Aanchal Mar 16

تیرے عشق نچایا(وسط نمبر6)

نگہت عبداللہ

خیر و شر کی خبر کو مانتے تو سب ہی ہیں
کس کو ہوش رہتا ہے جبر اور ضرورت میں
دونوں درد دیتی ہیں آہ سرد دیتی ہیں
فرق کچھ نہیں ایسا نفرت و محبت میں

(گزشتہ قسط کا خلاصہ)
تانیہ احسن کے وطن واپس لوٹنے پر بے حد خوشی محسوس کرتی ہے جب کہ دوسری طرف احسن کے دل میں اس کے لیے کوئی خاص جذبات نہیں۔ اسی لیے وہ تانیہ سے فرار حاصل کرنا چاہتا ہے جبکہ تانیہ اس سے محبت کی دعوی دار ہے تانیہ اپنے مقصد کی خاطر نشا کی مدد سے احسن کے دل تک رسائی حاصل کرنا چاہتی ہے اور نشا بھی اس کی مدد کرنے کی حامی بھرلیتی ہے۔ وہ احسن کو اپنی محبت کا واسطہ دے کر تانیہ کے لیے تیار کرلیتی ہے جب ہی ساجدہ بیگم اور نشا باقاعدہ طور پر تانیہ کی ماں زبیدہ بیگم سے ملتی ہیں۔ نشا تمام حالات سے سمجھوتہ کرکے محسن کے ساتھ خوشگوار زندگی گزارنے کا سوچ کر اپنے تمام سابقہ رویوں میں بدلائو لاکے محسن سے معافی مانگ لیتی ہے جبکہ محسن اس کے اس طرز عمل پر حیران رہ جاتا ہے۔ دوسری طرف محسن کے رویے میں بدلائو پیدا ہونا شروع ہوجاتا ہے اسے نشا کی محبت پر شک ہونے لگتا ہے جب کہ محسن کی یہ بے اعتمادی نشا کو توڑ کر رکھ دیتی ہے۔ صبا کے لیے آصف جاہ کا وجود دن بدن پریشانیاں لے کر آتا ہے وہ ایسے خان جنید اور اس کی عمروں کا تفاوت کا احساس دلا کر کمتری کے احساسات میں مبتلا کردیتاہے آصف جاہ خود بھی صبا کی جانب محبت و دوستی کا ہاتھ بڑھاتا ہے آصف جاہ کے اس رویے پر صبا کو خود بھی اپنی زندگی کے خالی پن کا احساس ہونے لگتا ہے۔ دوسری طرف خان جنید زندگی کے سفر میں صبا کے ہم قدم چلنے میں ناکام رہتے ہیں۔ خان جنید کی طبیعت خراب ہونے پر صبا ایک اور حقیقت سے آگاہ ہوتی ہے کہ خان جنید ہارٹ ٹربل میں مبتلا ہیں لیکن کسی طور پر بائی پاس کرانے کے لیے تیار نہیں۔ دوسری طرف نشا کے لیے محسن کا تلخ رویہ بہت سی مشکلات لے کر آتا ہے جب ہی اسے صبا کے فون کے ذریعے خان جنید کے ہارٹ اٹیک کی اطلاع ملتی ہے جس پر وہ مزید الجھن کا شکار ہوجاتی ہے۔
(اب آگے پڑھیے)
ژ…ژ…ژ…ژ
خان جنید آئی سی یو میں تھے اور کسی کو ان سے ملنے کی اجازت نہیں تھی۔ آصف جاہ چاہتا تھا کہ صبا گھر چلی جائے کیونکہ وہ بہت پریشان اور اب نڈھال بھی لگ رہی تھی۔ اس نے صبح سے کچھ کھایا پیا بھی نہیں تھا۔ اس لیے وہ بار بار اسے گھر جانے پر زور دے رہا تھا لیکن وہ مان کر نہیں دی۔ الٹا آصف جاہ پر بگڑ گئی تھی۔ جس پر وہ دور جا بیٹھا۔ لیکن دھیان اسی کی طرف تھا۔ وہ کبھی بیٹھتی کبھی ٹہلنے لگتی۔ پھر نشا کے آنے پر وہ ایک دم ڈھے سی گئی تھی۔
’’نشا…‘‘ خان کو کچھ نہیں ہونا چاہیے۔ اس کی پلکوں سے دو آنسو ٹوٹ کر گرے تھے۔
’’ان شاء اﷲ کچھ نہیں ہوگا۔‘‘ نشا نے اسے گلے لگا کر تسلی دی پھر پوچھنے لگی۔ ’’امی کہاں ہیں؟‘‘
’’امی کو میں نے نہیں بتایا۔ تم بھی مت بتانا‘‘۔ صبا نے کہہ کر محسن کو دیکھا تو وہ پوچھنے لگا۔
’’ابھی کہاں ہیں خان صاحب؟ ‘‘صبا نے آئی سی یو کی طرف اشارہ کردیا۔ ’’کیا بتایا ڈاکٹر نے؟‘‘ محسن نے اشارے کی سمت دیکھ کر پوچھا تو وہ بے بسی سے بولی۔
’’مجھے کچھ نہیں بتا رہے ڈاکٹر…‘‘
’’اچھا آپ پریشان نہ ہوں میں نے احسن بھائی کو فون کردیا ہے وہ آنے والے ہوں گے۔‘‘ محسن نے کہتے ہوئے نشا کو اشارہ کیا تو وہ سمجھ کر بولی۔
’’ہاں صبا تم پریشان مت ہو ادھر بیٹھو۔‘‘ کچھ دیر بعد احسن آگئے اور موقع ایسا تھا کہ صبا سے سرسری مل کر ڈاکٹر کے پاس چلے گئے۔ کیونکہ وہ خود ڈاکٹر تھے اس لیے ساری رپورٹ لے کر آئے تھے۔
’’آپ کے جنید خطرے سے نکل آئے ہیں صبا۔ ہاں اگر انھوں نے آپ کو اس حال میں دیکھ لیا تو انہیں دوبارہ خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔‘‘ احسن اس کی پریشانی دیکھ کر بولے تھے۔ ’’بی ریلیکس۔ زیادہ بہتر یہ ہوگا کہ آپ گھر جا کر آرام کریں اور فریش ہوکر آئیں۔‘‘
’’احسن بھائی ٹھیک کہہ رہے ہیں صبا۔ تمہیں آرام کرنا چاہیے۔‘‘ نشا نے کہا تو وہ اس کا ہاتھ تھپک کر بولی۔
’’میں ٹھیک ہوں اور جب تک خان روم میں نہیں آجاتے میں کہیں نہیں جاؤں گی۔‘‘ پھر احسن اور محسن کو دیکھ کر بولی۔ ’’میں نے آپ سب کو پریشان کردیا۔‘‘
’’اب ہم پر رحم کریں اپنا خیال رکھیں ورنہ آپ کے خان صاحب ہمیں نہیں چھوڑیں گے۔‘‘ احسن نے ہلکا پھلکا انداز اختیار کرکے اسے ٹینشن سے نکالنے کی کوشش کی تو محسن نے ان کی کوشش کو راہیگاں نہیں جانے دیا۔
’’ہاں خان صاحب کہیں گے سالو اپنی بہن کا خیال نہیں کیا۔‘‘ صبا کی بے ساختہ ہنسی پر دور بیٹھے آصف جاہ نے چونکنے کے ساتھ گردن موڑ کر اسے دیکھا تھا۔
ژ…ژ…ژ…ژ
وہ یقینا ان لڑکیوں میں سے تھی جنہیں زندگی میں خواہش کے برعکس کچھ ملے تو وہ اسے نصیب کا لکھا سمجھ کر قبول کرلیتی ہیں۔ گو کہ اپنے ساتھ ہونے والے تقدیر کے مذاق پر وہ آزردہ ضرور ہوئی تھی لیکن خان جنید سے پھر بھی متنفر نہیں ہوئی نہ ہی ان کے لیے غلط انداز سے سوچا تھا۔ انہیں تو ایجاب و قبول کے مراحل سے گزرتے ہی اس نے اپنا سب کچھ مان لیا تھا۔ جب ہی اس کے دل سے ہر دم ایسی ہی صدائیں نکلتی تھیں کہ…
’’اﷲ نہ کرے جو خان کو کچھ ہو۔‘‘ پھر جس دن خان جنید ڈسچارج ہوکر گھر آئے تب اس تمام عرصے میں پہلی بار وہ بے اختیار ان کے سینے میں منہ چھپا کر رو پڑی۔
’’ارے کیا ہوا بھئی…؟‘‘ وہ قدرے حیرت سے پوچھنے لگے۔
’’خان میں آپ کی طرف سے بہت پریشان تھی۔‘‘ اس نے کہا تو وہ اس کے بالوں میں انگلیاں پھنسا کر بولے۔
’’کم آن گرل اب تو میں ٹھیک ہوں۔‘‘
’’ہاں اﷲ کا شکر ہے۔‘‘ وہ آنسو پوچھ کر انہیں دیکھنے لگی۔ چہرے کی رنگت زردی مائل ہورہی تھی اور کمزور بھی لگ رہے تھے۔ وہ ان کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر بے ساختہ بولی۔
’’ اﷲ آپ کو میری عمر بھی لگا دے۔‘‘
’’ارے…‘‘ خان جنید ہنسے پھر بغور اسے دیکھنے لگے۔ ان کی نظر میں وہ عام سی لڑکی جس میں متاثر کرنے والی کوئی بات نہیں تھی یا پھر خان جنید عمر کے اس حصے میں تھے جہاں صنف مخالف میں کشش محسوس ہوتی بھی ہے تو دل بے اختیار نہیں ہوتا اور نہ ہی اس کی طرف لپکتا ہے اور وہ تو ان کی نظر میں عام سی لڑکی تھی۔ جس سے شادی بھی انہوں نے محض بنٹی کی وجہ سے کی تھی وہ لاکھ انکار کرتے لیکن حقیقت یہی تھی۔ کیونکہ بنٹی بہت تنہائی محسوس کرتا تھا اور کوئی گورنس اس کے پاس زیادہ دن ٹک کر نہیں رہتی تھی یوں وہ بیوی لا کر قدرے مطمئن ہوگئے تھے کہ کم از کم وہ گورنس کی طرح چھوڑ کر جائے گی تو نہیں اور اب وہ حیران ہونے کے ساتھ دل ہی دل میں پشیمان بھی ہورہے تھے کہ جسے انھوں نے عام سی لڑکی سمجھا تھا وہ کتنے خلوص سے انہیں اپنی زندگی کی دعا دے رہی تھی۔
’’آپ کیا سوچنے لگے خان؟‘‘ اس نے ایک ٹک انہیں اپنی طرف دیکھتا پا کر پوچھا تو وہ چونکے۔
’’یہ بتاؤ تم نے میرے لیے کتنی دعائیں مانگیں؟‘‘
’’بے شمار نہ صرف دعائیں بلکہ منتیں بھی جو اب میں پوری کروں گی۔‘‘
’’کیوں؟ آئی مین تمھیں میری زندگی سے کیا فائدہ ہے؟‘‘ بالآخر بزنس مین تھے جو سود و زیا ں کی بات ضرور کرتا ہے۔
’’فائدہ…‘‘ وہ حیران ہوئی۔ ’’میں کسی فائدے نقصان کو نہیں جانتی خان۔ میں تو صرف اتنا جانتی ہوں کہ آپ میرا سائبان ہیں۔ اور ہمارا معاشرہ بے سائبان عورت کو کوئی مقام نہیں دیتا۔‘‘
’’تم اس انداز سے سوچتی ہو؟‘‘ وہ اس سے زیادہ حیران ہوئے۔
’’جناب اب آپ پلیز آرام کریں۔ باقی باتیں بعد میں۔‘‘ وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔ خان جنید نے آہستگی سے اس کا ہاتھ ہونٹوں سے لگا کر چھوڑ دیا تو وہ انہیں سونے کی تاکید کرتے ہوئے کمرے سے نکل آئی۔ پھر سیٹنگ روم میں آکر اس نے ثریا کو فون کیا تو وہ جسے اسی کے فون کے انتظار میں تھی۔ چھوٹتے ہی پوچھنے لگی۔
’’صبا تم اسی شہر میں ہی ہو یا کہیں اور؟‘‘ وہ سمجھ گئی اتنے دنوں کی غیر حاضری جتائی جارہی ہے۔
’’اسی شہر میں ہوں امی۔‘‘
’’پھر اتنے دنوں سے آئی کیوں نہیں؟‘‘ ثریا نے فوراً ٹوکا۔
’’بس وہ خان صاحب ریسٹ کے موڈ میں تھے۔ آفس نہیں جارہے تھے اس لیے میں بھی گھر پر ہی رہی۔ خیر آپ سنائیں سب ٹھیک ہے ناں…‘‘ اس نے سہولت سے بات بنا کر پوچھا۔
’’ہاں بیٹا سب ٹھیک ہے بس تم دونوں بہنوں کا انتظار رہتا ہے۔‘‘ ثریا نے کہا تو وہ پوچھنے لگی۔
’’نشا بھی نہیں آرہی؟‘‘
’’ایک دن آئی تھی بس تھوڑی دیر کے لیے۔ اصل میں وہ احسن کی شادی کی تیاریوں میں مصروف ہے۔‘‘ ثریا نے بتایا تو اس کی نظروں میں احسن کا وجیہہ سراپا آن سمایا۔
’’ہاں امی میری احسن بھائی سے ملاقات ہوئی تھی۔‘‘
’’کہاں؟‘‘ ثریا نے پوچھا تو وہ سٹپٹا گئی۔
’’وہ شاپنگ مال میں نشا اور محسن کے ساتھ تھے۔ بس اب مجھے ابو سے ملنا ہے دیکھیں کب جانا ہوتا ہے۔‘‘ اس نے بات گھمائی پھر ثریا کی خاموشی محسوس کرکے جلدی سے بولی۔
’’ٹھیک ہے امی پھر میں جلدی آؤں گی۔ اﷲ حافظ۔‘‘ فون رکھ کر اس نے گہری سانس کھینچی۔
پھر ڈاکٹر یونس کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے وہ خان جنید کو مکمل ریسٹ دے رہی تھی۔ یہاں تک کہ ان کا پی اے آفس کی کوئی انتہائی ضروری فائل لے کر بھی آتا کہ اس پر خان جنید کے سائن کروانے ہیں تو وہ اسے باہر ہی سے لوٹا دیتی۔ وہ جانتی تھی کہ فائل ہاتھ میں لیتے ہی خان جیند کو بہت سارے کام یاد آجائیں گے اور اگر وہ خود نہ بھی گئے تو اس ٹینشن میں ضرور مبتلا ہوجائیں گے کہ پتا نہیں ان کا وہ کام ہوا کہ نہیں اور کسی بھی قسم کی ٹینشن ان کے لیے سخت نقصان دہ تھی۔ وہ انہیں بالکل بچوں کی طرح ٹریٹ کررہی تھی کہ بعض اوقات تو وہ جھنجلا جاتے اور شائستہ قسم کی گالیوں سے بھی نواز دیتے۔ وہ سب کچھ سن لیتی۔ پتا نہیں اس کے اندر کوئی خوف کنڈلی مارے بیٹھا تھا کہ اسے اپنا ہوش ہی نہیں تھا۔
