Aanchal Jan 19

تیری زلف کے سر ہونے تک (قسط ۲۸)

اقراؑ صغیر احمد

میں نے پوجا ہے تجھے‘ تیری عبادت کی ہے
تجھ کو چاہا ہے صنم‘ تجھ سے محبت کی ہے
تو اگر بھول بھی جائے تو چلو یونہی سہی
میں نہ بھولوں گا کبھی‘ میں نے محبت کی ہے

(گزشتہ قسط کا خلاصہ)

سودہ کے اچانک بے ہوش ہونے پر ارے گھر والے گھبرا جاتا ہے۔ ایسے میں منور صاحب سب کو حوصلہ دیتے، اسے اپنے روم میں لے جانے کا کہتے ہیں۔ زید کے لیے یہ تمام صورت حال بالکل غیر یقینی ہوتی ہے۔ اسی ابھی تک سودہ کے اپنے ہوجانے پر یقین نہیں ہورہا ہوتا۔ دوسری طرف سودہ کا دل بھی اس رشتے پر عجیب سی الجھن محسوس کرتا ہے لیکن رسوائی سے بچ جانے کا خیال اسے تقویت فراہم کرتا ہے۔ صوفیہ بھی بیٹی کے لیے خوش نظر آتی ہیں لیکن عمرانہ کے رویے کی وجہ سے خدشات کا شکار بھی ہوتی ہیں۔ نوفل انشراح کے سامنے شادی کا پرپوزل رکھتا ہے۔ اس کا صاف انکار اسے حیرت میں مبتلا کردیتا ہے‘ وہ اسے اپنے ماضی کے متعلق بتا کر خلوص دل سے اس کی طرف بڑھنا چاہتا ہے لیکن انشراح کے دل میں پلتے انتقامی جذبات تک اسے رسائی نہیں ہوتی۔ جہاں آرأ سراج اور برکھا کو اپنی آنکھوں سے خون میں لت پت دیکھ کر شدید صدمے کے زیر اثر آجاتی ہیں‘ یہ منظر ان کے ذہن کے پردے پر نقش ہوکر رہ جاتا ہے‘ ایسے میں انجانے خوف میں مبتلا وہ ہوش و حواس سے عاری باتیں کرنے لگتی ہیں جس پر انشراح اور بالی گھبرا جاتی ہیں۔ رضوانہ اس بات سے بے خبر ہوتی ہیں کہ زید کا نکاح سودہ سے ہوچکا ہے۔ جب یہ خبر ان تک پہنچتی ہے تو وہ ششدر رہ جاتی ہیں انہیں عمرانہ سے اس بات کی امید قطعاً نہیں ہوتی۔ دوسری طرف عمرانہ مائدہ کی دھمکی سے مجبور ہوکر سودہ کو چپ چاپ بہو تو بنالیتی ہیں لیکن ان کے دل میں مائدہ کے لیے گنجائش نہیں پیدا ہوتی کہ اسی کی وجہ سے ان کا بیٹا زید ان سے دور ہوجاتا ہے۔ ایسے میں وہ خود پر چڑھایا مصنوعی خول اتار کر سودہ کو اپنے عتاب کا نشانہ بناتی ہیں اور گرم چائے کا کپ اس کے منہ پر پھینک دیتی ہیں۔

(اب آگے پڑھیے)

عمرانہ نے پُرطیش انداز میں بھاپ اُڑاتی چائے کا مگ سیدھا سودہ کے چہرے پر پھینکا تو مارے خوف کے سودہ کی چیخ نکل گئی اور قبل اس کے کہ چائے اس کے چہرے کو جھلساتی‘ زید جو ماں کے ارادے کو بھانپ گیا تھا‘ اس نے سرعت سے آگے بڑھ کر اپنا ہاتھ آگے کردیا تھا۔
’’بھائی…!‘‘ پوری چائے اس کے ہاتھ پر گر جاتی ہے۔ کانچ کا مگ کارپٹ پر گر کر دو حصوں میں تقسیم ہوجاتا ہے۔ کچھ چھینٹے اُڑ کر سودہ کے چہرے اور گردن پر بھی آتی ہیں جبکہ مائدہ گھبرا کر بھائی کی طرف دیکھتی ہے۔ گو کہ وہ خاموش کھڑا رہتا ہے مگر مائدہ کو اس کی تکلیف کا پورا احساس تھا۔ وہ بھاگ کر واش روم سے ٹوتھ پیسٹ لے آتی ہے کہ فوری طور پر یہی ٹریٹمنٹ دستیاب تھا۔ کمرے کے ماحول میں ایک دم سناٹا چھا جاتا ہے۔
سودہ جو پہلے ہی ذہنی خلفشار کا شکار تھی اور یہ ڈر اُس پر وہم بن کر سوار تھا کہ اب اس نئی صورت حال میں عمرانہ کا رویہ اس کے ساتھ کس نوعیت کا ہوگا؟ وہ کس طرح اس کو بہو کی صورت میں برداشت کریں گی… اور ان کی نئی کارروائی اور تازہ سلوک نے باور کرادیا تھا کہ وہ ان کے لیے پہلے سے بھی زیادہ ناپسندیدہ ترین ہستی بن چکی ہے۔
’’آپ جائیں یہاں سے‘ مما ابھی بہت غصے میں ہیں۔‘‘ مائدہ نے قریب آکر اس کے گھبرائے ہوئے چہرے اور گردن کا جائزہ لیتے ہوئے آہستگی سے کہا۔ چائے کی چھینٹوں نے لمحے بھر کو جلن کا احساس دلایا تھا‘ پھر وہ جلن معدوم ہوگئی تھی مگر وہ جانتی تھی زید کے ہاتھ کی جلن جلد ختم ہونے والی نہ تھی۔ اس نے اسے تکلیف سے بچا لیا تھا لیکن خود تکلیف کا شکار ہوکر بھی ظاہر نہیں کررہا تھا۔ مائدہ کے کہنے پر وہ وہاں سے چلی گئی تھی۔
’’واہ بھئی واہ… اتنی محبت‘ اتنا خیال کہ چائے اپنے ہاتھ سے روک لی… اتنی چاہ اور اس قدر کیئرنگ‘ تین لفظوں قبول ہے‘ قبول ہے‘ قبول ہے سے تو نہیں آئی… یہ محبت کا خزانہ تو عرصہ دراز سے کہیں روپوش تھا… کیوں سچ کہہ رہی ہوں ناں میں؟‘‘ عمرانہ جو بیٹے کی حمایت پر دَم بخود کھڑی تھیں‘ ایک دَم ہی زہرخند لہجے میں گویا ہوئیں۔ کسی بھی ملال سے عاری انداز تھا ان کا۔
’’سودہ کی جگہ کوئی بھی ہوتا‘ میرا ردعمل یہی ہوتا مما۔‘‘ جھلسے ہوئے ہاتھ کی شدید تر ہوتی تکلیف کو برداشت کرتا اس نے کہا۔
’’ہونہہ… مجھے بے وقوف مت سمجھو‘ سب جانتی ہوں میں تمہارے باپ نے بھی مجھ سے بے وفائی کی تھی اور تم نے بھی ثابت کردیا کہ سانپ کی اولاد صرف سانپ ہی ہوتی ہے۔ اس نے میرے اعتماد کو ڈسا اور تم نے بھی۔‘‘
’’غلط بات مت کریں مما‘ بھائی نے نکاح آپ کی مرضی سے کیا ہے‘ پھر آپ بھائی کو الزام کیوں دے رہی ہیں اور آپ کب تک ڈیڈی کی بے وفائی کا ڈھنڈورا پیٹتی رہیں گی؟ ڈیڈی کی سیکنڈ وائف کو دیکھنے کے بعد میری ساری ناراضی و خفگی دُور ہوگئی کیونکہ اُس عورت کو دیکھ کر لگتا ہے ڈیڈی نے اُس سے محبت میں نہیں‘ کسی مجبوری میں شادی کی ہوگی۔‘‘
’’ہاں ہاں… تم بھی سانپ ہونے کا ثبوت دو‘ ساری آگ اصل میں یہ تمہاری ہی لگائی ہوئی ہے۔ نہ تم مجھے خودکشی کی دھمکی دیتی‘ نہ میں زید کا نکاح اس سے کرنے پر راضی ہوتی۔ جنید نے کروایا ہے یہ سب۔‘‘
/…خ…/
ڈرائیور مراد‘ لاریب کے لیے ایک بہترین ملازم ثابت ہورہا تھا۔ اس کی چالاک طبیعت و تیز طراری نے عین اُس موقع پر اسے خبردار کردیا تھا‘ جب وہ نوفل سے انتقام لینے کے چکر میں تنویر کے ساتھ مل کر نوفل کے قتل کی پلاننگ کو عملی جامہ پہنا رہے تھے اور عین اُسی وقت یوسف اپنے سیکرٹ ورکرز کو لے کر وہاں پہنچے تھے اور ان کو گیٹ سے اندر آتے باہر موجود مراد نے دیکھ لیا تھا۔ پھر نہ صرف خود کو اس نے چھپایا بلکہ وہ ان کے اندر پہنچنے سے قبل لاریب کو دوسرے راستے سے باہر بلا کر واپس لے جاچکا تھا۔ لاریب اس کی ذہانت کے طفیل بال بال بچ گیا تھا۔ وہ محض یہ سوچ کر ہی کانپ اُٹھا کہ اگر مراد تایا جان کو نہ دیکھ لیتا اور تایا جان اپنے لاڈلے چہیتے کی موت کی منصوبہ بندی کرتے اُس کو اُن دشمنوں کے ساتھ رنگے ہاتھوں پکڑ لیتے تو پھر کیا حال کرتے۔ اس کے چھپنے کی کوئی راہ ہی نہ بچی تھی۔ ان کی طرف سے دی جانے والی سزا موت تو نہ ہوتی مگر یقینا موت سے کم بھی نہ ہوتی۔
گھر پہنچ نے وہ شدید بخار کی کیفیت میں مبتلا ہوگیا تھا۔ پیسے کی زیادتی اور بے خوف آزادی نے اس کو بے باک اور عیاش ضرور بنا دیا تھا مگر فطرتاً وہ ایک بزدل‘ کمزور‘ ڈر پوک‘ لااُبالی نوجوان تھا‘ جو صرف کمزور لوگوں پر حاوی ہوا کرتا تھا وگرنہ نوفل کے ہم عمر ہونے کے باوجود وہ اس سے اس لیے برابری نہ کرپاتا تھا کہ وہ اسٹرونگ اور بے لچک کردار کا مالک تھا۔ دو دن بعد بخار کے ساتھ ساتھ اس کا خوف و ڈر بھی دُور ہوگیا تھا‘ جب یوسف نے اس سے باز پرس کرنے کے بجائے شفیق و پیار بھرے لہجے میں اس کی عیادت کی تھی اور ان کو سابقہ انداز میں ہی گفتگو کرتے دیکھ کر اس کی جان میں جان آئی اور وہ سمجھ گیا کہ تنویر اور اس کی بیوی نے زبان نہیں کھولی۔
’’آپ کہہ رہے ہیں انہوں نے زبان نہیں کھولی‘ یہ بھی تو ہوسکتا ہے انہیں بڑے صاحب نے زبان کھولنے کا موقع ہی نہ دیا ہو۔‘‘ اس کی بات سن کر مراد نے مسکرا کر کہا۔
’’کیا کہنا چاہ رہے ہو مراد؟‘‘ وہ چونک کر بولا۔
’’چھوٹا منہ بڑی بات ہے صاحب جی‘ اُس دن بڑے صاحب کے ساتھ جو لوگ آئے تھے‘ وہ بڑے خطرناک تھے۔ اونچے‘ لمبے‘ مضبوط باڈی والے‘ بڑا خطرناک اسلحہ تھا اُن کے پاس‘ وہ عام لوگ نہیں تھے۔‘‘
’’ہوں… ہوں گے کسی خفیہ سروس کے لوگ۔ تایا نے ایک عرصہ یہاں وزارت کی کرسی سنبھالی ہے اور وہی بات کہ شیر بوڑھا بھی ہوجائے تو شیر ہی رہتا ہے۔ اُن کا اثرو رسوخ آج بھی قائم ہے۔‘‘ وہ شاہانہ انداز میں پچھلی سیٹ پر بیٹھا اس سے باتیں کررہا تھا۔ معاً اس کی نگاہ فٹ پاتھ پر چلنے والی ایک عورت پر پڑی اور اس عورت کو مراد بھی دیکھ چکا تھا۔ بیک مرر سے اس نے استعجابیہ انداز میں لاریب کو دیکھا اور لاریب نے اسے کار روکنے کا حکم دیا۔
’’وہ عورت جہاں آرأ ہی ہے ناں؟‘‘ لاریب کو اپنی قوتِ بصارت پر گویا شک گزرا‘ کیونکہ ان کے سامنے جو عورت تھی‘ وہ میک اَپ سے عاری‘ بکھرے بال اور چپل سے بے نیاز‘ اس سرد موسم میں ٹھنڈے فٹ پاتھ پر چل رہی تھی۔
