Aanchal Feb 16

بدلتی رتیں

سویرا فلک

آیا تو ہے پیام بہاراں صبا کے ساتھ
خوں رنگ نہ ہوجائیں کہیں پھر فضا کے ساتھ
پھر پیار آگیا ہے بہت آسمان کو
موتی لٹا رہے ہیں زمیں پہ گھٹا کے ہاتھ

شام ڈھل رہی تھی اور بڑھتی ہوئی تاریکی کے ساتھ موسم کی خنکی میں بھی اضافہ ہوتا جارہا تھا۔وہ شال کو خود کے گرد لپیٹے بیڈ کی پشت سے سر ٹکائے چھت کو گھورنے میں مصروف تھی کہ دروازے پر ہونے والی دستک نے اسے چونکا دیا۔ اس نے وال کلاک کی طرف دیکھا جو شام کے سات بجے کا وقت بتارہا تھا۔اس نے گہری سانس لی‘ شال کو مضبوطی سے بازوئوں کے گرد لپیٹا اور دروازہ کھولنے کے لیے اٹھ کھڑی ہوئی۔
’’تو پہنچ گئی تم تک بریکنگ نیوز۔‘‘ دروازے پر کھڑی کرن کو دیکھ کر اس کے ماتھے پر شکنیں ابھر آئیں۔
’’میڈم جی! ہم بڑے لوگ ہیں‘ ہمیں تو لوگ دعوت پر بلایا کرتے ہیں۔ آنٹی نے گاجر کا حلوہ کھانے کے لیے بلایا ہے وہ تو میں یونہی ثواب حاصل کرنے کی خاطر تمہاری مسکین سی شکل کا دیدار کرنے آگئی ویسے خاصی

غیر مہذب ہو تم‘ بیٹھنے کا نہیں کہو گی۔‘‘ کرن نے تجاہل عارفانہ انداز تکلم اختیار کیا اور پھر اس کے جواب کا انتظار کیے بغیر ہی کمبل میں دبک کر بیٹھ گئی۔ اس نے گھورا تو کمبل کو کھول کر پیر پسارے اور کمبل اوپر تک تان لیا۔
’’سنو وہ ’’زندگی کے رنگ‘‘ کی آخری قسط آنے والی ہے‘ لگانا ذرا۔ حلوہ ذرا دم پر ہے۔‘‘ کرن نے اس کے بگڑے ہوئے تیوروں کو مکمل نظر انداز کرکے اپنی طمانیت بخش کارروائیاں جاری رکھیں تو وہ محض دانت بھینچ کر رہ گئی اور ریمورٹ کرن کی طرف بڑھادیا۔
’’بیٹھ جائو‘ تھک جائو گی۔ تمہارا اپنا ہی گھر ہے۔‘‘ کرن نے اپنے قریب جگہ بناکر گویا اس پر احسان کیا۔
’’بہت شکریہ آپ کا‘ ورنہ میں تو واقعی بھول گئی تھی کہ یہ میرا گھر ہے۔‘‘
’’اٹس او کے ڈئیر‘ مینشن ناٹ۔‘‘ کرن نے بتیسی نکالی تو اس نے منہ دوسری طرف پھیر لیا اور کرن کندھے اچکا کر ٹی وی کی جانب مگن ہوگئی۔ اتنے میں ناہید بیگم حلوہ کی ٹرے اٹھائے کمرے میں چلی آئیں تو دونوں سیدھی ہوکر بیٹھ گئیں۔
’’ارے آنٹی! آپ نے کیوں زحمت کی‘ مجھے بتادیتیں میں نکال کر لے آتی۔‘‘ کرن نے شرمندگی سے کہا۔
’’کوئی بات نہیں بیٹا! میں نے سوچا دونوں سہیلیاں باتیں کررہی ہوں گی میںہی لے جائوں۔ اب تم چکھ کر بتائو کیسا بنا ہے؟‘‘ ناہید بیگم نے حلوہ پلیٹ میں نکال کر کرن کو دیا۔
’’ضرور‘ ویسے آنٹی ذائقہ بہت ہے آپ کے ہاتھ میں ماشاء اللہ‘ کچھ اپنی بیٹی کو بھی سکھادیں۔‘‘ کرن نے حلوہ چمچ میں بھر کر منہ میں ڈلاتے ہوئے کہا۔
’’میری بیٹی تو بہت سلیقہ مند ہے بس ذرا نا سمجھی کی باتیں کرجاتی ہے کبھی کبھی‘ اب تم ہی کچھ سمجھائو اسے۔‘‘ ناہید بیگم نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا تو وہ جو اَب تک سب کچھ خاموشی سے سن رہی تھی پھٹ سی پڑی۔
’’آخر آپ لو گ میرا پیچھا کیوں نہیں چھو ڑدیتے‘ کیا میری ذات کے علاوہ‘ مجھے ڈسکس کرنے کے علاوہ آپ لوگوں کے پاس کوئی اور ٹاپک نہیں پلیز مجھے سکون سے رہنے دیں۔‘‘
’’دیکھ رہی ہو کرن! کیسی بد لحاظ ہوئے جارہی ہے یہ‘ چھوٹے بڑے کا لحاظ نہیں اسے‘ بتائو اسے کہ اگر ہم اس کے لیے پریشان نہ ہوں گے تو کون ہوگا۔ ہم تو آج یا کل دنیا چھوڑ ہی دیں گے لیکن اگر اس نے اپنی ضد نہ چھوڑی تو یہ دنیا اسے نہیں چھوڑے گی تب یاد کرے گی اپنی ماں کو۔‘‘ ناہید بیگم نے بظاہر کرن کو مخاطب کرکے اسے بری طرح لتاڑا تھا۔
آخر میں وہ خود ہی روپڑیں اور آنسو پونچھتی کمرے سے نکل گئیں اور کرن جو اس غیر متوقع صورتحال پر شاکڈ بیٹھی تھی جھٹکے سے اٹھ کھڑی ہوئی اور اس کا بازو پکڑ کر جھنجھوڑ ڈالا۔
’’رجا تم ہوش میں ہو‘ تمہیں اپنے اور پرائے کی کوئی پہچان نہیں رہی ہے۔ طعنے تمہیں برے لگتے ہیں‘ نصیحتیں تمہیں سمجھ نہیں آتیں۔ تم اپنی عقل کو قدرت کے اصولوں اور اللہ کی حکمت سے برتر سمجھتی ہو‘ ہم سب تمہارے دشمن نہیں تم خود اپنی دشمن ہو۔ تم خود اپنے زخموں کو ہرا رکھنا چاہتی ہو‘ ماتم کرنے کا دل چاہتا ہے تمہاری عقل پر۔‘‘
