Naeyufaq Nov-16

خدا گواہ

زرین قمر

کشمیر کے بلند و بالا پہاڑوں کی چوٹیوں پر واقع اننت ناگ کے جنگل میں موسم بہا ر کی آمد آمد تھی ہر طرف ہرے بھرے درخت سر اٹھائے کھڑے تھے اور وادی میں سبزہ لہرا رہا تھا اور جنگل کے اس حصے میں جہاں خاموشی کا راج تھا چند مقامی بچے اپنے مقامی لباس شلوار اور ڈھیلے ڈھالے کرتے پہنے کھیلنے میں مصروف تھے ان کے ہاتھوں میں لمبی لمبی لکڑیاں اور درختوں سے توڑی ہوئی ٹہنیاں موجود تھیں وہ کبھی درختوں کے پیچھے چھپ جاتے کبھی جھاڑیوں کی آڑ لیتے اور کبھی کسی پہاڑی ٹیلے کی آڑ میں چلے جاتے وہ کھیل میں حصہ لینے کے ساتھ ساتھ ایک مقامی گیت بھی گاتے جارہے تھے۔
’’کرو تیار زادراہ سوئے فردوس اے ہمدم
ہے رستہ پر خطر پھر بھی سفر طے ہم کو کرنا ہے۔‘‘
ان بچوں میں جو بچہ سب سے پیش پیش تھا جس نے یہ شعر پڑھا، اس نے ملٹی کلر کا سوٹ پہنا ہوا تھا۔ دوسرے بچے بھی اس کے ساتھ آواز ملا کر گارہے تھے۔
’’وانی! وہ…شعر پڑھو…وہ جنگ بدر والا۔‘‘ دوسرے بچے نے کہا۔
’’اٹھو اہل بدر اہل احد کے چاہنے والو
علم اب سر بلند اپنا لٹا کر جان کرنا ہے۔‘‘
وانی نے شعر پڑھا اور بچوں نے پھر اس کے ساتھ آواز ملائی بچے محویت سے کھیل رہے تھے اور وہ بغور انہیں دیکھ رہا تھا اچانک کہیں قریب ہی سے کسی فائر کی گونج سنائی دی اور اس کی آنکھ کھل گئی تھی اس نے آنکھیں کھول کر چاروں طرف دیکھا، وہاں کوئی نہیں تھا وہ اکیلا ایک درخت کے نیچے لیٹا تھا وہ اکثر یہ خواب دیکھتا تھا وہ اپنا بچپن نہیں بھولا تھا وہ اس طرح ان جنگلوں میں کھیل کر جوان ہوا تھا بچپن میں وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر کشمیر کی جدوجہد آزادی کی لڑائی کا کھیل کھیلتا تھا جس میں آدھے بچے کشمیری حریت پسند اور آدھے انڈین فوجی بنتے تھے اور کھیل شروع ہوجاتا تھا وہ کبھی درختوں کے پیچھے چھپتے کبھی ایک دوسرے پر اپنے ہاتھوں میں پکڑے ڈنڈوں اور ٹہنیوں سے بنی فرضی رائفلوں سے ایک دوسرے پر فائر کرتے تھے وہ چھوٹے تھے پر کشمیر کی آزادی کا خواب وہ بھی دیکھتے تھے۔
برہان وانی انہی میں سے ایک تھا اس کے والد مظفر احمد وانی اننت ناگ کے داد سارا گاؤں میں ایک ہائی اسکول میں ہیڈ ماسٹر تھے اور اس کی بیوی میمونہ مظفر اسی گاؤں میں بچوں کو قرآن شریف کی تعلیم دیتی تھی اس کے پانچ بچے تھے سب سے بڑا بیٹا خالد مظفر‘ برہان‘ بیٹی ارم مظفر وانی اور دو چھوٹے بھائی نوید اور عالم ۔ یہ سب اسی گاؤں میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والدین نے غربت کے باوجود انہیں کبھی کسی چیز کی کمی کا احساس نہیں ہونے دیا تھا۔ ان بچوں میں کشمیر کے دوسرے بچوں کی طرح وطن سے محبت کا جذبہ موجود تھا جسے آئے دن ہونے والے انڈین افواج کے ظلم سے مزید تقویت ملتی تھی پھر انہی لکڑیوں ڈنڈوں اور ٹہنیوں سے لڑنے والے بچوں کے ہاتھوں میں رائفلیں اور پستولیں آگئیں۔
اور وہ اپنے خواب کی تعبیر حاصل کرنے کے لیے کشمیری جدو جہد آزادی کا حصہ بننے لگے انہی میں برہان وانی کا بڑا بھائی خالد مظفر وانی بھی تھا جسے انڈین آرمی نے 13 April 2015 کو شہید کردیا جب وہ اپنے تین دوستوں کے ساتھ اپنے والد سے ملنے جارہا تھا ۔ انڈین آرمی کا کہنا ہے کہ خالد دہشت گرد تھا اور ایک کارروائی کے دوران اپنے دوستوں کے ساتھ مارا گیا اس کے کچھ دوستوں کو آرمی نے گرفتار کرلیا اور کشمیر کی پولیس نے اس کی کوئی تصدیق یا تردید نہیں کی خالد کے دوست جہادی تھے یا نہیں لیکن اس کے والد اور محلے داروں نے تردید کی ہے اور کہا ہے کہ اس کی لاش پر کسی گولی کا نشان نہیں تھا اور اسے تشدد کرکے ہلاک کیا گیا۔
اچانک ہی فائر کی دوسری آواز گونج دی اور وہ اٹھ کر بیٹھ گیا پھر قریب ہی درختوں کے پیچھے اسے سرسراہٹ سی سنائی دی تھی اور وہ آواز کی سمت بڑھا دیا ابھی وہ چند قدم ہی گیا تھا کہ ایک درخت کی اوٹ سے اسے پیلے رنگ کا پھول دار دوپٹہ لہراتا نظر آیا اور وہ اس طرف بڑھ گیا۔
’’اوہ ارم! تم پھر یہاں اکیلی آگئی ہو؟‘‘ برہان نے پیار بھری خفگی سے کہا۔
’’بھیا! آپ کو پتا ہے کہ میں آپ کو دیکھے بغیر ایک دن بھی نہیں رہ سکتی لیکن میں تو آج کئی دن کے بعد آئی ہوں۔‘‘ ارم نے پیار سے کہا۔
’’میری پیاری گڑیا رانی…دیکھو دشمن ہماری تاک میں لگا رہتا ہے کوئی بھی تمہارا پیچھا کرتا ہوا یہاں تک پہنچ سکتا ہے اور پھر میرے ساتھ دوسرے ساتھیوں کی زندگی بھی خطرے میں پڑجائے گی…تم صبر کیا کرو… میں خود موقع دیکھ کر تم سے ملنے آجایا کروں گا۔‘‘
’’میں تو اس لیے بھی آئی تھی کہ آج ماں نے تمہاری پسندیدہ جوار کی روٹی بنائی تھی میں تمہارے لیے لائی ہوں۔‘‘ ارم نے ہاتھ میں پکڑی کپڑے کی پوٹلی کو کھولتے ہوئے کہا وہ زمین پر بیٹھ گئی تھی اور اس کے ساتھ برہان بھی بیٹھ گیا تھا۔
’’تم صرف یہ روٹی لے کر اتنے خطرے سے گزر کر آئی ہو۔‘‘ برہان نے کہا۔
’’خطرہ؟…بھیا! خطرہ کہاں نہیں ہے ہم کشمیری تو گھروں کے اندر بھی محفوظ نہیں ہیں نہ ہمارے شہروں میں امن و سکون ہے اور نہ گھروں میں ۔ ہر جگہ میدان جنگ بنی ہوئی ہے پتہ نہیں کب تک ہم اس صورت حال سے نمٹتے رہیں گے۔‘‘ ارم نے دکھ سے کہا۔
’’اﷲ سے بہتر کی امید رکھو وہ اپنے بندوں سے کبھی غافل نہیں ہوتا ایک نہ ایک دن ہمیں ضرور آزادی ملے گی ہماری جدوجہد رائیگاں نہیں جائے گی۔‘‘
’’آمین! اچھا اب آپ کھانا کھالیں اس نے روٹی اور ساگ برہان کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا اور ایک گلاس میں لسی نکالنے لگی۔
’’میں ایک شرط پر کھاؤں گا۔‘‘ برہان نے کہا۔
’’وہ کونسی شرط؟‘‘
’’تم آئندہ اس طرح نہیں آؤ گی میرے کمانڈر کو پتہ لگ گیا تو وہ ناراض ہوگا یہاں مجاہدین سے ملنے کوئی نہیں آسکتا بہت سخت پابندی ہے ۔ ہمارے ٹھکانے ہر کسی کو پتہ بھی نہیں ہیں۔‘‘
’’ٹھیک ہے بھائی میں خیال رکھوں گی۔‘‘ ارم نے جواب دیا پھر وہ جلد ہی رخصت ہوگئی تھی اور برہان جنگل میں اپنے کیمپ کی طرف روانہ ہوگیا تھا جہاں ان کی روزانہ کی تربیت کا آغاز ہونے والا تھا۔
‘…‘…‘…‘
داد سارا گاؤں کی چھوٹی سی آبادی میں صبح صادق کا وقت تھا۔ مساجد سے اذانوں کی آوازیں بلند ہورہی تھیں اور زندگی نئی صبح کا استقبال کرنے کے لیے انگڑائی لے رہی تھی۔ برہان کی ماں میمونہ بستر سے اٹھی سب سے پہلے اس نے وضو کرکے فجر کی نماز ادا کی اور اس کے بعد باورچی خانے کی طرف بڑھ گئی تب تک اس کا شوہر مظفر وانی بیدار ہو کر اپنے دونوں چھوٹے بیٹوں نوید وانی اور عالم وانی کے ساتھ محلے کی مسجد میں جاچکا تھا میمونہ نے جلدی جلدی ناشتے کی تیاری کی آج گھر میں کوئی سالن بنا ہوا نہیں تھا اس نے گیہوں کے آٹے کی روٹی بنا کر اس پر گھی لگا دیا تھا اور ساتھ چائے تیار کرلی تھی کچھ ہی دیر میں بچے اور اس کا شوہر نماز پڑھ کرواپس آگئے تھے اور اس نے ان کے لیے ناشتہ بنادیا تھا۔
’’آج کوئی رات کا بچا ہوا سالن بھی نہیں ہے؟‘‘ مظفر وانی نے پوچھا۔
’’نہیں کل بہت کم بنایا تھا وہ رات ہی ختم ہوگیا۔‘‘ میمونہ نے جواب دیا۔
’’ٹھیک ہے کوئی بات نہیں میں اسکول سے آتے ہوئے پکانے کے لیے کچھ لے آؤں گا۔‘‘
’’امی…آج گوشت بنالینا۔‘‘ سب سے چھوٹے بچے عالم نے کہا۔
