Naeyufaq Nov-16

انتقام

جاوید احمد صدیقی

دونوں نہ جانے کس طرح اتنا عرصہ ساتھ رہ چکے تھے اور یہ سفر بھی جیسے تیسے گزار رہے تھے۔ جیکی ذرا کم بولنے والا اور تھوڑا صلح جو واقع ہوا تھا مگر مسز جیکی تو بد لحاظ بد زبان اور منہ پھٹ انتہا کی واقع ہوئی تھی اور بہت سی باتوں اور عادات میں وہ دوسری عورتوں سے مختلف تھی۔ اپنے فیصلوں میں کسی کی مداخلت پسند نہ کرتی تھی اور خود ہی سب کرنے کی عادی تھی۔ کئی دفعہ تو اس کے عمل پر دوسروں کی توقعات پر پورا نہ اترتی تھی اور دوسروں کی امیدوں کے برخلاف عمل درآمد ہوتا تھا۔ یہی کچھ اس نے جیکی کی بہن کی تدفین کی رسوم پر کیا اس کی بہن ایک پھیپھڑوں کی بیماری سے چل بسی تھی۔ اصل میں بے انتہا سگریٹ نوشی نے اسے تباہ کردیا تھا۔
تدفین اور دوسری تمام رسومات کے مراحل کے تمام اخراجات مسز جیکی نے ادا کئے تھے لوگ حیران تھے کہ یہ اس کی بہن تھی بھی نہیں پھر بھی…!ان رسومات پر کم از کم بیس ہزار خرچ ہوئے ہوں گے۔
مسٹر جیکی کی طرف کسی نے بھی توجہ نہ دی اور لوگوں کی نگاہوں سے بچنے کے لیے وہ پھولوں اورقد آدم پودوں کی آڑ لیتا رہا ایسی صورت حال نے اسے ذہنی پریشانی میں مبتلا کرکے اس کا موڈبے حد خراب کردیا تھا اور پھر یہ بھی کہ اس کی اپنی بیوی نے بھی تو اس کے احساسات کی پروا نہ کی اور پوچھا تک نہ تھا۔
’’یوں لگ رہا تھا کہ وہ تمہاری بہن نہیں‘میری بہن تھی۔‘‘مسز جیکی نے تلخ لہجے میں تبصرہ کیا۔
’’تمام تر بوجھ میرے اوپر تھا میرے تمام احباب متعجب تھے اگر چہ وہ اس سلسلے میں کچھ بولے نہیں۔‘‘
جیکی تو صرف گہرا سانس لے کر رہ گیا۔ اسے معلوم تھاکہ کہ اس کے پاس کوئی جواب نہیں اور نہ ہی اس کی بیوی کسی جواب کی منتظر تھی۔
دونوں ہی تاش کے کھیل کے شوقین تھے اور تمام فساد کی جڑ بھی یہی کھیل تھا۔ شادی کے شروع دنوں میں جیکی نے اسے بتایا تھا کہ اس کھیل میں کبھی بڑی رقم نہ دائو پر لگانا۔
جیکی نے نہ جانے یہ کیوں نصیحت کی حالانکہ اس کی بیوی مختلف قسم کی عورت تھی کسی بھی کھیل کا گیمبل اس کا جنون تھا۔ جتنا بڑا دائو اتنا ہی اس کا جنون جوش مارتا تھا۔ اس نے شوہر کے برعکس ہدایت کے بڑے بڑے دائو لگانے شروع کردیئے۔ دس بار دائو میں سات‘آٹھ بار وہ جیت جاتی۔ جیکی پریشان تھا کہ چھوٹے دائو لگانے کے باوجود اس کی مالی حیثیت خرابہوتی جارہی تھی۔
آخر جیکی نے فرسٹیشن اور حسد میں آکر بڑا دائو لگا دیا مگر ہار گیا اور اب وہ یہ کھیل کھیلنے کی پوزیشن میں نہ تھا۔ مسز جیکی کے طعن و تشیع میں اضافہ ہوتا چلا گیا وہ واقعی عقل سے کام نہیں لے رہی تھی کہ ایک بدحال مرد کی انا سے کھیل رہی تھی اور جیکی کے اندرونی جذبات سے بے خبر اپنی ہی رو میں چلتی جارہی تھی۔
