Naeyufaq Nov-16

ایک سوسولہ چاند کی راتیں(قسط نمبر3)

عشنا کوثر سردار

عین النور نے اپنے منگیتر کو دیکھا تھا حیدر اس کی طرف دیکھ کر مسکرایا تھا۔
’’تمہیں اگر اس بندے کی باتوں پر رتی بھر بھی یقین ہوگا تو تم روئے زمین پر بہت بڑی بے وقوف لڑکی ہو گی عین۔‘‘ جلال اس کے کان کے قریب منہ کر کے بولا تھا۔ عین نے حیدر سے نگاہ ہٹا کر بھائی کو دیکھا تھا۔
’’آپ کو حیدر پر یقین نہیں۔‘‘ عین نے حیرت سے بھائی کی سمت دیکھا تھا،
’’آپ انکل سراج کی سمت دیکھیے ان کی نظروں کی حیرت کیا بتاتی ہے، انہیں بھی اپنے بیٹے پر یقین نہیں ہے۔‘‘ جلال مسکرایا تھا۔
’’مذاق مت کریں بھائی، حیدر اب اتنے برے بھی نہیں۔‘‘ عین مسکرائی تھی۔
’’آل آئی نو دیٹ یہ بندہ تمہارے قابل نہیں ہے۔‘‘ جلال نے افسوس سے کہا تھا عین اس کی سمت دیکھ کر رہ گئی تھی، تبھی ابا کی آواز آئی تھی تو عین ان کی سمت متوجہ ہوگئی تھی۔
’’ہم تمہارے فیصلے کو سراہتے ہیں برخور دار بات اثاثوں اور آبائو اجداد کی جائیدادوں اور قبروں کی ہوتی تو ہم یہاں اس زمین پر رہنا چاہتے مگر یہ بات عقائد اور نظریات کی ہے ہم عزت کو فوقیت دینے والوں میں ہیں۔‘‘ نواب صاحب مسکرائے تھے۔
’’نواب صاحب آپ پہل کریں گے تو دوسرا قدم آپ کے ہمراہ ہمارا ہوگا۔‘‘ حکمت صاحب نے ان کی مکمل تائید کرتے ہوئے کہا تھا۔
’’اس زمین پر قدم رکھنے کا خواب تو ہمارا بھی ہے ڈیڈ ہم تو اس خبر کو سننے کے منتظر ہیں جیسے ہی خبر آئی ہم اس زمین کی طرف کوچ کر جائیں گے چاہے ہزار مخالفتیں ہوئی یا رکاوٹیں راہ میں حائل ہوئی ہم اس کی پروا نہیں کریں گے رکاوٹوں سے ڈرنا تیمور بہارد یار جنگ نے نہیں سیکھا۔‘‘ تیمور ایک عزم سے بولا تھا تو جانے کیوں عین اس کی سمت بغور توجہ سے دیکھنے لگی تھی۔
اس شخص کا لہجہ، اس کی آواز، اس کے الفاظ یا اس کی پرسنالٹی، ایسا کیا تھا جو قابل توجہ تھا اور کیا شے تھی جو اپنے ساتھ باندھتی تھی وہ فوری طور پر جان نہیں پائی تھی۔ تیمور نے اسے اپنی طرف دیکھتے دیکھا تھا۔ وہ اس صبیح چہرے کو دیکھتا ہوا مسکرایا تھا عین فوراً اس کی سمت سے نگاہ پھیر گئی تھی اور دوسری سمت دیکھنے لگی تھی۔
’’ہم یہ رشتہ نہیں کرنا چاہتے عین یہ بات ابا کو بتانا بہت ضروری ہے کیا آپ ابا سے بات کریں گی یا ہم ان کو خود انفارم کردیں؟‘‘ جلال نے بہن سے کہا تھا۔
’’آپ بات کرلیں جلال ورنہ ابا کو آپ جانتے ہیں بات کرتے وقت نہیں لیں گے ایسا نہ ہو کہ وہ جنت الفردوس سے آپ کی بات طے کردیں اور آپ ہاتھ ملتے رہ جائیں۔‘‘ عین مسکرائی تھی تبھی جلال نے سر ہلایا تھا۔
’’ایک اعلان اور بھی کرنا ضروری سمجھتے ہیں آپ اس سے قبل کہ ضیافت شروع ہو وہ اعلان کرنا ضروری ہے۔‘‘ تبھی جلال چلتا ہوا ان کے پاس جا رکا تھا اور انہیں اشارہ کرکے اپنی جانب متوجہ کیا تھا اور ان کے کان میں اپنا مدعا کہہ دیا تھا سیف صاحب نے اپنے سپوت کی طرف بغور دیکھا تھا پھر سر ہلا دیا تھا اور اپنے مہمانوں کی طرف متوجہ ہوئے تھے اور مسکرا کر بولے تھے۔
’’چلیے آپ ضیافت کا مزہ لیں ضروری باتیں تو ہوتی ہی ہیں۔‘‘ انہوں نے کہہ کر بیٹے کی طرف دیکھا تھا جلال نے دل ہی دل میں شکر کا سانس لیا تھا اور تشنہ طلب نظروں سے ابا کو دیکھا تھا سب لوگ ضیافت میں مصروف ہوگئے تھے اور تب سیف صاحب نے بیٹے کے شانے پر ہاتھ رکھا تھا۔
’’برخوردار کیا ارادہ ہے آپ نے اس رشتے کے لیے منع کیوں کیا، ٹھیک ہے آپ کی مرضی اہم ہے مگر ہم آپ کے والد محترم ہیں کسی بات کا فیصلہ لینے کا حق تو ہم بھی رکھتے ہیںنا؟‘‘ سیف صاحب مسکرائے تھے جلال نے سر ہلا دیا تھا۔
’’آپ بجا فرماتے ہیں ابا جان مگر فی الحال ہم نے شادی کے لیے نہیں سوچا ہم چاہتے ہیں عین کی ذمہ داری سے آپ پہلے فارغ ہوجائیں پھر ہم تجارت کے بزنس پر بھی غور و خوض کر رہے ہیں، نواب ہیں مگرحالات بدلتے دیر نہیں لگتی ابا جان، ہم اپنے بل بولتے پر کچھ کرنا چاہتے ہیں شادی تو کسی بھی وقت ہوسکتی ہے ہمارے خاندان کا اتنا نام ہے عزت ہے اس خاندان سے جڑنا کون نہیں چاہے گا۔‘‘ جلال نے والد کو دلائل سے قائل کیا تھا سیف صاحب نے لمحہ بھر کو کچھ سوچا تھا پھر سر اثبات میں ہلا دیا تھا۔
’’چلیں آپ بھی اپنی من مانی کر کے دیکھ لیں نواب خاندان کا خون ہے اس میں جوش نہ ہو یہ باعث حیرت ہوگا، ہم آپ کو بزنس کے لیے مدد کرنے کو تیار ہیں جو کرنا ہو ہمیں آگاہ کردیں ویسے یہ انکار کہیں شادی سے یا اس رشتے سے فرار تو نہیں؟‘‘ سیف صاحب نے بیٹے کو بغور دیکھا تھا جلال نے سر نفی میں ہلا دیا تھا۔
’’نہیں ابا ایسی بات نہیں ویسے ہمیں ایک اور بات بھی کرنا تھی آپ سے مگر ابھی نہیں فی الحال آپ اپنے دوستوں کے ساتھ ضیافت کا لطف اٹھائیں ہم دیگر معاملات پھر ڈسکس کرلیں گے۔‘‘ جلال نے حیدر کی سمت دیکھتے ہوئے کہا تھا ابا سر ہلاتے ہوئے آگے بڑھ گئے تھے۔
’’کیا ہوا آپ کی دال گل گئی؟‘‘ عین نے چلتے ہوئے قریب آکر اپنے بھیا کو بغور مسکراتے ہوئے دیکھا تھا جلال مسکرا دیا تھا اور عین کی چھوٹی سی ناک دبائی تھی۔
’’تمہارے بھیا کو قائل کرنا آتا ہے عین ویسے ابا بھی بہت نائس ہیں مجھے لگا تھا مشکل ہوگی مگر معاملات آرام سے سلجھ گئے۔‘‘ جلال سکون کی گہری سانس لیتا ہوا مسکرایا تھا۔
’’بہرحال معاملات سمجھ گئے ہیں تو اب مدعا ہم سے بھی کہہ ڈالیے یہ انکار ہو کسی خوشی میں رہے ہیں کیا اس کا کوئی خاص سبب ہے کہیں یہ معاملات عشق تو نہیں۔‘‘ عین مسکرائی تھی جلال مسکرا دیا تھا۔
’’تم جانتی ہو عین ہم کسی بات کا سوچ لیں تو پھر اسے انجام دے کر ہی سکون کا سکون لیتے ہیں عشق کی بات ہے تبھی تو ابا کے فیصلوں سے انحراف کر رہے ہیں۔ نہیں جانتے ابا اگلے فیصلے کے لیے اتنے سپورٹیو رہیں گے کہ ہیں مگر فی الحال تو خطرہ ٹل گیا ہے اب آپ کو جاپانی نقوش والے بچوں کی پھپو نہیں بننا پڑے گا۔‘‘ جلال مسکرایا تھا، تبھی عین نے بھائی کی طرف دیکھا تھا اور نظر بھٹکتی ہوئی تیمور پر جا رکی تھی جو کسی دوست سے بات کرتے ہوئے اس کی جانب خاص توجہ سے دیکھ رہا تھا۔
’’تیمور سے ملے آپ، آپ کے دوست خاصا حس مزاح رکھتے ہیں ہم سے ملے تو جتایا تک نہیں کہ وہ تیمور بہادر یار جنگ ہیں۔‘‘ عین بولی تھی تو جلال نے اپنے دوست کی سمت دیکھا تھا۔
’’کمال کا نوجوان ہے بڑی بڑی باتوں کو بھول جاتا ہے کسی کی کوتاہیوں کو ہائی لائٹ نہیں کرتا جب تک کوئی خود رئیلائزڈ نہ کرلے حس مزاح تو اچھا ہے مگر یہ کوالٹی پرسن بھی ہے میرے ساتھ تھا انگلینڈ میں بہت سی مستیاں کی ہیں ہم نے وہاں مگر سب کچھ سیکھا بھی ہے زندگی سے؟
جلال مسکرایا تھا عین بھائی کی نظروں کے تعاقب میں دیکھنے لگی تھی اس شخص کی شخصیت میں ایک خاص کشش تھی کیا بات خاص تھی وہ فوری طور پر جان نہیں پائی تھی تبھی تیمور کی نگاہ اس پر پڑی تھی تو وہ نگاہ فوراً پھیر گئی تھی اور بھائی کی طرف دیکھنے لگی تھی۔
’’جلال آپ کو فتح النساء کے بارے میں سوچنا چاہیے میری خواہش ہے وہ میری بھابی بنے۔‘‘ عین نے موقع دیکھ کر اپنی خواہش کا اظہار کردیا تھا جلال نے اسے لمحہ بھر کو دیکھا تھا اور مسکرا دیا تھا۔
’’دل کی بات ہے عین اور دل مائل نہیں اس کا کیا کیا جائے آپ آگاہ کریں ورنہ ان معاملات کو وقت پر ڈال دیں تو مناسب ہوگا آپ کی خواہش ہمارے لیے اہم ہے آپ ہماری پیاری بہن ہیں ہم آپ کو رد نہیں کرسکتے، مگر بہتر ہوگا آپ ہمیں کچھ وقت دیں اور ان معاملات کو اپنی جگہ خود حل ہونے دیں فتح النساء کی عزت کرتے ہیں ہم وہ ایک خوب صورت اور ذہین لڑکی ہیں مگر ہمیں ان سے محبت نہیں ہے۔‘‘ جلال نے کہا تھا اور عین اسے دیکھ کر رہ گئی تھی۔
’’محبت اتنی ضروری ہے کیا؟‘‘ وہ بے ساختہ تیمور کی سمت دیکھنے لگی تھی جانے کیوں نگاہ اس سمت مائل ہو رہی تھی وہ خود حیران تھی جلال اس کے محسوسات کو جانے بنا مسکرا دیا تھا۔
’’ہم نہیں جانتے محبت اتنی ضروری ہے کہ نہیں مگر محبت ہوجائے تو پھر چین نہیں پڑتا ہم عجیب مشکل میں ہیں ہمیں بس یہ پتا ہے اس سے زیادہ کی خبر نہیں۔‘‘ جلال بولے اور پھر چلتے ہوئے آگے بڑھ گئے تھے عین نے جانے کیوں اس شخص کو بغور دیکھا تھا جو اس کی سمت متوجہ نہیں تھا مگر اسے جانے کیوں لگا تھا وہ نظر اسے نہ دیکھ کر بھی اسے ہی دیکھ رہی تھی وہ اس کیفیت کو سمجھ نہیں پائی تھی۔
مگر وہ دانستہ تیمور بہادر یار جنگ کی سمت سے نگاہ ہٹا گئی تھی۔
…٭٭…
’’ابا جان ہمیں نہیں لگتا حیدر عین کے لائق ہیں ان کے بارے میں کئی باتیں سننے کو ملی ہیں جو مناسب نہیں ہیں ہم عین کا رشتہ ایسے بندے سے برقرار رکھ کر غلطی کریں گے ایسا مجھے لگتا ہے۔‘‘ جلال نے شطرنج کی چال چلتے ہوئے ابا کی طرف دیکھا تھا اور پاس پڑا کافی کا کپ اٹھا کر سپ لینے لگا تھا ابا نے اسے پر خیال انداز میں دیکھا تھا پھر مدہم لہجے میں بولے تھے جلال نوجوانی میں ایسی خبریں عام ہوتی ہیں مگر وہ اچھا معتبر خاندان ہے اور ہمیں لگتا ہے اس رشتے کو ختم کرنا حماقت ہوگی۔ دو بڑے خاندانوں میں تو بات ہے اگر کوئی جواز ڈھونڈے بنا اس رشتے کو برخاست کیا جاتا ہے تو بات ایوانوں میں ڈسکس ہوگی یہ دو بڑے خاندان ہیں اور دونوں نیک شہرت رکھتے ہیں۔‘‘ ابا نے سہولت سے جلال کو سمجھایا تھا۔
’’آپ کی بات ٹھیک ہے ابا مگر عین کی ذمہ داری ہم ایسے انسان کو کیسے سونپ سکتے ہیں جو عین کو گرتے دیکھ کر چلتے ہوئے ایسے آگے بڑھ جاتا ہے جیسے کوئی واسطہ نہیں۔‘‘ عین تمہیں بہت پیاری ہے ہم عین کے ساتھ کچھ غلط ہوتا نہیں دیکھ پائیں گے۔
