Aanchal Mar 16

موم کی محبت(قسط نمبر20)

راحت وفا

تو نے دیکھا ہے کبھی صحرا میں جھلستا ہوا پیڑ
اس طرح جیتے ہیں وفائوں کو نبھانے والے
کوئی دیکھے تو سہی ان کی صبحوں کو محسن
کتنا روئے ہیں لوگوں کو ہنسانے والے

(گزشتہ قسط کا خلاصہ)
آغاجی حالات سے مایوس ہوکر ابدی نیند سو جاتے ہیں‘ شرمین کو صفدر اس خبر سے آگاہ کرتا ہے تو وہ خود کو آغاجی کی موت کا ذمہ دار سمجھنے لگتی ہے۔ شرمین سوچتی ہے کہ اگر وہ آغاجی کی آخری خواہش مان لیتی اور عارض سے شادی کرلیتی تو شاید آغاجی کی موت واقع نہ ہوتی۔ شرمین اذان کو اسکول چھوڑتی آغاجی کا افسوس کرنے عارض کے پاس آتی ہے تو وہ سرد مہری سے ملتا ہے۔ زیبا کو بیٹے کی جدائی نے اس قدر بے قرار کیا کہ وہ سب کچھ بھول کر دوبارہ صفدر کے گھر آجاتی ہے لیکن جہاں آرا بیگم اسے پہلے صفدر سے بات کرنے کا کہتی ہیں اور بچے کو تب تک دیکھنے سے منع کردیتی ہیں۔ آغاجی کی جدائی کا اثر عارض پر کچھ زیادہ ہی ہوتا ہے۔ آغاجی صرف اس کے والد ہی نہیں بلکہ بہترین دوست بھی تھے۔ ان کی وفات کے بعد عارض کھانا پینا بھی چھوڑ دیتا ہے صفدر کی منت سماجت پر بھی عارض اپنے کمرے سے باہر نہیں نکلتا تب مجبوراً صفدر شرمین کو بلاتا ہے۔ شرمین زینت آپا اور صفدر کے مجبور کرنے پر اذان کو اسکول سے لے کر عارض کے پاس آتی ہے لیکن عارض اسے اپنے عتاب کا شکار بناتا وہاں سے نکل جانے کو کہتا ہے شرمین اپنی توہین برداشت نہیں کر پاتی اور صفدر کو دوبارہ آنے سے منع کرتی گھر آجاتی ہے۔ صبیح احمد کی بہنیں اب صبیح احمد کی جائیداد پر قبضہ کرنے کے ترکیبیں سوچتی ہیں کشف اور نگہت (صبیح احمد کی بہنیں) کو شرمین پر شک ہے کہ اذان اس کے پاس ہے اور صبیح احمد نے اپنی جائیداد شرمین اور اذان کے نام کی ہے اس لیے دونوں بہنیں شرمین کی غیر موجودگی میں اس کے گھر پہنچ کر اذان سے ملتی ہیں۔ عارض غصہ میں صفدر پر چیختا ہے اور اسے غیرذمہ دار اور خود غرض کہتا ہے جبکہ صفدر بھی بدلے میں چپ نہیں رہتا اور عارض کو زیبا کا گناہ گار کہتا گھر سے نکل جاتا ہے۔ عارض حیرت سے اس کی کہی گئی بات کو سوچتا ہے لیکن اسے اپنا گناہ نظر نہیں آتا۔ شرمین کو ڈر ہے کہ کہیں صبیح احمد کی بہنیں اذان کو اس سے چھین نا لیں اس لیے وہ کرائے دار کو شہر سے باہر جانے کا کہہ کر اذان کو لے کر عارض کے گھر آجاتی ہے۔
(اب آگے پڑھیں)
ؤ…ؤ…ؤ…ؤ
کمرے میں گھپ اندھیرا تھا۔ شرمین نے لائٹ آن کی تو کچھ دیکھنے کے قابل ماحول بنا۔ اس نے آنکھوں پر سے ہاتھ ہٹایا اور خونخوار نظروں سے دیکھتے ہوئے چلایا۔
’’کیوں آئی ہو؟ میں نے دھکے دے دیئے ہیں صفدر کو اور تم بھی‘ نکلو۔ میں غنڈہ، موالی، زانی، شرابی ہوں تمھاری نظروں میں، تو کیوں آتے ہو میرے پاس؟‘‘ وہ ایک سانس میں بولتا چلا گیا… شرمین کو تعجب سا ہوا، اس کی ذہنی حالت اور جسمانی حالت دونوں ہی بہت خراب تھیں۔ اس نے فرش پر پڑے کپڑے سمیٹنے کی کوشش کی تو وہ چیتے کی سی پھرتی سے اس پر جھپٹا۔
’’سنا نہیں تم نے، میں کیا کہہ رہا ہوں؟ صفدر کی بیوی کا گناہ گار ہوں میں۔‘‘ وہ اس کے کان کے قریب جذباتی انداز میں چیخا… تو اس کے دل کو جھٹکا سا لگا۔
’’کیا مطلب…؟‘‘
’’میں عارض! میں صفدر کی بیوی کا مجرم ہوں، میں نے ریپ کیا ہے؟ اب تم بھی بچو مجھ سے۔‘‘ وہ بالکل دیوانوں کی طرح بول رہا تھا۔ شرمین کی سمجھ سے بالاتر تھا۔
’’یہ کس نے کہا؟‘‘
’’تمھارے صفدر بھائی نے۔‘‘ وہ طنزیہ ہنسا۔
’’صفدر بھائی نے کہا تو…‘‘
’’تو ٹھیک کہا ہے نا۔ ہاں اب تم ٹھیک سمجھو، جاؤ یہاں سے کہیں میں تمھارے ساتھ بھی بھابی جیسا سلوک نہ کردوں۔‘‘ وہ اسے دھکیلنے لگا۔
’’یہ کیسے ممکن ہے؟‘‘
’’صفدر نے کہہ دیا تو ممکن ہے۔‘‘
’’اچھا! ریلیکس! میں صفدر بھائی سے پوچھتی ہوں۔‘‘ اس نے نرمی سے کہا تو وہ ہتھے سے اکھڑ گیا۔
’’مجھے کسی کی پوچھ گچھ کی ضرورت نہیں‘ مجھے تنہا چھوڑدو۔‘‘
’’جذباتی ہونا ظاہر کرتا ہے کہ انسان فہم سے کام نہیں لے رہا۔‘‘ اس نے کہا۔
’’میں تو درندہ ہوں۔‘‘
’’درندہ ہونے میں دیر ہی کتنی لگتی ہے؟‘‘
’’تو سمجھ لو اور مجھے چھوڑ کے چلی جائو۔‘‘ وہ بولا۔
’’دیکھو! مجھ پر چلانے کی ضرورت نہیں‘ میں صرف انسانی ہمدردی کے تحت آئی ہوں‘ اور بس۔‘‘ شرمین کو غصہ آگیا۔
’’کیوں؟‘‘
’’کیا… کیوں؟ میرا خیال ہے تمہیں کچھ کھانا چاہیے‘ میں لاتی ہوں۔‘‘ شرمین نے کہا لیکن وہ پاگل سا ہوگیا۔
’’کچھ نہیں چاہیے‘ جائو تم نکلو‘ صفدر کی بیوی کے مجرم سے بچو۔‘‘ وہ اٹھا اور اسے دھکے دینے لگا۔
شرمین کے پاس کوئی علاج نہیں رہا‘ وہ بری طرح دھکیل رہا تھا تو جانے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔
’’تو تم فرار چاہتے ہو۔‘‘ اس نے رک کر پوچھا۔
’’نہیں… میں تو اعتراف کررہا ہوں‘ میں مجرم ہوں‘ صفدر نے یہی کہا ہے۔‘‘
’’اگر نہیں تھے تو انکار کردیتے۔‘‘
’’میں ہوں‘ بس ہوں۔‘‘ اس نے بڑی بدتمیزی سے کہا اور پھر جیسے نڈھال ہو کر گر گیا۔
’’صفدر بھائی کم عقل ہیں نہ تمہارے دشمن‘ معاملہ کیا ہے؟‘‘ وہ یہ کہہ کر دروازے کی طرف بڑھی تو اس نے غصے سے کہا۔
’’سب میرے دشمن ہیں‘ میرا دوست مجھے مجرم بنا گیا‘ اور تم… تم تو ہو ہی اس صبیح احمد کی‘ جو تمہاری فوٹو بٹوے میں لیے پھرتا ہے‘ تمہیں اس کی محبت میں‘ میں کہاں نظر آئوں گا۔‘‘ وہ بولتا چلا گیا۔
’’کیا کہا؟ اول فول بکتے ہوئے شرم نہیں آتی۔‘‘ شرمین کے دماغ میں ایک ساتھ کئی بارودی سرنگیں پھٹیں۔
’’ٹھیک کہا‘ جائو اپنے صبیح احمد کے پاس ارے اسی کی وجہ سے تو میں نے اپنی محبت قربان کی تھی۔‘‘ حادثات اور صدمات نے عارض کی ذہنی حالت کو خاصا متاثر کیا تھا۔ شرمین ہکا بکا سی اس کی طرف بڑھی اور خود بھی نیم دیوانگی کی حالت میں بولی۔
’’کیا جانتے ہو تم صبیح احمد کے متعلق… بولو کتنا جانتے ہو؟‘‘
’’جس کی تم محبت ہو‘ زندگی ہو‘ اسے اور کیا جانوں؟‘‘ وہ طنزیہ بولا۔
’’شٹ اپ۔‘‘ وہ غصے میں کہہ کر کمرے سے باہر نکل گئی۔ آج بوتل سے جن اور پٹاری سے سانپ باہر نکلا تھا۔ شرمین غم وغصے کی حالت میں واپس آگئی۔ وہ غبار نکال کے جیسے بے دم ہوکر بیڈ پر گر گیا۔
وہ اذان کو لے کر زینت آپا کی طرف آئی تھی۔ بابا کو بہت خوشی ہوئی۔ زینت بیگم کے ملک سے باہر جانے کے بعد پوری کوٹھی پر اداسی سی طاری تھی۔ اسے اور اذان کو دیکھ کر وہ کھل اٹھے‘ کمرہ کھولا۔ جلدی جلدی کھانے کے انتظام میں لگ گئے۔ اذان ٹی وی کے سامنے بیٹھ گیا اور وہ شال کندھوں پر پھیلا کر باہر لان میں آگئی اسے بہت عجیب سا لگ رہا تھا کبھی اپنے لیے چھت کی تلاش اور اب اذان کے لیے یہاں آنا خود غرضی بھی تھی اور مجبوری بھی۔ اذان کی خبر کشف کو مل گئی تھی اور نگہت آپا کی فطرت حرص وہوس سے گندھی تھی‘ وہ اذان کی بھنک پاکر اس کو لینا چاہیں گی‘ اذان کے ساتھ صبیح احمد کی چھوڑی دولت کے لیے تو وہ ہر قیمت پر اذان کو لے جانا اپنا حق سمجھیں گی۔ اس کے لیے ایک نئے طوفان کا سامنا تیار تھا۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ اذان کو باپ کے مرنے کا پتا چلتا اور پھر یہ ستم بالائے ستم کہ وہ اس کی منہ بولی ماما تھی‘ یہ جان کر اس کے ننھے اور معصوم ذہن پر برا اثر ہی نہیں اس کے لیے نفرت پیدا ہوسکتی ہے۔ مگر یہ تلخ حقیقت کب تک چھپائی جاسکتی تھی؟ ایک بوجھ کندھوں سے اترتا نہیں کہ دوسرا لدھ جاتا۔ عارض بالکل نئے روپ میں نفسیاتی مریض بن گیا تھا‘ جو صفدر بھائی کے لیے اس نے کہا تھا وہ یقین کرنے کے قابل نہیں تھا جانے کیا سے کیا کہہ کر اسے نکالا تھا۔ اسے فکر بھی ہورہی تھی۔ لیکن کر کیا سکتی تھی؟ وہ تو کھانا پینا چھوڑ کے اپنے آپ سے گویا انتقام لے رہا تھا۔ اس کی بدنصیبی یہ تھی کہ رشتے اس کے ہاتھوں سے خشک ریت کی مانند نکل جاتے تھے۔ محبت کے پنکھ لگا کر لوگ اس کی زندگی میں آتے ضرور تھے‘ لیکن زیادہ دیر ٹھہرتے نہیں تھے۔ پھر تتلیوں کے رنگ کی مانند ہاتھوں میں رہ جاتے۔ اس کی زندگی عجب دوراہے پر آکھڑی ہوئی تھی‘ عارض کا ساتھ سوچنا چاہا بھی تو کوئی صورت نظر نہیں آرہی تھی۔ وہ اس کے بقول اگر اس قدر گرا ہوا تھا تو اس کے بارے میں کوئی اچھی رائے نہیں ہوسکتی‘ اور فرض کرلیتی کہ عارض نے جذباتیت میں یہ سب کہا ہے‘ تو بھی اس کو واپس لانے کے لیے اسے خود کو نیچا دکھانے کی ضرورت تھی‘ دوسری طرف اذان کو زندگی کا مقصد بنایا تو وہ بھی اب لرزاں تھا‘ اذان کو کھونے کے تصور سے بھی اس کا دل تڑپ اٹھا اور آنکھوں میں دھواں سا بھر گیا۔ بابا نے اسے کھانا کھانے کے لیے آکر کہا تو وہ ان کے ساتھ اندر آگئی‘ کمرے میں ہی کھانا منگوالیا۔ اذان اسے دیکھتے ہی بولا۔