ژ…ژ…ژ…ژ
نشا احسن کی شادی کے لیے اپنی شاپنگ محسن کے ساتھ کرنا چاہتی تھی۔ حالانکہ جانتی بھی تھی کہ یہ ایک تھکا دینے والا کام ہے لیکن وہ بضد تھی اور محسن جو پہلے اس کی ہر بات بلا چوں، چرا مان لیتا تھا اب جانے کیوں اکھڑا اکھڑا سا رہنے لگا تھا۔ اس کی ذرا سی کوتاہی پر آپے سے باہر ہوجاتا۔ سخت سست کہتا اور نشا کو اس کی کوئی بات بری نہیں لگتی تھی وہ سوچتی۔
’’ٹھیک تو ہے میں اسی قابل ہوں۔ کتنا ستایا میں نے مونی کو۔ اس کی محبت کی قدر نہیں کی۔‘‘ بہرحال اس نے بڑی منتوں سے محسن کو شاپنگ کے لیے منا ہی لیا اور اپنی ہر شے میں اس کی پسند ترجیح دیتے ہوئے وہ بہت خوش تھی۔ پھر محسن کی شاپنگ وہ اپنی پسند اور بہت شوق سے کررہی تھی کہ اچانک محسن کی طبیعت بگڑ گئی۔
’’بس نشا اب اور نہیں…‘‘ اس نے رک رک کر کہا تو نشا ایک دم پریشان ہوگئی۔
’’کیا؟ مونی… آپ… اچھا چلیں۔‘‘ اس نے ہاتھ میں پکڑی مردانہ شرٹ پھینک دی اور محسن کا ہاتھ پکڑ کر دکان سے باہر نکل آئی۔ پھر اسے یہی سمجھ میں آیا کہ محسن کو فوڈ کارنر پر بٹھا کر پانی کی بوتل لے آئی۔
’’لیں مونی پانی پی لیں۔‘‘ محسن نے اس کے ہاتھ سے بوتل لے لی اور پانی کا ایک گھونٹ لے کر دوسری طرف دیکھنے لگا، وہ اپنے آپ میں بہت عجیب سا محسوس کررہا تھا اسے لگ رہا تھا جیسے سب لوگ اسے ہی دیکھ رہے ہوں۔
’’کیا فیل کررہے ہیں مونی؟‘‘ پریشانی نشا کے چہرے اور آواز سے ہی ظاہر تھی۔
’’تماشا بنا دیا ہے تم نے مجھے۔‘‘ اس کے لہجے میں افسوس میں دکھ بھی شامل تھا۔ پھر اطراف میں نظر ڈال کر کہنے لگا۔ ’’لوگوں کی نظریں دیکھ رہی ہو۔ ان میں میرے لیے نہیں تمہارے لیے ترس جھلک رہا ہے اور یہیں تک نہیں گھر جاکر بھی یہ لوگ افسوس کرتے رہیں گے کہ اتنی خوب صورت لڑکی اور اس کا شوہر…‘‘
’’بس کریں مونی چلیں۔‘‘ وہ غصے سے ٹوک کر اٹھ کھڑی ہوئی۔
’’تمہاری شاپنگ؟‘‘
’’ہوگئی شاپنگ چلیں اٹھیں۔‘‘ محسن اس کے غصے سے سرخ پڑتے چہرے سے نظریں ہٹا کر اٹھ کھڑا ہوا۔
گھر آتے ہی دونوں سیدھے اپنے کمرے میں آگئے۔ نشا نے شاپنگ بیگز ایک طرف ڈالے اور آدھے گلاس پانی میں دوا ملا کر محسن کے پاس آن کھڑی ہوئی۔
’’یہ دوا پی لیں۔‘‘
’’رہنے دو‘ میں ٹھیک ہوں۔‘‘ محسن کی بے زاری پر وہ ضبط سے بولی۔
’’کہاں ٹھیک ہیں۔ اتنے نڈھال لگ رہے ہیں۔‘‘
’’لگ رہا ہوں۔‘‘ وہ یک دم مشتعل ہوگیا۔ ’’لگ رہا ہوں سے مطلب۔ میں ہوں ہی نڈھال۔ ٹوٹا ہوا بے بس آدمی۔ بس اب یہ سارے جتن چھوڑ دو۔ ڈھے جانے دو مجھے۔ جان چھوٹ جائے گی تمہاری بھی۔ بوجھ بنا ہوا ہوں نا تم پر۔‘‘
’’ہاں بنے ہوئے ہیں بوجھ۔‘‘ اس کا ضبط بھی جواب دے گیا۔ ہاتھ میں پکڑا گلاس پٹخ کر چیخی تھی۔ ’’صرف مجھ پر نہیں سب پر۔ پاگل ہیں ہم سب جو آپ سے محبت کرتے ہیں۔ آپ جسمانی ہی نہیں ذہنی بیمار بھی ہیں۔ سب کو اپنے لیے پریشان دیکھنا چاہتے ہیں۔‘‘
’’تو مت ہوا کرو میرے لیے پریشان۔ چھوڑ دو مجھے میرے حال پر۔‘‘
’’یہی تو نہیں کرسکتے ہم۔ ‘‘ اس کی آواز یکلخت بھرا گئی تو تیزی سے کمرے سے نکل گئی۔
احسن اپنے کمرے کی طرف جاتے ہوئے نشا اور محسن کے لڑنے کی آواز سن کر رکے تھے اور تشویش سے ان کے کمرے کی طرف دیکھ رہے تھے کہ نشا کو غصے میں کمرے سے نکل کر جاتے دیکھ کر وہ مزید پریشان ہوگئے۔ سمجھ میں نہیں آیا کیا کریں کبھی کمرے کی طرف دیکھتے کبھی نشا کو۔ پھر کچھ سوچ کر نشا کے پیچھے آئے تھے۔ نشا پچھلے برآمدے کی سیڑھیوں پر بیٹھی رو رہی تھی۔ انہیں بے حد تکلیف ہوئی بمشکل خود پر قابو پاکر بولے۔
’’ارے تم رو رہی ہو… کیا ہوا؟‘‘ نشا نے جواب نہیں دیا تو اس کے سامنے آکر نرمی سے پوچھنے لگے۔ ’’کیا بات ہے نشا۔ ایسے کیوں رو رہی ہو۔ مونی نے کچھ کہا ہے؟‘‘ نشا اپنی ہتھلیوں سے آنکھیں رگڑنے لگی۔ ناک سے شوں شوں کی آواز نکل رہی تھی۔ ’’بے وقوف… مونی کی باتوں کا برا مانتی ہو وہ تو…‘‘
’’کیا وہ تو…‘‘ وہ چٹخ گئی۔ ’’عاجز کردیا ہے انہوں نے مجھے۔ بات بات پر غصہ کرنے لگے ہیں۔ دوا نہیں لیتے۔ پھینک دیتے ہیں۔‘‘
’’کیا… مونی دوا پھینک دیتا ہے کیوں؟‘‘ انہیں جھٹکا لگا۔
’’بتائو نشا مونی دوا کیوں نہیں لے رہا اور کب سے نہیں لے رہا؟‘‘
’’مجھے نہیں پتا۔ آپ ان ہی سے پوچھ لیں۔‘‘ وہ مسلسل آنسو صاف کرنے میں لگی ہوئی تھی۔
’’تمہیں یہ تو پتا ہوگا مونی ایسا کیوں کررہا ہے؟‘‘ انہیں اب اسی ایک بات کی فکر نے گھیر لیا تھا۔
’’نہیں… میں نے کہا ناں مجھے کچھ نہیں پتا۔‘‘ وہ تنگ آگئی۔
’’اچھا تم رو مت۔ میں پوچھتا ہوں اس سے۔‘‘ وہ کہہ کر تیز قدموں سے محسن کے کمرے میں آئے تھے۔ اور فوراً ہی سرزنشی انداز میں کہنے لگے۔
’’یہ تم کیا کررہے ہو مونی۔ نشا بتا رہی ہے تم دوا نہیں لے رہے۔ پھینک دیتے ہو۔ کیوں؟‘‘ ان کی سوالیہ نظروں کے جواب میں محسن نے ہونٹ بھنچتے ہوئے کہا۔
’’بس بھائی‘ اب جی اچاٹ ہوگیا ہے۔ ہر شے سے پھر یہ طے ہے ناں کہ جتنی میری زندگی ہے وہ میں دوائوں کے بغیر بھی جی لوں گا۔‘‘
’’بہت لمبی زندگی ہے تمہاری۔‘‘ وہ فوراً گویا ہوئے۔ ’’اور یہ دوائیں تمہیں زندگی کے لیے نہیں فٹ رہنے کے لیے دی جاتی ہیں۔ تمہیں اندازہ ہے تمہاری اس حرکت سے نشا کتنی پریشان ہے۔ ابھی بھی بیٹھی رو رہی ہے۔‘‘ انہوں نے رک کر اسے احساس دلانا چاہا۔
’’کیوں… ابھی تو میں زندہ ہوں۔ اس سے کہیں آنسو سنبھال رکھے میرے مرنے پر کام آئیں گے۔‘‘ محسن کی سنگ دلی نے انہیں مشتعل کردیا۔
’’تمہارا دماغ تو خراب نہیں ہوگیا مونی۔ میری محبتوں میری محنتوں پر پانی پھیر دینا چاہتے ہو تم۔ خود کو بھلا دیا میں نے تمہارے لیے… احساس ہے تمہیں کہ نہیں؟‘‘
’’یہی احساس تو مارے ڈال رہا ہے بھائی‘ خود کو ہی نہیں سب کچھ بھلادیا آپ نے۔‘‘ محسن کے لہجے کا دکھ انہیں تڑپا گیا۔
’’پاگل ہو تم۔ احساس کرنا ہے تو صرف ہماری محبتوں کا احساس کرو۔ اور دیکھو اب جب کہ میری شادی ہونے والی ہے تم کیوں ایسی باتیں کرکے اپنے ساتھ مجھے بھی…‘‘
’’سوری…‘‘ وہ بول پڑا۔ ’’سوری بھائی مجھے آپ کی خوشی کا خیال کرنا چاہئے۔‘‘
’’تو وعدہ کرو اب تم دوا پابندی سے لوگے۔‘‘ انہوں نے فوراً موقع سے فائدہ اٹھایا۔ ’’نشا کو تنگ نہیں کروگے‘ خیال کرو گے اس کا۔‘‘
’’وہ میرا خیال کرتی ہے۔‘‘ ہمیشہ کی کہی بات میں اب ہمیشہ والا مان نہیں تھا۔ یہ بات احسن نے شدت سے محسوس کی اور پھر رک نہیں سکے۔ آہستگی سے اس کا کندھا تھپک کر وہاں سے نکل آئے۔
اور پھر اسی نہج پر سوچ کر فوری شادی کا فیصلہ کرتے ہوئے وہ اس وقت ساجدہ بیگم کے پاس آن بیٹھے اور بغیر کسی تمہید کے انہیں مخاطب کرکے بولے۔
’’امی آپ میری شادی طے کردیں اسی ہفتے۔‘‘
’’اسی ہفتے…‘‘ ساجدہ بیگم نے حیرت سے انہیں دیکھا۔
’’جی امی‘ میں نے چھٹی اپلائی کی تھی جو منظور ہوگئی ہے۔ پھر بعد میں مجھے ایک تو چھٹی نہیں ملے گی دوسرا ہوسکتا ہے ڈاکٹرز کنونشن کے سلسلے میں مجھے کینیڈا جانا پڑے۔ پھر بہت دیر ہوجائے گی امی۔‘‘ وہ بہت سوچ کر آئے تھے۔
’’نہیں… بہت دیر تو میں بھی نہیں چاہتی۔‘‘ ساجدہ بیگم فوراً بولی۔ ’’تم نے تو مجھے بوکھلا دیا ہے۔ جمعہ تو سر پر کھڑا ہے اور تیاری۔‘‘ ساجدہ بیگم واقعی بوکھلا گئی تھیں۔
’’تیاری کی فکر نہ کریں آپ۔ سارے انتظام ہوجائیں گے۔‘‘ وہ ہر بات کو ایزی لے رہے تھے۔
’’اور بیٹا! تانیہ کی امی۔ انہوں نے اگر جمعہ کی تاریخ نہ دی تو۔‘‘ ساجدہ بیگم کو نئی فکر لگ گی۔
’’کیوں نہیں دیں گی۔ آپ بتائیے گا انہیں کہ پھر مجھے ڈاکٹر کنونشن میں کینیڈا جانا ہے اور میں تانیہ کو بھی ساتھ لے جانا چاہتا ہوں۔‘‘
’’تو یوں کہو۔‘‘ ساجدہ بیگم مسکرائیں تو وہ جھنپ گئے۔
ژ…ژ…ژ…ژ
ڈاکٹر نے خان جنید کو فوری بائی پاس کا مشورہ دیا تھا۔ جسے وہ کوئی اہمیت نہیں دے رہے تھے۔ جس سے صبا بہت پریشان تھی اور مسلسل انہیں آمادہ کرنے کی کوشش کررہی تھی۔ پھر وہ آمادہ ہوئے بھی تو اس پر کہ یہاں نہیں لندن سے بائی پاس کرائیں گے۔ پتا نہیں وہ سنجیدہ تھے یا ٹالنے کی غرض سے کہا تھا بہرحال صبا کچھ مطمئن ہوگئی تھی۔ تب اسے ثریا کا خیال آیا جس سے ملے ہوئے اسے قریباً مہینہ ہونے والا تھا۔ فون پر تو بات ہوجاتی تھی لیکن وہ جانہیں پائی تھی۔ اب خان جنید کی طرف سے اطمینان ہوا تو وہ جانے کو تیار ہوگئی لیکن پھر راستے میں جانے کیا خیال آیا کہ اس نے گاڑی دوسری سمت موڑ دی۔ اور تقریباً پندرہ منٹ بعد وہ بلال احمد کے بنگلے پر تھی۔ جن کی کمی اس نے اپنی زندگی میں اکثر محسوس کی تھی اور جن سے ملنے کو اس کا دل تڑپتا تھا لیکن جب پتا چلا کہ انہوں نے نشا کو نظر انداز کردیا تھا تب اس کے سارے جذبے اپنی موت آپ مر گئے۔ پھر بھی ابھی وہ پورے استحقاق سے ان کے گھر میں داخل ہوئی اور پہلے مقام پر ہی وہ نظر آگئے صوفے پر قدرے تکلف سے بیٹھے بریف کیس میں کچھ تلاش کررہے تھے۔
’’صبا… میں صبا ہوں۔‘‘ اس نے یوں تعارف کرایا جیسے پوری دنیا میں ایک صرف اس کا نام صبا ہے۔
’’صبا…‘‘ ان کے چہرے پر ہلکی سی سوچ ابھری پھر پہچان کی منزلیں طے کرتے ہوئے اٹھ کر اس کی طرف بانہیں پھیلا دیں تو وہ کسی طرح خود کو روک نہیں سکی۔ ایک ہی جست میں ان کی بانہوں میں سما گئی۔ البتہ آنسوئوں کو چھلکنے نہیں دیا تھا۔