ہم ان بچپن میں رشتوں کے خلاف ہیں آپ نے عین پر ایک رشتے کی ذمے داری لاد دی جب وہ اس ذمہ داری سے واقف بھی نہیں تھی اب اس نے لاشعوری طور پر اس بوجھ کو ڈھونا سیکھ لیا ہے صرف اس لیے کہ کوئی انگلی اٹھا کر یہ نہ کہے کہ اس کی فیملی نے جو اس کے لیے سوچا اور ڈیسائڈ کیا یہ اس پر پورا نہ اتر سکی، رشتوں کے بوجھ اس طور ڈھونا رشتوں کی وقعت کو بے معنی کردیتا ہے ابا عین کی مرضی اس رشتے میں نہیں تھی اور تب آپ بھی نہیںجانتے تھے کہ حیدر کس طرح کا نوجوان بن کر سامنے آئے گا آپ اپنی بیٹی سے اس درجہ نا انصافی نہیں کرسکتے‘ جلال نے بہن کی بھرپور چاہت کی تھی ابا نے خاموشی سے اسے دیکھا تھا پھر سر ہلایا تھا۔
’’آپ کی بات بجا ہے جلال ہم موقف کی حمایت کرتے ہیں آپ بہترین بھائی ہونے کا ثبوت دے رہے ہیں اور ہمیں خوشی ہے کہ آپ اپنی بہن سے کنسرن شو کر رہے ہیں مگر بیٹا یہ رشتوں کے معاملات حساس ہوتے ہیں ہم بنا چھان بین کیے اس رشتے سے انکار نہیں کرسکتے اور یوں بھی اب عین نے اس رشتے کو ذہنی طور پر قبول کرلیا ہے اور رہی بات حیدر کے کردار کی تو ہم جانتے ہیں روسا اور امرا کے بچے ایسے کوئی شوق رکھتے ہیں جوانی میں ایسی حماقتیں سرزد ہوتی رہتی ہیں اس پر نکتہ چینی کرنا عبث ہوگا مگر پھر بھی ہم اس پر سراج صاحب سے بات کریں گے۔‘‘ سیف صاحب بولے تھے اور جلال نے سر ہلایا تھا
’’جلال یہ کیا پٹی پڑھانے بیٹھ گئے تم اپنے ابا کو۔‘‘ قریب ہی تخت پر بیٹھی شاہ جہاں بیگم نے چشمے کے پیچھے سے پوتے کو گھورا تھا۔ ’’چار جماعتیں پاس کر کے ولایت سے آگئے ہو تو بڑوں کو غلط ثابت کرنے بیٹھ گئے جیسے وہ عین النور کے دشمن ہیں ظہوری بیگم نے بچوں کی حمایت کر کے انہیں غیر ضروری آزادی دے کر اچھا نہیں کیا۔‘‘ دادی کی بات پر جلال نے ان کی طرف دیکھا تھا۔
’’دادی جان تعلیم غلط کو غلط اور صحیح کو صحیح کہنے کی تمیز دیتی ہے اس میں اماں کا قصور نہیں اماں پڑھی لکھی ماں ہیں اور انہوں نے بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے کسی غلط کی حمایت نہیں کی۔‘‘ جلال نے مسکراتے ہوئے دادی اماں کو دیکھا تھا۔
شاہ جہان بیگم چشمے کے دوسری طرف سے انہیں شاکی نظروں سے دیکھنے لگی تھیں ۔
’’ارے بیٹا آپ کی اماں کے آنے سے قبل تو جیسے ہم پتھر کے دور میں رہتے تھے نواب خاندان کو ساری عقل و فراست آپ کی اماں جان نے ہی تو عطا کی ہے۔‘‘ دادی جان نے اسے لتاڑا تھا مگر وہ مسکرا دیا تھا اور چلتا ہوا ان کے پاس جا بیٹھا تھا ان کے ہاتھ سے سروتا لے کر چھالیہ کو کاٹتے ہوئے ان کی سمت دیکھا تھا۔
’’اتنی خفا مت ہوں دادی جان ابا کافی فٹ اور جوان ہیں کیا خیال ہے آپ کی نئی بہو لانے کا کوئی منصوبہ بنایا جائے۔‘‘ جلال کے انداز میں شرارت تھی دادی نے اسے ایک چپت لگائی تھی جلال نے پان بنا کر ان کی طرف بڑھا دیا تھا۔
’’میاں خود تو بگڑے ہو اپنے ابا کو بھی اس کام پر لگا دو گے، پڑھی لکھی ماں کے بچے ہو نوابوں کا خون ہے ایسے بات کرتے ہو جیسے مجھے تو ظہوری بیگم سے کوئی لگائو ہی نہیں، خود بیاہ کر لائی تھی تمہاری ماں کو، انتخاب میرا ہے تمہارے ابا کو تو خبر بھی نہیں تھی دیکھا تک نہیں تھا انہوں نے ظہوری بیگم کو۔‘‘ دادی جان نے کہا تھا جلال مسکرا دیا تھا۔
’’ویسے آپ کو اپنی بہو بیگم سے محبت بھی بہت ہے فوراً انہیں حمایت بھی دینے لگتی ہیں ہمیں ایک بات سمجھ نہیں آتی یہ بہو ساس کے اختلاف ہوتے کیوں ہیں ان کی حقیقت کیا ہے آپ اماں بیگم کی مخالفت کرتی ہیں تو اگلے ہی پل ان کی باتوں پرنکتہ چینی بھی کر رہی ہوتی ہیں مجھے ڈر ہے کل کو میری وائف آگئی تو آپ دونوں اس سے جھگڑا کر کے گھر سے باہر نہ کردیں۔‘‘ جلال نے چھیڑا تھا دادی جان نے اسے کان سے پکڑا تھا جلال مسکرا دیا تھا۔
’’چلیے ٹھیک ہے میں اپنے الفاظ واپس لیتا ہوں معاف کردیجیے دادی جان۔‘‘
دادی جان مسکرا دی تھیں۔
’’تیری دلہن کے تو صدقے واری جائوں گی سود کا سود اس سے بھی پیارا ہوتا ہے تمہارے بچوں کے باعث میں پڑ دادی بنو گی تیرے بچوں کو گودوں کھلانے کا خواب دل میں لیے بیٹھی ہوں مجھے اچھا نہیں لگاجس طرح تم نے جنت الفردوس کے رشتے کو ٹال دیا دادی پیار سے اسے دیکھنے لگی تھیں۔
’’ویسے کوئی نظر میں ہے تو بتا دو، اس سے قبل کہ تمہارے اماں ابا کوئی فیصلہ لے ڈالیں، مجھے خبر ہوگی تو تمہاری حمایت میں تو ضرور بولوں گی نا۔‘‘ دادی جان نے حمایت کا یقین دلایا تھا جلال مسکرا دیا تھا۔
’’دادی جان فی الحال کوئی نہیں ہے یہی پرابلم ہے آپ کہیں تو فرنگن ڈھونڈ لائوں۔‘‘ وہ شرارت سے مسکرایا تھا۔
’’دوبارہ ایسی بات کی تو لاٹھی سے پٹائی کروں گی مجھے آدھے تیتر اور آدھے بٹیر پڑ پوتے نہیں چاہیں تمہاری اماں تو گزارہ کرلیں گی جیسے تیسے مگر ہمیں تو انگریزی بولنا نہیں آتی سیدھی سی بات ہے بیٹا بہو وہ لائو جن کی باتیں ہماری عقل میں بھی آئیں، ہم ٹھہرے پرانے خیالوں کے ہمیں تو اردو سے ہی محبت ہے ہم نے بھی تعلیم حاصل کی مگر انگریزی پڑھ کر انگریزوں کی غلامی کا ثبوت نہیں دینا چاہتے تھے۔‘‘ دادی نے کہا تھا جلال سر ہلاتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا تھا۔
’’ٹھیک ہے دادی جان جیسا آپ کا حکم آپ سے انحراف نہیں کرسکتا لیکن یہ بات طے ہے کہ بہو آپ کی مرضی اور پسند کی ہی لائوں گا۔‘‘ جلال انہیں اطمینان دلاتا ہوا باہر نکل گیا تھا۔
…٭٭…
فتح النساء نے از سر نو حیدر اور اس کے رویے کے بارے میں سوچا تھا تو ذہن الجھ کر رہ گیا تھا اسے اپنا آپ بہت حقیر اور ادنیٰ لگا تھا وہ چلتی ہوئی بوا کے پاس آن بیٹھی تھی۔
’’کیا ہوا آپ الجھی ہوئی کیوں لگ رہی ہیں فتح النساء؟‘‘ بوا نے ان سے دریافت کیا تھا فتح النسا نے سر انکار میں ہلایا تھا۔
’’ہمارے ابا کے بارے میں کیا جانتی ہیں آپ؟‘‘ اس کے پوچھنے پر بوا حیران ہوئی تھیں۔
’’یہ اچانک کیسی باتیں کرنے لگیں فتح النساء آپ جانتی تو ہیں کہ آپ کس خاندان سے وابستہ ہیں آپ کے چاچا تایا سے واقف تو ہیں آپ؟‘‘
’’وہ فرضی رشتے ہیں نا ان رشتوں کی کیا حقیقت ہے، آپ بھی جانتی ہیں؟‘‘
فتح النساء نے بجھے بجھے سے لہجے میں کہا تھا بوا نے اسے بغور دیکھا تھا۔
’’کیا ہوا یہ آج اس متعلق بات کیوں کرنے لگیں آپ۔‘‘ بوا نے پوچھاتھا۔
فتح النساء خاموش ہوگئی تھیں پھر مدہم لہجے میں بولی تھیں۔
’’ہمیں سچ جاننا ہے بوا ہم کن کی اولاد ہیں۔‘‘ فتح النساء کے پوچھنے پر بوا نے خاموشی سے دیکھا تھا پھر آہستگی سے بولی تھیں۔
’’بیٹا سوال اٹھانے سے اصلیت چھپ نہیں جاتی نا جواز دینے سے دلائل کی وقعت بڑھتی ہے۔‘‘ بوا حتمی بات کرتی ہوئی اٹھ کھڑی ہوئی تھیں اور فتح النساء ان کو دیکھ کر رہ گئی تھی۔
…٭٭…
’’نواب صاحب کیا ضیافت تھی ایوانوں میں خبر عام رہی آپ کی سیاسی شخصیت کے ساتھ آپ کی اخلاقی باتوں پر بھی گفتگو رہی اور آپ کے مخالفین میں آپ کے اپنے سراج صاحب کھڑے دکھائی دیے آپ کے سمدھی بھی کمال کے آدمی ہیں سیف صاحب آپ کو مزید مخالفین کی ضرورت نہیں ضیافت کی بات میں آپ کی تقسیم کے معاملے میں کی گئی باتوں میں کئی پہلو نکلتے دکھائی دیے اور مخالفین اور حمایتی ان کو ڈسکس کرتے رہے۔‘‘ حکمت بہادر یار جنگ بولے تھے تو نواب سیف الدین مسکرا دیے تھے۔
’’جانے دیں حکمت صاحب ہماری باتیں کب سے اہم ہوگئیں ہم تو حقائق کی بات کر رہے تھے اور حقائق کی بات سامراجی نظام کے خلاف ہماری بالکل بغاوت کا اظہار کرتی ہے، ہمارے والدین نے جو قربانیاں دیں ہم انہیں رائیگاں جانے نہیں دیں گے یہ دور تیر و شمشیر سے لڑنے کا نہیں ہے عقل اور نفسیاتی غلبے کی جنگ ہے اور اس میں وہی فتح یاب ہوگا جس کا موقف درست ہوگا اور جس کو اپنا موقف بیان کرنا آتا ہوگا بغاوت تب تک کام نہیں آتی جب تک ایک موقف پر ڈٹا نہ رہا جائے ہمارے ابا مرحوم اللہ ان کے درجات بلند فرمائے، وہ ایک عظیم فریڈم فائٹر تھے ہمارے چاچا جان بھی ان کے ہمراہ تھے جب ان کی جان اس زمین کے کام آگئی انہوں نے پیاس سے بلکتے ہوئے دم توڑا تھا قید میں ہم انگریزوں کی حکومت کی اگر حمایت کردیں یا اپنا سر جھکا دیں تو یہ ہمارے بزرگوں کی قربانیوں سے غداری ہوگی، ہم ان گزشتہ نسلوں کی قربانیوں کو رائیگاں جانے نہیں دیں گے ہم جب ٹھان لیتے ہیں تو کرلینے کے بعد ہی سکون کی سانس لیتے ہیں مخالفین کے ساتھ کھڑے ہوجانا آسان ہے مگر ہم نے تنگ راہ کا انتخاب اپنے بزرگوں کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے کیا ہے ان فرنگیوں کو یہاں سے جانا تو ہوگا اور ہم ہندوئوں کا راج بھی نہیں بننے دیں گے جب تک کہ ایک پاک سر زمین کا بٹوارہ نہیں ہوجاتا ۔ فرنگی چاہتے ہیں کہ اب ہندو قوم مسلمانوں پر راج کرے یہ ہم نہیں ہونے دیں گے ہندوئوں کی غلامی سے کہیں بہتر موت ہے جس ڈیموکریسی اور ڈیموکریٹک اسٹیٹ کا یہ راگ الاپ رہے ہیں اس کی حقیقت اس سامراجیت کی مثال سے بھی بدترین ہے۔ یہ تو طے ہے کہ ہم یہاں اس زمین پر تبھی قیام کریں گے جب اس زمین پر مسلمانوں کا راج ہوگا اگر یہ سر زمین ہندوئوں کے حصے میں آتی ہے تو یہاں سے کوچ کرجانا مناسب ہے۔‘‘ نواب سیف الدین پٹوڈی کڑے لہجے میں بولے تھے۔
حکمت بہادر یار جنگ نے ان کی حمایت میں سر ہلایا تھا اور مسکرائے تھے۔
’’ہمیں یاد ہے اور ہم آپ کے ارادوں کو بھی جانتے ہیں نواب صاحب آپ ہمارے مسلم لیگی ہیرو ہیں آپ کو کوئی فراموش کرسکتا ہے مسٹرجناح کے خیالات کے پکے حامی ہیں آپ اور ہم آپ کے حامی ہیں۔‘‘ حکمت صاحب مسکرائے تھے اور سیف صاحب ان کو خاموشی سے دیکھنے لگے تھے۔
’’ہم حقائق کو دیکھنے کی تگ و دو میں مصروف رہے ہیں حکمت صاحب ہم سے نہ کہا جائے کہ حقائق کی حقیقت کچھ نہیں انگریز کے اس سامراجی ڈھانچے کو تو تہس نہس ہونا ہے مسٹر جناح ہمارے گریٹ لیڈر اپنا بھرپور موقف رکھتے ہیں اور ہم بلاشبہ ان کے حمایتوں میں سے ہیں ہم ان کا ساتھ تب تک دیں گے جب تک تقسیم کا عمل وقوع پذیر نہیں ہوجاتا برطانوی راج کی اس نفسیاتی فتح کو ختم ہونا ہے یہ تو طے ہے۔
The muslim nation under the Quaid e azam leader ship is fighting on three fronts the bristish the congress, and quisling muslims.