’’ہاں‘ ہاں…دیکھوں گی۔‘‘میمونہ نے وعدہ نہیں کیا وہ جانتی تھی مہینے کی آخری تاریخیں تھیں اگر اس کے شوہر کی گنجائش ہوگی تو وہ خود لے آئے گا ۔ اس نے شادی کے بعد سے آج تک مظفر وانی سے کبھی کوئی فرمائش نہیں کی تھی اور اس کی مختصر سی تنخواہ میں بڑی خوش اسلوبی سے گھر چلاتی رہی تھی۔
ناشتے سے فارغ ہو کر بچے اور مظفر اسکول کے لیے روانہ ہوگئے تھے اور میمونہ گھر کے کاموں میں مصروف ہوگئی تھی کیونکہ کچھ ہی دیر بعد محلے کے بچے اس کے پاس قرآن پڑھنے آنے والے تھے یہ وہ بچے تھے جو صبح اسکول نہیں جاتے تھے ابھی کچھ ہی دیر گزری تھی کہ گاؤں میں شور برپا ہوگیا۔لوگوں کی چیخ و پکار کی آوازوں سے اندازہ ہوگیا تھا کہ بھارتی سیکورٹی گارڈ یقینا پھر زبردستی گھروں میں گھس رہے تھے یہ ان کا روز مرہ کا کام تھا جب جی چاہتا وہ گھروں کی تلاشی لینے کے لیے بلا اجازت گھروں میں داخل ہوجاتے اور گھر والوں پر تشدد کرتے وہ اکثر حریت مجاہدین کو تلاش کر رہے ہوتے تھے اور اس کا نام لے کر لوگوں سے اس کے بارے میں معلومات کرتے تھے اس دوران وہ لوگوں کو زد کوب بھی کرتے تھے ۔ عورتوں کی بے عزتی کرتے تھے۔
آج گاؤں میں ایک جلسہ ہونے والا تھا جس میں جدوجہد آزادی کے کئی رہنماؤں نے شرکت کرنا تھی ان کے ناموں کا اعلان ہوچکا تھا اور جلسے سے پہلے انڈین آرمی انہیں گرفتار کرلینا چاہتی تھی چنانچہ گاؤں کے گھروں میں سرچ آپریشن کردیا گیا تھا۔ میمونہ جلدی سے گھر کا دروازہ بند کرنے آگے بڑھی حالانکہ وہ جانتی تھی کہ دروازہ بند کرنے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا انڈین فوجی دروازہ توڑ کر اندر آجائیں گے لیکن اس کے دروازے تک پہنچنے سے پہلے ہی دو فوجی رائفلوں کے بٹوں سے دھکا دے کر دروازہ کھولتے ہوئے اندر داخل ہوگئے تھے۔
’’کہاں ہے…؟ کہاں ہے تمہارا بیٹا؟‘‘ ایک انڈین فوجی نے للکارتے ہوئے میمونہ سے پوچھا اور اس کی پندرہ سالہ بیٹی ارم اپنے آپ کو چھپانے کے لیے ماں کے پیچھے چھپ گئی۔
’’وہ گھر پر نہیں ہے۔‘‘ میمونہ نے جواب دیا۔
’’ہمیں پتہ ہے وہ دہشت گرد ہے…ہمیں اس کی تلاش ہے اس مہینے دہشت گردوں ہی نے اپنے لیڈروں کو چھپایا ہوا ہوگا جو آج جلسے میں تقریر کرنے والے ہیں۔‘‘ فوجی نے کہا اور اپنے دوسرے ساتھی کو گھر کی تلاشی لینے کا اشارہ کیا خود وہ رائفل سے میمونہ اور اس کی بیٹی کے سامنے کھڑا تھا اور للچائی ہوئی نظروں سے ارم کی طرف دیکھ رہا تھا جس کے چہرے پر خوف طاری تھا۔
’’میں نے بتایا کہ گھر میں ہم دونوں کے علاوہ کوئی نہیں ہے۔‘‘ میمونہ نے دوبارہ کہا۔
’’تم مسلمان جھوٹ بولتے ہو…پہلے فساد کرتے ہو اور پھر انجام سے بچنے کے لیے جھوٹ بولتے ہو۔‘‘ اس فوجی نے حقارت سے کہا۔
’’جھوٹے تم ہو۔‘‘ میمونہ نے للکارنے والے انداز میں کہا اور اس فوجی نے رائفل کا بٹ اس کے سر پر دے مارا وہ توازن برقرار نہ رکھ سکی اور نیچے گر گئی ارم اسے سنبھالنے کے لیے زمین پر بیٹھ گئی تھی تبھی اس فوجی نے ارم کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنی طرف گھسیٹا تھا۔
’’ہم اسے لے جارہے ہیں…اپنی بہن کو چھڑانے تو آئے گا نا…‘‘ اس نے غصے سے کہا۔
’’ماں !…مجھے بچاؤ…‘‘ ارم چلا رہی تھی اس کی ماں تیزی سے اٹھی اور فوجی کی طرف بڑھی تبھی دوسرے فوجی نے اسے دبوچ لیا تھا جو گھر کی تلاشی لے کر واپس آرہا تھا۔
’’آرام سے…آرام سے…اتنی بھی کیا جلدی ہے…تم لوگوں نے بھی ہمارا جینا حرام کردیا ہے تمہارے اتنے اتنے سے بچے گاڑیوں پر پتھر مارتے ہیں ہمارے فوجیوں کو زخمی کرتے ہیں اب ہماری باری ہے…کل تمہاری بیٹی کو دے جائیں گے۔‘‘ اس کے لہجے میں ہوس جھلک رہی تھی اور نظریں بے غیرتی سے ارم کے ننگے سر اور جسم کا محاصرہ کئے ہوئے تھیں خود کو چھڑانے کی جدوجہد میں اس کا دوپٹہ سر سے ڈھلک کر نیچے گر گیا تھا اور دوسرا فوجی نے اسے گھسیٹتا ہوا باہر کی طرف لے جارہا تھا تب ہی مظفر وانی اپنے دونوں بچوں کے ساتھ گھر میں داخل ہوا۔
’’یہ کیا ہورہا ہے؟‘‘ اس نے چیخ کر کہا اور اس کے دونوں بچے صورت حال کا اندازہ لگا کر واپس بھاگتے ہوئے باہر چلے گئے۔
’’چلو تم بھی آگئے…اچھا ہے…تم بتاؤ کہ تمہارا بیٹا برہان کہاں ہے؟‘‘ فوجی نے پوچھا۔
’’مجھے نہیں معلوم ۔‘‘ مظفر نے جواب دیا اور اپنی بیٹی کو چھڑانے کے لیے لپکا لیکن اس کے پیچھے موجود انڈین فوجی نے اس کے گھٹنے پر فائر کردیا ور وہ لڑکھڑاتا ہوا نیچے گر گیا اتنی دیر میں میمونہ اٹھ کر اس فوجی کے پیروں سے لپٹ گئی تھی جس نے ارم کو دبوچا ہوا تھا فوجی اس سے خود کو چھڑانے کی جدوجہد کرنے لگا اور ارم اس کی گرفت سے نکل کر دروازے سے باہر نکل گئی فوجی اس کے پیچھے لپکا تھا اور میمونہ اپنے زخمی شوہر کی طرف متوجہ ہوگئی تھی۔
باہر نکل کر ارم سڑک پر موجود مجمع میں گم ہوگئی تھی جہاں گاؤں کے لوگ جمع تھے اور انڈین فوجیوں کے خلاف نعرے لگارہے تھے۔
’’آزادی …آزادی۔‘‘
’’لے کر رہیں گے آزادی۔‘‘
’’اپنی قوت اپنی جان۔‘‘
’’کشمیر بنے گا پاکستان۔‘‘
لوگوں نے ہاتھوں میں پاکستان کے جھنڈے اٹھائے ہوئے تھے اور وہ کشمیر کی آزادی اور پاکستان کے حق میں نعرے لگارہے تھے فوجی مظفر کے گھر سے نکل کر دوسرے گھروں کی طرف بڑھ گئے تھے لیکن اب ان کا سرچ آپریشن کمزور پڑگیا تھا کیونکہ آبادی کے سارے لوگ سڑکوں پر آگئے تھے اور نوجوان لڑکے اور بچے ہاتھوں میں پتھر لیے انڈین فوجیوں کا تعاقب کررہے تھے ۔
مجمع کے لوگ اسی انداز سے آگے بڑھتے ہوئے جلسہ گاہ کی طرف بڑھ رہے تھے لیکن پھر جلسہ شروع ہونے سے پہلے ہی انڈین سیکورٹی فورسز نے لوگوں کو پکڑ پکڑ کر اپنی گاڑیوں میں ڈالنا شروع کردیا تھا ہر طرف افراتفری پھیل گئی تھی پولیس اور فوج کی فائرنگ سے کئی نہتے کشمیری زخمی ہوگئے تھے اس شام انڈین ٹی وی چینل سے اعلان کیا گیا تھا کہ کشمیر میں کرفیو لگادیا گیا ہے اور لوگوں کو گھروںمیں رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
‘…‘…‘…‘
جنوبی کشمیر کے پہاڑی سلسلوں میں سر سبز پہاڑیوں کے درمیان ایک کچا راستہ موجود تھا یہ پگڈنڈی نما راستہ لوگوں اور جانوروں کی آمد و رفت کی وجہ سے قدرتی طور پر بن گیا تھا اس کے دونوں طرف بڑے بڑے پہاڑی پتھروں کی قطاریں تھیں جو مقامی لوگوں ہی نے بنائی تھیں اس راستے کے دونوں اطراف چناروں کے عمر رسیدہ لمبے لمبے درخت سر اٹھائے کھڑے تھے۔
کشمیر کے ان دور دراز اور نسبتاً ویران علاقوں میں مجاہدین کے کیمپ تھے جہاں ان کی عارضی پناہ گاہیں تھیں وہ اکثر ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتے رہتے تھے ابھی صبح کا وقت تھا اور حزب المجاہدین کا ایک دستہ اس کچی پگڈنڈی سے مارچ کرتا گزر رہا تھا ان کا انداز بالکل کمانڈو جیسا تھا وہ سب وردیوں میں ملبوس تھے ان کے ہاتھوں میں رائفلیں تھیں اور چہروں پر کالی نقاب جیسے ماسک تھے اس دستے کے آگے آگے ان کا لیڈر انہیں کے انداز میں مارچ کرتا ہوا آگے بڑھ رہا تھا یہ ان کا روزانہ کا معمول تھا یہ مارچ ان کی تربیت کا حصہ تھا اس دستے میں برہان وانی اور اس کے قریبی دوست میں موجود تھے ۔
