Aanchal Jun-16

یاد گار لمحے

جویریہ سلک

حمد باری تعالیٰ
نہ کسی کا درد دکھانا میرے مولا
اپنے آگے ہی جھکانا میرے مولا
ہر گڑی اپنی تجلی کی وہ کرنیں
میرے دل پر ہی گرانا میرے مولا
تجھ کو ڈھونڈیں لوگ سارے مسجدوں میں
شہر دل ترا ٹھکانہ میرے مولا
راندہ درگاہ کہیں نہ لوگ مجھ کو
اس ندامت سے بچانا میرے مولا
وحشتوں کو ان پر کٹھن لمحوں میں ہم پر
شمع رحمت کی جلانا میرے مولا
سنے گا وہ غموں کو پاس آکر
دل سنائے پھر فسانہ میرے مولا
بر نہ آئی گر تمنا میری عصمت
کیا کہے گا پھر زمانہ میرے مولا
کے ایم نور المثال مقامی… کھڈیاں خاص
ہری مرچیں
}…کیا شادی جنت کا دروازہ ہے ؟
٭…جی ہاں! باہر جانے کا۔
}…انسان اپنی بے وقوفی پر کب خوش ہوتا ہے ؟
٭…شادی کے دن ۔
}…کیا زبانی لڑائی میں عورت سے کوئی جیت سکتا ہے ؟
٭…جی ہاں‘ دوسری عورت۔
}…طلاق کی سب سے بڑی وجہ کیا ہے ؟
٭…شادی ۔
}…دنیا کی خطرناک ترین پولیس کون سی ہے ؟
٭…بینڈ باجے والی‘ ان کا قید کیاہوا عمر بھررہا نہیں ہوتا۔
مشی خان‘ بھیرکنڈ‘مانسہرہ
پاکستانیوں کی کچھ اچھی عادات
صابن جب ختم ہونے لگتا ہے تو اس کونئے صابن کے ساتھ لگادیتے ہیں۔
ٹوتھ پیسٹ ٹیوب کو رول کرکے آخری قطرہ تک استعمال کرتے ہیں۔
گھر میں رکھی اچھی اور خوب صورت کراکری صرف مہمانوں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
سونے کی قیمت میں اضافے سے پریشان ہوتے ہیں جبکہ سونا خریدنا بھی نہیں ہوتا۔
ٹی وی ریموٹ کے سیل تبدیل کرنے کے بجائے اس کومار مار کراستعمال کرتے ہیں۔
پرانی ٹی شرٹ کو نائٹ ڈریس بنالیتے ہیں اور جب اس کے قابل بھی نہیں رہتی تو پونچھا بن جاتی ہے۔
اک بڑے شاپر میں ڈھیر سارے شاپر ڈال کررکھتے ہیں۔
عائشہ پرویز…کراچی
’’فضیلت فاروقی بزبان نبوی ﷺ‘‘
٭…میرے بعد اگر کوئی نبی ہوتا تو عمرؓ اس قابل تھے کہ ان کے سر پر نبوت کا تاج رکھا جاتا۔
٭…عمرؓ کی نیکیاں آسمان کے ستاروں کے برابر ہیں۔
٭…معراج کی رات میں نے جنت میں بہت خوب صورت انسان دیکھا ہے‘ پوچھنے پرمجھے یہ بتایاگیاکہ یہ عمر ؓ ہیں۔
٭…عمرؓ کی زبان پر فرشتے کلام کرتے ہیں۔
٭…آسمان میں کوئی ایسا فرشتہ نہیں جو عمرؓ کی عزت نہ کرتا ہو اور زمین میں کوئی شیطان ایسا نہیں جو عمر سے ڈرتا نہ ہو۔
ثانیہ مسکان …تحصیل گوجرخان
یاد
شبنمی سی رات تھی
چاند بھی جوان تھا
برف کے پہاڑ پر
چھوٹا سامکان تھا
میں تھا میری یاد تھی
اگلی رت کی بات تھی
شبنمی سی رات تھی