The parallels of such a remarleable and would be the fruitful struggle are rare in the history of the world.
This Sturggle of the muslims for independence might will have come to nothing had the been led by a person of lesser vision. Quaid e azam is fighthing for the division of india into some muslim state and hindustan which means freedom for both the hindus and the muslims nations, he will definitely win.
نواب سیف الدین پٹودی کے کہنے پر حکمت بہادر یار جنگ نے سر ہلایا تھا۔
’’بے شک نواب صاحب آپ بجا فرماتے ہیں میں آپ کی بات سے بھرپور اتفاق کرتا ہوں یہ واجب اور درست ہے۔ حکمت صاحب نے سر ہلایا تھا۔
MR jinnah is a staunch believer of the two nations theory beyound doubt.
جناح صاحب اصول پرست واقع ہوئے ہیں اور اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ وہ اپنے موقف پر ڈٹے رہیں گے اگر چہ ہندوئوں نے بھرپور کوشش کی ہے کہ ہندو مسلم الحاق کے نام پر کوئی پیش رفت ہوجائے اور ہمارے لیڈران ان کی حمایت کرتے ہوئے ان کے حق میں فیصلہ دے دیں مگر ان کی کوشش کامیاب نہیں ہوسکتیں کیونکہ ہندو مسلم الحاق ممکن نہیں دو دو قوموں کا متحد ہونا کسی منزل کی سمت نہیں لے جاسکتا۔ ہندوئوں کے مزاج سے کون واقف نہیں منہ میں رام رام اور بغل میں چھری ایسے لوگوں کے ساتھ ہمارا کیا میل جول نہیں۔‘‘ حکمت صاحب نے کہا تھا اور نواب سیف الدین پٹوڈی نے شطرنج کے مہروں کو بغور دیکھتے ہوئے چال چلی تھی۔
’’ایک بات نظر انداز نہیں کی جاسکتی کہ ہندوئوں نے اپنی سی کوشش کی ہے۔
Hindus tried to find out muslim for hindus muslims unity and at the same time succeed in influencing muslim leaders like mr jinnah and Doctor iqbal but this situation did no last long and soon.
under the influence of the muslims league magority of muslim leaders who had been lured by indian nationlism became the upholder of the two nations theory.
Mohammad Ali Jinnah refused to accept the neru’s nation that there are only two forces in india, British imperialism and indian nationalism as represented by the congress.
مسٹر جناح نے تبھی موقع کی مناسبت سے یہ بات واضح کردی تھی میاں کہ برطانوی راج اور انڈین نیشنل ازم صرف دو طاقتیں ہی ہندوستان کی ترجمانی کرنے کے لیے بنی ہیں، سامراجیت ہم سے وابستہ نہیں نا ہندوئوں کے نظریات، سو جناح صاحب اسے مسترد کرچکے ہیں اور ہوچکے ہیں کہ
There was another party the muslim league which alone have the right to represent the muslims of india.
خیر اب تو بات بہت آگے نکل آئی ہے حکمت صاحب آپ کہاں کی باتیں لے کر بیٹھ گئے اب تو دو قومی نظریہ بہت واضح ہوچکا ہے جناح صاحب نے اپنی لکھنو کی تقریر میں جو 15 اکتوبر 1937ء کو ہوئی تھی اس میں یہ بات واضح کردی تھی، اب تو اس بات کو بھی دس برس گزر گئے اب ہمارے لیڈران ان کے تسلط میں آنے والے نہیں۔
ہندوئوں کی جماعت کانگریس اس دھوکہ دہی میں مصروف رہی ہے۔ 1935ء کے اسی ایکٹ کو ثابت کرتے ہوئے کہ یہ غلط ہے اور اس کے بعد مسلمانوں کی آنکھیں کھل چکی ہیں اگر اس ایکٹ کے حمایتی مسلمان خاموش رہتے تو پھر مسلمانوں کو سدا کی غلامی سے کوئی نہیں بچا سکتا تھا۔
ہندوئوں کا خوف ان کے گلے کو آگیا، انہیں جو خدشات ہندوئوں کی اکثریت کے راج کرنے کے دکھائی دیے تھے ان کی تھی مسلمانوں نے بھرپور انداز میں کردی۔
The fear of the indian muslims about hindus majority rule turned true.the shuddi campaign the vidhya mandar scheme and bande matram (hind anthem) were the worst examples of hindus vindicativeness.
نواب سیف الدین پٹوڈی کے کہنے پر حکمت صاحب نے حمایت کی تھی۔
’’یہ تو بہت مدلل بات یاد دلادی آپ نے نواب صاحب ہندوئوں کی ذہنیت تو تبھی کھل کر سامنے آگئی تھی اور ہمارے محترم ڈاکٹر علامہ اقبال نے بھی آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ سیشن 1930ء میں الہٰ آباد میں ہی یہ بات واضح کردی تھی کہ۔
I would like to see punjab NWFP sindh and blochistan amalgamate into a single state.
Self goverment within or without the british empire and the fomation of consolidated north west indian muslim state appers to me to be the final destiny of the muslim at least of north west of india got his attention.
ہمارے لیڈر نے اپنا موقف دس برس قبل ہی جب واضح کردیا ہے تو پھر کس بات میں شک کی گنجائش نہیں رہتی اقبال صاحب بلا کے دور اندیش نکلے انہوں نے اپنی ریاستوں کی بات کی تھی جو مسلمانوں کی اکثریت رکھتی تھیں اب خبر نہیں انگریز اور ہندو کیا کھیل کھیلتے ہیں۔ مگر مسٹر جناح نے تو تبھی 21 جون 1937ء نے علامہ اقبال صاحب کو متاثر ہو کر لکھ دیا تھا کہ
why should not the muslims of north west india and bangal be consedered as nation entiled to self determination just as other nations in india and outside india are.
ہمارے لیڈران دس برس قبل جان گئے تھے کہ ہندو قوم اس اقلیت کو قبول نہیں کرسکے گی جو ان پر برسوں سے حکومت کرتی آئی ہے ان سے اس دلیر قوم کی حکمران اب برداشت نہیں ہوگی فرنگی قوم کے جانے کے بعد ہندوئوں کی اکثریت مسلمانوں کو مزید جھیل نہیں پائے گی۔ آپ کو مسٹر جناح کا وہ آرٹیکل یاد ہے جس کا ذکر اپ سے کچھ عرصہ قبل بھی کیا تھا حکمت صاحب بولے تھے تو سیف صاحب نے سر ہلایا تھا۔
’’ہم وہ انگلستان کے اخبار Time and Tide میں 9 مارچ 1940ء کو شائع ہونے والا آرٹیکل کیسے نظر انداز کرسکتے ہیں حکمت صاحب جس میں جناح صاحب نے فرنگیوں کی آنکھیں کھول دیں تھیں وہ جو مسلمانوں کو دبی ہوئی قوم کہہ رہے تھے ان پر مسٹر جناح کا موقف بھرپور واضح ہوگیا تھا۔ جناح صاحب نے لکھا تھا۔
The British people being Christian sometime forget the religious wars of their own history and today consider religion as a private and personal matter between man and God. this can be the case in hindusium and islam both these religions have definite social codes and aspect of their social life.
سیف صاحب بولے تو حکمت صاحب نے سر ہلایا تھا۔
’’بلا کے دلیر ہیں ہمارے لیڈر جناح صاحب حق کی بات کہتے ہوئے چوکتے نہیں نہ ڈرتے ہیں۔ آپ کی اس بات نے مجھے ایک تاریخی میٹنگ لاہور میں ہونے والے خطاب جو 23 مارچ 1940ء کو ہوا تھا قائد اعظم کے الفاظ بھرپور یاد رہ جانے والے تھے جناح صاحب نے کہا تھا کہ۔
We have our past experience of the last two half year we have learnt many lessons. we are now apprehensive and can trust no body it has always been taken for granted mistakenly that the muslims are a minority hindus and muslims belong to two religion philosphies social customs. literature they neither inter marry nor interdine and indeed belong to different civilizations which are based on conflicting ideas and conceptions their concepts of life are different they have different epics different episodes. very often the hero of one is the foe of the other and like wise their victories and defeat overlap he also added that to take together state one as a numerical majority other as a nation according to any definition of nation and they must have their homeland their territory and their state.
سیف صاحب کے کہنے پر حکمت صاحب نے سر ہلایا تھا۔
’’بے شک اس کو آج 1947ء کے موجودہ دور میں رکھ کر دیکھیں تو جس طرح تحریک زور پکڑ رہی ہے اس سے جناح صاحب کا موقف واضح ہوجاتا ہے حکمت صاحب نے کہا تھا تبھی سیف پٹوڈی بولے تھے۔
’’آپ کو وہ انٹرویو تو یاد ہوگا نا جو 4 اکتوبر 1944ء کو London News Chronicle نے پبلش کیا تھا؟‘‘ حکمت بہادر یادر جنگ مسکرائے تھے۔
’’جناب ہم آپ کے اور جناح کے حمایتی ہیں ہم کہاں بھول سکتے ہیں جناح صاحب کی شخصیت اتنی پر اثر ہے کہ اس سے متاثر نہ ہونا ممکن ہی نہیں ان کی اثر پذیری سے کون انکار کر سکتا ہے ہمیں تو ان مسلم لیگیوں کے الفاظ زبانی یاد رہتے ہیں۔‘‘ حکمت بہادر یار جنگ مسکرائے تھے۔
’’جناح صاحب نے فرمایا تھا کہ۔
There is only one practical realistic way of resolving hindu muslim differences this is to divide india into two sovereign parts of pakistan and hindudstan and for each of us to trust the other to give equitable treatment to hindu minorities in pakistan and muslim minorities in india the fact is that the hindu will not reconcile themselve to our complete independence.
