Naeyufaq Nov-16

ابدی حیات

سلیم اختر

زوال و عروج کا سلسلہ ازل سے چلا آرہا ہے اور ابد تک جاری رہے گا۔ انسانی زندگی میں اتار چڑھائو، نشیب و فراز لازمی امر ہیں اور یہ نہ ہوں توا س کی زندگی یکسانیت کا شکار ہو کے رہ جائے ۔ زندگی میں صرف خوشیاں ہی ہوں تو ایک ہی ڈگر پر زندگی کا سفر طے کرتے ہوئے انسان اکتاجائے اس لئے قدرت نے اپنی کائنات کے نظام کی گنجائش رکھی ہے، خوشی کے ساتھ غم بھی ہے تاکہ وہ اس کی قدرت کو فراموش نہ کرے ۔ جو لوگ اس کی طرف سے ڈالی گئی آزمائش کو اپنے اوپر عذاب نہیں سمجھتے بلکہ حوصلے اور بردباری سے اس کا مقابلہ کرتے ہیں، وہی صحیح معنوں میں اس کے نیک اور سچے بندے ہیں۔
عذرا ایک مخلص اور شریف لڑکی تھی شاید اسی لئے قدرت نے اسے حسن کی دولت سے مالا مال کر کے بہت بڑی آزمائش میں ڈال دیا تھا۔ ہمارے معاشرے کا یہ سب سے بڑا المیہ ہے کہ لڑکی بے حد حسین ہو تو اسے حاصل کرنے کی ہر کوئی تمنا کرتا ہے خواہ وہ تمنا یا خواہش جائز ہو یا نہ جائز… قدرت نے کسی بھی انسان کو فرشتہ نہیں بنایا مگر اسے اتنی خوبیاں عطا کر دی ہیں کہ وہ تمام مخلوقات سے اشرف ہو گیا ہے۔ اب یہ انسان پر منحصر ہے کہ وہ دنیا میں آ کر اپنے نیک اعمال سے خود کو فرشتہ بھی کہلواتا ہے اور برے اعمال سے شیطان کی صفت میں شمار کیا جاتا ہے۔
عذرا بلاشبہ اس قدر حسین تھی کہ اسے دیکھ کر بڑے بڑے مستقل مزاج ڈگمگا جاتے تھے۔ جو بھی ا سے دیکھتا تھا، بس ٹھنڈی آہ بھر کر رہ جاتا۔ وہ اتنی باحیا تھی کہ آج تک اس نے اپنے خاندان کے علاوہ کسی غیر مرد کی طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھا تھا مگر اسے دیکھنے والے تو تھے۔ اپنے خاندان میں جو نوجوان لڑکے تھے ، ان سے بھی وہ بہت کم بات چیت کرتی تھی۔ وہ اپنے بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹی تھی۔ چودہ برس کی ہوئی تو اس کے رشتے آنا شروع ہو گئے حالانہ وہ ابھی صرف نویں جماعت کی طالبہ تھی۔ پڑھائی کے معاملے میں بھی وہ اس قدر ذہین تھی کہ اب تک اپنے اسکول کے ہر امتحان میں ٹاپ کرتی آئی تھی۔ دینی علوم میں بھی وہ برتر تھی۔ جب وہ صرف دس برس کی تھی تب اس نے مکمل قرآن مجید حفظ کر لیا تھا، صوم و صلوۃ کی تو بچپن سے ہی پابندی تھی اور اب دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ اس نے حدیث و فقہ کا مطالعہ بھی شروع کر دیا تھا۔ جس لڑکی میں اتنی ڈھیر ساری خوبیاں ہوں اسے بھلا کون اپنانا نہیں چاہے گا۔ یہی وجہ تھی کہ لڑکپن سے ہی اس کے رشتے آنا شروع ہو گئے تھے…ایک روز اس کے والد جو ایک معمولی ٹیچر تھے ، نے اس کی والدہ سے کہا۔
’’دیکھو، ہاجرہ! میں یہ بات قطعا پسند نہیں کرتا کہ جب بھی میں اسکول سے لوٹوں تو دو چار مرد یا عورتیں موجود ہوں یہ لوگ کیوں ہاتھ دھو کر اس کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔ کیا تم انہیں نہیں سمجھا سکتی ہو کہ ابھی تو عذرا سے بڑی رفعت اور عائشہ بھی کنواری بیٹھی ہیں…؟‘‘
’’ماسٹر کریم! جس گھر میں بیری ہو گی، وہاں پتھر تو آئیں گے ہی…‘‘ہاجرہ نے کہا۔ ’’…اور یہاں تو ایک نہیں ، تین تین ہیں۔ پھر میں کس کس کو سمجھائوں، کس کو روکوں کہ وہ ہمارے گھر نہ آئے …‘‘
ماسٹر کریم کو معلوم تھا کہ اس کی بیوی ، رفعت اور عائشہ کے رشتوں کی وجہ سے پریشان رہتی ہے حالانکہ ان دونوں کی عمریں ابھی اتنی زیادہ بھی نہ ہوئی تھیں کہ ان کے رشتوں سے مایوس ہوا جائے۔ رفعت بائیسں برس کی تھی اور عائشہ اکیس کے لگ بھگ تھی، دونوں نے میٹرک کے بعد تعلیم کا سلسلہ ترک کر دیا تھا۔ ماسٹر کریم کی آمدنی کے ذرائع محدود تھے ، وہ دو ہزار روپے ماہوار تنخواہ پاتا تھا جس میں بمشکل اس کے گھر کی دال روٹی چلتی تھی۔ پھر اس تیزی سے بڑھتی ہوئی مہنگائی کے دور میں وہ چار بچوں کی تعلیم کا بوجھ کیسے برداشت کرتا، اسی لئے اس نے عائشہ اور رفعت کو میٹرک کے بعد اسکول سے ہٹا لیا تھا۔ ان دونوں سے چھوٹا نا صر فرسٹ ائیر میں تھا مگر باپ کا بوجھ بٹانے کے لئے وہ شام کے وقت ایک میڈیکل اسٹور پر بطو رسیلز مین جاب کرتا تھا…اس نے باپ سے کہا تھا۔
’’ابو! آپ نے اپنے معاشی حالات کی وجہ سے آپا رفعت اور آپا عائشہ کو تو اسکول سے ہٹا لیا ہے مگر میں چھوٹی کے ساتھ ایسا نہیں ہونے دوں گا، میں اسے ہر حال میں گریجویشن کر وائوں گا…‘‘
وہ عذرا کو پیار سے چھوٹی کہتا تھا ، ان دونوں میں اتنی محبت اور انس تھا کہ وہ اسکول کے علاوہ ایک دوسرے سے دور نہیں ہوتے تھے۔ باپ نے جب اس کا بہن کے لئے اتنا جذبہ دیکھا تو اس نے فرط مسرت سے بیٹے کو گلے لگا لیا اور بولا۔
’’بیٹا! مجھے تم پر بے حد فخر ہے کہ تم میرا ایک بازو بن گئے ہو۔ اب تم جو چاہو گے، وہی ہو گا۔‘‘
وقت تیزی سے گزرتا رہا۔
رفعت اور عائشہ اب گھر میں ہی سلائی کڑھائی کا کام کرتی تھیں۔ لڑکی اپنی تعلیم مکمل کر لے تو تمام والدین کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ اس کے فرض سے جلد از جلد سبکدوش ہو جائیں اور اس کے بعد اپنی باقی ماندہ زندگی سکون اور اطمینان سے بسر کریں۔ ماسٹر کریم بخش اور ہاجرہ بی بی کی بھی یہی خواہش تھی کہ دونوں بیٹیاں گھر با روالی ہو جائیں۔ ناصر اور عذرا ابھی پڑھ رہے تھے اور انہیں مزید آگے پڑھنا تھا۔ فی الحال ان کی فکر نہیں تھی، فکر تو رفعت اور عائشہ کی تھی جنہیں اسکول چھوڑے چار سال ہو گئے تھے مگر ان کا کہیں بھی رشتہ طے نہ ہو سکتا تھا۔ شکل و صورت تو ان کی بھی اچھی تھی مگر اپنی چھوٹی بہن عذرا کے مقابلے میں وہ قبول صورت ہی کہی جا سکتی تھیں۔ اگر کوئی ان کے رشتے کے لئے آتا تو وہ عذرا کو دیکھ کر ان دونوں کی طرف سے نظریں پھیر لیتا اور کہا جاتا۔
’’بہن جی ! ہمیں تو بس عذرا بیٹی ہی پسند آئی ہے، آپ اس کے لئے ہاں کہہ دیں۔ ہمیں جہیز کا بھی لالچ نہیں۔ عذرا بیٹی میں جو بے شمار خوبیاں ہیں ، ان کے سامنے دوسری چیزیں بالکل ہیچ نظر آتی ہیں…‘‘
’’مگر عذرا تو ابھی بہت چھوٹی ہے بہن! ہم اس کی شادی کا فی الحال کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ آپ رفعت یا عائشہ کی بات کریں۔ ‘‘ ہاجرہ بڑی متانت سے کہتی۔
’’ہمیں تو اسی عمر کی لڑکی کا رشتہ چاہئے جتنی عذرا کی عمر ہے…پتہ نہیں، لوگ لڑکیوں کو اتنی عمر تک گھر میں کیوں بٹھائے رکھتے ہیں…؟‘‘
ہاجرہ حیران ہو کر کہتی۔ ’’اے، بہن! تمہیں کس نے کہا کہ میری بچیوں کی عمریں زیادہ ہو گئی ہیں؟…ابھی تو ان کے اسکول کالج جانے کے دن ہیں، کیا ہوا جو ہم انہیں اپنی تنگ دستی کی وجہ سے آگے نہ پڑھا سکے…‘‘
’’سب اسی طرح کہتے ہیں۔ لڑکی کی عمر سولہ سترہ بتاتے ہیں اور ان کی صورت دیکھو تو پتہ چلتاہے جیسے پینتیس‘ چالیس کے درمیان ہیں… نہ بی بی! ہمیں اپنی عمر کی بہو لے جانے کی ضرورت نہیں۔ ہم تو عذرا جیسی الہڑ عمر کی لڑکی کو بہو بنائیں گے…‘‘
ہاجرہ بی بی ایسی ترش اور کڑوی کسیلی سننے کی عادی ہو گئی تھی اس لئے وہ اپنے گھر آئی کسی مہمان عورت سے کوئی بحث نہیں کرتی تھی بلکہ اسے دو ٹوک الفاظ میں یہ جواب دیتی کہ وہ عذرا کی اتنی چھوٹی عمر میں شادی نہیں کرنا چاہتے۔ پھر جب ماسٹر کریم گھر آتا تو ہاجرہ اسے سارا دن کا دکھڑاسنا ڈالتی اور زچ ہو کر کہتی۔
’’ماسٹر! میں تو اس روز روز کی جھک جھک سے عاجز آگئی ہوں۔ جو بھی آتا ہے عذرا کا مطالبہ کرتا ہے ۔ رفعت اور عائشہ کا تو کوئی نام بھی نہ لیتا…‘‘
اس رو ز تو ہاجرہ کی حیرانی کی انتہا نہ رہی جب ایک اونچے دولت مند گھرانے کی خاتون عذرا کو دیکھنے کے لئے ان کے گھر آئی۔ اتفاق سے اس روز ماسٹر کریم بخش کو بھی اسکول سے چھٹی تھی اور وہ گھر میں ہی تھا۔ جب اس دولت مندخاتون کی شاندار گاڑی ان کے دروازے کے سامنے آکر کھڑی ہوئی تو وہ دونوں میاں بیوی دروازے پر آگئے ۔ خاتون نے ساڑھی پہنی ہوئی تھی۔ گلے میں خوبصورت لاکٹ تھا، ہاتھوں کی انگلیوں میں نصف درجن طلائی انگوٹھیاں تھیں جب کہ کانوں میں بھی بیش قیمت سونے کی بالیاں تھیں۔ اس کے اعلیٰ قیمتی لباس پر قیمتی پرفیوم اپنی خوشبو لٹا رہا تھا۔ ہاجرہ اور ماسٹر کریم بخش دروازے میں بالکل ساکت کھڑے تھے، شاید وہ اس خاتون کی امارت سے مرعوب ہو گئے تھے۔ انہیں تب ہوش آیا جب خاتون نے قریب آکر انہیں سلام کیا، تب ماسٹر کریم دروازے کی چوکھٹ چھوڑ کر ایک طرف ہو گیا اور وہ خاتون ہاجرہ کے ہمراہ اندر آگئی ۔ دونوں میاں بیوی اس کی آئو بھگت میں لگ گئے۔ خاتون نے باتوں ہی باتوں میں اپنا آ نے کا اصل مقصد بیان کر دیا۔
