Naeyufaq Nov-16

مرگ قبل ازمرگ

حسیب جواد علی

میرے دوست نجیب نے یہ کہانی مجھے سنائی تھی۔
موضوع گفتگو تھا ’’قبر اور قبر کا حال…جو مردہ ہی جانتا ہے اور مردہ کبھی باہر آتا ہی نہیں تو یہ حال لوگوں سے مخفی ہی رہتا ہے۔ وعظ وغیرہ میں جو بتایا جاتا ہے وہ مذہبی کتابوں کے حوالے سے ہوتا ہے اور اس پر ہم یقین رکھتے ہیں۔ یقین رکھنا بھی چائیے…پھر توفیق فیومی کا ذکر آیا جو مرگیا تھا…اسے دفن بھی کردیا گیا تھا لیکن چند گھنٹے بعد ہی قبر توڑ کر یا قبر کھول کر باہر آگیا تھا۔ یہ سب اس کے لیے بھیانک تجربہ تھا اور دوسروں کے لیے تحیر انگیز…
نجیب کا کہناتھا کہ وہ اپنے دوست وصفی کے توسط سے توفیق سے ملا تھا اور توفیق نے جو کچھ دیکھا اور محسوس کیا اور یہ کہ کس طرح اس نے اپنے آپ کو قبر سے آزاد کیا…یہ سب جاننے کی جستجو میں اس نے وصفی کو توفیق سے ملاقات کے لیے تیار کرلیا۔ اب آپ نجیب کی زبانی یہ کہانی سنئے۔
میں نے بہت ضد کی تو وصفی تیار ہوگیا ۔ اس نے کہا وہ کسی سے ملتا نہیں ہے۔گوشہ نشین اور دنیا سے دور دنیا داری سے بے نیاز ہوگیا تھا۔ پھر بھی تھوڑے سے وقت کے لیے تو اسے لے ہی آؤں گا تمہارے پاس… میں نے کہا۔
’’دیکھو صرف20 یا 30 منٹ کی بات ہے اس سے وقت لے کر مجھے مطلع کرنا تاکہ میں کچھ تیار ی کرلوں۔‘‘ یہ بھی بتایا کہ وہ کھانے میں کیا پسند کرتا ہے۔
’’وہ کیا پسند کرتا ہے یہ تو مجھے نہیں معلوم لیکن جو بھی کھاتا ہے بڑی مقدار میں کھاتا ہے وہ بہت لحیم شحیم دراز قد اور طاقت ور ہے اسی تناسب سے اس کی خوراک ہے۔ اچھا خاصا خرچہ ہوجائے گا تمہارا۔‘‘ وصفی یہ کہہ کر ہاتھ ہوا میں ہلاتا رخصت ہوگیا۔
یہ واقعہ بہت پرانا نہیں تھا۔ 1990 کی دہائی کی بات ہے سعودی عرب اور مصر کے اخبارات میں بطور یہ واقعہ چھپا بھی تھا۔
اگلے روز وصفی کا فون آیا۔
’’توفیق سے بات ہوگئی ہے وہ عشاء کے بعد آئے گا میرے ساتھ یہ جو رات کا وقت اس نے دیا ہے اس کا مقصد ہے لوگوں سے بچا جاسکے۔ کیوں کہ کھانا کھا کر آئیں گے ہم لوگ ۔اس لیے صرف ہلکی پھلکی چیزیں ہی رکھنا کھانے میں لیکن کولا کی بوتل بڑے سائز کی ضروری ہے۔‘‘
میں نے ضروری انتظام کرلیا۔ بجائے کاغذ قلم ایک چھوٹا ریکارڈ تیار رکھا اور مائکروفون اور ریکارڈ کو میز کے نیچے طریقے سے چھپا دیا۔ میں سمجھتا ہوں کہ کاغذ قلم یا ریکارڈ وغیرہ کی موجودگی میں انٹرویو دینے ولا اپنے آپ کو قدرتی انداز سے سامنے نہیں لاتا۔ باتوں میں بناوٹ آجاتی ہے کچھ چھپا لیتا ہے اور کچھ ضرورت سے زیادہ بتادیتا ہے۔