’’ہاں تو کرو ماتم‘ یہ تو اب میرا نصیب ہے۔‘‘ ماں اور دوست دونوں کے سخت جملوں نے رجا کو رُلا ڈالا‘ وہ سسک پڑی تو اس کی ہچکیوں نے کرن کو اس کے تیز لہجے کا احساس دلایا اس نے تڑپ کر رجا کو اپنی بانہوں میں بھرلیا۔
’’نہ رو میری جان‘ مت کرو ایسی باتیں‘ خدارا سمجھو۔‘‘ رجا کو چپ کراتے کراتے وہ خود بھی روپڑی۔ وہ دونوں بچپن کی سکھیاں تھیں۔ ہم محلہ‘ ہم جماعت‘ ساتھ کھیلتے کھیلتے بڑی ہوگئیں‘ کھلونے اور کپڑے شیئر کرتے دکھ سکھ‘ خوشی آنسو‘ خواب اور تعبیریں سب کچھ شیئر کرنے لگیں۔ ہم جن سے محبت کرتے ہیں ان کے لیے اپنا سب کچھ دان کردینے کو تیار رہتے ہیں۔ کیا تن‘ کیا من‘ کیا دھن… محبت کے آگے ہر شے ہیچ اور بے مول ہوجاتی ہے مگر انسان کے چاہنے سے کیا ہوتا ہے ربّ کائنات کی بنائی اس دنیا میں بشر کی نہیں رب کی مرضی چلتی ہے۔ اسی لیے تو ہم اپنا نصیب اپنے چاہنے والے سے نہیں بدل سکتے ۔ گر جو ایسا ممکن ہوتا تو درد سے روتے تڑپتے بلکتے بچے کی تکلیف ماں خود نہ لے لیتی۔ ماں ایسا چاہ کر بھی نہیں کرسکتی‘ ہر انسان کو اپنے حصے کا دکھ خود اٹھانا ہوتا ہے البتہ اگر کوئی آنسو پونچھنے والا در ماں مل جائے تو درد کی شدت میں کمی ضرور آجاتی ہے۔
’’بس کرو رجا! پلیز سنبھالو خود کو‘ یہ لو پانی پی لو۔‘‘ کرن نے اس کے لرزتے وجود کو سہارا دے کر اسے پانی کا گلاس تھمایا تو اس نے گھونٹ گھونٹ حلق میں اتارنا شروع کردیا۔ کرن نے اس کے بکھرے بال سمیٹے۔
’’پلیز رجا! خود کو ہلکان مت کرو۔‘‘
’’پھر کیا کروں کرن! مجھے بتائو آخر میں کیا کروں؟‘‘ رجا نے ہتھیلیوں سے اپنے نم رخسار صاف کیے۔
’’تم جاب کرلو رجا!‘‘ کرن نے کہا تو رجا چونک پڑی۔
’’جاب… میں…‘‘ رجا گومگوںکی کیفیت میں تھی۔
’’ہاں‘ میرے آفس کے ایچ آر ڈیپارٹمنٹ میں ویکنسی آئی ہے۔‘‘
’’مگر مجھے کون جاب دے گا‘ کوئی تجربہ ہے نہ کوئی اعلیٰ ڈگری۔‘‘ رجا ہنوز حیرت میں مبتلا تھی۔
’’ارے ڈئیر! پی آر ہونی چاہیے‘ تمہاری یہ دوست کس دن کام آئے گی اور تم نے گریجویشن کا ایگزام تو دیا ہوا ہے ‘ اپلائیڈ شو کردیں گے سی وی۔ پاس توہو ہی جائو گی‘باقی شام میں کمپیوٹر کلاسز میں داخلہ لے لینا تاکہ کچھ ایکسٹر اسکلز بھی سی وی میں ایڈ ہوجائیں۔ تم یوں کرو کہ آج رات کو ہی مجھے سی وی میل کردینا میں ڈیپارٹمنٹ میں فارورڈ کردوں گی۔‘‘ کرن نے کہا تورجا کو لگا گویا فیثا غوث کا سوال حل ہوگیا ہو۔
’’کرن یو آر ٹرو فرینڈ۔‘‘ رجا کرن کے گلے لگ گئی‘ خوشی سے ایک بار پھر اس کی آواز بھرا گئی۔
’’ڈونٹ وری ڈئیر! سب ٹھیک ہوجائے گا‘ پتا ہے کیا رجا! گھر بیٹھی بیٹیاں ہمیشہ آنکھوں میں کھٹکتی ہیں۔ تمہارے روز و شب بدلیں گے تو لوگوں کے رویے میں بھی فرق آجائے گا اور تم مصروف ہوجائو فی الحال تمہارے لیے یہی بہتر ہوگا۔‘‘ کرن نے اس کا شانہ تھپتھپاتے ہوئے کہا تو اس نے اثبات میں سر ہلادیا۔
’’مگر سنو‘ تم نے آنٹی کے ساتھ ٹھیک نہیں کیا‘ وہ تمہاری ماں اگر بالفرض وہ تھوڑی زیادتی کربھی جاتی ہیں تو تمہیں برداشت کرنا چاہیے کیونکہ یہ تمہارا فرض ہے کہ تم ان سے اونچی آواز میں بات نہ کرو۔‘‘ کرن نے تنبیہی انداز میں کہا۔
’’جانتی ہوں‘ مجھے میری غلطی کا احساس ہے۔‘‘ رجا نے ہونٹ بھینچتے ہوئے کہا۔
’’ہونا بھی چاہیے‘ اب جائو اپنی غلطی کی تلافی کرو اور ان سے معافی مانگو اور ذرا خود پر قابو رکھنا سیکھو۔ جذبات میں آکر حدیں کراس کرنا چھوڑ دو۔‘‘ کرن کا لہجہ بدستور سنجیدہ تھا۔
’’میں کوشش کروں گی‘ تم بیٹھو میں امی کے پاس سے ہو کر آتی ہوں۔‘‘ رجا نے بکھرے بال سمیٹ کر کیچر میں مقید کیے اور کمرے سے باہر نکل گئی تو کرن دوبارہ ٹی وی کی طرف متوجہ ہوگئی جہاں ڈرامہ اختتامی مراحل میں تھا۔
/…ء…/