’’میرا بیٹا ، ماشاء اللہ حال ہی میں امریکہ سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری لے کر آیا ہے ، اب یہیں جاب کرنا چاہتا ہے ۔ میں اسی کے لئے آپ کے گھر آئی ہوں…‘‘
’’ہم کچھ سمجھے نہیں، بیگم وارث علی…!‘‘ہاجرہ نے سمجھتے ہوئے بھی نا سمجھی کی بات کی ۔
’’دیکھو، بہن! اس میں کوئی سمجھنے سمجھانے والی بات تو ہے نہیں ، یہ تو ایک سیدھا سا سوال ہے جس کا مجھے جواب چاہئے لیکن دیکھیں میں کم از کم آپ جیسے شریف اور مخلص لوگوں سے انکار کی توقع نہیں رکھ سکتی …‘‘
’’لیکن، بیگم صاحبہ! آپ سوال تو کریں …‘‘اب کی بار ماسٹرکریم بخش نے بھی بے چینی اور اضطراب کا مظاہر ہ کیا۔
’’میں جانتی ہوں، آپ لوگوں کی تین بیٹیاں ہیں اور ان کا رشتہ مانگنے کے لئے بہت سے لوگ آپ کے پاس آتے اور پھر واپس چلے جاتے ہیں لیکن میں تو آج کسی ایک کے رشتے کی بات پکی کر کے ہی جائوں گی…‘‘
دونوں میاں بیوی جو ایک دولت مند خاتون کو اپنے گھر میں دیکھ کر مسرور تھے، اس کی زبان سے اپنی بیٹیوں کا ذکر سن کر ان کی خوشیوں کا ٹھکانہ نہ رہا۔ دونوںکے دماغ میں ایک ہی بات تھی کہ خاتون بڑی رفعت یا اس سے چھوٹی عائشہ کا رشتہ طلب کر ے گی اور وہ اتنے اونچے گھرانے کے ساتھ ساتھ یہ رشتہ جوڑنے میں دیر نہیں کریں گے۔ ان کی بیٹیوں کی تو قسمت جاگ اٹھی تھی… خاتون نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا۔
’’یوں تو آپ کی تینوں بیٹیاں خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ہیں لیکن ان میں جو چھوٹی ہے ، وہ مجھے سب سے زیادہ پسند آئی ہے اور میں یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہو گئی ہوں کہ ہمارے بیٹے کی پسند لا جواب ہے…‘‘
ہاجرہ اور ماسٹر کریم اس خاتون کی باتیں سن کر گویا سکتے میں رہ گئے۔ یہ بات کوئی نئی نہ تھیں کہ اس امیر و کبیر خاتون نے ان کی بیٹی عذرا کو باقی دونوں پر ترجیح دی تھی اور اسے پسند کیا تھا مگر خاتون کی دوسری بات نے انہیں پریشان کر دیا تھا، وہ کہہ رہی تھی کہ عذرا اس کے بیٹے کی پسند ہے اور یہ سن کر انہیںیوں لگ رہا تھا جیسے امارت نے غربت کے منہ پر طمانچہ رسید کر دیا ہو ۔ انہوں نے اپنی اولاد کی پرورش ، تربیت اور نشوونما خالص مشرقی انداز میں کی تھی۔ بیٹیوں کو مذہبی روایات کے مطابق پردے کا پابند بنایا تھا ۔ اس کے شعور میں یہ بات بٹھائی تھی کہ مشرقی عورت کا اصل مقام چار دیواری کے اندر ہے۔ وہ تینوں اتنی با حیا اور با پردہ تھیں کہ کبھی شاپنگ وغیرہ کے لئے بازار تک نہیں گئی تھیں، صرف اس وقت گھر سے باہر نکلتی تھیں، جب اسکول جاتیں لیکن تب بھی وہ چادر نما برقع میں اپنے جسم اور چہرے کو چھپائے رکھتیں۔ پردے کی اس سخت پابندی کی بدولت کسی غیر مرد نے ان کی صورت و شکل تک نہ دیکھی تھی اور عذرا تو ان سب سے زیادہ مذہب اور شریت کی پابند تھی، والدین کو اس پر مکمل اعتماد تھا اور وہ خود بھی مشرقی شرم اور حیا کا لحاظ رکھتی تھی۔ پھر وہ اس خاتون کی باتوں پر بھلا کیسے یقین کر لیتے کہ ان کے بیٹے نے عذرا کو پسند کیا ہے ۔ اس کا مطلب تو یہ تھا کہ ان کے بیٹے نے عذرا کو پسند کیا ہے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ ان کی بیٹی اب باپردہ نہیں رہی، تب ایک غیر اور اجنبی نوجوان نے اسے کہیں دیکھا ہے اورپسند کر لیا ہے…اس کے ماں باپ اس خیال سے ہی اپنے آپ کو ذلت اور رسوائیوں کی گہری دلدل میں اترتے ہوئے محسوس کر رہے تھے ۔ خاتون نے انہیں خاموش دیکھ کر کہا۔
’’آپ شاید سمجھ ہی گئے ہوں گے کہ میں کس مقصد کے لئے یہاں آئی ہوں؟ …بھئی ، سیدھی سی بات ہے کہ میں اپنے بیٹے کے لئے آپ کی بیٹی عذرا کا رشتہ مانگنے آئی ہوں۔ امید ہے کہ آپ مجھے خالی دامن نہیں لوٹائیں گے۔‘‘
ماسٹر کریم اور اس کی بیوی گم صم سے بیٹھے تھے ، پھر کچھ تو قف کے بعد ماسٹر نے اپنی بے ترتیب سانسوں کو یکجا کر کے کہا۔
’’دیکھو، بہن! اول تو یہ کہ ابھی عذرا بیٹی سے بڑی دونوں کنواری ہیں ، ہم پہلے ان کی شادی کریں گے اس کے بعد ہم عذرا کے متعلق سوچیں گے۔ دوسری بات یہ ہے کہ عذرا کی عمر بہت کم ہے۔ وہ میٹرک کا امتحا ن دے رہی ہے اور مزید آگے پڑھنا چاہتی ہے…‘‘
خاتون نے بات کاٹ کر کہا ۔ ’’ماسٹر صاحب! ہمارے پاس کسی چیز کی کمی نہیں، ہم اسے خود پڑھا لیں گے…‘‘
’’مگر پھر بھی ہم اتنی عجلت میں کوئی فیصلہ نہیں کر سکتے …یوں بھی رفعت اور عائشہ عذرا سے بڑی ہیں، ہم پہلے ان کی شادی کریں گے اور بعد میں عذرا کے متعلق سوچیں گے …‘‘
ماسٹر نے گویا اپنا آخری فیصلہ سنا دیا۔ خاتون مایوس ہو کر واپس چلی گئیں۔ ہاجرہ کو اتنے اونچے گھرانے کا رشتہ کھونے کا بے حد افسوس تھا لہذا وہ خاتون کے واپس جاتے ہی اپنے شوہر پر برس پڑی ۔
’’میں پوچھتی ہوں! اس خاتون کو صاف انکار کرنے کی کیا ضرورت تھی؟… اتنا اونچا رشتہ ٹھکرا کر آپ نے خود اپنے پائوں پر کلہاڑی ماری ہے ۔ ‘‘
’’تم کیسی باتیں کرتی ہو ، ہاجرہ…!‘‘ماسٹر کریم نے قدرے تلخ ہو کر کہا۔ ’’یہ دولت یا مایا ہی سب کچھ نہیں ہوا کرتی، ہمیں اپنی بیٹیوں کا سکھ اور آرام چاہئے جو ان دولت مند گھرانوں میں نہیں ہوتا…‘‘
’’ماسٹر ! دولت سے سب کچھ خریدا جا سکتا ہے ۔ جب انہیں اتنی ساری آسائشیں حاصل ہو جائیں گی ، تو پھر انہیں کون سا دکھ رہے گا…پہلے ہی رفعت اور عائشہ کا کہیں رشتہ نہیں ہورہا، ان کی اتنی عمریں ہو گئی ہیں۔‘‘ہاجرہ کے لہجے سے مایوسی جھلک رہی تھی۔
’’ایسی مایوسی کی باتیں نہ کرو، ہاجرہ!‘‘ ماسٹر کریم تیز لہجے میں بولا۔ ’’خدا کے گھر دیر ہے ، اندھیر نہیں… ذرا یہ سوچو کہ ہم نے اپنی اولاد کی تربیت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی پھر ہماری عزت پر یہ داغ کیوں لگ رہا ہے، ہماری شرافت اور نیکی پامال کیسے ہو رہی ہے؟‘‘
’’میں آپ کا مطلب نہیں سمجھی!‘‘ ہاجرہ نے حیران ہو کر اس کی طرف دیکھا۔
’’وہ دولت مند خاتون کہہ رہی تھی کہ اس کے بیٹے نے عذرا کو پسند کیا ہے لیکن کہاں اور کیسے ؟…ہماری سب بیٹیاں اتنے سخت پردے میں رہتی ہیں کہ کوئی نا محرم ان کا ایک بال بھی نہیں دیکھ سکتا۔ عذرا جب اسکول کی چار دیواری میں قدم رکھتی ہے ، تب وہ برقعے کا نقاب چہرے سے ہٹاتی ہے ۔ پھر اس خاتون کے بیٹے نے اسے کہاں دیکھ لیا، کیا عذرا اس کے سامنے بے پردہ …‘‘
’’نہیں، ماسٹر! ایسا کوئی لفظ ادا نہ کرو۔ ‘‘ ہاجرہ نے جلدی سے بات کاٹ کر کہا۔ ’’مجھے اپنی بیٹیوں کی شرافت اور باحیائی کا اتنا ہی یقین ہے جتنا کہ ایک ماں کو اپنے بطن سے پیدا ہونے والی اولاد کا ہوتا ہے ، وہ کسی نا محرم کے سامنے بے پردہ ہو نے کے متعلق سوچ بھی نہیں سکتیں…‘‘
’’یہی بات تو میں تم سے کہنا چاہتا ہوں ، ہاجرہ ! وہ خود کسی غیر مرد کے سامنے بے حجاب نہیں ہوتیں مگر یہ ہوسکتا ہے کہ عذرا کسی مجبوری کے پیش نظر اس رئیس زادے کے سامنے گئی ہو… تم اس کی ماں ہو اور ماں بیٹی کے درمیان کوئی راز نہیں ہوتا، ذرا اس سے پوچھو کہ وہ اسکول کے علاوہ کہاں کہاں بے نقاب رہتی ہے ۔ اگر کوئی ایسی ویسی بات ہوئی تو ہمیں کسی بہت بڑی بد نامی یا رسوائی کا سامنا کرنے سے پہلے ہی اسے اسکول سے اٹھانا ہو گا۔‘‘
ہاجرہ نے جب بیٹی سے اس بابت پوچھا تو عذرا نے بتایا کہ وہ اسکول کی چاردیواری کے علاوہ کہیں بھی چہرے سے نقاب نہیںہٹاتی مگر کئی روز سے وہ محسوس کر رہی تھی کہ اسکول جاتے اور آتے وقت ایک لڑکا مسلسل اس کا پیچھا کرتا ہے ۔ وہ اپنی خاندانی شرافت اور شرم و حیا کی وجہ سے خاموش رہی تھی۔ والدین کو جب اس بات کا پتہ چلا تو انہوں نے عذرا کو اگلے روز اسکول جانے سے منع کر دیا حالانکہ ان دنوں عذرا میٹرک میں تھی اور امتحان بھی قریب ہی تھے مگراس کے ماں باپ اس بات سے خائف ہو گئے تھے کہ کہیں ان کی عزت و وقار پر کوئی حرف نہ آجائے۔ عذرا نے جو شرم و حیا کی دیوی تھی، چپ چاپ ماں باپ کے فیصلے کو قبول کر لیا۔ اس نے والدین کی عزت اور غیرت کواپنے مستقبل پر ترجیح دی تھی اور اس کا بھائی بھی والدین کے اس فیصلے پر احتجاج نہ کر سکا۔