’’جی… جی صاحب‘ یہ وہی عورت ہے مگر یہ کیا ہوا ہے اسے؟‘‘ مراد بھی ہکا بکا رہ گیا تھا اور لاریب کے سنگ فٹ پاتھ پر چل دیا‘ جہاں آرأ ان سے آگے کچھ فاصلے پر چل رہی تھیں۔
’’آنٹی… آنٹی…!‘‘ وہ تیز تیز قدم بڑھاتا اُن کے قریب آکر پکارنے لگا۔
’’کون ہو تم؟‘‘ ان کی آنکھوں میں پہچان کی جگہ وحشت نظر آئی۔
’’میں لاریب ہوں‘ آپ نے یہ کیا حلیہ بنایا ہوا ہے؟ اتنی سردی میں آپ بنا شال اور شوز کے باہر کیوں گھوم رہی ہے۔‘‘ لاریب کو سمجھ نہیں آرہا تھا‘ اُن جیسی بے خوف ونڈر عورت کو کیا ہوا ہے۔
’’وہ دیکھو سراج اور برکھا میرے پیچھے آرہے ہیں‘ وہ مجھے مارنا چاہتے ہیں۔‘‘ انہوں نے خوفزدہ انداز میں مڑ کر پیچھے کی طرف اشارہ کیا اور ان کے ساتھ اُن دونوں نے بھی دیکھا مگر وہاں کوئی نہیں تھا۔
’’کون سراج اور برکھا؟ وہاں کوئی بھی نہیں ہے۔‘‘
’’وہ تمہیں نظر نہیں آئیں گے۔ وہ کسی کو بھی نظر نہیں آتے۔ بالی اور انشی کو بھی نہیں صرف میرے پیچھے رہتے ہیں‘ مجھے مارنے کے لیے‘ جان سے مارنا چاہتے ہیں‘ میں جہاں جاتی ہوں‘ وہیں آجاتے ہیں۔‘‘
/…خ…/
سودہ گرتی پڑتی اپنے کمرے میں آکر بیڈ پر ڈھے گئی۔ دل میں پھوٹنے والا چشمہ آنکھوں کے ذریعے بہنے لگا‘ وہ تکیے میں منہ چھپا کر بے تحاشا روتی چلی گئی۔
یہ تھی اس کی منہ دکھائی‘ رونمائی‘ جو ساس صاحبہ کی جانب سے دی گئی تھی۔ پہلا وار ہی چہرے پر کیا تھا تاکہ داغ دار چہرہ وہ کسی کو دکھا نہ سکے‘ نصیب نے پہلے ہی سیاہی ملنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی تھی۔ بارات گھر آنے سے قبل ہی دولہا فرار ہوگیا تھا اور اس کے مقدر پر سیاہ رات چھاتی چلی گئی تھی۔ پھر اس سیاہ رات کو زید نے روشنی بن کر نگل لیا تھا اور ہر سُو اُجالا بکھر گیا تھا مگر اب معلوم ہوا یہ مانگے کا دِیا تھا‘ اُدھار کا سودا تھا‘ لب دَم جلتا چراغ تھا‘ جس کی روشنی کبھی بھی‘ کسی بھی دَم معدوم ہوجائے گی۔ وہ سسک سسک کر رو رہی تھی اور رو رو کر سسک رہی تھی۔ معاً ایک کسی کے ہاتھ کا احساس کرکے وہ ایک دَم چپ ہوئی اور بری طرح گھبرائی۔
’’ڈرو نہیں بیٹی‘ میں پانی لائی ہوں‘ لو پیو۔‘‘ بوا کی آواز سن کر وہ اٹھ کر بیٹھی اور پانی پینے لگی۔
’’بوا… میں تو ڈر ہی گئی تھی کہ ممی آگئی اور مجھے روتے دیکھ کر کتنی ڈسٹرب ہوجائیں گی‘ پھر میں انہیں رونے کا کیا سبب بتاؤں گی‘ وہ کل تک جتنی دُکھی تھیں‘ آج اتنی ہی خوش ہیں۔‘‘ وہ ٹیبل پر گلاس رکھ کر آنسو صاف کرتے ہوئے گویا ہوئی۔
’’میں نے سب سن لیا ہے بیٹی۔ تم چائے لے کر گئیں تو میں بھی پیچھے ہی آگئی تھی کہ چلو پہلا دن ہے‘ عمرانہ بہو سے نیگ لوں گی کہ روز تو بیڈ ٹی سودہ نند کی بیٹی بن کر لاتی تھی‘ آج رشتہ بدل گیا ہے‘ گھر کی بیٹی گھر کی بہو بن گئی ہے اور اپنی بہو کے ہاتھوں کی بنی پہلی بیڈ ٹی پی رہی ہو‘ مبارک باد دوں گی مگر…‘‘ بوا بھی شال سے اپنے آنسو پونچھنے لگیں۔
’’اگر زید میاں بروقت ہاتھ آگے کرکے چائے کا مگ نہ گراتے تو… عمرانہ بہو نے اس چاند چہرے پر داغ ڈال دینے تھے۔‘‘
’’نامعلوم زید بھائی کو کتنی تکلیف ہورہی ہوگی‘ ساری چائے اُن کے ہاتھ پر گر گئی تھی‘ چائے بھی بالکل گرم تھی۔‘‘
’’ہیں… ہیں… کیا پگلا گئی ہو بیٹی۔‘‘ بوا پہلے تو حیرت سے اسے چشمے کے پیچھے سے گھورنے لگیں‘ پھر زور زور سے ہنسنے لگیں۔
’’زید بھائی؟ ارے بنو‘ نکاح کے بعد بھی زید میاں کو زید بھائی بولوگی؟ لو حد ہوگئی۔ تم تو بدھو کی بدھو ہی رہنا‘ آج کل لڑکیاں پالنوں سے ڈھنگ سے نکلتی نہیں ہیں مگر لڑکوں سے نین مٹکا خوب آتا ہے۔ ایک تم ہو‘ خاوند کو بھائی کہہ رہی ہو۔‘‘ بوا کو گویا ہنسی کا دورہ پڑگیا تھا۔ وہ بھی بری طرح جھینپ گئی تھی۔
’’اللہ توبہ ہے بوا… آپ اس طرح تو میرا مذاق نہ اُڑائیں ناں۔‘‘
’’اب بولو گی زید میاں کو بھائی؟‘‘ بوا پر شوخی سوار ہوئی۔
’’میں نے جان بوجھ کر نہیں کہا‘ میری بچپن کی عادت ہے۔ ایک دن میں تبدیل تو نہیں ہوگی‘ وقت لگے گا بدلنے میں۔‘‘
’’ہاں‘ مجھے معلوم ہے لیکن بیٹی‘ اب احتیاط برتنا اچھا ہے۔‘‘
’’جی۔ (دیکھتے ہیں یہ رشتہ کتنے دن قائم رہتا ہے)۔‘‘ اس نے سوچا۔
’’تم پریشان مت ہو‘ آج جو ہوا ہے میں کسی کو بھی نہیں بتاؤں گی۔‘‘
/…خ…/
’’انشی… انشی کہاں ہو تم؟‘‘ بالی اس کو پکارتی ہوئی وہاں آئی۔
’’کیا ہوا‘ اس قدر گھبرائی ہوئی کیوں ہو‘ نانی کی طبیعت پھر سے خراب ہوگئی ہے کیا؟‘‘ انشراح جو باتھ روم سے برآمد ہوکر ہیئر ڈرائیر سے بال خشک کررہی تھی‘ بالی کو پریشان دیکھ کر بولی۔
’’ماسی گھر میں نہیں ہیں…‘‘
’’گھر میں نہیں ہیں…! یہ کیا کہہ رہی ہو تم؟‘‘ ڈرائیر مشین آف کرکے رکھتے ہوئے پریشان لہجے میں کہا اور کمرے سے نکل گئی۔
’’میں نے بنگلے کا کونا کونا چھان لیا ہے‘ وہ کہیں بھی نہیں ہیں۔ حتیٰ کہ چھت پر بھی دیکھ آئی ہوں‘ وہ کہیں نہیں ہیں۔‘‘
’’پھر وہ کہاں جائیں گی؟ آج کل وہ گھر سے باہر بھی نہیں نکلتیں۔‘‘
ایک ہفتے سے زائد وقت گزرنے کے بعد بھی جہاں آرأ کے خوف و ڈر میں کمی کے بجائے الٹا اتنا اضافہ ہوچکا تھا کہ اب وقتاً فوقتاً سراج اور برکھا خوفناک صورتوں کے ساتھ ان کو دکھائی دیتے تھے۔ ڈاکٹر کے مشورے پر ان کا علاج سائیکاٹرسٹ سے ہورہا تھا‘ جس سے ابھی کوئی خاطر خواہ افاقہ نہیں ہوا تھا‘ ان کی اس حالت نے ادھر ان دونوں کو بری طرح ڈسٹرب کردیا تھا‘ ادھر امریکہ میں نویرہ بھی فکرمند ہوگئی تھی اور اس کی کوشش تھی کہ وہ تینوں امریکہ شفٹ ہوجائیں‘ جس پر انشراح بالکل بھی تیار نہ تھی۔ وہ اس دن سے ہی ان سے قطع کلامی کرچکی تھی جب اس کے رو رو کر اصرار کرنے پر بھی نویرہ نے ماں ہوتے ہوئے ایک بار بھی اسے ماں بولنے کا اختیار نہیں دیا تھا۔
’’واچ مین سے معلوم کیا تم نے؟‘‘ اس نے بے چینی سے استفسار کیا۔
’’ہاں۔ وہ کہہ رہا ہے سارا دن سے وہ گیٹ کے پاس ہی ہے‘ ماسی باہر نہیں گئیں‘ اس نے میرے ساتھ لان کا چپہ چپہ دیکھ لیا۔‘‘ یہ موہوم سی اُمید بھی دَم توڑ گئی تھی۔ وہ سر پکڑ کر بیٹھ گئی۔
’’نہ گھر میں ہیں‘ نہ باہر گئی ہیں… پھر گئیں تو گئیں کہاں؟‘‘
’’یہی سوچ سوچ کر میں پاگل ہورہی ہوں۔‘‘
’’بالی…‘‘ ایک خیال بجلی کی طرح کوندا‘ وہ بے ساختہ پکاری۔
’’تم نے بیرونی گیٹ چیک کیا؟ عموماً نانی وہ استعمال کرتی ہیں۔‘‘
’’اوہ… واقعی ٹھیک کہہ رہی ہو‘ ماسی وہ گیٹ اسی وقت استعمال کرتی ہیں جب کوئی کام خفیہ طریقے سے کرنا ہوتا ہے۔‘‘ وہ دونوں تیزی سے بیرونی دروازے کی طرف آئیں اور وہاں کا کھلا لاک دیکھ کر ان کی پریشانی میں مزید اضافہ ہوگیا۔
’’اب ماسی کو کیا خفیہ کام کرنا تھا‘ ابھی تو وہ خود کو بھی فراموش کیے ہوئے ہیں۔ کہاں گئی ہوں گی وہ؟‘‘
’’نامعلوم کب گئی ہوں گی؟ غلطی ہوگئی جو میں شاور لینے چلی گئی۔‘‘ وہ اپنے کمرے میں آکر شوز پہنتی ہوئی گویا ہوئی۔
’’تم شاور لینے گئی تھیں‘ مگر میں وہیں سو رہی تھی اور تمہیں معلوم ہے میری نیند اتنی کچی ہے کہ معمولی سی آہٹ سے جاگ جاتی ہوں پھر نامعلوم کس طرح ماسی بیدار ہوکر چلی گئیں اور پتا بھی نہ چلا۔‘‘
’’اُن کو نکلے ابھی زیادہ دیر نہیں ہوئی‘ ابھی شام ہے‘ رات ہونے سے پہلے پہلے ہمیں اُن کو لازمی تلاش کرنا ہوگا۔ جتنا وقت گزرے گا‘ اتنی ہی پریشانی بڑھے گی۔‘‘ بالی نے بھی پھرتی سے شال اوڑھی تھی۔
/…خ…/
حمرہ اور یوسف کے درمیان قائم ہونے والی بداعتمادی و انا کی دیوار گرنے کے بجائے بلند ہوتی جارہی تھی۔ یوسف کے ماضی کی لغزش کی جب تک تنہا زرقا راز دار تھیں‘ وہ راز رہا تھا اور جب یہ راز حمرہ کی سطحی ذہنیت تک پہنچا تو چند دنوں میں ہی گھر کے ہر فرد تک پہنچ گیا تھا۔ منہ در منہ کسی کو بھی تنقید یا ناپسندیدگی کے اظہار کی جرأت نہ ہوئی تھی‘ پیٹھ پیچھے جتنے منہ اُتنی باتیں بنائی گئی تھیں۔ البتہ گھر کے دو فرد نوفل اور لاریب اپنی اپنی مصروفیات کی وجہ سے لاعلم تھے اور نہ اُن کے علم میں لانا کسی نے ضروری سمجھا تھا۔ حمرہ‘ یوسف کے ساتھ رہنے کو بالکل بھی راضی نہ تھیں۔ زرقا ان کو سمجھا سمجھا کر تھک گئی تھیں۔