چاند بھی جوان تھا
برف کے پہاڑ پر
چھوٹا سامکان تھ ا
وہ بھی میرے ساتھ تھی
شاعر :ڈاکٹر ابرار عمر
فرحین عمران…کراچی
بیش بہاگہر
{…اس دنیا میں کروڑوں لوگ ہیں‘ پھر آپ کے پیدا ہونے کی وجہ؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ سے اس چیز کی توقع کررہا ہے جو کروڑوں لوگوں سے ممکن نہیں۔
{…انسان اپنی سوچوں اور حرکات سے پہچاناجاتا ہے اپنی دولت اور ڈگریوں سے نہیں ‘اصلی تعلیم آپ کا دوسروں سے حسن سلوک اور ررجحان ہے۔
{…پانی کے ایک قطرے کی جھیل یاتالاب میں کوئی قدروقیمت نہیں ‘کوئی پہچان نہیں‘ مگر یہی قطرہ اگر کسی پتے پر گرتا ہے تو ایک ہیرے کی طرح چمکتا ہے‘ چنانچہ کسی ایسی درست جگہ کاانتخاب کریں جہاں آپ ہیرے کی طرح چمک سکیں۔
{…کچھ رشتے ’’ٹام اینڈ جیری‘‘ کی طرح ہوتے ہیں وہ ایک دوسرے کو اذیت دیتے اور لڑتے جھگڑتے ہیں‘ ایک دوسرے کو مارتے ہیں مگر ایک دوسرے کے بغیر رہ نہیں سکتے۔
{…یقین کی پختگی اور اخلاق کاحسن جس بندے میں ہوگا وہ ایک ہی وقت میں خالق اور مخلوق دونوں کا محبوب بن جائے گا۔
ارم کمال…فیصل آباد
اچھی بات
جو شخص اپنی قسمت پر خوش ہے ‘دراصل وہی انسان خوش قسمت ہے کیونکہ وہ اللہ کی رضامیں راضی ہے۔
اپنی زندگی میں ہر کسی کو اہمیت دو‘ جو اچھا ہوگا خوشی دے گا جوبرا ہوگا سبق سکھائے گا۔
اگر تم سے کوئی بدسلوکی کرے تو اس کے ساتھ اچھا برتائو کرو ‘ اسے خود ہی احساس ہوجائے گا‘ اپنے برے رویے کا۔
اگر تم اپنے بزرگوں کی خدمت کرتے ہو تو اپنے بچوں سے بھی امید رکھو‘کیونکہ پھر وہ تمہاری بھی خدمت کریں گے۔
ناامیدی زندگی کو کم کردیتی ہے۔
سمیہ کنول…تھری اسٹار‘مانسہرہ
ماں کی گود
یوں تو پورے ہی معاشرے کی اصلاح کی ضرورت ہے لیکن خصوصیت کے ساتھ اصلاح نسواں پر زیادہ توجہ دینا ضروری ہے کیونکہ ہر بچے کا سب سے پہلا مدرسہ ماں کی گود ہے‘ ماں صحیح مسلمان ہوگی تو بچے کو بھی اسلام سکھائے گی اور اسلام کے احکام وآداب کی تعلیم دے گی۔
منزہ عطا…کوٹ ادو
کہر دسمبر
آج پھر دل نے …
دل سے کچھ یوں
بغاوت کی کہ !
شبنم کے چند قطرے
آنکھوں سے ٹپک کر
بھیگے دسمبر کو
کہرزدہ کرگئے…!!
مونا شاہ قریشی …کبیروالہ
شادی سے پہلے شوہر کیا کرتا ہے ؟
کتنا حسین چہرہ ‘کتنی پیاری آنکھیں‘ ان آنکھوں سے جھلکتا پیار۔
شادی کے بعد …کتنی غصیلی آنکھوں اور بھیانک چہرہ اور غصیلی آنکھوں سے یہ جھلکتا غصہ ۔
شادی سے پہلے … تیری باتوں میں کتنا اثر ہے‘ جان جاناں!