٭٭٭٭٭
ماسٹر کریم بخش کا گھرانہ خالص مذہبی تھا، بیٹیوں کو کہیں آنے جانے یا گھومنے پھرنے کی اجازت نہ تھی۔ انہوں نے اپنی تینوں بیٹیوں کو دینی و دنیاوی تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا تھا لیکن اس کے باوجود رفعت اور عائشہ کا رشتہ ابھی تک طے نہ ہو سکتا تھا حالانکہ تمام عزیز و رشتہ دار اور محلے والے ان کی شرافت کے قائل تھے۔ ان کا رشتہ نہ ہونے کی بڑی وجہ یہ تھی کہ اگر کوئی رشتہ مانگنے کے لئے ان کے گھر آتا بھی تو وہ عذرا کے کے حسن و جمال کو دیکھ کر رفعت اور عائشہ کو نظر انداز کر دیتا اور عذرا کا رشتہ طلب کرنے لگتا… ایک روز ہاجرہ اپنے خاوند سے کہنے لگی۔
’’رفعت اور عائشہ کے رشتے میں سب سے بڑی رکاوٹ عذرا بیٹی ہے ، ہر کوئی اس کا امیدوار بن کر آتا ہے …کیوں نہ ہم پہلے اس کی شادی کر دیں تاکہ لوگوں کی نظریں اس سے ہٹ جائیں اور وہ ہماری دوسری بیٹیوں پر توجہ کرنے لگیں۔‘‘
’’یہ کیا کہہ رہی ہو ، ہاجرہ بیگم؟‘‘ ماسٹر نے حیرانی سے اس کی طرف دیکھا۔ ’’اگر ہم پہلے عذرا بیٹی کو بیاہ دیں گے تو رفعت اور عائشہ شاید ساری زندگی کی ہماری دہلیز پر بیٹھی رہیں اور پھر لوگ تو یہی کہیں گے نا کہ ہم نے پہلے بڑی بیٹیوں کا نہ سوچا اور چھوٹی کی شادی اس لئے کر دی کہ وہ اپنی بہنوں سے زیادہ خوبصورت تھی… نہیں ہاجرہ ! پہلے دونوں بڑی کی شادی ہوگی، اس کے بعد چھوٹی عذرا کی باری آئے گی۔ ‘‘
’’…اور اگر بڑی بیٹیوں کا رشتہ نہ آیا تو ان کے ساتھ تیسری کو بھی کنواری بٹھائے رکھنا۔ ‘‘ ہاجرہ نے جلے بھنے انداز میں کہا۔
’’کیوں ایسی نا امیدی کی باتیں کرتی رہتی ہو… ہمیں خدائے بزرگ و برتر کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہئے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ جلد ہی ہماری ایک بیٹی کے لئے کہیں نہ کہیں سے بر ضرور آئے گا۔‘‘
جب رفعت پیدا ہوئی تھی تب ہاجرہ کی بڑی بہن، سنجید ہ نے بہن سے کہا تھا کہ رفعت اس کی بیٹی ہے، وہ اپنے بیٹے فواد کے لئے رفعت کو مانگنا چاہتی تھیں لیکن تب ہاجرتہ نے ملامت سے جواب دیا تھا۔
’’سنجیدہ آپا! مجھے اور ماسٹر کو اس رشتے پر کوئی اعتراض نہیں بلکہ مجھے تو خوشی ہے کہ اس رشتے کی بدولت ہم دو بہنیں آپس میں ہمیشہ جڑی رہیں گی لیکن اس معاملے میں ہمیں اتنی جلدی نہیں کرنی چاہئے۔ ابھی ہمارے بچے بہت کم سن ہیں، جب یہ برے ہوں گے یا رشتوں کو سوچنے سمجھنے کے قابل ہوں گے تو شادی ان کے خیالات بدل جائیں۔ ہمیں ان کی مرضی معلوم کئے بغیر کوئی قدم نہیں اٹھانا چاہئے۔ ‘‘
سنجیدہ آپا نے قائل ہو کر کہا تھا۔ ’’تم ٹھیک کہتی ہو، بہن ! اولاد جوان ہونے کے بعد اگرباغی ہو جائے تو بڑوں کو اپنی زبان کا عہد نبھانا مشکل ہو جاتا ہے…ہم بے شک یہ رشتہ ان کے بڑے ہونے پر ہی طے کریں گے مگر تم بھی میرے ساتھ ایک وعدہ کرو کہ اگر حالات اور وقت نے ہمارا ساتھ دیا تو تم اپنی رفعت کا رشتہ کہیں اور طے نہیں کرو گی، میں بھی تم سے وعدہ کرتی ہوں کہ میرا فواد اگر میرے اختیار میں رہا تو میں اسے تمہارا ہی داماد بنائوں گی۔‘‘
یوں ان دونوں بہنوں نے وعدہ کر لیا کہ وہ اس رشتے کو قائم رکھنے کی پوری کوشش کریں گی لیکن کچھ ہی عرصے بعد ان کی آپس میں ان بن ہو گئی ، ایک معمولی سی بات پر ان دونوں کے درمیان اتنی دوریاں حائل ہو گئیں کہ ایک طویل عرصہ تک وہ ایک دوسرے سے دوررہ کر اپنی اپنی نفرت کا اظہار کرتی رہیں اس روز سنجیدہ آپا نے خود ہی اس نفرت کو ختم کرنے میں پہلی کی تھی۔ وہ اپنی بہن سے دوبارہ رشتہ مضبوط کرنے کے لئے اپنے بیٹے فواد کا رشتہ لے کر آئی تھیں، انہوں نے کہا۔
’’بہن ہاجرہ! ہمارے درمیان جو غلط فہمیاں پیدا ہو گئی تھیں، میں انہیں نہ صرف ختم کرنے آئی ہوں بلکہ ایک نیا رشتہ جوڑنے آئی ہوں۔ ‘‘ اس نے قدرے توقف کیا ، پھر بولی۔ ’’تمہیں یاد ہو گا کہ جب رفعت پیدا ہو ئی تھی تو ہم دونوں بہنوں نے ایک دوسرے سے ایک عہد کیا تھا۔ ‘‘
یہ کہہ کر انہوں نے سوالیہ نظروں سے بہن کی طرف دیکھا… ہاجرہ نے کچھ دیر سوچا پھر فورا ہی سر ہلا کر بولی۔
’’ہاں ، ہم نے وعدہ کیا تھا…کیا فواد اس رشتے پر راضی ہے ؟‘‘
ہاجرہ کی آنکھوں میں خوشی کی چمک آگئی تھی۔ ماسٹر کریم کے بوڑھے چہرے پر بھی خوشی کی لہریں رقصاں تھیں۔ آج برسوں کے بعد ان کی مراد بر آئی تھی، رشتہ خود چل کر ان کے گھر آیا تھا۔ خدا تعالیٰ نے ان کی سن لی تھی…سنجیدہ آپا نے بڑے فخر سے کہا۔
’’فواد میرا بیٹا ہے اور مجھے اس پر پورا اعتماد ہے۔ اس نے آج تک مجھ سے حکم عدولی نہیں کی، پھر وہ میری اس خواہش کو بھلا کیسے رد کر سکتا ہے…؟‘‘
’’لیکن ، سنجیدہ آپا! یہ تمہارے بیٹے کی زندگی کا بہت بڑا فیصلہ ہے ۔ تمہیں اس کی رائے ضرور معلوم کرنی چاہئے… ہو سکتا ہے ، اس کے خیالات کہیں…‘‘
سنجیدہ آپا نے ماسٹر کریم کی باٹ کاٹ کر فورا کہا۔ ’’بھائی صاحب! اگر میرے بیٹے نے میرے اس فیصلے کی مخالفت کی تو میں اسے اپنا دودھ نہیں بخشوں گی… ویسے آپ کی اطلاع کے لئے عرض کر دوں کہ کچھ عرسہ پہلے جب فواد میرے منع کرنے کے باوجود آپ کے گھر چلا آیا تھا تو واپس جا کر وہ آپ کی بیٹیوں کی بہت تعریفیں کر رہا تھا اور مجھے مجبور کر رہا تھا کہ میں آپ لوگوں سے صلح کر لوں مگر تب نہ جانے میرے دماغ میں کہاں کا خناس سما گیا تھا کہ میں نے اس ناراضگی کو ختم کرنے کی بجائے الٹا اپنے بیٹے کو بھی ڈانٹ دیا اور اسے دھمکی دی کہ اگر وہ آئندہ آپ کے گھر آیا یا آپ لوگوں کے ساتھ کسی قسم کا تعلق رکھنے کی اس نے کوشش کی تو میں اس سے کبھی بات نہیں کروں گی… اصل میں اس وقت میں نے یہ نہیں سوچا تھا کہ خونی رشتے خواہ کتنے ہی ایک دوسرے سے دور ہوجائیں ، ان میں کشش باقی رہتی ہے اور پھر ایک وقت ایسا آتا ہے کہ وہ دوبارہ ایک دوسرے سے آملتے ہیں۔ آپ یقین کریں، ہمارے درمیان برسوں کی اس نفرت اور کدورت کو ختم کرنے میں میرے بیٹے فواد اور بیٹی یاسمین کا ہاتھ ہے، ان دونوں نے مجھے یہاں بھیجا ہے تاکہ میں آپ کو منائوں اور اس غلط فہمی کو ختم کروں…‘‘
اس کی باتیں سن کر ہاجرہ نے کہا ۔ ’’آپا! مجھے خوشی ہے کہ آپ کی اولاد اتنی نیک اور فرمانبردار ہے ، انہوں نے دو بچھڑی ہوئی بہنوں کو پھر سے ملا دیاہے۔ بہرحال ، ہمیں رفعت اور فواد کے رشتے پر کوئی اعتراض نہیں۔ آپ جب چاہیں اپنی بیٹی کو لے جائیں ، یہ اب آپ کی امانت ہے …‘‘
’’سچ بہن۱ مجھے یہی توقع تھی، تم نے اپنا عہد پورا کر دیا۔ ‘‘
دونوں بہنیں ایک دوسری کو گلے لگا کر خوشی اور مسرت کا اظہار کر رہی تھیں۔ پھر سنجیدہ آپا یہ کہہ کر اپنے گھر واپس چلی گئیں کہ وہ اپنے میاں کے ساتھ جلدی ہی آئیں گی اور باقاعدہ منگنی کی رسم ادا کریں گی۔
ماسٹر کریم اور اس کی بیوی بے حد خوش تھے، انہیں یوں لگ رہا تھا کہ جیسے بہت بڑا بوجھ ان کے سر سے اتر گیا ہو۔ ابھی صرف ایک بیٹی کے رشتے کی بات طے ہوئی تھی لیکن یہ بات بھی ان کے لئے بے حد اطمینان بخش تھی۔ ایک بیٹی کا فرض ادا ہونے والا تھا ، اس کے بعد باقی دونوں کی رخصتی بھی آسان ہوتی دکھا ئی دینے لگی تھی۔ بوجھ خواہ کسی بھی قسم کا ہو ، وہ اس وقت تک ہی بوجھ محسوس ہوتا ہے جب تک اس سے چھٹکارا حاصل نہ ہو اور اگر آدھے بوجھ سے بھی نجات مل جائے تو باقی کا بوجھ اتارنا سہل ہو جاتا ہے …بہن کے جانے کے بعد ہاجرہ نے کہا۔
’’ماسٹر ! ہم نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ بیٹھے بٹھائے یہ رشتہ مل جائے گا۔ ہماری بیٹی کے تو نصیب جاگ گئے ہیں۔ چلو، اب ایک فکر تو دور ہو گی…دو رہ جائیں گی تو ان کے لئے بھی کوئی فرشتہ رحمت بن کر آجائے گا۔ ‘‘
’’ہاجرہ بیگم !قسمت کی دیوی ہم پر مہربان ہے۔ اس خالق و مالک کا شکر ادا کرو جس نے ہماری لاج رکھ لی…رہ گئیں عائشہ اور عذرا تو ان کا معاملہ بھی خدا پر چھوڑ دو مسبب الاسباب ہے، ان کے لئے کوئی سبب پیدا کر ہی دے گا۔‘‘