’’زرقا… تم اب درمیان میں نہ آؤ‘ بہتر یہی ہے۔ حمرہ مجھ سے نفرت کرتی ہے تو میرے دل میں بھی اس کے لیے محبت کی ایک بوند باقی نہیں رہی‘ وہ میرے ساتھ رہنا نہیں چاہتی تو مجھے بھی اب اس کا ساتھ گوارا نہیں۔‘‘ وہ کئی دنوں سے نا نا کی تکرار سن کر غصے سے کہہ اُٹھے۔
’’یوسف صاحب… کیسی باتیں کررہے ہیں‘ پلیز کچھ اپنی عزت کا ہی خیال کرلیں۔ اس عمر میں یہ رسوائی؟ کچھ تو خیال کریں۔‘‘ وہ دانستہ اونچی آواز مین بات کررہے تھے تاکہ پردوں کے دوسری سمت موجود حمرہ سب کچھ بغورو باآسانی سن لیں اور اسی خیال سے زرقا اُن کے اشتعال کو ٹھنڈا کرنے کی غرض سے سمجھا رہی تھیں۔
’’کس عزت کی بات کرتی ہو زرقا؟ کس رسوائی کے خیال سے خوف زدہ ہورہی ہو‘ اُس عورت کی تنگ نظری اور خود غرضی نے ایک جہاں کو بتادیا ہے کہ میں ایک ناجائز بیٹی کا باپ ہوں۔‘‘ اُن کی آواز یکلخت پھٹ سی گئی۔
’’ریلیکس… ہم بیٹھ کر بات کرتے ہیں‘ سپریشن کسی مسئلے کا حل نہیں ہوتا۔‘‘ زرقا نرمی سے بولتی اُن کی طرف بڑھیں۔
’’کچھ لوگوں کے لیے علیحدگی ہی ہر مسئلے کا حل ہوتی ہے اور میں ایسے کسی بھی فرد کو برداشت نہیں کروں گا جو میری بیٹی کو برا سمجھے‘ یہ میرا دل کہتا ہے‘ وہ بہت جلد مجھے ملے گی اور میں اپنی بیٹی کی آمد سے قبل ہی اُس کی راہ میں آنے والے سارے کانٹے نکال پھینکوں گا۔‘‘ انہوں نے حمزہ کو سنانے کی خاطر اٹل لہجے میں کہا اور وہاں سے دُور ہوتے چلے گئے۔ زرقا پیچھے بھی گئیں مگر ان کے جارحانہ مزاج کو بھانپتے ہوئے واپس آگئی تھیں۔
’’آپی… دیکھی آپ نے اُس ذلیل آدمی کی ذلالت‘ کس بے شرمی سے اپنی ناجائز بیٹی کی فیور کررہا ہے۔‘‘ حمرہ بھی شعلہ بنی باہر آگئیں۔
’’شٹ یور ماؤتھ حمرہ… تمہیں کوئی حق نہیں پہنچتا یوسف سے اتنی بدتمیزی سے پیش آنے کا‘ اُن سے ناراضی بجا سہی مگر تمہیں اُن کے خلاف اس طرح بولنا قطعی زیب نہیں دیتا۔‘‘
’’اچھا… وہ سب کرکے بھی معتبر ہیں اور میرا حق بات کہنا بدتمیزی ہے۔ امیزنگ…!‘‘
’’جس آدمی کو وقت سزا دے رہا ہو‘ ضمیر نے جس کو سولی پر لٹکایا ہو‘ اس کے لیے پھر کوئی سزا معنی نہیں رکھتی‘ خود کو کیوں ہلکان کررہی ہو؟ یوسف تم سے معافیاں مانگ مانگ کر تھک گئے ہیں۔‘‘
’’وہ اگر مر بھی جائیں تو میں معاف کرنے والی نہیں ہوں۔‘‘ وہ اٹل لہجے میں کہہ کر چلی گئیں جبکہ زرقا کھڑی کی کھڑی رہ گئی تھیں۔
/…خ…/
ہاتھ میں ہونے والی جلن کسی حد تک کم ہوگئی تھی لیکن دل میں پیدا ہونے والی تڑپ کسی صورت کم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ مما نے غصے میں یا ازخود اس کہانی کا ڈراپ سین کردیا تھا‘ جو اس کو پوری طرح سمجھ نہیں آرہا تھا۔ حسب عادت مما دل کی بھڑاس نکال کر مطمئن ہوگئی تھیں۔ مائدہ کے چہرے کا رنگ ماں کے پول کھول دینے پر سخت متغیر ہوا تھا۔ اس نے صرف ایک لمحے کو زید کے چہرے پر تکلیف دہ کیفیت دیکھی تھی اور ان کے لیے ناشتا لانے کا کہہ کر منظر سے غائب ہوگئی تھی۔
وہ اپنے کمرے میں آگیا تھا۔ ماں سے کچھ پوچھنے کی ہمت نہ ہوئی اور آنکھیں موندے لیٹا رہا۔ ذہن و دماغ ریشم کے لچھوں کی مانند اُلجھ گیے تھے۔ کل اور آج دل ودماغ آپس میں رسہ کشی کررہے تھے۔ شام سرک کر رات میں بدل گئی تھی۔ کمرا اندھیرے میں ڈوب رہا تھا۔ اسے روشنی کی ضرورت ہی محسوس نہ ہوئی کہ اندر باہر یکساں سماں تھا۔ جب انسان کے اندر اندھیرے ڈیرے ڈال لیں‘ پھر باہر کی روشنیاں وحشت بن جاتی ہیں‘ اجنبی ہوجاتی ہیں۔ معاً دروازے پر دستک ہوئی۔ وہ اسی طرح لیٹا رہا بے حس و حرکت۔ دستک دوبارہ ہوئی اور اس بار پرمیشن کی پروا کیے بنا کوئی اندر آگیا تھا۔ چند لمحوں میں اندھیرے میں ڈوبا کمرہ روشنیوں سے جگمگا گیا تھا۔
’’بھائی… بھائی… زید بھائی آپ ٹھیک ہیں ناں؟‘‘ مائدہ کی تفکر بھری آواز نے اسے آنکھیں کھولنے پر مجبور کردیا۔ کئی گھنٹے گھپ اندھیرے میں گزارنے کے بعد اس نے بمشکل اپنی آنکھیں کھولیں۔
’’باہر سے آپ کے روم کو اندھیرے میں ڈوبا دیکھ کر میں ڈرگئی تھی۔ کیا آپ کے ہاتھ میں زیادہ جلن ہورہی ہے؟‘‘ وہ تکیوں کے سہارے نیم دراز ہوا۔ مائدہ قریب بیٹھ گئی۔
’’نہیں‘ اب بہتر ہے۔‘‘ بے حد دھیمے لہجے میں کہا۔
’’دکھائیں ذرا ہاتھ۔‘‘ زید نے ہاتھ آگے کردیا۔
’’اوہ… ابھی بھی کس قدر ریڈ ہورہا ہے۔ شکر ہے چھالے نہیں پڑے۔‘‘
’’یہ تمہارے ٹوتھ پیسٹ والے ٹوٹکے کا کمال ہے۔‘‘ وہ مسکرایا۔
’’تھینکس گاڈ… میں آپ کے برننگ کریم لگاتی ہوں۔‘‘
’’نہیں‘ برننگ کریم کی ضرورت نہیں ہے‘ ٹھیک ہوگیا ہے ہاتھ۔‘‘
’’کافی لے آؤں آپ کے لیے‘ کھانا نہیں کھائیں گے ابھی؟‘‘ وہ اس کی تکلیف کا سوچ کر وہاں آگئی تھی۔ اب اس کے لہجے سے لگ رہا تھا‘ وہ بہت سارے سوال کرنے والا ہے‘ جن کے جواب کافی مشکل و دقت طلب تھے‘ جن سے وہ کترا رہی تھی۔
’’فی الحال مجھے تم سے کچھ ضروری باتیں کرنی ہیں‘ جو چائے اور کافی سے زیادہ اہم ہیں‘ سکون سے بیٹھ جاؤ۔‘‘ اس کے لہجے میں سنجیدگی کے ساتھ سرد مہری بھی در آئی تھی۔ مائدہ نے گھبرائے ہوئے انداز میں اس کی طرف دیکھا‘ جس کے چہرے پر ازحد سرخی تھی اور خوف سے اس کا دل بری طرح دھڑکنے لگا تھا۔ وہ فقط اس سے ہی ڈرا کرتی تھی۔
’’ممی کہہ رہی تھیں یہ سب تمہاری اور جنید کی وجہ سے ہوا ہے۔ تم نے ممی کو سوسائیڈ کی دھمکی کیوں دی اور پھر جنید نے تمہارا ساتھ کیوں دیا؟‘‘ یہ دو سوال اتنے بھاری تھے کہ اس کی گردن جھکتی چلی گئی۔ ماں نے ذرا لحاظ نہ کیا تھا کہ اس طرح اس کی کس قدر سبکی ہوگی‘ بھائی کی نظروں میں وہ گر جائے گی۔ مائیں ایسے موقعوں پر بیٹیوں کا سائبان بن جاتی ہیں‘ زمین پر گرنے دینا دُور کی بات‘ وہ کسی کی نگاہوں سے بھی بیٹی کو گرنے نہیں دیتی ہیں اور اس کی ماں نے بھائی کی نگاہوں ہی میں گرا دیا تھا۔
’’میں نے تم سے کچھ پوچھا ہے مائدہ؟‘‘ اس کے لہجے کی سرد مہری کم نہ ہوئی۔
’’آج محسوس ہوا بھائی‘ ہم جو بچپن سے ڈیڈی سے دُور رہے‘ اُن سے نفرت کی‘ ہم غلطی پر تھے۔ مما نے آج ثابت کردیا وہ صرف اور صرف خود سے محبت کرتی ہیں‘ انہیں بس اپنی پروا اور فکر ہے… درحقیقت وہ نہ ڈیڈی سے محبت کرتی ہیں‘ نا ہم سے پیار ہے اُنہیں۔‘‘ عمرانہ کی کم ظرفی و خود غرضی نے مائدہ کو بدظن کر دیا تھا۔
’’تمہیں مما کے خلاف ایسے بات کرتے ہوئے شرم آنی چاہیے۔‘‘
’’ٹھیک کہتے ہیں آپ… بات تو شرم سے ڈوب مرنے کی ہے مگر جو آج انہوں نے کہا ہے‘ وہ کوئی سگی ماں نہیں کہہ سکتی کبھی بھی۔‘‘ پھر مائدہ اس کو ہر بات بتاتی چلی گئی تھی۔
/…خ…/
شام سے رات ہوگئی تھی۔ جہاں آرأ کی تلاش میں پاؤں شل اور دماغ ماؤف ہوگیا تھا۔ وہ دونوں یہ سوچ کر نکلی تھیں کہ جہاں آرأ زیادہ دُور نہ گئی ہوں گی‘ اس لیے انہوں نے کار کی بجائے پیدل جانا بہتر سمجھا تھا اور پھر اردگرد دیکھنے اور لوگوں سے معلوم کرنے پر بھی اُن کا پتا نہ چلا تو وحشت اور پریشانی میں وہ آگے بڑھتی چلی گئی تھیں۔
’’انشی… اب کیا ہوگا‘ ماسی تو کہیں بھی نہیں مل رہیں‘ انہیںتلاش کرتے ہوئے ہم اپنے علاقے سے بھی بہت دُور نکل آئے ہیں۔ رات ہوگئی ہے اور سردی بڑھتی جارہی ہے۔ کہاں ڈھونڈیں ماسی کو؟‘‘ بالی‘ انشراح سے گویا ہوئی۔ وہ کیا جواب دیتی‘ نانی کی گمشدگی اُس کے بھی حواس معطل کیے دے رہی تھی۔ کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کیا کرے۔
ماحول میں خنکی کا راج بڑھتا جارہا تھا۔ اردگرد بنی ہوئی بلند و بالا عمارتیں دُھند میں ڈوبی ہوئی تھیں اور عمارتوں میں روشن لائٹس اس کہر میں پراسرار سی لگ رہی تھیں۔ سردی کے باعث ٹریفک بھی کم تھا اور لوگ بھی گرم ملبوسات میں لپٹے‘ کم کم ہی دکھائی دے رہے تھے۔
’’کہاں آگے بڑھتی جارہی ہو تم؟ اب آگے جانا فضول ہے۔‘‘ بالی نے آگے بڑھتی انشراح کا ہاتھ تھام کر کہا۔
’’کیوں فضول ہے‘ کیا معلوم وہ ہمیں آگے کہیں مل جائیں۔‘‘
’’یہی سوچتے ہوئے ہم اتنا آگے آچکے ہیں‘ وہ کہیں نہیں ملیں۔‘‘
’’پھر کای نانی کو تلاش نہیں کریں؟‘‘
’’دیکھ رہی ہو‘ کتنا سناٹا و خاموشی پھیل گئی ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اندھیرے و سناٹے میں بھی اضافہ ہورہا ہے‘ ایسے میں ہمارا یہاں رکنا خطرناک ہے انشی۔‘‘
’’نانی کہاں چلی گئیں‘ کہاں تلاش کریں‘ نامعلوم وہ کہاں اور کس حال میں ہیں؟‘‘ وہ سخت مضطرب تھی۔