دستہ آگے جا کر ایک اینٹوں سے بنے شیلٹر کے قریب رک گیا تھا یہ شیلٹر اس طرح بنایا گیا تھا کہ دور سے یا اوپر سے دیکھنے پر یہ پہاڑی پتھروں کا ایک ڈھیر محسوس ہوتا تھا لیکن اس میں کئی جگہوں پر سوراخ بنے تھے جو اندر سے باہر کا جائزہ لینے یا دشمن سے مقابلہ کرنے لیے استعمال ہوتے تھے اور وقت آنے پر اس کو ایک بنکر کے طور پر بھی استعمال کیا جاسکتا تھا۔
شیلٹر کے قریب پہنچنے کے بعد وہ دستہ ٹھہر گیا تھا اور پہلے موجود دوسرے دستوں کے ساتھ مل کر قطاریں بنالی گئی تھیں چند لمحے بعد اس شیلٹر میں سے ایک شخص مجاہدین کی وردی میں ملبوس برآمد ہوا تھا اور ان دستوں کے سامنے آکھڑا ہوا تھا۔ فضا اﷲ اکبر کے نعروں سے گونج اٹھی تھی اس کے دستوں کی پہلی قطار سے ایک مجاہد سامنے آیا تھا اس نے قرآنی آیات کی تلاوت کی تھی اس کا ترجمہ پیش کیا تھا اور پھر اپنی جگہ واپس چلا گیا تھا۔
’’میرے جان باز مجاہدو! ‘‘ سامنے کھڑے ان کے لیڈر نے انہیں مخاطب کیا۔
’’اﷲ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں دشمن کے سامنے سرخرو کیا ہے کل کے واقعے میں انڈین سیکورٹی فورسز نے جن بے گناہ کشمیریوں کو گرفتار کیا تھا ہم نے انہیں سیکورٹی فورسز کے کیمپو ں سے رہا کروالیا ہے۔‘‘
لیڈر سانس لینے کے لیے رکا تو فضا’’ اﷲ اکبر‘‘ اور’’ آزادی آزادی‘‘ کے نعروں سے گونج اٹھی مجاہدوں کا جوش دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا۔
’’آئندہ بھی ہماری کوشش ہوگی کہ ہم کسی بھی انسانی جان کا نقصان کئے بغیر اپنی جدوجہد جاری رکھیں آپ سب مجاہدین سے میری ایک درخواست ہے کہ آپ کے لیے جو اصول و ضوابط بنادیئے گئے ہیں آپ ان پر عمل کریں دشمن پر بھی اس وقت وار کرنا ہے جب آپ کے لیے ناگزیر ہو میری دعا ہے اﷲ تعالیٰ ہمارا حامی و ناصر ہو اور ہمیں قد م قدم پر جدوجہد آزادی کے عمل میں کامیابی نصیب ہو۔‘‘
تقریر مکمل کرکے کمانڈو پیچھے ہٹ گیا تھا مجاہدین ایک بار پھر نعرے لگا رہے تھے اور پھر مختلف ٹکڑیوں میں بٹ کر منتشر ہوگئے تھے برہان بھی اپنے دو ساتھیوں سرتاج احمد اور پرویز ہاشمی کے ساتھ پتھروں سے بنے ایک شیلٹر میں چلاگیا تھا۔
’’اﷲ کا شکر ہے کہ تمام کشمیری آزاد کروالیے گئے ہیں اور وہ اپنے اپنے گھروں پر پہنچ گئے ہیں۔‘‘ برہان وانی نے ایک ہموار بڑے سے پتھر پر بیٹھتے ہوئے کہا جو اس شیلٹر میں رکھا ہوا تھا اور جسے وہ لوگ بینچ کے طور پر استعمال کرتے تھے ایک کونے میں ایک چٹائی بھی بچھی ہوئی تھی جسے ضرورت پڑنے پر کھانا کھانے ‘ سونے یا بیٹھنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا اس شیلٹر میں ایک سمت ایک میز پر کمپیوٹر بھی موجود تھا یہ سہولت کسی اور شیلٹر میں نہیں تھی یہ برہان اور اس کے ساتھیوں کا شوق تھا وہ اپنے فارغ وقت میں اس کمپیوٹر کے ذریعے بیرونی دنیا سے رابطے میں رہتا تھا اس پر مختلف چینلز دیکھ کر تمام تازہ خبروں سے باخبر رہتا تھا اور اس نے پہلی بار کشمیر کی جدوجہد آزادی کو ایک نئے رنگ میں دنیا کے سامنے پیش کیا تھا پاکستان کے قیام سے لے کر اب تک دنیا نے انڈین میڈیا کی خبریں ہی سنی تھیں جن میں وہ کشمیر کے بارے میں اپنا موقف سامنے رکھتے ہوئے اظہار خیال کرتا رہتا تھا لیکن کشمیری عوا م کی آواز دنیا تک پہنچانے والا کوئی نہیں تھا۔ برہان نے یہ کام شروع کیا کہ وہ اپنی اور اپنے مجاہدین کی سرگرمیوں کی ویڈیو بنا کر انٹرنیٹ پر اپ لوڈ کرتا تھا اور دنیا کو انڈین فورسز کا اصل چہرہ دکھاتا تھا وہ خود کو بھی ہائی لائٹ کرتا تھا جس کی وجہ سے اسے خاصی مقبولیت حاصل ہوئی تھی۔
’’کیا خیال ہے برہان رات تم نے کشمیریوں کی رہائی کی جو ویڈیو بنائی ہے وہ بھی انٹرنیٹ میڈیا پر اپ لوڈ کرو گے؟‘‘ اس کے ساتھی پرویز ہاشمی نے پوچھا وہ پرسکون انداز میں چٹائی پر نیم دراز ہوگیا تھا۔
’’ہاں‘ بس ابھی یہی کام کرنا ہے۔‘‘ برہان نے کہا۔
’’برہان! سوشل میڈیا پر تم جو ویڈیو لگارہے ہو ان میں احتیاط کرو یہ ویڈیو ز عوام تک رسائی کا بہترین ذریعہ تو ہے لیکن تمہیں شہرت حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ بہت زیادہ خطرہ بھی لاحق ہوگیا ہے۔‘‘ سرتاج نے سمجھانے والے انداز میں کہا۔
’’تم ٹھیک کہتے ہو لیکن یہ بھی میرے جہاد کا ایک حصہ ہے میں چاہتا ہوں کہ ہتھیاروں سے لڑائی کے ساتھ ساتھ ہمیں سوشل میڈیا کو بھی اپنے حق میں استعمال کرنا چاہیے جیسا کہ بھارت بہت عرصے سے کر رہا ہے۔‘‘ برہان نے جواب دیا۔
’’ہاں! لیکن اب تمہیں بہت زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ تم انڈین آرمی کی نظر میں آچکے ہو تمہارے پوسٹر جگہ جگہ لگادیئے گئے ہیں اور تمہارے لیے انڈین گورنمنٹ نے بھاری انعام رکھا ہوا ہے۔‘‘ پرویز نے فکر مندی سے کہا۔
’’اﷲ حفاظت کرنے والا ہے میری کوئی بری نیت نہیں ہے اپنے کشمیری بھائیوں کے لیے آزادی کی جدوجہد اپنے انداز میں کر رہا ہوں اگر ایسا کرتے ہوئے خطروں کا سامنا کرنا پڑتا ہے یا موت واقع ہوجاتی ہے تو اس کی مجھے پروا نہیں یہ میری زندگی کا مقصد ہے کہ میںمسلسل کشمیر کی آزادی کے لیے جدوجہد کروں۔‘‘ برہان نے پرعزم انداز میں کہا۔
’’ہمارا بھی مقصد یہی ہے۔‘‘ پرویز نے کہا پھر چونک کر برہان کی طرف دیکھا۔
’’برہان ! ہم سب مجاہدین جو کشمیر کی آزادی کی جدوجہد کر رہے ہیں ان کے پیچھے کوئی نہ کوئی ایسا واقعہ ہے جس نے انہیں کشمیری جدوجہد آزادی کا حصہ بننے پر مجبور کیا تم نے یہ فیصلہ کن حالات میں کیا جب کہ تمہارے والدین بوڑھے ہوچکے ہیں ایک جوان بہن اور دو چھوٹے بھائی موجود ہیں جنہیں کسی مضبوط سہارے کی ضرورت اور تمہارا بڑا بھائی شہید ہوچکا ہے تو تمہارے گھر والوں کو تمہاری زیادہ ضرورت ہے؟‘‘ پرویز نے پوچھا۔
’’میں بھی پہلے اسی طرح سوچتا تھا ۔‘‘ برہان نے کہا
’’پھر…؟ پھر تمہاری سوچ کیسے بدل گئی ؟‘‘ سرتاج نے پوچھا۔
’’2010 میں میرا بڑا بھائی خالد وانی شہید کردیا گیا اسے اور مجھے ایسے ہی ایک احتجاجی جلسے سے گرفتار کیا گیا تھا جیسے کہ کل ایک احتجاجی جلسے سے کچھ کشمیروں کو گرفتار کیا گیا جنہیں ہم نے رہا کرایا ۔ ہمیں گرفتار کرنے کے بعد انڈین آرمی نے ہم سے مختلف سوالات کیے وہ ہم سے کشمیر میں ہونے والے مختلف تشدد کے واقعات کے بارے میں پوچھ گچھ کر رہے تھے لیکن انہوں نے ہمارا یقین نہیں کیا پھر ان کی قید کے دوران ہی ان کے تشدد سے میرا بھائی خالد ہلاک ہوگیا اور انہوں نے مجھے تشدد ہی سے ادھ موا کرکے میرے گھر کے قریب ایک سڑک پر لا پھینکا وہ اس دوران میرے والدین کو بھی ہراساں کرتے رہے اور اب تک جب بھی کوئی ناخوش گوار واقعہ ہوتا ہے تو دوسرے کشمیری مجاہدین کی طرح میرا گھر بھی ان کی فہرست میں پہلے نمبر پر ہے وہ ہمارے گھروں میں پہلے چھاپے مارتے ہیں اور ہمارے گھر وں کے افراد پر ظلم کرتے ہیں کل بھی انہوں نے میری والدہ اور بہن کے ساتھ زیادتی کی ہے اور میرے والد کے گھٹنے پر گولی ماری ہے۔‘‘ برہان نے کہا۔
’’ہاں! یہ تو ہم مجاہدین کا مقدر بن گیا ہے کہ ساری جدوجہد کی سزا ہمارے گھر والے بھگتتے ہیں۔‘‘ پرویز نے کہا۔
’’بس میرے دل میں جہاد کا جذبہ شروع ہی سے تھا میں بچپن سے انہی جنگلوں میں ہاتھ میں درختوں کی ٹہنیاں لیے فرضی جہاد کا کھیل اپنے دوستوں کے ساتھ کھیلتا تھا جو آج حقیقت میں تبدیل ہوگیا ہے میرے والد نے اپنے ہی اسکول میں مجھے تعلیم حاصل کرنے پر لگادیا تھا میں نے میٹرک کیا پھر آگے تعلیم حاصل کی ۔ کمپیوٹر میرا شوق تھا چنانچہ اس طرف نکل گیا چنانچہ ایک مجاہد بننے میں میرا شوق انڈین افواج کا تشدد اور جذبہ جہاد شامل ہے۔‘‘ برہان نے کہا اور سرتاج کی طرف دیکھنے لگا جو کچھ سوچ رہا تھا۔
