Aanchal Mar 16

کوئی دن اور

نازیہ جمال

کیا ہے پیش نظر نہیں کھلتا
ہم پہ خود اپنا ڈر نہیں کھلتا
عمر پہ کتنے ماہ و سال کھلے
لمحہ خیر و شر نہیں کھلتا

’’کیا کہا… سارے پیسے اماں کو دے دیئے؟‘‘ سجاد نے حلق پھاڑ کر چلاتے ہوئے اپنی نئی نویلی دلہن کو دیکھا جو موتی ستاروں سے اٹے شوخ جوڑے میں ملبوس سر جھکائے اپنی سانولی نازک سی انگلیاں مسل رہی تھی۔
’’جاہل عورت! سارے پیسے اماں کو دے دیئے اور مجھ سے پوچھنا تک گوارا نہ کیا تم نے۔‘‘ سجاد دانت پیستے ہوئے غرایا۔ اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ اپنی بیوی کے دلہناپے کی پروا کیے بغیر اپنے دونوں ہاتھوں سے اس کی خاطر تواضع کر ڈالے۔
’’چاچی نے مجھ سے مانگے تو میں نے انہیں دے دیئے۔‘‘ سہمی سہمی نظروں سے سجاد کو دیکھتے ہوئے اس نے وضاحت دینے کی کوشش کی تھی۔ سجاد کا غضب ناک روپ اس کے حلق کو خشک کیے دے رہا تھا۔ وہ کہاں عادی تھی ان چیختے چلاتے لہجوں اور سخت نوکیلے الفاظ کی۔
’’ہاہ… میں تو خوش ہورہا تھا کہ شہر کی پڑھی لکھی سمجھ دار عورت مجھے ملی ہے۔ میری تو زندگی سنور جائے گی مگر کم بخت تجھ جیسی کم عقل اور نادان عورت نصیب میں لکھی تھی۔ وہ پیسے میرے تھے‘ مجھ پر ان کا حق تھا۔‘‘ سجاد جس تولیے سے منہ خشک کررہا تھا‘ غصے سے بولتے ہوئے وہی تولیہ اس کے منہ پر مارکر باہر چلا گیا۔ وہ کچھ دیر یونہی ساکت کھڑی رہی پھر بے جان گرنے والے انداز میں بیڈ پر بیٹھ گئی۔
سجاد ابھی اس سے سلامی کے پیسوں پر جھگڑ کر گیا تھا جو اسے شادی پر تمام رشتہ داروں اور دوست احباب سے ملی تھی۔ آج اسے اس دیہاتی‘ پسماندہ اور غیر تہذیب یافتہ ماحول کا مستقل حصہ بنے ایک ہفتہ ہورہا تھا۔ سجاد اس کا چچا زاد تھا جس سے وہ بچپن ہی سے منسوب تھی۔
’’رامین میرے سجاد کی دلہن بنے گی۔‘‘ بچپن میں اسے چاچا نذیر احمد نے گود میں پیار سے بھرتے ہوئے کہا تھا تو اس کے ابو لئیق احمد نے بڑے بھائی کی خواہش و فیصلہ پر بصد احترام سر جھکادیا تھا۔ بچپن سے جوانی کی حدوں تک آتے آتے وہ سجاد کا نام اپنے نام کے ساتھ سنتی آئی تھی۔ سجاد مڈل پاس بھاری تن توش کا مالک اور سانولی رنگت کا حامل تھا جس کا ذریعہ معاش ٹھیکے پر زمین لے کر موسم کی سبزیاں اور فصلیں کاشت کرنا جو زندگی میں صرف ایک دو ماہ شہر ان کے گھر آیا تھا۔ ایک بار چاچی کلثوم کا شناختی کارڈ بنوانا تھا تو دوسری بار بہن صدف کو کسی اسکن اسپیشلسٹ کو دکھانے۔ گہری سرخ آنکھوں میں کسی خاص جذبے کی قندیل دمکتی نہ دکھائی دی تھی اسے‘ ٹانگیں کھول کر صوفے پر بیٹھتے ہوئے اس نے دیکھتے ہی دیکھتے کھانے کے تمام لوازمات چٹ کرلیے تھے۔ وہ چاہ کر بھی سجاد کے نام پر اپنے دل کو نہ دھڑکا سکی تھی۔ آنکھوں میں ویرانی کے رنگ اتر ائے تھے جنہیں دیکھتے ہوئے صبیحہ نے لئیق احمد سے کہا تھا۔
’’ہم نے رامین کا بچپن میں سجاد سے رشتہ کرکے کہیں بہت بڑی غلطی تو نہیں کردی۔ ہماری بیٹی ایف اے پاس‘ سلجھی ہوئی‘ دھیمے مزاج کی اور سجاد پکا دیہاتی اور اجڈ نوجوان… میرا دل پتا نہیں کیوں بہت فکرمند ہورہا ہے۔‘‘
’’تم خوامخواہ وہم نہ کرو‘ سجاد میرا بھتیجا ہے۔ میرا اپنا خون‘ ہاں کم تعلیم یافتہ ضرور ہے‘ محنتی ہے حق حلال کا کھاتا ہے۔ نکما پوستی نہیں‘ ہماری رامین کو اچھے پڑھے لکھے رشتے ضرور مل جائیں گے۔ مگر یہ بھی دیکھو کہ وہ غیر ہوں گے اور کسی اجنبی اور ناشناسا لوگوں کی جانچ پرکھ کی ہمت میرے اندر نہیں ہے۔ ویسے بھی یہ نسبت مرحوم بھائی کی طے کردہ ہے اگر اسے توڑ دوں تو خاندان والوں کی باتیں کون سہے گا؟‘‘ لئیق احمد نے اپنی طرف سے بات مکمل کردی تھی۔ صبیحہ بھی خاموش ہوگئیں اور ان کی یہی خاموشی رامین کی زندگی میں سناٹوں اور ویرانیوں کا پیش خیمہ ثابت ہوئی تھی۔
سجاد نہ صرف اجڈ‘ گنوار بلکہ بیوی کو جوتی برابر سمجھنے والا مرد تھا جس کے نزدیک عورت صرف مرد کی دل بستگی اور نفسیاتی تسکین کا سامان ہوتی ہے اور بس۔
’’کلثوم پڑھی لکھی شہر سے نوں (بہو) لارہی ہے۔‘‘ سارے گائوں میں کب سے یہ چرچا تھا اس لیے رامین کے دلہن بن کر اس گھر میں قدم دھرتے ہی ساری عورتیں اسے دیکھنے کی جمع ہوگئی تھیں۔ ان کے دیکھنے میں وہ اشتیاق اور دلچسپی ہوتی تھی جو کسی چڑیا گھر میں آنے والے نئے جانور کو دیکھنے والوں کی آنکھوں میں ہوتی ہے۔ رامین کو ان کھوجتی‘ ٹوہ لیتی نگاہوں سے سخت الجھن ہوتی تھی۔ اوپر سے ان دیہاتی عورتوں کا اسے دیکھتے ہوئے آپس میں سرگوشیوں میں کچھ کہتے ہوئے قہقہہ مار کر ہنسنا اسے کوفت میں مبتلا کردیتا تھا۔ ہفتہ ہونے کو آرہا تھا‘ ابھی تک ان خواتین کا سلسلہ جاری تھا اور جاتے ہوئے پچاس‘ سو روپے اس کی حنائی‘ ہتھیلی پر سلامی کے طور پر رکھ جاتی تھیں۔ ایک ہفتے میں اس کے پاس بھورے اور سرخ نوٹ کافی تعداد میں جمع ہوگئے تھے جو کل کی ڈھلتی شام میں کلثوم نے آکر اس سے لے لیے۔
’’اپنی ساری سلامی مجھے دو‘ جہاں سے تیری بری کا سامان خریدا تھا وہاں کچھ ادھار چکانا ہے اور یہ جو ساری دے گئی ہیں کسی چھوٹے بڑے موقع پر ان سب کو مجھے لوٹانا ہوگا۔ کیا کروں سارے اخراجات جو مجھ پر ہیں۔‘‘ اس نے چپ چاپ گنے بغیر پورا پرس کلثوم کو تھمادیا تھا جس پر سجاد اتنا سیخ پا ہورہا تھا۔ اس کے خیال میں ان پیسوں پر اسے تصرف حاصل ہے۔ وہی رامین کا شوہر ہے تو اس کے پیسے وہی رکھ سکتا ہے جنہیں ناسمجھی سے رامین ساس کو دے بیٹھی تھی۔ اس حماقت پر سجاد اسے خوب برا بھلا کہہ کر جاچکا تھا۔
شام اپنا سنہری آنچل دھیرے دھیرے پھیلا رہی تھی‘ رات ہونے میں تھوڑی ہی دیر باقی تھی۔ رات کو سجاد گھر واپس آجاتا تھا‘ اس نے ڈوبتے دل کے ساتھ اپنے بیڈ کو دیکھا اس کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں اور روز کی طرح رات کا سوچ کر اس کا بدن بے جان ہونے لگا تھا۔
/…ء…/
کالج کے بڑے سے گیٹ سے بہت بڑی تعددا میں لڑکیاں برآمد ہورہی تھیں۔ سفید یونیفارم میں ملبوس‘ ہنستی خوش گپیاں کرتی ہوئی گروپ کی صورت میں۔ بائیکس‘ رکشوں اور ہمہ قسم گاڑیوں کا کان پھاڑ شور مچا ہوا تھا۔ شہروز کب سے بائیک پر بیٹھا منتظر نگاہوں سے گیٹ کی سمت دیکھ رہا تھا گاہے بگاہے نظر رسٹ واچ پر بھی پڑجاتی تھی۔ اتنے میں شامین آتی دکھائی دی۔