’’ہمیں ماسی کی گمشدگی کی پولیس میں رپورٹ کرنی ہوگی‘ پولیس صبح تک ماسی کو ڈھونڈ نکالے گی۔‘‘
’’نہیں۔ ہمیں نانی کو خود ہی تلاش کرنا ہوگا۔‘‘ وہ متفق نہ ہوئی۔
’’پولیس کی ہیلپ لینے میں کوئی پرابلم ہے؟‘‘ وہ چونکی۔
’’ہاں تم اتنی جلدی بھول رہی ہو‘ نانی نے دو قتل ہوتے دیکھے ہیں۔ ان کی وہ چشم دید گواہ ہیں اور قتل میں بھی وہ ملوث ہیں‘ پھر وہ خوفزدہ بھی سراج اور برکھا سے ہی ہیں۔ ان کی زبان پر ان ہی لوگوں کے نام بھی رہتے ہیں۔ پولیس نے ان کو تلاش کرلیا تو وہ بولتی رہیں گی اور پھر پولیس کو معاملے کی تہہ تک پہنچنے میں ٹائم نہیں لگے گا۔‘‘ اس کی فہم و فراست پر بالی دنگ رہ گئی۔
’’ہاں… اس پہلو پر میں نے سوچا ہی نہیں تھا۔‘‘ بالی کی بات مکمل بھی نہ ہوئی تھی‘ معاً قریب سے گزرنے والی کار آگے جاکر واپس آئی تھی۔
’’آئی کین ہیلپ یو؟‘‘ ڈرائیونگ ڈور کھول کر ایک پُروقار شخص نے باہر آکر اُن سے شفقت بھرے لہجے میں دریافت کیا۔
’’نو تھینکس۔‘‘ بالی نے ان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا اور چونک گئی۔ اس کو ان کا چہرہ کچھ شناسا محسوس ہوا مگر یاد نہ آسکا ان کو کہاں دیکھا ہے۔
’’مجھے غلط نہیں سمجھیں بیٹا‘ اتنی سردی میں‘ رات میں یہاں کھڑے ہونا‘ کوئی ریزن تو ہوگا بلکہ مجھے آپ کے چہروں سے پریشانی و فکرمندی دکھائی دے رہی ہے اگر مناسب سمجھیں تو اپنی پرابلم مجھ سے شیئر کریں‘ میں ہر ممکن طریقے سے آپ کی ہیلپ کروں گا۔ آپ لوگوں کا تعلق کسی اچھی فیملی سے لگ رہا ہے۔ رات کو آپ لوگوں کا فٹ پاتھ پر یوں تنہا چلنا مناسب نہیں ہے۔‘‘ بہت ڈیسنٹ و سوبر آدمی تھا وہ۔ اس کے لہجے میں شفقت اور انداز میں بے غرض خلوص کی چاشنی‘ شہد کی مانند قطرہ قطرہ ٹپک رہی تھی۔
پہلی نظر میں انشراح بھی نہ پہچان سکی تھی‘ پھر یک دم ہی وہ چہرہ‘ وہ آواز اس کے اندر ایک غیر شناسا سی کھلبلی مچتی چلی گئی تھی۔ رگوں میں گردش کرتے خون میں عجیب سنسناہٹ دوڑنے لگی تھی۔ دل کسی سوز میں ڈوبنے لگا تھا۔ درد کی ایک گہری ٹیس وجود میں پھیل گئی تھی۔ دل کے ساتھ نگاہوں میں بھی زخم اُبھر آئے تھے۔ شال چہرے کے اردگرد کرتے ہوئے زخمی نگاہوں سے ان کی طرف دیکھا۔ سرخ و سپید رنگت‘ وجیہہ چہرہ‘ پُروقار سراپا‘ وہ اس عمر میں بھی خاصے گریس فل پرسنیلٹی کے مالک تھے۔ اس نے نگاہیں جھکالی تھیں۔
’’جی شکریہ‘ ہمیں بھی وقت کی نزاکت کا احساس ہے‘ ہمیں کوئی کنوینس مل جائے گی‘ ہم چلے جائیں گے۔ آپ جاسکتے ہیں۔‘‘ بالی کے لب وا کرنے سے قبل ہی اس نے سرد وترش لہجے میں کہا۔
’’میں آپ لوگوں کو ڈراپ کردیتا ہوں‘ یہاں دُور دُور تک کوئی کیپ آتی دکھائی نہیں دے رہی ہے بیٹا‘ آپ مجھ پر اعتماد کریں۔‘‘ نامعلوم کیوں اُن نوجوان لڑکیوں کو دیکھ کر اُن کے اندر کا باپ بیدار ہوگیا تھا‘ جس نے دوسری لڑکی کے سرد مہر رویے کو بھی محسوس نہ کیا۔
’’آپ پر اعتبار کریں‘ کس طرح آپ پر اعتبار کریں؟‘‘ اس کا لہجہ سخت طنزیہ اور استہزائیہ تھا۔ بالی اُس شخص کی شفقت و خلوص سے متاثر ہوئی تھی‘ انشراح کی بات پر فوراً ہی کہا۔
’’پلیز انشی‘ تم کس طرح بات کررہی ہو‘ یہ بے حد نائس پرسن ہیں۔‘‘
’’کوئی بات نہیں بیٹا‘ یہ اچھی بات ہے۔ آج کل کسی پر اعتبار کرنے کا وقت بھی نہیں ہے۔ میں نے بالکل مائنڈ نہیں کیا۔‘‘ اُن کے انداز میں ستائش تھی۔ دُور سے آتی ٹیکسی کو اُنہوں نے رکنے کا اشارہ کیا تھا۔
/…خ…/
’’جنید اور آنٹی کو کوئی حق نہیں پہنچتا اس طرح بلیک میل کرنے کا۔ جس کام میں مما راضی نہ ہوں‘ وہ بھلا مجھے کس طرح خوشی دے سکتا ہے اور تم میں اتنی بغاوت آگئی کہ تم مما کے اگینسٹ فیصلے کرنے لگیں؟‘‘ اصلیت پرت دَر پرت کھل گئی تھی۔
بہت سختی سے انکار کرنے والی مما اچانک ہی اس کا اور سودہ کا نکاح کرنے کے لیے کیوں راضی ہوئی تھیں‘ کس طرح اُن کا پتھر دل موم ہوا تھا‘ نکاح ہونے کے بعد بھی وہ اسی اُلجھن و بے یقینی کا شکار رہا تھا اور چوبیس گھنٹوں بعد اس اُلجھن و پریشانی کا سراغ مل گیا تھا۔
’’آئم سوری بھائی… بٹ مما سے میں نے کوئی بدتمیزی نہیں کی تھی۔‘‘ اسے غصے میں دیکھ کر اس کی خوف سے بری حالت ہورہی تھی۔
’’یہ بدتمیزی نہیں ہے…؟ تم نے جنید کے پریشر میں آکر مما کو پریشرائزڈ کیا کہ وہ ہمارے نکاح پر راضی ہوں وگرنہ خودکشی کرلوں گی۔‘‘
’’جنید چلے جاتے تو پھر کبھی لوٹ کر نا آتے۔‘‘ وہ بے چارگی سے بولی۔
’’مائی فٹ… نہیں آتا تو نا سہی‘ ہماری ماں‘ اُن کی خوشیوں اور خواہشوں کے آگے جنید کی کوئی ویلیو نہیں ہے۔ میں پہلے ہی کہتا تھا اس کو اتنی عزت دینی ہی نہیں چاہیے تھی کہ وہ ہمارے درمیان بیٹھے۔ ایسے کم ظرف‘ سطحی ذہنیت انسان کو اس گھر میں داخل ہونے کی پرمیشن ہی نہیں ملنی چاہیے تھی۔ جس نے دوست کی بہن پر نظر رکھ کر دوستی و اعتبار کو قتل کیا اور اس کے حوصلے اس حد تک بڑھ گئے کہ وہ…‘‘
’’بھائی… بھائی… آپ مجھے شوٹ کردیں‘ گلہ دبا کر مار دیں‘ میں بہت بری ہوں بھائی۔ آپ کی سوچوں سے بھی بڑھ کر خراب ہوں۔ جنید کو کچھ نہ کہیں۔‘‘ وہ یکلخت ہی اس کے پاؤں پر سر رکھ کر رونے لگی۔
’’مائدہ…! یہ کیا کررہی ہو۔‘‘ وہ تیزی سے پاؤں سمیٹتا ہوا بولا۔
’’تمہیں معلوم ہے تم کیا کہہ رہی ہو‘ کیا کیا ہے تم نے؟ کس عمل کے پچھتاوے ہیں جو تم کو بدحواس کیے ہوئے ہیں‘ کیا کرچکی ہو؟‘‘
’’بھائی… جنید برے نہیں ہیں… بری میں ہوں‘ انہوں نے آپ کی بہن پر بری نگاہ نہیں رکھی… بلکہ میں ہی اُن کی طرف بڑھی تھی۔ مجھے ہی نا جانے کیا ہوگیا تھا‘ ایک بار وہ آپ سے ملنے آئے تھے‘ میں نے اوپر کھڑکی سے اُن کو اتفاقاً دیکھا اور پھر نامعلوم مجھے کیا ہوا کہ مجھے ہر وقت اُن کا خیال رہنے لگا۔ میں لاکھ کوششوں کے بعد بھی اُن کو بھلانے میں ناکام ہی رہی۔ پھر جلد ہی وہ آپ سے ملنے دوبارہ آئے‘ آپ باتھ لے رہے تھے‘ گھر کے دیگر لوگ اپنے رومز میں تھے‘ تب موقع غنیمت جان کر میں جنید سے گفتگو کرنے لگی اور آپ کے حوالے سے وہ بہت احترام و محتاط انداز میں رسمی سی گفتگو کررہے تھے۔ بمشکل دس سے پندرہ منٹ میں وہاں رہی اور اس دوران میں ہی اُن سے گفتگو کرتی رہی۔ وہ بے حد پریشان و گھبرائے ہوئے بار بار آپ کا ہی پوچھتے رہے کہ آپ کب آئیں گے۔ ایک بار بھی نگاہ اُٹھا کر انہوں نے میری طرف نہیں دیکھا تھا اور اُن کی یہ شرافت و گریز مجھے اُن کا گرویدہ کر گئے۔ پھر آپ کی غیر موجودگی میں آپ کے سیل فون سے جنید کا نمبر میں نے چرا لیا تھا۔‘‘ کانٹوں پر چلنے کے مترادف ہوتا ہے اعترافِ جرم کرنا لیکن یہ وقتی تکلیف اعتراف نہ کرکے ضمیر پر گناہوں کے بوجھ کی تمام عمر کی کسک سے بہتر ہوتا ہے۔ وہ روتے ہوئے سب تفصیل بتارہی تھی۔ گم صم بیٹھے زید پر آج کئی راز منکشف ہورہے تھے۔
’’بھائی… آپ نے تو پرپوزل آنے کے بعد بتایا کہ جنید کریکٹر لیس ہیں اور انہوں نے میری پہلی کال پر ہی مجھے بتادیا تھا کہ وہ کریکٹر لیس ہیں‘ کسی طرح بھی زید کی بہن کے قابل نہیں ہیں… لیکن مجھ پر ایک جنون طاری تھا۔ اس نے مجھ سے پیچھا چھڑانے کے حربے اپنائے‘ فون نمبرز بدلے‘ آپ کو بتانے کی دھمکیاں دیں‘ اپنے سابقہ افیئرز بتائے‘ یہاں تک کہا کہ زید کو دھوکا نہیں دے سکتا‘ یہ دوست کی پیٹھ میں خنجر گھوپنے کے برابر ہے اور جب بھی میں نے اُن کا پیچھا نہ چھوڑا تو انہوں نے اٹل لہجے میں کہا کہ… آج تک میں محض اس خیال سے زید سے یہ سب چھپاتا رہا تھا کہ زید جیسا باکردار و باحمیت انسان اپنی بہن کے متعلق یہ سب جان کر صدمے سے دوچار ہوجائے گا مگر اب پانی سر سے گزر گیا ہے‘ میں زید کو سب سچ سچ بتادوں گا جاکر… تب بھائی‘ میں دل ہی دل میں ڈر گئی تھی نا آپ کا سامنا کرسکتی تھی‘ نا جنید کی جدائی برداشت کرسکتی تھی اور میں نے ممی کی خواب آور ٹیبلیٹس کھالی تھیں۔‘‘
’’اوہ…! یہ تم نے کیا کیا مائدہ…؟ خود کو اتنا ارزاں و بے وقعت کردیا‘ کیا کمی تھی تمہارے پاس؟ بھائی ہوکر بھی میں نے باپ کی محبت دی تمہیں‘ مما اور ڈیڈی کی مس انڈر اسٹینڈنگ کا خلاء تو تمہارے ساتھ ساتھ میرے دل میں بھی تھا مگر میں نے تمہارے خلاء کو ہر ممکن بھرنے کی سعی کی تھی بیٹا۔‘‘ پشیمانی و ندامت کے سمندر کی سب سے گہری تہہ میں وہ جاگرا تھا۔ کس کس طرح سے اس نے جنید کی تذلیل کی تھی‘ کیا کچھ نا کہا تھا اور وہ صبرو تحمل‘ اعلیٰ ظرفی اور دوستی کی اعلیٰ مثال‘ لبوں پر اس کی حرمت کے قفل لگائے بیٹھا‘ اپنی اہانت و توہین خندہ پیشانی سے برداشت کرتا رہا۔ اگر وہ بھی ساری دوستی و مروت بالائے طاق رکھ کر اس کی بہن کے کرتوت بتاتا تو پھر… پھر کیا وہ آج زندہ بیٹھا ہوتا یہاں؟ شدید سردی میں بھی اس کی پیشانی عرق آلود ہوگئی تھی۔