’’کیسی ہے میری بیٹی؟‘‘ بلال احمد نے اس کا چہرہ دیکھ کر پوچھا تو اس نے اثبات میں سرہلادیا۔
’’بیٹھو بیٹا۔‘‘ وہ اسے بٹھا کر کہنے لگے۔ ’’مجھے نشا نے بتایا تھا اور میں خود تمہارے پاس آنا چاہ رہا تھا۔ تمہاری ماں کیسی ہے؟‘‘
’’ٹھیک ہیں۔‘‘ اسے ان کا سرسری انداز بری طرح کھلا تھا۔
’’کہاں رہ رہی ہیں وہیں اپنے باپ بھائی کے گھر؟‘‘ انہوں نے پوچھا تو اس کا دل چاہا کہیے انہیں باپ بھائی کے گھر بٹھانے والے آپ ہی تھے لیکن ضبط سے فقط اتنا کہا۔
’’نہیں۔‘‘
’’اچھا میری بیٹی کیا کھائے پئے گی۔‘‘ انہوں نے ملازم کو آواز دے ڈالی۔ غالباً انہیں ثریا کے بارے میں جاننے سے دلچسپی نہیں تھی۔ اسے دکھ ہوا اور حیرت بھی کہ قدرت نے اس شخص کی قسمت میں کوئی ٹھوکر نہیں لکھی تھی جو اسے پلٹ کر دیکھنے پر مجبور کرتی۔
’’ہاں بیٹا۔‘‘ ملازم کے آنے پر بلال احمد نے اسے دیکھا تو وہ ایک دم اٹھ گئی۔
’’کچھ نہیں ابو۔ ابھی تو میں یہاں سے گزرتے ہوئے آپ سے ملنے چلی آئی۔ پھر کبھی فرصت سے آئوں گی تو کچھ کھا پی لوں گی۔‘‘ وہ کہہ کر رکی نہیں تیزی سے باہر نکل آئی۔ پھر اس وقت اس نے ثریا کے پاس جانا ملتوی کردیا اور سیدھی گھر آگئی۔ کچھ تو تھا اس کے چہرے پر کہ خان جنید دیکھتے ہی پوچھنے لگے۔
’’کیا بات ہے تم کچھ پریشان ہو؟‘‘
’’نہیں…‘‘ اس نے بمشکل خود کو گہری سانس کھنچنے سے روکا تھا۔
’’ادھر دیکھو میری طرف۔‘‘ اس نے سر اونچا کرکے دیکھا تو کہنے لگے۔ ’’اب بتائو کیا بات ہے۔ لگتاہے میری تیمارداری نے تھکا دیا ہے تمہیں۔‘‘
’’ایسی بات نہیں ہے خان۔ بس ابھی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں لگ رہی۔ عجیب گھبراہٹ سی ہورہی ہے۔‘‘
’’چلو تمہارا چیک اپ کرادوں۔ ہری اپ۔‘‘ خان جنید فوراً کھڑے ہوئے۔ وہ نہ نہ کرتی رہ گئی لیکن وہ زبردستی اسے ڈاکٹر کے پاس لے آئے۔ پھر چیک اپ کے دوران ڈاکٹر نے مختلف سوالات کئے اور جب بچوں کی بابت پوچھا تو وہ جواب دینے کی بجائے دزدیدہ نظروں سے خان جنید کو دیکھنے لگی۔ وہ بہت مطمئن تھے اسی بے پروائی سے بولے۔
’’چائلڈ از نو پرابلم۔‘‘
ان کے لیے تو واقعی نوپرابلم لیکن انہیں اس کی کوکھ خالی رکھنے کا بھی کوئی حق نہیں جب ہی ان کا جواب سنتے ہی وہ ڈاکٹر کے کمرے سے نکل آئی اور بغیر کہیں رکے گاڑی میں آبیٹھی۔ کچھ دیر بعد خان جنید آئے تو ایک نظر اس پر ڈال کر تنبہی لہجے میں بولے۔
’’یہ کیا حرکت تھی۔‘‘ وہ کچھ نہیں بولی اور چہرہ دوسری طرف موڑ کر شیشے سے باہر دیکھنے لگی۔
ژ…ژ…ژ…ژ
اسے لگ رہا تھا جیسے اب اس کی قسمت میں قدم قدم پر درد سہنا ہی لکھا گیا ہے۔ بلال احمد کے سرد رویے سے سنبھلی نہیں تھی کہ خان جنید کا ’’چائلڈ از نو پرابلم۔‘‘ حالانکہ پہلے بھی انہوں نے اسے اندھیرے میں نہیں رکھا تھا۔ صاف کہہ دیا تھا کہ وہ اس کی یہ خواہش پوری نہیں کرسکتے اور اس نے کسی طور خود کو بہلا بھی لیا تھا لیکن کل پھر ایسی بات سن کر اسے نئے سرے سے دھچکا لگا تھا اور وہ کسی طرح اپنا دھیان نہیں بٹا پارہی تھی۔
اس وقت وہ برآمدے کی سیڑھیوں پر آن بیٹھی تھی۔ ٹھنڈا فرش‘ ٹھنڈا ستون جس کے ساتھ اپنا کندھا لگایا تو پورے وجود میں سرد لہر دوڑ گئی پھر بھی وہ اسی طرح بیٹھی رہی۔ شام کے سائے گہرے ہورہے تھے۔ دور آسمان پر ابھی کوئی ستارہ نہیں چمکا تھا نہ پرندوں کے جھنڈ نظر آئے۔ اس کی نظریں جانے کس چیز کی تلاش میں بھٹک رہی تھی پتا نہیں چلا کب آصف جاہ آیا۔ غالباً سیدھا اندر جارہا تھا۔ اس پر نظر پڑی تو ٹھٹکا اور کچھ تعجب کچھ تشویش سے پوچھنے لگا۔
’’آپ یہاں کیوں بیٹھی ہیں؟‘‘ اور اس کے اندر کا غبار جسے خان جنید باہر نکلنے کا موقع ہی نہیں دیتے تھے اچانک ابل پڑا۔
’’تمہیں اس سے کیا میں کہیں بھی بیٹھوں۔ میرا گھر ہے۔ تم کون ہوتے ہو پوچھنے والے۔‘‘ وہ جو سیڑھی پر پائوں رکھے قدرے اسی کی طرف جھکا ہوا تھا سیدھا کھڑا ہوگیا۔
’’میں کوئی بھی نہیں ہوں۔ پھر بھی آپ کو یہاں نہیں بیٹھنے دوں گا اندر چلیں۔‘‘
’’کیوں؟‘‘
’’کیونکہ فضا میں خنکی بڑھ رہی ہے اور آپ نے کوئی گرم کپڑا بھی نہیں پہنا۔‘‘ وہ حتی الامکان لہجے پر قابو پاکر دھیرج سے بولا اور وہ اسی قدر خود سری پر آمادہ ہوکر بولی۔
’’تمہیں کیا زیادہ سے زیادہ بیمار پڑوں گی یا مر جاؤں گی‘ تمہارا تو کوئی نقصان نہیں ہوگا۔‘‘
’’نقصان تو جو ہونا تھا ہوگیا۔‘‘ آصف جاہ نے کہتے ہوئے سر اونچا کرکے شفاف آسمان کو دور تک دیکھا پھر گہری سانس سینے کے اندر دباکر پوچھنے لگا۔ ’’خان انکل کہاں ہیں؟‘‘ وہ اس کی پہلی بات سے کچھ سناٹے میں تھی۔ اس لیے جواب نہیں دے سکی۔
’’آئیے اندر چلیں۔‘‘ آصف جاہ نے یوں اس کی طرف ہاتھ بڑھایا جسے وہ تھام کر اٹھے گی اور وہ بہت خاموشی سے اس کے پھیلے ہوئے ہاتھ کو دیکھنے لگی۔
’’کبھی کبھی ہم جیسوں کا ہاتھ تھام لینے میں کوئی مضائقہ نہیں۔‘‘ اس نے چونک کر دیکھا مذاق میں کہی بات کو جانے کیوں اس نے انا کا مسئلہ بنالیا تھا۔ توہین چیلنج یا پھر کوئی اور بات۔ اس کی سمجھ میں نہیں آیا تو ستون کا سہارا لے کر کھڑی ہوئی اور اس کی طرف دیکھے بغیر سیدھی اپنے کمرے میں آگئی۔
اس رات وہ ایک پل کے لیے بھی نہیں سو سکی۔ اس کی زندگی کی نائو طوفانوں کی زد میں آگئی تھی اور تمام رات وہ ان طوفانوں سے لڑتی رہی۔ فجر کی اذانیں ہونے لگیں تب بھی اس کی کشتی بیچ بھنور میں تھی اور وہ لڑتے لڑتے تھک گئی تھی اس سے پہلے کہ بالکل ہار جاتی اس نے اٹھ کر وضو کیا اور نماز کے لیے کھڑی ہوگئی۔ آنسو اس کی پلکوں سے ٹوٹ ٹوٹ کر گررہے تھے اور جب دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے تو ہتھیلیاں تر ہوگئیں۔
’’میرے رب‘ مجھے وہ راستہ دکھا جو تو میرے لیے پسند کرتا ہے۔‘‘ اور اپنا معاملہ اپنے پیدا کرنے والے پر چھوڑ کر وہ اطمینان سے سو گئی۔ پتا نہیں آفس جاتے ہوئے خان جنید نے اسے اٹھایا کہ نہیں اسے کچھ خبر نہیں۔ رات بھر کی جاگی ہوئی تھی سارا دن سوتی رہی۔
چار بجے کہیں جاکر آنکھ کھلی تو پہلے گرم پانی سے غسل کیا پھر آکر کھانا کھایا اس کے بعد چائے لے کر لائونج میں آبیٹھی۔ رات کی سوچوں سے اسے چھٹکارہ تو نہیں ملا تھا لیکن وہ کشاکش بھی نہیں تھی۔ بلکہ طوفانوں سے نکل کر اب اس کی کشتی بہت سہولت سے اپنا راستہ تلاش کررہی تھی۔ تب ہی آصف جاہ آگیا۔ بس سلام کرتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف جارہا تھا کہ اس نے بے اختیار پکارا۔
’’سنو آصف۔‘‘ وہ رکا لیکن پلٹ کر نہیں دیکھا تو اس نے چائے کا سپ لینے کے بعد کہا۔
’’ایسا کرو‘ تم اپنا ٹھکانا کہیں اور کرلو۔‘‘
’’جی…‘‘ وہ ایک دم اس کی طرف پلٹا۔
’’ہاں میں چاہتی ہوں تم یہاں سے چلے جائو۔‘‘
’’کیوں آپ ایسا کیوں چاہتی ہیں۔‘‘ وہ اسے نظروں کی گرفت میں لے کر پوچھنے لگا۔
’’کوئی خاص وجہ نہیں۔‘‘ جانے کیسے اس کے اندر اتنا سکون آگیا تھا جیسے کل وہ دھیرج سے بات کررہا تھا اور وہ تلملا رہی تھی اب اس کی جگہ وہ تھا۔
’’وجہ ہے اور اگر آپ ایمان داری سے اعتراف کرلیں تو میں اسی وقت چلا جائوں گا… ورنہ نہیں۔‘‘
’’کیسا اعتراف؟‘‘ اس نے پیشانی پر بل ڈال کر اسے دیکھا تو وہ اس کی طرف آتے ہوئے بولا۔
’’آپ کو اعتراف کرنا پڑے گا کہ خان جنید انکل سے پہلے میرے جیسا کوئی آپ کی زندگی میں آیا ہوتا تو آپ اسے نظر انداز نہیں کرسکتی تھیں۔‘‘
’’کرچکی ہوں تمہارے جیسے کتنوں کو نظر انداز کرچکی ہوں۔ سمجھے۔ اب تم جائو۔‘‘ وہ سختی سے کہتے ہوئے اٹھ کر اپنے کمرے میں آگئی اور وہ پتا نہیں گیا کہ نہیں۔ البتہ رات کے کھانے پر نظر نہیں آیا تھا۔
ژ…ژ…ژ…ژ
ساجدہ بیگم کے کہنے پر نشا دلہن تانیہ کو اس کے کمرے میں لے آئی۔ جسے اس نے محسن کے ساتھ مل کر بہت خوب صورتی سے سجایا تھا۔ تانیہ کو بٹھا کر اس نے اس کا دوپٹہ ٹھیک کیا پھر کھانے پینے کی چیزوں کا جائزہ لے کر شوخی سے بولی۔
’’اچھا جناب! اس سے پہلے کہ احسن بھائی آکر مجھے کمرے سے نکل جانے کو کہیں میں جارہی ہوں۔‘‘ تانیہ کی مسکراہٹ گہری ہوگئی تو وہ اسے شب بخیر کہہ کر کمرے سے نکل آئی۔ سامنے سے احسن آرہے تھے اس نے جلدی سے اپنے کمرے میں داخل ہوکر دروازہ بند کرلیا۔ محسن کھڑکی کے قریب کھڑا لان میں جلتے بجھتے قمقموں کو دیکھ رہا تھا۔
’’اچھی رہی نا شادی مزہ آیا۔‘‘ اس نے اپنے کانوں سے جھمکے اتارتے ہوئے کہا۔
’’ہاں تم نے حساب بھی تو برابر کردیا۔‘‘ محسن کی نظریں ہنوز کھڑکی سے باہر بھٹک رہی تھیں۔ وہ سمجھی نہیں۔
’’کیسا حساب؟‘‘
’’ارے…‘‘ وہ اس کی طرف پلٹ کر طنزیہ ہنسی کے ساتھ کہنے لگا۔ ’’اتنی جلدی بھول گئیں لیکن نہیں‘ تم کیسے بھول سکتی ہو۔ بہت زیادہ وقت تو نہیں گزرا۔‘‘
’’آپ کیا کہہ رہے ہیں مونی۔ میں کچھ نہیں سمجھ رہی۔‘‘ اس کے الجھنے پر وہ ہنسنے لگا۔ ہنستا چلا گیا۔ تو وہ ٹھٹک کر خائف ہوگئی۔
’’مونی۔‘‘
’’ہاں نشا۔‘‘ محسن نے ایک دم اسے دونوں بازوئوں سے تھام لیا۔ ’’میں اکیلا نہیں ہوں۔ میں اکیلا نہیں ہوں نشا جسے محبت خیرات میں ملی۔ تانیہ بھی ہے۔ میری طرح جانے کب تک خوش فہم رہے گی اور جب اسے معلوم ہوگا کہ تم نے اپنی محبت کا واسطہ دے کر احسن بھائی کو اس سے شادی پر مجبور کیا تھا تو اس پر بھی وہی بیتے گی جو مجھ پر بیت رہی ہے۔‘‘
’’مونی…!‘‘ وہ سناٹے میں آکر نفی میں سر ہلانے لگی۔
’’جھٹلانا مت نشا۔ میں خود سب سن چکا ہوں۔ مجھے بس اتنا بتا دو تم نے مجھ پر یہ ظلم کیوں کیا۔ احسن بھائی نے تمہیں اپنی محبت کا واسطہ دے کر مجھ سے شادی پر مجبور کیا اور تم مان گئیں۔ تمہیں مجھے بتانا چاہئے تھا۔ اتنی انڈر اسٹینڈنگ تو تھی ہمارے درمیان۔ کیا ہم دکھ سکھ شیئر نہیں کرتے تھے۔‘‘
