Naeyufaq Nov-16

سنہرے دن

دستگیر شہزاد

چوہدری کرم دین ہمارے علاقے میں سب سے بڑی جاگیر کا مالک تھا اور ہم سب اس کے نوکر تھے۔ ایک روز عامر نے مجھے بتایا تھا۔
’’میرے بہت سے دوست اپنے بزرگوں کا ذکر کرتے ہوئے مجھے فخر سے بتاتے تھے کہ ہمارے بزرگوں کی ملکیت میں کتنی کتنی زمینیں اور کتنے نوکر ہوا کرتے ہیں۔ جہاں تک میرا تعلق تھا ۔ میرے باپ کے پاس جتنی اراضی تھی وہ وراثت میں مجھے مل گئی تھی۔ یہ میرے لیے خوشی اور فخر کی بات تھی۔ ‘‘
میں عامر کے بارے میں زیادہ نہیں جانتا تھا وہ بس میرا دوست تھا اور یہ دوستی بھی ایک اتفاقی حادثہ کی وجہ سے ہوئی تھی۔
’’ہوا یوں کہ ایک روز سہ پہر کے وقت میں یونیورسٹی سے جارہا تھا۔ اسی وقت میرا ذہن حاضر نہیں تھا اس لیے میں پیچھے آنے والی کار کا ہارن نہ سن سکا اور اس سے پہلے کہ وہ مجھے کچلتی ہوئی گزرجاتی۔ ایک مضٖبوط ہاتھ نے مجھے بازو سے پکڑ کر ایک طرف دھکیل دیا۔ میں گر تو پڑا لیکن خطرہ ٹل گیا۔ جب میرے حواس درست ہوئے تو میں نے دیکھا کہ ایک دراز قد دبلا پتلا نوجوان مجھے گھور رہا تھا۔ میرے شکریہ ادا کرنے پر اس نے کسی رد عمل کا اظہار نہیں کیا۔ اس کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ بھی نہیں آئی مگر وہ چبھتی ہوئی نظروں سے میری طرف دیکھتے ہوئے کہہ رہا تھا۔
’’جو کچھ ہوا بہتر ہوا…آئندہ محتاط رہنا۔ ‘‘ اتنا کہہ کر وہ چلا گیا۔ اس طرح ہماری واقفیت ہوئی تھی۔
یونیورسٹی میں ہمارا تعلق مختلف تعلیمی شعبوں سے تھا۔ میں عربی پڑھتا تھا اور وہ سائنس کا طالب علم تھا جب کبھی ہمارا آمنا سامنا ہوتا۔ ہمارے درمیان چند رسمی الفاظ کا تبادلہ ضرور ہوتا۔ بہرحال اب ہم ایک دوسرے کے دوست بن چکے تھے لیکن وہ مجھے کبھی دل سے اچھا نہیں لگا تھا۔ یہ محض انسان دوستی اور تجسس کا احساس تھا جو مجھے اس کا دوست بننے پر مجبور کئے ہوئے تھا۔ میں اس کی عزت کرتا تھا لیکن اسے پسند نہیں کرتا تھا کیونکہ اس کی شخصیت میں ذرا بھی جاذبیت نہیں تھی۔ اس کی عادت میں کرختگی کا عنصر نمایاں تھا۔ میں اس کی خاندانی حیثیت سے واقف نہیں تھا کیونکہ اس نے اس کے بارے میں بتایا ہی نہیں تھا۔ البتہ یونیورسٹی میں اسے دیکھ کر اندازہ لگایا جاسکتا تھا کہ اس کا تعلق کسی امیر گھرانے سے نہیں تھا وہ بے حد کفایت شعار اور رہن سہن کے معاملے میں دوسرے طالب علموں سے مختلف تھا۔ اس نے کبھی مہنگا لباس نہیں پہنا تھا اور نہ ہی فلم یا تھیٹر جیسی تفریحات میں جاتا تھا ۔ کلاس کے بعد وہ زیادہ تر وقت اپنے کمرے میں پڑھتا کھیل کے گراؤنڈ میں چہل قدمی کرتا یا پھر شہر کی طرف چلا جاتا تھا۔ میں نے کبھی اس کے چہرے پر مسکراہٹ نہیں دیکھی وہ ہر وقت کسی گہری سوچ میں کھویارہتا تھا۔ میں اکثر حیران ہوتا تھا کہ ایسی کون سی بات ہے…؟ ایک روز مجھ سے پوچھے بنا رہا نہ گیا۔
’’عامر! ہر وقت کیا سوچتے رہتے ہو…؟‘‘
’’تم نہیں سمجھ سکو گے۔‘‘ اس نے سرد مہری سے جواب دیا اور چلا گیا۔
وہ ٹھیک ہی کہتا تھا کہ میں واقعی نہیں سمجھ سکتا تھا کہ ایک نوجوان اتنا افسردہ اور الجھا ہوا کیسے ہوسکتا ہے میری حیرت آہستہ آہستہ تجسس کی صورت اختیار کر گئی اور شاید اس لیے میں نے اس کی روز مرہ کے معمولات کا مشاہدہ کرنا شروع کردیا۔