مجھے توفیق سے ملنے کا شوق اس لیے ہوا کہ عجیب و غریب خبروں کی تہہ تک پہنچنا میری عادت ہے ۔ مساوات کا قتل میرے لیے اتنا تحیر خیز نہیں تھا جتنا ان ہی دنوں ہونے والے ایک ادیب کی خودکشی کا واقعہ…جب کہ پہلی خبر اخبار کے پہلے صفحے کی خبر تھی اور دوسری آخری صفحے کی۔ بہت چھوٹی چند سطروں کی اور توفیق فیوی موت کا مزہ چکھ چکا تھا۔ جی ہاں وہ مرگیا تھا ۔ دفنا بھی دیا گیا تھا۔
یہ خبر مصر کے اخبارات اور سعودی عرب کے ایک مشہور اخبار میں چھپ چکی تھی اور اس کہانی میں بلکہ خبر میں تحیر تھا سنسنی تھی۔ توفیق بہت مشہور ہوگیا تھا لیکن پھر لوگوں کی بھیڑ بھاڑ اور بے تکے سوالوں سے گھبرا کر اس نے اپنے آپ کو غائب کردیا۔ وہ گوشہ نشین ہوگیا تھا۔
دوبارہ زندہ ہونے کی صورت میںا س کو یہ اندازہ بھی ہوا کہ جن کو اس کی موت سے فائدہ ہوسکتا تھا۔ وہ دراصل اس کے مرنے پر افسوس نہیں جشن منانے والے تھے۔ ان لوگوں پر جو ردعمل ہوا وہ بھی اس کے لیے بہت تکلیف دہ تھا۔ چنانچہ اسے دنیا اور دنیا داری سے بے نیازی ہوگئی تھی۔
وہ لوگ عشاء کے بعد آگئے۔ دروازہ کھولنے پر میں نے وصفی کے ساتھ ایک قوی البحثہ شخص کو پایا۔ وصفی اور خود میں اس کے سامنے بہت مختصر بلکہ حقیر لگ رہے تھے۔
اس کے ہاتھ بہت سخت تھے۔ مصافحہ کرتے ہی مجھے احساس ہوگیا تھا سخت کھردرے اور بھاری ہاتھ…وقت ضائع کیے بغیر میں اس کو پہلے سے طے شدہ نشست پر لے گیا۔ کھانے کی اشیاء اور کولا کی بوتل اس کے سامنے رکھ دیں اس نے فوری طور پر ایک گلاس غٹاغٹ اپنے حلق میں انڈیلا اور میں نے بات شروع کردی۔
’’میں تم سے بہت سے سوال نہیں کرونگا۔ تم اپنی کہانی شروع سے سناؤ میںصرف سنتا رہوں گا۔ یہ تمہارے بولنے کا دن ہے اور میرے سننے کا۔
’’کیا آپ میری روداد چھاپنا چاہتے ہیں؟ یہ بطور خبر آچکی ہے اخباروں میں۔‘‘ اس نے میری آنکھوںمیں جھانکتے ہوئے سوال کیا۔
’’نہیں میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں ہے …فی الحال …تم تو شروع کرو اپنی کہانی…میں منتظر ہوں۔‘‘ میں نے مطلب پر آتے ہوئے ایک گلاس مشروب اور اس کے آگے رکھ دیا۔
اس نے دو گھونٹ لیے اور گلا صاف کرنے کے لیے تھوڑا کھکھارا۔ یہ کھکھار غرائب سے متشابہ تھی۔ اس نے اپنی کہانی شروع کردی۔