ادھر وہ دونوں میاں بیوی فرحاںو شاداں تھے اور ادھر سنجیدہ آپا جب اپنے گھر پہنچی اور اپنے بیٹے بیٹی کو بتایا کہ وہ بہن کے گھر گئی تھی اور فواد اور رفعت کے رشتے کی بات پکی کر آئی ہے تو یہ سن کر فواد حیران و پریشان رہ گیا ۔ اس کی ماں بغیر اس کی مرضی کے ایک بہت بڑا فیصلہ کر آئی تھی۔ چند سال بیشتر جب وہ اپنی خالہ ہاجرہ کے ہاں گیا تھا تو وہاں عذرا کو دیکھ کر اپنے حواس میں نہ رہا تھا ، اسے اپنا دل ڈولتا ہوا محسوس ہونے لگا۔ تب سے ہی اس نے اپنے دل میں مصمم ارادہ کر لیا کہ وہ صرف عذرا سے ہی شادی کرے گامگر گھر آتے ہی اس کی ماں نے اسے ڈانٹ دیا اور دھمکی دی کہ اگر وہ آئندہ اپنی خالہ کے گھر جائے گا تو ماں اور بیٹے کے درمیان سخت ناراضگی ہو گی۔ فواد نے عارضی طور پر ماں کی بات مان لی تھی مگر وہ اپنی بہن یا سمین کے ساتھ مل کر دونوں خاندانوں کو آپس میں ملانے کے منصوبے بنانے لگا، دونوں بہن بھائی رفتہ رفتہ اپنی ماں کے دماغ میں یہ بات بٹھانے لگے کہ ہاجرہ آنٹی ان کے اپنوں بلکہ قریبی رشتوں میں سے ہے ، ایسے قریبی رشتوں سے اتنی جلدی دستبردار نہیں ہوا جا سکتا کیونکہ دکھ اور مصیبت کے وقت یہی کام آتے ہیں۔ سنجیدہ آپا نے بھی محسوس کیا کہ وہ اپنی بہن سے زیادہ عرصہ دور نہیں رہ سکے گی ۔ اس کی اولاد جوان ہو گئی تھی اور ہر وقت اسے بہن کی محبت کا احساس دلاتی رہتی تھی، یوں بھی اسی نفرت اور رنجش کی ابتدا اس کی طرف ہوئی تھی چنانچہ اپنی اولاد کے احساس دلانے پر اس نے اپنی غلطی تسلیم کر لی اور پھر اس نے بہن کے پاس جا کر نہ صرف اپنی غلطیوں کی معافی مانگی بلکہ اس کی بیٹی رفعت کو اپنے بیٹے کے لئے مانگ کر اس رشتے کو مزید مضبوط کر دیا۔ وہ صرف یہی سمجھتی تھی کہ اس کی اولاد اپنوں کے ساتھ تعلقات وابستہ کرنا چاہتی ہے چنانچہ اس نے رشتہ کرنے سے پہلے فواد کی رائے لینے کی ضرورت محسوس نہ کی مگر جب سنجیدہ آپا اپنی بہن کے گھر سے واپس آئی اور بیٹے بیٹی کو یہ خوشخبری سنائی کہ وہ فواد کے لئے رفعت کو مانگ آئی ہے تو یہ سن کر دونوں بہن بھائی گنگ رہ گئے ۔ وہ انہیں حیرانی سے گھورتے ہوئے بولی۔
’’تم دونوں خاموش کیوں ہو گئے ہو ، کیا تمہیں اس بات کی خوشی نہیں ہوئی کہ میں نے تمہاری خواہش کے مطابق اپنی بہن سے دوبار تعلقات جوڑ لئے ہیں اور کبھی نہ ٹوٹنے والا رشتہ قائم کر دیا ہے؟‘‘
’’لیکن، امی ! یہ ہماری خواہش ضرور تھی مگر ہم نے یہ نہیں کہا تھ اکہ آپ فواد بھائی کی مرضی کے بغیر رفعت آپا سے اس کا رشتہ طے کر آئیں…‘‘ یا سمین نے شکوہ بھرے لہجے میں کہا۔
’’آپ نے یہ کیسے سمجھ لیا کہ آپ کا یہ فیصلہ مجھے پسند آئے گا اور ضروری نہیں کہ جو کچھ آپ سوچتی ہوں، وہی ہم بھی سوچیں۔ یہ ہماری زندگی ہے اور اس کے متعلق فیصلہ کرنے کا اختیار بھی ہم کو ہے ۔‘‘
سنجیدہ آپا پھٹی پھٹی نگاہوں سے بیٹے اور بیٹی کی طرف دیکھ رہی تھیں۔ انہیں یقین نہیں آرہا تھا کہ اس کی اولاد جس نے اس ٹوٹے ہوئے رشتے کو دوبارہ ملایا تھا ، خود اس کی مخالف ہو جائے گی۔ انہوں نے اپنے منتشر حواس کو یکجا کر کے کہا۔
’’یہ تم دونوں کہہ رہے ہو…کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے اس انکار سے کتنا بڑا طوفان کھڑا ہو گا اور میں جو اپنی بہن کو زبان دے آئی ہوں، اس کے پاس دوبارہ کس منہ سے جائوں گی ۔ وہ تو یہی سمجھے گی کہ میں نے اس سے دوبارہ رشتہ اس لئے جوڑا تھا کہ اسے رشتہ داروں، برادری میں ذلیل و خوار کروں…نہیں، میں اب اپنی بہن سے کیا ہوا وعدہ نہیں توڑوں گی ۔ مجھے اپنی زبان کے عہد کو ہر صورت نبھانا ہے اور تم لوگ سن لو کہ میں اور تمہارے پاپا اگلے جمعہ کو باقاعدہ منگنی کرنے جا رہے ہیں۔ ‘‘
’’کیا…؟‘‘ دونوں بہن بھائی بیک وقت بولے۔
’’نہیں ، یہ نہیں ہو گا۔ زندگی میں نے گزارنی ہے۔ پھر میں آپ کے اس فیصلے کو کیوں قبول کروں…اگر آپ کو میری خوشیاں گوارا ہیں اور آپ مجھے ہنستے بستے دیکھنا چاہتی ہیںتو رفعت کی چھوٹی بہن عذرا کے ساتھ میری شادی کردیں کیونکہ میں صرف اسے ہی پسند کرتا ہوں۔ اگر آپ نے میری بات نہ مانی تو ا س کا جو انجام ہوگا، اس کی ذمہ دار آپ ہوں گی ۔‘‘
فواد نے جیسے قطعی انداز میں کہا، پھر غصے اور جوش میں باہر نکل گیا۔ یاسمین نے ماں کی چھبتی ہوئی نظروں سے دیکھا ۔ ماں کچھ کہنا چاہتی تھی مگر یا سمین بھی پائوں پٹختی ہوئی اس کے کمرے سے نکل گئی…سنجید ہ آپا، بیٹے اور بیٹی کے رویئے پر بے حد پریشان تھیں ، خصوصاً فواد کے انکار اور اس کی باتوں نے ان کے دماغ کو مفلوج کر کے رکھ دیا تھا۔ پھر انہوں نے یہ سوچ کر خود کو تسلی دے لی کہ بیٹے کا فیصلہ جذباتی ہے یہ سوچ کر خود کو اپنے جذباتی فیصلے پر نظرثانی کرلے گا۔ یوں بھی وہ بہن اور بہنوئی کو زبان دے آئی تھی، اب اس سے انحراف کرنا خاندانی اصولوں کے خلاف تھا۔
فواد نے جب دیکھا کہ اس کی ماں کسی طوربھی اس کی شادی عذرا سے کرنے پر راضی نہیں ہو رہی ہے تو اس نے غصے میں اور جنون میں خواب آور گولیوں کی اچھی خاصی مقدار حلق میں انڈیل لی۔ پھر تھوڑی ہی دیر میں وہ نیم مردہ حالت میں اکھڑی اکھڑی سانسیں لینے لگا۔ یا سمین اس کے کمرے داخل ہوئی اور اس نے جب بھائی کی حالت غیر دیکھی تو گھبرا گئی اس وقت فواد کی باچھوں سے جھاگ پتلی سی لکیر کی صورت میں بہنے لگا تھا۔ یاسمین نے تیزی سے آگے بڑھ کر بھائی کے سرہانے رکھی ہوئی پتائی کی طرف دیکھا، وہاں ایک شیشی پڑی تھی جس کا ڈھکن کھلا تھا اور وہ خالی ہو چکی تھی۔ اس کا لیبل پڑھ کر یاسمین کو اپنی سانسیں رکتی ہوئی محسوس ہوئیں۔ پھر وہ چیخ مار کر اپنی ماں کو آوازیں دیتی ہوئی باہر کی طرف بھاگی۔ آنا فانا یہ خبر پور ے محلے میں پھیل گئی کہ فواد نے خود کشی کی نا کام کوشش کی ہے ۔ اسے بروقت اسپتال پہنچا دیا گیا جہاں کئی گھنٹے موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد وہ بالاخر زندگی کی طرف لوٹنے میں کامیاب ہو گیا۔ سنجید ہ آپا تو بالکل ہی حواس باختہ ہو گئی تھیں۔ اگر ان کے بیٹے کو نئی زندگی نہ ملتی تو بیٹے کے ساتھ ساتھ شاید وہ بھی جان دے دیتیں۔ فواد کی صحت یابی پر انہوں نے سجدہ شکر ادا کیا۔ ہاجرہ کو فواد کی علالت کی خبر دی گئی مگر اسے یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ فواد نے خود کشی کی نا کام کوشش کی ہے ۔ وہ اپنی دونوں بیٹیوں عذرا اور عائشہ کو ساتھ لے کر آئی تھی اور یہاں آکر ہی اسے صورت حال کا علم ہوا تھا۔ عذرا کو دیکھتے ہی فواد کی تمام بیماری دوری ہو گئی ، وہ بستر علالت سے اٹھ بیٹھا۔ اسے یوں لگ رہا تھا جیسے اس کی خزاں رسیدہ زندگی میں اچانک بہار آگئی ہو۔ اس نے عذرا کی چاہت میں اپنے آپ کو ختم کرنے کی کوشش کی تھی اور اب اسے یوں سامنے دیکھ کر اپنے آپ کو بھی بھول گیا۔ عذرا کو فواد کی چاہت کے متعلق کچھ علم نہیں تھا۔ جب باقی لوگ دوسرے کمرے میں چلے گئے اور فواد کے کمرے میں صرف عذرا ہی رہ گئی تو اس نے خود ہی فواد کو مخاطب کر کے پوچھا۔
’’آپ نے خود کشی کی کوشش کیوں کی تھی…؟‘‘
فواد نے حیران ہو کر اس کی طرف دیکھا، پھر معنی خیز انداز میں مسکراتے ہوئے بولا۔ ’’مجھے خود بھی معلوم نہیں میں نے یہ قدم کیوں اٹھایا؟…شاید میں اس وقت پاگل ہو گیا تھا۔ ‘‘
’’ہاں ، ایسا تو کوئی پاگل ہی کر سکتا ہے…‘‘
وہ کھلکھلا کر ہنس دی۔ اس کی ہنسی میں ترنم تھا۔ فواد کا جی چاہا کہ وہ اس طرح اس کے سامنے بیٹھی ہنستی رہے ۔ وہ اسی کے سامنے اپنی محبت کا اظہار کردینا چاہتا تھا مگر اتنا بڑا قدم اٹھانے کے بعد بھی اسے جرأت نہ ہو رہی تھی کہ وہ عذرا کو اپنے جذبوں سے آشنا کرے ۔ اس دوران اس کے گھر والوں کو اس کی خود کشی کا سبب معلوم ہو گیا اور یاسمین نے عذرا کو بھی ساری حقیقت بتا دی جسے سن کر وہ دم بخود رہ گئی۔ اسے یقین نہ آرہا تھا کہ فواد اسے اس قدر دیوانگی سے چاہتا ہے کہ اس کے بغیر زندہ رہنے پر اس نے موت کو ترجیح دی تھی۔ عذرا سلجھی ہوئی لڑکی تھی مگر اب اسے اس حقیقت کا اعتراف کرنا پڑا کہ محبت ایک شفاف اور پاکیزہ جذبہ ہے اور کسی سے سچی محبت کرنا گناہ نہیں… اس نے فواد کو کہا۔
