صاحب سے بات کی ہے وہ مجھے کہہ رہے تھے کہ کل اس کو لے کر شہر آجائوں۔‘‘ بابا صاحب نے سر ہلادیا تھا۔
اگلے دن وہ لوگ شہر چلے گئے تھے‘ ایک بار پھر افشاں کے سب ٹیسٹ ہوئے تھے۔ ڈاکٹرز کے بقول یہ پریشانی کی بات نہیں ہے وہ اپنے شعور میں واپس آرہی ہے اور ماضی کو یاد کررہی ہے جلد ہی وہ بولنے کی کوشش بھی کرے گی۔‘‘ مہرالنساء رپورٹ سن کر خوش ہوئی تھیں‘ وہ اسے لے کر کوٹھی آگئی تھیں۔
ان کو اگلے دن واپس حویلی جانا تھا‘ مہرالنساء نے نوٹ کیا تھا کہ افشاں کو پھول بہت پسند تھے حویلی میں بھی وہ زیادہ تر باغیچے میں بیٹھی رہتی تھی۔ وہ اسے باغیچے میں لے آئی تھیں‘ افشاں ایک طرف سنگی بنچ پر بیٹھ گئی تھی۔ مہرالنساء کی کال آئی تو وہ کال سننے کمرے میں چلی گئی تھیں۔
ان کے ذہن سے بالکل نکل گیا کہ وہ افشاں کو لان میں چھوڑ کر گئی ہیں‘ مغرب سے پہلے وہ کمرے سے نکلیں تو ملازمین سے افشاں کے بارے میں پوچھا وہ پریشان ہوگئی تھیں‘ کچھ دیر میں ہی ملازمین سارا گھر چھان مارا تھا۔ نجانے افشاں کہاں چلی گئی تھی۔ چوکیدار نے بتایا کہ وہ نماز پڑھنے اپنے کوارٹر میں گیا تھا واپس آیا تو ذیلی گیٹ کھلا ہوا تھا وہ سمجھا کہ شاید کوئی باہر گیا ہے اس نے دروازہ بند کردیا تھا۔ چوکیدار کی بات سن کر مہرالنساء مزید پریشان ہوگئی تھیں۔
اب تو اس بات میں کوئی شک نہ تھا کہ افشاں گھر سے نکل گئی ہے۔ انہوں نے شاہزیب کو کال کی تھی‘ رات تک وہ بھی پہنچ گئے تھے پھر انہوں نے ہر جگہ پتا کروایا لیکن کہیں بھی افشاںکی خبر نہ مل پائی تھی۔ عائشہ ان کے پاس تھی وہ رات ان لوگوں پر بہت بھاری تھی۔
ء…/…ء
صبوحی بیگم آنکھوں میں آنسو لیے تابندہ بی کو دیکھ رہی تھیں اور تابندہ بی وہ بھی کانپتے ہونٹوں سے صبوحی کو دیکھ رہی تھیں۔ انا اور روشی رکے بغیر کمرے میں چلی گئی تھیں۔ ولید ویٹنگ لائونج میں مصطفی کے پاس رک گیا تھا جبکہ اس وقت دروازے کے باہر وہ دونوں ہی کھڑی تھیں۔
’’افشاں بھابی!‘‘
’’صبوحی…‘‘ دونوں ایک دوسرے کے گلے لگی تھیں۔ صبوحی بیگم کو تو کسی بھی بات کا اب ہوش نہ تھا جبکہ تابندہ بی کو خیال تھا کہ وہ اس وقت کہاں کھڑے ہیں جب ہی الگ ہوتے صبوحی بیگم کا ہاتھ پکڑلیا تھا۔
’’یہاں کچھ بھی کہنا مناسب نہیں‘ میرے ساتھ آئیں۔‘‘ وہ ان کا ہاتھ پکڑے کاریڈور میں چلتے ایک طرف رکھی چیئر پر آبیٹھی تھیں۔
’’آپ کہاں تھیں؟ آپ کو نہیں علم ضیاء بھائی نے آپ کو کتنا ڈھونڈا‘ کہاں کہاں ہم نے آپ کو تلاش نہیں کیا۔ ہم تو سمجھے تھے کہ خدانخواستہ ان جلنے والوں میں آپ بھی…‘‘ صبوحی بیگم اپنے منہ پر ہاتھ رکھ کر ایک دم رو پڑی تھیں۔ تابندہ بی نے ڈبڈباتی آنکھوں سے صبوحی بیگم کو دیکھا تھا۔
’’میں نے اتنے خط لکھے… آپ لوگوں کو آپ میں سے کسی نے بھی کوئی جواب نہ دیا۔ میں تو سالوں سے انتظار میں تھی کہ شاید کوئی پلٹ کر آتا ہے‘ کوئی تو خبر لے گا… شاید کوئی…‘‘ صبوحی بیگم نے شاک کیفیت میں دیکھا تھا۔
’’کس ایڈریس پر خط لکھے تھے؟‘‘
’’وہی امریکہ کا ایڈریس جہاں ہم رہتے تھے‘ میرے پاس وہی ایڈریس تھا بس۔‘‘ صبوحی بیگم کے دونوں ہاتھ اپنے پہلو میں بڑے بے بسی کے انداز میں گرے تھے۔
’’وہ گھر تو ہم بھائی کے واپس جانے کے ایک ماہ بعد چھوڑ چکے تھے۔ سکندر بھائی کی دکان جس کرائے دار کے پاس تھی وقار کا اس سے لین دین کے معاملے میں جھگڑا ہوگیا تھا۔ ادھر سکندر بھائی کا گھر جل چکا تھا‘ ان کا ان کے بیوی بچوں کا کچھ علم نہ تھا۔ ضیاء بھائی پاگلوں کی طرح آپ کو ڈھونڈتے رہے اور ادھر میں اکیلی اجنبیوں کے دیس میں لوگوں سے لڑتی رہی کیونکہ وقار کو پولیس پکڑ کر لے گئی تھی۔ ضیاء بھائی بہت پریشان تھے ادھر گوروں کے دیس میں نہ عزت محفوظ تھی او نہ ہی جان‘ ضیاء بھائی نے آپ کو بہت تلاش کیا سبھی کہتے تھے جلنے والوں میں آپ بھی شامل ہیں پھر وہ میری وجہ سے امریکہ چلے گئے وہاں جاکر وقار تو باہر آگئے لیکن معاملات زیادہ بگڑ گئے اس بار ضیاء بھائی کا اس آدمی سے جھگڑا ہوا تھا۔ ضیاء بھائی سے گولی چلی اب بچائو کی کوئی امید نہ تھی ضیاء بھائی ہمیں فوراً وہ جگہ چھوڑ دینے کا کہہ کر وہاں سے بھاگ گئے اور ہم نے بھی وہ جگہ چھوڑ دی۔ کسی اور جگہ کچھ عرصہ رکے اور پھر وہ شہر ہی چھوڑ دیا۔ ہم لوگوں نے بڑی مشکل زندگی گزاری تھی۔ ضیاء بھائی تو کئی سالوں تک گھر سے باہر نہ نکل سکے تھے‘ ہم تو وہ ملک ہی چھوڑ آئے تھے پھر ہمیں بھلا آپ کے خطوط کیسے ملتے؟‘‘ صبوحی بیگم کی آنکھوں میں آنسوئوں کی نمی تھی۔ تابندہ بی گم صم انداز میں سب دیکھے گئی تھیں۔
’’آہ… میں نے ایک طویل سفر انتظار کی سولی پر لٹکتے گزار دیا۔ میرے دل میں نجانے کیا کیا وسوسے جنم لیتے رہے اور میں ہر بار بے قرار ہوکر خط لکھتی رہی۔‘‘ صبوحی بیگم نے بے اختیار تابندہ بی کو سینے سے لگا لیا۔
’’کاش ہمیں علم ہوتا آپ زندہ ہیں ہم آپ کو خود تلاش کرلیتے۔‘‘
’’یہاں کس کے پاس آئی ہیں؟‘‘ کچھ دیر سنبھلنے کے بعد تابندہ بی نے پوچھا۔
’’شہوار کے بارے میں علم ہوا تھا تو میں آئی تھی۔‘‘ تابندہ چونکی۔
’’شہوار کیا لگتی ہے آپ لوگوں کی؟‘‘
’’میری بیٹی انا کی دوست ہے۔‘‘ صبوحی بیگم نے آنکھیں صاف کرتے کہا تو تابندہ بی شدید حیران ہوئیں۔
’’یہ… یہ انا جو شہوار کی دوست ہے وہ آپ کی بیٹی ہے؟‘‘ وہ بے یقین تھیں‘ صبوحی نے سر ہلایا۔
’’میرے اللہ…‘‘ وہ ایک دم پھر رو پڑی۔
’’انا ایک عرصے سے شہوار کی دوست تھی کاش مجھے علم ہوجاتا۔ میں ادھر اُدھر بھٹکتی رہی اور میرے اپنے میرے پاس آکر بھی دور رہے۔‘‘ وہ پھوٹ پھوٹ کر روئی اور رو تو صبوحی بیگم بھی رہی تھیں۔
’’میری بیٹی روشانے کہاں ہے؟‘‘ تابندہ کے لہجے میں صدیوں کی سی پیاس تھی۔
’’وہ بھی ہمارے ساتھ آئی ہے‘ انا کے ساتھ شہوار کے پاس گئی ہیں وہ دونوں‘ میں تو آپ کو دیکھ کر رک گئی تھی۔‘‘ تابندہ بی نے ایک دم اپنے سینے پر ہاتھ رکھا۔
’’وہ روشی تھی میری بیٹی…‘‘ وہ بے قرار ہوکر کھڑی ہوئی تھیں۔
انہوں نے دونوں لڑکیوں کی طرف کوئی توجہ نہ دی تھی بلکہ اپنے ہی خیالوں میں باہر نکلی تھیں وہ تو صبوحی بیگم کی پکار پر ٹھٹک کر رکی اور وہ دونوں لڑکیاں اندر چلی گئی تھیں۔
’’ہاں… روشانے میرے احسن کی دلہن بھی ہے۔‘‘
’’مجھے روشانے سے ملنا ہے۔‘‘ وہ بے قرار ہوکر آگے بڑھی اور پھر نجانے کیا ہوا کہ رک گئی۔
’’اور ضیاء کیسے ہیں؟‘‘ لہجے میں صدیوں کی تھکان تھی۔
’’آپ کی جدائی نے انہیں وقت سے پہلے بوڑھا کردیا ہے‘ اکثر بیمار رہتے ہیں۔‘‘ تابندہ بی پھر بے اختیار رو پڑی۔
’’آپ کا شہوار اور مصطفی لوگوں سے کیا تعلق ہے‘ آپ ادھر کیوں ہیں؟‘‘ صبوحی بیگم کے اندر جو سوال کلبلا رہا تھا اس نے فوراً پوچھا۔
’’شہوار میری بیٹی ہے۔‘‘ تابندہ بی نے بتایا تو صبوحی بیگم نے الجھ کر دیکھا۔
’’سکندر اور لالہ رخ کی سب سے چھوٹی بیٹی عائشہ ہی اصل میں شہوار ہے۔‘‘ صبوحی بیگم کے اندر عجیب سی حیرتوں نے سر اٹھایا۔
’’عائشہ زندہ ہے۔‘‘ تابندہ بی نے سر ہلایا۔
’’لیکن وہ تو مرچکی تھی بلکہ اس گھر میں ایک عورت ایک بچہ اور دو بچیوں کی لاشیں ملی تھیں۔‘‘
’’پتا نہیں کیا حقیقت ہے‘ مرنے والی لالہ رخ تھی یا کوئی اور؟ مجھے تو بس اتنا پتا ہے کہ میرے پاس عائشہ تھی اور میں اس رات اس گھر میں اکیلی تھی اور جب ان لوگوں نے گھر کو گھیرا تھا میں بڑی مشکل سے جان بچا کر بھاگی تھی عائشہ میرے ساتھ تھی۔‘‘
’’اوہ…‘‘ صبوحی بیگم کا حیرت سے برا حال تھا۔ ’’آپ مجھے ساری کہانی سنائیں اس رات آپ کے ساتھ کیا ہوا تھا اور آپ یہاں کس طرح پہنچیں۔‘‘ تابندہ بی سرہلا کر ایک بار پھر صبوحی بیگم کے ہمراہ کرسی پر بیٹھ گئی۔
تابندہ بی کے چہرے پر صدیوں کی تھکن‘ دکھ اور غم کی کیفیت رقم تھی وہ خود پر بیتنے والی قیامت کا ایک ایک حرف بتانے لگیں اور صبوحی بیگم بہت توجہ سے ان کی ہر بات سن رہی تھیں۔
ء…/…ء
افشاں جب وہاں پہنچی اس وقت اس کی عجیب سی کیفیت تھی۔ وہ خود فراموشی کے عالم میں تھی‘ افشاں نے گھر کے دروازہ پہ ہاتھ رکھا تو وہ کھلتا چلا گیا تھا۔ یہ وہی گھر تھا جو اس کی پھوپو کی ملکیت تھا اور پھوپو نے مرنے سے پہلے اس کے نام کردیا تھا جہاں اس نے زندگی کے کئی ماہ وسال گزارے تھے جہاں سکندر اور لالہ رخ کی زندگی نے نئی کروٹ لی تھی۔ افشاں خود فراموشی کی کیفیت میں چلتے ہوئے صحن میں آکھڑی ہوئی۔ وہ اسی کیفیت میں کھڑی تھی جب خالہ بی کا بیٹا سامنے والے کمرے سے نکلا تھا۔
