Naeyufaq Nov-16

انٹر ویو (فاروق انجم)

یاسمین صدیق

ایم فاروق انجم آج کل اخبار جہاں اور جاسوسی گروپ میں مستقل لکھ رہے ہیں۔ماہنامہ نئے افق اور نیا رخ میں ایک عرصہ تک لکھتے رہے۔بلکہ ادبی سفر کا آغاز اسی ماہنامے سے کیا ،اب دوبارہ ایک کہانی سے انٹری دے چکے ہیں ۔بڑے مختصر عرصے میں انہوں نے اپنی پہچان بنائی ہے ۔نصف درجن کتابوں کے مصنف ہیں ۔ زیادہ ترجرم وسزا ،محبت و نفرت پر لکھتے ہیں ۔خوب لکھتے ہیں۔اب تک اپنا ایک وسیع حلقہ قارئین بنا چکے ہیں ۔ہماری انٹریو کی درخوست انہوں نے قبول فرمائی۔ہمارے انٹرویو زپینل (سرفراز قمر ،شہباز اکبر الفت ،عاصم سعید ،قاری ابو بکر ،نعمان عظیمی ،ظفر علی،عدیل عادی ،راقم )اور یاسین نوناری ،صداقت حسین ساجد ،ظہیر عباس ،وقار حسین ،تفسیر عباس بابر، اعجازاحمدراحیل ،حمید اختر صاحب ،ایم اکرم مپال جیسے مخلص دوستوں نے اس انٹرویو میں میرا ساتھ دیا ۔
(س)آپ کا اصل نام کیا ہے ؟کس نے نام رکھا تھا؟ جائے پیدائش کے بارے میں بتائیں؟
(ج)میرا اصل نام محمد فاروق ہے اور انجم میرا تخلص ہے فیصل آباد میں پیدا ہوا تھا۔میرا نام میرے والد محترم نے رکھا تھا۔
(س)اپنے والدین کے تعارف میں ایک پیرا گراف لکھیں؟
(ج)میرے والد محترم حاجی غلام رسول صاحب عمارتی لکڑی کا کاروبار کرتے تھے ۔وہ بہترین باپ ہیں اور میری والدہ تین سال پہلے اللہ کو پیاری ہوچکی ہیں۔
(س)آپ کے کتنے بہن بھائی ہیں؟ ۔ان میں آپ کا نمبر کون سا ہے ؟
(ج)ہم ماشاللہ چار بھائی اور ایک بہن ہیں میرا نمبر چوتھا ہے ۔
(س)اپنے بچپن کے بارے میں بتائیں۔کوئی ایک ایسا واقعہ جسے یاد کریں تو آج بھی چہرے پر مسکراہٹ بکھر جاتی ہو یا دکھی کر دیتی ہو؟
(ج)بہت سے واقعات ہیں۔کیونکہ بچپن شرارتوں اور کرکٹ میں گزرا ہے ۔بچپن ویسے بھی حسین ہوتا ہے اب کس کس واقعے کا ذکر کروں۔بچپن بہت اچھا گزرا۔کوئی ایسی یاد نہیں ہے کہ سوچ کر دکھی ہوجاوں۔مختصر میرا بچپن اورلڑکپن بہت زبردست گزرا ہے ۔
(س)آپ نے ابتدائی تعلیم کہاں سے حاصل کی ۔اپنے اساتذہ کوخراج تحسین پیش کریں ۔آپ کی تعلیم کیا ہے ؟
(ج)میں نے گورنمنٹ نیو ماڈل ہائیا سکول سے میٹرک کیا اور بی اے گورنمنٹ اسلامیہ کالج فیصل آباد سے کیا۔اسکول کے زمانے میں محترم فضل صاحب اسلم صاحب، ضیا الحق صاحب کے علاوہ اور بھی بہت اچھے اساتذہ تھے۔ اسکول کے زمانے میں تو استاد اور ان کے ہاتھ میں پکڑا مولابخش ڈراتا رہتا تھا۔کیونکہ ریاضی میٹرک تک مسلسل کمزور رہا ہوں۔البتہ کالج کا دور بہت بھرپور تھا۔ کالج میں ارشد صاحب جیسے استاد تھے اللہ ان کو جنت نصیب کرے ۔ میری زندگی پر دو اساتذہ کا زیادہ اثر ہے اسکول کے زمانے میں ہمارے محترم استاد ہوتے تھے ضیا الحق صاحب بہت حلیم‘ نرم لہجہ‘ ٹھنڈا مزاج کہ کوئی غصے سے بھی بات کرتا تھا تو وہ انھیں نرمی مزاجی سے موم کردیتے تھے… کالج میں محترم ارشد صاحب تھے جو مسکراتے رہتے اور بات سے بات نکال کر شگفتہ مزاح پیدا کردیتے تھے۔ ان دونوں کی شخصیات کی جھلک میرے اندر ہے بلکہ یہ کہہ لیں میں نے ان کی عادات اپنائی ہوئی ہیں۔
(س)بچپن میں والدہ یا والد کس کی طرف سے زیادہ پٹائی ہوتی رہی ہے ۔آپ کی شخصیت سازی میں زیادہ کردار کس کا ہے ؟
(ج)بچپن میں کرکٹ زیادہ کھیلنے پر والد صاحب کے ہاتھوں پٹائی ہوتی تھی۔کیونکہ کرکٹ میچ میں نمازنہیں پڑھ پاتا تھا اور والد صاحب کا سوال ہی یہاں سے شروع ہوتا تھا۔نماز پڑھی۔۔؟ انکار پر مار پڑتی تھی۔کردار سازی میں والد صاحب اور والدہ مرحومہ کا کردار برابر کا شامل ہے ۔
(س)کوئی ایک فقرہ اپنے والدین کے لیے ؟
(ج)والدین کی محبت شفقت اور ان کی قربانیوں کو اگر سامنے رکھ کر ایک فقرہ کہنا چاہیں تو شاید الفاظ ان کو خراج تحسین پیش نہ کرسکیں۔ بس اتنا کہنا چاہوں گا کہ والدین اپنے بچوں کے لئے سراپا محبت اور ایثار کا پیکر ہیں جو اپنی ذات کو نظر انداز کرکے صرف اپنے بچوں کا سوچتے ہیں۔
(س)آپ نے کتنی عمر سے مطالعہ شروع کیا۔چند پسندیدہ لکھاریوں کے نام بتائیں۔؟
