Hijaab Jan 19

عشق دی بازی

ریحانہ آفتاب

(گزشتہ قسط کا خلاصہ)

سمہان آفندی بہادری سے دشمن کا مقابلہ کرتا ہوا انہیں بھاگنے پر مجبور کردیتا ہے، عیشال جہانگیر یہ سارا منظر دیکھ کر بے ہوش ہوجاتی ہے سمہان اس کی طرف سے فکر مند ہوتا دشمن کے پیچھے جانے کے بجائے گاڑی پنڈال کی طرف موڑ لیتا ہے جہاں نکاح کی تقریب تھی۔ دلہن بنی شنائیہ خود کو دنیا کی مظلوم لڑکی سمجھتی ہے شادی میں شریک سب اسے مبارک باد دے رہے ہوتے ہیں ایسے میں شنائیہ چودھری کو شادی کے شادیانے بھی کسی دھماکے سے کم نہیں لگ رہے ہوتے وہ دیا (ماں) سے کہہ کر شادیانے بند کرا دیتی ہے دوسری طرف یہ خبر شاہ زرشمعون تک بھی پہنچ جاتی ہے۔ ماورا کا خواب، خواب ہی رہ جاتا ہے وہ تعلیم حاصل کرکے اپنی مشکلیں کم کرنا چاہتی ہے لیکن چودھری جہانگیر کے یونیورسٹی آنے اور منزہ کو یہ بات پتا چلنے پر وہ ماورا کو یونیورسٹی جانے سے روک دیتی ہے ماورا اب انوشا کے اسکول میں جاب کرنا چاہتی ہے لیکن انوشا اسے سمجھاتی ہے۔ پنڈال پہنچ کر سہمان آفندی عیشال جہانگیر کو کسی کو بھی واقعہ کی تفصیل بتانے سے منع کردیتا ہے اور خود جیپ کے پیچھے جانا چاہتا ہے جس پر عیشال بھی ساتھ جانے پر ضد کرتی ہوئی اس کی اہمیت کا احساس دلاتی اسے حیران کر جاتی ہے سمہان آفندی اس کی بات مان کر پنڈال میں آجاتا ہے۔ سعد، ایشان جاہ کو فون پر چودھری جہانگیر کا یونیورسٹی آنا اور ماورا یحییٰ سے ملاقات کا بتا کر حیران کردیتا ہے۔ ایشان جاہ اس بات سے بے خبر ہوتا ہے۔ وہ سعد کو واپس آکر بات کرنے کا کہہ کر سلسلہ منقطع کردیتا ہے۔ ایشان جاہ چودھری جہانگیر سے اس حوالے سے بات کرتا ہے تو چودھری جہانگیر ماورا یحییٰ کا گھمنڈ توڑنے کا کہتے ہوئے ایشان جاہ کے غصہ میں اضافہ کرجاتے ہیں۔ تقریب کے اختتام پر چودھری جہانگیر کی فیملی حویلی آتے ہی جانے کی تیاری کرنے لگتی ہے۔ سب جہانگیر سے شکوہ کرتے ہیں تو وہ اہم میٹنگ کا کہہ کر دامن بچا جاتے ہیں۔ نرمین پہلی بار سمہان آفندی سے ہم کلام ہوتی ہے اور اسے کراچی آنے کی دعوت دیتی ہے۔ منزہ کو دن بہ دن خراب ہوتی طبیعت خوف میں مبتلا کر جاتی ہے ایسے میں انہیں اپنا ماضی یاد آتا ہے اور وہ ڈائری لکھتی ہیں۔ دیا اور چودھری بخت بھی جانے کی تیاری کرتے ہیں۔ شنائیہ خوش ہوتی ہے اور اپنی تیاری مکمل کرلیتی ہے لیکن عین وقت رخصت چودھری حشمت شنائیہ کو روک لیتے ہیں۔

(اب آگے پڑھیے)

’’مجھے ایسا فیل ہورہا ہے مما کہ میں آپ کی سگی اولاد نہیں ہوں۔ سچ بتادیں کہاں سے اٹھایا تھا مجھے…؟ پہلے زبردستی نکاح اور اب زبردستی حویلی میں قیام… کس کس بات کا رونا روئوں… میری تو زندگی ہی برباد ہوگئی۔‘‘ ہائے میں لٹ گئی، برباد ہوگئی والے تاثرات دیتی شنائیہ چودھری دیا کے آگے احتجاج کرتی کچھ زیادہ ہی جذباتی ہوگئی تھی۔ ماہم نے بے ساختہ ہنسی ضبط کی جب کہ دیا شنائیہ کو گھورنے لگیں۔ ٹریولنگ بیگ سے کپڑے واپس الماری میں رکھتے وہ بے حد مضطرب تھی۔ اس وقت کمرے میں وہ تینوں ہی تھیں۔
’’کچھ تو خیال کرو… بنا سوچے سمجھے جو منہ میں آرہا ہے بولے جارہی ہو… رخصت ہوکر بھی تو حویلی ہی آنا ہے۔ بہتر ہے کہ ابھی سے عادت ڈال لو اور اب جب کہ تمہارے بابا واپس گائوں آنے کا فیصلہ کرچکے ہیں… بابا جان بھی یہاں ہسپتال کی تعمیر کے منصوبے کا اعلان کرچکے ہیں تو میں سوچ رہی ہوں تمہاری مائیگریشین کروا دوں… حویلی کی لڑکیاں بھی تو کالج، یونیورسٹی جاتی ہیں… تم بھی ان کے ساتھ چلی جائو گی۔‘‘ شنائیہ اموشنل بلیک میلنگ یہ سوچ کر کررہی تھی کہ شاید روانگی سے قبل دیا کا دل موم ہوجائے اور وہ اسے ساتھ لے جائیں۔ گو کہ چودھری حشمت کے فیصلے کے بعد اسے کوئی خاص امید نہیں تھی، لیکن وہ ’’مجھے آخری بازی‘‘ لڑنے دو کے مترادف ڈٹی ہوئی تھی لیکن جواب میں دیا کے ارشادات پر اس کا موڈ مزید خراب ہوگیا۔
’’رہنے دیں… ساتھ نہیں لے جانا تو نا لے جائیں لیکن اتنے ہولناک فیصلے تو نہ سنائیں… میرے لیے کراچی کی ڈگری ہی معتبر ہے۔ سچ کہتے ہیں لوگ بیٹیوں کی شادیاں کرکے ماں، باپ انہیں پرایا کردیتے ہیں۔ آپ نے تو نکاح کرواتے ہی آنکھیں پھیر لیں…‘‘ وہ جھلا ہی تو گئی… آخر میں لہجہ دل سوز ہوا تو وہ اس کی لن ترانیوں پر سر تھام گئیں۔
’’بعض اوقات انسان جس چیز سے فرار چاہتا ہے وہ چیز اتنی ہی شدت سے اس کے آگے آجاتی ہے۔ آپ کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہوا۔ آپ حویلی سے جس قدر خائف رہتی تھیں، جتنی جلدی یہاں سے بھاگنا چاہتی تھیں سب اس کے برعکس ہوا… اب آپ کا مستقل ٹھکانہ یہی حویلی ہے… یہاں سے بھاگنے کا آپ سوچ بھی نہیں سکتیں… بہتر ہے وقتی فرار کی بجائے آپ اسے کھلے ذہن سے قبول کرلیں۔ جتنی جلدی قبول کرلیں گی آپ کے لیے اتنی ہی آسانی ہوگی۔‘‘ اس کے انداز، باتوں پر ماہم کو بھی ہنسی آرہی تھی لیکن وہ اندر سے کتنی پریشان ہے۔ یہ جان کر اس کا انداز خودبخود ناصحانہ ہوگیا تھا۔
’’تم سے زیادہ سمجھ دار تو ماہم ہی ہے۔‘‘ دیا نے فہمائشی نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا تو وہ منہ بسور کر ماہم کو گھورنے لگی۔
’’تمہاری شادی زبردستی کسی خونخوار درندے سے ہو، پھر میں اس سے زیادہ اچھی فصیحت تیار کروں گی۔‘‘
’’ضرور… لیکن ویرے شاہ کو خونخوار درندہ تو نا کہیں۔‘‘ ماہم ہنسی تو وہ ہونہہ کرکے رہ گئی۔
کرنے کو تو وہ شاہ زرشمعون کو چیلنج کر آئی تھی اور تب سے اب تک سوچ رہی تھی کہ ایسا کیا کرے کہ وہ جی بھر کے زچ ہو۔ وہ یہیں حویلی میں تھی، سوچنے کے لیے اس کے پاس کافی وقت تھا۔ ابھی تو فی الحال ان سب کی روانگی کا دکھ زیادہ گہرا تھا۔
’’میری پڑھائی کا حرج ہوگا… سمسٹر نزدیک ہے۔‘‘ آخری حربہ کے طور پر وہ پڑھائی کو گھسیٹ لائی۔ اس سے پہلے کہ دیا جواب دیتیں، گلا کھنکھار کر چودھری بخت کمرے میں آئے تو وہ تینوں الرٹ ہوکر دوپٹا ٹھیک کرنے لگیں۔
’’ادھر آئو بیٹا…!‘‘ صوفے پر بیٹھتے چودھری بخت نے شنائیہ چودھری کو متوجہ کرتے دایاں ہاتھ بڑھا گئے تو وہ بے اختیار اٹھ کر ان ان کے قریب آگئی۔
حویلی سے تعلق رکھنے کے باوجود چودھری بخت کا مزاج الگ تھا۔ وہ بیٹیوں کے بہت قریب تھے۔ بس ایک رعب شروع سے رکھا تھا اور یہ ضروری بھی تھا کہ دیا جب ماں ہونے کے ناتے کمزور پڑ جاتی تھیں تو چودھری بخت کا رعب ہی کام آتا تھا۔ جیسے نکاح سے انکاری ہونے کا فیصلہ انہوں نے بڑے اچھے سے ہینڈل کرلیا تھا۔
’’پریشان ہے میرا بچہ…؟‘‘ ہاتھ تھام کر اسے مقابل بٹھا کے وہ دونوں ہاتھوں میں اس کا ہاتھ تھام گئے تھے۔ پریشانی چہرے سے صاف ظاہر تھی لیکن اس نے جس طرح شد و مد سے نفی میں سر ہلایا تو چودھری بخت مسکرادیے۔
’’تم میری بہت اچھی اور سمجھدار بچی ہو… ماں، باپ کی عزت رکھتے تم نے خاموشی سے نکاح کیا اور یہ تمہارے حق میں کتنا اچھا فیصلہ ہے اس کا احساس تمہیں جلد ہوجائے گا۔‘‘
’’ہونہہ خوب احساس ہوگا… ساری زندگی لڑتے مرتے گزر جائے گی۔‘‘ سپاٹ چہرے کے ساتھ وہ سن رہی تھی لیکن مزاحمت اندر ہی اندر جاری تھی۔
’’مجھے بھی احساس ہے تمہاری پڑھائی متاثر ہوگی، لیکن ابھی ہم بابا جان کو ناراض نہیں کرسکتے۔ ابھی ان کی بات بات مان لو… چند رزو میں، میں خود بابا جان کو پڑھائی کا احساس دلا کر تمہیں بلوا لوں گا یا خود لینے آجائوں گا۔‘‘
’’پرامس ناں…؟‘‘ چند روز کا سن کر دل کو تقویت ملی، تب ہی اس نے وعدہ لینا چاہا۔
’’پرامس۔‘‘ اس کے نروٹھے انداز اور بچکانہ حرکت پر چودھری بخت بھرپور طریقے سے مسکرا کر اسے یقین دلا گئے تو اسے سکون ملا۔ ان کی باتیں سنتی دیا اور ماہم نے بھی سکون کا سانس لیا تھا کہ وہ آسانی سے مان تو گئی۔
ء…ۃ…ء
