Aanchal Mar 16

چراغ خانہ(قسچ نمبر3)

رفعت سراج

اس کائنات محبت میں ہم مثل شمس و قمر کے ہیں
اک رابطہ مسلسل ہے اک فاصلہ مسلسل ہے
ہم خود کو بیچ دیں پھر بھی ہم تجھ کو پا نہیں سکتے
میں عام سا ہمیشہ ہوں تو خاص سا مسلسل ہے

(گزشتہ قسط کا خلاصہ)
پیاری اپنی دعا میں دانیال کو مانگنا چاہتی ہے لیکن پھر کچھ سوچ کر دعا کا مفہوم بدل کر اللہ سے دانیال کو اپنے لیے مانگتی ہے اور مطمئن ہوجاتی ہے۔ بوا بھی پیاری کی شادی جلدی کرنا چاہتی ہیں انہیں اب اپنی زندگی کا بھروسہ نہیں ہے اس لیے جلداز جلد پیاری کی ذمہ داری سے بری ہونا چاہتی ہیں۔ مانو پھوپو دانیال سے رشنا سے شادی کے حوالے سے پوچھتی ہیں لیکن وہ صاف انکار کردیتا ہے جس پر مانو پھوپو کو اطمینان ہوتا ہے جبکہ دانیال رشنا اور عالی جاہ کی جلد شادی کرنے کا مشورہ بھی دیتا ہے۔ مشہود کا موبائل مسلسل آف آنے پر پیاری کی پریشانی بڑھ جاتی ہے ایسا بہت کم ہی ہوتا تھا کہ مشہود کا موبائل آف ہو۔ مشہود جب میٹنگ میں ہوتا تو کال کرکے بتا دیا کرتاکہ اس وقت کال نہیں کرنا لیکن اب جیسے جیسے وقت گزر رہا تھا مشہود کا آف موبائل پیاری کے ساتھ بواکی پرشانی میں بھی اضافہ کررہا تھا مجبوراً پیاری دانیال کو فون کرکے مشہود کے بارے میں پوچھتی ہے تب دانیال پیاری کو تسلی دیتا خود مشہود کے لیے پریشان ہوجاتا ہے۔ مشہود آفس سے گھر آنے کے لیے نکلا تھا لیکن راستے میں ہی اسے اغوا کرلیا گیا۔ مشہود کے سیل فون سے پیاری کو فون کرکے پانچ کروڑ مانگے جاتے ہیں۔ دانیال اپنے والد (کمال فاروقی) سے جب مشہود کے اغواء ہونے اور مطالبہ میں پانچ کروڑ کی رقم کا ذکر کرتا ہے تو وہ خود بھی پریشان ہوجاتے ہیں مشہود ان کی نظر میں بھی محنت کش اور ایک اچھا انسان ہے لیکن اتنی بڑی رقم کمال فاروقی کسی غیر کے لیے نہیں دے سکتے۔ اس لیے دانیال سے معذرت کرلیتے ہیں۔ سعدیہ (دانیال کی والدہ) کو جب بیٹے کی اس حرکت کا علم ہوتا ہے کہ وہ رات بھر مشہود کے گھر والوں کو تسلی دینے وہاں رک گیا تھا وہ اپنے شوہر کمال فاروقی پر برس پڑتی ہیں ساتھ ہی بیٹے کو بھی دوبارہ وہاں جانے سے منع کردیتی ہیں۔ مانو پھوپو سعدیہ (بھابی) کی خوشی دیکھتے ہوئے رشنا اور عالی جاہ کے رشتہ سے انکار دیتی ہیں۔
(اب آگے پڑھیں)
ژ…ژ…ژ…ژ
مانو آپا نے تو اچانک پینترا بدل لیا تھا… کمال فاروقی حیران پریشان تھے۔
’’کہیں آپ سعدیہ کی دھمکیوں سے تو نہیں ڈر گئیں۔ میرے ہوتے ہوئے آپ کو فکر کرنے کی ضرورت ہی نہیں۔‘‘ کمال فاروقی نے گہری نظروں سے بہن کا چہرہ دیکھا کچھ اخذ کرکے بنا الفاظ کوئی کھوج لگا کر ہی دم لیں گے۔ ’’نہیں نہیں… بے وقوف ہے وہ… اور بے وقوف کی دھمکیاں بھی بلی کی میائوں میائوں ہوتی ہیں شیر کی دھاڑ نہیں جسے سن چرند پرند اپنے سانس روک لیں۔‘‘
’’آپ مجھ سے کچھ نہیں چھپائیں آپا۔‘‘
’’میں بالکل سچ بول رہی ہوں۔‘‘ کمال سعدیہ نے جنگ کا طبل بجایا تو مارے غصے کے مجھے کئی رات نیند ہی نہ آئی… مردوں والی غیرت ایک عورت کو تنگ کرنے لگی… ساری دنیا سوتی تھی اور میں جاگ جاگ کر سوچتی تھی… آخر میں‘ میں نے ذہنی مشقت کی انتہا کو چھولیا اور واپس نیچے آنا شروع ہوئی اور اپنی حماقت پر جی بھر کر سر پیٹا۔ میں بڑی ہوں… میری برداشت بھی بڑی ہونا چاہئے… کیا جاہلوں والا کام کرنے چلی تھی… یہ تو ایسا ہی ہے جیسے عورت کے مسئلے پر دو قبیلوں میں جنگ و جدل شروع ہوگیا ہو… جنگ چھیڑ کر مر جائیں تو ہم بڑے کس کام کے…‘‘ مانو آپا نے کمال فاروقی کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں لے کر ان کے بالوں پر بوسہ دیا۔ بہن کی عظمت دیکھ کر کمال فاروقی کے دل پر رقت طاری ہونے لگی… کتنی ہوش مندی سے وہ لگی آگ بجھا رہی تھیں۔
’’آپ بہت عظیم ہیں آپا…‘‘
’’ارے کوئی عظیم وظیم نہیں… لالچی ہوں… بھائی کے سکھ کی لالچ ہے۔ میرے بھائی کو گھر میں سکھ نہیں ملے گا تو میرے منہ میں خاک اسے روگ لگ جائیں گے… اللہ مجھے وہ دن نہ دکھائے کہ بھائی کی تکلیف دیکھوں…‘‘
’’لیکن عالی جاہ…‘‘ کمال فاروقی نے کچھ کہنا چاہا۔
’’دونوں طرف سے کسی نے نامہ بر کتوبر نہیں اڑائے… لڑکی صورت شکل سے اچھی ہے۔ جہاں سے گزرے گی سب دیکھیں گے… کوئی عشق عاشقی کا کھیل نہیں تھا۔‘‘ مانو آپ کے انداز میں برجستگی تھی۔
’’عشق عاشقی کھیل ہوتی ہے۔‘‘ کمال فاروقی اتنی دیر میں پہلی بار مسکرائے۔
’’آج کل تو کھیل ہی ہے… مار دنیا زمانے شور مچا کر محبت کی شادی ہوتی ہے۔ دوچار دن میں پنچائیت شروع ہوجاتی ہے… ایک دوسرے کی صورت دیکھنے کے روا دار نہیں ہوتے… چھوڑو تم ان باتوں کو۔‘‘ مانو آپا بیزاری سے گویا ہوئیں۔
’’لیکن آپا… جو شے مل جاتی ہے… اس کی قدر نہیں ہوتی اور جو ملتے ملتے رہ جاتی ہے وہ زندگی بھر یاد رہتی ہے۔ عالی جاہ پر ہم ظلم نہیں کریں گے؟‘‘ کمال فاروقی کو ہنوز تردد رہا۔
’’ارے یہ تو تب ہوتا ہے جب لڑکی لڑکے نے بھی فلموں ڈراموں کے سین چلائے ہوتے‘ پرائی بچی کا پیٹھ پیچھا ہے… اللہ سے ڈروں گی‘ نام نہیں دھروں گی… بہت باحیا اور نیک بچی ہے۔ جب ہی تو اس کا حسن دو چند ہے۔ جو دیکھتا ہے سانس روک کر دیکھتا ہے۔ حیا کے بغیر تو عورت کاغذ کا پھول ہے تم عالی جاہ کی فکر نہ کرو۔ سعدیہ سے کہو… رشنا کو انگوٹھی پہنانے کی تیاری شروع کردے۔ سدا سہاگن رہے… اپنے بچوں کی خوشیاں دیکھے۔ مار اولاد کی محبت میں غصہ آگیا تھا۔ آکر معافی مانگ لوں گی۔‘‘ مانو آپا نے پھر کمال فاروقی کے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرا۔
’’آپا… بس… اب کریلے کو نیم پر نہ چڑھائیں… اسے تو چاہئے کہ وہ جھک جھک کر آپ کو سلام کرے۔‘‘
’’کوئی ضرورت نہیں کورس بجا لانے کی… بڑی ہوں کسی پر کوئی احسان نہیں کررہی اور خبردار… تم بھی اس کو ہر وقت برا بھلا نہ کہا کرو۔ اس کی بھاگ دوڑ سے تو تمہارے گھر میں رونق ہے… شام کو آتی ہوں میں اس کے پاس… تم بیٹھو… تمہیں اپنے ہاتھ سے کافی بنا کر پلائوں گی۔ اللہ دنیا جہاں کی بہنوں کے بھائی سلامت رکھے… اور اس دعا کے صدقے میرے بھائی کو بھی۔‘‘ مانو آپا کچن کی طرف جارہی تھیں۔
’’مانو آپا جیسی بہن کے ہوتے ہوئے زندگی میں کس چیز کی کمی رہ جاتی ہے۔‘‘ کمال فاروقی ایسے سکھ سے ہمکنار ہوئے جو کبھی کسی کے لیے نہروان میں تھا۔
ژ…ژ…ژ…ژ
’’دیکھ لوں گی تمہاری پھوپو کو۔ غلط بات پہ ہار ماننا تو میں نے سیکھا ہی نہیں۔‘‘ سعدیہ اپنے بڑے بیٹے بلال سے فون پر بڑے فخریہ انداز میں بات کررہی تھیں۔ جو گزشتہ‘ پانچ چھ سال سے امریکہ میں سیٹل تھا… ’’اب دیکھنا میں کتنی دھوم دھام سے دانیال کی شادی کروں گی۔ بارہ گھوڑوں کی بھگی پر دولہا بنا کر بیٹھائوں گی… سارا شہر بارات دیکھے گا…‘‘
’’ممی اتنی فضول خرچی کی کیا ضرورت ہے؟ پیسہ بڑی محنت سے کمایا جاتا ہے۔ پانچ سال دن رات محنت کی ہے تو میرا سوفٹ ویئر بزنس سیٹ ہوا ہے۔ پاپا بھی بہت محنت کرتے ہیں…‘‘ بلال سمجھانے لگا۔
’’ارے تو پھر اتنی محنت کرنے کی کیا ضرورت ہے کچن اور یوٹیلٹی بلز کے لیے تو ایک لاکھ بہت ہوتے ہیں۔ ارمان پورے کرنے کے لیے تو دولت کماتے ہیں۔ میں تو رشنا کے لیے شاپنگ کرنے یوکے‘ سنگاپور‘ دوبئی جائوں گی بلکہ اسے ساتھ لے کر جائوں گی۔‘‘
’’مائی گاڈ…‘‘ بلال کے منہ سے بے ساختہ نکلا۔