کرن کے کہنے پر رجا نے جاب کرتو لی مگر وہ اندر سے بہت خوفزدہ تھی۔ وہ پورے دو سال بعد گھرسے قدم باہر نکال رہی تھی وہ لوگوں کا سامنا کرنے سے کترانے لگی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ آج اپنی جاب کے پہلے دن وہ اسے خنکی کے باوجود بار بار ٹھنڈے پسینے آرہے تھے۔ اس نے شیفون کے دوپٹے کو اسکارف کی طرح لپیٹ کر اچھی طرح پن اپ کیا ہوا تھا مگر اس کے باوجود وہ اسے بار بار چاروں اطراف سے سیٹ کرتی جارہی تھی‘ کرن اس کی پیشانی اور گھبراہٹ نوٹ کررہی تھی۔
’’رجا پلیز بی کانفینڈنٹ‘ تم اس طرح گھبرا کیوں رہی ہو یار میں بھی تو جاب کرتی ہوں‘ ہزاروں لڑکیاں کرتی ہیں پھر میں تو آفس میں بھی تمہارے ساتھ ہی ہوں۔‘‘
’’ہاں شکر ہے تم ساتھ ہو‘ ہم قریب رہتے ہیں اگر تمہارا ساتھ نہ ہوتا تو میں کبھی اتنی دور نہ آپاتی۔ اب تو راستے بھی صحیح سے یاد نہیں مجھے۔‘‘ رجا نے ٹشو سے چہرہ پر آیا پسینہ خشک کیا۔
’’چلو بس اب زیادہ سوچو نہیں بلاوجہ نروس مت ہو‘ بی نارمل آفس آنے والا ہے‘ فرسٹ امپریشن از دی لاسٹ امپریشن۔‘‘ کرن نے اسے تسلی دیتے ہوئے کار کا اسٹیئرنگ دائیں طرف موڑا تو رجا سامنے دیکھنے لگی۔ کچھ فاصلہ طے کرنے کے بعد کرن نے گاڑی ایک بلند اور وسیع احاطے پر مشتمل خوب صورت بلڈنگ کے سامنے روک دی۔
یہ اسکائی زون آفس کی سینٹرل برانچ تھی‘ رجا نے نگاہیں اٹھا کر سبز شیشوں سے بنی خوب صورت عمارت کو دیکھا اور گہرا سانس کھینچ کر کرن کی جانب قدم بڑھادیئے جو گاڑی پارک کرکے اسے اندر چلنے کے لیے ساتھ آنے کا اشارہ کررہی تھی۔ دونوں ایک ساتھ ہاتھ پکڑے آفس میں داخل ہوئیں‘ کرن نے ریسپشن پر بیٹھی لڑکی سے مصافحہ کیا اور رجا کا تعارف کیا۔
’’مرینہ یہ میری فرینڈ ہیں رجا! آج سے ہمارا آفس جوائن کررہی ہیں۔‘‘
’’اوہ‘ ویلکم مس رجا! نائس ٹو میٹ یو۔‘‘ جدید تراش خراش کے سوٹ میں ملبوس اسمارٹ سی مرینہ نے مسکراتے ہوئے کہا تو رجا نے ہاتھ آگے بڑھادیا۔
’’تھینک یو۔‘‘
’’اچھا اب تم یہ سامنے والے روم میں چلی جائو‘ وہاں عاطف صاحب کو اپنی جوائنگ دو۔ میرا آفس اوپر والے فلور پر ہے‘ اب تم سے لنچ ٹائم میں ملاقات ہوگی‘ اوکے ٹیک کیئر۔‘‘ کرن نے اس کا رخسار سہلایا اور اوپر جاتی سیڑھیوں کی جانب بڑھ گئی تو وہ تھوک نگلتی ہوئی کرن کے بتائے ہوئے روم کی جانب بڑھ گئی۔
/…ء…/
’’ہارسن! سوا سات ہوگئے ہیں۔‘‘ ارسل نے سرمد سے کہا تو اس نے بتیسی نکال کر کہا۔
’’ہاں میرے بھائی میری بینائی ابھی تک سلامت ہے اور میں دیکھ سکتا ہوں کہ گھڑی کی سوئیاں کس جانب اشارہ کررہی ہیں۔‘‘
’’واہ میرے یار! کیا بات ہے تیری‘ بے جان چیزوں کے اشارے سمجھ سکتا ہے تُو مگر اپنے دوست کے دل کی بات سمجھ نہیں آتی تجھے۔ صدقے جائوں تیری یاری تے۔‘‘ ارسل نے جلے بھنے لہجے میں سرمد کو کوسا تو اس کے حلق سے قہقہہ برآمد ہوا۔
’’صبر میری جان صبر‘ ہوسکتا ہے ٹریفک جام ہو یا پھر آج وہ آئیں ہی ناں۔‘‘ سرمد نے بھنویں اچکاتے ہوئے کہا تو ارسل نے بھنا کر اسے ایک چپت رسید کردی۔
’’جب بھی بولنا فضول بولنا‘ خبیث آدمی! خاک پڑے تیرے منہ میں‘ یہاں میں انتظار میں مرا جارہا ہوں اور تو پیش گوئیاں کررہا ہے۔‘‘
’’ارے یار! کیا مصیبت ہے بولوں تو مروں نہ بولوں تو بھی پیچھے پڑا رہتا ہے۔ اب میرا دماغ مت کھانا‘ جا خود دعا کر‘ وظیفے کر جو مرضی کر میرا پیچھا چھوڑ دے۔‘‘ سرمد نے گردن سہلا کر ارسل کے سامنے ہاتھ جوڑے تو اس نے جھٹ اپنی آنکھیں بند کرلیں اور جھومنے لگا۔
سرمد کچھ دیر تو اسے حیرت سے گھورتا رہا مگر جب چاروں طرف سے کھی کھی کی دبی دبی آوازیں بلند ہونے لگیں تو اس نے ارسل کو کہنی ماری۔
’’ارے او مردود ! تُو دعا کررہا ہے یا جلالی منتر پڑھ رہا ہے۔‘‘
’’ابے میری پسلی نکالے گا کیا؟ کیا مصیبت آگئی اب۔‘‘ ارسل نے کمر سہلاتے ہوئے کہا تو خرم کے اشارے پراس نے کلاس میں نظر دوڑائی تو اسٹوڈنٹس کو اپنی جانب معنی خیز انداز میں دیکھتے پاکر خجل ہوکر گدی سہلانے لگا ‘ قریب تھا کہ وہ باہر کی جانب دوڑ لگاتا اس کی نگاہ دروازے پر پڑگئی۔