’’اماں…‘‘ گیلے ہاتھوں کو دوپٹے سے خشک کرتی ماورا یحییٰ تیزی سے اندر آئی اور اس سے دگنی تیزی سے منزہ نے ڈائری بند کرکے گائو تکیہ کے نیچے دبا دی تھی لیکن یہ منظر ماورا یحییٰ کی نظروں سے مخفی نا رہ سکا تھا۔ اس انداز پر اسے حیرانی بھی ہوئی لیکن اس نے سرعت سے اپنی حیرانی پر قابو پایا۔
’’ہاں بولو، کیا ہوا…؟‘‘ منزہ نے غیر محسوس طریقے سے ڈائری کو مزید کھسکاتے ہوئے دریافت کیا تو وہ بھی ان دیکھا کر گئی۔
’’دوپہر کے لیے کیا پکائوں، یہی پوچھنے آئی تھی۔‘‘ انہیں مشکل میں ڈالنا اچھا نہیں لگا تو وہ جلدی سے مدعا بیان کر گئی۔ بیماری کے باعث شاید وہ اپنی موت کو ذہنی طور پر قبول کرچکی تھیں، تب ہی یادداشت رقم کررہی تھیں۔ اس کا دل بوجھل ہوگیا تھا۔
’’گھر میں کوئی سبزی نہیں ہے… مجھے بھی دھیان نہیں رہا کہ ہانڈی کا وقت ہونے وال اہے۔ بس جارہی ہوں مارکیٹ سبزی لینے۔‘‘ منزہ نے جلدی سے کہا تو وہ سر ہلانے لگی۔
یوں تو اسکول اور یونیورسٹی جانے سے پہلے ہی اکثر دونوں کی کوشش ہوتی تھی کہ کوئی ایک کھانا پکاکر جائے تاکہ منزہ کو مشکل نہ ہو۔ یونیورسٹی جانے پر پابندی کے بعد سے وہ گھر پر تھی تو انوشا بے فکری سے اسکول چلی جاتی تھی۔ اس کے جانے کے بعد اس نے ناشتے کے برتن دھو کر کچن سمیٹ دیا تھا۔ اب کھانے کی تیاری کرنا باقی تھا لیکن منزہ غالباً اتنی مصروف تھیں کہ ہر بات فراموش کر گئی تھیں۔
’’تب تک میں آپ کا کمرا سیٹ کردوں گی۔‘‘ چھوٹا سا ڈسٹر اٹھا کر وہ چیزیں صاف کرنے لگی۔
اسی وقت منزہ کا سیل فون بجنے لگا تھا۔ ایک پل کو منزہ کے چہرے کا رنگ اڑا، اگلے ہی پل اسکرین پر بشریٰ کا نام دیکھ کر رنگ قدرے بحال ہوا۔
’’خیر خیریت کے بعد شادی کی تیاریوں کا ذکر کررہی تھیں۔ پیسوں کی گمشدگی کا ذکر شاید ان سے بھی پہلے ہوچکا تھا۔ تب ہی وہ اس حوالے سے افسوس کررہی تھیں۔ ان کی گفتگو سنتی ماورا کو تو یہی احساس ہوا اور جلد ہی کال بند کرکے منزہ نے اس کی تصدیق بھی کردی۔
’’بشریٰ آنٹی کیا کہہ رہی تھیں اماں؟‘‘ منزہ کی افسردگی دیکھ کر وہ بے ساختہ استفسار کر گئی۔
’’پیسوں کی چوری کا بتا کر میں نے استدعا کی تھی کہ شادی کی تاریخ ایک ماہ بعد کی رکھ لیں انہوں نے سوچنے کا وقت لیا تھا اور اب کہہ رہی تھیں کہ وقت آگے نہیں بڑھا سکتیں… ان کا بیٹا دبئی سے آئے گا۔ اس کی چھٹی منظور ہوگئی ہے۔ کینسل نہیں ہوسکتی، لہٰذا ہم اسی تاریخ پر شادی کردیں، ورنہ بیٹا پھر دو سال بعد آئے گا اور اس کی شمولیت کے بناء وہ شادی نہیں کرسکتیں۔‘‘
’’اوہ…‘‘ یہ سب سن کر اسے بھی افسوس ہوا۔
’’ایک ماہ میں کوئی الہٰ دین کا چراغ تو نہیں ملے گا لیکن سوچا تھا ہاتھ پائوں مار کر نئی کمیٹی ڈال کر منتیں کرکے لے لوں گی لیکن اب… نا میرے پاس وقت ہے نا پیسہ…‘‘ آزردہ لہجہ اسے ماں کے قریب لے آیا۔
’’آپ کیوں ٹینشن لے رہی ہیں۔ میں نے آپ سے کہا ناں میرے حصے کا زیور بیچ کر پیسے پورے کرلیں اور تھوڑے سے پیسے مجھے دے دیں تاکہ میں ہاسپٹل کے خرچ کے لیے رکھ دوں۔‘‘
’’تمہارے ساتھ حق تلفی ہے یہ۔‘‘ وہ ہاسپٹل کی بات نظر انداز کر گئیں۔
’’میں اپنی خوشی سے کہہ رہی ہوں اماں، کیسی حق تلفی…؟‘‘ وہ سمجھانے لگی۔
’’تو پھر دونوں کا زیور بیچ دیتی ہوں… انوشا کے پیسوں سے اس کی شادی کے اخراجات اٹھا کر باقی پیسے جو بچیں گے اسے کیش کی صورت دے دوں گی اور تمہارے پیسے اٹھا کر رکھ دوں گی۔‘‘
’’یہ بھی ٹھیک ہے… میری فکر ناں کریں… آج کل زیورات سنبھالنا ایک الگ مسئلہ ہے۔ یہی مناسب حل ہے۔‘‘ ماورا یحییٰ نے بھی سراہا تو منزہ کے دل کو بھی بات لگی۔
’’بس ٹھیک ہے… ابھی کرلیتی ہوں یہ کام تاکہ ہم شادی کی تیاری تو شروع کردیں۔‘‘ منزہ پُر جوش ہوگئیں۔
’’میں بھی چلوں آپ کے ساتھ…؟‘‘ ان کی طبیعت کے پیش نظر اس نے استفسار کیا۔
’’چھوٹی بچی تھوڑی ہو جو میں ہر جگہ تمہیں ساتھ لے کر گھوموں گی… مارکیٹ میں ہزار طرح کے لوگ ہوتے ہیں۔ تم اپنے کام نپٹائو تب تک میں لوٹ آئوں گی۔‘‘ منزہ نے کہا تو وہ مسکرادی۔
’’جیسی آپ کی مرضی۔‘‘ اکیلی عورت کو کتنی فکریں دامن گیر ہوتی ہیں، وہ ماں کی پریشانی دیکھ کر سمجھ سکتی تھی۔
’’میں ٹرنک سے زیور نکالتی ہوں تم ایک گلاس پانی پلائو ذرا۔‘‘ وہ پانی لے کر آئی تو منزہ زیور کو حسرت بھری نظروں سے دیکھ رہی تھیں۔ شاید اس زیور سے جڑی یادیں دل شکن تھیں اور برسوں پرانی نشانی کو بیچنا آسان کب تھا۔ دل سے اٹھتی ہوک کو دبانا تھا۔ منزہ کی ہدایت پر اس نے زیور رومال میں لپیٹ کر ان کے پرس میں رکھ دیا تھا۔
اجنبی کے لیے دروازہ نہ کھولنے اور چوکنا رہنے کی تلقین کرتی منزہ گھر سے نکلیں تو اس کے قدم بے ساختہ منزہ کے کمرے کی طرف اٹھے۔ عجلت میں گائو تکیہ ہٹا کر اس نے ڈائری کا دیدار کرنا چاہا لیکن ڈائری کی گمشدگی حیران کرنے کے ساتھ اس کے تجسس کو ہوا دے گئی۔ متلاشی نظریں ٹرنک پر لگے تالے پر گئیں۔ شاید ڈائری اس میں منتقل ہوچکی تھی اور اس کی کڑی میں لگا تالا اس کے تجسس کو مزید ہوا دے رہا تھا۔
ء…ۃ…ء
’’شکر ہے تیری شکل تو نظر آئی۔‘‘ وہ سب سر جوڑے کھڑے تھے ایشان جاہ کی شکل دیکھ کر سب نے بے ساختہ خوشی کا اظہار کیا۔
’’بس تھوڑا لیٹ ہوگیا۔ کلاس لینے کا موڈ نہیں میں تم سب سے ملنے چلا آیا۔‘‘ وہ بے تکلفی سے بیٹھ گیا۔
’’ہاں دل بھی کہاں چاہے گا‘ ماورا یحییٰ جو آج نہیں آئی۔‘‘
’’شٹ اپ۔‘‘ سعید نے بے ساختہ چھیڑا تو وہ منہ بنا گیا۔
’’تم لوگوں کی سرد جنگ تو جنگ عظیم کی طرف جاتی نظر آرہی ہے۔‘‘
’’جنگ عظیم کہاں نسل در نسل کہو‘ جس میں اب فیملی بھی انوالو ہوتی جارہی ہے۔‘‘ عذیر کی معنی خیزی کو سہیل نے آگے بڑھایا۔
’’کیا بکواس کررہے ہو تم لوگ۔‘‘ وہ اکتایا۔
’’اچھا ہم بکواس کررہے ہیں پھر بتا انکل ماورا یحییٰ کو کون سی شاباشی دینے آئے تھے؟‘‘ سعید کے تیزی سے بولنے پر اس کا منہ ایک دم سے کڑوا ہوگیا۔ انشراح اس ساری گفتگو میں خاموش سامع بنی ہوئی تھی چودھری جہانگیر اور ماورا کی ملاقات کی خبر سے وہ کل ہی آگاہ ہوئی تھی۔ گو کہ یہ خبر نہیں تھی کہ بات کیا ہوئی۔ اس نے صہبا سے کنفرم کرنا چاہا تھا مگر وہ خود بے خبر تھیں اور گائوں میں نکاح کی تقریب کے لیے گئی ہوئی تھیں۔ اب ایشان جاہ یونیورسٹی تو آگیا تھا اور وہ سب اس سے تمام حقیقت جاننا چاہتے تھے۔ انشراح نے کچھ نہیں کہا مگر وہ بھی متجسس تھی۔
’’دراصل مام نے ڈیڈ کو انفارم کردیا تھا کہ کوئی لڑکی ہے جو مجھے چیلنج کر گئی ہے۔ اسی لیے ڈیڈ اس سے ملنے چلے آئے تھے۔‘‘ اس نے گول مول بات کی۔
’’اوہ… یعنی اسے سبق سکھانے آئے تھے۔ یعنی وہ ہار مان کر پیچھے ہٹ گئی۔ تب ہی آج یونی نہیں آئی۔ کہیں مارے ڈر کے چھوڑ تو نہیں دی پڑھائی…؟ چلو اچھا ہوا۔‘‘ عذیر نے ہاتھ جھاڑ کر خس کم جہاں پاک کے محاورے پر عمل کیا۔
’’میرے علم میں نہیں آج وہ کیوں نہیں آئی لیکن وہ ڈر کے پیچھے نہیں ہٹی اس نے ڈیڈ کو چیلنج کیا ہے کہ اپنے بیٹے سے کہیں مجھے مقابلے میں ہرا کر دکھائے…‘‘
’’یہ تو شیرنی نکلی… باپ رے باپ انکل کو چیلنج…‘‘ سب ہی شاکڈ رہ گئے۔
’’یہ تو ہم سب جانتے ہیں کہ ماورا جیسی تیکھی مرچ کتنی جی دار ہے لیکن وہ انکل جہانگیر کے سامنے یوں چیلنج کرے گی یہ ہمارے گمان میں بھی نہیں تھا۔‘‘
’’یا تو وہ ضرورت سے زیادہ بے وقوف ہے یا حد سے زیادہ بہادر… اسے اندازہ نہیں ہے کہ وہ کن لوگوں سے بھڑ رہی ہے۔ پہلے تو صرف میرا مورال ڈائون ہوا تھا لیکن ڈیڈ کو چلینج کرکے اس نے اپنی شامت کو خود دعوت دی ہے… ہار تو اب اس کا مقدر بن گئی ہے۔ ہر مقام پر ذلیل کرکے اسے دو کوڑی کا ثابت نہ کیا تو میرا نام بھی ایشان جاہ نہیں۔‘‘ سب کا متحیر انداز، ماورا کی بہادری، جی داری کی تشہیر اسے ایک آنکھ نہیں بھائی تھی۔ اس کا غصہ دو چند ہوا تھا۔ کل سے اس کے اندر بھانبھڑ جل رہے تھے۔ آیا تو اس سے دو دو ہاتھ کرنے کے ارادے سے تھا لیکن اس کی غیر حاضری نے مزید کھولا دیا تھا۔ اس کے غرانے پر وہ سب لوگ ایک دوسرے کی شکل دیکھنے لگے تھے۔