’’افشاں باجی…‘‘ وہ چیخا تھا۔
’’اماں دیکھیں افشاں باجی آئی ہیں۔‘‘ اس نے اندر منہ کرکے زور سے کہا تھا۔ خالی بی بھاگ کر آگئی تھیں‘ انہوں نے افشاں کو دیکھا تھا۔ عجیب سا حلیہ اور عجیب سی کیفیت تھی‘ وہ افشاں کا ہاتھ پکڑ کر اسے اندر لے گئی تھیں۔ وہ دونوں ماں بیٹا افشاں سے کئی سوال کررہے تھے لیکن وہ گم صم تھی۔
’’افشاں بولو… کچھ کہو… چپ کیوں ہو؟‘‘ انہوں نے اسے ہلایا جلایا تو وہ چونکی۔ افشاں نے بولنے کی کوشش کرنا چاہی تو حلق سے عجیب عجیب سی آوازیں نکلی تھیں۔
’’تم کہاں تھی؟ لالہ رخ اور اس کے بچے اس دن گھر میں آگ لگ جانے سے سب مرگئے تھے۔ ضیاء پاگلوں کی طرح تمہیں تلاش کرتا رہا‘ پولیس کہتی تھی وہ مرنے والی عورت تم ہو مجھے تو بہت بعد میں علم ہوا تھا پھر ضیاء واپس چلا گیا تھا۔‘‘ ضیاء کے نام پر افشاں نے سر ہلایا تھا۔ افشاں نے پھر بولنے کی کوشش کی تھی اور اس بار اس کے حلق سے عجیب و غریب آوازوں کے ساتھ کچھ صاف آوازیں بھی نکلی تھیں جن سے خالہ بی کو بس یہی سمجھ آئی تھی۔
’’میں بچ گئی تھی خالہ… میرا ایکسیڈنٹ ہوگیا تھا۔‘‘ شام تک وہ خالہ بی کے ساتھ اپنی عجیب سی آواز میں بہت ساری باتیں کرتی رہی تھی۔ خالہ بی اپنے سسرال میں رہ رہی تھیں ان کے جیٹھ جٹھانی اور بچوں کی وفات کے بعد ان کی صرف ایک بچی زندہ بچی تھی جس کی دیکھ بھال کی ذمہ داری خالہ بی پر تھی وہ مسلسل ادھر ہی رہ رہی تھیں۔ آج بھی کچھ سازو سامان لینے آئی تھیں۔ اب اتفاقاً افشاں بھی آگئی تھی۔
افشاں اوپر والے حصے میں آگئی تھی۔ لالہ رخ کا بہت سارا سامان شفٹ ہوچکا تھا لیکن کچھ پرانی چیزیں ابھی ادھر ہی تھیں جن میں کچھ تصاویر تھیں افشاں ان سب چیزوں کو دیکھ دیکھ کر روتی رہی تھی۔ وہ چھوٹے سے پرس میں چیزوں کو اکٹھا کرتی رہی تھی اس نے خالہ بی کو اپنے اوپر بیتنے والی قیامت سے بھی آگاہ کیا تھا۔ خالہ بی کا کہنا تھا کہ وہ ان کے ساتھ چلے لیکن افشاں کو عائشہ یاد آرہی تھی جس کے وجود کو ابھی تک ان مہربان لوگوں نے سنبھال رکھا تھا وہ عائشہ کو چھوڑ کر ان کے ساتھ نہیں جاسکتی تھی۔ خالہ بی کو رات کو واپس جانا تھا وہاں بچی اکیلی تھی لیکن وہ اس کے بارے میں بھی پریشان تھیں۔ افشاں واپس خالہ بی کے ساتھ شاہزیب کی کوٹھی میں چلی آئی تھی خالہ بی اسے باہر سے ہی چھوڑ کر چلی گئی تھیں اور افشاں خود اندر آگئی تھی‘ اندر سبھی لوگ پریشان تھے۔ افشاں کو ہر جگہ تلاش کیا جارہا تھا اور اسے واپس آتے دیکھ کر سبھی چونکے تھے۔
’’تم کہاں تھیں… کہاں چلی گئی تھیں تم؟‘‘ مہرالنساء نے بے اختیار آگے بڑھ کر افشاں کو کندھے سے تھاما تھا۔
افشاں نے بغل میں ایک چھوٹا سا پرس چھپا رکھا تھا وہ ڈر کر پیچھے ہٹی تھی۔ شاہزیب نے مہرالنساء کو سمجھایا تھا کہ وہ اس وقت پریشان ہے اسے کمرے میں لے جائیں‘ مہرالنساء اسے کمرے میں لے آئی تھی۔ افشاں ابھی بھی گم صم تھی‘ مہرالنساء نے اس سے زیادہ باز پرس نہیں کی اور اسے سونے کا کہہ کر چلی گئی تھیں۔ افشاں کی وہ ساری رات عجیب سی کشمکش میں گزری تھی‘ خالہ بی نے اسے اپنے جیٹھ کے گھر کا ایڈریس دے دیا تھا۔ وہ ساری رات سوچتی رہی کہ اب آگے کیا کرنا ہے؟
اگلے دن مہرالنساء واپس حویلی آگئی تھیں‘ عائشہ اور افشاں بھی ساتھ تھیں وہاں آکر وہ بابا صاحب کو دیکھ کر ایک بار چونکی تھیں۔ وہ بابا صاحب کو کئی بار اپنے گھر میں دیکھ چکی تھیں‘ سکندر کے والد کے روپ میں۔ بابا صاحب کا نام خاندانی حیثیت ہر چیز واضح تھی کہ وہ اجنبی لوگوں میں نہیں ہے افشاں کا ذہن عجیب سے دوراہے پر تھا۔ ایک دل کرتا تھا کہ عائشہ کو یہاں چھوڑ کر خود یہاں سے چپ چاپ چلی جائے لیکن وہ کہاں جاتی؟ خالہ بی کے سسرالی لوگ نجانے کیسے ہوتے؟ اور اس کا اپنا گھر وہ بھلا اکیلی وہاں جاکر کیا کرتی؟ اب صرف ایک صورت بچی تھی کہ وہ ضیاء سے رابطہ کرتی اور اس کو بتاتی کہ وہ زندہ ہے اور ضیاء اس کو آکر لے جائے اور یہ آخری سوچ تھی جو دل ودماغ سے چمٹ کر رہ گئی تھی۔
اب صرف یہی حل تھا کہ وہ خاموشی سے یہاں رہ کر حالات کا انتظار کرتی۔ وہ بول سکتی تھی لیکن بولنے کی کوشش نہ کی‘ سارا وقت گم صم پڑی رہتی پھر انہوں نے ایک خط لکھا تھا اور وہ خط پوسٹ کرنے کا انہیں موقع بھی مل گیا تھا۔ حویلی میں اس دن کوئی نہ تھا ملازمین سے نظر بچا کر وہ حویلی سے نکل آئی تھیں۔ گائوں سے باہر پوسٹ آفس تھا‘ خط ڈال کر وہ واپس آگئی تھیں اور خط کے جواب کا انتظار کرنے لگی تھیں لیکن جواب تھا کہ آکے ہی نہیں دے رہا تھا۔ وہ اب اپنی چپ سے خود بھی پریشان ہوچکی تھیں۔ ان دنوں ایک بار پھر شہر جانے کا اتفاق ہوا تھا مہرالنساء نے نند کے ہاں جانا تھا ان کو بھی ساتھ لے آئی تھیں۔ وہ موقع دیکھ کر خالہ بی کے دیئے گئے سسرالی ایڈریس پر چلی آئی تھیں۔
خالہ بی سے بھی کوئی حوصلہ افزا جواب نہیں ملا تھا۔ خالہ بی نے بہت کہا تھا کہ وہ ان کے پاس آجائے لیکن وہ بہت مایوس ہوچکی تھیں وہ واپس آئیں تو عجیب نڈھال سا انداز تھا۔ مہرالنساء ابھی گھر نہیں لوٹی تھیں‘ وہ لوٹیں تو علم ہوا کہ افشاں آج پھر گھر سے غائب رہی تھیں‘ وہ اس کے پاس آئی تھیں افشاں سے پوچھا تو وہ خالی نظروں سے ان کو دیکھے گئیں‘ مہرالنساء کو افشاں پر بہت دکھ ہوا۔
’’تم ہمیں بتائو گی تو ہمیں تمہارے گھر والوں اور رشتہ داروں کو تلاش کرنا آسان ہوگا۔ ڈاکٹرز کہتے ہیں تم بول سکتی ہو لیکن حادثے کی وجہ سے تمہاری گویائی کا مسئلہ ہوا ہے جب تم اکیلی باہر نکلتی ہو تو مجھے ٹینشن ہونے لگتی ہے کہ کہیں خدانخواستہ تمہارے ساتھ کوئی مسئلہ نہ ہوجائے۔‘‘ افشاں نے ایک گہرا سانس لیا تھا۔
’’میرا اس دنیا میں کوئی نہیں ہے۔‘‘ بہت عجیب سی آوازوں میں الجھے افشاں کے یہ الفاظ ایسے تھے کہ مہرالنساء حیران رہ گئی تھیں‘ افشاں کے حلق سے آواز گھٹ گھٹ کے آرہی تھی۔
’’یہ بچی تمہاری بیٹی ہے۔‘‘ افشاں نے محض سر ہلایا تھا۔
’’تم بول سکتی ہو نا‘ مجھے بتائو تم کون ہو‘ کہاں سے ہو؟‘‘ محبت سے مہرالنساء نے مزید پوچھا تھا۔
اور تب افشاں کے دل میں جو آیا وہ کہہ گئی۔ افشاں نے عائشہ کا نام شہوار بتایا تھا اور اپنا نام تابندہ۔ شہوار کے باپ کا نام سکندر‘ اس نے سکندر کے والد سبحان احمد کا ایڈریس بھی دے دیا تھا۔
مہرالنساء نے شاہزیب کو ساری معلومات دے دی تھیں اور شاہزیب صاحب نے معلومات کی تصدیق کروائی تو سکندر واقعی سبحان احمد کا بیٹا تھا لیکن بعد کی باتیں ایسی تھیں کہ جس سے معلوم نہ ہوسکا تھا کہ والدین کی وفات کے بعد سکندر نے کس سے شادی کی تھی وہ کب مرا؟ اور تابندہ کے سسرال والوں نے اسے کیوں گھر سے نکالا؟ افشاں کا خیال تھا کہ وہ وقتی طور پر اس گھر میں رہ لیں گی جب بھی ضیاء کی طرف سے کوئی رابطہ ہوا وہ ان لوگوں کو سچ بتادیں گی لیکن ان کا انتظار انتظار ہی رہا اور کبھی کسی نے پلٹ کر ان کے خط کا کوئی جواب تک نہ دیا تھا۔ آہستہ آہستہ خالہ بی سے روابط بھی ختم ہوتے گئے اس نے خالہ بی کو خود سے رابطہ کرنے سے منع کر رکھا تھا وقت تیزی سے گزر رہا تھا۔
مسلسل تھراپی سے وہ اب روانی سے بولنے کے قابل ہوچکی تھیں۔ حویلی والوں نے انہیں عزت دی تھی اپنے گھر رکھا تھا‘ پناہ دی تھی وہ بھی ان کے ساتھ رہنے لگی تھیں ان کے معاملات کو اپنے معاملات سمجھنے لگی تھیں۔ وقت مہینوں میں اور مہینے سالوں میں بدلنے لگے تو تابندہ کا انتظار بھی مرنے لگا تھا۔ اس کی جھوٹی کہانی ہی اب اس کی شناخت بنتی جارہی تھی۔ ان کے پرس میں لائی گئی چیزوں میں کچھ تصاویر کے علاوہ ایک چھوٹا سا شناختی کارڈ ایسا تھا جو جھوٹ نہ تھا جو شہوار کے مستقبل کا تعین کرسکتا تھا۔ شہوار بڑی ہورہی تھی اور انہیں اپنی بیٹی روشی یاد آتی تھی اور پھر انہوں نے اپنی ذات کو پس پشت ڈالتے صرف اور صرف شہوارکی ذات پر توجہ مرکوز کردی تھی۔ کبھی کبھار خالہ بی سے بھی رابطہ کیا تھا وہ اب اس پرانے گھر میں منتقل ہوگئی تھیں۔ انہوں نے شہوار کو جنم نہیں دیا تھا لیکن انہوں نے شہوار کی تربیت ماں بن کر کی تھی۔