’’پڑگئی کلیجے وچ ٹھنڈ۔‘‘ سرمد نے ارسل کو ٹکٹکی باندھے دیکھ کر اس کی نگاہوں کے تعاقب میں نظریں دوڑائیں تو مسکرادیا۔
’’ہاں یار! دعاقبول ہوگئی شاید‘‘ ارسل نے ٹھنڈی سانس بھری۔
’’آہم… تیرا تو کچھ علاج کرنا ہی پڑے گا‘ بات سن…‘‘ سرمد نے کچھ کہنا چاہا مگر کلاس ٹیچر کی آمد کے باعث اسے خاموش ہونا پڑا۔ ساڑھے سات ہوچکے تھے‘ کمپیوٹر کلاس شروع ہوگئی تھی۔ سر عامر نے لیکچر دینا شروع کردیا‘ تمام اسٹوڈنٹس ہمہ تن گوش ہوچکے تھے۔
’’اسٹوڈنٹس ‘ آج ہم پریکٹیکل اسٹارٹ کریں گے‘ آپ نے ایک ہفتے قبل جوتھیوری پڑھی ہے‘ اب آپ اس کا پریکٹیکل کرکے اس سبجیکٹ میں مہارت حاصل کریں۔ میں آپ کو ٹیم کی صورت میں پروجیکٹ اسائن کروں گا تاکہ آپ کو آئیڈیا کی ورائٹی مل سکے۔ آپ جانتے ہیں ایک سے بھلے دو اور دو سے بھلے چار۔‘‘ سر عامرنے لڑکے لڑکیوں کے نام کال کرکے چار چار کا گروپ بنایا۔ کلاس کا ٹائم ختم ہوگیا تو سر عامر تو چلے گئے کچھ اسٹوڈنٹس اپنے پروجیکٹ کی طرف متوجہ ہوگئے اور کچھ گھروں کی طرف روانہ ہوگئے۔
/…ء…/
آج چھٹی کا دن تھا‘ رجا ضروری کام نمٹا کر‘ نہا دھوکر چھت پر آبیٹھی۔دسمبر کے اوائل دن تھے‘ موسم کی خنکی رچی ہوئی تھی مگر دن کے گیارہ بارہ بجے دھوپ خوب شدت سے چمکتی تھی اور سورج کی گرم کرنیں جسم کو حدت پہنچا کر حرارت پیداکررہی تھی۔کچھ دیر چھت پر یونہی ٹہلنے کے بعد وہ چھت پر رکھے ہوئے تخت پر آکر بیٹھ گئی اور اخبار کھول کر سامنے پھیلا لیا جسے وہ آتے ہوئے اپنے ساتھ لے آئی تھی۔ ابھی اس نے شہ سرخیوں پر نظر ڈالنا شروع ہی کی تھی کہ کرن وارد ہوگئی اور اپنے مخصوص چہکتے ہوئے انداز میں بولی۔
’’ہائے ڈئیر کیا ہورہا ہے؟‘‘
’’میں سلائی کررہی ہوں شاید آپ کو نظر کم آتا ہے۔‘‘ رجا نے جل بھن کر جواب دیا۔
’’ہاں مجھے بھی لگتا ہے کہ میری نظر کمزور ہوگئی ہے کیا ہے نا اتنی حسین غزالی آنکھیں ہیں تو ہر کوئی حسد کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔‘‘ کرن نے ڈھٹائی سے کہا۔
’’اوہو… بڑی خوش فہمی ہے جناب کو‘ ویسے بائی دا وے تمہیں کوئی کام وام نہیں ہوتا جو چھٹی والے دن بھی صبح ہی وارد ہوجاتی ہو۔‘‘ رجا نے اس کی مزید عزت افزائی کی کیونکہ کرن اب اخبار اس کے ہاتھ سے لے کر خود مزے سے پڑھنا شروع ہوگئی تھی۔
’’بھئی بات یہ ہے محترمہ کہ کام نمٹانے کے تو ہم ماہر ہیں یعنی سست نہیں ہیں دوسرا آپ کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ ہم وارد نہیں ہوئے بلکہ باقاعدہ بلوائے گئے ہیں۔ گرما گرم مولی کے پراٹھے انجوائے کرنے کے لیے۔‘‘
’’اوہو‘ کیا بات ہے دعوت پر بلایا گیا ہے یہ منہ اور مسور کی دال۔‘‘ رجا نے اخبار جھپٹنا چاہا۔
’’جلنے والے جلا کریں توہم کیا کریں‘ میری جان! ایسے ہی ہیں دلوں پر چھا جانے والے‘ راج کرنے والے۔ اب اوپر والے نے بنایا ہی ہم کو ایسا سپر پس ہے کہ جو دیکھتا ہے‘ ملتا ہے بس گرویدہ ہوجاتا ہے۔‘‘ کرن نے اس کے آگے اخبار لہرایا اور خود نیچے کی طرف بھاگی اور سیدھا کچن میں جا پہنچی جہاں رجا کی امی پراٹھوں کو ہاٹ پاٹ میں رکھ رہی تھیں۔
’’السلام علیکم آنٹی! لائیں میں دستر خواں پر رکھ آئوں۔‘‘
’’وعلیکم السلام‘ جیتی رہو بیٹا!‘‘
’’امی آپ کیوں ہر ایرے غیرے کو دعوتوں میں بلالیتی ہیں‘ ایسے مفتے کھانے والوں کو ذرا کم منہ لگایا کریں۔ بے وجہ ہی دماغ چڑھ جاتا ہے۔‘‘ رجا نے دستر خوان پر براجمان کرن کو گھورتے ہوئے دانت پیستے ہوئے کہا جو مزے سے سب کے آگے برتن سجاکر اپنا پہلا نوالہ توڑ رہی تھی اور اخبار اس نے کہیں غائب کردیا تھا تاکہ رجا کو مزید تپا سکے۔ وہ جانتی تھی کہ صبح اخبار کا باقاعدہ مطالعہ رجا کی عادت میں شامل ہے اس لیے جان بوجھ کر اسے چڑا رہی تھی۔
’’رجا یہ کیا بدتمیزی ہے‘ گھر آئے مہمانوں سے کوئی ایسے بات کرتا ہے۔‘‘ امی نے گھرکا تو رجا نے فوراً منہ بنالیا۔
’’مہمان… ہونہہ…‘‘