نہرو صاحب تو صرف ہندوئوں کی بات کرتے ہیں ہمارے جناح صاحب اس معاملے میں غیر جانبدار ہیں وہ جہاں موقع ملتا ہے دونوں قوموں کا نظریاتی فرق واضح کرتے ہوئے ان کے مذہبی فرق کو بھی واضح کرتے ہیں اور اگر ہندو اقلیت کے طور پر ہمارے علاقوں کا حصہ بنتے ہیں تو وہ ان کے حقوق کی بھی بات کرتے ہیں نہرو صاحب نے ایسی کوئی بات کبھی نہیں کی سوچی جو اقلتیں ہندوئوں کے زیر اثر آئیں گی یہ ان کا کیا حشر کریں گے یہ تو اپنے عقائد میں بھی پچاس عقائد رکھتے ہین ان کی اپنی تفریق ختم نہیں ہوتی اونچی ذات اور نیچی ذات کا فرق ہی ختم نہیں ہوتا تو یہ اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت کیا کریں گے جو اقلیتیں پاکستان میں شامل ہوں گی وہ محفوظ رہیں گی جبکہ جو ہندوستان میں شامل ہوں گی وہ عدم تحفظ کا شکار رہیں گی ہمیں تو یہ صاف دکھائی دیتا ہے اب آگے تو آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ کیا ہوتا ہے اور اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے جناح صاحب تو ایک ایسی ریاست کی داغ بیل ڈال چکے ہیں جس میں ہر اقلیت کو اس کا حق ملے گا۔ پھر چاہے وہ ہندو ہو یا سکھ یا کوئی اور اقلیت اس ریاست میں سب کے حقوق کی پاسداری ممکن ہوگی اس کا ہمیں یقین ہے بہرحال نہرو صاحب کی لفاظی وہ جانے ہم تو امید رکھتے ہیں کہ جہاں یہ جدوجہد زور پکڑ چکی ہے اور نوجوان اور خواتین اس کا حصہ بن چکے ہیں اب کوئی پیش رفت فرنگی سرکار کی طرف سے ہوجانا چاہیے۔‘‘ حکمت بہادر یار جنگ نے کہا تھا اور نواب صاحب مسکرائے تھے۔
’’میاں ایسی بھی کیا جلدی ہے کام تو اپنے وقت پر ہی ہوگا آخری کیل سامراجی راج کی قبر میں ٹھونکی جا چکی ہے اب کس بات کا ڈر، قرارداد کا پاس ہوجانا بڑی جیت ہے اور اس جیت کے بعد بھی مسلمان لیڈرز آرام سے نہیں بیٹھے کسی نہ کسی موقع پر اپنے موقف پر ڈٹے دکھائی دیتے ہیں اب تو خیر ہم جیت کے بہت پاس دکھائی دیتے ہیں سو فتح کے اس نشے کو آہستہ آہستہ محسوس کرنا اور وجود میں ڈھلتے دیکھا ایک خوب صورت تجربہ لگ رہا ہے اب تو 1947ء کا دور ہے اور تحریک اتنی آگے بڑھ چکی ہے کہ کوئی خوف باقی نہیں رہا نا شک کی کوئی گنجائش باقی رہی ہے آپ اپنے اندر کے وسوسے اور خوف باہر نکال دیجیے فتح تو ہو کر رہے گی۔‘‘
سیف صاحب نے مسکراتے ہوئے جوش سے کہا تھا اور ان کے پر یقین لہجے پر حکمت صاحب سرہلاتے ہوئے مسکرا دیے تھے۔
’’بے شک فتح قریب لگ رہی ہے اب۔‘‘
…٭٭…
’’تمہیں کیا ہوا فتح النساء، تم کہاں غائب ہو ایسا کیا ہوگیا ضیافت میں کہ تمہارا تو رنگ ہی زرد پڑ گیا کچھ بات ہوگئی ہے تو ہمیں بتائو ہم تمہیں اس مشکل سے ہوسکتا ہے نکالنے میں کوئی مدد کرسکیں۔‘‘ عین النور پٹوڈی نے فتح النساء کا ہاتھ تھام کر اسے محبت سے دیکھا تھا انہیں اپنی اس سہیلی سے خاص انسیت تھی اور انہیں واضح لگا تھا کہ فتح النسا کا ہاتھ بے حد سرد ہے اور چہرہ پھیکا سا۔
’’آپ کی آنکھوں کی وہ جوت کیا ہوئی فتح النساء آپ تو دلیری میں ثانی نہیں رکھتیں اتنی مضبوط لڑکی اور ایسا پھیکا ڈرا سہما چہرہ۔
’’یہ کیا حالت بنالی ہے آپ نے ہمیں آگاہ کریں کسی نے کچھ کہا ہے۔
عین نے سہیلی کو بغور دیکھتے ہوئے پوچھا تھا مگر فتح نے سر نفی میں ہلا دیا تھا اور مدہم لہجے میں بولا تھا۔
’’نہیں ایسی کوئی بات نہیں عین النور ہم ٹھیک ہیں بس کچھ دنوں سے طبیعت کچھ ٹھیک نہیں شاید اسی لیے بہرحال آپ ہماری بات چھوڑیے آپ بتائیے کیا ارادے ہیں۔‘‘ فتح بہت پھیکے سے انداز میں مسکرائی تھی اور عین نے اسے بغور دیکھا تھا۔
’’کس بارے میں پوچھ رہی ہیں آپ فتح؟‘‘ عین نے سوالیہ نظروں سے دیکھا تھا اور تب فتح با مشکل مسکرائی تھی۔
’’نواب زادی ہم آپ کی شادی کی بات کر رہے ہیں اپنے شہزادے کے ساتھ اس کے دیس نہیں جانا آپ کو یوں تو آپ ہر وقت ان کے گن گاتی رہتی ہیں اب یکسر بھول گئیں؟‘‘ فتح نے کہا تھا تو عین مسکرادی تھی۔
’’نہیں بھول کیسے سکتے ہیں مگر ایسی کوئی بات اپنی ہوئی نہیں۔‘‘
’’اوہ ہمیں تو لگا کہ ضیافت میں نشر کی جانے والی خاص خبر آپ کی شادی ہوگی۔‘‘ فتح مسکرائی تھی عین نے سر انکار میں ہلایا تھا۔
’’نہیں ابا کو جلال کی شادی کی بات کا ذکر کرنا تھا مگر جلال نے جانے کیسے عین موقع پر ان کو قائل کرلیا جلال کو جنت الفردوس ایک آنکھ نہیں بھائی جانے کیا چاہتے ہیں یہ چھوٹے نواب صاحب ان کا بھی پتا نہیں چلتا۔‘‘ عین نے کہا تھا تو فتح نے ان کو خاموشی سے دیکھا تھا۔
’’کوئی بات تو ہے فتح آپ اس طرح سیریس ہونے والی تو نہیں اچھا یہ بتائیے کیا جلال نے کچھ کہا ہے کہیں آپ جنت الفردوس کا سن کر تو پریشان نہیں ہو گئیں اگر یہ بات جنت الفردوس کی ہے تو آپ کے دل کو حد درجہ سکون ملا ہوگا یہ سن کر جلال نے وہ بات نشر ہونے سے رکوا دی ہے۔‘‘ عین مسکراتے ہوئے بولی تھی اور فتح منہ پھیر گئی تھی۔
’’محبت دسترس سے باہر کی شے ہے عین النور پٹوڈی محبت کا ذکر بھی پرایا لگتا ہے میں اس بارے میں نہیں سوچتی ہاں میں جلال سے محبت کرتی ہوں مگر جلال کی محبت پانا ایک خواب ہے۔ میں درمیان میں آنے والے فاصلوں کو بغور دیکھتی ہوں اور مجھے مان لینا پڑتا ہے کہ محبت کا حصول ممکن نہیں میں جلال سے شکوہ نہیں کرسکتی جلال نے کبھی حمایت نہیں کی نہ کوئی خواب دکھایا ان کو تو شاید خبر ہی نہیں کہ میں ان سے اس طور وابستہ ہوچکی ہوں۔‘‘ فتح النساء کا لہجہ اداس تھا عین نے اپنی پیاری دوست کو بغور دیکھا تھا اور اس کا ہاتھ تھام کر نرمی سے بولی تھی۔
’’محبت دسترس سے باہر ضرور ہے مگر نا امید نہیں کرتی محبت اچھے کی امید رکھتی ہے فتح النساء تم بہت دلکش ہو بہت انوکھی لڑکی ہو اگر ہمارے بس میں ہوتا تو ہم جلال کی محبت آپ کو دلوا دیتے۔‘‘ وہ حساس طبیعت کی مالک لڑکی فتح النساء کے لیے کسی قدر افسردہ دکھائی دی تھی فتح النساء مسکرا دی تھی۔
’’اچھا آپ ٹھہریں نواب زادی آپ کا دل اپنی رعایا کے لیے دکھی ہونا کوئی عبث نہیں مگر ہم ایسے بھی دکھی نہیں اب محبت کرتے ہیں سوال نہیں کرتے سوال کرنے والے کمزور ہوتے ہیں عین مانگنے سے محبت ملتی نہیں اور بتاتے اور آگاہ کرنے کے ہم قائل نہیں بہرحال یہ ذکر اٹھا کر ایک طرف رکھ دیں۔
آپ اپنے بارے میں بتائیں جلال کو اچھا نہیں لگا تھا جس طرح حیدر نے آپ کو نظر انداز کیا اور گرا کر آگے بڑھ گئے اس سے ثابت نہیں ہوجاتا کہ وہ کس قدر بے پروا ہے اور شادی جیسی بڑی ذمہ داری لینے کے قابل نہیں۔‘‘ فتح النساء ان کو حیدر کے کردار کے معاملے بتا نہیں سکتی تھیں نا انہیں قائل کرسکتی تھیں ان کی بات ایک طرف رکھ کر محض اس عشائیے والی بات کا ذکر کے ان کا مزاح بدلنا چاہا تھا۔
مگر عین مسکرا دی تھی۔
’’فتح النساء رشتے اس طور نہیںبدلتے وہ ان سے غلطی ہوئی تھی اور غلطی کسی سے بھی سرزد ہوسکتی ہے نا ہم انسان ہیں تو ہم دوسروں کی غلطیوں کو نظر انداز کیوں نہیں کرسکتے ٹھیک ہے وہ ہم سے ٹکرائے اور ہمیں گرتا دیکھ کر سنبھال نہیں سکے مگر اس کی معذرت انہوں نے ہم سے کرلی تھی اب ہم اس ایک غلطی کی بنا پر کوئی فیصلہ لینے کی حماقت نہیں کرسکتے یہ مناسب نہیں ہوگا۔‘‘ عین مثبت سوچ کی حامل دکھائی دی تھی اور فتح النساء اسے پریشانی سے دیکھنے لگی تھی اگر عین کی شادی ایسے شخص سے ہوجاتی تو یقینا عین کی زندگی برباد ہوجاتی حیدر اس کے لائق نہیں تھا مگر وہ عین کو یہ بات نہیں کہہ سکتی تھی عین اس کی بات کا یقین نہ کرتی تو یہ بات بے وقعت ہوجاتی جس طرح عین حیدر کی خامیوں اور کوتاہیوں کو نظر انداز کرتی تھی اسے دیکھ کر یہی لگتا تھا کہ عین اس کے خلاف کچھ غلط نہیں سن سکتی تھی اس نے اپنا حمایتی ووٹ یقیناً اس شخص کو دیا تھا اور فتح النساء سے قائم دوستی کا کوئی وجود باقی نہیں رہنا تھا فتح النساء عین کا مزاج جانتی تھی وہ فقط دوستی برقرار رکھنے کو اس بات کو چھپا بھی نہیں سکتی تھی کہ یہ بات عین کی زندگی کی اور مستقبل کی تھی مگر فتح النساء شش و پنج کا شکار تھی اور کچھ اخذ نہیں کر پا رہی تھی کہ اسے کیا کرنا چاہیے یہی سوچ کر وہ عین کے پاس سے اٹھ گئی تھی۔
’’ہم چلتے ہیں عین پھر بات کریں گے چاچا جان کچھ نئی کتابیں لانے والے تھے اور آپ تو جانتی ہیں ہم کتابوں کے کس قدر دیوانے ہیں سو ہمارا دل تو وہیں اٹکا ہوا ہے یوں بھی ہم بوا کو بتا کر نہیں آئے تھے وہ پریشان ہو رہی ہوں گی۔‘‘ فتح النساء بہانہ کرتی ہوئی فوراً اٹھ کر باہر نکل آئی تھی عین کو اس روز اپنی دوست کچھ عجیب لگی تھی مگر وہ کچھ بولی نہیں تھی۔
…٭٭…
فتح النساء بے دھیانی میں چلتی ہوئی آگے بڑھ رہی تھی جب جلال سے ٹکرائی تھی۔
’’لڑکی دیکھ کر چلا کرو کیا ہوگیا ہے کچھ ہوش ہے کہ نہیں۔‘‘ جلال نے مسکراتے ہوئے اسے سنبھالا تھا اور کہا تھا مگر وہ جیسے پتھر بنی اسے دیکھتی رہی تھی اگر کوئی اور موقع ہوتا تو اس شخص کے اس درجہ پاس آنے پر وہ پاگل ہوجاتی مگر اب اس کی اس درجہ قربت پر بھی اس نے کوئی رد عمل نہیں دیا تھا اس کے کھوئے کھوئے انداز پر جلال نے اسے دیکھا تھا وہ پہلے والی فتح النساء سے بہت مختلف لگی تھی۔