’’ہاں لیکن۔‘‘ آواز اس کے حلق میں پھنس گئی۔
’’بہت غلط کیا تم نے ظلم کیا مجھ پر۔ میں اپنی نظروں میں گر گیا… ارے میں تو پہلے ہی ٹوٹا ہوا بے بس انسان تھا تم لوگوں نے اور…‘‘ محسن کی آواز بوجھل ہوکر ٹوٹ گئی تو اس کی طرف سے رخ موڑ گیا۔ نشا کے آنسو روانی سے چھلک پڑے۔
’’مم… میں آپ کو جھٹلائوں گی نہیں مونی۔ لیکن سچ یہ ہے کہ وہ میرا ماضی تھا جسے وقت کی گردنے دھندلا دیا… اب میرا سب کچھ آپ ہیں۔‘‘
’’بس…‘‘ محسن جھٹکے سے اس کی طرف پلٹا تھا۔ ’’بس نشا اب مجھے مزید فریب مت دو۔ میں سہہ نہیں پائوں گا۔ سچ یہ ہے سرخرو ہوگئی تم۔ سرخرو ہوگئے احسن بھائی۔ کتنے عظیم ہو تم لوگ۔ سلام کرتا ہوں تمہاری عظمت کو۔ سلام کرتا ہوں۔‘‘ وہ آپے میں نہیں رہا تھا۔ دونوں بازو پھیلا کر اس کی عظمت کو سراہتے ہوئے یک دم اسے کھانسی کا دورہ پڑا تھا۔
’’مونی… مونی پلیز‘ مجھ پر نہیں تو اپنے آپ پر رحم کریں۔‘‘ وہ اسے اپنے دونوں بازوئوں میں جکڑ کر سنبھالنے کی سعی میں خود بھی ڈھے گئی۔
’’مونی… مونی اٹھیں ناں۔‘‘ اس نے اوندھے منہ گرے محسن کو جھنجوڑا پھر ایک دم اٹھ کر بھاگتے ہوئے کمرے سے نکلی اور احسن کا دروازہ پیٹ ڈالا۔
’’احسن بھائی۔‘‘ اور احسن تانیہ کا ہاتھ تھامے اس کی انگلی میں رونمائی کی انگوٹھی ڈالتے ہوئے گھبرا کر اٹھے تھے۔ فوراً دروازہ کھولا تو نشا انتہائی پریشان نظر آئی۔
’’احسن بھائی مونی… دیکھیں ان کی طبیعت…‘‘ احسن اس کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی اس کے کمرے کی طرف بھاگے تھے۔ پیچھے وہ تھی۔
اور سیج پر بیٹھی دلہن کی نظریں رونمائی کی انگوٹھی پر جاٹہریں جو ابھی پوری اس کی انگلی میں نہیں سمائی تھی۔
ژ…ژ…ژ…ژ
تانیہ نے احسن سے شادی نہ کرنے کی وجہ پوچھی تھی تو انہوں نے کہا تھا۔
’’میرا بھائی… میں اس کی طرف سے غافل نہیں ہوسکتا۔ شادی کرلوں گا تو فطری بات ہے میری توجہ بٹ جائے گی اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ میری بیوی کو میرا اپنے بھائی کے ساتھ اٹیج ہونا پسند نہ آئے۔‘‘ اور اس وقت تانیہ نے کہا تھا۔
’’تم ایسا کیوں سوچتے ہو یہ کیوں نہیں سوچتے کہ تمہاری بیوی تمہارا ساتھ بھی دے سکتی ہے۔‘‘
اور یہ نہیں تھا کہ تانیہ اپنی بات بھول گئی تھی یا اپنی بات کا پاس نہیں رکھنا چاہتی تھی وہ اس شخص کے ساتھ قدم ملا کر چلنا چاہتی تھی لیکن یہ تو اس نے تصور ہی نہیں کیا تھا کہ وصل کے اولین لمحوں میں وہ یوں اس کا ہاتھ چھوڑ کر چلا جائے گا۔ کتنی دیر وہ گم صم بیٹھی باہر سے آتی آوازیں سنتی رہی۔ پھر ایمبولینس کا سائرن اس کے بعد ایک دم خاموشی چھا گئی۔ تب اس نے اٹھ کر ڈریسنگ روم کا رخ کیا۔ چینچ کرکے نکلی تو ساجدہ بیگم کو دیکھ کر اس کی نظریں جھک گئیں۔
’’وہ بیٹا مونی…‘‘ ساجدہ بیگم اپنی جگہ عجیب سا محسوس کررہی تھی۔ سمجھ میں نہیں آیا اس سے کیا کہیں تب وہ آگے بڑھ آئی۔
’’میں جانتی ہوں آنٹی۔ آپ پریشان نہ ہوں۔‘‘
’’پریشان کیسے نہ ہوں۔ اچانک پتا نہیں کیا ہوجاتا ہے اسے۔‘‘ ساجدہ بیگم کی آواز بھرا گئی۔
’’ٹھیک ہوجائے گا۔ آپ بیٹھیں۔ میں آپ کے لیے گلوکوز لاتی ہوں۔‘‘ وہ ڈاکٹر تھی اسی حساب سے انہیں ٹریٹ کررہی تھی۔
’’تم بھی کیا سوچتی ہوگی۔‘‘ ساجدہ بیگم نے اس کا چہرہ دیکھا تو وہ مسکرائی۔
’’میں کچھ نہیں سوچ رہی اور ہاں نشا کہاں ہے؟‘‘ اس نے اچانک خیال آنے پر نشا کا پوچھا۔
’’وہ ساتھ گئی ہے میں تو منع کررہی تھی لیکن وہ…‘‘
’’اور انکل…‘‘ اس نے جلال احمد کا پوچھا۔
’’وہ ابھی گئے ہیں تم فون کرو احسن کو۔‘‘ ساجدہ بیگم نے بتا کر کہا تو اپنا سیل فون اٹھاتے ہوئے اس کی نظر احسن کے موبائل پر پڑی۔
’’احسن کا موبائل تو یہیں رکھا ہے۔ خیر وہ خود فون کرلیں گے‘ آپ آرام سے بیٹھ جائیں آنٹی۔ میں آپ کے لیے…‘‘
’’نہیں بیٹا۔ مجھے کچھ نہیں چاہئے۔ میں اپنے کمرے میں جارہی ہوں۔ تم آرام کرو۔‘‘ ساجدہ بیگم پیار سے اس کا گال تھپک کر چلی گئیں۔ تو وہ اپنے پیچھے صوفہ دیکھ کر وہیں بیٹھ گئی۔ وسط دسمبر کی سرد رات بہت دھیرے دھرے سرک رہی تھی۔ جانے صبح کیا پیغام لانے والی تھی۔ اس نے صوفے کی بیک پر سر رکھ کر پلکیں موند لیں۔
وہ خوابوں میں رہنے والی لڑکی نہیں تھی۔ پھر بھی کچھ خواب تھے اور وہ ان سے دستبردار نہیں ہوسکتی تھی۔
ژ…ژ…ژ…ژ
وہ ایمرجنسی روم کے بند دروازے پر نظریں جمائے بالکل ساکت بیٹھی تھی جبکہ اس کے ذہن میں جھکڑ چل رہے تھے۔ محسن کے بدلتے رویے سے وہ پریشان ضرور ہوتی تھی اور یہ بھی سوچتی کہ اسے کیا ہوگیا ہے لیکن یہ تو گمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ اس کی احسن کے ساتھ گفتگو سن کر بدگمان ہوگیا ہے اور جانے اب وہ اس کا یقین کرے گا کہ نہیں۔
’’محبت میں بڑی طاقت ہے مردوں کو زندہ کردیتی ہے۔‘‘ اب وہ خود کو یقین دلا رہی تھی کہ احسن کے پکارنے پر چونکنے کے ساتھ کھڑی ہوگئی۔
’’کیسے ہیں محسن ٹھیک ہیں ناں؟‘‘ انداز میں حد درجہ بے قراری تھی۔ احسن ہلکے سے اثبات میں سرہلا کر بولے۔
’’ٹھیک ہوجائے گا۔‘‘
’’ابھی… ابھی کیسے ہیں۔ مجھے لے چلیں ان کے پاس۔‘‘ وہ مچل گئی۔
’’ریلکس۔‘‘ احسن نے اس کے کندھے پر دبائو ڈال کر بٹھایا۔ پھر ساتھ بیٹھ کر پوچھنے لگے۔ ’’کیا ہوا تھا مونی کو شام تک تو ٹھیک تھا۔ کوئی بات ہوئی تھی؟‘‘
’’نہیں۔‘‘ وہ نظریں چرا کر اپنے ناخن دیکھنے لگی۔
’’دیکھو نشا۔ مجھ سے کچھ مت چھپائو۔‘‘ انہوں نے کہا تو وہ اپنے آپ میں الجھ کر بولی۔
’’کیا چھپائوں گی میں آپ سے۔ اپنی شادی کے دن بھی مونی کا یہی حال تھا اور اب آپ کی۔‘‘ وہ رکی پھر ایک دم انہیں دیکھ کر بولی۔ ’’آپ یہاں کیا کررہے ہیں۔‘‘
’’کیا مطلب؟‘‘ وہ سمجھے نہیں۔
’’مطلب آپ کی شادی… وہ تانیہ… آپ کو گھر جانا چاہئے۔‘‘ وہ بے ربط تھی۔ احسن کچھ نہیں بولے۔
’’احسن بھائی… تانیہ بھابی کیا سوچیں گی۔ پلیز آپ جائیں۔‘‘ اب کہ اس نے منت سے کہا۔ وہ اسے تسلی دینا چاہتے تھے لیکن جلال احمد کو آتے دیکھ کر اٹھ کھڑے ہوئے۔
’’کیسا ہے مونی… کہاں ہے؟‘‘ جلال احمد نے پریشانی سے پوچھا۔
’’اسے روم میں منتقل کیا جارہا ہے۔ میڈیسن کے زیر اثر ہے صبح تک ہوش میں آئے گا۔‘‘ انہوں نے بتایا تو جلال احمد نشا پر نظر ڈال کر کہنے لگے۔
’’ٹھیک ہے۔ میں رکتا ہوں مونی کے پاس۔ تم نشا کو لے کر گھر چلے جائو۔‘‘
’’نہیں تایا ابو۔‘‘ وہ فوراً بول پڑی۔ ’’میں نہیں جائوں گی۔ میں مونی کے پاس رہوں گی۔‘‘
’’بیٹا۔‘‘
’’تایا ابو پلیز۔‘‘ وہ رو پڑی۔ جلال احمد احسن کو دیکھنے لگے۔
’’کوئی خطرے کی بات نہیں ہے ابو۔ صبح تک مونی ٹھیک ہوگا۔ آپ جاکر آرام کریں۔ صبح ہم مونی کو گھر لے آئیں گے۔‘‘ احسن نے گویا اسے رکنے کا اشارا دیا تھا۔
’’احسن بھائی آپ کو بھی جانا چاہئے۔‘‘ اس نے آنسو پونچھتے ہوئے کہا۔ وہ ان سنی کرکے جلال احمد کے ساتھ چل پڑے اور کچھ ہی دیر میں انہیں رخصت کرکے واپس آئے تو وہ پوچھنے لگی۔
’’آپ نہیں گئے؟‘‘
’’شٹ اپ۔ چلو مونی کے پاس اور خبردار رونا دھونا نہیں۔‘‘ وہ دبے لہجے میں اسے ڈانٹ کر وارن کرتے ہوئے محسن کے روم میں لے آئے تو پھر ہونٹوں پر انگلی رکھ کر خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔
وہ دھیرے دھیرے چلتی بیڈ سے کچھ فاصلے پر رک گئی۔ محسن کے چہرے پر آکسیجن ماسک چڑھا تھا۔ جس سے اس کی سانسوں کی آمدورفت واضح محسوس ہورہی تھی۔
’’تم نے کبھی بجھتے ہوئے دیے کو دیکھا ہے۔ جسے کچھ دیر اور روشن رکھنے کی خاطر ہتھیلی کی اوٹ میں لے لیا جاتا ہے۔ میں اسی دیے کی مانند ہوں۔‘‘ اس کی سماعتوں پر دستک ہونے لگی۔ ایک کے بعد ایک۔
’’میرے گمان میں بھی نہیں تھا کہ نشا کہ کبھی میری زندگی میں بھی بہار آسکتی ہے۔ لیکن تمہاری محبت نے تو اچانک ایسے پھول کھلائے ہیں کہ میں صرف چند برس نہیں بلکہ برسہا برس جینے کی تمنا کرنے لگا ہوں۔‘‘
’’مونی…‘‘ اس کی آنکھوں میں ٹوٹ کے ساون اترا تھا۔ تب ہی عقب سے احسن نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تو وہ ان کے سینے میں منہ چھپا کر سسک پڑی۔
’’احسن بھائی… مونی کو کچھ ہوا تو میں زندہ نہیں رہوں گی۔‘‘ احسن نے اس کا سر تھپک کر تسلی دی۔ پھر اسے دوسرے بیڈ پر لٹا کر کمبل اوڑھایا اور سونے کی تاکید کرتے ہوئے کمرے سے نکل گئے۔
ژ…ژ…ژ…ژ
گو کہ آصف جاہ کے جانے سے گھر سونا ہوگیا تھا پھر بھی وہ خود کو باور کراتی کہ اس کا جانا ہی بہتر تھا۔ اسے نہیں معلوم تھا کہ وہ کہاں گیا ہے نہ اس نے کسی سے پوچھنا مناسب سمجھا تھا۔ وہ اس سے لاتعلق رہنا چاہتی تھی تو لاتعلقی ظاہر بھی کررہی تھی۔ اس وقت بنٹی فون پر شاید آصف جاہ سے ہی بات کررہا تھا۔ اس نے سننے کی کوشش نہیں کی اور برآمدے میں نکل آئی۔ فضا میں عجیب سی سوگواریت محسوس ہورہی تھی۔ اس نے دور تک پہلے آسمان کو دیکھا پھر اندر جانے لگی تھی کہ خان جنید کی گاڑی گیٹ سے داخل ہوتے دیکھ کر رک گئی۔ اسے اچنبھا ہوا ابھی کچھ دیر پہلے تو وہ آفس گئے تھے اتنی جلدی واپسی۔
’’ہیلو۔‘‘ خان جنید نے قریب آکر اس کی سراسمیگی کو توڑا تو وہ چونک کر بولی۔
’’خیریت؟‘‘
’’سب خیریت…‘‘انہوں نے بریف کیس کے ساتھ ایک لفافہ اسے تھمایا تو وہ ان کے ساتھ اندر آتے ہوئے پوچھنے لگی۔
’’اس لفافے میں کیا ہے۔‘‘
’’دیکھ لو۔‘‘ وہ بے نیازی سے بولے۔ اس نے بریف کیس رکھ کر لفافہ کھولا۔ اس کے اور خان جنید کے پاسپورٹ کے ساتھ لندن کے ٹکٹس تھے۔ وہ انہیں دیکھنے لگی۔