’’تم بتاؤ سرتاج! تم نے بھی تو آٹھویں کلاس سے تعلیم چھوڑ کر رضاکارانہ طور پر مجاہدین کی تنظیم میں شمولیت اختیار کی تھی؟‘‘ برہان نے پوچھا۔
’’ہاں ! برہان میں اس وقت پندرہ سال کا تھا جب آٹھویں کلاس سے اسکول چھوڑ دیا اور محنت مزدوری شروع کردی میرے علاقے میں جو اسکول تھا وہ آٹھویں تک تھامیرے گھر کے حالات اچھے نہیں تھے چنانچہ آگے تعلیم حاصل کرنے کے بجائے میں نے سڑکوں پر سیمنٹ لادنے کی مزدوری کر لیتا تھا اس طرح میں نے بیس ہزار روپے جمع کرلیے جو میرے لیے ایک بڑی رقم تھی اور یہ رقم میں نے اپنے علاقے میں تعمیر ہونے والی ایک مسجد کو عطیہ کردی۔‘‘ سرتاج نے کہا۔
’’پھر تم جہادی تنظیم میں کیسے آئے؟‘‘ برہان نے پوچھا۔
’’مذہب سے لگاؤ اور انڈین فوج کا مسلمان کشمیریوں پر ظلم اس کی وجہ بنے ‘ میں کشمیر میں ہونے والے انڈین فوج کے ظلم و تشدد سے پریشان اور فکر مند تھا کہ میری ملاقات عادل شیخ سے ہوگئی وہ حزب المجاہدین میں ایک رضاکار تھا اور سیمنٹ کی ایک کمپنی سے وابستہ تھا میں ٹرکوں پر سیمنٹ لوڈ کرتا تھا وہیں میری اس سے ملاقات ہوئی اور اس کے ذریعے میں حزب المجاہدین میں شامل ہوا میرا اور اس کا ساتھ بہت کم عرصے رہا کیونکہ وہ انڈین آرمی سے ہونے والی ایک جھڑپ کے دوران شہید ہوگیا۔‘‘ سرتاج نے ٹھنڈی سانس لیتے ہوئے کہا۔
’’اور پرویز تم؟ تمہاری کیا کہانی ہے؟‘‘ برہان نے پوچھا۔
’’میری کہانی بہت مختصر ہے میں اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا تھا میرے والدین ایک حادثے میں ہلاک ہوگئے تھے میں تنہا زندگی گزار رہا تھا اپنے رشتہ داروں کے ساتھ میں نے محسوس کیا کہ میں ان پر بوجھ ہوں دل میں مذہب سے محبت اور جہاد کا شوق تھا تو میں نے اپنی بے مقصد زندگی کو ایک مقصد دے دیا اور حزب المجاہدین میں شمولیت کرلی اب میں خوش ہوں۔‘‘ پرویز نے کہا۔
ان باتوں کے دوران برہان نے رات کو کشمیریوں کی رہائی پر جو ویڈیو بنائی تھی وہ انٹرنیٹ سوشل میڈیا پر شیئر کردی تھی۔
’’لو دیکھو میں نے ویڈیو اپ لوڈ کردی ہے۔‘‘ برہان نے اپنا موبائل پرویز کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔
’’حیرت کی بات ہے برہان کہ کشمیر یوں کو آزاد کروانے میں عام لوگوں نے بھی ہمارا ساتھ دیا۔‘‘ پرویز نے کہا۔
’’ویسے ‘ اس ویڈیو میں ہماری پوری کارروائی دکھائی گئی ہے کہ ہم نے کس طرح کشمیر یوں کو چھڑوایا اور اس کی مدد سے انڈنیز کو ہمارا کارروائی کا طریقہ پتہ چل جائے گا اور آئندہ وہ ان معلومات کو ہمارے خلاف استعمال کریں گے۔‘‘ سرتاج نے اپنا خیال ظاہر کیا۔
’’یہ ممکن ہی نہیں ہے ہم اپنا طریقہ کار بدلتے رہتے ہیں۔‘‘ برہان نے جواب دیا۔
’’انڈین آرمی ہمیں نشانہ بنانے میں کئی بار ناکام ہوچکی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ عوام ہمارے ساتھ ہیں۔‘‘ پرویز نے کہا۔
’’ہاں کیونکہ ہم کشمیر کے عام آدمی کی لڑائی لڑ رہے ہیں۔‘‘ برہان نے جواب دیا۔
برہان کی ویڈیو میڈیا پر نشر ہونے کے ساتھ ساتھ ہر طرف کھلبلی سی مچ گئی تھی۔خاص طور سے انڈین ٹی وی چینلز نے اسے بہت اہمیت دی تھی اور بار بار دکھایا تھا پھر اس ویڈیو پر مختلف سیاسی اور حکومتی شخصیات کے تاثرات میں پیش کئے تھے اور برہان اور اس کے ساتھی خوش تھے کہ وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوگئے ہیں۔
’’برہان ! تمہار ا آئیڈیا زبردست ہے دیکھو بھارتی حکومت کشمیر میں بین الاقوامی میڈیا کو بھی آنے کی اجازت نہیں دیتی ہے اور یہاں جو بھی کارروائی ہوتی ہے وہ اسے اپنے نقطہ نظر کے حساب سے نشر کرتی ہے ہم کشمیر یوں کی فریاد کوئی بھی نہیں سنتا لیکن اب انٹرنیشنل میڈیا پر بھی انٹرنیٹ کے ذریعے ہماری آواز پہنچ رہی ہے اور دنیا کو ہماری مشکلات اور مسائل کا پتہ چل رہا ہے اب انشاء اﷲ ضرور ہمارے مقصد کو فتح نصیب ہوگی۔‘‘ سرتاج نے برہان سے کہا۔
’’ہاں! اب کل میں ایک اور ویڈیو اپ لوڈ کروں گا۔‘‘ برہان نے کہا۔
’’اب کونسی ویڈیو اپ لوڈ کرو گے؟‘‘ پرویز نے پوچھا۔
’’وہ ایک پیغام ہوگا انڈین حکومت کے لیے اور سکھ یاتریوں کے لیے جو ہمارے علاقے میں اپنی مذہبی رسومات ادا کرنے آتے ہیں ۔‘‘ برہان نے جواب دیا۔
’’لیکن برہان اس میں خطرہ بھی ہوسکتا ہے وہ تمہاری آئی ڈی سے تمہاری لوکیشن معلوم کرلیں گے اور تم تک پہنچ جائیں گے۔‘‘ سرتاج نے بتایا۔
’’میں جانتا ہوں مگر یہ ویڈیو میں ایک نئے اکاؤنٹ اور نئی لوکیشن سے اپ لوڈ کروں گا۔‘‘ برہان کے جواب دیا۔
’’تم نے سوچا تو خوب ہے برہان جسے حالات اور دشمن کا سامنا ہو اس سے اس ہی کے معیار پر جا کر لڑنا پڑتا ہے انڈین حکومت کے پاس سارا میڈیا ہے وہ اپنا موقف پوری دینا کے سامنے کھل کر بیان کرتے ہیں لیکن ہمارے مسائل اور ہمارے حقوق کے بارے میں کوئی بھی نہیں جانتا۔‘‘ پرویز نے کہا اس وقت ایک مجاہد خیمے میں داخل ہوا۔
’’برہان ! تمہیں کمانڈو عاطف نے بلایا ہے۔‘‘ اس نے کہا تو برہان فوراً کھڑا ہوگیا۔
’’چلو۔‘‘ اس نے آگے بڑھتے ہوئے کہا آنے والا مجاہد بھی اس کے ساتھ ہی شیلٹر سے نکل گیا تھا۔
برہان دوسرے شیلٹر میں کمانڈو عاطف کے سامنے کھڑا تھا اور کمانڈو بغور اس کا جائزہ لے رہا تھا اسے برہان کی بہادری پر ناز تھا لیکن وہ ہمیشہ اسے محتاط رہنے کی ہدایت کرتا تھا۔
’’برہان! تم نے کشمیریوں کی رہائی کی جو ویڈیو انٹرنیٹ پر ڈالی ہے وہ زبردست ہے پہلے میں نے تمہیں اس کام سے منع کیا تھا لیکن میرے خیال میں اپنی بات دنیا تک پہنچانے کے لیے یہ طریقہ بہترین ہے میں نے ابھی ویڈیو دیکھی ہے ساتھ ہی انڈین میڈیا میں ہلچل مچ گئی ہے وہ گھبراگئے ہیں میرا خیال ہے کہ تم اور تمہارے چند ساتھی مل کر مجاہدین کے لیے اس شعبے میں مزید کام کرو۔‘‘
’’جی کمانڈر میںکل ایک اور ویڈیو اپ لوڈ کروں گا۔‘‘
’’کونسی؟‘‘
’’وہ بھارتی گورنمنٹ اور سکھ یاتریوں کے لیے ہوگی جس میں سکھ یاتریوں کو اپنی مذہبی رسومات کشمیر میں آکر ادا کرنے کی کھلے دل سے اجازت دوں گا تاکہ ساری دنیا کو پتہ چلے کہ ہم مذہب یا انسانیت کے دشمن نہیں ہیں بلکہ بھارت سے صرف اپنے انسانی حقوق مانگتے ہیں۔‘‘
’’ٹھیک ہے…اب چونکہ بحیثیت کمانڈر میں تمہیں اس کام کو باقاعدہ کرنے کی اجازت دے رہا ہوں چنانچہ تم کوئی بھی ویڈیو اپ لوڈ کرنے سے پہلے مجھے دکھاؤ گے اور مجھ سے اس کے بارے میں تفصیل سے بات کرو گے اس سے ہماری جدوجہد آزادی میں تیزی آئے گی اور دشمن پریشان ہوجائے گا اور ہمارے ملکی اور غیر ملکی ساتھیوں کو بھی کشمیر کی صحیح صورت حال کا اندازہ ہوگا۔ ‘‘
تم چند مجاہدین کا گروپ بنالو جو اس کام سے واقف ہو اور تمہاری مدد کرسکیں تم اس گروپ کے کمانڈر ہوگے مجھے امید ہے کہ تم محتاط طریقے سے کام کرو گے۔‘‘
’’اوکے کمانڈر۔‘‘برہان نے کہا۔
’’بیسٹ آف لک۔‘‘ کمانڈر نے کہا اور برہان وہاں سے رخصت ہوگیا۔واپس اپنے شیلٹر میں آکر برہان نے اپنے ساتھیوں کو خوش خبری سنائی تھی اور سرتاج اور پرویز کو بھی اس کام میں شامل کرلیا تھا اس نے تین اور مجاہدین کے نام بھی منتخب کئے تھے اور چھ مجاہدین کا یہ گروپ برہان کی سربراہی میں کام کرنے لگا تھا۔