شادی کے بعد…تیری باتوں میں کتنا زہر ہے اومیری دشمن۔
شادی سے پہلے …تم جو آئے زندگی میں بات بن گئی
شادی کے بعد…تم جو جائو زندگی سے بات بن جائے۔
شائستہ جٹ … چیچہ وطنی
عجیب تجربہ
زندگی گزارنا ایک عجیب انسانی تجربہ ہے‘ پیدائش سے موت تک ‘ ہمیں بہت سے واقعات پیش آتے ہیں‘ قریباً ہرروز ہم ایک نیاسبق سیکھتے ہیں اپنے ملنے جلنے والوں سے‘ اپنے مشاہدات سے‘ کتابوں سے اور اپنے خیالات سے سیکھتے ہیں۔
امتحان پاس کرلینااور بات ہے اور علم حاصل کرنا اور بات ہے‘ میں علم حاصل کرنے کوامتحان پاس کرنے پر ترجیح دیتی ہوں‘ انسان اپنی ساری زندگی طالب علم ہی رہتا ہے ‘ ساری زندگی کچھ نہ کچھ سیکھتا ہی رہتا ہے‘ ہے ناعجیب بات۔
سدرہ احسان …سمبڑ ہال
اچھی باتیں
اپنی نیکی کوچھپانا آپ کی سوچ کاامتحان ہے ‘اور دوسروں کے گناہ کوچھپانا آپ کے کردار کاامتحان ہے۔
کھانے میں کوئی زہر گھول دے تو اس کاعلاج ہے مگر کان میں کوئی زہر گھول دے تو اس کا کوئی علاج نہیں۔
زندگی ایسے جیو کے اپنے رب کوپسند آجائو‘ کیونکہ دنیاوالوں کی پسند تو پل میں بدل جاتی ہے۔
زندگی میں کبھی کسی کی ضرورت مت بنو کیونکہ ضرورت تو کوئی بھی پوری کرسکتا ہے‘ بننا ہے تو کمی بنو کیونکہ کمی کبھی پوری نہیں ہوسکتی۔
نیلی ظہیر… کوٹلہ جام بھکر
نادان انسان
ایک دن حضرت موسیٰ ؑ نے اللہ تعالیٰ سے کہا میں آپ کی رحمت اور انسان کے گناہ دیکھنا چاہتا ہوں ‘اللہ تعالیٰ نے فرمایا پیچھے دیکھو۔ دیکھا تو ایک بہت بڑے سمندر میں ایک درخت پہ چڑیا اپنے منہ میں مٹی لیکربیٹھی ہے‘ حضرت موسیٰؑ نے کہا یہ کیا؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ سمندر میری رحمت ہے اور یہ درخت دنیا‘ یہ چڑیا انسان اور اس کے منہ میں تھوڑی سی جو مٹی ہے وہ اس کے تھوڑے سے گناہ ہیں اگر یہ اپنا منہ کھول کرمٹی پانی میں گرادے تو میری رحمت کوکوئی فرق نہیں پڑتا توکیوں نہ انسان توبہ کرے اور میں معاف نہ کروں۔انسان تو نادان ہے۔
اللہ پاک ہم سب کو معاف فرمائے آمین۔
طیبہ نذیر…شادیوال گجرات
سکون
سکون حاصل کرنے کی کوشش چھوڑ دو سکون دینے کی فکر کرو تو سکون مل جائے گااللہ کے فیصلوں پرتنقید نہ کرنا سکون مل جائے گا‘ بے سکونی تمنا کانام ہے جب تمنا تابع فرمان الٰہی ہوجائے تو سکون شروع ہوجاتا ہے‘ اپنی زندگی میں آپ کو جو چیز سب سے اچھی نظرآتی ہے اسے تقسیم کرنا شروع کردو سکون آجائے گا۔
ماہ رخ سیال …سرگودھا
کچھ لفظ میرے بھی
دنیا میں ہر شخص محبت کا متمنی کیوں ہے وہ کیوں چاہتا ہے کہ کوئی ایسا ضرور ہو جسے صرف اس کی چاہ ہواور وہ اس کے ساتھ مخلص ہو۔ ہاں مخلص یہ چیز آج نہیں پائی جاتی۔