’’ارے آنٹی جی‘ جانے دیں یہ لوگ کیا جانیں محبتوں کا مطلب۔ یہ بے جان چیزوں کے پیچھے جان دینے والے کیا سمجھیں کہ آپ کے ہمارے جذبات اور ویسے بھی آپس کی بات ہے۔ لوگ محبت میں بٹوارہ بھی تو برداشت نہیں کرپاتے۔‘‘ کرن پھر چہکی تو رجا کی امی نے اسے جھٹ گلے لگا کر ماتھا چوم ڈالا وہ انہیں واقعی بیٹیوں کی طرح عزیز تھی ہر حال میں خوش رہنے والی زندہ دل۔
’’امی میں آپ کی بیٹی ہوں کہ وہ۔‘‘ رجا نے کرن کی زبان چڑانے پر منہ بسورتے ہوئے کہا تو امی کو بے اختیار ہنسی آگئی۔
’’ارے توبہ… میں کیا کروں اس لڑکی کا‘ کیسے بچوں کی طرح لڑرہی ہے۔‘‘کرن کا بھی قہقہہ نکلا تو رجا خفت زدہ چہرے لیے خود بھی ہنس پڑی۔
’’چلو تم لوگ ناشتا کرو‘ میں ذرا تمہارے ابو کو ناشتا دے آئوں‘ دوا بھی کھانی ہوتی ہے انہیں۔‘‘ امی اپنا چائے کا کپ اٹھا کر کھڑی ہوئیں اور واپس کچن کی جانب چلی گئیں‘ وہ دونوں بھی دستر خوان سمیٹنے لگیں۔
’’اچھا سن تیری کمپیوٹر کلاسز کیسی چل رہی ہیں‘ کچھ مشکل تو نہیں ہورہی۔‘‘ کرن نے دستر خوان لپیٹتے ہوئے کہا اور کچن میں آکر سلپ پر رکھ دیا۔
’’ارے ہاں اچھا ہوا تم نے پوچھ لیا‘ کچھ کمانڈزسمجھ نہیں آرہیں‘ وہ زرا بتانا۔ بہت عرصے بعد پڑھنے بیٹھی ہوں تو تھوڑی مشکل تو ہورہی ہے مگر شکر ہے سر عامر بہت کوآپریٹو ہیں‘ جتنی بار پوچھو چڑتے نہیں۔‘‘ رجا نے پلیٹیں دھوکر ریک میں رکھیں۔
’’ہاں پڑھائی میں گیپ آجائے تو ایسا ہوتا ہے‘ اس لیے تو کہا جاتا ہے کہ سب سے پہلے تعلیم مکمل کی جائے پھر کوئی نیکسٹ اسٹیپ لیا جائے مگر ہمارے یہاں کی روایتی سوچوں کا کیا کیا جائے۔ ارے یاد آیا وہ مسٹر ارسل بھی تمہاری کمپیوٹر کلاس میں ہی ہیں کیا‘ اس دن بتارہے تھے کہ آپ کی فرینڈز بھی میرے ساتھ ہیں۔‘‘ وہ دونوں اب اسٹڈی روم میں آگئیں۔
’’اُف کس فضول شخص کا نام لے لیا ‘ تم کیسے جانتی ہو اس چھچھورے انسان کو۔‘‘ رجا نے کمپیوٹر آن کرتے ہوئے چونک کر کہا۔
’’وہ ہماری دوسری برانچ میں ہوتے ہیں‘ پہلے یہاں ہمارے ساتھ ہوتے تھے پھر ٹرانسفر ہوگیا ان کا۔ ان فیکٹ پروموشن ملی تھی ان کو‘ لیکن یار جہاں تک میں ان کو جانتی ہوں چار سال اکٹھے کام کیا ہے ہم نے ‘ وہ بہت اچھے انسان ہیں جس دن تمہارا پہلا دن تھا اسی دن وہ وہاں کام سے آئے ہوئے تھے۔ میرے ساتھ تمہیں دیکھا تھا پھر شاید کمپیوٹر کلاسز میں دیکھا تو ابھی تین دن پہلے میٹرو میں ملے تھے گروسری کرتے ہوئے تو بتارہے تھے‘ لیکن میں حیران ہوں وہ ایسے تو ہر گز نہیں جیسا کہ تم بتارہی ہو۔‘‘ کرن نے تفصیل بتاتے ہوئے اچنبھے سے کہا۔
’’رہنے دو‘ ایک نمبر کے مسخرے ہیں وہ اور ان کا دوست۔‘‘ رجا کو سرمد کا جھومتا ہوا سر یاد آگیا۔
’’حیرت ہے‘ خیر خاصے قابل ہیں ایسے ہی ایکسٹرا اسکلز کے لیے کورسز کرتے رہتے ہیں۔‘‘ کرن نے پھر ارسل کی حمایت کی تو رجا چڑگئی۔
’’ایسے ہی قابل ہیں تو یہ بیسک کی کلاسز میں کیا کررہے ہیں۔‘‘
’’آہم‘ یہ تو میں نے سوچا ہی نہیں‘ واقعی پوائنٹ میں دم ہے تمہارے۔‘‘ کرن واقعی بری طرح چونکی۔
’’دفع کرو‘ ہمیں کیا لینا دینا ہے ‘ تم ذرا یہ بتائو مجھے۔‘‘ رجا نے ایکسل کی ونڈو کھول کر اسے متوجہ کیا تو کرن اس کے برابر سیٹ پر آبیٹھی۔ مگر اس کا ذہن الجھا ہوا تھا اور پھر تھوڑی دیر بعد اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ نمودار ہوگئی‘ غالباً گتھی سلجھ گئی تھی۔
/…ء…/