’’کیا ہے یار ذرا جلدی نہیں نکل سکتیں‘ کب سے کھڑا سوکھ رہا ہوں۔‘‘ بائیک کو کک لگاتے ہوئے اس نے روز کا شکوہ کیا تھا۔
’’ہاں تو کس نے سوکھنے کو کہا ہے‘ تم نہ آئو میں رکشہ رکھ سکتی ہوں۔‘‘ ایک ہاتھ اس کے کندھے اور دوسرے سے بیگ کو مضبوطی سے اپنے کندھے پر رکھتے ہوئے وہ ہر روز کی طرح اس کے شکوے پر آرام سے بولی۔
’’جناب! اپنی پریکٹس کے لیے آجاتا ہوں‘ فیوچر میں بھی یہی ڈیوٹی دینی ہے تو ابھی سے عادی ہوجائوں۔‘‘ شہروز دھیمی شوخ آواز میں بولا تو اس کا دل بے ساختہ دھڑک اٹھا۔
’’ویسے تم سی نادان میں نے کبھی نہیں دیکھی‘ اتنے ہینڈسم اور ڈیشنگ منگیتر کو کب سے گیٹ پر کھڑا کر رکھا ہے۔ پتا بھی ہے ایک سے ایک طرح دار‘ خوب صورت اور دلکش حسینہ‘ ماہ جبینہ گیٹ سے برآمد ہورہی ہے۔ کوئی دل پذیر سی بات ہوجائے تو تمہاری قسمت کا کباڑہ ہوجانا ہے‘ ذرا عقل سے کام لیتے ہوئے جلدی نکلنے کی کوشش کیا کرو۔‘‘ اپنے مخصوص موڈ میں آتے شہروز اسے چھیڑ رہا تھا۔ کالج سے گھر تک کا طویل فاصلہ وہ ایسی ہلکی پھلکی چھیڑ چھاڑ میں طے کیا کرتے تھے۔
’’منہ دھو رکھو‘ کوئی حسینہ وسینہ تمہیں لفٹ نہیں کروائے گی‘ ایسے کوئی حمزہ علی عباسی نہیں ہو تم اور اگر بالفرض ایسا کوئی قابل ذکر حادثہ ہو بھی جائے تو اسے سوائے قسمت کے لکھے کے اور کیا کہہ سکتے ہیں۔‘‘ شہروز کی چھیڑ کا اثر لیے بغیر شامین مصنوعی ٹھنڈی سانس بھر کر بولی۔
’’یعنی تم اپنا کھونٹا مضبوط بنانے کی بجائے سارا قصور قسمت کے کھاتے میں ڈال دو گی؟ چچ چچ…‘‘ شہروز کو اس کی بات سن کر جیسے صدمہ سا ہوا تھا۔ ’’اتنا ہینڈسم‘ ٹال اور خوش شکل کزن جس کے سامنے تمہارا یہ حمزہ عباسی بھی پانی بھرتا نظر آئے‘ کبھی آکر دیکھا کرو۔ ان مہہ وشوں کی نظروں میں مجھے دیکھتے ہوئے کتنی ستائش کتنی حسرت اور محرومی ہوتی ہے۔‘‘ شہروز جیسے ابھی تک صدمے سے نہیں نکل پایا تھا‘ شامین کی بے نیازی اسے تڑپا گئی تھی۔
’’شہروز! یہ ہم کہاں جارہے ہیں؟‘‘ اسے انجانے راستے پر جاتے ہوئے شامین نے پوچھا۔
’’آج مجھے تنخواہ ملی ہے‘ چلو تمہیں لنچ کرواؤں۔‘‘ بائیک ایک ریسٹورنٹ کے سامنے رک گئی تھی۔
’’مجھے کوئی لنچ نہیں کرنا‘ چلو گھر چلتے ہیں خوامخواہ پیسے ضائع ہوں گے۔‘‘ بائیک سے اترتے ہوئے وہ بے حد خفا ہوئی۔
شہروز یونیورسٹی میں سی اے کا طالب علم ہونے کے ساتھ ساتھ شام کے اوقات میں کسی کوچنگ سینٹر میں پڑھا بھی رہا تھا۔ جہاں سے اسے اچھی خاصی سیلری مل جاتی تھی۔
’’تمہاری اپنی اتنی فیس ہوتی ہے‘ پیٹرول‘ کپڑوں کا خرچہ اور پھر امی ابو کو بھی کچھ روپے دیتے ہو۔ ان سب میں ایسی عیاشیوں کی گنجائش نہیں نکلتی۔‘‘ ٹیبل پر بیگ اور فائل رکھتے ہوئے شامین ناصحانہ انداز میں بولی۔
’’او میڈم! ایسے کسی کنگلے کے پلے تم نہیں بندھیں کہ مہینوں بعد کی ہوٹلنگ عیاشی میں شمار ہونے لگے۔‘‘ شہروز اس کے ناصحانہ انداز پر قدرے تپ کر بولا۔
’’مجھے ایسے یونیفارم میں آکر ہوٹلنگ کرنا اچھا نہیں لگ رہا۔‘‘ شامین کو اردگرد بیٹھے لوگوں کی نظروں میں اپنے لیے نجانے کیوں شکوک نظر آرہے تھے۔
’’کیا کریں مجبوری ہے جب تک تمہارا گریجویشن مکمل نہیں ہوتا اور میری جاب نہیں لگتی اس وقت تک تو اسی حیثیت سے ہوٹلنگ کرنی ہوگی۔‘‘ شوارمہ کا بائٹ لیتے ہوئے شہروز اسے گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے بولا‘ اس کی بات پر شامین سرخ پڑگئی تھی۔ ’’تم تو ایسے کہہ رہی ہو جیسے فرسٹ ٹائم میرے ساتھ باہر آئی ہو۔ کتنی بار شاپنگ‘ چاند رات پر ہم گھومے پھرے ہیں۔‘‘
’’ہاں اور یہ بھی ذہن میں رکھو کہ اس وقت رامین باجی بھی ہمارے ساتھ ہوتی تھیں میں اکیلی نہیں ہوتی تھی تمہارے ساتھ۔‘‘ وہ اسے جتاکر بولی۔
’’ہاں رامین باجی کا اکلوتا بھائی جو ہوتا تھا تو ساتھ لازمی جانا تھا۔‘‘ وہ ہنس کر بولا۔
’’ویسے سچ بتائو‘ اگر واقعی میں مجھے کوئی بیوٹی کوئین لے اڑی تو تم ایسے آرام سے اسے قسمت کا لکھا جان لوگی؟‘‘ واپسی پر شہروز پھر اس کی بات کو لے بیٹھا تھا۔ شامین کچھ دیر خاموش رہی تھی پھر کچھ دیر بعد تحمل سے بولی۔
’’شہروز! یہ سامنے سے آتا ٹرک دیکھ رہے ہو ناں؟ میں ہینڈلز پر رکھے تمہارے ہاتھوں پر اپنے ہاتھ رکھ کر بائیک کا رخ موڑ دوں گی اور سیدھا ٹرک میں دے ماروں گی اگر تم نے دوبارہ یہ بات کی تو…؟‘‘ آخر میں اس کے لہجے سے نمی جھلکی آئی تھی۔ اس کی بات پر شہروز سرشار سی ہنسی ہنس دیا تھا۔
/…ء…/
’’رامین! میری بچی۔‘‘ صبیحہ کا دل رامین کر دیکھ کر دھک سے رہ گیا تھا۔ صحت مند‘ دلکش حسین کی گندمی رنگت دمکتی تھی۔ یہ تو اس رامین کا سایہ تھا کمزور سراپا‘ سانولا چہرہ‘ زرد آنکھیں‘ الجھے بکھرے بال وہ نویں مہینے سے حمل میں تھی‘ سجاد اسے ڈلیوری تک کے لیے چھوڑ گیا تھا۔
’’مگر ایسے خالی ہاتھ چلی جائوں‘ کچھ خرچہ تو دیں بچے کا۔‘‘ میکے آنے کے لیے بیگ تیار کرتے ہوئے اس نے آس بھری نظروں سے سجاد کو دیکھتے ہوئے کہا تھا۔
’’دیکھ نہیں رہی ژالہ باری سے کنک (گندم) کی بار اچھی نہیں ہوئی۔ صدف کا کالج کا کتنا خرچہ ہے اور چاچا چاچی اتنے کنگلے تو نہیں کہ ایک بیٹی کی زچگی کا خرچ برداشت نہ کرسکیں۔ کما تو رہا ہے ناں ان کا منہ بولا بیٹا بلکہ گھر داماد شہروز! اس کی ساری کمائی تمہارے ماں باپ نہیں لے رہے تو اور کون لے رہا ہے۔‘‘ کٹیلے انداز میں بولتے ہوئے سجاد کا آخر میں لہجہ طنزیہ ہوگیا تھا۔ اس نے بغیر کچھ کہے زور سے زپ بند کی‘ لیڈی ڈاکٹر نے اس کی کمزوری کی وجہ ناکافی خوراک‘ آرام کی کمی‘ ڈپریشن اور جسمانی مشقت کو قرار دیا تھا جس کی وجہ سے ڈلیوری میں پیچیدگیاں پیدا ہوسکتی تھیں۔
’’رامین! کلثوم بھابی تمہارا خیال نہیں رکھتی تھیں؟‘‘ خدشات میں ڈولتے ابھرتے ہوئے صبیحہ نے اس سے پوچھا۔ وہ جواب میں خاموش رہی‘ کیا کرتی ان نو مہینوں کی مکمل روداد سناتی جس میں اسے اپنے لیے خیال یا اس سے ملتا جلتا احساس توجہ‘ ہمدردی اور محبت نظر نہ آتی تھی۔
گائوں کی محنتی اور جفاکش زندگی کی عادی کلثوم نے اس سے تقریباً سارے وہی کام لیے تھے جو وہ خود کرتی تھی مثلاً جانوروں کا چارہ بھوسہ کرنا‘ بکریوں کے ریوڑ میں ہر بچے کو اس کی ماں کے تھن لبوں سے لگوا کر ان کا پیٹ بھروانا۔ مرغیوں کی بیٹ بھرے دو کنال کے طویل صحن کی روزانہ صفائی کرنا‘ اُپلے تھاپنا‘ یہ سارے کام دوسرے دن ہی سے کلثوم نے اس سے لینے شروع کردیئے تھے۔