(ج)مطالعہ کا شوق اسکول کے زمانے سے تھا۔بچوں کے رسائل پڑھتا تھا۔اشتیاق احمد کے ناول تو چھوڑتا ہی نہیں تھا۔پھر ابن صفی کے عمران سیریز کے سب ناول پڑھے ۔عبدالقیوم شاد کا پہلی بار سلسلہ اخبار جہاں میں پڑھا تھا۔پھر اقلیم علیم،محمود مودی ،ایم اے راحت،نواب صاحب اور شاید ہی کوئی رائٹر ہو جسے نہ پڑھا ہو۔یہ سب لکھنے والے بہت اچھا لکھتے ہیںاور پہلا مکمل ناول نسیم حجازی صاحب کا پڑھا تھا
(س)آپ کس ادیب سے بہت زیادہ متاثر ہیں اور کس وجہ سے متاثر ہیں ؟
(ج)اقلیم علیم صاحب ؟انوار علیگی صاحب اور محمود احمد مودی صاحب کو بہت پڑھا ہے ۔ان کے قلم میں بڑی روانی ہے ۔لیکن میں کسی اور لکھنے والے کو بھی نہیں چھوڑااور وہ لوگ بھی اپنی اپنی جگہ ڈٹ کر لکھ رہے ہیں اور بہت اچھا لکھ رہے ہیں۔
(س)سب سے پہلے کونسی کہانی لکھی ، کس میگزین میں شائع ہوئی ؟آپ نے کن رسائل میں لکھا؟
(ج)پہلے بچوں کے لئے لکھا پھر مزاحیہ رسالہ چاند میں لکھا اس کے بعد ماہنامہ رابطہ اور مسٹری میگزین‘ ایڈونچر‘ نیا رخ‘ نئے افق‘ سب رنگ‘ نازنین، اخبار جہاں، سرگزشت، جاسوسی، سسپنس، اردو ڈائجسٹ، سیارہ ڈائجسٹ، حکایت اور کیا کیا نام لوںاور یہ سفر ابھی جاری ہے۔
اسکول کے زمانے میں پہلی کہانی لکھی جو بچوں کے ایک رسالے میں شائع ہوئی اور وہ 1980 کی بات ہے۔
جب میں بچوں کے لئے لکھتا تھا تو وہاں سے بھاگ کر لاہور سے شائع ہونے والے رسائل میں لکھنے لگا۔ وہاں سے بھاگا اور کراچی کے ڈائجسٹ کی طرف دوڑ لگادی سب سے پہلے کراچی میں مجھے نیارخ نے خوش آمدید کہا اور میں نے نیارخ میں بہت لکھا اور میری خوب حوصلہ افزائی ہوئی۔ وہ بند ہوگیا تو عمران بھائی اور طاہر بھائی نے میرے لئے نئے افق کا دروازہ کھول دیااور اس طرح کراچی سے شائع ہونے والے دوسرے ڈائجسٹوں میں چلا گیا آگے بڑھنے اور کچھ نیاکرنے کی بھاگ دوڑ لگی ہوئی ہے کیونکہ آگے میڈیا بھی تو ہے۔
(س)کس موضوع پر کہانیاں آپ کو پسند ہیں ؟کیسا ادب وقت کی ضرورت ہے ؟
(ج)یہ موڈ پر منحصر ہے کہ اس وقت مرڈر، ایڈونچر مزاح یا کیا پڑھنے کو دل چاہ رہا ہے ۔میرے خیال میں ہر طرح کی کہانیاں اور ناول لکھے جارہے ہیں اور مزاح پر لکھنے کی کمی ہے ۔اس پر توجہ دینی چاہئے میرا مزاحیہ ناول کمال پور کا کمالا جب اخبار جہاں میں شائع ہوا تھا تو وہ سب سے زیادہ پسند کیا گیا تھا۔
(س)سر اب تک آپ کی کتنی کتابیں شائع ہو چکی ہے؟
(ج)میرے تیرہ ناول شائع ہوچکے ہیں ۲۰۰۷ء کو پہلا ناول تپش شائع ہوا تھا۔پھر انگار‘سرسراہٹ‘دھواں‘دھڑکن‘چال‘کمال پور کا کمالا‘زنجیر اور تیزاب وغیرہ شامل ہیں۔
(س)آپ کی کہانیوں میں قدر مشترک ؟
(ج)میری اکثر کہانیاں بارش سے شروع ہوتی ہیں ورنہ کہانی میں کہیں نہ کہیں بارش ہونے لگ جاتی ہے۔
جب میں شروع میں لکھا کرتا تھا تو والد محترم مجھے سمجھاتے تھے کہ تم کیا کاغذ سیاہ کرتے رہتے ہو‘ چھوڑو یہ کام۔ پھر ایک دن ہمارے ایک عزیز نے میرے والد صاحب کے سامنے میری ایک کہانی پڑھ کر اس وقت بہت تعریف کی جب خاندان میں ایک تقریب تھی۔
(س)اپنی کون سی کہانی سب سے زیادہ پسند ہے آپ کو؟کیا اپنی زندگی پر کتاب لکھنے کی سوچ ہے ؟کیا نام ہوگا اس کتاب کا؟
(ج)سچ یہ ہے کہ ابھی وہ کہانی لکھ ہی نہیں سکا کہ بہت پسند بھی آئے اور مطمئن بھی ہوجاوں۔ اس لئے خوب سے خوب تر کی جستجو میں ہوں۔مجھے مزاح پڑھنا اور لکھنا پسند ہے ۔یہ الگ بات ہے کہ مختلف موضوعات پر لکھتے ہوئے میرا پسندیدہ موضوع پیچھے رہ جاتا ہے۔ میں جب بھی اپنی زندگی پر کتاب لکھوں گا وہ مزاح کے رنگ میں لپیٹ کر لکھوں گا۔ کیونکہ میرا بچپن،لڑکپن پر لطف گزرا ہے جبکہ رواں دواں جوانی بھی ہنستے کھلتے گزر رہی ہے ،رہا کتاب کا نام تو وہ اس وقت سوچ لوں گا۔ویسے بھی میں ساری کہانی یا ناول لکھ لیتا ہوں اور نام بعد میں فائنل کرتا ہوں۔
(س)آپ کے خاندان میں اور کوئی ادیب ہے ؟۔