’’ماما! پھوپو کا فون آیا تھا‘ میں نے بتادیا آپ باہر ہیں۔‘‘
’’کیا… کون پھوپو؟‘‘ جان کر انجان بنتے ہوئے پریشانی سے پوچھا۔
’’پتا نہیں‘ کہہ رہی تھی میں آپ کی پھوپو بول رہی ہوں۔‘‘ اذان نے ہاتھ دھونے کی غرض سے واش روم کا رخ کیا۔ اور وہ فون چیک کرنے لگی‘ کشف کا نمبر ہی تھا۔
’’یااللہ! ہمیں اس کے شر سے بچا آمین۔‘‘ وہ بڑبڑائی۔
’’ماما! آپ نے تو ان کے بارے میں کبھی نہیں بتایا۔‘‘ اذان آکر کھانا کھاتے ہوئے بولا۔
’’آپ نے کچھ اور تو نہیں کہا۔‘‘
’’نہیں‘ میں نے کہا ہم نانو کے گھر ہیں۔‘‘ وہ معصومیت سے بولا۔
’’اوہ…! اور بھی بتا دینا تھا‘ بس آئندہ آپ میرا فون اٹینڈ نہیں کریں گے۔‘‘ اسے غصہ آگیا۔ اذان نے گردن ہلائی تو وہ کھانا پلیٹ میں ڈالے چپ چاپ بیٹھی رہی۔
ؤ…ؤ…ؤ…ؤ
اگلے دن اذان کو اسکول ڈراپ کرکے وہ اپنے آفس آگئی۔ ذہن میں اب صرف اذان ہی تھا۔ کوئی سرا ہاتھ نہیں آرہا تھا۔ زینت آپا کا فون آیا تو انہوں نے صبیح احمد کے وکیل ایم عالم صاحب سے مل کر مشورہ کرنے کا کہا تو اسے اچھا لگا۔ بات معقول تھی۔ زینت آپا کو شاید بابا نے رات وہاں رہنے کا بتایا تھا اس پر وہ خوش تھیں… مگر فون بند کرنے کے بعد دو گھنٹے گزر گئے تھے اس کا ذہن وہیں بھٹکا ہوا تھا۔ وکیل صاحب کو بھی ساری حقیقت بتائے بنا کوئی بات نہ بنتی… اور جاننے پر وہ جانے اس کے بارے میں صبیح احمد سے اس کے تعلقات کے بارے میں کیا رائے قائم کرتے… اور کیا سوچتے؟ اگر وہ کچھ ایسا ویسا سوچ لیں تو وہ تو زمین میں ہی گڑ جاتی۔
یہ وہ تلخ حقیقت تھی جس کا سامنا کرنا نا صرف مشکل تھا بلکہ تقریباً ناممکن بھی تھا… اس نے بھی کیسی قسمت پائی تھی بچپن سے جوانی تک صرف زندگی کو زندگی بنانے کے لیے پاپڑ ہی بیلے تھے۔ ایک سمندر کے بعد دوسرے سمندر سے گزرنا تھا۔ مگر فطرت نے اسے اتنا مضبوط اور توانا بنایا تھا کہ ہر بار وہ حوصلے اور ہمت سے نئے دکھ اور مصیبت کا سامنا کرتی۔ اللہ پر اس کا توکل اور یقین تھا کہ وہ گر کے سنبھل جائے گی۔ یہ وقت آزمائش کا ہے گزر ہی جائے گا۔ کچھ ضروری رپورٹس تیار کرنی تھیں۔ چند پروجیکٹس کی سمری چیک کرنی تھی۔ متعلقہ لوگ اس کے بلاوے کے منتظر تھے۔ خود کو پرسکون اللہ کی یاد سے کیا اور انہیں ترتیب کے مطابق بلایا۔ مس صنوبر جو ڈیٹا کلیکٹر تھی۔ اس کا جائزہ لینے کے بعد بڑے خلوص سے بولی۔
’’میڈم! آپ ٹینس ہیں‘ چہرہ کملایا ہوا ہے۔‘‘ وہ پھیکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولی۔
’’نہیں‘ بس طبیعت کچھ ٹھیک نہیں۔‘‘
’’آپ آف لے لیں۔‘‘ صنوبر نے مخلصانہ مشورہ دیا۔
’’نہیں‘ کچھ کام ابھی کرنے ہیں‘ تھینک یو۔‘‘ اس نے جواب دیا۔ صنوبر چلی گئی تو وہ پھر اسی نقطے پر سوچنے لگی۔ عارض اور اذان۔ جب ہی عارض کے گھر کے نمبر سے فون آنے لگا۔ اس نے ہاتھ بڑھاتے بڑھاتے فون نہ سننے کا ارادہ کرلیا۔ بڑی دیر تک وقفے وقفے سے بیل ہوتی رہی مگر اس نے دل کڑا کرکے فائل کھول لی اور اس کا جائزہ لینے لگی۔
ؤ…ؤ…ؤ…ؤ
لنچ لینے کے بعد وہ لابی سے نکل کر ہوٹل کے پرسکون سے گوشے میں آکر سگریٹ پیتے ہوئے عارض کے حوالے سے سوچ رہا تھا۔ جو کچھ عارض کو کہہ کر آیا تھا‘ اور جواب میں جس طرح کے ردعمل کا مظاہرہ عارض نے کیا تھا وہ صفدر کے لیے پریشان کن تھا۔ اس کا دل کبھی ملامت کرنے لگتا اور کبھی پرسکون ہونے کی ناکام کوشش کرنے لگتا۔ عارض کو اس مقام پر اس نے تنہا کردیا تھا۔
’’صفدر! کیا تمہیں یقین آگیا کہ عارض زیبا کا مجرم ہے؟ یا پھر تم نے جذبات کی رو میں عارض کو سب کچھ کہہ ڈالا۔ جانے وہ کس حال میں ہوگا؟ اپنے ساتھ تو وہ مسلسل ظلم روا رکھے ہوئے ہے‘ اور اب شاید اور زیادہ خود سے انتقام لے رہا ہو۔ یااللہ! میرے دل کو قرار کیوں نہیں؟ مجھے یقین کیوں نہیں آجاتا کہ میں نے ٹھیک کیا ہے‘ زیبا کو انصاف ملنا چاہیے‘ آخر وہ جانتے بوجھتے کیوں میری نفرت کی آگ میں جلتی رہے‘ اگر وہ یہ سمجھتی ہے کہ عارض نے اسے بے عزت کیا ہے تو عارض کو اس کا حساب دینا چاہیے۔ وہ معصوم ہے تو ثابت کرے۔‘‘ سگریٹ کا آخری کش لے کر اس نے سگریٹ کا آخری حصہ جوتے کی نوک سے مسلا اور دھواں فضائوں میں چھوڑ دیا۔
’’صفدر! اگر عارض معصوم ہوا تو پھر کس طرح اس کو منائوگے اور زیبا کے ساتھ کیا سلوک کرو گے؟‘‘ ذہن نے سوال پوچھے تو وہ الجھ سا گیا۔
’’شاید میں زیبا سے نفرت میں کچھ محبت کی آمیزش محسوس کرنے لگا ہوں۔ مکمل معاف تو کر ہی دوں گا‘ لیکن ذہن کو آسودہ کیسے کروں؟‘‘ اپنے آپ کو جواب دیا۔ موبائل فون بج اٹھا تو وہ چونکا۔
’’عارض کی طرف سے۔‘‘ نمبر دیکھتے ہوئے وہ بڑبڑایا۔ لینڈ لائن نمبر دیکھ کر فون اٹینڈ کیا۔
’’جی حاکم الدین۔‘‘ اس نے خود ہی سمجھ لیا کہ یہ ملازم خاص ہی ہوسکتا ہے۔
’’صفدر صاحب! چھوٹے صاحب رات سے گھر سے غائب ہیں۔ فون بھی بند ہے‘ سردی ہے شال‘ جیکٹ سب کمرے میں ہے۔‘‘ ملازم بہت فکر مند تھا۔
’’اور شرمین بی بی۔‘‘ وہ جلدی سے بولا۔
’’وہ تو نہیں ہیں‘ چھوٹے صاحب نے جھگڑا کیا تو وہ چلی گئیں۔‘‘
’’اوہ! میں دیکھتا ہوں۔‘‘ صفدر نے کہا اور فون کاٹ کر چند لمحے کچھ سوچا اور پھر عارض کا نمبر ملایا مگر نمبر آف تھا۔
وہ فکرمند سا ہوا‘ اس کا پیارا دوست کہاں ہوسکتا ہے؟ یہ بات بہت اہم تھی… دماغ چکرا سا گیا۔ پھر کچھ سوچ کر شرمین کا فون نمبر ملایا۔ بڑی دیر بیل جاتی رہی مگر فون ریسو نہ ہوا۔ اب دوسرا اس کے پاس کوئی حل نہیں تھا۔ عارض کو جو بھی کہا‘ جو بھی سمجھا‘ وہ الگ بات‘ اپنے دوست کی موجودہ ذہنی حالت کا احساس کرنا چاہیے تھا۔ وہ اپنے غم سے باہر نہیں آیا تھا اور اس نے آتے آتے کیسا صدمہ دے دیا تھا۔
’’زیبا! تم ذمہ دار ہو میرے دوست کو تکلیف پہچانے میں‘ جانے کیوں تم کو پارسا سمجھ بیٹھا میں۔‘‘ ایک دم ہی اسے غصہ آگیا۔ زیبا سامنے ہوتی تو وہ شاید سر پھاڑ دیتا۔
ؤ…ؤ…ؤ…ؤ
شہر سے دور‘ فارم ہائوس کے خاموش ماحول میں آکر کچھ سکون تو ملا تھا مگر اندر جیسے تلاطم تھا۔ باہر سردی کی شدت تھی اور اندر گھٹن حبس… چھت سے فرش تک بنی فل سائز شیشے کی کھڑکی کھول کر وہ باہر تک رہا تھا۔ کمرہ یخ بستہ ہوا سے بھر گیا مگر وہ جانے کس جہاں میں کھویا تھا۔
’’سر! آپ کیا کرتے ہیں؟ سردی میں کھڑکی کھول رکھی ہے۔‘‘
’’گرمی بہت ہے۔‘‘ وہ بولا۔
’’سر! آپ ٹھیک نہیں لگ رہے۔‘‘
’’نہیں میں ٹھیک ہوں۔‘‘ وہ کھڑکی سے ہٹ گیا۔ تو ذلفی ملازم نے کھڑکی بند کرکے پردے برابر کردیے۔