’’میں جدہ میں ایک تعمیراتی کمپنی میں کام کرتا تھا۔ یہ کمپنی پرانی عمارتوں کو مسمار کرکے نئی جدید عمارتیں بناتی تھی۔ میں اپنی چند مخصوص صلاحیتوں کی وجہ سے کبھی بے روزگار نہیں رہتا تھا۔ اگر ایک کمپنی چھوڑتا تھا تو دوسری کوئی کمپنی مجھے لے لیتی تھی۔عمارت کو مشین سے توڑنے کے علاوہ میں جہاں ضرورت ہوتی صرف اپنے ہاتھوں سے دیوار توڑ دیتا تھا۔ ہاتھ تنگ جگہ پر اپنے کمالات دکھاتے تھے جہاں مشین کی پہنچ ممکن نہ ہوتی تھی۔ میرے ہاتھ کی ایک ضرب سے دوچار بلاک تو آسانی سے اپنی جگہ چھوڑدیتے تھے۔ کبھی کبھی تو دس بارہ بلاک الگ ہوجاتے ۔ اس طرح کام کی رفتار برقرار رہتی تھی اور وقت ضائع نہیں ہوتا تھا۔ ان لوگوں کو یہی چاہیے ہوتا تھا۔
ایک دن کام کے دوران پیٹ میں تکلیف کا شدید احساس ہوا اور پھر یہ تکلیف بڑھتی رہی مجھے اسپتال میں داخل ہونا پڑا۔ جہاں پتہ چلا کہ میرے پیٹ میں ایک بڑی رسولی ہے۔ اس کو نکالنا بہت ضروری تھا۔ آپریشن کے بعد میں بہتر محسوس کر رہا تھا لیکن پھر یہ فیصلہ ہوا کہ مجھے اپنے وطن مصر واپس جانا چائیے۔ میری صحت بحال ہوگئی اور کھوئی ہوئی قوت مجھے واپس مل گئی۔ میں اپنے خاندانی کاروبار میں مشغول ہوگیا۔
کئی مہینے کے بعد ایک دن اچانک مجھے پھر شدید درد کا احساس ہوا ۔ درد اتنا شدید ہوتا تھا کہ مجھ پر غشی طاری ہوجاتی تھی۔ آس پاس کے ڈاکٹروں کو بالکل سمجھ ہی نہیں آیا کہ کیا ہورہاہے۔ اندر کسی نئی رسولی کا بھی کوئی امکان نہیں نظر آیا اور اسی دوران مجھ پر ایک مستقل غنودگی طاری ہوگئی۔ میں کچھ ایسی کیفیت میں تھا کہ ہوش و حواس برائے نام باقی تھے۔ یعنی میں کوما میں تھا اور لوگ سمجھ رہے تھے کہ میں مرچکا ہوں یا مرنے والا ہوں۔مجھے آس پاس کی آوازیں آرہی تھیں لیکن ایسے کے گویا کہیں دور بہت دور سے آرہی ہو۔ کچھ سمجھ میں آرہا تھا او ر کچھ نہیں۔
آوازیں اس طرح کی تھیں …نبض نہیں مل رہی ہے …بالکل بھی نہیں… سانس نہیں ہے… لیکن بدن میں حرارت تو محسوس ہورہی ہے…بدن ٹھنڈا نہیں ہورہا ہے… ایک دوسری آواز جو غالباٍ ڈاکٹر کی تھی۔ اس کی گردن اور کلائی کی کھال بہت موٹی ہے ۔ ہاتھ سے نہیں تو آلے سے محسوس ہونی چائیے نبض…اور پھر…سسکیوں کی آوازیں…شاید میرے رشتے دار آہ بکا کر رہے تھے۔
ضرور میری ماں کی آواز ان آوازوں میں سب سے زیادہ واضح ہوگی…اور بہن کی آواز بھی ہوگی۔ اگرچہ وہ میری سوتیلی بہن تھی لیکن ہم دونوں ایک ہی گھر میں ساتھ ساتھ پلے بڑھے تھے۔ وہ میرے باپ کی پہلی بیوی کی اولاد تھی ۔ یقینا وہ بھی رو رہی ہوگی۔ وہ سب اﷲ سے میری صحت اور زندگی کی دعا مانگ رہے ہونگے ۔