’’مثلاً وہ کسی قسم کے لوگوں سے ہے۔ اس سلسلے میں پہلا انکشاف یہ ہوا کہ اس کا واحد دوست میں ہی ہوں ۔ چند ایک لوگوں سے اس کے تعلقات ضرور تھے لیکن دوستی نہیں تھی۔ دراصل وہ دوست بنانا ہی نہیں چاہتا تھا۔ دوسروں سے ملتے ہوئے اس کے رویہ سے بے زاری کا اظہار ہوتا تھا۔ حتیٰ کہ یونیورسٹی کی کوئی لڑکی بھی اس کی بات کرتی تو اس کا چہرہ مسکراہٹ سے عاری ہوتا تھا۔ میں اس کا دوست تھا لیکن وہ مجھ سے بھی سرد مہری سے پیش آتا تھا۔ شاید یہی وجہ تھی کہ میں اسے دل سے پسند نہیں کرتا تھا جہاں تک تعلیم کا تعلق تھا وہ بے تحاشہ پڑھنے کا عادی تھا۔ اسے ادب پڑھنے کا بھی شوق تھا۔ وہ ایسے گمنام مصنفین کی کتابیں بھی پڑھتا جو برسوں سے لائبریری کی الماریوں میں بند پڑی تھی اور انہیں پڑھنے والا کوئی نہیں تھا۔ اگر ایک دن ناول پڑھتا تو دوسرے دن فلسفہ کی کتاب اور اس کے بعد اگلے دن تاریخ کی کتاب ۔ ایسی صورت میں جب کہ میں نے خود ان کتابوں کو نہیں پڑھا تو ان کے حوالے سے عامر کے بارے میں کیسے کوئی رائے قائم کرسکتا تھا۔
ایک دن وہ بغیر اطلاع دیئے میرے کمرے میں آگیا۔ ان دنوں میں کرائے کے مکان میں مقیم تھا۔ وہ بے تکلفی سے اندر داخل ہوا اور صوفے پر بیٹھ کر اپنے پرانے کوٹ سے گرد جھاڑنے لگا۔ میں نے پڑھتے ہوئے ایک نظر اس کی طرف دیکھا اور پھر سر جھکا کر پڑھنے لگا۔ اگرچہ میری نظریں کتاب پر تھیں لیکن کان اس کی آواز کے منتظر تھے۔
’’چوہدری صاحب! کیا تمہیں معلوم ہے کہ آج کل اپنے ملک میں غریب اور بے روز گار عوام کی تعداد کتنی ہے…؟ اچانک اس نے پوچھا۔
’’کئی لاکھ۔‘‘ میں نے بغیر سوچے اور بے پروائی سے جواب دیا۔
’’نہیں اس سے کہیں زیادہ…‘‘ عامر کے لہجے میں عجیب سی جھلاہٹ تھی۔
شکر ہے میرے پاس اﷲ کا دیا سب کچھ ہے ۔ میں نے خوش دلی سے سوچا لیکن جب میں نے سر اٹھا کر دوبارہ اس کی طرف دیکھا تو اس کے اضطراب نے مجھے پریشان کردیا۔
’’کیا تم بھی کسی جاگیر دار کے بیٹے ہو…؟‘‘ اس نے بڑے بے تکے اور غیر مہذب انداز میں پوچھا۔
میں نے سوچا اس کے خیال میں میرے باپ کی کوئی زیادہ زمین نہیں ہے اس لیے وہ سوال پوچھ کر مجھے کمتری کا احساس دلانا چاہتا ہے۔ میں نے مسکرا تے ہوئے فخر یہ کہا۔
’’یقینا میری حیثیت کے آدمی کے پاس زمین ہونی چائیے۔ میرے پاس میرے باپ کی دی ہوئی وراثتی زمین ہے۔‘‘
اس نے طنزیہ انداز میں قہقہہ لگاتے ہوئے میری طرف ایسی نظروں سے دیکھا جس میں رشک کے بجائے حقارت کا اظہار تھا۔ وہ عام زمین دار کو حقیر جان رہا تھا۔ میرے لیے یہ حیران کن بات تھی مجھے خود اپنے کانوں پر یقین نہیں آرہا تھا لیکن فوراً غور کرنے پر میری سمجھ میں آیا کہ وہ محض حسد کی وجہ سے ایسا کر رہا تھا کیونکہ اس کی کفایت شعارانہ زندگی سے ظاہر تھا کہ وہ کسی زمین دار باپ کا بیٹا نہیں ہے… میں نے ہمدری سے پوچھا۔
’’کیا چوہدری کرم دین کی نوکری کے علاوہ اور کوئی کاروبار بھی ہے؟‘‘ میری حیرت کی انتہا نہ رہی جب اس نے میری طرف دیکھتے ہوئے بڑی افسردگی سے کہا۔
’’میرا دادا غلام رسول اور میرا باپ اعجاز رسول شروع دن سے ہی چوہدری کرم دین کے کارندے ہیں۔‘‘
اس کے کہنے کا انداز ایسا تھا جیسے کوئی بہت ہی مجبوری ہو۔
’’ایسا نہیں ہوسکتا۔‘‘ میں بوکھلا اٹھا۔
’’بھلا دوستوں میں ایسی انکساری کی کیا ضرورت ہے؟‘‘
’’انکساری ؟ مجھے انکساری کی کیا ضرورت ہے؟ ‘‘ اس نے اس طرح حیران ہو کر کہا جیسے میں نے بہت عجیب بات کہی ہو۔
’’تم جو کہہ رہے ہو کہ میرے بزرگ چوہدری کے نوکر تھے۔ اور کوئی کاروبار بھی نہیں تھا۔‘‘
’’ہاں! نوکر ہی تھے پھر…؟‘‘
’’لیکن تم تو یونیورسٹی میں پڑھ رہے ہو۔‘‘ مجھے ابھی تک یقین نہیں آیا تھا۔
’’کیوں کیا مزدور کا بیٹا یونیورسٹی میں نہیں پڑھ سکتا؟‘‘ اس نے کہا اور پھر ملامت آمیز لہجے میں پوچھا۔
’’ہوسکتا ہے قیام پاکستان سے پہلے تمہارے بزرگ بھی کسی بڑے زمین دار کے نوکر ہوں؟‘‘
میں اس طرح اچھل پڑا جیسے کسی نے میرے سر پر ڈنڈا دے مارا ہو۔ یہ میری بے عزتی تھی ۔ غصے کے مارے میں کھڑا ہوگیا۔