’’کسی کو میرے یہاں ہونے کا پتہ نہ چلے۔‘‘
’’سر! آصف بہت بیمار ہے‘ کام کوئی نہیں ہے‘ علاج بھی نہیں ہورہا۔‘‘
’’خبردار! اس کا نام بھی لیا تو۔‘‘ ایک دم ہی اسے شدید غصہ آگیا۔
’’جی اچھا!‘ ذلفی ڈر گیا۔
’’وہ گھٹیا مجھے نظر نہ آئے۔‘‘
’’جی کھانا تیار ہے۔‘‘
’’نہیں کھانا‘ جائو۔‘‘ اس نے سانس کو کچھ ہموار کرتے ہوئے کہا۔
’’سر! آپ کی طبیعت۔‘‘ ذلفی نے آدھا جملہ ادا کیا تو اس نے پانی کے گھونٹ بھر کے گھورا۔ وہ جلدی سے باہر چلا گیا تو وہ بیڈ پر دراز ہوگیا۔ لیکن ایک دم سردی کی شدت نے ایسا گرفت میں لیا کہ وہ تھرتھر کانپنے لگا۔ دانت بجنے لگے اور گھگھی سی بندھ گئی۔ مگر کمرے میں کوئی پرسان حال نہیں تھا۔ اسے کپکپی کے دوران بابا کی یاد آئی بے اختیار منہ سے بابا نکلا۔ تو کپکپکی میں سسکی بھی شامل ہوگئی۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دیا۔
آغاجی کی عادت تھی وہ سخت سردی میں کئی بار اس کے کمرے کا چکر لگاتے تھے۔ اس کا کمبل ٹھیک کرنا‘ تکیے ٹھیک کرکے بالوں میں انگلیاں پھیرنا ان کے گویا فرائض میں شامل تھا اور وہ اگر آنکھ کھل جاتی تھی‘ تب بھی ان کا پیار محسوس کرنے کے لیے سوتا بنا رہتا تھا۔ وہ جان بوجھ کر مسکراتے ہوئے اس کی پیشانی چوم کر کمرے سے چلے جاتے… وہ پرسکون ہوکر سو جاتا۔ ایسی سردی میں گرم دودھ میں شہد ڈال کر زبردستی اسے پلاتے‘ ابلا ہوا انڈا‘ کافی پر لیکچر دیتے اور وہ ایسے معصوم بن کر دیکھتا جیسے نا سمجھ بچہ ہو‘ جب تنقیدی نظروں سے اس کے گرم لباس کو دیکھتے اور دانستہ ایک جملہ کہتے۔
’’میرے بیٹے پر ہائی نیک اور لیدر جیکٹ بہت سجتی ہے۔‘‘ وہ ناچاہتے ہوئے بھی شریر نظروں سے انہیں دیکھتا اور پھر ہائی نیک اور جیکٹ پہن کر انہیں خوش اور مطمئن کردیتا۔
مگر آج جب وہ انہیں شدت سے یاد کرتے کرتے تیز بخار میں پھنکنے لگا تو وہ اس کے قریب نہیں تھے۔ وہ انہیں کھو چکا تھا۔ محبتوں کے سب رشتے اس سے دور تھے۔
ؤ…ؤ…ؤ…ؤ
ملائیشیا‘ سے ڈیلی گیشن آیا تھا…
شرمین کو چیف ایگزیکٹو نے ارجنٹ میٹنگ کے لیے کال کیا۔ اس کا مطلب تھا کہ اسے دیر تک رکنا تھا۔ جلدی سے کمپنی کے ڈرائیور کو اذان کو لے کر گھر چھوڑ دینے کے لیے بھیجا۔ فون وائبریشن پر لگا دیا۔ کانفرنس ہال میں میٹنگ جاری تھی‘ کہ بار بار صفدر کا فون آنے لگا‘ وہ بمشکل سب کے سامنے فون سے نظریں چراتی رہی‘ ٹی بریک ہوئی تو وہ ہال سے باہر ایک طرف کھڑی ہوکر صفدر بھائی کا نمبر ملانے لگی۔ ذرا دیر ملاتے رہنے کے بعد صفدر کا مختصر میسج آیا۔
’’پلیز چیک عارض۔‘‘ عجیب اور مختصر بے ترتیب مسیج تھا‘ اس کی سمجھ میں کچھ نہیں آیا۔ فون آف کرکے واپس ہال میں آگئی‘ مگر ذہن میں میسج گھوم رہا تھا۔ جونہی میٹنگ ختم ہوئی اس نے عارض کا نمبر ملایا مگر وہ آف تھا۔ پھر گھر کا نمبر ملایا‘ مگر وہاں سے جو اطلاع ملی وہ پریشان کن تھی۔ عارض ہاسپٹل میں ایمرجنسی میں تھا۔ حاکم الدین باقاعدہ رو پڑا۔ اس نے اسے تسلی دی اور جلدی سے اسپتال کے لیے نکلی۔ اذان کے لیے بھی فکرمند تھی۔ مگر عارض کی پریشانی بہت زیادہ تھی۔ اذان تو کرایہ داروں کی طرف ایڈجسٹ کرجاتا تھا‘ مسئلہ تو تھا‘ مگر عارض کو ایسا کیا ہوا کہ وہ ہاسپٹل پہنچ گیا‘ اس نے گاڑی چلاتے ہوئے سوچ کے گھوڑے دوڑائے تو دل کانپ اٹھا‘ کہیں عارض نے خود کو کوئی نقصان تو نہیں پہنچا لیا۔ اللہ نہ کرے بے اختیار ہی منہ سے نکلا۔ صفدر کو اطلاع دینی تھی۔ ہاسپٹل پارکنگ میں گاڑی لاک کرکے صفدر کو فون کیا۔
’’جی شرمین بہن!‘‘ صفدر نے پوچھا۔
’’آپ کہاں ہیں؟‘‘
’’خیریت‘ میں تو کمپنی کی طرف سے بھوربن آیا ہوں سب خیریت تو ہے؟‘‘
’’عارض ایمرجنسی میں ہے‘ جانے اس کو آپ نے کیا کچھ کہا ہے۔‘‘
’’اس کی بے تکی ضد نے کہلوایا اور میں نے تو فقط پوچھا تھا‘ اس نے مجھے بے عزت کرکے نکالا۔‘‘ صفدر نے بتایا۔
’’بہرکیف! ایسا لگتا ہے کہ اس نے خود کو نقصان پہنچایا ہے۔‘‘ شرمین کے دل میں عارض کے لیے محبت جاگی‘ آواز بھرا گئی۔
’’میں… میں آتا ہوں‘ آپ اس کے پاس ہی رہو پلیز۔‘‘ صفدر بھی یک دم فکر مند ہوگیا تھا۔
’’جی!‘‘ اس نے کہہ کر فون بند کردیا۔ بے اختیار ہی اس کی آنکھیں بھیگ گئیں۔ اللہ سے دل ہی دل میں دعا کی اور ہاسپٹل کی ریسیپشن پر پہنچ کر عارض کے متعلق پوچھا۔ اسے ایمرجنسی سے کمرے میں شفٹ کردیا تھا۔
ؤ…ؤ…ؤ…ؤ
یہ واجبات عشق ہم پر ہی فرض کیوں
وہ بھی ادا کرے محبت اسے بھی تھی
وہ کمزور‘ غافل اس کے سامنے پڑا تھا۔ یہ وہ عارض تو نہیں تھا‘ جو آغاجہ کا جگر گوشہ تھا۔ لاڈلا‘ وجیہہ ہینڈسم تھا۔ آغاجی کے بعد وہ کیا سے کیا ہوگیا تھا۔ وہ اگر وہاں موجود تھی تو آخر کیوں؟ ناصرف موجود تھی بلکہ دل درد میں ڈوبا ہوا تھا‘ آنکھوں سے اشک چھلک رہے تھے۔
’’محبت کا یہ کیسا امتحان اور قرض ہے جو میں اتارنے پر مجبور ہوں‘ باربار اس دشمن جاں کے سامنے کیوں آکھڑی کردی جاتی ہوں‘ قسمت کیا چاہتی ہے مجھ سے۔‘‘
’’شرمین! یہ تو اچھی قسمت ہے‘ تجھے محبت کی ادائیگی میں صدمات ملے ہیں‘ مگر یہ بھی تو سوچو کہ آج اگر تمہاری زندگی میں دکھ نہ ہوتے تو خدا کے ساتھ دعا ومحبت کا رشتہ کیسے بنتا؟‘‘ اندر سے آواز آئی۔ وہ کرسی پر ٹک گئی۔
’’عارض! میں نہیں جانتی کہ مجھے اب بھی تم سے محبت ہے‘ کیونکہ مجھے اپنی تقدیر سے ڈر لگتا ہے‘ میرے ہاتھ کی اداس لکیروں سے مجھے خوف آتا ہے‘ یہ لکیریں شاید تم سے الگ ہوگئی ہیں۔ مگر میں نہیں چاہتی کہ تم اس حال میں رہو‘ تم نے اپنی کیا حالت بنالی ہے؟‘‘ بے اختیار ہی اس نے اس کا ہاتھ تھاما اس وقت بخار کی شدت میں کمی تھی۔ مگر اسے آنکھیں کھول کر دیکھنے کی طاقت نہیں تھی… سیاہ مائل رنگت کے ساتھ اندر کو دھنسی آنکھیں‘ خشک پتوں جیسے ہونٹ اور ابھری ہوئی رخسار کی ہڈیاں اسے افسردہ کررہی تھیں۔ کچھ دیر بعد ڈاکٹر‘ نرس اور حاکم الدین ایک ساتھ کمرے میں آئے۔
’’ڈاکٹر صاحب! چھوٹے صاحب کو ٹھیک کردو‘ ہم بڑے صاحب کو کیا منہ دکھائیں گے؟‘‘ حاکم الدین پر رقت سی طاری تھی۔ ڈاکٹر نے ان کا کندھا تھپایا اور شرمین کی طرف دیکھ کر پوچھا۔
’’آپ مسز عارض ہیں؟‘‘
’’جی… شادی ہونے والی ہے۔‘‘ حاکم الدین نے جانے کس اعتبار کے سہارے اور کس اعتماد کے تحت کہہ دیا۔ ڈاکٹر عارض کے معائنے میں مصروف تھے اس لیے انہوں نے حاکم الدین کے جواب پر توجہ نہ دی۔ البتہ شرمین گنگ رہ گئی۔
’’معافی دیں… ہمارے بڑے صاحب ایسا کہہ کر گئے ہیں۔‘‘ حاکم الدین نے اس کے کان میں سرگوشی کی۔
’’نمونیہ بہت شدید ہوا ہے‘ کچھ وقت لگے گا‘ بروقت ہاسپٹل نہ لایا جاتا تو مشکل ہوتی۔‘‘ ڈاکٹر نے یہ بتاتے ہوئے نسخہ دیکھا‘ پھر نرس کو ہدایت کی۔
’’یہ سب کیسے ہوا؟‘‘ اس نے حاکم الدین سے بہت دھیرے سے پوچھا۔
’’صاحب کل سے غائب تھے فون بھی بند تھا۔ طبیعت خراب ہوئی تو فارم ہائوس سے ذلفی نے فون کیا۔ ہم ایمبولینس لے کر پہنچے۔‘‘
’’اوہ…!‘‘ وہ سانس بھر کے رہ گئی۔ ڈاکٹر صاحب چلے گئے تو اس نے گھڑی پر نگاہ ڈال کر حاکم الدین سے کہا۔
’’بیٹا اکیلا ہے گھر‘ میں پھر آئوں گی‘ آپ صاحب کے پاس رہو‘ کوئی مسئلہ ہو تو فون کرلینا۔‘‘ حاکم الدین نے اثبات میں گردن ہلادی۔ تو وہ عارض پر نگاہ ڈا ل کے باہر آگئی۔
ؤ…ؤ…ؤ…ؤ
شام ڈھل رہی تھی۔ وہ گاڑی لاک کرکے کرایہ داروں کے پورشن کی طرف آگئی شبانہ کچن میں تھی‘ بچے ٹی لائونج میں ٹی وی دیکھ رہے تھے ان میں اذان نہیں تھا‘ اس نے کچن میں گھس کر شبانہ سے پہلا سوال اذان کے بارے میں کیا۔