’’ارے اب تو ہی اس گھر کی اصل مالک ہے‘ تجھے طور طریقے سمجھادوں تاکہ میرے بعد کل کو تجھے کوئی پریشانی نہ ہو۔‘‘ کلثوم کمال ہمدردی سے اسے اُپلوں سے آگ جلانا سکھاتی رہی۔ وہ خاموش طبع اور معصوم فطرت تھی‘ تابع داری سے سارے کام کرتے ہوئے صرف اتنا سوچتی کہ اگر اس احساس و مروت سے عاری زہریلے گھٹے ہوئے ماحول میں اگر نرمی‘ شائستگی اور محبت کے سائے کہیں نظر آجائیں تو وہ ان کے تلے ذرا دیر کو سستا لے۔
پریگنسی کی حالت میں چکی چلاتے ہوئے وہ اپنی اکلوتی نند اور کزن صدف کو مدد کے لیے پکارنے کا سوچ ہی رہی ہوتی کہ سجاد کی تمسخرانہ آواز اس کے کانوں میں آتی۔
’’اماں! خیر سے تو پڑھی لکھی شہری بہو تو لے آئی ہے مگر دھیان رہے اپنی تعلیم کا فائدہ اٹھاتے ہوئے تجھے دیوار سے لگاکے خود پورے گھر پر نہ قابض ہوجائے۔ اس کے پھرتی سے کام کرتے انداز کو دیکھ کر میں تو یہی سمجھا ہوں۔‘‘ خیرخواہی کا بھرپور انداز۔
’’ہاں سجو! تُو کہتا ٹھیک ہے میں ان پڑھ کو کوئی بھی ’’چرا‘‘ سکتا ہے مگر کیا کروں تو میرا اکو اک پتر ہے۔ تیری بیوی کو سارے ہنر اس لیے دے رہی ہوں کہ کل کلاں کو میری ساہ (سانس) بند ہوجائے تو اسے گھر سنبھالنے میں مشکل نہ ہو۔‘‘ ماں کے لہجے میں بیٹے سے بھی زیادہ خیر خواہی اور خلوص چھلکا تھا اور وہ کبھی ان دنوں میں اپنے اندر اتنی ہمت نہ لا سکی کہ…
’’چاچی تو میرے لیے اتنی فکر مند اور ہمدرد ہے مگر اپنی اکلوتی بیٹی صدف سے چکی چلوانا تو دور کی بات کبھی ایک کٹورہ تک نہیں دھلوایا تھا۔ کاش تھوڑے سے اپنے طور طریقے اس صدف کو بھی سکھادیں جو ملتان یونیورسٹی میں پڑھتے ہوئے اس دھول مٹی والے ماحول میں آکر بیمار پڑجاتی ہے۔‘‘
’’اُف! یہ ڈسٹ… میرا بس چلے تو چھٹیاں بھی وہیں ہاسٹل میں گزار دوں مگر اماں مجھے صرف آپ کی یاد ایسے گندے‘ میلے ماحول میں کھینچ لاتی ہے۔‘‘ صدف لاڈ سے ماں کے گرد بازو ڈالتے ہوئے کہتی۔
’’میری شہزادی تُو پڑھ لکھ کر خود کو کوئی اونچی چیز سمجھ بیٹھی ہے۔ نہ بھول کہ تو اسی گندے ماحول کی پیداوار ہے‘ تیرا باپ یہیں پیدا ہو اور مرا۔ تیری ماں نے اُپلے تھاپ کر اور جلا کر تم لوگوں کو کھانے کھلائے۔ تیرا باپ کسان تھا‘ تیرا بھائی کسان اور تجھے ساگ‘ شلجم کا سالن اچھا نہیں لگتا‘ شاباش ہے میری دھی۔‘‘ کلثوم نے ہنستے ہوئے صدف کی بات سے جیسے لطف لیا تھا۔
’’تو کیا لازم ہے کہ میں اس گائوں میں پیدا ہوئی تو باقی زندگی سمجھوتہ کرتے ہوئے یہیں ساری عمر گزار دوں۔ میرا مستقبل آپ لوگوں سے مختلف ہوگا‘ بے حد خوب صورت‘ روشن‘ صاف ستھرا اور مہذب…‘‘ کہتے کہتے کوئی خواب سا صدف کی آنکھوں میں اتر آتا۔
صدف قبول صورت نقوش کی حامل تھی‘ خود پر توجہ دینے‘ بہترین تراش خراش کے کپڑے زیب تن کرنے اور اوپر سے تعلیم کی دی ہوئی خود اعتمادی اور وقار اسے حقیقتاً اس ماحول سے مختلف ثابت کرتے تھے۔ تعلیم کے سلسلے میں وہ ملتان ہاسٹل میں مقیم تھی‘ کلثوم ہر ماہ خرچے کے لیے اسے اچھی خاصی رقم بھیجتی تھی۔ اکلوتی بیٹی کی ہر خواہش‘ چاہ اور خواب اس کے سر آنکھوں پر اور ایسے میں کلثوم اور سجاد کے رویوں کا یہ تضاد رامین کی جان کو خوب گھلاتا۔
’’بہو پڑھی لکھی ہو تو سو عیب اور اگر بیٹی پڑھی لکھی ہو تو احساس تفاخر۔‘‘ رات کو دکھتے بدن کے ساتھ جونہی سونے کے لیے لیٹی تو پرانی عادت کے مطابق ایک پرانا ڈائجسٹ اٹھا کر پڑھنا شروع کردیا۔ ڈائجسٹ کو ہاتھ میں لیتے ہی بیتے دنوں کے کتنے ہی سنہری پل اس کی آنکھوں میں روشن ہوئے تھے۔ سنہرے چمکیلے‘ روشن دن جن میں وہ شامین اور شہروز ہوتے تھے۔ ہر ہفتے کہیں نہ کہیں آئوٹنگ کا پروگرام بنتا‘ کبھی شاپنگ تو کبھی کسی فوڈ فیسٹول کا وزٹ۔ ساتھ لیٹے ہوئے سجاد نے اس کی آنکھوں میں اتری چمک سے کچھ فلمی تصور کیا اور جھپٹ کر رسالہ چھینتے ہوئے دور پھینک دیا۔
’’یہ واہیات فلمی کہانیاں پڑھنے سے بہتر ہے تم میرے جسم کی مالش کرو۔‘‘ اور اس تندرست توانا‘ دیوہیکل مرد کی ٹانگوں ‘ بازوئوں اور کمر کی مالش کرتے کرتے آدھی رات بیت گئی تھی۔
/…ء…/
’’اُف یہ کتنا خوب صورت اور پیارا ہے‘ بالکل مجھ پر گیا ہے۔‘‘ شامین کو ٹوٹ کے نوزائیدہ بھانجے پر پیار آرہا تھا‘ اسی ہفتے رامین نے ایک کمزور بچہ جنم دیا تھا۔ ڈاکٹر نے ماں اور بیٹے دونوں کی صحت غیر تسلی بخش قرار دی تھی اس لیے صبیحہ اور لئیق احمد بے حد فکر مندی اور توجہ سے رامین کی صحت پر فوکس کیے ہوئے تھے۔ ہر پانچ منٹ بعد وہ رامین کو جوسز‘ دودھ اور سوپ کچھ نہ کچھ کھلاتے پلاتے کہ ماں صحت مند ہوگی تو بچہ خودبخود صحت مند ہوگا۔ اس وقت بھی صبیحہ رامین کو سوپ پلا رہی تھی‘ ننھا ریان شامین کی گود میں تھا۔
’’بالکل میرے جیسی گولڈن آنکھیں‘ مڑی ہوئی پلکیں‘ وائٹ اسکین۔‘‘ شامین ننھے اعضاء کو چھوتے ہوئے فخر سے بتارہی تھی۔
’’یہ تم بچے کا حلیہ بتا رہی ہو یا اپنی تعریف کررہی ہو۔‘‘ شہروز اندر آتے ہوئے بولا۔
’’دونوں سمجھ لو۔‘‘ شامین شوخ لہجے میں ہوئے بولی۔
’’امی! میرے بھائی کی کب شادی کررہی ہیں؟‘‘ رامین نے مسکرا کر شہروز کو دیکھتے ہوئے صبیحہ سے پوچھا۔
’’بس بیٹا! شہروز کی جاب لگتے ہی اپنا آخری فرض پورا کرتے ہیں۔‘‘ ماں کی بات پر شامین خوامخواہ ادھر اُدھر دیکھنے لگی تھی۔
’’وہ تو ٹھیک ہے مامی جی مگر آپ کی اکلوتی بہو اور رامین باجی کی بھابی کو کچھ آنا تو چاہیے۔ خالی خولی شکل سے تو کام نہیں چلے گا۔‘‘ وہ اب شامین کو فوکس کیے بظاہر سنجیدگی سے بولا مگر اس کی مسکراتی آنکھیں اس کا ساتھ نہیں دے رہی تھیں۔ شہروز کی بات پر شامین نے سر اٹھایا اور تڑخ کر بولی۔
’’کیا مطلب ہے تمہارا میں پھوہڑ اور نکمّی ہوں۔ یہ جو آکر رات کا کھانا ٹھونستے ہو‘ وہ روز میں ہی بناتی ہوں۔ تمہارے استری شدہ کپڑے‘ جوتوں پر پالش اور بات کررہے ہو خالی خولی شکل کی۔‘‘ بے حد خفگی سے سر جھٹکا۔
’’دیکھا باجی! یہ ایسے کٹ کھنی بلی کی طرح میرے پیچھے پڑ جاتی ہے اگر بعد میں ایسے کرے گی تو… شکر ہے ماموں‘ مامی میری سائیڈ پر ہوتے ہیں۔‘‘ کان کی لو مسلتے ہوئے وہ مسکینی سے کہہ رہا تھا۔
’’ہاں تو امی سے کہہ رہی ہوں ناں کہ اب ان کی شادی کردیں‘ دوستی ہوجائے گی۔‘‘ رامین نے مسکراتے ہوئے کہا۔
ایک بیٹے کی ماں بن کر اس کے اندر توانائی سی در آئی تھی‘ بہترین خوراک اور آرام کی بدولت دنوں میں اس کا پرانا رنگ بحال ہورہا تھا۔ اگلے ہفتے کلثوم اسے لینے آپہنچی‘ معہ مٹھائی کے ڈبوں کے ساتھ۔