’’آپ کے جیسا بھائی پوری دُنیا میں کسی کا بھی نہیں ہوگا بھائی‘ آپ نے ساری دُنیا کی محبت مجھے دی… لیکن پھر بھی کوئی خلاء باقی تھا میرے اندر‘ جو مجھے جنید کی طرف کھینچ لے گیا۔ جنید بہت نائس ہیں‘ انہوں نے ہمیشہ آپ کی عزت کی ہے ان کی غلطی نہیں بلکہ غلطی ساری میری ہے۔‘‘
/…خ…/
انشراح کی آنکھوں سے آنسوئوں کا طوفان امڈ آیا تھا وہ رو تو پہلے سے رہی تھی، مگر یہ آنسو ان آنسوئوں سے الگ نوعیت کے تھے۔ جو وہ نانی کی گمشدگی پر بہا رہی تھی، اس درد کی تڑپ ہی نزع میں مبتلا کرنے والی تھی۔ سامنے اس کا باپ کھڑا تھا جس کو وہ باپ ہی نہیں کہہ سکتی تھی اور اذیت بھری بات یہ تھی اس بے حد شفیق و پروقار دکھائی دینے والے شخص کو یہ معلوم ہی نہ تھا کہ وہ اپنی بیٹی سے مخاطب ہے اور اس کو یہ بھی معلوم نہ ہوگا کہ اس کی بیٹی اس دنیا میں موجود ہے۔
’’ارے انشی… تم دوسروں کو حوصلہ دینے والی ہو‘ اگر تم اس طرح روئو گی تو پھر میرا کیا ہوگا‘ مجھے کون حوصلہ دے گا؟‘‘ بالی اس کے پیچھے چلی آئی اور بے تحاشہ روتے دیکھ کر اس سے لپٹ کر روہانسے لہجے میں گویا ہوئی۔ وہ بالی کے کاندھے سے سر ٹکا کر روتی رہی۔
’’انشی… انشی… اللہ کے واسطے اس طرح مت روئو میرے دل کو کچھ ہورہا ہے ماسی صبح تک ان شاء اللہ مل جائیں گی، کچھ نہیں ہوگا ماسی کو، تم اس طرح روتی رہوگی تو مجھے ضرور کچھ ہوجائے گا، پلیز چپ ہوجائو۔‘‘ انشراح کی ہستی زلزلے کی زد میں تھی، حلق خشک ہوگیا تھا۔ زبان تالو سے جالگی تھی۔ نامعلوم یہ خون کی کشش تھی یا اس شخص کے وجود کا حصہ ہونے کی دلیل‘ انہیں دیکھ کر دل اس طرح بے قابو ہوا تھا گویا پنجرے میں قید پرندہ کسی ہمنوا پرندے کو دیکھ کر اس کے پاس جانے کو پھڑپھڑانے لگتا ہے۔
’’انشی… یہ کوئی اور ہی معاملہ لگ رہا ہے۔ بتائو تو سہی، کیا ہوا ہے؟‘‘ بالی بمشکل اس کو بہلانے میں کامیاب ہوکر گویا ہوئی۔
’’وہ شخص جو ہمیں راستے میں ملے تھے تم نے ان کو پہچانا نہیں؟‘‘ وہ ہونٹ دانتوں سے کچلتی ہوئی نم پلکوں اور بھیگے لہجے میں گویا ہوئی۔
’’نہیں… مجھے چہرہ کچھ شناسا محسوس ہوا تھا شاید انہیں کہیں دیکھا تھا مگر یاد ہی نہیں آیا۔ ماسی میں ذہن ہی اتنا الجھا ہوا ہے۔ تم جانتی ہو ان کو جو یوں پوچھ رہی ہو؟‘‘ بالی نے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے سوال کیا۔
’’ہاں، بہت اچھی طرح جانتی ہوں۔‘‘ اس نے سپاٹ لہجے میں کہا۔
’’تم ان کو جانتی ہو حیرت ہے پھر بھی تم نے ان سے بدتمیزی کی… بلکہ تمہارے انداز میں سراسر اجنبیت و بیگانگی کے ساتھ سختی موجود تھی، میں سمجھ رہی تھی ماسی کی گمشدگی کے باعث تمہارا رویہ روڈ ہے پر اب لگتا ہے وہ تمہاری ریئل فیلنگز تھیں بٹ وائے؟‘‘
’’حیرت مجھے تم پر ہو رہی ہے اس چہرے کو متعدد بار نیوز پیپرز اور نیوز چینلز پر دیکھنے کے باوجود تم شناخت ہی نہ کرسکیں، وہ یوسف صاحب تھے… میرے ناجائز باپ…‘‘ دکھ، اشتعال، اشتیاق و اضطراب کیا کچھ نہ تھا اس آنسوئوں سے تر لہجے میں‘ پھر گویا اس کے ذہن کی اسکرین پر ایک چہرہ نمودار ہوتا چلا گیا جو سو فیصد وہ ہی چہرہ تھا۔
’’اوہ میرے اللہ! سچ کہہ رہی ہو تم وہ یوسف صاحب ہی تھے میں پہچان اس لیے نہ سکی کہ وہ بے حد ویک ہوگئے ہیں، لگ تو رہا تھا مجھے کہ میں نے انہیں کہیں دیکھا ہے… اوہ… تمہارا ایٹی ٹیوڈ اس لیے ان سے روڈ تھا۔‘‘
’’یہ میری بد مزاجی و بد تمیزی بالکل مصنوعی تھی بالی… بہت کٹھن مرحلے سے گزری ہوں میں، بہت مشکل سے زبان کو تلخی میں ڈبویا تھا، یہ دل بھی بے حد عجیب شے ہے جب تک انہیں دیکھا نہ تھا تب تک بڑے خطرناک و وحشی منصوبے بنا رہا تھا اور انہیں سامنے دیکھ کر یہ بالکل ہی بدل گیا اس کی نفرت، محبت میں بدل گئی اور کہنے لگا بھاگ کر ان کے سینے سے لگ جا اور بھول جا جائز و ناجائز سب اور ہمیشہ کے لیے ان کی شفقت بھری پناہ میں چلی جا کبھی نہ واپس آنے کے لیے آہ…!‘‘ آنسو اس کے مومی رخساروں سے موتیوں کی مانند پھسل کر گر رہے تھے۔
بالی بھی بے آواز رونے لگی، انشراح اس کے دل میں بستی تھی، اس کا دکھ اس کو بھی دکھی رکھتا تھا، اس کی خوشی اس کو مسرور کردیا کرتی تھی۔ ان آنسوئوں میں بہتے ہوئے خاصا وقت گزر گیا تھا۔ انہوں نے سہ پہر سے کچھ نہ کھایا تھا۔ بالی گرم دودھ کے ساتھ کچھ اسنیکس لے آئی اور زبردستی انشراح کو کھلائے۔
’’میرا دل کہتا ہے وہ تمہیں دھتکارنے کے بجائے سینے سے لگائیں گے۔ اپنی بیٹی تسلیم کریں گے، وہ بے حد نرم مزاج و رحم دل ہیں۔‘‘
’’اگر انہیں یہی کرنا ہوتا تو وہ ایسا کچھ کرتے ہی نہیں، وہ سب وقتی‘ جذباتی کمزوری تھی بالی، اب تو میرے ارادے مزید مضبوط ہوگئے ہیں۔ بس دعا ہے نانی جلدی سے مل جائیں۔‘‘
/…خ…/
وہ آفس ورک میں بزی تھا جب پیون نے اس کو عروہ کی آمد اور اندر بھیجنے کی پرمیشن مانگی اور اس نے اجازت دے دی تھی اور گہری سانس بھر کر سامنے رکھی فائل آگے سرکائی کہ معاً وہ اندر آئی۔
’’بہت تعجب ہوا مجھے جب آپ نے میرا نام سن کر بھی پیون کو مجھے اندر بھیجنے کی پرمیشن دی، میں سمجھ رہی تھی آپ باہر سے ہی مجھے ٹرخا دیں گے، میرا سامنا کرنے کی ہمت کہاں ہوگی آپ میں؟‘‘ اس نے سخت طنزیہ انداز میں کہتے ہوئے اس کا چہرہ دیکھا اور اس کے سامنے رکھی چیئرز میں سے ایک پر بیٹھ گئی۔
’’تمہارا سامنا کرنے کی ہمت نہیں ہوگی مجھ میں‘ کیوں بھئی‘ میں نے کون سا کرائم کیا ہے یا کون سی چوری و ڈاکہ ڈالا ہے‘ کیا کیا ہے میں نے؟‘‘ ڈارک مہرون فینسی ڈریس، ہیوی جیولری، ڈارک میک اپ میں وہ بالوں کا جوڑا بنائے بلاشبہ کوئی پری ہی لگ رہی تھی۔
لیکن لہجے کی کاٹ اور آنکھوں سے جھلکتا حسد و رقابت کا زہریلا تاثر اس کی ساری خوب صورتی و دلکشی کو ماند کررہا تھا۔
’’ایسے کیا دیکھ رہے ہیں‘ کہیں پچھتاوا تو نہیں ہورہا اپنے سلیکشن پر؟‘‘ اس کو اپنی طرف دیکھتا پاکر وہ جھک کر طنزیہ گویا ہوئی۔
’’پچھتاوا کیسا؟ اس کو اللہ نے میرے لیے بنایا تھا اور وہ مجھے مل گئی‘ البتہ یہ افسوس ضرور ہورہا ہے کہ جتنا تمہارا چہرہ خوب صورت ہے اگر زبان بھی اتنی خوب صورت ہوتی تو تم سچ مچ خوب صورت ہوجاتیں۔ اصل خوب صورتی زبان کی ہوتی ہے چہرے کب بگڑ جائیں، کچھ معلوم نہیں ہوتا۔‘‘ اس کے انداز میں غصہ، سرد مہری، طنز و تضحیک کا شائبہ تک نہ تھا بلکہ اس کے لہجے میں ٹھہرائو و طمانیت تھی، سکون ہی سکون تھا۔
’’مان گئی بہت بڑے پلانر ہیں آپ، آپ کی ذہانت و پلاننگ نے کس طرح سے ہاری ہوئی بازی کو جیت میں بدل دیا‘ حلوہ بنا کسی اور کے لیے تھا اور عین موقع پر تھالی آپ کے ہاتھ میں آگئی ویلڈن۔‘‘
’’تھینکس اے لاٹ… تم مجھے مبار ک باد دو اتنا بڑا دل تو نہیں ہے تمہارا، اگر طنز کرنے کے لیے آئی ہو تو پلیز جلدی جلدی طنز کے تیر چلاؤ اور واپسی کی راہ پکڑو، بی کوز اس سارے سیٹ اپ میں بہت سے کام پینڈنگ ہیں جن کو آج ہی کمپلیٹ کرنا ہے۔‘‘ اس نے کہتے ہوئے فائل اپنے آگے کی اور معاً عروہ نے ہاتھ بڑھا کر فائل کھینچ لی۔
’’کیوں کیا آپ نے میرے ساتھ ایسا؟ سودہ سے نکاح کرتے وقت ذرا بھی آپ کو میرے ایموشنز کا خیال نہ آیا؟ آپ نے یہ نہ سوچا کہ ایسی خبر سن کر میں مر جائوں گی، دل بند ہوجائے گا میرا؟‘‘
’’یہ خبر سن کر بھی تم زندہ ہو، دل بھی بند نہیں ہوا تمہارا مجھے معلوم تھا ایسا کچھ نہیں ہوگا اور دیکھ لو، تم میرے سامنے زندہ بیٹھی ہو۔‘‘ وہ خشک لہجے میں اس سے فائل لیتا ہوا گویا ہوا۔
’’میں کیوں مرتی جب وہ ہی نہ مری‘ اتنی رسوائی و بد نامی کے بعد بھی زندہ بیٹھی ہے‘ اس کے لیے تو چلو بھر پانی ہی کافی تھا ڈوب مرنے کے لیے۔‘‘
’’بے حد افسوس ہوا مجھے یہ سن کر تمہاری دلی تمنا پوری نہ ہوسکی۔‘‘ اس کے وجیہ چہرے پر استہزائیہ مسکراہٹ بکھیر گئی۔
’’یہ چیلنج کرنے آئی تھی آپ کو…‘‘ وہ اٹھتے ہوئے ضدی لہجے میں گویا ہوئی۔ زید نے چونک کر دیکھا۔