’’تمہارا کیا خیال ہے میرے بزرگ کیا تمہارے بزرگوں جیسے تھے؟‘‘ میں نے قہر آلود نظروں سے اسے گھورتے ہوئے کہا۔
’’میں نے تمہیں بتایا تھا کہ میرے بزرگ کسی جاگیر کے مالک نہ تھے لیکن اپنی اوقات کے مطابق عام سے زمین دار تھے۔ ان سے پہلے جو بزرگ تھے یقینا وہ بھی زمین دار ہوں گے۔ ‘‘
وہ میرے منہ پر میرے بزرگوں کو نوکر کہہ رہا تھا ۔ زندگی میں کبھی کسی نے اتنی میری بے عزتی نہیں کی تھی ۔ میرے لیے یہ ناقابل برداشت تھا ۔ میں نے سختی سے اسے گھورا تو لیکن جب ہماری نگاہیں ملیں تو ایک مقناطیسی کشش نے آہستہ آہستہ میرا غصہ ختم کردیا۔
’’ٹھیک ہے میں تمہاری بات مان لیتا ہوں لیکن مجھے یہ کہنے دو کہ مجھے اپنی غربت پر فخر ہے اور میں اس بات پر بھی خوش ہوں کہ میں کسی جاگیر دار کا بیٹا نہیں ہوں۔‘‘ حسد اور جلن اس کے الفاظ سے ظاہر ہورہی تھی۔ یہ سوچ کر مجھے بے ساختہ ہنسی آگئی۔
’’کس بات پر ہنس رہے ہو۔‘‘ اس کا چہرہ سپاٹ لگا۔
’’ہاں میں بہت خوش ہوں کہ میں ایک مزدور کا بیٹا ہوں۔ مزدور اپنے پسینے کی کمائی سے اپنے بچوں کا پیٹ بھرتا ہے لیکن تم ان باتوں کو کیا جانو۔ ایسے آراستہ کمرے میں ریشمی لحاف اوڑھ کر سہانے خواب دیکھنے والا ان باتوں کا مفہوم نہیں سمجھ سکتا۔ میرا جی چاہتا ہے کہ تم لوگوں کی آنکھیں کھول دوں۔ ہاں میں ایک نوکر کا بیٹا ہوں ۔ مجھے اس سے انکار نہیں بلکہ اس پر فخر ہے۔‘‘
میں نے سوچا کہ اس کا دماغ خراب ہوگیا ہے اس لیے اس سے جان چھڑانی چاہیے۔ ایسا نہ ہو کہ وہ کوئی مصیبت کھڑی کردے لیکن وہ مسلسل بولے جارہا تھا۔
’’تم زمین دار ہو۔ جس پر تمہیں اطمینان اور خوشی ہے لیکن کیا تم نے کبھی یہ سوچا ہے کہ ایک مزدور کی زندگی کیسے گزرتی ہے۔ کیا تم ان میں سے کسی ایک کی زندگی کے بارے میں بتاسکو گے؟ نہیں تم نہیں بتاسکو گے اس لیے مجھے ان کی کہانی بیان کرنے دو۔‘‘
’’میرا دادا غلام رسول اور میرا باپ اعجاز رسول دونوں ہی چوہدری کرم دین کے نوکر تھے۔ میں نے اپنے بزرگوں سے بڑھ کر وفادار کوئی نہیں دیکھا ۔ انہوں نے چالیس سال تک چوہدری کرم دین کے کھیتوں میں ہل چلایا۔ میرے باپ نے بھی چھوٹی عمر میں ہل چلانا سیکھ لیا تھا۔ جب میں نے ہوش سنبھالا تو اس وقت اس کے بال سفید ہوچکے تھے۔ میں نے اکثر دیکھا کہ چوہدری کرم دین اور اس کے بیٹے کو بر ا بھلا کہتے اور وہ خاموش سر جھکائے سب کچھ سنتا رہتا تھا۔ ہم چوہدری کرم دین کی حویلی کے پچھواڑے ایک شکستہ چھپر کے نیچے رہتے تھے۔ میرا باپ ‘ ماں ‘ دادا اور میں میری ماں رات گئے تک چوہدرانی اور اس کی بیٹیوں کی خدمت میں لگی رہتی تھی۔ اس لیے اسے سونے کا بہت کم وقت ملتا تھا۔ موسم سرما کی تیز ہوا سے ہمارا چھپر ہلتا رہتا اور جب یخ ہوا سوراخوں سے اندر داخل ہوتی تو پہلے لحاف کا بستر سردی روکنے میںناکام ہوجاتا۔ میرا دادا اور میرا باپ باہر جا کر سوکھی ٹہنیاں پتے گھاس پھونس اکٹھا کرکے لاتے اور آگ جلالیتے۔ جب سردی کا احساس کم ہوتا تو میرا دادا بھولی بسری باتیں یاد کرنے لگتا۔ وہ مجھے اپنی طرح ایمان داری اور وفا داری سے چوہدری کرم دین کی خدمت کرنے کی تلقین کرتا۔ اچھائی اور محنت کا انعام ضرور ملتا ہے وہ کہا کرتا تھا۔