’’بھابی! رامین اور بچہ کم از کم دو ماہ تو ہمارے ہاں رہیں‘ ڈاکٹر نے کہا ہے کہ رامین کی صحت فی الحال بہتر نہیں ہے۔‘‘ لئیق احمد نے مناسب لفظوں میں کلثوم پر واضح کیا تھا کہ وہ ابھی رامین کو نہیں جانے دے سکتے۔
’’کمال کرتے ہو لئیق! سجاد بیٹے کو دیکھنے کو اتائولا ہورہا ہے۔ روز عورتیں میرا پوتا دیکھنے کی خاطر آتی ہیں‘ میرے گھر کی خوشی اتنے دن مجھ سے دور رہے؟‘‘ کلثوم جذباتی انداز میں دو ٹوک بولی تھی‘ صبیحہ اور لئیق ایک گہری سانس بھر کر رہ گئے تھے۔
/…ء…/
’’دیکھ صدف! تو اب کوئی فیصلہ کر ہی لے‘ زیادہ تاخیر مناسب نہیں۔‘‘ کلثوم اب کے کافی سنجیدگی سے صدف سے مخاطب ہوئی تھی۔
’’اماں! تو بھی کمال کرتی ہے‘ میں ماسٹرز ان انگلش… یہ گائوں کے اجڈ اور گنوار لوگوں میں رہ کر اپنی زندگی گنوادوں۔ تُو کیسی ماں ہے؟‘‘ صدف کو حقیقتاً ماں کی بات سن کر دھچکا لگا تھا۔
صدف کے لیے کسی تگڑے زمین دار کا رشتہ آیا تھا جو کلثوم کے دل کو بہت پسند آیا تھا۔ پورے خاندان کے کئی نوجوان یوں تو صدف کے خواستگار تھے جنہیں کلثوم نے بڑی سہولت سے انکار کردیا تھا کہ واقعی اس کی پڑھی لکھی سوہنی بیٹی ان اَن پڑھ اور ڈھورڈنگر چرانے والوں کے قابل نہ تھی مگر زمین دار اکبر علی کا رشتہ اسے سوچنے پر مجبور کررہا تھا۔ کئی مربع زمینیں‘ ہزاروں کی تعداد میں گائیں بھینسیں‘ بڑی ساری حویلی‘ کلثوم نے کافی متاثر زدہ انداز میں صدف کے سامنے پرپوزل اور اپنا ارادہ پیش کیا تھا جسے اس نے نخوت سے رد کردیا۔
’’زمینوں کا مالک ہے تو کیا ہوا کون سا مجھ سے موبائل پر چیٹ کرے گا۔ شرٹ‘ جینز پہنے گا؟ رہے گا تو دیہاتی ہی‘ پگڑ‘ کُرتا اور گھیر دار شلوار پہننے والا۔‘‘ وہ ایک آئیڈیلسٹ لڑکی تھی جس نے خیالوں میں ایک پیکر تراش رکھا تھا‘ خوبرو‘ دراز قامت‘ تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ جاب ہولڈر۔ جس کے ساتھ چلتے ہوئے وہ فخر محسوس کرے‘ جس کی ہمراہی میں وہ ساری زندگی کا سفر مکمل آسودگی اور چین سے کاٹ دے۔ وہ اپنے خوابوں پر ذرّہ برابر بھی کمپرومائز کرنے کو تیار نہ تھی اور کلثوم اسے کہیں دور غیروں میں دینے پر انکاری تھی۔
’’تُو میری اکو اک دھی ہے‘ میرا جمائی یہیں کہیں کا ہو جسے اپنے چولہے پر بٹھا کر میں اس کی سو خاطریں کروں۔ ایسا نہ ہو کہ تجھے دیکھنے کو ترستے ہوئے میں دکھی‘ غمگین تیری راہ تکتی رہوں اور اس بات پر خوش ہوتی رہوں کہ میری صدف کسی پڑھے لکھے کے ساتھ بیٹھی انگریزی میں گٹ پٹ کرتے ہوئے شہری کہلوا رہی ہے خود کو۔‘‘ رات کے بالن کے کے لیے خشک لکڑیوں کو توڑ توڑ کر ڈھیری بناتے ہوئے کلثوم دو ٹوک انداز میں بولی تھی۔
’’دور کیوں اماں؟ اور غیر کہاں بس تیری نزدیک کی نظر کمزور ہے اس لیے تو وہم کررہی ہے۔‘‘ ٹانگوں کے گرد بازو لپیٹے وہ وہیں چار پائی پر بیٹھتے ہوئے معنی خیز انداز میں بولی تھی۔
’’کیا مطلب ہے تیرا؟ میں سمجھی نہیں۔‘‘ کلثوم نے آنکھوں کی پتلیاں سکیڑ کر اسے دیکھا تھا۔ صدف کے چہرے پر محظوظ کن مسکراہٹ بکھری ہوئی تھی۔
’’اماں! میں شہروز کریم کی بات کررہی ہوں‘ اپنے پھوپی زاد شہروز کی۔‘‘ صدف نے آرام سے ایک بم کلثوم کے سر پر پھوڑا تھا۔
/…ء…/
کریم نواز گائوں کا رہائشی ہونے کی وجہ سے اپنا ذریعہ معاش کھیتی باڑی رکھتا تھا۔ وسیع رقبے پر پھیلی ہوئی زمینوں کی وجہ سے وہ کافی خوش حال اور مطمئن زندگی بسر کررہا تھا اس کی بیوی خدیجہ کے ہاں بچے کی آمد متوقع تھی۔ وہ جی جان سے بیوی کی خدمت کرتے ہوئے اپنے آنے والے بچے کی ڈھیروں باتیں بیوی سے کرتا تھا۔ بدقسمتی سے خدیجہ دوران زچگی ہونے والی پیچیدگی اور پھر گائوں میں طبی سہولتوں کے فقدان کی بدولت ایک بیٹے کو جنم دے کر کریم نواز کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے داغ مفارقت دے گئی۔ کریم نواز کے لیے بیوی کی دائمی جدائی ایک گہرا صدمہ تھی مگر ایک سال میں ہی اس کی ماں بہنوں نے اس کے لیے ایک لڑکی پسند کرلی۔ سانولی‘ تیکھے نقوش کی حامل شاہدہ اپنی تیز اور شوخ وشنگ طبیعت کی وجہ سے دنوں میں ہی کریم نواز کے دل پر چھا گئی۔ شاہدہ کو کریم نواز کے بیٹے سے کافی چڑ تھی‘ وہ اسے دیکھتے ہی تیوریاں چڑھا لیتی تھی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کے اپنے تین بچے ہوئے تو اسے اپنے شوہر کا یہ بیٹا اور بھی ناقابل برداشت لگنے لگا تھا۔ آنے بہانے وہ اسے خوب پیٹتی‘ بھوکا رکھتی اس کی کتابیں جلا کر کریم نواز کے سامنے اس کی سچی جھوٹی شکایتیں لگا کر اسے خوب ڈانٹ پڑواتی۔ ایسے میں لئیق احمد کا برسوں بعد اپنی اکلوتی مرحومہ بہن کے گھر آنے کا اتفاق ہوا تو بھانجے کی حالت دیکھ کر وہ دکھی ہوگئے۔ سوتیلی ماں کے مظالم اس کے بند ہونٹوں کے باوجود اس کے سراپے سے صاف واضح ہورہے تھے۔ لئیق احمد نے فوراً ایک فیصلہ کرتے ہوئے کریم نواز سے بھانجے کو اپنے ساتھ گھر لے جانے کی درخواست کی جو کریم نواز نے بخوشی قبول کرلی کیونکہ اس بیٹے کی موجودگی سے اس کی چہیتی بیوی اکثر اس سے ناراض ہوجایا کرتی تھی۔ لئیق احمد بھانجے کو لے کر گھر آگئے جہاں دو بیٹیوں کے ساتھ نرینہ اولاد کے لیے ترستی صبیحہ نے اسے آغوش میں بھر کر بھینچ لیا تھا۔ یوں شہروز کریم دس سال کی عمر میں لئیق صبیحہ اور ان کی دو بیٹیوں کے ساتھ ان کے گھر کا مستقل فرد بن گیا۔
/…ء…/
’’صبیحہ برا نہ مانو‘ میں نے بات پوری سولہ آنے کی کہی ہے۔‘‘ راحت نے گم سم بیٹھی صبیحہ کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتے ہوئے نرمی سے کہا تھا۔
’’یہ بات صرف میں نے نہیں کی بلکہ پوری برادری کررہی ہے۔‘‘
’’آپا! آپ اچھی طرح جانتی ہیں شہروز ہمارا بیٹا ہے‘ آج اٹھائیس سال کا ہے دس سال کا تھا جب میں نے اسے اپنی زندگی میں شامل کیا تھا۔ آپ یہ بات اچھی طرح جانتی ہیں اور باقی ساری برادری بھی ایسے میں ان سب باتوں کا مقصد؟‘‘ صبیحہ قدرے تلخی سے بولی تھی۔
راحت صبیحہ کی چچا زاد بہن تھی جو شامین کے لیے اپنے بیٹے فرجاد کا رشتہ لائی تھیں۔ خوش شکل‘ خوش اطوار‘ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل فرجاد‘ صبیحہ کو ویسے بھی بہت پیارا تھا اور شامین کے لیے رشتہ آیا کوئی بڑی بات نہیں تھی۔ خاندان‘ جاننے والے کتنے ہی گھر شامین کے طلب گار تھے۔ صبیحہ نے نرمی و شائستگی سے سب کی طرح راحت کو بھی انکار کردیا۔