’’میں آپ کی زندگی میں ایک بار مسز زید بن کر ضرور آئوں گی۔ خواہ ایسا کرنے کے لیے مجھے سودہ کی لاش پر چل کر آنا پڑے۔‘‘ ایک جنون‘ وحشت‘ حسد و رقابت کی سنگینی اس کے لفظوں سے عیاں تھی کہہ کر وہ رکی نہیں تیز تیز قدموں سے چلی گئی۔ عروہ کی دھمکی اس کے لیے لمحہ فکریہ تھی۔
اس کی ضدی و سفاک طبیعت سے وہ بہ خوبی واقف تھا۔ ماضی میں بھی وہ سودہ کی جان لینے کی کوشش کرچکی تھی‘ تب سودہ سے کوئی تعلق نہ تھا اور اب نکاح کے بعد وہ اس کی حیات کا حصہ بن گئی تھی۔ حسد میں وہ پہلے مبتلا تھی، اب تو رقابت اس کو جلائے دے رہی تھی۔ حسد ایک آگ ہے اور جب حسد میں رقابت بھی شامل ہوجائے تو پھر تن من سب جل کر راکھ ہوجاتا ہے۔ ایسے میں رقیب قتل کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ اگر یہاں معاملہ اس کی ذات سے وابستہ ہوتا تو وہ خود ہینڈل کرسکتا تھا۔ اس معاملے کو لیکن یہاں معاملہ سودا کا تھا اور وہ خود کو کس طرح سیکیور کرسکتی تھی۔ یہ سوچ کر وہ فکر مند ہوگیا تھا۔
/…خ…/
بابر آج صبح کی فلائٹ سے اپنی ممی پپا کے پاس روانہ ہوچکا تھا اور جانے سے قبل اس کو سمجھاتا رہا تھا کہ انشراح کا رویہ سمجھ میں آنے والا نہیں ہے کیونکہ عاکفہ نے نوفل کو بھی سمجھایا تھا کہ وہ انشراح سے شادی کا خیال دل سے نکال دے اس کا رویہ اس معاملے میں ناقابل فہم ہے۔ وہ دوستی رکھنا چاہتی ہے مگر شادی کرنے کا ارادہ قطعی نہیں۔
’’تیرا دل آیا بھی کس پتھر لڑکی پر جو نا محبت کرنا چاہتی ہے نہ کسی کے پیار کی قدر ہے جس کے دل میں، تم بھول جائو اسے‘ لڑکیوں کی کمی نہیں ہے تمہیں‘ لاکھوں لڑکیوں کے منظور نظر ہو تم۔‘‘ بابر نے ایئر پورٹ لائونج میں بھی اس کو نصیحت کی۔
’’لاکھوں کی بات تو چھوڑو میں تو ایک ہی لڑکی کی نگاہ کو نہیں بھایا۔‘‘ ایک پُر سوز مسکراہٹ اس کے لبوں پر نمودار ہوئی۔
’’پھر تم اس کی بات کررہے ہو تم نے کھلے دل سے اسے معاف کردیا تھا مگر وہ تمہیں معاف نہیں کرسکی کم ظرف و بے ضمیر…‘‘
’’اسٹاپ اٹ… یہ میرا اور اس کا معاملہ ہے تم اس کے لیے ایسے ورڈز نہیں بولو، مجھے اچھا نہیں لگ رہا…‘‘ وہ اس کی بات قطع کرکے تیزی سے گویا ہوا، بابر حیرت سے اسے دیکھتا رہ گیا۔
’’آئم سوری… ائم ریئلی سوری بابر۔‘‘ کچھ توقف‘ خاموشی کے بعد اس نے بابر سے گلے ملتے ہوئے پشیمانی سے بھرپور لہجے میں کہا۔
’’میرا مقصد تم کو ہرٹ کرنا نہیں تھا، کچھ معاملات ایسے ہوتے ہیں جہاں انسان خود کو بے بس اور لاچار محسوس کرنے لگتا ہے۔ انشراح کے معاملے میں بھی میں یہی فیل کر رہا ہوں، بے بس، بے کس، مجبور اور لاچار۔‘‘
’’تمہیں معلوم ہے وہ تم سے محبت نہیں کرتی پھر بھی…؟‘‘
’’وہ نہیں کرتی نا سہی، میں اس سے بہت محبت کرتا ہوں۔‘‘
یہ اس کا پہلا اور بے جھجک اعتراف محبت تھا بابر اس کی حرماں نصیبی پر آبدیدہ ہوگیا۔ اب کہنے اور سمجھانے کے لیے کچھ باقی نہ بچا تھا۔ وہ نم آنکھوں کے ہمراہ اس سے رخصت ہوگیا تھا۔
وہ ایئر پورٹ سے باہر نکل کر بے مقصد سڑکوں پر مٹر گشت کرتا رہا‘ جب جذبے بدلتے ہیں تو دل کے تقاضے بھی بدل جاتے ہیں۔ کل تک وہ انشراح کی پرچھائی سے بھی چڑتا تھا اور آج اس کی پرچھائیں بننے کو دل مچل رہا تھا کہ کہیں سے وہ آجائے اور وہ اس کی خوشبو محسوس کرتا رہے… عاکفہ بھی کل اپنی ممی کے ہمراہ ایبٹ آباد کے لیے روانہ ہوگئی تھی۔ وگرنہ وہ اس کے ذریعے باآسانی اس سے ملاقات کرلیتا۔
گھر آکر بھی وہ یہی سوچ کر بے کل رہا کہ اب انشراح سے ملنے کی سبیل کیا ہوگی۔ وہ موڈی لڑکی کب اس سے ملنے سے انکار کردے اور بھروسہ نہیں کبھی ملنا ہی پسند نہ کرے… یہ سوچ اسے بے چین کردیا کرتی تھی۔ دل کو جب قرار نہ ملا تو وہ ایک عرصے بعد ماما کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گیا اور ان کی نرم نرم روئی کے گالوں کی مانند انگلیاں بڑی محبت سے اس کے برائون گھنے بالوں میں چلنے لگی تھیں۔
’’کیا پریشانی ہے‘ خاصے ڈپریسر لگ رہے ہیں؟‘‘ اسے مسلسل خاموش دیکھ کر زرقا نے آہستگی سے پوچھا۔
’’نتھنگ مما، بس یونہی دل کررہا ہے خاموش رہنے کو معمولی سا شور بھی گراں گزر رہا ہے۔‘‘ وہ ہنوز اسی حالت میں گویا ہوا۔
’’جب اندر بہت شور ہو پھر باہر سناٹا ہی اچھا لگتا ہے بیٹا، کیسا شور ہے یہ؟ کل تو آپ بہت خوشی خوشی گھر سے روانہ ہوئے تھے اور ایسی خوشی و شادمانی میں نے فرسٹ ٹائم آپ کے چہرے پر دیکھی تھی اور دل نے کہا تھا آپ واپسی میں کوئی گرینڈ گڈ نیوز سنائیں گے لیکن آپ کی واپسی بہت عجیب انداز میں ہوئی تھی۔‘‘
’’خوش خبری بھی خوش نصیب لوگ ہی سناتے ہیں ماما، مجھ جیسے لوگ خوشیوں کے لیے پیدا نہیں ہوتے‘ شاید قبر تک بدقسمتی پیچھا کرتی ہے مجھ جیسے لوگوں کا۔‘‘ وہ بے حد آزردہ تھا۔
’’ایسی باتیں نہیں کریں بیٹا‘ کس نے کہا آپ کو یہ سب‘ آپ جیسے لوگ تو صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں خوش قسمت و خوش نصیب۔‘‘ ان کے لہجے میں ماں کی تڑپ تھی نوفل ان کا ہاتھ تھام کر بیٹھ گیا۔
’’یہ کیسی خوش نصیبی ہے جس میں میرا ماضی دہکتے انگاروں سے بھرا ہوا ہے۔ ماضی انسان کا سب سے قیمتی اثاثہ ہوتا ہے جہاں تلخ یادوں کے ساتھ شیریں و خوب صورت باتیں بھی سرمایہ حیات ہوتی ہیں کہ جب دل بوجھل ہوتا ہے تو ماضی کی کوئی خوش کن ٹھنڈی میٹھی یاد دل کو بہلانے کا ذریعہ بن جاتی ہے لیکن میرا ماضی تو داغ دار ہے کبھی یاد بھی آئے تو ماسوائے اذیت کے کچھ اور نہیں ملتا۔‘‘
ماضی کے بے شمار و ان گنت اذیت ناک، تکلیف دہ واقعات تواتر سے نگاہوں میں رقصاں ہونے لگے تھے۔ اس کے اندر محرومیوں کی کسک رم جھم بن کر برسنے لگی تھی۔ جذبات کی دنیا میں برسات پوری شدت سے برس رہی تھی، مگر اس کی آنکھیں خشک رہی تھیں۔
’’آپ ہمارے بیٹے ہیں، سب بھول کر آپ صرف یہ یاد رکھا کریں، آپ کی رنجیدہ صورت ہمارا چین و سکون برباد کر دیتی ہے… محبت جتائی نہیں جاتی بیٹا، پھر بھی بتا رہی ہوں، آپ کے دم سے ہی ہماری زندگی میں خوشیاں قائم ہیں، آپ کی خوشی ہمیں خوش رکھتی ہے اور آپ کی اداسی و رنج ہمیں دکھی کردیتا ہے۔‘‘ اپنی محبتوں و شفقتوں کا بے پایاں اظہار کرکے وہ اسے حوصلہ دے رہی تھیں، دلجوئی کررہی تھیں کہ وہ اسے ذرا سا بھی دکھی نہیں دیکھ سکتی تھیں۔
/…خ…/
عمرانہ خاموشی کا روپ دھار چکی تھیں۔ مائدہ نے جو ان کے ساتھ بے وفائی کی تھی، اس ہرجائی پن نے ان کے اندر شکست کی اذیت شدید ترین انداز میں پیدا کردی تھی۔ جس سے وہ تنہائی و احساس کمتری میں مبتلا ہوکر رہ گئی تھیں۔
مائدہ بھی ان کے خلاف دل میں کبیدگی و تنفر بھرے بیٹھی تھی۔ زید کے سامنے جس طرح سے انہوں نے اس کا بھانڈا پھوڑا تھا وہ تب ہی سمجھ گئی تھی کہ ماں کی دل میں اس کے لیے اب کوئی خیر باقی نہیں ہے۔ وہ ان کے مزاج کے تمام موسموں سے آشنا تھی، سو قبل اس کے کہ وہ زید کے آگے اس کے لیے مزید مشکلات پیدا کرتیں، اس نے ہمت و حوصلہ بمشکل جمع کرکے اپنے اور جنید کے درمیان ہونے والے تمام معاملات گوش گزار کردیے تھے۔ گو کہ اس مرحلے سے گزرتے ہوئے اس کو لگا کہ آگ کے دریا کو ننگے پائوں عبور کیا ہو۔ مشکل کام کرنے سے قبل مشکل ہوتا ہے بعد میں سکون ہی سکون ہوتا ہے۔ وہ بھی بتانے کے بعد پُرسکون ہوگئی تھی کہ ماں کے ایک کی دس لگانے سے قبل وہ حرف بہ حرف بھائی کو سچ بتاچکی تھی۔
ان کے درمیان ایک ان دیکھی دیوار حائل ہوگئی تھی۔ بظاہر سب پہلے جیسا ہی تھا، لیکن جب دلوں میں فرق آجائے تو رویوں میں تبدیلی آجاتی ہے۔ عمرانہ اس سے زیادہ بات کرنے کو تیار نہ تھیں تو وہ بھی پرواہ نہ کرتی تھی۔ ان کی آپس کی کھٹ پھٹ سے بے خبر صوفیہ بیٹی کے بدلتے مقدر سے ایک جانب خوش تھیں تو دوسری جانب عمرانہ کی طرف سے وسوسے بھی بے کل کردیا کرتے تھے۔ وہ ہی کیا گھر کا ہر فرد اس حقیقت سے واقف تھا کہ وہ اور سودہ ان کو کسی طور برداشت نہ ہوتی تھیں۔
’’عمرانہ بہو کی کیا بات کرتی بہو بیٹی؟ انہوں نے کبھی کسی سے بنا کر رکھی ہے۔ ان کی نگاہوں میں صرف اپنی بہن اور بہن کی بیٹیاں ہی جچتی ہیں۔‘‘ وہ لان میں بیٹھی ڈھلتی دھوپ انجوائے کررہی تھیں کہ معاً ان کی بات پر بوا گویا ہوئیں تو زمرد چونک کر کہنے لگیں۔