(ج)میرے خاندان میں دور تک بلکہ بہت ہی دور تک کوئی ادیب شاعر نہیں گزرا اور خاندان میں آگے بھی کسی کے آثار دکھائی نہیں دے رہے ہیں.بس اکیلا ہی ہوں۔
(س)قلمی نام رکھنے کا سبب کیا ہے؟ ۔کیا کسی اور نام سے بھی لکھا؟ کس نام سے؟
(ج)قلمی نام انجم میرے ایک عزیز دوست نے تجویز کیا تھا۔جی میں ایک دوسرے نام سے بھی لکھتا ہوں۔
(س)عشق و محبت کی تعریف کیا یہ ایک ہی ہیں یا الگ الگ؟
(ج)عشق اور محبت کی تعریف ہر ایک کی دانست میں الگ الگ ہے میں تو ابھی عشق کے ع اور محبت کی م کو سمجھنے کی کوشش کررہا ہوں
(س)آپ کی کوئی ایسی کہانی جس پر سرقہ،چربہ کاپی کا الزام لگا ہو؟
الحمداللہ میری کسی کہانی پر کبھی چربہ کا الزام نہیں لگا۔ کیونکہ میں نے یہاں تک پہنچنے کے لئے کبھی شارٹ کٹ اور کسی کے کندھے کا سہارہ نہیں لیا ہے
(س)آپ کے انداز بیاں میں کس کا رنگ جھلکتا ہے ۔؟
(ج)یہ میرے پڑھنے والے بتا سکتے ہیں کہ میری تحریروں میں کس کا رنگ جھلکتا ہے لیکن میں پوری ایمانداری سے کہتا ہوں کہ میں کسی سے متاثر ہوکر نہ لکھتا ہوں اور نہ کبھی ایسی کوشش کروں گا۔
(س)اپنے ہم عصروں میں آپ کے پسندیدہ لکھار ی۔ کس ادیب سے ملاقات کا موقعہ ملا ؟
(ج)بہت سے لکھنے والوں سے مل چکا ہوں۔علی سفیان آفاقی،امجد سلام امجد، یونس جاوید،عطاالحق قاسمی،اصغر ندیم سید،سلیمہ ہاشمی،امجد جاوید اور بھی کئی ہیں۔ اسی طرح ڈاکٹر عبدالرب بھٹی صاحب نے بہت اچھا لکھا ہے اور لکھ رہے ہیں۔جبکہ اللہ جنت نصیب کرے کاشف زبیر کو. ان کی کہانی پر بڑی گرفت ہوتی تھی۔
(س)آپ اپنی سب سے بہترین کہانیوں یا ناولز کے بارے میںبتائیںجو مقبول ہوئی ہوں اور یہ کہاں شائع ہوئی تھیں ۔
(ج)اخبار جہاں میں میرا ایک سلسلہ چلا تھا’’ راکھ ‘‘کے نام سے اور ایک مزاحیہ سلسلہ’’ کمال پور کا کمالا‘‘ شائع ہوا تھا۔دونوں سلسلوں نے بہت مقبولیت حاصل کی تھی اور کتابی شکل میں شائع ہوکر بھی کامیابی ملی تھی۔ڈر ڈائجسٹ میں ’’سرسراہٹ‘‘ کے نام سے سلسلہ شائع ہوا تھا جو انہوں کتابی شکل میں بھی شائع کیا تھا۔وہ بھی خوب مقبول ہوا تھا۔ میرا کسی ڈائجسٹ کے لئے پہلا سلسلہ’’ زہر‘‘بھی نئے افق میں شائع ہوا تھا۔اس نے ہی مجھے متعارف کروایا۔
(س)کیا کبھی کسی کہانی میں بولڈ سین لکھاااور سین لکھتے ہوے خیال آیا کہ یہ پیرا مدیرسنسر کر دے گا
(ج)میں نے اپنے ایک ناول میںضرورت کے تحت ہلکا سا بولڈ سین لکھا تھا۔لیکن وہ بھی بس ایک اشارہ تھا اور اس کی واقعی ضرورت تھی۔اس کے علاوہ میں نے کبھی ایسا سین نہیں لکھا کہ مجھے دھڑکا ہو کہ یہ سنسر ہوجائے گا
(س) خود آپ کو اپنا کونسا ناول زیادہ پسند ہے
(ج)ابھی جو بھی لکھا ہے اس سے اچھا لکھنے کی کوشش میں ہوں۔ اس لئے کہہ نہیں سکتا کہ میرا فلاں ناول مجھے پسند ہے۔ ہاں ایسا ضرور ہے کہ القریش پبلی کیشنز نے میرا ناول انگار شائع کیا تھا اس کا کردار علی گوہر مجھے ہی نہیں بلکہ پڑھنے والوں کو بھی پسند آیا تھا کیونکہ وہ ناول اخبار جہاں میں قسط وار شائع بھی ہوا تھا۔
(س)کون سا ڈائجسٹ آپ کے زیر مطالعہ رہتا ہے؟
(ج)جاسوسی،سسپنس،سرگزشت ،نئے افق ،اخبار جہاں یہ میرے مسلسل مطالعے میں رہتے ہیں اس کے علاوہ کوئی اور ڈائجسٹ بھی ہاتھ لگ جائے تو وہ بھی پڑھ لیتا ہوں۔
(س)بہت کم لوگ دیکھے ہی جو کسی مقام پر پہنچ جانے کے بعد نرم مزاج رہتے ہیں؟
(ج)اگر آپ چاہتے ہیں کہ میں ثقیل اردو میں بات کروں تو اس طرح سوالوں کے جواب دے دیتا ہوں۔بہرحال میں واقعی نرم مزاج ہوں
(س)ادب میں گروہ بندی کو آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں۔؟
(ج)گروہ بندی کسی بھی جگہ ہو اس کا نقصان ہی ہے ۔لیکن یہ گروہ بندیاں ادب کے ٹھیکے داروں کے ہاں دیکھنے کو ملتی ہیں
(س)لکھاری پیدا ہوتا ہے یا محنت و لگن سے بنتا ہے ۔
(ج)ڈاکٹر ‘وکیل‘بزنس مین‘اداکار کا بیٹا اپنے باپ کے پیشے کو اپنا لے گا لیکن رائٹر پیدا ہی رائٹر ہوتا ہے ۔کسی کو ٹیوشن پڑھانے سے بھی رائٹر نہیں بنایا جاسکتا۔یہ اللہ کی طرف سے تحفہ ہے ۔محنت اور لگن سے وہی رائٹر بن سکتا ہے جس کے اندر لکھنے کی صلاحیت ہو۔