جیکی کی بے رخی کا احساس شدید ہوتا چلا گیا اور پھر بہن کی تدفین کے اخراجات وغیرہ کو لے کر مسز جیکی نے اس کی بے عزتی بھی خوب کی تھی۔ جیکی فی الحال تو خاموشی سے سہہ گیا اور صبر کے ساتھ رہا کیونکہ وہ ایک مضبوط فیصلے پر پہنچ چکا تھا۔
کچھ روز کے بعد پھر پارٹی کا انتظام تھا۔اور جیکی کو بخوبی علم تھا کہ وہاں جوا تولازمی کھیلا جائے گا۔ جیکی نے پارٹی میں جانے سے انکار کردیا۔ یہ سنتے ہی مسز جیکی حسب معمول بھڑک اٹھی۔
’’تم ایک ناکام جواری ہو۔ اسٹیج کے جادوگر کے وطورپر پھر بھی قابل قبول تھے۔ اب تم اچھی طرح جانتے ہو کہ میں وہاں تنہا گئی تو دوست‘ احباب میرا کتنا مذاق اڑائیں گے۔‘‘
یہ سنتے ہی جیکی کا چہرہ توہین سے سرخ ہونے لگا کہ بیوی کا اشارہ اس کی بہن کی تدفین کی طرف ہے اس نے ضبط کی انتہا کردی مگر وہ جیکی کی خواہش تھی کہ ابھی اس چڑیل کا گلہ دبا کر خاتمہ ہی کر دو مگر اس کی بیوی کو کوئی پروا نہ تھی اس کی جارحیت بڑھتی جارہی تھی۔ اپنے آپ میں مگن۔
یہ سب کچھ اتنے حوصلے سے کرنے کی وجہ وہ جانتا تھا کہ جیکب اور اس کی بیوی کسی منزل کی جانب بڑھ رہے تھے۔ جیکی تاش کے کھیل کے ایک کھیل میں ناکام ہوچکاتھا۔ اس نے دوسرا کھیل منتخب کرلیا تھا جو پہلے کھیل سے بھی زیادہ خطرناک تھا اور وہ یہ کھیل ایک بار ہی کھیل سکتا تھا اور اسے یہ کھیل تو ہرحال میں جیتنا تھا ورنہ جلدی اور عجلت کے باعث یہ کھیل انتہائی تباہ کن ثابت ہوسکتا تھا۔ جیکی نے پارٹی میں شامل ہونے کی ہامی بھرلی اور مسز جیکی کے لبوں پر مسکراہٹ نمودار ہوگئی۔ وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ جیکی کے ذہن میں کیا خطرناک منصوبہ پل رہا ہے۔
یہ ایک بے تحاشہ بے تکلف اوربے ہودہ ہونے کے ناطے بھرپور پارٹی تھی۔جیکی ایک طرف صوفہ پر دھنسا سب کچھ دیکھ رہا تھا اور مختلف کھیل کھیلے جارہے تھے۔ جیکی نے اپنی بیوی کو بھی دیکھا جہاں وہ کھیل رہی تھی یہ ناممکن تھا کہ وہاں جیکب نہ ارد گرد منڈلارہا ہو!! وہ سوچتا ہی رہ گیاکہ اس کا ستارہ ہمیشہ خواب چمکتا تھا اور اس کی تمنا خاص تھی کہ اس کی بیوی قلاش ہو اور وہ ذہنی سکون محسوس کرے۔یہ اس کی خام خیالی تھی فوری طورپر ایسے امکانات دکھائی نہ دیتے تھے۔
چاقو زنی کے کھیل میں اچانک ہی کسی نے نئی اختراع کر ڈالی۔ حساس اور خطرناک بھی۔ نئی طرز کا جوا شروع ہونے جارہ اتھا بورڈ کے ساتھ ہی ایک آدمی چاروں ہاتھ پیر پھیلا کر کھڑا ہوگیا۔ اس کے پاس چار چاقو تھے۔ دو چاقو سامنے کھڑے شخص کی بغلوں کے نیچے بورڈ میں پیوست کرنے تھے ایک چاقو پھیلی ہوئی ٹانگوں کے درمیان اور آخر میں چوتھا چاقوسر سے چند انچ اوپر پھر شرطیں لگنے لگیں۔ ہال میں سنسنی پھیل گئی۔ لوگوں کا جوش و خروش قابل دید تھا۔