ادھر میں کسی حد تک یہ سب کچھ سن رہا تھا۔ لیکن مجبور تھا حرکت نہیں کر پارہا تھا۔ میں ہاتھ اٹھانا چاہتا تھا پلکیں جھپکاکر زندگی کی رمق موجود ہونے کا احساس دلانا چاہتا تھا لیکن کچھ بھی میرے بس میں نہیں تھا۔ شاید مجھے ہلکا سا یہ احساس ہوگیا تھا کہ اگر مجھے مردہ سمجھ لیا گیا تو اس کے نتائج کیا ہوسکتے ہیں مجھے یاد ہے میں خوف زدہ ہوگیا تھا لیکن دل ارادے اور دماغ کے درمیان کوئی رابطہ نہیں تھا۔ یا شاید رابطہ تھا لیکن اتنا کمزور کہ کسی طرح کی میکانکی حرکت ممکن نہیں تھی۔ سگنل جارہے تھے لیکن بہت کمزور۔ بہرحال اپنی بے بسی بے چارگی پتہ نہیں میںآپ کو سمجھا پاؤں گا یا نہیں۔ صرف ایک رابطہ اگر تھا تو کانوں میں دماغ کے درمیان… بہت خفیف بہت کمزور… اگر یہ رابطہ بھی ٹوٹ جاتا تو شاید میں مکمل طور پر مرجاتا۔ لیکن ڈاکٹروں کی رائے میں تو میں مر ہی چکا تھا اور رہے رشتہ دار تو وہ ڈاکٹر کی رائے پر تکیہ کئے ہوئے تھے اور ڈاکٹر نے آخر کار اعلان کر ہی دیا۔
بدن سرد ہورہا ہے اب کچھ باقی نہیں …آپ لوگ تجہیز و تکفین کے انتظامات کریں اور مجھے اجازت دیں ۔‘‘
’’اور وہ فیس وغیرہ…‘‘
’’چلو بعد میں دیکھیں گے۔‘‘ کہیں دور سے یہ ہلکی ہلکی آواز مجھے آئی جو یقینا ڈاکٹر کی ہی ہوسکتی تھی۔اس کے بعد کچھ ہچکیاں …سسکیاں اور آہیں… اس کے بعد جو کچھ میں نے محسوس کیا وہ مجھے یاد ہے …وہ ایک ٹھنڈک کا احساس تھا جب شاید مجھے غسل دیا جارہا تھا اور پھر وہ رہا سہا کانوں اور دماغ کا رابطہ بھی ٹوٹ گیا۔
تب پتہ نہیں کب ایسا لگا جیسے میں طویل نیند سے جاگ گیا ہوں لیکن بے حرکت لیٹا رہا۔ پھر میں نے محسوس کیا کہ میں حرکت کرسکتا ہوں…لیکن نہیں میں حرکت نہیں کر پارہا تھا کوشش کے باوجود ۔ میرے ہاتھ کپڑے کی تہوں میں قید تھے اور میرے پیروں کے انگوٹھے آپس میں بندھے ہوئے تھے میں نے زور لگا کر اپنے ہاتھ آزاد کرلیا اور اٹھنے کی کوشش کی تو میرا سر اوپر کنکریٹ سے ٹکرایا۔ یہ چھت زمین سے تین فٹ سے زیادہ اونچی نہیں تھی۔ میں نے گھبرا کر اپنی ناک سے روئی اور منہ میں ٹھونسے ہوئے کپڑے کو باہر نکالا اور پاؤں موڑ کر اپنے انگوٹھوں کو آزاد کردیا۔جب مجھے کچھ نظر نہیں آیا تو میں سمجھا کہ گھر کی بجلی گئی ہوئی ہے۔ لیکن یہ گھر نہیں تھا۔‘‘
’’اب جو ادھر ادھر میں نے ہاتھوں سے ٹٹولا تو میرا ہاتھ کسی سخت شے سے لگا۔ گول سی شے۔ مجھے ایک جھٹکا لگا اور میرا ذہن پوری طرح جاگ گیا۔ وہ کسی مرد کی کھوپڑی تھی میرے کسی قریبی رشتہ دار کی کھوپڑی ۔ ممکن ہے میرے باپ یا میرے کسی چچا کی…میں قبر میں تھا…اجتماعی قبر میں… اپنی خاندانی قبر میں…میرے منہ سی بے ساختہ نکلا… میرے اﷲ مجھ پر رحم کر…اور ان لوگوں پر بھی جو مجھ زندہ انسان کو دفنا کر چلے گئے… میں ان کو معاف کرتا ہوں۔