’’آپا! آپ کی خواہش سر آنکھوں پر‘ مگر میرا اور لئیق کا ارادہ شہروز کے لیے اپنی شامین کا ہے۔‘‘
’’یہ تو تم دونوں کی خواہش ہوئی‘ اصل بات تو کریم نواز کی ہے جس کا یہ بیٹا ہے اسے اپنے ارادے کی اطلاع دی ہے یا یونہی بالا ہی بالا سارا کچھ طے کرلیا ہے تم لوگوں نے۔ آخر کو ان کا بچہ ہے‘ زندگی کا فیصلہ وہی کریں تو بہتر ہے۔ لئیق نے بھانجا پال پوس کر بڑا کیا مگر پھر بھی اس کی شادی کا اختیار بہرحال اس کے باپ کے پاس ہے۔‘‘ صبیحہ کو سرتاپا طنزیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے راحت مسکراتے ہوئے بولیں۔ صبیحہ کو ان کی بات بہت بُری لگی تھی تاہم تحمل سے بولیں۔
’’جی ہاں! بھائی کریم کو اس رشتے کا علم ہے‘ ہمیں بھی علم ہے کہ وہ شہروز کے والد ہیں جنہوں نے گزرے اٹھارہ برسوں میں کبھی بھول کر ہم سے نہیں پوچھا کہ بیٹے کی تعلیم و تربیت کے لیے ہمیں کسی چیز کی ضرورت تو نہیں۔ کوئی روپیہ پیسہ‘ دلی ڈھارس کبھی آکر بیٹے کے سرپر دستِ شفقت نہیں رکھا بس شادی کے وقت ہی ان کی پدرانہ محبتیں عود آئیں تو اور بات ہے۔‘‘ صبیحہ کا لہجہ نا چاہتے ہوئے بھی جتاتا ہوگیا تھا۔ ’’اور سب سے بڑھ کر اہم بات کہ شہروز خود شامین سے شادی کرنے کا خواہاں ہے‘ اس کی خواہش پر ہی تو ہم نے اپنی بیٹی اس کی ہمراہی میں سونپنے کا سوچا ہے۔‘‘
’’ہاں بھئی‘ جب دو جوان بالغ بچے ایک ہی گھر میں پروان چڑھیں تو ایسی محبتیں تو سر اٹھاتی ہی ہیں۔ تیلی اور پیٹرول کی قربت آخر کوئی نہ کوئی رنگ تو دکھاتی ہے ناں۔‘‘ راحت ٹھنڈی سانس بھرتے ہوئے بولیں تو صبیحہ کو ان کی بات سن کر بے حد غصہ آگیا۔ دل چاہا کہ ابھی کھڑے کھڑے راحت کو گھر سے نکال دیں جنہوں نے اپنی پست ذہنیت سے ان کی تربیت کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی تھی تاہم بے حد ضبط سے خون کے گھونٹ بھرتے ہوئے کوئی تبصرہ کرنے کی بجائے بس اتنا بولیں۔
’’یہ لیں آپا‘ چائے پئیں ٹھنڈی ہوگئی ہے۔‘‘
/…ء…/
آج کا دن رامین کے لیے بے حد مشکل اور صبر آزما تھا‘ کلثوم اس سے گھر کا کونا کونا صاف کروارہی تھی۔ جانوروں کا باڑہ‘ مرغیوں کے ڈربے‘ کمروں کی صفائی‘ ایک ایک چیز کی جھاڑ پونچھ‘ چار مہینے کی پریگنسی کے ساتھ اتنے سارے کام سر انجام دینا اس کے لیے بے حد صبر آزما ثابت ہورہا تھا۔ ایک سال کا ننھا ریان‘ اوپر سے الٹیوں اور متلی نے حالت خراب کر رکھی تھی ایسے میں مسلسل کام نے اس کی ذہنی و جسمانی حالت ابتر بنادی تھی۔
’’چل… اب چل کر کوئی خوب صورت جوڑا پہن لے‘ دنداسہ مار کر سرخی بھی لگا بلکہ ہماری طرف کے سارے زیور پہن لے۔ خبردار جو کوئی میستی گھنی شکل بنائی تو… پتا چلنا چاہیے کہ تُو کلثوم کی بہو ہے۔‘‘ دن ڈھلتے ہی کلثوم نے اسے جاکر حلیہ ٹھیک کرنے کا کہا تھا۔ دھول مٹی سے اٹے کپڑوں اور بالوں کو جھاڑتی وہ اندر اپنے کمرے میں آگئی۔
آج کریم نواز‘ شاہدہ اور اس کے پورے گھر والوں کی دعوت تھی۔ کلثوم نے دل کھول کر دعوت کے لیے اہتمام کیا ہوا تھا۔ سجاد نے اس سال کریم نواز کی زمین سالانہ ٹھیکے پر لی ہوئی تھی۔ مرحومہ خدیجہ کی بھابی ہونے کے ناتے کلثوم ویسے بھی شاہدہ سے اچھے تعلقات رکھے ہوئے تھی۔ اب تو زمین کی شراکت کی وجہ سے ان کے تعلقات ہر گزرتے دن کے ساتھ اچھے‘ بہتر اور مضبوط ہوتے جارہے تھے۔ کلثوم ان کی خدمت کرتی تو شاہدہ ان لوگوں کو سر آنکھوں پر بٹھاتی۔
رامین مہمانوں کی آمد تک ساس کی ہدایت کے مطابق تیار ہوچکی تھی زیورات و شوخ چمکیلے جوڑے کے ساتھ‘ تیار تو صدف بھی ہوئی تھی خوب دل لگا کر‘ آف وائٹ اور میرون کلر کمبی نیشن کے ایمبرائیڈڈ جوڑے میں اس کا تازہ فیشل کیا ہوا‘ چہرہ دمک رہا تھا اوپر سے سلیقے سے کیا گیا میک اپ۔
’’ادا کریم! خیر سے اپنے پتر شہروز کی خیر خبر لی ہے کبھی‘ لئیق اور صبیحہ قبضہ کرکے بیٹھ گئے ہیں اس پر۔‘‘ کھانے کے بعد سب ٹولیوں کی صورت میں اکٹھے بیٹھے باتیں کررہے تھے کلثوم نے حقے کا چلم تازہ کرکے چمٹے سے انگارہ پکڑ کر حقہ دہکایا اور کریم نواز کے پاس آکر بیٹھ گئی۔
’’کیا خیر خبر لوں‘ وہ نامراد خود ہی پیو کو کچھ نہیں سمجھتا‘ پڑھ لکھ کر وڈی شے بن گیا ہے بھول گیا ہے۔ ماں کے ساتھ وہ مجھے بھی قبر میں اتار بیٹھا ہے۔‘‘ حقے کی نے پگڑی کے سرے سے صاف کرکے منہ سے لگاتے ہوئے کریم نواز ناگواری سے بولا۔
’’تو تُو کیوں ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھا ہے‘ واپس لے آ۔ تیری اپنی شے ہے‘ تیرا حق ہے سنا ہے لئیق اسے اپنی بیٹی دے رہا ہے۔ گھر داماد بناکر ساری زندگی کے لیے اپنے پاس رکھ لے گا جوان اولاد ساری عمر کی کمائی ہوتی ہے اپنی کمائی تو خود سنبھال۔ تیرے میرے در پر کیوں رہے‘ اس کی شادی کا فرض تو خود ہی پورا کر۔‘‘ کلثوم نرم‘ ہمدردی بھرے انداز میں کریم نواز سے دھیرے دھیرے کہہ رہی تھی۔
’’ایسے کیسے لئیق اسے بیٹی دے سکتا ہے‘ میں مرگیا ہوں جو اکلا (اکیلا) اس کے فیصلے کررہا ہے۔‘‘ کریم نواز بھڑک کر بولا کہ حلق میں حقے کا دھواں پھنس گیا تھا ایسا کہ کھانسی کا دورہ پڑگیا۔ کلثوم کو اس کی کمر سہلانا پڑی تھی۔
’’تو ادا کوئی جلد از جلد فیصلہ کر‘ شہروز کو واپس لا یا پھر اس کی شادی اپنے جیسے لوگوں میں کر اگر لئیق کے ہاں شادی کی تو چھوکرا ہمیشہ کے لیے تیرے ہاتھ سے نکل گیا۔ سنا ہے شہروز خود لئیق کی لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہے۔‘‘ رامین چائے بنانے کے لیے باوچی خانے کی طرف آرہی تھی کہ باہر دروازے کے پاس چارپائی پر بیٹھی کلثوم کی آواز اسے سنائی دی تھی۔
’’صبیحہ کی بیٹی بڑی چالاک اور گھنی ہے‘ کوئی مجھ سے پوچھے کہ یہ شہری بہوئیں کیا تارے دکھاتی ہیں۔ ان کی صورت اور باتوں پر نہ جائو‘ میرا صبر ہے جو لئیق کی بیٹی کے ساتھ گزارا کررہی ہوں تُو بھی سنبھل جا‘ ابھی وقت ہے۔‘‘ رامین کے قدم جیسے اپنی جگہ پر جم سے گئے تھے۔
’’ارے بھرجائی! تُو فکر کیوں کرتی ہے‘ میرا نام بھی کریم نواز ہے جس کا کاٹا پانی بھی نہیں مانگا کرتا۔ تُو دیکھتی جا‘ میں لئیق کے چنگل سے شہروزکو کیسے چھڑا لاتا ہوں۔‘‘ منہ سے دھواں چھوڑتے ہوئے کریم نواز پُرسوچ انداز میں بول رہا تھا اور ادھر لمحہ بھر کے لیے رامین کو چکر سا آگیا تھا۔