جیکی بھی اعصابی کشیدگی کا شکارہوگیا تھا۔ جس شخص نے خود کو دائوپر لگایا تھا سب سے زیادہ رقم اسے ہی ملنی تھی۔ نئے کھیل نے حاضرین میں زبردست تھرل پیداکردی تھی اور حیرات انگیز طورپر چاروں چاقو نشانے پر لگے اور ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔ معلوم نہیں یہ چاقو پھینکنے والے کا کمال تھا یا پھر اس شخص کی قسمت کی یاوری زورو پر تھی۔تاہم اس کی دلیری میں کوئی شخص نہیں تھا۔
دوسری طرف ایک انتھونی نام کے جواری نے بھی دائو کے لیے اپنے آپ کو پیش کردیا۔ چاقو زن تیار تھا ہال تالیوں کی گونج سے مسلسل شور بلند ہورہاتھا دو چاقو عین نشانے پر لگے۔
چاقو زن تیسرا وار کرنے کے لیے پرتول رہا تھا ۔جیکی محسوس کررہا تھا کہ انتھونی کچھ گھبراہٹ کا شکار ہورہا ہے تیسرا وار کیا گیا اور ستاھ ہی انتھونی کی درد و تکلیف میں ڈوبی چیخ پورے حال میں گونج گئی۔کیونکہ چاقو جسم میں پیوست ہوچکاتھا ۔لوگوں نے اسے صوفے پر لٹاکر فرسٹ ایڈ دی ۔ جو مزید جان لیوا عذاب درد سے بچ گیا اور کسی دوسرے نے نشانہ بننے کی جرات نہ کی۔
ہنگامہ معمول پر آگیا تھا کہ اورلوگ بھی مست ہورہے تھے اور تھوڑی دیر میں ہی ایک بدصورت بد شکل شخص نے ریوالور نکال کر چھت کی طرف فائر داغ دیا۔ یکدم خاموشی چھا گئی اس نے سب کے سامے چیمبر خالی کیا‘ پھر ایک گولی چیمبر میں داخل کردی اور چرخی گھمانے کے ساتھ ہی وہ معنی خیز انداز میں مسکرانے لگا۔
’’یہ کھیل ہم ملدی کلب میں کھیلا کرتے تھے اور دائو بھی اونچا اور خطرناک بھی بہت زیادہ۔‘‘
کچھ افرادنے مخالفت کی مگر وہ سب کچھ دیر پہلے والے حادثے کو فراموش کرچکے تھے۔ جیکی سپاٹ چہرے سے ہر چیز نوٹ کررہاتھا۔ یکدم جیکی کے ذہن میں ایک خیال آیا اور سمجھ گیا کہ کیا ہونے جا رہا تھا۔
دوسرا کھیل اسے شروع کردینا چاہئے جو پہلی اور آخری بات…ثابت ہوگا؟بدشخل نے پھر سب کو چیلنج کیا۔ بڑا ہاتھ ماریں مگر خطرہ بھی بڑا!! ویسے جیتنے کے چانس زیادہ ہیں چھ کے مقابلے میں ایک۔چیمبر میں صرف ایک گولی ہے۔کوئی قسمت آزمائے گا؟آئیے۔
جیکی نے بیوی کی جانب دیکھا۔ ہیجان اورجوش اورنسے کی وجہ سے اس کا چہر تمتما رہا تھا۔ایک خوبصورت جوڑا آگے آیا۔ اس کی پرجوش تالیوں سے استقبال کیا گیا۔ ہال کے وسط میں ایک کرسی پر بٹھایا گیا۔ بدشکل نے اصول وضوابط اور دائو کی رقم کی تشریح کی اور طریقہ کاربھیبتایا۔ ریوالور اس کی کنپٹی سے لگا دیا گیا اور یہ کھیل وہ اپنی مرضی سے کھیل رہا ہے اس بیان پر اس کے دستخط بھی کروالیے گئے اور دو گواہان نے بھی دستخط کئے تھے۔ نجوان کا چہرہ پرسکون تھا ۔بدشکل نے چرخی گھمائی اور سکتہ زدہ ناظرین کی طرف دیکھا اور پلی دبا دی۔ کلک کی تو آواز آئی اور نوجوان فاتحانہ انداز میں مسکراتا ہوا کھڑا ہوگیا۔ شور بپا ہوا کہ کان پڑی آواز نہ سنائی دے رہی تھی۔ نوجوان میز کے قریب آیا اور اس پررکھی ہوئی بھاری رقم سمیٹ رہا تھا بعض لڑکیاں اور لڑکے اس کا شانہ تھپتھپا رہے تھے اور کچھ رقص میں بھی مبتلا تھے۔