’’ارسل آپ میری بات سمجھ نہیں رہے‘ یہ سب اتنا آسان نہیں جتنا ہم سمجھ رہے ہیں۔ ایسی کوششیں ہم پہلے بھی کرچکے ہیں مگر ہنوز دلی دور ہے۔‘‘ کرن کا لہجہ قطعی تھا۔ اس کا اندازہ بالکل درست نکلا تھا ارسل رجا کو پسند کرنے لگا تھا اور یہ معاملہ پہلی نظر میں محبت کا تھا۔ رجا کی معصومیت اور سادگی نے پہلی ہی نظر میں ارسل کے دل میں گھر کرلیا تھا۔ اس کے مزید قریب آنے کے لیے اس لیے اس نے کمپیوٹر کلاسز میں داخلہ لیا تھا مگر اسے اپنی بیل منڈھے چڑھتے نظر نہیں آرہی تھی کیونکہ رجا نے مسلسل نو لفٹ کا بورڈ لگا رکھا تھا بلکہ اب تو ارسل کو اس کی نگاہوں میں اپنے لیے واضح طورپر ناپسندیدگی نظر آنے لگی تھی۔ اس لیے اسے بہتر یہی لگا کہ وہ اب مزید کوئی اسٹیپ لینے کے بجائے باقاعدہ پرپوزل ہی بھجوائے اسی مقصد کے لیے اس نے کرن کوفون کیا تھا مگر وہ حقیقت سے باخبر تھی۔ وہ اچھی طرح رجا کو جانتی تھی اسی لیے اس نے ارسل سے معذرت کرنا چاہی مگر ارسل کے پُرزور اصرار پر اس نے ایک بار اور رجا کو سمجھانے اور ارسل کا ساتھ دینے کی حامی بھر ہی لی۔
’’ٹھیک ہے مگر دیکھ لیں ہر طرح کی صورت حال کے لیے تیار رہیے گا۔‘‘ کرن نے ایک بار پھرارسل کو وارن کیا۔
’’میں وعدہ کرتا ہوں میں آپ سے کسی قسم کی شکایت نہیں کروں گا۔ اب بس یہ کیس آپ کے حوالے۔‘‘ ارسل نے ہنستے ہوئے کہاکرن کا لہجہ بھی حسب عادت شوخ ہوگیا۔
’’واقعی یہ تو سپریم کورٹ کا کیس ہے چلیں پھر جو بھی پراسنگ ہوتی ہے میں آپ کو کال کرکے بتادوں گی تاکہ آپ اپنے دلائل مضبوط کرسکیں۔‘‘
’’اوکے ڈن اینڈ تھینک یو‘ ٹیک کیئر اللہ حافظ۔‘‘ ارسل نے کہا تو کرن نے لائن ڈسکنیکٹ کردی۔
/…ء…/
آج اسکائی زون کا سیمینار تھا‘ تمام برانچوں کے ورکر پی سی میں موجود تھے۔ دو گھنٹے کا سیمینار اٹینڈ کرنے کے بعد ورکرز نے ہائی ٹی انجوائے کی اور پھر پلان کے مطابق کرن رجا کو لے کر ارسل کے ہمراہ نسبتاً تنہا گوشے میں چلی آئی۔ لوگ آہستہ آہستہ روانہ ہورہے تھے‘ کرن نے کسی کے انتظار کا بہانہ کردیا۔
’’لیجیے ارسل صاحب! اب اپنا مدعا بیان کرسکتے ہیں۔‘‘ کرن نے آہستگی سے کہا تو رجا بری طرح چونک پڑی تاہم کرن انجان بن کر پرانی کولیگ سے ملنے کے بہانے انہیں اکیلا چھوڑ کر آگے چلی گئی۔
’’رجا !آپ پلیز‘ مجھے غلط نہ سمجھیں‘ میں جانتا ہوں یہ طریقہ ٹھیک نہیں مگر کوئی بھی قدم آپ کی اجازت کے بغیر نہیں اٹھانا چاہ رہا تھا اس لیے…‘‘ ارسل نے تمہید باندھنی چاہی مگر رجا نے شعلہ بار نگاہوں سے تکتے ہوئے انتہائی سخت لہجے میں کہا۔
’’اس لیے آپ نے یہ اوچھا طریقہ استعمال کیا۔
’’مس رجا! مائنڈ یور لینگویج پلیز…‘‘ ارسل کی عزت نفس کو ٹھیس لگی تو اس کا لہجہ بھی درشت ہوگیا۔
’’آپ نے ہی مجھے مجبور کیا ہے‘ آپ جیسے نوجوان جن کا مقصد ہی لڑکیوں کے پیچھے پڑ کر ان کی زندگی اجیرن کرنا ہے۔ اسی رویے کے لائق ہوتے ہیں‘ آپ لوگوں کو پتا ہی نہیں ہے کہ اصل میں زندگی ہے کیا؟ مذاق اور کھیل بناکر رکھتے ہیں آپ جیسے لوگ زندگی کی حقیقت کو۔‘‘ رجا کی آواز قدرے تیز ہونے لگی اور لہجے کی تلخی مزید بڑھ گئی اس کی تیز ہوتی آواز پر کرن واپس ان کی طرف پلٹ کر آئی۔
’’رجا! کیا ہوگیا ہے تمہیں؟ یہ پبلک پلیس ہے یار!‘‘ کرن نے سرگوشی کی تو رجا نے نسبتاً ہلکے لہجے میں اسے بھی سنا ڈالیں۔
’’یہ کس قسم کی بھونڈی حرکت کی ہے تم نے‘ دوست ہوکر بھی دوستی کا خیال نہیںکیا۔‘‘
’’رجا…‘‘ کرن کو رجا سے اس حد تک برے رویے کی توقع نہ تھی اس نے لحاظ مروت سب کو بالائے طاق رکھ دیا تھا کیونکہ اسے لگ رہا تھا کہ بس وہ صحیح ہے اور دوسرے غلط۔ کرن بری طرح شاک تھی پھر اسے ارسل کا خیال آیا جو لب بھینچے مڑنے کو تھا۔
’’ارسل آئی ایم سوری‘ مجھے نہیں پتا تھا کہ یہ اس طرح آپ کی بے عزتی…‘‘
’’اٹس اوکے‘ آپ نے وارن کیا تھا میں ہی شاید سمجھنے میں غلطی کرگیا۔‘‘ وہ کرن کی بات کاٹتے ہوئے پلٹ کر آگے بڑھ گیا۔
’’بہت افسوس کی بات ہے رجا! تم نے تو خود پر سے تعلیم یافتہ اور مہذب کا بورڈ ہی ہٹادیا اور ایک ارسل ہے جو اس قدر ظرف کا مظاہرہ کرگیا‘ بغیر کوئی سخت بات کہے پلٹ گیا۔سچ تو یہ ہے علم صرف ڈگریوں سے حاصل نہیں ہوتا۔‘‘ کرن اس کی بات سے بُری طرح ہرٹ ہوئی تھی اس کا گلو گیر لہجہ رجا کو اپنی غلطی کا احساس دلاگیا۔
’’آئی ایم سوری کرن! مگر کیا کروں تم سمجھتی کیوں نہیں‘ تم سب مجھے کیوں بار بار اذیت سے گزارنا چاہتے ہو۔‘‘