’’کول ہوجا… یقینا وہ نہیں جانتی وہ کن لوگوں سے الجھ رہی ہے… تو خون نا جلا اپنا۔‘‘ عذیر نے ٹھنڈا کرنا چاہا تو وہ سر جھٹک کر رہ گیا۔
’’خون میرا نہیں اب اس کا جلے گا… جب اس نے خود میرے ہاتھوں ذلیل ہونے کا تہیہ کر رکھا ہے۔ تو ہم تم کون ہوتے ہیں اسے بخشنے والے۔‘‘ ماورا یحییٰ کا چیلنج اس کی مردانگی پر پہلے ہی تازیانہ بن کر لگا تھا اور اب چودھری جہانگیر کے سامنے دوبار چیلنج کرکے اس نے جیسے اپنی موت کو خود دعوت دے دی تھی۔
’’سبق تو اسے واقعی سکھانے کی ضرورت ہے۔ اس کی جرأت کا انعام تو اسے ملنا ہی چاہیے لیکن سوچنا یہ ہے کہ کیسے… اغوأ… اس قسم کی صورت حال میں یہی ہوتا ہے؟‘‘
’’ربش… ایشان جاہ اتنا گرا ہوا نہیں جو پرانے وقتوں کے فارمولے استعمال کرکے اپنی بدکرداری ظاہرکرتے مردانگی کا بھرم رکھے۔‘‘ سہیل کی بات پہ اس کا منہ بن گیا۔
’’پھر…؟‘‘ باقی سب بھی جاننا چاہتے تھے اس کا طریقۂ واردات کیا ہوگا۔
’’جو بھی ہوگا، ہٹ کر ہوگا، ڈونٹ وری۔‘‘ اس تمام عرصہ میں وہ پہلی بار مسکرایا تھا، ساتھ ہی نظر اچانک انشراح پر پڑئی۔ باتیں کرتے وہ سب فراموش کرگئے تھے کہ ان کے درمیان ایک لڑکی بھی موجود تھی۔ اسے احساس ہوا تو وہ بات مختصر کر گیا۔
انشراح کے چہرے پر بھی حیرت و غصہ تھا۔ ماورا یحییٰ کا ذکر اسے ایک آنکھ نہیں بھا رہا تھا۔ ایشان جاہ جس طرح بول رہا تھا۔ وہ لڑکی جس طرح اس کے ذہن پر حاوی ہوگئی تھی۔ یہ سب دیکھ کر اس کے اندر آگ بھڑک اٹھی تھی۔
’’تمہیں کیا ہوا… چپ چپ کیوں ہو؟‘‘ موضوع گفتگو بدلنے کی نیت سے وہ انشراح کو مخاطب ہوا۔
’’سن رہی ہوں… ایک اجنبی اور دو ٹکے کی لڑکی کس طرح تمہارے ذہن پر حاوی ہوگئی ہے۔‘‘ لہجہ کچھ تیکھا تھا اور یہ انداز اس وقت سے تھا جب سے اس نے رشتے سے منع کیا تھا۔ ایشان جاہ لب بھیچ گیا۔ اس کا لب و لہجہ نازیبا ہی لگا تھا۔
’’تم دونوں کی کوئی لڑائی ہوئی ہے کیا؟‘‘ سعید نے ان کے بیچ سرد جنگ محسوس کی تو سوال کیا۔
’’لڑتے دشمنوں سے ہیں، لیکن یہ تو خیر سے کزن ہے… اوکے گائز میں چلتا ہوں ابھی صرف تم سب سے ملنے چلا آیا تھا۔‘‘ گول مول جواب دے کر وہ ایک دم اٹھ کھڑا ہوا۔
’’ایشان… میں بھی آف کررہی ہوں، مجھے بھی ڈراپ کردو۔‘‘ انشراح بھی اٹھ کھڑی ہوئی۔
’’لیکن باہر تو تمہاری گاڑی موجود ہے اور ویسے بھی مجھے دو چار کام ہیں… پھر ہائی وے تک جانا ہے۔‘‘ وہ گلاسز آنکھوں پر چڑھاتا نکل گیا جبکہ انشراح اس کے گریز کو گہری نظر سے دیکھتی رہ گئی تھی۔
ء…ۃ…ء
چودھری بخت دیا اور ماہم حویلی سے کیا گئے اس کی تو جیسے دنیا ہی اندھیر ہوگئی تھی۔
’’فلمی انداز میں جس طرح دوڑ کر محترمہ اپنے کمرے میں گئی ہیں، یقینا بیڈ پر گر کر رونے کا شغف پورا کرکے خود کو فلمی ہیروئن سمجھیں گی، جسے گائوں کے چودھری نے قید کر رکھا ہے…‘‘ دیا کی گاڑی نکلنے پر وہ جس طرح اپنے کمرے کی طرف بھاگی تھی اس پر شاہ زرشمعون کا بے لاگ تبصرہ سمہان آفندی کے پیٹ میں بل ڈال گیا۔
’’توبہ ہے برو… تمہارے اندر یہ حس مزاح بھی ہے… قسم لے لو، نکاح سے پہلے تک تو خود مجھے بھی اندازہ نہیں تھا، اب کھل رہا ہے یہ سب۔‘‘
’’تجھے کہاں سے نظر آئیں گی میری خوبیاں… تیرے پاس فرصت ہو تب ناں۔‘‘ سمہان آفندی جی بھر کے محفوظ ہونے کے ساتھ چھیڑ بھی گیا تو شاہ زرشمون بھی معنی خیزی سے جتا گیا۔
’’نوٹس کررہا ہوں… اکثر و بیشتر… نو بال پہ بائونسر مار رہے ہو مجھے… جب کہ میں پچ پر بھی نہیں ہوں۔‘‘ وہ ہنسی کے درمیان بولا۔
’’تو آجا پچ پہ روکا کس نے ہے… خیر تو یہ ڈیلی سوپ ٹائپ ڈرامہ دیکھ… میں ذرا کھیتوں کی خبر لوں۔‘‘ شنائیہ کے کمرے کی طرف اشارہ کرتے شاہ زرشمعون نکل گیا تو وہ سوچ میں پڑگیا کہ وہ کہاں تک ’’باخبر‘‘ ہے۔ کسی کام کے لیے اسے بلایا گیا تو وہ اس سمت چل دیا۔ جب کہ شنائیہ چودھری ڈھیلے ڈھالے انداز میں ٹہلتی ہوئی ادھر آنکلی۔ انداز سے وہ کوئی مجذوب ہی لگ رہی تھی۔
’’کیا ہوا بھابی بیگم… بھری دوپہر میں یوں بولائی بولائی پھر رہی ہیں سب خیر تو ہے؟‘‘ سمہان کھانے کی ٹیبل پر منتظر بیٹھا تھا۔
اس کا ستا ہوا چہرہ دیکھ کر اسے شاہ زرشمعون کی فلمی منظر کشی یاد آئی تو لب ایک بار پھر مسکرادیے۔ ہال میں داخل ہوتی عیشال نے نزدیک کھڑی شنائیہ اور مسکراتے ہوئے سمہان آفندی کو چبھتی نظر سے دیکھا۔ اس کے ہلتے لب وہ دیکھ چکی تھی لیکن دور ہونے کے باعث اس کی بات سن نا سکی۔ دونوں کی نظر ابھی اس پر نہیں پڑی تھی۔ وہ سستی سے اس کے ساتھ والی چیئر پر بیٹھ گئی، جس کے درمیان مناسب فاصلہ تھا لیکن عیشال جہانگیر کو یہ نزدیکی بھی کھلنے لگی۔ ساری کرسیاں خالی تھیں۔ اسے بھی اس کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھنا تھا۔
’’آپ نے کھانا نہیں کھایا؟ باقی سب تو کھا چکے ہیں۔‘‘
’’ملازمہ آئی تھی بلانے لیکن اس وقت موڈ نہیں تھا۔ اب بھوک محسوس ہورہی ہے۔‘‘
’’ساری چیزیں ٹھنڈی ہوگئی ہیں… رکیں جینا آتی ہے تو گرم کرواتا ہوں آپ کے لیے۔‘‘ میزبانی کے ناتے کہہ گیا۔
’’جینا… بھابی بیگم کے لیے کھانا گرم کروا دیں۔‘‘ اتفاق سے جینا میز صاف کرنے آئی تو سمہان آفندی شنائبہ کی طرف اشارہ کرتے حکم دے گیا۔
’’نہیں… یہ سب رہنے دو اتنا آئلی فوڈ کھا کر تو میرا گلا اور دل ہی بند ہوجائے گا۔ مجھے پاستہ بنوا دو لیکن آلیو آئل میں۔‘‘ ڈائیٹ کانشس شنائیہ چودھری نے حکم صادر کیا تو جینا برتن اٹھا کر سر ہلاتی چلی گئی۔
عیشال جہانگیر تب تک میز کے قریب آچکی تھی۔ میز پر موجود فروٹ باسکٹ سے سیب اٹھا کر کرسی پر بیٹھ گئی۔ اس کے سنجیدہ چہرے اور خائف انداز کو اس نے باریکی سے محسوس کیا۔
’’ٹرائفل کی شکل تو بڑی اوسم ہے۔ گارنیشنگ کمال کی ہے۔‘‘ شنائیہ چودھری کی نظریں ٹیبل پر موجود ٹرائفل بائول پر تھیں۔
’’شکل کی طرح سیرت بھی پیاری ہے بھابی بیگم آپ چکھ کر تو دیکھیں۔‘‘
’’جب اچھی ہے تو مزید لو۔‘‘ اسے تھوڑا سا کھاتے دیکھ کر شنائیہ کو حیرانی ہوئی۔
’’میٹھا زیادہ نہیں کھا سکتا۔ مجبوری ہے۔‘‘ وہ جواب تو شنائیہ کو دے رہا تھا مگر نظریں عیشال جہانگیر پر ہی تھیں۔ جو خاموشی سے سیب کی قاشیں کاٹ رہی تھی۔
’’کھالو… شنائیہ جی اتنا اصرار کررہی ہیں۔‘‘ چھری سائیڈ پر رکھ کر سیب کی قاش اٹھاتے جس طرح مسکرائی، سمہان آفندی ایک نظر دیکھ کے رہ گیا۔
’’میں کھا چکا لیڈیز… آپ لوگ انجوائے کریں۔‘‘ وہ اٹھنے لگا۔
’’میرے آتے ہی تمہیں اٹھنے کی پڑ گئی… ابھی تو بڑے آرام سے بیٹھے تھے۔‘‘ لب و لہجہ طنزیہ ہوا۔
’’اس حویلی میں تم سے زیادہ ایکٹو میں نے کسی کو نہیں دیکھا۔‘‘ شنائیہ چودھری طنز سمجھے بنا عیشال کی بات کو بڑھاتے سمہان کو سراہنے لگی۔
’’دیکھا کتنی تعریف کے قابل ہو۔‘‘ استہزائیہ مسکراہٹ ہونٹوں پر آئی۔
’’یہ تو لوگوں کا حسن نظر ہے جنہیں ہم میں خوبیاں نظر آتی ہیں ورنہ تو ہم بھی عام سے ہی ہیں… خاص تو آپ ہیں جنہوں نے اہم جانا۔‘‘ وہ کب سے گولہ باری کررہی تھی۔ ضبط کرنے کے باوجود وہ ایسا جملہ کہہ گیا جس سے شنائیہ سر ہلا کررہ گئی۔
’’آپ دو لیڈیز اور میں اکیلا… اس لیے میں تو چلا… کھیتوں پر بھی جانا ہے… بھابی بیگم برو کے لیے کوئی میسج دینا ہے تو میں تیار ہوں۔‘‘ وہ شرات سے کہتا وہ کھڑا ہوگیا۔
’’یہ کیا تم نے بھابی بیگم کی رٹ لگا رکھی ہے۔‘‘ وہ بگڑی۔ عیشال جہانگیر نے تیز نظر شنائیہ چودھری پر ڈالی‘ ایک لمحے کو سمہان آفندی بھی چپ ہوگیا۔