(س)کیا کبھی کسی انگلش ناول کا ترجمہ کیا ؟
(ج)میں نے آج تک جو بھی لکھا ہے وہ طبع زاد ہے اگر میری کسی کہانی میں مغرب سے کردار مستعار بھی لئے گئے تھے تو وہ کہانی میری ہی تھی
(س)آج کل جو رایٹر انگلش ناول کا ترجمہ کر رہے ہیں کیا گوگل ٹرانسلیٹر نے ان کا کام آسان نہیں کر دیا؟
(ج)اب میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ لوگ اس سہولت سے فائدہ اٹھارہے ہیں کہ نہیں وہ خود محنت کررہے ہیںیہ تو ٹرانسلیٹر ہی جانتا ہے۔
(س)کیا وجہ ہے کہ مغرب میں ادب کی ہر صنف کو سراہا جاتا ہے مثلا ہیری پوٹر سیریز کی رائٹرز کو بھی انٹرنیشنل سطح پر سراہا گیا سیریز پر فلمیں بھی بنائی گئیں حالانکہ سیریز وہی ماورائی کہانیوں سے متعلق ہے ؟
(ج)ہیری پوٹر کی مصنفہ جے کے رولنگ نے سات ناول لکھ کر اتنی دولت کما لی کہ اس کی نسلیں عیش کریں گی۔وہاں تخلیق کار کی عزت ہے۔اس کو اس کے کام کا پورا حق دیتے ہیں وہ لوگ بڑے پروفیشنل ہیں ہر کام بڑی تکنیک سے کرتے ہیں کہ ہیری پوٹر ماورائی سیریز بنا کر کامیاب ہوگئے۔
(س)اردو فکشن کا کیا مستقبل نظر آ رہا ہے؟
(ج)بہت سے ایسے نامور لکھنے والے تھے جو دنیا چھوڑ کر جاچکے تھے۔ان کی جگہ اور رائٹر آگئے جنھوں نے اچھالکھا اور نام بنایا۔ان میں سے بھی کچھ چلے گئے ۔ ہیں تو یہ سلسلہ رکے گا تو نہیں۔اردو فکشن لکھنے والے بہت اچھے نام آگے آئے ہیں اور لکھنے والوں کے کارواں میں اچھے تخلیق کار ملتے رہیں گے
(س)اردو ادب میں تنقید ایک اصطلاح ہے جس میں کسی بھی تحریر کے محاسن و نقائص پر بحث کی جاتی ہے؟
(ج)جو تنقید نگار فیس بک پر بیٹھ کر کہانی کی گہرائی کو جانے بغیر تنقید شروع کردیتے ہیں ان کی کسی بات کا غصہ کرنا بے معنی ہے۔عام طور پر جو تنقید ہوتی ہے وہ بغیر کسی ٹھوس وجہ کے ہوتی ہے۔ جیسے کہانی کے بارے میں لکھ دیا جائے کہ کہانی کا پلاٹ کمزور تھا۔اب یہ نہیں بتایا جاتا کہ کمزورکیسے اور کیوں تھا۔ایسی تنقید کا مجھ پر کوئی اثر نہیں ہوتا ہاں اگر بات دلیل کے ساتھ کی جائے تو ایسی تنقید سر آنکھوں۔
(س) ادبی سرقہ کے حوالے سے آپ کی کیا رائے ہے ؟
(ج)ایک تو ہوتی ہے نقل۔ ایک متاثر ہوکر لکھنا اور ایک یہ کہ کہانی تو لکھنے والے نے سوچ کر لکھی تھی۔ لیکن کسی دوسری کہانی سے مماثلت ہوگئی جس کا علم پڑھنے والوںسے ہوا۔یہ بھی سچ ہے کہ کہانی پوری کی پوری چرا لی جاتی ہے بالخصوص میڈیا میں ایسا عام ہونے لگا ہے ۔یہ بات بھی اپنی جگہ سچ ہے کہ نقل اور جھوٹ ایک دن اس کے پیروں تلے سے زمین کھینچ کر ہی رہتا ہے ۔
(س)کیا چیز متاثر کرتی ہے خوبصورتی یا ذہانت؟
(ج)خوبصورتی سے بڑھ کر ذہانت ہے جو متاثر کرتی ہے ۔
(س)کوئی ایسا لمحہ جو چاہتے ہیں واپس آ جائے ؟
(ج)انتیس ویں روزے کو والدہ محترمہ کی طبیعت خراب ہوئی تو ان کو اپنے ہاتھوں میں اٹھا کر قریبی ڈاکٹر کے پاس لے کر گیا تھا لیکن وہ اللہ کو پیاری ہوگئیں۔وہ لمحے دل پر نقش ہیں ۔وہ لمحے واپس تو نہیں آسکتے لیکن بھولتے نہیں ہیں۔
(س)کوئی ایسا لمحہ جب آپ نے خود کو بہت کمزور محسوس کیا ہو؟
(ج)جب والدہ محترمہ ایمرجنسی وارڈ میں تھیں اور ڈاکٹر صاحب نے کہا تھا کہ دعا کریں۔
(س)کبھی خود سے باتیں کی اگر کی تو خود سے باتیں کرنا کیسا لگتا ہے ؟
(ج)لکھنے پڑھنے اور سوچنے میں اتنا مصروف رہتا ہوں کہ خود سے بات کرنے کا موقعہ ہی نہیں ملتا۔
(س)آپ کی شادی خاندان میں ہی ہوئی ۔والدین کی پسند کی تھی ۔کیا شادی سے پہلے بیگم کو دیکھا تھا۔ ان کی تعلیم کیا ہے۔ کیا وہ پڑھنے یا لکھنے کی شوقین ہیں ۔آپ کی شادی کب ہوئی۔بیگم کے لیے چندالفاظ۔
(ج)میری شادی خاندان سے باہر ہوئی ہے۔ شادی سے پہلے ان کی تصویر دیکھی تھی۔ان کی تعلیم بی اے ہے ۔وہ صرف پڑھتی ہیں لکھنے کی شوقین اس حد تک ہیں کہ سودا سلف کی لسٹ بہت اچھی لکھتی ہیں۔ والدین کے بعد بیوی سے ایک ایسا تعلق ہوتا ہے جس پر مان ہوتا ہے کیونکہ اولاد اپنی مصروف زندگی میں مصروف ہوجائے۔ شوہر بھی مصروفیت میں بیوی کو وقت نہیں دے پاتا لیکن شوہر جب بھی بیوی کو آواز دے گا وہ تھکی ماندی اٹھ کر آجاتی میں تو سمجھتا ہوں کہ میرے لئے بیوی کا تعلق ایسا ہوتا ہے جس پر شوہر مان کرسکتا ہے کیونکہ وہ اپنی ذات مٹا کر شوہر کے ساتھ ہر حال میں کھڑی ہوتی ہے ۔
