Aanchal Mar 16

دانش کدہ

مشتاق احمد قریشی

سلام اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ میں سے ہے جسے اس نے زمین پر رکھ دیا ہے لہٰذا اسے آپس میں پھیلائو۔ اگر ایک مسلمان کچھ لوگوں کے پاس سے گزرتا ہوا انہیں سلام کرے اور وہ اسے جوابِ سلام دیں تو اس مسلمان کا ایک درجہ فضیلت میں ان جواب دینے والوں سے زیادہ ہوگا۔کیونکہ اس نے ’’سلام‘‘ کی یاد دلائی۔ اگر لوگ اس کے سلام کا جواب نہ دیں تو اس کا جواب وہ دیتا ہے جو ان سب سے بہتر اور پاکیزہ تر ہے۔(یعنی اللہ تعالیٰ یا اس کامقرب فرشتہ)
ایک حدیث صفوان بن اُمیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے کلدہ بن حنبل رضی اللہ عنہ کو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کچھ دودھ‘ پیوسی‘ اور سبزی دے کر بھیجا‘ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت وادی کے بالائی حصے میں تشریف فرماتھے۔ کلدہ کا بیان ہے کہ میںبلا اجازت لئے اندر داخل ہوگیا اور سلام بھی نہیں کیا تو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ باہر واپس جائو اور پہلے السلام علیکم کہہ کر پوچھو کہ میں اندر آجائوں؟(ترمذی‘ابودائود)
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’اے فرزند! جب تم اپنے گھرکے اندر داخل ہوتو پہلے سلام کرلیا کرو۔ یہ سلام تمہارے اور تمہارے گھر والوں کے لئے بھی باعث برکت ہوگا(ترمذی)حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ گفتگو سے پہلے سلام ہوتا ہے۔(ترمذی)
جیسا کہ سورۃ النور میں ربِ کائنات ارشاد فرما رہاہے۔
ترجمہ: پس تم جب گھروں میں جانے لگو تو اپنے گھر والوں کو سلام کرلیا کرو‘ دعائے خیر ہے جو بابرکت اور پاکیزہ ہے۔ (سورۃ النور۔ آیت نمبر ۶۱)
آیتِ مبارکہ میں مسلمانوں کو اپنے گھروں میں داخل ہونے کے آداب سکھائے گئے ہیں۔ گھروں میں داخل ہونے کے آداب یہ ہیں کہ جب گھر میں با اجازت داخل ہو تو گھر میں جو مسلمان موجود ہوں اُن کو سلام کرو یعنی اپنے اہلِ خانہ کو سلام کرو‘ آدمی کو اکثر اپنے گھر والوں کو خصوصاً اپنی بیوی یا اپنے بچوں کو سلام کرنا گراں گزرتا ہے۔ شاید اس لیے کہ وہ اُس سے چھوٹے یا ما تحت ہوتے ہیں۔ لیکن اہلِ ایمان کو تعلیم دی جارہی ہے کہ وہ اللہ کے حکم کے مطابق ایسا کریں۔ انسان اپنے ہی بیوی بچوں کو سلامتی کی دعا سے کیوں محروم رکھے۔ یہ ایک بہت ہی لطیف تعبیر ہے اُس قومی رابطے کی جو ان رشتوں میں پایا جاتا ہے حکم دیا جارہا ہے کہ اپنے نفسوں کو سلام کرو‘ کیونکہ جو شخص اپنے رشتہ داروں اور دوستوں کو سلام کرتا ہے وہ دراصل خود اپنے اوپر سلامتی بھیجتا ہے اور جو وہ سلام کرتا ہے وہ اللہ کی طرف سے ہے۔ سلام میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک روحانی اثر ہے جو دونوں فریقوں کے درمیان دین کا مضبوط رشتہ جو اسلام کی وجہ سے قائم ہے اسے مضبوط کرتا ہے اور بندہ ناصرف اپنے دین بلکہ اپنے رب سے اپنے ایمان کی وجہ سے مربوط ہوجاتا ہے۔
حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب تم گھر میں جاؤ تو اللہ کا سکھایا ہوا بابرکت سلام کہا کرو میں نے تو آزمایا ہے کہ یہ سراسر برکت ہے۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ایک اور حدیث روایت ہے کہ جب بچوں کے پاس سے گزرو تو سلام کیا کرو کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے۔ (ترمذی‘ابودائود)
حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے روایت ہے کہ آنے والوں میں اگر پوری جماعت ہو تو ایک آدمی کا سلام کردینا سب کی طرف سے کافی ہے اور اسی طرح ایک آدمی کا جوابِ سلام دے دینا تمام اہل محفل کی طرف سے کفایت کرتا ہے۔(ابودائود)
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے سب سے زیادہ قریب وہ ہوتا ہے جو سلام کرنے میں پہل کرے۔(ترمذی‘ ابودائود)
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک شخص کو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال کرتے ہوئے سنا کہ اگر کوئی شخص اپنے بھائی یا دوست سے ملے تو کیا اس کے لئے جھکنا بھی چاہئے تو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ’’نہیں‘‘(ترمذی)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سب سے زیادہ عاجز وہ ہے جو دعا سے عاجز ہو اور سب سے زیادہ بخیل وہ ہے جو سلام میں بخل کرے۔(کبیر)
حضرت ربعی بن حراش رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص آیا اور اس نے حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم)سے اندر آنے کی اجازت چاہتے ہوئے یوں کہا کہ :میں اندر آجائوں! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خادم سے کہا کہ باہر جاکر اسے اجازت لینے کا طریقہ بتادو۔ اس سے کہو کہ پہلے السلام علیکم کہے پھر پوچھے کہ میں اندر آسکتا ہوں؟ اس شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گفتگو باہر ہی سے سن لی اور وہ وہیں سے بولا کہ ’’السلام علیکم میں اندر آسکتا ہوں؟‘‘ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دے دی اور وہ شخص اندر آگیا۔(ابودائود)
حضرت قیس بن سعد رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک بار غریب خانے پر تشریف لائے اور باہر ہی سے فرمایا۔’’السلام علیکم ورحمتہ اللہ‘‘ میرے والد سعد(رضی اللہ عنہ) نے دھیمی آوازسے جوابِ سلام دیا میں نے اپنے والد سے کہا کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ہیں اندر آنے کی اجازت کیوں نہیں دیتے؟ انہوں نے کہا کہ چھوڑو بھی‘ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو(ہم پر)خوب بار بار سلامتی بھیجنے دو۔حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ’’السلام علیکم ورحمتہ اللہ‘‘ سعد رضی اللہ عنہ نے پھر دھیرے سے جواب دے دیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پھر تیسری بار سلام کہہ کر واپس ہونے لگے تو سعد رضی اللہ عنہ پیچھے ہولئے اور عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں حضور کا سلام سن رہا تھا اور دھیرے سے جواب دیتا رہاتھا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم پر بار بار سلامتی بھیجتے رہیں۔ اس کے بعد حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سعد رضی اللہ عنہ کے ساتھ واپس آئے اور سعد رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر گھرمیں داخل ہوئے۔ (ابودائود)
سلام کے ساتھ ہی ہمارے معاشرے میں مصافحہ کا رواج بھی ہے۔ سلام کے ساتھ ہی مصافحہ بھی کیا جاتا ہے۔ اس کے بارے میں حدیث شریف میں آتا ہے کہ مصافحہ اہل یمن کی ایجاد ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب اہل یمن آئے تو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’تمہارے پاس اہل یمن آئے ہیں اور مصافحے کی ابتدا انہی سے ہوئی ہے۔(ابودائود) مصافحے کے اجروثواب کے بارے میں ایک روایت ہے کہ ’’جب دومسلمان باہم ملتے ہیں اور مصافحہ کرتے ہیں تو جدا ہونے سے پہلے تک کے سب گناہ صغیرہ معاف ہوجاتے ہیں۔ اور جہاں تک گناہِ کبیرہ کا تعلق ہے تو وہ توبہ کے بغیر معاف نہیں ہوتے۔ (ابودائود‘ ترمذی)