’’میرے ہاں کون سی بچوں کی لائن لگی ہوئی ہے جو سوچ سوچ کر کنجوسوں کی طرح خرچ کروں۔ تمہاری شادی ہوگئی… دانیال کے بعد میں فارغ۔‘‘ سعدیہ اتنی زیادہ خوش نظر آرہی تھیں کہ بلال کی تنقید واعتراض کو خاطر میں نہیں لارہی تھیں۔
ژ…ژ…ژ…ژ
بوا کو ایمبولینس میں لے کر وہ ہاسپٹل تک تو پہنچ گئی تھی۔ پھر اس کے بعد جیسے اس کے اعصاب جواب دینے لگے۔ اعصاب بھی دبائو برداشت کرنے کی ایک حد رکھتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا تھا کسی بھی وقت سر میں ایک دھماکہ ہوگا اور اس کے وجود کے پرخچے اڑ جائیں گے۔ اس نے دانیال کو اس سارے معاملے سے بے خبر رکھا تھا۔ شاید ہر چھوٹی بڑی مشکل پر اسے بلاتے شرم آنے لگی تھی۔ وہ تو دانیال نے سائٹ پر جاتے جاتے گاڑی کا رخ مشہود کے گھر کی طرف موڑ دیا تھا۔ ایک آس بندھی تھی کہ شاید آج اس کی طرف سے کوئی کال آئی ہو۔ اسے پیاری کے رویے سے بھی الجھن ہوتی تھی۔ اب وہ اسے خود سے فون نہیں کرتی تھی اگر وہ فون کرتا تو کئی بار کی ٹرائی کے بعد اٹینڈ کرتی۔ اپنی طرف سے کوئی بات نہ کرتی‘ جی اور ہاں۔ نہیں کے علاوہ کچھ نہ بولتی یہ ایک بڑی عظیم ذہنی اذیت تھی۔ اسی لیے وہ اسے کال کرنے کے بجائے گھر چلا آیا تھا۔ مگر الیکٹرک لاک کی وجہ سے اندازہ نہیں لگایا جاسکتا تھا کہ مکین اندر ہیں یا باہر۔ کھڑا کال بیل رنگ کرتا رہا۔
’’فون اٹینڈ کرنا چھوڑ دیا شاید گیٹ بھی نہیں کھولے گی…‘‘ اس نے بے دم انداز میں سانس لیتے ہوئے سوچا تھا۔ لوگ اپنی راہ چل رہے تھے مگر اسے یوں محسوس ہورہا تھا جیسے ہر گزرنے والا اسے اشارے ہی اشارے میں کہہ رہا ہو کہ ’’میاں دروازہ نہیں کھلتا تو اپنی راہ کیوں نہیں لگتے؟‘‘
مگر اس نے اپنی ذات کی سب سے بہترین خوبی قوت ارادی کو بحال رکھتے جیب سے موبائل نکالا اور پیاری کا نمبر ڈائل کرنے لگا۔ اسے خوش گوار حیرت نے آلیا۔ پہلی رنگ پر ہی کال ریسیو ہوگئی تھی اس سے پیشتر کہ وہ کچھ کہتا۔ پیاری کی آواز ایئر پیس سے ابھری۔
’’بوا کی طبیعت خراب ہوگئی تھی میں ایمبولینس میں انہیں ہاسپٹل لے آئی ہوں۔آئی سی یو میں ہیں۔‘‘ اس کی آواز سے محسوس ہوتا تھا کہ بہت روئی ہے۔
آنسو انسانی زندگی میں روح کے گھر کا مقام رکھتے ہیں۔ کوئی روح آنسوئوں کے غسل سے پہلے نہ یزداں کا ٹھیک ٹھیک ادراک کرسکتے ہیں نہ مقام لاہوت کا اور یہی آنسو محبوب کی آنکھوں سے رواں دواں ہوں تو چاہنے والے کو محبت کی لذت سے ہمکنار کرتے ہیں۔ دو دلوں کی دھڑکنیں‘ کس طرح باہم ہوتی ہیں یہ ادراک‘ یہ شعور حاصل زندگی بن جاتا ہے۔ اس نے
اب صرف ہاسپٹل کا نام پوچھا۔ مزید کوئی بات نہیں کی۔ محبت نے اب اگلے معیار کو چھونے کے لیے قدم بڑھائے۔ خلوص و محبت کی ترویج پر معمور فرشتوں کی فوج ظفر موج میں سے دو فرشتوں نے آگے بڑھ کر دائیں بائیں تھام کر ایک نیا فرض ادا کرنے کے لیے اسے ذہنی طور پر تیار کیا۔
ژ…ژ…ژ…ژ
’’میں مان ہی نہیں سکتی کہ مانو آپا نے اپنے پیارے بھیجتے کے لیے اتنی عظیم قربانی دی ہے۔ ضرور کوئی گڑبڑ ہے۔‘‘ سعدیہ بجائے حیران وخوش ہونے کے پہلے سے زیادہ ہتھے سے اکھڑی ہوئی نظر آرہی تھی۔
’’اپنے دماغ کا علاج کرائو…‘‘ کمال فاروقی نے کھٹ سے لیپ ٹاپ بند کیا اور سوفٹ ویئر استعمال کرنے کی تمام احتیاطیں بالائے طارق رکھ دیں۔ سعدیہ نے صحیح ان کا میٹر گھمادیا تھا۔
’’لومڑی انگور کو کھٹا تب ہی کہتی ہے جب اس کے ہاتھ نہیں لگتے… میرا خیال ہے رشنا کے گھر والوں نے عالی جاہ کا پرپوزل ٹھکرا دیا ہے۔ اب مانو آپا اپنی عزت اور بھرم بچانے کے لیے عظیم بن رہی ہیں۔‘‘
’’خبردار جو تم نے میری ماں جیسی بہن کے لیے ایک لفظ مزید منہ سے نکالا۔ مری جارہی تھی رشنا کو بہنو بنانے کے لیے… آج شام ہی نکاح پڑھائو بیٹے کا…‘‘ کمال فاروقی پوری قوت سے دھاڑے۔
’’ارے واہ… ایسے ہی… اب تو میں پوری چھان بین کروں گی کہ آخر کیا ہوا ہے… جو لوگ رشنا کی خاطر سو سال جنگ کرنے کو تیار تھے ایک دم پیچھے کیوں ہٹ گئے۔‘‘
’’تم جیسی چھوٹے اور تنگ ذہن کی عورت میری بہن کی کردار کی بلندی کو اپروچ ہی نہیں کرسکتی۔‘‘
’’مجھے میرا کام بتائو اور دانیال کے نکاح کی تیاری کرو… آپا بتا رہی تھیں ہم لوگ پرپوزل لے کر جائیں گے تو منظور ہوجائے گا۔ آپا بہت سمجھ داری سے راستہ ہموار کرچکی ہیں۔‘‘ کمال فاروقی نے بمشکل اپنا غصہ کنٹرول کرکے عملی اقدامات کی تیاری کی۔
’’یا تو رشنا میں کوئی گڑ بڑ ہے یا……‘‘
’’اسٹاپ اٹ…‘‘ کمال فاروقی پھر دھاڑے۔ ’’شرم کرو… پرائی بیٹی کے بارے میں سوچ سمجھ کر بات کرو۔‘‘
’’دانیال کی شادی اب رشنا ہی سے ہوگی… رشنا کے گھر فون کرکے بتادو کہ ہم شام کو آرہے ہیں۔‘‘
’’کمال…‘‘
’’نہ کمال نہ جمال… اب جو میں کہہ رہا ہوں وہی ہوگا۔ جائو جاکر اپنا کام کرو۔ ورنہ میں کسی ہوٹل کے روم میں جاکر ریسٹ کرلوں گا۔‘‘ کمال فاروقی انتہا کو چھو رہے تھے۔ ’’بری سے بری بیوی کو بھی پتہ ہوتا ہے کہ کب چپ ہوجانا چاہئے ورنہ……‘‘ سعدیہ کمرے سے باہر چلی گئی تھیں۔
…٭٭٭…
آئی سی یو میں بوا کے سرہانے‘ دائیں بائیں اتنی مشینیں رکھی تھیں کہ شیشے سے اندر جھانکتے ہوئے پہلا خیال یہی آتا تھا کہ خدانخواستہ ان کی کلینک ڈیٹھ واقع ہوچکی ہے اور اب ورثاء کو بہلایا جارہا ہے۔ پیاری دیوار سے پشت ٹکائے ساکت وصامت کھڑی تھی۔ دانیال یوں ٹہل رہا تھا جیسے صبح کی واک کررہا ہو… گاہے بگاہے نظر اٹھا کر پیاری کی طرف دیکھ لیتا تھا۔ مرد وعورت کی تنہائی کی بابت دانشوران قدیم و حکمائے جلیل نے بڑے سخت محتاط انداز میں عوام الناس کو خبر دار کیا ہے‘ بڑھے بوڑھے اسے عام سے انداز میں آگ اور پھونس کا کھیل کہتے ہیں۔
مگر مرد وعورت کی تنہائی ایسی قیامت صغریٰ میں بھی ہوسکتی ہے جسے قیامت کبریٰ کی لمحاتی جھلک بھی کہہ سکتے ہیں۔ قیامت کبریٰ جب ماں گود کا بچہ پھینک کر وحشتوں میں سرگرداں‘ نو مہینے کی گابھن اونٹیناں کھلی پھریں گی۔ سیارے مدار چھوڑ بیٹھے ہوں گے۔ پہاڑوں کے قدم اکھڑ چکے ہوں گے ہر انسان کے حصے میں آنے والی قیامت صغریٰ کی الگ تشریح ہے۔ جو اس کی زندگی میں آنے والے حادثات و واقعات کے کسی انجام یا پنچ لائن پر منتج ہوتی ہے۔
اس وقت پیاری ایک قیامت صغریٰ سے گزر رہی تھی۔ اس کا پورا وجود وحشت کی مٹھی میں مقید تھا۔ اس کی بلا سے قریب دانیال تھا یا کوہ قاف سے اس کی تلاش میں آنے والا کوئی شہزادہ یا اس کے رستے زخموں پر مرہم رکھنے وال اکوئی حاذق طبیب۔ زندہ بھائی آنکھوں سے دور… اور مثل مادر بہشتن بوا بستر مرگ پر…
’’میرا خیال ہے رات تک بوا کو مکمل ہوش آجائے گا۔‘‘ دانیال نے محض سکوت توڑنے کی نیت سے بات کی۔
’’خیال میں تو سب کچھ ہے… یہ بھی ممکن ہے کہ میں کھڑے کھڑے بغیر مرے جنت میں پہنچ جائوں… بڑی سے بڑی اور بہت خوف ناک حقیقت کو بھی فیس کرسکتی ہوں۔ اتنے گھپ اندھیرے میں خود کو دھوکہ دینا اچھی بات نہیں ہوتی اسی لیے تو کہتے ہیں جو ڈرتے وہی مرتے ہیں۔‘‘ پیاری نے اپنے خشک ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے بڑے حوصلے سے بھاری بھر کم الفاظ ادا کیے اور دانیال کو دم بخود کردیا۔
اس فصیح البیانی کے سامنے اس کے سارے الفاظ معذور ہوگئے۔ پیاری کے گلابی ہونٹ خشک ہوکر سفید پڑ چکے تھے۔ رت جگے نے آنکھوں کے گرد سرمئی ہالہ کھینچ دیا تھا۔ بال گندھی ہوئی چوٹی سے نکل کر لٹوں کی صورت شانوں اور گردن پر بکھرے ہوئے تھے۔ دوپٹہ جانے کب سر پر رکھا تھا۔ کچھ سر پر کچھ کاندھے پر باقی چمکتی ٹائلوں پر پڑا ہوا تھا۔ اسی سے اندازہ ہوتا تھا کہ وہ اس وقت ماحول میں مکمل طور پر موجود نہیں۔