’’طبیعت ٹھیک ہے آپ کی کیا ہوا ہے آپ کچھ پریشان لگ رہی ہیں۔‘‘ نواب جلال الدین پٹوڈی نے اس کی سمت بغور دیکھتے ہوئے پوچھا تھا فتح النساء نے سر نفی میں ہلا دیا تھا وہ اس کی سمت دیکھنے سے گریز کرتی ہوئی آگے بڑھنے لگی تھی جب جلال نے اس ہاتھ تھام لیا تھا۔
کوئی اور موقع ہوتا تو فتح النساء آسمان پر بادلوں کے ساتھ اڑنے لگی۔ مگر اس لمحے اس سے اس عمل نے کوئی تاثر نہیں دیا تھا اس شخص کا ہاتھ تھامنا قریب آنا اور اس کے چہرے کو بغور دیکھنا جیسے وہ کسی بات کو محسوس کرنے کی حس کھوچکی تھی۔ جلال کو اس بات پر حیرت ہوئی تھی وہ فتح النساء کا مزاج جانتا تھا اسے بچپن سے جانتا تھا وہ اتنی کھوئی کھوئی اور متفکر کبھی دکھائی نہیں دی تھی۔
جلال اس کے سامنے آن رکا تھا اور اس کے چہرے کو بغور دیکھنے لگا تھا۔
وہ شخص آسمان جیسا تھا مگر وہ آسمان اس کا نہیں تھا سو وہ اسے دیکھنے سے گریزاں تھی جلال نے اس کا چہرہ تھام کر رخ اپنی جانب پھیرا تھا اور بغور دیکھتے ہوئے مدہم لہجے میں بولا تھا۔
’’معاملہ کیا ہے فتح النساء آپ اتنی پریشان کیوں ہیں کسی نے کچھ کہہ دیا ہے کیا۔ یا کسی کی بات ناگوار گزری ہے آپ عین کی دوست ہیں ابا کے دوست کی بیٹی ہیں ہمارے لیے باعث احترام ہیں ہم آپ کی بہت عزت کرتے ہیں ہمیں بتائیے ہم اس شخص کو چھوڑیں گے نہیں جس نے آپ کا دل دکھایا ہے یا آپ سے کوئی بد تمیزی کی ہے۔‘‘ وہ آسمان بنا مخلص لہجے میں بولا تھا اس آسمان کے لہجے میں بادلوں کی نرمی اور ٹھنڈک تھی فتح النساء کا دل چاہا تھا اس شخص کے شانے پر سر رکھے اور سب کہہ دے مگر وہ سوائے خال خال نظروں سے اسے دیکھنے کے کچھ نہیں کرسکی تھی اس کے لبوں پر گہری چپ تھی اس کے پاس جیسے لفاظ کھو گئے تھے اور لبوں پر تالے پڑ گئے تھے اس نے بس نفی میں سر ہلا دیا تھا مگر جلال نے اس کا ہاتھ نہیں چھوڑا تھا۔ اس کی نظریں اسے بغور جانچتے ہوئے دیکھنے لگی تھیں۔
’’کس نے کچھ کہا ہے نام بتائیے اس محل میں کسی کی ہمت نہیں جو ایسی حرکت کرے ہم اس کا سر قلم کروا دیں گے بتائیے ہمیں۔‘‘ نواب جلال الدین پٹوڈی نے اسے دیکھتے ہوئے کچھ اخذ کرنا چاہا تھا مگر فتح النساء اس کی سمت دیکھ کر نگاہ پھیر گئی تھی مگر وہ اس لہجے کی نرمی پر اپنی آنکھوں میں آئی نمی نہیں روک پائی تھی نمی آنکھ میں ٹھہری تھی اور اس لہجے کی حلاوت پا کر آنسو رخساروں پر چھلکنے لگے تھے وہ نہیں چاہتی تھی جلال ان آنسوئوں کو دیکھے سو چہرہ پھیرنا چاہا تھا مگر جلال نے اس کا چہرہ تھام کر رخ اپنی طرف موڑ لیا تھا۔
’’فتح النساء نام بتائیے کون ہے وہ گستاخ۔‘‘ وہ ضدی لہجے میں جیسے سب جاننے کا خواہاں تھا فتح النساء نے اسے خاموشی سے دیکھا تھا نگاہ دھندلائی تھی چلتے ہوئے آنسو رخساروں پر تھے جلال الدین پٹوڈی نے اسے بغور دیکھا تھا پھر ہاتھ بڑھا کر ان آنکھوں کی نمی چننا چاہی تھی جب وہ نگاہ پھیر گئی تھی اور ہاتھ چھڑا کر آگے بڑھنا چاہا تھا مگر جلال الدین پٹوڈی اس کا ہاتھ چھوڑنے پر مائل دکھائی نہیں دیا تھا جیسے ہی وہ ہاتھ چھڑانے کی کوشش میں پلٹی تھی جلال نے اسے جھٹکے سے اپنی طرف کھینچا تھا اور وہ اس کے فراخ سینے سے آن ٹکرائی تھی اور مزید کوئی مزاحمت نہیں کر پائی تھی انداز اتنا تھکا ہوا تھا کہ وہ اس کے سینے پر سر رکھ کر چپ چاپ آنسو بہانے لگی تھی جلال نے اس کا سر اپنے سینے پر دیکھا تھا اور اس کی آنکھوں کی تمام نمی کو اپنے سینے میں جذب ہوتا محسوس کیا تھا وہ لمحے خاموشی سے گزرتے رہے تھے فتح النساء کی آنکھوں کی نمی اس فراخ سینے میں جذب ہوتی رہی تھی۔
قطرہ… قطرہ…
غبار دھلتا گیا تھا اور جب فتح النساء نے خود کو مطمئن محسوس کیا تھا تب خاموشی سے سر اٹھا کر جلال کو دیکھا تھا وہ بدستور اس کی سمت دیکھ رہا تھا وہ نگاہ قریب تھی حد سے زیادہ قریب ان دھڑکنوں کا سلسلہ وہ متواتر سن رہی تھی کب خبر تھی وہ اس دل کو بغور اتنی دیر تک سن لینے کا کوئی موقع کبھی پاس سکے گی اسے جو امید نہیں تھی وہ ہوا تھا وہ اس شخص کے قریب آئی تھی اس کے دل کی دھڑکنوں کو سنا تھا اس چہرے کو اتنی قریب سے پہلی بار دیکھا تھا وہ نگاہ شاید پہلی بار اس کی سمت اس طور متوجہ ہوئی تھی کوئی اور موقع ہوتا تو فتح النساء کا دل ہوائوں میں معلق ہوجاتا بادلوں کے ساتھ اڑنے لگتا مگر اس لمحے کا گریز اور خاموشی اس طور برقرار رہے تھے اس نے خاموشی سے اس شخص کو دیکھتے ہوئے اس کے سینے سے سر اٹھایا تھا۔
ان بھیگتی آنکھوں میں کیا خاص پہلو تھا کہ وہ بغور اسے دیکھتا رہا تھا ان لانبی پلکوں میں کیا راز دیا تھا کہ وہ اس کی کھوج تک جانے کو بے چین دکھائی دیا تھا فتح النساء نے اس سے دور ہونا چاہا تھا مگر اس لمحے میں جانے کیوں بے ساختہ فتح النساء کے ارد گرد اپنے مضبوط بازو کا حصار باندھ دیا تھا اور اسے بغور دیکھتے ہوئے مضبوط لہجے میں بولا تھا۔
’’ہم آپ کو تب تک جانے نہیں دیں گے فتح النساء جب تک آپ ساری بات نہیں بتا دیتیں کہیے مدعا کیا ہے آپ اتنی پریشان کیوں لگ رہی ہیں۔‘‘ وہ مضبوط لہجے میں کہتے ہوئے اس کے چہرے اور آنکھوں کو بغور دیکھنے لگا تھا۔
تب فتح النساء کو بولنا ضروری لگا تھا۔
’’ہم پریشان نہیں آپ اپنی گرفت سے ہمیں آزاد کردیں۔‘‘ وہ اس صورت حال پر جیسے بوکھلا کر رہ گئی تھی مگر جلال نے اس کے گرد اپنی گرفت ڈھیلی نہیں کی تھی وہ اس طور اس کے گرد اپنے بازو کو مضبوطی سے باندھے کھڑا تھا اور فتح النساء صورت حال کا اندازہ کرتی ہوئی ہراساں سی ارد گرد دیکھنے لگی تھی اگر ان کو جلال کے کوئی اس قدر قریب دیکھ لیتا تو یقیناً قصے کہانیاں بن جاتے صد شکر تھا آس پاس کوئی نہ تھا فتح النساء نے درخواست کرتی نظروں سے جلال کو دیکھا تھا۔
’’کہا نا ہم پریشان نہیں ہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے۔‘‘
’’پھر آپ رو کیوں رہی تھیں۔‘‘ وہ جاننے پر بضد ہوا تھا۔
’’وہ ہماری آنکھ میں کچھ چلا گیا تھا ہوا زیادہ چل رہی ہے نا آج۔‘‘
فتح النساء نے فوری طور پر بہانہ کرتے ہوئے جواز دیا تھا مگر جلال نے اس کے گرد سے اپنی بازو کی گرفت ڈھیلی نہیں کی تھی۔
’’آپ کا لہجہ بتاتا ہے آپ کی دلیل کمزور ہے فتح النساء آپ جھوٹ کب سے بولنے لگیں ہمیں لگا تھا آپ صاف گوئی سے کام لینے کی قائل ہیں اور آپ کا دل آپ کی آنکھوں کی طرح شفاف ہے۔‘‘ جلال نے اسے شاکی نظروں سے دیکھا تھا وہ زچ ہو کر رہ گئی تھی تبھی نگاہ پھیرتے ہوئے بولی تھی۔
’’ہمیں ابا اماں کی یاد آرہی تھی بس یونہی دل بھر آیا ہم نے تو ان کو دیکھا تک نہیں ہمیں خبر ہی نہیں ماں باپ کون ہوتے ہیں ہم ان کی اولاد ہیں بھی کہ نہیں۔‘‘ وہ ٹالنے کو بولی تھی جب جلال نے اسے دیکھا تھا۔
’’اکیس برس بعد یہ کیسا سوال اٹھا آپ کے اندر آج پہلے تو کبھی آپ کو اس طور اپنے والدین کی یاد نہیں آئی آپ جواز ڈھونڈنے میں ناکام رہی ہیں فتح النساء کوئی معقول بہانہ کیا ہوتا تو شاید ہم قائل ہوجاتے اتنا تو ہم آپ کو جانتے ہیں۔‘‘ وہ حیران ہوئی تھی۔ وہ نہیں جانتی تھی کہ جلال اس کا جھوٹ اس طور پکڑے گا یا وہ اسے اس طور جانتا ہے اسے ایک نئی بات پتا چلی تھی ایک انوکھا انکشاف ہوا تھا کہ وہ شخص نا صرف اسے کس قدر جانتا تھا بلکہ نوٹس بھی لیتا تھا شاید یہ بات خوش کن تھی کہ نہیں وہ جان نہیں پائی تھی مگر وہ جلال کی سمت سے نگاہ پھیر گئی تھی اس کی گرم گرم سانسوں کو اپنے چہرے پر محسوس کر رہی تھی چہرہ جلتا ہوا سا محسوس ہوا تھا تبھی جھکی نگاہوں سے بولی تھی۔
’’آپ ہمیں کب سے جاننے لگے ہم جھوٹ نہیں بولتے۔‘‘ لمحہ بھر کو دل میں آیا تھا کہ مرزا حیدر سراج الدولہ کی حقیقت ان سے کہہ دے اور بتا دے کہ وہ عین کے لائق نہیں ہیں انہوں نے بہت گگری ہوئی حرکت کا مظاہرہ فتح النساء کے ساتھ کیا ہے اور اسے میلی نظروں سے دیکھا ہے مگر وہ اس لمحے ایسا کچھ نہیں کر پائی تھی جانے کیا بات تھی دل میں کہ اسے ایسا کہنے سے باز رکھ رہی تھی۔
’’ان دھڑکنوں میں جو بات باعث پریشانی ہے ہمیں وہ سننا ہے فتح النساء۔‘‘
جلال الدین پٹوڈی اس کی سمت دیکھتا ہوا بولا تھا‘ عجب ضدی لہجہ تھا اور فتح النساء کی جان پر بن آئی تھی۔ وہ جس کیفیت میں تھی ان نظروں کی تپش نے وہ کیفیت ماند کرکے ایک ہل چل سی اندر مچادی تھی سو وہ اس سے دور نکلنے کی راہ ڈھونڈنے لگی تھی مگر وہ فی الحال اس کے گرد سے اپنی مضبوط گرفت ہٹانے کو تیار نہیں تھی اور فتح النساء کو سمجھ نہیں آیا تھا۔ اب اسے کس طرح قائل کرے وہ نہیں جانتی تھی کہ وہ شخص اتنا ضدی واقع ہوا تھا وہ اس کے مزاج سے واقف ضرور تھی مگر اس درجہ قربت اور اس کا ضدی انداز اس کے حواس خطا کررہا تھا تبھی وہ اس کی سمت سے نگاہ چراتے ہوئے بولی تھی۔
’’ہمیں دیر ہورہی ہے‘ ہم بوا کو گھر بتا کر نہیں آئے۔ وہ پریشان ہورہی ہوں گی‘ ہمیں جانا ہے۔ ہمیں جانے دیجیے‘ یہ ضد کسی اور وقت پر اٹھا رکھیں‘ اتنا جان لیں ہم آپ سے کچھ نہیں چھپائیں گے اگر کوئی بات ہوئی تو آپ سے ضرور اس کا ذکر کریں گے۔‘‘ اس نے آہستگی سے کہا تھا اور جلال نے اسے جائزہ لیتی نظروں سے دیکھا تھا پھر بے پروا انداز میں گویا ہوا تھا۔