/…ء…/
’’بیٹا! کیوں اپنا خیال نہیں رکھتی ہو‘ اپنے حال پر رحم کرو۔ ساتھ میں اپنے بچے پر بھی۔‘‘ صبیحہ ترحم بھری نظروں سے رامین کو دیکھتے ہوئے بول رہی تھیں‘ ڈاکٹر نے اس دفعہ بھی اس کی ڈلیوری کو خالی از خطرہ قرار نہیں دیا تھا۔
’’کمال ہے بچہ ابھی سال کا ہوا نہیں اور آپ نے ایکسپکٹ کرلیا‘ کم از کم دو سال کا وقفہ لیتیں‘ وہ بھی اس صورت میں جب آپ نہ پراپر ڈائٹ لیتی ہیں نہ ریسٹ۔ اتنی کمزوری کے ساتھ فیملی میں اضافہ میرے نزدیک تو خودکشی ہے۔‘‘ کاغذ پر تیزی سے قلم چلاتے ہوئے ڈاکٹر شہلا کا انداز فہمائشی تھا وہ اب ان سے کیا کہتی وقفہ سجاد کو گوارا نہ تھا اور خوراک کا یہ حال کہ جب صدف آجاتی تو گوشت پک جاتا وہ بھی زیادہ گھی اور اچھے مصالحوں میں ورنہ تو سارا سال زمینوں سے آتی سبزیوں پر گزارنا پڑتا۔ دودھ پیسوں کی خاطر کلثوم اڑوس پڑوس میں بیچ دیتی صرف ریان کو پیٹ بھر کر دودھ ملتا آخر کو کلثوم کا لاڈلہ پوتا تھا وہ ماں اور ڈاکٹر کی باتوں پر سوائے چپ رہنے کے اور کیا کرسکتی تھی۔
’’خیر سے تمہاری ڈلیوی ہوجائے تو شہروز اور شامین کی شادی کرتے ہیں۔ شہروز کو پرائیوٹ جاب مل گئی ہے۔‘‘ صبیحہ سیب کاٹ کاٹ کر اس کے سامنے پلیٹ میں رکھتی جارہی تھیں۔
جب سے آپا راحت ان کے گھر سے ہوکر گئی تھیں اسی وقت سے انہوں نے شہروز اور شامین کی جلد از جلد شادی کا پروگرام بنالیا تھا۔ آپا راحت کی باتوں نے انہیں سخت ذہنی صدمہ پہنچایا تھا‘ کھول کھول کر انہوں نے اپنا بی پی اس حد تک بڑھالیا تھا کہ روز شہروز کو انہیں ڈاکٹر کے پاس چیک اپ کے لیے لے جانا پڑتا تھا۔ صرف راحت ہی نہیں بلکہ اور رشتہ داروں کی طرف سے بھی اسی طرح کی چہ مگوئیاں سننے کو ملی تھیں۔ اب رشتہ داروں کی زبان تو پکڑنے سے رہیں بس لئیق احمد کے بازو پر سر رکھ کر رو دیتی تھیں۔
’’لئیق! یہ سب لوگ کیا کہہ رہے ہیں‘ شہروز میرا بیٹا ہے کیا ہوا جو میں نے اسے جنم نہیں دیا مگر پیار تو سگے بچوں والا دیا ہے۔‘‘
’’یہ کم عقل اور کم ظرف لوگ ہیں‘ تم کسی کی پروا نہ کیا کرو بس یہ سمجھو کہ شہروز کی تربیت اور پرورش کا ذمہ ہمیں سونپ کے اللہ تعالیٰ نے کوئی بہت بڑی سعادت ہمارے نصیب میں لکھ دی ہے اور دیکھو ہماری نیکی ضائع نہیں گئی ایسا ہیرا صفت بچہ ہماری اپنی بیٹی کا نصیب بننے والا ہے۔‘‘ لئیق ہولے ہولے ان کا سر تھپک کر دلاسہ دیتے۔ غمگسار اور دلدار شریک سفر کا دلاسہ ان کے دل سے غم و تفکر کی دھند کو لمحہ بھر کے لیے بٹادیتا تھا۔ تاہم اپنی فہم اور سمجھ داری کی بنیاد پر انہوں نے شہروز کا گھر بسانے کا فیصلہ کرلیا تھا۔
’’مگر امی! آپ نے چاچا کریم نواز سے مشورہ کیا ہے اس شادی کے بارے میں؟ یہ تو آپ کا اور ابو کا فیصلہ ہے اور سب سے بڑھ کر شہروز کی خواہش ہے۔ ہوسکتا ہے ان کی خواہش کچھ اور ہو؟‘‘ رامین سیب کھاتے ہوئے پُرسوچ انداز میں صبیحہ کو دیکھ رہی تھی جو اس کی بات سن کر ذرا سا مسکرا کر بولیں۔
’’رامین بیٹا! تم بھی کمال کرتی ہو‘ شہروز ہمارا اپنا بیٹا ہے ہم ہی اس کے مستقبل کا فیصلہ کرسکتے ہیں۔ بھائی کریم نواز کو کیا اعتراض ہوسکتا ہے‘ ویسے بھی اٹھارہ برسوں کا طویل وقت گزرا ہے‘ ان گزرے ایام میں کبھی وہ ہمارے گھر نہیں آئے یہ تک نہ پوچھا کہ بیٹا کس حال میں ہے‘ اس کی تعلیم وتربیت‘ صحت کسی بات کے بارے میں بھی سوال نہیں کیا پھر اب شادی کے سلسلے میں کیونکر و ہ فیصلہ کرسکتے ہیں۔‘‘ صبیحہ اپنی جگہ شاد اور مطمئن تھیں۔ رامین ماں کی بات سن کر ایک پل کے لیے خاموش گئی۔ کانوں میں کلثوم کی آواز گونجنے لگی تھی جو اس نے میکے کے لیے روانہ ہوتے وقت سنی تھی۔
’’کان کھول کر سن لو‘ جاتے ہی اپنے ماں باپ کو بتادینا کہ بھائی کریم نواز اپنے شہروز کے لیے صدف کا رشتہ ڈال گئے ہیں۔ اپنی بیٹی کے لیے وہ کوئی اور بر دیکھیں‘ شہروز میرا جوائی بنے گا اگر سیدھے طریقے سے بات نہ مانی تو مجھے اپنی بات منوانے کے لیے اور طریقے بھی آتے ہیں۔‘‘ دھمکاتا ہوا سنگین لہجہ‘ پتھر برساتی آواز… رامین نے لمحہ بھر کے لیے آنکھیں بند کرلی تھیں۔
’’زیورا سارا میرا اپنا ہے‘ بس پالش کرانے کی ضرورت ہے باقی فرنیچر کے لیے تمہارے ابو کی کمیٹی کام آجائے گی۔‘‘ صبیحہ مسرور مطمئن انداز میں کہہ کر الماری کھولنے لگیں‘ ارادہ رامین کو اپنے زیور دکھانے کا تھا۔ رامین بس ڈبڈبائی آنکھوں سے ماں کی پشت کو دیکھتی رہی تھی۔
/…ء…/
رامین نے ایک بیٹی کو جنم دیا تھا‘ بیٹی بھی ریان کی طرح کمزور اور لاغر تھی۔
’’کوئی بات نہیں‘ بھرپور توجہ اور اچھی خوراک سے ماں اور بچی کی صحت دنوں میں ٹھیک ہوجائے گی۔‘‘ شامین نے بھانجی کو دیکھتے ہوئے اطمینان بھرے انداز میں تبصرہ کیا تھا۔ وہ آج کل جی جان سے اپنی صورت نکھارنے میں لگی رہتی تھی‘ کالج سے بھی آف لے لیا تھا۔ صبیحہ کی تاکید کے مطابق شہروز سے بھی سامنا نہ کرنے کی کوشش کرتی تھی مگر وہ بھی بلا کا ہوشیار تھا‘ نظر بچا کر موقع ڈھونڈ ہی لیتا۔
’’کیا ہے یار! شفٹ میرے کمرے میں ہونا ہے اور چھپ بھی مجھ سے رہی ہو۔‘‘ وہ اس کے چمکتے چہرے کی خوب صورت ستواں ناک میں گڑی لونگ کو دیکھتے ہوئے شوخی سے بولا تھا۔
’’پلیز شہروز! جائو یہاں سے‘ اگر امی آگئیں تو تمہاری تو خیر ہے مجھ سے سخت باز پرس ہوگی۔‘‘ وہ گھبرائی ہوئی آواز میں سیڑھیوں کی سمت دیکھتے ہوئے بولی تھی۔ رات کو حسب معمول وہ چھت والا گیزر چلانے آئی تھی جہاں شہروز بھی اس کے پیچھے آگیا تھا۔
’’اچھا یہ بتائو‘ منہ دکھائی کے لیے تمہارے لیے کیا خریدوں؟‘‘ اب وہ دیوار سے پشت لگا کر ہلکے پھلکے انداز میں پوچھ رہا تھا۔
’’جناب پوچھ تو ایسے رہے ہیں جیسے میری چوائس کا علم نہ ہو۔‘‘ وہ جیسے جل کر بولی۔
’’اب مجھے کیا پتا‘ بچپن سے لے کر اب تک تمہیں ڈھیروں شاپنگ کروائی ہے۔ ہر عمر میں تمہاری چوائس یادگار ہے میرے لیے‘ کبھی پونیوں والی گڑیا تو کبھی کھوئے والی آئس کریم‘ کبھی ویڈیو گیم تو کبھی لالہ جی کے آلو چھولے‘ ہنہہ…‘‘ وہ شرارت سے آنکھیں نچا کر پوچھ رہا تھا۔
’’ایک چیز بھول رہے ہو‘ مجھے ڈانسنگ والا بھالو بھی بہت پسند تھا جس کی ناک میں تمہاری ناک سے مشابہہ قرار دیتی تھی۔‘‘ اب کے وہ خاصی جل کر بولی تھی‘ شہروز کے حلق سے بے ساختہ قہقہہ نکلا تھا۔