میرا باپ بہت کم بات کرتا تھا ۔ دادا کا لیکچر ختم ہونے تک آگ بجھ چکی ہوتی اور ہم تینوں سردی میں ٹھٹھرے ہوئے اپنے اپنے بستر پر لیٹ جاتے۔ ایک دن آخر دادا کو اس کی اچھائی کا سبق مل گیا۔ گرمیوں کی ایک صبح ہم بے دار ہوئے تو بستر پر نہیں تھا ۔ بعد میں اس کی لاش باغ میں آم کے درخت سے لٹکی ہوئی ملی۔ ماں نے مجھے آخری وقت تک اس کا چہرہ نہیں دیکھنے دیا۔ اس کی لاش وہاں سے اتار کر ایک چارپائی پر ڈال دی گئی جسے سفید کپڑے سے ڈھانپا ہوا تھا۔ میں اس کے گرد آلود پاؤں ہی دیکھ سکا۔ یہی اس کا آخری دیدار تھا جو میں کرسکا تھا۔ اس نے خودکشی کیوں کی؟ وجہ بہت ساری تھی۔ ایک روز قبل چوہدری کرم دین کی چند قیمتی چیزیں گم ہوگئی تھیں۔ جن کی چوری کا الزام میرے دادا پر لگادیا گیا تھا۔ دادا کی وفاداری سراپا احتجاج بن گئی۔ وہ خواب میں بھی چوہدری کرم دین کے ہاں چوری کرنے کا تصور نہیں کر سکتا تھا ۔ اسے ناکردہ جرم کی سزا میں نہ صرف مارا پیٹا گیا بلکہ اس سے چیزوں کی واپسی کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ میرا دادا انتہائی شرمسار تھا کہ وہ اپنے مالک کا اعتماد حاصل کرنے میں ناکام ہوگیا تھا اور اس بات نے اسے اور بھی دل شکستہ کردیا تھا کہ چوہدری کرم دین کی سال ہا سال خدمت کرنے کے باوجود اس کے پاس ایک روپیہ نہیں تھا جو وہ نقصان کی تلافی کے لیے ادا کر سکتا۔ اس طرح چالیس سال کی خدمت کے بدلے میں اس نے اپنی اجرک کی مدد سے باغ میں آم کے درخت کے ساتھ لٹک کر جان دے دی۔ یہ تھا اس کا انعام۔ اگرچہ پورے گاؤں والوں نے اس کی موت پر افسوس کا اظہار کیا تھا لیکن چوہدری کرم دین کی نظر میں وہ چور ہی تھا۔ اس طرح اب میں نہ صرف ایک مزدور کا بیٹا تھا بلکہ ایک چور کا پوتا بھی تھا۔
مجھے یقین تھا کہ میرا دادا چوری نہیں کرسکتا تھا کیونکہ یہ اس کی فطرت ہی نہیں تھی۔ وہ ایک نیک آدمی تھا۔ اس شام جب میرا باپ مجھے اپنے بازوؤں میں لے کر لیٹا تو ساری رات سسکیاں لیتا رہا اور میں بھی رات بھر سو نہیں سکا۔ بابا کے معصوم چہرے کے تصور سے میری آنکھیں بار بار آنسوؤں سے بھیگ جاتی تھیں۔ اچانک مجھے یوں محسوس ہوا جیسے اپنے دادا کے بازوؤں میں ہوں۔ میں اس سے لپٹ کر روتے ہوئے بولا کہ دادا میں کبھی نہیں مان سکتا کہ تم نے چوری کی ہے۔ چور کوئی اور شخص ہوگا۔ صبر کر بیٹا صبر کر… میرے باپ کی آواز تھی۔ میں نے اپنی آنکھوں سے آنسو پونچھے تو وہ زارو قطار رونے لگ گیا۔ وہ اب ہچکیوں کے ساتھ روتے ہوئے کہہ رہا تھا۔
بیٹا تم ٹھیک کہتے ہو۔ تمہارا دادا چور نہیں تھا۔ میں جانتا ہوں اصل چور کون ہے۔ میں اس کا بازو تھا م کر ضد کرنے لگا کہ مجھے اس کے بارے میں بتاؤ گے میں نے وعدہ کرلیا تو وہ بولا۔ اصل چور چوہدری کرم دین کا بیٹا چوہدری جمال دین ہے۔ میرے باپ کے لہجے میں تلخی تھی۔ تمہارے دادا کو اس کا علم تھا لیکن اس نے اپنی جان دے کر اس پر حرف نہیں آنے دیا۔ اسی وجہ سے میں بھی سچ نہیں بول سکتا۔ وہ ہم سے ہمیشہ کے لیے بچھڑ چکا ہے۔ اب میں یہ بات کروں بھی تو کون یقین کرے گا۔ البتہ ہم کسی بڑی مصیبت میں گرفتار ہوجائیں گے۔ اس وقت میں اپنے باپ کی بات کا مطلب نہیں سمجھ سکا تھا لیکن خوف کی وجہ سے میں نے مزید کوئی سوال نہیں کیا۔ میں اپنے دادا کو یاد کرکے بہت روتا تھا ۔ اب صرف میرے ماں باپ ساتھ تھے اور ہم ایک دوسرے کو بہت چاہتے تھے۔ دادا کے مرنے کے بعد میرا باپ بہت پریشان رہنے لگا تھا۔ پھر اس کے بعد اس کے چہرے پر شاید ہی مسکراہٹ آئی ہو۔ سردیوں کے ایک دن میں اور میرا باپ آگ کے قریب بیٹھے تھے کہ اچانک باہر شور سنائی دیا۔