’’میں حیران ہوں کہ تم نے اتنی معمولی سی بات پر خود کشی کا فیصلہ کیوں کیا… بہر حال، میں تمہارے جذبے کی قدر کرتی ہوں لیکن کیا یہ میری خود غرضی نہ ہو گی کہ میں اپنی بہن کا حق اس سے چھین رہی ہوں؟‘‘
’’نہیں، عذرا محبت میں خود غرضی یا کسی کا مفاد نہیں دیکھا جا تا، صرف اپنے دل کی بات مانی جاتی ہے ۔ ‘‘ فواد نے اک ذرا توقف کیا ،پھر کہنے لگا۔ ’’ہمارے مذہب میں لڑکے اور لڑکی کو اپنی پسند یا مرضی کے اظہار کا پورا اختیار حاصل ہے ۔ پھر بھلا ہم کیوں کسی کا غلط فیصلہ تسلیم کریں ؟‘‘
’’لیکن یہ تو ہمارے بزرگوں کا فیصلہ ہے ، فواد ! وہ رفعت کے ساتھ تمہاری شادی کرنا چاہتے ہیں ۔ اگر ہم ان کے فیصلے سے رو گردانی کریں گے تو نا فرمان کہلائے جائیں گے… تم یہ بات اچھی طرح جانتے ہو کہ میں ایک مشرقی لڑکی ہوں، اپنے والدین سے بغاوت کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی۔ اس میں ان کی عزت کا بھی سوال ہے۔ میں تمہاری محبت کی خاطر ان کی عزت دائو پر نہیں لگا سکتی…‘‘
’’ٹھیک ہے ، عذرا! اگر تمہارا یہی فیصلہ ہے تو میں بھی تمہیں مجبور نہیں کروں گا لیکن ایک بات طے ہے کہ میں اپنے والدین کو اس رشتے پر راضی کرنے کی ہر ممکن کوشش کروں گا۔ اگر وہ نہ راضی ہو ئے تو میں رفعت سے بھی شادی نہیں کروں گا اور نہ ہی آئندہ تمہاری زندگی میں آئوں گا…‘‘
فواد نے سپاٹ لہجے میں اپنا فیصلہ سنا دیا۔ عذرا شش و پنج میں پڑ گئی ۔ اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ اپنے خاندان کی عزت کو بچانے کے لئے فواد کی سچی محبت سے منحرف ہو جائے یا بہن کا دامن کا نٹوں سے بھر کر اپنی مانگ میں سہاگ کا سیندور رچا لے ۔
سنجیدہ آپا بھی بیٹے کی خود کشی کے قدم کی وجہ سے کچھ بجھ سی گئی تھیں۔ وہ اب فواد کی زندگی کا فیصلہ اس کی پسند اور مرضی کے مطابق ہی کرنا چاہتی تھیں۔ اسی لئے انہوں نے ہاجرہ کو ساری صورت حال بتا دی پھر بڑی عاجزی سے بہن کے آگے ہاتھ جوڑ تے ہوئے بولیں۔
’’دیکھو ، بہن میرا اس میں کوئی قصور نہیں ۔ تم جانتی ہی ہو کہ فواد بیٹے نے جذبات میں آکر خود کشی جیسا انتہائی قدم اٹھایا۔ میرا ایک ہی بیٹا ہے ، اگر اسے کچھ ہو جاتا تو میں تمام زندگی اپنے آپ کو معاف نہ کرتی۔ اب حالات کا تقاضا یہی ہے کہ ہم اولاد کی خوشیوں کی خاطر اس کی پسند کو ترجیح دیں۔ اس لئے میں رفعت کی بجائے عذرا بیٹی کے رشتے کا مطالبہ کر رہی ہوں، امید ہے کہ تم پہلے طرح میرا مان ضرور رکھو گی۔ ‘‘
ہاجرہ بیگم مقدر سے لڑتے لڑتے تھک گئی تھی ، اس نے یہ سمجھ لیا تھا کہ وہ مقدر کے لکھے کو ٹال نہیں سکتی اور اس کا فیصلہ پتھر کی لکیر ہوتا ہے ۔ عذرا کے حسن و خوبصورتی اور خوب سیرتی کی بدولت ہر کوئی اسے اپنانا چاہتا تھا۔ ماسٹر کریم اور ہاجرہ بیگم کی کوششوں کے باوجود ان کے مقاصد پورے نہ ہو رہے تھے چنانچہ انہوں نے اس فیصلے کو تقدیر کا لکھا سمجھ کر قبول کر لیا لیکن ایک شرط رکھ دی کہ ہاجرہ کے بیٹے ناصر کا نکاح فواد کی بہن یاسمین سے کیا جائے۔ اس رشتے کو بھی سب نے قبول کر لیا چنانچہ عذرا اور فواد کی شادی کے ساتھ ہی یا سمین اور ناصر کا نکاح کر دیا گیا، یوں وہ دونوں گھرانے رشتوں کی مضبوط ڈوری میں بند ھ گئے ۔ کوئی فاصلہ اور دوری نہ رہی ۔ سب آپس میں خوش اور مطمئن تھے۔ پھر چھ ماہ بعد ہی یاسمین کی رخصتی بھی کر دی گئی۔
دوسال مزیدگزر گئے۔
عذرا اورفواد کی زندگی جنت کا نمونہ بن گئی تھی۔ انہوں نے جو سوچا تھا ، وہ پورا ہو گیا تھا۔ وہ زندگی کی بھر پور مسرتوں سے لطف اندوز ہو رہے تھے مگر ان کے گلشن میں کوئی پھول نہ کھل سکا۔ اس محرومی کو عذرا بھی محسوس کرتی تھی مگر وہ بھی جانتی تھی کہ یہ سب کچھ قدرت کے اختیار میں ہے۔ اگر اسے منظور ہوا تو اس کا دامن مراد ضروربھرے گا، وہ اس ذات باری تعالیٰ کی رحمتوں سے مایوس نہیں تھی۔ اس کمی کو اس کی ساس اور نند نے بھی محسوس کیا تھا اور دبے دبے لفظوں میں اس کا اظہار کرتی رہتی تھیں لیکن بے چار ی عذرا بھلا اس سلسلے میں کیا کرسکتی تھی، وہ تو اس محرومی کو تقدیر کا لکھا سمجھتی تھی۔ پھر ساس نے پیروں فقیروں کے پاس جا کر اس کے لئے تعویذ گنڈے کروائے، مزاروں پر جا کر منتیں مانیں ، چڑھاوے چڑھائے مگر عذرا کی گود سونی کی سونی رہی۔
دو سال مزید گزر گئے۔
ان گزرے چار برس میں فواد کے سر سے عشق کا بھوت اتر چکا تھا اور اب وہ بھی اپنی ماں اور بہن کے اشارے پر چلتا تھا۔ ان ہی دنوں یاسمین دوسرے بچے کی ماں بننے والی تھی، زچگی کے دن قریب تھے اس لئے وہ اپنے میکے آئی ہوئی تھی۔ وہ دونوںماں بیٹی صبح و شام اٹھتے بیٹھتے عذرا کو طعنے دیتیں۔ وہ کہتیں کہ اگر عذرا کی میڈیکل رپورٹس ٹھیک ہیں تو پھر چار سال گزر جانے کے باوجود بھی اس کی کوکھ خالی کیوں ہے۔ عذڑا ان کے طعنے اور کوسنے خاموشی سے سنتی اور اندر ہی اندر سلگتی رہتی۔ اس نے خالص مشرقی تہذیب اور اسلامی ماحول میں پرورش پائی تھی،دینی احکامات کی بھر پور پیروی کرتی آئی تھی لہذا وہ ساس یا نند سے کوئی ایسا لڑائی جھگڑا نہیں کرنا چاہتی تھی جس سے اس کے کردار پر کوئی حرف آتا یا بہ الفاظ دیگر و ہ گستاغ یا منہ پھٹ ، زبان دراز ٹھہرائی جاتی۔ وہ صبر و تحمل کا بھرپور مظاہرہ کرتی البتہ وہ ان کے رویئے پر حیران ضرور تھی، اسے یقین نہیں آتا تھا کہ خونی رشتے ایسے بے حس اور بے مروت بھی ہو سکتے ہیں۔ شوہر جیسے مٹی کا مادھو بنا ہوا تھا، وہ کچھ سنتا تھا اور نہ دیکھتا تھا۔ عذرا اس کے سامنے اس کی بہن اور ماں کا شکوہ بھی نہ کرتی تھی کہ شکوہ چغلی اور غیبت کے زمرے میں آتا تھا۔ پھر بھی ایک روز اس نے ڈرتے ڈرتے شوہر سے پوچھا۔
’’کیا آپ دوسری شادی کر رہے ہیں؟‘‘
اس سوال پر فواد نے اسے چبھتی ہوئی نظروںسے دیکھا، پھر بے پروائی سے شانے اچکا کر بولا۔ ’’ہاں…لیکن تمہیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہئے ۔‘‘
یہ سن کر عذرا کا دل بیٹھ سا گیا ، وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ فواد کی محبت اتنی جلدی نفرت میں بدل جائے گی۔ وہ تو اس کے بغیر اپنے آپ کو ادھورا سمجھتا تھا اور اس کے بغیر زندگی پر موت کو ترجیح دیتا تھا مگر آج اس کا رویہ دیکھ کر عذرا کے اعتماد کا نازک آبگینہ چکنا چور ہو گیا۔ وہ اسے مجازی خدا سمجھتی تھی مگراس کا ایک ہی جملہ سن کر عذرا نے اپنے دل میں اس کی شخصیت کا جو بت تراشا تھا، وہ پاش پاش ہو گیا …فواد کی آوازاس کے پردہ سماعت سے ٹکرائی۔
’’میں جانتا تھا کہ میرے اسے فیصلے سے تمہیں بہت دکھ پہنچے گا لیکن میں ایسا کرنے پر مجبور ہوں… امی اور ابو کی خواہش ہے کہ ہمارے گھر بھی ایک آدھ چراغ روشن ہو ، انہیں اس آنگن کی اداسیاں اور ویرانیاں اچھی نہیں لگتیں اور تم یہ بات بھی بخوبی جانتی ہوکہ ہمیں اپنے خاندان کا نام لیوا چاہیے جو ہمارے بعد شناخت ہو۔‘‘
عذرا اپنے اندر کی ٹوٹ پھوٹ پر قابوپانے کی کوشش کر رہی تھی۔ اس نے بمشکل تمام اپنے دل کی بے ترتیب دھڑکنوں پر قابو پاتے ہوئے کہا۔ ’’میں ہر حال میں آپ کی اور آپ کے خاندان کی عزت اور نیک نامی چاہتی ہوں، بے شک اس کے لئے مجھے ایک سوتن کا وجود ہی کیوں نہ گوارہ کرنا پڑے مگر میری ایک گزارش ہے ۔ آپ جانتے ہیں کہ لیڈی ڈاکٹر نے میرا میڈیکل چیک اپ کیا اور اس نے جو رپورٹ دی وہ سو فیصد پازیٹو ہے ، کوئی ایسا نقص یا خرابی نہیں جس کی وجہ سے میں ماں نہ بن سکوں۔ یہ تو بہر حال قدرت کا فیصلہ ہے کہ وہ ہمیں اس نعمت سے خالی رکھنا چاہتی ہے لیکن اس کی نعمت حاصل کرنے کے لئے ہمارا بھی کچھ فرض بنتا ہے ۔ ہمیں صرف اس کی ذات پر الزام عائد نہیں کرنا چاہئے بلکہ اپنی جستجو بھی جاری رکھیں…‘‘
’’تم کہنا کیا چاہتی ہو ؟ ‘‘ فواد نے تیز نظروں سے اسے گھورا۔
اس کے چہرے پر ناگوری کے تاثرات دیکھ کر عذرا نے جلدی سے کہا۔ ’’بخدا، آپ مجھے غلط نہ سمجھیں۔ میں جو بھی کہہ رہی ہوں، وہ آپ کی بھلائی کے لئے ہے …میرا کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ممکن ہے جو نقص یا خامی مجھ میں نہیں وہ آپ میں ہو۔ آپ بھی اپنی اور میری بلکہ سب گھروالوں کی تسلی کے لئے ایک مرتبہ اپنا میڈیکل چیک اپ کروا لیں شاید…‘‘
’’کیا…‘‘ فواد اس کی بات کاٹ کر زور سے دہاڑا۔ ’’اب تم مجھے قصور وار ٹھہرانا چاہتی ہو؟‘‘