شہوار کے سوالات کے وہ جوابات نہیں دے سکتی تھیں لیکن انہوں نے طے کرلیا تھا کہ سکندر جس خاندان کا حصہ نہیں بن سکا اس خاندان میں شہوار کو ضرور پہچان دلوائیں گی اور پھر وقت نے ثابت کردیا کہ ان دونوں کے لیے یہ خاندان کس قدر مہربان ہے شہوار مصطفی سے شادی کے خلاف تھی وہ اپنا ماضی جاننا چاہتی تھی لیکن انہوں نے اس کی تمام تر مخالفت کے باوجود مصطفی سے اس کی شادی کردی تھی اور پھر وہ ہمیشہ کے لیے حویلی چھوڑ کر چلی گئی تھیں۔ انہوں نے ایک بار پھر پرانے رشتوں کو کھوجنے اور تلاش کرنے کی کوشش کی تھی لیکن سب لاحاصل تھا۔
اور پھر ایک دن عجیب سا واقعہ ہوا تھا‘ وہ شاپنگ کے لیے گئی تھیں لیکن واپسی پر ایک چہرہ دکھائی دیا تھا اس چہرے پر انہیں سکندر کا گمان ہوا تھا لیکن پھر کچھ معلوم نہ ہوسکا تھا۔ وہ کئی دن تک اپنے وہم کی تردید کرتی رہی تھیں اور پھر انہوں نے ان رشتوں‘ کو تلاش کرنے کی کوشش شروع کردی تھی اور اب اچانک مصطفی ان کے پاس آکر ان کو لے آیا تھا اور اب صبوحی سے سامنا ہونا‘ وہ جیسے ہل کر رہ گئی تھیں۔
ء…/…ء
وہ دونوں شہوار کے پاس تھیں‘ روشی خود ماں بن رہی تھی وہ جانتی تھیں یہ کیسی اذیت ہوتی ہے وہ شہوار کی تکلیف سمجھ سکتی تھیں۔ دونوں بڑی دلجمعی سے اس کو بہلا رہی تھیں‘ شہوار کے آنسو تھے کہ رکنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے انا اور روشانے متواتر اس کی تسلی وتشفی کررہی تھیں۔
’’ماما کہاں رہ گئی ہیں…؟‘‘ کچھ دیر بعد شہوار سنبھلی تو انا کو بھی اردگرد کا خیال آیا تھا اس وقت کمرے میں عائشہ‘ مہرالنساء بیگم‘ شہوار‘ روشی اور انا موجود تھیں‘ صبوحی بیگم کہیں بھی نہ تھیں۔
’’کمرے تک تو ہمارے ساتھ ہی تھیں۔‘‘ روشی کو بھی خیال آیا۔
’’میں دیکھتی ہوں‘ ہوسکتا ہے باہر ہی رک گئی ہوں۔‘‘ انا کہہ کر کمرے سے نکل آئی تھی۔ ’’شاید ویٹنگ روم میں نہ چلی گئی ہوں۔‘‘ وہ سوچتے ہوئے اس جانب آئی لیکن وہاں صرف مرد حضرات تھے وہ کہیں نہ تھیں۔ ’’نہ جانے کہاں رہ گئی ہیں۔‘‘ وہ واپس پلٹ آئی تھی۔ کمرے میں واپس جانے سے پہلے اس نے دوسری طرف جاتی راہداری کو دیکھا۔ ’’کہیں ادھر تو نہیں نکل آئیں غلطی سے۔‘‘ وہ اس جانب چل دی۔ راہداری کے اختتام پر برآمدہ تھا جہاں کرسیاں رکھ کر بیٹھنے کا انتظام تھا‘ وہاں پہنچ کر انا چونکی تھیں‘ صبوحی بیگم اور تابندہ بی دونوں وہاں موجود تھیں۔ تابندہ بی سے وہ خصوصی طور پر کبھی نہ مل پائی تھی بس شہوار کے نکاح اور پھر رخصتی پر ان سے سلام دعا ہوئی تھی۔
’’ماما…‘‘ وہ قریب آئی تو دونوں چونکی۔ دونوں کی آنکھوں میں آنسو تھے دونوں نے ٹھٹک کر اپنے آنسو صاف کیے تھے۔
’’السلام علیکم!‘‘ قریب آکر انا نے تابندہ بی کو سلام کیا۔ وہ کھڑی ہوگئی تھیں صبوحی بیگم بھی ساتھ کھڑی ہوگئی تھیں۔
’’یہ میری بیٹی انا ہے جب آپ نے اسے آخری بار دیکھا تھا یہ چھوٹی سی تھی اور اب اتنی بڑی ہوگئی ہے۔‘‘ صبوحی بیگم نے نمناک لہجے میں کہا‘ تابندہ بی نے آگے بڑھ کر محبت سے اسے گلے لگا لیا۔
’’دیکھو دو بار ہمارا سامنا ہوا شہوار کے نکاح اور رخصتی پر اور میں اسے قطعی نہ پہچان پائی۔‘‘ تابندہ بی نے محبت سے پیشانی چومی جبکہ انا ناسمجھی سے دونوں کو دیکھ رہی تھی۔
’’سب قسمت کا ہیر پھیر ہے بھابی! ورنہ اتنا کچھ ہوتا ہی کیوں؟‘‘
’’ہاں میری قسمت نے مجھے سب سے دور کردیا شاید یہی سب لکھا تھا۔‘‘ دونوں نے اپنی آنکھیں صاف کی جبکہ انا پریشان ہوکر ان کی باتیں سمجھنے کی کوشش کررہی تھی۔
’’روشی کہاں ہے؟‘‘ صبوحی بیگم نے پوچھا۔
’’کمرے میں شہوار کے پاس ہے۔‘‘
’’آئیں وہیں چلتے ہیں۔‘‘ صبوحی بیگم نے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا تو تابندہ بی کی آنکھیں ایک بار پھر چھلک پڑی۔
’’میں اپنی بیٹی کا سامنا کیسے کرپائوں گی اور اتنے لوگ ہیں کس کس کے سوالوں کے جواب دوں گی اور شہوار وہ تو پہلے ہی اتنے بڑے صدمے سے گزر رہی ہے اسے جب حقیقت کا علم ہوگا وہ تو جیتے جی مرجائے گی۔‘‘ صبوحی بیگم نے سر ہلایا۔
’’جائو انا! روشی کو لے کر ادھر ہی آجائو‘ ابھی شہوار کسی اور صدمے کی متحمل نہیں ہوسکتی۔‘‘ نجانے کیا باتیں ہورہی تھیں۔ شہوار کی والدہ اور ماما کا آپس میں نجانے کیا تعلق تھا جو وہ دونوں ایسا کہہ رہی تھیں۔
’’جی ماما!‘‘ انا چلی گئی اور پھر کچھ دیر بعد روشی کے ساتھ آئی تھی۔ تابندہ بی روشی کو دیکھ کر ایک دم ساکت ہوئی تھیں۔
ساری عمر جس انتظار میں گزاری تھی آج وہ انتظار ختم بھی ہوا تو کیسے۔ وہ بے اختیار روشی کی طرف بڑھی اور بڑی شدت سے روشانے کو گلے لگالیا تھا۔ روشانے اور انا دونوں حیرت زدہ تھیں جبکہ صبوحی بیگم کی آنکھوں سے مسلسل آنسو گر رہے تھے۔
’’میری بیٹی میری جان…‘‘ تابندہ بی صرف یہی الفاظ دہرا رہی تھیں جبکہ روشی کو لگ رہا تھا کہ جیسے کسی نے قدموں تلے سے زمین کھینچ لی ہو۔ وہ والہانہ انداز میں روشی کا چہرہ چوم رہی تھیں۔ ہاتھوں کا بوسہ لے رہی تھیں ان کی شدت اور تڑپ دیکھنے والی تھی۔
’’ماما… یہ سب کیا ہے؟‘‘ انا گم صم تھی اس نے صبوحی بیگم کا کندھا ہلایا تو انہوں نے بہتی آنکھوں سے حیران و پریشان سی انا کو دیکھا۔
’’یہ میری بھابی ہیں روشانے کی والدہ‘ ضیاء بھائی کی بیگم اور تمہاری ممانی افشاں بھابی!‘‘ انا ایک دم ساکت ہوئی تھی دوسری طرف روشی بھی تھم سی گئی تھی۔
’’لیکن یہ تو شہوار کی والدہ ہیں۔‘‘ انا بے یقین تھی۔
’’نہیں یہ شہوار کی والدہ نہیں ہیں‘ شہوار کی ماں لالہ رخ تھی جو مرچکی ہیں۔‘‘
آج کیسے کیسے انکشافات کا دن تھا‘ انا نے بے یقینی سے سب کو دیکھا۔ بے یقین تو روشی بھی تھی‘ وہ حیرت سے گنگ کبھی تابندہ کو دیکھتی تھی اور کبھی صبوحی بیگم کو۔
’’صبوحی میری بدقسمتی دیکھوں روشنی سے دو بار میرا سامنا ہوا انا کے ساتھ یہ بھی شہوار کے نکاح میں اور رخصتی میں شریک ہوئی تھی میں پھر بھی اس کا نا پہچان پائی اور پہچاتی بھی کیسے یہ تو ماشاء اللہ سے اتنی بڑی ہوگی ہے اور مجھے ضیاء صاحب اور وقار بھائی سے ملنا ہے صبوحی۔‘‘ روشی کو محبت سے بازو کے حصار میں لیتے ہوئے کہا تو صبوحی بیگم نے سر ہلایا اور روشانے عجیب سی کیفیت کا شکار ہورہی تھی۔
’’ہمارے ساتھ سکندر بھائی کا بیٹا عیسیٰ بھی ہے‘ وہ نجانے کیا سوچے ابھی سب کو بہت تحمل سے سب کچھ بتانے کی ضرورت ہے۔ میں شہوار سے مل کر گھر جاتی ہوں سب کو ساتھ لے کر آتی ہوں۔‘‘
’’عیسیٰ وہ زندہ ہے۔‘‘ تابندہ بی نے اپنی کہانی تو سنادی تھی لیکن ابھی صبوحی بیگم نے بہت سی باتوں سے پردہ نہیں اٹھایا تھا۔
’’جی‘ ضیاء بھائی اسے اپنے ساتھ باہر لے گئے تھے۔‘‘
’’اوہ… تو پھر وہ مرنے والے کون لوگ تھے؟ وہ بچہ‘ وہ عورت وہ دو بچیاں… مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہی میں تو سمجھی تھی کہ عائشہ میرے پاس ہے لالہ رخ واپس آگئی ہوں گی رابعہ کے ساتھ اور ہوسکتا ہے ضیاء نے عیسیٰ کو وہاں ان کے پاس چھوڑ دیا ہو۔‘‘
’’یہ تو وہ معمہ ہے جو کوئی بھی حل نہیں کرپایا‘ نجانے کون معصوم بچے لقمہ اجل بنے ہوں گے۔‘‘ تابندہ بی الجھی تھی۔
’’ہم تو عیسیٰ کی زندگی کے تحفظ کے لیے پھر دوبارہ کہیں گئے ہی نہیں نہ اس پرانے گھر اور نہ ہی لالہ رخ کے نئے گھر میں۔ سنا ہے راکھ کا ڈھیر بن گیا تھا وہ گھر‘ حتیٰ کہ ہر رشتے دار سے تعلق ختم کرلیا ہم نے۔‘‘ تابندہ بی بڑے نڈھال انداز میں کرسی پر گری تھیں۔ نجانے کس کس نے کہاں کہاں کیا کیا قربانیاں دی تھیں۔
’’سکندر آئو دیکھو آج تمہاری اولاد کو تحفظ دیتے دیتے ہم سب نے کیا کچھ جھیلا ہے۔ کاش تم دیکھتے کون کون تمہاری اولاد کے لیے کیا کیا قربان کرگیا ہے۔‘‘ ان کی آنکھوں سے پھر آنسو بہنے لگے تھے۔
صبوحی بیگم ان کو تسلی اور دلاسہ دیتے خود شہوار کے پاس چلی آئی تھیں جبکہ روشی اور وہ گم صم سی ان کو دیکھ رہی تھی۔
’’ایسے کیوں دیکھ رہی ہو تم دونوں؟‘‘ انہوں نے پوچھا تو دونوں نے ایک گہرا سانس لیا۔
’’مجھے کسی بھی بات کی سمجھ نہیں آرہی۔‘‘ روشی نے الجھ کر کہا۔
’’سب سمجھ آجائے گا بس تھوڑا سا انتظار کرلو۔‘‘ ان کا انداز بڑا کمزور سا تھا۔ وہ صدمات سہتے سہتے نڈھال سی ہوگئی تھیں‘ دونوں نے خاموشی سے ان کو دیکھا۔
کچھ دیر بعد صبوحی بیگم واپس آئی تھیں‘ انہوں نے دونوں سے کچھ کہا تو وہ دونوں شہوار سے ملنے چل دی تھیں۔ ان سے مل کر وہ واپس آئیں تو صبوحی بیگم اور تابندہ بی باتیں کررہی تھیں۔