’’اس لیے کہ تم خود اذیتی کا شکار ہو‘ ہم تو تمہارے بھلے کے لیے سب کررہے ہیں مگر تم سمجھتی ہو کہ تم سے زیادہ عقل مند باشعور… اور دکھی شخص دنیا میں کوئی نہیں تو سنو تمہیں پتا ہے کہ ارسل کے ماں باپ اس وقت گزر گئے جب وہ محض دس سال کا تھا ہی از آ سیلف میڈ گائے… وہ بھی زندگی کی ان تلخ حقیقتوں سے آشنا ہے جن سے تم… مگر اس نے خود پر خود ترسی اور انوکھے پن کا بورڈنہیں لگالیا اور اس کا خالہ زاد سردمد امی کا اسٹوڈنٹ رہ چکا ہے وہ کہتا ہے کہ کرن باجی میں ارسل کی شرافت اور خلوص کی قسم کھاسکتا ہوں مگر میں یہ سب تمہیں کیوں بتارہی ہوں‘ میں بھی بے وقوف ہوں جو ٹائم ویسٹ کررہی ہوں تمہارے ساتھ۔ میرا خیال ہے ہمیں چلنا چاہیے۔‘‘ کرن نے اس کی طرف دیکھے بغیر قدم آگے بڑھائے تو رجا نے بڑھ کر اس کا ہاتھ تھام لیا۔
’’پلیز کرن! مجھے معاف کردو اورمیں ارسل سے بھی بہت شرمندہ ہوں مگر پلیز میرا پوائنٹ آف ویو سمجھنے کی کوشش کرو۔‘‘
’’میں تم سے اب اس ٹاپک پر کوئی بات نہیں کرنا چاہتی نا میں اس معاملے میں پڑوں گی‘ جلدی کرو دیر…‘‘ اور ایک زور دار دھماکے کی آواز کے ساتھ کرن کے الفاظ ادھورے ہی رہ گئے۔
سامنے والی بلڈنگ میں زوردار دھماکا ہوا تھا‘ خوفناک آواز نے کچھ دیر کے لیے سماعتیں اور حواس جیسے معطل کردیئے تھے‘ لوگوں کی چیخیں بلند ہوتے شعلوں کے ساتھ آسمان سے باتیں کررہی تھیں۔ رجا اور کرن بھی بدحواس ادھر اُدھر دیکھ رہی تھیں کہ تھوڑی دیر میں ارسل بھاگتا ہوا آیا۔
’’آپ لوگ پلیز میری گاڑی میں بیٹھیں‘ سامنے والے کوچنگ سینٹر میں دھماکہ ہوا ہے‘ میں ذرا صورتحال دیکھ کر آتا ہوں۔ جلدی کریں کرن! بھیڑ میں آپ لوگ زخمی ہوسکتے ہیں۔‘‘ ارسل نے گم صم کرن کو باقاعدہ ہاتھ پکڑ کر گھسیٹا کرن نے رجا کا ہاتھ تھاما ہوا تھا۔ ارسل دونوں کو لے کر پارکنگ تک آیا اور جگہ بناکر گاڑی میں بٹھایا‘ عجیب افراتفری تھی۔ کرن اور رجا کی آنکھیں جیسے پتھر کی ہوگئی تھیں اور لب مسلسل ورد سے ہل رہے تھے۔
تقریباً پون گھنٹے بعد وہ واپس آیا اس کی سفید شرٹ پر خون کے بجا بجا دھبے گواہی دے رہے تھے کہ وہ زخمیوں کی مدد کرکے آیا ہے۔ میڈیا اور پولیس کے پہنچنے پر رش کچھ چھٹنا شروع ہوا تھا۔ ارسل نے جیسے تیسے اس علاقے سے گاڑی نکالی اور آخر کار وہ لوگ اس جگہ سے دور آگئے‘ ارسل نے راستے میں ایک جوس کی شاپ پر گاڑی روکی اور گاڑی سے اتر کر شاپ پر گیا۔ جوس لیے اور واپس گاڑی میں آبیٹھا‘ خاموشی سے ڈبے کرن اور رجا کی طرف بڑھائے جو انہوں نے تھام لیے۔ ارسل نے گاڑی اسٹارٹ کردی۔ بیک ویو مرر میں دیکھا تو نوٹ کیا کہ دونوں جوس ہاتھ میں لیے خاموشی اور گم صم کھڑکیوں سے باہر تکے جارہی ہیں۔
’’یہ زندگی ہے‘ کبھی بھی کچھ بھی ہوسکتا ہے لیکن کسی بھی حادثے کی وجہ سے کائنات کا نظام رکتا نہیں‘ چلتا رہتا ہے۔ آپ لوگ جوس پئیں‘ اچھا فیل کریں گے۔ کرن میں نے آپ کی گاڑی لاک کردی تھی‘ میں گھر پر لادوں گا‘ ابھی آپ لوگوں کو گھر پر ڈراپ کردیتا ہوں‘ آپ لوگ بھی نارمل ہوجائیں ورنہ گھر والے مزید پریشان ہوجائیں گے۔‘‘ اور پھر ارسل یہ دیکھ کر مسکرادیا کہ دونوں نے بچوں کی طرح اس کی بات مان کر جوس کے ٹن منہ سے لگالیے‘ دونوں کو گھر ڈراپ کرکے ارسل جانے لگا تو رجا نے کہا۔
’’ارسل صاحب آپ بہت تھکے ہوئے لگ رہے ہیں‘ پلیز فریش ہوجائیں اور چائے پی لیں۔‘‘ انتہائی لجاجت سے کہتی رجا کو دیکھ کر کرن اور ارسل بُری طرح چونک گئے پھر ارسل نے سنبھل کر متانت سے جواب دیا۔
’’نہیں اب میں گھر جانا چاہوں گا‘ کافی دیر ہوگئی ہے۔‘‘
’’اس کا مطلب آپ نے مجھے معاف نہیںکیا بلکہ میں نے آپ سے مانگی ہی کہاں؟ پلیز ارسل صاحب میں دل کی گہرائیوں سے آپ سے معذرت خواہ ہوں‘ میں نے واقعی آپ کو سمجھنے میں غلطی کردی۔‘‘ رجا کا لہجہ بھیگ رہا تھا ارسل کا دل اس معصوم لڑکی کے لیے پگھلنے لگا۔
’’اٹس اوکے‘ چلیں آپ بھی کیا یاد کریں گی۔ جائیں معاف کیا آپ کو اور یقین دلانے کے لیے چائے کی آفر بھی قبول کرلی مگر یاد رہے کہ چائے اچھی ہونی چاہیے ورنہ…‘‘