/…ء…/
بہترین خوراک‘ مکمل آرام اور آسودہ ماحول کی وجہ سے ننھی رمیزہ دن بہ دن کھلتی جارہی تھی۔ پیدائش کے وقت کا سانولا پن اب گلابیوں میں گم ہوچکا تھا صرف تین ماہ کی تھی مگر قلقاریاں ایسی مارتی جیسے سال کی ہو مگر اس کے برعکس رامین ویسی کی ویسی ہی تھی۔ کمزور‘ سانولی‘ آنکھوں کے گرد حلقے‘ دن بہ دن سوکھ کر کانٹا ہوتی جارہی تھی۔ اچھی خوراک‘ آرام اور ماحول کا بالکل بھی اثر نہ ہوپارہا تھا۔ ہوتا بھی کیسے چار ماہ ہونے کو آرہے تھے اسے یہاں قیام کیے ہوئے‘ اتنے عرصے میں ایک بار بھی سجاد کی طرف سے اسے نہ کوئی کال موصول ہوئی تھی نہ وہ خود آیا اپنی بیٹی کو دیکھنے۔ صرف سجاد پر ہی کیا موقوف‘ گھر کے کسی فرد نے بھی پلٹ کر ان ماں بچوں کی خبر نہ لی تھی۔ دن تیزی سے گزرتے جارہے تھے‘ اب تو لئیق اور صبیحہ کو بھی ہول اٹھنے لگے تھے۔
’’الٰہی خیر! یہ بھابی ابھی تک پوتی کو ملنے کیوں نہیں آئیں‘ اطلاع بھی مل چکی ہے۔‘‘
’’حوصلہ رکھو صبیحہ! فصلوں کی کٹائی کا موسم ہے‘ ہوسکتا ہے بار دانہ اٹھا کر آئیں۔‘‘ بے حد پریشان دل کے ساتھ لئیق احمد نے بظاہر آرام سے صبیحہ کو پرسکون رہنے کو کہا تھا۔
مگر دن پنکھ لگا کر اڑتے جارہے تھے ننھی رمیزہ اب بیٹھنے لگی تھی۔ گھر کا ہر فرد رامین کی گرتی ہوئی صحت کے بارے میں فکر مند تھا پھر اپریل کی ایک پُرتپش دوپہر میں کلثوم اور سجاد تو نہ آئے مگر کریم نواز ضرور آگیا تھا۔
’’چل پُتر شہروز! چل اپنے گھر‘ بہت رہ لیا اپنے مامے کے پاس‘ اب بڈھے پیو کی خدمت کر۔‘‘ شہروز تو کیا سبھی ان کی بات پر گم سم ہوگئے تھے۔
’’مگر ابا جی! میری یہاں نوکری لگ گئی ہے‘ میں گائوں کیسے چل سکتا ہوں۔‘‘ شہروز ورطۂ حیرت سے ابھرتے ہوئے بدقت مسکرا کر بولا۔
’’نوکری لگ گئی ہے تو کیا ہوا‘ آجانا ڈیوٹی پر فی الحال تو گھر چل۔ تیرے ویاہ کی تیاریاں چل رہی ہیں‘ تیرے بڑے مامے نذیر احمد کی کڑی صدف میں نے تیرے لیے چنی ہے بڑی سوہنی تے تابع دار چھوری ہے۔‘‘ پتلی مونچھوں کو سنوارتے ہوئے کریم نواز نے بڑے آرام سے سب کو جھٹکا دیا تھا سبھی کے چہرے فق ہوگئے تھے۔
’’مگر بھائی کریم! شہروز کا رشتہ تو ہم نے اپنی بیٹی شامین سے کردیا ہے‘ ان شاء اللہ اگلے مہینے کی کسی تاریخ کو شادی رکھتے ہیں۔ میں اس سلسلے میں آپ کے پاس آنے ہی والا تھا۔‘‘ پریشانی کے بھنور میں ابھرتے‘ ڈوبتے دل کے ساتھ لئیق احمد بظاہر تحمل سے بولے تھے۔
’’نہ تو کس کی مشاورت سے فیصلہ کرلیا اس کی شادی کا‘ میں اس کا سگا پیو زندہ موجود ہوں ایسے کلے کلے (اکیلے) اس کی جنج کی دیگیں کھڑکا لو گے۔ میں نے بچہ ترس کھاکر دیا تھا کہ پُتر ذات کو نمانے ترس رہے ہیں مگر پکے کاغذ پر انگوٹھا تو نہیں لگایا تھا کہ اپنا جگر کا ٹوٹا تم لوگوں کو بخش دیا ہے کہ اب اس کی زندگی کے تم ہی وارث ہو۔‘‘ کریم نواز جارحانہ تیوروں کے ساتھ اونچا اونچا بول رہا تھا۔ وہ اپنا ذہن بناکر آیا تھا کہ بیٹے کی واپسی کا مطالبہ کرتے ہوئے اسے لئیق احمد اپنے کیے گئے احسانات سناکر خاموش کرسکتا ہے جب ننھا شہروز سوتیلی ماں کے ظلم وستم کا شکار اس کی خانگی زندگی کو خراب کرنے کا سبب بنا ہوا تھا اس لیے وہ حتی المقدور بگڑ کر بول رہا تھا۔ اپنی دھونس جمارہا تھا‘ خود کو درست ثابت کرنے کے لیے آنکھوں میں درشتی اور لہجے کو کٹیلا بنایا ہو تھا۔
’’مگر ابا جی! آپ نے انگوٹھا نہیں لگایا تھا تو ماموں نے بھی ایسی کوئی شرط نہیں رکھی تھی کہ پال پوس کر‘ پڑھا لکھا کر اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کے بعد وہ مجھے آپ کے حوالے کردیں گے۔‘‘ اب کے شہروز بے حد سنجیدگی سے باپ سے مخاطب تھا۔
’’ان اٹھارہ برسوں میں میں سینکڑوں بار بیمار ہوا‘ مرنے کے قریب ہوا مجھے ماموں علاج کے لیے ہسپتال لیے پھرتے تھے۔ مامی ساری ساری رات میرے سرہانے جاگ کر میری صحت یابی کی دعائیں مانگا کرتی تھیں۔ میری ہر خواہش‘ ہر چائو ان لوگوں نے پورا کیا اور میں نے ان سے ہر وہ فرمائش کی جو ایک بچہ اپنے ماں باپ سے کرتا ہے۔‘‘ بولتے بولتے شہروز کا لہجہ بھیگ گیا تھا‘ صبیحہ کی آنکھیں بھی جھلملا اٹھی تھیں۔
’’اپنی ضروریات کو مختصر کرکے مجھے اچھے اسکول میں پڑھایا‘ کبھی نہ کہا کہ شہروز تمہارا باپ ایک بڑا زمین دار ہے‘ جائو ان سے اپنا خرچہ لے آئو ہمارا ہاتھ تنگ ہے ہمارے حالات ٹھیک نہیں اور نہ ہی آپ نے کبھی جھانک کر دیکھا کہ بیٹا کس حال میں جی رہا ہے۔ میرے ماموں‘ ممانی میرے ماں باپ اور محسن ہیں اور اپنے محسنوں کے احسانات میں مر کر بھی نہیں اتار سکتا ہاں البتہ ان کی محبتوں‘ عنایات اور اپنائیت کے بدلے انہیں اتنا مان اور حق ضرور دے سکتا ہوں کہ میری زندگی کا سب سے اہم فیصلہ شادی یہ لوگ اپنی مرضی اور خوشی سے کریں چاہے ان کی اپنی بیٹی ہی ہو۔‘‘ لہجے کی کپکپاہٹ پر قابو پاتے ہوئے شہروز نے سرخ آنکھوں سے باپ کو دیکھا تھا جو لب بھینچے اس کی باتیں سن رہا تھا۔ کمرے میں خاموشی در آئی تھی جس میں صبیحہ کی سسکیاں گاہے بگاہے ابھر رہی تھیں۔
’’تو بیٹا جی! اتنی پڑھائی لکھائی کا یہ فائدہ ہوا کہ سگے باپ کا رتبہ ہی بھول گیا۔ تُو میری خواہش کو رد کرکے اپنے ان محسنوں کی بات کو سر آنکھوں پر رکھ رہا ہے‘ سلام تیری پڑھائی پر۔‘‘ کریم نواز کا طنزیہ لہجہ شرمندہ کرنے والا تھا۔ شہروز نے سینے پر ہاتھ باندھے پیچھے صوفے سے پشت لگالی اور سامنے پڑے واز کو دیکھنے لگا۔ کریم نواز کی بات پر تبصرہ کرنے کو اس کا جی نہیں چاہ رہا تھا۔
’’بھائی صاحب! خدیجہ مرگئی مگر آپ اب بھی میرے لیے بڑے بھائی اور بہنوئی ہیں۔ آپ کا ہر فیصلہ میرے لیے مقدم ہے‘ اس رشتے میں شہروز کی اپنی چاہ شامل ہے۔ بچوں کے فیصلوں پر سر جھکانا ہی آج کی سب سے بڑی دانش مندی ہے۔ ہماری ہر خوشی آپ کی رضا کے بغیر نامکمل ہے‘ پلیز اپنا دل اور ظرف بڑا کریں اور شہروز کی خواہش کو تسلیم کرلیں۔‘‘ لئیق احمد اب کے خاصی لجاجت سے بولے تھے۔
’’ہاں مجھے علم ہے کہ اس رشتے میں عشق عاشقی کا چکر ہے‘ شہر کی پڑھائیاں باپ کا ادب تو نہیں سکھاتیں مگر یہ نین مٹکا کرنا ضرور سکھا دیتی ہیں۔ چھوکری بھی گھر کی‘ چھورا بھی لے پالک… لئیق احمد! چل تیرے تو مزے ہوگئے‘ گھر بیٹھے بیٹی کا بر مل گیا تجھے‘ زیادہ مشکل نہیں اٹھانی پڑی۔‘‘ کندھے پر رکھا صافہ جھٹکتے ہوئے کریم نواز کٹیلے انداز میں بولا تھا اس کی بات پر شہروز کا چہرہ ایک دم سے سرخ ہوا تھا۔