لوگ مخلص ہوتے ہیں صرف تب تک جب تک ان سے وابستہ مطلب نہ پورا ہوجائے‘ اور جب وہ مطلب نہ پوراہو تو اس بندے کو دیوتا تک بنانے کو تیار ہوجاتے ہیں ادھر کام پورا ہوا ادھر تو کون میں کون والاسلسلہ شروع ۔
آخر اس محبت کواتنا بے مول اور بدنام کیوں کردیا ہے جب ایسا دیکھتی ہوں تو میری نس نس درد سے چلا اٹھتی ہے محبت کی اس تذلیل پہ ماتم کناں ہوتی ہے۔
کیاایسا ہوسکتا ہے …
کہ لوگ ہر غرض ہر لالچ سے پاک ہو کر محبت کے لیے مخلص ہوں اس کے شدید جذبے کومانے‘ بتائو مجھے ایسا ہوسکتا ہے؟
اگر ایسا ہوسکتا ہے تو کب ہوگا؟
تب تک شاید میری آنکھیں منجمد ہوجائیں۔ اور یہ لوتھڑا جو کہ دل نام سے کام کرتا ہے‘ اپناکام تمام کرلے تب تک تو سانسوں کی گاڑی تھم جائے گی‘ اور پھر تو اس فانی زیست والے بھی مجھے اپنے پاس رکھنے سے انکاری ہوں گے تب تو میں ہر نفع ہر نقصان سے لاتعلق ہوجائوں گی۔
تب کوئی فائدہ نہیں تب مجھے کچھ نہیں چاہئے‘ کچھ بھی نہیں۔
کرن ملک…جتوئی
کھلکھلائو
ٹیچر:ہوم ورک کیوں نہیں کیا؟
اسٹوڈنٹ:ٹیچر لائٹ نہیں تھی۔
ٹیچر:موم بتی جلالیتے …
اسٹوڈنٹ:ماچس نہیں تھی۔
ٹیچر:دکان سے لے آتے۔
اسٹوڈنٹ:دکان بند تھی۔
ٹیچر:پڑوس سے لے لیتے ۔
اسٹوڈنٹ:ان کی مسجد میں رکھی تھی۔
ٹیچر:تووہاں سے لیتے ۔
اسٹوڈنٹ:ٹیچر میرا وضو نہیں تھا۔
ٹیچر:تو الو کہیں کے وضو کرلیتے۔
اسٹوڈنٹ:پانی نہیں تھا۔
ٹیچر:اف پانی کیوں نہیں تھا۔
اسٹوڈنٹ :موٹر نہیں چل رہی تھی۔
ٹیچر: اب اس موٹر کوکیا ہواتھا؟
اسٹوڈنٹ:یار شروع میں بتایا تو تھا‘ لائٹ نہیں تھی۔
جازبہ ضیافت عباسی…دیول‘مری
دولوگ
دو لوگوں سے ہمیشہ بچ کر رہو‘ ایک مصروف سے دوسرا مغرور سے۔
مصروف لوگ اپنی مرضی سے اور مغرور لوگ اپنے مطلب پہ یاد کیا کرتے ہیں۔
حلیمہ سعدیہ شوکت…تل ؟
چارموتی
٭۔جو لوگ خود غرض ہوتے ہیں ‘ وہ کبھی بھی اچھے دوست نہیں ہوتے۔(حضرت ابوبکر صدیقؓ)
٭۔جو شخص اپنے خلوص کی قسمیں کھائیں‘ اس پراعتماد نہ کرو۔(حضرت عمر فاروقؓ)
٭۔محبت سب سے کرو مگر اعتبار چند لوگوں پر۔(حضرت عثمان غنیؓ)
٭۔اچھے لوگوں کی یہ خوبی ہے کہ انہیں یاد رکھنا نہیں پڑتا وہ یاد رہتے ہیں۔(حضرت علیؓ)
رابعہ مبارک…پتوکی
وقت
وقت کا پہیہ اپنی رفتار سے گھومتا رہتا ہے۔ یہ کسی کے لیے نہیں رکتا ہے وقت کی بہت بری فطرت ہے کہ یہ خود سے پیچھے رہ جانے والوں کا تھوڑی دیر بھی رک کر انتظار نہیں کرتا۔ نہ ہی خود سے آگے بھاگنے والوں کو پکارتا ہے۔
موسم‘ رتیں‘ چہرے‘ فطرتیں سب بدلتی رہتی ہیں مگر دکھ… یہ جو دکھ ہوتے ہیں ناں‘ یہیں رکے رہتے ہیں‘ ان کی تکلیف کم ضرور ہوجاتی ہے ختم کبھی نہیں ہوتی۔
سلویٰ علی بٹ کے ناول’’دل کے رشتے دشوار بہت تھے‘‘ سے اقتباس۔
نوشین…حاجی شاہ
غصہ