برہان اور اس کے گروپ کے مجاہدین کشمیر کے جنوبی پہاڑی سلسلے میں ایک مخصوص علاقے میں ہی کارروائیاں کرتے تھے یہ علاقہ 135کلومیٹر اور 32کلومیٹر چوڑا تھا اور جنوبی کشمیر کے چار ڈسٹرکٹ پر مشتمل تھا اور انہیں یہاں کے لوگوں کی حمایت حاصل تھی۔
جب اس نے اگلی ویڈیو اپ لوڈ کی تو وہ اپنے گروپ کا کمانڈر بن چکاتھا اس ویڈیو میں اس نے مجاہدین کی طرف سے کشمیر آنے والے امرناتھ یاتریوں کو یقین دلایا کہ ان پر مجاہدین کی طرف سے حملے نہیں کئے جائیں گے جب کہ اس نے Saicnik Coloniesپر حملوں کی دھمکی دی کیونکہ اس کو یقین تھا کہ اس سے وادی میں اسرائیل کی پالیسی بدل جائے گی اس نے کشمیری پنڈتوں کے لیے الگ کالونی کی بھی مخالفت کی اس نے کہا کہ وہ چاہیں تو یہاں آسکتے ہیں لیکن اسرائیلی پالیسی یہاں نہیں چلے گی اس نے کہا کہ فوجیوں کے خلاف مزید حملے بھی کئے جائیں گے او رپولیس کو الگ رہنے کی ہدایت کی اس نے کشمیریوں کو مجاہدین میں شمولیت کی دعوت بھی دی جب کہ اس پر کسی حملے میں شرکت کا الزام نہیں ہے لیکن اس جدوجہد آزادی کاماسٹر مائنڈ کہاجاتا ہے۔
‘…‘…‘…‘
مظفروانی کے سیدھے پیر کے گھٹنے پر پٹی بندھی ہوئی تھی وہ کمرے میں پلنگ پر لیٹا تھا اس کے سامنے کی دیوار کے قریب ٹی وی رکھا تھا کمرے میں ایک چٹائی بچھی تھی جس پر ارم اور اس کے چھوٹے بھائی بیٹھے تھے اور میمونہ قریب رکھی ایک کرسی پر بیٹھی تھی انہوں نے ٹی وی سے نشتر ہونے والی برہان کی ویڈیو ابھی دیکھی تھی اور اب خبریں سن رہے تھے ان خبروں میں بھی اس ویڈیو کا ذکر تھا اور مختلف لوگوں کی اس ویڈیو کے بارے میں آراء بتائی جارہی تھیں سب بہت غور سے خبریں سن رہے تھے۔
’’برہان نے حال ہی میں فیس بک پر مجاہدین کے لباس میں اپنی تصویریں اپ لوڈ کرنا شروع کی تھیں اور اسے شہرت حاصل ہوگئی تھی وہ اسمارٹ ہے خوبصورت ہے وہ جلد ہی لوگوں میں مقبول ہوگیا اور اسے عوام میں پذیرائی حاصل ہوئی وہ ایک نوجوان مجاہد کے طورپر ابھر رہا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت ہے تو اسے پاکستان کا حصہ ہونا چاہئے عرف عام میں اسے دہشت گردوں کے پوسٹر بوائے سے تشبیہ دی جارہی ہے۔‘‘
نیوز اینکر خبریں پڑھ رہاتھا اور سب ہمہ تن گوش تھے کہ اچانک دروازے پر زور زور سے دستک ہوئی میمونہ دوڑ کر دروازہ کھولنے گئی بچے سہم گئے چند ہی لمحوں بعد جب میمونہ کمرے میں داخل ہوئی تو دو بھارتی پولیس افسر اس کے ساتھ تھے جو گھر میں ادھر ادھر جائزہ لے رہے تھے۔
’’ہمیں اطلاع ملی ہے کہ وہ ادھر ہی آیا ہے۔‘‘ایک پولیس افسر نے کہا۔
’’نہیں وہ یہاں نہیں ہے۔‘‘میمونہ نے جواب دیا۔
’’تو پھر کہاں ہے؟‘‘ پویس والا غصے سے دہاڑا جب کہ دوسرے پولیس افسر نے مظفر وانی کو بازوئوں سے پکڑ کرکھڑا کردیا تھا اور وہ زخم کی تکلیف سے کراہ رہا تھا۔
’’تمہیں ہمارے ساتھ تھانے چلناہوگا۔‘‘پولیس افسر نے کہا۔
’’کیوں؟ہمارا کیا قصور ہے؟‘‘ میمونہ چیخی۔
’’تمہارا یہ قصور ہے کہ تم نے آتنک وادیوں کو جنم دیا ہے تمہارا بڑا بیٹا بھی دہشت گرد تھا اور چھوٹا بھی دہشت گرد ہے۔‘‘پولیس افسر نے کہا۔
’’یہ جھوٹ ہے۔‘‘مظفر وانی بولا۔
’’تم تو چپ ہی رہو ابھی تمہیں سزا نہیں ملی…اب تمہارا وہ حشر کریں گے کہ تم سب سچ سچ اگل دو گے۔‘‘
’’ہم اس کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتے۔‘‘مظفر وانی نے کہا۔
’’یہ سب تھانے میں جاکر کہنا۔‘‘ پولیس افسر نے کہا اور مظفر وانی کو دھکے دیتا ہوا گھر سے باہر لے گیا میمونہ اور بچے چیختے رہ گئے تھے لیکن ان لوگوں نے ایک نہ سنی تھی۔
تھانے میں انسپکٹر ایک جلاد کی طرح کرسی پر براجمان تھا اس کے چہرے سے رعونت ٹپک رہی تھی اس کے دونوں طرف دو پولیس افسر الرٹ کھڑے تھے اور اس کے سامنے رکھی کرسیوں پر چند کشمیری مسلمان بیٹھے تھے جنہیں مظفر وانی ہی کی طرح پکڑ کر وہاں لایا گیا تھا۔
’’سیدھے کھڑے ہوجائو۔‘‘ انسپکٹر کے قریب کھڑے پولیس افسر نے مظفر وانی سے چیخ کرکہا جو گھٹنے کے زخم کی تکلیف کے باعث لڑکھڑا رہا تھا تو وہ سیدھے کھڑے ہونے کی ناکام کوشش کرنے لگا۔
’’بتائو تمہارا بیٹا برہان کہاں ہے؟اس نے تو آج کل سوشل میڈیا پر اودھم مچا رکھا ہے۔‘‘انسپکٹر نے حقارت سے کہا۔
’’میں نہیں جانتا انسپکٹر صاحب آپ کو پتہ ہے کہ وہ گھرپر نہیں ہوتا۔‘‘
’’ہاں اور ہمیں یہ بھی پتہ ہے کہ وہ کن لوگوں سے ملا ہوا ہے اس کا تعلق آتنک وادیوں سے ہے وہ آج کل سوشل میڈیا پر ناپسندیدہ ویڈیوز لگارہا ہے۔‘‘
’’میرا بیٹا کشمیری مسلمانوں کی آزادی کی جنگ لڑرہاہے وہ مجاہد ہے اور اس کا کوئی بھی ایک ٹھکانہ نہیں۔‘‘مظفر وانی نے کہا۔
’’ہاں وہ ٹھکانے بدلتا رہتا ہے ہر ویڈیو وہ ایک نئی لوکیشن سے اپ لوڈ کرتاہے۔‘‘انسپکٹر نے کہا۔
’’میں یہ سب نہیں جانتا لیکن اتنا ضرور جانتا ہوں کہ اس نے آج تک کسی کی جان نہیں لی وہ بے قصور ہے۔‘‘
’’ہاں بے قصور ہے…علاقے میں دہشت گردی کرتا ہے پولیس کو دھمکی دیتا ہے اور بے قصور ہے۔‘‘
’’آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے۔‘‘وانی نے کہا۔
’’غلط فہمی؟یہ جو تمہارے پانچ چھ ساتھی بیٹھے ہیں یہ بھی غلط فہمی کی بنا پر یہاں لائے گئے ہیں تم سب اپنے بیٹوں کو کشمیری آتنک وادیوں میں شامل کرنے بھیج دیتے ہو اور پھر معصوم بن کر کہتے ہو کہ تمہیں نہیں پتہ کہ وہ کہاں ہے۔‘‘انسپکٹر کی غصے کی کیفیت میں اضافہ ہوتا جارہا تھا اور وہ میز پر ہاتھ مارمارکر بات کررہا تھا۔
’’جب تمہارے چھتر پڑیں گے تب سب یاد آجائے گا۔‘‘ اس نے چیخ کرکہا۔
’’یہ مت سمجھنا کہ تمہارے یا تمہاری اولادوں کے ساتھ کوئی رعایت برتی جائے گی پھر تمہاری کھالیں کھینچ لیں گے اور وہ تمہارے بہادر آتنک وادی وہ بھی مارے جائیں گے ہم نے ان کے گرد گھیرا تنگ کرلیا ہے۔‘‘
’’اللہ ان کا حامی وناصر ہو۔‘‘ مظفروانی نے کہا۔ ’’اگر میرا بیٹا مارا گیاتو مرنے والا وہ پہلا فرد نہیں ہوگا اس سے پہلے بھی کشمیر کے لیے بہت سے بیٹوں نے جان دی ہے اگر وہ اپنے اپنے لوگوں کی عزت کی رکھوالی کرتے ہوئے مارا گیاتو وہ شہید ہوگا۔‘‘مظفر وانی نے کہا اور انسپکٹر جھنجلا کر کھڑا ہوگیا۔
’’انہیں سب کو لاک اپ میں ڈالو دو دن میں سب بک دیں گے۔‘‘ اس نے غصے سے کہا اورکمرے سے نکل گیا کمرے میں موجوددوسرے پولیس افسروں نے وہاں کے سارے کشمیریوں کو لاک اپ میں ڈال دیا تھا۔
‘…‘…‘…‘
داد سارہ کے گائوں کے ایک چھوٹے سے گرائونڈ میں لوگ دائرے کی شکل میں جمع تھے اور چند کشمیری بچے اس دائرے کے درمیان میں ایک کھیل میں مصروف تھے آج کل کشمیر میں یہ کھیل بہت مقبول ہورہا تھا کشمیری بچوں میں سے کچھ انڈین فوجیوں کا روپ دھارتے اور ان میں سے ایک برہان وانی بن جاتا باقی اس کے ساتھی اور پھر وہ ایک فرضی لڑائی کا منظر پیش کرتے تھے جس میں انڈین فوجی طرح طرح سے برہان اور اس کے ساتھیوں پر حملے کرتے اور وہ پینترے بدل بدل کے دشمن کا ہر وار ناکام بنا دیتے تھے ایسے کھیلوں میں برہان کو مرکزی حیثیت حاصل ہوتی تھی اور برہان بننے والے بچے کو خاصی داد ملتی تھی اس وقت بھی ایسا ہی ایک کھیل پیش کیا جارہاتھا بچوں کے ہاتھوں میں بندوقوں اور رائفلوں کی جگہ ڈنڈے اور لاٹھیاں تھیں اس مجمعے میں برہان بھی موجود تھا جو بھیس بدل کر وہاں آیا تھا وہ مقامی لباس میں تھا اس کے چہرے پر گھنی داڑھی تھی اس نے سر پر ایک چادر اوڑھی ہوئی تھی جس نے اسے پوری طرح سے ڈھانپ لیا تھا۔