’’اذان اپنی پھوپو کے ساتھ گیا ہے۔‘‘
’’کیا… کون سی پھوپو؟‘‘ اسے دھچکا لگا۔
’’میں نے تو بہت منع کیا مگر وہ بضد تھیں کہ لے کر جائیں گی اور پھر اذان بھی راضی تھا۔‘‘ شبانہ نے بتایا۔
’’لیکن… میں آپ کے پاس چھوڑ کر گئی تھی اور آپ مجھے فون کردیتیں۔‘‘ اس کا تو دل بیٹھ رہا تھا۔
’’آنے والا ہوگا‘ آپ فون کرلو‘ پھر کیا ہوا؟‘‘ شبانہ کے لیے یہ بات اتنی اہم نہیں تھی۔
’’اوہ! آپ کو روکنا چاہیے تھا۔‘‘ وہ پریشان سی اپنے پورشن کی طرف آگئی۔ اندر داخل ہوکر کمرے میں ٹہلنے لگی۔ اسی دن کا ڈر تھا۔ کشف نے اپنی گندی فطرت کا استعمال شروع کردیا تھا۔ تھکن سے برا حال تھا۔ سر درد سے پھٹ رہا تھا۔ مگر نہ چائے کا ہوش تھا اور نہ سر درد کی گولی کا خیال۔ زندگی نے نئی آزمائش کا آغاز اس طرح کیا تھا۔ اس کا اسے اندازہ ہی نہیں تھا۔ اذان اس کی اجازت کے بنا پرسکون ہوکر چلا گیا۔ وہ جذباتی ہوکر اذان کی تصویر اٹھا کر شکوہ کرنے لگی۔
’’اپنی ماما کی پروا نہیں کی۔‘‘ دل چاہا فون کرے‘ مگر پھر ایسا لگا کہ کہیں کشف ایسا کچھ نہ کہہ دے جس سے سارا پردہ ہٹ جائے۔ اس نے انتظار کا فیصلہ کیا۔
ؤ…ؤ…ؤ…ؤ
کیک‘ میکرونیز کھانے کے بعد جیسے اذان کو ہوش آگیا۔ اداس نگاہوں سے کمرے کے اطراف میں دیکھنے لگا۔ کشف اپنا کافی کا مگ لے کر کمرے میں آئی اور مسکراتے ہوئے اسے غور سے دیکھنے لگی۔ اس کے چہرے میں اس کی اصل ماں نینسی جوزف کے چہرے کے مشابہت بھی تھی اور صبیح احمد کے چہرے کا عکس بھی۔ اگر چہ نینسی جوزف سے بالمشافہ ملاقات تو نہ ہوسکی تھی مگر بھائی کے خطوط اور تصاویر کے ذریعے وہ نینسی اور اذان کو بخوبی پہچانتی تھی۔ بھائی کو نجانے کیا سوجھی کہ نینسی کو مسلمان کرکے شادی رچالی۔ اس کی جگہ تو شرمین چڑیل کو ہی اپنی زندگی میں شامل کرلیتے۔
’’کیا دیکھ رہے ہو۔‘‘ اس نے اس کے سنہری بالوں کو چھیڑتے ہوئے کہا۔
’’ماما! انتظار کررہی ہوں گی۔‘‘
’’کون ماما؟‘‘ کشف نے کریدنے کی کوشش کی۔
’’میری ماما۔‘‘ اذان نہیں سمجھا۔
’’تمہیں یقین ہے کہ وہ تمہاری ماما ہیں۔‘‘ کشف نے کوشش کی کہ وہ کچھ ظاہر کرے مگر وہ اس وقت صرف پریشان تھا۔
’’مجھے جانا ہے۔‘‘
’’میں بتادیتی ہوں فون کرکے رات کو اذان پھوپو کے پاس رہے گا۔‘‘ کشف نے پیار سے کہا۔
’’نہیں مجھے واپس جانا ہے۔‘‘ وہ ایک دم صوفے سے اٹھ کھڑا ہوا۔
’’اچھا اچھا بیٹھو تو سہی… اوکے میں چھوڑ آتی ہوں۔‘‘ کشف کو ہتھیار ڈالنے پڑے کیونکہ وہ کچھ نہیں جانتا تھا اسے نہ اپنی اصل ماں کا نام معلوم تھا نہ وہ سوتیلی ماں فریحہ کے بارے میں جانتا تھا اس کے لیے تو سب کچھ شرمین تھی اور شرمین کو رد کرنا فی الحال مناسب نہیں تھا بھائی نے اس پر اعتبار کیوں کیا یہ جاننا ضروری تھا۔
’’کتنے دوغلے تھے بھائی جان آپ، آپ نے اذان سے اس کی اصل ماں کا نام تک چھپایا اسے بتا ہی دیتے۔ اس کی پیدائش پر مر گئی تھی مگر آپ کو تو شرمین سگی نظر آئی۔ اس کے حوالے بیٹا کر گئے۔ اب ہم بتائیں گے اذان کو اصلیت۔‘‘ وہ سارے راستے یہی سوچتی رہی۔
گیٹ پر گاڑی رکی تو اذان جلدی سے اتر کر گیٹ سے اندر چلا گیا جبکہ کشف کا خون کھولتا رہا بڑی کوشش سے اس نے اس وقت خوش کو کنٹرول کیا۔ وگرنہ دل چاہا کہ اندر جا کر شرمین کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس کو سب اصلیت بتائے اور پھر اس سے اس کا بھائی سے رشتہ پوچھے مگر نگہت آپا نے جذباتی ہونے سے منع کیا تھا کہ آرام سے پوچھیں گے۔ اذان پر ہمارا قانونی اور شرعی حق ہے۔ اس لیے خاموشی سے ڈرائیور کو واپسی کا کہا۔
ؤ…ؤ…ؤ…ؤ
جھٹکے سے دروازہ کھول کر اذان اندر آیا اور محبت سے اس کا چہرہ‘ ماتھا چومنے لگا۔ جیسے مدتوں کا بچھڑا ہو‘ دیوانہ وار لپٹا جارہا تھا۔ اس کی بانہوں میں حرکت ہوئی شدت جذبات سے مغلوب ہوکر اسے بھینچ لیا۔ آنکھیں تر ہوگئیں۔
’’ماما! آپ سیڈ اور ناراض بھی تھیں۔‘‘ اس نے پوچھا۔
’’ہاں!‘‘
’’سوری ماما! کشف پھوپو نے میری بات نہیں مانی۔‘‘ اس نے صفائی پیش کی۔
’’اور آپ چلے گئے۔‘‘ اس نے غیر یقینی کیفیت سے پوچھا۔
’’ماما!‘‘
’’کیا چاہتی ہیں وہ؟‘‘
’’کون؟‘‘
’’جو خود کو آپ کی پھوپو کہتی ہیں۔‘‘
’’ماما! آپ ڈیڈی کو بلائیں۔‘‘
’’کیا ہوا؟‘‘
’’میں نے بات کرنی ہے۔‘‘ وہ بضد ہوا۔
’’اور آپ نے کیا باتیں کیں؟‘‘
’’پوچھ رہی تھیں کہ ڈیڈی کب آئے تھے؟‘‘
’’پھر۔‘‘
’’میں نے کہا آئے نہیں‘ ماما مجھے لے آئیں۔‘‘ اذان نے اس کی گردن میں بازو حمائل کئے۔
’’اذان! اور کیا کہا آپ نے؟‘‘
’’روک رہی تھیں اور منع کررہی تھیں‘ انہوں نے بڑی پھوپو کا بھی بتایا۔‘‘ اذان رک رک کر بولا تو اس کا چہرہ متغیر ہوگیا۔
’’آپ اتنے بڑے اور خود سر ہوگئے‘ کسی کے ساتھ اٹھ کر چلے گئے۔‘‘ اسے شدید غصہ آگیا۔ ڈانٹ دیا۔ اذان شرمندگی سے اور زیادہ لپٹ گیا۔
’’کوئی بھی آکر کچھ کہے اور آپ چلے جائوگے‘ کیا جواب دوں گی میں آپ کی ڈیڈی کو‘ خبردار جو آئندہ کسی کی طرف گئے؟‘‘ اس نے بہت سختی سے تاکید کی اور پھر اسے چھوڑ کر کچن کی طرف آگئی۔ اذان کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں ہورہی تھی۔ فرار کا یہ رستہ طے کرنا بہت مشکل تھا چولہے پر چائے کا پانی رکھا اور سوچتے سوچتے سارا پانی پہلی بار تو خشک ہوگیا۔ خشک ساس پین جلنے کی بو پر وہ چونکی۔ تو اذان اس کی ٹانگوں سے جڑا کھڑا تھا‘ ندامت اور شرمندگی کے ساتھ اسے ٹوٹ کر پیار آیا۔
…٭٭٭…
عبدالصمد ماشاء اللہ گھنٹوں کے بل چلنے لگا تھا۔ جہاں آرا خوشی سے پھولے نہیں سماتی تھیں۔ اس وقت بھی وہ ان کے کمرے میں خوش خوش چل کر دکھا رہا تھا۔ زیبا رات کا کھانا پکا کر ان کے کمرے میں لے آئی تو وہ خوشی سے اس کے پیروں سے لپٹ گیا۔
’’ارے ارے رکو۔‘‘ زیبا نے جلدی سے ٹرے امی کے سامنے رکھی اور اسے فرش سے اٹھا کر بیڈ پر بٹھایا۔
’’صفدر کی خیر خبر۔‘‘ انہوں نے پلیٹ میں سالن نکالتے ہوئے پوچھا۔
’’نہیں امی! میں نے فون کیا تھا مگر انہوں نے اٹینڈ ہی نہیں کیا۔‘‘ اس نے بتایا۔
’’فون کرتی رہا کرو‘ مرد کو آزاد نہیں چھوڑتے۔‘‘ انہوں نے سمجھایا۔
’’وہ میری قید میں ہیں ہی کب۔‘‘
’’دوسرے بچے کا بوجھ ڈالو‘ اوپر تلے بچے آجائیں تو مرد کی توجہ صرف گھر پر رہتی ہے۔‘‘
’’امی! عبدالصمد کو غینمت سمجھیں۔‘‘ وہ طنزیہ ہنس کر بولی۔
’’کیوں؟‘‘
’’میرا مطلب ہے کہ صفدر کو بچے پسند نہیں۔‘‘ وہ ٹال گئی۔
’’یہ کس نے کہا؟ عبدالصمد میں اس کی جان ہے۔‘‘
’’جی… زیادہ بچوں کے قائل نہیں۔‘‘ وہ تو بات کرکے پھنس گئی۔
’’دو تین بچے تو ہوں‘ ہمارا خاندان آگے بڑھے۔‘‘
’’جی…!‘‘
’’میں کروں گی اس سے بات‘ بہت وقفہ ہوگیا۔‘‘
’’نہیں‘ امی! وہ سمجھیں گے کہ میں نے کہا ہے۔‘‘ وہ ڈر گئی۔
’’پھر بھی کیا ہے؟‘‘
’’میں خود کرلوں گی‘ ویسے بھی عبدالصمد ابھی چھوٹا ہے۔‘‘ وہ ٹالتے ہوئے عبدالصمد کے خوب صورت بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگی۔
’’اللہ سلامت رکھے۔‘‘ جہاں آرا نے عبدالصمد کی بلائیں لیں۔
’’میں گرم چپاتی لے آئوں۔‘‘ وہ اٹھی۔
’’نہیں‘ میں نے تو ایک چپاتی کھالی ہے۔‘‘ وہ بولیں۔
’’ننھی کی شادی کے بعد اماں اکیلی ہوجائیں گی۔‘‘ وہ متفکر سی بولی۔
’’ارے کیوں! حاجرہ بہن کو ہم اپنے ساتھ رکھیں گے‘ گھر کرائے پر اٹھا دیں گے۔‘‘
’’اماں نہیں مانیں گی۔‘‘
’’کیسے نہیں مانیں گی؟ بس تم وہاں جاکر مت رہنا۔‘‘
’’اور صفدر نے نکال دیا تو کہاں جائوں گی۔‘‘ بظاہر ہنس کر اس نے بات کی مگر پس پردہ وجہ موجود تھی۔