’’آپ اپنا کام کریں۔ یوں میرے ساتھ کھڑے رہنے سے میرے حالات پر کیا فرق پڑے گا یا حالات بدل جائیں گے؟‘‘ پیاری کو یوں محسوس ہونے لگا تھا گویا دانیال کے احسانات کا بوجھ بڑھتا جارہا ہے۔ اس نے لٹی پٹی ویران سی پیاری کو اب بہت اعتماد اور توجہ سے دیکھا۔
’’ آپ ساتھ دینے کی نیت باندھ لیں پیاری… حالات کچھ تو بدلیں گے۔ میں آپ کو اکیلا چھوڑ کر صرف موت کے فرشتے کے ساتھ ہی اکیلا جاسکتا ہوں… اب ہم ایسے موڑ پر کھڑے ہیں کہ آخری وانتہائی فیصلہ کرنا ہوگا۔ آپ کو اکیلا چھوڑ کر اپنی دنیا میں مگن ہوجائوں… اتنا بڑا رسک نہیں لے سکتا۔ خدانخواستہ بوا کو کچھ ہوگیا تو میں آپ کو اپنے گھر لے جائوں گا۔ وہ گھر جہاں میرے ماں باپ رہتے ہیں۔ کیونکہ میں اس گھر میں آنے جانے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں رکھتا جہاں اکیلی لڑکی رہتی ہے۔ بس اب آپ میرے آنے جانے کی فکر میں دبلی نہ ہوں…‘‘ دانیال نے سارے رت جگوں کا کھڑے کھڑے حساب بے باق کرکے پیاری کا سکتہ توڑ دیا تھا۔
وحشتوں کے جنگل میں ڈھونڈنے والے کی طرح تو پیارا تھا۔ وہ سحر آفرین ایجاب وقبول جو پورے چاند کی شرط پوری ہونے کا منتظر ہوا کرتا ہے… یوں پلک جھپکتے میں سرزد ہوا… گویا نشانہ بندھتے ہی تیر چل گیا۔ ازخود ریویو کا موقع ہی نہ ملا۔
دانیال آگے بڑھا اور اس نے پیاری کا ٹھنڈا برف ہاتھ تھام لیا۔ پیاری یوں لرز لرز گئی گویا کسی نے اچانک اس کی عصمت پر حملہ کردیا ہو مگر دانیال کی گرفت سے اپنا نرم ونازک ہاتھ چھڑانے کی نہ قوت تھی نہ چاہ۔ اسے کیا پتا تھا کہ گھپ اندھیروں میں جسے وہ پتھر کا ٹکڑا سمجھ رہی تھی وہ تو چراغ تھا جو روشن کیے جانے کا منتظر تھا۔ ذرا سی روشنی ہوئی اور امید یقین گمشدہ دوستوں کی طرح پھر سے اس کے گلے سے آلگے۔ یہاں تک گمان ہوا کہ ابھی فون کی گھنٹی بجے گی اور وہ مشہود کی آواز سنے گی۔ بوا آئی سی یو سے اپنے پائوں پر چلتی باہر آجائیں گی۔ سورج پر پڑے بادل چھٹ جائیں گے مطلع صاف ہوجائے گا۔ رات کو چاند نکلے نہ نکلے اسے تارے گننے کی فرصت نہیں ملے گی۔ دانیال اسے کندھوں سے تھامے ہاسپٹل کے کیفے ٹیریا کی طرف بڑھ رہا تھا۔
ژ…ژ…ژ…ژ
دانیال آنکھیں پھاڑے ماں کی طرف دیکھ رہا تھا۔
’’ٹھیک ہے میرا بہت دل تھا اس لڑکی پر… مگر تمہاری پھوپو بھی اس پر مری جارہی تھیں۔ ایسے کیسے ہاتھ اٹھالیا… مجھے تو شک پڑتا ہے ضرور کوئی مسئلہ ہے ورنہ تمہاری پھوپو بھائی چھوڑ دیتیں رشنا نہ چھوڑتیں۔ اب تو میں پوری انوسٹی گیشن کروں گی۔ تب ہی کوئی فیصلہ کروں گی۔‘‘
’’کیسا فیصلہ؟‘‘ دانیال نے خود کو دھوکہ دیتے ہوئے سوال کیا۔ اس سے زیادہ فیصلے کا مطلب کون سمجھ سکتا تھا۔
’’ارے… رشنا کو بہو بنانے یا نہ بنانے کا۔‘‘ سعدیہ نے فوراً جواب دیا۔
’’بس ممی آپ پریشان نہ ہوں اور رشنا کو بہو نہ بنانے کا فیصلہ کرلیں اور ایک طرف ہوجائیں گی تو خودبخود سب ٹھیک ہوجائے گا۔‘‘ دانیال کو راہ نجات نظر آئی تو اس نے مفید مشورہ دینے میں ذرا دیر نہ لگائی اور رکی ہوئی سانس بہت اہتمام سے خارج کی۔
’’ارے واہ… اب تو یہ میری انا کا مسئلہ ہے۔ بات بھلے ختم ہو مگر لوجک پروسس سے گزر کر…‘‘
’’ممی پلیز… زندگی اتنی فالتو نہیں ہے کہ سارے ضروری کام چھوڑ کر انا کی جنگ میں جھونک دیں… اس ایک زندگی میں بڑے بڑے اچھے کام کیے جاسکتے ہیں… پھوپو نے رشنا کے لیے انکار کردیا ہے۔ میری طرف سے بھی انکارہے۔ بس اب سلسلہ یہیں ختم ہوگیا۔ مجھے اتنا ڈسٹرب نہ کریں کہ یہ گھر ہی چھوڑدوں…‘‘ دانیال اب سچ مچ جھنجلا گیا اور سعدیہ کی بات سنے بغیر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔
سعدیہ اپنی جگہ ہکابکا بیٹھی رہ گئیں۔
’’انکار…؟ ابھی کہاں سے انکار… ابھی تو بال کی کھال نکلے گی…‘‘ سعدیہ پر دانیال کی دھمکی کا مطلق اثر نہ ہوا تھا۔
ژ…ژ…ژ…ژ
’’بھینسوں کی لڑائی میں جھنڈوں کا نقصان… ارے ان کے آپس کے خاندانی جھگڑے چل رہے ہیں۔ ہمارا مفت میں تماشہ بن رہا ہے۔ ارے تمہاری لڑکی کو رشتوں کی کمی ہے…‘‘ رشنا کی تائی خیرالنساء جن کا درحقیقت نام شرالنساء ہونا چاہئے تھا… بباطن بغلیں بجا رہی تھیں۔ بظاہر چہرے پر اپنائیت وہمدردی کے ڈونگرے برس رہے تھے۔ دیورانی کو غیرت کے معاملے میں پکا کرنے کے مشن پر صبح سے ان کے کمرے میں دھرنا دیے بیٹھی تھیں۔ جب سے ان کے راج دلارے دلدار علی کو ان کے دیور دیورانی نے ٹھکرایا تھا وہ ایک ان دیکھی آگ میں جلتی رہتی تھیں۔ مانو آپا جیسی معتبر خاتون نے اپنے بیٹے کے لیے سوال ڈالا تو بستر پر کانٹے بچھ گئے۔ چاروں کونوں میں اتنی پھونکیں ماریں کہ سانس کی تکلیف نئے سرے سے شروع ہوگئی۔ ہر وقت پمپ ہاتھ میں دکھائی دینے لگا۔
’’آخر اللہ نے ان کی سن لی۔‘‘ مانو آپا جواب دے کر بھی چلی گئیں مگر ساتھ ہی یہ کہہ گئیں وہ اب اپنے بھائی کے ساتھ ان کے بیٹے کے لیے رشتہ ڈالنے آئیں گی جو عالی جاہ سے ہزار درجہ بہتر ہے۔ رشنا کی ماں میمونہ اور باپ اسد حسین کو حیرت نے آلیا بلکہ دم بخود کردیا۔ مانو آپا دنیا کی واحد ماں تھیں جو اپنے بیٹے پر بھتیجے کو ترجیح ہی نہیں دے رہی تھیں اس کا کلمہ بھی پڑھ رہی تھیں۔ میمونہ نے خیرالنساء کو آدھی بات بتائی تھیں اور آگے کے روشن امکانات کو ان سے اس لیے مخفی رکھا تھا مبادا وہ نہ ہو جو مانو آپا کہہ گئی تھیں تو خیرالنساء کے سامنے بڑی ہزیمت اٹھانا پڑے گی۔ اب بے چاری سادہ لوح میمونہ کو یہ تو نہیں پتہ تھا اگر انہوں نے خیرالنساء کو ساری بات بتا دی ہوتی تو ان کے سرہانے آکسیجن کا سلینڈ دھردیا جاتا۔
رشنا کی آنکھیں بات بے بات بھیگ جاتیں تو ماں کو عجیب سا احساس جرم ستانے لگتا۔
’’کہیں میری بچی کو عالی جاہ سے انسیت تو نہیں ہوگئی تھی کیونکہ ہر پل اس کی آنکھوں میں آنسو چمکنے لگتے تھے۔‘‘ انہیں ذرا دھیان نہ آیا کہ آنسو تو اس وقت بھی چمکتے رہتے تھے جب عالی جاہ کے پیام کو شرف قبولیت بخشا گیا تھا۔
’’بیٹا اللہ پر بھروسہ رکھو۔ اللہ کے ہر کام میں بہتری ہوتی ہے۔ تمہارا کون سا نکاح ہوا تھا۔ دل چھوٹا کرنے کی ضرورت نہیں۔ اللہ اپنی جناب سے تمہارے لیے ضرور نیک بر بھیجے گا۔‘‘ وہ رشنا کو محبت سے سمجھانے بیٹھیں تو وہ آنسو پونچھتی کسی اور طرف چل پڑی۔ ’’بڑے بوڑھوں سے سنا ہے کنواری پائوں پٹختی ہے تو بر مانگتی ہے۔ مگر میری بچی چلتی ہے تو پائوں کی آواز نہیں آتی۔‘‘ میمونہ ازحد متفکر ہوکر سوچ رہی تھیں۔
ژ…ژ…ژ…ژ
’’ارے کہیں بھاگی جارہی ہے جو آج ہی رشتہ پکا کرنے جائیں۔ پہلے مجھے ٹھیک سے چھان بین کر لینے دیں۔‘‘ سعدیہ نے بمشکل ماتھے پر پڑی شکنیں مٹاتے ہوئے کمال فاروقی کو رسانیت سے جواب دیا۔
’’نہیں آج ہی چلنا ہے۔ تم نے میری ماں سمان بہن کا تماشہ بنایا ہے اور وہ جو تم نے میری ماں کی نشانی ہیرے کی انگوٹھی سنبھال کر رکھی ہوئی ہے وہی اپنے پرس میں ڈال لو۔ آج ہی بات پکی ہوگی… مانو آپا اپنے گھر سے سیدھی وہیں پہنچیں گی۔‘‘
’’کمال… اتنی جذباتیت آپ کے مزاج میں نہیں ہے۔ ضرور کسی نے آپ کو خوب اچھی طرح چڑھایا ہے۔‘‘ سعدیہ نے اپنی مخصوص خودسری کے ساتھ جواب دیا۔