میں وضاحت کردوں…اگر آپ کو معلوم نہیں ہے تو… یہاں مصر میں اجتماعی قبریں بھی ہوتی ہیں ۔ ایک درمیانے یا بڑے سائز کے کمرے کے برابر… حسب استطاعت …کنکریٹ کا کمرا۔ لمبائی تین فٹ فرش سے اونچا بنایا جاتا ہے۔ اس میں داخلے کا ایک چھوٹا دروازہ ہوتا ہے۔ اتنا بڑا کہ ایک شخص بیٹھ کر …سر ایک طرف خمیدہ کرکے اس میں داخل ہوسکے۔ کیوں کہ یہ کمرہ آدھا زمین کے اندر بھی ہوتا ہے لہذا ایک اور دروازہ باہر بھی رکھا جاسکتا ہی۔ دونوں دروازے بھاری پتھر کی سلوں سے بند کیے جاتے ہیں اتنے بھاری کہ ان کو ہٹانے کے لیے کم از کم تین افراد کی ضرورت پڑتی ہے۔ مرنے والے کو اندر نیچے کے دروازے سے قبر میں داخل کردیا جاتا ہے اور ایک شخص اندر پرانی لاش یا ڈھانچے کو ایک طرف کرکے نئے آنے والے کی جگہ بناتا ہے اور پھر باہر نکل کر پتھر کی سل دوسروں کی مدد سے اس دروازے پر رکھ دیتا ہے۔ پھر تین سیڑھیاں اوپر دوسری سل کو بھی کھسکا کر اس اجتماعی قبر کو سیل کردیا جاتا ہے۔
جب مجھے ادراک ہوگیا کہ میں قبر میں بند ہوں تو اپنے پچھلے تجربے کی بنیاد پر میں نے باہر نکلنے کے راستوں کو ٹٹول کر ڈھونڈنے کی کوشش شرو ع کی۔ جی ہاں میں اپنے کچھ رشتہ داروں کی تجہیز و تکفین میں شریک رہ چکا تھا ۔ قریب کی دیواروں کو ٹٹولتے ہوئے میں جلدہی اس جگہ کو ڈھونڈنے میں کامیاب ہوگیا۔ بھاری سل میرے راستے میں حائل تھی میں نے اپنی پوری قوت کو مجتمع کرکے اس سل کو ہٹانے کی کوشش شروع کی۔ طبیعت کی خرابی اور کئی گھنٹوں کی خوراک اور پانی کی کمی سے میں کمزور ہوچکا تھا پھر بھی میں نے ہمت نہیں ہاری اور قریب ایک دیوار کے ساتھ کندھے ٹکا کر پیروں سے اس سل کو کھسکانے میں کامیاب ہوگیا وہی سل جسے تین چار آدمیوں نے وہاں رکھا ہوگا۔
ایک ہلکی سی تازہ ہوا کے جھونکے نے میرے پھیپھڑوں میں پہنچ کر گویا میرے اعصاب اور تمام حواس کو زندگی اور تازگی سے مامور کردیا۔ اس کے بعد میں نے دوسری سل کو ہٹانے کی کوشش کی جو اوپر رکھی ہوئی تھی جو نسبتاً ہلکی تھی۔ باہر آزادی اور زندگی کے بھرپور سانس لینے سے پہلے میں نے دونوں سلوں کو باری باری ان کی جگہ پر دوبارہ نصب کردیا۔ اب میں ٹھنڈی بے نقص ہوا میں کھڑا ہوا تھا۔
میں قبر سے تو آزاد ہوگیا لیکن کفن سے آزاد ہونا ممکن نہیں تھا کیونکہ تن ڈھانپنے کو میرے پاس یہی کچھ تھا۔ میں نے کفن کو احرام کی طرح دو حصوں میں اپنے بدن پر لپیٹ لیا اور یہ مسئلہ حل ہوگیا۔‘‘