’’آپ اس گھر میں بچپن میں آنے جانے کی عادی رہی ہیں‘ آپ کی بوا کو یقینا معلوم ہوگا کہ آپ اس طرف آئی ہیں۔ محل میں آپ جتنی محفوظ ہیں اس بات پر آپ بھی قائل ہوتی دکھائی دیں گی۔ ہمیں اتنا تو معلوم ہے کہ جس کسی نے بھی آپ سے کچھ کہا ہے وہ اس محل کا نہیں ہے کیونکہ محل میں کسی میں اتنی ہمت نہیں کہ کسی بیٹی بہو پر کوئی غلط نظر ڈال سکے۔ ہم بھی فرشتہ نہیں ہیں مگر خواتین کا احترام کرنا ہمیں خوب سکھایا گیا ہے۔ ہمیں لگ رہا ہے بات پریشان کن ہے اس لیے ہم اتنا ان سیٹ کررہے ہیں تاکہ صورت حال کے بگڑنے سے پہلے اس پر قابو پایا جاسکے۔ اتنی تو خبر ہوچکی ہے کہ معاملہ سنگین ہے‘ آپ کی دھڑکنوں کے ارتعاش میں جو خوف ہے وہ اس خوف کی خبر صاف دے رہا ہے۔ یہی بات تھی کہ ہم جانے بنا آپ کو جانے دینا نہیں چاہتے تھے اگر آپ بتانے کو تیار نہیں تو ہم آپ کو مجبور نہیں کریں گے۔‘‘ کہتے ہوئے اس نے فتح النساء کے گرد سے اپنا حصار ختم کیا تھا اور دو قدم دور ہوکر اسے جانے کی راہ دی تھی اور اس کے دو قدم دور جانے سے جیسا ایک دور تک پھیلا ہوا وسیع آسمان اسے سمٹتا لگا تھا۔ جیسے آسمان نے اپنی حدود کا تعین کرتے ہوئے اس کے اطراف سے اپنا وجود سمیٹ لیا تھا۔ ایک بے چینی نے اندر تک سر اٹھایا تھا مگر وہ کچھ بولے بنا رخ پھیر کر پلٹی تھی اور چلتی ہوئی آگے بڑھ گئی تھی۔ جلال اس کی سمت سے پل کر اس کی مخالفت سمت چلتا ہوا آگے بڑھنے لگا تھا۔
ء…/…ء
تیمور بہادر یا جنگ ‘ جلال کے کمرے کی سمت بڑھنے لگا تھا جب ٹیرس کی سمت نگاہ گئی تھی اور عین النور وہاں کھڑی دکھائی دی تھی تب وہ جانے کیوں جلال کے کمرے کی سمت سے رخ پھیر کر اس کی سماعت کا سفر کرتا ہوا آگے بڑھا تھا اور اس کے قریب آن رکا تھا۔ عین النور پٹوڈی کسی کی آمد کو محسوس کرکے پلٹی تھی اور تیمور بہادر یار جنگ کو سامنے دیکھ کر حیران رہ گئی تھی۔
’’آپ یہاں؟‘‘ وہ حیرت سے چونکتے ہوئے بولی تھی۔
’’کیوں آپ کو یقین نہیں ہے کہ ہم آپ کے سامنے ہیں یا ہمارے بارے میں سوچ رہی تھیں؟‘‘ تیمور اس کی سمت دیکھ کر مسکرایا تھا عین دوستانہ نظروں سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے مسکرادی تھی۔
’’ہم یقین نہیں کرسکتے تیمور بہادر یار جنگ آپ وہی بزدل سے انسان ہیں۔ آپ کی پرسنالٹی تو یکسر بدل چکی ہے اوریہی بات ہمیں حیرت میں مبتلا کررہی ہے۔‘‘ عین کے مسکرانے پر وہ بغور اس کی سمت دیکھنے لگا تھا۔
’’تغیر وقت کے ساتھ آتا ہے عین النور! آپ کو اتنی حیرت کیوں ہے؟ کہیں یہ حیرت کسی خاص بات کی پیش خیمہ تو نہیں؟‘‘ وہ اسے بغور دیکھتے ہوئے مسکرایا تھا اور عین اس کی سمت سے رخ پھیرگئی تھی۔
اب بات کرنے کا ڈھنگ ہی دیکھ لیجیے‘ آپ باتوں کے جال بُننا سیکھ گئے ہیں۔ بچپن میں تو آپ کو بات کرنے کا ڈھنگ معلوم ہونا تو دور کی بات آپ میں اتنا اعتماد نہیں تھا کہ دو لفظ بھی کہہ سکیں اور اب تو ہم آپ کے لفظوں کے انتخاب پر حیران رہ جاتے ہیں۔ اتنا اعتماد کہاں سے آگیا آپ میںیکدم۔‘‘ عین مسکرائی تھی وہ پرسکون انداز میں کہہ رہا تھا۔
’’اتنے سالوں میں اعتماد اکٹھا کرتا رہا ہوں‘ خبر تھی کہ آپ کے سامنے بولنے کی ہمت نہیں کرپائوں گا سو اس ضمن میں خاص توجہ مرکوز رکھی اور مشق جاری رکھی۔‘‘ ان آنکھوں میں شوخی تھی۔
’’مشق… کیسی مشق؟‘‘ وہ چونکی تھی‘ وہ مسکرادیا تھا۔
’’مشق کیا ہوتی ہے آپ نہیں جانتیں؟‘‘ اس کے احساس دلانے پر وہ چونکی تھی۔
’’اوہ آپ ایسے دل پھینک واقع ہوں گے ہمیں انداز نہیں تھا۔ جلال کے دوست ہیں پروف ہوگیا۔ کہیں آپ بھی گوری میموں کے جال میں تو نہیں پھنس گئے۔ ایک بات بتادیں آپ کو یہ گوری میمیں دیکھنے میں دلنشین ترین ہوتی ہیں مگر ان کا کوئی بھروسہ نہیں ہوتا۔ اس متعلق تو ہم جلال کے کان بھی کھینچ چکے ہیں۔‘‘ وہ ایک تمکنت سے کہہ کر گردن موڑ کر کافی کے سپ لینے لگی تھی اور تیمور اس کی سمت بغور دیکھتا ہوا مسکرایا تھا۔
’’آج صبح جاگا تو ایک روشن تارہ آسمان پر دیکھا پھر اچانک ہی آپ کا دھیان آگیا۔ حیرت ہوئی اگرچہ اس بے سمت تکتے تارے نے آپ کا کوئی ذکر بھی نہیں کیا تھا۔ پوچھنا یہ تھا کہ اگر بے سب یونہی کوئی بارہا ذکر بات بے بات کسی تسلسل سے آنے لگے تو معنی کیا نکلتے ہیں؟‘‘ تیمور بہادر یار جنگ کی آنکھیں اورلہجہ عجب گرفت میں لینے والا تھا۔ عین النور نے ایک لمحے میں اس پر سے اپنی توجہ ہٹائی تھی اور مدھم لہجے میں گویا ہوئی۔
’’ہم تاروں کی سمت نہیں دیکھتے کیونکہ ان کی نظروں کی حیرت سمجھ نہیں آتی۔ ہم ان کے شکوہ کاکوئی جواب نہیں پاتے مگر آپ تاروں کی گفتگو کو اس درجہ بغور سننے کا عمل ترک کردیں۔ا گر وہ بے معنی باتیں کرتے ہیں تو ان کے معنی ڈھونڈنا آپ پر لازم نہیں ہوجاتا۔‘‘ اس نے سرسری انداز میں کہا تھا۔
تیمور بہادر یار جنگ نے اس صبیح چہرے کو بغور دیکھا تھا۔ بالوں کی لٹیں ہوا سے اڑتے ہوئے عجیب گفتگو کرتی محسوس ہوئی تھیں۔ تیمور بہادر یار جنگ کی نگاہ جیسے الجھنے لگی تھی۔
’’دیکھئے آسمان پر آج چاند پورا ہے‘ سنا ہے پورے چاند میں عجیب ایک کشش ہے‘ جس سے جادو چھانے لگتا ہے۔ کہیں آپ کی بے معنی باتیں اسی دیوانگی کو ظاہر تو نہیں کرتیں؟‘‘ وہ کافی کا سپ لیتے ہوئے مسکرائی تھی۔ تیمور نے نگاہ اٹھا کر چاند کی سمت دیکھا تھا پھر اس چہرے کو دیکھا تھا۔
’’چاند کو غور سے دیکھا ہے کبھی آپ نے؟ اس کے کتنے چہرے ہیں اور غور سے دیکھیں کتنی باتیں لکھی ہیں اور کتنی شکایتیں؟ مستعار کی روشنی دیکھنے نہیں دیتی‘ غور سے دیکھیں تو کئی راز ہیں اس چہرے میں‘ چلیں نہیں دیکھنا آسمان تو رہنے دیں۔ ایسا کریں آئینہ دیکھ لیا کریں جو راز آسمان کی سمت دیکھ کر نہیں کھلتے شاید آئینے میں ضرور دکھائی دیں گے۔‘‘ اس محبت بھرے لہجے میں حیرتیں تھیں۔
عین جانے کیوں اس کی سمت دیکھ نہیں پائی تھی اور کافی کے سپ لینے لگی تھی تب جانے کیوں تیمور بہادر یار جنگ نے ہاتھ بڑھا کر اس کے ہاتھ سے کافی کا وہ کپ لیا تھا۔ عین النور پٹوڈی حیرت سے اسے دیکھنے لگی تھی‘ تیمور بہادر یار جنگ کافی کے سپ لینے لگا تھا۔
’’آپ کو کافی پینا تھی تو بتادیتے‘ ہم آپ کو نئی منگوادیتے۔‘‘
’’آپ کے ساتھ کافی پینے کا موڈ تھا مگر آپ نے پوچھا نہیں پھر دھیان آیا اس کافی میں جو چاشنی ہوگی شاید وہ چاشنی کافی کے دوسرے کپ میں ناپید ہو سو آپ کے ہاتھ سے یہی کافی لینا مناسب خیال کیا۔‘‘ تیمور بہادر یار جنگ کے لہجے میں چھپی‘ ایک لگن کو محسوس کرتے ہوئے وہ لب بھینچ گئی تھی وہ خاموشی سے اسے دیکھتا رہا تھا جب وہ بولی تھی۔
’’کسی کا جھوٹا پینا ٹھیک نہیں ہوتا۔‘‘
’’کیوں نہیں؟ جن زادوں کی زمین پر یہ معیوب نہیں‘ کہتے ہیں جھوٹا پی لینے سے محبت ہوجاتی ہے۔‘‘ تیمور کی آنکھوں میں شرارت تھی۔ وہ جیسے اسے زچ کردینے کے درپے تھی‘ عین خودی طور پر وہاں سے ہٹ بھی نہیں سکتی تھی۔ یہ مناسب نہیں لگتا سو اس کی سمت دیکھنے سے گریز کرتی ہوئی بولی تھی۔
’’ہماری زمین پر ایسا نہیں تصور کیا جاتا‘ مہمانوں کو الگ سے کافی پیش کی جاتی ہے۔ جھوٹا پلانا آداب کے خلاف ہے۔‘‘ وہ سہولت سے سمجھانے لگی تھی۔
’’اوہ یہ تو گناہِ عظیم ہوگیا آپ کی سلطنت میں۔ اب کیا کریں؟ اس کا سدباب آپ کریں گی یا ہم کریں؟‘‘ وہ بغور دیکھتا ہوا کافی کے سپ لینے لگا تھا۔
’’کیسا سدباب؟ آپ کی باتیں عام فہم کیوں نہیں ہوتی؟ عجب الجھا سا دیتے ہیں آپ اور پھر اس بات کو تسلیم بھی نہیں کرتے۔ جانے کہاں سے ایسے اصول سیکھ آئے ہیں۔بچپن کے دوست ہیں سو برداشت کررہے ہیں ورنہ جان لیں ہم بچپن والی وہ سزائیں دینے میں کوئی پس و پیش نہیں رکھیں گے اگر آپ اسی طور ہمیں پریشان کرتے رہے۔‘‘ وہ ایک خاص تمکنت سے بولی تھی اور تیمور مسکرادیا تھا‘ وہ اسے سننے سے زیادہ اسے دیکھنے پر معمور رہا تھا جیسے‘ لفظ تو یاد نہیں رہے تھے کہ اس نے کیا کیا کہا تھا مگر وہ اس کی آنکھوں کی یکسانیت کے رنگ سمجھنے کے جنون میں اسے تکتا ہوا ایک قدم قریب آیا تھا۔
’’مٹھاس آنکھوں میں زیادہ تھی یا کافی میں؟ اندازہ نہیں کرپایا‘ یاد نہیں رہا۔ اس کی باتوں نے کسی بات کا تعین کرنے نہیں دیا‘ سمجھ نہیں پایا الجھائو باتوں کے تھے یا کاکلیں چہرے پر بکھری تھیں مگر میں سلجھنے کے جتن کرتے ہوئے الجھتا چلا گیا۔‘‘ وہ مدھم لہجے میں کہتا ہوامسکرایا تھا‘ عین نے اسے دیکھا تھا اور مسکرادی تھی۔
’’تیمور بہادر یار جنگ! ہر بات کے اسباب ڈھونڈنا آپ کی سرشت میں ہے مگر اتنا تجسس ہونا ٹھیک نہیں ہوتا۔ کچھ معاملات اپنی الجھنیں اور سلجھاوے اپنے طور پر سنبھال کر رکھنے کی عادی ہوتی ہیں اور کسی طرح کی بیرونی مداخلت برداشت نہیں کرتیں۔‘‘ عین النور نے اسے دیکھا تھا تیمور مسکرادیا تھا۔
’’میں آپ کو بہت عرصے بعد ملا ہوں مگر لگتا نہیں کہ کوئی لمحہ آپ سے دور گزرا ہے۔ میں آپ کے بارے میں سوچتا رہا ہوں آپ کا ایٹی ٹیوڈ‘ آپ کی باتیں‘ اکثر بہت یاد آتی تھیں۔ زمانوں کے گزرنے سے اس تسلسل میں کوئی خاص فرق نہیں پڑا۔ زندگی تیز رفتار رہی مگر اس بھاگتے دوڑتے موسموں میں اکثر آپ کی یاد نے بے طرح چونکا دیا۔‘‘ تیمور نے کہا تھا اور عین اس کی سمت دیکھنے لگی تھی۔ لمحہ بھر کو جیسے سمجھ نہیں آیا تھا کہ کیا کہے مگر پھر دوسرے ہی لمحے سنبھلتے ہوئے بولی تھی۔