’’سعدیہ مجھے زیادہ غصہ نہ دلائو… ورنہ آج ہی دانیال کا نکاح بھی پڑھادوں گا اور رشنا کو رخصت کراکر بھی لے آئوں گا۔ جلدی سے جاکر تیار ہوجائو میں صرف اس کام کی وجہ سے اپنے دس ضروری کام چھوڑ کر آیا ہوں۔‘‘
’’جاکر کرلیں اپنے دس ضروری کام۔ مجھے کوئی جلدی نہیں۔‘‘ سعدیہ نے اسی ڈھٹائی کے سات پتھر چھوڑے۔
’’سمجھ میں نہیں آتا تم کس مٹی سے بنی ہو۔ عالی جاہ کا رشتہ رشنا سے کسی صورت نہ ہو۔ اس کام میں گند کرنے کے لیے تم نے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ کیا تمہارا مقصد صرف میری بہن کی بے عزتی کرنا تھا؟‘‘ کمال فاروقی بری طرح برس پڑے۔ ان کی آواز اتنی بلند تھی کہ فرسٹ فلور پر دانیال کے بیڈ روم تک پہنچ گئی جو ہاسپٹل جانے کے لیے جلدی جلدی تیار ہورہا تھا۔ گرتا پڑتا ماں باپ کی خواب گاہ تک پہنچا۔
’’کیا ہوا پاپا…؟‘‘ وہ حیران پریشان دونوں کی طرف دیکھ رہا تھا۔ تمہاری ممی رشنا کو انگوٹھی پہنانے جارہی ہیں۔ تم ساتھ چلنا چاہو تو چل سکتے ہو۔ ویسے تو ان کی فیملی نے تمہیں مانو آپا کے گھر کئی بار دیکھا ہوا ہے۔‘‘ کمال فاروقی نے بمشکل خود کو سنبھال کر قدرے نرمی سے کہا۔
’’جی…؟ انگوٹھی پہنانے رشنا کو…؟ کیا مطلب؟‘‘ دانیال بری طرح گڑبڑایا۔
’’انگوٹھی پہنانے کا کیا مطلب ہوتا ہے۔ تمہاری ماں کی پسندیدہ لڑکی سے تمہاری شادی ہونے جارہی ہے۔‘‘ کمال فاروقی کے لہجے میں طنز کی آمیزش نمایاں تھی۔
’’ارے فالتو میں بحث کیے جارہے ہیں۔ مجھے اتنی جلدی نہیں ہے۔ جس لڑکی کو مانو آپا نے ایک سیکنڈ میں ٹھکرادیا… بنی بنائی بات ختم کردی۔ اب میں اتنی آسانی سے…‘‘
’’میں کہتا ہوں اب اپنی بکواس بند کرو۔‘‘ کمال فاروقی کی برداشت مکمل طور پر ختم ہوگئی تھی۔ ’’میری بہن نے خاندان کو بکھرنے سے بچانے کے لیے اتنی بڑی قربانی دی۔ اور یہ عورت ان پر شک کررہی ہے۔‘‘ کمال فاروقی نے اب ہر مصلحت‘ روا داری‘ اٹھا کر بالائے طاق رکھ دی اور بیٹے کی موجودگی کا بھی ذرہ برابر لحاظ نہیں کیا۔
’’کیا ہر وقت بہن کی مالا جپتے رہتے ہیں۔ خدمت میں کروں‘ گھر کے کام میں دیکھو۔ ٹھنڈا گرم میری ذمہ داری‘ موزے کا ایک پائوں نہ ملے تو میں ڈھونڈوں‘ صاحب میٹنگ سے دیر سے آئیں تو میں جاگوں۔ جاکر اپنی بہن سے کروائیں خدمتیں۔ میرے سر پر کھڑے کیوں چلا رہے ہیں؟‘‘ سعدیہ کو بیٹے کی موجودگی نے اب شیرنی بنادیا تھا۔ کمال فاروقی کے چیخنے دھاڑنے سے ان پر مطلق کوئی اثر نہ ہوا۔
’’خدمتیں کرتی ہو تو عیش بھی تو تم ہی کرتی ہو۔ وہ تو مجھ سے بے غرض محبت کرتی ہیں۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ انہوں نے اپنی خواہش میرے سکون کی خاطر قربان کردی۔ ساری ناشکری عورتیں جہنم میں جائیں گی اور جانا بھی چاہیے۔‘‘ کمال فاروقی نے باندھی ہوئی ٹائی گلے سے اتار پھینکی۔
’’پلیز… آپ لوگ مجھ سے بھی پوچھ لیں میں اس ایمرجنسی کی منگنی کے موڈ میں بھی ہوں یا نہیں۔‘‘ اس سے پیشتر سعدیہ بول پڑتیں۔ دانیال نے ایک بم اپنی طرف سے پھوڑا۔ سعدیہ اور کمال فاروقی اب ہکابکا ہوکر دانیال کی طرف دیکھنے لگے۔
’’پلیز پاپا… آپ ریسٹ کیجئے۔ میری وجہ سے اپنا بی پی شوٹ کرنے کی ضرورت نہیں۔‘‘ یہ کہہ کر دانیال رکا نہیں تیزی سے باہر نکل گیا۔
سعدیہ بھی پیچھے پیچھے چل پڑیں جاتے ہوئے بیڈ روم کا دروازہ بند کرنا نہیں بھولیں۔
ژ…ژ…ژ…ژ
’’پہلے میں نے سوچا تھا آپ کو اور بوا کو اپنے گھر لے جائوں گا۔ وقت بے وقت آپ کے گھر جانا اچھا نہیں لگتا۔ مرد کو تو دنیا کی باتوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا مگر عورت کے معاملات بہت نازک اور حساس ہوتے ہیں۔ مگر اب میں اسی بات کو کسی اور طرح سوچ رہا ہوں اور آپ سے کھل کر شیئر کرنا چاہتا ہوں۔‘‘ صبح کی نئی نویلی دھوپ ہاسپٹل کے وسیع وعریض سرسبز لان میں بکھری ہوئی تھی۔ دانیال پیاری کے ساتھ سنگی بیچ پر بیٹھا بہت سنجیدگی سے بات کررہا تھا۔
’’آپ نے اپنے پیرنٹس سے بات کی یا خود ہی سوچے جارہے ہیں۔‘‘ پیاری دانیال کی دلیل سے قائل ہوتی تو نظر آئی مگر ابھی الجھنیں باقی تھیں۔
’’ہمارے گھر میں ایک پورشن ہے جس کا داخلی دروازہ الگ ہے۔ پہلے کرائے پر دیا تھا مگر کرائے داروں نے بہت تنگ کیا۔ ممی نے کہا کہ آئندہ وہ کرائے داروں کی دردسری نہیں پالیں گی حالانکہ اچھا خاصہ کرایا ملتا تھا خیر۔‘‘ دانیال کو خود ہی احساس ہوگیا کہ وہ بات کو کہیں سے کہیں لے جارہے ہے سو اس نے جلدی سے اپنی بے احتیاطی کی خود ہی اصلاح کرتے ہوئے اپنے خاص موضوع پر واپسی کی راہ اختیار کی۔
’’میں پاپا سے بات کرنا چاہتا تھا مگر وہاں دوسری باتیں شروع ہوگئیں۔‘‘
’’دوسری باتیں؟‘‘ پیاری نے چونک کر دانیال کی طرف دیکھا۔ بے بی پنک کلر کی ٹی شرٹ اور جیٹ بلیک کلر کی ڈریس پینٹ میں ملبوس دانیال بہت نکھرا نکھرا نظر آنے کے باوجود کھلا ہوا محسوس نہیں ہوتا تھا۔ اس کے بھرے بھرے ہونٹوں پر گھنی مونچھوں کے سائے خمیدہ تھے۔ بھرپور جوانی اس پر مستزاد غیرت مندوں کی سی احتیاط وپارسائی… وہ صرف بے خیالی میں ہی پیاری کا چہرہ دیکھتا تھا۔ جان بوجھ کر اس نے ایک مرتبہ بھی پیاری کو بہت توجہ وغورسے نہیں دیکھا تھا۔ مباداً گردشوں کی ستائی ہوئی پیاری کے احساسات کو ٹھیس نہ لگے اور حقیقت یہ تھی کہ یہ پیاری سے سچی محبت کا ہی کرشمہ تھا کہ وہ اس وقت صرف اس کے دکھ کا ساتھی تھا۔ نفس کو اس نے سو کوس سے لعنت دکھائی تھی۔ پیاری کی نظر اس پر پڑی اور اس نے کمزوری کی انتہاء محسوس کرتے ہوئے سوچا۔
’’مجھے دانیال کی انگلی پکڑ کر چلنا ہے۔ ورنہ اجنبی چہروں کی بھیڑ میں گم ہوجائوں گی۔‘‘
’’ہاں… دوسری باتیں… میری شادی کی باتیں…‘‘ دانیال نے بہت اعتماد اور واضح انداز میں کہا۔
’’شادی…؟‘‘ پیاری کو اب پھر اس کی طرف دیکھنا پڑا۔ اس دیکھنے میں اس لٹ جانے والے کیفیت تھی‘ جو سارا سودا خریدنے کے بعد جیب میں ہاتھ ڈالے تو پتہ چلے جیب کٹ گئی ہے۔ ابھی تو صرف انگلی پکڑنے کے احساس سے دل مضطر کو قدرے قرار ملا تھا۔ مگر یہ کیا…
’’آپ کی شادی ہورہی ہے؟‘‘ اس نے اپنی نسوانی انا کو بڑی مشکل سے کھینچ کھانچ کر کھڑا کیا۔
’’میرا دوست لاپتہ ہے اس کی فیملی پریشان حال ہے اور میں شادی کروں گا؟ وہ بھی اپنے پیرنٹس کی فرمائش پر… کمال کرتی ہیں آپ۔‘‘ دانیال نے اس کی طرف دیکھنے سے شعوری طور پر گریز کیا۔
’’آپ خود ہی تو کہہ رہے ہیں…‘‘ پیاری نے اپنی دو چند حیرانی کو آدھا کیا اور سکون سے ضمنی سوال کیا۔
’’گھر میں باتیں شروع ہوئی ہیں… وہ بھی بہت زور شور سے… اور مجھے خطرہ ہے کہ کسی بھی وقت مجھے اموشنلی پریشرائز کیا جائے گا۔ ایکچوئلی شادی کا تو بس نام ہے یوں سمجھیں دو قبیلوں میں جنگ چھڑ گئی ہے اور میں دونوں قبیلوں کا مفرور ہوں۔‘‘ دانیال نے مسکرا کر سامنے یوں دیکھا جیسے کوئی کھڑا اسے اشارے کررہا ہو۔
پیاری کے خاک پلے نہیں پڑا۔
’’بوا کی حالت کچھ بہتر ہوئی ہے۔ وہ پیرالائز ہوگئی ہیں۔ کسی بھی وقت گھر لے جایا جاسکتا ہے اور اس سے پہلے بہت کچھ کرنا ہے۔‘‘ دانیال نے بہت سنجیدگی اور اعتماد سے اب پیاری کی صورت باقاعدہ تکتے ہوئے کہا۔
’’کیا کرنا ہوگا؟‘‘ دل کو تو بس اچھلنے کا بہانہ چاہئے ہوتا ہے۔