’’زیبا! اب کھیل کھیلنا بند کرو‘ ایسی سوچ بھی ذہن سے نکال دو اور اگر ارادے خراب ہیں پھر مستقل چلی جائو۔‘‘ جہاں آرا کو ایک دم شدید غصہ آگیا۔ وہ خاموشی سے برتن سمیٹ کر کمرے سے چلی آئی۔ انہیں کیا بتاتی؟ ان کی سوچ اپنی جگہ ٹھیک تھی مگر غلط وہ بھی نہیں تھی کہ ایک خوف تو دل میں تھا۔
ؤ…ؤ…ؤ…ؤ
کشف کے لیے یہ بات تعجب خیز تھی کہ شرمین نے اس کے آنے اور اذان کو لے جانے پر کسی قسم کا ردعمل ظاہر نہیں کیا… جب کہ وہ منتظر تھی کہ شرمین سرد گرمی کرے گی۔ نگہت آپا کو فون پر بھی اپنا خیال ظاہر کیا تو وہ تڑخ کر بولیں۔
’’ارے وہ ہوتی کون ہے سرد گرمی والی۔‘‘
’’پھر بھی۔‘‘
’’سچ تو یہی نکلا کہ اذان کو دولت کی وجہ سے پروں میں دبائے بیٹھی ہے۔‘‘
’’لیکن‘ صبیح بھائی نے ایسا چاہا تو ہوا‘ انہوں نے ہم پر اعتبار نہ کیا۔‘‘
’’صبیح کی تو تم بات ہی نہ کرو‘ وہ اس جادو گرنی کی قید میں رہا بیٹا بھی اسی کے حوالے کر گیا۔‘‘
’’مزے کی بات یہ ہے کہ اذان کو صبیح بھائی کی وفات کی خبر بھی نہیں۔‘‘
’’ہوسکتا ہے صبیح نے منع کیا ہو کہ بچے کے ذہن پر برا اثر نہ پڑے۔‘‘ نگہت آپا نے کچھ نرمی سے کہا۔
’’اسی لیے میں نے نہیں بتایا‘ مگر اذان تو ماما‘ ماما کرتا نہیں تھکتا۔‘‘ کشف نے بتایا۔
’’وہ ہے ہی میٹھی چھری‘ اپنا بنا رکھا ہے۔‘‘
’’تو پھر۔‘‘
’’آرام سے چلو‘ اب اس کے ردعمل کا انتظار کرو‘ پھر خود فون کرلینا۔ فوری طور پر کچھ ایسا نہ کرنا کہ وہ محتاط ہوجائے۔‘‘ نگہت آپا نے سمجھایا۔
’’ہاں! میرا بھی یہ خیال ہے۔‘‘
’’بس جب بھی اذان سے ملو‘ بہت محبت دکھائو۔‘‘
’’آپا! وہ ہے ہی اتنا کیوٹ کہ کیا بتائوں؟ بہت سمجھداری کی باتیں کرتا ہے۔ ایک طرح سے تو شرمین اس کی اصل ماں سے اچھی ثابت ہوئی ہے‘ اچھے اسکول میں پڑھا رہی ہے‘ جان سے لگا رکھا ہے۔‘‘
’’تو وجہ ہے نا! دولت…؟‘‘
’’کسی حد تک‘ مگر وہ خود جاب کررہی ہے۔‘‘
’’چھوڑو‘ بس ہمیں اپنے بھائی کی اولاد اور اس کی دولت واپس چاہیے‘ ہم خود اذان کا خیال رکھ لیں گے۔‘‘
’’چلیں ٹھیک ہے دیکھتے ہیں۔‘‘
’’اچھا پھر بتانا۔‘‘
’’اوکے اللہ حافظ۔‘‘
’’اللہ حافظ۔‘‘
ؤ…ؤ…ؤ…ؤ
اپنی کمپنی میں ریزائن کرنا تھا۔ اس نے تمام تقاضوں کے مطابق جہاں جہاں دستخط اور کلرئنس کی ضرورت تھی پوری کی۔ زینت آپا کا بزنس بے یارومددگار تھا۔ اس بار وہ کہہ کر تو نہیں گئی تھیں البتہ کوئی بندوبست کیے بنا چلی گئی تھیں۔ اس نے کمپنی کے بہت اصرار کے باوجود ریزائن کیا۔ کمپنی نہیں چاہتی تھی لیکن اس کی مجبوری تھی۔ وہ تو مصروفیت کے سبب زینت آپا کو ایک فون کال بھی نہیں کرسکی تھی۔ اسے اور مسائل نے اس طرح گھیر رکھا تھا کہ سانس لینے کی فرصت نہیں تھی۔
اب جو ریزائن کے بعد باہر نکلی تو رسٹ واچ پر نگاہ ڈالی۔ اذان کے اسکول کی چھٹی میں تو بہت وقت تھا۔ اس نے زینت آپا کے آفس کا رخ کیا۔ اسے دیکھ کر سارا عملہ الرٹ ہوگیا۔ اس نے منیجر صاحب سے مجموعی طور پر بزنس کی رپورٹ لی۔ پھر زینت آپا کو فون ملوایا۔ وہ بہت خوش ہوئیں۔ اس کا شکریہ ادا کرنے لگیں۔ اس نے بوبی کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ اس کے زخم تو ٹھیک ہوگئے ہیں، کندھے کا درد ٹھیک نہیں ہورہا۔ کچھ دیر بات کرنے کے بعد اس نے فون بند کیا۔ تو صفدر بھائی کا فون آگیا۔
’’جی صفدر بھائی۔‘‘
’’کہاں ہو بھئی؟‘‘ صفدر نے پوچھا۔
’’جی آفس میں ہوں۔‘‘
’’حیرت ہے آپ کے نزدیک بزنس اتنا اہم ہوگیا ہے، کاروباری سوچ ہوگئی ہے۔‘‘ شکوہ تھا یا طنز وہ سمجھ نہ سکی۔
’’آج پہلا دن ہے دراصل زینت آپا…‘‘
’’اچھا! اچھا! عارض کی بھی فکر کرلینی تھی۔‘‘
’’کیا مطلب ہے آپ کا، مجھے فکر نہیں، ویسے نہ بھی کروں تو فرق نہیں پڑتا۔‘‘ وہ کچھ خفا سی ہوگئی۔
’’شرمین بہن! بیمار سے انتقام نہیں لیتے۔‘‘ صفدر نے کہا۔
’’کمال ہے آپ ایسا سوچتے ہیں، انتقام کا لفظ نہیں ہے میری ڈکشنری میں، انتقام تو آپ لے کر گئے تھے عارض سے میرا کوئی جھگڑا نہیں۔‘‘ اس نے سیدھا سا جواب دیا۔
’’اٹس اوکے! آپ کہیے۔‘‘
’’کچھ نہیں۔ عارض ٹھیک ہے؟‘‘
’’کچھ بہتر ہے، میں ہاسپٹل میں ہی ہوں۔‘‘
’’مجھے آنا ہے لیکن کچھ دیر بعد اذان کا مسئلہ ہوتا ہے نا۔‘‘
’’اوکے! آجائو میں پھر ہی جاؤں گا، سیدھا یہیں آیا ہوں۔‘‘
’’آپ جائیں مجھے مناسب وقت میں آنا ہے۔‘‘
’’میں تم سے مل کر جاؤں گا۔‘‘
’’صفدر بھائی! آپ اب پلیز عارض کو ایسا مت کہیے گا۔‘‘
’’وہ ایسا ویسا نہیں۔‘‘ صفدر نے اس کی بات کا مطلب سمجھ کر کہا اور فون بند کردیا۔
شرمین کو سخت حیرت ہوئی ایسا بھی کیا ہے کہ صفدر بھائی کے لہجے میں سختی سی تھی وہ عارض کے لیے متفکر بھی تھے اور بے بس بھی۔ کیا انھوں نے عارض کو ویسا سب کہا، اگر کہا تو کہیں یہ سچ تو نہیں، مجھے یقین کیوں نہیں آرہا؟ شاید صفدر بھائی اور عارض کے درمیان غلط فہمی ہے۔ اس نے فون رکھا اور کرسی کی پشت سے سر ٹکا کر نارمل ہونے کی کوشش کی۔
ؤ…ؤ…ؤ…ؤ
صفدر عارض کے بالکل قریب بیٹھا تھا۔ عارض پر ڈاکٹرز کی توجہ اور میڈیسن نے اچھا اثر ڈالا تھا۔ وہ بہت بہتر تھا پرسکون سویا ہوا تھا، بس کبھی کبھی لمبا سانس لیتا تو صفدر چونک جاتا پھر وہ جونہی نارمل ہوتا تو صفدر کو اطمینان مل جاتا۔ بیٹھے بیٹھے صفدر کی آنکھ لگ گئیں، عارض نے نیم وا سی آنکھوں سے اسے قریب دیکھا تو ایک دم بولا۔
’’کیوں آئے تو تم…؟‘‘
’’اخلاقی فرض ادا کرنے۔‘‘ صفدر نے بڑے تحمل سے جواب دیا۔
’’میں نے تمہارا سرمایہ لوٹا ہے۔‘‘
’’اس کا حساب باقی ہے۔‘‘
’’تو لو… میں نے ویسا ہی کیا ہے جیسا تم نے کہا۔‘‘
’’تو میں بھی وہی کروں گا جو ایک شوہر کو کرنا چاہیے۔‘‘
’’کرو، گولی مار دو مجھے۔‘‘
’’ابھی تم نے یہ اعتراف نہیں کیا۔‘‘
’’کرلیا جاؤ یہاں سے۔‘‘ وہ نقاہت سے بولا۔
’’ابھی ایک تیماردار ہوں۔‘‘
’’مت کر تیمارداری، میرے جیسے انسان کی تیمارداری۔‘‘
’’ہنہ!‘‘
’’میں نے کہا جاؤ۔‘‘ وہ بولا۔
’’عارض! تم نے دوست کی دوستی دیکھی، شوہر کی دشمنی نہیں۔‘‘
’’لاؤ اپنی بیوی کو وہ میرے سامنے آئے، پھر تم دیکھنا میری دشمنی۔ میرے بابا کے جانے کے بعد تم سب بدل گئے، مجھے سب سے نفرت ہورہی ہے۔‘‘ عارض آغاجی کو یاد کرکے رند ھے ہوئے گلے سے بولا۔ صفدر کا دل تڑپا اس کا ہاتھ تھام کر بولا۔
’’لاؤں گا سامنے، بس ڈر یہ ہے کہ میں آغاجی کو صدمہ پہنچانے والا نہ بن جاؤں۔‘‘
’’صفدر! جو تم کہہ چکے ہو وہ کافی ہے۔‘‘ عارض نے ہاتھ چھڑایا۔
’’بہت عرصے سے نہیں کہا، اس کی داد دو۔‘‘
’’بہرکیف! مجھے تنہا چھوڑ دو۔‘‘ وہ جھنجھلایا۔
’’یہ دعا نہیں ہے، اﷲ کسی کو تنہا نہ کرے۔‘‘
’’ہنہ!‘‘ وہ طنزیہ کہہ کر دوسری طرف دیکھنے لگا۔
’’میری دعا ہے کہ تم تنہائی کے صدمے سے نہ گزرو مگر غور کرو اپنی تنہائی کے لیے تم نے کتنے سامان خود جمع کیے ہیں۔ یہ موقع نہیں کہ میں الجھوں، گھر چلے جاؤ گے تو پھر بات ہوگی۔‘‘ صفدر نے دھیرے سے کہا۔ وہ گردن موڑے دوسری طرف دیکھتا رہا۔
’’جاؤ یہاں سے۔‘‘ کچھ دیر بعد عارض بولا۔
’’ہنہ! جاتا ہوں۔‘‘ صفدر نے تحمل کا دامن نہ چھوڑا۔
’’اور میری فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔‘‘
’’فکر تمھاری نہیں اپنی دوستی کی ہے۔‘‘
’’کون سی دوستی؟‘‘
’’یہی تو میں سوچ رہا ہوں۔‘‘
’’صفدر جاؤ، میں ویسا ہی ہوں جیسا تم کہہ چکے ہو۔‘‘ وہ بہت زیادہ کرب سے گزرا تھا کہ اعصاب پر ایک ہی بات طاری تھی۔ صدمہ تھا، اذیت تھی کہ اس نے گناہ کیا۔ صفدر نے کہا اور بس۔
’’اس کا مجھے نہ صدمہ ہے نہ دکھ صرف حیرت ہے اس حیرت سے تم مجھے نکال لو گے۔‘‘ صفدر نے کہا اور پھر گھڑی پر نگاھ ڈالی۔ حاکم الدین کمرے میں داخل ہوا تو صفدر نے کہا۔