’’بھئی تم ہی چاہتی ہو کہ میں بائی پاس کرالوں۔‘‘ انہوں نے کہا تو وہ اطمینان سے بولی۔
’’بالکل چاہتی ہوں کب جانا ہے؟‘‘
’’کل۔‘‘
’’اتنی جلدی۔ میرا مطلب ہے آپ کو پہلے بتانا چاہیے تھا۔‘‘ وہ تیاری کا سوچ کر بوکھلا گئی۔
’’کیا پرابلم ہے‘ تمہیں اپنی مدر سے ملنا ہے بہن سے ملنا ہے تو جائو مل آئو پھر آکر ایک سوٹ کیس تیار کردینا۔‘‘ ان کے لیے واقعی کوئی پرابلم نہیں تھی۔ وہ خاموش ہوگئی۔ پھر پہلے امی کے پاس جانے کا سوچ کر وہ تیار ہوکر نکلی تھی کہ راستے میں احسن کا فون آگیا۔ نشا کے نمبر سے کال کررہے تھے۔ انہوں نے زیادہ کچھ نہیں بتایا بس یہی کہا کہ وہ نشا کے پاس ہاسپٹل چلی جائے۔ وہ پوچھتی رہ گئی کیا ہوا… نشا کو لیکن ادھر سے سلسلہ منقطع ہوگیا تھا بلکہ کردیا گیا۔ اس کی پریشانی فطری تھی۔ آندھی طوفان کی طرح ہاسپٹل پہنچی اور نشا کو دیکھ کر ابھی کچھ سمجھ نہیں پائی تھی کہ نشا اس کے گلے لگ کر رو پڑی۔
’’نشا…‘‘ وہ مزید پریشان ہوئی۔
’’کیاہوا ہے… کون ہے یہاں؟‘‘
’’مونی… میرا محسن۔‘‘ نشا کی آواز میں آنسوئوں کی آمیزش تھی۔
’’کیا ہوا محسن کو؟‘‘ اس نے جھٹکے سے نشا کو خود سے الگ کیا۔
’’وہ بس پتا نہیں۔ اچانک انہیں کیا ہوجاتا ہے۔‘‘ یہ تفصیل میں جانے کا وقت نہیں تھا۔ یوں بھی نشا نے پہلے کچھ نہیں بتایا تھا۔ یہ سوچ کر کہ وہ اپنی طرف سے اپنی ماں کوئی دکھ نہیں دے گی اور اب تو وہ پور پور محسن کی محبت میں ڈوب چکی تھی کیسے کہہ دیتی کہ وہ ہمیشہ سے ایسا ہی ہے۔
’’ہے کہاں؟‘‘ صبا نے پوچھا تو نشا اس کا ہاتھ تھام کر روم میں لے آئی۔ جہاں محسن آنکھیں بند کئے لیٹا تھا۔ اس کی پلکوں کی لرزش دیکھ کر ہی نشا نے پکارا تھا۔
’’مونی… صبا آئی ہے۔‘‘ محسن نے صبا کا سن کر آنکھیں کھولی تھی۔
’’کیا ہوا ہے آپ کو؟‘‘ صبا نے آگے بڑھ کر پوچھا تو وہ مسکرا کر بولا۔
’’بس دل چاہ رہا تھا سب کو اپنے لیے پریشان کروں۔‘‘
’’کچھ زیادہ ہی پریشان کردیا ہے آپ نے۔ نشا کی حالت دیکھ رہے ہیں مجھے تو آپ سے زیادہ یہ بیمار لگ رہی ہے۔‘‘ صبا نے نشا کی سرخ آنکھوں اور چہرے کی طرف اشارا کرکے کہا تو وہ ایک نظر نشا پر ڈال کر بولا۔
’’آپ اسے گھر لے جائیں۔‘‘
’’نہیں آپ کے ساتھ ہی جائوں گی۔‘‘ نشا فوراً بولی۔
’’کہاں میرا مطلب ہے میرا تو فی الحال گھر جانے کا کوئی پروگرام نہیں۔ کچھ دن بلکہ بہت سارے دن یہیں آرام کروں گا۔‘‘ وہ غالباً صبا کی وجہ سے ہلکے پھلکے انداز میں بولتے ہوئے مسکرا بھی رہا تھا۔
’’دن کیا چاہے مہینوں‘ میں بھی یہیں رہوں گی۔‘‘ نشا ضد سے بولی تو صبا ہنس پڑی۔
’’یہ تم دونوں کیا فضول باتیں کررہے ہو۔ محسن آپ شام تک بالکل فٹ فاٹ ہوکر گھر جائیں پھر کل آپ دونوں نے ہمیں سی آف کرنے آنا ہے۔‘‘ اس نے ٹوک کر کہا تو محسن پوچھنے لگا۔
’’کہاں جارہی ہیں آپ؟‘‘
’’لندن… خان صاحب کا بائی پاس ہے۔‘‘ اس نے بتایا تو نشا پریشانی سے اسے دیکھنے لگی جب کہ محسن نے او کے انداز میں ہونٹ سکیڑ لیے تھے۔
’’بہرحال تم لوگ دعا کرنا۔ مجھے ابھی امی سے ملنا ہے اور تیاری بھی کرنی ہے۔ ٹھیک ہے پھر ان شا اللہ ملاقات ہوگی اور ہاں محسن سب کو پریشان کرنا ٹھیک نہیں۔‘‘ آخر میں اس نے محسن کو سرزنش کی پھر نشا سے گلے مل کر اسے ڈھیروں تسلی دے کر وہاں سے نکل آئی۔ پھر ثریا کے پاس وہ زیادہ دیر نہیں رکی تھی۔ بس چائے پینے تک بیٹھی اس دوران ثریا کو تسلی بھی دیتی رہی اور بار بار دعا کے لیے بھی کہتی رہی تھی۔ گو کہ اس کے پاس کرنے کو بہت ساری باتیں تھیں لیکن ابھی اسے تیاری بھی کرنی تھی اس لیے بہت عجلت میں ثریا سے مل کر گھر آئی تو اپنے کمرے سے آتی آواز سن کر ٹھٹک گئی۔ کوئی بہت اونچا اونچا بول رہا تھا۔ اسے اندر جانا ٹھیک نہیں لگا نہ ہی اس نے سننے کی کوشش کی۔ واپس پلٹ کر بنٹی کے کمرے میں جارہی تھی کہ ملازم کو دیکھ کر پوچھنے لگی۔
’’سنو صاحب کے کمرے میں کون ہے؟‘‘
’’جمشید صاحب اور فریحہ بی بی آئی ہیں۔‘‘ ملازم نے بتایا تو اس نے یونہی سرہلا کر پوچھا۔
’’اور بنٹی کہاں ہے؟‘‘
’’وہ بھی وہیں صاحب کے کمرے میں ہیں بیگم صاحبہ۔‘‘
’’ٹھیک ہے۔‘‘ وہ ملازم کو بھیج کر لائونج میں آبیٹھی۔ گو کہ خان جنید کی اولادوں کا آنا کوئی ایسی بات نہیں تھی کہ اب جب کہ وہ بائی پاس کے لیے جارہے تھے تو انہیں آنا ہی تھا اس میں کوئی پریشانی کی بات نہیں تھی پھر بھی اس کا اندر جانے کیوں بے چین تھا باربار اپنے کمرے کے بند دروازے کو دیکھتی جس کے اس طرف ماحول یقینا ساز گار نہیں تھا۔
کتنی دیر بعد کمرے کا دروازہ کھلا اور پہلے بنٹی اپنی چیئر دھکیلتے ہوئے نکل کر سیدھا اپنے کمرے کی طرف چلا گیا۔ وہ اس کا اترا ہوا چہرہ دیکھ کر کچھ اخذ کرنے لگی تھی کہ خان جمشید اور فریحہ کو نکلتے دیکھ کر بلا ارادہ اپنی جگہ سے کھڑی ہوگئی لیکن وہ دونوں اسے یکسر نظر انداز کرتے ہوئے باہر نکلتے چلے گئے تھے۔
’’یااللہ…‘‘ اس کی کچھ سمجھ نہیں آیا تو بھاگ کر کمرے میں آئی۔ خان جنید فون پر بات کررہے تھے۔
’’صبح نو بجے تم عبدالرحمن کو لے کر میرے آفس پہنچنا۔ دیر نہیں ہونی چاہئے۔‘‘
’’ٹھیک…‘‘ انہوں نے فون رکھ کر اسے دیکھا وہ پریشان کھڑی تھی۔
’’کیا ہوا خان؟‘‘
’’کچھ نہیں تم تیاری کرو۔‘‘ انہوں نے کہہ کر اپنا بریف کیس کھولا۔ تو وہ مزید کچھ پوچھنے کا ارادہ ملتوی کرکے وارڈ روب کی طرف بڑھ گئی۔
ژ…ژ…ژ…ژ
احسن نے پوری رات ہاسپٹل میں جاگ کر کاٹی تھی۔ صبح دس بجے وہ گھر آتے ہی سوگئے تھے۔ دوپہر میں ساجدہ بیگم جلال احمد کے ساتھ ہاسپٹل چلی گئیں اور وہ ایک رات کی دلہن سارے گھر میں چکراتی پھر رہی تھی۔ کبھی کمرے میں آکر احسن کو دیکھنے لگتی جن کے چہرے پر کچھ پالینے کا شائبہ تک نہیں تھا۔ نہ اولین شب کے ضائع کا ملال۔ بلکہ نیند میں بھی یوں لگ رہا تھا جیسے ان کا دھیان محسن کی طرف ہو اور یہ تو وہ جانتی تھی کہ محسن کے معاملے میں وہ کچھ حساس ہیں اور انہوں نے اسے باور بھی کرا دیا تھا پھر بھی اپنا یوں نظر انداز ہونا اسے بری طرح کھل رہا تھا۔ اس وقت وہ کتنی دیر سے ان کے چہرے پر نظریں جمائے کھڑی تھی جب کروٹ بدلتے ہوئے انہوں نے ذرا سی آنکھیں کھولیں اور پھر ایک دم بیدار ہوگئے۔
’’چائے لائوں…‘‘ انہیں پوری آنکھیں کھولتے دیکھ کر تانیہ نے چونک کر پوچھا تو جواباً انہوں نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ اپنا ایک بازو اس کی طرف بڑھایا۔ وہ جھکی پھر ان کے پاس بیٹھ کر بولی۔
’’چار بج رہے ہیں۔‘‘
’’ارے…‘‘ وہ فوراً اٹھ بیٹھے۔ ’’میں اتنی دیر تک سوتا رہا۔ تم نے اٹھایا کیوں نہیں۔‘‘
’’سوچا تو تھا پھر اس خیال سے رک گئی کہ پتا نہیں اتنی گہری نیند سے اٹھائے جانے پر تمہارا کیا ردعمل ہو۔‘‘ اس نے صاف گوئی سے کہا تو وہ بظاہر سنجیدگی سے پوچھنے لگے۔
’’ردعمل جاننا چاہتی ہو؟‘‘ تانیہ نے اثبات میں سر ہلایا کہ انہوں نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنی طرف کھینچ لیا۔ وہ ارے ارے کرتی رہ گئی۔
پھر ساجدہ بیگم اور جلال احمد ہاسپٹل سے لوٹے تو وہ احسن کے ساتھ جانے کو تیار ہوگئی۔ احسن کا خیال تھا وہ اسے اس کی امی کے پاس چھوڑ دیں گے لیکن وہ نہیں مانی۔ پہلے مقام پر ہی اس نے اپنی حیثیت کا تعین کردیا تھا پھر وہ کوئی ٹین ایج لڑکی نہیں تھی کہ ناز نخرے دکھا کر شوہر کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کرتی اسے احسن کے ساتھ چلنا تھا۔
جب وہ احسن کے ساتھ روم میں داخل ہوئی محسن جانے کس بات پر نشا کو سخت سست کہہ رہا تھا۔ نشا کا انداز ضدی روٹھے بچے جیسا تھا۔
’’ارے ارے مونی… اتنا غصہ کیا ہوگیا ہے یار۔ کیوں اس بے چاری کو ڈانٹ رہے ہو۔‘‘ احسن نے فوراً بڑھ کر محسن کا ہاتھ تھام کر ٹوکا۔ تو وہ ناراضگی سے بولا۔
’’آپ کی اس بے چاری نے مجھے عاجز کردیا ہے۔‘‘ محسن کے آپ کی کہنے پر نشا گھبرا کر کمرے سے نکل گئی تو تانیہ بھی اس کے پیچھے چلی آئی۔
’’بے وقوف رو کیوں رہی ہو۔‘‘ اس نے نشا کو ہتھیلیوں سے آنکھیں رگڑتے دیکھ کر پیار سے ٹوکا پھر کہنے لگی۔
’’تمہیں اس کی باتوں کا برا نہیں ماننا چاہئے۔ اصل میں وہ اپنی طبیعت سے پریشان ہے پھر شاید گلٹی بھی فیل کرتا ہوگا کہ خوشی کے موقع پر وہ سب کے لیے پرابلم بن جاتا ہے۔‘‘
’’مونی میرے لیے پرابلم نہیں ہیں تانیہ بھابی۔ میں تو عادی ہوں بلکہ ہم سب عادی ہیں۔‘‘ نشا نے کہا۔
’’اچھا تم پریشان مت ہو یہ بتائو ابھی ڈاکٹر کیا کہہ رہے ہیں؟‘‘ تانیہ نے تسلی دے کر پوچھا۔
’’یہ تو احسن بھائی کو پتا ہوگا۔ ڈاکٹر سے ان کی بات ہوتی ہے۔‘‘ نشا نے کہا تب ہی احسن آکر کہنے لگے۔
’’مونی تمہارے لیے پریشان ہے نشا۔ تم اس کی بات کیوں نہیں مانتی۔‘‘
’’کون سی بات؟‘‘ نشا حیران ہوئی۔
’’اس کا کہنا ہے کہ تمہیں گھر جاکر آرام کرنا چاہئے ورنہ بیمار پڑ جائو گی اور وہ ٹھیک کہہ رہا ہے۔‘‘ احسن نے بتانے کے ساتھ محسن کی تائید بھی کی۔
’’تو یہاں مونی کے پاس کون رہے گا؟‘‘ نشا نے بے اختیار پوچھا تو احسن اپنے سینے پر ہاتھ رکھ کر بولے۔
’’میں جو ہوں۔‘‘
’’نہیں آپ جائیں۔ میں مونی کے ساتھ ہی گھر جائوں گی۔‘‘ نشا کہہ کر روم میں چلی گئی تو اس کے پیچھے دیکھتے ہوئے انہوں نے کندھے اچکائے پھر تانیہ کو دیکھ کر پوچھنے لگے۔
’’اب کیا پروگرام ہے۔‘‘
’’امی کے گھر چلیں۔‘‘ تانیہ نے کہا پھر ان کے ساتھ چلتے ہوئے پوچھنے لگی۔ محسن کب ڈسچارج ہوگا۔
’’کل ان شاء اللہ۔‘‘
’’ایک بات پوچھوں احسن؟‘‘ جب احسن گاڑی مین روڈ پر لے آئے تب وہ بولی۔
’’ہوں؟‘‘
’’کیا ان دونوں کی لو میرج ہے؟‘‘