’’ہم آج ہی شادی کریں گے۔ میں آپ کو اپنی بیوی کی حیثیت سے اپنے گھر لے جانا چاہتا ہوں۔ اس حالت میں نہیں کہ لوگ آپ پر ترس کھائیں اور آپ لوگوں سے زیادہ خود پر ترس کھائیں۔ جب مجھے شادی ہی آپ سے کرنا ہے تو آپ کو فضول کے مینٹلی ٹارچر سے کیوں گزاروں؟ جب کہ میں بہت اچھی طرح جانتا ہوں کہ مجھے آپ کے علاوہ کوئی اور چاہیے ہی نہیں۔ تو میں آپ کو اس وقت ریلیف کیوں نہ دوں۔ جب آپ کو اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ آپ کی اور میری شادی دو سال چار سال بعد بھی ہوسکتی ہے مگر مشہود کی غیرموجودگی میں کوئی ریسک افورڈ نہیں کیا جاسکتا۔‘‘ دانیال یوں بول رہا تھا جیسے کوئی اینکر بہت نپا تلا تجزیہ پیش کررہا ہو اور انتظامیہ کی جانب سے نیوٹرل نظر آنے کی سختی سے تاکید ہو۔ محسوس ہی نہیں ہورہا تھا کہ اس کی ذاتی زندگی کا معاملہ ہے اور وہ جذبات کا منہ چڑا رہا ہے۔ تب ہی تو پیاری کو آنکھیں پھاڑ کر اس کی طرف دیکھنے کا حوصلہ بھی ملا تھا۔ ورنہ لطیف بات پر تو بیوی بھی نظر چرا لیتی ہے اس کا اور دانیال کا ساتھ تو تمام نزاکتوں کے مراحل سے گزر رہا تھا۔ مگر اس طرح سے جیسے دو مختلف سمتوں سے آئے ہوئے مسافر پلیٹ فارم پر بیٹھے مطلوبہ ٹرین کے آنے تک ادھر ادھر کی باتیں کررہے ہوں۔
’’اس طرح کیا دیکھ رہی ہیں؟ آپ کی پریشانی کے لیے بہت لوازمات بکھرے ہوئے ہیں جو میں کوشش کے باوجود سمیٹ کر سمندر میں نہیں پھینک سکتا مگر آپ کی تنہائی کا سچا ساتھی تو بن سکتا ہوں… یا آپ کو کوئی اور تو پسند نہیں وغیرہ وغیرہ… میں جانتا ہوں آپ مجھ سے صرف محبت نہیں کرتیں ٹوٹ کر محبت کرتی ہیں۔ یار وہ کتنا بڑا احمق ہے جو ایک خاموش خاموش سی لڑکی کے دل پر لکھی ہوئی تحریر بھی نہیں پڑھ سکتا۔ یہی وہ خالص پن ہے جو روحیں پہچانتی ہیں۔ مشہود ہمارے درمیان ہوتا تو شاید شادی کی نوبت ہی نہ آتی۔ میں آپ سے یہ سب کچھ کہتا ہی نہیں۔ دوست کا دل نہیں توڑتا۔ اپنا توڑ لیتا۔ میں بے وقوفوں کی طرح آپ سے وہ بات سننے کے لیے اصرار نہیں کروں گا جو مجھے پتہ ہے۔‘‘ دانیال بول رہا تھا۔ وہ بس سن رہی تھی۔ شمس وقمر کا طلوع وغروب عین فطرت ہے۔ کوئی نہیں کہتا کہ یہ کیوں نکلتے ہیں کیوں ڈوبتے ہیں۔ اب اس وقت بھی فطرت خود کو منوانے پر مصر تھی۔
وہ لب بستہ سچائی کا سامنا کررہی تھی۔ حیرت کدے میں آئینوں کا سلسلہ تھا۔ نظر اٹھانے کی تاب نہیں تھی۔ دانیال اسے گہرے سمندر میں غوطہ زنی پر لگا کر جاچکا تھا۔
بوا اندر وارڈ میں زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہی تھیں۔ دور تک خود کو تنہا پاکر اسے منظر پر صرف دانیال نظر آرہا تھا۔ وہ تنہا گھر پر نہیں رہ سکتی۔ دانیال کے گھر میں اگر وہ رہتی ہے تو کتنے دن۔ بھائی کی جدائی کا پہاڑ کاندھوں پر دھرا تھا۔ فون کالز کا سلسلہ بند ہونے کے بعد صرف اندیشے اور وسوسے اس کا اثاثہ تھے۔ بوا ذہنی اور جسمانی لحاظ سے مفلوج ہوچکی تھیں وہ مصر کی ممی کو گھر میں سجا کر آٹھ پہر کس طرح کاٹے گی؟ دانیال مرد تھا اس کا ذہن نازک صورت حال میں کوئی حل نکالنے کے لیے مستعد تھا اور اس نے نکالا بھی تھا۔ مگر پیاری ایک غیر شادی شدہ لڑکی تھی جسے بہت احتیاط سے قدم رکھنا تھے۔ یہ اس کی سماجی اور اخلاقی پابندی تھی۔ زندگی نے عظیم آزمائش کے دور میں لاکھڑا کیا تھا۔ بھائی کی جدائی میں اتنے آنسو بہا چکی تھی کہ لگتا تھا جسم کا سارا خون آنسوئوں میں ڈھل کر آنکھوں کے راستے بہہ گیا تھا۔ ہمہ وقتی تھکن اور اداسی نے زندگی کی ساری توانائیاں چوس لی تھیں۔ مگر دانیال نے جو فیصلہ کیا تھا وہ باقی کی پوری زندگی پر حاوی ہونے جارہا تھا۔ خفیہ شادی تو لڑکی کو اور زیادہ غیر محفوظ کردیتی ہے۔ یہ اس بحران کا حل نہیں ہوسکتی۔ اس کی روح نے فراست کی بلندیوں کو چھولیا۔ دل کی ہر دھڑکن انکار بن گئی۔
’’سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔‘‘ دانیال آئے گا تو وہ صاف صاف کہہ دے گی یہ اس کے مسائل کا حل نہیں ہے۔ اس نے بڑے اعتماد سے بہرحال فیصلہ کرلیا۔ محبت شرائط سے پاک ہوتی ہے۔ جہاں شرائط ہوتی ہیں وہاں سودے بازی ہوتی ہے۔
دانیال اس کی زندگی میں آنے والا پہلا اور آخری مرد تھا اور اتنا باخبر تھا کہ اس کے دل سے کان لگا کر رکھتا تھا۔ کسی اور بھلے وقت میں یہ انکشاف کہ وہ اس کی چاہتوں کی شدت سے باخبر ہے خوشی کی معراج بن جاتا مگر جیتا جاگتا جوان بھائی جو اس کی ماں بھی تھا اور باپ بھی اس کی جدائی کا دکھ اتنا بوجھل تھا کہ دنیا کی کوئی خوشی اس بوجھ کو ہلکا نہیں کرسکتی تھی‘ پھر اس نے خود اپنے کانوں سے سنا تھا مشہود دوستی کو رشتے داری میں بدلنے کے لیے ہرگز تیار نہ تھا۔ اگرچہ سگا بھائی اس کا قانونی و مذہبی حق ضائع کرنے کی بات کررہا تھا مگر احسان مندی کا تقاضا تھا کہ اس کے جذبات کا احترام کیا جائے۔ فیصلہ ہوگیا تھا۔ دانیال اس کی زندگی تھا مگر اسے دانیال کے بغیر ہی زندگی گزارنا تھی۔
ژ…ژ…ژ…ژ
’’ممی! ہوسکتا ہے آج رات میں گھر نہ آئوں مگر فکر نہ کریں صبح جلدی آجائوں گا۔‘‘ دانیال حفظ ماتقدم کے تحت سعدیہ سے بات کررہا تھا۔ اگر چہ اسے خود بھی پتہ نہیں تھا کہ آیا وہ جو کچھ کرنے کا ارادہ کررہا ہے اس میں وہ کامیاب ہوگا یا ناکام۔
’’خیریت؟ شہرسے باہر جارہے ہو…‘‘ سعدیہ خود ایک فنکشن کی تیاری میں مصروف تھیں جو ان کے اپنے سوشل سرکل میں ہورہا تھا۔ جس سے ان کے شوہر کمال فاروقی کا دور دور تک کوئی علاقہ نہ تھا۔ یہ بینکوں کے قرضے کھانے والوں کی بیگمات کی ایک سوشل ویلفیئر کے نام پر تنظیم تھی جس کی وہ روح رواں تھیں۔ شوہروں کی مالی بے قاعدگیوں کو چھپانے کے لیے یہ ایک پلیٹ فارم تیار کیا گیا تھا اور کمال فاروقی کی نیک نامی کو اپنے مقاصد میں استعمال کیا جارہا تھا۔ سعدیہ اس مکڑی کے جال سے بے خبر بس اسی بات پر خوش تھیںکہ ہر جگہ فیتہ کاٹنے اور ڈونیشن کی تقسیم کے لیے انہیں مدعو کیا جاتا تھا۔ اس لیے دانیال کی غیر موجودگی کی وجوہات پر غور وخوض کرنے کی انہیں فرصت نہیں تھی۔ شہر کی مشہور اور مہنگی ترین بیوٹیشن سے ٹائم لیا ہوا تھا وہاں پہنچنے کی عجلت سوار تھی۔
’’بس خیریت ہی ہے۔ غالباً آبھی سکتا ہوں۔ آپ پریشان ہوجاتی ہیں اس لیے پہلے سے احتیاطً بتارہا ہوں۔‘‘ دانیال نے نظر چراتے ہوئے کہا۔
’’ظاہر سی بات ہے بچہ رات بھر گھر نہ آئے تو پریشانی ہوتی ہی ہے اور جبکہ حال ہی میں تمہارے دوست کے ساتھ ٹریجڈی ہوچکی ہے کچھ پتہ چلا… پولیس کی طرف سے کیا خبریں آرہی ہیں۔‘‘ سعدیہ کو ایک دم مشہود کے اغوا کا واقعہ یاد آیا تو قدرے فکرمند ہوکر پوچھنے لگیں۔
’’فی الحال تو کچھ بھی نہیں ہوا۔ پولیس تو یہی کہتی ہے کہ ہم پوری کوشش کررہے ہیں۔‘‘ دانیال نے سوچتے ہوئے اور بہت افسردہ کیفیت میں جواب دیا۔
’’ویری سیڈ… اسی لیے کہتی ہوں احتیاط کیا کرو۔‘‘ سعدیہ نے عجلت کے تاثر چھپاتے ہوئے مامتا کا حق ادا کرنے کی کوشش کی تاکہ دانیال کو یقین ہوجائے کہ ماں کو اس کی بہت فکر رہتی ہے۔
’’جی ممی…‘‘ دانیال نے نظر بچا کر اپنی ریسٹ واچ پر ٹائم دیکھا۔
’’میں تو خود شاید بہت لیٹ آئوں مگر تم اپنے پاپا کو خود بھی فون کرکے بتا دینا۔‘‘ سعدیہ نے جوس گلاس ٹیبل پر رکھا اور مزید کچھ کہے اپنے بیڈ روم کی طرف بڑھ گئیں۔