’’حاکم الدین! شرمین بی بی آئیں گی تو انھیں کہہ دینا کہ اب وہ ان کا خیال رکھیں۔ میں جارہا ہوں۔‘‘ صفدر کے جملے پر عارض نے چڑ کر کہا۔
’’مجھے کسی کی ضرورت نہیں۔‘‘
’’خدا کرے! تم ہماری ضرورت بنے رہو۔‘‘ صفدر خلوص سے کہہ کر اپنا سفری بیگ اٹھا کر کمرے سے باہر نکل گیا۔ عارض کی آنکھوں میں جانے کہاں سے پانی اترا اور بہہ نکلا۔
ؤ…ؤ…ؤ…ؤ
صفدر گھر پہنچنے تک غم و غصے کی بھٹی میں دہک چکا تھا۔ امی کے پاس کالونی کی خواتین بیٹھی تھیں۔ کمرے میں زیبا قرآن پاک پڑھ رہی تھی۔ اس کو دیکھتے ہی اشتعال جاگا مگر قرآن کے تقدس کا تقاضا تھا کہ اس وقت کوئی بات نہ کی جائے، سو واش روم میں گھس گیا، باہر آیا تو وہ چائے بنا کر لے آئی تھی۔ بس پھر کیا تھا اپنے دوست کی محبت نے دل کو جکڑ لیا۔ اس نے اس کی گردن اپنی مٹھی میں جکڑی اور بولا۔
’’قرآن پڑھ کر دھوکا‘ وہ بھی میرے ساتھ، میرے دوست پر گھناؤنا الزام کیوں لگایا بولو۔ مجھے یقین ہے کہ تم نے جھوٹ بولا ہے۔‘‘
’’تو… مجھے جھوٹا کہیں، مگر دوست کو بے نہ گناہ کہیں۔‘‘ اس نے مشکل سے گردن آزاد کرائی۔
’’تم سے شادی کرکے جہنم کے سوا کچھ نہیں ملا۔‘‘
’’ناشکری کے لیے آپ کا اتنا کہنا ہی کافی ہے۔‘‘ زیبا نے ترکی بہ ترکی جواب دیا۔
’’بس کرو، دفع ہوجاؤ یہاں سے فلسفہ بگھارنے کی ضرورت نہیں۔‘‘ وہ چلایا۔
’’گھر میں آیت الکرسی پڑھ کر داخل ہوا کریں۔‘‘ اس بات نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ اس کا وجود شعلہ بن گیا۔
’’کیا کہا تم نے… گویا میں شیطان ساتھ لے کر آتا ہوں؟‘‘
’’میں نے کب کہا، میں نے تو آیت الکرسی کی فضیلت بتائی ہے۔‘‘ وہ بولی۔
’’ہنہ! اور اس وقت کوئی فضیلت یاد نہیں رہی جب گناہ کا بیج بویا تھا۔‘‘ وہ پھر آپے سے باہر ہوگیا۔
’’میں نے نہیں، آپ کے دوست نے۔‘‘ وہ چلائی۔
’’مجھے میرے دوست کے خلاف استعمال کررہی ہو۔‘‘
’’تو مجھے نکال دیں۔‘‘
’’دل تو یہی چاہتا ہے۔‘‘ وہ بے بسی سے کہہ کر بستر پر گرا اور سر سے پاؤں تک کمبل تان لیا۔ زیبا نے ہتھیلی سے آنکھیں رگڑیں اور روتے ہوئے بولی۔
’’نفرت میں دوست کے لیے محبت اور میرے لیے نفرت میں محبت کی کمی آگئی۔‘‘ صفدر نے کمبل کا کونہ سرکا کے اسے دیکھا اور پھر نرمی سے کہا۔
’’تم کیا جانو، کیا کہہ دیا اور کیا سن لیا؟‘‘
’’میں جاننا چاہتی ہوں۔‘‘
’’دعا کرو عارض اور میرے درمیان پھیلی دھند چھٹ جائے، میں اپنے دوست کی محبت کے بنا مر جاؤں گا۔‘‘ وہ بولا تو زیبا صرف اس کا منہ تکتی رہ گئی۔ یہ کیسی محبت تھی۔
ؤ…ؤ…ؤ…ؤ
عارض کی طبیعت کچھ سنبھل گئی تھی۔ صفدر بھائی تو پہلے دن مل کر گئے تو پلٹ کر نہیں دیکھا۔ اذان کو اسکول کی طرف سے دو دن کی چھٹیاں ملی تھیں۔ اس لیے عارض نے شرمین سے تو نہیں حاکم الدین کو کہا۔
’’حاکم الدین! جسے جانا ہے جائے، اذان کو میرے پاس ہی رہنا ہے۔‘‘
’’جی صاحب! شرمین بی بی بتائیں۔‘‘ حاکم الدین نے شرمین کی طرف دیکھا۔ مگر شرمین کے بولنے سے پہلے ہی اذان بڑی چاہ سے عارض کے سینے سے لگ کر بولا۔
’’ماما! میں عارض انکل کے پاس ہی رکوں گا۔‘‘
’’بیٹا! ہم آجائیں گے، آپ کا اسائمنٹ ہے تیار کرنا ہے اور میرے آفس کی تو چھٹی نہیں ہے۔‘‘ شرمین نے اذان سے ہی کہا۔
’’ماما! پلیز رات تک، کل مارننگ میں آجاؤں گا۔‘‘ اذان نے خود ہی پروگرام بنالیا۔
’’میری سمجھ میں نہیں آتا کہ بظاہر میرے خیر خواہ بننے والے میری خوشی کی پروا تک نہیں کرتے۔‘‘ عارض نے جھنجھلا کر کہا۔ حملہ شرمین اور صفدر کے لیے تھا۔ شرمین نے حاکم الدین کو باہر جانے کا اشارہ کیا، جب وہ چلے گئے تو وہ بولی۔
’’خیر خواہوں کے ساتھ ایسا سلوک کرتے ہیں؟‘‘
’’مجھ پر گھناؤنا الزام لگاؤ پھر خیر خواہ بھی کہلاؤ۔‘‘
’’میرے ساتھ جو کیا وہ الزام نہیں حقیقت ہے۔‘‘
’’میں نے صبیح احمد کے لیے کنارا کیا تھا۔ باقی سنجنا کی کوئی حقیقت نہیں۔ میں نے تسلیم کرلیا ہے کہ اذان تم دونوں کے درمیان کا پل ہے۔ میں تنہا ہوا ہوں، تمہیں تنگ تو نہیں کیا، مگر صفدر…‘‘ وہ بولتے بولتے رکا۔
’’میرے لیے بھی غلط سوچا اور غلط کیا، سنجنا سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ صبیح احمد کی حقیقت بھی تم نہیں جانتے۔ صفدر بھائی کسی پر غلط الزام نہیں لگا سکتے، ان کا دل تمھارے لیے آلودہ ہوا ہے تو کچھ تو ہے نا۔‘‘ اس نے بہت دھیرے دھیرے کہا۔ وہ بھنا اٹھا۔
’’ہاں ہے نا! میں برا انسان ہر عیب سے لتھڑا ہوا۔‘‘
’’عارض! تمھارا مسئلہ یہ ہے کے تم چیزوں میں فرق نہیں سمجھتے۔ صفدر بھائی کا گھر جل رہا ہے۔ تم مل بیٹھ کر حل نکالو۔ میں تمھاری زندگی میں ہوں ہی نہیں۔‘‘
’’ہاں! صبیح احمد جو ہے۔‘‘
’’انکل آپ میرے ڈیڈی سے ملے ہیں؟‘‘ اچانک اذان بول پڑا۔
’’وہ کب آئیں گے…؟‘‘ اذان نے پوچھا۔
’’اپنی ماما سے پوچھو۔‘‘ عارض کا لہجہ کڑوا تھا۔
’’عارض! موت ایک ایسی حقیقت اور سچائی ہے کے اس پر ہمیں بڑی دیر بعد یقین آتا ہے۔ صبیح احمد کو اب تو معاف کردو۔‘‘ شرمین نے کہا اور نظریں جھکالیں۔ وہ بھونچکا سا اٹھا اور اس کے روبرو بیٹھ کر بولا۔
’’مطلب…؟‘‘
’’مطلب یہ کہ صبیح احمد سے تمہیں نہیں مجھے مطلب ہونا چاہیے۔ آرام کرو، ہم پھر آجائیں گے۔‘‘ شرمین نے کہا اور اٹھنے لگی تو اس نے ہاتھ تھام کر بیٹھنے پر مجبور کیا۔
’’ہم کہیں نہیں جارہے، مجھے بتاؤ پلیز۔‘‘
’’پلیز عارض! محبت ان دیکھے جذبوں پر یقین کرنا سکھاتی ہے، یقین کے لیے پہلے محبت کرنا سیکھو تاکہ یہ تمہیں یقین اور اعتبار کی دولت سے مالا مال کردے۔‘‘ شرمین نے اچھی خاصی گہری باتیں کر ڈالیں۔
’’میری محبت پر شک ہے۔‘‘ وہ مضطرب ہوا۔
’’مجھے آپ کے لفظ محبت کو لبوں پر لانے پر بھی شک ہے۔ کیونکہ میری محبت کہ بارے میں سوچ اور ہے تمہاری اور۔‘‘
’’ٹھیک ہے۔‘‘ وہ مایوس سا ہوکر بستر پر دراز ہوگیا۔
’’میں، عصر کی نماز پڑھ کر آتی ہوں۔‘‘ شرمین یہ کہہ کر کمرے سے باہر چلی گئی۔
ؤ…ؤ…ؤ…ؤ
نماز پڑھ کر وہ کمروں کے پیچھے… راہداری میں آکر شیشے سے بند کھڑکیوں میں سے ایک کھڑکی کے ساتھ لگ کر کھڑی ہوگئی۔ باہر اسپتال کی کار پارکنگ تھی۔ گاڑیاں آجا رہی تھیں۔ کوئی ٹوکن لے رہا تھا اور کوئی واپس دے رہا تھا۔ تیمار داروں کی ہاہو تھی اور مریضوں کی ہائے ہائے وہ ہٹ کر دوسرے سرے پر پہنچ گئی… تو ایک بزرگ خاتون وہاں بیٹھی آنسو بہا رہی تھیں۔ وہ ان تک پہنچ کر رکی۔
’’نہیں… نہیں‘ میرا بیٹا بیمار ہے‘ ڈاکٹر کہتے ہیں کہ دعا کرو۔‘‘ بڑی سادگی سے بزرگ خاتون نے جواب دیا۔ اسے ہلکی سی ہنسی آئی مگر ضبط کر گئی۔
’’تو آپ دعا کریں‘ روئیں نا۔‘‘
’’اپنے پیاروں کے لیے دعا روئے بنا کہاں ہوتی ہے؟‘‘ انہوں نے بڑی معصومیت سے کہہ کر اس کی طرف دیکھا۔
’’اور رونے سے کیا ہوتا ہے؟‘‘
’’اپنوں کی محبت ملتی ہے۔‘‘
’’محبت جو رو کر دیں وہ اپنے ہوتے ہیں کیا؟‘‘ اس نے بے خیالی میں کہہ دیا۔
’’بیٹی! میرا بیٹا مجھ سے ملتا نہیں ہے اس کی بیماری کی خبر سن کر یہاں آئی ہوں۔‘‘ انہوں نے بتایا۔
’’ماں ہیں نا۔‘‘
’’ہاں! مگر محبت سب کو ماں جیسی کرنی چاہیے۔‘‘
’’کیا مطلب؟‘‘
’’ماں کی محبت میں نہ کھوٹ ہوتا ہے نہ ملاوٹ‘ بس محبت ہی محبت ہوتی ہے‘ ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ ایسی محبت کرنی چاہیے‘ میری بہو میرے بیٹے کے ساتھ محبت نہیں کرتی۔ اس کی دولت سے مطلب ہے اسے۔‘‘
’’اچھا آپ اٹھیں ان کے کمرے میں جائیں۔‘‘ اس نے ہاتھ بڑھا کر اٹھانا چاہا۔
’’تمہارا کون ہے یہاں؟‘‘ بزرگ خاتون نے رک کر پوچھا۔ تو وہ ہکلا گئی۔