’’ہم سب آج شام مصطفی کی طرف چکر لگاتے ہیں آپ ادھر ہی رکیے گا کہیں اور نہیں جانا پلیز۔‘‘ تابندہ بی نے محض سرہلایا۔
وہ تینوں تابندہ بی سے مل کر ویٹنگ روم کی طرف آگئی تھیں جہاں سے ولید کو ساتھ لے کر ان کو واپس جانا تھا۔
ء…/…ء
تابندہ بی کی طبیعت ہسپتال میں بہت خراب ہوگئی تھی۔ وہ کھڑے کھڑے گر گئی تھیں ان کی بے ہوشی پر سبھی پریشان ہوگئے تھے۔ ڈاکٹر نے کمزوری کا بتا کر آرام کرنے کو کہا تھا تو عباس بھائی ان کو گھر چھوڑ گئے تھے باقی لوگ ہسپتال آجارہے تھے تابندہ بی کے ساتھ مہرالنساء بیگم بھی گھر آگئی تھیں۔ تابندہ بی گھر آئیں تو بابا صاحب نے ان کو بلوابھیجا تھا۔ وہ بڑے مجرمانہ انداز میں ان کے سامنے آبیٹھی تھیں۔
سلام دعا اور حال چال کے بعد دونوں طرف خاموشی چھا رہی تھی۔ تابندہ بی کو اپنی وہ کال یاد آنے لگی جو انہوں نے کچھ ماہ پہلے بابا صاحب کو کی تھی۔
’’کیا آپ جانتے ہیں بابا صاحب کہ شہوار کون ہے؟‘‘ اپنی کال کے اختتام پر انہوں نے کہا تھا۔
’’کون ہے وہ؟‘‘
’’آپ کو اپنے دوست سبحان احمد اور اس کی بیوی حاجرہ کا تو علم ہوگا نا بابا صاحب؟‘‘
’’سبحان احمد…‘‘ وہ چونکے تھے۔
’’سبحان احمد نے ایک بیٹا لے کر پالا تھا کیوں کہ سبحان احمد کی اپنی کوئی سگی اولاد نہ تھی۔‘‘ دوسری طرف جیسے خاموشی چھاگئی تھی۔
’’شہوار کا باپ سکندر اسی سبحان احمد کا لے پالک بیٹا ہے۔‘‘ اور دوسری طرف بابا صاحب کا وجود جیسے ایک دم شدید طوفان کی زد میں آگیا تھا۔
’’سکندر نے اپنے باپ کو قبول کرنے سے انکار کردیا تھا اور قسمت کا کھیل دیکھیں سکندر کی بیٹی نے اپنے دادا کی حویلی میں پرورش پائی اور اپنے چچا کے بیٹے کا نصیب بن گئی۔‘‘
’’تم کون ہو؟‘‘ بابا صاحب نے خوف زدہ ہوکر پوچھا تھا۔
’’میں اسی سکندر کی وہ خالہ زاد ہوں جس کی ماں کا نام مہرالنساء تھا‘ بابا صاحب! میں بہت شرمندہ ہوں ایک عرصہ تک آپ کے درمیان رہی آپ کے درد کو محسوس کرتی رہی لیکن آپ کے لیے کچھ نہ کرسکی۔ میں نے بہت حقائق چھپائے ہیں لیکن میں مجبور تھی کبھی زندگی رہی اور جس کے لیے میں دوبارہ حویلی سے نکلی ہوں وہ سب مجھے دوبارہ میسر آگیا تو میں لوٹ کر آئوں گی اور آپ کے سب سوالوں کے جواب دوں گی۔‘‘
اور آج اسے وہ تمام کھوئے ہوئے رشتے مل گئے تھے اور آج وہ بابا صاحب کے سامنے تھیں‘ بابا صاحب نے کسی کو بھی اندر آنے سے منع کر رکھا تھا اور تابندہ بی مجرمانہ انداز میں سر جھکائے ان کے سامنے بیٹھی ہوئی تھیں۔
’’میں کوئی سوال نہیں کروں گا‘ مصطفی مجھے بہت کچھ بتا چکا ہے میں مزید صبر نہیں کرسکتا تم جو کچھ جانتی ہو آج سب کہہ دو۔ مجھ بوڑھے کی اذیت اور تکلیف سے تم بے خبر نہیں‘ آج میں اس اذیت اور تکلیف سے آزاد ہونا چاہتا ہوں۔‘‘ بابا صاحب نے بہت دیر بعد لب کشائی کی اور تابندہ بی ان کے رکے آنسو ایک بار پھر بہہ نکلے تھے۔
تابندہ بی نے وہ سب کہہ دیا جو کچھ وہ جانتی تھی۔ سکندر کی زندگی سے لے کر لالہ رخ کی ذات تک اور پھر ہمایوں جیسے کرپٹ انسان کی ذلالت سے لے کر خود کے تابندہ بننے تک کی ساری کہانی اور بابا صاحب وہ بہتی آنکھوں سے سب سن رہے تھے اور روتے رہے تھے۔
’’کتنا بدنصیب باپ ہوں جو بیٹے پر بیتنے والی مصیبتوں میں سے کسی ایک کا بھی ازالہ نہ کرسکا بیٹے کی محبت میں‘ میں جب بھی اس کے گھر آیا خود غرضی میں‘ میں نے کسی پر توجہ ہی نہیں دی اس وجہ سے ایک چھت کے نیچے رہتے ہوئے میں تمہیں کبھی پہچان نہیں پایا اور میری پوتی میرے سامنے رہی اور میں پہچان نہ سکا۔‘‘ وہ بے اختیار رو دیئے تھے۔ تابندہ بی بس سر جھکائے ان کے سامنے بیٹھی رہی تھیں۔
’’میرے فیضان کا بیٹا زندہ ہے؟‘‘ انہوں نے کچھ توقف کے بعد پوچھا تھا۔
’’جی! صبوحی نے یہی بتایا ہے مجھے۔‘‘
’’وہ بچہ اس وقت کہاں ہے؟‘‘ انہوں نے پھر پوچھا۔
’’اس بارے میں صبوحی نے مجھے کچھ نہیں بتایا وہ کہہ رہی تھیں کہ وہ سب شام میں چکر لگائیں گے ہوسکتا ہے عیسیٰ بھی ساتھ ہو۔‘‘ بابا صاحب نے محض سر ہلایا۔
’’جب ہمیں ہمارے ملازم نے اطلاع دی تھی کہ سکندر کی کوئی خبر نہیں اور اس کا سارا خاندان گھر میں آگ لگنے سے مرچکا ہے تو ہم بہت اذیت میں رہے تھے۔ اسی شب تم ہمیں ملی تھیں‘ ہم اپنا دکھ کسی سے کہہ بھی نہیں سکتے تھے۔ ملازم سے جو کچھ ہوسکا اس نے کیا لیکن ہمیں کوئی اطلاع نہ مل سکی اور ہم ساری عمر گناہ کا احساس لیے اپنے ضمیر کی عدالت میں تڑپتے‘ جلتے اور مرتے رہے۔‘‘ تابندہ بی کا دل ان کے غم سے سسکنے لگا تھا۔
’’کاش کوئی ہمیں بتا جاتا کہ میرے سکندر کی اولاد ابھی زندہ ہے تو شاید میں کفارے کی کوشش کرتا‘ کوئی سدباب کرتا۔ کتنی اذیت اور بے بسی کی بات ہے میری پوتی میری آنکھوں کے سامنے رہی اور میں بے خبر رہا۔ اس کے خاندان پر لوگ انگلیاں اٹھاتے رہے اور میں خاموش رہا۔‘‘ تابندہ بی نے گہرا سانس لیا تھا۔
’’آپ کی دوسری شادی اور اولاد کے متعلق آپ کا پورا خاندان بے خبر تھا پھر بھلا میں کیسے اس راز کو عیاں کردیتی۔‘‘
’’کاش میرے اختیار میں ہو‘ میں وقت کا پہیہ الٹ سکوں تو اپنے بیٹے کے ہر دکھ درد کا مداوا کردوں۔‘‘ ان کا احساس زیاں ان کو ندامت کے آنسو رولا رہا تھا اور تابندہ بی بے بسی سے ان کو دیکھ رہی تھیں۔
ء…/…ء
ایاز کی پوسٹ مارٹم کی رپورٹ مل گئی تھی‘ مصطفی کو تھوڑی دیر کے لیے آفس آنا پڑا تھا وہاں اور بھی بہت سے امور تھے جو توجہ طلب تھے۔ امجد خان کو بھی بلا بھیجا تھا۔
’’ہاں کیا رپورٹ ہے؟‘‘
’’عبدالقیوم کے گھر کا مکمل طور پر محاصرہ کیا جاچکا ہے‘ اس کی بیوی اور دونوں لڑکیاں ہماری نگاہ میں ہیں۔ عبدالقیوم کے متعلق ہمیں ایک کلیو ملا ہے۔‘‘
’’کیسا کلیو؟‘‘ مصطفی نے سنجیدگی سے پوچھا۔
’’جیسا کہ ان کے گھر کا فون مسلسل ٹیپ کیا جارہا ہے اور اس پر دو دن پہلے اسلام آباد کے نمبر سے ایک کال آئی تھی۔ دو دن پہلے عبدالقیوم پاکستان پہنچا ہے لیکن گھر والوں کو قطعی خبر نہیں کہ وہ کہاں ہے وہ جو فون کال آئی تھی وہ ائیرپورٹ سے تھی۔ اس کے بعد عبدالقیوم کی طرف سے مسلسل خاموشی ہے۔ کال عادلہ نے ریسیو کی تھی جو عبدالقیوم کی بڑی بیٹی ہے اس نے بتایا ہے کہ عبدالقیوم کسی کام کے سلسلے میں پاکستان میں ہے باقی کسی کو خبر نہیں ہے۔ اس وقت وہ کہاں ہے یہ بھی عادلہ کو علم نہیں کیونکہ عبدالقیوم نے کہا تھا کہ بعد میں کال کرے گا اور گھر والوں کو موجودہ پتے کا بتائے گا۔‘‘
’’اوہ… ان لوگوں پر نظر رکھو‘ اسلام آباد کی پولیس کو انفارم کردو کہ یہ شخص مطلوب ہے اور کہیں بھی بھاگنے نہ پائے۔ ہر جگہ تلاشی لی جائے‘ ائیرپورٹ پر ہر جگہ انفارم کردو‘ سیکیورٹی سخت کردو۔ لڑکیوں کے موبائل بھی اپنی تحویل میں لے لو‘ جو بھی کال آئے فوراً ریکارڈ کی جائے۔‘‘
’’یس سر۔‘‘ امجد خان نے فوراً سر ہلایا۔
’’اور ہاں یہ لالہ رخ والا کیس کہاں تک پہنچا؟‘‘ مصطفی نے مزید پوچھا۔
’’سارا کچھ آپ کے سامنے ہے سر! ہر بات کلیئر ہوچکی ہے بس یہ عبدالقیوم ہاتھ لگ جائے ایک بار۔‘‘ مصطفی نے سر ہلایا۔
’’وہ گھر جب جلا تھا پوسٹ مارٹم رپورٹس تو ہوں گی پرانا ریکارڈ سارا نکلوائو اور ان لاشوں کی پوسٹ مارٹم رپورٹس مجھے چاہیے‘ اب یہ رپورٹس ہی فیصلہ کریں گی کہ مرنے والے کون تھے۔‘‘
’’یس سر! میں ریکارڈ نکلواتا ہوں۔‘‘ امجد خان نے فوراً کہا۔
’’مجھے ایک دو دن میں یہ کیس فائنل کرنا ہے ہر ممکن طریقے سے عبدالقیوم کو سرچ کرنے کی کوشش کرنا ہوگی۔ بہت ڈھیل مل چکی اس فیملی کو اب اس فیملی کا ایک ایک فرد پکڑا جائے گا۔‘‘ مصطفی کا انداز ٹھوس اور اٹل تھا‘ امجد خان نے فوراً سر ہلایا۔
مصطفی امجد خان کو کچھ اور بریفنگ دیتا رہا تھا جس کے بعد امجد خان وہاں سے چلا گیا تھا جبکہ مصطفی پر سوچ انداز میں اپنے سامنے ایک فائل کھول کر اس کو دیکھنے لگا تھا۔
ء…/…ء
وہ سب گھر آئیں تو صبوحی بیگم نے کال کرکے وقار صاحب‘ احسن سب کو بلالیا تھا۔ ضیاء صاحب پہلے ہی موجود تھے‘ ولید بھی اس صورت حال میں وہاں موجود تھا۔ صبوحی بیگم نے سب کو دیکھا اور پھر روشی کو‘ انا اور روشی دونوں عجیب سی کیفیت کا شکار تھیں دونوں کچھ بھی سمجھنے سے قاصر تھیں۔
’’کیا بات ہے صبوحی کیوں اس طرح ایمرجنسی میں سب کو بلایا ہے تم نے؟‘‘ ضیاء صاحب صبوحی بیگم کے انداز دیکھ کر ٹھٹکے تھے۔