دانیال نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ ممی بہت مصروف ہیں ورنہ بال کی کھال نکالنے بیٹھ جاتیں۔ اب سب سے کٹھن اور کڑا مرحلہ تھا۔ پیاری کو سوچنے غور کرنے کا ٹائم دے کر آیا تھا چند گھنٹے گزرنے کے بعد بے چینی لاحق ہوگئی تھی۔ وہ اب جلد سے جلد جاننا چاہتا تھا کہ پیاری نے بالآخر کیا فیصلہ کیا۔ اس وقت ذہن لو میرج کے نشے سے سرشار نہیں تھا بلکہ احساس ذمہ داری کی زنجیروں کا شکنجہ بہت سخت تھا۔ رومانس تو حادثے نے ہڑپ کرلیا تھا۔ اب تو گویاگزشتہ چاہتوں کے قرضے چکانے کی پڑی تھی۔ محبت کا دریا اچانک خطرے کا نشان کراس کرکے سیلابی پانی میں بدل گیا تھا جو اپنی راہ سے بھٹکتا ہے تو بستیوں کا رخ کرتا ہے۔ پانی جو نموکی علامت کہلاتا ہے۔ سیلاب بن جائے تو دن رات کا فرق مٹا دیتا ہے نہ دن کی بھاگ دوڑ ہوتی ہے نہ رات کا آرام۔ بس وقت ایک ماورائی جہاں سے ٹھہر جاتا ہے ایسا جہاں جو وقت اور خلاء کی پابندیوں سے آزاد ہوتا ہے۔
ایک پیاری سی لڑکی ہے۔ اس کے سب سے بہترین دوست کی سگی بہن ہے۔ بہت باحیا‘ پارسا‘ اور غیر محفوظ۔ اسے ایک مضبوط حصار اور احساس تحفظ کی چادر اوڑھانا ہے۔ روم روم میں بسی شدید محبت اس کی تکلیف برداشت نہیں کرسکتی۔ ادھوری آگہی عشق کی سوزش کو احساس ذمہ داری کا نام دے کر کسی معرکہ سے گزر کر اپنی منزل پالینا چاہتی تھی۔ حادثے کی لال آندھی میں کہیں وہ اس سے گم نہ ہوجائے۔ اندیشے تکمیل تمنا کے لیے اسے دوڑا رہے تھے اور وہ اپنے ضمیر کو سمجھا رہا تھا کہ یہ تعلقات کا تقاضا ہے۔ اس لڑکی کو کوئی نقصان پہنچا تو خود سے نظر نہیں ملا سکے گا۔
ایک طوفانی فیصلے کے بعد وہ خوف زدہ کرنے والے نتائج کے اندیشوں سے برسر پیکار تھا اور صرف جیتنے کی نیت سے لڑ رہا تھا۔
ژ…ژ…ژ…ژ
’’نہیں…‘‘ ساری کائنات میں نہیں کی بازگشت تھی۔ یوں لگا… یہ لفظ ’’نہیں‘‘ صور اسرافیل ہے۔ جس کے بعد تمام اور مکمل نظام شمسی تہہ وبالا ہونے لگا۔ سیاروں کے مدار دھوئیں کے بادل بن گئے اور ٹوٹ پھوٹ تباہ کن آوازوں کے ساتھ شروع ہوگئی۔
’’نہیں… کیا مطلب؟‘‘ دانیال نے دل کی دھڑکنوں کو بمشکل سنبھالا۔
’’نہیں کا مطلب… نہیں ہوتا ہے۔‘‘ وہ بہت پروقار انداز میں کہہ رہی تھی اور دانیال کی طرف دیکھنے سے شعوری طور پر گریزاں تھی۔
’’اعتبار نہیں ہے مجھ پر؟‘‘ وہ بولا… آواز گہرے کنوئیں سے آرہی تھی۔
’’پہلے تھا… اب نہیں ہے…‘‘ بلاتکلف جواب ملا۔
دیرینہ مروتوں کے پرندے بھی کوچ کرگئے۔ محبت تو کسی چڑیا کا نام تھا۔ دانیال کو یوں لگا بھرے بازار میں اسے کسی نے ننگ انسانیت کیا ہو۔
’’جو کسی کو اپنی عزت بنانا چاہتا ہے۔ پہلے اس کی عزت کے بارے میں سوچتا ہے جو میرے لیے اپنے ماں باپ سے نہیں لڑسکتا وہ دنیا سے کیا لڑے گا۔ مجھے آپ سے یہ امید نہیں تھی۔ بہت مایوس کیا آپ نے… مجھے میری ہی نظروں میں گرادیا۔ ابھی تو میں اکیلی ہوئی ہوں۔ ابھی تو میں بہت ستائی جائوں گی۔ پہل آپ نے کی… بہت دکھ ہوا۔ شکر یہ آپ کے پانچ کروڑ کا احسان نہیں ہے ورنہ بہت مشکل ہوجاتی۔ خداحافظ۔‘‘ وہ اندر وارڈ کی طرف جارہی تھی اور وہ بے روح وجود کے ساتھ ایستادہ دیکھ رہا تھا۔ کھودینے کا احساس‘ پاگل پن اور پاگل پن کا یہی نتیجہ نکلتا ہے۔
’’اتنی سنگین صورت حال میں بھی وہ کتنا متوازن سوچ سکتی ہے… وہ جو بنیادی تخلیق بھی نہیں ہے بلکہ بنیادی تخلیق آدم کی پسلی سے تخلیق ہوئی ہے جس کو ناقص العقل کہا جاتا ہے۔ جدید سائنس جس کے دماغ کو تول کر انکشاف کرتی ہے کہ اس کے دماغ کا وزن مرد کے دماغ کے مقابلے میں کم ہوتا ہے۔ جس کی گواہی آدھی ہے۔ جس کی عبادت ناقص ہے کہ عبادت میں وقفہ کرتی ہے۔ چھٹیوں پر چلی جاتی ہے۔ پھر… پھر وہ اس پر کیسے سبقت لے گئی؟‘‘
یہاں تک اس کے ذہن نے کام نہیں کیا کہ حیا عورت کی سب سے بڑی نگہبان اور اس کی عظیم طاقت ہے۔ جو احتیاط سکھاتی ہے۔ احتیاط جذبات کی دھند صاف کرتی ہے۔ ذہن کا توازن مرتب کرتی ہے۔ نفس دل پسند شریک حیات کو گھر میں بسانے کا خواہش مند تھا۔ جسے وہ احساس ذمہ داری کا نام دے کر خود کو دھوکہ دے رہا تھا مگر کھڑے کھڑے ایک ناقص العقل نے اسے حقیقت آشنا کرکے لمحوں میں بوڑھا کردیا۔
ژ…ژ…ژ…ژ
ہاسپٹل سے گویا دو جہاں لٹا کر نکلا کچھ دیر سمت کا تعین کیے بغیر ادھر ادھر ڈرائیوکی پھر اندھیرے میں ایک روشن چہرہ جگمگایا۔ یہ چہرہ اس کی شفیق ومہربان پھوپو عرف مانو آپا کا تھا۔ اداسی اور تنہائی کا گھیرا تنگ ہونے لگے تو کسی مہربان کے نرم ہاتھوں کی تمنا جاگتی ہے کہ جو اس تنگ گھیرے کو مزاحمت کرکے توڑ ڈالیں۔ سینے سے لگالیں۔ پیشانی کو بوسہ دیں۔ بغیر پوچھے نادیدہ زخم پر مرہم رکھیں۔ اس بڑے سے شہر میں یہ کام مانو پھوپو کے علاوہ کوئی نہیں کرسکتا تھا۔ اس نے منتشر ذہن کے ساتھ بڑی غیر محتاط ڈرائیو کی اور سیدھا مانو پھوپو کے پورچ میں جاکر دم لیا۔
باہر لائونج کے دروازے کا شیشہ صاف کرتی ملازمہ اندر بھاگی تاکہ اس کی آمد کی اطلاع بیگم صاحبہ تک پہنچائے۔ اس کے قدم شکستہ تھے مگر مانو آپا کا جذبہ توانا تھا۔ وہ اندر دیر میں پہنچا مگر مانو آپا فرسٹ فلور سے اتر کر پہلے لائونج میں آگئیں۔ انہیں ہمیشہ دانیال کی عدیم الفرصتی کا گلہ رہتا تھا کہ بھتیجے کا خون سفید ہوگیا ہے۔ مہینوں صورت نہیں دکھاتا۔ جھپاک سینے سے لگالیا۔
’’ماشااللہ… آج تو میرے گھر کے در ودیوار روشن ہورہے ہیں۔ کیسے بھول پڑے… پھوپو یاد آگئی میرے بیٹے کو۔‘‘ وہ اسے پیار کرتے ہوئے کہہ رہی تھیں۔ وہ ان کی طرف بہت کم ہی آپاتا تھا۔ ایک دن اپنی جان چھڑانے کے لیے جلدی میں آگیا تھا اس دن کے بعد آج ایک غم گسار پرخلوص‘ بے غرض رفیق کی تلاش میں اٹکتا بھٹکتا ان کے گھر آگیا تھا۔ واقعی وہ ایک مطلبی اور خود غرض انسان ہے۔ اس نے خود پر نفرین بھیجی۔
’’بس پھوپو… کام ہی اتنے ہیں کہ چوبیس گھنٹے کم پڑ جاتے ہیں۔‘‘ اس نے شرمسار لہجے میں بے لوث محبت کو مطمئن کرنے کی کوشش کی۔
’’چلو آگئے ہوناں… بس میں تو تمہیں دیکھتے ہی خوش ہوگئی یوں لگا کہ جیسے تم تو روز ہی آتے ہو۔ بہت تھکا ہوا لگ رہا ہے میرا بیٹا۔‘‘ انہوں نے دانیال کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بہت پیار سے کہا۔ بغور دیکھ بھی رہی تھیں۔
’’جی بس… ویسے کچھ سر میں درد ہے اور کوئی بات نہیں۔‘‘ اس نے مانو پھوپو کو تسلی دی۔
’’ٹھیک ہے میں چائے بنواتی ہوں۔ چائے کے ساتھ ڈسپرین لے لو… دوپہر کو کھانا کھایا تھا؟‘‘ اٹھتے ہوئے یک دم انہیں خیال آیا۔
’’ناشتہ بہت لیٹ کیا تھا… اسے بس لنچ ہی سمجھیں۔‘‘ دانیال نے صوفے کی بیک سے ٹیک لگا کر آنکھیں موندلیں۔
مانو آپا نے ایک سوچتی ہوئی نگاہ دانیال پر ڈالی۔ ’’لگتا ہے ماں نے رشنا رشنا کرکے بچے کی جان کھالی ہے… میرا بچہ تو میرے پاس آکر صاف صاف انکار کرکے گیا تھا۔ ایک ہی لڑکی رہ گئی ہے ضد میں بس پاگل ہی ہوجاتی ہے یہ سعدیہ۔‘‘ بھتیجے کی اداس صورت دیکھ کر خون جوش کھانے لگا اور اس اداسی کے ذمہ داروں پر نزلہ گرنے لگا۔
’’عالی جاہ تو رات کو لیٹ ہی آتا ہوگا۔‘‘ دانیال نے پٹ سے آنکھیں کھول کر ایک طرف جاتی ہوئی مانو پھوپو سے سوال کیا۔ جو اس کی خاطر مدارت کے لیے نوکر کو کہنے جارہی تھیں۔
’’ارے نہ پوچھو… ہماری تو نیندیں ویران ہوگئیں۔ کوئی وقت نہیں گھر آنے کا جب چاہا منہ اٹھا کر چل پڑے جب جی چاہا گھر کا منہ دیکھ لیا۔‘‘ مانو آپا نے سخت بیزار کن انداز میں جواب دیا۔ ایک ایک حرف سے ظاہر تھا کہ بیٹے سے سخت نالاں ہیں۔ دانیال نے فوراً چپ سادھ لی۔ اسے اندازہ ہوگیا تھا کہ پھوپو بھری بیٹھی ہیں۔ مزید بات کرنا ایسا ہی ہے گویا بارود کو تیلی دکھانا۔