عطاالخراسانی سے امام مالک کی روایت ہے کہ مصافحہ کیا کرو اس سے باہمی رنج دور ہوجاتے ہیں اور ایک دوسرے کوہدیہ بھیجا کرو اس سے باہمی محبت ورفاقت قائم رہتی ہے اور کینہ دور ہوتا ہے۔ (موطا امام مالک)
ترجمہ :’’اور جب تمہیںکوئی احترام کے ساتھ سلام کرے تو اس سے بہتر طریقے سے جواب دو یا کم از کم اسی طرح لوٹا دو‘ اللہ ہر چیز کا حساب لینے والا ہے۔‘‘ (النساء۔۸۶)
تفسیر: یہ آیت مبارکہ آیات قتال کے درمیان باہم دوستانہ تعلقات کے لئے بادنسیم کی حیثیت رکھتی ہے اس میں سلام کے اصل الاصول کی طرف اشارہ کردیا گیا ہے۔ اسلام جو ایک مکمل نظام حیات ہے اس کا اپنا خاص اسلامی معاشرہ ہے جو اخوت بھائی چارے میل ملاپ کا معاشرہ ہے اس لئے اسلام نے اپنے معاشرے کو ایک خاص منفرد طریقہ عطا کیا ہے سلام اسلامی معاشرے کو غیر اسلامی معاشرے سے منفرد وممتاز کرتا ہے۔ سلام سے ایک مسلمان اور مسلمان معاشرہ غیر مسلم اور غیر مسلم معاشرے سے ممتاز ہوجاتا ہے۔ یہ سلام ہی ہے جو ایک مسلمان کو دیگر غیر مسلموں سے منفرد اور متمیز بناتا ہے اور روز مرہ کی زندگی میں ممتاز و نمایاں صفات کا مالک بناتا ہے۔ اس کی وجہ سے اسلامی معاشرے کا ہر فرد باہم گھل مل جاتا ہے اور دوسرے معاشروں سے الگ اور نمایاں ہوجاتا ہے۔
اسلام نے سلام کے تین طریقے بتائے ہیں(۱) السلام علیکم(۲) السلام علیکم ورحمتہ اللہ (۳) السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔ان تینوں طریقوں کا جوابِ سلام یا تو ویسا ہی ہوگا جیسا سلام کرنے والے نے کیایا اس سے بہتر ہوگا ہاں تیسرے طریقہ جواب ویسا ہی ہوگا اس میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا اس میں وہی الفاظ پورے پورے ادا ہوں گے حضور نبی کریم سے یہی روایت ہے۔
اس طریقہ سلام میں ایک تو وہ انفرادیت ہے جو اسلامی معاشرے کاخاص رنگ ہے۔ اسلام چاہتا ہے کہ اس کے ماننے والوں کے خاص خدوخال ہوں‘ ان کی خاص عادات ہوں جس طرح اسلام نے مخصوص قانونی تنظیمی نظام دیا ہے‘ اسلام نے اُمت کو ایک مکمل نظام حیات دیا ہے اس طرح سے ایک مخصوص قبلہ بھی دیا ہے سلام کے ذریعے اسلام نے اُمت مسلمہ کے تمام افراد میں نہایت ہی پختہ محبت اور بھائی چارہ پیدا کرنے کی کوشش کی ہے مثلا‘ ایک دوسرے کو سلام کرنا سلام کا جواب سلام سے دینا‘ اور سلام کاجواب زیادہ اچھا کرکے دینا ایسے اور بھی اعمال ہیں جن سے مسلمانوں کے درمیان باہمی رفاقت اور بھائی چارے کو فروغ ملتا ہے۔ لیکن سلام دو مسلمانوں کی ملاقات کی ایسی اچھی ابتدا ہے جس میں دونوں ملنے والے ایک دوسرے کے لئے سلامتی کی دعا کررہے ہوتے ہیں یہ انسانی نفسیات کے عین مطابق ہے ایک دوسرے کی سلامتی اور خیر خواہی ایسا عمل ہے جیسے کوئی پھل دار درخت اپنے پھل کے بوجھ سے جھک جاتا ہے ایسے ہی نفس انسانی بھی اپنی بھلائی اور سلامتی کی خبر سے متاثر ہو کر جھک جاتا ہے۔ سلام سے اسلامی معاشرے میں بہت مثبت اثرات پیدا ہوئے۔