’’شنائیہ جی… غالباً آپ بھول رہی ہیں کہ آپ کا تازہ تازہ نکاح ہوا ہے ویرے شاہ سے اور اس نسبت سے آپ ہماری بھابی بیگم ہی ہیں‘ نا صرف میری بلکہ سمہان آفندی کی بھی… آخر کو حویلی میں آپ کے اکلوتے دیور کے فرائض انہوں نے ہی تو انجام دینے ہیں… شہر میں شاید رشتوں کو کسی اور ناموں سے پکارنے کی عادت ہے لیکن گائوں میں حوالوں کو اہمیت دی جاتی ہے… خیر سیکھ جائیں گی آپ بھی… آپ کو سکھانے پڑھانے کے لیے ہی تو دا جان نے حویلی میں مہمان بنایا ہے… حویلی میں کوئی بھی مشکل ہو تو یہ ہمارے سمہان آفندی حاضر ہیں… الہٰ دین کے چراغ سے کچھ کم خوبیاں اپنے اندر نہیں رکھتے… استفادہ کیجیے گا۔‘‘ سمہام آفندی پہ کٹیلی نگاہ ڈال کر شنائیہ کو سناتے وہ ہال سے نکل گئی۔
’’اف یہ حویلی اور اس کی مشکل زندگی۔‘‘ شنائیہ سر پکڑ کر رہ گئی تو سمہان آفندی نے بڑی سنجیدگی سے عیشال کا تعاقب کیا تھا۔
ء…ۃ…ء
جن چیزوں کو برسوں سے سینت سینت کر کلیجے سے لگا کر رکھا گیا ہو، برا وقت پڑنے پر انہیں خود سے جدا کرنے کا سوچیں بھی تو دل تڑپنے لگتا ہے اور جب دل پہ پتھر رکھ کر سر بازار اس انمول شئے کا مول کوڑیوں کی صورت ملے تو دل مزید بوجھل ہوجاتا ہے۔ ناچاہتے ہوئے بھی منزہ زیور بیچنے جیولر کی شاپ پر آگئی تھیں لیکن سنار جس طرح ٹھونک بجا کر محدب عدسے کے پیچھے سے زیور کو پرکھ رہا تھا وہ ساکت بیٹھی تھیں۔ دونوں سیٹ کی مجموعی قیمت اتنی کم بتائی کہ منزہ کچھ پل کو بول ہی نا سکیں۔ ان کے تئیں بھاری سیٹ تھے۔ قیمت اچھی ملنی چاہیے تھی لیکن سنار نے کاروباری دائو پیچ لگاتے پرانے ٹانکے، ہاتھ اور مشین کے زیورات کے وہ وہ نقصان و فوائد گنوائے کہ لاکھوں کا زیور انہیں لوہا پیتل لگنے لگا۔
’’ٹھیک ہے پھر آپ ایک کے ہی پیسے دے دیں۔‘‘ کم پیسوں سے بد دل ہوکر منزہ نے ماورا کے لیے سنبھال کر رکھنے والا سیٹ اٹھا کر رومال میں لپیٹنا شروع کردیا۔
ابھی ماورا کی شادی نہیں ہورہی‘ ضروری بھی نہیں تھا کہ سیٹ بیچا جاتا۔ قیمت اچھی ملتی تو شاید وہ بیچ بھی دیتیں عرصے سے سینت سینت کر زیور اسی لیے رکھا تھا کہ بیٹیوں کے حسن میں اضافہ کرے گا لیکن حالات نے انہیں فروخت کرنے پر مجبور کردیا تھا۔ پیسوں کی اشد ضرورت پر انہیں ہر ہال میں انوشا کا سیٹ تو بیچنا ہی تھا… سیٹ واپس پرس میں جاتے دیکھ کر سنار مزید چند سو بڑھا کر الجھانے لگا لیکن منزہ سرے سے انکاری ہوگئیں تو وہ بھی سیٹ کو مزید پرکھ کر پیسے گننے لگا۔
باہر نکلتی منزہ کی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے۔ قدم لڑکھڑا رہے تھے۔ سیٹ سنار کے پاس تھا اور رقم ان کے پرس میں لیکن دکھ کا احساس ان کی پلکیں بھگونے لگا تھا۔ ایک ضرورت کو پوری کرنے کے لیے برسوں پرانی نشانی کو بازار میں بیچ آنا ایسا ہی تھا جیسے جسم سے کلیجہ نوچ کے نکال لیا گیا ہو۔ کندھے سے لٹکتے پرس کو دبوچے، آنسو بہاتے وہ اپنے دکھ پر اتنا غافل ہوگئی تھیں کہ سامنے سے آتی تیز رفتار بائیک کی زد میں آکر فٹ پاتھ سے جالگیں۔ بائیک والا تو موقع سے فرار ہوگیا لیکن پل بھر میں مجمع جمع ہو گیا روڈ بلاک ہوچکا تھا۔ منرہ حواس سے بیگانہ ہوچکی تھیں۔ پیشانی سے خون بہہ رہا تھا۔
’’کوئی ایمبولینس کو فون کرو… پولیس کیس بن جائے گا۔‘‘ مجمع میں بھنبھناہٹ تھی۔ تب ہی ایک گاڑی نے تیز ہارن دے کر بھیڑ کو منتشر کیا اور گاڑی کافی حد تک منزہ کے قریب آکر رکی تھی۔ گاڑی میں موجود شخص نے حادثہ اپنی آنکھوں سے ملاحظہ کیا تھا۔ لوگوں کے بے حسی کو قہر بھری نظر وںسے دیکھتے وہ منزہ کی سمت بڑھ آیا تھا۔
ء…ۃ…ء
’’عیشال… بیٹا یہ رسٹ واچ سمہان کے کمرے میں رکھ آنا… صبح سے ڈھونڈ رہا ہے۔ وہ تو مجھے ابھی یاد آیا کہ رات میرا سر دباتے ہوئے اس نے گھڑی اتاری تھی اور میرے کمرے میں ہی بھول گیا تھا۔‘‘ وہ کاریڈور سے گزر رہی تھی جب فریال نے آواز دے کر ہاتھ میں موجود گھڑی اس کی سمت بڑھائی۔
’’آپ کی طبیعت خراب تھی چچی جان…؟‘‘ وہ ازراہ ہمدردی استفسار کرنے لگی‘ حویلی میں فریال ان چند لوگوں میں سے تھیں جن کی وہ قدر دان تھی۔
’’بس سر میں درد تھا۔ دوا نہیں لی کہ تمہارے چچا جان مذاق اڑاتے ہیںکہ ذرا سی چھینک آئے تو دوا کھا لیتی ہوں… سمہان کمرے میں آیا تو سر دبانے لگا تھا۔‘‘ فریال کی عادت تھی ہر بات کو پورے سیاق و سباق اور مزاح کے رنگ میں لپیٹ کر سناتی تھیں۔ وہ بے ساختہ مسکرادی۔
’’خیال رکھا کریں اپنا… سارا دن کاموں میں مصروف رہتی ہیں۔‘‘ اور واقعی یہ سچ ہی تھا حویلی میں فریال اور فائزہ ہی زیادہ الرٹ رہتی تھیں، لڑکیوں کو کم ہی زحمت دیتی تھیں۔
’’ذمہ داریاں ہیں بیٹا… تم یہ اس کے کمرے میں رکھ آئو… ادھر ادھر رکھ کر میں پھر بھول جائوں گی۔‘‘ فریال مسکرا کر پلٹ گئیں تو وہ کئی ثانی رسٹ واچ کو ہتھیلی پہ لیے دیکھتی رہی۔ اس کے پاس ہر برانڈ کی رسٹ واچ تھی لیکن وہ زیادہ تر یہی پہنتا تھا۔ شاید بہت پسند تھی۔
رسٹ واچ کو دیکھتے احساسات جانے کس نہج تک جا پہنچے تھے کہ وہ بے ساختہ اپنی بائیں کلائی پہ باندھ کر مختلف زاویے سے اپنی کلائی کو دیکھنے لگی۔ لب آپ ہی آپ مسکرانے لگے تھے۔ یہ سچ تھا کہ اسے دیکھ کر، اس کے ہونے کا احساس کرتے ایک سکون اندر پھیل کر اسے ’’مطمئن‘‘ رکھتا تھا لیکن خلاف توقع بات یا سمہان آفندی کی ذراسی بھی توجہ کہیں اور دیکھ کر وہ اس حد تک جلن محسوس کرتی تھی کہ پھر زبان سے آگ ہی نکلتی تھی۔ وہ شخص تصور میں بھی خود سے دور لگتا تو وہ الجھنے لگتی تھی۔
’’ارے واہ… انٹلکچوئیل بندے کی لاپروائیاں۔‘‘ اس کا خیال تھا روم لاک ہوگا وہ بعد میں رسٹ واچ کسی اور مڈ بھیڑ پر دے دے گی لیکن دروازے کو ہاتھ لگایا تو وہ کھلتا چلا گیا۔
کمرے میں قدم رکھتے ہی وہ لڑکھڑا کر دروازے کی چوکھٹ پر ہاتھ رکھ گئی۔ لڑکھڑانے کی وجہ گہری تاریکی تھی یوں کہ وہ روشنی سے آئی تھی تو کئی لمحے پلکیں جھپک جھپک کر آنکھوں کو اس تاریکی کا عادی بنانے لگی۔ دوسرا پیر بھی اندر رکھ کر اس نے دائیں طرف دیوار پر ہاتھ رکھ کر سوئچ بورڈ ٹٹولنے کی کوشش کی اور بٹن آن ہوتے ہی کمرہ روشن ہوگیا تھا۔
’’اللہ کی پناہ‘ پہلے بجلی بچائو مہم پر عمل کرتے کمرا مکمل تاریک اور بٹن دباتے جیسے سورج اتر آیا ہو۔‘‘ سفید روئی کے گالوں جیسا دبیز قالین، سفید فرنیچر اور سفید ہی ریشمی پردے… بالکنی کا سلائیڈ ڈور کھلا ہوا تھا۔ جس کے باعث سفید ریشمی پردہ ہوا کے دوش پہ لہرا رہا تھا۔ بالکنی میں موجود جھولا۔ ایک ایک شے کو دیکھتی وہ عش عش کررہی تھی۔ قدم بے ساختہ بالکنی میں جھولے کی طرف اٹھ گئے اور وہ فوراً جھولے پر بیٹھنے سے خود کو روک نہ سکی… بالکنی کے اس پار دور تک پھیلی ہریالی کو دیکھنے میں وہ اس حد تک مگن تھی کہ ’’کھٹ‘‘ سے واش روم کا دروازہ کھلنے کی آواز پر اس نے ناگواری سے اس خوب صورت منظر سے نظر موڑ کر بے توجہی سے دوسری سمت دیکھا اور لبوں سے مسکراہٹ ہوا ہونے لگی۔
بلیک جینز اور بنیان میں ملبوس گیلے بالوں کو تولیے سے رگڑتا وہ حیران نظروں سے روشن کمرے کو دیکھ رہا تھا اور وہ سامنے ہی تو ہونق بنی بیٹھی تھی۔
’’تم…!‘‘ وہ خاصا حیران ہوا۔
’’وہ… میں…‘‘ وہ اپنی جگہ چور سی بن گئی‘ جھولے سے اتر کر اس کے کسرتی جسم سے نظر پھیر گئی تو وہ تولیہ رکھ کر بیڈ پہ رکھی وہائٹ شرٹ اٹھا کر پہننے لگا۔
’’اس دن انٹیئریئر دیکھنے کی بات کی تھی… غالباً وہی چیک کرنے آئی ہو… دیکھ لو تسلی سے۔‘‘ اس کی جھجک دیکھ کر وہ نارمل انداز میں گفتگو کرنے لگا، لیکن وہ یوں بلا اجازت آنے اور پکڑے جانے پر خاصی شرمسار نظر آرہی تھی۔
’’نہیں تو… چچی جان نے کہا تم کھیتوں میں جاچکے ہو انہوں نے مجھے رسٹ واچ دے کر کہا کہ تمہارے کمرے میں رکھ دوں تو… میں وہی رسٹ واچ رکھنے آئی تھی۔‘‘ وہ گڑبڑا کر جھولے سے اتر کر چند قدم قریب آگئی تھی۔ ریسٹ واچ دینے کے لیے اس نے ہاتھ آگے بڑھایا تو کلائی میں بندھی گھڑی دیکھ کر مزید خفت کا شکار ہوئی۔
’’جڑا ہوا ہے میرا وقت… تیرے وقت کے ساتھ
بندھی ہوئی ہے تیرے ہاتھ پر گھڑی میری…‘‘