’’اچھے دوست ہیں آپ‘ تبھی تو ہر ظلم و ستم برداشت کرتے رہے ہیں۔‘‘ تیمور مسکرادیا تھا۔
’’آپ نے عجیب عادت ڈال دی تھی‘ یہاں سے جاکر بھی دل ڈرتا رہتا تھا گرہیں سے آپ نکل کر نہ آجائیں اور سزائوں کا وہ سلسلہ دوبارہ شروع نہ کردیں۔‘‘ وہ بولا تھا تو عین بے ساختہ ہنسنے لگی تھی۔
’’اوہ آپ پر اس درجہ خوف طاری تھا؟ تبھی میں کہوں آپ کچھ لمحے کیوں کہہ رہے تھے کہ آپ کو یاد زیادہ آتی تھی اورکبھی آپ چونک بھی جاتے تھے۔‘‘ عین اپنی دہشت اس پر دیکھ کر جیسے حد درجہ محظوظ ہوئی تھی۔ تیمور نے اس کی مسکراہٹ سے ایک عجیب دلکشی اس کے چہرے پر چھائی دیکھی تھی۔
’’آپ سے کہہ دیا تھا کہ ان سزائوں کے لیے شکوہ نہیں کروں گا۔ آپ چاہیں تو اب بھی وہ سخت رویہ روا رکھ سکتی ہیں۔ میں کان پکڑنے کو تیار ہوں اور اپنے وزن کے برابر وزن اٹھا کر گرائونڈ کے دس چکر بھی کاٹنے کو تیار ہوں۔‘‘ تیمور مسکرایا تھا۔
’’اوہ کیا انگلینڈ میں اسٹڈی کے دوران وزن اٹھانے کی مشق کرتے رہے ہیں کیا؟‘‘ عین نے مسکراتے ہوئے چھیڑا تھا۔ تیمور اس کو بغور دیکھتا ہوا مسکرایا تھا اور مدھم لہجے میں کہنے لگا تھا۔
’’اسکول سے سینئر اسکول تک اور پھر کالج سے یونیورسٹی تک‘ بہت سے چہروں سے ملا ہوں‘ بہت سے دلنشین دیکھے ہیں مگر میری نگاہ جیسے بھٹک جاتی تھی۔ خیالوں میں موجود اس ایک چہرے کو ڈھونڈنے لگتی تھی مگر جب وہ چہرہ قریب یا سامنے نہیں پاتی تھی تو حیران رہ جاتی تھی۔ میں نے برسوں ایک چہرے کی کھوج میں گزاری ہے۔ بنا کسی چہرے سے متاثر ہوئے۔‘‘ وہ مدھم لہجے میں اس کے بالوں کو اڑتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔ ہوا کو جیسے ضد ہوگئی تھی کہ ان بالوں سے کھیلتی رہے گی اور وہ بار بار بالوں کی لٹوں کو پکڑ کر کانوں کے پیچھے دبارہی تھی۔
’’ایسے پاگل تھے آپ؟ عین النور جیسا کوئی اور نہیں ہے آپ بار بار ہر چہرے میں ایک چہرہ دیکھنے کی غلطی کیوں کرتے رہے؟‘‘ وہ محظوظ ہوکر مسکرائی تھی۔
’’تمہیں یاد ہے تم ایسی ہی باتیں بچپن میں ہی کہتی تھیں اور تب مجھے ضد ہوجاتی تھی۔میں دیکھنا چاہتا تھا کوئی اور تمہارے جیسا ہے کہ نہیں۔ ڈیڈ سے صدکرکے انگلستان جانے کی بھی اسی لیے ٹھانی‘ میں دنیا کو دیکھنا چاہتا تھا اور تم سے ملتے جلتے چہروں کو تلاشنا چاہتا تھا تب لگتا تھا کہ تمہارے جیسے اور کئی چہرے ہوں گے۔ تم جیسی باتیں کرنے والے اور کوئی لہجے ہوں گے مگر پھر دیکھ لیا اور جان لیا۔‘‘ وہ بات ادھوری چھوڑ کر مسکرایا تھا۔
’’کیا جان لیا؟‘‘ وہ متجسس سی اس کی طرف دیکھ کر مسکرائی تھی۔
’’یہی کہ تارے بہت سے ہوتے ہیں مگر چاند ایک ہی ہوتا ہے اور کوئی دوسرا چاند آسمان میں تاروں کے درمیان اس پہلے چاند کی جگہ نہیں لی سکتا۔ چہروں کی انفرادیت ان کی اہمیت بڑھاتی ہے‘ مجھے اس سچ کو مان لینا پڑا تھا کہ زمین ایک چاند کے لیے بنی ہے اور ایک چاند زمین کا طواف کرنے کے لیے بنا ہے۔‘‘ تیمور بہادر یار جنگ بولا تھا تووہ مسکراتی ہوئی لب بھینچ کر اس کی سمت سے نگاہ پھیرگئی تھی۔
’’تیمور آپ اتنی دلچسپ شخصیت رکھتے ہیں آپ کسی اچھی لڑکی سے نہیں ملے؟ آئی مین اس طرح سے جو دل کو دھڑکا دے اور اس کے سامنے زمانوں کا وقت باقی نہ رہے۔‘‘ عین نے پوچھا تھا وہ اسے خاموشی سے دیکھنے لگا تھا اور مسکرادیا تھا۔
’’ملا تھا ایک بار ایسی لڑکی سے۔‘‘
’’اوہ رئیلی‘ پھر اس کے بعد کیا ہوا؟ آپ تو پاگل ہوگئے ہوں گے نا؟ کہیں اس سے محبت تو نہیں ہوگئی تھی آپ کو؟‘‘ عین نے دلچسپ قصے کی طرح اس کی گفتگو میں دلچسپی لی تھی اور محظوظ ہوتے ہوئے اسے دیکھا تھا‘ وہ خاموشی سے اسے بغور دیکھتا ہوا مسکرایا تھا۔
’’ہاں پاگل ہوگیا تھا کچھ کچھ‘ اس کے بعد کچھ یاد نہیں رہا تھا مگر اسے مجھ سے محبت نہیں ہوئی تھی۔ وہ بہت نک چڑھی تھی کسی کو گھاس ہی نہیں ڈالتی تھی۔‘‘
’’اوہ پھرایسی محبت کاکیا فائدہ‘ افسوس آپ کو محبت ہوئی بھی تو غلط جگہ اور مقام پر۔ اچھا اگر اسے آپ سے محبت ہوجائے تو کیا کریں گے آپ؟‘‘ عین نہیں جانتی تھی کہ وہ اس کا ذکر کررہا تھا‘ اسے اس بات کا اندازہ نہیں تھا اور تیمور اس کی گفتگو سے حد درجہ محظوظ ہوا تھا۔
’’وہ اس دنیا کا کوئی لمحہ ہوگا یا کسی اور زمین کی بات ہوگی؟ خبر نہیں عین مگر میں بے تابی سے اس لمحے کا انتظار کروں گا اس لمحے کو مٹھی میں دبالوں گا اور وقت کو روکنے کی اپنی سی کوشش کروں گا اور اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بس خاموشی سے دیکھوں گا۔ اس سے زیادہ میں کچھ نہیں کرسکوں گا۔‘‘ وہ مسکرایا تھا تو عین ہنس دی تھی۔
’’عجیب سر پھرے ہیں آپ‘ کسی کی محبت سے اتنی محبت۔ حد کرتے ہیں آپ‘ ہمیں تو لگتا تھا آپ کہیں گے آپ کو محبت ہوئی ہی نہیں‘ دنیا گھوم آئے اور محبت نہیں ہوئی۔ اچھا بائے دا وے کون تھی وہ؟ کوئی فرنگی تو نہیںِ تھی نا؟‘‘ عین اس کی جانب دیکھتے ہوئے مسکرائی تھی۔
’’نہیں فرنگی نہیں تھی مگر اس کی سرمئی آنکھوں میں کئی رنگ تھے۔ ٹھیک سے یاد نہیں شاید نیلا‘ برائون اور کوئی اور رنگ…‘‘
’’اوہ… آپ نے ان کی آنکھوں کے رنگ بھی زبانی یاد کرلیے تھے؟ تت تت… پھر تو بہت افسوس ہوا‘و ہ دنیا کی بھیڑ میں آپ سے کھوگئی۔ چلیں دل چھوٹا نہ کریں‘ واپس جایئے اور اس دنیا کے گول گول چکر کاٹئے‘ وہ وہیں کہیں مل جائے گی‘ ہوسکتا ہے وہ بھی اس دنیا کے چکر کاٹ رہی ہو۔ بے ارادہ کھونے والے ایسے ہی بے ارادہ مل بھی جاتے ہیں نا؟‘‘ عین نے سوالیہ نظروں سے مسکراتے ہوئے اسے دیکھا تھا۔ تیمور نے بغور اس کی طرف دیکھتے ہوئے میکانکی انداز میں سر ہلایا تھا۔ وہ جیسے اس کا معمول تھا اور اس کے سامنے انکار کرنے یا اختلاف کرنے کی ہمت خود میں ناپید پاتا تھا۔
’’محبت اتفاقاً ہوجانا کوئی اتفاق نہیں ہے شاید یہ ربط خاموشی میں دبے پائوں ہیں‘ اتنی خاموشی میں کہ کبھی کبھی دل کو بھی خبر نہیں ہوتی۔ دھڑکنیں سارے راز سنار ہی ہوتی ہیں گر عقل سارے دروازے بند کردیتی ہے مگر عقل کو مان لینا چاہیے اگر غیر محسوس طریقے سے افراتفری میں کوئی نا سمجھ میں آنے والی سے تسلسل سے واقع ہورہی ہو تو یقینا وہ محبت ہی ہے۔‘‘ تیمور نے مدھم لہجے میں آگاہ کیا تھا جب وہ سوالیہ نظروں سے اس کی سمت دیکھتے ہوئے بولی تھی۔
’’ایسی محبت کون کرتا ہے تیمور بہادر یار جنگ! آپ نے تو دنیا دیکھی ہے‘ آپ کو نہیں لگتا کہ محبت ایسا کوئی وجود نہیں رکھتی۔‘‘ وہ کسی قدر افسردہ دکھائی دی تھی جانے کیوں اس کے لہجے میں ایک نامعلوم سی اداسی اتر آئی تھی۔ تیمور اس لہجے کی اداسی کو اپنے اندر محسوس کرتے ہوئے بولا تھا۔
’’محبت اپنا وجود رکھتی ہے عین النور! اگر سنائی نہ دے اور دکھائی نہ دے تو یہ اخذ کرلینا کہ اس کا وجود نہیں تو یہ حماقت ہے۔‘‘ مگر وہ نفی میں سر ہلانے لگی تھی۔
’’نہیں حماقت نہیں ہے‘ وہ عقل مندی ہے تیمور! جب عقل دیکھتی نہیں اور تسلیم کرتی ہے اسے سمجھ داری تصور کرلینا چاہیے۔‘‘ وہ مدھم لہجے میں بولی تھی۔
’’نہیں سمجھ داری یہ نہیں ہوتی کہ کسی شے کی غیر موجودگی پر حتمی بنا لے کر وہ شے ایگزٹ ہی نہیں کرتی اگر عقل کو کوئی شے دکھائی نہیں دیتی تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس کا وجود ہی نہیں بعض اوقات چیزیں نگاہ کو دکھائی نہیں دیتیں مگر ضروری نہیں جو شے نگاہ سے اوجھل ہے اس کی کوئی وقعت نہیں۔ بعض اوقات جو شے نگاہ کے سامنے نہیں ہوتی اور نظروں سے اوجھل ہوتی ہے اس کی وقعت اسی درجہ بڑھ جاتی ہے۔‘‘ تیمور نے کہا تھا اور وہ سر ہلانے لگی تھی۔
’’شاید ایسا درست ہے مگر نظر نہ آنے والی محبت کیسی ہوتی ہوگی؟‘‘ اس کا انداز کھویا کھویا سا تھا۔
’’آپ نے کبھی کھوئی ہوئی محبت نہیں دیکھی؟‘‘ تیمور کے پوچھنے پر وہ چونکی تھی۔
’’کھوئی ہوئی محبت کیسی ہوتی ہے؟ اس کا ذکر بھی نہیں سنا۔‘‘ وہ مسکرائی تھی اور اس کا انداز بہت پھیکا سا تھا‘ تیمور نے اسے بغور دیکھا تھا پھر اس کی سمت ہاتھ بڑھا تھا اور اس کا ہاتھ مانگا تھا عین چونکی تھی۔
’’ہاتھ دیجیے۔‘‘ اس نے احترام سے کہا تھا‘ عین اس کی سمت جانے کیوں ہاتھ بڑھارہا تھا۔ تیمور اس کا ہاتھ تھام کرمسکرایا تھا پھر اپنی خالی ہاتھ کی مٹھی بناکر اس کے ہاتھ پر کچھ رکھا تھا جو شے نہ دکھائی دینے والی تھی۔ عین حیرت سے اسے دیکھنے لگی تھی مگر تیمور نے اس کا ہاتھ مٹھی کی شکل میں دوبارہ بند کردیا تھا۔
’’یہ کیا ہے‘ پاگل ہیں آپ؟‘‘ عین مسکرائی تھی۔
’’یہ نہ د کھائی دینے والی محبت مگر آپ اسے محسوس کرسکتی ہیں۔‘‘ تیمور مسکرایا تھا۔
’’کیا مطلب… کیسے محسوس کرسکتی ہوں؟‘‘ عین چونکی تھی‘ تیمور اسے دیکھ کر مسکرایا تھا۔
’’محبت ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ تک منتقل کیا جانے والا ایک احساس ہے‘ اب وہ محبت ہے یا کچھ اور یہ آپ کو جاننا ہوگا مگر میں نے ایک سوچ اپنے ہاتھ سے آپ کے ہاتھ پر رکھ دی ہے۔ وہ سچ کوئی محسوسات تھی یا کچھ اور یہ آپ طے کریں گی۔‘‘ تیمور بولا تھا اور وہ بے ساختہ ہنس دی تھی اور اپنی مٹھی کو دیکھنے لگی تھی۔