’’یہ رات کا آخری پہر تھا …شاید صبح کے قریب…اور مجھے عشاء ہی میں دفن کیا گیا ہوگا۔ یعنی کئی گھنٹے گزر چکے تھے۔ میں اپنے گھر سے ایک ڈیڑھ کلو میٹر کے فاصلے پر تھا۔ رات گئے تک رہنے والی چہل پہل ختم ہوچکی تھی۔ راستے میں نہ کوئی راہ گیر اور نہ پولیس والا میرے قریب سے گزرا کہ مجھے اس حالت میں دیکھ کر حیران ہوتا اور میری راہ میںرکاوٹ بنتا۔ جب اپنی گلی میں داخل ہوا تو خود بخود میری رفتار کم ہوگئی۔ میں اپنے گھر کے دروازے پر ٹھہر گیا۔ مجھے دروازے پر دستک دینے کی ہمت نہیں ہورہی تھی۔ کسی طرح ہمت کرکے دستک دے دی۔ شاید پچھلے روز کی میری موت کے سلسلے میں آہ و بکا اور پھر تجہیز و تکفین کی مصروفیت سے تھک کر سب گہری نیند سوگئے تھے۔ میں نے سوچا ماں نہیں سوسکتی اور پھر اسی لمحے ماں کی آواز آئی…‘‘
’’کون ہے؟‘‘
’’میں نے اس وقت تک اپنا ذہن تو بہت استعمال کرلیا تھا لیکن زبان بالکل بھی…کوئی آواز ہی نہیں نکلی میرے منہ سے۔ باوجود کوشش کے …تب ایک بے معنی لفظ میرے منہ سے نکلا۔ میری آواز خود مجھے اجنبی سی لگی۔ اس نے پھر پوچھا۔
’’کون ہے؟‘‘ اور دروازہ کھول دیا۔
’’میری ماں نے حیرت سے مجھے دیکھا اور پھر ایک چیخ مار کر میری بانہوں میں جھول گئی۔ مجھے یقین ہے کہ یہ خوف کی چینچ نہیں بلکہ باقی گھر والوں کے لیے منادی تھی اور پھر تمام لوگ جاگ گئے۔‘‘
’’لمحوں میں گھر کا بڑا داخلی حصہ لوگوں سے بھر گیا لیکن فوراً ہی تقریباً خالی بھی ہوگیا۔ کچھ لوگ تو اندر آتے آتے واپس ہی بھاگ گئے ایک دوسرے سے ٹکراتے گرتے پڑتے ۔ جو رکے ان کے منہ سے بے معنی آوازیں نکل رہی تھیں۔
میں نے کہا۔
’’ارے میں زندہ ہوں…میں زندہ تھا اور تم لوگوں نے مجھے دفن کردیا۔‘‘آہستہ آہستہ لوگو ں نے اپنی حیرت اور خوف پر قابو پایا۔ کسی نے پانی کاگلاس میرے ہاتھ میں تھمادیا اور میں نے اپنی ماں کے چہرے پر چھینٹے مارے اور پھر باقی پانی اس کو پلا دیا۔ وہ ہوش میں آئی تو میرے ماتھے اور میرے گالوں پر بوسے دینے لگی۔ کسی نے دوسرا گلاس دیا تو وہ میں غٹاغٹ پی گیا۔ مجھے شدید پیاس لگی ہوئی تھی۔ ادھر میری بہن ہوش میںآنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔ وہاں اس کا شوہر موجود تھا جس کے چہرے کے تاثرات اب حیرت اور خوف کے بعد حسرت اور افسوس کے غماز تھے اور جب میری بہن ہوش میں آئی تو اس کے تاثرات بھی اسی طرح بدل گئے۔ میری ماں کہہ رہی تھی۔
’’مجھے یقین ہی نہیں تھا کہیں مرنے والوں کا چہرہ ایسا ہوتا ہے۔ کم بخت ڈاکٹر نے میرے بیٹے کو جیتے جی مار دیا۔ میں بتائوں گی اسے مرنا کیا ہوتا ہے۔ڈنڈوں سے ماروں گی اسے۔کیس کروں گی اس پر اس کی سند ضبط کروادوں گی…‘‘