(س)جب صنف نازک کے فون وغیرہ آتے ہیں تو بیگم کا رد عمل کیا ہوتا ہے ؟
(ج)مجھے فون بھی آتے ہیں‘میرے گھر بھی آجاتی ہیں اور ان بکس میں بھی اظہار خیال ہوتا رہتا ہے ۔فون پر میں بیگم صاحبہ کی بھی بات کرادیتا ہوں اور بیگم صاحبہ جانتی ہیں کہ میں ایک شریف شوہر ہوں اور یہ سب میرے کام کا حصہ ہے ۔
(س)لکھتے وقت بچوں یا بیگم کی مداخلت کیسی لگتی ہے۔
(ج)آپ کو شاید حیرت ہو کہ میں تنہائی میں نہیں لکھ سکتا۔ میں اس کمرے میں لکھتا ہوں جہاں بیوی بچوں کی باتیں بھی ہورہی ہوں اور آنا جانا بھی لگا ہو۔ اس لئے میرے لئے ان کی مداخلت سوہان روح نہیں ہوتی۔
(س)آپ کے بچے کتنے ہیں ۔ان کے نام و عمر اور گریڈ بتائیں ۔کون سا بچہ یا بچی مستقبل میں ادیب بن سکتا ہے
(ج)میرے دو بیٹے ہیں محمد عثمان فاروق جس نے ابھی میٹرک کا امتحان دیا ہے جبکہ محمد عمر فاروق آٹھویں کلاس کا طالب علم ہے۔ فی الحال دونوں لکھنے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے بلکہ چھوٹا بیٹا تو ہوم ورک لکھنے میں بھی دلچسپی نہیں دکھاتا۔
(س)آپ کا اپنے بچوں کے ساتھ کیسا رویہ ہے ۔؟
(ج)ارے میں ایسا باپ ہوں کہ بچے میرے ساتھ گھلے ملے ہوئے ہیں۔ وہ میرے ساتھ کشتی بھی کرتے ہیں۔ میں نے ان کو کہہ دیا ہے کہ جو بات تم اپنے دوست سے کرنا چاہو گے وہ مجھ سے کرو کیونکہ باپ سے بڑھ کر اولاد کا کوئی دوست نہیں ہوتا۔ لیکن میں نے بچوں کو ایک حد تک آزادی دی ہے اور ان کے ساتھ دوستانہ نرم اور کبھی کبھی گرج چمک کے ساتھ والا رشتہ ہے ۔
(س)بچپن کے چند ایسے دوستوں کے نام بتائیں جو اب بھی دوست ہوں۔
(ج)بچپن کے دوستوں میں میرا ہم نام فاروق‘باسط‘اعجاز‘کامران اور بہت سے شامل ہیں اور اب بھی ہم دوست ہیں۔
(س)آپ کی خوب صورتی کاکیا راز ہے ۔بڑی سمارٹ لک ہے۔
(ج)کرکٹ خوب کھیلی اور۹۲ کے ورلڈ کپ تک دیکھی بھی اور پھر رفتہ رفتہ اس میں دلچسپی ختم ہوگئی۔اپنے آپ پر خوب توجہ دیتا ہوں اس لئے یہ لک ہے ۔
(س)بہت سے مدیران سے آپ کا واسطہ رہا ۔ بتائیں آپ نے انہیں کیسا پایا۔ایک دو کو تو میں جانتا ہوں بڑے متکبر ہیں ۔اپنی بات کو حرف آخر سمجھتے ہیں ۔
(ج)جی میرا ان سب کے ساتھ رابطہ رہتا ہے ۔میں نے کسی کو متکبر نہیں پایا۔نئے افق کے طاہر بھائی اور عمران بھائی کے ساتھ بہت اچھے انداز میں بات ہوتی ہے ۔چیٹ بھی ہوتی ہے۔ کسی بات پر اختلاف بھی ہوجاتا ہے۔ لیکن ان کا رویہ بہت اچھا ہے ۔پرویز بلگرامی صاحب کے بات کرنے میں کوئی تکلف نہیں ہوتا بڑی اپنائیت ہے ان میں۔جاسوسی کی مدیرہ بھی بہت اچھے انداز میں بات کرتی ہیں۔ انوار علیگی صاحب تو استاد کا درجہ رکھتے ہیں۔میرے ساتھ آج تک کسی مدیر صاحب نے مدیر بن کر کبھی بات نہیں کی۔میں بھی ان لوگوں کے ساتھ کھل کر بات کرتا ہوں مجھے کبھی کسی کے ساتھ کوئی مسئلہ نہیں ہوا۔
(س)ماحول میں کوئی خوشگوار یاناخوشگوار واقعہ قلم ایک حساس انسان کو قلم اٹھانے پر مجبور کر دیتا ہے۔ آپ کی زندگی میں ایساکوئی واقعہ جس نے آپ کوقلم اٹھانے پر مجبور کردیا ہو۔
(ج)بہت سی کہانیاں میں ارد گرد کے ماحول سے لے کر لکھی تھیں ان کہانیوںنے جراحت کا کام کیا یا نہیں البتہ میں قلم اٹھا کر ضرور مطمئن ہوا تھا۔کمال پور کا کمالا مجھے صرف ایک لائن نے لکھنے پر مجبور کردیا تھا جب میں ایک گاوں میں گیا تو وہاں ایک جگہ لوگ بیٹھے باتیں کررہے تھے کہ جیدا شہر جاکر بڑا درزی بن گیا ہے اور ایک سوٹ کی سلائی تین سو روپیہ لیتا ہے ۔بس اس ایک لائن نے پورا ناول لکھوا دیا یہ الگ بات ہے کہ جیدے کا کردار پیچھے اور کمال کا کردار آگے آگیا تھا۔
(س)رائٹر کے فرائض ادا کرنے کے علاوہ کیا مصروفیات ہیں۔کہانیوں سے ہر ماہ کم ازکم کتنا کما لیتے ہیں۔