’’وہ…‘‘ لفظ زبان پر رکے تو اسی لمحے دور سے اذان کی آواز آئی۔
’’ماما!‘‘ وہ شاید اس کی تلاش میں آیا تھا۔ خاتون کو جھٹ سے جواب مل گیا۔
’’خدانخواستہ تمہارا شوہر داخل ہے۔ اس کے پاس جائو بہت خیال رکھو‘ بیٹی سب کچھ مل جاتا ہے مگر شوہر کی محبت مشکل سے ملتی ہے۔‘‘ وہ بہت اپنائیت سے کہتی ہوئیں اپنے رستے پر چلی گئیں اور اس کی سوچ کا زاویہ مضطرب سا ہوگیا۔ عارض کا خیال آیا تو اس نے قدم تیزی سے اٹھائے… ایسا لگنے لگا کہ جیسے اس کا بہت خیال رکھنا ہے… اسے سنبھالنا لازمی ہے اسے نہیں پتا چلا کہ دل نے مجبور کیا یا ان بزرگ خاتون کی باتوں نے۔ وہ کمرے میں داخل ہوئی تو عارض کو دروازہ تکتے پایا۔ کمزور سا عارض اس کو دیکھ کر جیسے مطمئن سا ہوگیا۔
’’حاکم الدین! میں صاحب کے لیے سوپ بنا کر لاتی ہوں‘ آپ اس وقت تک یہیں رہیں۔‘‘ اس نے براہ راست ملازم کو کہا اور اذان کو وہیں چھوڑ کر باہر نکل گئی۔
ؤ…ؤ…ؤ…ؤ
اس نے گھر آکر فریزر سے چکن نکال کر چولہے پر رکھی سوئیٹ کارن‘ سرکہ‘ انڈے اور دیگر سوسز چولہے کے قریب رکھیں‘ چولہے کی آنچ ہلکی کرکے کمرے میں آئی وارڈ روب سے نیوی بلو شلوار شوٹ نکال کر واش روم میں گھس گئی… تولیے میں بال لپیٹ کر کچن کی طرف آئی‘ اسی اثنا میں شبانہ ایک شاپنگ بیگ لیے آگئی۔
’’آئو شبانہ۔‘‘
’’بھئی تم ماں بیٹے کہاں گم رہتے ہو‘ ہمارے تو بچے اداس ہوگئے ہیں۔‘‘ شبانہ نے کہا۔
’’دراصل! میں اپنی آپا کے گھر اور بزنس دیکھ رہی ہوں وہ کینیڈا گئی ہیں۔‘‘ اس نے نظریں چراتے ہوئے جھوٹ بولا۔
’’اچھا میں تمہاری نند کو بتادوں گی۔‘‘
’’کون؟‘‘ وہ چونکی۔
’’اذان کی پھوپو آئی تھیں یہ اذان کے لیے دے گئی ہیں‘ کچھ دیر بیٹھی تھیں۔‘‘ شبانہ نے سرسری سے انداز میں بتایا۔
’’مت لیا کرو کسی سے بھی کچھ۔‘‘ وہ دبے دبے غصے سے کہہ گئی۔
’’وہ چاہ سے لائی تھی تو کیا کہتی۔‘‘
’’آئندہ کچھ بھی کہے آپ نے کہنا ہے کہ میں نے منع کیا ہے۔‘‘
’’ٹھیک ہے‘ ویسے تمہاری ان سے ناراضی چل رہی ہے؟‘‘ شبانہ کے اندر تجسس تو سر اٹھایا۔
’’شبانہ! کچھ باتیں ہم چاہیں بھی تو شیئر نہیں کرسکتے۔‘‘ اس نے کہا اور انڈوں کی سفیدی پھینٹنے لگی۔
’’ٹھیک ہے یہ کہاں رکھوں؟‘‘ شبانہ نے اس کا موڈ دیکھتے ہوئے پوچھا۔
’’ہنہ… یہ جانے کیا لائی ہیں؟‘‘ وہ بڑبڑائی۔
’’یہ یہیں رکھ دیتی ہوں۔‘‘ شبانہ نے وہیں کچن کی ٹیبل پر شانپگ بیگ رکھ دیا۔
’’بیٹھو…‘‘ اس نے مروتاً کہا۔
’’نہیں‘ بس میں چلتی ہوں کپڑے استری کرنے ہیں۔‘‘ شبانہ نے کہا اور چلی گئی۔ اس کے جانے کے بعد شرمین نے سوپ کو بھول بھال کر صرف اذان کے لیے سوچنا شروع کردیا۔ کشف کی طرف سے اس رابطہ مہم میں اضافہ ہورہا تھا۔ یہ خطرے کی گھنٹی بج رہی تھی۔ اس کی شخصیت‘ اس کا کردار لوگوں کے لیے تماشا بننے کے قریب تھا۔ کشف جان بوجھ کر اس کی عدم موجودگی میں‘ آنے لگی تھی‘ یہ تحفے تحائف بنا کسی خاص مقصد کے نہیں تھے‘ شبانہ سے کچھ راز لینے کی کوششں بھی کی ہوگی۔
’’یا خدا! میں کیا کروں؟‘‘ وہ سر تھام کے کرسی پر گر گئی۔ ذہن میں سخت آندھیاں سی چل رہی تھیں۔ دل چاہا کہ کشف کو فون کرکے کھری کھری سنائے‘ مگر یہ اس کا مزاج تھا نہ وہ جھگڑ سکتی تھی نہ کوئی احتجاج کرسکتی تھی۔
ؤ…ؤ…ؤ…ؤ
اس نے سوپ تیار کرکے حاکم الدین کو فون کرکے بتایا کہ وہ نہیں آرہی‘ اذان کو بھجوادیں‘ فون بند کرکے وہ بستر میں گھس گئی۔ سوچ کے تابے بانے سب اسے گھیرے میں لیے ہوئے تھے۔ بڑی دیر سے فون بج رہا تھا‘ ایک دم جو دھیان بٹا تو جلدی سے فون اٹھایا۔ حاکم الدین کا ہی فون تھا۔
’’ہاں! حاکم الدین!‘‘
’’بی بی جی! صاحب کو چھٹی مل گئی ہے ہم گھر آگئے ہیں‘ اذان بابا کو صاحب نے بھیجنے سے منع کردیا ہے۔‘‘
’’اوہو! حاکم الدین! اذان کا آنا ضروری ہے۔‘‘
’’مگر‘ صاحب ناراض ہورہے ہیں اور آپ کے لیے بھی غصہ کررہے ہیں۔‘‘ حاکم الدین نے جھجھکتے ہوئے کہا تو وہ چپ رہی۔
’’ٹھیک ہے‘ صاحب کو کچھ کھلانا۔‘‘
’’انہوں نے کمرے سے نکل جانے کا کہہ دیا ہے۔‘‘
’’اوہ گاڈ! اچھا میں صفدر بھائی سے بات کرتی ہوں۔‘‘ وہ بولی۔
’’نہیں جی‘ ان کے تو نام پر بھی چلانے لگتے ہیں۔‘‘
’’پھر میں کیا کروں حاکم الدین۔‘‘ وہ بے بسی سے بولی۔
’’آپ آجائیں‘ میں ڈرائیور کو بھیج دیتا ہوں‘ کہیں صاحب کی پھر طبیعت خراب نہ ہوجائے۔‘‘
’’حاکم الدین! یہ آنکھ مچولی میں کب تک کھیلوں؟‘‘ وہ کچھ بیزار سی ہوکر بولی۔
’’میں کیا کہہ سکتا ہوں بی بی!‘‘
’’میں اپنے مسائل میں گھری ہوں۔‘‘ وہ بہت سنجیدگی سے بولی۔
’’بی بی! چھوٹا منہ بڑی بات ہے‘ آپ بڑے صاحب کی بات مان لیں۔‘‘ حاکم الدین نے اسے آغاجی کی خواہش کے بارے میں یاد دلایا۔
’’مسائل باریک دھاگوں کی صورت ایسے الجھے ہوتے ہیں کہ انسان چاہ کر بھی سلجھا نہیں سکتا۔ میرے لیے شاید اور مشکلات اتنی زیادہ ہیں کہ کچھ سمجھ میں نہیں آرہا۔ بہرکیف! میں آتی ہوں اپنی گاڑی پر۔‘‘ اس نے اچھی خاصی طویل بات کی اور فون بند کردیا۔
سچ مچ زندگی اس مقام پر آگئی تھی کہ کچھ بھی ٹھیک سے ہینڈل نہیں کر پارہی تھی۔ سب کچھ ٹھیک کرنا چاہتی تھی مگر کچھ بھی ٹھیک نہیں ہورہا تھا۔ ایسا لگتا تھا کہ قدرت نے اس کے ساتھ ہی مشکل سوالات کا نہ حل ہونے والا سوال نامہ بھی دنیا میں بھیج دیا تھا۔ اب تو دھیرے دھیرے اعصاب جواب دے گئے تھے۔ اپنے مسائل کیا کم تھے کہ عارض سے کچھ بھی تعلق باقی نہ رہنے کے باوجود وہ اس کے زیر اثر تھی۔ بزرگ خاتون کی باتوں نے دل پر شدید اثر کیا تھا۔ مگر کشف کی کارروائی نے سارا اثر جیسے ذائل کردیا تھا۔ اس نے دائیں ہاتھ رکھی گاڑی کی چابی اٹھانی چاہی تو صبیح احمد کی فوٹو پر نگاہ جم گئی۔
’’میری زندگی کی مشکلات کا سفر تم سے شروع ہوا اور لگتا ہے یہ سفر مجھے قبر میں اتار کے ختم ہوگا۔ تم نے مجھے اذیتوں کے سوا کچھ نہیں دیا‘ کاش! میں نے تمہاری محبت پر یقین نہ کیا ہوتا اور کاش! میں نے تمہاری آخری وصیت کو تسلیم نہ کیا ہوتا۔‘‘ وہ سرد آہ بھر کے اٹھی اور کمرہ لاک کرکے باہر آگئی۔
ؤ…ؤ…ؤ…ؤ
’’عارض! تم کیوں میری مشکلات میں اضافہ کررہے ہو؟ جب ہمارے راستے جدا ہیں تو میرے یہاں آنے کا کوئی جواز نہیں بنتا‘ تم نے بہت پہلے وہ سب ختم کردیا تھا‘ اب ملازمین کے ساتھ رہنے کو اپنی عادت بنائو۔ میں روز روز یہاں نہیں آسکتی۔ اذان کو بھی یہاں نہیں چھوڑ سکتی‘ کسی کو جواب دہ ہوں۔‘‘ وہ بولتی چلی گئی‘ عارض پوری توجہ سے سن رہا تھا۔ مگر ایک دم بولا۔
’’کس کو… کس کو جواب دہ ہو؟‘‘
’’یہ تم سے کنسرن نہیں‘ میں روز یہاں نہیں آسکتی۔‘‘ وہ نظریں چرا گئی۔
’’تو مت آئو‘ چھوڑ دو مجھے۔‘‘
’’چھوڑنے کا اختیار تم استعمال کرچکے ہو‘ اسی لیے تو کہہ رہی ہوں۔‘‘ وہ بولی۔
’’اس کی سزا میری موت ہے۔‘‘
’’اللہ نہ کرے۔‘‘ اس کے منہ سے بے اختیار نکلا۔
’’شرمین! یہ کیا ہے؟ میرے لیے تمہارے منہ سے یہ کیوں نکلا اسے کیا کہتے ہیں؟‘‘ وہ سوپ کا پیالہ جو کہ اس نے بڑی مشکل سے اسے تھمایا تھا‘ وہ اس نے بیڈ کی سائیڈ ٹیبل پر زور سے پٹخا۔
’’یہ کچھ نہیں ہے۔‘‘
’’تو پھر جائو‘ جائو یہاں سے۔‘‘ اسے پھر دورہ پڑا۔
’’پلیز! دھیرے بولو۔‘‘
’’شرمین! میں نے اپنی خوشی کے لیے کیا تھا کیا؟‘‘
’’کم از کم میری خوشی کے لیے تو ہرگز نہیں تھا۔‘‘
’’صبیح احمد کے بٹوے میں تمہاری فوٹو تھی اور اس نے تمہیں اپنی زندگی کہا‘ میں نے تم سے پہلے ہی محبت کا جواب مانگا تھا‘ جو کہ تم نے نہیں دیا۔ سو…‘‘