’’ میں یہ نہیں کہہ رہی ہوں کہ اس میں قصور آپ کا ہے ۔ میں تو صرف یہ چاہتی ہوں کہ آپ بے شک اپنے اطمینان کی خاطر ہی سہی، ایک دفعہ اپنا چیک اب ضرورکروائیں۔ ‘‘ عذرا نے نہایت ہی صاف گوئی سے کہا۔
فواد شاید اس بات پر کبھی راضی نہ ہوتا مگر اس کی ماں نے اسے مجبور کر دیا کہ وہ بھی اپنا چیک اپ کروا لے تاکہ عذرا کو تسلی ہو جائے، پھر وہ بے شک عذرا کو اپنے راستے کا کانٹا سمجھ کر ہٹا دے اور دوسری شادی کر لے۔ فواد کو اپنے آپ پر بھرپور اعتماد تھا لہذا اس نے سوچا کہ چیک اپ کروا نے میں کیا حرج ہے…انسان بڑا خود فریب ہے ۔ اپنے آپ کو فریب دیتا رہتا ہے کہ اس کی طاقت کا مقابلہ کوئی نہیں کر سکتا۔ اس طاقت کے غرور میں وہ یہ بھی بھول جاتا ہے کہ خدا سے بڑی طاقت کوئی نہیں۔ خدا ایسے مغرور کو جب منہ کے بل گرنے پر مجبور کر دیتا ہے تو اس کی ساری طاقت دھری کی دھری رہ جاتی ہے ۔ وہ جو باہر سے اپنے آپ کو طاقتور مرد کہتا ہے ، اندر سے بالکل کھوکھلا ہوتا ہے…فواد نے جب اپنا چیک اپ کروایا تو انکشاف ہوا کہ وہ اولاد پیدا کرنے کی صلاحیتوں سے محروم ہے ۔ اس تلخ انکشاف نے فواد کو ہلا کر رکھ دیا، اس کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ وہ جو عذرا میں نقص نکالتا تھا، خود اس صلاحیت سے محروم ہو گا۔ تصورات میں اسے عذرا کے بھیانک قہقہے سنائی دے رہے تھے، ایک عورت کے سامنے اس کی مردانگی مجروح ہو رہی تھی اور وہ اپنی بیوی اور گھر والوں کے سامنے اتنی بڑی شرمندگی برداشت نہیں کر سکتا تھا۔ اس سے بچنے کا ایک ہی راستہ تھا کہ وہ گھر والوں اور عذرا کو حقیقت نہ بتاتا اور اس نے ایسا ہی کیا۔ ماں نے جب اس بابت دریافت کیا تو اس نے کہا کہ وہ ڈاکٹر کے پاس گیا تھا۔ ڈاکٹر نے مثبت رپورٹ دی ہے۔
’’میں تو پہلے ہی کہتی تھی کہ اس پیڑ سے پھل کی توقع نہ رکھ۔ ‘‘ سنجیدہ آپا نے نفرت اور تلخی سے کہا۔ ’’ارے وہ تو تیرے سر پر عشق کا بھوت سوار تھا…خیر، اب چھوڑو ان باتوں کو ، مجھے صرف ایک پوتے یا پوتی کی ضرورت ہے ، اس کے لئے اگر مجھے عذرا کو طلاق بھی دلوانا پڑی تو میں وہ بھی کر گزروں گی۔ آخر ہم اسے کب تک برداشت کریں کہ جس نے ہمیں ایک ذرا سی بھی خوشی نہیں دی ۔‘‘
’’امی! یہ بھی تو سوچیں کہ عذرا کو طلاق دینے سے میری بہن کا گھر بھی اجڑجائے گا…‘‘ فواد نے اپنے اضطراب کو چھپاتے ہوئے کہا۔
’’میری بات سمجھنے کی کوشش کرو…‘‘ ماں نے اسے قائل کرنے کی کوشش کی۔ ’’یاسمین تو پہلے بھی اس گھر میں خوش نہیں۔ وہاں نہ ڈھنگ کا کپڑاپہننے کو ملتا ہے اور نہ پیٹ بھر کر کھانا نصیب ہوتاہے بلکہ اسے بھی دوسرے گھر والوں کے ساتھ کئی کئی روز کے فاقے کاٹنے پڑتے ہیں۔ اس سے تو بہتر ہے کہ وہ بھی ہماری بیٹی کو طلاق دے ڈالیں۔‘‘
وہ کیسی بے حس اور سنگدل ماں تھی جو بیٹے کی خوشیوں کے لئے بیٹی کا گھر برباد کرنا چاہتی تھی۔ یہ صرف اس کی ہی خواہش نہ تھی بلکہ یاسمین بھی یہی چاہتی تھی کہ وہ اس مذہبی گھرانے کی پابندیوں سے آزاد ہو جائے ۔ ماسٹر کریم کے گھر میں عورت کو چاردیواری سے نکل کر گھومنے پھرنے کی اجازت نہ تھی اس لئے وہ ہر وقت اپنے شوہر اور ساس نندوں سے لڑتی جھگڑتی رہتی اور کبھی ان سے ناراض ہو کر میکے آجاتی۔ وہ سسرال کے ماحول میں خود ایڈجسٹ نہ کر پائی تھی۔ دونوں گھروں کے ماحول میں اچھی خاصی تلخی پیدا ہوچلی تھی۔ یاسمین اپنے میکے آکر عذرا کی زندگی اجیرن کر دیتی تھی، مگر آفرین ہے عذرا پر جس نے آج تک شکوے کا ایک لفظ بھی زبان پر نہ آنے دیا تھا ۔ اس کے صبر و ضبط کی داد دینی چاہئے کہ وہ ان لوگوں کے طعنے اور جلی کٹی سن کر بھی شکوہ نہ کرتی بلکہ عجز و انکساری سے کہتی تھی کہ اگر اس سے کوئی گستاخی ہو گئی ہو ، تو اسے معاف کر دیا جائے۔ ایسا وہ اس لئے کرتی تھی کہ ان کی ناراضگی سے اسے شوہر کی ناراضگی کا خوف تھا اور شوہر تو مجازی خدا تھا…عذرایہ سمجھ رہی تھی کہ خدا نے اسے آزمائش میں مبتلا کیا ہے ، وہ ایک روز ضرور سرخرو ہو گی۔اسی آس میں وہ سسرال کے تلخ رویئے کو چپ چاپ برداشت کرتی رہی۔ اب تو اس کی ساس اور نند کے ساتھ شوہر بھی اسے بانجھ ہونے کے طعنے دینے لگا تھا۔ ان لوگوں نے مل جل کر خوب پریشان کیا بلکہ اس کا جینا دو بھر کر دیا۔ شوہر ذرا ذارا اسی بات پر لڑنے لگتا اور ساس کہتی کہ یہ ہم پو بوجھ بنی ہوئی ہے ، اسے آزاد کر دو ۔ نند طعنہ دیتی کہ عورت کی عزت اس کے بچے سے ہوتی ہے ، بے اولاد کو گھر میں رکھنے سے بہتر ہے کہ کوئی پھل دار درخت گھر میں لگا لیا جائے۔ انہوں نے عذرا کا جینا دو بھر کر دیاتھا۔ اتنے طعنے سن کر بھی وہ ان سے شکوہ نہیں کرتی تھی اور نہ ہی ان کے خلاف دل میں کوئی میل رکھتی تھی۔ ایک فطری سا رد عمل فواد کی جانب سے یہ بھی تھا کہ ان کے ازدواجی تعلقات نہ ہونے کے برابر رہ گئے تھے اور ایک کمزور سے لمحے میں فواد کے منہ نکل گیا تھا کہ اس کی میڈیکل رپورٹ حوصلہ افزا نہیں ، وہ اولاد پیدا کرنے کی نعمت سے محروم ہے ۔ عذرا نے جھجکتے ہوئے کہا۔
’’آپ سے مجھے کوئی شکوہ نہیں مگر کم از کم میں آپ سے اتنا پوچھنے کا حق تو رکھتی ہوں کہ آپ نے حقیقت مجھ سے کیوں چھپائی، پھر گھر والوں کو بھی اس کا علم نہیں اسی لئے وہ بات بات پر مجھے طعنے دیتے ہیں…‘‘
فواد نے اسے خونخوار نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا۔ ’’نہیں، عذرا ! میں کسی کی نظروں میں ذلیل نہیں ہونا چاہتا۔ میری ماں ، میرا باپ، میری بہن سب اس حقیقت سے ناواقف ہیں اور یہ یادرکھو ، اگر تم نے ان کے سامنے اپنی زبان کھولی تو اس کا انجام بہت برا ہو گا۔‘‘
اس دن کے بعد سے عذر ا کو مارنے پیٹنے بھی لگا۔ کبھی وہ اسے یہ طعنہ دیتا کہ اس کے کسی غیر مردے نا جائز تعلقا ت ہیں۔ اس کی ماں اور بہن بھی یہی کہتی رہتیں کہ عذرا کا تو کسی اور کے ساتھ یارانہ تھا مگر بد قسمتی سے اس کی شادی فواد سے ہو گئی ۔ عذرا انہی گندے چھینٹوں سے اپنا دامن کو بچاتی آئی تھی لیکن اب تو اس کے صبر کی بھی انتہاہو گئی تھی ۔ ایک روز اس نے اپنی صفائی میں کچھ کہہ دیا پھر وہ اس کی مار کھاتے کھاتے بے ہوش ہو گئی۔ جب ہوش میں آئی تو فواد نے اس کے ہاتھ میں طلاق کے کاغذ پکڑا کر اسے گھر سے نکال دیا۔ وہ اپنے ارمانوں کے لاشے کو گھسیٹتی ہوئی والدین کی دہلیز پر پہنچی تو اس کی ماں اسے اجڑی ہوئی حالت میں دیکھتے ہی اپنے حواس کھو بیٹھی۔ باپ بھی اس المیے پر اندر ہی اندر خون کے گھونٹ پی کر رہ گیا۔ بھائی کو پتہ چلا تو اس کا خون کھول اٹھا، وہ غصے سے بولا۔
’’ان لوگوں نے ہماری شرافت سے نا جائز فائدہ اٹھایا ہے لیکن اب میں بھی انہیں چین اور سکون سے نہیں جینے دو ں گا، میں بھی یاسمین کو طلاق دے دوں گا۔ ‘‘
’’نہیں، ناصر بھائی! آپ ایسا نہیں کریں گے ۔ ‘‘ عذرا نے فورا ہی اسے ٹوکا۔ ’’ان لوگوں نے تو مجھے صرف اس لئے طلاق دی ہے کہ میں ماں نہ بن سکی تھی مگر یاسمین بھابی تو اب ما شاء اللہ دو بچوں کی ماں ہے ۔ کیا تم ان بچوں کو بھی ماں کے سائے سے محروم کر دو گے؟‘‘
’’میں جانتا ہوں کہ بچے میرے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ ہیں مگر انہوں نے بھی تو تم پر ظلم کیا ہے ، اس ظلم کی سزا انہیں ملنی چاہئے۔ ‘‘
’’مگر اس معاملے میں بچوں کا تو کوئی قصور نہیں۔ تم انہیں ان کی ماں سے چھینو گے یا خود ان سے محروم ہو جائو گے ، معصوم کسی ایک کے سائے ہیں پروان چڑھیں گے تو دوسرے کی کمی محسوس کریں گے ۔عذرا کے لہجے میں کرب تھا۔ اس نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا۔ ’’بھائی ! میں تمہیں ان بچوں پر ظلم کرنے کی اجازت نہ دوں گی اور نہ ہی ایک اپنے جیسی عورت کے ماتھے پر طلاق کا لیبل سجنے دوں گی ۔ خدا نے اگر مجھے اس آزمائش میں ڈالا ہے تو میں کیوں خواہ مخواہ دوسروں کی زندگی اجیرن کروں ۔ خدا ہمیں صبر کرنا سکھاتا ہے اور مجھے بھی صبر کرنا چاہئے۔ ‘‘