(ج)میرا ایک چھوٹا سا یونٹ ہے جو کہ میرا کاروبار ہے ۔رہا سوال یہ کہ کہانیوں سے کتنا کما لیتا ہوں تو اللہ کا شکر ہے ۔یورپ میں تو لکھنے والا اس قدر خوشحال ہوتا ہے کہ اسے کچھ اور کرنے کی ضرورت ہی پیش نہیں آتی۔ یہاں ایسے بھی لکھنے والے ہیں جو اپنے گھر کا چولہا جلانے کے لئے دوسروں کے لئے لکھتے ہیں۔ لیکن یہاں لکھنے کی آمدن کے ساتھ کچھ کاروبار یا کوئی آمدن کا سلسلہ بھی ہونا چاہئے۔ ویسے میرا بزنس بھی ہے۔
(س)کوئی ایسا شعر سنائیں جو ہر دور میں آپ کو پسند رہا ہو۔ سدا بہار آپ کا پسندیدہ شعر
(ج)
ان کو دیکھ جو آ جاتی ہے چہرے پہ رونق
وہ سمجھتے ہیں بیمار کا حال اچھا ہے
(س)علامہ اقبال۔ غالب کے علاوہ بتائیں آپ کو کون سا شاعر پسند ہے۔
(ج)جون ایلیا اور جاوید اختر کی شاعری مجھے پسند ہے
(س)ڈرامہ لکھنے کے لیے کن باتوں کا خیال رکھنا چاہیے ۔ڈرامہ کی کامیابی کا انحصار کس بات پر ہے ۔
(ج)ڈرامہ لکھنے کے لئے ضروری ہے کہ اس کی کہانی کا ٹیمپو تیز ہو‘ ڈرامہ کی کامیابی کا اب کوئی فارمولا نہیں ہے‘ اگر ایک ڈرامہ اس لئے ہٹ ہوگیا کہ اس میں رونا دھونا بہت تھا تو پھر ٹرینڈ ہی رونے دھونے کا ہوجاتا ہے۔
(س)ایک کہانی آپ نے سوچی پلاٹ لکھا ۔اب اس موضوع پر سورس آف انفارمیشن کیا ہے آپ کا۔ معلومات کیسے جمع کرتے ہیں ۔
(ج)ایک انٹرویو کے دوران کچھ ایسا ہی سوال محی الدین نواب صاحب سے بھی کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ میں نیٹ پر بہت سے ممالک کی سیر کرتا ہوںاور اپنے لیے معلومات جمع کرلیتا ہوں‘میں نے یہ بات ان سے سیکھی ہے اور پھر میں وہی لکھتا ہوں جس کے بارے میں مجھے مشاہدہ ہوتا ہے۔
(س)آپ نے کس کس ملک کی سیاحت کی ہے پاکستان کے کون کون مقامات دیکھے ہیں سیاحت سے کتنی دلچسپی ہے ۔
(ج)میں ملک سے باہر تو نہیں گیا لیکن کراچی‘اسلام آباد‘لاہور‘پشاوراور پاکستان کے بہت سے شہر گھوما ہوں۔
(س)آپ نے کوئی کتاب ،کہانی دوبارہ پڑھی ہوجیسے میں نے بازیگر ،دیوتا ،گمراہ ،داستان ایمان فروشوں کی دو بار پڑھی ہیں۔
(ج)میں نے میکسم گورکی کی ماں دو بار پڑھی ہے۔ ایک سلسلہ چلتا تھا حاضر غائب وہ میں نے دو بار پڑھا تھا۔ غلام عباس کے افسانے کئی بار پڑھے۔ اس کے علاوہ ابن انشا کی خمار گندم دو بار پڑھی تھی۔ خالی گھر بھی دو بار پڑھا تھا۔
(س)تم سے پیار دوبارہ کرتے کیسے کرتے ؟کوئی ایسی حسرت دل میں۔
(ج)بالکل بھی نہیںایسی کبھی صورت حال پیدا نہیں ہوئی۔
(س)غصہ کس بات پر آتا ہے۔
(ج)غصہ کم آتا ہے لیکن اس وقت آتا ہے جب کوئی غلط بات بھی کرے اور اس پر ڈٹا بھی رہے ۔
(س)اپنی اچھی اور بری ایک ایک عادت بتائیں
(ج)جو مجھے لگتا ہے کہ میرے اندر اچھی عادت یہ ہے کہ میں کسی کی ہمت توڑنے کی بات نہیں کرتا۔ بلکہ یہ کہتا ہوں کہ تم یہ کرسکتے ہو اسے کرو اور بری عادت یہ ہے کہ جو کہہ دیا اس پر ڈٹ جاتا ہوں۔جس سے دوسرے ناراض بھی ہوجاتے ہیں۔
(س)اپنی کالج لائف کا ایک مزاحیہ واقعہ سنائیں جو بہت مزاحیہ ہو ؟
(ج)میرا بہترین دور کالج کا دور تھا میں اپنی کالج لائف کے واقعات جمع کئے ہوئے ہیں جو کہ میں اپنے اصل دوستوں کے نام سے ناول کی شکل میں لکھنے کی منصوبہ بندی کررہا ہوں بلکہ اس پر کام بھی کررہا ہوں۔میرا وہ ناول سچے اور شرارتوں سے بھرپور واقعات کے ساتھ کہانی کی آمیزش بھی ہوگی۔تب پڑھ لیجئے گا۔
(س)موسیقی کون سی پسند ہے ؟
(ج)مجھے نئے گانے بھی اچھے لگتے ہیں لیکن میں زیادہ پرانے گانے سنتا اور گنگناتا ہوں۔چلو ایک بار پھر سے اجنبی بن جائیں۔یاد نہ جائے بیتے دنوں کی۔اک لڑکی کو دیکھا تو ایسا لگا۔یہ گانے مجھے اچھے لگتے ہیں۔
(س)جب اداس ہو ں تو کیا کرتے ہیں؟
(ج)جب میں اداس ہوتا ہوں تو چپ ہوجاتا ہوں پورے گھر والوں کو پتا چل جاتا ہے کہ میں اداس ہوں اور خوش ہونے پر میری گنگناہٹ ہی ختم نہیں ہوتی۔
(س)دوسری شادی کب کر رہے ہیں؟