’’کن دونوں کی؟‘‘ احسن کا دھیان جانے کہا تھا۔
’’میں نشا اور محسن کی بات کررہی ہوں۔‘‘ تانیہ نے زور دے کر کہا تو اپنے آپ میں گلٹی فیل کرتے ہوئے احسن صرف سر ہلا سکے۔
’’میرا بھی یہی خیال تھا ورنہ…‘‘ وہ جانے کیا کہنے جارہی تھی کہ ایک دم خاموش ہوگئی پھر کنکھیوں سے احسن کو دیکھا۔ انہوں نے شاید سنا نہیں تھا جس پر اس نے شکر کیا تھا۔
ژ…ژ…ژ…ژ
کچھ ہی دیر میں لندن جانے والی فلائٹ کا اعلان ہونے والا تھا۔ وہ خان جنید سے ایکس کیوز کرکے ایک طرف آکھڑی ہوئی اور جلدی سے اپنا سیل فون نکال کر نشا کو کال ملائی۔
’’سوری صبا… ہم تمہیں سی آف کرنے نہیں آسکے۔ اصل میں مونی ابھی…‘‘ نشا کال ریسو کرتے ہوئے معذرت کے ساتھ مجبوری بیان کرنے لگی تھی کہ وہ ٹوک کر بولی۔
’’کم آن نشا جانتی ہوں تم پریشان مت ہو اور میرے لیے بہت دعا کرنا۔‘‘
’’تم گھبرا رہی ہو صبا۔‘‘ نشا نے جانے کیسے محسوس کرلیا تھا۔
’’ہاں… مجھے بہت گھبراہٹ ہورہی ہے نشا… پتا نہیں کیوں مجھے ایسا لگ رہا ہے جیسے میں بالکل اکیلی ہوں میرے آس پاس کوئی نہیں۔‘‘ صاف گوئی سے اعتراف کرتے ہوئے اس کی آواز بھرا گئی تھی ادھر نشا پریشان ہوگئی۔
’’صبا… جنید بھائی کہاں ہیں؟‘‘
’’میرے ساتھ ہیں۔‘‘ اس نے قدرے فاصلے پر بیٹھے خان جنید کو دیکھ کر کہا۔
’’پھر کیوں گھبرا رہی ہو اور اب تو بائی پاس عام سی بات ہوگئی ہے۔‘‘ نشا اسے تسلی دے رہی تھی۔ ادھر فلائٹ کا اعلان ہوگیا تو اس نے عجلت میں خدا حافظ کہہ کر سیل آف کردیا۔ پھر خان صاحب کے ہاتھ سے بریف کیس لے کر ان کا بازو تھام لیا۔
اس کی زندگی کا یہ پہلا ہوائی سفر تھا۔ کوئی اور موقع ہوتا تو وہ خوش ہوتی انجوائے کرتی اب جانے کیوں خائف سی تھی۔ عجیب سے واہموں میں گھر کر باربار خان جنید کا چہرہ دیکھتی۔ وہ بہت پرسکون نظر آرہے تھے اور بہت دیر سے اسے نوٹس کررہے تھے پھر وہ یہی سمجھے کہ وہ ہوائی سفر سے خوف زدہ ہے جب ہی اس کا دھیان بٹانے کی غرض سے ادھر ادھر کی باتیں شروع کردیں اور بے دھیانی سے سنتے ہوئے اچانک وہ پوری جان سے متوجہ ہوئی تھی۔ خان جنید کہہ رہے تھے۔
’’میری نظر میں تم عام سی لڑکی تھی۔ مسائل میں گھری ہوئی مجبور لڑکی اور میں بنٹی کی طرف سے پریشان تھا جب میں نے دیکھا کہ بنٹی تم سے مانوس ہوگیا ہے تب میں نے اپنی پریشانی کا تمہاری مجبوری سے سودا کرلیا۔ گھاٹے کا سودا نہیں تھا۔ میں اطمینان سے ہوگیا کہ بنٹی کو فل ٹائم کمپنی مل گئی۔ تمہارے بارے میں تو میں نے سوچا ہی نہیں تھا کہ تم کیا چاہتی ہو۔ نہ تمہارے جذبات واحساسات جاننے کی ضرورت سمجھی۔ شاید اسی لیے کہ جس طرح میں اپنی پریشانی کا حل ڈھونڈ کر اطمینان سے ہوگیا تھا اسی طرح میرا خیال تھا کہ تم بھی مسائل سے نکل کر مطمئن ہوگئی ہوگی‘ لیکن یہ میری بھول تھی اور اس کا احساس مجھے اس وقت ہوا جب تمہیں اپنے لیے پریشان دیکھا اور اس وقت تو میں بے پناہ پشمانیوں میں گھر گیا جب تم نے مجھے اپنی عمر لگ جانے کی دعا دے کر کہا تھا۔ ’’میں کسی فائدے نقصان کو نہیں جانتی۔ میں تو صرف اتنا جانتی ہوں کہ آپ میرا سائبان ہیں اور ہمارا معاشرہ بے سائبان عورت کو کوئی مقام نہیں دیتا۔‘‘ وہ اس کی بات دہرا کرکہنے لگے۔ ’’تم کبھی بے سائبان نہیں ہوگی صبا میں رہوں یا نہ رہوں۔‘‘
’’خان…‘‘ اس نے تڑپ کر ان کے ہونٹوں پر ہاتھ رکھا۔ خان جنید نے اس کا ہاتھ اپنی مٹھی میں دبا کر آنکھیں بند کرلیں۔ ان کی سرخی مائل رنگت میں زردیاں گھلتی دیکھ کر وہ پریشان ہوگئی۔ تب ہی ایتنھز ایئرپورٹ پر لینڈنگ کا اعلان ہونے لگا۔
’’خان آپ ٹھیک ہیں ناں۔‘‘ اس نے پکار کر پوچھا۔
’’ہوں…‘‘ ان کی پلکوں میں حرکت ضرور ہوئی لیکن انہوں نے آنکھیں نہیں کھولیں۔
’’خان بس اب ہم لینڈ کررہے ہیں۔ سیدھے ہاسپٹل جائیں گے ناں۔ آپ کا بریف کیس۔ ہاں یہ میں پکڑ لیتی ہوں۔‘‘ وہ خود نہیں سمجھ پا رہی تھی وہ کیا کہہ رہی ہے کیا کررہی ہے۔ پھر جانے زمین سے ناتا جڑنے پر پلین کو جھٹکا لگا تھا یا خان جنید کو۔
’’خان…‘‘ اس کے منہ سے چیخ نکل گئی اور پھر اس نے چیخ کر ہوسٹس کو بلایا تھا۔ اس کے بعد وہ اپنے حواسوں میں نہیں رہی تھی۔ اسے نہیں پتا وہ پلین سے کیسے نکلی پھر وہ خان جنید کے اسٹریچر کے پیچھے بھاگ رہی تھی اس کا پیر سلپ ہوا اور وہ اوندھے منہ گری اس سے پہلے کہ کوئی اسے اٹھاتا وہ خود ہی اٹھ کر بھاگی تھی لیکن خان جنید تک نہیں پہنچ سکی کیونکہ وہاں انسانی زندگی بہت قیمتی تھی اس کا انتظار نہیں کیا گیا خان جنید کو فوراً ہوائی سروس کے ذریعے ہاسپٹل روانہ کردیاگیا۔ وہ جب ایئرپورٹ سے نکلی اسے وہ اسٹریچر کہیں نظر نہیں آیا۔
’’خان…‘‘ وہ ان کا بریف کیس دونوں بازوئوں میں جکڑے ڈھے جانے کو تھی کہ کسی نے اسے تصدیقی انداز میں پکارا تھا۔
’’مسز خان۔‘‘
’’ہاں…‘‘ وہ فوراً پلٹی۔ ’’خان کہاں ہیں؟‘‘
’’انہیں ہاسپٹل روانہ کردیا گیا ہے۔ آپ کہاں جائیں گی‘ ہاسپٹل یا اپنی رہائش پر۔‘‘ اس نے پوچھا تو وہ فوراً بولی۔
’’ہاسپٹل خان کے پاس۔‘‘
’’آئیے…‘‘ اس نے گاڑی کی طرف اشارا کیا تو وہ اس کے ساتھ چلتے چلتے ایک دم رک گئی۔
’’آپ کون ہیں؟‘‘
’’اعزاز احمد… شاید خان صاحب کے منہ سے آپ نے میرا نام سنا ہو۔ میں یہاں ان کے آفس میں ہوتا ہوں۔ انہوں نے وہاں سے روانگی کے وقت مجھے فون کردیا تھا اور میں آپ لوگوں کو ریسو کرنے ہی آیا تھا۔‘‘ اس نے اپنے بارے میں تفصیل سے بتایا تب وہ اس کے ساتھ چل پڑی۔
اور اتنی کوئیک سروس کے باوجود خان جنید زندگی ہار گئے۔ اپنے گھر اپنے وطن سے دور وہ تنہا ہوگئی۔ اجنبی دیس اجنبی لوگوں میں کوئی ایسا نہیں تھا جو اس کے لرزتے وجود کو سہارا دیتا۔ اپنے ہونٹوں پر سختی سے ہاتھ جمائے وہ ابلنے کو بے تاب چیخوں کو دبائے کھڑی تھی جب کہ آنکھوں میں اترے سیلاب نے سارے بند توڑ دیئے تھے۔
’’کیا کرنا ہے میم؟‘‘ اعزاز احمد اس سے پوچھ رہا تھا جسے اپنا ہوش نہیں تھا۔
ژ…ژ…ژ…ژ
اعزاز احمد اسے اپارٹمنٹ میں چھوڑ کر چلا گیا اور وہ پچھلے ایک گھنٹے سے گھٹنوں میں سر دیے بیٹھی تھی۔ اب تو آنسو بھی خشک ہوگئے تھے پھر دھیرے دھیرے اس نے سوچنا شروع کیا تب بھی اس کی سمجھ میں نہیں آیا کیا کرے۔ گھٹنوں سے سر اٹھایا تو سر میں درد کی ٹیسیں اٹھنے لگیں۔
’’یااللہ…‘‘ دونوں ہاتھوں سے سر تھام کر اس نے مدد کے لیے اللہ کو پکارا تھا۔ تب ہی اس کی نظر خان جنید کے بریف کیس پر پڑی۔ اس نے فوراً بریف کیس کھولا اور ان کا سیل فون نکال کر آن کرتے ہی پہلے نمبرز چیک کیے پھر خان جمشید کا نمبر پش کردیا۔ تیسری بیل کے بعد خان جمشید کی آواز آئی تھی۔
’’یس ڈیڈ۔‘‘
’’میں صبا بات کررہی ہوں۔ آپ کے ڈیڈ چلے گئے۔‘‘ اس کے آنسو پھر رواں ہوگئے۔
’’واٹ؟‘‘ خان جمشید کی چنگھاڑ ہوئی آواز تھی۔
’’ہاں… وہ دنیا سے چلے گئے۔ اب بتائیں میں کیا کروں؟‘‘ اس نے روتے ہوئے پوچھا تو ادھر سے وہ دھاڑ کر بولا تھا۔
’’تم بھی وہیں مرو اور انہیں بھی وہیں دفن کردو۔‘‘
’’ہاں…‘‘ اس کی سانس حلق میں اٹک گئی۔ ادھر سے سلسلہ منقطع ہوگیا تھا۔ وہ کتنی دیر دھندلائی آنکھوں سے سیل فون کو دیکھتی رہی پھر دوبارہ نمبرز چیک کرتے ہوئے اس نے آصف جاہ کا نمبر پش کیا کیونکہ خان جنید کا سیل فون تھا اس لیے خان جمشید کی طرح آصف جاہ بھی انہیں ہی سمجھا تھا۔
’’یس سر۔‘‘
’’میں صبا…‘‘ وہ دقتوں سے اسی قدر کہہ پائی۔
’’جی صبا کیسی ہیں آپ اور آپ کے خان ٹھیک ہیں ناں؟‘‘ وہ اپنا نہیں تھا لیکن اپنائیت سے پوچھ رہا تھا وہ یوں ٹوٹ کے روئی کہ ہچکی بندھ گئی۔
’’صبا… صبا…‘‘ وہ پکارے جارہا تھا۔
’’پلیز صبا آپ روئیں نہیں۔ مجھے بتائیں کیا ہوا ہے۔ خان ٹھیک ہیں ناں۔‘‘ اس کی پریشانی آواز سے لہجے سے ظاہر ہورہی تھی۔
’’نہیں… خان چلے گئے۔ مجھے اکیلا چھوڑ کر دنیا سے چلے گئے۔ مجھے بتائو میں کیا کروں آصف۔ خان جمشید کہتے ہیں انہیں یہیں دفن کردوں اور میں بھی یہیں مروں…‘‘ وہ ہچکیوں میں رک رک کر بول رہی تھی۔
’’اچھا آپ…آپ پلیز ہمت کریں۔‘‘ آصف جاہ خود چکرا گیا تھا۔
’’آپ روئیں نہیں… میں… میں آرہا ہوں۔ پہلی فلائٹ سے آرہا ہوں۔ آپ پلیز خود کو سنبھالیں۔ میں اعزاز کو فون کرتا ہوں وہ خان انکل کو یہاں لانے کا فوری اقدام کرے۔ ہیلو صبا… آپ سن رہی ہیں ناں۔‘‘ اور وہ سن کر کیا کرتی اس کی تو دنیا اجڑ گئی تھی۔
اپنے ہم سفر کے ساتھ پہلے سفر میں ہی اس کی زندگی کا سفر تمام ہوگیا تھا یوں کہ اس کے سارے احساسات منجمد ہوگئے تھے اس کی کھلی آنکھوں نے سب کچھ دیکھا ضرور لیکن سارے منظر لاشعور میں کہیں گم ہوتے چلے گئے تھے۔ آصف جاہ کی آمد‘ تیسرے دن خان جنید کے جسد خاکی کے ساتھ واپسی کا سفر‘ ان کی آخری رسومات اور سوئم میں بھی وہ گم صم بیٹھی تھی۔ اطراف میں سب اس کے اپنے تھے سب کو اس کا غم رلا رہا تھا اور اس کی آنکھیں صحرا ہوگئی تھی۔
اس کے دائیں بائیں ثریا اور ساجدہ بیگم بیٹھی تھیں۔ قدرے فاصلے پر راحیلہ خاتون جو وقفے وقفے سے لمبی آہ کھینچ کر اس کی جوانی پر ترس کھاتیں۔ عقب سے نشا اسے دونوں کندھوں سے تھام کر اس کے ساتھ گویا خود کو بھی سہارا دینے کی کوشش کررہی تھی۔ پھر ایک ایک کرکے سب رخصت ہوگئے تب ثریا اسے وہاں سے اٹھا کر کمرے میں لے جانے لگی تھی کہ خان جمشید‘ فریحہ کے ساتھ سامنے آن کھڑا ہوا اور کرخت لہجے میں بولا۔
’’بس اب تمہارا کام ختم۔ اپنا بوریا بستر سمیٹو اور تم بھی جائو یہاں سے۔‘‘ اس کی سماعتوں پر کاری ضرب پڑی تھی ایک چھناکے سے سناٹے چور چور ہوگئے اس نے بنٹی کی تلاش میں نظروں کا زاویہ بدلا تو دور کونے میں آصف جاہ کھڑا نظر آیا وہ فون پر جانے کس سے بات کررہا تھا انداز خاصا جارحانہ تھا پھر وہ وہیں سے باہر کی طرف بھاگا تھا۔