’’سچ میں عجیب ہیں آپ تیمور بہادر یار جنگ! میں اپنے طور کچھ بھی اخذ کرلوں یہ تو نفسیاتی حربہ ہوگیا۔ آپ فرنگیوں کے دیس کیا ہو آئے آپ تو باتیں بھی انہی کی کرنے لگے۔ انگریزوں نے رنگ لیا آپ کو اپنے رنگ میں‘ آپ کہنا چاہتے ہیں کہ محبت ایک نفسیاتی غلبہ ہے؟ جیسے انگریزوں کا راج ایک نفسیاتی فتنہ ہے۔‘‘ وہ اسے عجیب نظروں سے دیکھنے لگی تھی‘ وہ اس کی ذہانیت پر مسکرایا تھا۔
’’محبت نفسیاتی غلبہ یا فتح نہیں ہے عین! آپ محبت کو سمجھنے کی غلطی کررہی ہیں۔ محبت کو سمجھنے کے لیے اتنی عجلت کا مظاہرہ کرنا مناسب نہیں۔‘‘ تیمور نے نرم لہجے میں سمجھایا تھا‘ تبھی اس نے ہوا کے رخ پر اپنے اڑتے ہوئے بالوں کی لٹوں کو سنبھالتے ہوئے کان کے پیچھے کیا تھا اور بے فکری سے شانے اچکاتے ہوئے تیمور کو دیکھا تھا۔
’’جانے دیجیے آپ اور آپ کی بے سر پیر کی لوجکس۔ محبت نہیں ہوئی جادوئی پڑیا ہوگئی‘ ہمیں یہ جادوئی پڑیا نہیں کھولنا۔‘‘ اس نے جانے کا ارادہ کرکے قدم آگے بڑھائے تھے مگر دوسرے ہی لمحے چونکی تھی اور رک کر تیمور بہادر یار جنگ کا ہاتھ تھاما تھا۔
تیمور اس کے ہاتھ تھامنے پر چونکا تھا‘ جب عین النور نے اپنی بند مٹھی کو کھولتے ہوئے اس کی ہتھیلی پر ان دیکھی کوئی شے رکھی تھی اور اس کی مٹھی بند کردی تھی۔
’’اسے آپ سنبھالیے‘ ہم سے ایسی چیزیں نہیں سنبھالی جاتیں۔‘‘اس نے مسکراتے ہوئے تیمور کی سمت دیکھا تھا اور پھر اس کا ہاتھ چھوڑ کر آگے بڑھ گئی تھی۔
تیمور اس لڑکی کو جاتے ہوئے دیکھنے لگا تھا اور پھر اپنی بند مٹھی کو دیکھا تھا‘ جہاں دکھائی دینے والی کوئی شے نہیں تھی مگر ایک جلتا ہوا لمس تھا اور اس لمس کا احساس تھا۔ وہ یہ بات سمجھ کر مسکرایا تھا‘ پتا نہیں عین النور کی عقل میں یہ بات آئی تھی کہ نہیں‘ وہ سوچنے لگا تھا۔
ء…/…ء
’’میاں یہ کیا اول فول بول رہے تھے اپنے سسر میاں کی ضیافت پر؟ ناک کٹوادی ہماری‘ کانگریس کی بیٹھک میں لوگ انگلیاں اٹھارہے تھے ہم پر۔ عجیب نالائق بیٹا ملا ہے ہمیں‘ اپنی عیاشیوں کے لیے سب پتا ہے مگر جہاں باپ کی عزت کی بات آجائے وہاں بدھو بن جاتے ہیں۔‘‘ سراج الدولہ نے بیٹے کو ڈانٹا تھا‘ حیدر سراج الدولہ مسکرادیا تھا۔
’’ابا جان سیاسی بیان بازی کو نہیں سمجھتے آپ؟ کانگریس کا حصہ ہیں آپ روز کئی سیاسی بیان سنتے رہے ہوں گے‘ ان کی وقعت کیا ہوتی ہے؟ بہرحال ایک بات آپ کو بتانا چاہتے تھے ہم‘ ہمیں اس نئی سرزمین پر جانا سود مند سودا لگتا ہے ہم وہاں جاکر نو آبادیات کا حصہ بن کر وہ سب اثاثے بھی کلیم کرسکتے ہیں جو ہم نے یہاں چھوڑے بھی نہیں۔‘‘ حیدر مسکرایا تھا۔
’’نالائق یہاں سے جانے والوں کو اثاثے نہیں ملیں گے‘ موت ملے گی۔ تم ہندوئوں کو نہیں جانتے‘ یہاں ہندو اور سکھ دونوں بپھرے ہوئے ہیں‘ وہ مسلمانوں کو اتنی آسانی سے اس نئی زمین تک کا سفر کرنے نہیں دیں گے‘ کاٹ کر رکھ دیں گے۔ یہاں سے جانے والے بچکانہ باتیں کرتے ہیں‘ یہ جوش کی باتیں ہیں اور جوش میں رہنے والے عقل کو خیر باد کہہ دیتے ہیں‘ مصلحت اسی میں ہے کہ اپنے علاقوں میں رہا جائے اور ہندوئوں اور سکھوں سے بناکر رکھی جائے۔ اس سے ایک فائدہ ہوگا کہ جان بچ جائے گی اور نقصان نہیں ہوگا۔ ہم کانگریس کا حصہ یوں ہی نہیں بنے اگر چاہتے تو مسلم لیگ کاحصہ بھی بن سکتے تھے مگر ابا مرحوم کہتے تھے کہ اقلیت کا حصہ کبھی نہ بننا۔ اقلیت والے نمایاں زیادہ ہوتے ہیں اور نقصان اٹھاتے ہیں۔ ہمیشہ اکثریت کا ساتھ دینا کیونکہ جہاں اکثریت اقلیت پر غالب آئے گی وہاں جہاں اقلیت نقصان اٹھائے گی تم اکثریت کا حصہ ہونے کے باعث نقصان سے محفوظ رہو گے سو میری مانو تو اقلیت کا حصہ بننے کا چھوڑ کر اکثریت کا ساتھ دو۔‘‘ سراج صاحب نے بیٹے کو سمجھایا تھا‘ حیدر مسکرایا تھا۔
’’ابا کہہ دینے سے ضروری نہیں ہم پاکستان کا حصہ بن جائیں مگر ہم ایک بات سوچ رہے تھے ‘ سیف چاچا یہاں اپنے بھاری اثاثے چھوڑ کر جائیں گے ہمیں گمان ہے یہ وہاں پہنچ کر اس سے زیادہ اثاثوں کی درخواست کریں گے۔ ہم ان سے ہاتھ دھونا نہیں چاہتے۔‘‘ حیدر نے مکاری سے مسکراتے ہوئے بولا محترم کو دیکھا تھا۔
’’کچھ نہیں ملے گا ان نواب صاحب کو‘ جتنا زہر سکھوں اور ہندوئوں کے ذہن اور دلوں میں وہ بو رہے ہیں اس کا خمیازہ انہیں بھگتنا ہوگا۔ جناح صاحب ان کو محفوظ کرنے اس زمین پر نہیں آئیں گے نہ ان کے لیے کوئی خصوصی سواری کا اہتمام ہوگا۔ مسلم لیگی ہونے کا کوئی پروٹوکول نہیں لے گا انہیں‘ کتے کی موت مریں گے وہ۔ جتنے بیان ان کے اخباروں میں چھپتے ہیں ان ی گردن پر تو سب سے پہلے چھری پھیری جائے گی‘ آئے بڑے مسلم لیگ۔ ہندوئوں کی ذاتوں اور ان کے فرق کو سب سے زیادہ ہی ڈسکس کرتے ہیں‘ خود کہاں کے مومن ہیں نو سوچوہے کھا کر بلی حج کو چلی۔ اپنے گریبان میں نہیں دیکھتے۔‘‘ سراج صاحب نے اندر کاتمام زہر اگلا تھا‘ حیدر مسکرادیا تھا۔
’’میرے سسر میاں کی مقبولیت سے خائف ہیں آپ ابا جان! چلیں دل نہ جلائیں‘ دماغ ٹھنڈا کریں۔ ہم وہی کریں گے جو آپ کہیں گے۔‘‘ حیدر نے نرمی سے کہا تھا اور والد محترم کو دیکھا تھا۔
’’یوں تو آپ سیف چاچا کے خلاف بولتے ہیں پھر جائیداد سے عاق کرنے کی بات کیوں کی؟ آپ کی نفرت اتنی شدید ہے تو پھر تو آپ کو فرق نہیں پڑنا چاہیے کہ ہم کیا کرتے ہیں اور کیا نہیں۔‘‘ سراج صاحب نے بیٹے کو گھورا تھا۔
’’سپوتِ محترم ایسی ساری باتیں آپ کی عقل میں آجائیں تو پھر آپ کسی کوٹھے پر نہیں ایوان میں بیٹھے دکھائی دیں۔ عقل کا استعمال کرنا شروع کردیں گے ‘ تحریک زوروں پر ہے اور کسی بھی وقت کوئی تبدیلی آسکتی ہے‘ سو اپنی آنکھیں اور عقل کھلی رکھیے۔‘‘ سراج صاحب کہہ کر چلتے ہوئے باہر نکل گئے تھے ‘ حیدر مسکرادیا تھا۔
’’ابا بھی کمال ہیں‘ بات کو سمجھتے نہیں ہم کیا چاہتے ہیں وہ زیادہ ضروری ہے بہرحال وقت کی اولین ترجیح یہ ہوگی کہ تیل اور اس کی دھار دیکھی جائے۔‘‘ وہ مسکراتے ہوئے ڈرنک کا گلاس لبوں سے لگانے لگا تھاجب فون کی گھنٹی بجی تھی تب وہ ڈرنک کا گلاس وہیں رکھ کر فون اسٹینڈ کی طرف بڑھ گیا تھا۔
’’ہیلو… ہاں کرم دین! کیا خبر ہے‘ کیا ہم خاتون حاکم سے آج ملاقات کا شرف حاصل کرسکتے ہیں؟ دعجیب دوشیزہ ہیں ان کی ناں کی تکرار عجب ایک خمار طاری کرتی ہے۔ ہوش باقی نہیں رہتا اور دل مچلتا ہوا ان کے قدموں میں جاپڑتا ہے۔‘‘ حیدر مسکرایا تھا‘ دوسری طرف کرم دین جانے کیا بولا تھا کہ وہ مسکرادیا تھا۔
’’دل تو جیت کر رہیں کرم دین ہم ضدکے پکے ہیں‘ ٹھان لیں تو کرکے رہتے ہیں۔‘‘ حیدر مسکرایا تھا۔
’’اچھا محترمہ سے پوچھ کر بتائو ہم تشریف آوری کریں؟ بہت دن ہوئے ان کا دیدار نصیب نہیں ہوا‘ دل کم بخت عجب اضطرابیت میں آن گراہے‘ ان سے ہماری طرف سے درخواست کردیں اور جواب سے مطلع فرمائیں۔ ہم انتظار کرتے ہیں۔‘‘ حیدر سراج الدولہ نے کہہ کر فون رکھا تھا اور چلتے ہوئے اپنی جگہ پر آن بیٹھا تھا اور ڈرنک کے سپ لینے لگا تھا‘ ان کی آنکھوں میں ایک خاص چمک تھی۔
٭٭٭٭
فون کی گھنٹی بج رہی تھی جب عین النور وہاں سے گزرتے ہوئے رک گئی تھی اور فون کا ریسیور اٹھالیا تھا۔
’’ہیلو…‘‘ عین نے کہا تھا جب کہ دوسری طرف سے تیمورکی آواز آئی تھی۔
’’ہم نے تب سے اب تک بند مٹھی نہیں کھولی عین النور پٹوڈی!‘‘
’’اوہ آپ‘ ہم سمجھے کوئی ضروری کال ہوگی۔‘‘ عین انہیں چھیڑتی ہوئی مسکرائی تھی۔
’’ویسے ہمیں لگا تھا آپ وہ بے معنی قسم کی باتیں شاید کسی خاص دورانیے اور وقت میں کرتے ہیں مگر اب خبر ہوئی آپ ایسی باتوں کا انبار کسی بھی وقت لگا سکتے ہیں۔‘‘ وہ مسکرائی تھی دوسری طرف تیمور بہادر یار جنگ نے گہری سانس لی تھی۔
’’ہم آپ کو ضروری بات بتانا چاہتے تھے۔‘‘
’’کون سی ضروری بات۔‘‘ وہ چونکی تھی۔
’’وہی جو آپ شاید سمجھ پائی تھیں کہ نہیں۔‘‘ تیمور الجھ کر بولا تھا۔
’’ہمیں کچھ نہیں سمجھنا بہادر یار جنگ! وہ مذاق تھا اور وہیں ختم ہوگیا تھا اس کی حقیقت اس سے زیادہ کچھ نہیں تھی۔ آپ جانے کیا سمجھنے لگے‘ جایئے دنیا کے گول گول چکر کاٹیے اور اس محبت کو ڈھونڈیئے جو آپ سے ایک دن کھوگئی تھی‘ ہم آپ کو اسے ڈھونڈنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ اس سے زیادہ اچھا مشورہ شاید ہی کسی دوست نے دوسرے دوست کو دیا ہو‘ جایئے جاکر اسے ڈھونڈیئے مل جائے تو ہمیں بھی مطلع کردیں۔ ہم یقین کرلیں گے کہ ایسی کسی محبت کا کوئی وجود ہے۔‘‘ عین نے بے فکرے پن سے کہا تھا اور فون کال کا سلسلہ منقطع کرنے لگی تھی جب تیمور نے دوسری طرف کہا تھا۔
’’محبت کو ڈھونڈنے کے لیے دنیا کے گول گول چکر کاٹنا ضروری نہیں ہوتا عین! ہم اس کھوئی ہوئی محبت کو دنیا کے اردگرد چکر کاٹ کر ڈھونڈنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔ آپ کو بتانا چاہتے تھے کہ ہم نے اس محبت کو اپنی مٹھی میں ڈھونڈ لیا ہے۔‘‘ تیمور پُرسکون انداز سے بولا تھا جب وہ چونک گئی تھی۔
’’تیمور پاگل ہیں آپ؟ کیا آپ چاہتے ہیں ہم آپ کو ویسی ہی سزائیں دیں کہ آپ کا دماغ ٹھکانے لگادیں۔‘‘ عین پوچھا تھا۔
(ان شاء اللہ باقی آئندہ ماہ )

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close