’’گڑھے مردے مت اکھیڑو۔ اب کچھ بھی کہنے سے فائدہ نہیں۔ صبیح احمد خود فریبی تھے‘ جھوٹ کے مرض میں مبتلا تھے‘ محبت میں بٹوہ اور تصویر لازم نہیں ہوتے‘ اب وہ دنیا میں نہیں رہے سو میں کوئی ایسی بات نہیں کرنا چاہتی۔‘‘
’’میں نے اپنی زندگی میں صرف تم سے محبت کی۔‘‘
’’اچھا! خیر‘ اب یاد رکھنا کہ میں روز روز نہیں آسکتی‘ بہتر ہے کہ تم زندگی کی سچائیوں کی طرف لوٹ آئو‘ بزنس دیکھو‘ آغاجی کے خواب پورے کرو۔‘‘ اس نے ٹال کر سمجھانا چاہا۔
’’تو… تم نے بھی مجھے صفدر کی طرح چھوڑنا ہے۔‘‘
’’عارض! چھوڑنا کیا؟ ہم صرف آغاجی کی وجہ سے اب تک ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہیں‘ یا پھر صفدر بھائی کے مجبور کرنے پر۔‘‘
’’ہنہ! ٹھیک ہے سب چھوڑ جائو۔ آئندہ یہ خواہش نہیں کروں گا‘ بلکہ تمہاری دنیا سے دور جانے کی کوشش کروں گا۔‘‘
’’جیسے تمہاری مرضی۔‘‘ وہ وہاں سے اٹھی اور کمرے سے باہر نکل گئی۔ عارض کے غم و غصے نے سوپ کا پیالہ فرش کی زینت بنادیا۔
ؤ…ؤ…ؤ…ؤ
چائے کا کپ سامنے رکھے وہ مسلسل سوچ میں ڈوبا تھا۔ الجھا الجھا‘ افسردہ اور مضطرب۔ جہاں آرا کو یہی لگ رہا تھا کہ زیبا سے ناراض ہے‘ انہوں نے زیبا سے علیحدگی میں پوچھا بھی‘ بظاہر تو زیبا کو بھی یہی محسوس ہوا کہ وہ ہمیشہ کی طرح اسی سے نالاں ہے مگر پوچھنے کی جرأت نہ کی۔ چائے کا کپ رکھ کر باہر چلی گئی تھی اب کچھ دیر بعد کمرے میں آئی تو شرمین ساتھ تھی شرمین کو دیکھ کر وہ ہولے سے مسکرایا اور کچھ حواس کی دنیا میں آیا۔
’’صفدر بھائی! آپ گھر میں مزے سے بیٹھے ہیں۔‘‘
’’نہیں‘ مزے کیسے؟‘‘
’’آپ نے تو عارض کی خیر خبر بھی نہیں لی۔‘‘
’’ہاں! کچھ عذاب ایسے ہوتے ہیں کہ دور جانے سے بھی بڑھتے ہیں اور پاس رہنے سے بھی ان میں اضافہ ہوتا ہے‘ سو ان سے ہی لڑ رہا ہوں۔‘‘
’’صفدر بھائی! عارض اسی کیفیت سے دو چار ہے‘ میرے لیے روز اس کے پاس جانا ممکن نہیں‘ اذان کے مسئلے میں‘ میں بہت پریشان ہوں۔ پلیز آپ عارض کو دیکھیں۔‘‘ وہ بولی۔
’’نہیں‘ عارض سے میں شاید اب کبھی نہ مل سکوں۔‘‘
’’وجہ…؟‘‘
’’بہت گھمبیر ہے وجہ‘ خیر اذان کا کیا مسئلہ ہے؟‘‘
’’اذان صبیح احمد کی وصیت کے مطابق میرے پاس ہے‘ مگر اب اس کی لالچی پھوپو اسے میرے پاس دیکھ کر تلملا رہی ہیں۔ میری پوزیشن بہت آکورڈ ہورہی ہے۔ صبیح احمد کے مرنے کا بھی اذان کو پتا نہیں‘ اس کے معصوم ذہن پر برا اثر پڑے گا۔‘‘ وہ بہت زیادہ پریشان تھی۔ صفدر پوری توجہ سے بات سنتے سنتے چونکا۔
’’صبیح احمد…؟‘‘
’’جی صبیح احمد اب دنیا میں نہیں‘ اذان مجھے اپنی ماں سمجھتا ہے‘ میں تو مجرم بن گئی ہوں‘ وہ مجھ سے متنفر ہوجائے گا۔‘‘
’’اوہ سیڈ! بڑی عجیب بات ہے۔‘‘
’’ایسے میں‘ عارض کے لیے میرے پاس کچھ نہیں‘ اسے آپ سنبھالیں۔‘‘ اس نے کہا۔
’’شرمین! عارض اور میرے درمیان میری بیوی زیبا آگئی ہے‘ تم ہمیشہ پوچھتی تھیں کہ میں الجھا الجھا کیوں ہوں؟ میرا گھر ویران اور برباد ہے‘ جانتی ہیں کس وجہ سے؟‘‘ وہ بولتے بولتے چپ ہوا۔
’’عارض… مگر کیسے…؟‘‘
’’زیبا ایک گھنائونے سرخ لباس میں لپٹی میرے گھر آئی تھی‘ اس نے اپنے گناہ گار کا نام اب بتایا تو میں شاک کھا کر سنبھلا ہوں‘ عارض کی ہوس کا شکار ہونے والی میری بیوی جھوٹ کہتی ہے یا سچ یہ جاننا ضروری ہے‘ یہ عارض ہی ثابت کر ے گا‘ مگر وہ بھڑک اٹھا اور میں جنگ لڑرہا ہوں خود سے۔‘‘
’’اوہ میرے خدا! عارض… عارض ایسا کیسے کرسکتا ہے؟‘‘ شرمین کی حیرت اور صدمے سے آنکھیں کھلی رہ گئیں۔
’’یہی تو صدمہ مجھے ہے۔‘‘
’’نہیں… عارض ایسا نہیں کرسکتا۔‘‘ شرمین کے اوسان جیسے اس کے اپنے اختیار میں نہیں رہے۔
’’زیبا نے کہا‘ تو میں نے بڑے عرصے عارض سے تذکرہ نہیں کیا‘ اپنے غصے پر ضبط کیا‘ زیبا اور میرے درمیان نفرت کی دیوار اتنی بلند اور مضبوط بن گئی ہے کہ اس کا اس گھر سے جانا ٹھہرا۔‘‘
’’مگر صفدر بھائی! عارض ایسا کرسکتا ہے یہ آپ نے سوچا…؟‘‘
’’اس کی سابقہ زندگی رنگین استعاروں سے بھری ہے‘ مگر یہ زیبا بھی ان میں شامل ہوگی‘ اور پھر اس انتہا پر وہ پہنچ گیا‘ یہ یقین نہیں آتا۔ کاش مجھے یقین نہ آئے۔‘‘ صفدر بہت اپ سیٹ تھا۔
’’اگر ایسا ہے تو مجھے گھن آرہی ہے عارض سے۔‘‘
’’نہیں… تم ایسا مت سوچو‘ مجھے حقیقت جاننے تک اپنا دوست عزیز ہے۔‘‘ صفدر نے کہا۔
’’کمال ہے‘ آپ اب دوست کہہ رہے ہیں‘ زیبا بھابی کو لے جائیں اس کے سامنے دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوجائے گا۔‘‘ وہ نفرت سے بولی۔
’’بس اوپر تلے‘ ایسے واقعات ہوتے چلے گئے کہ میں پوچھ نہیں سکا تھا‘ اب بھی وہ سنبھلا نہیں مجھے اشتعال دلایا تو میں سب کہہ گیا اور وہ اس پر آپے سے باہر ہوگیا۔‘‘
’’ہونے دیں‘ یہ اتنا چھوٹا جرم اور گناہ نہیں‘ عارض کو تو انسان نہیں کہا جاسکتا‘ آپ ابھی تک دوست کہہ رہے ہیں۔‘‘ شرمین کی دکھ سے آنکھیں بھر آئیں۔
’’نہیں شرمین بہن! تم اس سے نفرت نہ کرو‘ وہ قابل توجہ ہے‘ میرا دل اس کے لیے ابھی محبت سے بھرا ہے۔‘‘
’’کمال ہے‘ عارض اتنا گر گیا اور آپ…‘‘
’’تم… تم اس کے لیے ایسا مت کہو پلیز۔‘‘
’’ہرگز نہیں… میرے اور اس کے درمیان پہلے ہی کچھ نہیں بچا تھا‘ اب… اب تو نفرت ہورہی ہے۔‘‘
’’شرمین بہن… پلیز تم اسے تنہا نہ کرو‘ ابھی فیصلہ باقی ہے‘ تب بھی تم نے اسے سہارا دینا ہے‘ چھوڑنا تو مجھے پڑے گا۔‘‘ صفدر نے بڑے تاسف بھرے لہجے میں سمجھایا۔
’’اوہ عارض! یہ تم نے کیا کیا؟‘‘ شرمین کی آنکھوں سے جانے کیوں عارض کے ساتھ ہمدردی میں یا نفرت سے آنسو جاری ہوگئے۔ زیبا اس کے لیے چائے بنا کر لائی تو اس نے ٹشو پیپر سے آنکھیں رگڑ کر صاف کیں۔
ؤ…ؤ…ؤ…ؤ
وہ آندھی اور طوفان کی طرح عارض کی طرف پہنچی تھی۔ اذان کیونکہ عارض کے پاس تھا‘ ڈرائیور آیا اور حاکم الدین نے فون پر منت کی تھی‘ مگر اب اس وقت اس کا وجود ایک الائو کی مانند آگ بن چکا تھا۔ عارض باہر لان میں سورج کی طرف پشت کئے بیٹھا تھا۔ اذان اس کے قریب بیٹھا تھا۔ اذان کے کھکھلانے کی آواز آئی۔ ساتھ میں عارض کی ہنسی بھی شامل تھی۔ جو کہ اسے سامنے دیکھ کر تھم گئی۔
’’اذان! آئو چلو میرے ساتھ…‘‘ اس نے خونخوار لہجے میں اذان کا بازو تھام کر کہا۔
’’ماما!‘‘ اذان کے بازو پر گرفت سخت تھی تو وہ بولا۔
’’یہ کیا کررہی ہو…؟‘‘ عارض نے چلا کر کہا۔
’’ٹھیک کررہی ہوں۔‘‘
’’رہنے دو اسے۔‘‘
’’میں اسے تمہارے سائے سے بھی دور رکھوں گی اب۔‘‘ وہ سخت نفرت سے بولی۔
’’کیوں…؟‘‘
’’ماما! میں میں…‘‘ اذان نے بولنا چاہا۔
’’چپ رہو‘ چل کر گاڑی میں بیٹھو۔‘‘ وہ چلائی۔
’’اتنا غرور ہے تمہیں اذان پر۔‘‘
’’ہاں! اور آئندہ ہماری طرف پلٹ کر نہ دیکھنا‘ تم ایک گرے ہوئے انسان ہو۔‘‘ شرمین نے شدید نفرت سے کہا تو جانے عارض کا ہاتھ کیسے بلند ہوا اور اس کے دائیں رخسار پر نشان چھوڑ گیا۔ وہ حیران رہ گئی‘ جب کہ وہ نادم سا ہوکر بولا۔
’’سوری…!‘‘
’’اچھا کیا تم نے‘ نفرت جو میں نہیں کرسکتی تھی تم نے وہ نفرت پیدا کردی۔‘‘ وہ روتے ہوئے بولی۔
’’سوری۔‘‘ وہ شرمندہ ہوا‘ سمجھ رہا تھا کہ تھپڑ کی وجہ سے وہ کہہ رہی ہے۔ لیکن درپردہ تو وہ حقیقت تھی جو صفدر بھائی نے بیان کی تھی۔
’’سوری چھوٹا لفظ ہے‘ تمہارے لیے‘ جو گھٹیا حرکت تم نے کی ہے اس کی سزا یہ نہیں۔ تم نے اپنے ہی عزیز دوست کو ڈس لیا۔ اب کبھی بھول کر بھی میرا نام نہ لینا۔ وہ یہ کہہ کر گاڑی کی طرف بڑھی اور اذان کو دروازہ کھول کے اندر دھکیل کر گاڑی اسٹارٹ کرکے نکال لے گئی۔ عارض صرف کف افسوس ملتا رہ گیا۔
(ان شاء اللہ باقی آئندہ ماہ)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close