بدشکل نے یکدم جیکی کی طرف دیکھا اورکہا۔
’’تم…تم وہاں کیا کر رہے ہو اور کیوں بیٹھے ہو؟‘‘جیکی کی دھڑکن یکدم بڑھ گئی۔ مگر سوچا ایسا سنہری موقع شاید پھر نہ آئے۔ وہ اچانک کھڑا ہوگیا۔ سوچا اگر وہ کامیاب ہوگیا تو ایک تیر سے دو شکار ہونے تھے دولت بھی آتی اور بددماغ بیوی سے بھی چھٹکاراملتا۔ اعترافی بیان موجود ہوتا اوراس کے پکڑے جانے کا تو سوال ہی نہ پیدا ہوتا۔ اسے بس اپنی سابقہ مہارت کا مظاہرہ کرنا تھا جو اسنے برسوں بطور اسٹیج جادوگر کام کرکے حاصل کیا تھا۔ جیکی نے جوئے کی میزپرنگاہ جمائی اور مسزجیکی کی آنکھوں میں واضح حیرت تھی۔ جس نے پہلی بار اس کی آنکھوں میں نفرت کی جھلک دیکھی۔ اس نے مسکرا کر بیوی کی طرف ہاتھ بڑھایا۔تالیوں کی گونج میں وہ بد شکل کے قریب کرسی پر بیٹھ گیا۔ کھیل کی آڑ میں وہ ڈرامے کے لیے ذہن بنا رہا تھا۔’’ایسا خطرناک جوا‘ میں اندھادھند نہیں کھیلتا۔‘‘ اس نے اپنے منصوبے کا آغاز کردیا۔
’’کیامطلب؟‘‘بدشکل بولا۔
’’میں ریوالور اور گولیاں چیک کروں گا۔‘‘
’’کیا تم بے ایمانی کا الزام لگا رہے ہو؟‘‘بد شکل نے منہ بنایا۔
’’میری جان دائو پر لگی ہے کیا یہ میرا حق نہیں ہے کہ میں اپنے طورپر مطمئن ہوجائوں ؟‘‘جیکی نے جلدی سے جواب سے اس کا منہ توڑ جواب دیا۔حاضرین نے تالیوں کی ساتھ اس کی حمایت کی۔بدشکل نے ریوالور اور گولیاں اس کے حوالے کردیں۔ جیکی نے چیمبر کی اکلوتی گولی بھی نکال لی اور چیمبر کا جائزہ لیا ۔ ریوالور کو الٹ پلٹ کر دیکھا۔ گولیوں سے کھیلتا رہا۔ اس کے ہاتھ کی حرکات میں عجیب طرح کی تیزی تھی۔
’’ٹھیک ہے۔‘‘ اس نے ریوالور اور چھ گولیاں بدشکل کو واپس کردیں اور تحریر بیان پر دستخط کئے۔ بدشکل نے ایک گولی ریوالور میں ڈالی۔’’ایک منٹ۔‘‘جیکی نے ڈرامائی حرکت کی۔’’دوسری گولی ڈالو ایسے واپس نکالو۔‘‘جیکی کی آواز بلند تھی۔ چند قہقہے بلند ہوئے اور بدشکل نے جیکی کو ایسی نظروں سے دیکھا جیسے وہ کسی پاگل کو دیکھ رہاہو۔ جیکی کے چہرے پر بے نیازی تھی۔ بدشکل نے گولی تبدیل کرکے نال جیکی کی کنپٹی سے لگا دی۔’’ایک منٹ۔‘‘ جیکی نے ہاتھ نیچے کیا۔
’’اب کیا ہے۔‘‘بدشکل غرایا۔
’’باقی پانچ گولیاں میری مٹھی میں رہیں گی۔‘‘جیکی نے کہا۔ پارٹی میں ایک مرتبہ پھر قہقہے بلند ہوئے۔
’’دماغ خراب ہے کیا۔‘‘بدشکل کی تیوریوں پر بل پڑگئے۔
’’ہاں ظاہر ہے پہلی بار کھیل رہاہوں اس طرح کاجوا۔تمہارے خیال میں اتنے لوگوں میں کتنے یہ ہمت دکھائیں گے؟‘‘ چلنے دو چلنے حاضرین نے شور مچایا۔ بدشکل نے منہ بنا کر پانچوں گولیاں جیکی کے حوالے کردیں۔بہرحال کمیشن تو اسے بھی ملنا تھا جیکی کو سوفیصد یقین تھا کہ اگر وہ کامیاب ہوگیاتو اگلا کھلاڑی خود اس کی بیوی ہوگی۔