کوئی چلارہا تھا۔ ’’لوگو میری مدد کرو…لوگو مجھے بچاؤ۔‘‘ خوف کے مارے میں اپنے باپ سے لپٹ گیا۔ اس نے مجھے تسلی دیتے ہوئے آہستہ سے کہا۔ ڈرو نہیں بیٹا میں جو آپ کے پاس ہوں۔‘‘ پھر باہر خاموشی چھاگئی۔ لیکن زیادہ دیر نہیں گزری تھی کہ گاؤں کے چوکی دار نے آکر میرے باپ سے کہا کہ اسے حویلی میں چوہدری صاحب بلا رہے ہیں۔ وہ اسی وقت حویلی چلا گیا۔ میں نے اس کا بہت انتظار کیا جب میرا باپ واپس نہ آیا تو مجھے اکیلے میں ڈرلگنے گا تھا۔ آخر وہ آگیا اس کے ساتھ ماں تھی۔ وہ دونوں رو رہے تھے۔ میرے باپ نے مجھے اپنے بازوؤں میں سمیٹ لیا اور بری طرح رونے لگا۔ اس رات ہم تینوں جاگتے رہے۔ میرا باپ انتہائی مایوسی کے عالم میں میری ماں سے باتیں کر رہا تھا مجھے اس کی باتیں تو سمجھ نہیں آرہی تھیں لیکن اتنا یاد ہے وہ کہہ رہا تھا کہ مجھے مرجانے دو۔ ایسی زندگی کا کیا فائدہ۔ ہم چوہدری کے نوکر ہیں ہمیں وہی کرنا ہے جو چوہدری ہمیں حکم دیں گے۔ ہماری اولاد کی زندگی میں بھی یہی غلامی ہے۔
اگر میں زندہ رہا تو میرا عامر بھی نوکر ہی بن سکتا ہے اور یہ غلامی کا سلسلہ مجھ سے دیکھا نہیں جاتا۔ بہتر یہی ہے کہ میں چوہدری کرم دین سے تھوڑی رقم حاصل کرلوں تاکہ عامر تعلیم حاصل کرسکے اور بڑا ہو کر دنیا میں اپنے لیے کوئی نیا راستہ اختیار کرسکے۔ اس وقت میرے باپ نے جو کچھ کہا تھا وہ مجھے آج بھی یاد ہے میری ماں سارا وقت روتی رہی اور کہتی رہی کہ میں تمہارے بغیر کیسے زندہ رہوں گی؟ گھریلو حالات دیکھ کر میں بھی رو رہا تھا۔ اگلی صبح ابھی ہم بستر پر ہی تھے کہ پولیس میرے باپ کو لینے آگئی۔
اس پر ایک دن پہلے کسی کو قتل کرنے کا الزام تھا لیکن میں کیسے یقین کرسکتا تھا جب کہ شام کو وہ میرے ساتھ آگ کے قریب بیٹھا تھا۔ جب باہر شور ہوا تو وہ مجھے اپنے بازوؤں میں لے کر تسلی دے رہا تھا۔ وہ باہر گیا ہی نہیں تو کسی کو قتل کیسے کرسکتا تھا؟ میرا باپ اپنی صفائی میں ایک لفظ کہے بغیر خاموشی سے سر جھکائے پولیس والوں کے ساتھ چلا گیا۔ میری ماں سکتے کے عالم میں کھڑی تھی۔ میں پاگلوں کی طرح اس کے پیچھے بھاگا مگر پولیس والوں نے مجھے دھکا دے کر گرا دیا اور میں نے اپنے باپ کو کبھی نہیں دیکھا۔
چند ماہ بعد وہ جیل میں ہی بیمار ہو کر مرگیا اور اس کا جنازہ ہی گھر آیا۔ میری ماں نے چوہدری کرم دین کے گھر کا کام چھوڑ دیا تھا اور ہم دوسرے محلے میں رہنے لگے تھے۔ انہی دنوں میں اسکول میں پڑھنے لگ گیا۔ یہ بات بھی مجھے بعد میں معلوم ہوئی کہ وہ قتل چوہدری کرم دین کے بیٹے جمال دین نے کیا تھا۔ میں چوہدری اور اس کے بیٹے سے نفرت کرتا تھا۔ آج میں جس مقام پر ہوں وہاں تک پہنچانے کے لیے میرے باپ اور میری ماں کی شفقت کا ہاتھ تھا۔ میرے والدین کی محنت‘ ان کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور چاہے کچھ بھی ہوجائے میں غلامی کا یہ سلسلہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم کردوں گا۔ ‘‘ وہ خاموش ہوگیا مگر اس کے چہرے کی خوفناک سی کیفیت تھی۔ وہ ہونٹ کاٹتے ہوئے بمشکل اپنا غصہ ضبط کر رہا تھا یوں لگتا تھا کہ جیسے وہ انتہائی اذیت سے گزر رہا ہو۔ میں خود بھی دل گرفتہ تھا لیکن اس کے باوجود اسے سوالیہ نظروں سے دیکھ رہا تھا۔
’’عامر! کوئی اور بھی ایسی تکلیف دہ بات ہے جو تم چھپا رہے ہو؟‘‘ میں نے پوچھا اور شاید اس نے میرے دل کی بات جان لی تھی۔ اس کا چہرہ سرخ ہوگیا اور پھر وہ کمرے میں ایک آدھ چکر لگا کر دوبارہ بیٹھ گیا۔
’’ہاں ابھی کہانی ختم نہیں ہوئی۔‘‘
’’میں نے تم سے کچھ باتیں چھپائی ہیں لیکن اب تمہیں وہ بھی بتادوں گا۔ ایک روز میں خلاف معمول اسکول سے جلد گھر آگیا تو دیکھا کہ ماں ایک مرد کے ساتھ بیٹھی تھی انہوں نے مجھے نہیں دیکھا تھا۔ میں خاموشی سے باہر چلا آیا۔ غصہ اور شرم سے میرا برا حال تھا۔ اس وقت سخت محنت سے تعلیم حاصل کر رہا تھا اور میری ماں گھر میں اپنا آپ اجاڑ رہی تھی۔ یہ کس قدر اذیت ناک بات تھی جب کہ مجھے اپنی ماں سے اتنا پیار تھا کہ میں اس پر ہاتھ اٹھانے کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھامیں نے آدمی کو پہچان لیا تھا۔ وہ چوہدری کرم دین کا بیٹا چوہدری جمال دین تھا جس نے میرے دادا اور میرے باپ کو مرنے پر مجبور کردیا تھا اور اب میری ماں کو تباہ کر رہا تھا۔ میں نے اپنے کانوں سے سنا۔ میری ماں کہہ رہی تھی جلدی کرو اس سے پہلے کہ عامر آجائے…تم چلے جاؤ۔ چوہدری جمال دین نے کچھ کہا جس کے جواب میں ماں کی آواز پھر سنائی دی۔ چوہدری صاحب ہم پر رحم کرو۔ یہاں نہ آیا کرو۔ ایسا نہ ہو کہ میرا بیٹا عامر تمہیں دیکھ لے۔ جب میں دوبارہ گھر آیا تو ماں اکیلی بستر پر سر جھکائے کسی سوچ میں گم تھی۔ میں اس کی طرف لپکا تو وہ ایک دم چونک پڑی اور گھبرا کر بولی۔
’’تم آگئے …؟ ‘‘
میں غصے اور ذلت کے احساس سے پاگل ہورہا تھا۔
’’ماں تمہیں شرم آنی چائیے۔‘‘ میں چلایا۔
’’میں اسکول جاتا ہوں اور تم گھر میں اس طرح…ایسا کیوں ہوا ماں؟‘‘
’’عامر بیٹے …‘‘ ماں ایک دم چیخ اٹھی اور پھر بلک بلک کر رونے لگی۔ دفعتاً ماں کا پیار میرے غصے پر حاوی ہوگیا۔ مجھے یاد آنے لگا کہ وہ کس طرح دن رات میرا خیال رکھتی تھی۔ میں سبق یاد کرتا تو سارا وقت میرے قریب بیٹھی مجھے پیار سے دیکھتی رہتی۔ میرے آرام کا خیال رکھتی اور میری ہمت بندھاتی ۔
’’ مجھے معاف کردو ماں ۔ مجھے اس طرح تمہارا دل نہیں دکھانا چاہئیے تھا۔ مجھے معاف کردو۔‘‘
اس نے سر اٹھا کر میری طرف دیکھا اور پھر میرا بازو پکڑ کر اپنے قریب بٹھا لیا۔
’’تم ٹھیک کہتے ہو عامر۔‘‘ اس کے لہجے میں بلا کا کرب تھا۔ معافی تو مجھے مانگنی چاہیے۔ تمہارے باپ کے مرنے کے بعد میرا سب کچھ تم ہی ہو۔ میں تمہارے باپ کے ساتھ ہی مرچکی ہوں۔ میں صرف تمہارے لیے زندہ ہوں ۔ اگر تم نہ ہوتے تو میں تمہارے باپ کے ساتھ ہی مرچکی ہوتی۔ کیا تمہیں اپنے باپ کے آخری الفاظ یاد نہیں ہیں؟ اس کی ایک ہی خواہش تھی کہ تم پڑھ لکھ کر ایک عظیم انسان بن جاؤ تاکہ دنیا میں باعزت زندگی بسر کرسکو۔ اگر وہ اس مقصد کے لیے جان دے سکتا ہے تو میں ایسا کیوں نہیں کرسکتی؟ میری بدنصیبی کا آغاز تو اس دن سے ہوگیا تھا جس دن میں چوہدری کرم دین کے گھر کے کام پر مامور ہوئی تھی۔ اس دن سے جمال نے مجھے تنگ کرنا شروع کردیا تھا۔ اور میرے لیے اس سے بچنے کا کوئی راستہ نہیں تھا۔ جب تمہارا باپ مر گیا اور ہم وہاں سے دوسرے محلے میں چلے آئے تو وہ یہاں میرا پیچھا کرنے لگا کیونکہ یہاں پر آنا اس کے لیے آسان تھا۔ اور میرا قصور یہ ہے کہ میں بدصورت نہیں ہوں اور ہم ان کی جاگیر میں رہتے ہیں۔ خاص طور پر تمہارا مستقبل میری آنکھوں کے سامنے تھا۔ ان کی مدد کے بغیر ہم کچھ نہیں کرسکتے اور یہ وحشی درندہ تو سب کچھ کرسکتا ہے …میرے بیٹے ! خدا کے لیے مجھے معاف کردو۔ تم جب تک اپنی تعلیم مکمل نہیں کرلیتے میں سب کچھ برداشت کرلوں گی۔‘‘ ماں نے مجھے گلے لگالیا۔ میرے دل میں اس کے لیے پیار ہی پیار تھا۔
’’یہ تم پر بہت زیادتی ہے ماں!‘‘ میں نے دکھ سے نڈھال ہو کر کہا۔
’’میں اسکول نہیں جاؤں گا ۔ میں تمہیں اس عذاب میں مبتلا نہیں دیکھ سکتا۔ میں تعلیم کے بجائے مشقت کو ترجیح دوں گا۔ ‘‘ اس نے ایک دم سے میرے منہ پر ہاتھ رکھ دیا۔ بولی۔
’’بے وقوفی کی باتیں مت کرو۔ تمہیں ہر قیمت پر تعلیم حاصل کرنی ہے اس مقصد کی خاطر میں تمام عمر لوگوں کے برتن صاف کرنے کو تیار ہوں۔‘‘ اس دن ماں مجھے سارا وقت سمجھاتی رہی اور دلائل سے زیادہ اس کے آنسوؤں نے مجھے اس کی بات ماننے پر مجبور کردیا۔ دوسرے دن میں معمول کے مطابق اسکول چلا گیا۔ اور پھر میں نے کبھی پڑھائی چھوڑنے کی بات نہیں کی۔ اس امید پر میں اسکول میں انتہائی محنت سے پڑھتا تھا کہ اعلیٰ تعلیم ہی روشن مستقبل کی طرف جانے کا راستہ ہے۔ میں نے اپنے والد کی خواہش کے مطابق اس غلامی کی زندگی کو ختم کرنے کا مصمم ارادہ کر رکھا تھا لیکن تلخ حقیقت مجھے چین لینے نہیں دیتی تھی۔ میرا ماضی کسی بد روح کی طرح میرے تعاقب میں رہتا تھا۔ زندگی کرب کے سوا کچھ بھی نہیں۔ خاص طور پر میرے جیسے انسان کو سال ہا سال کی غلامی سے نکلنے کی کوشش کر رہا ہو۔