’’میں آج افشاں بھابی سے ملی ہوں۔‘‘ وہاں موجود ہر فرد چونکا تھا۔
’’افشاں سے…‘‘ ضیاء صاحب کو لگا کہ جیسے ان کے سینے میں شدید درد نے انگڑائی لی ہو۔
’’ہاں افشاں بھابی سے۔‘‘ صبوحی بیگم کی آواز رندھی۔
’’کیسی باتیں کررہی ہو صبوحی! وہ تو مر…‘‘ وقار صاحب نے کچھ کہنا چاہا تھا جب کہ صبوحی بیگم نے ان کی بات کاٹ دی تھی۔
’’وہ مری نہیں بلکہ زندہ ہیں‘ میں خود ان سے ملی ہوں بلکہ روشی اور انا بھی ان سے ملی ہیں۔‘‘ انہوں نے ضیاء صاحب کے پاس بیٹھ کر ان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا‘ سبھی الجھے ہوئے تھے جبکہ روشی کی چہرے پر آنسو کی ہلکی لکیریں بننے لگی تھیں۔ ولید کا چہرہ ایک دم سنجیدہ ہوا تھا‘ اسے لگ رہا تھا کہ برسوں بعد وہی انکشاف ہونے والا تھا۔
’’افشاں…!‘‘ یہ نام وہ کبھی نہیں بھول سکتا تھا‘ وہ تو برسوں سے اس نام کی گونج محسوس کرتا رہا تھا‘ ولید نے لب بھینچ لیے تھے۔
’’شہوار جو انا کی دوست ہے اس کی جو ماں ہے وہی تو ہماری افشاں بھابی ہیں۔‘‘ وقار صاحب اور ضیاء صاحب بے یقین تھے۔
’’یہ کیسے ہوسکتا ہے؟‘‘ ضیاء صاحب کی آواز ڈوبنے لگی تھی۔
’’میں خود اس کو دیکھ کر مل کر اور باتیں کرکے نہ آئی ہوتی تو میں بھی یہی کہتی کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے لیکن یہ سچ ہے‘ افشاں بھابی زندہ ہیں۔‘‘ صبوحی بیگم نے بھائی کا ہاتھ تھاما تھا۔
’’اور پتا ہے شہوار کون ہے؟‘‘ احسن حیرت زدہ جبکہ وقار صاحب اور ضیاء صاحب گم صم۔
’’عیسی کی چھوٹی بہن عائشہ ہی شہوار ہے۔‘‘ صبوحی بیگم نے ولید کو دیکھا‘ ولید کا چہرہ خطرناک حد تک سنجیدہ ہوگیا تھا۔
’’لالہ رخ اور سکندر بھائی کی بیٹی… ہمارے ولید کی بہن…‘‘ ولید نے مٹھیاں بھینچ لی تھیں جبکہ روشی اور انا نے بے یقین نظروں سے پہلے صبوحی بیگم اور پھر ولید کو دیکھا تھا۔
’’کیا کہہ رہی ہو تم‘ کہاں ہیں افشاں بھابی تم ان سے ملی ہو تو ان کو ساتھ کیوں نہیں لائیں۔‘‘ وقار صاحب کا ضبط جواب دے گیا تھا‘ انہوں نے کہا تو صبوحی بیگم نے سر ہلایا۔
’’ولید کسی بھی بات سے باخبر نہیں تھا اس طرح شہوار بھی‘ میں نے سوچا پہلے ولید کو بتادوں اس کے بعد سب شام میں ان کی طرف چلتے ہیں۔ افشاں بھابی مصطفی کی طرف ہیں وہ تو خود سب سے ملنے کو بے چین ہیں۔‘‘
’’میں سب جانتا ہوں۔‘‘ صبوحی بیگم کی بات کے جواب میں ولید نے کہا تو سبھی ایک پل کو ساکت ہوگئے تھے۔
’’ولید…‘‘ احسن نے اس کے کندھے پر بے اختیار ہاتھ رکھا۔
’’جب ہمارا گھر جلا تھا میں اس وقت عمر کے جس دور میں تھا وہاں ایسے واقعات کبھی نہیں بھولتے‘ کسی بھیانک خواب کی طرح‘ ساری عمر ذہن کی سلیٹ پر چسپاں ہوجاتے ہیں۔ بابا نے جس طرح حالات سے سروائیو کرتے مجھے یہاں سے نکالا اور باہر لے گئے میں کسی بھی بات سے بے خبر نہ تھا۔‘‘ ولید نے بہت حوصلے اور ضبط سے کہا۔
’’ولید…‘‘ صبوحی بیگم بے اختیار رو پڑی تھیں۔
’’نہ میں اپنے باپ کی شکل بھول پایا ہوں اور نہ ہی اپنی ماں کی لیکن مجھے نہیں علم تھا کہ شہوار ہی میری بہن ہے۔ بابا کی طرح میں نے بھی یقین کرلیا تھا کہ ان مرنے والوں میں سبھی مرچکے ہیں‘ میری دونوں بہنیں‘ میری ماں اور افشان آنٹی بھی۔‘‘ ولید کا ضبط کمال کا تھا۔ احسن نے اس کا ہاتھ مضبوطی سے تھام رکھا تھا۔
’’بابا نے مجھے بیٹے سے بڑھ کر چاہا اور پالا میں بھلا ان کی محبتوں کو کیسے فراموش کردیتا لیکن میرا سارا بچپن عجیب سے خوف میں گزرا تھا‘ مجھے راتوں کو نیند نہیں آتی تھی میں ہر وقت اپنے گھر کو شعلوں میں لپٹے دیکھتا تھا اور پھر میں نے ان سب کو جان بوجھ کر بھلانا شروع کردیا‘ لیکن یہاں پاکستان آنے کے بعد ایک بار پھر وہ سب یاد آنے لگا اور پھر ایک دن میں نے اس شخص کو دیکھا تھا وہ شخص بالکل ویسا ہی تھا جیسا کہ میرے بچپن میں پرانے گھر میں گھس کر میری ماں کو دھمکاتا تھا۔ عبدالقیوم وہ نام بدل چکا تھا لیکن میں نے اسے پہچان لیا تھا۔ میرا حافظہ چہروں کو یاد رکھنے کے معاملے میں بہت شارپ ہے مجھے بچپن کے بہت سے چہرے ابھی تک نہیں بھولے‘ یہ تو میرے اپنے تھے ان کو بھلا کیسے بھول جاتا۔‘‘ ولید نے سر جھکائے دل میں موجود ہر بات کہہ ڈالی سبھی گم صم اور افسردہ تھے۔
’’ولید ادھر آئو۔‘‘ ضیاء صاحب نے پکارا تو وہ اٹھ کر ان کے پاس جا بیٹھا‘ انہوں نے محبت سے ساتھ لگا کر پیشانی چومی‘ ان کی آنکھوں میں آنسو تھے۔
’’تم میرے بیٹے ہو یہ بات کبھی مت بولنا۔‘‘ اور ولید نے محض سر ہلایا اس کے بعد صبوحی بیگم نے وہ سب کہہ ڈالا جو تابندہ بی نے بتایا تھا ہر بات ہر لفظ‘ ہر چیز… سبھی گم صم صبوحی بیگم کو سن رہے تھے ولید نے ضبط سے لب دانتوں تلے دبا رکھے تھے۔ ضیاء صاحب کے دل کا درد بڑھتا جارہا تھا‘ وقار صاحب‘ احسن‘ انا سبھی حیرت زدہ تھے اور روشی اس کے چہرے پر محض آنسو تھے۔
ء…/…ء
بابا صاحب کی طبیعت کچھ ناساز تھی مہرالنساء بیگم نے ڈاکٹر کو بلالیا تھا۔ بابا صاحب مصطفی سے ملنا چاہتے تھے‘ مہرالنساء بیگم نے مصطفی کو کال کردی تھی۔ کچھ دیر بعد مصطفی آگیا تھا‘ بابا صاحب اپنے کمرے میں لپٹے ہوئے تھے اور تابندہ بی ان کے پاس تھیں۔ مصطفی کو ساری صورت حال سمجھنے میں کچھ پل لگے تھے‘ اس نے ایک ناراض سی نگاہ تابندہ بی پر ڈالی تھی۔
’’ادھر آئو۔‘‘ بابا صاحب نے پاس بلالیا‘ مہرالنساء بیگم بھی وہیں تھیں۔
’’تم جانتے تھے کہ تابندہ کہاں ہے؟‘‘ بابا صاحب نے پوچھا تو مصطفی نے ایک گہرا سانس خارج کیا۔
’’جی بابا صاحب!‘‘
’’تو پھر مجھے کیوں نہیں بتایا؟‘‘ انہوں نے نحیف آواز میں پوچھا۔ مہرالنساء بیگم نے الجھ کر دیکھا یعنی تابندہ بی خود نہیں آئی تھیں مصطفی کہیں سے لے کر آیا تھا۔
’’یہ جب غائب ہوئی تھیں تب میں شہوار کے فادر کے آئی ڈی کارڈ پر موجود ایڈریس پر گیا تھا۔ وہ لوگ باہر شفٹ ہوچکے تھے‘ ان کے کچھ رشتہ داروں کا ایڈریس ملا تھا‘ ان سے ملاقات ہوئی تو علم ہوا کہ سکندر صاحب تو سبحان احمد کے حقیقی بیٹے تھے ہی نہیں سبحان اور ان کی بیوی کی وفات کے بعد خاندان والوں نے سکندر کو نکال دیا تھا اور سکندر کہیں چلا گیا تھا اس کا کسی کو بھی علم نہیں۔‘‘ مصطفی نے تابندہ بی کو دیکھا تھا انہوں نے گہرا سانس لیا جبکہ مہرالنساء بیگم الجھی ہوئی تھیں۔
’’تب مجھے یہ کہانی بڑی عجیب سی لگی پھر ایک بار بوا جی نے شہوار کو کال کی تھی۔ وہ پی سی او کا نمبر تھا اس ایریا سے متعلق میں نے معلومات لینا شروع کردی اس کے بعد ان کی دوسری غلطی یہ رہی کہ انہوں نے آپ کو کال کرکے وہ سب کہا جو آپ نے مجھے بتایا تھا۔‘‘ بابا صاحب چپ تھے جبکہ تابندہ بی سنجیدہ۔
’’گائوں کے اس نمبر پر آنے والی کال کا ریکارڈ حاصل کرنا مشکل نہ تھا اور پھر لوکیشن ٹریس کرتے میں جلد ہی اس گھر تک پہنچ گیا جہاں یہ موجود تھیں اس سلسلے میں میں نے اپنے ڈیپارٹمنٹ کی بہت ہی لائق خاتون انسپکٹر شہناز کی مدد لی تھی اور پھر مجھے علم ہوگیا تھا کہ سکندر صاحب کی خالہ زاد یہاں موجود ہیں۔‘‘ تابندہ بی نے بہت کرب سے ایک گہرا سانس لیا۔
’’میں چاہتا تو ان تک پہنچ سکتا تھا لیکن میں سب کچھ جاننا چاہتا تھا کہ انہوں نے وہ سب کیوں چھپایا اور یہ سب کیوں کیا؟‘‘ تابندہ بی ابھی بھی خاموش تھیں۔ ’’ان دنوں میں ایک اور پرانے کیس پر کام کررہا تھا اور اتفاقاً ایک دن اس کیس کی فائل اسٹڈی کرتے اس میں موجود کچھ نام ایک دو تصویریں ایسی تھیں کہ مجھے لگا کہ اس کیس کا تعلق تابندہ بوا سے ہے۔ تابندہ بوا یعنی سکندر صاحب سے اور پھر میں نے اس کیس پر کام کرنا شروع کردیا اور پھر مجھ پر بہت سے انکشافات ہوتے چلے گئے تھے۔‘‘ مصطفی نے سنجیدگی سے تابندہ بی کو دیکھا تھا‘ بابا صاحب بھی افسردہ تھے۔ کہانی کتنی الجھی ہوئی تھی لیکن بالآخر مصطفی اس اصل سرے تک پہنچ ہی گیا تھا لیکن وہ کچھ اسرار ابھی بھی باقی تھے جن سے وہ بے خبر تھا۔
’’شام کو کچھ لوگ آرہے ہیں مصطفی بیٹا! تم گھر پر رہنا‘ یوں سمجھ لو تمہارے اس کیس میں موجود کچھ اور کڑیاں بھی ہیں جن سے تمہیں متعارف کروانا ہے۔‘‘ تابندہ بی نے کہا تو مصطفی نے چونک کر دیکھا۔
’’کیسی کڑیاں… کون لوگ ہیں وہ؟‘‘