بدشکل نے ایک مرتبہ ریوالور پھر اس کی کنپٹی پر رکھ دیا۔’’پلیز ایک منٹ۔‘‘جیکی نے دفعتاً ہاتھ اٹھاکرکہا۔ بدشکل اس مرتبہ بھن گیا اور بولا۔
’’مسٹر !چلو اٹھویہاں سے۔‘‘ کسی کو پتہ نہیں کہ آگے کیاہونے والا ہے۔‘‘ جیکی نے اس کے اشتعال کونظر اندا کردیا۔
’’اس لیے میری خواہش ہے کہ میں اپنی بیوی کو قریب سے دیکھ سکوں۔‘‘حاضرین نے بھرپور تالیوں سے استقبال کیا۔ اور مسز جیکی نے اپنے آپ پر قابوپاتے ہوئے نارمل رہنے کی کوشش کی اور جیکی کیقریب آکر اسے چھوا۔ جیکی آج اپنے رویہ سے باربار اسے حیران کررہا تھا۔ وہ واپس اپنی میز پر آگئی۔
’’مرجائے تو اچھا ہے۔‘‘ اس نے دل ہی دل میں کہا۔ بدشکل زچ ہوچکا تھا اس سے پہلے کہ جیکی کوئی اور حرکت کرتا اس نے جلدی سے چرخی گھمائی اورفوراً فائر کردیا۔
’’کلک۔‘‘ اور اس مرتبہ شور کافی بلند تھا۔ اپنی بیوی کے چہرے پر مایوسی کی جھلک‘ جیکی کے سوا اورکوئی نوٹ نہ کرسکا۔
جیکی دائومیں لگی رقم سمیٹ رہا تھا۔جوش سے بھرپور۔
’’کوئی اور…کوئی اور…۔‘‘اتنے کم وقت میں اتنی دولت کہاں کما سکتے ہیں۔‘‘بدشکل نے حاضرین کو اکسایا۔مرنا تو ویسے بھی ہے۔ کئی طرح کے انسان کی موت ہسکتی ہے۔ کوئی بیماری کے ہاتھ ختم ہوجاتا ہے۔ ہمت کیجئے مرد بنیے مرد بنیے۔
آخر کار ایک ’’مرد‘‘ کھڑا ہو ہی گیا۔ اور وہ مرد بھی مسز چکی تھی۔ اس کی چال ناہموار تھی اور جیکی کے چہرے پر مسکراہٹ رینگ رہی تھی۔ وہ آگے بڑھ کر مسز جیکی کو روکنے لگا اور کہا۔’’ڈارلنگ !یہ کیا کررہی ہو۔ ہم دونوں ایک ہیں یہ جیتی ہوئی رقم اپنی ہی سمجھو۔ہم کوئی علیحدہ علیحدہ ہیں کیا؟یہ جیتی ہوئی رقم اپنی ہی سمجھو؟کیا ضرورت ہے جان کو خطرے میں ڈالنے کی۔‘‘جیکی کی ان باتوں سے سب کو ہی متاثر کیا۔ لیکن اصل بات تو یہ ہے کہ یہ جیکی ہی جانتاتھا کہ مسز جیکی کبھی بھی باز نہ آئے گی۔ جیکی کے ان الفاظ کے سب لوگ گواہ تھے حالانکہ ان الفاظ نے مسز جیکی کے لیے ایک سہرا کا کام کیا تھا۔اور محفل کا جوش وخروش عروج پر تھا کیونکہ اس خطرناک کھیل کا نیا کھلاڑی بھی تو ایک عورت تھی۔ جیکی بیوی کے قریب تھا۔ اس نے ایک بار پھر ریوالور اور گولیاں اپنے قبضے میں لے لی تھیں۔ اس طرح بدشکل کا رہا سہا شک دور ہوگیا کہ جیکی ایک سنکی آدمی ہے۔ جیک آپ مسز جیکی کے پاس پنجوں کے بل بیٹھااسے خطرناک کھیل سے باز رہنے کی نصیحت کررہا تھا۔ کسی کی بھی نگاہ اس کے ہاتھوں کی طرف نہ تھی۔ انہیں یہ دھڑکا لگا ہوا تھاکہ کہیں یہ سنکی آدمی اپنی بیوی کو کرسی سے اٹھالے گا ۔مایوسی ہورہی تھی کہ مسز جیکی بھی کہیں شوہر کی بات نہ مان لے اور کھیل شروع ہونے سے پہلے ہی ختم نہ ہوجائے۔