’’پاکستان۔‘‘وانی کاکریکٹر کرنے والے بچے نے نعرہ لگایا۔
’’زندہ باد۔‘‘ اس کے دوسرے ساتھیوں نے نعرے کا جواب دیا اور انڈین فوجیوں کے کردار کرنے والے بچوں نے فرضی فائرنگ شروع کردی برہان کے کچھ ساتھی زمین پر یوں ڈھیر ہوگئے جیسے انہیں گولی لگی ہو اور انڈین فوجی بنے بچوں نے خوشی کا اظہار کیا اسی وقت برہان کا کردار کرنے والا بچہ آگے آیا اور ایک کشمیر ی جہادی نغمہ گانے لگا۔
کروتیار زاد براہ سوئے فردوس اے ہمدم
ہے رستہ پرخطر پھربھی سفر طے ہم کوکرنا ہے
جہاں سے اب تلک خون شہیداں کی مہک آئے
ہمیں پھر سے اسی پر خار گھاٹی سے گزرناہے
اٹھو دل میں جلانا ہے عزائم کے چراغوں کو
بس اب ہر ایک مسلم کو ہمیں بیدار کرناہے
جہاں سے اہل جنت کے سبھی تھے قافلے گزرے
اس میں پھر سے عزیمت کی انہی راہوں پرچلنا ہے
اٹھو اہل بدر اہل احد کے چاہنے والو
علم اب سربلند اپنا لتا کر جان کرنا ہے
بچہ زور زور سے جذبے کے ساتھ نغمہ پڑھ رہاتھا اور وہاں موجود لوگ داد دے رہے تھے برہان تعریفی نظروں سے بچوں کو دیکھ رہا تھا اسے امید ہوچلی تھی کہ کشمیر کا مستقبل تابناک ہے کیونکہ اب نسل در نسل اس کے جیالوں میں آزادی کا جذبہ منتقل ہوتا چلاآرہا ہے وہ خاموشی سے وہاں سے ہٹ گیاتھا اس کے دو ساتھی سرتاج اور پرویز بھی اسی کی طرح بھیس بدلے ہوئے کچھ فاصلے پر کھڑے تھے برہان آج وادی میں ایک شخص شیخ طاہر سے ملنے آیا تھا ملنے کا تو محض بہانہ تھا دراصل وہ اسے ایک چھوٹا سا سبق دینا چاہتا تھا شیخ طاہر انڈین آرمی کا مخبر تھا اوربرہان کو ایک دوست کی حیثیت سے بلا کر اس کا سمجھوتہ انڈین حکام سے کروانا چاہتا تھا لیکن یہ اس کی چال تھی جسے برہان سمجھ گیا تھا اس نے ایک ترکیب سوچی تھی اور سرتاج کے قریب جاکر سرگوشی کی تھی۔
’’سرتاج تم خود مت جانا گائوں کے کسی بچے سے کہو کہ شیخ طاہر کو جاکر بتائے کہ برہان دریائے جہلم میں لائف بوائے سے نہا رہا ہے وہاں جاکر اس سے مل لے یہ پیغام میرے نام سے ہی دیا جائے۔‘‘ برہان نے کہا تو سرتاج اثبات میں سرہلاتا ہوا وہاں سے روانہ ہوگیا تھا۔اور برہان وہاں سے پرویز کے ساتھ سداد کے ایک گھر کی طرف روانہ ہوگیاتھا جہاں اسے اپنی جان سے پیاری ایک ہستی سے ملنا تھا وہ گلناز تھی جو اس کے بچپن کی ساتھی تھی اس کے ساتھ بچپن گزارا تھا بے انتہا خوبصورت بہادر اور تعلیمی زیور سے آراستہ وہ ایک مقامی اسکول میں پڑھاتی تھی جب برہان اس کے گھر میں داخل ہواتو وہ کوئی کتاب پڑھنے میں مشغول تھی۔
’’اوہ برہان تم…یوں اچانک؟‘‘ اس نے حیرت سے پوچھا۔
’’ہاں میں اپنے والد کو دیکھنے آیا تھا ان کے گھٹنے میں بھارتی فوجی نے گولی مار دی ہے اور اب پولیس کی حراست میں ہیں وہ انہیں گھر سے اٹھا کر لے گئے ہیں صرف یہ پوچھ گچھ کرنے کے لیے کہ میں کہاں ہوں وہ ان سے میرا ٹھکانہ پوچھنا چاہتے ہیں جب کہ وہ میرے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتے۔‘‘
’’میرے لائق کوئی کام ہوتو بتائو۔‘‘گلناز نے کہا وہ بچپن ہی سے اسے پیار سے ہانی کہتی تھی۔
’’بس تم سے ملنے کو جی چاہ رہا تھا تو میں تم سے ملنے آگیا تمہاری امی کہاں ہیں؟‘‘ برہان نے پوچھا۔
’’وہ پڑوس میں گئی ہیں برابر کے گھر سے بھی ایک بچے کو بھارتی فوجی اٹھا کر لے گئے ہیں کہتے ہیں کہ اس کا تعلق دہشت گردوں سے ہے۔‘‘
’’یہ ہر مسلمان کو یہی کہتے ہیں اور اتنا تشدد کرتے ہیں کہ لوگ ان کے ظلم سے تنگ آکر غلط قدم اٹھا بیٹھتے ہیں۔‘‘برہان نے کہا۔
’’برہان کیا تمہیں کبھی میری یاد نہیں آئی؟کیا تم نے سوچا کہ ہماری کہانی کا انجام کیا ہوگا؟‘‘ گلناز نے پوچھا۔
’’تم جانتی ہو گلناز کہ میں تمہیں پسند کرتا ہوں تمہاری ذرا سی تکلیف پر تڑپ اٹھتا ہوں لیکن کشمیر کا جہاد میرے لیے زیادہ اہمیت رکھتا ہے میرا ملک آزاد ہوجائے توپھر اپنی ذاتی خوشیوں کی طرف سے بھی دیکھوں گا۔‘‘
’’میں تمہارا ساتھ دینے کے لیے تیار ہوں جہادی تنظیموں میں خواتین بھی توہیں۔‘‘گلناز نے کہا۔
’’ہاں میں جانتا ہوں لیکن ابھی نہیں…وقت آنے پر دیکھا جائے گا۔‘‘
’’تم ہمیشہ یہی کہہ کر بات کاٹ دیتے ہو۔‘‘
’’میں کیا کروں گلناز…تم جانتی ہو میں خود بھی جنگ کو پسند نہیں کرتا چنانچہ میں نے بھی لڑنے کا اپنا طریقہ ایجاد کیا ہے میں دشمن سے اس کے طریقے سے ہی لڑرہا ہوں میں نے سوشل میڈیا کو ہتھیار بنایا ہے۔‘‘برہان نے کہا۔
’’اللہ تعالیٰ تمہیں اس نیک مقصد میں کامیاب کرے۔‘‘گلناز نے کہا کچھ دیر بعد دروازے پر دستک ہوئی تھی اور سرتاج نے آکربتایاتھا کہ اس نے شیخ طاہر کو برہان کا پیغام پہنچا دیا تھا اور دریائے جہلم پر جس جگہ برہان نے بتایاتھا لائف بوائے صابن کی درجن بھرٹکیاں ڈال کر آگیا تھا یہ برہان کا شیخ طاہر کے ساتھ ایک مذاق تھا اس سے برہان ان کے چنگل میںپھنسنے سے بھی بچ گیا تھا اور انہیں یہ احساس بھی دلادیا تھا کہ ان کے آس پاس ہی موجود ہے وہ جب چاہے وہاں آسکتا ہے اور جب چاہے جاسکتا ہے۔‘‘
’’پھر کب آئوگے ہانی!‘‘ گلناز نے برہان کے رخصت ہوتے وقت اس سے پوچھا۔
’’کچھ نہیں کہہ سکتا ہم پر بلاوجہ آبادی میں آنے جانے پر پابندی ہے پھر کوئی موقع ملا تو ضرور آئوں گا اپنا خیال رکھنا۔‘‘ برہان نے اسے پیار بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا۔
’’میں جانتی ہوں ہانی سوشل میڈیا پر تم بہت مقبول ہو اور ہزاروں کشمیری لڑکیوں کے دل کی دھڑکن ہو وہ تمہارے حسن اور تمہاری بہادری سے بہت متاثر ہیں تمہارے نام کو اپنے خون سے اپنی کلائیوں پر لکھتی ہیں وہ تمہیں پانے کے لیے کچھ بھی کرسکتی ہیں حسین ہیں دولت مند ہیں اور میں… میں تو ۔‘‘ اس نے بات ادھوری چھوڑ دی تھی اور اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے برہان نے جلدی سے اپنا ہاتھ اس کے منہ پر رکھ دیا۔
’’ایسی باتیں مت کرو گلناز تم جانتی ہو میں کتنے مضبوط ارادے کا مالک ہوں میں وقتی تبدیلیوں سے متاثر نہیں ہوتا میرے دل میں تمہارے علاوہ کبھی کسی اور کا خیال نہیں آیا اور نہ آئے گا۔‘‘
’’اللہ تمہارا مدد گار ہو۔‘‘گلناز نے اپنی آنکھیں پونچھتے ہوئے کہا۔
’’گلناز سے رخصت ہونے کے بعد برہان نے اپنے ساتھیوں سرتاج اور پرویز کو کچھ ہدایات دی تھیں جو کشمیریوں کی رہائی کے لیے تھیں جنہیں کشمیری پولیس نے پوچھ گچھ کے لیے تھانے میں بند کیا ہوا تھا اور خود واپس اپنے پہاڑی مورچوں کی طرف چلا گیا تھا اس شام مجاہدین کی پولیس سے جھڑپ ہوئی تھی دو پویس والے اور تین مجاہدین مارے گئے تھے اور حکومت کی طرف سے یہ خبر نشر کی گئی تھی کہ برہان وانی اپنے ساتھیوں کے ساتھ مارا گیا جب کہ برہان اپنے ٹریننگ کیمپ میں موجود تھا اس خبر کے نشر ہونے کے فوراً بعد برہان نے سوشل میڈیاپر ایک ویڈیو لگائی تھی جس میں وہ ایک الائو روشن کئے اس کے گرد اپنے ساتھیوں کے ساتھ بیٹھا خوش گپیوں میں مصروف تھا 6منٹ کی اس ویڈیو میں اسے اپنے ساتھیوں کے ساتھ کرکٹ کھیلتے اور ٹریننگ لیتے بھی دکھایا گیا تھا اس کے آخر میں برہان وانی کا بیان تھا جس میں اس نے انڈین فورسز کو تنبیہ کی تھی۔