’’شام تک انتظار کرلو خودبخود علم ہوجائے گا اور بابا صاحب میں جانتی ہوں میں نے بہت کچھ چھپایا اور بہت سی باتوں میں غلط بیانی کی تھی لیکن شہوار کے باپ کے معاملے میں جھوٹ نہیں بولا تھا وہ آپ کا خون تھی اور آپ کے خاندان میں ہی رہنے دیا اسے‘ اب آپ کا فرض بنتا ہے ساری اولاد کے سامنے اسے قبول کرکے اسے اس گالی سے بچالیں جو آپ کا سارا خاندان اسے لاوارث اور بے شناخت کہہ کردیتا رہتا تھا۔‘‘ مصطفی خاموش تھا جبکہ مہرالنساء بیگم حیرت زدہ تھیں۔
’’کوئی مجھے بھی بتائے گا کہ یہ سب کیا ہورہا ہے… کس کی بات کررہے ہیں آپ سب؟‘‘ انہوں نے سبھی کو دیکھا جبکہ تابندہ بی گہرا سانس لیے کھڑی ہوگئی تھیں۔
’’میں بہت تھک چکی ہوں کچھ دیر آرام کروں گی شام میں مہمان آئیں تو مجھے بلالیجیے گا۔‘‘ تابندہ بی کہہ کر چلی گئی جبکہ مہرالنساء بیگم نے الجھی نظروں سے مصطفی اور پھر بابا صاحب کو دیکھا تھا۔
’’صبر کرو بیٹا! شام میں تمہیں سب پتا چل جائے گا۔‘‘ بابا صاحب کہہ کر آنکھیں موند گئے جبکہ مصطفی کسی گہری سوچ میں غرق نجانے اب کون سی گتھی سلجھارہا تھا‘ مہرالنساء بیگم نے الجھ کر اسے دیکھا تھا۔
ء…/…ء
ضیاء صاحب کی حالت بڑی عجیب سی ہورہی تھی‘ بی پی ہائی ہوگیا تھا انا نے ان کو میڈیسن دی تھی۔ آج کا دن ہی عجیب سا تھا‘ انکشافات پر انکشاف ہورہے تھے۔ وہ کبھی سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ ولید اس کا کزن نہیں ہوگا اور شہوار اس کی کہانی اور عجیب تھی عجیب تر تھی۔
مغرب کے وقت وہ سبھی تیار تھے ایک گاڑی میں احسن‘ روشی اور انا تھے جبکہ دوسری میں ولید‘ وقار صاحب‘ صبوحی بیگم اور ضیاء صاحب تھے۔ مغرب کی نماز ہوچکی تھی جب وہ لوگ وہاں پہنچے تھے۔
عائشہ اور عباس شہوار کے پاس ہسپتال میں تھے جبکہ باقی سبھی گھر میں تھے شام سے پہلے صبا اور سجاد بھی لائبہ کو ڈسچارج کروا کر گھر لے آئے تھے۔ اس وقت زاہد کی بھی مکمل فیملی وہاں آچکی تھیں۔
تابندہ بی الجھی ہوئی تھیں اور بابا صاحب گم صم‘ مصطفی بھی آنے والوں کا منتظر تھا لیکن جب ولید اور اس کے گھر والوں کو آتے دیکھا تو چونکا وہ لوگ تو کچھ مہمانوں کے منتظر تھے لیکن یہ تو اس کے دوست کی فیملی تھی۔ وہ سمجھا کہ یہ لوگ عیادت کو آئے ہیں لیکن اس وقت چونکا جب سب ایک دوسرے کے گلے ملے تھے اور تابندہ بوا ولید کے والد ضیاء صاحب کے سامنے جاکر ٹھہر گئی تھیں‘ بڑا عجیب سا ماحول تھا۔
’’بھائی دیکھا نا میں سچ کہہ رہی تھی کہ یہ افشاں بھابی ہی ہیں۔‘‘ صبوحی بیگم کی آواز نے وہاں موجود مہمانوں کو ساکت کردیا تھا۔ سبھی رو رہے تھے‘ مصطفی چونکا۔
’’تو کیا وہ یہی مہمان تھے جن کا بوا نے آنے کا ذکر کیا تھا۔‘‘
’’میں نے پاگلوں کی طرح تمہیں تلاش کیا تھا افشاں!‘‘ ضیاء صاحب کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔
’’اور میں نے بھی خطوط لکھ کر ان کے جواب کا انتظار کیا تھا۔‘‘ جواباً تابندہ بی نے کہا۔
’’لیکن تم نہ ملیں۔‘‘ ضیاء صاحب نے ایک آہ بھری۔
’’اور آپ نے کسی خط کا جواب نہ دیا۔‘‘
’’میں سمجھتا رہا تم بھی جل کر مر جانے والوں میں شامل تھیں۔‘‘ ضیاء صاحب نے تابندہ بی کے ہاتھ تھام لیے۔
’’اور میں سمجھتی رہی آپ مجھے فراموش کرگئے ہیں۔‘‘
’’ہماری قسمت نے ہمارے مقدر میں امتحان لکھ دیا تھا۔‘‘ ضیاء صاحب کے آنسو بے اختیار تھے۔
’’یہ امتحان ہماری ساری زندگی کھا گیا۔‘‘ تابندہ بی کی ہچکیاں بے اختیار تھیں۔ روشی اور صبوحی بیگم نے تابندہ بی کو تھام لیا تھا۔ وہ روشی کے گلے لگ کر شدت سے روئی تھیں۔ مصطفی حیرت سے گنگ تھا تو احسن نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
’’افشاں بوا ہماری ممانی ہیں اور ولید شہوار کا بھائی یعنی سکندر صاحب کا بیٹا۔‘‘ مصطفی نے بے یقینی سے دیکھا تو احسن نے اثبات میں سر ہلادیا۔
’’لیکن وہ تو مر چکا تھا۔‘‘ مصطفی نے جو فائل اسٹڈی کی تھی اس کے مطابق تو وہ بچہ مر چکا تھا۔
’’لیکن ولید زندہ ہے کیا تمہیں نہیں لگتا ولید کی شکل سکندر صاحب سے بہت ملتی ہے۔ ماما نے پرانی تصویریں دکھائی ہیں ولید اپنے باپ کی کاپی ہے۔‘‘ مصطفیٰ چونکا۔ ولید نے ضیاء صاحب کو کندھوں سے تھام رکھا تھا۔
’’یہ عیسیٰ ہے، سکندر کا بیٹا۔‘‘ ضیاء صاحب تابندہ بی سے اس کا تعارف کرا رہے تھے اور ولید نے آگے بڑھ کر تابندہ بی کے سامنے سر جھکا دیا اور تابندہ بی وہ بے اختیار ولید سے لپٹ گئی تھیں۔
مصطفی کچھ نہ سمجھ کر بھی فوراً سنبھل گیا تھا۔ اس نے ایک طرف آنسو بہاتے صوفے پر بیٹھے بابا صاحب کو دیکھا تھا وہ یک ٹک ولید کو دیکھ رہے تھے۔ مصطفی کو یاد آیا بابا صاحب ولید کو جب بھی دیکھتے تھے تو چونک جاتے تھے تو کیا وہ چونکنا اس کشش کے سبب تھا۔ صبوحی بیگم سب کچھ بتا کر لائی تھیں اب تو صرف ملنے کا دن تھا۔ تابندہ بی سے مل کر ولید بابا صاحب کے سامنے جا رکا تھا۔
’’کیسے ہیں بابا صاحب۔‘‘ بابا صاحب لاٹھی ٹیکتے کھڑے ہوئے تھے لیکن لڑکھڑا گئے تھے مصطفی فوراً آگے بڑھا جبکہ ولید نے ان کو تھام لیا تھا۔
مصطفی نے دوسری طرف سے آکر کندھوں سے تھاما تو ولید نے مصطفی کو دیکھا ولید کی آنکھیں سرخ انگارہ ہورہی تھیں، ضبط سے اس نے ہونٹ بھینچ رکھے تھے۔ شاہزیب صاحب جو بہت خاموشی سے سب دیکھ رہے تھے وہ بھی قریب آر کے تھے۔
’’میں سکندر کا بیٹا ہوں شہوار کا بھائی اور آپ کا پوتا۔‘‘ کچھ توقف کے بعد ولید نے کہا تو وہاں موجود کچھ لوگوں کے علاوہ ہر ذی نفس چونکا تھا۔
’’کیا کہہ رہے ہو تم ولید؟‘‘ شاہزیب صاحب نے ناگواری سے کہا۔
’’یہ سچ ہے بے شک بابا صاحب سے پوچھ لیں۔‘‘ ولید کا ضبط کمال کا تھا۔
’’میرا فیضان۔‘‘ بابا صاحب نے بلکتے ہوئے ولید کو اپنے ناتواں بازوئوں میں بھر لیا اور وہاں موجود بابا صاحب کے خاندان کا ہر فرد گم صم ہوگیا تھا۔
بابا صاحب شدت سے روئے اور پھر روتے روتے وہ ولید کے بازوئوں میں گرے تو سبھی خوف زدہ ہوگئے تھے۔ ولید نے فوراً ان کو بازوئوں میں سنبھالا تھا۔ مصطفیٰ بھی ساتھ تھا۔ ولید نے فوراً انہیں صوفے پر لٹادیا۔
’’انا بابا صاحب کو دیکھو کیا ہوا ہے۔‘‘ احسن نے کہا تو انا فوراً قریب آئی تھی۔ اس نے بابا صاحب کو دیکھا ہلایا جلایا۔
’’مجھے لگتا ہے صدمے سے بے ہوش ہوگئے ہیں۔‘‘
’’میں ڈاکٹر کو کال کرتا ہوں۔‘‘ شاہزیب صاحب نے فوراً موبائل نکالا تھا۔
مصطفی بابا صاحب کو ان کے کمرے میں لے آیا تھا۔ کچھ دیر بعد ڈاکٹر صاحب آگئے تھے۔ آتے ہی انہوں نے ٹریٹمنٹ کیا۔ سبھی لائونج میں پریشانی سے ٹہل رہے تھے۔ مختلف باتیں اور مختلف سوالات تھے۔ کچھ دیر بعد ڈاکٹر نے اطمینان دلاتے ان سب کو ریلیکس ہونے کا کہا بابا صاحب صدمے سے نڈھال ہوکر بے ہوش ہوئے تھے۔ بابا صاحب ہوش میں آگئے تھے لیکن ان کی طبیعت اس قابل نہ تھی۔ کہ کسی سے بات کرتے ڈاکٹر نے سکون کا انجیکشن لگا دیا تھا۔
’’ان کا ذہن اس وقت صدمے میں ہے یہ کچھ دیر آرام کرلیں بھرپور نیند لے کر ریلیکس فیل کرلیں تب ان سے ملیے گا۔‘‘ ڈاکٹر صاحب یہ کہہ کر چلے گئے تھے۔
مہرالنساء بیگم اور زہرہ پھوپو صبوحی بیگم اور تابندہ بی کو گھیر چکی تھیں اور پھر جو کچھ سننے کو ملا تھا وہ ایسا تھا کہ سبھی بے یقین تھیں۔ مردوں کو بھی ساری کہانی کا علم ہوچکا تھا تابندہ بی نے کچھ بھی نہ چھپایا‘ اب چھپانے کا کوئی فائدہ ہی نہ تھا۔ بابا صاحب جس شرعی رشتے کو گناہ کی طرح چھپاتے رہے تھے وہ آخر کار آج بے نقاب ہوگیا تھا ان کی ساری اولاد اس نئے انکشاف پر گم صم تھی۔
’’تو بابا صاحب کے ان خوابوں کا یہ راز تھا۔‘‘ شاہزیب صاحب کا دل بوجھل ہوا۔
مصطفی تو ولید اور شہوار کے اس نئے رشتے کا جان کر خوش بھی تھا اور حیرت زدہ بھی۔ دنیا کتنی عجیب سی ہے کیا کچھ ہوتا ہے یہاں اور بالآخر سچ کبھی چھپ نہیں پاتا۔ ولید وہاں بہت دیر تک رکا رہا۔ رات گئے وہ لوگ وہاں سے واپسی کے لیے اٹھے تھے تو صبوحی بیگم نے تابندہ بی کو بھی ساتھ چلنے کا کہا تھا۔ تابندہ بی نے مصطفی کو دیکھا تھا وہی انہیں یہاں دوبارہ لایا تھا۔
’’یہ آپ کے حقیقی رشتے ہیں میں بھلا کیسے روک سکتا ہوں۔‘‘ ان کی نظروں کا مفہوم سمجھتے مصطفی نے کہا۔
’’کل اسپتال ضرور چکر لگا لیجیے گا شہوار آج آپ کا بار بار پوچھ رہی تھی وہ نہیں جانتی کہ آپ اس کی حقیقی ماں نہیں ہیں۔‘‘ مہرالنساء بیگم نے بھی کہا۔
’’ایسا مت کہیں بھلے میں اس کی ماں نہیں ہوں لیکن میں نے اسے حقیقی ماں کی طرح پالا ہے اور اس بات کی سب سے بڑی گواہ آپ ہی ہیں۔‘‘ تابندہ بی رو پڑی تھیں‘ مہرالنساء بیگم نے انہیں گلے سے لگا لیا۔