شرٹ کے بٹن بند کرتا وہ مرر کے آگے کھڑا بال بناتے اس کی کلائی کی طرف دیکھ کر بے ساختہ بڑبڑایا۔
’’کچھ کہا تم نے…؟‘‘ وہ دوری کے باعث ٹھیک سے سن نا سکی۔
’’میری رسٹ واچ پر قبضہ جما کر تم مجھے دینے آئی تھیں؟‘‘
’’تھوڑی دیر کو پہن لی تو درد اٹھ رہا ہے… یہ لو اپنی رسٹ واچ۔‘‘ آج شاید خجالت کا دن تھا خفیف سی ہوکر وہ جلدی سے رسٹ واچ اتارنے لگی۔ آستین فولڈ کرتے زیرلب مسکراتے وہ جوتے پہننے کے خیال سے بیڈ پر بیٹھ گیا۔ اس کے چہرے پر پہلی بار اس قسم کے تاثرات دیکھنے کو ملے تھے۔
’’پکڑو…‘‘ وہ منہ بگاڑ کر گھڑی اس کی طرف بڑھا گئی۔
’’مہربانی۔‘‘
’’جب تک چاہو کمرے پر غور و خوض کرسکتی ہو… میں نکلتا ہوں۔‘‘ وہ نکلنے کے لیے پر تولنے لگا۔ شاید اس کی موجودگی میں وہ زیادہ دیر رکنا نہیں چاہتا تھا۔ اس نے پرفیوم اسپرے کیا تو کمرے میں بڑی سحر انگیز خوشبو پھیل گئی تھی۔
’’سمہان…‘‘ وہ دہلیز سے چند قدم پیچھے ہی تھا۔ جب پیچھے سے اس نے آواز دی۔
’’حکم…‘‘ وہ ایڑیوں کے بل گھوما۔
’’مجھے سیم ایسا ہی روم اپنے لیے چاہیے… تیار کرکے دے سکتے ہو؟‘‘ اس کے روم سے وہ از حد متاثر ہوئی تھی۔ اپنا نفیس سا کمرہ اس کے مقابل اب بیکار لگ رہا تھا۔ تب ہی فرمائش کر گئی۔
’’ہوجائے گا۔‘‘ وہ تقاضہ سن کر ہولے سے مسکرایا۔
’’کب…؟‘‘ وہ بے صبری سے سوال کر گئی۔ نظریں دیواروں پر آویزاں پینٹنگز پر تھیں جو زیادہ تر سفید تھیم پر ہی مشتمل تھیں۔ وہائٹ سوٹ اور نیٹ کے ریڈ دوپٹے میں کمرے کے بیچوں بیچ کھڑی وہ کھلی کھلی لگ رہی تھی۔
’’اللہ نے چاہا تو بہت جلد…‘‘ بھرپور نظروں سے دیکھتے گویا ہوا۔ جانے کیا تھا لہجے میں کہ وہ چونک کر دیکھنے لگی۔ سوال چنا، جواب گندم۔
’’چلتا ہوں…‘‘ اس کے ہونق چہرے پہ ایک مسکراتی نگاہ ڈالتے گلاسز اٹھا کر وہ نکل گیا تھا۔
وہ اس کے کمرے میں موجود تھی۔ اسے جانے کا کہتا تو یہ غیر اخلاقی حرکت ہوتی تب ہی عجلت میں خود نکل گیا۔ مبادا کوئی دیکھ نا لے۔
’’او شٹ…‘‘ وہ آدھے سے زیادہ کاریڈور طے کر گیا تھا تب ایک دم یاد آیا تو لب دانتوں تلے دبا کر قدم روک لیے۔ اگلے ہی پل اس نے پلٹ کر دوڑ لگائی تھی۔
روم کے بند دروازے کو اس نے عجلت میں کھولا تو کمرے میں مکمل اندھیرا دیکھ کر یقین ہوگیا کہ وہ کمرے سے جاچکی ہے لیکن وہ پھر بھی تیزی سے بک ریک کی طرف بڑھا اور اس کی رکی سانس جیسے بحال ہوگئی۔
’’شکر… اس نے نہیں دیکھا۔‘‘ پلٹ کر ریک سے ٹیک لگاتے اس نے بے ساختہ شکر ادا کیا۔
’’جس دن خبر ہوگئی، حویلی کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گی محترمہ…‘‘ شریر مسکراہٹ کے ساتھ بے ساختہ مسکرایا تھا۔
ء…ۃ…ء
منزہ کی بے ہوشی طویل ہورہی تھی گو کہ چند ایک خراشوں اور ماتھے پر چوٹ کے علاوہ بڑے حادثے سے بچ گئی تھیں لیکن ان کی گرتی صحت کے طفیل بے ہوشی تشویشناک بن رہی تھی۔ ڈاکٹر ہوش میں لانے کے جتن کررہے تھے۔ بینچ پر بیٹھا ایشان جاہ بھی فکر مند تھا۔ خاتون کون تھیں اور کہاں سے آئی تھیں…؟ وہ لاعلم تھا۔ اپنی ضروری چیزیں لے کر وہ پارکنگ سے گاڑی نکال رہا تھا۔ جب خاتون کی زودرنجی پر سرسری نگاہ پڑی تو وہ عجیب سے احساسات میں گھر گیا تھا۔ شکل و حلیے سے امیری نہیں جھلک رہی تھی تو کہیں سے بھکارن بھی نہیں لگ رہی تھیں لیکن یوں سر راہ آنسو بہاتے دیکھ کر اسے بہت عجیب لگا تھا۔ ابھی وہ ان کے رونے کے اسباب کے بارے میں ہی سوچ رہا تھا کہ پلک جھپکتے بائیک والے کی ٹکر سے وہ فٹ پاتھ سے جا ٹکرائیں۔ لوگوں کی بے حسی پر اسے جی بھر کے غصہ آیا تھا۔ تب ہی وہ انہیں اٹھا کر ہاسپٹل لے آیا اور اب ان کی بے ہوشی ایک معمہ بن گئی تھی لیکن جلد ہی نوید ملی کہ وہ ہوش میں آچکی ہیں۔
پُرسکون سانس لے کر وہ ٹیبل پر رکھے منزہ کے پرس کی طرف متوجہ ہوا۔ پرس سے آتی رنگ ٹون پر وہ ایک لمحے کو شش و پنج میں مبتلا ہوا کہ کھول کر دیکھے یا نہ دیکھے… یقینا پرس کے اندر موجود ان کا سیل فون بج رہا تھا۔ ان کی فیملی کی پریشانی کے خیال سے اس نے پرس میں سے موبائل نکالنے کا ارادہ کر ہی لیا۔ فون نکالنے تک کال مس ہوگئی تھی۔ نام کی جگہ ہوم لکھا دیکھ کر اندازہ ہوگیا کہ ان کے گھر والے فکر مند ہیں۔ وہ کال ملانے ہی لگا تھا جب ایک بار پھر کال آنے لگی۔
’’ہیلو… اماں آپ ٹھیک تو ہیں… اور کہاں ہیں آپ…؟ کب سے کال کررہی ہوں… ریسیو کیوں نہیں کررہی تھیں۔ فکر ہورہی ہے مجھے آپ کی۔‘‘ کال پک کرتے ہی بے چین اور فکر مند لہجہ سماعت سے ٹکرایا۔
’’آپ کی والدہ کا ایکسیڈنٹ ہوگیا ہے۔ بے ہوش ہوگئی تھیں لیکن اب ٹھیک ہیں… ڈاکٹر ٹریٹمنٹ کررہے ہیں۔‘‘
’’ایکسیڈنٹ…! کہاں… کیسے… اماں کہاں ہیں… ان کا فون آپ کے پاس کیسے؟‘‘ اجنبی آواز پر ماورا یحییٰ بدحواس ہوکر ایک ساتھ کئی سوال کر گئی۔
’’انہیں ہاسپٹل لے کر آیا ہوں… آپ کی کال آنے لگی تو ریسیو کرلی تاکہ اطلاع دے سکوں۔‘‘ وہ نرمی سے معلومات دے رہا تھا۔
’’کس ہاسپٹل میں ہیں اماں… میں آرہی ہوں انہیں لینے۔‘‘ ہاسپٹل کا نام سن کر وہ تیزی سے کال کاٹ گئی۔ فون رکھنے کی غرض سے ایشان جاہ نے پرس میں ہاتھ ڈالا اور بے اختیاری میں اس کے ہاتھ رومال لگ گیا۔ زیور اور پیسے پرس میں ہی گرچکے تھے اور وہ ان کو عجیب نظروں سے دیکھ رہا تھا۔
’’ان محترمہ کے رونے کی وجہ یہی زیور اور پیسے تو نہیں تھے…؟‘‘ وہ سوچ کر رہ گیا تھا۔
ء…ۃ…ء
’’کیا ہوا؟ کس سے ہاسپٹل کی بات کررہی تھیں… اماں ٹھیک تو ہیں…؟‘‘ انوشا بھی اسکول سے لوٹ آئی تھی۔ ماورا نے اسے بتایا تھا کہ منزہ زیور بیچنے کے ارادے سے نکلی تھیں۔
منزہ کو نکلے کافی دیر ہوگئی تھی۔ اسی لیے وہ بار بار کال کر رہی تھی لیکن کال ریسو نہیں ہورہی تھی اور جب ہوئی تو اجنبی مردانہ آواز نے جو نیوز دی اس نے مزید بدحواس کردیا تھا۔
’’اماں کا ایکسیڈنٹ ہوگیا ہے… چادر اوڑھو جلدی… ہم ہاسپٹل چل رہے ہیں۔‘‘ عجلت میں الماری سے انوشا کی چادر نکال کر اس کی طرف اچھالتی وہ اپنی چادر اوڑھنے لگی۔
’’کیسے ایکسیڈنٹ ہوا… چوٹ زیادہ لگی ہے کیا؟‘‘ انوشا تیزی سے چادر لیتے دھڑکتے دل سے استفسار کررہی تھی۔
’’تفصیل کا پتا نہیں… تمہارے پاس کچھ پیسے ہیں؟‘‘ بیمار ماں پہلے ہی موت و زندگی کی کشمکش میں تھی۔ ایسے میں ان کا ایکسیڈنٹ… ماورا یحییٰ کو شدت سے رونا آرہا تھا لیکن وہ ضبط کیے حواس سلامت رکھے اپنا پرس چیک کرتی انوشا سے استفسار کررہی تھی۔
’’ہاں… آج ہی سیلری ملی ہے… میں پرس لے کر آتی ہوں۔‘‘
’’یہ لو…‘‘ انوشا پرس سے لفافہ نکال کر اس کی طرف بڑھا گئی۔
’’اپنے پاس ہی رکھو… ضرورت پڑی تو نکال لینا۔‘‘ وہ تیزی سے تالا لگاتی گویا ہوئی۔ دونوں تیزی سے گھر سے نکل کر اسٹاپ کی طرف بڑھ رہی تھیں۔
’’اللہ خیر کرے… میرا دل ہول رہا ہے‘ کیسی آزمائش ہے جو ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی… ہماری پیاری اماں…‘‘ رکشہ میں بیٹھتے انوشا کا دل اتنا گداز ہوا کہ آنسو بہانے لگی۔ یہ جان کر کہ منزہ شادی کے لیے زیور بیچنے گئی تھیں اور حادثہ ہوگیا اسے اپنی ذات مجروم لگنے لگی… پہلے وقت پر کمیٹی نہ ملنے کی ٹینشن، کمیٹی ملی تو پیسوں کی چوری کا دکھ… اب زیور بیچنے نکلیں تو ایکسیڈنٹ ہوگیا… اسے رہ رہ کے ماں کی بے بسی پہ رونا آرہا تھا۔
’’پریشان نہ ہو… بہتری کی دعا کرو… اللہ رحم کرنے والا ہے۔‘‘ آنسو چادر میں جذب کرتے ماورا یحییٰ کا لہجہ گلو گیر ہوا۔
انوشا، منزہ کی بیماری سے ابھی تک لاعلم تھی۔ اگر جو باخبر ہوجاتی تو جانے کیا ہوتا… وہ بہت چھوٹے دل کی مالک تھی، تب ہی منزہ نے اس سے چھپائے رکھنے کی تلقین کی تھی۔ دونوں ماں کی خیریت کے لیے دعا گو تھیں اور راستہ طویل ہوتا جارہا تھا۔
ء…ۃ…ء