’’سنا نہیں تم نے…‘‘ خان جمشید پھر دھاڑا۔
’’بیٹا…‘‘ ثریا نے کچھ کہنا چاہا لیکن اس نے فوراً ان کا ہاتھ دبا کر خاموش کردیا پھر یوں اثبات میں سر ہلایا جیسے اپنے جانے کا اشارا دیا ہو اور ثریا کا ہاتھ تھامے ہوئے اپنے کمرے میں آگئی۔
’’آپ بیٹھ جائیں امی۔ میں اپنی کچھ ضروری چیزیں لے لوں۔‘‘ وہ کہہ کر الماری کی طرف بڑھ گئی۔ ثریا صدمے کی حالت میں اسے دیکھے گی اور وہ ڈھونڈ ڈھونڈ کر خان جنید کی کچھ نشانیاں اور کچھ تحائف جو انہوں نے اسے دیے تھے بیگ میں رکھنے لگی‘ اس کام سے فارغ ہوئی تو اسے بنٹی کا خیال آیا۔
’’دو منٹ امی۔ میں بنٹی سے مل کر آتی ہوں۔‘‘ وہ بہت ضبط کررہی تھی جب ہی ثریا کی طرف دیکھنے سے گریز کرتے ہوئے کمرے سے نکل آئی اور سیدھی بنٹی کے کمرے کی طرف جارہی تھی کہ کسی نے اسے پکارا تھا۔
’’مسز خانص‘‘ اس نے رک کر دیکھا لائونج میں خان جمشید اور فریحہ کے ساتھ وہ تیسرا ادھیڑ عمر شخص جانے کون تھا جو غالباً اس کے لیے اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا تھا۔
’’یہاں تشریف لایے مسز خان۔‘‘ اس شخص نے اسے مخاطب کیا تو اس نے پہلے دزدیدہ نظروں سے خان جمشید اور فریحہ کو دیکھا پھر قریب جاکر سوالیہ انداز میں بولی۔
’’جی؟‘‘
’’میرا نام عبدالرحمن ہے میں خان جنید صاحب کا لیگل ایڈوائزر ہوں اور میں اس لیے حاضر ہوا ہوں کہ خان صاحب کی وصیت کے مطابق جو کچھ آپ کا ہے اس سے آپ کو آگاہ کرسکوں۔ آپ پلیز تشریف رکھیں۔‘‘ عبدالرحمن صاحب نے اپنا تعارف کرانے کے ساتھ پھر اسے بیٹھنے کو کہا تو فریحہ کی کھا جانے والی نظروں سے خائف ہوکر بیٹھ گئی۔
’’خان صاحب نے یہ بنگلہ آپ کے نام کیا ہے۔‘‘ اس کے بیٹھتے ہی عبدالرحمن صاحب بتانے لگے۔ ’’ان کی وصیت کے مطابق یہاں سے کوئی آپ کو بے دخل نہیں کرسکتا۔ مزید بزنس میں آپ کا جتنا حصہ انہوں نے رکھا ہے وہ ہر مہینے آپ کو کیش کی صورت ملتا رہے گا اور انہوں نے آپ سے ریکویسٹ کی ہے کہ آپ بنٹی کا خیال رکھیں۔ باقی خان جمشید صاحب اور فریحہ بی بی کے لیے خان صاحب نے جو وصیت کی تھی وہ میں نے ان کے حوالے کردی ہے آپ بھی اپنی امانت سنبھالیں۔‘‘
’’نہیں…‘‘ وہ جو بہت غور سے سن رہی تھی ایک دم بول پڑی۔ ’’میرا مطلب ہے آپ اسی طرح ہمارے لیگل ایڈوائزر رہیں گے جیسے خان صاحب کی زندگی میں تھے۔ اس لیے یہ تمام پیپرز آپ اپنے پاس رکھیں۔ البتہ ان کی ایک کاپی مجھے پہنچا دیجیے گا۔‘‘
’’جی بہتر۔‘‘ عبدالرحمن صاحب تمام پیپرز واپس بریف کیس میں بند کرکے اٹھ کھڑے ہوئے۔ ’’مجھے اجازت دیجیے اور ہاں یہ میرا کارڈ رکھ لیجیے۔ جب بھی آپ کال کریں گی میں حاضر ہوجائوں گا۔‘‘
’’تھنیک یو۔‘‘ وہ ان کے ہاتھ سے کارڈ لے کر اٹھ کھڑی ہوئی پھر ان کے جاتے ہی چاہا کہ خان جمشید اور فریحہ کو یکسر نظر انداز کرکے اپنے کمرے میں چلی جائے کہ عقب سے بنٹی چلایا۔
’’اب آپ لوگ بھی جائیں۔ میری مما یہیں رہیں گی۔‘‘ وہ فوراً بنٹی کی طرف گھومی وہ انتہائی غصے سے خان جمشید اور فریحہ کو دیکھ رہا تھا۔
’’بنٹی… یہ تمہاری مما نہیں ہے۔ اس نے ہمارے ڈیڈ کو مارا ہے۔‘‘ فریحہ نے کہا تو بنٹی اور زور سے چلایا۔
’’ڈیڈ کو انہوں نے نہیں آپ نے مارا ہے۔ آپ جائیں یہاں سے۔ آئی ہیٹ یو۔‘‘
’’یہ پاگل ہوگیا ہے تم چلو فریحہ۔‘‘ خان جمشید غصے سے کہتا فریحہ کو لے کر چلا گیا تو اس نے بنٹی کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے وہ رونا نہیں چاہتی تھی لیکن سماعتوں پر ہونے والی دستک نے رلادیا تھا۔
’’تم کبھی بے سائبان نہیں ہوگی صبا۔ میں رہوں یا نہ رہوں۔‘‘
ژ…ژ…ژ…ژ
محسن کو مسلسل یہ احساس کچوکے لگتا کہ وہ احسن اور نشا کی محبت کا مجرم ہے۔ لاکھ نشا نے قسمیں کھائیں کہ اس کے لیے گزری باتوں کی کوئی اہمیت نہیں اور یہ نہیں تھا کہ وہ نشا کا یقین نہیں کررہا تھا یقین کرنے کے باوجود اس کے اندر سے احساس جرم جاتا نہیں تھا۔ شاید اس لیے کہ ایک تو وہ بہت حساس تھا دوسرے نشا سے اس کی محبت عشق کی انتہائوں کو چھونے لگی تھی وہ جو ٹوٹا ہوا اور خود سے عاجز انسان تھا محبت کا احساس ملتے ہی برسہا برس جینے کی تمنا کرنے لگا تھا‘ اسے یہی بتایا گیا تھا کہ نشا اس سے محبت کرتی ہے اور اب وہ یہ سوچتا کہ آخر اس کے پیچھے کیا راز ہے کیوں اس سے غلط بیانی کی گئی اور اس کا سارا نزلہ نشا پر گرتا تھا کہ اس نے اسے اس وقت آگاہ کیوں نہیں کیا جب اس کے ساتھ زبردستی ہوئی یا اسے مجبور کیا گیا تھا۔ وہ مجبوراً اس کی زندگی میں آئی اور اسے خبر تک نہیں ہوئی الٹا خود فہم ہوگیا اور اس خوش فہمی نے اسے کہیں کا نہیں رکھا تھا۔ محبت کا روگ ہی ایسا تھا جس نے اسے شکی بنادیا تھا۔
نشا کہاں ہے۔ کیا کررہی ہے اور خصوصاً احسن سے بات کرتے ہوئے اس کا چہرہ کیا بتاتا ہے۔ وہ اپنی باتوں میں الجھ کر خود اذیتی کا شکار ہوگیا تھا۔ نشا کو ٹارچر کرتا اور اس کے بعد خود بھی چین سے نہیں رہتا تھا۔ اس کی پریشانیاں خود ساختہ تھیں اور وہ ان سے فرار کی سوچنے لگا تھا کہ اچانک صبا کے ساتھ ہونے والے سانحے نے سب کو ہلا کر رکھ دیا۔ کچھ بھی تھا وہ اس خاندان کی بیٹی تھی جسے تقدیر نے بیوگی کی چادر اوڑھا کر ٹوٹی کڑیاں پھر سے ملا دی تھیں۔ ان دنوں سب اپنا آپ بھولے ہوئے تھے وہ بھی سب بھلا کر نشا کے ساتھ صرف صبا کی باتیں کرتا اور روزانہ اسے صبا کے گھر لے جاتا پھر جیسا کہ وقت بڑا مرہم ہے زخم بھرے نہیں تو کھرنڈ ضرور جم گئی۔ ایک ٹھہرائو سا آتے ہی وہ پھر اپنی باتوں میں الجھ کر ساجدہ بیگم کے پاس آبیٹھا تھا۔
’’امی آپ تو ماں ہیں۔ ضرور جانتی ہوں گی کہ احسن بھائی اور نشا ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے پھر شادی کے لیے آپ نے میرا پیغام کیوں دیا تھا۔‘‘ ساجدہ بیگم ایک دم سناٹے میں آگئیں غالباً توقع نہیں تھی کہ وہ براہ راست ان سے سوال کرے گا۔
’’بتائیں نا امی؟‘‘ اس نے ان کا بازو ہلا کر اصرارکیا تو وہ چونک کر بولیں۔
’’یہ… یہ تم کیا کہہ رہے ہو بیٹا۔‘‘
’’آپ اچھی طرح سمجھ رہی ہیں میں کیا کہہ رہا ہوں۔‘‘ وہ بہت سادہ تھا۔ ساجدہ بیگم نظریں چرا گئیں۔
’’تم سے نشا نے کچھ کہا؟‘‘
’’نہیں… نشا نے اس زیادتی پر پہلے آواز نہیں اٹھائی تھی تو اب کیا کہے گی۔‘‘ وہ پھر نشا کا دفاع کررہا تھا۔
’’پھر تم کیوں…‘‘
’’کیونکہ مجھے اب پتا چلا ہے۔‘‘ وہ فوراً بولا۔ ’’مجھ سے جھوٹ بولا گیا تھا کہ نشا مجھے پسند کرتی ہے جب کہ وہ مجھ سے شادی پر راضی ہی نہیں تھی۔‘‘
’’راضی نہ ہوتی تو تمہاری دلہن کیسے بنی اور اب جب احسن بھی بیوی والا ہوگیا ہے تم کیوں ایسی باتیں کررہے ہو۔ اگر تانیہ کو بھنک پڑ گئی تو اپنے ساتھ تم احسن کا گھر بھی خراب کروگے۔‘‘ ساجدہ بیگم نے ناراضگی سے ٹوک کر کہا۔
’’نہیں کروں گا میں ایسی باتیں اگر آپ مجھے سچ بتا دیں۔‘‘ وہ دل گرفتہ سا قدرے ضد سے بولا۔
’’کیسا سچ؟‘‘ ساجدہ بیگم اندر سے خائف سہی لیکن پیشانی پر بل پڑ گئے تھے۔
’’نشا کے ساتھ زیادتی کیوں کی گئی؟‘‘
’’کوئی زیادتی نہیں ہوئی وہ خوش ہے تمہارے ساتھ۔ تم خوامخواہ اس کی طرف سے دل برا مت کرو۔ پھر خود سوچو ہم کیسے اس کے ساتھ زیادتی کرسکتے ہیں وہ کوئی غیر نہیں میری آغوش میں پلی بڑھی ہے کسی طرح مجھے اپنی اولاد سے کم عزیز نہیں۔‘‘ ساجدہ بیگم کسی طرح ماننے کو تیار نہیں تھیں۔
’’یہی تو دکھ ہے آپ نے اپنی اولاد کے ساتھ…‘‘ وہ اٹھ کھڑا ہوا۔ ساجدہ بیگم اس کا ہاتھ کھینچ کر بولیں۔
’’کیا… کیا اولاد کے ساتھ بھلائی ہی سوچی تھی۔‘‘
’’ہاں اپنی اولاد کی بھلائی سوچتے ہوئے نشا کو نظر انداز کر گئیں۔ اس خود غرضی پر آپ کا ضمیر آپ کو ملامت نہیں کرتا؟‘‘ وہ تاسف سے پوچھ رہا تھا۔ ساجدہ بیگم کو غصہ آگیا۔
’’تم حد سے بڑھ رہے ہو مونی۔ ہم نے کچھ ایسا غلط نہیں کیا جس کے لیے تم آپے سے باہر ہورہے ہو اور یہ ساری باتیں تمہیں اب کیوں سوجھ رہی ہیں کہ نشا کے ساتھ زبردستی ہوئی یا ہم نے اس کے ساتھ زیادتی کی۔ بلائو نشا کو میں اس سے پوچھتی ہوں۔‘‘
’’نشا سے کچھ پوچھنے کی ضرورت نہیں۔‘‘ وہ کہہ کر تیز قدموں سے باہر نکل آگیا۔ اسے نہیں پتا تھا وہ کہاں جارہا ہے بس چلتا چلا جارہا تھا۔ پھر روڈ کراس کرتے ہوئے بھی اسے اپنا ہوش نہیں تھا جب اس کے قریب گاڑی کے بریک چرچرائے تب اس کے قدم جیسے زمین نے جکڑ لیے تھے۔
’’ارے ادھر جائو یا ادھر یا سیدھے اوپر جانا ہے۔‘‘ شیشے میں سے سر نکال کر ایک لڑکی اس سے مخاطب تھی۔ اسے کچھ سمجھ نہیں آیا نہ ہی وہ اپنی جگہ سے ہل سکا۔ تب وہ لڑکی گاڑی سے اتر کر اس کے پاس آئی۔ سرتا پائوں اسے دیکھا اور جانے کیا سمجھی اس کا ہاتھ پکڑ کر کھینچتے ہوئے گاڑی میں لابٹھایا پھر ڈرائیونگ پر آکر بیٹھی اور گاڑی آگے بڑھاتے ہوئے کہنے لگی۔
’’میرانام کندن ہے۔ سنا ہے سونا آگ میں تپ کر کندن بنتا ہے۔ لیکن مجھے آگ سے بہت ڈر لگتا ہے کیا تم بتاسکتے ہو کہ میں آگ سے گزرے بنا کندن کیسے بن سکتی ہوں۔‘‘ وہ خاک سمجھتا‘ سنتا تو سمجھتا کہ وہ کیا کہہ رہی ہے وہ تو اپنی آگ میں جل رہا تھا۔
’’ویسے مزے کی بات بتائوں مجھے پتا ہی نہیں کہ کندن ہے کیا بلا۔ بس اس محاورے سے کہ سونا آگ میں تپ کر کندن بنتا ہے‘ میں نے سمجھ لیا کہ یہ کوئی دھات ہے جو سونے سے زیادہ قیمتی ہوگی۔‘‘ وہ کہہ کر خود ہی ہنسی۔ پھر اسے دیکھ کر بولی۔