’’کل ملاقات ہوتی ہے پھر ولید اگر رکنا چاہے تو ویلکم۔‘‘ ضیاء صاحب نے مصطفی کے ساتھ کھڑے ولید کو دیکھ کر کہا تو ولید خود بھی ابھی کچھ دیر مصطفی کے پاس رکنا چاہتا تھا۔ اس نے مصطفی کو دیکھا اور اثبات میں سر ہلا دیا۔
’’میں آج رات ادھر ہی رکوں گا۔‘‘ وہ لوگ سب سے مل کر رخصت ہوگئے اور یہ رات مصطفی کے سارے خاندان پر بہت بھاری تھی۔ اس رات کوئی بھی نہ سو سکا تھا۔
ء…/…ء
گھر آنے کے بعد سبھی عجیب سی کیفیت سے دوچار تھے۔ رات بہت بیت چکی تھی انا نے سب کو چائے بنا کر پلائی تھی۔ روشی کتنی دیر تک ماں سے لپٹی بیٹھی رہی تھی۔ ضیاء صاحب گومگو کیفیت میں تھے کچھ دیر بعد سبھی سونے کے لیے اٹھ گئے تو روشی افشاں کو اس کمرے میں لے آئی تھی جہاں ضیاء صاحب بھی موجود تھے۔ روشی کچھ دیر ٹھہر کر چلی گئی تھی جبکہ کمرے میں ضیاء صاحب اور افشاں دونوں موجود تھے۔
’’مجھے سمجھ نہیں آرہا قسمت کی اس ستم ظریفی کو کیا نام دوں، جب ہم جدا ہوئے تو ہمارے پاس روشی ایک ننھی سی بچی تھی اور جذبات جوان تھے اور آج میری روشی خود ایک اور زندگی کو جنم دینے والی ہے۔‘‘ ضیاء صاحب افشاں کے پاس بیٹھ گئے تھے۔ لہجے میں آزردگی گھلی ہوئی تھی افشاں نے سر ہلایا تھا۔
’’میں نے زندگی کے ہر لمحے میں آپ سب کو بہت مس کیا شاید ہی کوئی لمحہ ایسا ہو جس میں آپ اور اپنی بیٹی کو نہ یاد کرسکی ہوں شہوار کی صورت میں مجھے روشی ملی تھی لیکن میری ممتا پھر بھی تشنہ لب رہی۔‘‘ آزردگی تو افشاں کے لہجے میں بھی تھی۔
’’کاش وہ تمام خطوط مجھے مل جاتے تو یہ جو دوریاں برسوں حائل رہیں یہ کب کی مٹ چکی ہوتیں۔‘‘ ضیاء صاحب گزرے وقت پر پچھتا رہے تھے افشاں نے ان کے دونوں ہاتھ تھام لیے۔
’’اگر وہ وقت درمیان میں نہ آتا تو ہمیں کیسے علم ہوتا کہ ہم ایک دوسرے کے لیے کسی قدر اہم ہیں شاید قسمت کا یہی فیصلہ تھا اور قدرت کو ان دونوں بچوں کی زندگی مقصود تھی جو ہم دونوں کو تنہا کرتے ان کا وسیلہ بنا دیا۔‘‘
’’بے شک اللہ کے ہر کام میں حکمت ہوتی ہے اس کی حکمت بھی پتا چل جائے گی۔‘‘ افشاں مسکرائی اور ضیاء صاحب کے کندھے پر اپنا سر رکھ دیا۔ یوں جیسے برسوں کی مسافت کے بعد آج کوئی گھنا سایہ میسر آیا ہو۔
افشاں نے آنکھیں موندلی تھیں اور ضیا صاحب نے بہت نرمی سے ان کا ہاتھ دونوں ہاتھوں میں لے کر دبایا تھا۔
ء…/…ء
اس گھر میں کوئی بھی نہیں سویا تھا۔ گیسٹ روم میں ولید اور مصطفی دونوں جاگ رہے تھے رات بیتی جارہی تھی دونوں نے ایک ساتھ فجر کی نماز پڑھی۔ مصطفی کو چائے کی شدید طلب ہورہی تھی وہ کمرے سے باہر نکلا تو صبا اپنی بیٹی کو گود میں لیے کمرے سے نکل رہی تھی۔
’’فارغ ہو تو دو کپ اسٹرانگ سی چائے بنا کر بھیج دو۔‘‘
’’جی بھائی میں ابھی بناتی ہوں۔‘‘
’’گیسٹ روم میں بھیج دینا۔‘‘ وہ واپس اس کمرے میں آگیا تھا۔ کچھ دیر بعد صبا خود ٹرے اٹھائے چلی آئی تھی۔
’’تم کسی ملازم کو بھیج دیتی۔‘‘
’’سبھی اپنے اپنے کوارٹرز میں ہیں۔‘‘ صبا چائے کی ٹرے تھما کر چلی گئی۔ مصطفی نے چائے کا مگ ولید کو تھمایا تو اس نے خاموشی سے تھام لیا۔
’’مجھے اپنا بچپن کبھی نہیں بھولا ایک ایک بات ہر لفظ یاد تھا لیکن مجھے یہ گمان تک نہ تھا کہ میرا تم لوگوں سے اتنا قریبی تعلق ہوگا۔‘‘
’’بابا صاحب نے مجھے جب وہ ساری حقیقت بتائی تو میرا دل ان کے اس ان دیکھے بیٹے فیضان کے لیے دکھا تھا اور پھر جب انہوں نے بتایا کہ وہ اس دنیا میں نہیں ہے تو اور بھی دکھ ہوا تھا لیکن کہانی کے اس رخ سے مجھے بھی انہوں نے آگاہ نہیں کیا تھا انہوں نے سب کچھ بتایا تھا لیکن فیضان چچا کی موت کس طرح واقع ہوئی اس کے متعلق کچھ نہ کہا تھا اور نہ ہی فیضان چچا کی اولاد کے بارے میں بتایا تھا۔ اب یہ کیس میرے پاس ہے اس کے مجرموں کو میں ہر حال میں کیفر کردار تک پہنچا کر رہوں گا کسی کو بھی نہیں چھوڑوں گا جو جو ملوث رہا ہے سب کو کورٹ میں گھسیٹوں گا اب کسی کو بھی معافی نہیں ہوگی۔‘‘ مصطفی کا انداز اٹل تھا۔
’’اپنے گھر کو جلتے ہوئے شعلوں میں گھرے دیکھنا اور پھر اپنے ماں باپ بہن بھائیوں کو ہمیشہ کے لیے کھو دینا کتنا اذیت و درد ناک ہوتا ہے اس کا اندازہ کوئی کبھی بھی نہیں کرسکتا۔ بابا نے مجھے بہت محبت دی‘ میرے لیے اتنا کچھ کیا۔ اپنا نام دیا میرے تحفظ کے لیے ہر قربانی دی اور پھر مجھے خاندان میں اپنے بیٹے کی حیثیت سے متعارف کرایا ان کے مجھ پر اس قدر احسانات ہیں کہ میں عمر بھر نہیں بھول پائوں گا۔ چند سال کے بچہ کو وہ انگلی تھام کر اس مقام تک لائے اور میرے لیے والدین سے بڑھ کر تھے اور رہیں گے۔‘‘ ولید نے چائے کے سپ لیتے ہوئے کہا۔
’’اور تم نے اپنے بارے میں کبھی ایک لفظ تک نہ کہا ہم ایک طویل عرصہ ساتھ رہے‘ کبھی بھی اپنے دکھ سے آگاہ نہ کیا۔‘‘
’’میں نے تو کبھی بابا کو بھی احساس نہ ہونے دیا تھا کہ میں سب جانتا ہوں میں نے اپنے بچپن کو اپنے دل میں راز کی طرح دفنا لیا تھا یہ سب نہ ہوتا تو شاید میں اب بھی کبھی نہ بولتا۔‘‘
’’ان شاء اللہ اب سب ٹھیک ہوجائے گا اب کسی کے ساتھ کوئی ناانصافی نہیں ہوگی، میں بابا اور میرا سارا خاندان تمہیں سپورٹ کرے گا۔‘‘ مصطفی کا انداز پر عزم تھا۔
’’مجھے سپورٹ نہیں چاہیے مجھے بس اس معاشرے میں اپنا مقام اور حوالہ چاہیے۔ میرے والدین مر چکے ہیں لیکن مجھے ابھی جینا ہے بابا نے میرے لیے اتنا کچھ کیا ہے میرے لیے وہی سب کچھ ہیں۔‘‘ ولید کے الفاظ پر مصطفی فی الحال خاموش رہا۔ وہ دونوں بہت دیر تک بات چیت کرتے رہے۔ باہر اب ناشتے کی تیاریاں ہورہی تھیں۔
مصطفی‘ ولید اور مہرالنساء بیگم نے اسپتال جانا تھا یہ تینوں جلدی نکل آئے تھے عائشہ اور عباس وہیں تھے ان کے جانے کے بعد وہ دونوں گھر چلے آئے تھے۔
شہوار جاگ رہی تھی ولید جب کل آیا تھا تو باہر سے ہی عیادت کر کے چلا گیا تھا۔ لیکن اس وقت وہ مصطفی کے ساتھ روم میں آیا تھا۔ شہوار کے ساتھ اس کا آج جو رشتہ تھا دنیا کی کوئی بھی طاقت اب اسے اس کے پاس آنے سے نہیں روک سکتی تھی۔
’’کیسی ہو شہوار؟‘‘ آج لہجے میں بے تکلفی‘ محبت واپنائیت تھی۔
’’ٹھیک ہوں۔‘‘ وہ سنجیدہ تھی۔
ولید آگے بڑھ کر اسے ساتھ لگانا چاہتا تھا اس کے وجود میں اپنے ماں باپ کو محسوس کرنا چاہتا تھا۔ یہ فطری سا احساس تھا لیکن ابھی شہوار کسی بھی بات سے بے خبر تھی لہٰذا ولید خود پر ضبط کیے بیٹھا رہا۔ پھر احسن کی کال آئی تو مصطفی بھی ساتھ ہی کھڑا ہوگیا تھا۔
’’میں تمہیں گھر ڈراپ کردوں گا اور پھر خود آفس چلا جائوں گا ماں جی ادھر ہی ہیں گھر سے کوئی اور بھی آجائے گا۔‘‘
’’احسن بتا رہا تھا کہ گھر سے سبھی لوگ اِدھر آرہے ہیں میں ان کے ساتھ چلا جائوں گا تم ایزی ہوکر اپنے آفس جائو۔‘‘ بارہ بجے کے قریب انا، صبوحی بیگم، روشی اور افشاں ضیاء صاحب اور احسن کے ساتھ آئی تھیں انا اور افشاں کے سبب شہوار کا دل بہل گیا۔
وہ جو شدید ڈپریشن خود ترسی محرومی اور خاموشی کے حصار میں قید تھی۔ ان سب کی آمد کے سبب کچھ بہتر ہوئی تھی۔ وہ سارا دن ان لوگوں کا ایک ساتھ گزرا تھا ضیاء صاحب اور احسن کچھ دیر بعد چلے گئے تھے۔ شہوار کے کہنے پر تابندہ بی آج رات شہوار کے پاس ہی رکنا تھا مغرب کے وقت ولید‘ انا اور روشی کو لے کر گھر آگیا تھا۔
’’یہ سب کتنا عجیب سا لگ رہا ہے نا بھائی۔‘‘ روشی ابھی تک حیرت زدہ تھی وہ لوگ لائونج میں بیٹھے ہوئے تھے۔
’’سب رشتے، تعلق سب کچھ بدل گیا۔‘‘ انا نے بھی ایک گہرا سانس لیا تھا۔ وہ تو خود حیرت زدہ تھی کتنا اچانک بالکل ایک دم یہ سب ہوا تھا۔ اپنا پرایا اور پرائے اپنے بن گئے تھے۔
’’ہاں شاید قسمت میں یہی تھا لیکن بعض رشتے خون کی بجائے روح کے ہوتے ہیں جن کو کسی نام کسی حوالے کی ضرورت نہیں ہوتی، بابا اور تم سے میرا رشتہ روح کا رشتہ ہے اور اس رشتے کو کوئی بھی جھٹلا نہیں سکتا اور نہ ہی کوئی رد کرسکتا ہے۔‘‘
’’ویسے میں بھی آپ سے ناراض ہوں۔‘‘ ولید نے چونک کر روشی کو دیکھا۔
’’وہ کیوں؟‘‘
’’آپ کو اتنا کچھ علم تھا اور آپ نے کبھی بتایا ہی نہیں۔‘‘
’’کیا بتاتا کہ میں تمہارا بھائی نہیں یا اس خاندان سے میرا کوئی بھی خون کا رشتہ نہیں۔‘‘ ولید آزردہ سا ہوا۔ روشی نے آگے بڑھ کر محبت سے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