واقعی وہ صابر و شاکر تھی ۔ اس پر اتنی بڑی قیامت آکر گزر گئی تھی مگر وہ یہی کہتی تھی کہ یہ سب کچھ میری قسمت میں تھا۔ یاسمین کے والدین اور بھائی نے بھی کوشش کی کہ ان کی بیٹی کو بھی طلاق ہو جائے۔ اس مقصد کے لئے انہوں نے اپنی بیٹی کو کئی ماہ تک اپنے گھر بٹھائے رکھا مگر عذرا نے ان کی طلاق کی خواہش پوری نہ ہونے دی۔ در اصل وہ انہیں سمجھانا چاہتی تھی کہ ظلم کا جواب ظلم ہی نہیں ہوتا۔ یہ اس کے صبر کی انتہا تھی کہ وہ ان کے ظلم و ستم سہہ کر بھی ان کی بیٹی کا بھلا سوچ رہی تھی۔ اگرچہ وہ بہت زیادہ صبر و خبط کا مظاہرہ کر رہی تھی مگر آخر کو وہ بھی ایک عورت تھی، ا س کے اندر کسی گوشے میں ہلکا سا احساس محرومی تھا یا شاید لا شعور میں یہ بات چھپی ہوئی تھی کہ وہ ٹھکرائی گئی ہے۔ ٹھکرائے جانے کا احساس اسے اندر ہی اندر کچو کے لگاتا رہتا تھا ۔ اس احساس نے اسے مرد ذات سے بد ظن کر دیا تھا۔ زندگی کا یہ تلخ تجربہ اس کے دل و دماغ پر گہرے اثرات چھو ڑ گیا تھا اور اس نے فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ اب تمام زندگی شادی نہیں کرے گی۔ اب اس کی ایک ہی خواہش تھی کہ وہ اپنی باقی زندگی دوسروں کے لئے وقف کر دے۔ وہ کوئی چھوٹی موٹی ملازمت کر کے خود کو مصروف رکھنا چاہتی تھی۔ ادھر جب اس کے گھر والوں کو علم ہوا کہ وہ ملازمت کرنا چاہتی ہے تو باپ نے کہا۔
’’بیٹی! ہمارے خاندان میں لڑکیوں کو تعلیم تو دلوائی جا سکتی ہے مگر ان کا کہیں نوکری کرنا نہایت ہی معیوب سمجھا جاتا ہے کیونکہ نوکری کرنے کے لئے گھر کی چار دیواری سے باہر قدم رکھنا پڑتا ہے اور پھر غیر مردوں سے بھی واسطہ پڑتا ہے جبکہ ہم عورت کو بے حجاب ہونے یا اس کے کسی نا محرم سے تعلق رکھنے کو سخت برا سمجھتے ہیں۔‘‘
عذرا نے جواب دیا، ’’ابو ! میں اپنے خاندان کے اصولوں کو سمجھتی ہوں ، بخدا میں ایسا کوئی قدم نہ اٹھائو ں گی جو آپ لوگوں کی گردنیں دوسروں کے سامنے جھکا دے ۔ ‘‘ اس نے اک ذرا توقف کیا۔ پھر بات جاری رکھتے ہوئے بولی۔ ’’ہمارے ہاں عام دفاتر میں خواتین بھی مردوں کے ساتھ شانہ بشانہ کام کرتی ہیں لیکن میں اپنے خاندان کی عزت و ناموس کی خاطر کسی ایسی جگہ کام نہیں کروں گی جہاں غیر مردوں سے واسطہ رکھنا پڑے…میں ٹیچنگ کا باعزت شعبہ اختیار کرنا چاہتی ہوں۔‘‘
والدین اسے کہیں بھی ملازت نہیں کروانا چاہتے تھے۔ انہیں لوگوںکے طعنوں کا خوف تھا، وہ بیٹی کی کمائی کو اپنے اوپر حرام سمجھتے تھے لیکن بیٹی کی ضد کے آگے بالآخر انہیں ہتھیار ڈالنا ہی پڑے۔ عذرا نے میٹرک کے بعد پی ٹی سی کا کورس کیا تھا چنانچہ اس نے ایک پرائمری سکول میں سروس جائن کر لی ۔ اس دوران یاسمین کو خاندان والے سمجھا بجھا کر گھر لے آئے تھے۔ یاسمین نے عذرا پر ظلم کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی تھی اور اسے طلاق دلوانے میں بھی اسے کا ہاتھ تھا، اب وہ اپنے رویئے پر سخت نادم تھی اور اپنی غلطی پر پچھتا رہی تھی۔ اسے احساس ہو گیا تھا کہ عورت کی اصلی جگہ اس کے شوہر کے قدموں میں ہوتی ہے ۔ وہ عذرا کی محبت اور اعلی ظرفی کی قائل ہو گئی تھی جس نے خود ظلم برداشت کئے تھے مگر اس کا گھر نہیں اجڑنے دیا تھا۔ عذرا نے اس کی تما م زدیاتیوں اور غلطیوں کو معاف کر دیا تھا اور اسے سینے سے لگاتے ہوئے کہا تھا۔
’’میری بہن ! عورت کااصل مقام شوہر کی چار دیواری کے اندر ہے اور شوہر ہی اسے تحفظ دے سکتا ہے۔ ‘‘
جس قصبے کے اسکول میں عذرا کی تعیناتی ہوئی تھی وہ اس کے گھر سے کم از کم تیس پینتیس کلو میٹر کے فاصلے پر تھا اور اسے وہاں روزانہ آنے جانے میں اچھی خاصی دشواری کا سامنا کرنا پڑتا لہذا اس نے قصبے کے نمبردار کے گھر میں رہائش اختیار کر لی تھی۔ نمبردار اسے اپنی بیٹی ہی سمجھتا تھا۔ اس کا ایک ہی بیٹا تھا ۔ جب سے عذرا نے اس کے گھر میں رہا ئش اختیار کی تھی ، نمبردار نے بیٹے کو حکم دیا تھا کہ وہ مال مویشیوں والی حویلی میں جا کر رہے اور اگر اسے گھر آنا بھی ہو تو اجازت لے کر آئے کیونکہ عذرا پردہ کرتی تھی۔
وقت کا پنچھی اپنی سمت میں محو پرواز رہا۔ عذرا نے اب تمام زندگی دوسری شادی نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور اسی لئے اس نے ملازمت اختیار کی تھی کہ وہ اپنے گھر والوں پر بھی بوجھ نہ بنے اور اپنی باقی ماندہ زندگی نئی نسل کو علم کی روشنی دینے میں صرف کر دے ۔ اس دوران اس کی دونوں بہنوں کی یکے بعد دیگرے شادیاں ہو گئی تھیں اور وہ اپنے اپنے گھر وں میں خوش و خرم زندگی بسر کر رہی تھیں۔ اب اس کے والدین عذرا کے لئے فکر مند تھے کیونکہ وہ اب بھی خوب صورت اور بھر پور جوان تھی۔ اسے دیکھ کر کوئی یہ نہیں کہتا تھا کہ وہ طلاق یافتہ ہے ۔ والدین کو یہ ڈر تھا کہ جوان بیٹی دوسری جگہ جا کر ملازمت کرتی ہے اور غیروں کے پاس رہتی ہے ، کہیں دنیا والے اس کے متعلق غلط رائے نہ قائم کر لیں۔ اسی لئے والدین نے سوچا کہ وہ اس رسوائی کا سامنا کرنے سے پہلے ہی عذرا کی شادی کردیں۔ اس کا رشتہ ڈھونڈنے کی انہیں ہر گز ضرورت نہ تھی کیونکہ اب بھی عذرا کے بہت سے طلب گار تھے حالانکہ وہ ایک مطلقہ تھی۔ اس کے لئے بڑے بڑے گھرانوں کے رشتے آتے مگر اس نے اپنے والدین کو صاف طو رپر کہہ دیا کہ وہ اب دوسری شادی کر کے کوئی اور تلخ تجربہ نہیں کرنا چاہتی۔ اس کا انکار سن کر والدین بے چارے خاموش ہو جاتے مگر آخر کب تک خاموش رہتے؟ ہفتہ دس دن کے بعد جب بیٹی گھر آتی تو اسے دیکھ کر وہ اپنے سینے پر ایک بھاری بوجھ محسوس کرنے لگتے، اس کے حسن و جوانی سے انہیں خوف سا محسوس ہونے لگتا۔ وہ جب بھی گھر آتی تھی یا پھر واپس اپنی ڈیوٹی پر جاتی تو اکثر تنہا ہی ہوتی۔ والدین کو ڈر تھا کہ کہیں راستے میں اس کے ساتھ کوئی غیر معمولی بات نہ ہو جائے جو جو ان کی بد نامی اور رسوائی کا باعث بنے کیونکہ زمانے کی نیت بدلتے دیر نہیں لگتی۔ یہی خیال ماں باپ کے لئے جان لیوا تھا، آخر عذرا کے انکار کے باوجود اس کے ماں باپ نے یہ قدم اٹھانے کا فیصلہ کر لیا ۔ اگرچہ یہ بات خلاف شریعت ہے کہ لڑکے یا لڑکی کی مرضی کے بغیر اس کی شادی کی جائے مگر عذرا کے والدین بد نامی کا طوق گلے میں پہننے سے پہلے ہی اپنی عزت کو تحفظ دینا چاہتے تھے اور عذرا کو یہ تحفظ ایک شوہر کی چار دیواری میں ہی مل سکتا تھا…نمبر دار رحمت اللہ جس کے گھرمیں عذرا نے عارضی رہائش رکھی ہوئی تھی، اسے اپنی بیٹی کہتا تھا۔ اس نے اپنے بیٹے کے لئے عذرا کے والدین کو پیغام بھجوایا ۔ اگلی مرتبہ جب وہ چھٹی گزارنے کے لئے گھر آئی تو انہوں نے اسے پاس بٹھا لیا۔ ماں نے بیٹی کو سمجھانے کے انداز میں کہا۔
’’دیکھو، میری بیٹی ! عورت بغیر مرد کے سہارے کے ادھوری ہوتی ہے ۔ وہ خواہ کتنا ہی خود کو طاقتور سمجھنے لگے مگر وہ بھر بھی کمزور ہی رہتی ہے اور خود کفیل ہونے کے باوجود اسے کسی مرد کے مضبوط سہارے کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ اس کے سہارے کے بغیر نہ تو عزت سے جی سکتی ہے اور غیر محفوظ بھی ہوتی ہے …‘‘
’’دیکھو، بیٹی! ہم اپنی عمر کی اس اسٹیج پرپہنچ گئے ہیں جہاں بڑھاپا بھی دم توڑ جاتا ہے اور موت قریب تر دکھائی دیتی ہے ۔ ہمیں اب اپنے آپ پر بھروسہ نہیں رہا، نجانے کب اجل نامہ آجائے لیکن اس سے پہلے ہی تمہاری طرف سے مطمئن ہو نا چاہتے ہیں۔ ‘‘ باپ نے بھی اسے باتوں ہی باتوں میں سمجھانے کی کوشش کی۔
’’آپ لوگ کہنا کیا چاہتے ہیں…؟‘‘عذرا نے الجھے ہوئے انداز میں باری باری دونوں کی طرف دیکھا۔
ہاجرہ بی بی ایک طویل اور گہری سانس لے کر بولی۔ ’’بیٹی ! ہم جو کچھ کہہ رہے ہیںوہ تمہاری ہی بہتری کے لئے ہے۔ ہماری دلی خواہش ہے کہ تمہارا گھر بس جائے۔ تم تنہا کب تک حالات کا مقابلہ کر و گی۔ تمہارے سامنے پہاڑسی زندگی ہے ، تم اکیلی یہ کیسے گزارو گی… تمہارا بھائی اور بھاوج جو اب تم سے اپنائیت اور چاہت کا اظہار کرتے ہیں، ممکن ہے کہ ہماری آنکھیں بند ہوتے ہی وہ بھی تم سے نظریں بھیر لیں۔ پھر تم تنہا کہاں جائو گی ۔ بھیڑیوں کے جنگل میں اپنے آپ کو کیسے محفوظ رکھ سکوگی …؟‘‘
’’میں آپ کا کوئی بھی حکم نہیں ٹال سکتی۔ پہلے بھی میں نے آپ کے فیصلے کو بسرو چشم قبول کیا تھا، اب دوسری دفعہ بھی اسے قبول کر لوں گی لیکن نتیجہ کیا ہو گا ، وہ بھی آپ اچھی طرح جانتے ہیں… ہم عورتیں کٹھ پتلیاں ہوتی ہیں جو کبھی حالات کے ہاتھوں نا چتی ہیں اور کبھی مرد کی خواہشات انہیں نچاتی ہیں۔ ‘‘