’’ابا جی پلیز… تہمت لگانے سے گریز کریں۔‘‘ اس کا دل چاہا کہ کاش یہ سامنے بیٹھا تکبرانہ انداز لیے شخص اس کا سگا باپ نہ ہوتا۔
’’مکدی گل کو مکا‘ بھرجائی کلثوم بھی اس رشتے کے لیے بے حد جذباتی اور خوش ہے۔ مجھ سے سنجوگ جوڑنا اس کے لیے سب سے بڑی خوشی ہے اس کا کہنا ہے کہ لئیق احمد اگر پیچھے نہ ہٹا تو اس کی وڈی بیٹی رامین ہمیشہ کے لیے اس کے در پر بیٹھی رہے گی۔ سجاد اسے طلاق دینے پر رضا مند ہوگیا ہے۔‘‘ جاتے جاتے کریم نواز ان سب کے پیروں کے نیچے سے زمین نکال کر لے گیا تھا۔
/…ء…/
آج اٹھ مارچ کا دن تھا‘ خواتین کا عالمی دن۔ عورت جو ماں‘ بہن‘ بیٹی اور بیوی ہر روپ میں قربانی ایثار‘ وفا‘ استقلال‘ جرأت اور بہادری کی لازوال داستانیں رقم کرتے ہوئے انسانیت کے ماتھے کا تاج ہے۔ تاریخ اس کی مہرو محبت کی مثالوں پر نازاں ہے اور انسانیت کو اس کی وفاداری‘ بلند کرداری اور زندگی کی سنگلاخ حقیقتوں میں قربانی اور دوستی کے پھولوں کی آبیاری کرنے پر ناز ہے۔ آج یہی عورت دنیا کے ہر خطے میں ہر روپ میں اپنی خداداد صلاحیتوں کی بدولت اپنے وجود اور اپنی اہمیت کو منوارہی ہے۔ کون ہے جو صاحب عقل و دانش اور اس کے جو ہر گراں مایہ سے انکار کرے مگر اپنی لازوال اور بے مثال قربانیوں کے باوجود یہی صنف آج بے حد ظلم و ستم کا شکار ہے۔ کہیں پر کلہاڑیوں کے وار سے کٹ مر رہی ہے تو کہی چولہا پھٹنا اس کے لیے پیام اجل بن جاتا ہے اس کے نرم و نازک نقوش سے سجے چہرے کو تیزاب سے جھلسا کر انسانیت کو اپنا چہرہ چھپانے پر مجبور کیا جارہا ہے۔ کہیں یہ سر عام نیلام ہورہی ہے تو کہیں اپنی بقا کے لیے اپنے ہر خونی رشتے کے آگے سر جھکانے پر مجبور ہے کیونکہ یہ بنت حوا ہے۔ اس کا خمیر ہی محبت‘ ایثار‘ قربانی سے اٹھا ہے اس کی سرشت میں خود غرضی‘ جفا‘ ظلم اور سفاکی ہے ہی نہیں۔
کلثوم‘ کریم نواز اور سجاد اپنی ضد پر ہنوز اڑے ہوئے تھے۔ ان کے ناخواندہ ذہن اور دیہاتی طبیعتیں شہروز اور شامین کی شادی کو اپنی انا کے لیے سراسر قتل سمجھ رہی تھیں۔ اس لیے انہوں نے لئیق اور صبیحہ کو جھکانے کے لیے تیر ہدف نسخہ آزمایا تھا۔ بیٹیوں کے ماں باپ کو جھکانے کے لیے معاشرے میں ایک سے بڑھ کر ایک طریقہ موجود ہے۔
’’شہروز کو صدف سے شادی کے لیے راضی کرلیں ورنہ اپنی بیٹی رامین کے چہرے پر طلاق کی کالک ملنے کے لیے تیار ہوجائیں۔‘‘ سجاد نے سالانہ ٹھیکے پر کریم نواز کی زمین کاشت کے لیے لی ہوئی تھی جس میں معاہدے کے مطابق آدھی پیداوار کریم نواز کو دینی تھی مگر کلثوم کی سازشی اور عیار طبیعت نے کریم نواز کی عقل کو ایسا مٹھی میں لیا کہ کریم نے اپنے حصے کی پیداوار سجاد کو معاف کردی تھی اور سجاد جو بے حد گنوار‘ بدفطرت ہونے کے ساتھ ساتھ بے حد حریص اور خود غرض بھی تھا ماں کے کہنے پر اپنی بے حد شریف اور باوفا بیوی رامین کو طلاق دینے پر رضا مند ہوگیا تھا۔
’’دیکھو بھرا کریم! یہ ہوتی ہے ماں پیو کی تابع داری‘ میرا سجو اپنی دو بچوں کی ماں کو طلاق دینے پر راضی ہوگیا ہے اور تیرا پُتر ابھی تک مامے کے گوڈے سے لگ کر بیٹھا ہے۔‘‘ آنکھیں نچاتے ہوئے کلثوم نے کریم نواز کے منفی جذبات کو ہوا دی تھی۔
اور ادھر سب کی دنیا ہی آنسووں میں ڈوب چکی تھی۔
’’لئیق! خدا کے لیے کچھ کریں‘ میری رامین کو اس داغ سے بچائیں‘ وہ دو بچوں کے ساتھ کہاں جائے گی۔ معاشرہ اسے مطلقہ کے نام سے پکارے گا‘ اس کے بچوں کا مستقبل کیا ہوگا‘ یہ دیہاتی لوگ ہیں شعور اور سمجھ داری سے بے بہرہ جو کہہ رہے ہیں وہ کر گزریں گے۔ میری بچی تو بے موت ماری جائے گی۔‘‘ صبیحہ بلک بلک کر روتے ہوئے لئیق احمد کا کندھا جھنجھوڑ رہی تھیں جو گم سم سوچوں میں مستغرق رہتے تھے جن کے پاس اس مسئلے کا کوئی حل نہ تھا وہ کہاں جائیں‘ کس کے پاس فریاد لے کر جائیں۔ گھر کے ہر فرد کی آنکھوں سے نیند روٹھی ہوئی تھی درو دیوار سے وحشت سی ٹپک رہی تھی۔ رامین لب بستہ‘ روبوٹ کی مانند اپنے بچوں کو سنبھالنے میں لگی رہتی تھی۔ شہروز دن کا بیشتر حصہ گھر سے باہر گزارتا تھا‘ شامین کی روئی روئی صورت اسے درد کے کانٹوں پر دھکیل دیتی تھی۔
پھر خاندان والوں نے سنا کر رامین کا گھر اس کے اپنے گھر والوں کی خود غرضی اور نا سمجھی بلکہ کسی حد تک ہٹ دھرمی کی بدولت ٹوٹ رہا ہے تو ہر فرد نے اپنی سمجھ اور استطاعت کے مطابق ان کو سمجھانے کی کوشش کی۔
’’لئیق اور صبیحہ! عقل کرو‘ ایک بیٹی کا گھر بسانے کے لیے دوسرا بنا بنایا گھر توڑ رہے ہو کچھ تو خیال کرو اور ویسے بھی ساری زندگی ایک گھر میں پل کر جوان ہونے کے بعد شادی کی صورت میں لوگ شہروز اور شامین کے کردار یہ انگلیاں اٹھائیں گے۔‘‘ جملے تھے کہ سنسناتے ہوئے تیر جو چاروں طرف سے آکر ان سب کے دلوں میں ترازو ہورہے تھے۔ لہو لہو دل کی سرخی آنکھوں سے چھلک آئی تھی۔
شہروز اس گھر میں بسنے والے سبھی افراد سے بے حد محبت کرتا تھا‘ اپنی وجہ سے انہیں دکھی دیکھنا اس کے لیے انگاروں پر چلنے کے مترادف ثابت ہورہا تھا۔ اس لیے اس نے گیلی آنکھوں کے آنسو پونچھتے ہوئے اپنا بیگ تیار کرنا شروع کردیا تھا‘ کل اسے گائوں کے لیے روانہ ہونا تھا۔ رامین اور بچے بھی اس کے ساتھ جانے کو تیار تھے۔
اور ایک اندھیرے کمرے میں بے حس و حرکت بیٹھی خاموش آنسوئوں کے ساتھ روتی ہوئی شامین سوچ رہی تھی کہ آج آٹھ مارچ کا دن عورتوں کے حقوق اور ان پر کیے گئے مظالم کے حوالے سے ان کی داد رسی کا دن ہے۔ عورت جو ہر روپ میں مرد کے کسی نہ کسی روپ کی بربریت اور ستم کا شکار ہوجاتی ہے مگر وہ ظلم جو ایک عورت خود دوسری عورت پر روا رکھتی ہے جیسے صدف اور کلثوم کے بچھائے ہوئے سازشی جال نے اس کی معصوم محبت پر شب خون مارا تھا۔ اس کی اور شہروز کی خالص اور پاکیزہ محبت کو اپنی خود غرضی کی بھینٹ چڑھا ڈالا تھا۔ انہیں تاحیات نارسائی کی دہکتی آگ میں دھکیل دیا تھا اس ظلم کی تشہیر کون کرے؟ اس ظلم پر کون کسی کی شنوائی سنے؟ شامین کے د کھی دل سے یہ صدا نکل رہی تھی کہ عورت کے عورت پر ظلم کے حوالے سے بھی تو کوئی دن ہونا چاہیے۔ آٹھ مارچ کے علاوہ کوئی دن اور… ہونا چاہیے ناں؟

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close