’’دنیا کچھ بھی کہے آپ میرے لیے آج بھی میرے بھائی ہیں میرا مان ہیں۔‘‘ ولید نے مسکرا کر اس کا ہاتھ تھپکا۔ اور انا کی طرف دیکھا وہ سنجیدگی سے دونوں کو دیکھ رہی تھی لیکن ولید کے دیکھنے پر نگاہیں جھکا گئی تھی۔
’’میں کچھ دیر آرام کروں گا لیکن اس سے پہلے ایک کپ اچھی سی چائے پلادو؟‘‘ ولید روشی کے سر پر ہاتھ رکھ کر محبت سے کہہ کر چلا گیا تو روشی کچن کی طرف جانے لگی تو انا بھی ساتھ ہولی۔
’’تم رہنے دو میں بنا دیتی ہوں۔‘‘ روشی نے اسے مسکرا کر دیکھا جبکہ انا کچن کی طرف بڑھ گئی۔ چائے بنا کر وہ ولید کے کمرے کی طرف آئی اور دستک دے کر اندر داخل ہوئی تو ولید کہیں نہ تھا البتہ باتھ روم کا دروازہ بند تھا وہ ٹیبل پر کپ رکھ کر واپس پلٹی تو ولید دروازہ کھول کر کمرے میں آیا ٹاول سے چہرہ صاف کرتے وہ انا کو دیکھ کر چونکا۔ انا کو دیکھ کر اس کے چہرے کے تاثرات بدلے تھے۔
’’وہ میں چائے دینے آئی تھی۔‘‘ ولید کے بدلتے تاثرات پر انا نے فوراً کہا۔
’’تمہیں کس نے اجازت دی ہے میرے کمرے میں داخل ہونے کی گیٹ لاسٹ۔‘‘ وہ ٹاول ایک طرف پھینک کر بہت غصے سے پھنکارا۔ انا نے اس کا بہت بڑا نقصان کیا تھا۔ اس کے اعتماد بھروسے عزت نفس اور سب سے زیادہ دل کو ٹھیس پہنچائی تھی اور جب سے کاشفہ سے متعلق حقیقت کا علم ہوا تھا جی چاہ رہا تھا کہ سر عام سب کے سامنے اس کا حشر نشر کردے لیکن وہ بمشکل خود پر کنٹرول کر پارہا تھا۔
’’پلیز ولی۔‘‘
’’شٹ اپ۔‘‘ ولید ایک دم شدید غصے میں آیا۔
ء…/…ء
سلام دعا اور ضروری اطلاعات کے بعد امجد خان نے جو رپورٹ دی تھی مصطفی سن کر حیران و پریشان رہ گیا تھا۔
’’ہم نے سب کچھ اچھی طرح چیک کرلیا ہے سر ایاز کے نمبر سے سب سے زیادہ جس نمبر پر کالز کی گئی ہیں اس نمبر کی لوکیشن چیک کرنے پر معلوم ہوا ہے کہ یہ آپ کے گھر کے کسی فرد کا نمبر ہے۔‘‘
’’ایسا کیسے ہوسکتا ہے؟‘‘ مصطفی کہا۔
’’نمبر بولو۔‘‘ جواباً امجد خان نے جو نمبر دہرایا وہ سن کر مصطفی چونکا۔ اسے اپنے گھر کے ہر فرد کا نمبر یاد تھا لیکن یہ نمبر۔
’’سر ہم نے اس نمبر پر کال کی مگر فی الحال بند جارہا ہے لیکن پرانی کالز کا سارا ریکارڈ جو ہمارے پاس ہے اس کے مطابق یہ نمبر آپ کے گھر کا ہی کوئی فرد یوز کررہا ہے۔‘‘ مصطفی نے اثبات میں سر ہلایا۔
’’اوکے آپ ایسا کریں اس نمبر پر ہونے والی تمام کالز کا وائس ریکارڈ حاصل کریں پھر بات کرتے ہیں اگر ہمارے گھر کا ہی کوئی فرد ہے تو علم ہوجاتا ہے۔‘‘
’’یس سر۔‘‘
’’عبدالقیوم کے گھر کی کیا صورت حال ہے؟‘‘
’’سر ڈیڈ باڈی پہنچا دی گئی ہے کل نماز جنازہ ہے۔‘‘
’’ہوں۔‘‘ ایاز نے مصطفی کو ایک ناقابل تلافی نقصان پہنچایا تھا لیکن ایاز کا یہ انجام دیکھ کر مصطفیٰ کے دل میں ایک ہوک سی اٹھی تھی۔ برائی کا انجام آخرکار برائی ہی ہوتا ہے ایاز نے جو بویا وہی کاٹا اور ایاز کی فیملی یقینا ان کے لیے یہ ایک بہت بڑا صدمہ تھا۔ مصطفی نے ایک گہرا سانس خارج کرتے امجد خان کو چند اور ہدایات دیتے کال بند کردی تھی۔ اسے اب اسپتال جانا تھا جہاں یقینا شہوار اس کا انتظار کررہی تھی مصطفیٰ نے اپنا سامان سمیٹا اور پھر آفس سے نکل آگیا۔
ء…/…ء
ایاز کی لاش عبدالقیوم کے گھر پہنچی تو اس کی ماں اور دونوں بہنیں اس کی لاش دیکھ کر ساکت ہوگئی تھیں۔ بیگم عبدالقیوم تو پہلے ہی عجیب سی کیفیت میں تھیں کاشفہ کا بھی سارا نشہ ہرن ہوچکا تھا اپنے گھر میں ہر طرف پولیس اور لیڈی پولیس کے حصار میں خود کو مقید پاکر اسے لگ رہا تھا کہ اس کی ساری اکڑ دولت کا سارا نشہ ہرن ہوچکا ہے۔ ایک عادلہ ہی سب کچھ ڈیل کررہی تھی لیکن بھائی کی لاش دیکھ کر وہ بھی جیسے ڈھے گئی تھی۔ بیگم عبدالقیوم تو جیسے سکتے کی کیفیت میں تھیں۔
’’مام کچھ بولیں، دیکھیں آپ کا لاڈلا ایاز اس دنیا سے جاچکا ہے۔‘‘ عادلہ بار بار اپنی مام کو جھنجوڑ رہی تھی رونے پر مجبور کررہی تھی لیکن ان پر تو گویا سکتہ کی کیفیت تھی۔ کاشفہ اور عادلہ کا برا حال تھا۔
ان کے رشتہ دار تو تھے نہیں دوست احباب کو بھی گھر میں داخل ہونے کی اجازت نہ تھی ایاز کی میت پولیس کے حصار میں گھر کے باہر سڑک پر رکھ دی گئی تھی لوگ اسے دیکھ دیکھ کر توبہ توبہ کررہے تھے۔ عادلہ کا کروفر طنطنہ سب جھاگ کی طرح بہہ گیا تھا۔ کاشفہ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے لیکن ذہن و دل میں ایک عجیب سی جنگ جاری تھی اور بیگم عبدالقیوم وہ نہ ہل رہی تھیں اور نہ ہی کچھ کہہ رہی تھیں۔ دیکھنے والوں کو ان پر ترس آرہا تھا لیکن کوئی بھی نہیں جانتا تھا کہ یہ سب ایک دن کے اعمال کا نتیجہ نہ تھا۔ یہ موت برسوں کے ظلم کی پیداوار تھی۔ ایسا ظلم جو بے گناہ اور معصوم جانوں پر ڈھایا گیا تھا وہ ظلم جس کی لپیٹ میں کئی معصوم بچے کچلے گئے تھے۔ وہ ظلم جو دولت اور طاقت کے نشے میں چور ہوکر ایک ظالم نے مظلوم پر ڈھایا تھا۔ نامہ اعمال سیاہ تھے۔ عبدالقیوم کا ظلم اس کی ساری اولاد کے گلے کا وہ طوق بن گیا تھا کہ جس کا خراج صرف اور صرف موت تھا۔ دیکھنے والی آنکھ میں ترحم تھا لیکن آنسو نہ تھے پولیس کے حصار میں مقید لاش اور گھر والے ایک عبرت کا نشان تھے جو رہتی دنیا تک لوگوں کے لیے عبرت بن چکے تھے۔
ء…/…ء
مصطفی شہوار کے پاس آگیا۔ زہرہ پھوپو کی بہو شائستہ اور افشاں ادھر رکی ہوئی تھیں باقی سب گھر چلے گئے تھے مصطفی کے آنے کے بعد عباس بھائی بھی چلے گئے تھے۔ افشاں مصطفی کے آنے کے بعد نماز گاہ کی طرف عشاء کی نماز پڑھنے چلی گئی تھیں۔ شائستہ بھابی مصطفی سے باتیں کرتی رہی اور پھر باہر چلی گئی تھیں۔ مصطفی نے شہوار کو دیکھا وہ آنکھوں پر بازو رکھے چپ چاپ لیٹی ہوئی تھی۔ مصطفی کی آمد پر بھی بس سلام دعا کی اور کھانا بھی برائے نام کھایا تھا۔
’’کیا بات ہے بہت خاموش ہو۔‘‘ بستر کے کنارے بیٹھ کر محبت سے شہوار کا بازو پکڑا تو اس نے آنکھیں کھول کر مصطفی کو دیکھا۔
’’بس ویسے ہی دل نہیں کررہا کسی سے بھی بات کرنے کو۔‘‘ اس کی آواز افسردہ سی تھی۔ مصطفی نے بہت نرمی سے اس کے چہرے پر بکھری لٹوں کو پیچھے کیا۔
’’مجھ سے بھی بات کرنے کو دل نہیں کررہا۔‘‘ جواباً شہوار کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
’’میرے ساتھ ایسا کیوں ہوا، مجھے یہ دنیا اچھی لگنے لگی تھی میں نے اتنا کچھ سہا ہے یہ دکھ کیوں لکھا تھا میرے مقدر میں۔‘‘ وہ اتنے دنوں سے کچھ نہیں بولی تھی اور اب بولی تو خودبخود شکوہ در آیا۔
’’قدرت کو شاید اس طرح ہماری آزمائش مقصود تھی۔ ایاز نے اتنی بار تمہیں کڈنیپ کرنے کی کوشش کی اور تم ہر بار بچ نکلیں لیکن اس بار وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوگیا شاید اسی لیے کہ اللہ ایسا ہی چاہتا تھا کوئی نہ کوئی وجہ تو بننا ہی تھی۔‘‘
’’اللہ کسی اور طرح بھی تو آزما سکتا تھا۔‘‘
’’تم ناشکری کررہی ہو، اللہ نے تمہاری زندگی بچائی ہے ایک چھوٹی جان لے کر تمہیں زندہ رکھا میرے لیے یہی کافی ہے شہوار آئندہ ایسا کچھ بھی مت کہنا تم ایک بار ٹھیک ہوکر گھر چلو اولاد اللہ اور دے دے گا اس کے پاس کسی بھی چیز کی کوئی کمی نہیں… ہر حال میں اس کا شکر ادا کرنا چاہیے خدانخواستہ ایاز تمہارے ساتھ کوئی غلط حرکت کرتا تو ہم کیسے تمہیں بچا پاتے؟‘‘ مصطفی نے بہت تحمل اور نرمی سے اسے سمجھایا تو شہوار نے سر ہلا دیا۔ اللہ نے اس پر بھی بہت بڑا احسان کیا تھا۔ اس کی عزت محفوظ تھی اولاد تو پھر مل سکتی تھی زندگی مل گئی تھی ورنہ ایاز جیسے انسان سے کچھ بھی بعید نہ تھا۔ ایاز کا سوچ کر شہوار نے جھرجھری لی تھی۔ مصطفی نے محبت سے اس کے آنسو صاف کیے۔ خلوص دل سے اس کی دلجوئی کرتا رہا۔ اپنی باتوں سے اس کا دل بہلانے کی کوشش کرتا رہا۔
زخم بہت بڑا تھا مندمل ہوجانا تھا۔ مگر دل میں اک کسک چھوڑ گیا تھا ماں بننے سے پہلے ہی اس کی گود خالی ہوگئی تھی۔ دل میں عجیب سا درد جاگتا تھا لیکن اسے اب صبر کرنا تھا۔ وہ مصطفیٰ سے باتیں کررہی تھی جب پہلے شائستہ بھابی لوٹ آئی اور پھر افشاں وہ مصطفی کے ساتھ مل کر شہوار کو بہلانے لگ گئی تھیں۔
(ان شاء اللہ باقی آئندہ ماہ)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close