(ج)ایک اچھی بیوی اور بہت ہی اچھی بیوی کے ہوتے ہوئے دوسری شادی کے بارے میں سوچنا ایسی حماقت ہے جیسے محنت سے کہانی لکھ کر پھاڑ دی جائے۔
(س)شاعری کی طرف کچھ رجحان ہے یا نہیں کبھی کوئی شعر کہا۔
(ج)جب ماہنامہ چاند میں لکھا کرتا تھا تو مزاحیہ شاعری کبھی کبھار کرلیا کرتا تھا۔ ویسے شاعری کی طرف اتنا رحجان ہے کہ اچھی شاعری پڑھتا ہوں۔
(س)کیا آج ایک رائٹر صرف کہانیاں لکھ کر اپنی فیملی کو اچھی طرح سپورٹ کر سکتا ہے‘ کیا لکھنے کے کام کو بطور پیشہ اپنایا جا سکتا ہے مطلب کسی بھی اچھے رائٹر لکھنے کے علاوہ کوئی اور جاب نہ کرنی پڑے ۔
(ج)اگر ادارے اچھا معاوضہ دیں تو ایک رآئٹر ماہانہ اتنا کما سکتا ہے کہ وہ اپنے اخراجات پورے کرسکتا ہے اور پھر میڈیا کی بھی بھرمار ہے جو لکھنے والوں کو پرکشش معاوضہ دیتے ہیں۔
(س)پبلک مقامات پر لوگوں کا آپ سے ملنے کا انداز کیسا ہوتا ہے ؟
(ج)میں ایک رائٹر ہوں جس کے کام سے اس کے پڑھنے والے واقف ہوتے ہیں لیکن چہرے سے نا آشنا ہوتے ہیں اس لئے پبلک مقام پر مجھے کوئی نہیں جان سکتا کہ میں کون ہوں۔یہ خصوصیت صرف اداکار پر یا کیمرے کے سامنے کام کرنے والے لوگوں پر ہوتی ہے ۔البتہ خاندان میں شادی بیاہ میں جب شرکت کرتا ہوں تو کاناپوسی ہوتی ہے یہ ہے جو کہانیاں اور ناول لکھتا ہے …
(س)سڑک پر کام کرتی عورت؟
(ج)ہماری بے حسی یا حکومتی ناقص پالیسیاں۔حضرت عمر نے کہا تھا کہ میں بھوک سے مرنے والے کتے کا بھی ذمہ دار ہوں اور یہاں حکمرانوں کے آگے کسی غریب کی مجبوری کی کوئی حیثیت ہی نہیں ہے۔ ان سب کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہے ۔
(س)چند ایک چھوٹے لکھاری اپنے چھوٹے پن کی وجہ سے اپنے آپ کو بڑا سمجھتے ہیں اور زبر دستی باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ نہ منہ نہ ناساں۔ میں وی کھاریاں جاساں۔آپ کیا کہیں گے ان کے بارے میں۔
(ج)بالکل ایسا سمجھے بھی ہیں اور میرے مشاہدے میں بھی یہ بات ہے ۔وہ چند کہانیاں لکھ کر خود ہی اپنے رائٹر ہونے کی رٹ لگا دیتے ہیں لیکن سچ تو یہ ہے کہ میں خود کو ابھی رایٹر ہی نہیں سمجھتا میری منزل ابھی دور ہے ۔
(س)کبھی اپنے گریبان میں جھانکا ؟ کیسا لگا!
(ج)جی مجھے پتا ہے کہ میں کتنے پانی میں ہوں اس لئے کبھی اپنے قد سے زیادہ کی بات نہیں کی۔
(س)انسانی سوچ کی حد کیا ہے ؟
(ج)آپ انسان کی کس سوچ کی بات کررہے ہیں؟ منفی یا مثبت سوچ کی؟
انسانی سوچ کی اگر کوئی حد ہوتی تو وہ موٹر کار بنا کر بیٹھ جاتا‘پھر جہاز نہ بنتا۔ انسان چاند پر نہ جاتا۔نئی چیزیں اود حیران کن چیزیں وجود میں نہ آتیں اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ انسان کی سوچ کی کوئی حد نہیں ہے۔
(س)سوشل میڈیا کو آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں ؟
(ج)میں سوشل میڈیا کے کچھ گروپس میں ایڈ ضرور ہوں لیکن کبھی ایسی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لیا۔سوشل میڈیا واحد وہ جگہ جہاں آپ ڈاکٹر وکیل دانشور بن سکتے ہیں اور اس جگہ پر نقاد بننا تو دائیں ہاتھ کا کام ہے ۔
(س)ہم فیس بک پر کوئی پوسٹ کیوں لگاتے ہیں ۔کہانی کیوں لکھتے ہیں؟
(ج)یہ تشہیر کا دور ہے بڑی بڑی کمپنیاں کروڑوں روپیہ اس پر خرچ کرتی ہیں۔فیس بک ایک بہترین ذریعہ ہے ‘کسی مصنف کی نئی کہانی آتی ہے ۔یا نئی کتاب شائع ہوتی ہے اور وہ اس کی پوسٹ لگادیتا ہے تو دوسروں کے علم میں بھی یہ بات آجاتی ہے لیکن یہاں عجیب پوسٹیں لگتی ہیں جن کا سر نہ پیر ہوتا ہے۔
(س)سوشل میڈیا پر آپ کب سے ایکٹیو ہیں؟ فیس بک پر کتنے فرینڈز ہیںَ۔ ان میں سے ان کی تعداد کتنی ہے جو آپ کو پرسنل جانتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر آپ جو وقت گزارتے ہیں اسے بامقصد یا بے مقصد گزارتے ہیں؟