ایک روایت میں ہے کہ ایک دفعہ شیطان حضرت نوح کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا! میں آپ کے احسان کاشکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔
حضرت نوحؓ نے فرمایا‘ کون سااحسان؟
شیطان نے کہا‘ آپ نے بددعا دے کر اپنی قوم کو تباہ کردیاتھا۔ یہ تومیرا کام تھا جوآپ نے انجام دیا۔ حضرت نوحؓ پریشان ہوگئے۔
پھر شیطان نے کہا۔ اس احسان کے عوض میں آپ کو ایک پتے کی بات بتائوں۔
حضرت نوحؓ نے فرمایا کون سی بات؟
شیطان نے کہا۔ اگر واقعی مجھ سے بچنا چاہتے ہو تو اپنے غصہ کوپی جایا کرو۔
شاہی رحمان… مانسہرہ
{محبت }
محبت کی ان بل کھاتی پگڈنڈیوں پر واپسی کے راستوں میں گھنے جنگل اگ آتے ہیں۔ دکھ کی امربیل عاشق کے قدم آگے بڑھتے ہی پیچھے یوں تیزی سے ان ٹیڑھے میڑھے راستوں سے لپٹتی ہے کہ پھر کوئی مڑنا بھی چاہے تو واپسی کا کوئی راستہ سجھائی نہیں دیتا‘ درد اور غم کے عفریت ان گھنے جنگلوں میں سرشام ہ ی امل تاس کے پیڑوں سے نیچے اتر آتے ہیں۔ اور واپسی کے بھٹکتے معصوم مسافروں کو چیرپھاڑ کر کھاجاتے ہیں۔
محبت کے راستے پرآگے بھی موت ہے اور پیچھے بھی فنا۔محبت وہ خونی جزیرہ ہے ‘جو اپنے باسیوں کے لیے پل بھر میں اس برفیلے گلیشئر میں تبدیل ہوجاتا ہے جوا پنے ساحل سے کٹ کر گہرے سمندر میں بہ چکا ہے اور اب دھیرے دھیرے گھل کرخود بھی پانی میں تبدیل ہورہاہے‘ اس جزیرے پربسنے والوں کے لیے ایک ایک انچ کرکے پائوں دھرنے کی جگہ ختم ہوتی جاتی ہے‘ اور آخر کار سبھی ڈوب جاتے ہیں‘ ایک دوسرے سے لپٹے چیختے چلاتے‘ روتے‘ سسکیاں بھرتے‘ کسی برباد ہوتے تائی ٹینک کی طرح۔
نورین مسکان سرور…سیالکوٹ ڈسکہ
اقوال زریں
کوئی آئینہ انسان کی اتنی حقیقی تصویر پیش نہیں کرسکتا جتنی اس کی بات چیت۔
انسان ہو کر ایسے کام نہ کرو جس سے انسانیت کا دامن داغدار ہو۔
مبارک ہیں وہ لوگ جن کے پاس نصیحت کرنے کے لیے الفاظ نہیں اعمال ہوتے ہیں۔
غیرت مند یا تو دنیا میں کامیاب ہوتا ہے یا پھر قربان ہوتا ہے۔
وقت سحر مومن کی آنکھ سے ٹپکنے والے آنسو جہنم کی آگ بھی بجھا سکتے ہیں۔
انسان پہاڑ سے گر کر تو کھڑا ہوسکتا ہے مگر نظروں سے گر کر نہیںکھڑا ہوسکتا۔
کانٹوں سے بھری ایک شاخ کو پھول خوب صورت بنا دیتا ہے۔
عمدہ مکان کے شیدائی کوقبر کاگڑھا یاد رکھنا چاہیے۔
زبان میںہڈی تو نہیں ہوتی مگر یہ آپ کی ہڈی تڑواسکتی ہے۔
کرن شہزادی… مانسہرہ
موت
انسان پور اایک دم نہیں بلکہ تھوڑا تھوڑا کرکے مرتا ہے۔ہردوست کے مرنے کے ساتھ‘ یہ تھوڑا سا مرجاتا ہے‘ ہرعزیز کے رخصت ہونے کے ساتھ‘ اس کاکچھ حصہ جھڑ جاتا ہے۔ ہرخواب تحلیل ہونے کے ساتھ‘ اس کاایک گوشہ فنا ہوجاتا ہے۔
یہ سب اجزا بے جان ہوئے …!!