اب میں نے حالات کا جائزہ لیا۔ اپنی سمجھ اپنے دماغ کا استعمال کرتے ہوئے معاملات کو جاننے کی کوشش کی۔ کچھ گزرے لمحات کو یاد کیا تو گتھیاں گرہیں کھلتی چلی گئیں۔ وہ میری سوتیلی بہن تھی۔ میرے باپ کی پہلی بیوی کی اولاد۔ میرا مرنا اس کے لیے گویا لاٹری کھلنے والی بات تھی۔ میرے مرنے کے بعد وہ تمام جائداد کی مالک بن سکتی تھی۔ میری ماں کو آخر کتنے دن اورجینا تھا۔ آخر کار یہ سب اور ماں کا حصہ بھی اس کا ہی ہوجاتا۔ اس کے پیچھے میرے بہنوئی کا بہکاوا بھی کارفرماتھا۔
میری اچانک دنیا میں واپسی ان لوگوں کے لیے ایک تازیانہ تھا اور وہی سب کچھ ان کے چہروں سے عیاں ہورہاتھا۔ یہ ہے انسان اور یہ ہیں اس کی خود غرضیاں اور لالچ۔ آپ پوچھیں گے کہ میں لوگوں سے کیوں بھاگتا ہوں۔ لوگ مجھ سے قبر کا حال پوچھتے ہیں میں نے جو کچھ دنیا میں دیکھا ہے وہ قبر سے کچھ کم خوف ناک نہیںاور پھر میں اگر قبر کے حالات بتائوں تو وہ ایک زندہ مدفون انسان کے تجربات ہوں گے۔ اگر میں واقعی مر گیا ہوتا تو…اسی خیال سے ہی کانپ اٹھتا ہوں کہ میںکیسے اس امتحان اس آزمائش کا سامنا کرتا اور میرا کیا حشر ہوگیاہوتا۔
میں نے موت کو اتنے قریب سے دیکھا ہے کہ اب میرے خیالات میری دنیا سب کچھ بدل گئی ہے۔یہ میری قسمت تھی کہ میں ایک ایسی قبر میں دفن کیا گیا کہ بساند اور گھٹن کے باوجود اتنی دیر میں سب برداشت کرگیا۔ زندہ رہا اور اپنی طاقت اور اللہ تعالیٰ کی مدد سے میں باہر آگیا۔اگر کہیں عام قسم کی قبر ہوتی…جیسی سب علاقوں اور ملکوں میں ہوتی ہے تو شاید میں بہت اذیت کی موت مرتا اور پھر اسی کیفیت اور اسی حال سے بھی گزرتا جس سے سب مرنے والے گزرتے ہیں…اللہ نے مجھے ایک موقع دیا ہے اپنے دانستہ اور نادانستہ کئے گناہوں کا کفارہ ادا کرنے کا۔ اپنے آپ کو سدھارنے کا۔ یہی وجہ ہے کہ اب میرا دل نہ لوگوں میں بیٹھنے کو چاہتا ہے اور نہ ان کی فضول باتیں سننے کو۔ روزی کماتا ہوں اور اللہ کے احکامات کی بجا آوری میں لگ جاتا ہوں۔ ایک دن آخر کار مرنا ہے۔حقیقی موت… جب مجھ سے قبر کھولنے کی سکت ہوگی اور نہ مجھے کوئی موقع دیا جائے گا۔‘‘
یہ کہہ کر توفیق نے اپنی ڈھیلی آستین سے آنسو پونچھے۔ میں نے محسوس کیا کہ توفیق نے اپنی داستان ختم کردی ہے۔ میں نے اس کو کھانے کی چیزوں کی طرف متوجہ کیا لیکن اس نے کچھ نہیں لیا۔ اور اچانک اٹھ کھڑا ہوا اور وصفی کے کندھے کو تھپکی دے کر چلنے کا اشارہ کیا۔ میں نے اس سے مصافحہ کرکے اس کو رخصت کیا اورگم صم پھر کرسی پر بیٹھ گیا۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close