’’تمام وردی والے ہمارے نشانے پر ہیں ہم نے کہا تھا کہ ہمارے خلاف کارروائی نہ کریں لیکن وہ کررہے ہیں اور ہمارے ساتھیوں کو نشانہ بنا رہے ہیں چنانچہ اب جو بھی ایسا کرے گا تو اس کے خلاف کارروائی ہوگی اگر انہیںاپنی جان پیاری ہے تو اپنی ڈیوٹی اپنے کیمپوں میں کریں سڑکوں پر نہ آئیں اور نہ ہی عوام کو پریشان کریں ورنہ ان کے ساتھ جوہوگا اس کی ذمہ داری ان پر ہی ہوگی۔‘‘
اس واقعے کے بعد مجاہدین کی طرف سے کئی بار انڈین آرمی پر حملے کئے گئے ہر بار کے حملوں میں برہان کا نام سر فہرست ہوتا تھا پھر آرمی نے اس کے ساتھیوں کو نشانہ بنانا شروع کردیا ان کے دوستوں کو بھی چیک کیا جارہاتھا ان کی نگرانی ہورہی تھی اور ان کے گرد گھیرا تنگ کیا جارہا تھا برہان نے اپنا علاقہ چھوڑ کر کوکرناگ میں نیا ٹھکانہ بنالیا اور وہاں سے کارروائیاں کرنے لگا وہ ہر بار بچ جاتا تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ کشمیر کے عوام اس کے ساتھ تھے اور وہ اسے موقع سے فرار کرنے میں اس کا ساتھ دیتے تھے وہ کارروائی کرکے بڑے آرام سے وہاں سے غائب ہوجاتا تھا اور پھر سوشل میڈیا پر اس واقعے سے متعلق ویڈیو بھی اپ لوڈ کردیتا تھا جس سے انڈین حکومت بھی پریشان تھی بائیس سال کا یہ نوجوان کشمیر میں جدوجہد آزادی کا نشان بن چکا تھا وہ جنگل ہی میں رہتے ہوئے اپنے گروپ کی کمانڈ سنبھالتا تھا۔ ان واقعات کے بعد برہان وانی کے سرپر ایک ملین کا انعام رکھا گیا تھا اور اس کے گرد گھیرا تنگ کیا جانے لگا اس کی پل پل کی خبر رکھی جانے لگی اور اس کے موبائل کوٹریس کیا جانے لگا انہی سارے حالات میں وہ اپنا مشن بھی پورا کررہا تھا جولائی کے مہینے میں اس نے اپنی آخری ویڈیو اپ لوڈ کی وہ نہیں جانتاتھا کہ یہ اس کی آخری ویڈیو ثابت ہوگی اس میں اس نے براہ راست انڈین فوج کو حالات کا ذمہ دار قرار دیا۔
’’ہماری آواز اور جدوجہد کو دبانے کے لیے بھارت اپنی کوششیں کررہا ہے اللہ کے کرم اور کشمیریوں کی دعائوں سے انہیں منہ کی کھانی پڑی ہے ہمیں آئندہ بھی آپ کی مدد کی ضرورت ہے ہم نوجوانوں کوپیغام دیتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آئیں یا ہمارے ساتھی کسی طرح تعاون کریں اور دنیا اور آخرت کی بھلائی حاصل کریں قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔
وہ چند لمحے کے لیے رکا اورپھر بولنے لگا۔
’’اے ایمان والو کیا میں تمہیں ایسی تجارت نہ بتائوں جو تمہیں دنیا اور آخرت کے عذاب سے نجات دے اور وہ یہ ہے کہ تم اللہ پر‘ اللہ کے رسولﷺ ایمان لائو اور اللہ کے لیے جہاد کرو اپنے گھر بار عزیزوں مائوں بیٹیوں کو چھوڑکر اس میدان میں آئو تاکہ ہماری مائوں بہنوں کی عزت قائم رہے اور کشمیر میں خلافت کا نظام قائم ہو۔ ہم لوگوں سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہندوستان کا مکمل بائیکاٹ کریں ہم کشمیری بھائیوں کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے ہمارا ساتھ دیا ہم علماء سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ کشمیر کی موجودہ صورت حال کو درست طریقے سے دنیا تک پہنچائیں انہیں بتائیں کہ ہم کن حالات میں رہ رہے ہیں اورہماری کیا ذمہ داری ہے۔‘‘
’’ہم کشمیر کے ان نوجوانوں سے کہنا چاہتے ہیں جو بھارتی فوجیوں کے مخبر بنے ہوئے ہیں کہ اگر ہم چاہیں تو ہم بھی انہیں بے سکون کرسکتے ہیں لیکن ہم ان کے لیے عام معافی کا اعلان کرتے ہیں ہمارا کہنا ہے کہ ہم ایک ملک کے رہنے والے ہیں ایک اللہ اور ایک رسولﷺ اور ایک قرآن کے ماننے والے ہیں ہم ایسا کوئی قدم نہیں اٹھائیں گے جس سے ان کے گھر والوں کوکوئی نقصان پہنچے بلکہ ہم اپنی مائوں بہنوں کی طرح ان کی مائوں بہنوں کی بھی حفاظت کریں گے۔‘‘
آخر میں میں کہنا چاہتا ہوں کہ حق ضرور باطل کو ہرا دے گا اور اللہ کی مد د سے کشمیر کے نوجوان ضرور کامیاب ہوں گے ہمارے خون سے اسلام کو سربلندی ملتی رہے گی انشاء اللہ تعالیٰ۔‘‘
جس شام برہان نے یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کی اسی رات شیخ طاہر کی طرف سے ایک پیغامبر اس کے پاس آیا اور اس کو اطلاع دی کہ اس کے والد کی حالت بہت نازک ہے وہ چند لمحوں کے مہمان ہیں ان کی ٹانگ میں لگنے والی گولی نے ٹانگ کو بے کارکردیا ہے اور زہر پورے جسم میں پھیل چکا ہے۔ آنے والے نے اپنا تعارف ایک عام کشمیری کی حیثیت سے کرایا اور خود کو برہان کا ہمدرد ظاہر کیا۔
’’ٹھیک ہے میں کل کسی وقت آئوں گا۔‘‘ برہان نے جواب دیا اور وہ شخص واپس چلا گیا دوسرے دن برہان اپنے دونوں قریبی ساتھی سرتاج اور احمد اور پرویز ہاشمی کے ساتھ اپنے گھرپہنچا اس کی باقاعدہ نگرانی کی جارہی تھی لیکن اسے اس بات کا علم نہیں تھا اس کی ماں اسے دیکھ کر خوشی سے دیوانی ہوگئی تھی۔
’’میرا بیٹا…میرا سوہنا بیٹا۔‘‘ اس نے خوشی سے کہا اوربرہان اپنی ماں سے گلے ملا اس کے دونوں ساتھی اس کے گھر سے تھوڑے فاصلے پر اطراف پر نظر رکھے ہوئے تھے کچھ ہی فاصلے پر انڈین سیکورٹی فورسز کے لوگ سادہ کپڑوں میں موجود تھے اور عام شہریوں کی طرح مختلف کاموں میں مشغول تھے۔
’’آئو برہان بیٹھو تم کافی دن بعد آئے ہو؟کیسے ہو؟‘‘ اس کی ماں نے اسے پیار سے ایک پلنگ پر بٹھاتے ہوئے کہا۔
’’کچھ کھائو گے میں تمہارے لیے کچھ بناتی ہوں۔‘‘وہ کچن کی طرف بڑھی۔
’’نہیں نہیں اس کی ضرورت نہیں ہے میں تھوڑی دیر کے لیے آیا ہوں ابو کی خیریت پتہ کرنے کے لیے مجھے اطلاع ملی ہے کہ ان کی حالت ٹھیک نہیں ہے۔‘‘
’’نہیں وہ تو ٹھیک ہیں۔‘‘اس کی والدہ نے کہا۔
’’اس زخم کا کیا ہواجوان کے گھٹنے پرگولی سے لگا تھا؟‘‘برہان نے پوچھا۔
’’وہ تو ٹھیک ہے۔‘‘ڈاکٹر نے کہا ہے کہ اب مزید پٹیوں کی بھی ضرورت نہیں ہے۔‘‘
’’ابو کہاں ہیں؟‘‘
’’وہ اندرکمرے میں ہیں۔‘‘والدہ کے جواب کے پورا ہونے سے پہلے ہی برہان کمرے کی طرف برھ گیا تھا۔
’’ابو …ابو۔‘‘وہ آوازیں دیتا ہوا ان کے کمرے میں داخل ہوا۔
’’ہاں برہان۔‘‘ اس کے والد اسے دیکھ کر پلنگ پر بیٹھ گئے۔
’’آپ کی طبیعت کیسی ہے؟‘‘اس نے پوچھا۔
’’میں ٹھیک ہوں…کیوں……تم اتنے کیوں پریشان ہو؟‘‘ اس کے والد نے پوچھا۔
’’کچھ نہیں…بس میں آپ کی خیریت پتہ کرنے آیا تھا۔‘‘ برہان نے جواب دیا۔
’’بیٹھو…میں ٹھیک ہوں۔‘‘ والد نے جواب دیا لیکن برہان نہیں بیٹھا وہ سوچ رہا تھا کہ اسے غلط بیانی کرکے بلایا گیا ہے ضرور یہ دشمن کی چال ہے اس کے سر پر بھی (ملین کا انعام ہے اس نے فیصلہ کیا اسے جلد از جلد یہاں سے واپس چلے جانا چائیے وہ کمرے سے نکل کر سیدھا دروازے کی طرف بڑھا۔
’’بیٹا! میں تمہارے لیے کھانا بنا رہی ہوں تم کہاں جارہے ہو؟‘‘ اس کی والدہ نے پوچھا۔
’’نہیں آپ کچھ نہ کریں میں پھر آؤں گا ابھی میں جلدی میں ہوں۔‘‘ برہان نے والدہ کے گلے لگنے ہوئے کہا۔
’’کیا بات ہے میرے بچے تو پریشان نظر آرہا ہے ؟‘‘ والدہ نے پوچھا۔