’’شنائیہ… بیٹا کچن میں جاکے ذرا جینا یا صغراں کو اطلاع دے دو کہ شہر سے شاہ کے مہمان آئے ہیں… جلدی سے کچھ اہتمام کرکے گیسٹ روم میں بھجوا دے۔‘‘ زمرد بیگم نماز کے لیے کمرے میں جارہی تھیں جاتے ہوئے انہوں نے شنائیہ چودھری کو ذمہ داری سونپ دی۔ وہ بھی کمرے کی ایک ایک چیز کو حفظ کرکے بور ہوچکی تھی۔ بوریت سے بچنے کو لائونج میں آئی تو زمرد بیگم کا پیغام سن کر اس کا ذہن کام کرنے لگا۔
’’جی دی جان… ابھی کہہ آتی ہوں۔‘‘ سعادت مندی قابل دید تھی۔
’’جیتی رہو… بعد میں میرے کمرے میں آجانا… باتیں کریں گے۔‘‘ حویلی میں سب ہی اس کے نک چڑھے انداز سے واقف تھے تب ہی زمرد بیگم نرمی سے کمرے میں آنے کا کہہ کر چلی گئی تھیں۔ وہ بھی پیغام کی ترسیل کے لیے کچن کی جانب چل دی۔
’’کچھ چاہیے تھا بی بی جی؟‘‘ جینا اسے دیکھ کر الرٹ ہوئی‘ سب کو ہی اس کی ڈانٹ پھٹکار سے ڈر لگتا تھا۔ نازک مزاجی کے باعث ہر کوئی اس سے محتاط ہی رہتا تھا کہ وہ لحاظ کیے بنا عزت کا جنازہ نکال دیتی تھی۔
’’مجھے کچھ نہیں چاہیے… بس تمہاری مدد کرنے آئی ہوں… شہر سے تمہارے شاہ صاحب کے گیسٹ آئے ہوئے ہیں… دی جان نے ان کی خاطر مدارت کے لیے کہا ہے…‘‘ جینا تو اس کی مدد کی بات سن کر ہی حیران ہوگئی، گیسٹ کا سن کر تیزی سے ڈیپ فریزر سے فش کے پیکٹ نکال لیے اور پھر مٹن کی تلاش میں لگ گئی۔
’’یہ کیا… اسمیل سے ہی وومیٹنگ ہوجائے گی مجھے…‘‘ ناگواری کا اظہار کرکے وہ دوپٹا ناک پر رکھ گئی۔
’’بی بی جی فش ہے اور یہ مٹن…‘‘ جینا حیرانگی سے اس کے انداز ملاحظہ کررہی تھی۔
’’رکھو واپس انہیں اور چکن نکال کر لائو۔‘‘ دوپٹے کو گلے میں ڈال کر پیچھے سے گرہ لگاتی وہ مستعد کھڑی ہوگئی۔
’’لیکن…‘‘ جینا تذبذب کا شکار نظر آرہی تھی لیکن وہ مالکن تھی اور اب تو حویلی کی بہو بھی بن گئی تھی۔ سو اس کی بات سے انحراف ناممکن تھا۔
’’ایک چولہے پہ پاستا بوائل کرنے کے لیے رکھو… دوسرے میں یہ رکھو اور یہ فرائی کرو… ساتھ ہی انڈے بوائل کرلو۔‘‘ وہ کچن کیبنٹ سے اپنی چیزیں نکال کر شیلف پہ رکھنے لگی گو کہ یہ نقصان کا سودا تھا لیکن اسے مقابلے میں نقصان بھی منظور تھا۔ جینا پریشان سی اس کے حکم کی تعمیل کرتے چکن الگ کرنے لگی۔ شنائیہ چودھری سبزیوں کی کٹنگ کرکے چلی سوس اور سویا ساس نکال رہی تھی۔ جینا تو آنے والے لمحے کا سوچ کر پریشان تھی۔
’’اف تھک گئی میں… یہ سب دے کر آنے کے بعد ذرا لیموں پانی بنا دو میرے لیے… چکر آنے لگے کھڑے کھڑے…‘‘ وہ بے دم سی ہوکر کرسی پر بیٹھ گئی تو جینا سر ہلاتی ٹرالی گھسیٹتی باہر نکل گئی تاکہ کسی مرد ملازم کے حوالے ٹرالی کرسکے۔ حویلی کی عورتوں کی طرح حویلی کی ملازمائوں کو بھی غیر مردوں کے سامنے آنے کی اجازت نہیں تھی، جس پر ملازمائیں پُرسکون رہتی تھیں کہ حویلی والے ملازمائوں کی عزت کو بھی اہمیت دیتے تھے۔
ء…ۃ…ء
وہ بل پے کرکے آیا تو منزہ لڑکھڑاتی ہوئی باہر نکلیں۔
’’آنٹی آپ آرام کرتیں ناں… مجھے آپ کی کنڈیشن ٹھیک نہیں لگ رہی۔‘‘ ایشان جاہ نے آگے بڑھ کر انہیں تھام لیا۔ پیروں پر خراشیں آئی تھیں جب کہ ماتھے پر بینڈیج بندھی ہوئی تھی لیکن منزہ گھر جانے پر بضد تھیں۔
’’بہت دیر ہوگئی ہے… مجھے گھر جانا ہے۔ تمہارا بہت شکریہ بیٹا‘ میں ٹھیک ہوں۔‘‘ ہوش میں آنے کے بعد سے منزہ اسے کافی دیر سے ہاسپٹل میں دیکھ رہی تھیں۔ نرس کی زبانی خبر ہوئی کہ وہ ہی انہیں ہاسپٹل لایا ہے۔ ایکسیڈنٹ کے مناظر انہیں یاد تھے۔ ایشان جاہ کی مہربانی پر وہ اس کی شکر گزار تھیں۔ جانے کیوں اس کا چہرہ انہیں جانا پہچانا لگ رہا تھا۔
’’وہ… میرا پرس…؟‘‘ دفعتاً انہیں دھیان آیا تو فکر مندی سے اپنے بازو کو دیکھنے لگیں۔
’’جی یہ رہا…‘‘ ایشان جاہ نے پرس ان کے سامنے کیا تو ان کے چہرے پہ پھیلتے سکون کو وہ کوئی نام نہ دے سکا۔
’’بہت شکریہ بیٹا…‘‘ وہ ممنون ہوئیں۔ سرعت سے انہوں نے پرس چیک کیا‘ پیسوں اور زیور کی موجودگی پر مطمئن ہوکر وہ پھر اٹھنے کی کوشش کرنے لگیں۔
’’آپ کی بیٹی، آتی ہی ہوگی… اس کی کال آرہی تھی تو میں نے بتا دیا… انتظار کرلیں تھوڑا…‘‘
’’نہیں بتانا تھا۔ پریشان ہوگئی ہوں گی دونوں۔‘‘ منزہ افسردگی سے زیرلب گویا ہوئیں۔
حالت کے پیش نظر وہ اٹھنے کے قابل بھی نہیں تھیں۔ ڈاکٹر ڈرپ لگا رہے تھے لیکن انہوں نے سختی سے انکار کرددیا تھا۔ مزید کئی گھنٹے ہاسپٹل میں رہ کر بل نہیں بڑھا سکتی تھیں۔ ان کی بڑبڑاہٹ پر ان کے چہرے سے ہوتی نظر سامنے اٹھی تھیں۔ دو لڑکیاں سامنے سے چلی آرہی تھیں۔ جانے کیوں اسے نظروں کا دھوکا لگا لیکن جب شکلیں واضح ہونا شروع ہوئیں تو اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی۔
’’ماورا یحییٰ…!‘‘ استعجابیہ انداز میں اس کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔ وہ ایک نظر بے حال بیٹھی منزہ پر ڈال کر ایک دم کھڑا ہوا۔
’’اماں… آپ ٹھیک تو ہیں، زیادہ تو نہیں لگی…؟‘‘ دونوں ارد گرد سے غافل ماں کی طرف متوجہ ہوکر انہیں تھام گئیں۔ انوشا تو اماں کے ساتھ بنچ پر ہی بیٹھ گئی تھی۔ جب کہ ماورا اب بھی فکر مند سی کھڑی تھی۔ انہیں ہشاش بشاش دیکھ کر دونوں کی جان میں جان آئی۔ ایشان جاہ قدرے الگ ہوکر بھیڑ کا حصہ لگ رہا تھا۔
’’میں ٹھیک ہوں… بس معمولی سی چوٹیں ہیں۔ تم لوگوں کو گھر سے نکلنے کی کیا ضرورت تھی۔ میں آجاتی ناں گھر۔‘‘ دلاسہ دے کر اس حالت میں بھی وہ بیٹیوں کے لیے متفکر تھیں۔ ان کے سوال نظر انداز کرکے انوشا منزہ کے ہاتھ سہلانے لگی۔
’’میری ہی غلطی تھی کہ بائیک کے سامنے آگئی لیکن اس بچے نے مدد کی اور ہاسپٹل لے آیا…‘‘ منزہ نے کہتے ہی ہاتھوں سے اشارہ کیا تو انوشا کی نظریں بھی ویل ڈریسڈ بندے کی طرف اٹھیں۔
’’تھینک یو سو مچ سر…‘‘ انوشا شکر گزار تھی… ماورا کی پیٹھ اس طرف تھی اس نے گردن موڑ کر ’’بندے‘‘ کو دیکھنا چاہا اور ایشان جاہ کو سامنے دیکھ کر وہ چونک گئی۔
’’آپ نے ہاسپٹل پہنچایا… یا آپ نے ہی ایکسیڈنٹ کیا…؟‘‘ وہ تلخی سے استفسار کرنے لگی‘ انوشا نے چونک کر اس کے بگڑے نقوش دیکھے۔ اس کے یوں بھڑکنے کی وجہ سمجھ نہیں آئی‘ منزہ بھی تحیر میں مبتلا ہوئیں۔ ایک اجنبی سے وہ کس طرح بات کررہی تھی۔
’’اپنی والدہ سے پوچھ لیں‘ میری باتوں پر تو آپ نے ویسے بھی اعتبار نہ کرنے کی قسم کھا رکھی ہے۔‘‘ دو قدم آگے آکر وہ ہولے سے مسکرایا۔
’’ماورا… بتایا تو ہے میں بائیک کے آگے آگئی تھی…‘‘ منزہ بیٹی کو فہمائشی نظروں سے دیکھ کر رہ گئیں۔ انوشا نے بھی نظروں ہی نظروں میں چپ رہنے کا اشارہ کیا۔ جبکہ وہ ماں کے ساتھ ہونے والے حادثے کا ذمے دار اسے گردان رہی تھی۔
’’انوشا… تم اماں کے پاس رہو میں بل بھر کے آتی ہوں۔‘‘ اسے مکمل نظر انداز کرکے وہ انوشا سے مخاطب ہوکر آگے بڑھنے لگی۔
’’بل پیڈ ہے۔ دوائیں آنٹی کے پرس میں رکھ دی ہیں میں نے… ٹائم پر دے دیجیے گا۔‘‘ اس کی آواز پر اس کے بڑھتے قدم تم گئے۔
’’بل آپ نے کیوں بھرا… کتنا بل ہے؟‘‘ ناگواری سے کہہ کر وہ پرس ٹٹولنے لگی۔
’’خبر نہیں تھی کہ آپ بل بھریں گی آکر… ورنہ یہ گستاخی نہ کرتا…‘‘ وہ مسکرا رہا تھا اور ماورا بل کھا کے رہ گئی۔
’’پیسے تو تمہیں لینے پڑیں گے بیٹا… یہ ہمارے اصولوں کے خلاف ہے۔‘‘ منزہ کو بھی خیال آیا۔
’’جذبہ ہمادری کی کیا قیمت ہوتی ہے آنٹی… اگر آپ کی نظر میں اس بے لوث جذبے کی کوئی قیمت ہے تو دے دیں۔‘‘ وہ انہیں لاجواب کر گیا لیکن ماورا یحییٰ کا خون کھولنے لگا تھا۔
’’ہر جگہ دھن دولت کی نمائش اچھی نہیں ہوتی یہ کچھ پیسے ہیں اگر کم ہوں تو بتادیں۔‘‘ اس نے ہزار کے دو نوٹ نکال کر اس کی سمت بڑھائے جب کہ اس کے انداز کی تلخی اور غصے کو انوشا کے ساتھ منزہ نے بھی محسوس کیا تھا۔
’’آنٹی آپ خاصی سمجھدار ہیں انہیں سمجھائیں اور آئیں میں آپ لوگوں کو ڈراپ کردیتا ہوں۔‘‘ منزہ کو ثالث بناکر وہ آفر کر گیا تو ماورا کے سر سے لگی اور پیروں تلے بجھی۔