’’ورنہ…‘‘ ارسل کے ادھورے جملے پر رجا گھبرا کر بولی۔
’’ورنہ پھر معافی نہیں ملے گی۔‘‘ ارسل نے شرارت سے کہا تو رجا اور کرن ہنس پڑیں۔
’’اس کی گاڑنٹی میں دیتی ہوں بہت سگھڑ ہے میری دوست۔‘‘ کرن بھی اب نارمل ہونے لگی تھی۔ رجا نے کرن کو ارسل کو اندر لانے کو کہا اور خود چائے بنانے کچن کی طرف چلی گئی۔
/…ء…/
’’میں کیسے بھول جائون کرن! ان آوازو ں کی بازگشت آج بھی میرا پیچھا کرتی ہے منحوس… سبز قدم جیسے القاب ایسے میری ذات سے چپک گئے تھے گویا میں بے نام ہوںاور یہی میرے پیدائشی نام ہیں۔‘‘ رجا بری طرح سسک رہی تھی۔
’’بھولنا پڑتا ہے میری جان! اگر ہم میں بھول نامی مادہ نہ ہو تو ہم تو سانس لینا چھوڑ دیں گے۔ چند لوگوں کی وجہ سے ہم اپنے فرائض نہیں بھول سکتے‘ تم کیوں بھول رہی ہو کہ دنیا میں برے لوگوں اور برا چاہنے والے لوگوں کے ساتھ اچھا چاہنے والے لوگ بھی ہیں۔ ڈئیر! اپنے لیے نہیں اپنوں کے لیے جینا پڑتا ہے۔ تم آنٹی انکل کی حالت دیکھو‘ اپنے مستقبل کے بارے میں سوچو۔‘‘ کرن اس کا ہاتھ نرمی سے سہلا رہی تھی۔
’’مگر یہ خود غرضی ہے مجھے معلوم ہے اپنا انجام‘ اپنا مستقبل میں کسی کی زندگی کے ساتھ نہیں کھیل سکتی۔‘‘ رجا کے آنسو تواتر سے بہہ رہے تھے۔
’’اچھا تو تمہیں سب معلوم ہے کیا تم پر وحی اتری ہے یا تم علم نجوم جانتی ہو؟‘‘ کرن نے انتہائی سنجیدگی سے کہا تو رجا رونا بھول کر اسے تکنے لگی۔
’’نعوذ باللہ! کیسی باتیں کررہی ہو کرن! میں کوئی پیغمبر یا ولی تو نہیں۔‘‘
’’اچھا تو پھر تم نے لوح محفوظ پڑھ رکھا ہے شاید۔‘‘ کرن ہنوز انتہائی درجے کی سنجیدہ تھی۔
’’کیوں کفر بک رہی ہو اور مجھے اور خود کو گناہ گار کررہی ہو؟‘‘ رجا زچ ہونے لگی۔
’’تو پھر آج تم مجھے اس سوال کا جواب دو کہ آخر تمہیں کیسے پتا ہے کہ تم جس سے بھی شادی کرو گی وہ صادق کی طرح مرجائے گا۔ تمہیں کیسے پتا ہے کہ تین سال بعد بھی تمہارے ساتھ وہی کچھ ہوگا جو تین سال پہلے ہوا بولو رجا! چپ کیوں ہو؟‘‘ کرن اسے پکڑ کر جھنجھوڑ رہی تھی اور وہ آنکھیں چرائے دل کا غبار نکال رہی تھی۔
’’جوان بیٹی کو بیوگی کے روپ میں دیکھنا ماں باپ کے لیے ایندھن میں جلنے جیسا ہی ہے جب ہم کچھ بھی نہیں جانتے تو اپنی مرضی پر کیوں چلنا چاہتے ہیں‘ کیوں رب کی مرضی پر چلنا نہیں چاہتے۔ جوان بیوہ عورت کے جلد از جلد نکاح کی تاکید کی ہے ہمارے مذہب میں۔ رجا! اللہ کو ناشکری پسند نہیں‘ ارسل جیسا ہم سفر تمہیں ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملے گا وہ سب جانتا ہے مگر تمہاری سادہ فطرت پر فدا ہے۔ وہ دل پھینک ہوتا تو چمک دمک والی لڑکیاں اس کے اطراف میں بہت ہیں۔ پلیز میری جان عقل سے کام لو اور ہمت کرکے قدم بڑھاؤ۔ کیا بچہ اس ڈر سے کہ وہ گر جائے گا آگے بڑھنا چھوڑ دیتا ہے نہیں نا‘ اس لیے قدم اٹھائو ہم سب کی دعائیں تمہارے ساتھ ہیں جو ہوا وہ ماضی تھا۔ ایک حادثہ تھا‘ آزمائش تھی‘ بھو ل جائو سب کچھ جو چلے گئے ان کو نہیں ‘ جو زندہ ہیں انہیں یاد رکھو‘ ان کا خیال کرو۔ والدین کی رضا مندی اللہ کی رضا مندی ہے اور یہ ایک جائز عمل ہے۔‘‘ کرن آج طے کر بیٹھی تھی کہ وہ رجا کے دل و ذہن کی تمام گتھیاں سلجھا کر دم لے گی اور نیت صاف تو منزل آسان۔ سو وہی ہوا رجا جو کم عمری میں بیوہ ہونے کے باعث اس روگ کو دل سے لگائے بیٹھی تھی اور والدین کی خواہش کے باوجود دوسرے نکاح پر راضی نہ تھی۔ بالآخر کرن کی دلیلوں کے آگے ہار گئی‘ کرن کی کوششیں بار آور ہوگئیں۔
’’ٹھیک ہے میں تم لوگوںکا مان رکھوں گی کیونکہ میں ان چاہتوں کو کھوکر اللہ کی ناشکری نہیں کرنا چاہتی۔‘‘ رجا کرن کے گلے لگ گئی تو کرن نے بچوں کی طرح سے سمیٹ لیا کہ وہ بکھری ہوئی تھی اور اسے بچوں جیسی کیئر کی ہی ضرورت تھی۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close