’’پھوپو نے کس پر تنقید کی… کیوں کی؟ کس کو لعن طعن کی اور کیوں کی؟‘‘ ہر بات ولفظ بے معنی اور بے تاثر تھے۔ ہر خبر پرانی خبر تھی‘ ہر لفظ بہت پہلے سے سنتا آرہا تھا۔ ہر شے آنکھوں دیکھی اور حافظے میں محفوظ تھی۔ نئی بات تو بس یہی تھی کہ اس کے دل کی دنیا لٹ گئی تھی۔ خبر تھی بس ایک ہی… کوئی پیارا… چاند سے بھی پرے نظر آرہا تھا۔ پھوپو بولتی رہیں وہ یوں مسکرا مسکرا کر سنتا رہا جیسے اس سے زیادہ دلچسپ گفتگو آج سے پیشتر اس نے کبھی نہیں سنی اور آج سے زیادہ کبھی اتنا خوش گوار موڈ بھی نہیں بنا اور آج سے زیادہ کبھی اتنی پرسکون فرصت بھی نہیں ملی کہ پیاری سی پھوپو کے پاس سے اٹھنے کی جلدی ہو۔ وہ جتنا مرضی بولیں۔ بول بول کر تھک جائیں وہ سنتے ہوئے نہیں تھکے گا۔ ایسی سعادت مندی دیکھ کر تو مانو پھوپو نہال ہی ہوئی جاتی تھیں۔ اپنا بیٹا تو پٹھے پر ہاتھ ہی دھرنے نہیں دیتا تھا۔ کوئی بات شروع کرتیں تو ریسٹ واچ پر ٹائم دیکھنے لگتا جیسے کہہ رہا ہو اماں جلدی بات ختم کریں ورنہ میں دھواں بن کر اڑ جائوں گا۔
’’بیٹا تم ماشاء اللہ عاقل بالغ ہو۔ اپنی زندگی کے تمام معاملات پر فیصلہ کرنے کا تمہیں پورا حق ہے کیوں کہ زندگی کو تم نے گزارنا ہے۔‘‘
’’زندگی گزارنا ہے؟‘‘ دانیال نے خالی خالی نظروں سے مانو پھوپو کی طرف دیکھا۔
’’کیسے گزرے گی… کب سے دس بجنے کا انتظار کررہا ہوں۔ آج دس ہی نہیں بج رہے۔ دس بجیں گے تو گیارہ بھی بجیں گے پھر بارہ بھی۔ پھر آدھی رات ہوگی۔ پھر صبح کا انتظار ہوگا۔ گھڑی کی سوئیوں کو کیا ہوا… لگتا ہے پیرالائزڈ ہوگئی ہیں۔‘‘
’’جی پھوپو… آپ بالکل ٹھیک کہہ رہی ہیں۔‘‘ دانیال نے جلدی سے کہا کیونکہ پھوپو فوری ردعمل نہ پاکر دانیال کو باقاعدہ گھورنے لگتی تھیں۔
’’بالکل… ہر انسان کی اپنی زندگی ہوتی ہے۔ اسے اپنی زندگی خود گزارنا چاہئے۔ دوسروں کی زندگی کیوں گزاریں۔ ان کی اپنی زندگی ہے وہ گزاریں۔ دوسروں کی زندگی چھیننے کی کیا ضرورت ہے۔ زندگی ایک بار ملتی ہے۔ سب کو اپنی اپنی قبر میں جانا ہے تو دوسروں کی زندگی پر قبضہ کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ زندگی ہے کوئی مذاق تو نہیں۔‘‘ دانیال شروع ہوا تو پانی پیتی مانو آپا کو اچھو لگ گیا۔ ان کے اچھو نے دانیال کو واپس حواسوں میں لوٹا دیا۔ وہ بے خبری اور بے خودی کی کیفیت سے آناً فاناً واپس آگیا۔ جلدی سے اپنی جگہ سے اٹھا اور مانو پھوپو کی پیٹھ سہلانے لگا۔ کھانس کھانس کر نڈھال ہونے کے بعد انہوں نے گہرا سانس لیا تو اس نے بھی اپنا دست تعاون سرکا لیا۔
’’آج تم کچھ بدلے بدلے سے لگ رہے ہو دانیال… کوئی خاص بات ہے؟‘‘ مانو پھوپو بات کرنے کے قابل ہوئیں تو حیرانی کو وہیں سے پکڑ لیا۔ جہاں تک وہ بھاگ چکی تھی۔
’’ارے نہیں… آج بہت دنوں بعد فرصت ملی ہے تو آپ سے باتیں کرنا اچھا لگ رہا ہے۔ ایک ہی تو پھوپو ہیں میری مجھ سے بہت پیار کرتی ہیں۔‘‘ اس نے خاطر جمع کے ضمن میں چند کلمات ادا کئے۔ پھوپو سن کر خوش ہوگئیں۔ ’’ سب ہی کچھ بدل گیا پھوپو… پائوں کے نیچے زمین نہیں پانی ہے۔ آسمان پہلے نیلا تھا اب بے رنگ ہوگیا ہے۔‘‘ وہ سوچ رہا تھا۔
ژ…ژ…ژ…ژ
بہشتن بوا دنیا ومافہیا سے بے خبر بے سدھ پڑی تھیں۔ سرہانے لگی مشینوں کی جلتی بجتی رنگ برنگی روشنیاں وقفے وقفے سے ابھرتی ہلکی سی بیپ کی آواز جو خیالات کا تسلسل وقتی طور پر توڑتی تھی اور اس وقفے میں وہ ایک نگاہ بوا پر ڈالتی تھی۔ درحقیقت بوا کی کلینیل ڈیتھ ہوچکی تھی مگر ہاسپٹل کی آمدنی میں اضافے کے لیے جدید مشینیں بہت تعاون کررہی تھیں۔ صبح ہی ایک عمروعیار کی زنبیل اس کے ہاتھ میں تھما دی جاتی تھی۔ یہ ٹیسٹ وہ ٹیسٹ الانی دوا فلادوا‘ ڈاکٹروں کے دورے آخر میں ایک ہندسے کے ساتھ چار صفر۔
’’جلدی کرو‘ بل ادا کرو۔ مریضہ کو صبح کی ٹریٹمنٹ بھی شروع کرانا ہے۔‘‘ نئے پرانے بہت نوٹ دے کر آتی اور اگلی صبح تک ایک نیا تماشہ شروع ہوجاتا۔ فی الوقت اسے مالی پرابلم نہیں تھی۔ ڈپازٹ دانیال نے ویزہ کارڈ سے جمع کرادیا تھا اور ہزار کا ایک پیکٹ لفافے میں بند کرکے اسے تھما کر چلا گیا تھا اور اس نے اسی وقت سوچ لیا تھا کہ بوا کی طبیعت سنبھلنے کے بعد جب وہ گھر جائے گی تو ماں کی رکھی ہوئی گولڈ کی جیولری میں سے کچھ فروخت کرکے پہلی فرصت میں دانیال کو رقم واپس کرے گی۔ اس کے اپنے اکائونٹ میں بڑی محدود رقم ہوتی تھی۔
مشہود گھر کے اخراجات کے لیے اسے مہینے میںدو تین مرتبہ کچھ رقم دیا کرتا تھا اور اس کی پاکٹ منی اس کے علاوہ ہوتی تھی جو اس کی بچت ہوتی تھی۔ اسی میں سے وہ اب تک کے تمام اخراجات کررہی تھی۔
ہاسپٹل کسی بھی انسان کا ایک امتحان ہوا کرتا ہے۔ یہ بے بسی کی وہ منزل ہے جہاں انسان اپنا سب کچھ دے کر زندگی بچانے کی کوشش کرتا ہے۔ نہیں کہنے کے بعد تو یہ ایک لاکھ روپیہ سانپ بچھو کی طرح ڈسنے لگا۔ کب ہاسپٹل سے نکلیں اور قرضہ چکائیں۔ ایسی عجلت سوار ہوگئی گویا دانیال پستول تان کر کھڑا ہوا اورکہہ رہا ہو۔ ’’نکالو میرے ایک لاکھ۔‘‘
بوا پر نظر آٹھہری۔ ’’مشہود بھائی خدا کے لیے آجائیں۔ بوا بہت ڈرا رہی ہیں…’’ اس نے سر جھکایا اور بلک بلک کر رونے لگی اتنا روئی کہ ہچکیاں بندھ گئیں۔ وہ شعوری کوشش کررہی تھی کہ آواز نہ نکلے بس گھٹ گھٹ کر روتی رہے۔
’’ہیں کیا ہوا…؟ آپ نے رنگ کیوں نہیں دی؟ آپ کو کیسے پتہ چلا۔‘‘ بھاری بھرکم ڈیوٹی نرس ہانپتی کانپتی بوا کے بیڈ کی طرف دوڑی… دوڑنا بھی ایسا تھا گویا تانگہ ناہموار پگڈنڈی پر دوڑ رہا ہو۔ پیاری تو دہل کر کھڑی ہوگئی۔
رونا دھونا بھول گئی۔ نرس مشینیں چیک کررہی تھی۔ پیاری نے نوٹ کیا پہلے کافی ساری لائٹس روشن تھیں اور اب چند مشینوں پر صرف رایڈ کلر کی ایک ہی لائٹ تھی۔ دل کی دھڑکنوں کی آمدورفت دکھانے والی مشین پر نظر آنے والی لہریں غائب ہوچکی تھیں۔
’’کمال ہوگیا‘ آپ کو پتہ چل گیا کہ ان کی ڈیتھ ہوگئی ہے اور آپ نے بیٹھ کر رونا شروع کردیا۔ بی بی کم از کم آپ باہر آکر بتاتی تو سہی۔‘‘ نرس کے لہجے میں روایتی تحکم کے بجائے اس وقت دکھ کی کیفیت تھی۔ اب اس نے کٹرپٹ رکچھ مشینوں کے ناک کان مروڑے اور ڈاکٹر کو اطلاع دینے باہر بھاگ گئی۔
’’ڈیتھ ہوگئی… ڈیتھ ہوگئی۔‘‘ نرس کی آواز نے اسے کسی درندے کی طرح دبوچ لیا تھا۔ وہ جیسے پتھر کے مجسمے میں ڈھل گئی۔
’’آئی ایم سوری… ہم نے بہت کوشش کی۔‘‘ ڈاکٹر اس کے مقابل کھڑا اپنے پیشہ ورانہ انداز میں معذرت کررہا تھا۔
’’سوری…‘‘ انسان اپنی زندگی میں ہزاروں لاکھوں مرتبہ یہ لفظ سنتا ہے مگر ہاسپٹل میں ڈاکٹر کے منہ سے نکلنے والا سوری بہت خوف ناک ہوتا ہے۔
امید کسی یار ودغا باز کی طرح رفوچکر ہوجاتی ہے اور امید کے بغیر جینا تو موت ہی کا دوسرا روپ ہے۔
’’بی بی آپ کائونٹر پر جاکر اپنے ڈیوز کلیئر کرائیں… اور ڈیڈ باڈی لے جانے کے لیے بھی کائونٹر پر ہی ایمبولینس کی بات کرلیں۔‘‘ نرس کی ٹون روٹین سے بدلی ہوئی تھی مگر انداز مشینی ہی تھا۔
’’ڈیڈ باڈی…‘‘ وہ آنکھیں پھاڑ کر جاتی ہوئی نرس کو دیکھ رہی تھی۔ ’’ارے مار ہم بیماریوں کی پوٹلی۔ آج مرے کل دوسرا دن۔ ارے تمہارے بھیا کو خوب ہری ہری سوجھ رہی ہے۔ بہنا کی عمر سرک رہی ہے ہاتھ پیلے کرنے کی فکر ہی نہیں۔ ایک کام کا لونڈا ساتھ لیے پھرتے ہیں اسے بھی بہن کا بھیا بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔‘‘ بوا کی آواز کی بازگشت کانوں میں گونج رہی تھی۔