’’نہیں نہیں کچھ نہیں…میں ٹھیک ہوں بس ذرا جلدی میں ہوں پھر آئوں گا۔‘‘ برہان نے کہا اور دروازے کی طرف بڑھ گیا وہ بڑی عجلت میں وہاں سے باہر آیا تھا اور ایک مخصوص اشارہ کرکے سرتاج اور پرویز نے خطرے کا احساس دلایا تھا اور انہیں اپنے آپ سے دور رہنے کو کہا تھا وہ دونوں الگ الگ سمتوں میں آگے بڑھ گئے تھے اور برہان اپنے گھر سے نکل کر سیدھی شاہراہ پر آگیا تھا جہاں سے اس نے رکشہ کیا تھا اور رکشہ ڈرائیور کو کوکرناگ کے علاقے بمبدرو چلنے کو کہا تھا۔ سرتاج اور پرویز بھی ایک رکشے میں بیٹھ گئے تھے اور اپنا رکشہ برہان کے رکشے کے پیچھے پیچھے روانہ کروادیا تھا۔
‘…‘…‘…‘
وہ سات جولائی کی شام تھی جب برہان نے رکشا گلناز کے گھر کے سامنے رکوایا اس کا خیال تھا کہ گلنار کے بارے میں کوئی بھی نہیں جانتا تھا وہ وہاں ٹھہر کر اپنی اگلی کارروائی کا فیصلہ کرسکتا تھا سرتاج اور پرویز بھی اس کے ساتھ ہی وہاں پہنچے تھے اور پھر برہان کے ساتھ گلنار کے گھر میں داخل ہوگئے تھے برہان نے موبائل پر کسی کو فون کیا تھا کچھ ہی دیر میں کسی حادثے کے ہونے کے بعد شہر میں نوجوانوں نے پولیس اور آرمی کے لوگوں پر پتھراؤ شروع کردیا تھا پھر بمبدورا کے علاقے کو پولیس اور انڈین فورسز نے چاروں طرف سے گھیر لیا تھا اور کہا جارہا تھا کہ علاقے میں کسی کتاب کی تقریب رونمائی ہونا ہے جس میں چیف منسٹر محبوبہ مفتی کو شرکت کرنا ہے اس لیے شہر میں حفاظتی انتظامات کیے جارہے ہیں علاقے کو خالی کروالیا گیا تھا اور پھر سیکورٹی فورسز نے تمام اہم مقامات پر پوزیشن سنبھال لی تھی گلنا ر کے گھر کو بھی چاروں طرف سے گھیر لیا گیا تھا۔
برہان کو جب اندازہ ہوا کہ ان لوگوں کو چاروں طرف سے گھیر لیا ہے تو اس نے وہاں سے بھاگنے کے بجائے خاموشی اختیا ر کی اور اپنے ذہن میں وہاں سے نکلنے کا کوئی نیا منصوبہ بنانے لگا وہ رات ایسے ہی گزر گئی ہر طرف خاموشی تھی کہیں قریب سے بھی کسی قسم کی آواز نہیں آرہی تھی یوں محسوس ہورہا تھا کہ سب خواب غفلت کے مزے لے رہے ہیں برہان نے یہ موقع غنیمت جانا اور وہاں سے نکلنے کا ارادہ کیا۔
اس وقت باہر جانا خطرنا ک ہے ۔‘‘ گلناز نے اسے سمجھایا۔
’’نہیں یہی موقع مناسب ہے اور دن چڑھ گیا تو فوجی گھر میں گھس جائیں گے اور میں نہیں چاہتا کہ تمہاری عزت پر حرف آئے۔‘‘ برہان نے اسے سمجھایا۔
’’میں اپنی جان بھی تم پر قربان کرسکتی ہوں تم امتحان لے کر تو دیکھو۔‘‘ گلنار نے کہا۔
’’مجھے معلوم ہے لیکن تمہاری جان بہت قیمتی ہے۔‘‘
’’اور تمہاری جان؟ تم تو کشمیر کی جدوجہد آزادی کے ہیرو ہو۔‘‘ گلنار نے کہا۔
’’لیکن تمہیں ایک اور اہم کام کرنا ہے گلناز۔‘‘ برہان نے کہا۔
’’وہ کیا…تم جو کہو گے میں کروں گی۔‘‘ گلنار نے کہا۔
’’اگر مجھے کچھ ہوجائے…‘‘
’’اﷲ نہ کرے ۔‘‘ گلنار نے جلدی سے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا۔
’’میر ی بات غور سے سنو۔‘‘ برہان نے اس کا ہاتھ ہٹاتے ہوئے کہا۔
’’دیکھو جو صورت حال ہے وہ خطر ناک ہے ہمیں چاروں طرف سے گھیر لیا گیا ہے ۔ ہم صرف تین ہیں اور ہمارے پاس ہتھیار بھی ناکافی ہیں اور ہمارے مقابلے پر انڈین سیکورٹی فورسز اور پولیس کے حکام ہیں جن کی تعداد یقینا سیکڑوں میں ہوگی۔‘‘
’’اوہ میرے خدا…میں کیا کروں؟‘‘ گلنار پریشان ہوگئی۔
’’اس وقت ہمت کرنے کی ضرورت ہے میں جو کہہ رہا ہوں وہ غور سے سنو۔‘‘ برہان نے گلناز کا چہرہ ہاتھ میں لیتے ہوئے کہا اور وہ رونے لگی۔
’’اگر مجھے کچھ ہوجائے تو تم کسی کشمیری مجاہد سے ہی شادی کرو گی اور تمہارے جو بچے ہوں گے انہیں کشمیر کی آزادی کی جدوجہد میںحصہ لینے کے لیے وقف کردو گی خدا کو گواہ جان کر وعدہ کرو۔‘‘
’’میں خدا کو گواہ بنا کر وعدہ کرتی ہوں لیکن ساتھ ہی میں دعا بھی کرتی ہوں کہ اﷲ تمہاری حفاظت کرے۔‘‘
’’اچھا اب ہم چلتے ہیں اس سے پہلے کہ دشمن ہوشیار ہوجائے۔‘‘ برہان نے کہا اور دروازے کی طرف بڑھا اس نے سرتاج اور پرویز کو بھی ساتھ آنے کا اشارہ کیا تھا۔
برہان نے دروازے سے سر نکال کر گلی کا دونوں طرف سے جائزہ لیا گلی سنسان پڑی تھی اور دور دور تک کوئی نظر نہیں آرہا تھا اس نے قدم باہر نکالا اور چند قدم آگے تک بڑھا اس کے پیچھے پیچھے سرتاج اور پرویز بھی نکلے وہ ابھی چند قدم ہی آگے گئے تھے کہ اچانک چاروں طرف سے فائرنگ ہونے لگی اور چار سے پانچ منٹ کے اندر اندر وہ لوگ زمین پر ڈھیر ہوگئے تھے فائرنگ کی آوازیں سن کر لوگ گھروں سے باہر آگئے تھے لیکن فوراً ہی فوج کی طرف سے کرفیو کا اعلان کردیا گیا تھا اور اس خبر کو چھپا دیا گیا تھا۔
آٹھ جولائی کو دوپہر کے وقت برہان وانی اور اس کے دونوں ساتھیوں کی موت کا اعلان کیا گیا تھا اور کشمیر کے پولیس ڈائریکٹر جنرل کے راجندر رائے نے برہان کی موت کی تصدیق کی تھی اور عوام کو بتایا گیا کہ پولیس اور برہان کے درمیان ہونے والے ایک پولیس مقابلے میں برہان اور اس کے ساتھی مارے گئے۔
اس اعلان کے ساتھ ہی شہر میں ہنگامے شروع ہوگئے تھے مجاہدین نے اپنے ساتھیوں کی لاشوں کو تحویل میں لے لیا تھا ۔ ہزاروں کی تعداد میں لوگ گھروں سے باہر آگئے تھے اندازاً وہاں دو لاکھ لوگوں کا مجمع تھا۔ تاریخ میں یہ سب سے بڑا مجمع تھا برہان اور دونوں ساتھیوں کے جسم پاکستانی پرچم میں لپیٹے گئے تھے اور اس کی تدفین اس کے بڑے بھائی خالد وانی کی قبر کے قریب ہی کی گئی تھی اس موقع پر مجاہدین بھی موجود تھے انہوں نے چہروں پر سیاہ نقابیں پہنی ہوئی تھیں اور برہان اور ساتھیوں کی لاشوں کو اکیس گنوں کی سلامی دی تھی۔
اس حادثے کے بعد ہی کشمیر میں ہڑتال کا اعلان کردیا گیا تھا علاقے میں پولیس اسٹیشن اور سیکورٹی فورسز پر حملے ہونے لگے لوگوں کے ہجوم کے ہجوم پولیس اور سیکورٹی فورسز پر پتھراؤ کرنے لگے اور بہت سے حصوں میں انٹرنیٹ سروس اور ٹرین سروس بند ہوگئی اور نیشنل ہائی وے بھی بند کردیا گیا۔
مشتعل مجمع نے اس گھر کو جلا دیا تھا جہاں یہ حادثہ پیش آیا تھا اور گلنار پہلے ہی وہاں سے کہیں چلی گئی تھی پھر شہر کے حالات خراب ہوتے چلے گئے اور پندرہ جولائی کو حکومت نے باقاعدہ کرفیو نافذ کردیا۔
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے لیڈر مظفر حسین بیگ نے مطالبہ کیا کہ برہان کے قتل کی تحقیقات کے لیے کمیشن بنایا جائے جب کہ انڈین حکومت کا کہنا ہے کہ یہ دہشت گردی کا ایک واقعہ ہے اس لیے کمیشن بٹھانے کی ضرورت نہیں جب کہ ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداﷲ نے برہان کو ایک شہید کے نام سے پکار ا اور اس کی موت کو مسلمانوں کے لیے ایک صدمہ قرار دیا ہے۔
برہان وانی کی شہادت کے بعد کشمیر میں جو ہنگامے شروع ہوئے ہیں وہ ابھی تک جاری ہیں وہاں اس کے نام پر کرکٹ ٹورنامنٹ منعقد کیے جارہے ہیں ۔ بچے اسکولوں میں اس کی شہادت کے واقعے کو ڈرامے کی شکل میں پیش کر رہے ہیں۔
برہان وانی کی شہادت کے پندرھویں روز ایک عورت سیاہ چادر میں ملبوس اس کی قبر پر آتی ہے اور کچھ پھول نچھاور کرتی ہے اس کے ہاتھ دعا کے لیے آسمان کی طرف اٹھتے ہیں اس کا آدھا چہرہ اس سیاہ چادر سے ڈھکا ہوا ہے اور اس کے لب آہستہ آہستہ تھرتھراتے ہیں۔
’’یا اﷲ میں اپنا وعدہ دہراتی ہوں جو میں نے وانی سے کیا تھا میں کسی کشمیری مجاہد سے شادی کروں گی اور اپنے بچوں کو کشمیر کی آزادی کی جدوجہد کے لیے وقف کردوں گی تو گواہ رہنا اور میری مدد کرنا۔

Show More
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close