اسلامی معاشرے میں اسلامی عادات کے اثرات کا اندازہ عملاً اس وقت ہوتا ہے جب ’’سلام‘‘ کے ذریعے دوغیرمتعارف اشخاص باہم متعارف ہوکر ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور پھر علیک سلیک باہمی روابط بھائی چارے‘ ہمدردی میںبدل جاتی ہے یہ ہم اپنے روز مرہ کے معمولات میں بخوبی مشاہدہ کرسکتے ہیںکہ ایک بالکل اجنبی شخص جو ہر روزیا کبھی کبھی ہمارے سامنے آتا ہے اگر ہم اسے السلام علیکم کہیں تو وہ بھی مجبوراً ہی سہی وعلیکم السلام کہے گا اور اگر یہ عمل ہماری طرف سے مسلسل ہوتا رہے تو یہ سلام ہماری شناسائی میں تبدیل ہوجاتا ہے اور شناسائی بھائی چارے اور اخوت میں بدل جاتی ہے اور یوں یہ باہمی رفاقت دوستی بھائی چارہ اسلامی معاشرے کومضبوط ومستحکم کرتا ہے۔ اسلام تو مذہب ہی اخوت‘ بھائی چارے اور دوستی‘ ہمدردی کا ہے سلام کا اصل اصول یہ ہے کہ ملک میں امن و امان قائم ہو۔اسلام تو دین ہی امن کا ہے اسلام میں جنگ بھی امن کے لئے ہے تاکہ کرۂ ارض پر امن قائم ہو اور یہ امن وسیع معنوں میں مطلوب ہے۔ ایسا امن جو اسلامی نظام حیات پر قائم ہو ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ معاشرے میںاستحکام‘ امن‘ اخوت‘ بھائی چارے‘ کے پھیلائو اور قیام کے لئے سلام ایک بنیادی اور کلیدی حیثیت کا حامل ہے۔’’السلام علیکم‘‘ کی اہمیت کا اس سے بخوبی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اگر مسلمانوں کی جماعت جہاد وقتال کے لئے نکلے تو پہلے معلوم کرلیں کہ مقابل کہیں مسلمان تو نہیں یہاں تک کہ اگر کوئی مقابل بظاہر اظہار اسلام کردے اور السلام علیکم کہہ دے تو اس پر حملہ نہ کیا جائے جیسا کہ آنے والی آیت میں اظہار کیا جارہا ہے۔
ترجمہ :اے ایمان والو! جب تم اللہ کی راہ میںجارہے ہو تو تحقیق کرلیا کرو اور جو تم سے سلام علیک کرے تم اسے یہ نہ کہہ دو کہ تو ایمان والا نہیں‘تم دنیاوی زندگی کے اسباب کی تلاش میں ہو تو اللہ تعالیٰ کے پاس بہت سے اموال غنیمت ہیں‘ پہلے تم بھی ایسے ہی تھے پھر اللہ تعالیٰ نے تم پر احسان کیا۔لہٰذا تم ضرور تحقیق وتفتیش کرلیا کروبے شک اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے باخبر ہے۔(النساء۔۹۴)
تفسیر: ابتدائے اسلام میں ’’السلام علیکم‘‘ کا لفظ مسلمانوں کے لئے شناختی علامت کی حیثیت رکھتا تھا چونکہ ’’السلام علیکم‘‘ مسلمانوں کے لئے شعائر اور شناختی علامت کے طور پر بھی استعمال ہوتا تھا ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو دیکھ کر السلام علیکم کہہ کر اپنی شناخت کرایا کرتاتھا تاکہ دوسرے فرد کو یہ یقین ہوجائے کہ یہ شخص اپنے ہی گروہ سے تعلق رکھتا ہے اور ہمارا دشمن نہیں خیر خواہ ہے۔ دوسرے معنوں میں ’’السلام علیکم‘‘ کہنے والے نے یہ واضح کردیا کہ میرے پاس تمہاری سلامتی وعافیت و خیرخواہی کے سوا کچھ نہیں لہٰذا تم مجھ سے کسی قسم کی دشمنی کرو نہ میں تم سے کسی قسم کی عداوت کروں گا۔السلام علیکم کی حیثیت واہمیت ابتدائے اسلام کے زمانے میں بالکل ایسی تھی جیسے کسی فوج کے جتھے میں کسی مخصوص شناختی لفظ کی ہوتی ہے۔تاکہ جب رات کے وقت یا تاریکی میں کوئی فوجی کہیں سے گزرے یا اس کے پاس سے کوئی دوسرا جوان گزرے تو یہ شناختی لفظ جو بھی اس وقت کے لئے مقرر کیا گیا ہو بول کراپنی شناخت واضح کرتا ہے تاکہ دشمن سمجھ کر نقصان نہ پہنچ جائے ایسے ہی اسلام میں سلام کا لفظ شعائر کے طور پر مقرر کیا گیا تھا۔ خصوصیت سے اس زمانے میں ان شعائر کی اہمیت اس وجہ سے اور زیادہ بڑھ گئی تھی کہ عرب کے نو مسلموں اور کافروں کے درمیان‘لباس‘ زبان‘ رہن سہن اور کئی چیزوں میں کوئی نمایاں فرق یا امتیاز نہیں تھا جس کی وجہ سے مسلمان اور کافر میں سرسری نظر سے پہچان کر لینا مشکل تھا۔
(جاری ہے)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close