’’آج مرے… کل دوسرا دن۔‘‘
’’بواچلی گئیں… بڑی جلدی تھی جانے کی۔ دیکھتی نہیں کہ میں بالکل اکیلی ہوں۔ پتہ تھا کہ بھائی بھی لاپتہ ہے پھر بھی میرا خیال نہ آیا۔ اکیلا چھوڑ دیا۔ ویسے ہر وقت میرا خیال رہتا تھا… موٹر کا ہارن بجا ہے مگر تم باہر مت جانا… میں دیکھتی ہوں اتنے احتیاطیں… اب راہ میں چھوڑ کر چلی گئیں۔‘‘ دکھ کی ایک لہر آری کی طرح جگر کو رگیدتے گزر گئی۔ بے ہوش ہوکر پورے وزن سے فرش پر آرہی تھی۔
ژ…ژ…ژ…ژ
نیند کس کمبخت کو آتی تھی۔ حیرت کی انتہا ایک ہنسی پر ختم ہوتی تھی اور یہ ہنسی اپنی حالت زار پر آتی تھی۔ دل کسی طور پر نہ بہلتا تھا نہ کسی دوست کے ساتھ فون پر بات چیت میں رابط تھا نہ کسی دل پسند انگلش کلاسیکل ناول پڑھنے پر طبیعت مائل ہوتی تھی۔ بے اختیاری کیفیت میں گاہے بگاہے کھڑکی سے یوں جھانک لیتا تھا جیسے کسی نے آنے کو کہا ہو اور وہ راہ دیکھتا ہو۔ معاً رات گئے ہونے والی موبائل رنگ نے اسے چونکا دیا۔ کوئی دل میں بس گیا ہو تو ہر طرح کے خیال کا رخ اسی کی طرف جاتا ہے۔ کبھی وسوسہ۔ کبھی خوش فہمی‘ اس نے بڑی سرعت میں اپنا موبائل اٹھایا… سامنے کوئی لینڈ لائن نمبر تھا۔ جو اسے فوری طور پر تو بالکل انجان ہی لگا ذہن فوری طور پر مشہود کی طرف گیا۔ آج کل تمام حیرت آمیز اور اجنبی معاملات اسی کی طرف ذہن کو لے جاتے تھے۔ کال ریسو کی۔
’’ہیلو…؟‘‘ دوسری طرف سے ایک نسوانی آواز ابھری۔ ’’مسٹر دانیال بات کررہے ہیں؟‘‘
’’جی بول رہاہوں…‘‘ اس کی آواز میں بلا کی احتیاط تھی۔
اس کے بعد جو کچھ اس کو بتایا گیا وہ وقتی طور پر اپنے حواس بھلا بیٹھا۔ بات مکمل ہوگئی۔ رابطہ منقطع ہوگیا۔ مگر موبائل ہنوز اس کے کان سے لگا تھا۔
’’بوا چلی گئیں؟‘‘
فون ہاسپٹل سے تھا۔ اس کا فون نمبر ہاسپٹل کے ریکارڈ میں تھا کیونکہ بوا کے ہاسپٹل داخلے کے وقت اسی نے پیسے جمع کرائے تھے۔ مطلع کرنے والی نے یہ بھی بتایا تھا کہ مرحومہ کی ساتھی تاحال بے ہوش ہیں اور انہیں ہوش میں لانے کی کوشش جاری ہے۔
پیاری بالکل اکیلی ہے؟ پہلا خیال یہی آیا اور اس کے وجود میں بجلیاں دوڑ لگیں۔ بالکل ایسے ہی جیسے گم کردہ راہ کو اچانک ہی منزل کے نشان نظرآنے لگے ہوں اور سوکھے دھانوں پر پانی پڑ گیا ہو۔ اس نے جلدی جلدی لباس تبدیل کیا۔ والٹ موبائل اٹھا کر تیزی سے باہر کی طرف دوڑا‘ جیسے کوئی اسے چلا چلا کر بلا رہا ہو اور وہ کہتا جارہا ہو آرہا ہوں۔
ژ…ژ…ژ…ژ
کمال فاروقی گہری نیند میں تھے۔ سونے سے پہلے وہ اپنے سیل فون کو وائی بیریشن پر کردیتے تھے اس خیال سے کہ نیند کچی ہوئی تو آنے والی کال ریسیو کرلیں گے ورنہ زندگی باقی ہے تو صبح بھی ہوگی۔
سعدیہ دیر سے بیڈ پر آئی تھیں۔ ان کی کسی عزیز دوست کا سمندر پار سے فون آگیا تھا کیونکہ ادھر دن ہوچکا تھا خوب تسلی سے بات کررہی تھیں گھنٹہ گزر گیا پتہ ہی نہ چلا۔
بیڈ پر آئیں تو لگتا تھا کہ لیٹتے ہی سوجائیں گی۔ مگر لیٹتے ہی کمال فاروقی کے فون کی وائی بیریشن نے کوفت میں مبتلا کردیا۔
’’پتہ نہیں کس بے وقوف نے اتنی رات کو فون کیا ہے۔ ایک بڑے بزنس مین کے پاس رات کے چند گھنٹے ہی تو ہوتے ہیں۔‘‘ انہوں نے کمال فاروقی کو جگانے کے بجائے خود ہی فون کال ریسیو کرنے کا سوچ لیا۔ ناگواری کی انتہا پر سیل اٹھایا مگر اس بری طرح چونک پڑیں گویا آس پاس کوئی دھماکہ ہوا ہے۔
’’یہ کیا… دانیال کی کال آرہی تھی۔ یہ اپنے بیڈ روم سے کیوں اس وقت کال کررہا ہے؟‘‘ مارے حیرت کے اٹھ کر بیٹھ گئیں۔
لائونج کا دروازہ بند کرتے ہوئے انہوں نے اپنی آنکھوں سے اس کی کار پورچ میں کھڑی دیکھی تھی۔ رات کو ماں مطمئن ہی تب ہوتی ہے جب اسے پورا یقین ہوتا ہے کہ بچے گھر میں ہیں۔ انجانے اندیشے سے دل پھڑکا… کال ریسیو کی۔
’’جی بیٹا‘ خیریت۔‘‘ بمشکل بول پائیں۔
’’ممی‘ پاپا سے بات کرائیں۔‘‘ دانیال کے انداز میں عجلت تھی۔ سعدیہ کے تو ہاتھ پائوں پھول گئے۔
’’کیا ہوا دانیال…؟ پاپا سو رہے ہیں۔ میں تمہارے پاس آتی ہوں۔‘‘ وہ آہستہ آواز میں بولتی ہوئی بیڈ سے اترنے لگیں۔
’’ایک منٹ ممی! میں گھر پہ نہیں ہوں۔‘‘ دانیال کی عجلت بھری آواز سماعت سے ٹکرائی۔
’’ہیں…‘‘ سعدیہ بھونچکی سی رہ گئیں۔
’’لیکن تمہاری گاڑی تو پورچ میں کھڑی ہے۔ میں نے خود دیکھا تھا۔ تم کسی دوست کے ساتھ ہو؟‘‘ سعدیہ الجھیں۔
’’ممی میں اپنی گاڑی میں ہوں۔ ایک ایمرجنسی ہوگئی ہے۔ آپ پاپا سے بات کرائیں… پلیز… ذرا جلدی۔‘‘ سعدیہ حواس باختہ ہونے لگیں۔
’’کس سے بات کررہی ہو؟ پتہ ہے کتنی مشکل سے میری آنکھ لگتی ہے۔ پھر بھی میرے سر پر بیٹھی باتیں کررہی ہو۔‘‘ کمال فاروقی گہری نیند میں چڑ کر بڑبڑا رہے تھے۔
’’کمال… دانیال کا فون ہے۔ آپ سے بات کرنا چاہتا ہے…‘‘ سعدیہ گم صم کیفیت میں کمال فاروقی کی طرف سیل فون بڑھاتے ہوئے بولیں۔
کمال فاروقی تو یوں اٹھ بیٹھے جیسے ٹرین یا پلین میں سو رہے تھے۔ جلدی سے سیل تھاما اور سماعت کیا۔ نظریں وال کلاک پر تھیں۔ صبح کا وقت ہوچلا تھا۔
’’دانیال اس وقت کہاں ہے… اور کیوں فون کررہا ہے؟‘‘ پریشانی کی انتہا پر پسینے پسینے ہونے لگے۔
’’جی بیٹا؟‘‘ اندیشوں سے آواز میں لرزش تھی۔
’’پاپا… آپ کو یہاں میرے پاس آنا پڑے گا۔ بہت ہی کریٹیکل سچویشن ہے ورنہ میں کبھی آپ کو ڈسٹرب نہ کرتا اور ہاں میں بالکل خیریت سے ہوں بس اس وقت آپ کی مددکی ضرورت ہے۔‘‘ جوان بچے ماں باپ کو دور سے ایسے ہی دلاسے دیتے ہیں۔ کمال فاروقی کو تسلی کیا ہوئی الٹا دل کو پنکھے لگ گئے۔ تازہ ترین حادثہ تو مشہود ہی کا تھا…
’’آتا ہوں بس تھوڑی دیر میں پہنچتا ہوں۔‘‘ انہوں نے بیوی کی خاطر گھبراہٹ چھپانے کی کوشش کی۔
’’پاپا! ایک منٹ… پہلے مجھ سے تھوڑی سی تفصیل جان لیجئے ورنہ آپ پریشان ہوتے رہیں گے۔ تصیل ہی میں تو اس وقت اٹریکشن تھی۔
’’ہاں… ہاں… بولو۔‘‘ انہوں نے سعدیہ کی طرف محتاط انداز میں دیکھتے ہوئے کہا۔ جو ہونقوں کی طرح کمال فاروقی کی طرف دیکھ رہی تھی۔ جواب میں مختصراً دانیال نے بپتا سنائی۔
’’اوہ…‘‘ کمال فاروقی نے اب رکی ہوئی سانس خارج کی کم از کم یہ خیال اپنی جگہ طاقت ور تو تھا کہ بیٹا خیریت سے ہے۔
’’ٹھیک ہے بیٹا… پہنچتا ہوں۔‘‘ یہ کہہ کر سیل کان سے ہٹا کر سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیا۔
’’کہاں جارہے ہیں اس وقت… دانیال کہاں ہے… کیا ہوا ہے… میں آپ کے ساتھ چلتی ہوں…‘‘ سعدیہ یوں مستعد ہوگئیں جیسے رات سوکر اٹھی ہوں اور دن کے بکھیڑے شروع ہوگئے ہوں۔
’’پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ دانیال خیریت سے ہے۔ مشہود کی میڈ کی ڈیتھ ہوگئی ہے اور اس کی بہن کی حالت صدمہ سے بہت خراب ہے۔ ایدھی والوں کے ساتھ تدفین وغیرہ کی بات چیت کرنا ہے۔ دانیال بالکل اکیلا ہے۔ مشہود کی بہن کی حالت بھی خاصی سیریس ہے… ویسے بھی اکیلی بچی کہاں کفن دفن کا انتظام کرسکتی ہے؟‘‘ کمال فاروقی احساس ذمہ داری اور سنجیدگی کے ساتھ بولتے ہوئے ڈریسنگ کی طرف جارہے تھے۔ سعدیہ لاجواب سی بیٹھی بس ان کو دیکھتی کی دیکھتی رہ گئیں۔ بھائی اغواء ہوگیا۔ میڈ کا انتقال ہوگیا۔
(ان شاء اللہ باقی آئندہ ماہ)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close