’’مسٹر ایشان جاہ… میں پہلے ہی آپ سے کہہ چکی ہوں کہ ہمدردی کا رشتہ کہیں اور قائم کریں۔ ہیرو بننے کی ناکام اداکاری کہیں اور کیجئے گا… بڑی مہربانی ہوگی۔‘‘ وہ اس قدر کڑوے لہجے میں بولی کہ انوشا اس کے منہ سے نام سن کر شاکڈ رہ گئی۔ منزہ کا چکراتا ذہن بھی کام کرنے لگا۔
’’یہ تم لوگ جانتے ہو ایک دوسرے کو…؟‘‘ منزہ نے حیرت سے سوال کیا۔ ماورا لب بھینچے کھڑی رہی۔ اسی کے سبب تو وہ تعلیم کو خیر باد کہہ کر پابند سلاسل ہوگئی تھی اور وہ مسیحا سامنے کھڑا تھا۔ اسے بے حد کوفت ہو رہی تھی۔
’’جی آنٹی… ماورا میری کلاس فیلو ہیں… مجھے ایشان جاہ کہتے ہیں۔‘‘ وہ یوں دوستانہ انداز میں تعارف کروا رہا تھا۔ جیسے بہت الجھے مراسم رہے ہوں۔ انوشا تو حیرانی سے باری باری دونوں کے چہرے دیکھنے لگی۔ منزہ لڑکھڑا کر بینچ پر بیٹھ گئیں۔
’’ایشان جاہ… چودھری جہانگیر کا بیٹا…؟‘‘ وہ حیرت سے اس کی شکل دیکھ رہی تھیں۔ اب سمجھ آیا کہ یہ چہرہ کیوں آشنا لگ رہا تھا۔
ء…ۃ…ء
’’نکاح میں شرکت نہ کرنے کا بہت افسوس ہوا لیکن سکھر میں عزیز کی ڈیتھ ہوگئی تو جانا پڑا۔‘‘ شاہ زرشمعون کے چند بے تکلف دوست آئے ہوئے تھے۔
’’اب تمہارے افسوس پر میں دوبارہ نکاح تو نہیں پڑھوا سکتا…‘‘ شاہ زرشمعون نے بے تکلفی سے کہا۔
’’پڑھوا لے… کم از کم تیرے نکاح کی بریانی نہ کھانے کا افسوس تو کم ہوگا۔‘‘ دوسرے نے افسردگی سے کہا تو وہ بھی مسکرا دیا۔
’’آجائو… تم لوگوں کا گلہ دور کرنے کی پوری کوشش کی گئی ہے۔‘‘ ملازم کچھ دور میز پر لوازمات سجا کر اسے اشار کر گیا تو شاہ زرشمعون نے انہیں میز کی طرف چلنے کا اشارہ کیا تو وہ سب اٹھ کر میز تک آگئے۔
’’بھوک تو بڑی زوروں کی لگ رہی ہے۔ ککڑ شکڑ، سجی وغیہ بنوالے ہمیشہ کی طرح…؟‘‘ تیسرے نے ندیدے پن سے ڈشز کے کور ہٹا کر دیکھنا شروع کردیا۔
’’یہ…!‘‘ کسی کی صدمے سے چور آواز نکلی‘ ان کی حیرت دیکھ کر شاہ زرشمعون نے چونک کر ڈشز کی شکل دیکھی۔ چکن ویجیٹیبل پاستا، منچورین، ویجیٹیبل سینڈ وچز اور بوائل انڈے پر چھڑکی ہوئی کالی مرچ دیکھ کر اسے اپنی آنکھوں پر خود بھی یقین نہیں آیا۔
’’تیتر، بٹیر کھانے والے اب بوائل انڈے کھائیں گے…؟‘‘ کسی نے دلسوز لہجے میں دہائی دی۔
’’ہم عرصہ سے شہر میں رہ رہے ہیں، لیکن ہم پر شہری رنگ نہ چڑھا۔ تو شہری بھابی لاتے ہی رنگ بدل گیا۔‘‘ ڈرامائی انداز میں کسی نے شرم دلائی اور اس کا چہرہ سرخ ہوگیا۔
’’تیسرے نے مینو سے بددل ہوکر کولڈ ڈرنگ اٹھائی ہی تھی مگر اگلے ہی لمحے کلی کرنے کو دل چاہا۔
’’اے بھائی… نکاح میں گفٹ نا لانے کا بدلہ اب تو ہمیں ڈائٹ کوک پلا کر لے گا…؟‘‘ برا سا منہ بنا کر بوتل ایک طرف رکھ دی’ شاہ زرشمعون کو دوستوں کے سامنے شرمندگی کا سامنا تھا۔ یہ کارستانی کس کی ہے وہ سمجھ چکا تھا۔ لب بھینچ گئے تھے۔ شہر تو تھا نہیں جو آرڈر پہ ہوم ڈلیوری ہوجاتی۔
مزید انتظار کرکے تواضع کا ایک اور موقع دینے کا موڈ کسی کا نہیں تھا۔ وہ سب بے دلی سے جانے لگے۔ حویلی میں شاید یہ پہلا موقع تھا جو مہمان بنا کھائے پیے چلے گئے تھے۔ وہ بھی شہر سے آئے مہمان… اس کا چہرہ مارے غصے کے لال ہوگیا تھا۔
ء…ۃ…ء
’’سر…‘‘ چودھری جہانگیر سگریٹ انگلیوں میں دبائے کسی کیس کی فائل اسٹڈی کررہے تھے۔ تب ہی ایک سپاہی آکر سلیوٹ مار کر مخاطب ہوا۔
’’بولو خیر دین۔‘‘ مصروف انداز میں اشارہ کیا۔
’’سر آپ نے جس لڑکی کی ہسٹری نکالنے کو کہا تھا اس کے بارے میں ساری معلومات حاصل کرلی ہے۔‘‘
’’گڈ… کیا رپورٹ ہے؟‘‘ انداز ہنوز مصروف تھا۔
’’سر ماورا اور اس کی ایک بہن ہے’ بھائی کوئی نہیں… باپ کا انتقال برسوں پہلے ہوچکا ہے۔ ماں برسوں پہلے اندرون سندھ سے آکر یہاں آباد ہوئی تھی اور دو بیٹیوں کے ساتھ رہتی ہے۔ ماں سلائی کڑھائی کا کام کرتی ہے۔ بڑی بہن اسکول میں پڑھاتی ہے۔ گھر میں کسی مرد کا داخلہ نہیں ہے۔ پڑوسی نے بہن بنایا ہوا ہے، وہی اچھے برے وقت میں کام آتا ہے۔ باقی ماں بیٹی بہت شریف ہیں اور لوگ ان کی تعریف کرتے ہیں… بڑی بیٹی کی شادی طے ہوچکی ہے۔‘‘
’’ہوں…‘‘ ساری معلومات سنتے چودھری جہانگیر فائل چھوڑ کر کرسی کی پشت سے لگ گئے۔
’’کسی پہنچ والے بندے سے کوئی رابطہ وغیرہ؟‘‘ چیئر ہلاتے سوال کیا۔
’’نہیں سر… لڑکیوں کی ماں بہت سخت گیر ہے۔ مردوں سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے ان کا۔‘‘ سپاہی مؤدب کھڑا تھا۔
’’ہوں… ٹھیک ہے تم جاسکتے ہو۔‘‘ کئی لمحے سوچنے کے بعد اسے جانے کی اجازت دی تو سپاہی مؤدب ہوکر چلا گیا۔
ماورا یحییٰ کو دیکھ کر انہیں جو شک ہوا تھا اس کی تسلی کے لیے انہوں نے معلومات نکلوائی تھیں لیکن ساری باتوں میں کوئی بھی قابل گرفت پہلو نہ تھا۔ مجبور عورتیں محنت کرکے عزت سے پیٹ پال رہی تھیں۔ ماورا یحییٰ کو بھول کر وہ کسی اور ہی سمت سوچنے لگے تھے۔
’’مردے زندہ کب ہوتے ہیں…؟ جو خبر ہوتی کہ تم زندہ ہو تو پاتال سے بھی ڈھونڈ نکالتا میں۔‘‘ آنکھیں سلگنے لگی تھیں۔ فائل بند کرکے انہوں نے دور پھینک دی تھی۔
ء…ۃ…ء
’’دی جان…‘‘ وہ تنے ہوئے چہرے کے ساتھ زمرد بیگم کے کمرے میں دستک دے کر حاضر ہوا۔
’’ہاں پتر بول۔‘‘ زمرد بیگم متوجہ ہوئیں، لیکن اس کی خونخوار نظریں ان کے پہلو میں بے تکلفی سے بیٹھی شنائیہ چودھری پر تھیں۔ وہ بھی اسے دیکھ کر ’’الرٹ‘‘ ہوگئی تھی۔ اندازہ تو تھا جو کارنامہ انجام دیا ہے اس پر مڈبھیڑ تو ہوگی لیکن اتنی جلد یہ اسے بھی اندازہ نہیں تھا۔
’’آپ سے مہمانوں کے لیے کھانا تیار کروانے کا کہہ کر گیا تھا؟‘‘
’’ہاں پتر… شنائیہ کے ہاتھ جینا کو پیغام بھجوایا تھا کیا جینا نے اب تک چیزیں تیار نہیں کیں؟‘‘ گو کہ زمرد بیگم کی تعظیم میں وہ بہت ضبط کررہا تھا لیکن اس کے چہرے سے چھلکتے غصے کو دیکھتے زمرد بیگم، شنائیہ پر بھی نظر ڈال گئیں۔
’’دی جان… میں نے جینا کو پیغام دے دیا تھا۔ بلکہ اس کی ہیلپ بھی کی تھی۔‘‘ مشکوک نظروں کے جواب میں معصوم سی شکل بنا کر انہیں متاثر کرنے کی کوشش بہی کی۔
’’کیا پیغام دیا تھا آپ نے جینا کو؟‘‘ اس کا بہت سرد لہجہ تھا۔
’’یہی جو دی جان نے کہا شہر سے آپ کے مہمان آئے ہوئے ہیں۔‘‘ معصومیت کی انتہا پر تھی وہ ۔ من و عن دہرا دیا۔
’’غالباً آپ نے اسی لیے مدد کی کہ ان خرافات کو ڈشز کا نام دے سکیں۔‘‘ وہ دبے لہجے میں غرایا۔
’’بات کیا ہوئی ہے پتر؟‘‘ زمرد بیگم کو اس کے بگڑے تیور کی سمجھ نہیں آرہی تھی۔
’’دی جان جینا کو اچھی طرح پتا ہے کہ کس مہمان کے لیے کیا بنانا ہے… لیکن آپ کی پوتی نے اپنا سارا دماغ ضائع کرکے مہمانوں کے سامنے میری خوب بے عزتی کروائی… بوائل انڈے، منچورین، ویجیٹیبل پاستہ، کروکیٹس… کھانے کے نام پر یہ چونچلے آپ شہری لوگ کرتے ہوں گے۔ چودھری گھرانے میں جب تک تیز مرچ مسالے میں مرغ، مٹن، نہاری، پائے نا پکیں… پتا ہی نہیں چلتا کہ مہمان کی خاطر ہوئی ہے…‘‘ زمرد بیگم کو بتانے کے بعد اس کی توپوں کا رخ شنائیہ چودھری کی طرف تھا۔ چبا چبا کر بولتا اس کا ہر لفظ خوشی دے رہا تھا… اسی جھنجھلاہٹ کو انجوائے کرنے کو تو اس نے اتنی محنت کی تھی۔ زمرد بیگم حیرت زدہ تھیں۔
’’اے کی کیتا پتر…‘‘
’’دی جان… شہری مہمان سن کر مجھے لگا کہ ماڈرن لوگ ہیں اس لیے میں نے وہ سب بنوا دیا۔‘‘ وہ اس معصومیت سے وضاحت دے گئی کہ زمرد بیگم اس کی حمایت پر اتر آئیں۔
’’چل غصہ نا کر ابھی دو منٹ میں ککر میں مرغ، مٹن پکوا دیتی ہوں…‘‘ انہوں نے اسے بہلانا چاہا۔
’’بن بھی جائے تو کیا فائدہ دی جان… وہ لوگ ناراض ہوکر چلے گئی…‘‘ دھیمے لہجے میں کہا۔
’’بڑے ہی ندیدے دوست ہیں آپ کے… ایک ذرا من پسند کھانا نا ملنے پر چلے گئے… رزق کی قدر ہی کوئی نہیں۔‘‘ وہ آرام سے بیٹھی زخموں پر نمک چھڑک گئی تو شاہ زرشمعون کا جی چاہا اس کا روسٹ بنا دے۔