’’بہت عجیب بات ہے یہ‘ رضوانہ نے ہماری کسی تقریب میں شرکت نہیں کی حد تو یہ ہے کہ زید کے اچانک نکاح کی خبر سن کر بھی نہیں آئیں۔‘‘
’’ارے وہ کیوں آئیں گی بھلا ان کی پکی پکی نیت تھی زید میاں کو اپنا داماد بنانے کی، صرف رضوانہ بیگم کی ہی نہیں عروہ بی بی کی خود دل و جان سے یہ خواہش تھی وہ زید میاں کو اپنی مٹھی میں کرلیں، اسی لیے وہ یہاں رہ رہی تھیں…‘‘ بوا کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے راز دارانہ انداز میں گویا ہوئیں۔
’’اس لڑکی کو کیا کیا حربے آزماتے نہ دیکھا، زید میاں کو قابو کرنے کے واسطے۔ بڑی ہی بے شرم و نڈر لڑکی تھی… مگر ہمارے زید میاں نے ان کو گھاس نہ ڈالی۔ کبھی نظر بھر کر نہیں دیکھا اس بے حیا و بے لگام لڑکی کو جو خود کو بہت حسین لڑکی سمجھتی ہے۔‘‘
’’حد ہوتی ہے بوا، آپ اس عمر میں بھی کسی کی اس طرح غیبت کررہی ہیں کسی کی بیٹی کے متعلق اس طرح بات کرنا نامناسب بات نہیں۔‘‘
’’میں نے جو دیکھا وہ بتا رہی ہوں بڑی بہو‘ کیوں صوفیہ بیٹی‘ تم نے نہیں دیکھا تھا وہ کس طرح سے زید میاں کے اردگرد لٹو کی مانند گھومتی تھی اور بات بے بات جتاتی تھی کہ زید میاں پر صرف وہی حق رکھتی ہے کوئی اور ان کی طرف دیکھے بھی نا۔‘‘ زمرد کا ناصحانہ انداز دیکھ کر بوا نے صوفیہ کو گواہ بنانا اہم سمجھا۔
’’آپ اور میں ہی کیا بھابی جان بھی سب سمجھتی ہیں انہوں نے بھی سب دیکھا ہوا ہے۔ بس بھابی جان کی عادت ہے پردہ پوشی کی اور یہ اچھی بات ہے دوسروں کا پردہ رکھنا اللہ کو بھی پسند ہے۔ وگرنہ سچی بات تو یہی ہے کہ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ میں بھی یہ سمجھی تھی کہ زید بھی عروہ میں انٹرسٹڈ ہے لیکن پھر وقت نے ثابت کردیا وہ میری بھول تھی۔ اگر ایسا ہوتا تو عروہ کو عمرانہ بھابی کب کی بہو بناکر لاچکی ہوتیں، کون روک سکتا تھا انہیں من مانی کرنے سے۔‘‘
’’لیکن بات پھر یہی ہے کہ انہوں نے شرکت نہیں کی اور نا ہی بعد میں مبارک دینے آئیں جو ناممکن بات ہے۔‘‘ زمرد کی سوئی وہیں اٹکی ہوئی تھی۔
’’بات تو حیرت کی ہی ہے اتنی بات ہوگئی لیکن نا وہ آئیں اور نہ عمرانہ گئیں… بلکہ کچھ ہفتوں سے عمرانہ کو وہاں جاتے نہیں دیکھا۔ نہ ہی وہاں سے کوئی آیا ہے یہ تو سچ مچ کوئی انہونی ہے۔‘‘
’’کوئی جھگڑا ہوگیا ہوگا دونوں بہنوں کا جو آنا جانا بند ہے۔‘‘ بوا دور کی کوڑی لائیں۔
’’عمرانہ اور رضوانہ میں جھگڑا ناممکن بات ہے بوا۔‘‘
’’جس طرح کا عمرانہ بہو کا مزاج ہے کوئی بعید نہیں مزاج کے خلاف بات ہونے پر وہ عروہ بیٹی سے بھی کوئی رعایت نہ کریں گی، الٹے دماغ کے لوگ سیدھے ہوتے ہی کب ہیں۔‘‘
’’خیر میں عمرانہ سے خود معلوم کروں گی کہ اصل ماجرا کیا ہے؟‘‘
’’کیوں بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈالنے کی غلطی کرنے جارہی ہیں دیکھا نہیں زید اور سودہ کے نکاح کو دو دن گزر گئے ہیں وہ ابھی تک اپنے روم سے باہر ہی نہیں آئی ہیں نا معلوم اندر ہی اندر کیا کھچڑی پک رہی ہے؟ میری تو دعا ہے رب العالمین میری بچی کے نصیب میں خوشیاں ہی خوشیاں لکھے اب، وگرنہ عمرانہ بھابی کی یہ خود ساختہ نظر بندی میرا دل دہلا رہی ہے۔‘‘ صوفیہ دل کے خدشات زبان پر لی آئی تھیں۔
/…خ…/
جہاں آرأ کو خبط الحواس دیکھ کر لاریب کے ذہن میں شیطانی منصوبہ فوری طور پر آن وارد ہوا اور مراد کو اپنا ہمنوا بناتے ہوئے اس نے ان کو گھر ڈراپ کرنے کا کہہ کر کار میں بٹھا لیا تھا۔ اس وقت اس کی قسمت یاوری کررہی تھی جو تھکی ہاری سردی کے باعث ٹھٹھری ہوئی جہاں آرأ کار میں آن ہیٹر کے باعث گرم و پُرسکون ماحول میں کچھ دیر بعد ہی غافل ہوگئی تھیں اور لاریب کو اپنے ٹھکانے پر لے جانے کے لیے ان کی کسی مزاحمت کا سامنا نہ کرنا پڑا تھا وہ نیند کے دوران ہی انہیں اپنے ریسٹ ہائوس میں منتقل کرچکا تھا۔ جو مضافات میں قائم تھا۔ وہاں چوکیدار اپنی فیملی کے ساتھ رہتا تھا، اس کی تحویل میں ہی وہ انہیں دے کر آگیا تھا۔ وہ ساری رات منصوبہ بندی کرتا رہا تھا۔
ایک عرصے سے وہ انشراح کے حصول کے لیے جہاں آرأ کی بڑی بڑی خواہیش پوری کرتا آرہا تھا۔ اپنی دولت اس طرح ان پر لٹائی تھی کہ اس کا خالی اکائونٹ مما کی نگاہوں میں آگیا تھا۔ یہ بات مما کے ذریعے پپا تک بھی پہنچ چکی تھی اور پہلی بار اس پر پابندیاں لگی تھیں، اعتراضات اٹھے تھے اس کی نگرانی ہونے لگی تھی، جبراً وہ آفس جانے لگا تھا اسی بنا پر اس کی مما سے تلخ کلامی ہوئی تھی۔ غصے سے بے قابو ہوکر وہ ان سے گستاخی کا مرتکب ہونے ہی والا تھا کہ نوفل نے اچانک وارد ہوکر نہ صرف اس کا ہاتھ روکا بلکہ کئی تھپڑ بمعہ لعن و طعن اسے جڑ دیے تھے۔ جس پر ساریہ نے خوب اس کا مذاق اڑایا تھا۔
ان سب کی ذمہ دار وہ چالاک و لالچی نانی اور مغرور و بد دماغ نواسی تھی، جن کی خاطر اتنے ظلم و ستم سہہ کر بھی اس کی پرچھائی سے بھی ابھی واقفیت نہیں ہوئی تھی۔
’’میری جان… اب کہاں جائو گی؟ چڑیا خود میرے جال میں پھنسنے کو آرہی ہے۔ بہت تڑپایا ہے تم نے، بہت رلایا ہے… اپنی ایک ایک تڑپ کا، ایک ایک آنسو کا تم سے بدلہ لوں گا… آج وقت میری مٹھی میں آگیا ہے۔ آئم کنگ ہاہاہا…‘‘ آئینے کے سامنے کھڑا وہ سینہ پھلا کر کہہ رہا تھا اس کی آنکھوں میں وحشیانہ چمک تھی اور اس چمک میں گویا انشراح کا عکس تیر رہا تھا۔ وہ خوشگوار موڈ میں سیٹی بجاتا ہوا کار کی طرف بڑھ رہا تھا جہاں مراد اس کا منتظر تھا۔ اس نے دیکھتے ہی سلام کیا اور بیک ڈور کھول دیا تھا۔
’’کیا خبریں ہے مراد؟ بڑھیا نے کوئی ہنگامہ تو نہیں کیا‘ کال کی تھی واچ مین کو؟ معلوم کیا تھا‘ کل کی رات گزر گئی اور آج کا دن بھی ختم ہونے کو ہے۔‘‘ وہ کار کے ڈور سے باہر دیکھتے ہوئے بولا۔
’’جی سر جی… میں رات سے اب تک کئی مرتبہ کال کرچکا ہوں۔‘‘ مراد کار اسٹارٹ کرتا ہوا مؤدبانہ لہجے میں بولا۔
’’ہوں… پھر کیا رپورٹ ہے بڑھیا نے تنگ تو نہیں کیا بہت شاطر و ہنگامہ پر ور ذہن کی مالک ہے وہ بڑھیا۔‘‘
’’نہیں سر بالکل بھی نہیں‘ اللہ جانے ایسا کیا ہوا ہے کہ اس کی کاپا پلٹ گئی ہے۔ سراج اور برکھانا نامی ایسی کون سی عفرتیں ہیں جنہوں نے اس کا دماغ خراب کردیا… پھر چوکیدار ظفر بھی نمبر ون کائیاں آدمی ہے۔ اس نے دیکھا کہ سوکر اٹھنے کے بعد وہ ان دو ناموں سے خوف زدہ ہے تو اس نے سراج و برکھا کے ناموں سے ڈرا دھمکا کر رکھا ہے۔‘‘
’’اوہ گڈ… اب اونٹ پہاڑ کے نیچے آیا ہے اس کی ساری زیادتیوں کا بدلہ میں ایک دم ہی لوں گا اب کوئی مجھے روک نہیں سکتا۔‘‘ مراد نے بیک مرر سے اپنے صاحب کے چہرے پر چھائی ایک عجیب کیفیت کو غور سے دیکھا اور اس کے ہونٹوں پر بھی گہری مسکراہٹ چھا گئی‘ پھر ان کے درمیان کوئی بات نہ ہوئی اور وہ ریسٹ ہائوس پہنچ گئے تھے۔ جہاں آرأ پلنگ پر بیٹھی ہوئی دیواروں کو تک رہی تھیں۔ آہٹ پر مڑ کر دیکھا اور ان کی آنکھوں میں خوف و ہراس نمودار ہوا۔
’’آنٹی… آنٹی… ڈریں نہیں ہم سے۔‘‘ لاریب آگے بڑھا۔
’’برکھا اور سراج کو جانتے ہو ناں تم… تم ان کے ہی ساتھی ہو مارنے آئے ہو مجھے… تم لوگ مجھے مار دو گے۔‘‘ وہ ہذیانی انداز میں چیخنے لگیں معاً مراد نے سرگوشی میں کہا۔
’’ہم تمہارے دوست ہیں تمہیں بچانے آئے ہیں ڈرو نہیں ہم سے۔‘‘
’’اچھا تم میرے دوست ہو مجھے بچانے آئے ہو؟ تم تو بہت اچھے ہو‘ مجھے سراج اور برکھا سے بچالو گے‘ تم میرے پکے دوست ہو ناں؟‘‘
/…خ…/
’’تھینک یو مائی گریٹ فرینڈ۔‘‘ زید ہکابکا کھڑے جنید سے گلے لگتا ہوا گویا ہوا۔ جنید اس کی غیر متوقع آمد اور بھرپور گرم جوشی سے ملنے پر لمحے بھر کو بھونچکا رہ گیا کہ ایک عرصہ ہوا تھا زید نے اس انداز سے ملنا تو درکنا دیکھنا بھی چھوڑ دیا تھا۔ اجنبیت و خفگی اس کے لہجے میں رہتی تھی۔
’’کتنا اسٹوپڈ تھا ناں میں جو یہ سوچ سوچ کر کڑھتا و جلتا رہا کہ تم نے میری محبت و دوستی پر شب و خون مارا ہے، میرے اعتماد و بھروسے کو ریزہ ریزہ کیا ہے۔ اس خیال نے میرے دل میں تمہاری لیے نفرت اس شدت سے بھردی تھی کہ مجھے تمہارے چہرے پر ماسوائے نفرت کے کچھ اور دکھائی نہ دیتا تھا۔‘‘ وہ خود ہی اس سے علیحدہ ہوتا ہوا بولا۔ جنید تو گویا حیرت و استعجاب کے سمندر میں غوطہ زن تھا۔