’’سب مرد ایک جیسے نہیں ہوتے ، عذرابیٹی …!‘‘ باپ نے اصل مدعا بیان کر نے کے لئے تمہید باندھی ۔ ’’جس طرح ہاتھ کی پانچ انگلیاں برابر نہیں ہوتیں اسی طرح تمام مرد برے نہیں ہوتے ۔ کسی میں خامیاں ہوتی ہیں اور کسی میں اچھائیاں …ایسے ہی ایک اچھے انسان نے تمہارا رشتہ مانگا ہے ۔ ‘‘ اس نے ایک ذرا توقف کیا ، پھر کہا۔ ‘‘ نمبر دار رحمت اللہ نے اپنے بیٹے کے لئے پیغام بھیجا ہے مگر تم یہ بھی جانتی ہو کہ ہم یہ رشتہ تمہاری رضا مندی کے بغیر کریں گے۔ جو ہوا، اسے بھول جائو، ضروری نہیں کہ ہر دفعہ تمہارے ساتھ یہی سلوک ہو … بیٹی ! اگر تم ہمیں زندگی کے اس مقام دکھ دینا چاہتی ہو تو بے شک اپنی مرضی کرو ، ہم تمہیں مجبور نہیں کریں گے لیکن ہماری ایک بات یاد رکھو کہ اچھے رشتے روز روز نہیں ملتے ۔ ہمارا تو اب چل چلائو کا وقت آگیا ہے ۔ زندگی کا یہ کٹھن سفر تمہیں ہی طے کرنا ہے ۔ خوب ٹھنڈے دل سے سوچ لو۔ اگر تم یہ چاہتی ہو کہ ہم سکون سے موت کو گلے لگائیں اور بعد ازاں تم بھی سکون سے اپنی بقیہ زندگی گزار و تو نمبردار کے بیٹے کبیر اللہ کا رشتہ قبول کر لو ۔ ہم تمہیں یقین دلاتے ہیں کہ وہ زندگی کی آخری سانسوں تک تمہیں خوش رکھے گا ۔ ‘‘
عذرا خاموش ہو گئی اور بالا ٓخر اس کی ضد پروالدین کی بوڑھی خواہشات غالب آگئیں ، اس نے کبیر اللہ کے رشتے کے لئے ہاں کہہ دی۔
٭٭٭٭٭٭
انسان کو ملتا وہی ہے جو اس کے مقدر میں لکھا ہوتا ہے ، اس سے زیادہ کی اگر وہ خواہش بھی کرے تب بھی محروم رہتا ہے کیونکہ یہ سب کچھ اس کی قسمت میں نہیں لکھا ہو تا۔ بعض لوگ ساری زندگی خوشیوں سے مالا مال رہتے ہیں، غم یا دکھ نام کی کوئی چیز ان کے دامن کے قریب تک نہیں آتی اور کچھ ایسے بھی ہوتے ہیںجو تمام زندگی خوشیاں اور راحتیں حاصل کر نے کے لئے جدوجہد کرتے رہتے ہیں اور مگر نا کام و نا مراد ہوتے ہیں… عذرا نے دوسری شادی کی ہامی اس لئے بھری تھی کہ شاید اب اسے کسی کرب و اذیت سے نہ گزرنا پڑے اور اس کی باقی زندگی خوشگوار اور پر سکون گزرے۔ اسے وہ ازدواجی خوشیاں ملیں جن سے وہ پہلے محروم رہی مگر ایسا نہ ہو سکا، اس کے مقدر کی سیاہ رات ابھی باقی تھی۔ شادی کی پہلی رات ہی ایک قیامت اس پر ٹوٹ پڑی۔ سہاگ کی سیج اسے کانٹوں کا بستر معلوم ہونے لگی جب کبیر اللہ نے یہ انکشاف اسکے سامنے کیا۔
’’عذرا! میں جانتا ہوں کہ میں نے تمہاری زندگی پر بہت بڑا ظلم کیا ہے ۔ میں کبھی بھی ایسا نہ کرتا کیونکہ ایک پاک دامن عورت کے معصوم جذبات اور ارمانوں سے کھیلنے کا مجھے کوئی نہیں پہنچتا تھا لیکن میں بہت مجبور ہور گیا تھا ۔ اپنے والدین کی اکلوتی اولاد ہونے کی بنا پر میں ان کی خواہش رد نہ کر سکا اور نہ ہی انہیں یہ حقیقت بتا سکا کہ میں شادی کے قابل نہیں ہو ں۔ میں نے انہیں ٹالنے کی بہت کوشش کی مگر وہ اپنی محبتوں اور چاہتوں کا حق طلب کر نے لگے اور پھر مجھے مجبور ہارماننا پڑی… عذرا! اس میں میرا قصور صرف اتنا ہے کہ میں اپنی شرمندگی کی وجہ سے انہیں اصل بات نہیں بتا سکا تھا اور پھر میں انہیں حقیقت بتا کر ان کی دل آزاری بھی نہیں چاہتا تھا۔ میں تم سے بھی نادم ہوں ۔ اگر تم چاہو تو میں آج ہی تمہیں آزاد کر دیتا ہوں تاکہ میرے ضمیر کا بوجھ بھی ہلکا ہو جائے اور تم بھی ساری زندگی اس آگ میں نہ جلتی رہو …‘‘
عذرا ، جو اس تلخ انکشاف پر سن ہو گئی تھی ، فورا اس کی بات کاٹ کر بولی۔ ’’نہیں، اب میں دوسری دفعہ طلاق کا کلنک اپنے ماتھے پر نہیں سجائوں گی ۔ میں تمام زندگی آپ کی باندی بن کر رہوں گی اور آپ کی خدمت کروں گی مگر خدا کے لئے آئندہ مجھے اپنے قدموں سے دور کرنے والی بات بھی نہ کرنا۔ میرے پہلے شوہر نے حقیقت مجھ سے چھپائے رکھی اور مجھے ہی قصور دار ٹھہرا کر طلاق دے ڈالی۔ پھر آپ نے تو مجھ سے کچھ بھی نہیں چھپایا۔ مجھے اعتراف ہے کہ آپ ہی جیسے صاف گو اور حقیقت پسند شوہر کی مجھے تلاش تھی۔
یہ کہتے ہوئے اس کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ پھر وہ اسے اپنے ماضی کا قصہ سناتے ہوئے بے اختیار ہو گئی۔ کبیر اللہ نے اسے سینے سے لگا لیا اور دلاسہ دینے کی کوشش کرنے لگا۔
٭٭٭٭٭٭
عذرا نے خود تو حالات سے سمجھوتہ کر لیا تھا مگر یہ خیال کبھی کبھی اسے ستانے لگتا کہ کیا پھر اسے رد کردیا جائے گا؟ اس کے آگے اس کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں مفقود ہو جاتیں۔ وہ نماز پڑھنے کے بعد خدا کے حضور گڑ گڑ ا کر اس آزمائش پر پورا اترنے کی دعا مانگتی… پھر اس نے کڑے دل سے ایک فیصلہ کیا اور دبے الفاظ میں یہ کہنا شروع کر دیا کہ وہ بانجھ ہے اور کبھی بھی ماں نہ بن سکے گی ۔ عذرا نے محض شوہر کی عزت اور وقار کی خاطر اتنا بڑا طوق اپنے گلے میں ڈالا تھا ۔ کبیر اللہ اس وفا کی دیوی کے خلوص اور اعلیٰ ظرف کا گرویدہ ہو گیا تھا۔ وہ کہتا کہ تم نے نہ صرف مجھے زندگی کی حقیقی خوشیاں اور مسرتیں دی ہیں بلکہ میرے گھر والوں کے دل بھی جیت لئے ہیں۔ میں دعوے سے کہتا ہوں کہ تم جیسی نیک پروین جس مرد کے گھر میں ہو گی، وہ خوش نصیب ہو گا اور اس کا گھر جنت کا نمونہ کہلائے گا۔
اس طرح ہنستے مسکراتے وہ زندگی کا زہر چپکے چپکے پیتے رہے، حالانکہ دونوں ایک دوسرے کے قریب رہتے ہوئے بھی دور تھے مگر انہوں نے کبھی ایک دوسرے سے ازدواجی خوشیوں سے محرومی کا گلہ نہ کیا تھا… کئی ماہ و سال بیت گئے۔ اس دوران عذرا کے ساس اور سسر انتقال کر گئے۔ ان کی وفات کے بعد زمین کی دیکھ بھال اور گائوں کی نمبرداری کے فرائض کبیر اللہ کے کندھوں پر آپڑی تھی جس کی بدولت اسے اکثر کئی دن اور راتیں گھر سے باہر گزارنا پڑتیں۔ اس کی عدم موجودگی میں تنہا عذرا کو گھر کے در و دیوار کاٹ کھانے کو دوڑتے۔ کبھی کبھی اسے یوں محسوس ہوتا جیسے یہ تنہائی اس کے اندر یا سیت اور ویرانیوں کو جنم دے رہی ہے ۔ وہ ایسی مایوس کن سوچوں کو ذہن سے جھٹکتی تھی کیونکہ اسے خدا کی ذات پر کامل یقین تھا وہ اسی پر اکتفا کرنا چاہتی تھی۔ وہ اپنے قلب کو پر سکون رکھنے کے لئے زیادہ تر عبادت میں مصروف رہتی۔
وہ رمضان المبارک کا آخری عشرہ تھا اور ستائیسویں کی شب …عذرا نماز عشاء اور تراویح سے فارغ ہو کر نوافل ادا کرنے لگی۔ اس رات وہ گھر میں اکیلی ہی تھی۔ کبیر اللہ صبح کے وقت شہر گیا تھا اور جاتے ہوئے بتایا تھا کہ وہ اگلے روز واپس آئے گا ۔ اس کے جانے کے بعد عذرا نے ملازمہ کو بھی چھٹی دے دی تھی۔ پھر نجانے رات کے کون سے پہر دو نوافل پڑھتے ہوئے سجدے کی حالت میں گئی تو دوبارہ نہ اٹھ سکی۔ کسی کو معلوم نہ ہو سکا کہ اس اللہ والی کا سجدہ قدرت کو اتنا پسند آیا ہے کہ اس نے اسے سجدے سے اٹھنے نہیں دیا بلکہ اپنے پاس ہی بلا لیا۔
اگلے روز جب اسے دفن کیا جا چکا تھا تو کسی نے اس کی قبر کے قریب سے گزرتے ہوئے ایک پر لطف سی خوشبو محسوس کی۔ پھر اس نے گائوں آکر بتایا کہ عذرا کی قبر سے خوشبو آرہی ہے ۔ ہر طرف اس عجیب و غریب معجزے کی دھوم مچ گئی ، لوگ دور دور سے اس کی قبر کی زیارت کے لئے آنے لگے۔
کبیر اللہ اس وفا کی دیوی کے مرنے کے بعد اپنی زندگی میں بہت بڑا خلا محسوس کرنے لگا ہے ۔ وہ ہر جمعرات کی شام اس کی قبر پر جا کر چراغاں کرتا ہے اور کلام پاک کی تلاوت کر کے اس کی روح کو ایصال ثواب پہنچاتا ہے ۔ وہ کہتا ہے کہ ہر ماہ رمضان کی ستائیسوں شب جب وہ عذرا کی قبر کے سرہانے قرآن پاک پڑھ رہا ہوتا ہے ، اسے وہاں ویسی ہی خوشبو محسوس ہوتی ہے جیسی اس کی موت کے دوسرے روز محسوس کی گئی تھی۔ لوگ اسے پہنچی ہوئی ہستی کہتے ہیں۔ یہ کوئی بھی نہیں جانتا کہ اس کی زندگی کتنی تلخیوں اور مصائب و آلام کا سامنا کرتے ہوئے گزری لیکن اس نے ہر مقام، ہر آزمائشی مرحلہ میں حوصلہ نہیں ہارا بلکہ دکھوں اور مصیبتوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ اس تحمل ، بردباری اور صبرو استقامت کی وجہ سے وہ متقی اور پرہیز گاری ٹھہرائی گئی ۔ اس کی قبر سے خوشبو اس کی پاکیزگی اور شرافت کی دلیل ہے۔

Show More
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close