دوسری طرف بد شکل بھی بدحواس ہورہاتھا لیکن اسے مسز جیکی کی دلیری اور ڈھٹائی پر حیرت تھی وہ مسلسل جیکی کی باتوں کو رد کررہی تھی۔آخر جیکی چہرے پر مایوسی لیے اٹھ کھڑا ہوا اور ریوالور بد شکل کو دے دیا۔بدشکل نے جھپٹ کر ریوالور پکڑ لیا مگر اگلے ہی لمحے جیکی نے ہتھیار اس سے چھین لیا۔ نہیں وہ احمق ہے قسمت باربار ساتھ نہیں دیتی۔ اسے کچھ ہوگیا تو بہت برا ہوگا۔ جیکی تو اسٹیج کے جادوگر کی طرح مہارت سے اپنی مرضی کا منظر نامہ تشکیل دے رہا تھا۔
’’تم نے مجھ سے پوچھ کر اس کھیل میں حصہ لیا تھا۔‘‘اچانک مسز جیکی بھڑک اٹھی۔
’’میری قسمت تم سے زیادہ اچھی ہے۔سب جانتے ہیں اور مجھے تو حیرت ہے کہ تم بچ کیسے گئے؟‘‘مسز جیکی کے ردعمل نے بدشکل کو حوصلہ دیا۔
’’مسٹر اس معاملے سے الگ رہو۔ وہ پہلے ہی تحریری بیان پر دستخط کرچکی ہے۔‘‘اس نے ریوالور لینے کے لیے ہاتھ بڑھایا۔ جیکی نے بڑے شکست خوردہ انداز میں ریوالور اس کے حوالے کردیا۔
’’ہاں بیگم جلد پتا چل جائے گا کہ تم کتنی خوش قسمت ہو؟‘‘جیکی نے سوچا۔
اور اب ہیجان اور سنسنی پارٹی پر پھر سے طاری ہوگئی۔ بدشکل نے ریوالور مسز جیکی کی کنپٹی پر رکھ کر بلاتامل ہی لبلبی دبا دی۔اور مسز جیکی کوئی آواز نکالے بغیر ہی کرسی سے لڑھک گئی۔ گولی سر میں اتر گئی تھی۔ خون ہی خون…ہال میں مکمل سناٹا طاری تھا۔ جیکی نے ایک لمحے کے لیے پاگل رہنے کی اداکاری کی اور پھر بدشکل پر پل پڑا۔ جتنی دیر میں وہ ہوش میں آتا اتنی دیر میں جیکی نے اس کی ناک پر گھونسا جڑ دیا اور ریوالور بھی چھین لیا۔ جیکی جب پہلی مرتبہ کرسی کے پاس کھڑا ہوا تھا اسی وقت سے صحیح معنوں میں اسٹیج جادوگر کی شاندار اداکاری کررہا تھا۔اس نے صرف ایک خطرہ مول لیا تھا اور وہ خطرہ تھا ’’خونی کھیل‘‘میں شریک ہونے کا۔
بدشکل کی ناک سے خون جاری تھا۔سناٹا یکدم شور شرابے افراتفری میں تبدیل ہوگیا تھا۔ جیکی نے انتہائی صفائی اور اطمینان سے باقی پانچوں گولیاں ریوالور سے نکال کر بدشکل کے کوٹ کی جیب میں منتقل کردیں اور ریوالور کا دستہ اس کے سرپر بجانے لگا۔ ناک پر یہ چوٹیں بدشکل کو تڑپا رہی تھیں۔حاضرین میں سے چند ایک نے جیکی کو پکڑ کر گھسیٹا۔جیکی قاتل قاتل چیخ رہا تھا۔ کسی نے پولیس کو فون کردیا تھا۔
اور جب پولیس ہال میں پہنچی تو جیکی اس وقت بھی قاتل قاتل کے نعرے بلند کررہا تھا۔ پولیس نے پہلا کام یہ کیا کہ نیم پاگل مسٹر جیکی اور بظاہر یقینا مردہ مسز جیکی کو اسپتال پہنچایا اور جیکی اس وقت بھی قاتل قاتل چلا رہا تھا جبکہ اس کا دل اندر ہی اندر قہقہے اور اپنی کامیابی پر لگائے جارہا تھا۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close