’’دوستی کی اعلیٰ مثال ہو تم، اعتماد و بھروسے کی جیتی جاگتی تصویر ہو تم، میں تمہیں ہی غلط سمجھتا رہا اور خود کو ملامت کرتا رہا کہ ایسے شخص سے دوستی کی جس کو میری عزت کا بھی خیال نہیں‘ میرا دوست اچھی طرح اس بات سے آگاہ ہے کہ میں اس کے کردار کی ایک ایک بات سے واقف ہوں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ گھر کو آگ لگی گھر کے چراغ سے، مائدہ نے خود تمہیں کنوینس کیا اور فضول حرکتیں کرکے تمہیں پرپوزل بھیجنے کے لیے مجبور کیا…‘‘
’’یہ سب تمہیں کس نے بتایا؟‘‘ جنید کی ذات مسلسل جھٹکوں کی زد میں تھی، زید ہر لفظ سچ کہہ رہا تھا کہیں کوئی جھول اور جھوٹی کہانی نہ تھی۔
’’کون بتا سکتا ہے مجھے مائدہ کے علاوہ۔‘‘ اس کی آواز میں شکستگی و دلگرفتگی کا عنصر نمایاں تھا۔
’’مائدہ نے بتایا ہے وہ اتنی بریو کیسے ہوگئی‘ وہ تو مجھے کہتی تھی‘ تمہیں یہ بات کبھی معلوم نہیں ہونی چاہیے، آئی مین وہ تم سے بے حد خوف زدہ تھی، وہ جس قدر تم سے محبت کرتی ہے، ڈرتی بھی اتنا ہی ہے۔‘‘
’’میں نے تمہارے خلاف بات کی تو وہ برداشت نہ کرسکی کہ تمہیں برا بھلا کہا جائے اور خوفزدہ ہونے کے باوجود وہ بولتی چلی گئی اور…‘‘ وہ اپنے اور مائدہ کے درمیان ہونے والی تمام گفتگو سناتا ہوا شرمندہ ہوکر رک گیا، پھر چند لمحے توقف کے بعد بولا۔
’’آفٹر آل مائدہ نے ثابت کردیا کہ وہ تمہاری بہن ہے، صاف گو، نڈر‘ مخلص اور پُرخلوص، تم اس سے خفا تو نہیں ہو اب؟‘‘ جنید کے چہرے پر آسودگی مسکراہٹ بن کر پھیلتی چلی گئی۔
’’نہیں… شاید یہ سب اسی طرح ہونا لکھا تھا تقدیر میں بلکہ میں تم سے بے حد شرمندہ ہوں نہ جانے کیا کیا…‘‘
’’ڈونٹ وری یار… تمہاری جگہ اگر میں ہوتا تو اپنی بہن کے لیے میری بھی یہی فیلنگز ہوتیں، عزت و غیرت کے معاملے میں ہم سب یکساں ہیں، تم سے میں ایسا ہی رویہ اسپکٹ کررہا تھا۔‘‘جنید نے اس بار اس کو گلے لگایا۔
’’مائدہ میری زندگی میں خوش گوار تبدیلی لے کر آئی ہے۔ میرا تمام لاابالی پن ختم ہوکر رہ گیا‘ عورت کیا ہے؟ عورت کی عظمت و پاک دامنی کو میں نے مائدہ کے ساتھ رشتہ استوار ہونے پر جانا اینی ویز، کیا لو گے تم؟‘‘ باتوں کی دوران اسے اچانک مہمان نوازی کا خیال آیا۔
’’نتھنگ، کافی پی کر ہی نکلا تھا۔‘‘ وہ خاصا مطمئن دکھائی دے رہ تھا۔
’’ایک بات پوچھوں اونیسٹی بتائو گے؟‘‘ اس کے انداز پر جنید کو کسی خطرے کا احساس ہوا۔
’’اونیسٹی ایسی کیا بات ہے جو تم اجازت لے رہو؟‘‘
’’بات ہی ایسی ہے کئی رشتے جڑے ہیں اس اجازت سے۔‘‘
’’ہوں… چلو میں جو کہوں گا سچ کہوں گا، سچ کے سوا کچھ نہیں کہوں گا۔‘‘ اس کے ہونٹوں پر مسکان مگر آنکھوں میں الجھن تیر رہی تھی۔
’’پیارے میاں کو دبئی فرار کروانے میں تم لوگوں کا کتنا ہاتھ ہے؟‘‘
’’یہ… یہ کیا کہہ رہے ہو؟ تم… ہم کون…؟‘‘ وہ بے ساختہ گھبرایا۔
’’تم اور شاہ زیب… تم دونوں نے ہی یہ چکر چلایا ہے میں نے اسے بھی کال کرکے بلایا ہے تاکہ دونوں مل کر سچ سچ بتائو۔‘‘
/…خ…/
دوسرا دن بھی ایسے ہی گزر گیا تھا۔ نانی کی کوئی خیر خبر نہ ملی تھی وہ ہر کوشش کرکے بیٹھ گئی تھیں۔ چوکیدار نے اس موقع پر خود سے بڑھ کر فرض اور ذمے داری نبھائی تھی، وہ تنہا ہی ہاسپٹلز، ایدھی سینٹر اور بھی کئی جگہوں پر دیکھ آیا تھا ہر جگہ ناکامی کا سامنا ہی ہوا تھا۔
بالی نے گھبرا کر نوفل سے مدد لینی چاہی تو انشراح نے سختی سے منع کردیا یہ کہہ کر وہ ابھی اس کی صورت دیکھنے کی بھی روا دار نہیں ہے باپ سے سامنا ہونے کا زخم ابھی تازہ ہی تھا۔ اس موضوع پر ان کی خوب بحث بھی ہوئی تھی اور حسب عادت وہ نوفل کے حق میں بولتی رہی، جس سے چڑ کر وہ اپنے کمرے میں بند ہوگئی تھی۔ بالی نے جب کئی گھنٹوں سے اسے کمرے میں بند دیکھا تو خوب سوچ سمجھ کر نوفل کو فون کردیا۔ وہ جانتی تھی نوفل کی پیٹھ پیچھے وہ کتنی بھی بکواس کرے… مگر اس کی سامنے وہ ظاہر نہیں کرتی تھی، یہی سوچ کر وہ نوفل کو سارے حالات بتاکر اس کی مدد کی منتظر تھی، ایک اس کی ذات ہی اسے اندھیرے میں روشنی کی کرن دکھائی دی تھی۔
کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو روشنی ہی روشنی ہوتے ہیں، اندھیرے جن کی آہٹ پر بھاگ جاتے ہیں۔ وہ بھی بہت اسپیڈ سے کار ڈرائیو کرکے وہاں پہنچا تھا۔ اس کی آمد سے چند لمحے قبل انشراح روم سے باہر آئی تھی۔ اچانک اسے سامنے دیکھ کر وہ کسی رویے کا اظہار نہیں کر پائی تھی، فقط بالی کو گھورنے کے اور بالی اس کی نگاہوں کی کاٹ سے بے خبر نوفل کو دیکھ کر اپنے جذبات پر قابو نہ پاسکی تھی۔
’’روئو مت، وہ بہت جلد مل جائیںگی۔‘‘ اس نے کسی بھائی کی مانند اس کے سر پر دست شفقت رکھا‘ بالی پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی۔
’’کل سے ماسی کا پتہ نہیں ہے‘ نامعلوم کہاں اور کس حال میں ہوں گی؟ اتنی سردی میں بھی وہ بنا شوز و شال کے گئی ہیں ان کے شوز اور شال ان کے روم میں ہی موجود ہیں۔‘‘
’’میرے منع کرنے کے باوجود تم نے انہیں یہاں کیوں بلایا؟‘‘ وہ غصے سے ان کے قریب جاکھڑی ہوئی۔
’’ماسی کو تلاش کرنے میں یہی ہماری مدد کرسکتے ہیں انشی۔‘‘
’’یہ مدد کریں گے نانی کو ڈھونڈنے میں ہماری ہونہہ…‘‘ وہ سلگتی نگاہوں سے نوفل کو گھورتے ہوئے کہہ اٹھی۔ نوفل نے اس کے جلتے بھڑکتے انداز پر اسے چونک کر دیکھا، پھر یہ سوچ کر چپ رہا کہ وہ ایک بڑے صدمے و غم میں مبتلا ہے۔
’’پلیز انشی… یہ کیا ہوگیا ہے تمہیں اپنا ایٹی ٹیوڈ دیکھو کس طرح تم ان سے بات کررہی ہو، نوفل بھائی میری کال پر فوراً چلے آئے ہیں۔‘‘ بالی نے اس کے بگڑے تیوروں پر بوکھلا کر کہا۔
’’تم بھول رہی ہو یہ موصوف نانی جان سے کس قدر بیزار ہیں کتنا ناپسند کرتے ہیں ان کی نگاہوں میں وہ کوئی اچھی خاتون نہیں ہیں۔‘‘
’’انشی پلیز…‘‘ بالی نے گھبرا کر اس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا۔
’’انشی یہ وقت ایسی باتیں کرنے کا نہیں ہے یہ ہماری مدد کرنے آئے ہیں۔‘‘
’’بالی، یہ ابھی اپنے ہوش و حواسوں میں نہیں، تم فکر مت کرو، میں ایسی باتوں کی کیئر نہیں کرتا ہوں۔‘‘ وہ اس سے کچھ ہی فاصلے پر کھڑی تھی اتنے کم فاصلے پر کہ ہاتھ بڑھا کر اس کو چھوسکتا تھا۔ گرفت میں لے سکتا تھا مگر درحقیقت یہ فاصلہ صدیوں پر محیط محسوس ہورہا تھا۔ وہ دل سے جتنی قریب تھی، مقدر سے اتنی ہی دور لگ رہی تھی۔
فی الوقت محبت پر ماتم کرنے کا وقت نہیں تھا۔ انشراح کے انکار پر وہ بالی کے ساتھ جہاں آرأ کی تلاش میں نکل گیا اور ان کے جانے کے کچھ دیر بعد لاریب مراد کے ہمراہ وہاں آیا اور چوکیدار کے ذریعے ایک خاص پیغام سے انشراح تک رسائی حاصل کی۔
’’آنٹی کو کچھ لوگوں نے کڈنیپ کرلیا ہے۔‘‘ لاریب نے سنسنی خیز لہجے میں کہا۔
’’آپ کو کیسے معلوم ہوا نانی کڈنیپ ہوئی ہیں؟‘‘ وہ سراسیمہ ہوئی۔
’’میں نے چند ساتھیوں کے ساتھ مل کر کڈنیپرز سے انہیں چھڑا لیا ہے۔ اب پرابلم یہ ہے کہ وہ کسی سراج اور برکھا سے اس قدر خوفزدہ ہیں کہ میرے ساتھ آنے کے لیے بھی راضی نہیں ہیں، اگر آپ کو مجھ پر ٹرسٹ نہیں ہے تو کسی کو میرے ساتھ بھیج دیں تاکہ میں اپنے فرض سے فارغ ہوجائوں۔‘‘ اسے شکوک و شبہات کا شکار دیکھ کر لاریب نے لاپرواہی کا مظاہرہ کیا۔ وہ معمولی سے بھی شبے کی گنجائش کے حق میں نہ تھا۔
’’سراج اور برکھا… آپ بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں نانی آج کل ان دو لوگوں سے بے حدخوفزدہ ہیں۔‘‘ لاریب کے منہ سے سراج و برکھا کے نام سن کر اب کوئی شک کی گنجائش باقی نہ رہی تھی سامنے کھڑا وہ شخص سخت ناپسندیدہ ترین لوگوں میں شمار ہوتا تھا مگر پھر وہی مثل کہ وقت پر گدھے کو بھی باپ بنانا پڑتا ہے۔
’’آپ کو مجھ پر اعتماد نہیں کوئی بات نہیں، آپ کسی اور کو میرے ساتھ بھیج دیں، پولیس تک معاملہ پہنچنے سے پہلے ہمیں ہر کام کرنا ہے اگر پولیس کو خبر ہوگئی تو…‘‘
’’میں چلتی ہوں آپ کے ساتھ‘ میں آپ پر ٹرسٹ کرتی ہوں۔‘‘ انشراح بنا کچھ بھی سوچے سمجھے جانے کو آمادہ ہوگئی تھی۔

(باقی آئندہ ماہ ان شاء اللہ)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close