لیکن میں ناامید نہیں ہوا کیونکہ میری ماں کے پیار نے مجھے مشکلات سے نبرد آزما ہونے کا حوصلہ دیا تھا۔ جمال اب بھی بدستور ہمارے گھر آتا تھا۔ اس جان لیوا اذیت کو جس طرح میں برداشت کر تا تھا میں نے کبھی اپنی ماں پر ظاہر ہونے نہیں دیا۔ جب وہ چلا جاتا تو ماں بالکل مختلف عورت نظر آتی۔ وہ پاگلوں کی طرح روتی رہتی اور میں دیر تک اسے تسلیاں دیتا رہتا۔ اگر یہ سب اسی لیے ہوتا رہتا تو مجھے یقین تھا میری ماں بہت جلد مرجاتی لیکن پھر جمال کو ایک اور لڑکی مل گئی اور اس نے ہمارے گھر آنا چھوڑ دیا۔ اس طرح ماں نے آنے والے دن سکون سے گزارے۔
یہاں تک کہ میں یونیورسٹی میں داخل ہوگیا… آج میری ماں کو مرے ہوئے پورے تین سال ہوگئے ہیں لیکن میں اسے ایک لمحہ کے لیے بھی نہیں بھول سکا اور نہ ہی اپنے دادا اور باپ کو ۔ میں جب بھی انہیں یاد کرتا ہوں تو مجھے کبھی ندامت کا احساس نہیں ہوتا اور نہ ہی میرے لیے شرمندگی کا باعث ہیں بلکہ میں ان پر فخرکرتا ہوں…بے شک میرے دادا نے ایک چور کی حیثیت سے خودکشی کی۔ میرے باپ نے قتل کا مجرم بن کر جیل میں جان دی اور میری ماں نے ایک داشتہ کے روپ زندگی گزاری لیکن کیا تم ان سب گناہوں کے لیے انہیں قصور وار ٹھہرا سکتے ہو؟ انہوں نے کسی کا کیا بگاڑا تھا۔‘‘ وہ بہت جذباتی ہورہا تھا۔
’’میں جانتا ہوں تم انہیں ذلیل لوگ جانو گے لیکن وہ سونے کا دل رکھنے والے لوگ تھے میں ان کی یاد میں ساری ساری رات جاگتا ہوں۔ اس وقت مجھے بہت اذیت ہوتی ہے جب میں سوچتا ہوں کہ میں یہاں آرام دہ بستر پر دراز ہوں جب کہ میرے وطن‘ پیارے وطن کے لاکھوں غریب لوگ مشقت کی مصیبت زدہ زندگی گزار رہے ہیں۔ ویسی ہی مصیبت زدہ زندگی جو میرے دادا نے گزاری تھی۔ کوئی بوڑھا چوری کا ملزم ٹھہرائے جانے پر خودکشی کرنے پر مجبور ہوگا۔ کوئی نوجوان ناکردہ جرم کی سزا میں جیل کی سلاخوں کے پیچھے دم توڑ رہا ہوگا۔ کوئی ماں کسی چوہدری کی ہوس کا نشانہ بن کر سسک رہی ہوگی اور کوئی بچہ اپنے باپ سے لپٹ کر آنسو بہا رہا ہوگا اور ان کا چوہدری سہانے خواب لیے سویا ہوا ہوگا۔
میں ایسی زندگی پر لعنت بھیجتا ہوں اگر میرا بس چلے تو میں دنیا سے چوہدراہٹ کا وجود ہی ختم کردوں۔ انہیں لوگوں نے میرے بابا کو خودکشی کرنے پر مجبور کیا ۔ میرے باپ کی زندگی چھینی اور میری ماں کی زندگی پامال کی۔ اب وہ سب ختم ہوچکے ہیں مگر چوہدری کرم دین اور اس کے بیٹے ابھی تک زندہ ہیں ۔ میں ان سے انتقام ٖضرور لوں گا۔ وہ اٹھ کر کھڑا ہوگیا اور کھڑکی سے باہر دیکھنے لگا۔ دیکھو …‘‘اس نے باہر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ میں نے دیکھا ‘ اس کا اشارہ گلی کی طرف تھا جہاں ایک فیشن ایبل جوڑا اپنی مستی میں جارہا تھا۔
’’ہم لوگ سا ل ہا سال سے ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں۔ ہمارے دادا خودکشی کرلیتے ہیں ۔ ہمارے باپ جیلوں میں سسک سسک کر مرجاتے ہیں۔ ہماری مائیں بے آبرو ہوجاتی ہیں اور ہمارے بچے چیخ چیخ کر روتے ہیں لیکن ان امیر زادوں میں ایک بھی ایسا نہیں ہے جس کے ضمیر نے اسے ملامت کی ہو۔ ‘‘ عامر کی آواز میں برسوں کی اذیت اور تکلیف کا کرب تھا۔ مجھے یوں محسوس ہورہا تھا جیسے مجھے کوئی کوڑے لگا رہا ہو۔ میری نظروں کے سامنے بے شمار درد ناک مناظر گھومنے لگے۔