’’ارے میں نے تمہارا نام تو پوچھا ہی نہیں۔ کیا نام ہے تمہارا؟‘‘ وہ جو اس کی ہنسی سے متوجہ ہوا تھا بے اختیار بولا۔
’’محسن۔‘‘
’’محسن اچھا نام ہے۔ تمہارے گھر والے تمہیں پیار سے مونی پکارتے ہوں گے۔‘‘ وہ پتا نہیں باتونی تھی یا اس وقت موڈ میں تھی محسن نے صرف سر ہلانے پر اکتفا کیا۔
’’واہ۔‘‘ اپنے درست قیاس پر میں خود کو شاباش دیتی ہوں اس نے خود ہی اپنا کندھا تھپکا پھر پوچھنے لگی۔
’’مزید قیاس کروں؟‘‘ وہ خاموشی سے اسے دیکھنے لگا تو کندھے اچکا کر بولی۔
’’چلو پھر سہی ابھی تو گھر آگیا۔‘‘ اس نے ہارن بجایا اور گیٹ کھلنے پر گاڑی اندر لے جا کر روکی تب وہ ادھر ادھر دیکھ کر حیرت سے بولا۔
’’یہ… یہ آپ مجھے کہاں لے آئیں؟‘‘
’’اپنے گھر۔ چلو اترو۔ چائے پئیں گے۔ تھوڑی باتیں کریں گے پھر کہو گے تو میں تمہیں تمہارے گھر چھوڑ آئوں گی۔‘‘ وہ کہہ کر اتر گئی تو ناچار وہ بھی اتر کر اس کے پیچھے چل پڑا۔
ژ…ژ…ژ…ژ
’’ہائے بچی کی کتنی سی شکل نکل آئی ہے۔ بیٹا اللہ کی مرضی۔ بندہ تو بے بس ہے تم صبرو کرو۔ اب صبر کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں۔‘‘ راحیلہ خاتون باربار صبا کا منہ پکڑ کر ایسی ہی باتیں کیے جارہی تھیں۔
’’اتنا بڑا گھر کیسے بھائیں بھائیں کررہا ہے۔ ساس نندیں بھی ہوتیں تو کچھ سہارا ہوجاتا۔ اب اکیلی کیسے رہے گی۔ ثریا تم تو اب اس کے پاس رہوگی ناں؟‘‘ راحیلہ خاتون نے آخر میں ثریا کو مخاطب کرکے پوچھا تو وہ جزبز ہوکر بولی۔
’’اس کی عدت ختم ہونے تک تو مجھے اس کے پاس رہنا ہی پڑے گا بھابی۔ پھر اپنے ساتھ لے جائوں گی؟‘‘ راحیلہ خاتون جانے کس کھوج میں تھیں صبا اٹھ کر چلی گئی ثریا نے اسے جاتے ہوئے دیکھا پھر کہنے لگی۔
’’میں تو کہتی ہوں صبا سے کہ وہ میرے ساتھ چلے مجھے بیٹی کے گھر رہنا اچھا نہیں لگتا لیکن وہ نہیں مانتی۔‘‘
’’تو یہاں اکیلی کیسے رہے گی۔ خان جنید کی بڑی اولادیں بھی تو ہیں۔ وہ اعتراض نہیں کریں گی کیا؟‘‘
’’نہیں ان کا یہاں کوئی دخل نہیں ہے۔ یہ بنگلہ بھی صبا کے نام ہے۔‘‘ ثریا سادگی میں بتارہی تھی۔ ’’خان جنید وصیت کر گئے ہیں کہ صبا کو یہاں سے کوئی بے دخل نہیں کرسکتا۔‘‘
’’اچھا…‘‘ راحیلہ خاتون کی آنکھیں پھٹ گئیں۔ ’’اور کیا کچھ صبا کے نام کر گئے ہیں؟‘‘
’’پتا نہیں بھابی۔ میں نے پوچھا نہیں۔‘‘
’’چلو سر چھپانے کا ٹھکانا تو دے گئے ہیں یہ بھی بہت ہے اور ہاں ان کا ایک معذور لڑکا بھی تو تھا وہ کہاں گیا؟‘‘ راحیلہ خاتون کو اچانک بنٹی یاد آیا۔
’’وہ یہیں ہے صبا کے ساتھ۔ اس کی وجہ سے بھی صبا یہاں سے جانا نہیں چاہتی۔‘‘ ثریا نے بتایا تو راحیلہ خاتون ناگواری سے بولیں۔
’’لو… وہ کوئی چھوٹا بچہ تو نہیں ہے۔ پھر اس کے اپنے بہن بھائی موجود ہیں ان کے پاس جارہے۔ صبا کیوں یہ مصیبت اپنے گلے میں ڈال رہی ہے۔‘‘
’’ایسا نہ کہیں بھابی۔ بنٹی صبا سے بہت مانوس ہے۔ بیچارے کی پہلے ماں نہیں تھی اور اب تو باپ بھی نہیں رہا۔ بڑے بہن بھائی اپنے بال بچوں والے ہیں اس کا کیا خیال کریں گے۔‘‘ ثریا کی خدا ترسی دیکھتے ہوئے راحیلہ خاتون نے اس وقت مزید کچھ کہنے کا ارادہ ترک کردیا۔ پھر قدرے توقف سے کہنے لگیں۔
’’میں نے نگار کی شادی طے کردی ہے اب سوچ رہی ہوں تاریخ آگے بڑھا دوں۔‘‘
’’کیوں؟‘‘ ثریا کے منہ سے بلا ارادہ ہی نکلا۔
’’صبا جو عدت میں بیٹھی ہے۔ اب اچھا تو نہیں لگتا یہاں اتنا بڑا سانحہ ہوگیا اور ہم خوشیاں منائیں۔ اللہ صبا کو صبر دے میں تو گھر میں بھی ہر وقت اس کے بارے میں سوچتی رہتی ہوں۔ ابھی بچی کی عمر ہی کیا ہے۔ آگے پہاڑ سی زندگی‘ اللہ ایسا وقت کسی کو نہ دکھائے۔‘‘ راحیلہ خاتون رقت سے بول رہی تھیں۔ ثریا کے آنسو جھلک گئے۔
’’تمہاری بھی کیا قسمت ہے ثریا‘ شوہر کے ہوتے ہوئے اس کا ساتھ نصیب نہ ہوا اور بیٹی کو اللہ نے محروم کردیا۔ بس اللہ کے کام وہی جانے۔‘‘ راحیلہ خاتون مزید ثریا کو محرومی کا احساس دلا کر اٹھ کھڑی ہوئی۔
’’اللہ تم ماں بیٹی کو ہمت حوصلہ دے۔ کبھی کسی کام کے لیے ضرورت پڑے تو بلا جھجک کہہ دینا۔ اپنے ہی اپنوں کے کام آتے ہیں میں تو جاذب سے کہتی رہتی ہوں کہ تمہارے پاس چکر لگا لیا کرے ابھی پتا نہیں کس کام میں پھنسا ہے میں نے کہا بھی تھا مجھے لینے آجائے لیکن…‘‘
’’تو آپ کیسے جائیں گی بھابی؟‘‘ ثریا نے احساس کرکے پوچھا۔
’’چلی جائوں گی رکشہ سے۔‘‘
’’ارے نہیں بھابی۔ چلیں میں ڈرائیور سے کہتی ہوں آپ کو چھوڑ آئے گا۔‘‘ ثریا ان کے ساتھ باہر تک آئی۔ راحیلہ خاتون نے مروتاً بھی منع نہیں کیا دھڑلے سے گاڑی میں بیٹھ گئی تھیں۔ پھر تمام راستہ ان کے ذہن میں کھچڑی پکتی رہی اور گھر آتے ہی جاذب پر چڑھ دوڑیں۔
’’تم یہیں بیٹھے ماتم کرتے رہو۔ یہ نہیں کہ جا کر اس کا غم بٹائو۔ بے چاری بالکل نڈھال ہوگئی ہے۔ ارے یہی تو وقت ہوتا ہے بندے کو سہارا چاہئے ہوتا ہے۔ یہاں تو بہت پھوپو کے آگے پیچھے پھرتے تھے اب تمہیں کوئی خیال نہیں۔ بیٹی کے غم نے ادھورا کردیا ہے اسے۔‘‘ جاذب حیرت اور غیر یقینی سے ماں کو دیکھے جارہا تھا۔
’’نگار کو بھی ساتھ لے جانا۔ صبا کا دل بہل جائے گا۔‘‘ راحیلہ خاتون مزید آرڈر جاری کرکے کمرے سے نکل گئیں۔
ژ…ژ…ژ…ژ
نشا نے رات کا کھانا پکایا پھر اپنے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے بولی تھی۔
’’مونی چلیں کھانا لگ رہا ہے۔‘‘ محسن کمرے میں نہیں تھا۔ اس نے ادھر ادھر دیکھا واش روم چیک کیا پھر ساجدہ بیگم کے پاس آکر پوچھنے لگی۔
’’تائی امی محسن کہاں ہیں؟‘‘
’’ابھی تو یہیں تھا کمرے میں ہوگا۔‘‘ ساجدہ بیگم نے سرسری انداز میں جواب دیا۔
’’کمرے میں تو نہیں ہیں۔‘‘ وہ کہتے ہوئے واپس پلٹی اور سارے گھر میں دیکھنے کے بعد اپنے کمرے میں آکر سیل فون اٹھایا اور محسن کو کال ملائی تو سائیڈ کارنر پر رکھا محسن کا سیل فون بجنے لگا۔
’’موبائل تو یہیں ہے۔‘‘ زیر لب بڑبڑاتے ہوئے وہ سیل فون رکھ کر کمرے سے نکلی تو احسن اور تانیہ کو ڈائننگ کی طرف جاتے دیکھ کر تقریباً بھاگتے ہوئے ان کے پاس آئی۔
’’احسن بھائی… مونی کو دیکھا ہے آپ نے میرا مطلب ہے وہ پتا نہیں کہاں گئے ہیں۔ بتا کر بھی نہیں گئے۔‘‘
’’تو اس میں پریشانی کی کیا بات ہے کہیں بھی گیا ہے آجائے گا۔‘‘ احسن نے دھیرج سے رک کر کہا۔
’’تم اسے فون کرلو۔‘‘ تانیہ نے کہا تو وہ روہانسی ہوکر بولی۔
’’ان کا سیل فون یہیں رکھا ہے۔‘‘
’’ارے تم تو رونے لگیں۔ بے وقوف مونی کوئی بچہ ہے جو کھوجائے گا۔‘‘ احسن نے ہلکے پھلکے انداز میں اس کا مذاق اڑایا پھر تانیہ کو اشارا کیا تو وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر ڈائننگ روم میں لے آئی۔ جہاں ساجدہ بیگم اور جلال احمد ان کے انتظار میں بیٹھے تھے۔
’’آئو بچو… کھانے کو انتظار نہیں کرواتے۔‘‘ جلال احمد نے کہتے ہوئے سالن کی ڈش اٹھائی۔ اپنی پلیٹ میں سالن نکالا پھر سب کو دیکھتے ہوئے محسن نظر نہیں آیا تو پوچھنے لگے۔
’’مونی کہاں ہے کھانا نہیں کھائے گا؟‘‘
’’مونی کہیں باہر گیا ہے ابو۔‘‘ احسن نے بتایا تو وہ نشا کو دیکھ کر پوچھنے لگے۔
’’باہر کہاں؟‘‘
’’پتا نہیں‘ تایا ابو! مجھے بتا کر نہیں گئے۔ ان کا سیل فون بھی کمرے میں رکھا ہے۔‘‘ اس کی پریشانی بجا تھی کیونکہ محسن بتائے بغیر کبھی کہیں نہیں گیا تھا۔
’’تو یہیں کہیں قریب گیا ہوگا آجائے گا۔ تم کھانا کھائو۔‘‘ جلال احمد نے کہہ کر باقی سب کو کھانے کی طرف متوجہ کیا اور خود کھانا شروع کردیا۔ نشا نے ایک نظر سب کو دیکھا پھر اٹھ کھڑی ہوئی۔
’’میں محسن کے ساتھ کھائوں گی۔‘‘ وہ کہہ کر ڈائننگ روم سے نکل کر اپنے کمرے میں آگئی اور بے مقصد کبھی الماری کھولتی کبھی درازوںکی تلاشی لیتی۔ خود اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا تلاش کررہی ہے۔ پھر وہ محسن کا سیل فون چیک کررہی تھی کہ دروازے پر دستک دے کر احسن اندر آگئے۔
’’احسن بھائی مونی کو بتا کر جانا چاہئے تھا۔‘‘ وہ انہیں دیکھتے ہی بولی۔
’’ہوں…‘‘ ان کا انداز سوچتا ہوا تھا پھر اسے دیکھ کر پوچھنے لگے۔ ’’کوئی بات ہوئی تھی آئی مین لڑائی جھگڑا۔‘‘
’’جھگڑتے تو روز ہی ہیں وہ لیکن ناراض نہیں ہوتے اور آج تو ایسی کوئی بات نہیں ہوئی۔‘‘ وہ ابھی بھی رو دینے کو ہورہی تھی۔
’’جب کوئی بات نہیں ہوئی تو تم کیوں محسوس کررہی ہو۔ میرے خیال میں تو یہ اچھی بات ہے کی مونی کہیں آنے جانے لگا ہے اس معاملے میں تمہیں اس کی حوصلہ افزائی کرنی چاہئے نہ کہ پریشان ہوجائو۔‘‘ احسن نے سمجھایا تو وہ جزبز ہوکر بولی۔
’’آپ کو نہیں پتا۔‘‘
’’کیا نہیں پتا بتائو مجھے کیا نہیں پتا؟‘‘ ان کے ٹوکنے پر وہ کوئی بات بتانا چاہتی تھی کہ تانیہ چائے لے کر آگئی اور ٹرے اس کے سامنے رکھ کر کہنے لگی۔
’’تم ناحق پریشان ہورہی ہو ابھی امی بتا رہی ہیں کہ مونی ان سے کہہ کر گیا تھا کہ کسی دوست کے ہاں جارہا ہے دیر سے آئے گا۔‘‘
’’کیا…‘‘ وہ حیران ہوئی۔ تائی امی نے مجھے تو نہیں بتایا۔
’’بھول گئی تھیں ابھی انہیں یاد آیا۔ چلو تم چائے پیو یا پہلے کھانا کھائو گی تو لے آئوں؟‘‘ تانیہ نے اس کی حیرت کو یکسر نظر انداز کیا۔
’’نہیں…‘‘ اس نے چائے کا کپ اٹھالیا۔ اس کا ذہن الجھ گیا تھا۔
احسن اور تانیہ چائے پینے تک اس کے پاس بیٹھے ادھر ادھر کی باتیں کرتے رہے پھر اپنے کمرے میں چلے گئے تو کچھ دیر کو جو اس کا دھیان بٹ گیا تھا تنہا ہوتے ہی پھر محسن کو سوچتے ہوئے اس کی نظریں کلاک پر جا ٹہریں۔ رات کے گیارہ بج رہے تھے۔
(ان شاء اللہ باقی آئندہ ماہ)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close