’’یہ تو کل کی آئی بچی ہے… اسے کیا خبر کہ حویلی کے طور طریقے کیا ہیں… لیکن جینا کو تو خیال کرنا چاہیے تھا… پوچھتی ہوں اس سے… لو بھلا بتائو اتنی دور سے آئے مہمان کھائے پیے بنا چلے گئے۔‘‘ زمرد بیگم افسوس کرتیں جینا کی کلاس لینے کے خیال سے نکلنے لگیں تو دبے پائوں شنائیہ چودھری بھی ان کے پیچھے بھاگنے لگی لیکن ایسا کب ممکن تھا۔ وہ بیچ میں کھڑا تھا۔ سامنے سے بچ نکلنے کی کوشش پر بازو سے پکڑ کر اپنے سامنے کیا۔
’’ہائے… دی جان۔‘‘ اس جسارت پر چلا کر اس نے کمرے سے نکلتی زمرد بیگم کو پکارنا چاہا مگر شاہ زرشمعون کا مضبوط ہاتھ اس کا منہ بند کر گیا۔
’’کیا بد میزی ہے یہ…؟‘‘ جھنجھلا کر منہ سے اس کا ہاتھ ہٹایا۔ زمرد بیگم جاچکی تھیں۔ اب وہ کھل کر اپنے غصے کا اظہار کرسکتا تھا۔
’’تو یہ سب مجھے ذلیل کرنے کی سازش تھی آپ کی۔‘‘ بھنچے لفظوں میں چلایا۔
’’جی… اور آپ کا ری ایکشن بتا رہا ہے یہ سازش خاصی کامیاب رہی… خیر سے۔‘‘ وہ منہ بگاڑ کر بولی اور ساتھ ہی بازو چھڑانے کی کوشش کی مگر شاہ زرشمعون نے بازو کو جھٹکتے مزاحمت ناکام بنادی۔
’’جو مقابلہ کرنا ہے… میرے ساتھ کرو۔ مجھے سے جڑے لوگوں کو تکلیف نہ دو۔‘‘ اس کا انداز وارن کرنے والا ہوا۔
’’مقابلے میں سب جائز ہے… اگر دوستوں کو تکلیف نا پہنچتی تو آپ اتنا چراغ پا کیسے ہوتے۔‘‘ استہزائیہ مسکراہٹ لبوں پر در آئی۔
’’چچ چچ بڑی بے عزتی ہوئی شاہ زادہ شاہ زرشمعون کی… دوست بنا کھائے پیے باتیں سنا کر چلے گئے۔ کیا مزے کا سین ہوگا…‘‘ وہ محظوظ ہورہی تھی‘ ہنس رہی تھی جبکہ اسے پتنگے لگ ہوئے تھے۔
’’اس طرح کی حرکتوں سے دور رہو۔‘‘
’’بڑی خوشی سے نکاح پڑھوا کر جوڑا ہے خود سے اب تو آپ کے کسی بھی معاملے سے دور نہیں رہ سکتی۔‘‘ استہزائیہ انداز میں کہا۔
’’تم مجھے چیلنج کررہی ہو…؟‘‘ وہ سلگ اٹھا۔
’’چیلنج تو پہلے ہی کرچکی ہوں… ابھی تو اپنے وار پر خوش ہورہی ہوں… آپ کو تلملاتے دیکھ کر… کہا تھا نا اتنا زچ کردوں گی کہ خود شہر چھوڑنے جائیں گے۔‘‘ اس نے یاد دلایا۔
’’اوکے… پہلی جیت مبارک ہو۔ چلو دیکھتے ہیں اگلی بازی کون جیتے گا… تم زچ کرتی رہو… میں بھی دیکھتا ہوں دا جان کی مرضی کے بناء تم کیسے یہاں سے جاتی ہو…‘‘ بازو پر دبائو سخت ہوا تو وہ جھنجھلا گئی۔
’’زبان سے بات کریں… بازو چھوڑیں‘ درد ہورہا ہے۔‘‘ چہرہ سرخ ہونے لگا تھا۔
’’ذرا سی تکلیف برداشت نہیں اور آئی ہو مقابلہ کرنے۔ ویسے سوچ رہا ہوں… دا جان کو رخصتی کے لیے راضی کرلوں اور ابھی رخصتی لے لوں… شہر جانا نصیب ہی نہ ہو…‘‘ وہ ایک دم دہل کر اسے دیکھنے لگی‘ رنگ فق ہونے لگا‘ نکاح کو تو وہ بھول ہی گئی تھی۔ اگر جو وہ ایسا کروا لیتا۔
’’جو کرنا ہے کریں… میں بھی بھاگ جائوں گی حویلی سے…‘‘ اپنی کمزوری کا ذکر پسند نہ آیا تو بلا سوچے سمجھے بات منہ سے نکل گئی اور وہ کتنی غلط بات کر گئی تھی یہ شاہ زرشمعون کے جارحانہ تیور نے اچھی طرح سمجھا دیا تھا۔ ہاتھ اٹھتے اٹھتے رہ گیا تھا اور ضبط کی کوشش میں چہرہ سرخ ہوگیا تو بپھر کر اس کا منہ دبوچ لیا۔
’’آج تو یہ بات منہ سے نکال دی… پھر کبھی یہ گھٹیا بات کی یا میری عزت کے ساتھ کھیلنے کی کوشش کی تو ٹانگیں توڑ کر حویلی کے تہہ خانے میں چھوڑ آئوں گا… باہر نکلنے کی حسرت لیے مر جائو گی۔‘‘ آنکھیں شعلہ اگلنے لگیں‘ لفظ بھسم کر ہے تھے‘ جبڑوں اور بازو پر گرفت ناقابل برداشت حد تک بڑھ گئی تھی۔ درد کے مارے آنسو نکل آئے تھے۔
’’میری عزت ہو اور عزت بن کر رہو۔‘‘ شاید اس کے آنسوئوں اور گلابی ہوتے چہرے پر ترس آگیا تھا۔ تب ہی ایک گہری نظر ڈال کر بازو چھوڑ کر دھکیلتا ہوا چلا گیا۔
’’وحشی… جنگلی۔‘‘ دکھتے بازو کو دباتی وہ اسے مختلف القابات سے نوازتی رہی تھی۔
ء…ۃ…ء
نرمین بے تکلفی سے صوفے پر بیٹھی ٹیب میں مصروف تھی۔ کانوں میں ہینڈ فری لگی ہوئی تھی، جانے سونگ سن رہی تھی یا کسی سے ویڈیو چیٹ کررہی تھی۔ تب ہی فریش فریش سی صہبا داخل ہوئیں۔
’’اچھی سی کافی اور سینڈوچز لے آئو۔‘‘ ملازم کو ہدایت کرتی وہ اسی سمت آرہی تھیں۔
’’تم سوئی نہیں… آرام کرلتیں تھوڑا۔‘‘ بیٹی کو دیکھتے فکر مندی سے کہا تو اس نے کانوں سے ہینڈ فری اتاری۔
’’اب تو شام ہونے والی ہے مام… اس وقت کہاں نیند آئے گی۔‘‘ بے چارگی سے کہا۔
’’میں نے تو اپنی نیند پوری کرلی… گائوں کا سفر اور وہاں رکنا… توبہ میرے تو اعصاب جواب دے جاتے ہیں۔‘‘ صہبا نے ناگواری کا اظہار کرکے ایل ای ڈی آن کیا۔
’’اوور آل نکاح کی تقریب اچھی رہی۔‘‘ نرمین نے اپنی رائے کا اظہار کیا۔
’’خاک اچھی رہی… مجھے تو ذرا مزا نہیں آیا۔ شنائیہ کا حال دیکھا تھا… جیسے مارے باندھے بیٹھی ہو… بخت بھائی نے مرنے جینے کی قسم دے کر تیار کیا ہوگا بیٹی کو… ورنہ کون نہیں جانتا کہ شنائیہ کو میری طرح کتنی چڑ ہے گائوں اور حویلی سے…‘‘ صہبا تنک کے انحراف کرنے کے ساتھ تبصرہ بھی فرما گئیں۔
’’ہاں یہ تو ہے۔‘‘ نرمین بھی سر ہلایا۔
’’ڈاکٹر ہیں دونوں میاں بیوی لیکن جہالت نہ گئی ان کے اندر سے…‘‘ جانے صہبا کو کس بات کا غصہ تھا۔
’’چھوڑیں ان کا مسئلہ ہے… مجھے تو مزا آیا۔ گائوں کی تقریب کے حساب سے فنکشن اور ارینجمنٹ اچھا کیا تھا سمہان نے… سب تعریف کررہے تھے۔‘‘ وہ متاثر نظر آرہی تھی۔
’’ہاں اچھا تھا لیکن فنکشن ہوتا کیا اور کس طرح ہوتی ہے یہ میں تمہاری اور ایشان کی شادی میں سب کو دکھائوں گی… دیکھنا سب کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی جب فائیو اسٹار ہوٹل میں بیسٹ ویڈنگ پلانز سے ارینج کروائوں گی…‘‘ صہبا جیسی خود پرست عورت کو بس اپنا ہاتھ ہی اوپر رکھنے کی خواہش رہتی تھی۔
’’ایشان نے تو انشراح کے لیے منع کرکے دل ہی توڑ دیا۔ ادھر ثناء اور انشراح بھی اپ سیٹ ہے۔ دیکھ لو کئی دنوں سے آئی نہیں… ورنہ تو یہیں نظر آتی تھی۔‘‘ صہبا دکھی ہوئیں۔
’’ایشان کی اپنی خواہش ہوگی۔ انشراح اور خالہ کو بھی یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے۔ آپ کیوں زور دے رہی ہیں انشراح کے لیے جب ایشان کی مرضی نہیں۔‘‘ نرمین نے سمجھایا۔
’’کہاں زور دے رہی ہوں چپ کرکے بیٹھ گئی کہ ایشان کی مرضی نہیں ہے تو کیا فائدہ زبردستی کرکے… اب میں دیا بھابی کی طرح جابر و دقیانوسی ماں تو ہوں نہیں جو اپنے بچوں کو قربانی کا بکرا بنادوں…‘‘ صہبا کے ایک ایک انداز سے نخوت جھلک رہی تھی۔
’’انہوں نے شنائیہ کو گائوں میں سڑنے کے لیے شاہ سے رشتہ جوڑ دیا… میں تو اپنے بچوں کے لیے امریکہ، یورپ سے رشتہ لائوں گی۔‘‘ تفاخر ہی تفاخر تھا ان کے لہجے میں۔
’’مام… آئے ایم ان لو…‘‘ نرمین نے بے تکلفی سے کہا۔ صہبا کے لب مسکرائے۔ انہوں نے بچوں کے ساتھ ہمیشہ ہر طرح کی بات کی تھی۔ کچھ گھر کا ماحول بھی کھلا ڈلا تھا شاید تب ہی وہ بلا جھجک کہہ گئی۔
’’کون ہے… کہاں رہتا ہے اور فیملی بیک گرائونڈ کیا ہے اس کا…؟
’’ڈونٹ وری‘ مجھے پسند آجائے بس… تمہارے ڈیڈ کو تو چٹکی میں منالوں گی…‘‘ وہ اشتیاق سے سوال کرتے نوید دے گئیں۔
’’مجھے سمہان آفندی سے شادی کرنی ہے۔ مجھے وہ ہر حال میں چاہیے مام…‘‘ اپنی پسند بتا کر نرمین ضدی لہجے میں اصرار کر گئی… انداز ایسا تھا جیسے سمہان آفندی جیتا جاگتا انسان نہ ہو… من پسند کھلونا ہو جو اس کے ضد کرنے پر صہبا اسے لا دیں گی۔
’’ڈیڈ کو کیسے ہینڈل کرنا ہے… دا جان کو راضی کرکے یہ سب کیسے ممکن بنانا ہے… یہ سوچنا آپ کا کام ہے… مجھے بس سمہان آفندی چاہیے… ہر حال میں، ہر قیمت پر…‘‘ گائوں کی دقیانوسیت پہ ناک منہ چڑہانے والی صہبا بیٹی کی فرمائش پر حیران رہ گئی تھیں۔

(ان شاء اﷲ کہانی کا بقیہ حصہ آئندہ شمارے میں)

Show More
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close