میںایک زمین دار کا بیٹا تھا۔ اس کی باتیں میرے دل پر بجلی کی مانند برسنے لگیں۔ اب میں اپنے آپ کو جمال کی جگہ تصور کر رہا تھا جس نے عامر کے دادا کو تباہ کیا۔ اس کے باپ کو اپنے جرم کا سزا وار ٹھہرایا اور اس کی ماں کی بے حرمتی کی۔ انتقام میں سلگتی ہوئی آنکھوں نے مجھے بری طرح خوف زدہ کردیا تھا۔ میں سر جھکا کر بیٹھ گیا۔ مجھے محسوس ہورہا تھا جیسے میرے منہ پر کوئی طمانچہ لگار ہا ہو۔
’’ چوہدری صاحب! کیا ہوا؟‘‘ وہ نرمی سے پوچھ رہا تھا۔ مجھ میں بولنے کی سکت نہیں تھی۔ میں نے خاموشی سے آنسو پونچھ ڈالے اور بڑی ہمت کرکے پوچھا۔
’’عامر! تم نے میری جان کیوں بچائی جب کہ تم جانتے تھے کہ میں ایک زمین دار کا بیٹا ہوں۔ تم نے کیوں مجھے کار کے نیچے کچل جانے نہیں دیا…؟‘‘
اس کے چہرے پر ایک بار پھر اداس سی مسکراہٹ پھیل گئی۔ بولا۔
’’ایک انسان ہونے کے ناتے۔‘‘
میں آنسوؤں کی دھندلاہٹ میں خاموشی سے اس کی جانب دیکھ رہا تھا۔ اس نے بھی میری طرف دیکھا اور کہنے لگا۔
’’اپنی خوشیوں کے بجائے دوسروں کی خوشیاں تلاش کرنا اور اپنی زندگی کو دوسروں کی زندگی کے لیے قربان کردینا ہی انسانیت ہے اورمجھے یہ انسانیت کا سبق اپنے بزرگوں سے وراثت میں ملا ہے ۔ میرے دادا سے میرے باپ سے مجھے…خدا جانے کب ایسی سوچوں اور اس نام کی زندگی سے چھٹکارہ حاصل کرسکوں گا؟ ‘‘ اس کی کرب ناک آواز نے میرے اعصاب شل کردیئے تھے۔ ندامت اور صدمے کی شدت سے بے حال ہوگیا تھا۔ پھر وہ اٹھ کر چلا گیا۔
اس کے بعد میں نے اسے شاد و نادر ہی کبھی دیکھا ہو۔ اب وہ نہ کھیل کے میدان میں نظر آتا اور نہ ہی شہر کی طرف جاتا۔ میں اس سے ملنے کئی بار اس کے کمرے میں گیا لیکن وہ نہیں مل سکا۔ رفتہ رفتہ ہم ایک دوسرے کے لیے اجنبی بنتے جارہے تھے لیکن مں اسے اور اس کی باتوں کو ایک لمحہ کے لیے بھی بھول نہیں سکا۔ وقت گزرتا گیا۔ یونیورسٹی چھوڑے ایک عرصہ بیت گیا مگر اب بھی جب کبھی دوستوں کی محفل میں زمینوں کا ذکر ہوتا تو میں بڑے فخر سے کہتا کہ میں ایک زمین دار ہوں اور میری خواہش ہے کہ ابھی اور زمین خریدوں تاکہ میں بھی اپنے علاقے کا بڑا زمین دار بن سکوں۔ اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد کسی حدتک میری یہ خواہش پوری ہوگئی۔ میری زمین میں اضافہ ہوگیا تھا اور میں نے ملازم بھی زیادہ رکھ لیے تھے جو نہایت وفاداری سے میری خدمت کرتے تھے۔میں بہت خوش اور مطمئن تھا لیکن میں ظلم کی وہ داستان نہیں بھولا تھا جو کبھی عامر نے مجھے سنائی ۔
ایک دن میں اور میری بیوی باغ میں بیٹھے ٹھنڈی ہوا سے لطف اندوز ہورہے تھے کہ ہمارے ایک ملازم نے مجھے اس روز کا اخبار لا کر دیا۔ میں نے اخبار پڑھنا شروع کیا تو میری نظر ایک مزدور لیڈر کے قتل کی خبر پر پڑی۔ مزدور لیڈر کا نام عامر تھا۔ مجھے یقین ہوگیا کہ یہ وہی عامر ہے جو میرا محسن تھا۔ جس نے میری جان بچائی تھی اس کی کہانی پھر میرے ذہن میں تازہ ہوگئی۔
ایک اور سونے کا دل رکھنے والا شہرخموشاں میں جا بسا تھا۔ اس دنیا سے چھٹکارہ شاید اس کے لیے خوشی کی بات ہو۔ میں نے سوچا اس نے میری جان بچائی تھی میں احسان مندی کے احساس سے مغلوب ہو کر آہ بھر ے بغیر نہ رہ سکا۔
’’ چوہدری صاحب اچانک آہیں کیوں بھرنے لگے…؟‘‘ میری بیوی نے میرے قریب ہو کر پیا ر سے پوچھا۔
’’کچھ نہیں میرا ایک کلاس فیلو مرگیا ہے۔ ‘‘ میں نے اپنی بیوی کی طرف دیکھتے ہوئے افسردگی سے جواب دیا۔ اس کا چہرہ اور پیار سے چمکتی آنکھیں بھی عامر کی یاد میں میرے دل سے محو نہ کرسکیں۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close