تو تب جاکر موت کو ایک مردہ ہاتھ آتا ہے جو اس ریزہ ریزہ انسان کواٹھاتی ہے اور چلی جاتی ہے۔
حراقریشی…بلال کالونی ملتان
ماں
وہ ایک لفظ کہ ’’جس میں محبتیں پنہاں۔‘‘
وہ ایک لفظ کہ ’’جس سے وجود میرا۔‘‘
وہ ایک لفظ کہ ’’جس کا ازل سے ناتا ہے۔‘‘
وہ ایک لفظ کہ ’’جس کا ابد سے رشتہ ہے۔‘‘
وہ ایک لفظ کہ ’’جس سے تمام حسن و حیات۔‘‘
وہ ایک لفظ کہ ’’جس پر میری یہ جاں نثار۔‘‘
وہ ایک لفظ کہ ’’جس کو ملا ہے اوجِ کمال۔‘‘
وہ ایک لفظ کہ ’’پکاروں تو سبز چھائوں ملے۔‘‘
وہ ایک لفظ کہ ’’میں روئوں تو اس کا پیار ملے۔‘‘
وہ ایک لفظ کہ ’’جو میری روح کا حوالہ ہے۔‘‘
وہ ایک لفظ کہ ’’جو میرا اسم اعظم ہے۔‘‘
منزہ ثناء… چنیوٹ
قول و فعل
اپنوں کی محبت کو ٹھکرانا نہ صرف بے ادبی ہے بلکہ بدنصیبی بھی ہے۔
خوش اخلاقی ہمیشہ بدصورتی کا پردہ ہوتی ہے۔
محبت بادام جیسی ہوتی ہے کیا خبر کہ اندر سے دانا کیسا ہے۔
چھوٹے ذہن ہمیشہ خواہشوں پر پلتے ہیں اور بڑے ذہن مقاصد کے عمل پر چلتے ہیں۔
انسانی زندگی پر خیر و شر کا عمل ایک جتنا ہوتا ہے۔
سیما ممتاز عباسی… لاڑکانہ
دعا کی فضیلت
دعا کے سوا کوئی چیز قضا کو رد نہیں کرسکتی اور نیکی کے سوا کوئی چیز عمر کو نہیں بڑھا سکتی۔
دعا مومن کا ہتھیار ہے اور دین کا ستون ہے اور بات آسمانوں اور زمینوں کا نور ہے جس شخص کو اس بات کی خواہش ہو کہ اللہ اس کی دعا قبول کرے اسے چاہیے کہ خوشحالی کے وقت کثرت سے دعا کرے۔
عظمیٰ فرید… ڈی آئی خان
اقوال
زمین کے اوپر عاجزی سے رہنا سیکھ لو‘ زمین کے نیچے سکون سے رہ پائو گے۔
اچھے انسان کی ایک خوبی یہ ہے کہ اسے یاد رکھنا نہیں پڑتا وہ یاد رہتا ہے۔
کسی کا دل مت دکھائو‘ ہوسکتا ہے وہ تمہیں ایسے چاہتا ہو جیسے مرنے والا زندگی چاہتا ہے۔
تم کسی پر اعتبار کرو یا نہ کرو لیکن اتنا یاد رکھنا کہ اگر کوئی تم پر اعتبار کرے تو وہ نہ ٹوٹے۔
جس دن تمہارا وفادار دوست تمہیں چھوڑکرچلا جائے تو سمجھ لینا کہ تمہاری آدھی زندگی ختم ہوگئی۔
زندگی سے جو بھی بہتر سے بہتر لے سکتے ہو‘ لے لو کیونکہ زندگی جب کچھ لینا شروع کردے تو سانس تک نہیں چھوڑتی۔
منزہ تناہ… چنیوٹ
ظلم کی تین قسمیں !
ظلم کی ایک قسم وہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ ہر گز نہ بخشیں گے … دوسری قسم وہ ہے جس کی مغفرت ہوسکے گی …اور تیسری وہ ہے جس کابدلہ ضرور لیا جائے گا۔
پہلی قسم کا ظلم شرک ہے…دوسری قسم کا ظلم‘ حقوق اللہ میں کوتاہی ہے …اور تیسری قسم کا ظلم‘ حقوق العباد کی خلاف ورزی ہے۔
طلعت نظامی…کراچی
علم کی فراوانی
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرمارہے تھے کہ میں ایک مرتبہ سورہا تھا میرے سامنے دودھ کا پیالہ لایا گیا‘ میں نے اسے پی لیا یہاں تک کہ سیرابی میرے ناخوں سے ظاہر ہونے لگی پھر میں نے اپنا بچا ہوا دودھ عمر بن الخطابؓ کو ددے دیا۔ صحابہ کرامؓ نے عرض کیا۔
’’یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ نے س کی کیا تعبیر لی؟‘‘
آپ نے فرمایا کہ ’’اس کی تعبیر علم ہے۔‘‘ (صحیح بخاری)
مہوش فاطمہ بٹ… جہلم

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close