(ج)سوشل میڈیا پر میں چھ سات ماہ سے ایکٹو ہوں اور میرے فرینڈ کی تعداد جو شو ہورہی ہے وہ ایک ہزار سے زیادہ ہے ان میں جو مجھے بالکل ذاتی طور پر جانتے ہیں جو مجھے مل چکے ہیں جو میرے ساتھ ان بکس میں ٹچ ہیں ان کی تعداد بھی کافی ہے ۔میں کئی گروپس میں ایڈ ہوں پوسٹ میں اپنی نئی کہانی یا نئی کتاب کی لگاتا ہوں۔ لیکن وہ کسی گروپ کی بجائے اپنے فرینڈز میں لگادیتا ہوں ۔سوشل میڈیا پر جو وقت گزارتا ہوں ۔وہ ان بکس میں آنے والے سوالات کے جواب دینے اپنی پوسٹ کے کمنٹس پڑھنے اور کس گروپ میں کیا چل رہا ہے وہ پڑھنے میں گزارتا ہوں۔
(س)اس کی کیا وجہ کہ آج کی نوجوان نسل کتاب سے دور ہوتی جا رہی ہے؟
(ج)کتاب آج بھی بکتی ہے۔ کتاب سے دوری کی وجہ کتاب کی قیمت ہے جب کتاب میلہ لگتا ہے اور ڈسکاونٹ میں کتابوں کے اسٹال لگتے ہیں تو کتاب تک رسائی کے لئے آنے والوں کا کتنا رش ہوتا ہے ۔کتاب سے دوری کی وجہ انٹرنیٹ بھی ہے اور فکر معاش کے معاملات بھی حائل ہیں۔
(س)جب آپ ایک کہانی لکھتے ہیں تو کیا مکمل کہانی آپ کے ذہن میں ہوتی ہے یا آپ لکھتے جاتے ہیں اور کہانی بنتی جاتی ہے۔
(ج)میں کہانی کا خاکہ بناتا ہوں۔کردار نگاری کرتا ہوں اور کہانی لکھنا شروع کردیتا ہوں۔کہانی بنتی رہتی ہے اور مکمل ہوجاتی ہے پھر جب اس کی ایڈیٹنگ کرتا ہوں تو کہانی کچھ کی کچھ ہوجاتی ہے اور پھر اسے بھیج دیتا ہوں۔
(س)کہانی کو لکھتے ہوئے کن باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے سب سے اہم کیا ہے ؟
(ج)کہانی لکھتے ہوئے یہ خیال رکھنا ضروری ہے کہ جو موضوع چنا ہے کہانی اس کے اندر رہ کر ہی لکھی کارہی ہے ۔اچھی کہانی کے لئے اس کا پلاٹ کا مضبوط ہونا،کردار نگاری اور مکالموں پر توجہ کا ہونا ضروری ہے۔کہانی ڈائجسٹ کے مزاج کے مطابق لکھی جاتی ہے ہر ڈائجسٹ کا اپنا مزاج ہے ۔ اس کے مزاج کو مد نظر رکھا جائے گا۔ہر ڈائجسٹ کی ریڈر شپ بھی الگ الگ ہے ۔
(س)کیا مردوں کے میگزین تنزلی کا شکار ہیں؟
(ج)ایسا نہیں ہے ۔جو میگزین اپنے معیار کو برقرار رکھے ہوئے ہیں وہ آج بھی بڑی تعداد میں شائع ہوتے ہیں اور دنیا میں پڑھے جاتے ہیں۔
(س)نئے افق میں آپ نے کتنی کہانیاں لکھیں ۔سب سے پہلی کب لکھی اور اس کا نام کیا تھا اور اب تک آخری کب لکھی اور اس کا نام کیا تھا ۔اگر اب کہا جائے لکھنے کا تو…؟
(ج)نئے افق سے پہلے اسی ادارے کا ڈائجسٹ تھا نیا رخ اس میں لکھا کرتا تھا۔پھر نئے افق میں لکھا۔مجھے یاد نہیں ہے کہ میری پہلی کہانی ان ڈائجسٹوں میں کب شائع ہوئی تھی۔ البتہ میں نئے افق میں بہت لکھا تھا۔جون کے نئے افق میں میری کہانی فتور شامل ہے اور آئندہ بھی لکھوں گا۔میں نے نئے افق کو چھوڑا نہیں ہے ۔
(س)نئے افق میں سے پسندیدہ لکھاری کون ہے نئے افق نے حال میں ہی تبدیلیاں کیں کیسی لگیں ۔آنے والے دور میں نئے افق کو کس مقام پر دیکھ رہے ہیں۔اس وقت آپ کے خیال میں نئے افق کا کیا معیار ہے ۔نئے افق ۔ادب کے افق پر چھا جائے مالکان و مدیر کوکیا کرنا چاہئے؟
(ج)نئے افق میں پہلی کہانی کب شائع ہوئی مجھے یاد نہیں ہے۔ شاید ۸۸ء میں شائع ہوئی تھی۔نئے افق میں امجد جاوید بہت اچھا لکھ رہے ہیں۔ان کا سلسلہ عورت ذات بہت دلچسپ سلسلہ ہے۔ نئے افق میں تبدیلیاں ہوا کے تازہ جھونکے کی مانند ہیں۔نئے افق اس وقت اچھی پوزیشن پر کھڑا ہے اس کی مزید بہتری کے لئے نئے رائٹرز کے ساتھ پرانے لکھنے والوں سے بھی رابطہ کیا جائے تو ڈائجسٹ اور بھی اچھا ہوجائے گا۔خامی یہ ہے کہ اس میں خواتین کے لیے مواد زیادہ ہوتا ہے ۔اسے خالصتاً مردانہ بنایا جائے ۔خواتین کے لیے آنچل و حجاب جو ہیں ۔
(س)مستقبل میں کیا ارادے ہیں؟
(ج)بہت سے پلان ہیں جن پر وقت کے ساتھ ساتھ عمل کروں گا قبل از وقت کہنا مناسب نہیں ہے۔ ابھی تو حال کو اچھا کرنے کوشش کررہا ہوں۔جب حال اچھا ہوگا تو مستقبل کے لئے راستے خود بخود بن جائیں گے اور کچھ کرنے کے لئے ارادہ نہیں کرنا پڑے گا بلکہ اللہ اس کام کے لئے آسانی فرمادے گا۔بہرحال میرے ارادے پرجوش اور توانائی سے بھرپور ہیں جو پڑھنے والے وقت کے ساتھ دیکھتے رہیں گے

Show More
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close